Ayahs 16:1–2آغاز سورت بو عید و تہدید بر منکرین توحید
قال اللہ تعالیٰ : اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ .... الیٰ .... لا الہ الا انا فاتقون۔
یہ سورت چونکہ زیادہ تر دلائل توحید پر مشتمل ہے جس سے مقصود مشرکین کا رد ہے اس لیے اس سورت کا آغاز وعید و تہدید سے کیا گیا تاکہ مشرکین متوجہ ہوجائیں اور غور سے دلائل توحید کو سنین۔ کیونکہ توحید ہی دین کی اصل بنیاد ہے۔ اور اسی پر انبیاء (علیہ السلام) کا اتفاق ہے اور انبیاء (علیہ السلام) نے سب سے پہلے لوگوں کو توحید ہی کی دعوت دی ہے۔ آنحضرت ﷺ مشرکین عرب کو دنیوی اور اخروی عذاب سے ڈرایا کرتے تھے اس پر مشرکین یہ کہتے کہ وہ عذاب اور قیامت جس سے آپ ﷺ ہم کو ڈراتے رہتے ہیں۔ وہ کہاں ہے اور کب آئے گا۔ اور ان کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں (تفسیر کبیر ص 294 ج 5)
چناچہ فرماتے ہیں اللہ کا حکم آچکا ہے کہ دنیا ہی میں کافروں کو سزا ملے گی اور کفر ذلیل و خوار ہوگا۔ اور اسلام سربلند ہوگا۔ اسلام کا غلبہ اور اس کی عزت اور کفر کی مغلوبی اور ذلت امر یقینی اور امرشدنی ہے اور ان منکرین کی سزا کا وقت قریب آگیا۔ سو اے منکرو ! تم اس کی طلب میں جلدی نہ کرو۔ تمہارا فائدہ تاخیر میں ہے تاکہ تم کو مہلت مل جائے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب موعود کا آنا یقینی ہے اس کا حکم آچکا ہے اپنے وقت پر آئے گا۔ اور جب آئے گا تو تم اس سے بچ نہیں سکو گے۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ عذاب کے آنے سے پہلے شرک سے توبہ کرلو۔ اللہ پاک برتر ہے اس چیز سے میں جس کو یہ خدا کے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ عذاب آنے پر تمہارے یہ شر کا، تمہاری کوئی شفاعت نہیں کرسکیں گے رہا یہ امر کہ اللہ نے تم کو براہ راست کفر اور شرک سے کیوں نہ منع کردیا۔ نبی اور رسول کے واسطے کی کیا ضرورت تھی سو اس کا یہ جواب ہے کہ اللہ اپنے حکم سے فرشتوں کو وحی اور پیغام دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے ہر کس و ناکس پر اللہ تعالیٰ کا فرشتہ اللہ کی وحی اور پیغام لے کر نازل نہیں ہوتا۔ اور وحی خدا وندی چونکہ حیات روحانی کا سبب ہے اس لیے وحی کو روح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس طرح روح حیات اور زندگی کا ایک سبب ہے اسی طرح وحی بھی مومنوں کے دل کو زندہ کرتی ہے اس لیے وحی کو روح کہا گیا ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ لوگوں کو خبردار کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا صرف مجھ ہی سے ڈرو میرے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں
مرا بندگی کن کہ دارا منم تو از بند گانی ومولیٰ منم
اس آیت میں دو چیزوں کا حکم دیا گیا۔ ایک توحید کا اور ایک تقویٰ کا، توحید سے قوت نظریہ کی تکمیل ہوتی ہے اور تقویٰ سے قوت عملیہ کی تکمیل ہوتی ہے اور انہی دونوں کی تکمیل سے سعادت دارین حاصل ہوتی ہے اور اس کے بعد آئندہ آیات میں دلائل توحید کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayahs 16:3–23ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی ہر دلیل میں حق جل شانہ کی ایک خاص نعمت کا ذکر ہے جس میں اشارہ اس طرف ہے کہ وہ رب اکرم تمہارا خالق بھی ہے اور منعم بھی ہے اور باوجود تمہاری نافرمانیوں اور سرکشیوں کے تمہارے عذاب اور سزا میں جلدی نہیں کرتا تم کو چاہئے کہ نعمتوں سے منعم کو پہچانو اور اس سے ڈرو اور اس کی نافرمانی سے بچو اور یہ دلائل چند قسم کے ہیں۔
قسم اول : زمین و آسمان کے تغیرات اور اس کے عجائب وغرائب سے استدلال فرمایا کہ ان کا یک خاص اندازہ اور خاص مقدار پر پیدا کرنا حالانکہ اس کے خلاف بھی ممکن تھا۔ یہ اس کی کمال قدرت و حکمت کی دلیل ہے اور چونکہ تمام مخلوقات میں زمین و آسمان سب سے عظیم ہیں اس لیے سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کا ذکر فرمایا۔
قسم دوم : آسمان و زمین کے بعد انسان کی پیدائش اور اس کے احوال سے استدلال فرمایا۔ کما قال اللہ تعالیٰ خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین۔ ایک قطرہ آب سے ایک عجیب و غریب چیز یعنی انسان کا اس طرح پیدا ہونا کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضاء نہیں اس لیے کہ مادہ اور طبیعت کے افعال یکساں ہوتے ہیں۔ ان میں تفاوت نہیں ہوتا۔ انسان کی یہ عجیب و غریب پیدائش خدا کی کمال قدرت و حکمت کی دلیل ہے انسان کا مادہ ایک ہے مگر اس کے اعضاء اور اجزاء مختلف ہیں اور ہر ایک کے افعال اور خواص بھی مختلف ہیں۔ کوئی جز سر ہے اور کوئی کان اور آنکھ ہے اور کوئی دل ہے اور کوئی پیٹ ہے وغیرہ وغیرہ ظاہر ہے کہ یہ فعل مادہ اور طبیعت کا نہیں اس لیے کہ مادہ اور طبیعت بےشعور ہے بلکہ یہ کسی علیم و قدیر کی قدرت کا کرشمہ ہے اگر بالفرض طبیعت ہی کا فعل ہے تو طبیعت بھی اسی کی پیدا کردہ ہے رحم مادر میں نطفہ قرار پکڑ گیا اور اندر ہی بچہ تیار ہو رہا ہے اور ماں باپ کو خبر بھی نہیں کہ اندر ہی اندر کیا ہو رہا ہے۔ لہٰذا ماں باپ کو خالق نہیں کہا جاسکتا۔
قسم سوم : احوال انسانی کے بعد حیوانات کے احوال سے استدلال کیا جو انسان کے کام آتے ہیں۔ بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے۔ پھر کسی کو کیا اور کسی کو کیا پیدا کیا کما قال اللہ تعالیٰ والانعام خلقھا لکم فیہا دفء ومنافع ومنھا تاکلون۔ الی قولہ تعالیٰ : ولو شاء لہدکم اجمعین۔ اور اس ضمن میں حیوانات کے جو فوائد اور منافع بیان فرمائے ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی دلیل ہے اور ہر ایک مستقل نعمت ہے جس کا شکر بندوں کو واجب ہے اس ذیل میں اللہ تعالیٰ نے اولا حیوانات کے ان منافع کا ذکر فرمایا جس کی انسان کو ضرورت ہے اور انسان کے کھانے کے کام آتے ہیں جیسے بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے اور اس کے بعد ان چوپایوں کا ذکر جو سواری کے کام آتے ہیں۔
