16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 16:84–89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ان کے عذر قبول کئے جائیں گے۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو ان کے عذاب ہی میں تحفیف کی جائیگی اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار ! یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ (ان کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) ان سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب دیں گے اس لئے کہ شرارت کیا کرتے تھے۔

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑے کریں گے اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔

ذکر قیامت قال اللہ تعالیٰ : ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا .... الیٰ .... وبشری للمسلمین۔ (ربط) یہاں تک حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا اور یہ فرمایا کہ بہت سے لوگ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے ہیں۔ پھر اللہ کی نعمت کے منکر بنے ہوئے ہیں اب قیامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس دن ان کافروں کو جنہوں نے دیدہ دانستہ حق تعالیٰ کے انعمات و احسانات کا کفر کیا اور انکار کیا۔ کیا حال اور مآل ہوگا اس دن سب کا حساب و کتاب ہوگا اور سب سے باز پرس ہوگی۔ اور سب ذلیل و خوار ہوں گے اور انبیاء کی گواہی سے ان کا جرم ثابت ہوگا۔ گواہی کے بعد کفار اجازت چاہیں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو یہ درخواست منظور نہ ہوگی اور ان کے فرضی معبود ان کی تکذیب کردیں گے غرض یہ کہ ان آیات میں کفار کی دار آخرت میں ذلت و رسوائی کا بیان ہے کہ یہ لوگ اس دن ذلیل و خوار ہوں گے اور ان کو عذر کا موقع بھی نہیں ملے گا کیونکہ اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب مبین نازل فرما دی ہے جس میں دین و دنیا کے تمام امور کو بتلا دیا گیا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر امت میں سے ایک گواہ جو ان منکرین نعمت کے انکار کا پردہ چاک کرے گا اور ان کے کفر و شرک پر گواہی دے گا کہ ہم نے ان کو خدا کا حکم پہنچا دیا تھا پھر بھی یہ نہ مانے یہ گواہ انبیاء کرام (علیہ السلام) ہوں گے جو اپنی امت پر ان کے اچھے اور برے اعمال پر گواہی دیں گے اور ان کی گواہی پر نہ کوئی جرح کرسکے گا اور نہ قدح جو وہ کہہ دیں گے۔ اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ پھر انبیاء کرام کی شہادت کے بعد ان کافروں کو کچھ بولنے کی اجازت نہ دی جائے اور نہ ان سے کوئی معذرت اور توبہ طلب کی جائے گی۔ یعنی ان کا کوئی عذر مسموع نہ ہوگا اس لیے کہ عذر اور توبہ کا وقت گزر چکا ہے۔ آخرت تو دار الجزاء ہے نہ کہ دار العمل۔ اب وقت سزا کا ہے نہ کہ کسی عمل کا۔ اور جب وہ لوگ جنہوں نے کفر اور شرک اور گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور گواہوں کی گواہی کے بعد ان کے حق میں عذاب کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ لوگ جب عذاب دوزخ کو دیکھیں گے اور دوزخ میں داخل کر دئیے جائیں گے تو بلبلائیں گے اور چلائیں گے اور مالک (دوزخ کے مہتمم) سے تخفیف عذاب کی درخواست کریں گے تو ان سے نہ عذاب میں تخفیف کی جائے گی کہ ان سے عذاب کچھ ہلکا اور کم کردیا جائے اور نہ وہ مہلت دئیے جائیں گے۔ کہ چند روز کے وقفہ کے بعد عذاب شروع ہو نہیں سکتا اور جب وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں شرک کیا تھا قیامت کے دن اپنے مقرر کیے ہوئے شریکوں یعنی بتوں اور معبودوں کو دیکھیں گے جنہیں خدا کا شریک کہتے تھے تو بطور اقرار جرم و خطا اپنے اوپر سے الزام اٹھانے کے لیے یہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار یہ ہمارے مقرر کیے ہوئے شریک ہیں جنہیں ہم تیرے سوا معبود کہہ کر اپنی حاجت روانی کے لیے پکارا کرتے تھے انہیں کی وجہ سے ہم گمراہ ہوئے اور انہیں کی وجہ سے ہم مارے گئے۔ ورنہ ہم تو بےقصور ہیں۔ شاید یہ کہنا اس غرض سے ہوگا کہ اس بہانہ سے عذاب میں کچھ کمی واقع ہوجائے یا عذاب تقسیم ہوجائے۔ ڈوبتا ہوا تنکے کا سہارا ڈھونڈتا ہے اور اپنی خفت اور ندامت دور کرنے کے لیے اس قسم کی باتیں کرتا ہے تو وہ شرکاء ڈر جائیں گے کہ ہم سے باز پرس نہ ہونے لگے۔ اپنی نے تعلقی ظاہر کرنے کی غرض سے بات انہیں کی طرف ڈال دیں گے اور فورا ان کے جواب میں کہیں گے۔ بلاشبہ تم جھوٹے ہو اور تمہارا ہم پر گناہ کا حوالہ کرنا اور اپنے جرم کا ہم کو سبب قرار دینا سب جھوٹ ہے ہم نے تم سے کب کہا تھا کہ ہم خدا کے شریک اور تمہارے حاجت روا ہیں تم ہماری پرستش کرو تم ہماری پرستش نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی خواہشوں کی پرستش کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ ” جو لوگ پوجتے ہیں بزرگوں کو وہ بزرگ بےگناہ ہیں ایک شیطان اپنا وہی نام رکھ کر آپ کو پجواتا ہے اسی سے ان کو کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو “۔ غرض یہ کہ معبود، عابدوں کی تکذیب کریں گے اور اپنی براءت اور بےتعلقی کا اظہار کریں گے تاکہ ہم پر کوئی آفت اور مصیبت نہ آئے۔ انبیاء اور ملائکہ اور شیاطین جن کو مشرکین نے معبود بنایا ہوا تھا۔ وہ تو ان کی تکذیب کردیں گے اور کہہ دیں گے کہ تم جھوٹے ہو اور بت اگرچہ دنیا میں نہیں بول سکتے مگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو گویائی عطا کردے گا تاکہ کفار اور مشرکین پشیمان ہوں کہ ہمارے معبود خود ہم کو جھوٹا بتلا رہے ہیں اور جب پیغمبروں اور فرشتوں کی تکذیب سے یہ بدنصیب ذلیل و خوار ہوجائیں گے۔ اور ان پر اللہ کا الزام قائم ہوجائے گا تو دوسری فکر کریں گے اور وہ یہ کہ اللہ کی طرف اطاعت اور فرمانبرداری کو ڈالیں گے یعنی جب اپنے معبودوں کی شفاعت سے ناامید ہوجائیں گے تو اپنے گناہ کا اقرار کرکے حکم الٰہی کے سامنے گردن ڈال دیں گے مگر اس وقت کی اطاعت اور انقیاد کچھ نفع نہ دے گی۔ چوں کار زدست رفت فریاد چہ سود اور ان کی ساری افتراء پردازی جاتی رہے گی۔ یعنی دنیا میں جو افتراء کرتے تھے کہ بت ہماری شفاعت اور دستگیری کریں گے۔ وہ سب بیکار ثابت ہوگا۔ بلکہ اس کے برعکس وہ ان کی تکذیب کریں گے۔ اور کہیں گے کہ یہ سب جھوٹے ہیں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں یہ تو کمبخت خود ہی کافر ہوئے اور دوسروں کو بھی خدا کی راہ سے باز رکھا ہم ان پر عنقریب عذاب زیادہ کریں گے ایک عذاب تو ان کے ذاتی کفر کے مقابلہ میں ہوگا اور دوسرا عذاب بمقابلہ ان کے فساد کے ہوگا کہ دوسروں کو اسلام لانے سے روکتے تھے خود بھی طریق حق کو اختیار نہ کیا اور دوسروں کو بھی اس راہ پر چلنے سے روکا اس لیے دوہرے عذاب کے مستحق ہوئے کفر کرنا اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکنا اور مسلمان کو ستانا اور اس کی تحقیر کرنا اور احکام شریعت کے اجراء و تنفیذ میں مزاحمت کرنا یہی سب سے بڑا فساد ہے کفر اور شرک سے بڑھ کر کوئی فساد نہیں غرض یہ کہ ہر نبی اپنی امت کے اعمال اور احوال پر گواہ ہوں گے۔ اب آئندہ آیت میں مضمون ہذا کی تاکید ہے البتہ اتنی بات زیادہ ہے کہ آئندہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی گواہی کا ذکر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہر امت میں سے ان پر ایک گواہ کھڑا کریں گے یعنی اس امت کا پیغمبر جو ان پر گواہی دے گا اور وہ گواہ ان ہی میں سے ہوگا یعنی انہی کی قوم میں سے ہوگا تاکہ ان پر حجت پوری ہوجائے اور عذر و معذرت کی گنجائش نہ رہے اس دن کافروں کی مٹی بہت خراب ہوگی۔ اور ہم لائیں گے تجھ کو اے محمد ﷺ ان لوگوں پر یعنی تیری امت پر گواہ کہ تو مومنوں کے ایمان کی اور کافروں کے کفر کی گواہی دے اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ھؤلاء سے انبیاء سابقین (علیہ السلام) مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب امتیں اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کریں گے اور یہ کہیں گی کہ ہم کو اللہ کا پیغام نہیں پہنچا تو اس وقت آنحضرت ﷺ گواہی دیں گے کہ تمام احکام کو صاف صاف اور اچھی طرح پہنچا دیا۔ اور یہ فار اور منکرین جھوٹے ہیں اس وقت آنحضرت ﷺ کی فضیلت بلکہ افضلیت اور کافروں کی فضیحت ظاہر ہوگی بہر حال یہ قیامت کے دن تمام انبیاء (علیہ السلام) اور امم پر آپ ﷺ کی نبوت و رسالت اور آپ ﷺ کی سیادت و افضلیت کی دلیل ہے۔ اور علاوہ ازیں آپ ﷺ کی نبوت و رسالت اور آپ کی سیادت و افضلیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ ہم نے آپ ﷺ پر یہ کتاب یعنی قرآن اتارا جس میں دنیا و دین کی سب چیزوں کا بیان ہے یعنی تمام علوم و ہدایت اور اصول دین اس جامع کتاب میں صراحۃً یا اشارۃ اور کنایۃً یا بطور حوالہ اس میں موجود ہیں بعض چیزیں صراحۃً قرآن کریم میں مذکور ہیں اور بعض چیزیں قرآن کریم میں اجمالاً اور اشارۃً مذکور ہیں لیکن ان کی تفصیل و تشریح کو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کے حوالہ کیا ما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم منہ فانتھوا اور حکم دیا کہ ہمارے نبی کا اتباع کرو وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی۔ گفتہ او گفتہ اللہ بود گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود اگر سنت نبوی ﷺ میں کوئی اشتباہ پیش آئے تو علماء ربانیین اور راسخین فی العلم کا جس چیز پر اجماع اور اتفاق ہوجائے اس کا اتباع کرو جیسا کہ امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ یتبع غیر سبیل ال مومنین میں سبیل ال مومنین سے اہل علم کا اجماع اور اتفاق مراد ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی سنت کے اتباع کا حکم دیا ہے اور خلفائے راشدین ؓ اور صحابہ کرام ؓ نے ان امور میں جن کا حکم صراحۃً کتاب و سنت میں نہ پایا وہاں قیاس اور اجتہاد سے کام لیا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے فاعتبروا یاولی الابصار اسی طرح سے اجماع اور قیاس بھی علوم قرآنیہ سے ہوگا جس طرح حدیث نبوی ﷺ قرآن کریم کی تفسیر ہے اس کا غیر نہیں اسی طرح اجماع صحابہ ؓ اور قیاس صحابہ ؓ حدیث نبوی ﷺ کی شرح اور اس کی توضیح ہے اور تلویح ہے اس کا غیر نہیں اس طرح سے تمام چیزوں کا بیان قرآن میں ہے اور یہ جامع کتاب یعنی قرآن خدا کے فرمانبردار بندوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے اور بشارت ہے۔ یعنی یہ کتاب مستطاب سارے عالم کے لیے مشعل ہدایت ہے راہ حق دکھاتی ہے اور فرماں برداروں کے لیے باران رحمت اور جنت کی بشارت ہے۔
Ayahs 16:90–100

