17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 17:1–10

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

پاک ہے وہ (ذات) جو اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ کو ایک رات میں مسجد حرام (مسجد کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک جس کے گرداگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں ، لے کر گیا تاکہ ہم انہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہی (اللہ) سننے والا دیکھنے والا ہے

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا کار ساز مت بنانا

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا ، بیشک وہ (نوح علیہ السلام) بڑے شکر گزار بندے تھے

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو بتا دیا تھا کہ تم ضرور زمین میں دو بار فساد کرو گے اور بہت بڑی سرکشی کرو گے

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پس جب ان دو میں سے پہلی (بار) کے وعدے (سزا) کا وقت آیا تو ہم نے تم پر اپنے سخت لڑائی والے بندے مسلط کردیئے پس وہ شہروں کے اندر گھس گئے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے (توبہ کے بعد) تم کو ان پر غلبہ دیا اور ہم نے مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائی اور ہم نے تمہاری جماعت کو بڑھا دیا

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم نے ا اچھے کام کیے تو اپنے ہی لئے اچھے کام کیے اور اگر برے کام کام کیے تو اپنے ہی لئے پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے مسلط کردیئے) تاکہ (مار مار کر) تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور جس طرح وہ پہلی مرتبہ مسجد (بیت المقدس) میں گھسے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر ان کا بس چلے اسے تباہ وبرباد کردیں

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

امید ہے کہ تمہارا پروردگار (اللہ) تم پر رحم فرمائے اور اگر پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی وہی (سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنارکھا ہے