قسم چہارم : جس کو والخیل والبغال والحمیر میں ذکر فرمایا اس آیت میں ان چوپایوں کی پیدائش سے استدلال کیا جو انسان کے لیے ضروری اور لابدی تو نہیں مگر سواری اور زیب وزینت اور شان و شوکت کا ذریعہ ہیں۔ جب جنگل جاتے ہیں تو جنگل بھر جاتے ہیں اور جب شام کو گھر واپس آتے ہیں تو گھر میں رونق ہوجاتی ہے اور ویخلق ما لا تعلمون میں ان سواریوں کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو ہنوز ظہور میں نہیں آئیں بلکہ آئندہ چل کر پیدا ہوں گی۔ جیسے ریل گاڑی اور دخانی جہاز اور موٹر اور بائیسکل یہ سواریاں نزول آیت کے وقت موجود نہ تھیں۔ اور لوگ اس وقت ان چیزوں سے واقف نہ تھے۔
قسم پنجم : عجائب حیوانات کے بعد عجائب نباتات سے اپنی قدرت و حکمت پر استدلال فرمایا۔ کام قال تعالیٰ : وھو الذی انزل من السماء ماء لکم الیٰ ۔ ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون۔ یہ قسم قسم کے نباتات اس کی قدرت کاملہ کی واضح اور روشن دلیل ہیں۔ جن کی ماہیت اور حقیقت اور ان کی خاصیت اور کیفیت دریافت کرنے سے بڑے بڑے حکماء کی عقلیں عاجز ہیں۔
قسم ششم : احوال نباتات کے بعد اب شمس و قمر و کواکب و سیارات کے احوال سے استدلال کرتے ہیں کہ کوئی نادان یہ نہ سمجھ جائے کہ کھیتوں اور پھلوں کا پکنا شمس و قمر اور کواکب و سیارات کی تاثیر سے ہے کما قال اللہ تعالیٰ وسخر لکم الیل والنھار ... الیٰ .... قولہ۔ لایت لقوم یعقلون۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے قدرت اور ارادہ سے ہے۔
قسم ہفتم : اس کے بعد اشجار و نباتات کے اختلاف الوان سے استدلال فرمایا کہ نباتات کے الوان (رنگتوں) کا مختلف ہونا طبیعت کا اقتضاء نہیں بلکہ کسی علیم و قدیر کے قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔
قسم ہشتم : (استدلال باحوال کائنات بحریہ) کما قال اللہ تعالیٰ : وھو الذی سخر لکم البحر .... الیٰ .... ولعلکم تشکرون۔ ان آیات میں کائنات بحریہ اور ان کے احوال سے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دریا کو مسخر کیا کہ تم اس سے دریائی جانوروں کو پکڑتے ہو اور قسم قسم کے جواہر اس سے نکالتے ہو اور کشتیوں کے ذریعے اس میں سفر کرتے ہو۔
قسم نہم : (استدلال باحوال کائنات ارضیہ جیسے پہاڑ اور نہریں) کما قال تعالیٰ : والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم وانھرا وسبلا لعلکم تھتدون۔ ابتداء میں زمین جنبش کرتی تھی اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑ پیدا کر دئیے جس سے اس کی جنبش اور اضطراب میں سکون آگیا۔
قسم دہم : (استدلال باحوام نجوم فلکیہ) کما قال تعالیٰ وبالنجم ہم یھتدون (فتلک عشرۃ کاملہ) اب ان دس دلائل کے بعد مشرکین کی مذمت فرماتے ہیں کہ جب ان دلائل اور براہین سے یہ واضح ہوگیا کہ ان تمام کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور بت کسی چیز کے خالق نہیں تو ان مشرکین کو کیا ہوا کہ خالق اور مخلوق میں فرق نہیں کرتے کیا ان نادانوں کو اتنی عقل نہیں کہ یہ سمجھیں کہ لائق عبادت وہ ذات پاک یا برکات ہے جو ان عجائب کا خالق ہے اور جو چیز کسی شئے کے پیدا کرنے پر قادر نہ ہو وہ کیسے لائق عبادت ہوسکتی ہے۔
نتیجہ دلائل مذکورہ : جب گزشتہ آیات میں وجود باری تعالیٰ پر احوال فلکیہ اور احوال انسانیہ اور احوال حیوانیہ اور احوال نباتیہ اور عناصر اربعہ سے استدلال فرمایا تو اخیر میں ان تمام دلائل کا نتیجہ بیان فرمایا والہکم الہ واحد۔ اور چونکہ اتباع حق سے تکبر مانع تھا اس لیے مضمون مذکورہ کو انہ لا یحب المستکبرین پر ختم فرمایا۔
تفصیل دلائل توحید
قسم اول :۔ خلق السموت والارض بالحق علیٰ عما یشرکون۔
اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا جن کو دیکھ کر عقل حیران اور دنگ رہ جاتی ہے وہ بلند اور برتر ہے اس چیز سے جس کو یہ نادان خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ خداوند قدیر نے زمین کو اس عالم کا فرش بنایا اور آسمان کو چھت بنایا عقل ایسے عرش اور فرش بنانے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ آسمان کی یہ بےپناہ بلندی اور زمین کی یہ بےپناہ پستی کہ کوئی اس پر دوڑ رہا ہے یا اپنی سواری کو اس پر دوڑا رہا ہے یا اس پر پیشاب اور پاخانہ کر رہا ہے یا اس پر کدال چلا رہا ہے اور کھود کر اس میں یہ خانہ یا کنواں بنا رہا ہے کیا یہ آسمان اور زمین جن کا نہ مبداء معلوم نہ منتہیٰ معلوم خود بخود ہی غیر متناہی اجزاء سے مرکب ہو کر تیار ہوگئے اور ایک عظیم جسم خود بخود بلند ہو کر آسمان بن گیا اور دوسرا جسم خودبخود پست ہو کر زمین بن گیا۔ یا کوئی امر اتفاقی ہے کہ اتفاقی طور پر ایک جسم عظیم بن گیا اور دوسرا جسم زمین بن گیا۔ یا کسی مادہ اور طبیعت کا یا کسی ایتھر کا مقتضی ہے تو کوئی مدعی فلسلفہ اور سائنس بتلائے تو سہی کہ وہ کبھی مادہ اور طبیعت کا اقتضاء ہے فلسفی کو جب آسمان اور زمین کے مبداء اور منتہا کا پتہ چل سکا تو کہہ دیا کہ آسمان اور زمین قدیم ہیں انبیاء کرام (علیہم السلام) نے خبر دی ہے کہ یہ آسمان اور زمین مخلوق خداوندی ہیں اور قدرت قدیمہ کا کرشمہ ہیں۔ زمین و آسمان کا ہر جز اس کی خدائی اور یکتائی کی گواہی دے رہا ہے۔
