16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 16:77–83

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں اللہ کے ساتھ خاص ہیں اور قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا یا اس سے بھی قریب تر۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے اور اس نے تم کو کان عطا فرمائے اور آنکھیں اور دل تاکہ تم شکر کرو

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی فضا میں گھرے ہوئے (اڑتے) ہیں اللہ کے سوا ان کو کون تھامتا ہے یقینا اس میں ایمان والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں میں رہنے کی جگہ بنائی اور تمہارے لئے جانوروں کی کھال کے گھر بنائے جن کو تم اپنے کوچ کے دن اور مقام کے دن ہلکا پھلکا پاتے ہو اور ان کے اون اور ان کے پشم اور ان کے بالوں سے اسباب اور برتنے کی چیزیں (جو) ایک مدت تک (کام دیتی ہیں)

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہارے لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ کی جگہیں بنائیں اور تمہارے لئے کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچاتے ہیں اور ایسے کرتے بنائے (زرہ) جو تمہاری لڑائی میں تمہاری حفاظت کرتے ہیں اسی طرح وہ اپنا احسان تم پر پورا فرماتے ہیں تاکہ تم فرمانبردار رہو

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیریں تو بیشک آپ کے ذمہ صاف صاف پہنچا دینا ہے

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر کافر ہیں

(رکوع نمبر 1 1) اسرارومعارف جو انسانی منصوبہ بندیاں اور اندازے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ رب جلیل کو بھی عام انسانوں کی طرح تصور کرکے مثالیں دیتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ زمین اور آسمانوں میں یا ساری مخلوق میں غیب کا علم تو صرف اللہ جل جلالہ کو ہے اور کل کیا ہونے والا ہے یا آئندہ کیا پیش آئے گا یہ صرف اللہ جل جلالہ جانتا ہے ، لہذا انسان کی بہتری اسی کی اطاعت میں ہے ، ورنہ انسان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی سب کچھ تہ وبالا ہوجائے گا اور پلک جھپکنے میں قیامت قائم ہوجائے گی اللہ جل جلالہ تو یقینا جانتا ہے بلکہ وہی ذات قیامت قائم کرنے والی ہے اور یقینا وہ ہر بات پہ کامل قدرت رکھتا ہے لہذا اسی کے حکم کے مطابق عمل بھی اور آئندہ کی منصوبہ بندی بھی درست ہے ۔ آدمی کے علم کی حیثیت صرف اتنی ہے کہ اللہ جل جلالہ نے تمہیں ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا فرمایا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے نہ غذا خبر نہ لباس کا پتہ نہ بھلے برے کی تمیز کچھ بھی تو نہ جانتے تھے پھر اس نے تمہیں حواس عطا فرمائے ، جن میں بتدریج پختگی آتی گئی اور تم علم حاصل کرنے لگے حصول علم کا بہت بڑا ذریعہ تمہاری سماعت کو بنایا دوسرے درجے پر بصارت کو کہ انسان زندگی بھر سن کر معلومات جمع کرتا ہے اور مشاہدہ بہرحال اس سے کم تر ہی ہوتا ہے ۔ (علم کا مرکز دل ہے) پھر علم کا خزینہ قلب کو بنا دیا ، تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور اس کے احسانات یاد کرو ، فلاسفہ کے مطابق علم کا خزانہ دماغ ہے مگر یہ درست نہیں حق یہ ہے کہ دماغ معلومات جمع کرنے کا خزانہ ہے اور معلومات انسان کا حال نہیں بن سکتیں بلکہ جب دل چاہتا ہے تو معلومات کو بیچ کھاتا ہے مثلا ڈاکٹر ، وکیل یا ایک منصف ہی کو لے لیں تو اگر محض ذہنی طور پر اپنے فن کے بارے معلومات رکھتا ہے تو ان سے ہر جائز وناجائز طریقے سے محض دنیا سمیٹے گا ، اپنے فرض منصبی کا لحاظ تک بھی نہ کر پائے گا کہ معلومات دماغ میں ہیں اور دل پہ ان کا اثر نہیں لیکن اگر دل کا حال بدل گیا اور ڈاکٹر کی کیفیت یا وکالت وعدالت کے منصب کا