16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 16:112–119

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس خدا نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھال نہیں ہوگا۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اسکے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو چیزیں ہم تم کو پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ اور نیکو کار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور (ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔

تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے التجا کی۔ اور آپ ﷺ کی دعا سے یہ مصیبت دور کوئی۔ بعد ازاں حق تعالیٰ نے انما حرم علیکم المیتۃ سے یہ بتلایا کہ کونسی چیزوں کا کھانا حرام ہے کہ ان کے کھانے سے پرہیز ضروری ہے۔ اور پھر وعلی الذین ھادوا حرمنا سے یہ بتلایا کہ یہود پر ان کی سرکشی کی وجہ سے بعض پاکیزہ چیزیں دنیا ہی میں حرام کردی گئی تھیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ حلال و حرام کے احکام کو پوری طرح ملحوظ رکھو اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال و حرام نہ بناؤ اور غلطی سے اگر کوئی گناہ ہوجائے تو توبہ کرلو۔ اللہ پاک بخش دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ حلال کھاؤ۔ اکل حلال سے روح کا مزاج درست رہتا ہے اور حرام سے بچو حرام سے انسان کا دل اور روح فاسد اور خراب ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کفران نعمت کے وبال پر متنبہ کرنے کے لیے ایک بستی کی مثال بیان کی کہ وہ بستی امن وامان اور سکون والی تھی۔ اس بستی کے لوگ آسودہ تھے اور ان کو کسی کی لوٹ مار اور غارت گری کا اندیشہ نہ تھا۔ اس بستی میں بسنے والوں کا رزق فراغت اور کثرت کے ساتھ ہر جگہ سے یعنی اطراف و جوانب سے آتا تھا پس اس بستی والوں نے اللہ پاک کی نعمتوں کی ناشکری کی تب اللہ نے اس بستی والوں کو بھوک اور خوف کا لباس چکھایا یعنی امن اور سکون کی جگہ خوف و ہراس آگیا۔ اور رزق کی وسعت اور کثرت کی بجائے بھوک اور قحط نے آپکڑا۔ اللہ نے ان کو خوف اور بھوک کا مزہ بھی خون سکھا دیا اور اس بھوک اور خوف نے ان کو ہر طرف سے پکڑ لیا جیسے کپڑا اپنے پہننے والے کے بدن کو گھیر لیتا ہے سزا میں اس کی جو وہ کرتے تھے یعنی اللہ نے جو ان کو بھوک اور خوف کا لباس چکھایا یہ ان کے اعمال کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی نعمت کی ناشکری کی۔ ضرب اللہ مثلا قریۃ کی تفسیر میں مفسرین کے دو قول ہیں اول یہ کہ اس سے کوئی معین قریہ مراد ہے یعنی مکہ معظمہ مراد ہے جہاں کے باشندے متواتر سات برس تک قحط میں مبتلا رہے اور اطراف و جوانب سے جو غلہ آنا تھا اس کا آنا بند ہوگیا یہاں تک کہ انہوں نے جلی ہوئی ہڈیوں اور مردار اور کتوں کو کھایا اور وہ پہلا امن و اطمینان جاتا رہا۔ ہر وقت خوف میں رہنے لگے یہ خدا تعالیٰ نے بطور تمثیل اہل مکہ کی حالت بیان فرمائی۔ اور دوسرا تول یہ ہے کہ قریہ سے غیر معین بستی مراد ہے کیونکہ وہ نکرہ لایا گیا ہے۔ نکتہ : اس آیت یعنی فاذا اقھا اللہ لباس الجوع والخوف میں یہ فرمایا کہ اللہ نے اس بستی والوں کو بھوک اور خوف کا لباس چکھایا اور یہ نہیں فرمایا کہ اس کو بھوک اور خوف کا لباس پہنایا حالانکہ لباس تو پہنایا جاتا ہے چکھایا نہیں جاتا وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ آیت درحقیقت دو استعاروں کو متضمن ہے ایک اعتبار سے رجوع اور خوف کی حالت مذوقات کے مشابہ ہے کہ جب انسان کسی چیز کو دیکھ کر چکھ لیتا ہے تو اس کا ادراک اور احساس مکمل ہوجاتا ہے دیکھنے اور چھونے سے پورا احساس نہیں ہوتا۔ لہٰذا آیت میں لفظ اذاقت اس لیے استعمال فرمایا کہ ان کو بھوک اور خوف کا مزا چکھا کر بتلا دیا کہ بھوک اور خوف ایسی چیز ہے یہ تو دنیا میں ہوا کہ مصیبت کا مزہ چکھایا۔ بھوک اور خوف کا اصل کھانا تو جہنم میں ملے گا۔ کھانے کو زقوم اور پینے کو غسلین اور حمیم کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ کھانا اور پینا چونکہ انسان کے اندر پہنچتا ہے اور اندر ہی اندر اس کا اثر ظاہر ہوتا رہتا ہے اور لباس ایک ظاہری چیز ہے اس لیے بھوک اور خوف کا باطنی اور اندرونی اثر بیان کرنے کے لیے اذاقت کا استعارہ کیا اور ظاہری اثر بیان کرنے کے لیے لباس کا استعارہ کیا اور بھوک و خوف کے لیے لباس کا استعارہ کیا اور ظاہری اثر بیان کرنے کے لیے لباس کا استعارہ کیا اور بھوک و خوف کے لیے لباس کا استعارہ اس لیے کیا کہ جس طرح لباس آدمی کو ہر طرف سے گھیر لیتا ہے اس طرح بھوک اور خوف نے ان کو ہر طرف سے گھیر لیا اور پوری طرح اپنے اندر چھپالیا اور چونکہ لباس ایک ظاہری شئے ہے جو ظاہر میں نظر آتا ہے اسی طرح بھوک اور خوف کا اثر ان کے ظاہر سے دکھلائی دیتا ہے کہ چہرے زدہ ہوگئے تھے اور بدن دبلے اور لاغر ہوگئے تھے اور اس ظاہری نعمت کے علاوہ بڑی بھاری نعمت آنحضرت ﷺ کی بعثت ہے ان لوگوں نے اس نعمت عظمیٰ کی بھی ناشکری کی اور وہ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ البتہ تحقیق الٰہی کے پاس انہی میں سے منجانب اللہ ایک رسول آیا جس کی صداقت اور امانت سے وہ بخوبی واقف تھے پس ان کو جھٹلایا تب ان کو بھوک اور خوف کے عذاب نے آپکڑا اور آں حالیکہ وہ ظلم پر کمر بستہ تھے پس کبھی قحط میں مبتلا ہوئے اور کبھی قتل اور اسیر ہوئے اور مہاجرین اور انصار جو خدا کے شکر گزار بندے تھے ان کو خوف کے بعد امن دیدیا اور تنگی کے بعد ان کو وسیع الرزق بنا دیا اور روئے زمین پر ان کو حکمران بنایا۔ گزشتہ آیات میں شکر کا حکم اور کفران نعمت کی ممانعت کا ذکر تھا۔ اس لیے آئندہ آیات میں اکل حلال کا حکم دیتے ہیں کیونکہ اکل حلال ذریعہ شکر ہے چناچہ فرماتے ہیں پس اے مسلمانو ! تم کفر اور شرک اور کفران نعمت سے دور رہو اور اللہ نے جو حلال اور پاک روزی ہی تم کو دی ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو۔ شکر سے تم کو اللہ اور زیادہ نعمتیں دے گا اگر تم خالص خدا کا بندہ بننا چاہتے ہو تو اس کے حکموں پر چلو جس چیز کو اس نے حلال کیا اس کو کھاؤ اور جس چیز کو اس نے حرام کیا اس سے پرہیز کرو اور اپنی رائے سے کسی چیز کو حلال اور حرام نہ کرو۔ جزایں نیست کہ حرام کیا ہے اللہ نے تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جو جانور غیر اللہ کے نام زد کردیا گیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جو جانور بقصد تقریب غیر اللہ کے نام زد کردیا گیا ہو اور پھر اسی نیت سے اس کو ذبح کردیا گیا ہو گو بوقت ذبح اس پر بسم اللہ پڑھی گئی ہو تو یہ جانور حرام ہے۔ اور بعض مفسرین نے ما اہل بہ لغیر اللہ کی تفسیر ذبح کے ساتھ کی ہے سو اس کی وجہ یہ ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت کے لوگ ذبح کے وقت بھی غیر اللہ کا نام لیتے تھے اور ان کی نیت اور قصد بھی غیر اللہ کے تقرب کا ہوتا تھا یہ صورت باجماع امت حرام ہے اس کی حرمت میں کسی کو کلام نہیں بلکہ کلام اس میں ہے کہ قرآن کریم میں لفظ ” اہلال “ آیا ہے اس کے معنی ذبح کے نہیں بلکہ اس کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور اس سے فقط آواز بلند کرنا مراد نہیں کیونکہ محض آواز بلند کرنے سے کوئی چیز حرام نہیں ہوجاتی بلکہ بقصد تقرب کسی کے نام زد کردینے کے معنی مراد ہیں اور چونکہ مشرکین عرب اپنے بتوں کے نام لے کر آواز کے ساتھ ذبح کرتے تھے اس لیے بعض مفسرین نے حسن موقعہ ذبح کے ساتھ اس کی تفسیر کردی ورنہ درحقیقت وہ حکم کی قید نہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ جو جانور بقصد تقرب غیر اللہ کے نام زد کردیا جائے وہ حرام ہے خواہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لے یا غیر اللہ کا نام لے، حرمت کی علت دراصل غیر اللہ کے تقرب کی نیت ہے اور یہ نیت ذبح کے وقت بھی موجود ہے جب تک اس نیت سے توبہ نہ کرے گا حرمت زائل نہ ہوگی۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ نے بندوں پر مردار اور خون اور لحم خنزیر اور ما اہل بہ لغیر اللہ کو حرام کردیا ہے پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر آسانی کردی۔ پس جو شخص بھوک اور فاقہ سے لاچار اور بیقرار ہوجائے۔ بشرطیکہ وہ طالب لذت نہ ہو اور نہ مقدار ضرورت اور حد حاجت سے آگے بڑھنے والا ہو اور وہ ان حرام چیزوں سے بقدر حاجت جس سے اس کی جان بچ جائے کچھ کھالے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے بحالت اضطرار بقدر ضرورت کچھ کھانے سے اس کی حرمت اور خباثت تمہارے لیے مضرنہ ہوگی اور اگر کچھ ہوگی تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں درگزر فرمائیں گے۔ حاصل کلام یہ کہ کسی چیز کو حلال و حرام کرنے کا حق اور اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے اور جن چیزوں کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں تم ان کی نسبت یہ نہ کہو کہ یہ جانور حلال ہے اور یہ جانور حرام ہے۔ جیسا کہ پارہ ہشتم کے شروع میں یعنی وجعلوا للہ میں ان کے یہ جھوٹے دعوے گزر چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم اس کہنے سے اللہ پر جھوٹ بہتان باندھو گے۔ یعنی تم نے جو مویشی میں حلال و حرام ٹھہرا رکھا ہے وہ سب تمہارا جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں ایسا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا تمہارا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حلال کیا اور یہ حرام کیا یہ سب اللہ پر جھوٹ اور بہتان ہے۔ مشرکین عرب بحیرہ، سائبہ وغیرہ کو حرام کہتے تھے ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے اور یہ دنیا کا فائدہ جو ان کو پہنچ رہا ہے۔ بہت تھوڑا اور چند روزہ فائدہ ہے جس کو بقاء نہیں اور چند روزہ دنیاوی نعمتوں سے متمتع ہولینا۔ سو یہ فلاح اور کامیابی نہیں اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ غرض یہ کہ گزشتہ آیت (انما حرم علیکم المیتۃ الخ) میں افراط سے منع فرمایا کہ شتر بےمہار نہ بنو اللہ نے جو چیزیں حرام کی ہیں ان سے بچو اور اس آیت (ولا تقولوا لما تصف السنتکم الخ) میں تفریط سے منع کیا اپنی طرف سے حلال و حرام نہ کرو۔ یہاں تک ان چیزوں کا بیان فرمایا کہ جو ازراہ شفقت و رحمت شریعت محمدیہ ﷺ میں حرام کی گئیں۔ اب آئندہ آیت میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ بعض چیزیں (پاکیزہ) یہود پر ان کی سرکشی کی وجہ سے بطور سزا ان پر حرام کردی گئی تھیں وہ تحریم ایک قسم کا تازیانہ تھی اور اسلام میں جن چیزوں کو حرام کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کیں۔ جو ہم پہلے سورة انعام میں آپ ﷺ سے بیان کرچکے ہیں وہ چیزیں سورة انعام کی آیت وعلیٰ الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر الخ) کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ اور ان چیزوں کی تحریم میں ہم نے یہودیوں پر کوئی ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے تھے یعنی ہم نے جو پاک چیزیں ان پر حرام کیں وہ ان کے ظلم اور تعدی اور ان کی سرکشی کے سبب سے کیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیہم طیبات احلت لہم، الآیات، یعنی ہم نے یہودیوں کے ظلم وتعدی کے باعث ان پر وہ پاک چیزیں حرام کردیں جو ان کے لیے حلال کی گئی تھیں جس سے مقصود ان کے اصلاح تھی کہ اپنے جرائم اور قبائح سے تائب ہوجائیں پھر اس ظلم اور تعدی کے بعد بھی گنہگار کو مایوس نہ ہونا چاہئے تو بہ کا دروازہ کھلا ہے، بیشک تیرا پروردگار ان لوگوں کے حق میں جنہوں نے نادانی سے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کی اور سنور گئے۔ یعنی اپنے اعمال درست کرلیے اور اپنے حال کی اصلاح کرلی بیشک تیرا پروردگار اس توبہ اور اصلاح کے بعد ان کا قصود معاف کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے مقصود اس آیت سے خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مغفرت اور رحمت کا اظہار ہے۔