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے

سورة بنی اسرائیل : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر آسمانوں کی دنیا یا آخرت کا مشاہدہ نصیب ہوا تو کشفا مردوں میں زندگی کیسے لوٹائی جائے گی ، یہ صورت حال بھی زمین ہی پر دکھائی گئی مگر آپ ﷺ کا عجیب معجزہ یہ بھی ہے کہ باوجودیکہ وحی سے زمین پر مشرف ہوئے آسمان بالا سے آسمان اور آخرت کو کشفا بھی ملاحظہ فرماتے مگر جو واقعہ بیان ہورہا ہے جسے واقعہ معراج سے موسوم کیا گیا ہے اس میں آپ ﷺ جسد عنصری کے ساتھ آسمانوں پر اور آسمانوں سے بہت آگے جہاں تک اللہ جل جلالہ نے چاہا تشریف لے گئے ، اس عالم میں اور اس مقام پر اللہ جل جلالہ سے شرف ہم کلامی نصیب ہوا ، اور جنت و دوزخ کو بنفس نفیس ملاحظہ فرمایا یہ ایسی عجیب بات ہے جو تمام عالم انسانیت میں اور سب نبیوں اور رسولوں میں صرف آپ ﷺ کا معجزہ ہے ، علماء اہل سنت کے نزدیک معراج جسمانی پر قرآن وحدیث کے دلائل موجود ہیں اور اس پر اجماع ہے ، اس کا انکار کرنے والا زندیق وملحد ہے جیسے علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ، ” ’ فحدیث الاسراء اجمع علیہ المسلمون واعراض عنہ الزنادقۃ والملحدون “۔ کہ واقعہ معراج کی احادیث پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اور ملحد وزندیق اس کا انکار کرتے ہیں ۔ “ ارشاد ہوتا ہے کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے یعنی حضرت محمد ﷺ کو لے گئی رات کو مسجد حرام یعنی مکہ مکرمہ سے مسجد اقصی یعنی بیت المقدس جس کے گرد ہم نے برکات رکھی ہیں کہ اسے عجائبات قدرت دکھائیں بیشک اللہ جل جلالہ ہی بڑے دیکھنے والے اور سننے والے ہیں ۔ (واقعہ معراج) سب سے پہلی بات یہ ہے کہ واقعہ معراج جسمانی تھا اور یہ محض روحانی سفر نہ تھا یہ سب قرآن کریم سے ثابت ہے اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے اس کا بیان ہی لفظ سبحان سے شروع فرمایا کہ اللہ جل جلالہ پاک ہے ہر کمزوری سے اور جو بھی چاہے کرنے پہ قادر ہے ، جس نے یہ عظیم الشان کام اپنی قدرت کاملہ سے کیا کہ اپنے بندے کو راتوں رات مکہ مکرمہ سے بیت المقدس لے گیا ، پھر اسے بیشمار عجائبات کا مشاہدہ کروایا مثلا انبیاء سابقہ سے ملاقات ، آسمانوں پر تشریف لے جانا ، وہاں سے آگے جہاں تک اللہ جل جلالہ نے چاہا جانا اللہ کریم سے شرف ہمکلامی اور دار آخرت وجنت و دوزخ کا دیکھنا اور پھر رات ختم ہونے سے قبل مکہ مکرمہ میں پہنچ جانا ۔ اگر یہ سفر محض روحانی ہوتا تو اس کی مثال خواب کی سی ہوتی جس کا انکار اس شدت سے کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی کہ کفار مکہ نے نہ صرف انکار کیا بلکہ مذاق اڑایا اور یہاں تک کہ بعض نومسلم جو ایمان میں پختہ نہ تھے مرتد ہوگئے ، جیسے آج بھی بعض لوگ انکار کرکے ہو رہے ہیں مشرکین مکہ کو تو حیرت اس بات پہ تھی کہ رات بھر میں بیت المقدس جانا اور واپس پہنچنا کیسے ممکن ہے جبکہ انہیں اس سفر میں مہینوں لگ جاتے تھے ، انہوں نے دو ہی طرح کے سوال کیے ایک بیت المقدس کی عمارت کے بارے جو انہوں نے دیکھ رکھی تھی مگر آپ ﷺ کبھی وہاں تشریف نہ لے گئے تھے تو اگر اس شب آپ ﷺ گئے اور دیکھی تو تفصیل بتائیے جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی بلکہ حدیث شریف میں ہے کہ اس وقت بھی کشفا اللہ جل جلالہ نے روبرو کردی اور دوسرے اپنے ان قافلوں کے بارے پوچھا جو بیت المقدس کی راہ میں سفر کر رہے تھے ، جہاں تک معراج کے روحانی یا خواب ہونے کا تعلق ہے تو ایسے واقعات تو بہت ہیں جو احادیث میں بھی مذکور ہیں ، اور قرآن میں بھی آپ ﷺ کی رویا کا حق ہونا ثابت ہے ، تو جو روایات معراج کے روحانی ہونے کے بارے میں ہیں وہ ان واقعات سے متعلق ہیں جو واقعہ بیان ہوا یہ بہرحال جسمانی ہے ۔ کہ قدرت کاملہ کے بیان کے بعد فرمایا (آیت) ” اسری بعبدہ “ لے گیا اپنے بندے کو اور بندہ صرف روح کا نام نہیں بلکہ روح مع الجسد ہے ، دوسرے زمین وزمان کی مسافتیں یک آن سمیٹ لینے والی ہستی بھی اس کی مخلوق اور محبوب ہے اور اس کا بندہ ہے ، اس میں خدائی اوصاف پیدا نہیں ہوگئے کہ کوئی عیسائیوں کی طرح کا عقیدہ اپنا کر گمراہ نہ ہو ، تیسری بات کہ انسان کا انتہائی مرتبہ بھی اللہ جل جلالہ کی بندگی اور اس کا اور صرف اس کا بندہ ہونا ہے ، کسی نبی یا ولی یا مقرب الہی کو حدود بندگی سے بالاتر نہ مانا جائے اور چوتھے سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ بندے تو سب اس کے ہیں مگر کسی کو وہ اپنا بندہ فرما دے تو اس کا مقام الگ ہے ، اس زمانے میں اس طرح سفر کرنا ناممکنات میں سے تھا مگر آج تو سائنس نے مادی آلات ایجاد کرکے اس کو ممکن بنا دیا ، روئے زمین پر ایک مخلوق کو ہوائی جہاز آن واحد میں مختلف ممالک میں پہنچا رہے ہیں اور خلائی راکٹ کی ایجاد نے تو اور کمال دکھا دیا اگر یہ سب مادی اسباب وذرائع سے محض انسان بغیر کفر وایمان کی قید کے بھی کرسکتا ہے تو اللہ جل جلالہ تو قادر ہے جیسے چاہے کرے ۔ (طی الارض) معجزات انبیاء کرام (علیہ السلام) بطور کرامت اولیاء امت میں منتقل ہوتے ہیں ، اسی لیے اہل اللہ سے بہت تھوڑے وقت میں بغیر ظاہری اسباب کے دور دراز پہنچنا ثابت ہے جیسے اصطلاح میں طی الارض کہا گیا ہے ۔ (واقعہ معراج مختصرا) واقعہ معراج آپ ﷺ کا بیداری کا سفر ہے جس میں آپ ﷺ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک براق نامی جنت کی سواری پر تشریف لے گئے جہاں آپ ﷺ نے دو رکعت ادا فرمائیں ، پھر ایک قدرتی زینے کے ذریعے سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ، جہاں پر آسمان پر مختلف انبیاء کرام (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کا استقبال فرمایا ، جبرائیل امین (علیہ السلام) ساتھ تھے اور تعارف کراتے جاتے تھے ، ساتوں آسمانوں سے اوپر سدرۃ المنتہی کو دیکھا ، ساتویں آسمان پر بیت المعمور کو ملاحظہ فرمایا جہاں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) تشریف فرما تھے ، پھر وہاں سے رفرف پر جو اس عالم کی سواری تھی بہت آگے تشریف لے گئے جہاں جبرائیل امین (علیہ السلام) بھی ساتویں آسمان سے آگے نہ جاسکے ، آپ ﷺ جسمانی طور پر آگے جہاں تک اللہ جل جلالہ نے چاہا تشریف لے گئے ۔ (دیدار باری تعالیٰ ) علماء کا اختلاف ہے کہ اللہ جل جلالہ کی ذات کا دیدار ہوا یا نہ ہوا جو لوگ قائل نہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ اس دنیا میں دیدار باری محال ہے ہاں آخرت میں روز قیامت بھی خوش نصیبوں کو اور جنت میں سب کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ضرور ہوگا تو حق یہ ہے کہ آپ ﷺ اس وقت اس دار دنیا میں تو تشریف فرما نہ تھے بلکہ بالائے عرش یا جہاں تک اللہ جل جلالہ نے لے جانا چاہا وہاں تھے ، ایسی بلندی اور تنہا قرب الہی تھا کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) جو فرشتوں کے سردار ہیں وہاں تک جانے کا سوچ نہ سکتے تھے تو وہاں دیدار باری ہونا دنیا پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، لہذا آپ ﷺ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ، شرف ہمکلامی سے نوازے گئے جس کی یادگار اور جس کا انعام پچاس نمازوں کی صورت میں تمام امت کو نصیب ہوا پھر تعداد میں پانچ رہ گئیں جو اجر کے حساب سے پچاس ہی ہیں ، آپ ﷺ نے جنت و دوزخ کو دیکھا راستہ بھر برزخ کے احوال کا مشاہدہ فرمایا اور پھر واپس تشریف لائے تمام انبیاء بیت المقدس تک آپ ﷺ کے ہمرکاب آئے ، وہاں آپ ﷺ نے امامت فرمائی اور سب نے نماز ادا فرمائی اور آپ ﷺ واپس مکہ مکرمہ تشریف لے آئے یقینا پاک اور بےمثل اور بےمثال ہے ، وہ ذات جس نے اپنے بندے اور حبیب ﷺ کو ان بلندیوں سے نوازا ۔ (مقامات سلوک) جن بلندیوں پر آپ ﷺ جسمانی طور پر تشریف لے گئے آپ ﷺ کے متبعین کی ارواح آپ ﷺ کے قلب اطہر کے انوارات حاصل کرکے جب اللہ جل جلالہ کی عطا سے ان رفعتوں پر اپنی روح کو پہنچا پاتے ہیں تو انہی کو مقامات سلوک کیا جاتا ہے اور اسی سفر کا نام سیر سلوک ہے اور اہل اللہ اپنی اپنی استعداد اور اللہ جل جلالہ کی عطا کے مطابق یہ سفر طے کرتے اور منازل حاصل کرتے ہیں جبکہ ان کے اجسام زمین پر ہی ہوتے ہیں وہ پاکیزگی نقاہت اور لطافت جو جسم مصطفوی ﷺ کو نصیب تھی اس کا عشرعشیر کسی روح کو نصیب ہوجائے تو وہ اس راہ پر چل نکلتی ہے ،۔ کہ مسجد اقصی کے گرد کو ہم نے برکات سے بھر دیا ہوا ہے کہ ظاہری طور پر بہترین سرسبز خطہ ہے جہاں پھلوں کی کثرت ہوتی ہے اور باطنی طور پر مہبط تجلیات اور بہت سے انبیاء ورسل کی آرام گاہ بھی ہے مگر اسی ماحول کے مشاہدے پہ بس نہ فرمایا بلکہ فرمایا (آیت) ” لنریہ من ایتنا “۔ کہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھانے کو اس سفر پر لائے تھے جن میں برزخ ، آسمان ، آسمانی مخلوق بالائے آسمان لوح محفوظ ، عرش عظیم اور جنت و دوزخ اور اخروی حیات کے واقعات سب شامل ہیں کہ اللہ جل جلالہ ہی کے حقیقی سننے اور دیکھنے والا ہے ، اور قادر ہے جسے جو چاہے دکھائے جو چاہے سنا دے ،۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی کتاب نازل فرمائی جس کے نزول میں بھی ایسے ہی عجائبات رونما ہوئے تھے اور انہیں ذات باری سے شرف ہم کلامی نصیب ہوا تھا نیز بنی اسرائیل کے لیے وہی کتاب ہدایت کا سبب تھی اور اس کا مرکزی نقطہ بھی تو یہی تھا کہ تیرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ جانو کہ اللہ جل جلالہ کو رب ماننے کا معنی یہی ہے کہ اپنی ساری امیدیں اسی ایک ذات سے وابستہ کی جائیں اور ہر حال میں اسی کی اطاعت کی جائے آخر تم لوگ طوفان نوح میں بھی تو دیکھ چکے ہو ، کہ تم انہی لوگوں کی اولاد تو ہو جن کو ہم نے کشتی میں سوار کرکے بچایا تھا جبکہ سارا عالم غرق آب ہوا ، اور یہ تائید باری اسی وجہ سے نصیب ہوئی تھی کہ نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے ۔ بنی اسرائیل کی کتابوں میں یہ پیشگوئی بھی فرما دی گئی کہ تم روئے زمین پر دوبارہ بہت زیادہ فساد مچاؤ گے اور سرکشی اختیار کرو گے ، فساد سے مراد اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اس کی عبادات میں ہے اور سرکشی سے مراد ہے کہ مخلوق کو ایذا دو گے اور دوسروں پر ظلم و زیادتی کرو گے جس کا نتیجہ بھی تمہیں کو بھگتنا ہوگا ، تفسیر بیان القرآن میں متعدد بار یہود کی تباہی مختلف بادشاہوں کے ہاتھوں ، اور پھر سے آبادی کا ذکر ہے ، مگر یہاں کون سے دو واقعات کا تذکرہ ہے حدیث شریف کے مطابق پہلا واقعہ بخت نصر کا ہے جو بابل کا حکمران تھا بہت طاقتور اور سخت گیر ، چناچہ جب بنی اسرائیل کے گناہ حد سے بڑھے تو اس کو ان پر مسلط کردیا گیا جس نے شہر تباہ کردیئے ، بیت المقدس کو لوٹا اور سونا چاندی اور جواہرات کی لاکھوں گاڑیاں بھر کرلے گیا ، بنی اسرائیل بہت سے قتل ہوئے اور بہت سوں کو قیدی اور غلام بنا کر ساتھ لے گیا اور ذلت ورسوائی سے دوچار ہوئے لہذا ارشاد ہے کہ جب پہلا موقع آیا کہ ہم نے تم پر اپنے بندوں کو چڑھا دیا جو بہت لڑاکا تھے ، اور تمہارے شہروں پہ پل پڑے ، اور تمہیں تباہ کردیا کہ اللہ جل جلالہ کا وعدہ یہی تھا جو ہو کر رہا یعنی جرم پر سزا مرتب ہوئی ۔ (کافر بھی اللہ جل جلالہ ہی کا بندہ ہے) یہاں کفار کو عبادلنا فرمایا کہ بندے تو اسی کے ہیں مگر عبادنا نہ فرمایا کہ مقبول نہیں ہیں اور کفار کا مسلمانوں پہ غلبہ بطور سزا ہوتا ہے جیسے آج کل مسلمانوں پہ کفار غالب ہیں ۔ پھر تمہیں مدت بعد گلو خلاصی نصیب ہوئی تم نے اپنی اصلاح کی اللہ جل جلالہ نے رحم فرمایا اور پھر سے تمہیں ملک نصیب ہوا ، مال اور اولاد میں اللہ جل جلالہ نے اضافہ فرما کر تمہیں طاقتور کردیا اور تمہاری فوج کو ایک مضبوط لشکر بنا دیا ، بابل کو شکست ہوئی ، بنی اسرائیل آزاد ہو کر طاقتور بن گئے ، مگر جب اقتدار واختیار ملا اور طاقت نصیب ہوئی تو آہستہ آہستہ پھر سے گمراہی کی طرف بڑھنے لگے ، جبکہ یہ قانون الہی بتا دیا گیا تھا کہ اگر نیکی کرو گے تو اپنے بھلے کو ہی کرو گے اور اس کا فائدہ تمہیں کو ہوگا ، اگر برائی اختیار کرو گے تو بھی خود بھگتو گے مگر باز نہ آئے حتی کہ دوبارہ وہی روش اختیار کی تو قیصر روم ان پر چڑھ دوڑا اور بری و بحری دونوں اطراف سے چڑھائی کردی ، بہت لوگ مارے گئے کچھ قید ہوئے اور شہروں کو تباہ کرکے سب کچھ لوٹ کرلے گیا ، اور بخت نصر کی طرح مسجد میں بھی گھسا اور بیت المقدس کو بہت بری طرح لوٹا ، اور مال واسباب گاڑیوں میں بھر کرلے گیا ، اس کے بعد بھی مایوسی کی کوئی وجہ نہیں کہ اللہ جل جلالہ بہت کریم ہے تم اپنی حالت کی اصلاح کرلو تو وہ بھی تم پر رحم فرمائے گا کہ تمہارا پروردگار ہے ، مگر یہ قانون ہمیشہ کے لیے یاد رکھ لو ، اگر تم واپس برائی ہی کی طرف پلٹ جاؤ گے تو سنت الہی کے مطابق حالات بھی تمہاری بربادی کی طرف پلٹ جائیں گے اور سرکشی کا انجام تو کفر ہے ، اگر کفر پر خاتمہ ہوا تو بہت سخت قید خانہ ہے ، یعنی جہنم جہاں کافروں کو رکھا جائے گا ۔ ایسے ہی اب پھر یہ کتاب یعنی قرآن حکیم اللہ جل جلالہ کی طرف سے نازل ہوا ہے جو بالکل سیدھی راہ دکھاتا ہے عقائد و اعمال ، دین ودنیا ہر معاملے میں سب سے اعلی طریقے اختیار کرنے کی صرف دعوت ہی نہیں دیتا وہ طریقہ بھی بتاتا ہے اور جو لوگ ایمان لا کر عملی طور پر وہ راستہ اپنا لیتے ہیں انہیں بہت بڑے انعامات کی خوش خبری بھی دیتا ہے ، رہی بات نہ ماننے والوں کی تو آخرت کا انکار کرنے والوں کے لیے ہم نے بہت درد ناک عذاب تیار کیا ہے ۔
Ayahs 17:11–22