حال دل پر وارد ہوگیا تو ڈاکٹر مریض کے آرام کی فکر زیادہ کرے گا خواہ فیس کم ہی مل سکے ، وکیل محنت کرے گا اور منصف انصاف کرنے کی کوشش کرے گا ، کہ ان کا دل اسی بات میں راحت محسوس کرے گا اور یاد رہے ، دل کی حیات وحی سے شروع ہوتی ہے اور نبی ہی اس کو تقسیم فرماتا ہے لہذا یہ صرف مومن ہے جس کا دل زندہ ہو کر قبول علم کا قابل ہوتا ہے ، ورنہ کافر کو تو سرے سے یہ لذت نصیب ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ پورا کافر معاشرہ مجبورو بےبس کا خون نچوڑتا ہے ، سود ، جوا اور ذخیرہ اندوزی صرف غریب اور بےبس کو لوٹنے کا ڈھنگ ہیں ، اپنی معمولی خواہشات کی تکمیل کے لیے پوری انسانیت کو جنگ کی آگ میں جھونک دیتا ہے کافروں کا پراپیگنڈہ نہ دیکھا جائے کاش کوئی اندر جھانک کر دیکھے ، رہے مسلمان تو ان میں جب نور ایمان میں کمی آتی ہے تو دل علم کا خزانہ نہیں بن سکتا ، بلکہ معلومات دماغ کے پاس ہوتی ہیں ، دل اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ان سے ناجائز فائدے حاصل کرتا ہے ، ذرا پرندوں کو ہوا کا سینہ چیرتے ہوئے دیکھو جن کا مادی اور کثیف وجود قدرت باری کی صفت کے طفیل ہواؤں میں تیر رہا ہے ، اللہ جل جلالہ کے سوا انہیں کوئی تھامنے والا نہیں ان کے جسموں کی ساخت پروں کے سائز پر پرندے کے حجم کے مطابق پھر ان میں ایک شعور جو اڑنے اور اترنے کے لیے ضروری تھا پھر فضا میں وہ خاصیت کہ اس میں پرواز ممکن ہو یہ سب اور اس طرح کی بےحساب دلیلیں ان کی ذوات میں موجود ہیں مگر سمجھنے کے لیے نور ایمان چاہئے ۔ (گھر بھی اللہ جل جلالہ کی اطاعت ہی سے راحت کا سبب بن سکتا ہے ورنہ نہیں) رب جلیل نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو راحت کا سبب بنا دیا کہ تم غم جہاں سے گھر میں سکون پاتے ہو بیوی بچے اور رزق حلال ذہنی وقلبی سکون کا باعث بنتے ہیں ، اس آیہ کریمہ سے ظاہر ہے کہ کفر یا نافرمانی کرکے بڑے سے بڑا اور پرتکلف گھر بھی آرام مہیا نہیں کرتا بلکہ مصائب میں اضافہ کرتا ہے جبھی تو یورپ کے غیر مسلم معاشرہ میں خود کشی کی شرح بہت زیادہ ہے ، جبکہ ان کے گھروں میں ہر مادی سہولت موجود ہے ۔ اور پھر اللہ جل جلالہ نے جانوروں کی کھال ، بال ، اون وغیرہ سب کو تمہاری راحت و خدمت کا سامان بنا دیا کہ لباس ، خیمے ، جوتے اور طرح طرح کی چیزیں بنا کر استعمال میں لاتے ہو ، اور دار دنیا میں استعمال کرکے فائدہ اٹھاتے ہو۔ (مسئلہ) اس آیہ کریمہ سے ثابت کیا گیا ہے کہ جانوروں کی کھال یا اون اور بال سب حلال ہیں اور استعمال جائز ہے وہ جانور حلال ہو یا نہ ، ذبح کیا گیا ہو یا مردار ہر حال اون بال تو ویسے ہی حلال ہیں جبکہ کھال دباغت سے پاک ہوجاتی ہے ، اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کو دیکھو تو کہ ہر شے کو سایہ عطا کرکے اسے تمہارے لیے راحت کا باعث بنا دیا بڑے بڑے پہاڑوں کے دامن تمہاری پناہ گاہوں کا کام دیتے ہیں اور لباس بخشا جو تمہیں موسموں کے اثرات سے بچاتا ہے اور ایسے لباس بنانا سکھا دیئے جو میدان کار زار ہیں تمہارے بدنوں کی حفاظت کا کام کرتے بھلا کہاں تک شمار کرو گے یہ بیشمار انعامات تقاضا کرتے ہیں کہ تم اللہ کی اطاعت کرو ، لیکن اس کے باوجود اگر لوگ اطاعت نہ کریں تو آپ ﷺ کا کام میری بات صاف صاف پہنچا دینا ہے کہ یہ سب لوگ اللہ کی نعمتوں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ، رات دن برت رہے ہیں مگر اس کے باوجود اس کا احسان ماننے سے انکار کردیتے ہیں اور اکثریت کفر کی مصیبت میں مبتلا نظر آتی ہے ۔
Ayahs 16:84–89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ (پیغمبر) کھڑا کریں گے پھر ان کافروں کو (بولنے کی) اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان کے عذر قبول فرمائے جائیں گے

