16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 16:41–50

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد اللہ کے لئے اپنا وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش ان کو خبر ہوتی

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

وہ ایسے ہیں جنہوں نے صبر کیا اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو۔

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

(ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر بھیجا اور آپ پر بھی کتاب (ذکر) نازل فرمائی تاکہ آپ لوگوں سے کھول کر بیان فرمادیں جو ان کی طرف (احکام ومضامین) اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور کریں

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

جو لوگ بری تدبیریں کرتے ہیں تو کیا وہ اس بات سے بےفکر ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر (ایسی طرف سے) عذاب آجائے جہاں سے ان کو گمان بھی نہ ہو

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑلے پس وہ اس (اللہ) کو عاجز نہیں کرسکتے

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا ان کو ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑ لے سو بیشک آپ کا پروردگار بڑی شفقت کرنے والا مہربان ہے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا وہ لوگ اللہ کی مخلوقات میں ایسی چیزیں نہیں دیکھتے جن کے سائے دائیں اور بائیں کو اس طور پر جھک جاتے ہیں جیسے اللہ کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے ہوئے ہیں

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں جو ان پر بالادست (بااختیار) ہے اور جو ارشاد ہوتا ہے بجا لاتے ہیں

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف ایسے لوگ جنہوں نے اللہ کریم کے لیے وطن چھوڑا کہ وہاں ان پر ظلم ہوتا تھا انہیں ہم دنیا میں بھی بہترین ٹھکانہ دین گے اور آخرت کا انعام تو بہت ہی بڑا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو ثابت قدم رہے اور جملہ اسباب اختیار کرکے بھروسہ اللہ پر رکھا یعنی کوئی ایسا سبب اختیار نہ کیا جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو اس آیہ مبارکہ میں ہجرت کی فضیلت اور مہاجرین دنیا وآخرت میں انعامات کا وعدہ ہے ہجرت کیا ہے ۔ (ہجرت اور اس پر انعامات کا وعدہ) ہجرت سے مراد ترک وطن ہے اور یہاں فی اللہ کی شرط لگا کر ایسی حالت متعین فرما دی کہ یہ ترک وطن اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے اور دین کے تحفظ کے لیے ہو ، اس میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کا وہ حال ارشاد فرمایا ہے کہ اہل مکہ کے مظالم سے تنگ آکر بحکم الہی انہوں نے حبشہ کو ہجرت کی اور پھر مدینہ منورہ کو ہجرت کی تو اس پر خلوص کی شرط لگا کر دو وعدے فرمائے اول انہیں دنیا میں بہترین ٹھکانہ دینے کا اور دوم آخرت کے بہت بڑے انعام کا لہذا مدینہ منورہ کا قیام نصیب ہونا جس میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی گئی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کفار کے ظلم وستم سے نہ صرف مامون ہوگئے بلکہ انہیں کفار پر غلبہ نصیب ہوا مکہ مکرمہ فتح ہوا پھر سارا عرب فتح ہوا اور پھر عہد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین میں ہی روئے زمین پر تاریخ انسانی میں سب سے بڑی ریاست منصہ شہود پر آئی جس کی حدود چین سے ہسپانیہ تک اور سائبریا سے افریقہ تک پھیلی ہوئی تھیں نیز غریب اور فقیر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین بھی بہت دولت مند ہوگئے اور اللہ کریم نے انہیں فراخی بخشی یہ سب کے سب تاریخی واقعات ان کے خلوص کی گہرائی پر شاہد ہیں اور ہر انسان کے روبرو موجود ہیں رہی بات آخرت کی تو اہل ایمان جانتے ہیں کہ یہ شرف بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین ہی کا ہے کہ اللہ نے رضی اللہ عنھم فرما کر آخرت میں سب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سے اپنی رضا مندی کا اعلان فرما دیا اور یوں انہیں امن سکون عزت وشان حکومت وسلطنت اور فراخی رزق کے ساتھ وہ عظمت نصیب ہوئی کہ جب تک معمورہ عالم آباد ہے لوگ ان کی عظمت کے گیت گاتے رہیں گے آیہ کریمہ میں صبر اور توکل علی اللہ کا بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ اگرچہ ہجرت کرتے ہوئے یا چندے بعد تک بھی تکالیف کا سامنا کرنا پڑے وہ اپنی بات پر اللہ جل جلالہ کے بھروسے جمے رہتے ہیں اور اگر مشکلات نہ ہوتیں صبر اور توکل کی ضرورت نہ ہوتی تو ہر کوئی ہجرت کرتا یہی ابتدائی مشکلات ہی تو امتحان کا سبب اور خلوص کی پرکھ بن گئیں ، (ترک وطن اور ہجرت کی اقسام) امام قرطبی (رح) نے ان کو تحریر فرمایا ہے جس میں مندرجہ ذیل اقسام اور ان کے احکام دیئے گئے ہیں ، (اول) دارالکفر سے دارالاسلام کو ہجرت جب کہ دارالکفر میں امن وسلامتی نہ ہو یا آبرو کو خطرہ ہو یا دینی فرائض ادا کرنا مشکل ہوں تو وہاں سے ہجرت فرض ہے اور یہ ہجرت عہد رسالت میں فرض ہوئی جو بشرط استطاعت قیام قیامت تک فرض ہے نہ جانے جو لوگ پاکستان ریاست چھوڑ کر برطانیہ یورپ امریکہ منتقل ہوتے ہیں ان کے پاس کونسی دلیل ہے جب کہ وہاں نہ ایمان ہے نہ امن ہے نہ غذا حلال دستیاب نہ عزت کی حفاظت اور نہ ہی فرائض کی ادئیگی آسان ہے ۔ (دوم) ایسی جگہ سے نکل جانا جہاں بدعات رواج پالیں خصوصا جہاں متقدمین اور سلف صالحین کی توہین کی جاتی ہو وہاں سے ہجرت کرنا ضروری ہوگا یا پھر ایسے منکرات کو روک سکے ۔ (سوم) ایسی جگہ سے ہجرت کرنا جہاں حرام کا غلبہ ہو کہ طلب حلال ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ (چہارم) جہاں دشمن سے جسمانی اذیت کا خطرہ ہو۔ (پنجم) اگر صحت کو خطرہ یا آب وہوا راس نہ آئے تو سفر کرنے کی اجازت ہے ۔ (ششم) ایسی جگہ جہاں چوروں اور ڈاکوؤں سے امن نہ ہو اور مال لٹنے کا خطرہ ہو یہ سب سفر ہجرت میں داخل ہوں گے علاوہ ازیں سفر کرنے کی مختلف اقسام مذکورہ ہیں جو باعث ثواب ہیں جیسے حصول عبرت کے لیے حج کے لیے تجارت کے لیے یا جہاد وغیرہ کے لیے بلکہ عزیزوں سے ملاقات کے لیے سفر بھی باعث ثواب ہے جب یہ سارے حدود شرعی کے مطابق ہوں کفار کا یہ اعتراض کہ بھلا ایک انسان جو کھاتا پیتا سوتا جاگتا ہے کیسے اللہ جل جلالہ کا نبی اور رسول ہو سکتا ہے یہ کام تو کوئی ایسی مخلوق ہی کرسکتی ہے جو انسان سے بہت بلند مقام رکھتی ہو ان کے خیال میں جیسے فرشتہ یا اسی خیال کو آج کل جہلا نے الٹ لیا ہے ۔ (بشریت انبیائ) کہ وہ بشریت کا اقرار کرکے نبوت کا انکار کرتے تھے اور یہ نبوت کا اقرار کرتے ہیں جبکہ بشریت کا انکار کردیتے ہیں العیاذ باللہ ، تو فرمایا کہ محض جاہلانہ باتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں تم کسی بھی صاحب علم سے پوچھ کر دیکھو جو ملل سابقہ کا علم رکھتا ہو کہ ہر عہد اور ہر قوم میں انسانوں ہی کو نبی بنایا گیا اور بشر پر ہی یہ انعام ہوا کہ اللہ کی کتاب نازل ہوئی اور واضح معجزات عطا ہوئے جب تم نہیں جانتے تو جن کے پاس علم ہے ان سے دریافت کرلو ، ایسی آیہ کریمہ پر تقلید پر اثبات کیا گیا ہے کہ نہ جاننے والوں کیلئے ضروری ہے کہ ان لوگوں سے پوچھیں جو جانتے ہیں اور یہی طریقہ ان لوگوں کا بھی ہے تقلید کا انکار کرتے ہیں ۔ (تقلید) تقلید کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ جو لوگ خود عالم نہیں ہیں وہ علماء سے فتوی حاصل کرکے اس پر عمل کریں اور ظاہر ہے کہ انہیں عالم پر اعتماد ہی کرنا ہوگا ورنہ اگر انہیں دلائل بیان بھی کئے جائیں تو وہ سمجھ نہیں سکتے ہاں ایسے لوگ جو قرآن وحدیث سے دلائل کو سمجھنے کو اہلیت رکھتے ہیں اور متقدمین کی آراء سے واقف ہیں وہ اپنی صوابدید پر عمل کریں مگر جہاں ضرورت اجتہاد کی ہوگی وہاں انہیں بھی کسی مجتہد کی طرف متوجہ ہونا پڑیگا ، رہا یہ سوال کہ ایک ہی شخص کی تقلید کیوں کی جائے تو معاملہ انتظامی ہے ۔ ّ (شخصی تقلید) کہ اگر ہر شخص ہر عالم کی تقلید میں آزاد ہوگا تو ہر طرف سے ایسے احکام تلاش کرے گا جو اس کی خواہش کے مطابق ہوں اور شریعت کے نام پر خواہشات کی تکمیل تو ویسے ہی حرام ہے یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ایک مجتہد کی تقلید کرنے کو کہا جاتا ہے اس سے زیادہ تقلید کی کوئی حیثیت ہے نہ حاجت اور نہ اس کے سبب گروہ بندی کی ضرورت ۔ (قرآن حکیم کو سمجھنے کیلئے ارشادات رسالت کی ضرورت ہے) پھر فرمایا کہ آپ پر بھی کتاب نازل فرمائی کہ آپ لوگوں پر اسے بیان کریں گویا جس طرح الفاظ صرف آپ سے سب کو پہنچے ایسے معانی بیان فرمانا یہ آپ ﷺ کا مقام ومنصب ہے اور ہر عربی دان محض قواعد عربی سے قرآن حکیم کے معانی متعین نہیں کرسکتا ، لہذا آج بھی اگر وہی معانی لیے جائیں جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے تو گروہ بندی نہ رہے آپ ﷺ کا ہر قول وفعل قرآن ہی کی تفسیر ہے جیسے علامہ شاطبی (رح) نے موافقات میں ثابت فرمایا ہے کہ ارشاد ہے (آیت) ” انک لعلی خلق عظیم “۔ اور سیدہ عائشہ الصدیقہ ؓ نے فرمایا ” کان خلقہ القرآن “ کہ آپ کے تمام افعال بھی قرآن ہی کی تعبیرات تھیں اور بعض احکام کا قرآن میں ذکر تک نہیں مگر آپ کے قلب اطہر پر اتارے گئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے یا جہاں آپ ﷺ نے اجتہاد فرمایا تو وحی نے تردید کردی یا تبدیلی کردی گئی تو حاصل یہ کہ حدیث رسول بھی قرآن کریم ہی جیسی عظمت رکھتی ہے اور اس کا انکار کتاب اللہ کے انکار کے برابر ہے لہذٓ ارشاد ہوا کہ لوگوں کو ان امور میں پوری طرح غور وفکر سے کام لینا چاہئے اور آپ ﷺ کی اس حیثیت کو قبول کرنا خود ان کے لیے بہت ضروری ہے ورنہ کیا یہ اپنے برے کرتوتوں کے نتائج سے بےفکر ہوگئے ہیں اس بات سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کریم انہیں زمین میں دھنسا دے یا کوئی ایسی وبا بھیج دے جو ان کے گمان میں بھی نہ ہو جیسے پچھلے برسوں میں امریکہ میں شہروں کے شہر زمین میں دھنس گئے اور آج کل لاکھوں افراد ایڈز کا شکار ہو رہے ہیں جسے کوئی سمجھ ہی نہیں پارہا ۔ یا اللہ جل جلالہ کا عذاب انہیں چلتے پھرتے اپنی گرفت میں لے لے جسے روکنا ان کے بس میں نہ ہو ، یا انہیں طرح طرح سے خوفزدہ کیا جائے کہ آپ کا رب بہت درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے گویا خوف سے بھی توبہ کرلیں تو اللہ کریم کی رحمت کو پالیں یہ بھی اس کا بہت بڑا احسان ہے ۔ ورنہ یہ سب تو سامنے ہے کہ اللہ کی ساری تخلیق کے سائے درختوں اور پہاڑوں کی چھاؤں کس طرح دائیں بائیں ڈھل کر اللہ جل جلالہ کے نظام میں اپنی اطاعت اور اپنے سجدوں کا ثبوت پیش کر رہی ہے اور جو کوئی جاندار زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں جانور ہے یا نوری مخلوق فرشتے سب اللہ کریم ہی کو سجدہ کرتے ہیں فرشتے اپنی ساری شان اور عظمت کے باوجود اس کی بارگاہ میں لرزاں وترساں رہتے ہیں اور ہر حال میں ہر بات میں اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔
Ayahs 16:51–60