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور (بعض دفعہ) انسان برائی کی اسی طرح درخواست کرتا ہے جس طرح بھلائی کی درخواست کرتا ہے اور انسان (طبعی طور پر ہی) جلد باز ہے

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا پس رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا بنایا اور دن کی نشانی کو ہم نے روشن بنایا تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (روزی) تلاش کرو اور تاکہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرلو اور ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار بنا کے رکھا ہے اور ہم اسے قیامت کے دن کتاب (اس کا اعمالنامہ) نکال کر دکھا دیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

اپنی کتاب پڑھ لے آج کے دن تو خود ہی اپنے لئے حساب لینے والا کافی ہے

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو یقینا اپنے ہی لئے کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو یقینا گمراہی کا نقصان بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیا کرتے

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے آسودہ لوگوں کو حکم دیتے ہیں (ان کے اعمال بد کی وجہ سے) تو وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں تو اس پر (عذاب کا) حکم ثابت (اتمام حجت) ہوجاتا ہے پھر ہم اس کو تباہ وبرباد کر ڈالتے ہیں

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی امتوں کو نوح (علیہ السلام) کے بعد ہلاک کیا اور آپ کا پروردگار (اللہ) اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے (اور) دیکھنے والا کافی ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کے مال وزر) کا خواہش مند ہو تو ہم اسے یہیں جتنا چاہتے ہیں جسے چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لئے جہنم بنائی ہے وہ اس میں برے حال میں راندہ (درگاہ) ہو کر داخل ہوگا

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا طلبگار ہوگا اور اس کے لئے اتنی کوشش کرے گا جتنی وہ کرسکے اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو ، سو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہوگی

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم آپ کے پروردگار کی بخشش سے سب کو مدد دیتے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی اور آپ کے پروردگار کی بخشش (وار دنیا میں کسی پر) بند نہیں

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھ لیجئے ! ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں کے حساب سے بہت بڑی ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود (ہرگز) نہ بنانا پھر بدحال (اور) بےکس ہو کر بیٹھ رہے گا