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظلم کرنے والے لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! یہ ہمارے وہی شریک ہیں جن کو ہم آپ کے سوا پکارتے تھے تو وہ ان کے کلام کو ٹھکرادیں گے (اور کہیں گے) بیشک تم جھوٹے ہو

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن اللہ کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے وہ سب ان سے جاتا رہے گا

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا ہم ان کے لئے عذاب پر عذاب زیادہ کریں گے اس لئے کہ فساد کیا کرتے تھے

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ جو ان ہی میں سے ہوگا ان پر کھڑا کریں گے اور ان لوگوں کے مقابلہ میں آپ کو گواہ لائیں گے اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے کہ اس میں ہر چیز کا تفصیل سے بیان ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور (بڑی) خوشخبری ہے

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف ایک روز ایسا آئے جب ہر قوم میں سے ایک ہستی یعنی اس کی طرف بھیجا گیا نبی یا رسول شہادت کے لیے بارگاہ الہی میں طلب کیا جائے گا جو ان لوگوں کے روبرو ان کے اس کردار کی شہادت دے جو انہوں نے اللہ جل جلالہ کے احکام کے ساتھ اپنایا تھا تو وہ وقت اعمال کا نہ ہوگا کہ تب کافروں کو اصلاح احوال کی اجازت ملے یا یہ موقع دیا جائے ، اب کوئی ایسا عمل کرلو جس پر اللہ جل جلالہ راضی ہوجائیں کہ وہ روز تو اجر اور جزا کا ہوگا عمل کا ثواب ہی وقت ہے جب کفار پر عذاب وارد ہوگیا یا یہ اس میں داخل ہوگئے تو پھر نہ ہی عذاب میں کمی واقع ہوگی اور نہ انہیں کسی طرح کی مہلت ہی مل سکے گی بلکہ بات ہی الٹ جائے گی ، یہ جن ہستیوں کو اللہ جل جلالہ کا شریک ٹھہراتے ہیں انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ یہی وہ ہیں جن کی پوجا ہم کیا کرتے تھے ، اور تیری ذات وصفات میں انہیں شریک مانتے تھے تو وہ بھی ڈر کر کہہ دیں گے کہ ایسا ہرگز نہیں تم صاف جھوٹ بول رہے ہو خواہ یہ بات یوں درست ہو کہ جیسے انبیاء کو یا فرشتوں کو پوجتے رہے تو انہوں نے تو ہرگز ایسا کرنے کو نہ کہا تھا یا درخت اور پتھر کہہ اٹھیں تو انہیں بھی ان امور کا علم ہی نہ تھا یا پھر شیاطین بھی کہہ دیں اور وہ بھی کافر ہی تو ہیں انہی کی طرح جھوٹ بول رہے ہوں ، جیسے یہ دنیا میں بولتے تھے وہ وہاں انکار کر رہے ہوں ، بہرحال یہ حیلہ بازیاں کوئی فائدہ نہ دیں گی اور کفار پر عذاب کئی گنا بڑھا دیا جائے گا کہ ایک تو اپنے کفر پہ مرتب ہوگا پھر جتنے لوگوں کو کفر پر لگایا اور اللہ کی راہ سے بھٹکایا ہر ایک کا عذاب ان پر بھی تو پڑے گا کہ اس فساد کے بانی تھے ، اس روز ہر قوم کا نبی اس پر شہادت دے گا اور جب یہ لوگ اپنے نبیوں کی بات جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو ان کے مقابل آپ ﷺ کو نبیوں کے حق میں گواہ بنایا جائے گا اس لیے کہ آپ ﷺ پر قرآن اتارا گیا جو ہر بات کو بیان کرتا ہے ، امم سابقہ کے حالات انبیاء کی باتیں اور کفار کا کردار اور ساتھ ہی ساتھ ماننے والوں اور مسلمانوں کے لیے اللہ جل جلالہ کی ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی نیز آخرت کے بارے خوشی کی خبر دینے والا بھی قرآن حکیم ہی تمام امور کے اصول بیان فرماتے ہیں ، دین کی ہر بات کی اصل تو موجود ہے جس کی شرح حدیث پاک ہے ، دنیا کی تمام ایجادات کا اشارہ بھی ملتا ہے جہاں مختلف اشیاء میں تدبر اور غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے نیز بنیادی اور اصولی باتیں تو پہلوں اور پچھلوں کے حالات کے ساتھ بیان فرما دیتا ہے ۔
Ayahs 16:90–100

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

بیشک اللہ انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (حسب توفیق) دینے کا حکم فرماتے ہیں اور بےحیائی اور برائی اور سرکشی سے منع فرماتے ہیں وہ تمہیں اس لئے نصیحت فرماتے ہیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب اللہ سے عہد کرلو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو اور یقینا تم اللہ کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو جو کچھ تم کرتے ہو بیشک اللہ اس کو جانتے ہیں