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ بیشک وہی اکیلا معبود ہے پس مجھ ہی سے ڈرتے رہو

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور سب کچھ اسی کا ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے سو کیا تم اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہو

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور تمہارے پاس جو نعمتیں بھی ہیں سو وہ اللہ کی طرف سے ہیں پھر جب تم کو تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے سامنے فریاد کرتے ہو

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب تم سے تکلیف کو ہٹا دیتا ہے تو تم میں سے ایک فرقہ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ وہ ہماری عطا کردہ نعمت کی ناشکری کریں۔ تو (دنیا میں) فائدہ اٹھا لو پس عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور لوگ ہماری عطا کی ہوئی چیزوں میں ان کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ اللہ کی قسم جو جھوٹ تم باندھتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں وہ اس سے پاک ہے اور اپنے لئے اپنی پسندیدہ چیز (بیٹے)

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی (پیدا ہونے) کی خوشخبری ملتی ہے تو اس کا چہرہ (افسوس کی وجہ سے) کالا پڑجاتا ہے اور وہ دکھ سے بھر جاتا ہے

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

(اور) اس خوشخبری کی برائی سے جو اسے دی گئی لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (سوچتا ہے) کہ ذلت برداشت کرکے اس (بیٹی) کو زندہ رہنے دے یا اسے زمین میں گاڑ دے۔ خوب جان لو ! ان کی یہ تجویز بہت بری ہے

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو لو گ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی حالت بری ہے اور اللہ کی صفتیں اعلیٰ ہیں اور وہ بڑے زبردست ، حکمت والے ہیں

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ متعدد معبود اختیار نہ کرو بلکہ عبادت کا مستحق اللہ کریم اکیلا ہے لہذا اللہ ہی سے ڈرنا چاہئے کہ نفع کی امید پر یا کسی کے خوف سے اس کی ایسی اطاعت جس میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی ہو عبادت کہلائے گی خواہ ایسا کرنے والا اسے معبود نہ ہی کہتا ہو ، حالانکہ ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ جل جلالہ ہی کا ہے اور سارے اسباب اسی کے پیدا کردہ ہیں جن میں بعض کو کبھی اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے یا بعض اوقات اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں عبادت کا مل وغیر مشروط اطاعت صرف اللہ کریم ہی کی درست ہوگی یہ درست نہیں کہ نام تو اللہ جل جلالہ کا لیا جائے اور دوسروں سے ڈر کر اطاعت ان کی جائے ، کسی سے ڈرنے کی بھلا بات کیا ہے جبکہ ہر وہ نعمت جو تمہیں نصیب ہے اللہ جل جلالہ ہی کی عطا کردہ ہے اس پر خود تمہارا عمل بھی بہت بڑی دلیل ہے کہ جب کوئی نعمت ضائع ہوتی ہے یا مصیب ٹوٹتی ہے تو پھر اسی کے حضور چلا چلا کر دعائیں مانگتے ہو مگر انسانی مزاج بھی عجیب ہے کہ جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر دوسروں کا احسان اور عطا مان کر انہیں اللہ کریم کا شریک بنانے لگتا ہے اس کا یہ فعل ہماری عطا وکرم سے صریح کفر ہے لیکن خیر دنیا کی چند روزہ زندگی میں موج اڑالے عنقریب سب پتہ چل جائے گا کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے ۔ ایسی ہستیوں کو جن سے واقف بھی نہیں جن کے وجود بھی محض مفروضے اور سنی سنائی بات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے ان کو ہماری عطا کردہ نعمتوں میں شریک کرتے ہیں یعنی ان کی نذریں مانتے ہیں اللہ جل جلالہ کی عظمت کی قسم تم سے ایسی بہتان تراشی کی بڑی سخت پرسش ہوگی ، ذرا انہیں دیکھو یہ کہتے ہیں فرشتے اللہ جل جلالہ کی بیٹیاں ہیں وہ تو ان باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے مگر یہ اپنے لیے بیٹی پسند نہیں کرتے بلکہ اولاد بھی نرینہ یعنی اپنی پسند کی چاہتے ہیں اگر کسی مشرک کو پتہ چلے کہ اس کے گھر بیٹی ہوئی ہے تو اس کا منہ لٹک جاتا ہے رنگ سیاہ ہوجاتا ہے اور اندر ہی اندر دکھ سے بھر جاتا ہے بہت زیادہ افسوس محسوس کرتا ہے حتی کہ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا ہے کہ یہ خبر تو بہت بدنامی کی بات ہے پھر سوچتا ہے کہ اسے زندہ رہنے دے اور بیٹی کا باپ ہونے کی ذلت قبول کرے یا اسے زمین میں گاڑ دے ان کا یہ فیصلہ بہت ہی برا ہے کہ تخلیق باری پر اعتراض ہے جیسے آجکل بھی اگر کسی کو اولاد نہ ملے تو دیوانہ ہوا پھرتا ہے یا صرف بیٹیاں ہوں تو بھی خود کو بڑی مصیبت میں مبتلا جانتا ہے حالانکہ خود بھی تو کسی کی بیٹی ہی سے پیدا ہوا یہ تو اللہ جل جلالہ کا قانون جیسے چاہے تخلیق فرمائے ہاں بیٹے کی خواہش کرنا تو عیب نہیں مگر خواہش کی حد تک اور بیٹی کو برا جاننا یا مصیبت سمجھنا تو بہت بڑا گناہ بلکہ ان کی پرورش تو جنت کی ضمانت ہے یہ کردار تو ایسے لوگوں کا ہے جنہیں آخرت پر یقین ہی نہیں اور ایسے لوگوں کا حال تو بہت ہی ناگفتہ بہ ہے جب کہ سب بڑائی اور عظمت اللہ کے لیے ہے جو زبردست اور غالب بھی ہے اور حکمت کا مالک بھی ، کہ قادر ہے بیٹے بیٹیاں جو چاہے پیدا کرے یا کسی کو اولاد نہ ہی دے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں جہاں جو پیدا فرماتا ہے وہی اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے ۔
Ayahs 16:61–65