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور نامعقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو۔ اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا پھر اس کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اس دن) ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائیگا۔

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے راستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزا چکھنا پڑے اور بڑا سخت عذاب ملے۔

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اسکے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو (صلہ) خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجاتا ہے جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے (کہ کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

کہ جو مومن ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں ان پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا۔

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسو سے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں۔

تلقین مکارم اخلاق محاسن اعمال و آداب قال اللہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان .... الیٰ .... والذین ہم بہ مشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ یہ قرآن پر شے کا بیان ہے اور وہ ایک جامع کتاب ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اور اہل ایمان کے لیے بشارت ہے اب ان آیات میں بتلاتے ہیں کہ یہ قرآن جو اللہ نے آپ ﷺ پر نازل کیا ہے وہ تمام مکارم اخلاق اور محاسن آداب اور اعمال خیر کا حکم دیتا ہے اور تمام برائیوں اور بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں سے منع کرتا ہے اور قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کی اصلاح کرتا ہے کہ نہ کوئی فحش بات زبان سے نکالو اور نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ قسم کھا کر توڑو اور نہ خدا سے بدعہدی کرو اور ہر وقت یہ خیال رکھو کہ یہ دنیا دار فانی ہے اور قیامت آنے والی ہے۔ جس دن ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہوگا ایسی کتاب کے کتاب ہدایت اور کتاب رحمت اور کتاب بشارت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے اور ایسی کتاب کہ جامعیت اور کاملیت میں کیا تردد ہوسکتا ہے گویا کہ گزشتہ آیت (تبیانا لکل شیء الخ) کی دلیل اور برہان ہے اور چونکہ یہ آیت اجمالا تمام عقائد حقہ اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کے حکم پر اور تمام فواحش اور منکرات اور اعمال بد کی ممانعت پر مشتمل ہے تو عجب نہیں کہ شاید اسی جامعیت کے لحاظ سے خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز ؓ نے خطبہ جمعہ کے اخیر میں اس کو درج کرنے کا حکم دیا کہ اس میں تمام اچھی باتوں کا حکم اور تمام بری باتوں سے ممانعت کا حکم اجمالا مذکور ہے لہٰذا ایسی کتاب مستطاب پر دوڑ کر ایمان لانا چاہئے۔ بعد ازاں یہ بتلایا کہ ہدایت اور ضلالت سب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کرے اور اخیر میں یہ بتلایا کہ شیطان کے پنجہ سے رہائی کا طریقہ یہ ہے کہ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور اللہ پر بھروسہ رکھو چناچہ فرماتے ہیں۔ تحقیق اللہ تعالیٰ اس کتاب مستطاب (قرآن) میں جو اس نے آپ ﷺ پر نازل کی ہے اور جس میں ہر شئے کا بیان ہو اور جو مسلمانوں کے لئے خاص طور پر ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے خاص طور پر تم کو تین باتوں کا حکم دیتا ہے اول عدل اور انصاف کا یعنی بلاکم و بیش سب کے حقوق ادا کرو اور سب چیزوں میں خواہ وہ اعتماد سے متعلق ہوں اور اعتدال اور توسط اور میانہ روی کو ملحوظ رکھو ٹھیک افراط اور تفریط کے درمیان چلو۔ ترازو کا کوئی پلہ ادھر ادھر جھکنے نہ پائے اور نہ اٹھنے پائے ” عدل “ کے معنی لغت میں توسط کے ہیں یعنی دونوں جانبیں برابر رہیں نہ حد سے بڑھے اور نہ گھٹے اور آیت میں عدل سے اعتدال کے معنی مراد ہیں یعنی اعتقاد اوراقوال اور افعال سب میں درجہ اعتدال پر قائم رہو یعنی ہر ایک چیز کو اس کی حد پر رکھو اور اس سے تجاوز نہ کرو توحید عدل ہے اور شرک ظلم ہے عبادت خالق کا حق ہے نہ کہ مخلوق کا کسی کا حق ادا کرنا یہ عدل ہے اور کسی کا حق دوسرے کو دے دینا یہ ظلم ہے۔ اور دوم یہ کہ اللہ حکم دیتا ہے تم کو احسان اور بھلائی کا یعنی بذات خود لوگوں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرو مطلب یہ ہے کہ غیر کے مقدمہ میں عدل و انصاف یعنی برابری چاہے اور اپنی طرف سے احسان اور بھلائی چاہے۔ مقام احسان۔ مقام عدل سے ذرا بلند ہے۔ عدل فرض ہے اور احسان نفل ہے۔ کیونکہ ” احسان “ ایسے ثواب کو کہتے ہیں جو واجب نہ ہو جیسے صدقہ نافلہ۔ مقدار واجب پر کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے زیادتی کا نام احسان ہے اور عبادت میں احسان یہ ہے کہ اللہ کی بندگی اس طرح کرے۔ گویا کہ خدا دیکھ رہا ہے اس طرح کی عبادت اپنے ساتھ بھلائی اور نی کوئی ہے۔ اور معاملات میں احسان یہ ہے کہ اپنے حقوق اور انتقام سے درگزر کرے اور دوسرے کو اس کے استحقاق سے زیادہ نفع پہنچاوے۔ اور سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے خویش و اقارب کو دینے کا یعنی صلہ رحمی کا کیونکہ اقارب کا حق اجانب سے زائد ہے۔ عدل و انصاف تو دوست دشمن سب کے لیے برابر اور یکساں ہے اور احسان اور مروت میں بسا اوقات خصوصیت اور رعایت بھی ملحوظ ہوتی ہے یہ صلہ رحمی اگرچہ عدل میں یا احسان میں داخل ہے۔ لیکن صلی رحمی اور حق قرابت کا لحاظ اور پاسداری ایک مستقل نیکی اور بھلائی ہے اور عظیم احسان ہے اس خصوصیت کے ساتھ وایتای ذی القربی کو علیحدہ ذکر فرمایا۔ کیونکہ قرآن اور حدیث صلہ رحمی سے بھرے پڑے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ لفظ رحم بمعنی قرابت اللہ کے نام پاک رحمن سے مشتق ہے۔ جو رحم (قرابت) کو وصل کرے یعنی ملا دے اللہ اس کو ملادے اور جو رحم یعنی قرابت کو قطع کرے اللہ اس کو اپنی رحمت سے منقطع کرے یہی وجہ ہے کہ بعض صورتوں میں قریبی حاجت مند رشتہ دار کا نان و نفقہ واجب ہوجاتا ہے اور بعض صلہ رحمی مستحب ہے۔ جیسے رشتہ دار کو ہدیہ اور تحفہ دینا تاکہ باہمی محبت اور الفت قائم رہے۔ بہرحال صلہ رحمی احسان کا فرد اکمل ہے اس لیے خاص طور پر اس کو علیحدہ ذکر فرمایا۔ کیونکہ قرابت داروں کی روپیہ پیسہ سے مدد کرنا اور ان کے ساتھ احسان کرنا عظیم عبادت ہے جس میں یہ تین صفتیں عدل اور احسان اور صلہ رحمی جمع ہوگئیں اس کی قوت عقلیہ اور ملکیہ مکمل اور مہذب ہوگئی۔ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب ہدایت اور شریعت نازل کی اس میں خاص طور پر تین حکم دئیے ایک عدل و انصاف کا۔ دوم احسان اور مروت کا۔ سوم صلہ رحمی کا۔ اب آگے ان چیزوں کو بیان کرتے ہیں جن کو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے وہ بھی تین چیزیں ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے تین چیزوں سے :۔ (1) بےحیائی سے یعنی ان برے کاموں سے جو شہوانی اور نفسانی قوت کے اشارہ پر کیے جائیں جیسے زنا اور لواطت وغیرہ وغیرہ۔ (2) اور دوم منع فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس کام سے جو نامعقول اور ناپسندیدہ ہو جس کے کرنے والے کو لوگ برا کہیں۔ ” منکر “ کے معنی نامعقول اور ناپسندیدہ کے ہیں منکر سے وہ امور مراد ہیں جو شریعت کے نزدیک نامعقول اور ناپسندیدہ ہوں اور قوت غضبیہ اور سبعیہ کے اشارہ سے سرزد ہو رہے ہوں جیسے کسی کو قتل کردینا یا کسی کا مال غصب کرلینا۔ قوت غضبیہ اور سبعیہ ہی انسان کو ایذا رسانی پر آمادہ کرتی ہے اور یہ امر تمام عقلاء کے نزدیک ” منکر “ یعنی ناپسندیدہ ہے۔ (3) اور سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے تم کو ظلم اور تعدی سے یعنی اپنی حد سے تجاوز کرکے دوسروں پر غلبہ اور فوقیت کا خواہاں ہونا جسے تکبر اور تجبر کہتے ہیں۔ انسان میں جو قوت شیطانیہ اور قوت وہمیہ کا مادہ موجود ہے اس سے ظلم وتعدی اور سرکشی نمودار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تنبیہ فرما دی کہ ان تینوں قوتوں کو یعنی قوت شہویہ قوت غضبیہ اور قوت شیطانیہ کو قابو میں رکھو اور قوت عقلیہ کو ان پر حاکم بناؤ تو تمہاری دنیا اور دین سب درست ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان اوامرو نواہی کے ذریعے تم کو نصیحت کرتا ہے اسی میں تمہاری دنیا اور آخرت کی صلاح و فلاح ہے۔ اول کی تین باتیں ہر خیر کی اصل ہیں کسی عارف کا قول ہے کہ ملک اور سلطنت کی بقاء اور استقامت کا دارومدار انہی چھ چیزوں پر ہے عدل کا ثمرہ فتح و نصرت اور احسان کا نتیجہ حسن ثناء اور نیک نامی ہے اور صلہ رحمی کا فائدہ انس اور الفت ہے اور فحشاء کا نتیجہ دین اور دنیا کی تباہی اور بربادی ہے اور منکر (نامعقول اور ناپسندیدہ) امور کا ثمرہ دشمنوں کو مقابلہ کے لیے آمادہ کرنا ہے اور بغی (یعنی ظلم اور زیادتی) کا نتیجہ مقاصد سے محرومی ہے۔ نکتہ : اور اخیر کی تین چیزیں اول کی تین چیزوں کے مقابلہ میں ہیں۔ فحشاء عدل کے مقابلہ میں ہے اور منکر احسان کے مقابلہ میں ہے اور بغی ظلم اور زیادتی ایتای ذی القربیٰ کے مقابلہ میں ہے۔ عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ خیرو شر کی سب سے زیادہ جامع آیت یہ ہے جو سورة نحل میں ہے۔ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان۔ الخ اخرجہ البخاری فی الادب والبیھقی فی شعب الایمان والحاکم وصححہ (روح المعانی ص 200 جلد 14) اور ابن عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ اعظم اور بزرگ ترین جامع آیت ان اللہ یامر بالعدل والاحسان الخ اور دربارہ تفویض و تسلیم یعنی سب کاموں کو اللہ کو سونپ دینے اور اس پر بھروسہ کرنے کے بارے میں سب سے بڑھ کر یہ آیت ہے ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب الخ اور گنہگاروں کے لیے سب سے زیادہ امید دلانے والی یہ آیت قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقطوا من رحمۃ اللہ۔ الخ عشمان بن مظعون ؓ اور اکثم بن صیفی ؓ وغیرہ اس آیت کو سن کر مشرف باسلام ہوئے کہ یہ آیت اعلیٰ ترین مکارم اخلاق کا حکم دیتی ہے اور تمام بےحیائیوں اور برائیوں سے منع کرتی ہے۔ امام سیوطی (رح) نے نقل کیا ہے کہ بعض بنو امیہ اپنے خطبوں کے اخیر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا غیر مناسب الفاظ سے ذکر کرتے تھے۔ جب عمر بن عبد العزیز ؓ رجب سنہ 99 ہجری میں خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس کو ممنوع قرار دیا اور حکم دیا کہ خطبے کے اخیر میں یہ آیت پڑھی جائے ان اللہ یامر بالعدل والاحسان الخ۔ اور سب سے پہلے خود عمر بن عبد العزیز (رح) نے اس آیت کو خطبہ میں پڑھا۔ بحمدہ تعالیٰ آج بھی یہ سنت حسنہ جاری ہے۔ اور سب سے پہلے خطبہ میں ان اللہ وملئکۃ یصلون علی النبی الخ خلیفہ مہدی عباسی (رح) نے پڑھا۔ بحمدللہ آج تک اس سنت پر بھی عمل جاری ہے۔ (روح البیان ص 73 ج 5، روح المعانی ص 240 ج 14) ایفائے عہد کی تاکید اکید اور غدر اور بد عہدی سے ممانعت اور تہدید گزشتہ آیت میں اجمالی طور پر مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا ذکر تھا اب ان میں سے بعض اہم امور کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں یعنی عہد کی پابندی کی تاکید فرماتے ہیں جس پر تمام دینی امور اور دنیوی کاموں کا دار و مدار ہے۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیت میں عدل و انصاف کا حکم تھا جس میں ایفاء عہد بھی داخل تھا اور غدر اور بدعہدی منکر اور بغی میں داخل تھی۔ اب آگے خاص طور پر ایفائے عہد کی تاکید اور غدر اور بد عہدی کی ممانعت کا ذکر فرماتے ہیں۔ کیونکہ اس زمانہ میں عام طور پر ان چیزوں کا اہتمام نہ تھا اور عہد و پیمان کی کوئی پرواہ نہ تھی جدھر قوت و کثرت دیکھی ادھر جھک گئے اور کمزور جماعت کے عہد و پیمان کو پس پشت ڈال دیا جیسا کہ آج کل مغربی اقوام کا شیوہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور تم پورا کرو اللہ کے عہد کو جب عہد کرلو۔ سب سے پہلا عہد جو بندوں نے خدا کے ساتھ کیا وہ عہد الست ہے۔ اس کے علاوہ جس قدر عہد ہیں خواہ وہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے وہ سب اس حکم میں داخل ہیں اور ان کا ایفاء واجب اور لازم ہے اور مت توڑو قسموں کو پخترہ کرنے کے بعد اللہ کا نام لینے سے قسم پختہ ہوجاتی ہے۔ اور حالانکہ تم عہد کرتے وقت اور قسم کھاتے وقت اللہ کو اپنے اوپر ضامن بنا چکے ہو اس کے بعد اگر تم نے عہد شکنی کی اور قسم کو توڑا تو معلوم ہوا کہ تمہیں اللہ کی پرواہ نہیں تو خوب سمجھ لو کہ بلاشبہ اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو قیامت کے دن تمہارے ایفاء اور عہد شکنی کی جزا و سزا دے گا۔ اور عہد شکنی کرکے تم اس عورت کی مانند نہ بنو۔ جس نے اپنا سوت کاتنے کے بعد توڑ ڈالا اور بوٹی بوٹی کرکے اس نے نوچ ڈالا۔ قریش میں ایک عورت تھی جس کا نام ریطہ تھا وہ بڑی بیوقوف اور احمق تھی۔ صبح سے لے کر دوپہر تک خود بھی سوت کا تتی اور اپنی لڑکیوں سے بھی کتواتی۔ جب دوپہر ہوجاتی تو وہ عورت ان کو حکم دیتی کہ جس قدر سورت تم نے کاتا ہے سب توڑ ڈالو۔ ہمیشہ ہی اس کی عادت تھی۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ محض تمثیل ہے کسی عورت کی طرف اشارہ نہیں اس سے فقط مثال دینا مقصود ہے کہ عہد کا توڑنا ایسا ہی ہے جیسے سوت کات کر اس کو توڑ ڈالنا۔ حق تعالیٰ نے عہد کے توڑنے کو تاگا توڑنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور یہ نصیحت فرمائی ہے کہ جس طرح وہ احمق عورت اپنے تاگے کو توڑ دیتی تھی تم اس کی طرح اپنے عہد کو پختہ کرنے کے بعد نہ توڑ و کیا تم اپنی قسموں کو آپس میں دھوکہ اور فریب اور دخل کا ذریعہ اور بہانہ بنانا چاہتے ہو کہ تمہاری قسم سے مطمئن ہو کر دوسرا دھوکہ کھا جائے اور تمہارا یہ قسم توڑنا محض اس بنا پر ہے کہ ایک گروہ مال و دولت اور عددی کثرت میں دوسرے گروہ سے بڑھا ہوا ہے۔ عرب کے لوگ ایک قوم کے ساتھ عہد کرلیتے اور وہ قوم ان کی طرف سے اطمینان کرلیتی۔ پھر جب دوسری قوم کو ان سے مال و دولت اور قوت اور عددی کثرت میں زیادہ دیکھتے تو ان سے عہد کرلیتے اور کمزور قوم کا عہد توڑ دیتے اور حیلے اور بہانے بنا کر ان سے عذر کردیتے جیسے آج کل مغربی اقوام کا یہی شیوہ بنا ہوا ہے خدا تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا اور وفاء عہد کا حکم دیا۔ جزایں نیست کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس حکم سے آزماتا ہے کہ دیکھیں عہد پورا کرتے ہیں یا جس کا پلہ قوت اور کثرت میں جھکا ہوا دیکھا ادھر جھک جاتے ہیں اور بیشک اللہ قیامت کے دن اس چیز کی حقیقت کو ظاہر کر دے گا۔ جس میں تم اختلاف کرتے تھے تم نے عہد توڑتے وقت یہ خیال کیا کہ جو جماعت زبردست اور کثیر التعداد ہے اس کے ساتھ ملنے میں عزت ہے سو خوب سمجھ لو کہ یہ عزت نہیں بلکہ ذلت ہے اور دنیا و آخرت میں نصیحت اور رسوائی کا ذریعہ ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے تمہاری اس عہد شکنی کی حقیقت کو ظاہر کر دے گا۔ اور سب کے سامنے تم کو فضیحت کرے گا اور یہ دنیا دار ابتلاء اور دار امتحان ہے اس لیے اس نے تم کو دنیا میں مختلف بنایا ہے کہ تمہارا امتحان کرے اگر وہ چاہتا کہ تم کو ابتلاء اور آزمائش میں نہ ڈالے تو البتہ وہ کردیتا تم سب کو ایک گروہ کہ سب اسلام پر متفق ہوتے و لیکن اس کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ باہم رہیں اور ایک دوسرے کے مخالف اور دشمن بنے رہیں وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور ظالم بنا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور دنیا میں اس کو مظلوم بنا دیتا ہے اسی وجہ سے دنیا میں بعض مومن اور اکثر کافر ہیں اور دونوں امتحان کے میدان میں ہیں۔ قال اللہ تعالیٰ ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک ولذلک خلقہم۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس باہمی اختلاف اور باہمی عداوت کے لیے سب کو پیدا کیا مگر جن پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہوا انہوں نے حق سے اختلاف نہیں کیا اور نہ اہل حق کے دشمن بنے۔ بہر حال اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اس کی مشیت اور حکمت یہ ہے کہ لوگ اس دار ابتلاء (دنیا) میں باہم مختلف رہیں کوئی ہادی اور مہتدی ہو اور کوئی ضال اور مضل ہو کوئی مظلوم ہو اور کسی کی مجال نہیں کہ کوئی اس کے ارادہ اور مشیت کی علت اور حکمت پوچھ سکے وہ مالک مطلق ہے اس سے کوئی سوال اور باز پرس نہیں ہوسکتی۔ البتہ تم اس کے بندے ہو۔ اس لیے قیامت کے دن تم سے ضرور ان باتوں کی باز پرس ہوگی جو تم دنیا میں کرتے تھے۔ پھر اس محاسبہ اور مؤاخذہ کے بعد تم میں سے نیکو کار کو جزاء ملے گی اور گنہگار کو سزا ملے گی اور قیامت کے دن جن چیزوں پر باز پس ہوگی اس میں تمہارا نقض عہد بھی ہوگا اور عہد شکنی پر خاص طور پر محاسبہ اور مؤاخذہ ہوگا۔ اب آگے پھر اپنے عہد پر قائم رہنے کی تاکید اور بد عہدی پر تہدید فرماتے ہیں۔ اور مت بناؤ اپنی قسموں کو آپس میں دغا اور دخل اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارا قدم جم جانے کے بعد پھسل جائے گا۔ یہ ایک مثل ہے ایسے شخص کی جو سیدھی راہ پر تھا پھر اس کا قدم ڈگمگا گیا مطلب یہ ہے کہ جھوٹی قسموں کو مکرو فریب کا ذریعہ بنا کر راہ راست سے نہ ہٹو۔ استقامت کے بعد طریق ہدایت سے ہٹنا بہت برا ہے اور تم چکھو دنیا میں سزا اس بات کی کہ تم نے عہد شکنی کرکے لوگوں کو راہ خدا سے روکا کیونکہ تمہیں دیکھ کر دوسرے بھی عہد شکنی کریں گے اور غیر مسلم سمجھیں گے کہ جب مسلمان عہدشکن ہیں تو ان کا مذہب بھی عہد شکنی کی تعلیم دیتا ہوگا۔ کم از کم ان کے مذہب میں عہد شکنی کی ممانعت نہ ہوگی یہ دیکھ کر غیر مسلم اسلام سے متنفر ہوجائیں گے اور جس کا اسلام میں داخل ہونے کا ارادہ بھی ہوگا وہا سلام میں داخل نہ ہوگا اس طرح تم لوگوں کو راہ خدا سے روکنے کا ذریعہ بنو گے۔ اور تم کو دنیا میں اس کی برائی چکھنی ہوگی اور آخرت میں تمہارے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔ جو دنیا کے عذاب سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔ اور چونکہ انسان بعض مرتبہ مال و منال اور جاہ و جلال کو دیکھ کر حرص و طمع میں عہد شکنی کرتا ہے اس لیے آئندہ آیت میں اس کی ممانعت فرماتے ہیں۔ اور اللہ کے عہد کے عوض دنیا کا تھوڑا سا مول نہ لو یعنی دنیوی مال و منال کے حصول کی غرض سے عہد شکنی نہ کرو اور اللہ کے نزدیک ساری دنیا ہی متاع قلیل ہے بیشک جو اجروثواب اللہ کے پاس ہے عہد پورا کرنے کے لیے وہ کہیں بہتر ہے اس مال و متاع سے جو تم کو عہد شکنی پر حاصل ہو اگر ہو تم جانتے۔ خوب سمجھ لو کہ دنیا کا جو عارضی مال و منال ہے وہ نبڑ جائے گا اور ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گا اور جو اجر وثواب دار آخرت میں اللہ کے پاس تمہارے لیے ذخیرہ ہے وہ باقی رہے گا اس کے لیے فناء اور زوال نہیں باقی کے بدلہ میں فانی کو اختیار کرنا نادانی ہے مگر باقی کی امید پر اس دار فانی کے فانی مال و متاع کو ترک کرنے کے لئے صبر عظیم چاہئے اور یہ خیال نہ کرو کہ اس صبر کا اجر مشکوک اور موہوم ہوگا۔ بلکہ قطعی اور یقینی ہے ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو جنہوں نے ایفائے عہد اور دیگر احکام دین کی بجا آوری میں جو تکلیف اور مصائب پیش آئیں ان پر صبر کیا۔ یعنی باوجود کفار کے جو روستم کے صبر سے کام لیا اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہے ہم ضرور ان کو اجر دیں گے اور ان کے اعمال کا بہتر سے بہتر بدلہ دیں گے کہ ایک نیکی کا بدلہ کم از کم دس دیں گے جو ہر حال میں ان کے عمل سے بہتر ہوگا اور صبر کو احسن اعمال اس لیے فرمایا کہ تمام اعمال صالحی کی جزا اور بنیاد صبر ہے یا یہ معنی ہیں کہ ہم ان کو بہترین اعمال کے اعتبار سے اجر وثواب دیں گے یعنی ادنیٰ عمل کے مقابلہ میں وہی اجر وثواب دیں گے جو اعلیٰ اور بہترین عمل کے مقابلہ میں دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے سارے اعمال قبول کریں گے اور کمتر کا ثواب بہتر دینگے (روح المعانی ص 205 ج 14) یہاں تک ایفاء عہد کی تاکید اور نقض عہد پر تہدید تھی اب آئندہ آیت میں تمام اعمال صالحہ کے متعلق ایک عام ضابطہ بیان فرماتے ہیں جس نے نیک عمل کیا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان ہو اس لیے کہ بغیر ایمان کے اعمال صالحہ مقبول نہیں تو ہم ایسے شخص کو دنیا میں پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔ یعنی اس کو حلال روزی اور قناعت اور بھلائی کی توفیق دیں گے یہ پاکیزہ زندگی ہے جو شخص کفاف یعنی بقدر کفایت رزق پر قناعت کرے اور حرص و طمع میں نہ پڑے اس کی زندگی پاکیزہ ہے اور جو حرص و طمع میں پڑا اس کی زندگی بڑی گندی ہے اور ہم ان کو ان کے اعمال کا بہترین ثواب دیں گے جو ان کے اعمال سے کہیں بہتر اور برتر ہوگا حیات طیبہ سے سکون اور اطمینان کی زندگی مراد ہے اور یہ زندگی مطیعین اور صالحین کو حاصل ہوتی ہے۔ حضرات انبیاء اور اولیاء کو مصائب اور تکالیف ضرور پیش آتی ہیں۔ رنج و غم بھی لاحق ہوتا ہے لیکن پریشانی نہیں ہوتی۔ جو حیات طیبہ کے منافی ہو۔ ” ہرچہ ازدوست می رسد نیکو است بلکہ ایلام دوست براز انعام دوست “ کا مضمون ہوتا ہے۔ مصائب پیش نہ آئیں تو صبر کی فضیلت کہاں سے حاصل ہو دوا اگر تلخ بھی ہو تو بہزار رضا ورغبت اس کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ نظر اس کے فوائد اور منافع پر ہوتی ہے بہر حال ایمان اور عمل صالح سے قلب میں حق تعالیٰ کی محبت اور عظمت اور قناعت اور رضا و تسلیم کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جس سے ایسی راحت بخش اور پر لطف و پرسکون زندگی گزرتی ہے جہاں فقیری اور درویشی میں امیری بھی ہیچ معلوم ہونے لگتی ہے دوا اگرچہ طبعا تلخ ہوتی ہے مگر عقلا شیریں اور خوشگوار ہوتی ہے۔ کیونکہ عقل کی نظر دوا کے فوائد پر ہوتی ہے اسی طرح مصائب و آلام میں صاحب بصیرت کی نظر مصائب کے اجر اور ثمر پر ہوتی ہے کہ ان مصائب کا ثمرہ خداوندی اور تکفیر سیئات اور رفع درجات ہے ایسی حالت میں رنج و غم مسرت اور فرحت سے بدل جاتا ہے۔ دنیاوی زندگی میں اگرچہ راحت اور آرام کے کتنے ہی سامان کیوں نہ ہوں مگر تفکرات اور ترددات بھی ساتھ لگے ہوتے ہیں اور بقدر کفایت حلال روزی اور قناعت اور رضا بالقضاء اللہ کی عجب نعمت ہے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قناعت کی دولت عطا کی ہے وہ تنگ دستی اور قلت معیشت کے حالات میں بھی پریشان نہیں ہوتے ان کے دل حرص و حسد اور طمع اور غرض سے پاک و صاف ہوتے ہیں ان کے اخلاق و عادات ایسے شائستہ ہوتے ہیں کہ ہر شخص ان سے محبت کرنے لگتا ہے کوئی ان کا دشمن نہیں ہوتا ایسی زندگی پاکیزہ ہوتی ہے۔ خوش آنانی کہ از غم رستگارند بہ کنج بےخودی بنشستگا نند چو شب خسپند بےکین و ستیزند سحرز آنسان کہ می خسپند و خیزند نہ زیشاں بردل مردم غبارے نہ از مردوم بریشاں ہیچ بارے تعلیم طریقہ حفاظت از شر شیطانی اوپر کی آیت میں نیک کام کرنے والوں کی بشارت کا ذکر تھا اور ظاہر ہے کہ عمل صالح کی صلاح اور زبردستی پر موقوف ہے کہ وہ شیطان کے وسوسے سے محفوظ رہے اس لیے آئندہ آیت میں وہ تعلیم فرماتے ہیں جس سے اعمال وساوس شیطانی سے محفوظ رہیں اور وہ تعوذ ہے یعنی اللہ سے پناہ مانگنا۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیت میں عمل صالح کا ذکر تھا اور قرآن کی تلاوت بہترین عمل صالح ہے اور قرب خداوندی کا بہترین ذریعہ ہے اس لیے آیت آئندہ میں قراءت قرآن کا ادب بیان فرماتے ہیں۔ پس اے بندہ اگر تو اعمال صالحہ میں سے قراءت قرآن جیسے عمل صالح کا ارادہ کرے تو اللہ کی پناہ ڈھونڈھ راندے ہوئے شیطان سے کیونکہ استعاذہ بھی عمل صالح ہے جو شیطان سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے تحقیق شیطان کا قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لے آئے اور اپنے پروردگار پر بروسہ رکھتے ہیں۔ اس کا قابو تو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو اسے دوست بنائے ہوئے ہیں۔ اور اس کے اشاروں پر چلتے ہیں جس طرح چاہتا ہے شیطان ان کو انگلیوں پر نچاتا ہے اور اس کا قابو ان لوگوں پر چلتا ہے جو اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں۔ بعض مرتبہ اگرچہ اہل ایمان بھی شیطان کے بہکانے سے گناہ کر بیٹھتے ہیں۔ اور دھوکہ کھا جاتے ہیں مگر اہل ایمان شیطان کو اپنا بدترین دشمن سمجھتے ہیں جب شیطان ان کو بہکاتا ہے تو حتی الوسع اس کا مقابلہ کرتے ہیں اور اگر کسی وقت پٹخنی کھا جاتے ہیں تو کھڑے ہوجاتے ہیں اور توبہ استغفار کرنے لگتے ہیں کما قال تعالیٰ ان الذین اتقوا اذا مسھم طائف من الشیطن تذکروا فاذا ہم مبصرون و اخوانھم یمدونھم فی الغی ثم لا یقصرون۔ سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ شیطان کے زور کے معنی یہ ہیں کہ بےدھڑک گناہ کرتے ہیں اور شرماتے نہیں اور توبہ نہیں کرتے۔
Ayahs 16:101–105