قسم دوم :۔ خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا جو ایک بےحس اور بےشعور چیز ہے اور پھر اس کو عقل اور سمجھ دی۔ پس وہ نکلا بڑا جھگڑالو پیدا ہونے کے بعد خدا کی ذات وصفات میں جھگڑنے لگا اور اس کی تکذیب کرنے لگا اور جس نے پیدا کیا اسی میں جھگڑنے لگا اور یہ خیال نہ کیا کہ ایک بےشعور اور بےحس قطرہ آب سے ایسا ہوشیار اور سمجھدار انسان کیسے بن گیا اور یہ خیال نہ کیا کہ ایک نطفہ جو نو ماہ مادر شکم میں رہا اور خون حیض اس کی غزا رہی اور مختلف مراحل اور منازل طے کرنے کے بعد وہ پیدا ہوا اور پھر شیرخواری کی منزل سے جوان ہوا یہ کس مادہ اور طبیعت کا اقتضاء تھا بلاشبہ یہ کسی قادر حکیم کی تدبیر اور تصویر تھی۔
یہ آیت ابی بن خلف جمحی کے بارے میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا منکر تھا یہ شکص آنحضرت ﷺ کے حضور میں ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور کہنے لگا کہ تیرا یہ خیال ہے کہ خدا اس ہڈی کو بوسیدہ ہونے کے بعد زندہ کرے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مطلب یہ ہے کہ یہ جھگڑالو انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو ایک بےحس نطفہ سے پیدا کیا اور پھر اسے عقل اور دانائی اور گویائی دی اب یہ ہمارے ساتھ جھگڑتا ہے اور اپنی پیدائش سے دوبارہ پیدا ہونے پر دلیل نہیں پکڑتا بوسیدہ ہڈی سے انسان کا پیدا کرنا نطفہ سے انسان کے پیدا کرنے سے زیادہ عجب نہیں جو ذات تجھ کو نطفہ سے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ تجھ کو بوسیدہ ہڑیوں سے پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔
قسم سوم :۔ والانعام خلقھا لکم فیہا دفء .... الیٰ .... ان ربکم لرء وف رحیم۔
اور خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے چوپایوں کو پیدا کیا ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان یعنی ان جانوروں کی اون اور بالوں سے ایسی پوشش تیار ہوتی ہیں جو تم کو جاڑے سے بچائے جسے جڑ اول کہتے ہیں اس کے علاوہ کتنے فائدے ہیں اور بعض کو تم ان میں سے کھاتے ہو یعنی ان کے گوشت اور چربی اور دودھ اور گھی کو کھاتے ہو اور تمہارے لیے ان جانوروں میں رونق اور زینت بھی ہے جب تم ان کو چرا کر شام کے وقت جنگل سے گھر واپس لاتے ہو اس وقت تروتازہ اور خوبصورت ہوتے ہیں اور ان کے تھن دودھ سے لبریز ہوتے ہیں اور گھر میں خوب رونق اور چہل پہل ہے اور جب صبح کے وقت ان کو چراگاہ کی طرف لے جاتے ہو اگرچہ اس وقت ان کے پیٹ خالی ہوتے ہیں مگر ان کا چراگاہ میں جانا بھی موجب زینت ہوتا ہے اور یہ جانور تمہارے بوجھ اٹھا کر اس شہر کی طرف لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر مشقت کے نہیں پہنچ سکتے۔ بیشک تمہارا پروردگار شفقت کرنے والا مہربان ہے کہ اس نے تمہاری راحت کے لیے یہ سامان پیدا کیا جو تمہارے لیے سامان سفر بھی ہے اور سامان زراعت و حراثت بھی ہے اور ان کا دودھ اور گوشت تمہاری اعلیٰ ترین غذا ہے اور ان کا صوف اور بال تمہارا سامان لباس ہے۔
قسم چہارم :۔ والخلیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ ویخلق مالا تعلمون۔
اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا تاکہ تم ان پر سوار ہو اور تمہارے لیے زینت ہوں اور جس طرح وہ ان چیزوں کو پیدا کرتا ہے اسی طرح وہ ان عجیب و غریب چیزوں کو پیدا کرنا ہے جن کو تم نہیں جانتے۔ جیسے انواع و اقسام کے کیڑے مکوڑے یا دریائی جانور یا جو پہاڑوں کے کھڈوں میں ہیں جن کو کسی بشر نے نہیں دیکھا اور نہ سنا۔
نکتہ : اول حق تعالیٰ نے ان حیوانات کے منافع کا ذکر فرمایا جن کی انسان کو کھانے کے لئے ضرورت ہے دوم ان حیوانات کا ذکر کیا جن سے بجائے غذا کے سواری کا فائدہ ہوتا ہے اور پھر آخر میں ویخلق مالا تعلمون سے اجالا ان حیوانات کی طرف اشارہ فرمایا جن کی انسان کو ضرورت نہیں ہوئی۔
جملہ معترضہ برائے بیان اثر و دلائل مذکورہ
وعلی اللہ قصدا لسبیل ومنھا جائر ولوشاء لھدکم اجمعین۔
اوپر سے دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے درمیان میں بطور جملہ معترضہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ دلائل مذکورہ صراط مستقیم تک پہنچانے والے ہیں۔ اور اللہ ہی پر پہنچتا ہے سیدھا راستہ یعنی دین اسلام جو اس راہ پر چلے گا وہ اللہ تک پہنچ جائے گا۔ اور بعضے راستے ٹیڑھے ہیں جو خدا تک نہیں پہنچتے وہ وہ ہیں جو دین اسلام کے سوا ہیں مطلب یہ ہے کہ راہ توحید کے سوا کوئی راستہ ایسا نہیں کہ جس پر چل کر بندہ خدا تک پہنچ سکے۔ اسلام کے سوا جو راستے ہیں جیسے یہودیت اور نصرانیت اور مجوسیت اور نچریت اور بت پرستی وغیرہ وغیرہ یہ سب راستے ٹیڑھے ہیں ان پر چل کر خدا تک نہیں پہنچا جاسکتا اور بعض کہتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ سیدھے راستہ کا بیان کرنا اللہ کے ذمہ ہے کیونکہ وہ طریق ہدایت کو ظاہر کیے بغیر کسی کو عذاب نہیں دیتا۔
آگے فرماتے ہیں کہ خواہ کوئی سیدھی راہ پر چلے یا ٹیڑھی راہ پر چلے وہ سب اللہ کی قدرت اور اس کے علم اور مشیت کے ساتھ ہے اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست پر کردیتا اس نے جس کو چاہا ہدایت دی اور جس کو چاہا شہوات کے اور ظلمات کے بیابانوں میں گم گشتہ راہ بنایا اب آگے پھر اپنی نعمتوں کو بیان فرماتے ہیں۔ جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں پہلی آیت میں احوال حیوانات سے استدلال تھا اب احوال نباتات سے استدلال فرماتے ہیں۔
احوال نباتات سے استدلال
ھو الذی انزل من السماء ماء لکم .... الیٰ .... ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون۔