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑنے لگیں تو زمین پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑیں و لیکن ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتے ہیں پس جب ان کا وقت آپہنچے گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور اللہ کے لئے وہ چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں کہ ان کے لئے ہر طرح کی بھلائی ہے۔ یقینی بات ہے کہ ان کے لئے دوزخ ہے اور یہ کہ وہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

اللہ کی قسم آپ سے بہت پہلے جو امیتیں گزری ہیں یقینا ہم نے ان کی طرف پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کو ان کے اعمال (بد) آراستہ کرکے دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے یہ کتاب آپ پر اس لئے نازل فرمائی ہے تاکہ جس بات میں ان لوگوں میں اختلاف ہے آپ اس کا فیصلہ فرمادیں اور یہ ایمان والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پس اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیا بیشک اس میں سننے والوں کے لئے نشانی ہے

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف یہ لوگ اس قدر ظالم ہیں کہ اگر ان کے مشرکانہ عقاید وافعال پر اللہ جل جلالہ فورا گرفت فرمانے لگے تو ان میں سے کوئی بھی روئے زمین پر باقی نہ رہے اور ان کی گرفت ہوگی بچ نہ سکیں گے صرف انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی جاتی ہے اور جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے تو کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ گھڑی بھر بھی اسے آگے پیچھے کرسکے ، ذرا گستاخی کی حد تو دیکھو کہ جو چیز خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے یعنی بیٹیاں وہ اللہ جل جلالہ کے لیے تجویز کرتے ہیں اور پھر ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ اس پر انہیں انعامات نصیب ہوں گے مگر بلاشک ایسے لوگ کے لیے تو آگ ہی ہے جس میں وہ بدستور اضافہ کر رہے ہیں کہ ہر مشرکانہ فعل و عقیدہ اس میں مزید ایندھن جھونکنے والی بات ہے ۔ اللہ جل جلالہ کی قسم یعنی اس کی عظیم ذات گواہ ہے کہ آپ سے پہلی امتوں میں بھی جب رسول بھیجے گئے تو ان کی مخالفت کے عمل کو شیطان نے انہیں بڑا مزین کر کے دکھایا اور انہیں یوں بتایا گویا یہ بڑی بہادری کا کام کر رہے ہیں مگر آج یعنی انجام کار یہ اسی کے ساتھ ہیں اور اسی انجام کو پہنچے جو شیطان کا تھا ان سب کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے ۔ (حدیث شریف کا مرتبہ) اے حبیب ﷺ آپ پر کتاب نازل فرمانے سے غرض یہ ہے کہ آپ لوگوں کو کھول کر حق بتا دیں جن عقائد و اعمال میں نظریات وخیالات میں یہ بھٹک رہے ہیں ان میں راہ ہدایت واضح ہوجائے اور ایمان لانے والوں کو اللہ جل جلالہ کی رحمت نصیب ہو گویا پھر سے ارشاد ہے کہ کتاب اللہ کا بیان کرنا اسکے معنی متعین کرنا منصب رسالت ہے اور اسی کا نام حدیث ہے لہذا اس کا انکار ہدایت سے انکار اور رحمت سے محرومی ہے ۔ اللہ جل جلالہ کی قدرت کاملہ تو سامنے ہے کہ وہی بارش برسا کر مردہ زمین کو حیات نو عطا کرتا ہے اور جہاں خاک اڑتی ہو وہ سبزہ زار بن جاتے ہیں صرف بہاروں کی آمد میں ان لوگوں کے لیے جو سنیں یعنی توجہ کریں اور دھیان دیں بہت دلیلیں موجود ہیں ، اور قدرت کاملہ کی عظمت ظاہر ہے ۔
Ayahs 16:66–70

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور بیشک تمہارے لئے (تمہارے) چوپایوں میں بھی عبرت (غوردرکار) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس کے درمیان سے تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار (آسانی سے حلق سے اترنے والا) ہے۔