Ayahs 16:120–124

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (لوگوں کے) امام (اور) خدا کے فرمانبرادار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا۔

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

ہفتے کا دن تو انہی لوگوں لے لئے مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

بیان حقیقت ملت ابراہیمیہ برائے ترغیب اتباع ملت محمویہ قال اللہ تعالیٰ : ان ابراہیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا .... الیٰ .... فیما کانوا فیہ یختلفون۔ (ربط) ابتداء سورت سے یہاں تک مشرکین کی شرکیات اور کفریات کا ابطال فرمایا اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ مشرکین عرب چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے تھے ان کی ملت اور شریعت کے اتباع کو واجب سمجھتے تھے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) خدا کے کیسے موحد اور شکر گزار اور فرمانبردار بندہ تھے۔ سرتاپا توحید و تفرید میں غرق تھے۔ معاذ اللہ مشرک نہ تھے لہٰذا مشرکین عرب اور اہل کتاب کا یہ سمجھنا کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں بالکل غلط ہے بلکہ اصل ملت ابراہیمیہ کے پیرو اور متبع یہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں تم اگر اصل دین ابراہیمی پر چلنا چاہو تو آپ ﷺ کا طریقہ اختیار کرو۔ توحید و تفرید میں سرور عالم محمد ﷺ کا وہی طریقہ ہے جو ابراہیم علیہ الالسام حنیف کا تھا۔ اور مشرکین کے سنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ابراہیم (علیہ السلام) کے چند اوصاف ذکر فرمائے را کہ ان کے عقائد شرکیہ اور خیالات فاسدہ کا رد ہو۔ (1) امۃ : پیشوا تھے اور مقتدائے عالم تھے۔ (2) قانتا : خدا تعالیٰ کے حکم بردار اور فرمانبردار بندے تھے۔ (3) حنیفا : سب سے مڑ کر ایک خدا کے ہو رہے تھے سوائے جمال حق کے کسی طرف مائل نہ تھے۔ (4) ولم یک من المشرکین : شرک سے پاک اور منزہ تھے خالص موحد تھے بچپن سے لے کر اخیر عمر تک توحید پر قائم رہے۔ (5) شاکر الا نعمہ : خدا کے شکر گزار بندے تھے سرتاپا شکر تھے۔ (6) اجتبہ : اللہ کے برگزیدہ بندے تھے خدا نے ان کو اپنے لیے چن لیا تھا۔ غیر اللہ کی ان میں کوئی گنجائش نہ رہی تھی۔ (7) وھدہ الیٰ صراط مستقیم : راہ راست پر تھے یعنی اسلام اوردین حق پر تھے۔ (8) واتینہ فی الدنیا حسنۃ : اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کی عزت و کرامت عطا کی اور ان کی نسل میں برکت دی اور سارا عالم ان کو خیر کے ساتھ یاد کرتا ہے۔ (9) وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین : اور آکرت میں بھی وہ بلاشبہ نیکیوں میں سے ہے۔ (10) خاتم الانبیاء کو ملت ابراہیمی کے اتباع کا حکم دیا۔ یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک فضیلت ہے کہ آنحضرت ﷺ جیسے شخص کو ملت ابراہیمی کے اتباع کا حکم دیا گیا اور چونکہ یہ فضیلت گزشتہ فضائل سے بڑھ کر ہے اس لیے تفاوت رتبی ظاہر کرنے کے لیے لفظ ثم لایا گیا اور اس طرح فرمایا ثم اوحینا۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ فضیلت تمام فضائل سے بڑھ کر ہے اور ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم سے یہ بتلایا کہ مشرکین عرب کا یہ سمجھنا کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں غلط ہے۔ اصل ملت ابراہیمی پر ہمارے نبی ﷺ ہیں جن کو یہ حکم دیا گیا ہے ملت ابراہیمی کی پیروی کریں لہٰذا جو شخص ملت ابراہیمی کی پیروی کا مدعی ہو اس کو چاہئے کہ ملت محمدیہ کا اتباع کرے کیونکہ ملت ابراہیمیہ اور ملت محمدیہ باہم متحد اور متفق ہیں۔ اور انما جعل السبت میں یہود کا رد ہے کہ جو اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیرو بتلاتے تھے۔ ملت ابراہیمیہ میں جمعہ کی تعظیم تھی ہفتہ کا دن یہود کے اختلاف کی وجہ سے مقرر ہوا۔ ورنہ ہر نبی نے جمعہ کے دن عبادت کرنے کا حکم دیا ہے جمعہ کی تعظیم ملت ابراہیمی ہے اور ہفتہ کی تعظیم ملت ابراہیمی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نبی آخر الزمان ہیں۔ اپنے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ملت کے پیرو ہیں۔ نہ یہودی ہیں نہ نصرانی ہیں اور نہ مشرک ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف آپ ﷺ بھی موحد اور حنیف ہیں۔ مشرکین اور اہل کتاب دونوں کا یہ دعویٰ کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں بالکل غلط ہے ملت ابراہیمی کے پیرو یہ مسلمان ہیں جو توحید پر ہیں چناچہ فرماتے ہیں (1) بیشک ابراہیم ایککامل امت تھے۔ یعنی وہ ایسے امام اور ہادی اور پیشوا تھے کہ ان کے تنہا ذات میں وہ تمام صفات و کمال جمع تھیں جو متفرق طور پر ایک امت میں جمع ہوں گویا کہ وہ تنہا ایک کامل امت کے قائم مقام تھے۔ لیس علی اللہ بمستنکر ان یجمع العالم فی واحد جانا تو یگانہ دلے ذات تو ہست مجموعہ آثار کمالات ہمہ ! ! ! اور بعض کہتے ہیں کہ اس وقت روئے زمین پر سوائے ابراہیم (علیہ السلام) کے کوئی مومن نہ تھا وہ تنہا امت تھے اس لیے ان کو امت کہا گیا۔ (2) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے مطیع اور فرماں بردار تھے یعنی اللہ کے حکموں پر چلنے والے تھے اپنے طرف سے کسی چیز کو حلال حرام کرنے والے نہ تھے۔ (3) اور سب کو چھوڑ کر ایک خدا کی طرف ہوگئے تھے سب سے منہ موڑ کر ایک خدا کی طرف منہ کرلیا تھا۔ (4) اور کبھی بھی مشرکین میں سے نہ ہوئے، بڑے پکے موحد تھے بچپن سے لے کر آخر عمر تک توحید پر قائم رہے۔ (5) اور وہ اللہ کی نعمتوں کے بڑے شکر گزار تھے۔ (6) اللہ تعالیٰ نے روز ازل میں ان کو اپنی نبوت و رسالت و خلت کے لیے چن لیا تھا جس کا ظہور دنیا میں ہوا۔ (7) اور اللہ نے ان کو سیدھی راہ کی طرف چلایا جس طرف اور جس طرح خدا تعالیٰ ان کو چلاتا تھا اس طرف اور اسی طرح چلتے تھے۔ (8) اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی بھلائی دی۔ یعنی دنیا میں ہم نے ان کو رسالت اور خلت اور صدق گفتار اور ذکر جمیل اور قبول عام دیا کہ کل اہل ادیان ان سے محبت رکھتے ہیں اور یہود اور نصاری اور مشرکین سب ان کو خیر کے ساتھ ذکر کرتے ہیں اور مسلمان اپنی نمازوں میں یہ پڑھتے ہیں اللہم صلی علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجید نیز اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں یہ خوبی اور بھلائی دی کہ ان کے بیٹے اور پوتے بھی نبی ہوئے۔ (9) اور بیشک ابراہیم (علیہ السلام) آخرت میں بڑے اچھے لوگوں میں سے ہیں۔ جو درجات عالیہ کے سزاوار ہیں۔ (10) پھر من جملہ فضائل ابراہیمی کے یہ ہے کہ اے نبی کریم ﷺ ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی بھیجی کہ ملت ابراہیم کا اتباع کریں جو حنیف تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ یہ امر بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل میں سے ہے کہ خاتم الانبیاء اور سید الاولین والآخرین کو آپ ﷺ کی ملت کے اتباع کا حکم دیا گیا۔ اگر ملت ابراہیمی صحیح اور درست نہ ہوتی تو افضل الانبیاء کو اس کے اتباع کا حکم نہ ہوتا۔ آخر کو اول کے ساتھ نسبت اور وابستگی ہوتی ہے۔ توحید خالص اور اسلام یعنی اللہ کے سامنے گردن اطاعت ڈال دینا اور اپنے آپ کو خدا کے حوالہ اور سپرد کردینا۔ اس کی ابتداء حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ہوئی جس کی وجہ سے ان کو دنیا اور آخرت میں نیکی اور بھلائی ملی۔ اب اس توحید کامل کی انتہاء خاتم الانبیاء ﷺ پر ہوئی اور جو اصول اور عقائد اور قواعد کلیہ دربارہ حلال و حرام ملت ابراہیمی میں تھے وہ آخری ملر یعنی شریعت محمدیہ میں باقی رکھے گئے درمیان میں یہود اور نصاریٰ کو ان کے حالات کے مناسب بعض مخصوص احکام دئیے گئے آخر میں دعاء ابراہیمی کے مطابق ربنا وابعث فیہم رسولا منھم یتلوا علیہم ایتک ویعلھم الکتب والحکمۃ۔ خاتم الانبیاء مبعوش ہوئے تو ملت ابراہیمی کو دوبارہ زندہ کردیا تاکہ توحید خالص اور اسلام یعنی خداوند ذوالجلال کی فرماں برداری ازسرنو زندہ ہوجائے اور شرک کو بیخ دبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے چناچہ شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں۔ ” یعنی حلال و حرام میں اور دین کی باتوں میں اصل ملت ابراہیم (علیہ السلام) ہے عرب کے لوگ آپ (علیہ السلام) کو حنیف کہتے ہیں اور شرک کرتے ہیں اس کی راہ پر نہیں اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا کی خوبی اور آسودگی اور قبولیت سارے جہان میں دی تھی۔ درمیان میں یہود اور نصاریٰ کو موافق ان کے حال کے اور حکم بھی ہوئے آخر پیغمبر بھی اسی ملت پر آئے (انتہٰی) لہٰذا اے مشرکین عرب تم کو چاہئے کہ اس برگزیدہ نبی کا اتباع کرو کیونکہ اس نبی کا راستہ وہی ہے جس کے اتباع کا تم دعویٰ کرتے ہو۔ آنحضرت ﷺ بلاشبہ فضل الانبیاء اور خاتم النبین ہیں اور نبوت و رسالت کے تمام فضائل و کمالات کے جامع ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو انبیاء سابقین کے اقتداء کا حکم دیا۔ اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ اور مطلب یہ تھا کہ دعوت اور تبلیغ میں ان کے طریقے پر چلے اسی طرح ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم۔ کا مطلب سمجھے کہ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ توحید اور ابطال شرک میں ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع کیجئے۔ اور ملت ابراہیمی بھی خدا ہی کی نازل کردہ ہے۔ آپ ﷺ نبوت و رسالت اور ملت و شریعت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تابع نہ تھے بلکہ مستقل نبی اور رسول تھے آپ ایسے نہ تھے جیسا کہ انبیاء بنی اسرائیل توریت اور شریعت موسویہ کے تابع تھے حق جل شانہ نے قرآن کریم میں انبیاء سابقین کی شریعتوں کے بعض احکام کا ذکر فرمایا ہے اور توریت و انجیل کے بھی بعض احکام کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور آپ ﷺ نے ان پر عمل بھی فرمایا ہے لیکن آپ ﷺ کا یہ عمل اس بنا پر نہ تھا کہ انبیاء بنی اسرائیل کی طرح آپ ﷺ شریعت موسویہ کے تابع تھے بلکہ بحکم خداوندی اور باتباع وحی الٰہی تھا براہ راست آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی اور جبرئیل امین (علیہ السلام) اللہ کا پیغام اور اس کے احکام لے کر آپ پر نازل ہوتے تھے۔ اسی طرح ملت ابراہیمی کا اتباع وحی ربانی اور حکم یزدانی کی بناء پر تھا نہ کہ اس بناء پر کہ آپ مستل نبی اور مستقل رسول نہ تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تابع تھے۔ آپ ﷺ تمام انبیاء ومرسلین سے افضل اور اکمل تھے اور بحکم خدا وندی انبیاء سابقین کے طریقے پر چلتے تھے۔ آپ کسی کے تابع نہ تھے بلکہ حکم خداوندی کے تابع تھے۔ آنحضرت ﷺ کو تمام انبیاء کے اتباع اوراقتداء کا حکم اس لیے دیا گیا کہ آپ سب کے بعد مبعوث ہوئے نہ کہ اس وجہ سے کہ آپ ﷺ ایگر انبیاء سے فضیلت اور رتبہ میں کم تھے۔ آپ ﷺ تو اللہ کے نزدیک اکرم الاولین والآخرین ہیں اور سب سے اکمل اور افضل ہیں اور فضیلت میں آپ کا حصہ سب سے زیادہ اور اشمل ہے۔ تو اصل و باقی طفیل تواند تو شاہی و مجموع خیل تواند ایک اشکال اور اس کے تین جواب اس مقام پر ایک اشکال ہے وہ یہ کہ ملت ابراہیمیہ اور ملت محمدیہ ﷺ کیا اصول فروع میں دونوں ملتیں متحد اور متفق ہیں اور وہ اعتبار سے یعنی اصول کے اعتبار سے بھی اور فروع کے اعتبار سے بھی باہم ایک دوسرے کا عین ہیں یا فقط اصول دین میں دونوں ملتیں متحد ہیں یعنی توحید اور نبوت اور معاد میں تو متفق ہیں مگر فروع میں مختلف ہیں۔ پس اگر شق اول کو اختیار کریں یعنی یہ کہیں کہ دونوں امتیں (ملت محمدیہ اور ملت ابراہیمیہ) اصول و فروع دونوں میں متفق اور متحد ہیں تو یہ لازم آئے گا کہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ مستقل نبی اور صاحب شریعت جدیدہ نہ ہوں بلکہ آپ کی شان انبیاء بنی اسرائیل کی سی ہو کہ جو شریعت موسویہ کی تجدید اور ترویج کے لیے مبعوث ہوئے تھے اسی طرح آپ ﷺ بھی ملت ابراہیمیہ کی تجدید و ترویج کیلئے مبعوث ہوئے تھے اور یہ امر صریح ابطلان ہے۔ اور اگر شق ثانی کو اختیار کریں یعنی یہ کہیں کہ دونوں ملتیں اصول دین میں تو متحد ہیں اور فروع میں مختلف ہیں تو ایسی صورت میں یہ اشکال لازم آتا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت کہ آپ ﷺ کو ان کی ملت کے اتباع کا حکم دیا گیا۔ اسول دین میں تو انبیاء کرام کی شریعتیں اور ملتیں متحد اور متفق ہیں دین تمام انبیاء کا ایک ہے اور شریعت ہر ایک کی جداگانہ ہے کما قال تعالیٰ ۔ شرح لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصلنا بہ ابراہیم وموسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الذین ولا تتفرقوا فیہ اس اعتبار سے تو یہودی اور نصرانی بھی ملت ابراہیمی کے متبع ہیں مسلمانوں کی کیا خصوصیت۔ اس اشکال کے لئے جواب ہیں۔ جواب اول : ہر شریعت میں تین باتیں ہیں۔ اول : اصول و عقائد۔ یعنی خدا کی ذات وصفات پر ایمان لانا اور انبیاء اور رسل کو حق سمجھنا اور قیامت کو حق جاننا۔ دوم : قواعد کلیہ۔ جو احکام جزنیہ اور مسائل فرعیہ کا ماخذ ہوتے ہیں اور تمام جزئیات میں انہی کلیات کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ سوم : فروع اور مسائل جزئیہ اور احکام شرعیہ۔ قسم اول کا نام دین ہے جو تمام انبیاء کرام میں مشترک ہے اس میں زمانہ کے اختلاف سے کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا اور نہ اس میں نسخ واقع ہوتا ہے اس لیے کہ عقائد اور اصول دین ازقبیل خبر ہیں کہ اللہ ایک ہے اور قیامت برحق ہے اور خبر میں عقلاً نسخ جاری نہیں ہوسکتا ورنہ خبر کا کاذب ہونا لازم آئے گا۔ نسخ۔ عقلاً انشاء یعنی حکم اور امر اور نہی میں جاری ہوتا ہے۔ اور قسم ثانی کا نام ” ملت “ ہے۔ یعنی ملت ان اصول اور قواعد کلیہ کا نام ہے جن پر احکام جزئیہ کا دارومدار ہو۔ اور مجموعہ اعتقادیات اور اصول کلیات اور فروع جزئیات کا نام شریعت ہے جو ہر رسول کی جدا اور الگ ہے۔ پس ملت محمدی اور ملت ابراہیمی کا توافق اور اتحاد انہی اصول اور کلیات میں مراد ہے جن پر احکام جزئیہ کی بناء ہے باقی رہی شریعت۔ سو ہماری شریعت سب شریعتوں سے جدا اور الگ ہے اور مستقل ہے۔ اور دونوں ملتوں کے توافق کے معنی یہ ہیں کہ ملت ابراہیمی کے اصول اور قواعد کلیہ شریعت محمدیہ میں بتمام و کمال موجود ہیں۔ ان میں کوئی تفاوت نہیں اگر مبعض فروع مستخرجہ اور احکام جزئیہ میں بحسب مصلحت زمانہ کچھ فرق آگیا تو کوئی مضائقہ کی بات نہیں لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ ملت محمدیہ اور ملت ابراہیمیہ اصول احکام اور قواعد کلیہ میں متفق ہیں اور یہ نہیں کہتے کہ ہماری شریعت اور ہمارا دین و آئین بعینہٖ وہی دین و آئین ہے اور وہی شریعت ہے کہ جو ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا اس لیے کہ شریعت اور دین و آئین میں لحاظ فروع اور جزئیات کا بھی ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ شریعت ابراہیمی کے تمام فروع اور جزئیات بعینہٖ شریعت محمدیہ میں محفوظ نہیں۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ ملت اور شریعت میں فرق ہے اتحاد اور اتفاق باعتبار ملت کے ہے نہ کہ اعتبار شریعت کے۔ ملت (یعنی اصول و احکام اور قواعد کلیہ) کے اعتبار سے دونوں ملتیں (یعنی ملت محمدیہ اور ملت ابراہیمیہ) باہم متوافق اور متحد ہیں اور شریعت کے اعتبار سے دونوں ملتیں جدا جدا ہیں اور علیحدہ علیحدہ ہیں۔ جواب دوم : اور بعض علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ شریعت محمدیہ ابراہیمیہ ہے۔ ان حضرات نے ملت اور شریعت میں فرق نہیں کیا۔ اور یہ کہا ہے کہ دونوں شریعتیں اصول و فروع میں متفق اور متحد ہیں جیسا کہ ظاہر آیات اور احادیث سے مفہوم ہوتا ہے۔ ملۃ ابیکم ابراہیم۔ ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا اور حدیث اتیتکم بالخیفیۃ السمحۃ البیضاء وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی آیات اور احادیث سے مفہوم یہی ہوتا ہے کہ دونوں ملتیں اور دونوں شریعتیں اصولا اور فروعا متفق اور متحد ہیں مثلا توحید اور بتوں کا توڑنا اور ختنہ اور عقیقہ اور قربانی اور ہدی اور مناسک حج اور خصال فطرت اور غسل جنابت اور اشہر حرم کی تحریم اور ابطال کہانت و نجوم اور ابطال بت پرستی اور رزق و شفا اور موت وحیات کو بلاواسطہ مسبب الاسباب کی طرف سے سمجھنا اور نجوم و کواکب کا معتقد نہ ہونا اور سعودت و نحوست کو من جانب اللہ جاننا اور اصول مکارم اخلاق یعنی صبر و رضاء بقاء اور تسلیم و تفویض وغیرہ وغیرہ یہ ملت ابراہیمی کے احکام ہیں جو شریعت محمدیہ میں بعینہٖ باقی ہیں لیکن خوب سمجھ لو کہ دونوں ملتوں کے متفق ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ملت ابراہیمی کے تمام فروع و اصول ملت محمدیہ میں بتمام و کمال محفوظ ہیں۔ اگرچہ صدہا بلکہ ہزار اصول و فروع شریعت محمدیہ میں زیادہ ہیں مگر مخالف نہیں بلکہ اسی کی شرح اور بسط اور تتمیم و تکمیل ہے۔ پس ملت ابراہیمی بمنزلہ متن کے ہے اور شریعت محمدیہ بمنزلہ شرح کے ہے اور ہزار ہا زوائد و فوائد پر مشتمل ہے اور مجمع الزوائد اور منبع الفوائد ہے اور اسی معنی کو شرح کو متن کے تابع کہا جاتا ہے کہ متن شرح کے لیے بمنزلہ اساس کے ہوتا ہے جیسا کہ صاحب مشکوٰۃ کو صاحب مصابیح کے تابع کہا جاتا ہے اس لیے کہ مشکوٰۃ اگرچہ صدہا زوائد پر مشتمل ہے مگر اس کی تاسیس اور بناء مصابیح السنہ پر ہے اس بناء پر مشکوۃ کو مصابیح کے تابع کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سمجھو کہ شریعت محمدیہ ملت ابراہیمیہ کے تمام احکام کو مع احکام زائدہ اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور ملت ابراہیمی کے احکام شریعت محمدیہ کے احکام زائدہ کے ساتھ ایسے مخلوط ہوگئے ہیں کہ شدت اختلاط اور کثرت امتزاج کی وجہ سے دونوں ملتوں کے احکام میں تمیز اور فرق نہایت دشوار ہے اور شریعت موسویہ میں نہ تو ملت ابراہیمی کے اصول و قواعد کی رعایت ہے اور نہ وہ ملت ابراہیمی کے تمام احکام کو اپنے اندر لیے ہوئے ہیں۔ پس حضور پر نور ﷺ کے مستقل نبی اور صاحب شریعت جدیدہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کی شریعت اگرچہ ملت ابراہیمی کے اصول اور فروع کو حادی ہے لیکن ہزار ہا زوائد اور فوائد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ایک جدید شئے ہے آپ کی شریعت میں ہزارہا احکام ملت ابراہیمی پر زیادہ کیے گئے ہیں اور انبیاء بنی اسرائیل نے شریعت موسویہ اور احکام تورات پر کسی حکم کا اضافہ نہیں کیا وہ فقط دین موسوی کے مروج تھے اس لیے وہ مستقل نبی اور رسول نہ تھے بخلاف شریعت محمدیہ کے کہ اس میں ملت ابراہیمی کے احکام پر بیشمار احکام کا اضافہ ہوا۔ الغرض شریعت محمدیہ میں ملت ابراہیمیہ کے تقریبا تمام اصول اور احکام بعینہٖ باقی ہیں گویا کہ شریعت محمدیہ شریعت ابراہیمیہ کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے مگر امتداد زمانہ کی وجہ سے ملت ابراہیمی کے تمام احکام بالکل مندرس ہوچکے تھے۔ صفحہ ہستی پر کہیں ان کا نام و نشان نہ رہا تھا سوائے جدید وحی کے ان کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ پس حق جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو جدید وحی کے ذریعے سے ملت ابراہیمیہ کے احکام پر مطلع کیا اس لیے آپ صاحب شریعت جدیدہ کہلائے۔ شریعت کے جدید ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس شریعت کے احکام جدید ہوں کہ جو اس سے پہلے نازل نہ ہوئے ہوں بلکہ شریعت کے جدید ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کا نزول جدید ہو اور ازسر نو عالم غیب سے اس کی تلقی ہوئی ہو۔ اس وجہ سے حضرت یوشع اور حضرت عزیز علیما السلام کو صاحب کتاب جدید اور صاحب شریعت جدیدہ نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ شریعت موسویہ ان میں موجود اور محفوظ تھی۔ ازسرنو عالم غیب سے بذریعہ وحی جدید اس کا نزول نہ ہوا تھا اور توریت ان سے پہلے نازل ہوچکی تھی اور انبیاء بنی اسرائیل پر سوائے احکام تورات کے دوسرے احکام بذریعہ وحی جدید نازل نہیں ہوتے تھے سابق وحی کے تابع تھے اور آنحضرت ﷺ کسی سابق وحی کے تابع نہ تھے۔ عالم غیب سے ہر روز جدید وحی نازل ہوتی تھی اس لیے آپ صاحب شریعت جدیدہ ہوئے اور خاتم الانبیاء اور ناسخ الادیان ہوئے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ حکومت میں جب کسی کو جدید وزیر اعظم اور مدار المہام بنایا جاتا ہے تو اس وقت کے مناسب اس کو جدید آئین اور نئے قوانین دئیے جاتے ہیں پس اگر بادشاہ کسی کو وزیر اعظم بنائے اور اس کا یہ حکم دے کہ تم موجود آئین اور قانون کو منسوخ سمجھو اور تم سے تیس سال پہلے فلاں وزیر کے زمانہ میں جو دستور ہماری بارگاہ سے عطا ہوا تھا اس کا اتباع کرو اور طریق پر چلو تو اس حکم کے یہ معنی نہیں کہ یہ وزیر مستقل وزیر نہیں پہلے وزیر کا تابع اور ماتحت ہے بلکہ یہ جدید وزیر بلاشبہ مستقل وزیر ہے حکم شاہی کا متبع ہے بلاوسطہ بادشاہ کی طرف سے اس کو یہ حکم ملا۔ سابق وزیر کو جو دستور اور آئین عطا ہوا تھا وہ بھی حکومت کی طرف سے عطا ہوا تھا اب حکومت کی مصلحت یہ ہے کہ موجودہ آئین کو منسوخ کردیا جائے اور گزشتہ آئین اور دستور کو جاری اور نافذ کیا جائے لہٰذا یہ جدید وزیر گزشتہ آئین کے اتباع کی وجہ سے سابق وزیر کا متبع نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ حکم شاہی کے متبع سمجھا جائے گا۔ جواب سوم : ملت ابراہیمیہ کے اتباع سے مراد یہ ہے کہ توحید اور صراط مستقیم اوردین اسلام کی دعوت اور تبلیغ اور کفار سے محاجہ اور مناظرہ میں اور کفر کا فری سے تبری اور بیزاری میں اور مکارم اخلاق یعنی رضا و تسلیم اور صبر و شکر میں اپنے جد امجد ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اختیار کیجئے کہ نرمی کے ساتھ لوگوں کو صراط مستقیم کی دعوت دیجئے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح دلائل اور براہین قاطعہ سے کفر اور شرک اور نجوم اور کہانت کا ابطال فرمائیے اور شعائر اسلام، جیسے استقبال کعبہ اور جمعہ کی تعظیم اور ختنہ اور قربانی اور مناسک حج کو صحیح طریقہ سے جاری فرمائیے اور ملت ابراہیمی میں جن مشرکانہ رسوم کی آمیزش ہوگئی اس سے ملت ابراہیمی کو پاک و صاف کر دیجئے چونکہ آنحضرت ﷺ کی بعثت دعاء ابراہیمی کی اجابت کا ثمرہ ہے بناء کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا فرمائی تھی۔ ربنا وابعث فیہم رسولا منھم یتلوا علیہم ایتک ویعلمھم الکتب والحکمۃ ویزکیہم۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے۔ ابو العالیہ (رح) سے منقول ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جواب آیا اے ابراہیم (علیہ السلام) تیری دعا قبول ہوئی۔ اس شان کا نبی آخر زمانہ میں ظاہر ہوگا اس وجہ سے اس لیے یہی آخر الزمان ﷺ کو ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی ملت کے اتباع کا حکم آیا جس کی دعا سے یہ نبی آخر الزمان ظاہر و مبعوث ہوا یہاں تک تو مشرکین عرب کا رد ہوا جو اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا متبع بتلاتے تھے اب آگے یہود کا رد ہے کہ جو یہ کہتے تھے کہ شریعت محمدیہ میں تو عبادت کے لیے جمعہ کا دن اختیار کیا گیا اور ملت ابراہیم (علیہ السلام) میں تو ہفتہ کا دن تھا۔ پس ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کہاں رہی جس کے آپ مدعی ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں ہفتہ کی تعظیم خاص تھی وہ آپ نے ترک کردی۔ اس کی جگہ جمعہ مقرر کرلیا اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ محض غلط ہے ابراہیم (علیہ السلام) ہفتہ کی تعظیم نہیں فرماتے تھے۔ جزایں نیست کہ ہفتہ کی تعظیم اور اس دن شکار کی تحریم صرف ان لوگوں پر لازم کردی گئی تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا یعنی اصل ملت ابراہیمی میں ہفتہ کا حکم نہ تھا اور نہ اس آیت میں ہے البتہ درمیان میں جن لوگوں نے یعنی یہودیوں نے اس بارے میں بحث کی اور حکم خداوندی اور ارشاد پیغمبری سے اختلاف کیا اور بجائے جمعہ کے ہفتہ کا دن منتخب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اچھا اس دن کی تعظیم کیا کرو اور بطور آزمائش ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دے دیا کہ اس روز مچھلی کا شکار نہ کیا کرو یہ حکم بھی کسی نے نہ مانا۔ بالآخر نہ ماننے والے دنیا میں بندر اور سور بنائے گئے باقی آخری فیصلہ آخرت میں ہوگا۔ خلاصہ یہ کہ یوم سبت کی تعظیم کا حکم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت میں نہ تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک زمانہ دراز کے بعد یہود پر ہوا۔ احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو جمعہ کے دن مجتمع ہو کر عبادت کرنے کا حکم دیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہود کو جمعہ کی تعظیم کا حکم دیا تھا مگر انہوں نے نہ مانا۔ اور کہا کہ ہم تو ہفتہ کے دن کی تعظیم کریں گے کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ مخلوق کے پیدا کرنے سے فارغ ہوا تھا اس لیے اس دن کو ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے فارغ کریں گے اللہ تعالیٰ نے ان پر اس دن کی تعظیم فرض کردی اور جس روز کو کہ انہوں نے اپنے لیے پسند کیا اسی پر ان کو چھوڑ دیا۔ پھر جب عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو انہوں نے بھی اپنی امت کو جمعہ کی تعظیم کا حکم دیا انہوں نے ان کا حکم نہ مانا اور یہ کہا کہ تخلیق عالم کی ابتداء یکشنبہ سے ہوئی ہے اس لیے ہم اتوار کے دن کی تعظیم کا دن بنائیں گے۔ خدا تعالیٰ نے اس پر اسی دن کی تعظیم فرض کردی۔ غرض یہ کہ یہود و نصاریٰ نے جو چیز اپنے لیے پسند کی اللہ نے وہی چیز ان پر لازم اور مقرر کردی پھر جب نبی آخر الزمان ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ ﷺ نے جمعہ کے دن جمع ہو کر اللہ کی عبادت کی مگر ان کی امتوں نے اختلاف کرکے دوسرا دن بدل لیا اللہ کریم نے ہر فرقہ پر وہی لازم کردیا جو سن اس نے اپنی رائے سے اختیار کیا۔ مطلب یہ ہے ملت ابراہیمی میں ہفتہ کا دن مقرر ہوا تھا۔ یہ دن تو ایک مدت دراز کے بعد ان یہود پر مقرر ہوا جنہوں نے اپنے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کے ارشاد سے اختلاف کرکے یہ دن اپنے لیے منتخب کیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اچھا یہی دن سہی اور ان پر سختی کردی گئی کہ اس دن ان پر مچھلی کا شکار حرام کردیا گیا۔ پھر جن لوگوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی وہ بندر اور سور بنا دئیے گئے۔ یہ تو دنیا میں ہوا اور آخری فیصلہ آخرت میں ہوگا اور بیشک تیرا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں یہ دنیا میں اختلاف کرتے تھے۔ اس دن معلوم ہوجائے گا کہ کون غلطی پر تھا اور کون راستی پر جب ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزاء و سزا ملے گی تو معلوم ہوجائے گا کہ کون حق پر تھا لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ نبی کے حکم سے اختلاف نہ کریں۔ اب آئندہ آیات میں اپنے نبی کو حکم دیتے ہیں کہ لوگوں کو راہ حق کی دعوت دیں اور نیک طریقہ سے ان کو ہدایت کریں۔
Ayahs 16:125–128

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے راستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اور جو راستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت اچھا ہے۔