وہی ہے رب تمہارا جس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا۔ تمہارا اسی سے پینا ہے اور اسی سے تمہارے لیے درخت اور گھاس اگتے ہیں جس میں تم اپنے میویشی چراتے ہو اسی پانی سے اللہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتوں اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل زمین سے اگاتا ہے بیشک اس میں سوچنے والے لوگوں کے لیے ہماری قدرت اور وحدانیت کی نشانی ہے۔ جو شخص اس میں غور کرے کہ دانہ زمین میں غائب ہوا اور تری سے پھول کر پھٹا اور اس سے سورگیں نمودار ہوئیں اور زمین میں پھیلیں اور اوپر شاخیں نکلیں اور مختلف قسم کے پھل اور پھول نمودار ہوئے جن کی صورتیں اور شکلیں بھی مختلف اور رنگتیں بھی مختلف اور خاصیتیں بھی مختلف اور مزے بھی مختلف۔ حالانکہ زمین اور پانی اور ہوا سب کی ایک ہے اور اسباب و علل بھی سب کے ایک ہیں اور تاثیرات فلکیہ اور تحریکات کو کبیہ کی نسبت بھی سب کے ساتھ ایک ہے جو اس میں غور وفکر کرلے گا وہ سمجھ جائے گا کہ یہ تمام تغیرات اور اختلافات کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضاء نہیں بلکہ کسی قادر حکیم کی کاری گری اور کرشمہ سازی ہے۔
قسم ششم :۔ وسخرلکم الیل والنھار والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ ان فی ذلک لایت تقوم یعقلون۔
اور رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کردیا یعنی ان چیزوں کو تمہارے کام میں لگا دیا کہ دن اور رات کی آمدورفت اور چاند اور سورج کے طلوع و غروب سے اور اوقات کے بدلنے سے کارخانہ عالم چل رہا ہے اور سب اس کے حکم سے کام میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ کے حکم سے ایسی چال پر چلتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر کردی ہے اور انسان ان سے اوقات اور فصول کو معلوم کرتا ہے۔ پس فلاسفہ اور منجمین کا یہ قول کہ عالم سفلی کا کارخانہ، کواکب اور نجوم کی تاثیر اور تصرف سے چل رہا ہے، غلط ہے۔ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مقہور اور مسخر ہیں۔ سب اس کے بیگاری ہیں جس کام میں لگا دیا اس میں لگے ہوئے ہیں۔ بیشک اس میں عقل والوں کے لیے ہماری قدرت ویکتائی کی نشانیاں ہیں کہ آفتاب و ماہتاب اور کواکب و نجوم سب اجسام ہیں مگر سب مختلف اور متفاوت ہیں۔ حالانکہ من حیث الجسم ہونے کے لحاظ سے سب یکساں ہیں معلوم ہوا کہ یہ تفاوت جسمیت کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ کسی قادر حکیم کے ارادہ اور مشیت سے ہے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ستارے کسی کے حکم کے تابع نہیں بذات خود عالم سفلی میں مدبر اور متصرف ہیں یہ لوگ بےعقل ہیں۔
ابر دباد دمہ و خورشید و فلک درکارند تاتونانے بکف آری و بہ غفلت نخوری
ہمہ ازبہر تو سرگشتہ و فرما بنردار شرط انصاف نبا شد کہ تو فرماں نبری
غرض جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم اور فہم مستقیم عطا فرمائی وہ سمجھتا ہے کہ چاند اور سورج اور ستارے خودبخود حرکت نہیں کر رہے ہیں پس جو ذات ان کو حرکت دے رہی ہے وہی خدا تعالیٰ ہے اور چونکہ آثار علویہ کی دلالت قدرت قاہرہ پر ظاہر دباہرے ہے اس لیے اس آیت کو عقل پر ختم فرمایا۔
قسم ہفتم :۔ وما ذرالکم فی الارض مختلفا الوانہ ان فی ذلک لایۃ لقوم یذکرون۔
اور مسخر کردیا اللہ تعالیٰ نے جو کس اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کیا حالانکہ ان کے رنگ مختلف ہیں جتنی چیزیں اللہ تعالیٰ نے زمین میں پیدا کیں انسان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور یہ چیزیں صورت اور شکل اور رنگ اور بو کے اعتبار سے مختلف ہیں اور ایک دوسرے سے ممتاز ہیں اس سے بھی خدا تعالیٰ کی کمال قدرت ظاہر ہوتی ہے اگر کواکب اور نجوم کی تاثیر ہوتی تو سب نباتات ایک رنگ کے ہوتے۔ ان مخلوقات میں اللہ کی قدرت اور الوہیت کی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت پکڑتے ہیں اور غافل نہیں ذرا غفلت کا پردہ اٹھا تو منصنوع کو دیکھ کر صانع کا پتہ چلا لیا اس لیے اس آیت کو تذکر پر ختم فرمایا۔ کیوں کہ ان کی دلالت اس قدر واضح ہے کہ اس میں دقیق نظر و فکر کی حاجت نہیں محض تذکر اور یاد دہانی کافی ہے۔
قسم ہشتم :۔ وھو الذی سخر البحر لتاکلوا منہ لحما طریا .... الیٰ .... ولعلکم تشکرون۔
حق جل شانہ نے اپنی الوہیت کے ثابت کرنے کے لیے اول اجرام سماویہ سے استدلال کیا اور پھر دوسری مرتبہ میں انسان کی پیدائش سے استدلال فرمایا اور تیسری مرتبہ میں عجائب حیوانات سے استدلال کیا اور چوتھے مرتبہ میں عجائب بناتات سے استدلال کیا اب احوال عناصر کے عجائب سے استدلال فرماتے ہیں عناصر میں اول پانی کا ذکر فرمایا چناچہ فرماتے ہیں۔
اور وہ وہ ہے جس نے دریا کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ یعنی مچھلی نکال کر کھاؤ سمندر کا پانی شور ہے مگر مچھلی جو اس سے نکلتی ہے اسکا گوشت شور نہیں۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کی کمال قدرت کی دلیل ہے کہ شور میں سے ایک لذیز چیز تمہارے کھانے کے لیے نکال دی اور تاکہ تم اس سمندر سے زیور نکالو یعنی موتی اور مرجان نکالو جس کو تم پہنچتے ہو یعنی تمہاری عورتیں۔ چونکہ عورتوں کی زینت مردوں کے لیے ہوتی ہے اس لیے حق تعالیٰ نے پہننے کی نسبت مردوں کی طرف کی اور دیکھتا ہے تو کشتیوں کو کہ چیرتی چلی جاتی ہیں، کشتی کا ایک ہی ہوا سے ایک جانب سے دوسری جانب پار ہوجانا یہ خدا کی کمال قدرت کی نشانی ہے اور کشتیوں کا سمندر میں چلانا اس لیے ہے تاکہ اس کے فضل سے روزی تلاش کرو۔ یعنی تاکہ تم کشتیوں پر سوار ہو کر تجارت کرو اور فضل الٰہی سے نفع کماؤ اور تاکہ اللہ عزوجل کی شکر گزاری کرو کہ یہ دریا کی تسخیر اور کشتی کی ترکیب اور تمہارا اس طرح سے سفریہ اللہ کی نعمت ہے، جس کا شکر واجب ہے۔
قسم نہم :۔ والقی فی الارض رواسی تمیدکم وانھرا و سبلا لعلکم تھتدون وعلمت۔