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم نشہ کی چیز (شراب) اور عمدہ کھانے کی چیزیں بناتے ہو بیشک اس میں عقل مندوں کے لئے بڑی دلیل ہے

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور آپ کے پروردگار نے شہد کی مکھی کے جی میں یہ بات ڈالی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی عمارتیں جو لوگ بناتے ہیں ان میں گھر بنا

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر قسم کے پھلوں میں سے کھا (چوستی پھر) پھر اپنے پروردگار کے مسخر (آسان) کیے ہوئے راستوں پر چل۔ ان کے پیٹوں سے مختلف رنگوں کے پینے کی چیز نکلتی ہے اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ بیشک اس میں سوچنے والوں کے لئے بڑی دلیل ہے

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو پیدا فرمایا پھر تم کو قبض فرمائے گا (موت دے گا) اور بعض تم میں سے ناکارہ عمر تک پہنچائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد ہر چیز سے بیخبر ہوجاتے ہیں۔ بیشک اللہ بڑے علم والے بڑی قدرت والے ہیں

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف ذرا جانوروں ہی کی تخلیق پر غور کرلو کہ ان کے معدے گوبر اور خون سے بھرے ہوتے ہیں مگر انہیں مادوں میں سے ایک حصے کو دودھ بنا دیتا ہے ان کے اندر ایسا نظام بنا دیا ہے کہ خون اور فضلات میں سے صاف ستھرا اور خوشگوار دودھ الگ ہو ، پینے والوں کے لیے ایک بہترین نعمت کی صورت میں نکلتا ہے یعنی ایسی عجیب شئے کہ بہترین غذا بھی ہے اور دوا بھی کہ قدرت نے ہر حیوان کی پہلی غذا یہی مقرر کردی ہے اس لیے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ دودھ پیو دعا کرو ” اللھم بارک لنا فیہ وزدنامنہ “۔ کہ اے اللہ ہمارے لیے اس میں برکت دے اور یہ نعمت اور زیادہ عطا فرما ، (اچھا اور لذیذ کھانا) اور اس آیہ مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ لذیذ اور اچھا کھانا زہد کیخلاف نہیں جب کہ حلال طریقے سے حاصل کیا جائے اور فضول خرچی نہ کی جائے ، اسی طرح پھلوں کو دیکھ لو صرف انگور اور کھجور سے کیا کچھ نشہ آور مشروب اور کھانے کی بہترین چیزیں بناتے ہو ، یعنی انسان کو نہ صرف بہترین چیزیں کھانے کو دین بلکہ قدرتی چیزوں کو مختلف طرح ملا کر یا پکا کر طرح طرح کے لذیذ کھانے اور صحت بخش اغذیہ و ادویہ بنانے کا شعور بھی عطا فرمایا کہ بجز انسان یہ نعمت کسی جاندار کو حاصل نہیں سب قدرتی پیدا کردہ غذا ہی استعمال کرتے ہیں یہ آیات مکی دور میں نازل ہوئیں جبکہ شراب کی حرمت کا حکم نازل نہ ہوا تھا مگر اس کے باوجود ان سے شراب کا حلال ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ دلیل یہ ہے کہ اللہ کریم کی نعمتوں کو لذت حاصل کرنے کے لیے غلط یا ناجائز طور پر بھی استعمال کرلیتے ہو اور کسی نعمت کا غلط استعمال اس کے نعمت ہونے سے انکار کا باعث تو نہیں بن سکتا نیز اگرچہ ابھی شراب حرام نہ ہوئی تھی مگر یہاں بھی نشہ آور مشروب کے مقابل رزق حسن ارشاد فرما کر ارشاد فرما دیا کہ بہترین رزق یا کھانے وہی ہیں جو نشہ آور نہیں اب ذرا شہد کی مکھی پر غور کرو کہ رب جلیل نے اس کے دل میں کیسی خوبصورت بات ڈال دی کہ پہاڑوں کی چٹانوں میں یا بلند درختوں پر یا بلند عمارتوں میں صاف ستھری فضا میں اور گرد و غبار سے بلند جگہ پر چھتہ بناتی ہے تاکہ شہد نہایت صاف ستھرے اور محفوظ طریقے سے تیار ہو ، بلکہ اوحی فرما کر یہ اشارہ بھی فرمایا کہ اس میں فہم و شعور دوسرے حیوانات کی نسبت کہیں زیادہ ہے اور اس کے نظام کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بہترین نظام حکومت سامنے آتا ہے تمام امور ملکہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جو ایک نسبتا بہت بڑی مکھی ہوتی ہے یہی مختصر مدت یعنی چند ہفتوں میں ہزاروں انڈے دیتی ہے اور پھر پیدا ہونے والی مکھیوں کے فرائض اور ذمہ داریاں تقسیم کرتی ہے جن میں بعض محافظ ہوتی ہیں اور دوسری کارکن اور کچھ نر مکھیاں غالبا محض آبادی کی زینت ہوتی ہیں کام کرنے والی مکھیوں میں بعض نباتات پر سے مختلف مادے جمع کرکے موم بنا کر فراہم کرتی ہیں تو دوسری خوبصورت مسدس گھر بناتی ہیں اور عموما بیس سے تیس ہزار گھر ایک چھتے میں پائے جاتے ہیں جو پیمائش سے لے کر حسن وصفائی تک بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں بعض انڈوں کی حفاظت اور ان سے نکلنے والے بچوں کی پرورش کرتی ہیں تو دوسری مختلف پھلوں اور پھولوں سے رس حاصل کرکے لاتی ہیں جو ان کے پیٹ میں پہنچ کر شہد کی صورت میں تبدیل ہوتا جاتا ہے یہ خود ان کی اور ان کے بچوں کی غذا بنتا ہے مگر اسی میں رب کریم نے انسانوں کے لیے بھی لذت وشفا بھر دی ہے کہ بہترین اور لذیذ غذا بھی ہے اور اعلی درجے کی دوا بھی محافظ مکھیاں نہ صرف دوسروں سے چھتے کی حفاظت