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بد اندیشی کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہونا

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکو کار ہیں خدا ان کا مددگار ہے۔

آداب دعوت و تبلیغ قال اللہ تعالیٰ : ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ .... الیٰ .... والذین ہم محسنون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ملت ابراہیمی کے اتباع کا حکم تھا اور اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت ملت ابراہیمی کا مقصود اصل اور اولیٰ تھا۔ اب ان آیات میں دعوت اسلام اور تبلیغ کے آداب بتلاتے ہیں کہ وعظ و نصیحت اور تبلیغ و دعوت میں کن امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے یعنی حکمت اور موعظت اور مجادلہ حسنہ کو ملحوظ رکھیں اور اگر کفار کی طرف سے کوئی اذیت اور تکلیف پہنچے تو اگرچہ انتقام جائز ہے لیکن اگر صبر اور تقویٰ سے کام لیں تو بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے متقین اور محسنین سے اپنی معیت خاصہ کا وعدہ فرمایا ہے اور صبر اور تقویٰ اور احسان یعنی اخلاص اور خدا پرستی بھی فلاح اور کامیابی کی کنجی ہے چناچہ فرماتے ہیں۔ اے نبی دعوت دے اور بلا تو اپنے پروردگار کی راہ کی طرف علم و حکمت کی باتوں کے ساتھ یعنی محکم دلائل کے ساتھ۔ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے محکم دلائل سے شمس و قمر اور کواکب کی الوہیت کو باطل کیا اور خدا کی توحید کی دعوت دی اور عمدہ نصیحت کے ساتھ یعنی نرمی اور دلسوزی کے ساتھ ان کو حق کی دعوت دو جس سے مقصود ان کی خیر خواہی ہو نہ کہ فصیحت۔ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو نصیحت کی یابت لم تعبد ما لا یسمع ولا یبصرہ ولا یغنی عنک شیئا الیٰ آخرھا یہ سب عمدہ نصیحت بھی تھی اور علم و حکمت کی باتیں بھی تھیں اور اگر بحث و مباحثہ آپڑے تو نہایت عمدہ طریقے کے ساتھ ان سے مناظرہ کرو۔ یعنی ان پر ایست طریقے سے حجت اور الزام قائم کرو جس میں خشونت اور سخونت نہ ہو جس سے وہ دشمنی پر آمادہ ہوجائیں جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے نمرود کے جواب میں کہا۔ فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب نمرود اس حجت الزامیہ کو سن کر مبہوت ہوگیا۔ پس اگر اگر آپ نے ایسا کرلیا تو دعوت و تبلیغ کا فریضہ ادا ہوگیا اب آپ اس فکر میں نہ پڑئیے کہ کس نے آپ کی دعوت کو قبول کیا اور کس نے رد کیا بیشک تیرا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو اس کی راہ سے بہکا اور دعوت سراپا عظمت اور حسن موعظت اور حسن مجادلت کے باوجود باطل سے حق کی طرف نہ آیا اور وہی خوب جانتا ہے ان کو جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔ وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزاء و سزا دے گا۔ تیرا کام صرف حکم پہنچا دینا ہے اور اگر دعوت و تبلیغ کی راہ میں تم کو سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں تو تم اپنا بدلہ لینے پر بھی قادر ہو تو اگر بدلہ لینا چاہو تو اتنا ہی بدلہ لے لو مگر ان کی طرف سے ستائے گئے ہو اور عدل و انصاف کی حدود سے تجاوز نہ کرو۔ بمقدار ظلم بدلہ لے لو مگر زیادتی نہ کرو یہ رخصت اور اجازت ہے اور اگر تم صبر کرو تو صبر کرنا صابروں کے حق میں بہتر ہے۔ یہ درجہ عزیمت کا ہے کہ جو تمہیں ستائے اس کا قصور معاف کردو اور اگر اس پر تمہارا دل آمادہ نہ ہو تو اتنا ہی بدلہ لے لو اپنی طرف سے زیادتی نہ کرو اس سے بڑھ کر حسن اخلاق کی تعلیم نہیں ہوسکتی اگر برابر برابر بدلہ لء لیا تو یہ عدل و انصاف ہوا اور اگر معاف کردیا تو یہ احسان ہوگا اور صبر اگرچہ اوروں کے حق میں واجب اور لازم نہیں۔ مگر اے نبی ﷺ ! آپ پر صبر لازم ہے۔ آپ ضرور صبر کیجئے اور آپ کا صبر خاص خدا کی تائید اور توفیق سے ہے آپ ﷺ تسلی رکھیں۔ آپ ﷺ کو اس صبر میں کوئی دشواری نہ ہوگی۔ اور آپ ﷺ ان کی مخالفت پر رنجیدہ نہ ہوں اور غمگین نہ ہوں اور نہ ان کے مکر و فریب سے تنگ دل ہوں۔ یہ لوگ آپ ﷺ کا اور اسلام کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو صفت تقویٰ اور صفت احسان کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ اور اللہ کا وعدہ ہے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ اپنی خاص الخاص رحمت اور عنایت سے ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو پرہیزگار ہیں اور مخلص نیکوکار ہیں جس درجہ کا تقویٰ اور احسان یعنی اخلاص ہوگا اسی درجہ کی معیت اور اعانت غیبی اس کے ساتھ ہوگی۔ تقویٰ کے معنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کے ہیں اور احسان کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی اطاعت اور بندگی اس طرح کرے گویا وہ خدا جل شانہ کو دیکھ رہا ہے اور معیت سے معیت خاصہ مراد ہے یعنی نصرت و حمایت و تائید وتقویت، کما قال اللہ تعالیٰ : لا تخافا اننی معکما اسمع واری۔ لاتحزن ان اللہ معنا۔ ان آیات میں معیت سے معیت خاصہ مراد ہے اور حق جل شانہ کے اس ارشاد وھو معکم اینما کنتم میں معیت سے مراد معیت عامہ ہے۔ یعنی احاطہ علمی مراد ہے۔ الحمدللہ اس وقت بوقت سحر شب دو شنبہ بتاریخ 9 رجب المرجب سنہ 1389 ہجری سورة نحل کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ فللہ الحمد اولا واخرا۔ اللہم اجعلنا من عبادک المخلصین واولیاءک المتقین المحسنین وحزبک المفلحین۔ آمین یا رب العلمین ....... و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد وعلیٰ الیہ و اصحابہ اجمعین۔ وعلینا معھم یا ارحم الراحمین۔