جب عنصر خاکی سے استدلال فرماتے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے زمین میں مضبوط پہاڑ ڈال دئیے کہ وہ زمین تم کو لے کر حرکت نہ کرے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے زمین پر پہاڑوں کا بوجھ ڈال دیا اور پہاڑوں کو زمین کے لیے میخیں بنا دیا تاکہ زمین حرکت نہ کرسکے اس لیے زمین ٹھہر گئی یہ اس کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ اس نے ایک جسم کو خفیف بنایا اور ایک جسم (پہاڑ) کو ثقیل بنایا اور اللہ نے زمین میں نہریں پیدا کیں جیسے لیل اور فرات اور جیحون اور سیحون اور اکثر دریا پہاڑوں سے نکلتے ہیں اور پیدا کی زمین میں راہیں اور راستے کہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ سکو، ان دلائل میں غور کرو کہ شاید تم اپنے منزل مقصود کی راہ پالو اور راستوں کی شناخت کے لیے اللہ نے اور بھی نشانیاں رکھی ہیں جن سے چلنے والے راستہ معلوم کرتے ہیں اگر زمین کی ساری سطح یکساں ہوتی۔ کہیں درخت اور پہاڑ اور یہ نشان نہ ہوتے تو مسافر کو راستہ چلنا اور منزل پر پہنچنا مشکل ہوجاتا۔
قسم دہم : و بالنجم ہم یھتدون۔
اور علاوہ ازیں ستاروں سے بھی لوگ راستہ معلوم کرلیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ صرف زمین ہی کی چیزیں راستوں کی علامتیں نہیں بلکہ لق ودق میدانوں میں ستارے بھی راستوں کی علامتیں ہیں کہ قافلے ان کی سیدھ میں چلتے ہیں سمت اور رخ اور راستوں کا پتہ ستاروں کے ذریعے چلتا ہے اگر یہ علامتیں نہ ہوتیں تو بہت مشکل پڑجاتی۔
تہدید براعراض از دلائل واضحہ
یہاں تک توحید کے دلائل بیان فرمائے۔ اب آگے ان لوگوں کی مذمت فرماتے ہیں جو ان دلائل واضحہ میں ذرا بھی گور نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو خدا ان اجرام علویہ اور سفلیہ اور حیوانات عجیبہ اور نباتات غربیہ اور مصنوعات عظیمہ کو پیدا کرتا ہے۔ مثل ان بتوں کے ہوسکتا ہے جو کچھ پیدا نہیں کرتے پس کیا تم سوچتے نہیں کہ خالق اور غیر خالق کا برابر ہونا عقلاً محال ہے اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنے لگو تو شمار بھی نہیں کرسکتے ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کی نعمتیں مبذول ہوتی رہتی ہیں صرف ایک اپنے ہی وجود پر نظر ڈال لو کہ اس نے تمہیں صحت دی۔ عقل دی سننے کے لیے کان دئیے اور بولنے کے لئے زبان دی اور پکڑنے کے لیے ہاتھ دئیے اور چلنے کے لیے پیر دئیے اس قسم کی بیشمار نعمتیں تم کو دیں جن کو تم گن نہیں سکتے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے کہ اس نے باوجود تمہاری تقصیرات کے اپنی نعمتیں بند نہیں کیں۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے منعم کی پرستش کرو کہ جس کی نعمتوں کو تم شمار نہیں کرسکتے اور وہ ایسا مہربان ہے کہ باوجود تمہاری تقصیرات کے اپنی نعمتیں تم پر بند نہیں کرتا اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم دلوں میں چھپاتے ہو اور جو تم زبان سے ظاہر کرتے ہو۔ وہ تمہارے نیک و بد کی تمہیں سزا دے گا وہی عالم الغیب ہے قابل عبادت ہے ظاہر و باطن اس کے نزدیک برابر ہے یہ بت جن کو نہ تمہاری بدی کی خبر ہے اور نہ نیکی کی۔ پوجنے کے لائق نہیں اور جن حقیر چیزوں کی یہ لوگ خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود ہی مخلوق ہیں پس کیسے خالق کے برابر ہوسکتے ہیں۔ وہ تو مردے ہیں زندہ نہیں۔ وہ تو جمادات ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ حرکت کرسکتے ہیں پس یہ بت معبود کیسے ہوسکتے ہیں۔ معبود کے لئے حیات ازلیہ اور علم محیط چاہئے اور تمہارے ان معبودین کو اتنی بھی خبر نہیں کہ ان کے عابدین یعنی جو ان کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ قبروں سے کب اٹھائے جائیں گے یعنی ان کو قیامت کا علم نہیں اور نہ اپنے عابدین کی عبادت کا علم ہے لہٰذا جسے اپنے عبادت کرنے والے کا حال معلوم نہ ہو وہ معبود ہی کیا ہوا تو ایسوں کو پوجنا کمال بےوقوفی ہے خدا کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خالق معبود اور عالم الغیب اور محیط کل ہو اور خدا تعالیٰ کے سوا نہ کوئی خالق ہے اور نہ کوئی عالم الغیب ہے پس ثابت ہوا کہ تمہارا معبود ایک اور یگانہ ہے۔ احد اور صمد ہے اس کے سوا کوئی معبود ہو ہی نہیں سکتا۔ سو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل ایک معبود ہونے سے انکار کرتے ہیں اور وہ متکبر ہیں اس لیے انہیں حق کے قبول کرنے سے عار ہے بلاشبہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں اس سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اس کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور حق کو قبول نہ کرنا یہ تکبر ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک غایت درجہ مبغوض ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ متکبرین قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح ہوں گے تاکہ لوگ انہیں اپنے قدموں سے پامال کریں مطلب یہ ہے کہ میدان حشر میں ان کے اجسام صغیر اور حقیر ہوں گے تاکہ خوب ذلیل ہوں اور آگ میں ان کے اجسام کبیر (بڑے) ہوجائیں گے تاکہ عذاب شدید اور ضرب شدید و مدید کے مورد اور محل بن سکیں۔
اور چونکہ حق سے اعراض کا منشاء تکبر تھا اس لیے آیت کو متکبرین کی مذمت پر ختم فرمایا۔
Ayahs 16:24–25منکرین نبوت کے معاندانہ سوالات اور ان کے جوابات
(ربط) یہاں تک دلائل توحید کا ذکر فرمایا اب آگے مشرکین کے قبائح اور منکرین نبوت کے معاندانہ سوالات کا ذکر کرکے ان کا جواب دیتے ہیں اسی سلسلہ میں حق تعالیٰ نے مشرکین کے پانچ شبہ ذکر فرما کر ان کا جواب دیا اور یہ بھی بتلا دیا کہ یہ شبہ کوئی نئے سب ہے نہیں پہلی امتوں کے لوگ اسی قسم کے شبہ کرچکے ہیں اور ہلاک اور برباد ہوچکے ہیں ان کی ہلاکت اور بربادی خود ان کے شبہوں کا جواب تھی۔