کرتی ہیں ، بلکہ خود چھتے کی مکھی بھی اگر کسی گندگی پر بیٹھ جائے تو اسے اندر داخل نہیں ہونے دیتیں بلکہ ملکہ کے روبرو پیش کرتی ہیں جو اسے قتل کردیتی ہے یہ تو ایک سرسری تذکرہ تھا جو کچھ تحقیق میں سامنے آچکا ہے عقل انسانی کو دنگ کردیتا ہے کہ اللہ کریم نے اس حقیر سی مخلوق کے شعور میں کیسی عجیب بات ڈال دی کہ رنگ برنگے پھولوں اور طرح طرح کے پھلوں سے اس کو حاصل کرکے ایسے الجھے ہوئے راستوں پر چلتی ہے جو اللہ جل جلالہ نے اس کے لیے آسان کردیئے ہیں مگر دوسروں کو اس کا پیچھا کرنا دشوار ہے کہ ایک پھول سے چھتے تک اندازا اسی (000 ، 80) ہزار چکر لگاتی ہے اور کمال یہ ہے کہ دوسرے چھتے پر نہیں جاتی اگر کبھی غلطی سے کوئی ایسا کر گزرے تو محافظ اسے گھسنے نہیں دیتے پھر یہ اس کے پیٹ میں محض اس کی غذا نہیں بننے دیتے بلکہ مختلف رنگوں اور اقسام کے شہد کی صورت میں باہر آتے ہیں جس میں انسانوں کے لیے شفا ہے ۔ (مختلف رنگوں سے مراد) شہد کے مختلف رنگوں کا شفا ہونے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ جس قسم کے پھولوں کا شہد تیار ہوتا ہے جس مرض میں وہ پھول مفید ہوں اس مرض کا بہترین علاج بنتا ہے ، طب کی کتب میں ایک فاضل طبیب کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے انسانی امراض کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرکے ان کا علاج آٹھ قسم کی جڑی بوٹیوں سے تجویز کیا اور انہوں نے ہر بوٹی کا باغیچہ لگایا جیسے بلغمی امراض کے لیے بنفشہ کھانسی کے لیے ملٹھی وغیرہ جب ان پودوں پر پھول آتے تو ان کے باغیچہ میں شہد کی مکھیاں پالتے جو ان پھولوں سے شہد تیار کرتی تھیں اور وہ اس مرض کا کامیاب ترین علاج ہوتا تھا ۔ (ایک بہترین طریق علاج) جدید تحقیق کے مطابق روس کے ماہرین نے ایک رسالہ شائع کیا تھا کہ شہد کو دودھ کے گلاس میں ڈال کر پیا جائے اور شہد والا نیم گرم دودھ پی کر بستر میں کچھ دیر لیٹ جانا چاہئے رات کو سوتے وقت پی لے یا دن کو پیئے تو بستر میں گھس جائے تو قلب کے تمام امراض کا بہترین علاج ہے ساتھ دوسرے امراض سے بھی شفا بخشتا ہے ۔ شہد آنکھ کا بھی بہترین علاج ہے اور پھوڑے پھنسی پر لیپ کیا جائے تو ٹھیک ہوجاتے ہیں درد کرتے ہوئے دانت پر روئی پر لگا کر رکھیں شفا ہوتی ہے غرض رب کریم نے اسے امراض سے شفا کا سبب بنا دیا ہے اور اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لیے بہت بڑی عبرت اور اللہ کریم کی عظمت کی دلیل موجود ہے اور شہد کی مکھی کو یہ شرف نصیب ہے کہ حدیث شریف کے مطابق مکھیاں جہنم میں جا کر اہل جہنم کے لیے عذاب کا باعث بنیں گی مگر شہد کی مکھی نہ جائے گی ، (دوا اور علاج) نیز یہ بھی ثابت ہو ا کہ مرض کیلئے دوا کرنا ہی قدرتی طریقہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا کہ دوا یا جھاڑ پھونک جو ہم کرتے ہیں تو کیا یہ تقدیر کو بدل دیتے ہیں یعنی بیماری سے شفا ہوجاتی ہے تو فرمایا یہ بھی تو تقدیر الہی ہی کی صورت ہیں اور بعض صوفیا سے جو مشہور ہے کہ وہ علاج پسند نہ کرتے تھے تو یہ سکر اور مدہوشی کی باتیں ہیں ، بلکہ شرعا تو علاج نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے ۔ (وحی والقاوکشف وغیرہ) اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کریم جب عطا فرمانا چاہیں تو علوم کے قدرتی طریقوں سے بھی نوازا کرتے ہیں یہاں وحی کا لفظ القا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے مطلب دل میں چپکے سے باٹ ڈال دینا ہے اصطلاح میں نبی کریم پر کلام کے نازل ہونے کو وحی کہا گیا ہے مگر علم عطا کرنے کی یہ صورتیں جانوروں میں موجود ہیں اور انسان جو شعوری اعتبار سے سب سے افضل واعلی ہے اسے نبوت سے سرفراز فرما کر وحی نبوت سے نوازا اور دوسرے انسانوں تک علم پہنچانے کا باعث بنایا پھر ان سے جنہیں پسند فرمایا نبی کے اتباع کے ذریعے ان میں علم کے حصول کی قوت پیدا کردی اور علم لدنی سے نوازا کہ جس کی مختلف صورتیں الہام والقا اور کشف ہیں نبی کو وحی میں کبھی غلطی نہیں لگتی تو ولی کا کشف یا اس پر ہونے والا الہام والقا بھی چونکہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہوتا ہے کبھی غلط نہیں ہوتا ہاں ولی میں سمجھنے کی وہ قوت نہیں ہوتی جو نبی میں ہوتی ہے لہذا ولی کا کشف صحت کے لیے نبی کے ارشاد کا محتاج ہوتا ہے اگر اس سے ٹکرا جائے تو چھوڑ دیا جائے گا کہ ولی کو سمجھنے میں غلطی لگی اسی اللہ جل جلالہ نے تمہیں بھی پیدا فرمایا صحت جوانی قوت اقتدار سب کچھ دیتا ہے اور پھر موت دے دیتا ہے نیز تم سے بعض تو بڑھانے کی ان سرحدوں کو چھو لیتے ہیں جہاں زندگی باقی ہوتی ہے مگر یہ سب اوصاف معدو م ہوجاتے ہیں اور علم کے بعد انسان کچھ جاننے والا بن جاتا ہے خوب جان لو کہ اللہ جل جلالہ ہی علم والا بھی ہے اور طاقت والا بھی ۔
Ayahs 16:71–76