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کوئی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم تو (یونہی) اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں۔

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لیکر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے۔

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کیطرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ افترا تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں۔

منکرین نبوت کے چند شبہات اور ان کے جوابات قال اللہ تعالیٰ : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ .... الیٰ .... واولئک ہم الکذبون۔ (ربط) اب یہاں سے منکرین نبوت کے چند شبہات نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں۔ اصول دین میں پہلی اصل توحید ہے اور دوسری اصل نبوت ہے دلائل توحید کے بعد نبوت کے متعلق چند شبہات کا جواب دیتے ہیں۔ قرآن مجید کا جب کوئی حکم منسوخ ہوجاتا تو کفار کہتے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب سے مسخرہ پن کرتے ہیں کبھی ایک چیز کا حکم دیتے ہیں اور پھر اس سے منع کردیتے ہیں۔ واذا بدلنا ایۃ فکان ایۃ میں اس شبہ کا ذکر فرمایا اور بتلا دیا کہ نسخ احکام کے مصالح کو ہم خوب جانتے ہیں تم نہیں جانتے۔ اللہ کا ہر حکم مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔ اور منکرین نبوت دوسرا شبہ یہ کرتے تھے کہ محمد ﷺ انبیاء سابقین اور امم سابقہ کے حالات کسی سے سن کر اور سیکھ کر آتے ہیں اور ان سنی سنائی اور سیکھی سکھائی باتوں کو اللہ کا کلام کہہ کر لوگوں کے سامنے آکر بیان کردیتے ہیں اس پر آیت نازل ہوئی ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر۔ اس آیت کریمہ میں ان کے اس شبہ کا یہ جواب دیا کہ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ آپ ﷺ کسی سے سن کر یہ قصے بیان کرتے ہیں تو یہ بتلاؤ کہ ایسی فصیح وبلیغ عبارت آپ ﷺ نے کیسے بنالی جس کے معارضہ اور مقابلہ سے تمام بلغاء عرب عاجز و درماندہ ہیں کیا یہ عربی عبارت بھی اسی غلام نے آپ کو سکھائی ہے وہ غلام تو عجمی ہے۔ عربی زبان میں بات بھی نہیں کرسکتا۔ یہ فصاحت و بلاغت تو درکنار۔ اور اگر بالفرض یہ بھی مان لیا جائے تو تم بھی اس عجمی غلام سے قرآن جیسی ایک سورت نبوالاؤ۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلتے ہیں اور ایک آیت اور حکم منسوخ کرکے دوسری آیت اور دوسرا حکم نازل کرتے ہیں حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے جو وہ نازل کرتا ہے اور جو حکم اس نے پہلے نازل کیا اور جو بعد میں نازل کیا اس کی حکمت اور مصلحت وہی خوب جانتا ہے تو کافر کہتے ہیں کہ بس تو تو مفتری ہے اپنی طرف سے ایک حکم بناتا ہے اور اپنے ساختہ اور پر واختہ کو اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اللہ کو اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک حکم کو نازل کرے اور پھر اسے منسوخ کر دے اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا یہ جواب ارشاد فرمایا کہ اللہ جو حکم نازل کرتا ہے وہ اس کی حکمت اور مصلحت سمجھتا ہے جس وقت جو حکم مناسب معلوم ہوتا ہے وہی حکم دیتا ہے۔ اس کی مثال طبیب کا نسخہ بدلنے کی ہے طبیب کا نسخہ نہ پہلا غلط ہے نہ پچھلا۔ طبیب مرض کے حال کے مطابق نسخہ تجویز کرتا ہے پس اس پر اعتراض کرنا حماقت ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ تو مفتری نہیں بلکہ ان میں اکثر جاہل اور نادان ہیں نسخ احکام کی حکمت اور مصلحت کو نہیں سمجھتے۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ یہ مرا کلام نہیں بلکہ اللہ کا کلام اور اس کا پیغام ہے جس کو پاک روح یعنی جبرئیل امین (علیہ السلام) تیرے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ لے کر نازل ہوئے اس میں کذب اور افتراء کو ذرہ برابر دخل نہیں۔ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے مرتبہ اعجاز کو پہنچا ہوا ہے اور معنوی انوار و برکات کے لحاظ سے قلب کو منور اور مطمئن کرتا ہے جو پروردگار عالم نے یہ کلام بندوں کی تربیت کے لیے نازل فرمایا ہے تاکہ اہل ایمان کو دین پر ثابت قدم رکھے اور ان کی نورانیت اور قوت اور سکینت سے اور طمانینت میں زیادتی کرے تاکہ ان کے پائے استقامت میں تزلزل نہ آنے پائے اور سمجھ جائیں کہ ہمارا پروردگار ہمارے احوال سے خبردار ہے۔ اور اطاعت شعاروں کے لیے ہدایت اور بشارت بنے۔ ہدایت کا مطلب یہ ہے کہ ظلمت و تاریکی میں ان کی راہ نمائی کرے اور راہ حق ان کو سمجھا وے اور بتلاوے۔ اور بشارت کا مطلب یہ ہے کہ فرمانبرداروں کو جنت کی خوشخبری دے تاکہ یہ مسلمین، مومن ین، مخلصین کے درجے کو پہنچ جائیں۔ کافروں کا دوسرا اعتراض اور اس کا جواب اور البتہ تحقیق ہم خوب جانتے ہیں کہ کافر یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن نہ اللہ کا کلام ہے اور نہ کوئی فرشتہ اس کو لے کر نازل ہوا بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو ان کو ایک آدمی سکھلاتا ہے۔ مکہ میں بلعام نامی ایک نصرانی لوہار تھا اس کی زبان عجمی تھی۔ مشرک کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علی ہو سلم کو قرآن بلعام کے سکھانے کو منسوب کرتے ہیں عجمی ہے اور غیر فصیح ہے اور یہ قرآن صاف اور فصیح عربی ہے اور ایسا فصیح وبلیغ ہے کہ فصحاء و بلغاء اس کے معارضہ سے عاجز اور درماندہ ہیں پس جو شخص صاف عربی بولنے پر بھی قادر نہ ہو وہ دوسرے کو ایسا فصیح وبلیغ کلام کیونکر سکھا سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ قرآن نہ تعلیم بشری ہے اور نہ خود آپ ﷺ کا ساختہ اور پرداختہ ہے بلکہ وحی ربانی اور تنزیل سبحانی ہے ایسے علوم و معارف اور مکارم اخلاق اور محاسن آداب اور ایسی فصاحت و بلاغت ایک عجمی لوہار کے پاس کہاں سے آئی بفرض محال اگر یہ فضل و کمال کسی لوہار کے پاس ہوتا تو دنیا اس کے قدموں میں گرتی۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا کوئی نام بھی نہ لیتا بہرحال ایسی مہمل بات سوائے کور باطن کے کوئی نہیں کہہ سکتا۔ عقلا یہ بات ناممکن ہے کہ ایسا فاضل معلم جس نے آپ ﷺ کو ایسے عجیب و غریب علوم کی تعلیم دی کہ دنیا اس کے نام سے بھی واقف نہ ہو حتیٰ کہ مکہ کے لوگ بھی اس سے واقف نہ ہوں اگر آپ ﷺ نے کسی معلم سے تعلیم پائی ہوتی تو کم از کم حضور پر نور ﷺ کے برابر تو تاریخ میں اس کا نام و نشان ملتا۔ بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور باوجود دلائل اعجاز کے اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ اللہ ان کو دنیا میں راہ راست نہیں دکھلاتا اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے اور معاذ اللہ یہ لوگ جو آپ ﷺ کو مفتری نہیں مفتری اور جھوٹ بنانے والے وہ لوگ ہیں جو دیدہ دانستہ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے اور حقیقت میں ایسے ہی لوگ جھوٹے ہیں جو یہ کہتے ہیں۔ انما یعلمہ بشر۔ اور دیدہ دانستہ جھوٹ بولتے ہوئے نہیں جھجکتے
Ayahs 16:106–110