پہلا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : واذا قیل لہم ماذا انزل ربکم .... الیٰ .... الا ساء ما یزرون۔
آنحضرت ﷺ نے جب اپنی نبوت و رسالت پر قرآن کریم سے استدلال کیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور معجزہ ہے تو جواب میں یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ پچھلے لوگوں کے قصے ہیں اور کہانیاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور جب ان منکرین سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے۔ یعنی کوئی ناواقف شخص بغرض تحقیق ان سے یہ پوچھتا ہے کہ بتلاؤ تمہارے پروردگار نے کیا چیز اتاری ہے یا خود ہی آپس میں ازراہ تمسخر ایک دوسرے سے یہ سوال کرتے ہیں کہ بتلاؤ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے تو جواب میں یہ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں۔ یہ اللہ کا اتارا ہوا کلام کہاں سے آیا یہ تو پہلے لوگوں کے افسانے اور ان کی کہانیاں ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فہی تملیٰ علیہ بکرۃ واصیلا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں۔ اور اس کی اتاری ہوئی کتاب نہیں پچھلے لوگوں کی بےسند باتیں ہیں۔ نبوت و رسالت اور قیامت اور جنت و جہنم کی باتیں اور پرانے افسانے اس میں نقل کر دئیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اس قسم کی باتوں سے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے گناہوں کا بوجھ تو اٹھائیں گیا اور کچھ بوجھ ان لوگوں کے گناہوں کے بھی اٹھائیں گے جن کو بےتحقیق یہ گمراہ کرتے ہیں۔ یعنی یہ متکبرین اور رؤساء کفر اپنے کفر اور شرک اور اپنے گناہوں کا تو پورا نوجھ اٹھائیں گے۔ اور اپنے بوجھ کے علاوہ اپنے پیرؤں کے گناہوں کا بوجھ بھی کچھ اٹھانا پڑے گا۔ پیرو بری نہ ہوں گے ان کو اپنے کفر اور شرک کا علیحدہ عذاب ہوگا اور ان گمراہ کرنے والوں کو گمراہی کا سبب بننے کی وجہ سے بمقدار حصہ سببیت گمراہوں کے عقوبت میں سے بھی کچھ حصہ ملے گا غرض یہ کہ ان ائمۃ الکفر کو اپنے کفر اور شرک کا پورا عذاب ملے گا اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے ان کے عذاب میں سے بھی ان کو کچھ حصہ ملے گا اس طرح ان کو دگنا عذاب بھگتنا پڑے گا۔ مگر گمراہوں کے عذاب میں کوئی کمی نہ ہوگی ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی پیروی نہ کی۔ اور ان کی بات بےدلیل ہی مان لی۔ اور ان کی جہالت کا عذر قبول نہ ہوگا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ بہت برا بوجھ ہے کہ جو قیامت کے دن اپنی پیٹھوں پر اٹھائیں گے گناہوں کے بوجھ سے بڑھ کر کوئی بوجھ نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا اس کو ان سب لوگوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔ جنہوں نے اس کا اتباع کیا اور ان لوگوں کے ثواب میں سے کچھ کم نہ کیا جائے گا۔ اور جس نے لوگوں کو گمراہی کی طرف بلایا اس کو ان سب لوگوں کے گناہ کے برابر گناہ ہوگا۔ جنہوں نے اس کی پیروی کی ان پیروؤں کے گناہ سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ (رواہ مسلم)
فائدہ : اور آیت ولا تزر وازرۃ وزر اخری اس کے منافی نہیں اس لیے کہ میراد اس سے وہ وزر ہے کہ جن میں اس کا کچھ عمل دخل نہ ہوگا اور اس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہ ہو اور جو شخص کسی برائی یا بھلائی کا سبب بنے گا بقدر سببیت اس کو ثواب و عتاب میں سے حصہ ملے گا۔
تہدید معاندین و وعید مستکبرین
Ayahs 16:26–32قال اللہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلہم .... الیٰ .... ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون۔
(ربط) ان آیات میں اول متکبرین کی اس دنیا وہ تباہی اور بربادی کا بیان ہے جو پہلے کافروں پر ناگہانی طور پر نازل ہوئی اس کے بعد الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم۔ میں متکبرین کے اخروی عذاب کا بیان ہے یہ سب غرور اور تکبر کا نتیجہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح اگلے کافر اور متکبر ناگہانی بلاؤں میں مبتلا ہوئے جن کا پہلے سے کہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اسی طرح تمہارا بھی یہی حال اور مآل ہوگا اور گزشتہ متکبرین کی طرح تم کو بھی غرور اور تکبر کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ اور اس کے بعد وقیل للذین اتقوا الخ میں بطور مقابلہ ایمانداروں کو دینی اور دنیوی صلاح اور فلاح اور خیر و خوبی اور ان کے دینی اور دنیوی مدارج اور مراتب کا بیان ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق ان سے پہلے متکبر بھی لوگوں کو گمراہ کرنے اور حق کو پست کرنے کے لیے عجیب و غریب مکر کرچکے ہیں جو ان کفار مکہ سے پہلے گزرے ہیں جیسے نمرود بن کنعان جو اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ سرکش و ظالم و متکبر بادشاہ تھا اور تمام شاہان عالم سے بڑھ کر تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھا اس کا مکر یہ تھا کہ اس نے بابل میں ایک بڑا اونچا محل بنوایا تھا جو پانچ ہزار گز بلند تھا اور بعض کہتے ہیں کہ دو فرسخ یعنی چھ میل اونچا منارہ تھا۔ پس آپہنچا اللہ کا حکم ان کی عمارت کی تباہی اور بربادی کے لیے ان کی بنیادوں کی جانب سے کہ زلزلے نے تمام بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑ ڈالا۔ پھر اوپر سے ان پر چھت آگری جس سے چھتوں کے نیچے دب کر مرگئے اور ہلاک ہوگئے جو سامان حفاظت کا کیا تھا وہی فنا اور ہلاکت کا سبب بن گیا اور ایسی جگہ سے ان پر عذاب آیا جہاں سے ان کو وہم اور گمان بھی نہ تھا عمارت کی بنیادیں اس درجہ مستحکم اور مضبوط تھیں کہ خیال بھی نہ تھا کہ جڑ سے اکھڑ جائیں گی۔ چناچہ نمرود نے جو بلند محل تیار کیا تھا اس کا حال یہ ہوا کہ من جانب اللہ ایک دم آندھی چلی۔ جس نے اس محل کو جڑ سے اکھاڑ کر ان پر گرا دیا۔ اور وہ سب بدبخت اس کے نیچے دب کر مرگئے اور بعض کہتے ہیں یہ شخص بخت نصر تھا۔ (تفسیر قرطبی ص 97 ج 10)