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت بخشی ہے سو جن لوگوں کو فضیلت عطا کی گئی ہے وہ اپنا مال اپنے غلاموں کو تو دے دینے والے نہیں کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں تو کیا وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے بیویاں بنائیں اور تمہاری ان بیویوں میں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا فرمائے اور تم کو اچھی اچھی چیزیں کھانے (پینے) کو دیں۔ تو کیا یہ بےاصل چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا (جان بوجھ کر) انکار کرتے ہیں

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ آسمانوں میں سے رزق پہنچانے کا کچھ بھی اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں سے اور نہ (کسی طرح کا) اختیار ہی رکھتے ہیں

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

پس اللہ کے لئے مثالیں مت گھڑو بیشک اللہ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ ایک غلام کی مثال بیان فرماتے ہیں جو (مملوک) دوسرے کے اختیار میں ہے کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا اور ایک شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی عطا فرمائی ہے پس وہ اس سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتا ہے کیا یہ آپس میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ (ہرگز نہیں) سب خوبیاں اللہ کے لئے ہیں بلکہ ان میں اکثر لوگ تو جانتے ہی نہیں

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ ایک اور مثال بیان فرماتے ہیں کہ وہ آدمی ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے کچھ کر نہیں سکتا (ناتواں بھی ہے) اور وہ اپنے مالک پر وبال ہے وہ اس کو جہاں بھیجتا ہے کوئی کام درست کرکے نہیں لاتا کیا وہ (گونگا بہرہ) اور وہ شخص برابر ہوسکتے ہیں جو (لوگوں کو) اچھی باتوں کی تعلیم کرتا ہو (انصاف کا حکم دیتا ہو) اور (خود بھی سیدھے راستے پر (چل رہا) ہو ؟