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو آخر لوگ کیوں کفر کرتے ہیں جبکہ نہ تو اس سے دنیا میں سکون ملتا ہے اور نہ آخرت کے ۔ (جلد بازی کے فیصلے) انعام کی امید ، تو یہ انسانی مزاج کی جلد بازی ہے اور اس کا یہ حال دار دنیا میں بھی تو ظاہر ہے کہ بعض اوقات جلد بازی میں فیصلہ کرکے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو دنیا میں ہی اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جیسے انہیں دنوں نظر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں بیت اللہ میں دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے ترجمہ یہ ہے ” یا اللہ اگر یہ اسلام حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے “ اور اللہ جل جلالہ کی شان اس کے فورا بعد بدر میں تباہ ہوئے ، احد میں مار کھائی ، خندق سے ناکام لوٹے اور بالآخر مکہ مکرمہ فتح ہو کر وہاں سے کفار ومشرکین کا نام مٹ گیا ، (قابل غور تو شب وروز ہی کافی ہیں) اگر انسان جلد بازی نہ کرے اور اللہ کریم کی دی ہوئی عقل کو استعمال کرے تو کیا یہ شب وروز اللہ جل جلالہ کی عظمت کے گواہ نہیں ؟ یقینا ہیں کہ رات کی تاریکی اپنے دامن میں انسانی کردار کے کتنے بدنما داغ چھپا کر ہر جاندار کو نیند اور آرام کی گھڑیاں مہیا کرتی ہے اور حیوانی ابدان دن بھر میں جو قوت کار خرچ کرتے ہیں شب بھر میں وہ پھر سے بحال ہوجاتی ہے ۔ پھر دن روشنی بکھیرتا ہوا نمودار ہوتا ہے اور جدوجہد حیات کا نئے سرے سے آغاز ہوجاتا ہے ، ایک چیونٹی اور ایک مکھی سے لے کر انسان تک حصول رزق اور بقائے حیات کے لیے سرگرم عمل نظر آتے ہیں اور انسان اپنے پروردگار کی پیدا کردہ نعمتوں کے حصول میں کوشاں ہوتا ہے ، نیز یہ شب وروز دونوں ، مہینوں اور سالوں وغیرہ کی گنتی اور حساب کا کام بھی تو دیتے ہیں۔ (شمسی حساب بھی درست ہے) اگر ایک سا عالم رہتا تو شمار کرنا محال ہوتا تو گویا شمسی حساب رکھنا اور تاریخیں شمار کرنا درست ہے ، اگرچہ عبادات مثلا حج رمضان وغیرہ قمری حساب سے مقرر فرمائے گئے ہیں تو کیا یہ رات دن کے لانے اور تبدیل کرنے میں جتنی بڑی صنعت اور کتنا بڑا نظام بغیر کسی خرابی سے اور بغیر کسی رکاوٹ وتاخیر کے روز اول سے بدستور چل رہا ہے ، یہ اپنے چلانے والے کی عظمت ، حکمت اور قدرت پہ کم گواہ ہے ؟ ہم نے تو ہدایت کے لیے اور انسانی عقل و شعور کی راہ نمائی کے لیے ہر شب بہت تفصیل سے بیان کی ہے ، اب انسانی فکر پہ مدار ہے کہ وہ کیا سوچتا ہے ، مگر یہ جان لو کہ ہم نے ہر انسان کے کردار کو اس کے گلے کا ہار بنا دیا ہے اور وہ جہاں جاتا ہے اپنی بداعمالی کے اثرات ساتھ ساتھ لیے پھرتا ہے ، دنیا کے معاملات میں دیکھ لیں ، افراد سے لے کر اقوام تک کے حالات پہ نظر کریں یا دار آخرت ہو تو وہاں تو اعمالنامہ کھول کر ہر انسان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا ، اور حکم دیا جائے گا کہ اپنا اعمالنامہ پڑھ لو اور یہ جان لو کہ تم خود ہی اپنے لیے بہترین منصف ہو ، یعنی ہر عمل کو دیکھتے جاؤ کہ دنیا میں جب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں تھا تو تم نے کتنے امور میں اللہ کی اطاعت کی آج تمہارا ہی فیصلہ لاگو ہوگا اور اجر پاؤ گے یا پھر تم نے کس قدر نافرمانی کرنے کا فیصلہ کیا تھا آج اسی فیصلے کے مطابق سزا پاؤ گے ۔ اگر کوئی سیدھی راہ اپناتا ہے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا فیصلہ کرتا ہے اور اس پر عمل کرنے میں کوشاں ہوتا ہے تو یہ کسی پہ احسان نہیں بلکہ وہ اپنے بھلے کو کرتا ہے کہ کل اجر پائے گا اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے ، اس کی سزا بھی وہ کود ہی بھگتے گا کہ کسی دوسرے انسان پر کسی کا بوجھ نہ ڈالا جائیگا ، (کفار کی نابالغ اولاد) صاحب تفسیر مظہری اور دوسرے مفسرین نے یہاں سے اخذ کیا ہے کہ کفار کی نابالغ اولاد محض والدین کے کفر کے باعث دوزخ میں نہ جائے گی ، نیز جب تک ہم کسی کو اسباب ہدایت میسر نہیں کرتے اس کی گرفت بھی نہیں کی جاتی اور اسے عذاب نہیں کیا جاتا یہاں نبعث رسولا کی مراد اسباب ہدایت اس لیے کی ہے کہ مفسرین کرام کے نزدیک اللہ کریم نبی بھیج دے یا محض عقل عطا کر دے تو بھی اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر اس کے لاشریک اور بےمثل ہونے کا اقرار تو ضروری ہے اور جہاں نبی کی تعلیم نہ پہنچے وہاں یہ اقرار ہی باعث نجات بھی ہے ۔ (عیاش اور بدکار حکمران تباہی کی طرف لے جاتے ہیں) اور جب کسی بھی قوم کی نافرمانی اس حد کو پہنچتی ہے کہ اسے ہلاک کردینے سے پھر وہ لوگ اللہ جل جلالہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں خواہ بوساطت نبوت پہنچے یا کم از کم عقلی اور شعوری دلائل سے تو عظمت الہی کے ثبوت سامنے ہوتے ہیں مگر دولت مند لوگ عیاشی میں مبتلا ہو کر عوام کو بھی اپنی راہ پر لگا لیتے ہیں ، کہ انسانی مزاج ہی ایسا ہے کہ لوگ امرا کے پیچھے چلنے لگتے ہیں اور انجام کار سب تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں ، چناچہ نوح (علیہ السلام) کے بعد بھی جب لوگ دنیا میں آباد ہوئے بڑھے پھلے تو کتنی بہت سی اقوام تباہ وبرباد ہوئیں ، جن کے حالات انسانی عبرت کے لیے کافی ہیں ، اور آپ رب انسانوں کے کردار کو بہت بہتر جانتا ہے اور لوگوں کی نافرمانی پہ وہ خود ہی بہت بڑا نگران ہے ، چناچہ جو کوئی جیسا کرتا ہے بھرتا ہے ۔ (نیت اور ارادہ) اگر کوئی عمل ہی بنیادی طور پر دنیا کے حصول کی خاطر کرتا ہے یعنی اسے آخرت پہ یقین حاصل نہیں ، اور صرف دنیا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے خواہ وہ صورت بظاہر بھلائی ہی ہو تو اسے دنیا اس کی خواہش کے مطابق نہیں ملتی بلکہ اللہ جل جلالہ جتنی چاہتا ہے دیتا ہے ہاں اس کی نیت کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ ذلیل ورسوا ہو کر جہنم میں داخل ہوتا ہے اور آخرت میں اسے کچھ نہیں ملتا اور اگر کوئی نیت حصول آخرت کی کرتا ہے اور پھر صحیح محنت اور درست اقدامات کرتا ہے یعنی عمل سنت کے مطابق کرتا ہے نیز عقیدہ کھرا رکھتا ہے ۔ (حصول آخرت کے لیے بنیادی باتیں) گویا حصول آخرت کے لیے چار چیزیں ضروری ہیں ، اول نیت و ارادہ کہ عقلی دلائل کا مشاہدہ ومطالعہ کرکے یا دعوت الی اللہ پا کر آخرت کے حصول کا ارادہ کرے ، دوسرے صرف ارادہ پہ نہ بیٹھ رہے عمل کرے اور تیسرے عمل اپنی پسند سے نہ کرے کہ یہ رواجات ، رسومات اور بدعات جتنی بھی دلکش ہوں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ عمل کی بنیاد سنت رسول ﷺ پہ ضروری ہے اور چوتھی اور آخری بات عقیدہ کی صحت ہے ، اگر عقیدہ ہی درست نہ ہو تو پھر کوئی عمل بھی مقبول نہیں ہوتا مگر جن میں یہ شرائط پائی جائیں ایسے لوگوں کی محنت ٹھکانے لگتی ہے جو حقیقی کامیابی ہے وہ انہیں نصیب ہوتی ہے ۔ (دولت دنیا مقبولیت کا معیار نہیں) جہاں تک تیسرے پروردگار کی ربوبیت کا تعلق ہے تو وہ عام ہے ، نیک وبد مومن وکافر دولت دنیا اور صحت واولاد وغیرہ نعمتیں پا رہے ہیں ، دونوں طرف سب لوگ ایک سے نہیں اور نہ ہی اس کی شان ربوبیت کو کوئی شے روک سکتی ہے ، دنیا کا رزق ہر ایک کو دیتا ہے اور اپنی حکمت بالغہ سے ان میں درجہ بندی کردی ، امیر غریب اور حاکم وماتحت بنا دیئے مگر یہ حال تو گذر جائے گا اصل نعمت تو آخرت کی ہے جسے کفار یا نافرمان نہیں پاسکیں گے بلکہ اطاعت شعاروں کا حصہ ہے اور وہ بہت بڑی نعمت ہے درجات کے اعتبار سے بھی عظیم اور فضیلت کی رو سے بھی بہت بڑی ۔ لہذا اے مخاطب کبھی بھی اور کسی بھی طرح اللہ جل جلالہ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت نہ کر اور معبود برحق کی توحید کو خالص اور کھرا رکھ ورنہ سب کچھ لٹا پٹا کر بیٹھ رہے گا نہ عمل باقی بچے گا اور نہ کوئی محنت : ۔
Ayahs 17:23–30

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور آپ کے پروردگار نے حکم کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر تمہارے پاس ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان دونوں سے ناپسندیدہ بات نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو اور ان سے بہت اچھے اندازے سے بات کرو

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور عاجزی اور انکساری سے ان کے آگے جھکے رہو اور (ان کے حق میں) دعا کرو اے میرے پروردگار ! جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا پوسا ہے آپ ان دونوں پر رحمت فرمائیے

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اگر تم نیک ہوگے تو بیشک وہ رجوع کرنے والوں (توبہ کرنے والوں) کو معاف فرمادیتا ہے

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ دار کو اس کا حق ادا کرو اور محتاج کو اور مسافر کو بھی اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر اپنے پروردگار کی رحمت (فراخی دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور تو اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ ہی اسے بالکل کھلا چھوڑ دے پھر الزام خوردہ خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے گا