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے اپنا سوت کا تا پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ پر غالب رہے بیشک اس سے اللہ تمہاری آزمائش کرتے ہیں اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کے دن ضرور ان سب کو تمہارے سامنے ظاہر فرمادیں گے

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتے تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتے و لیکن وہ جسے چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں راہ پر ڈال دیتے ہیں اور جو عمل تم کرتے ہو ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا تھا تمہیں تکلیف بھگتنا پڑے اور تم کو بڑا سخت عذاب ملے

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور اللہ سے جو تم نے عہد کیا اس کو تھوڑی سی قیمت (مال ومنال دنیا) پر مت بیچو بیشک جو (صلہ) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو تو

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم ضرور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک کام کرے وہ خود مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان ہو تو ہم ضرور اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی عطا فرمائیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا بہت اچھا صلہ عطا فرمائیں گے

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

پس جب آپ قرآن پڑھنا چاہیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

یقینا اس کا زور ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

بیشک اس کا قابو تو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں اور جو اس (اللہ) کے ساتھ شرک کرتے ہیں

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف پھر کتاب اللہ جل جلالہ کی تعلیمات کی خوبی اور کمال دیکھئے کہ ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو ایسی تعلیمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہاں ایک آیہ مبارکہ میں قرآنی تعلیمات کا سارا خلاصہ اور حاصل ارشاد فرما دیا گیا ۔ (عدل) کہ اللہ جل جلالہ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں ، عدل ، احسان اور (آیت) ” ایتای ذالقربی “ برابر کرنے کے معنوں میں آتا ہے ، اسی لیے جھگڑے میں فیصلے کو عدل کہا جاتا ہے یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کا حسین راستہ ، یعنی سب سے پہلے بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے کہ اللہ جل جلالہ کی رضا کو خواہشات نفس پر مقدم رکھے اور اس کے احکام کی تعمیل میں پوری کوشش کرے اپنے نفس کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کی ضروریات کو پورا کرنے کا اہتمام کرے ، اور جن خواہشات میں اس کی ہلاکت ہو ان سے بچانے کی بھرپور کوشش کرے ایسے ہی اپنے اور دوسرے لوگوں کے درمیان عدل یہ ہے کہ سب کے حقوق ادا کرے اور اپنا حق تو حاصل کرے مگر زیادہ کا مطالبہ نہ کرے ، ایسے ہی معاملات یا جھگڑوں میں ناروا رعایت یا طرفداری نہ کرے ، غرض عقیدہ ، عمل اور اخلاقیات سب میں عدل مطلوب ہے ۔ (احسان) دوسرا حکم احسان کا ہے اور یہ حکم ہی سارے عمل کی روح ہے احسان سے مراد ہے کہ جو کردار ہو وہ کیفیات قلبی کا آئینہ دار ہو اور پورے خلوص سے عمل کیا جائے محض دکھانے کو یا شہرت حاصل کرنے کو نہ کیا جائے ، جیسا کہ حدیث احسان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اللہ جل جلالہ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ کیفیت قلب کی ہوتی ہے ، جس کے لیے مجاہدہ تو کیا جاسکتا ہے مگر عطا وہبی طور پر ہوتی ہے کہ یہ از قسم ثمرات ہے اور ثمرات ہمیشہ وہبی ہوتے ہیں ، یعنی اللہ کریم کی طرف سے عطا فٹ سے ہوجاتے ہیں ، یہی دولت صحبت نبوی ﷺ سے تقسیم ہوئی ، تعلیمات تو آپ ﷺ نے زبانی ارشاد فرمائیں ، مگر صحابی صرف وہ شخص بن سکا جسے فیض صحبت نصیب ہوا اور صحابیت کے طفیل انہیں یہ استحضار کا درجہ نصیب ہوتی ہے اور جوں جوں ترقی درجات نصیب ہوتی ہے ، یہ کیفیت زیادہ ہوتی جاتی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ جس قدر اضافہ اس کیفیت میں ہوتا ہے ، درجات ومنازل بلند ہوتے چلے جاتے ہیں ، مجاہدہ کا تعلق اپنی ذات سے ہے کہ محنت سے اپنے قلب کی صفائی کرتا ہے اور شیخ کی صحبت کے اثر سے اس میں کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو منتقل کرنا اللہ جل جلالہ کا اپنا کام ہے ۔ (ایتاء ذی القربی) کا حاصل یہ ہے رشتہ داری کے حقوق ادا کرے جس کا معنی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ محض اس لیے ان سے احسان نہ کرے کہ وہ اس کی عزت کرتے ہیں یا اچھے لوگ ہیں بلکہ ان کی طرف سے ناخوشگوار سلوک پر بھی درگزر کرے ، اور رشتہ داری کے سبب یا صلہ رحمی کہہ لیجئے کے باعث ان سے حسن سلوک کرے ، اور تین کاموں سے منع فرمایا ہے اول۔ (فحشائ) : ایسا عمل جس کا برا ہونا معروف ہو ، جیسے آپ عالمگیر برائی کہہ سکتے ہیں جیسے جھوٹ یا چوری وغیرہ اور دوسرے منکر ، (منکر) اس سے مراد وہ افعال ہیں جن کے گناہ اور ممنوع ہونے پر اہل شریعت کا اتفاق ہے خواہ وہ ظاہری ہوں جیسے عمل میں یا باطنی جیسے عقیدہ میں اور جس بات پر اجتہادی اختلاف ہو اس کی کسی جانب کو بھی منکر نہ کہا جائے گا ، تیسری بات ہے ، بغی “۔ (بغی) ایسے فعل کو کہا جائے جس کا اثر متعدی ہو ، یعنی دوسروں کے حقوق اس سے متاچر ہوتے ہوں اور عالم میں خرابی پیدا ہوتی ہو ، فساد کی آگ بھڑکتی ہو ، ایسے گناہ بغاوت شمار ہوتے ہیں غرض انسانی معاشرے کے لیے بہترین اصول اس میں سمو دیئے کہ تین کام کرنے کے ہیں اور تین کاموں سے رکنے کا حکم ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو جس میں ساری انسانیت کی بہتری اور انسان کی ذاتی فلاح ہے ۔ اور اللہ جل جلالہ کے وعدے یعنی جن وعدوں کو پورا کرنے کا اللہ جل جلالہ نے حکم دیا ہے ان کو پورا کرو یعنی ایسے وعدے یا قسمیں جو خلاف شریعت بات پر کئے جائیں نہ صرف پورے نہ کئے جائیں گے بلکہ ان سے توبہ کرنا ضروری ہوگا اور قسموں کو پورا کرنے کا پورا اہتمام کرو کہ جس بات پر تم نے اللہ جل جلالہ کی قسم کھا کر اسے پختہ کردیا تو اس پر تم اللہ جل جلالہ کو ضامن بنا چکے ، اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے لہذا ایسی قسموں کو جو جائز امور پر ہوں پوری محنت اور کوشش سے نبا ہو ، اور اس بدنصیب خاتون کی طرف مت بنو جو دن بھر سوت کاتنے کے بعد اسے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے کہ نہ وہ روئی باقی رہی نہ تاگا اور محنت الگ سے برباد ، وعدہ خلافی کرنے سے یا قسم توڑنے سے اعمال کا یہی حال ہوتا ہے اور نہ ہی قسموں کو بہانہ بازی کا ذریعہ بناؤ کہ ایک گروہ سے معاہدہ ہوگیا تو اب دوسرا گروہ طاقتور نظرآیا تو پہلے سے وعدہ خلافی کرکے دوسرے کی طرف بھاگ اٹھو کہ ایسی حالتوں سے تمہیں واسطہ پڑتا رہے گا اور یہی امتحان ہے کہ انسان اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتا ہے یا اللہ جل جلالہ کی اطاعت ہر حال کرتا ہے خواہ خواہشات قربان بھی کرنا پڑیں کہ ان تمام اعمال کی حقیقت اور نتائج روز قیامت تمہارے روبرو کردیئے جائینگے ۔ اگر اللہ جل جلالہ چاہتے تو سب کو ایک ہی فرقہ بنا دیتے اور سب لوگوں کو ایک سا طرز فکر عطا کرتے مگر اس نے اس کا مدار انسانی عمل پہ رکھا کہ جس سے خفا ہو اسے ہدایت سے محروم کردیتا ہے اور وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور جسے چاہے یعنی جس پر راضی ہو اسے ہدایت نصیب فرماتا ہے اور انسانی اعمال ہی تو سب نتائج کا سبب بنتے ہیں لہذا جو کچھ بھی کرتے ہو اس کے بارے تم سے پرسش ہوگی ،۔ (عہد شکنی نہ صرف بہت بڑا جرم ہے اس میں ایمان ضائع ہونے تک کا خطرہ ہے) اور اپنے وعدوں اور قسموں کو دھوکا دینے کا سبب نہ بناؤ کہ عہد کرکے توڑ دو یا قسم اٹھا کر دھوکا دو تو یہ صورت حال دوسروں کے لیے بھی گمراہی کا باعث بنے گی اور ان کے قدم بھی پھسلنے لگیں گے ، یوں بدعہدی ایک بہت بڑے فساد کا باعث بن کر اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکنے کا موجب ہوگی جس کی پاداش میں بہت بڑا عذاب مرتب ہوگا کہ ایسے اعمال جو نہ صرف خود گناہ ہوں بلکہ دوسروں کی گمراہی کا سبب بن جائیں وہ بہت بڑے عذاب کا باعث بنتے ہیں اور کسی کے کردار کو دیکھ کر اگر لوگ گمراہ ہونے جائیں وہ بہت بڑے عذاب کا باعث بنتے ہیں اور کسی کے کردار کو دیکھ کر اگر لوگ گمراہ ہونے لگیں تو ایسا شخص خود بھی ایمان ضائع کر بیٹھتا ہے کہ عذاب عظیم ایمان ہی کے ضائع ہونے کا نام ہے اس میں جاہل اور محض نام کے صوفیوں کے لیے بھی بہت بڑی تنبیہ ہے جہاں عام مسلمان کی بدعہدی یا برا عمل دوسروں کو اسلام سے بدظن کرتا ہے وہاں نام نہاد صوفیوں کا کردار خود مسلمانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور یہی جرم خود اس کے ایمان کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے ، (العیاذ باللہ) (رشوت بھی نہ صرف بدعہدی ہے بلکہ عہد فروشی ہے اور وہ بھی اتنی ہی سخت سزا کی موجب بنتی ہے) اور اللہ جل جلالہ کو یعنی اپنی ذمہ داریوں کو چند سکوں کے عوض مت بیچو علماء تفسیر کے مطابق جس کام کا پورا کرنا کسی کے ذمہ ہو وہ اللہ کا عہد ہے اس پر اپنی طے شدہ اجرت یا تنخواہ سے زائد کسی سے حاصل کرنا یا کچھ لیے بغیر کام نہ کرنا یہ ہی اللہ جل جلالہ کا عہد توڑنا اور اسے فروخت کرنا ہے کم قیمت سے مراد دنیا کا فائدہ ہے ، کہ کتنا بڑا بھی تب بھی اللہ جل جلالہ کے عہد کی عظمت کے سامنے فانی دنیا کی حیثیت بہت کم ہی ہے ، لہذا رشوت کی لعنت نہ صرف یہ کہ مومن کو زیب نہیں دیتی ، بلکہ حق یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ایمان سلب ہوجانے کا خطرہ ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ ایسے چیز یا عہدہ یا فائدہ کچھ دے دلا کر حاصل کرنا جو اس کا حق نہ بنتا ہو یعنی رشوت دینا بھی اتنا ہی جرم ہے کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔ ہاں جو کسی کا حق بنتا ہو مگر دینے والا بغیر رشوت کے نہ دے تو یہ نہ صرف رشوت ہے بلکہ ڈاکہ ہے اور لینے والا ڈاکو ہے اور اس صورت میں دینے والا مظلوم ہے یاد رکھو جو بھی تمہارے پاس ہے سب فانی ہے ، مال و دولت ہو یا دوستی ودشمنی ‘ جاہ و جلال ہو یا شان و شوکت سب کچھ ہی فنا ہونے والا ہے مگر اس کے اثرات اور نتائج یعنی وہ شئے جو اللہ جل جلالہ کے پاس ہے باقی رہنے والے ہیں ، اب محض فانی اعمال کی طلب میں عمر ضائع کرنا اور باقی رہنے والے نتائج کی فکر نہ کرنا تو دنشمندی نہ ہوگی ۔ (صبر) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہوگا یعنی خواہشات کے مقابلے میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت اختیار کی ہوگی کہ صبر کی تعریف خود کو اللہ جل جلالہ کو نافرمانی سے روکنا ہے ، انہیں ان کے اس عمل کا بدلہ بہترین اور کئی گنا زیادہ عطا کیا جائے گا ، کیا یہ حقیقت بھی اس بات ہی کی دلیل نہیں کہ مرد ہو یا عورت جسے بھی ایمان نصیب ہو اور اس کے اعمال نیک ہوں تو اسے حیات طیبہ یعنی بہترین پرسکون زندگی نصیب ہوتی ہے پرسکون زندگی سے یہ مراد نہیں کہ اسے کوئی بیماری یا غربت و افلاس یا دنیا کی مصیبت پیش نہیں آتی بلکہ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ صحت و دولت و فراغت سکون کا سبب ہے کہ سکون دل کی حالت کا نام ہے جس کے حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی جاتی ہے ، عہدہ ، حکومت ، مال و دولت اور گھر بار ، دوست احباب سب اسی غرض سے اختیار کیے جاتے ہیں ، مگر کتنے امیر پرسکون ہیں یا کتنے بااثر افراد سکون سے جی رہے ہیں ، ذرا یورپ ومغرب کے کافر معاشرہ کو دیکھیں جہاں دولت کی فراوانی ہے ، خوبصورت گھر ، اچھی غذا اور بہترین وسائل ہیں وہاں سکون نام کو نہیں اور خود کشی ، طلاق اور آپس میں لاتعلقی کی کوئی حد نہیں کہ دلوں میں سکون نہیں ہے لیکن جہاں نور ایمان ہو اور اتباع سنت نصیب ہو فاقہ کشی یابیماری تو کیا موت تک میں سکون نصیب رہتا ہے کہ یہی اللہ جل جلالہ کا قانون ہے ، اور جب دنیا میں یہ صورت حال ظاہر ہے تو آخرت کا اجر انہیں عمل کے اعتبار سے بہت بڑھ چڑھ کر نصیب ہوگا ، عمل صالح اور اطاعت الہی میں سب سے بڑی رکاوٹ شیطان ہی پیدا کرتا ہے جو مختلف وساوس پیدا کرتا ہے اور شیطانوں کی ایک قسم انسانوں میں سے ہے جو ابلیس کا اثر قبول کرکے نیکی میں مانع ہوتے ہیں تو جہاں ان سے جہاد کا حکم ہے کہ ان کا دفعیہ ہو سکے وہاں ابلیس اور اس کی اولاد سے اللہ جل جلالہ کی پناہ مانگنا ضروری ہے ، لہذا جب بھی کوئی کام کرنے لگیں وہ کتنا اچھا بھی ہو خواہ تلاوت کلام اللہ ہی کرنے لگیں تو اے حبیب ﷺ شیطان سے اللہ جل جلالہ کی پناہ طلب کریں ، گویا آپ ﷺ کی وساطت سے ساری انسانیت کو خطاب فرمایا گیا ہے ۔ (تعوذ پڑھنا سنت ہے) لہذا تلاوت قرآن سے پہلے ” اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ پڑھنا سنت ہے ، اسے جمہور علماء نے فرض نہیں لکھا کہ بعض مواقع پر نہ پڑھنا بھی ثابت ہے ، اس موقع پر بحث تفسیر ابن کثیر میں موجود ہے تلاوت قرآن نماز میں ہو تو بھی تعوذ پڑھا جائے گا ، اور حنفیوں کے نزدیک صرف پہلی رکعت میں کافی ہے ایسے ہی ہر کام سے پہلے شیطان سے اللہ جل جلالہ کی پناہ مانگنا چاہئے جس کے لیے حدیث شریف میں مختلف دعائیں موجود ہیں کہ اللہ جل جلالہ پر بھروسہ کرنے والوں پر اور مضبوط ایمان رکھنے والے لوگوں پر شیطان کا بس نہیں چلتا ، اس کا زور بھی انہی پر چلتا ہے جو اسی کی دوستی کا دم بھرتے ہیں اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرکے اللہ جل جلالہ کی حفاظت سے محروم ہوجاتے ہیں یا عقیدہ کے اعتبار سے شرک میں مبتلا ہو کر اللہ جل جلالہ کی تائید کھو دیتے ہیں ، لہذا گناہ کی بہت بڑی سزا یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہی انسان گمراہی کا شکار ہو کر آخرت کی تباہی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے ۔
Ayahs 16:101–110