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کیساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے کہ خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بیشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت والا ہے۔

حکم مرتد قال اللہ تعالیٰ : من کفر باللہ من بعد ایمانہ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ان مجرمین کا ذکر تھا جو شواہد نبوت اور دلائل رسالت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر مجرم وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان لانے اور تسلیم کرنے کے بعد شیطانی شبہات اور نفسانی وساوس سے متاثر ہو کر حق سے منحرف اور برگشتہ ہوجائیں۔ یعنی ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائیں۔ ان آیات میں مرتد کے عزاب اور اس کی سزا کا بیان ہے مگر اس عذاب سے وہ شخص مستثنیٰ ہے کہ جو بحالت مجبور ہی اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ کفر محض زبان سے بول دے اور دل اس کا ایمان پر قائم اور مستحکم ہو تو ایسا شخص گنہگار نہ ہوگا۔ صحابہ کرام ؓ سے اس قسم کے کچھ واقعات منقول ہیں۔ بعض نے تو جان جانی گوارا کی مگر کلمہ کفر زبان سے نہ نکالا اور عزیمت پر عمل کیا اور بعض نے رخصت پر عمل کیا کہ زبان سے تو کہہ دیا مگر دل سے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ بعدازاں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کی فضیلت بیان کی جنہوں نے کفار کی ایذاء رسانی پر صبر کیا۔ اور ایمان پر قائم رہے اور اپنے گھروں کو اللہ کے لیے چھوڑ دیا۔ دنیا پر لات ماری اور آخرت کی راہ لی چناچہ فرماتے ہیں اور جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کا کفر کرے اور کافروں کے مغالطہ دینے سے کہ یہ قرآن اللہ کی وحی نہیں بلکہ کسی بشر کی تعلیم ہے یا خود اس کا ساختہ، پرداختہ کلام ہے۔ کوئی شخص مرتد ہوجائے تو وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہے مگر وہ شخص جس پر زبردستی کی گئی اور اس نے بحالت مجبوری محض زبان سے لفظوں میں کافروں کی موافقت کرلی اور دل اس کا ایمان کے ساتھ مطمئن ہے دل کے اندر کوئی تزلزل اور تذبذب نہیں تو ایسے شخص پر مؤاخذہ نہیں و لیکن جس نے دل کھول کر کفر کیا اور دل سے اس پر راضی ہوگیا۔ تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے یہ بڑا عذاب اور غضب اس لیے کہ انہوں نے آخرت کے مقابلہ میں دنیاوی زندگی کو عزیز اور محبوب رکھا اور بسبب اس بات کے اللہ ایسے کفار کو ہدایت اور توفیق نہیں دیتا کہ جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ ارتداد اور کفر پر اقدام اس وجہ سے ہے کہ اللہ نے ان کو ایمان کی توفیق نہیں دی اور کفر سے ان کو نہیں بچایا چونکہ یہ لوگ دیدہ دانستہ الٹی راہ پر چلے اس لیے خدا نے ان کو اپنی ہدایت اور توفیق سے محروم کردیا بلکہ ایسے ہی لوگوں کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مہر کردی کہ نہ حق کو سمجھ سکیں اور نہ سن سکیں اور نہ دیکھ سکیں ان کے عناد اور سرکشی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کو حق سے اندھا اور بہرا اور احمق بنا دیا اور خدا تعالیٰ تو مالک مطلق ہے بیوجہ بھی جس کو چاہے اندھا اور بہرا بنائے اور یہ لوگ تو حق سے بالکل ہی غافل ہیں ان کی غفلت تو انتہاء کو پہنچ چکی ہے آخرت کی غفلت سے بڑے کر کوئی غفلت نہیں۔ لامحالہ یہ لوگ آخرت میں بڑے خسارہ والے ہیں اس لیے کہ عمر عزیز کا سارا سرمایہ دنیا کے بازار میں لٹا دیا اور آخرت کے بازار میں مفلس اور قلاش اور خالی ہاتھ پہنچے اب سوائے حسرت کے کیا ہاتھ آئے گا۔ قیامت کہ بازار بینو نہند منازل باعمال نیکو دہند بضاعت بچند آنکہ آری بری وگر مفلسی شرمساری بری کہ بازار چند آنکہ آگندہ تر تہیدست رادل پراگندہ تر کسے را کہ حس عمل بیش تر بدرگاہ حق منزلت پیش تر از شیخ سعدی (رح)۔ حق تعالیٰ نے ان آیات میں کافروں کے چھ وصف بیان کیے۔ اول : وہ غضب الٰہی کے مستحق ہوئے۔ دوم : عذاب عظیم کے مستحق ہوئے۔ سوم : حیات دنیاوی کو اخروی حیات کے مقابلہ میں عزیز اور محبوب رکھا۔ چہارم : حرمان از ہدایت خداوندی۔ پنجم : دل اور آنکھ اور کان پر مہر لگنا۔ ششم : غفلت میں انتہا درجہ کو پہنچ جانا۔ نعوذ باللہ من ذلک کلہ۔ یہ تو ان غافلین کا حال اور مآل ہوا پھر ان کے مقابلہ میں ایک دوسرا گروہ ہے جو نجائے غضب اور عقوبت کے رضاء اور رحمت کے مورد بنے وہ مہاجرین اولین کا گروہ ہے ان کی بابت ارشاد ہے۔ بیشک تیرا پروردگار ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے کافروں کی ایذاء رسانی اور ستم رانی کے بعد ہجرت کی اور پھر کافروں سے جہاد بھی کیا یعنی فقط ترک وطن پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خدا کی راہ میں اپنی قوم کے کافروں سے جہاد بھی کیا تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور کفر ذلیل و خوار ہو اور اس راہ میں جو بھی مصائب پیش آئے ان پر صبر کیا اور ان مصائب میں اسلام پر ثابت قدم رہے پائے استقامت میں کوئی تزلزل نہیں آیا تو بیشک آپ کے پروردگار ایسے اعمال فاضلہ ہجرت اور جہاد اور صبر کے بعد ان کے گناہوں کی مغفرت کرنے والا بڑا مہربان ہے ایسے لوگوں کی مغفرت اور رحمت میں کوئی شبہ نہیں۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا۔

ذکر جزائے آخرت قال اللہ تعالیٰ : یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا .... الیٰ .... وھم لا یظلمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کے لیے وعدہ اور اہل کفر کے لیے وعید کا ذکر تھا اب اس آیت میں اس وعدہ اور وعید کے ظہور کا وقت بیان کرتے ہیں اصل عذاب اور ثواب تو مرنے کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے مگر اس کا پورا ظہور قیامت کے دن ہوگا یعنی جس دن کہ کوئی کسی کے کام نہ آئے گا اور ہر ایک اپنی اپنی فکر میں ہوگا اور ہر نفس اپنی طرف سے مجادلہ کرے گا اور خویش و اقارب کو بھی بھول جائے گا۔ اور اپنی رہانی کے جھوٹے سچے عذر کرے گا لیکن اس کی حجت اور ساری عذر معذرت بےسود ہوگی۔ اور ہر جان کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ نہ ثواب میں کمی ہوگی نہ عذاب میں زیادتی ہوگی۔