امام رازی قدس سرہ فرماتے ہیں فاتی اللہ بنیانھم من القواعد میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ آیت کے ظاہری معنی مراد ہوں کہ قدیم زمانہ میں کفار بلند عمارتیں بناتے تھے اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا مقابلہ کرتے تھے خدا تعالیٰ نے ان کو جڑ سے گرا دیا اور اوپر سے ان پر چھت آپڑی جس کے نیچے دب کر مرگئے اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ کلام بطور تمثیل کے ہے کہ انہوں نے حق کے مقابلہ میں مکرو فریب کی بہت بلند عمارات بنائیں اور مکر وتلبیس کے بڑے اونچے محل تیار کر دئیے مگر جب حکم الٰہی آپہنچا تو مکرو فریب کی بلند عمارت کی چھت انہی پر گر پڑی اور اس کے نیچے دب کر خود ہی ہلاک ابدی میں گرفتار ہوئے۔ (تفسیر کبیر ص 343 ج 5)
الغرض متکبرین کا یہ انجام تو دنیا میں ہوا۔ پھر اس دنیا کے عذاب کے علاوہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو اور رسوا اور خوار کرے گا کیونکہ اس دن پوشیدہ نیتیں ظاہر کی جائیں گی اور منجملہ رسوائیوں کے ایک رسوائی یہ ہوگی کہ اللہ بطور غضب یہ کہے گا کہ بتلاؤ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم انبیاء کرام (علیہ السلام) اور اہل ایمان سے جھگڑا کیا کرتے تھے۔ آج وہ تمہارے ساتھ حاضر کیوں نہیں ہوئے جو تمہاری مدد کرتے اور اس ذلت اور مصیبت سے تم کو نکالتے (اس حالت کو دیکھ دیکھ کر) وہ اہل علم جو دنیا میں انہیں نصیحت کیا کرتے تھے اور یہ ان کے وعظ و نصیحت کی طرف ملتفت نہ ہوتے تھے اس وقت بطریق ثمائت اہل علم ان سے یہ کہیں گے کہ دیکھ لیا جو ہم کہا کرتے تھے آج کے دن پوری رسوائی اور برائی کافروں پر ہے۔ بظاہر اس وقت انبیاء کرام (علیہ السلام) تو خاموش رہیں گے اور ان متکبرین کی بات کا جواب نہ دیں گے البتہ اہل علم جو انبیاء (علیہ السلام) کے وارث تھے کافروں کو سنا کر یہ کہیں گے ان الخزی الیوم الخ دنیا میں کافر مومنوں کو ذلیل سمجھتے تھے قیامت کے دن انہیں معلوم ہوجائیگا کہ درحقیقت ذلیل وہی ہیں اور کافروں کی ذلت کا ظہور موت کے وقت سے شروع ہوجاتا ہے اس لیے آئندہ آیت میں کافروں کی موت کی ذلت آمیز حالت کو بیان فرماتے ہیں کہ ان متکبر کافروں کی فرشتے ایسی حالت میں جان نکالتے ہیں کہ وہ مرتے دم تک کفر اور تکبر پر قائم رہ کو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے یعنی مرتے دم تک کفر اور شرک میں مبتلا تھے۔ اگر مرنے سے پہلے کفر اور شرک سے باز آجاتے تو ان کو یہ ذلت نہ دیکھنی پڑتی۔ ساری عمر خواب غفلت میں سوتے رہے ہوش ہی نہ آیا۔ جب موت کا فرشتہ سر پر آپہنچا تب آنکھ کھولی۔ پس اس وقت یہ ظالم صلح کا پیغام ڈالیں گے اور مخاصمہ اور جھگڑا چھوڑ کر اطاعت کی طرف مائل ہوں گے اور یہ روح نکلنے سے ذرا پہلے ہوگا اس وقت یہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں کوئی برا کام کفر و شرک نہیں کرتے تھے۔ ملک الموت کو دیکھتے ہی غرور تو کافور ہوجائے گا اور ساری فوں فاں نکل جائے گی مگر قدیمی جھوٹ ابھی باقی رہ جائے گا۔ اور کہہ دیں گے کہ ہم نے کوئی برا کام نہیں کیا۔ اور اسی طرح آخرت میں کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، کیوں نہیں۔ تم دنیا میں ضرور برے کام کفر اور شرک کرتے تھے۔ کیا تم جھوٹ بول کر اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے تھے۔ بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو یعنی تمہارا یہ انکار نہیں کچھ مفید نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو ذرہ ذرہ کا علم ہے تم قرآن اور رسول ﷺ اور اہل ایمان کی ہنسی اڑاتے تھے اور توحید کے نام سے چڑتے تھے ہم تم کو تمہارے اعمال کی سزا دیں گے اور سزا یہ ہوگی کہ یہ کہیں گے کہ پس تم دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ تم ہمیشہ اسی میں رہنے والے ہو۔ پس البتہ کی اہی برا ٹھکانہ ہے۔ ایمان سے تکبر کرنے والوں کا۔
خلاصہ کلام یہ کہ حق کے مقابلہ میں تکبر کا انجام دنیا و آخرت میں سوائے ذلت و خواری کے کچھ نہیں اور اس تکبر سے وہی مراد ہے کہ جب کوئی بغرض تحقیق ان سے پوچھتا کہ محمد ﷺ پر کیا چیز نازل ہوئی تو ازراہ تمسخر یہ کہتے کہ اساطیر الاولین کہ پہلے لوگوں کے قصے اور افسانے ہیں یہاں تک تو متکبرین اور ظالمین کا حال بیان ہوا اب آگے اس کے مقابلہ میں اہل ایمان کا حال اور ان کی عزت و کرامت کو بیان فرماتے ہیں۔ جنہوں نے حق کے مقابلہ میں کوئی غرور اور تکبر نہیں کیا۔ غرض یہ کہ پہلی آیت میں اشقیاء (بدبختوں) کے حال سے خبر دی۔ اب ان آیات میں سعداء (نیک بختوں) کے حال اور انجام سے خبر دیتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔
اور جب قرآن کے بارے میں ان لوگوں سے پوچھا گیا کہ جو کفر اور شرک سے اور تکبر سے پرہیز کرتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے (یعنی وحی قرآنی سے سوال کیا گیا) تو متقین نے جواب دیا کہ ہمارے پروردگار نے بڑی خیرو برکت کی چیز کو نازل فرمایا بخلاف کافروں اور متکبروں کے جب ان سے یہ سوال کیا جاتا تو کہتے کہ یہ اساطیر الاولین ہیں۔