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب واقف ہے ، دیکھ رہا ہے

(رکوع نمبر 3) اسرار و معارف حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ، (ماں باپ کے حقوق) جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین کی حق تلفی کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ملتی ہے ۔ (اللہ جل جلالہ کی نافرمانی میں والدین کی اطاعت نہ ہوگی) یہ بات متفق علیہ ہے کہ ” لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق “۔ کہ والدین کی اطاعت بھی صرف جائز امور میں ہوگی ، گناہ یا اللہ کی نافرمانی میں جائز نہ ہوگی ۔ (والدین سے حسن سلوک کے لیے ان کا مسلمان ہونا ضروری نہیں) والدین اگر غیر مسلم بھی ہوں تو بھی ان کی خدمت کرنا فرض ہے ، حتی کہ ان کی ہدایت کے لیے یا دنیا کی بہتری کے لیے دعا بھی کی جانی چاہئے اور اگر والدین اجازت نہ دیں تو جو کام فرض عین نہ ہو اس کا کرنا درست نہ ہوگا جیسے جہاد اگر فرض عین نہ فرض کفایہ ہو تو والدین کی اجازت کے بغیر نہ جائے ۔ (علم دین اور تبلیغ) اگر بقدر فرض علم دین حاصل ہو تو عالم بننے کے لیے یا دین کی تبلیغ کے لیے والدین کی اجازت کے بغیر سفر جائز نہ ہوگا یہی حال ان لوگوں کا ہے جو ازواج یا اولاد کی ذمہ داری ادھوری چھوڑ کر جو ان کا حق ہے تبلیغ کا بہانہ کرتے ہیں اور سفر کے لیے نکل جاتے ہیں ۔ (والدین کے دوستوں سے معاملہ) والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے احباب سے اچھا معاملہ بھی کرے جیسا کہ ان کی حیات میں کرنا ضروری ہے بلکہ یہاں تک ہے کہ آپ ﷺ تو اپنی محبوبہ بیوی حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجا کرتے تھے ۔ (اولاد اور اس کا مال دونوں والدین ہی کے ہیں) والدین اولاد کا مال اس کی اجازت کے بغیر بھی لے سکتے ہیں کہ وہ انہی کا ہے ، جیسے ایک شخص کے والد کی شکایت پر کہ اس نے میرا مال لے لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ” انت ومالک لا بیک “ کہ تو اور تیرا مال بھی سب باپ ہی کا ہے ۔ تو فرمایا وہ دونوں یا ان میں سے ایک اگر بوڑھے ہوجائیں تو انہیں بوجھ نہ سمجھ اور نہ ہی ان کی خدمت میں کوتاہی کر ، نہ لہجہ سخت اختیار کر بلکہ اف تک مت کر اور انہیں سخت الفاظ مت کہہ بلکہ ہمیشہ لطف و محبت سے بات کیا کرو ، بلکہ ان کی خدمت کے لیے ہر آن خود کو تیار رکھو ، اور محبت و شفقت سے ان کی خدمت میں جھکے جھکے رہو ، اور ان کا حق بنتا ہے کہ ان کے لیے دعا بھی کیا کرو کہ اے پروردگار جس طرح انہوں نے مجھے میرے بچپن میں آرام پہنچایا تو انہیں بڑھاپے اور کمزوری میں اپنی رحمت سے نواز۔ اللہ کریم تمہارے دلوں کے بھید جانتا ہے ، اگر دانستہ یا غلطی سے کوئی گستاخی سرزد ہو بھی گئی ، مگر دلی طور پر ایسا کرنا نہ چاہتا ہو تو اللہ کریم خوب جانتے ہیں ، ارادہ نیک رکھو تو کوتاہی معاف کردیتا ہے ، جب انسان کو احساس ندامت ہو اور اس سے باز آجائے ۔ والدین کے بعد قرابت داروں کا حق ہے کہ ان سے حسن سلوک کیا جائے ، اگر محتاج ہوں تو مال سے مدد کی جائے یا محتاج ہوں تو خیال رکھا جائے ورنہ عزت واحترام ان پر احسان نہیں ان کا حق ہے ، ایسے ہی مساکین وغرباء کا خیال رکھو کہ ان سے شفقت ، ان کی دیکھ بھال اور ان کی مالی مدد یہ سب ان کا حق ہے جو ایک مسلمان کے ذمہ ہے اور مسافر غریب الوطن بھی تمہارے حسن سلوک کا مستحق ہے ، اللہ کریم نے ان کی خدمت بقدر استطاعت ان کا حق قرار دی ہے ان پر احسان نہیں جتایا جاسکتا اور اللہ جل جلالہ کے دیئے ہوئے مال کو بےموقع اور غیر ضروری امور میں خرچ مت کرو کہ فضول خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں محض اپنی بڑائی منوانے کو اللہ جل جلالہ کا دیا ہوا مال ناجائز امور اور غلط مواقع پہ ضائع کرتے ہیں ، اور شیطان تو اپنے پروردگار کا نافرمان ہے ، ہاں اپنی جائز خواہشات کو اپنی حیثیت کے مطابق پورا کرنا فضول خرچی میں داخل نہ ہوگا ، لیکن اگر تمہارے پاس دینے کو کچھ نہ ہو کہ کسی مستحق کی مدد کرسکو ، تو ان سے بات بہت نرم لہجے میں اور محبت و شفقت سے کرو سختی سے یا ڈانٹ کر مت بولو ، کہ اسلامی اخلاق کو تو ضائع نہ ہونے دو ، اور مال خرچ کرنے میں حسن انتظام کا اہتمام کرو کسی بدنظمی کا شکار نہ ہونا چاہئے کہ یا تو اس قدر کنجوس بن جائے کہ گویا اس کے ہاتھ اپنی ہی گردن سے بندھے ہوں یعنی جائز امور میں بھی خرچ نہ کرے یا بالکل کھول دے اور ناروا امور میں بھی دولت ضائع کرتا رہے حتی کہ خود قلاش اور مفلس ہو کر ٹھوکریں کھانے لگے ، غرض ایک اعتدال ہونا ضروری ہے کہ مال میں تنگی یا فراخی ہوتی رہتی ہے تو خرچ کا انداز بھی اسی حیثیت کے مطابق اپنایا جائے کہ یہ پروردگار کا نظام ہے جو روزی کو بڑھا بھی دیتا ہے اور جس کے لیے وہ چاہے تنگ بھی کردیتا ہے ، لہذا فراخی کی حالت میں فضول خرچی کرکے تکبر کا اظہار نہ کرے اور تنگی میں ناروا طریقے اپنا کر نافرمان نہ بنے بلکہ زندگی اور معاملات واخراجات کو اعتدال کی راہ پہ رکھے ، کہ بلاشبہ رب کریم اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں ہر آن دیکھ رہا ہے ۔
Ayahs 17:31–40

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کی مفلسی کے خوف سے قتل نہکرو ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی بیشک ان کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے قریب بھی مت جانا بیشک وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جاندار کا مارنا اللہ نے منع فرمایا ہے اسے قتل مت کرو مگر جائز طور پر (یعنی شرعی حکم سے) اور جو شخص ظلم سے (زیادتی کرتے ہوئے) قتل کیا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (بدلہ لینے کا) سو اس کو قتل کے بارے میں حد سے نہ بڑھنا چاہیے بیشک اس شخص (مقتول کے وارث) کی مدد کی گئی ہے