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف اب اپنی تخلیق پر غور کرو تو توحید کے اثبات کی کتنی بڑی دلیل موجود ہے کہ اللہ کریم نے سب انسانوں کو مال و دولت میں بھی یکساں نہیں بنایا جیسے قد کاٹھ طاقت علم اور شعور میں سب ایک سے نہیں ایسے مالی اعتبار سے سب برابر نہیں بعض تو غلام اور خدم وحشم رکھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو ان کی وساطت سے روزی ملتی ہے بعض مزدور ، ملازم یا غلام ہوتے ہیں تو کیا کوئی صاحب ثروت انسان غلام کو برابر جانتا ہے یا کرسکتا ہے کہ اگر رزق بانٹ بھی دے تو بحیثیت غلام دیا تو وہ مالک نہ بن سکے گا مال تو مالک ہی کا رہا اور اگر آزاد کر کے دیا تو اگرچہ مال میں برابر ہوگیا ، مگر غلام نہ رہا تو جب مشرکین بتوں یا دیوی دیوتاؤں کو مخلوق اور مملوک مانتے ہیں تو مخلوق بھلا خالق کے برابر کیسے ہو سکتی ہے کس قدر بودی بات اور اللہ کے انعامات میں محض جھگڑنے والی بات ہے بغیر کسی دلیل کے ۔ (اسلام کا معاشی نظام) اللہ جل جلالہ کے اس ارشاد میں یہ بھی ظاہر ہے کہ امیر و غریب ہونا کوئی حادثہ نہیں حیات انسانی کا نظام اسی پر استوار ہے جیسے علم یا عقل میں لوگ مختلف ہیں ایک دیوار بنانا جانتا ہے مگر دولت نہیں رکھتا دوسرے کے پاس دولت ہے دیوار نہیں بنا سکتا لہذا باہمی معاملہ کرتے ہیں وہ اس کی دیوار بنا دیتا ہے اور وہ اسے اجرت دیتا ہے اسی نظام پر عمل کرنے میں ان کی صلاحیت اور نیکی کا امتحان بھی ہوتا ہے مگر جب اس میں ظلم شروع ہوا اور کسب معاش کے ذرائع پر چند افراد یا چند جماعتیں قابض ہوگئیں تو انہوں نے ظالمانہ طریقے ایجاد کرکے ساری دولت اپنے ہاں جمع کرنے اور دوسرے کو محتاج کرنے کے حیلے ایجاد کئے جسے سرمایہ دارانہ نظام کیا گیا ہے ان کے ظلم سے تنگ آکر متبادل نظام کے طور پر اشتراکیت میدان میں اتری جسے کمیونزم یا سوشلزم کا نام بھی دیا گیا اور مظلوموں نے ایک خوبصورت نعرہ سنا کر مال سب میں برابر تقسیم کیا جائے گا مگر جب اس نظام میں جکڑے گئے تو پتہ چلا کہ یہ تو سرمایہ داری سے کہیں بڑھ کر ظالم نظام ہے کہ اس میں انسان غربت و افلاس کے ساتھ اپنی ایک انسانی حیثیت تو رکھتا تھا یہاں وہ بھی گئی اور محض مشین کا پرزہ قرار پایا ہر شے گھر بار مال اولاد تک حکومت کی ملکیت قرار پائی جس میں نہ اس کی پسند کا لحاظ ہے نہ ضمیر نام کی حرکت کرنے کی اجازت بلکہ اف کرنے والے باغی قرار پا کر ظالمانہ طریقے سے قتل کئے گئے ، اسلام نے سرمایہ داری اور اشتراکیت کی ظالمانہ اور احمقانہ اشاروں کے درمیان ایک بہترین نظام عطا فرمایا جس میں سود اور جوئے جیسے حربوں کو حرام قرار دیکر ناجائز سرمایہ داری کی بنیاد ختم کردی مصنوعی گرانی اور قحط پیدا کرنے کو حرام قرار دیا کہ کوئی فرد یا جماعت دوسروں کو لوٹ نہ سکے پھر ہر مالدار کے مال میں غریبوں کا حصہ فرض قرار دیا ، مرنے والے کی دولت کو وارثوں میں تقسیم کردیا قدرتی چشموں سمندروں اور پہاڑی خودرو جنگلوں کو سب کی مشترکہ ملکیت قرار دیا تاکہ کبھی بھی ارتکاز دولت نہ ہو سکے ، رہا افراد میں تفاوت تو جیسے علمی وعملی صلاحتیوں کا فرق ایک فطری امر ہے ایسے ہی رزق میں مختلف درجات نظام عالم کا حصہ ہیں اور ان کا مٹانے کا نعرہ یا بیوقوف لگاتا ہے یا پھر دوسروں کو بیوقوف بنانے کے لیے لگایا جاتا ہے ۔ کیا تم یہ فرق مٹا سکتے ہو کہ اللہ کریم نے تمہاری جنس میں سے تمہاری بیویاں پیدا کردیں جس کو تمہاری نسل کی بقاکا باعث بنایا کہ ان سے اولاد اور پھر اولاد کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے ۔ (عورت کی حیثیت) یہاں نسل انسانی کا تذکرہ کرتے ہوئے عورت کو مرد ہی کی ذات اور جنس سے قرار دیا یعنی ان کے جذبات واحسات وہی ہیں تو اسی انسانی احترام کی مستحق بھی ہیں اگرچہ فرائض جداگانہ ہیں پھر اس نظام کو اولاد کا سبب اور بقائے نسل کا باعث بنایا تو کیا کوئی اس سارے نظام کو مٹال کر سب کو ایک سا کرسکتا ہے کہ مردوں کو عورت بنا دے یا عورت کو مرد اور اگر یہ سب ہوجائے تو کیا نظام عالم یا نسل انسانی باقی رہ سکتی ہے پھر بقائے شخصی کے لیے بہترین غذائیں دیں جو سب انسانوں کی ایک نہیں ہوسکتیں ایک کو جو چیز نافع ہے دوسرے کو نقصان دیتی ہے تو جب ان سب امور میں ہر کوئی ایک سا نہیں ہوسکتا تو خالق ومالک کے ساتھ دوسروں کی برابری کا دعوی کیسا کیا یہ ایسی بات نہیں کہ اللہ کریم کی نعمتوں اور حسانات کرکے محض غلط اور ناقابل عمل باتوں پر یقین کرلیا گیا ہے ۔ اور اللہ جل جلالہ کی ذات کے علاوہ لوگوں نے بعض دوسروں کی عبادت شروع کر رکھی ہے جو خود مخلوق ہیں اور رزق کے محتاج اپنی عبادتوں والوں کی روزی میں آسمانوں یا زمین میں ان کا کوئی داخل اور نہ ہی وہ ایسا کرسکتے ہیں لہذا اللہ کریم کو دنیا کے حاکموں پر قیاس کرکے مثالیں نہ دیا کرو کہ جیسے انہیں اپنے نائبین کی ضرورت ہوتی ہے اللہ جل جلالہ کے بھی ویسے نائب ہیں بادشاہ اور نائب دونوں مخلوق ہیں جبکہ اللہ جل جلالہ اکیلا خالق ہے لہذا مشرکانہ نظام کی یہ بنیادی دلیل اور مثال ہرگز درست نہیں اللہ کریم بہت جانتا ہے جب کہ تم کچھ نہیں اور ہر بات کے جاننے میں بھی اس کے محتاج ہو ، اللہ کریم نے دو مثالیں ارشاد فرمائی ہیں کہ بھلا ایک غلام جو کسی کی ملکیت ہو اور مالک کے مال میں بھی اپنی مرضی سے خرچ نہ کرسکے جبکہ دوسرا نہ صرف مال کا بلکہ اس غلام کا بھی مالک ہو اور جیسے چاہے خرچ کرے اسے بھی جو چاہے حکم دے تو دونوں مخلوق ہوتے ہوئے بھی اور انسان ہونے کے باوجود بھی ہرگز برابر نہیں ہوسکتے تو بھلا کوئی بھی مخلوق خالق کی برابری کا دعوی کیسے کرسکتی ہے جبکہ سب کمالات کا مالک اکیلا اللہ جل جلالہ ہے مگر اکثر انسان اس بات کو نہیں جان رہے یا دوسرا جو کسی کا غلام بھی ہو اور کسی کام کا نہ ہو نہ علمی اعتبار سے درست ہو نہ عقل سلامت ہو اور نہ کام کرنے کی طاقت ہو بلکہ الٹا مالک پر بوجھ ہو اور اس کے کام بھی مالک کو کرنے پڑیں اور اسے جہاں بھیجا جائے کام سنوار کر نہ آئے بلکہ نقصان کی خبر لانے والا ہو اور دوسرا انسان جو نہ صرف علمی کمال رکھتا ہو قوت عمل بھی رکھتا ہو اور خود بھی درست کام کرتا ہو ساتھ دوسروں سے بھی درست کام لے اور بہترین قابلیت کا حامل ہو کیا یہ دونوں باوجود مخلوق اور انسان ہونے کے برابر ہو سکتے ہیں یقینا نہیں تو پھر کوئی اللہ جل جلالہ کے برابر کیسے ہو سکتا ہے ۔