نکتہ : متقین کے جواب میں خیرا منصوب آیا ہے اور متکبرین کے جواب (قالوا اساطیر الاولین) میں اساطیر مرفوع آیا ہے جو مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھو اساطیر الاولین۔ متکبرین نے اس قرآن کے نزول کا انکار کیا اور مرفوعا ذکر کیا۔ مطلب یہ تھا کہ قرآن منزل من اللہ نہیں بلکہ اس کا اساطیر الاولین ہونا ثابت اور مستمر ہے کیونکہ جملہ اسمیہ و دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے اور متقین نے جواب (خیرا) منصوب کہا جو فعل محذوف کا مفعول بہ ہے یعنی انزل اللہ خیرا یعنی یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ رحمت اور خیر و برکت ہے اور بلاشبہ منزل من اللہ ہے حاصل کلام یہ کہ کافروں اور متقیوں کے جواب میں مرفوع اور منصوب ہونے کا فرق اس نکتہ کی بناء پر ہے۔ (تفسیر کبیر ص 314 ج 5)
جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی دنیا کی بھلائی سے فتح و نصرت اور غلبہ اور خلافت مراد ہے اور آخرت کی بھلائی سے مراد جنت ہے اور دار آخرت کی بھلائی تو بہت ہی خوب ہے اور دنیا کی نعمتوں سے کہیں بہتر ہے اور کیا ہی خوب ہے دار اہل تقویٰ کا۔ اور وہ گھر باغات خلد ہیں وہ ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوں گے نہ وہاں سے کوچ کریں گے اور نہ نکالے جائیں گے۔ اور ان درختوں اور مکانوں کے نیچے دودھ کی اور شہد کی اور شراب کی نہریں جاری ہونگی۔ اور ان متقیوں کے لیے وہاں ہر وہ چیز ہوگی جس کی وہ خواہش کریں گے اور جنت میں داخل ہونے کے بعد متقیوں کا تقویٰ حد کمال کو پہنچ جائے گا اس رشک و حسد کا شائبہ بھی نہ رہے گا ہر جنتی کو جو مرتبہ حاصل ہوگا وہ دل و جان سے اس پر راضی ہوگا اس لیے کوئی متقی یہ خواہش نہیں کرے گا کہ مجھ کو انبیاء اور صدیقین کا مرتبہ دیا جائے نیز جنت میں جو بھی داخل ہوگا اس سے بےعقلی اور کم فہمی بالکلیہ دور کردی جائے گی، اہل جنت جو خواہش کریں گے وہ پوری کردی جائے گی۔ مگر یاد رہے جنت میں جانے میں جو خواہش بھی ہوگی وہ اپنے استحقاق اور مرتبہ سے زائد نہ ہوگی۔ اسی طرح کی جزاء دیتا ہے اللہ تمام متقیوں کو اور ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو کفر اور شرک سے بچے اور اعلیٰ درجہ کا متقی وہ ہے کہ جو تمام معاصی سے بچے۔ جس درجہ کا تقویٰ ہوگا۔ اسی درجہ کی جزاء ملے گی۔ اب آگے متقیوں کی وہ حالت اور صفت بیان کرتے ہیں۔ جو موت کے وقت ان کی ہوئی ہے اور اصل اعتبار موت کے وقت کی حالت کا ہے وہ متقی جن کی فرشتے بحکم الٰہی روح قبض کرتے ہیں اس وقت ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ شرک اور معصیت سے پاک ہوتے ہیں اور ازراہ اعزازو اکرام فرشتے یہ کہتے ہیں کہ سلام ہو تم پر اللہ کا اور یہ سلام درحقیقت ایک قسم کی بشارت ہے کہ اس کے بعد تم بالکل صحیح سالم رہو گے۔ اور تم کو کوئی امر مکروہ (ناگوار) نہ پہنچے گا اور سلام کے بعد یہ کہتے ہیں کہ بہشت میں داخل ہوجاؤ اپنے اعمال خیر کے سبب سے دخول جنت کا اصل سبب تو فضل الٰہی ہے اور یہ اعمال خیر اس کا سبب ظاہری ہیں اور بندہ کے یہ اعمال خیر بھی اس کے فضل اور توفیق سے ہیں۔ مبتدا اور منتہیٰ ہر جگہ فضل الٰہی ہے اور عمل خیر و درمیان میں ایک وسیلہ ہے جو اس کے فضل پر موقوف ہے نیز عمل صالح خواہ کتنا ہی صحیح اور درست کیوں نہ ہو مگر اس کا قبول کرنا حق تعالیٰ کے ذمہ واجب نہیں پس اس عمل صالح کو قبول کرنا بھی اس کا فضل ہے اور پھر اس پر جنت میں داخل کرنا یہ بھی اس کا فضل ہے۔ واللہ ذو الفضل العظیم۔
Ayahs 16:33–34دوسرا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : ہل ینظرون الا ان تاتیہم الملئکۃ .... الیٰ .... ما کانوا بہ یستھزء ون۔
(ربط) منکرین کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ کوئی فرشتہ آسمان سے نازل ہو کر آپ ﷺ کی صداقت کی شہادت دے اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ منکرین نبوت اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس موت کے فرشتے آجائیں اور ان کی روحیں قبض کریں یعنی یہ لوگ دلائل وبراہین سے راہ راست پر آنے والے نہیں بلکہ منتظر ہیں کہ جب قبض روح کے ملائکہ آویں تب یقین کریں گے مگر اس وقت کا یقین سود مند نہیں یا یہ معنی ہیں کہ فرشتوں کی آمد کے منتظر ہیں کہ وہ آکر فیصلہ کریں یعنی سب کے سامنے آکر آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دیں اور یہ بھی ناممکن اور محال ہے فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا عام بشری طاقت سے باہر ہے یا اس طات کے منتظر ہیں کہ تیرے پروردگار کا کوئی حکم آجائے کہ ان پر کوئی عذاب نازل ہو اور یکلخت سب ہلاک ہوجائیں اس وقت عذاب کو دیکھ کر ایمان لائیں گے یا حکم خداوندی سے قیامت کا آنا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ کیا قیامت کے یا موت کے منتظر ہیں کہ اس وقت ایمان لائیں گے تو اس وقت کا ایمان معتبر نہ ہوگا ایسا ہی مسخرہ پن ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یعنی اسی طرح کی باتیں پہلے کافر بھی کرتے تھے بالآخر عذاب سے ہلاک ہوئے اور عذاب سے ہلاک کرکے اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا اس لیے کہ اللہ نے ان پر حجت قائم کردی تھی اور رسول بھیج دئیے تھے اور کتابیں اتار دی تھیں لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم و ستم کرتے تھے کہ پیغمبروں کی تکذیب کرتے تھے یعنی وہ اس کفر اور شرک سے اور تکذیب سے خود اپنی ہلاکت کا باعث بنے پس پہنچیں ان کو برائیاں ان کے اعمال کی یعنی اپنے اعمال کی سزا میں گرفتار ہوئے اور ان کو اسی عذاب نے آکر گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کہاں کا عذاب اور کہاں کا حساب و کتاب اور کہاں کی قیامت اور کہاں کی دوزخ اور جنت۔