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکو مگر ایسے طریقے سے جو بہت اچھا ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو (جو شرعی حدود کے اندر ہو) بیشک عہد کے بارے میں (قیامت کو) پوچھا جائے گا

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب ناپ تول کرو تو پورا ماپو اور صحیح ترازو سے تول کردو یہ بہت ہی اچھی بات ہے اور اس کا انجام بھی اچھا ہے

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے ! ) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے ضرور باز پرس ہوگی

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر مت چل کیونکہ تو زمین کو ہرگز نہ پھاڑ سکے گا اور نہ (لمبا ہوکر) پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ سکے گا

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب باتوں کی برائی تیرے پروردگار کے ہاں بہت ناپسندیدہ ہے

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ باتیں اس حکمت میں سے ہیں جو آپ کے پروردگار نے آپ پر وحی فرمائی ہیں اور (یہ بات بھی کہ) تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبودنہ بنانا پھر تو ملامت خوردہ اور راندہ ہو کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(اے مشرکو ! ) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو تو لڑکے چن کردیئے ہیں اور اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنایا ؟ بیشک تم بہت بڑی (سخت) بات کہتے ہو

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔ (ضبط تولید) آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات زندگی مہیا نہ ہو سکیں گی ، ہاں قتل کا اطلاق اس پر ہوگا جب بچے میں جان پڑجائے جو حمل کے ایک سوبیس دن بعد پڑتی ہے ، لہذا اس سے پہلے ایسا کرنا قتل نہ ہوگا مگر سخت گناہ ہے اور کسی دوسری وجہ مثلا عورت کی صحت کے سبب یا اس کی زندگی کو خطرہ ہو تو جائز ہے ، ہاں پھر بھی ایسا عارضی علاج جو مانع حمل ہو درست ہوگا مستقل اپریشن وغیرہ کرانا جائز نہیں کہ تخلیق باری میں تبدیلی حرام ہے بجز اس کے کہ کوئی معقول وجہ جواز ہو ۔ اگلا حکم زنا کے متعلق ہے جو ایک ایسی لعنت ہے کہ نہ صرف بہت بڑی بےحیائی ہے بلکہ تباہی کا راستہ بھی ہے کہ عموما قتل انسانی کا باعث بنتا ہے اور افراد سے لے کر اقوام وممالک تک میں قتل و غارت گری شروع کرا دیتا ہے ، پھر اس سے پیدا ہونے والا انسانی بچہ ایک طرح سے معاشرے میں کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوتا ہے جس کی کوئی اصل نہ ہو اس کا رد عمل اس کی ذات میں اتنا شدید ہوتا ہے کہ انتقاما معاشرے کو برائی میں دھکیلنے میں پوری کوشش کرتا ہے ، اسی لیے ارشاد ہوا کہ اس کے قریب بھی مت جاؤ یعنی ایسے امور سے بچنا بھی ضروری ہے جو زنا کا سبب بن سکتے ہوں اور قتل اولاد کے ساتھ اس کا ذکر اس لیے بھی ہے کہ ایک طرح سے زانی بھی اپنی نسل قطع کرتا ہے اور اگر اولاد بھی ہوجائے تو اس کا والد نہیں کہلا سکتا ، اسی لیے اس فعل پر اسلام میں سخت ترین یعنی سنگسار کی سزا ہے ۔ اگلا حکم دوسروں کے قتل سے متعلق ہے یہ اپنی اولاد کے قتل سے ممانعت تھی تو دوسرے بھی کسی کی اولاد ہیں اور انہیں حیات ان کے رب نے دی ہے ، لہذا ان سے چھیننا ہرگز درست نہیں بلکہ بہت بڑا جرم ہے ، سوائے اس کے کہ اللہ جل جلالہ ہی کسی کے قتل کا حکم دے یعنی قصاص میں قتل ہو یا جہاد میں مقابل کو قتل کیا جائے اور اگر کسی کو ناحق قتل کر ہی دیا جائے تو اللہ جل جلالہ نے اس کے وارثوں کو حق دیا ہے کہ وہ اس کا قصاص لے یا اگر وارث نہ ہو تو ریاست وارث ہوگی اور حکومت قصاص لے گی جس کا اپنا طریقہ ہے کہ ثبوت ہو پھر وارث کی پسند کہ دیت لے کر معاف کرے یا بدلے میں قتل کرے کہ اس کا اسے حق دیا گیا ہے مگر یہ یاد رہے کہ وہ بھی زیادتی نہ کرے اور ظلم کا مرتکب نہ ہو ، ورنہ جو تائید اسے حاصل تھی وہ بحیثیت مظلوم تھی ، اب اگر وہ خود ظالم بن گیا تو ظاہر ہے تائید باری تو مظلوم کا ساتھ دے گی ، کہ اگر کسی نے ظلم کیا ہے تو بدلہ لینا تو درست ہے مگر انصاف شرط ہے کہ ظلم کا جواب بھی ظلم سے دیا گیا تو معاشرے میں ظلم پھیلے گا حالانکہ بدلہ اور انصاف کا تقاضا تو ظلم کی راہ روکنا ہے اور قیام امن ہے ۔ اور یتیم کے مال کے قریب مت پھٹکو یعنی ایسے طریقے نہ اپناؤ کہ اس کا مال ہتھیا سکو ، ہاں احسن طریقے سے جس میں اس کی بہتری پر جائز طور پر خرچ کیا جاسکے ضرور خرچ کرو ، تاآنکہ وہ خود جوان ہو کر اپنا کام سنبھال لے ، مال تو کسی کا بھی ناجائز نہیں مگر دوسرے مطالبہ تو کرسکتے ہیں یتیم ایک ایسا بچہ ہوتا ہے جو نہ اپنے مال کی حفاظت کا اہل ہوتا ہے اور نہ کوئی مطالبہ کرسکتا ہے ۔ (معاہدات) نیز جو عہد بھی کرو وہ ضرور پورا کرو کہ سب سے پہلا عہد رب العالمین کے ساتھ اطاعت کا ہے جو ازل میں کیا گیا پھر اگر کسی نے کلمہ پڑھا تو ایک نیا عہد کرلیا جو نبی کے ذریعہ سے اللہ کی مکمل اطاعت کا تقاضا کرتا ہے ، نیز معاملات اور کاروبار حیات میں مختلف معاہدے کرنا پڑتے ہیں جن کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے اور بغیر شرعی عذر کے انہیں توڑا نہیں جاسکتا ، بشرطیکہ وہ شرعا بھی جائز ہوں اگر کوئی ایسا وعدہ کردیا گیا جس کے بارے بعد میں علم ہوا کہ شرعا جائز نہیں تو اسے پورا نہ کیا جائے گا بلکہ فریق ثانی کو بھی اطلاع کر کے ختم کردیا جائے گا اور یاد رکھو جیسے دیگر فرائض وواجبات کی پرسش ہوگی ، اسی طرح عہد کی پرسش بھی کی جائے گی یعنی اس کی اہمیت کسی طرح کم نہیں ہے ۔ (ناپ تول) اور جب ناپ تول کرنے لگو تو پورا پورا ناپ کرو اور صحیح ترازو سے تولو کہ یہ کام فی نفسہ بہترین بھی ہے ، اور اس کا نتیجہ بہت اچھا ہے ، انسانی رشتے اور تعلقات جوڑنے میں بھی اور لین دین میں کمی نہ کرنا تجارتی ترقی اور کثرت مال کا سبب بھی ہے ۔ علماء کے مطابق ملازم تنخواہ کے مقابلے میں اور مزدور اجرت کے مقابل اپنا کام پورا اور دیانتداری سے کرے کہ یہ بھی ناپ تول میں داخل ہے ۔ اور جن باتوں کی کوئی صحیح خبر نہ ہو ان کے پیچھے مت پڑو یعنی بلا تحقیق بات کو مت بڑھاؤ ، یہ کلیہ زندگی کے تمام امور میں کامیابی کا ضامن اور سکون کا باعث ہے کہ معاشرے میں فسادات اور بدامنی کا ایک بہت بڑا سبب سنی سنائی باتوں پہ لوگوں کا رد عمل ہے ، ” فقیر کا دوست ایک جج تھا ، ایک بار اس نے پرسکون رہنے کے لیے کوئی وظیفہ پوچھا تو عرض کیا کہ میری ایک عادت ہے گھر یا باہر وہ بات نہیں سنا کرتا جو میرے متعلق نہ ہو یا جس میں میری کوئی ذمہ داری نہ ہو اگر ہو سکے تو یہی طریقہ اپنا لو اور وظیفے اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے پڑھا کرو جو احادیث میں دیئے گئے ہیں ، بعد میں ملاقات پر بتانے لگے کہ بیشتر پریشانی سے جان چھوٹ گئی ہے “۔ تو اکثر فساد اور خرابی بلاتحقیق باتوں کی پیدا کردہ ہوتی ہے ، لہذا ایسی باتوں کو ترک کردینا ضروری ہے ، نیز سماعت و بصارت کی کوئی فضول نعمت نہیں کہ اسے فضول کاموں میں لگایا جائے یہ تو اللہ جل جلالہ کی بہت بڑی عطا ہے اور اس کے بارے میں پرسش ہوگی کہ اسے کہاں کہاں خرچ کیا ۔ (فواد یا دل بہت قیمتی دولت ہے) انسانی دل یا فواد دل کا وہ اندرونی حصہ یا کیفیت جس میں خواہش پیدا ہوتی ہے وہ تو انسان کو اس لیے عطا ہوا تھا کہ اس میں اللہ جل جلالہ کی طلب پیدا ہو ، اس سے محبت پیدا ہو اور اس کے عشق کا شعلہ بھڑکے مگر انسان نے خرافات اور فضول باتیں سن کرنا روا اور فضول مناظر دیکھ کر اسے برباد کردیا ، گویا یہ ثابت ہوا کہ سماعت و بصارت تک کے اثرات دل پہ مرتب ہوتے ہیں تو صالحین کو سننا ، دیکھنا اور اس غرض کے لیے ان کی مجالس میں جانا ضروری ٹھہرا کہ دل کی نعمت کا بھی محاسبہ کیا جائے گا ، اور زمین پر اکڑ اکڑ کر مت چلو یعنی اپنی چال ڈھال متکبرانہ نہ بناؤ کہ تمہارا چلنا زمین کو پھاڑنے سے تو رہا اور بلندی میں پہاڑ تک تم سے اونچے ہیں ، لہذا نہ صرف اعمال وکردار میں بلکہ لباس ، چال ڈھال ، اور بول چال میں بھی اپنے بندہ ہونے کا اور اللہ جل جلالہ کی بڑائی کا احساس وجذبہ کار فرما رہنا چاہئے کہ انسان بہرحال محتاج ہے اور بڑائی صرف اللہ جل جلالہ کو سزاوار ہے ۔ یہ جس قدر احکام ارشاد ہوئے اللہ جل جلالہ کی تو حید صرف اسی کی عبادت ، والدین سے حسن سلوک قرابتداروں ، مسافروں ، اور مساکین سے حسن سلوک ، زنا اور بدکاری سے اجتناب ، ناپ تول میں کمی نہ کرنا ، محض سنی سنائی پر بات نہ بڑھانا اور تکبر کی چال تک سے بچنا یہ اتنے واضح اور ضروری ہیں کہ ان کے خلاف عمل کی برائی ظاہر بھی ہے ، اور اللہ جل جلالہ کو سخت ناپسند بھی ، سبحان اللہ اسلام کیا خوبصورت طرز حیات ہے اور کس قدر بہترین اخلاق کے مجموعے کا نام ہے ۔ یہ کس قدر اللہ جل جلالہ کا احسان عظیم ہے کہ اے مخاطب بذریعہ وحی تجھے یہ سب حکیمانہ باتیں تعلیم فرمائی ہیں اور اللہ جل جلالہ کے نبی نے نہ صرف پیغام پہنچایا بلکہ چشم عالم کو کر کے دکھایا اور انہیں بنیادوں پر ایک معاشرہ ، ایک ملک اور ایک سلطنت تعمیر فرمائی ، لہذا ایسے کریم اور معبود برحق کے ساتھ کبھی بھی اور کسی کو بھی شریک عبادت نہ ٹھہرا اور نہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم کا ایندھن بنے گا اللہ جل جلالہ کے احسانات کو دیکھ اور اے انسان ذرا اپنی بات کا خیال کر کہ تو اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتا ہے اور بیٹی ہو تو قتل کرنے تک جاتا ہے اور تیرا یہ بھی خیال ہے کہ تجھے اولاد اللہ جل جلالہ ہی دیتا ہے ، تو پھر کیا تجھے بیٹے دے کر اس نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کرلیں کہ تو فرشتوں کو اس کی بیٹیاں کہتا ہے یعنی ایک طرف تعلیم نبوت پہ اعتراض ہے تو دوسری جانب ایسی غیر معقول باتوں پہ اعتقاد ہے جو خود تیرے پیمانے سے بھی بالکل نامناسب ہیں ، لہذا تو یہ بہت سخت بات کہتا ہے اور بہت بڑا جرم کرتا ہے کہ عموما مشرکین کے عقائد شرعا تو خراب ہوتے ہی ہیں ، انسانی عقل بھی انہیں رد کردیتی ہے ۔