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں اور اللہ جو حکم بھیجتے ہیں اس کو وہی خوب جانتے ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ (یونہی اپنی طرف سے) بنا لاتے ہیں بلکہ ان میں اکثر لوگ جاہل ہیں

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ اس کو روح القدس (جبرائیل امین) آپ کے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لائے ہیں تاکہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری بن جائے

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان کو تو کوئی آدمی سکھاتا ہے جس شخص کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں ان کی زبان تو عجمی (غیر عربی) ہے اور یہ (قرآن) صاف عربی زبان ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ ان کو کبھی راہ پر نہیں لائیں گے اور ان کے لئے دردناک سزا ہوگی

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

بیشک جھوٹ جوڑنے والے تو یہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے اس شخص کے جس پر زبردستی کی جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو و لیکن (ہاں) جو جی کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہوگا اور ان کو بہت بڑی سزا ہوگی

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور یہ کہ اللہ ایسے کافروں کو ہدایت نہیں فرماتے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

بیشک یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے تکلیفیں اٹھانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور قائم رہے بیشک آپ کا پروردگار ان (تکلیفوں) کے بعد بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

(رکوع نمبر 14) اسرارومعارف شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا ہے اور اس کی اپنی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ بندوں کے حال کی رعایت فرماتا ہے ۔ صدیوں سے کفر میں مبتلا ایک معاشرے کو ایک دم سے مجبور نہیں کردیا گیا بلکہ یہ اس کی شان ربوبیت کہ بتدریج احکام مکمل فرماتا گیا اور آخر ایک مطلوبہ معاشرہ قائم ہوگیا تو منسوخ ہونا بھی ختم کردیا گیا ، نیز یہ سب ہی تو حق ہے ۔ (کلام اللہ کا اثر اور کیفیت) اور اس میں ایک کیفیت ہے اور اس کا یہ اثر ہے کہ جس دل میں نور ایمان ہو اسے مزید ثبات نصیب ہوتا ہے ، ہدایت نصیب ہوتی ہے یعنی نیک عمل کرنے کو جی چاہتا ہے اور ایک انمول مسرت وشامانی کا عالم دل پہ طاری ہوجاتا ہے ۔ (اخذ کیفیات) مگر یہ سب ان کو نصیب ہوتا ہے جو سرتسلیم خم کرتے ہیں ، ان سے ثابت ہے کہ اخذ کیفیات کے لیے مکمل اور غیر مشروط اطاعت شرط ہے ہاں شیخ سے اطاعت کی حد شریعت ہے ، اس کے باہر اطاعت نہ کی جائے گی ۔ اللہ جل جلالہ کو خبر ہے کہ یہ مشرک کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو فلاں آدمی سکھاتا ہے مفسرین کے مطابق مکہ مکرمہ میں ایک باہر سے آیا ہوا لوہار تھا ، جو آپ ﷺ کی باتیں سنتا تھا تو آپ ﷺ اس کے پاس تشریف رکھتے تھے ، وہ کچھ پہلے کتابوں کا علم بھی رکھتا تھا ، مگر ان میں اتنا شعور بھی نہیں کہ جس آدمی کا کہتے ہیں وہ خود عجمی ہے اور کتاب اللہ کی زبان ایسی فصیح وبلیغ عربی ہے کہ تمام عالم عرب کے سامنے اس کا چیلنج موجود ہے جس کا کوئی جواب نہیں دے سکا ، اور نہ دے سکے گا ، بلکہ ان کے اس معاندانہ رویے کا اثر خود ان پر ایسا پڑتا ہے کہ مزید کفر میں دھنستے چلے جاتے ہیں ، اور اللہ جل جلالہ انہیں ہدایت نصیب ہی نہیں کرتا اور ان کے لیے بہت دردناک عذاب ہے ، یہ افتری کا طعنہ دینے والے خود ہی افتری کرتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور سخت جھوٹ بولتے ہیں اور جو کچھ یہ کہتے ہیں یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور ہاں اگر یہی کفریہ کلمات کہنے پر کسی کو مجبور کردیا جائے مگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو تو محض جان بچانے کے لیے کوئی کلمہ کفر یا کافرانہ فعل کرنا جس پر مجبور کردیا جائے تو اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا ۔ (مسئلہ اکراہ) فقہاء کے مطابق اگر کسی کو کلمہ کفر کہنے یا کافرانہ کام کرنے پر اس حد تک مجبور کردیا جائے کہ نہ کہنے سے قتل کا خوف ہو تو ایسا کرنے سے گناہ نہ ہوگا جبکہ دل ایمان پر جما ہوا ہو کیونکہ بعض غریب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو یہ حال پیش آیا جن میں سے اکثر تو شہید ہوئے بعض نے ایسا کہہ کر جان بچائی اور ہجرت کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں جا پہنچے لیکن ایسے لوگ جن کے دلوں میں ہی کفر رچ بس گیا ہو ان پر اللہ جل جلالہ کا غضب ہوگا ، دار دنیا میں بھی تباہی کا سامنا کریں گے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے کہ ایمان لانے کے کفر کو پلٹنا بہت بڑا جرم ہے ، شرعا بھی مرتد واجب القتل ہے کہ ان کے اس فعل کا سبب محض دنیا کی طلب ہی ہے جسے انہوں نے آخرت پر محبوب جانا اور یہ ایسا جرم ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ جل جلالہ کبھی ہدایت کی توفیق نہیں بخشتے بلکہ ان کے دلوں پر اس جرم کی پاداش میں مہر لگا دی جاتی ہے اور ان کی سماعت و بصارت بھی ایسی متاثر ہوتی ہے کہ حق پہچاننے سے قاصر ہوتے ہیں اور یہی لوگ ہمیشہ کی غفلت میں غرق ہوجاتے ہیں ، اور یہ حال اس بات کی دلیل ہے کہ یقینا یہ لوگ آخرت میں بہت نقصان میں ہوں گے ، مگر جو لوگ ظلما کفر پہ مجبور کئے گئے مگر مواقع پاکر انہوں نے وطن چھوڑا ، ہجرت کی پھر اللہ کی راہ میں جہاد کئے یا عمر بھر مجاہدہ کرتے رہے اور خواہشات پر صبر کرکے اللہ کی اطاعت اختیار کی ان کے لیے اللہ جل جلالہ کی مغفرت بہت وسیع ہے اور وہ بڑا رحم کرنے والا ہے ۔