Ayahs 16:35–37تیسرا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : وقال الذین اشرکوا لوشاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء ... الیٰ .... وما لہم من نصرین
(ربط) اس آیت میں مشرکین کے تیسرے شبہ کا ذکر ہے جس کو وہ اپنے اعمال شرکیہ و کفریہ کا جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمارا کفر اور شرک اور ہمارے شرکیہ مثلا بحیرہ و سائبہ وغیرہ ناپسند ہوتے تو ہم کو کرنے ہی کیوں دیتا۔ اگر خدا تعالیٰ کو ہماری یہ باتیں ناپسند ہوتیں تو وہ ہمیں ایسی باتیں کرنے سے روک دیتا اور اگر ہم نہ رکتے تو ہم کو فوراً سزا دیتا معلوم ہوا کہ خدا ہمارے اس کفر و شرک سے راضی اور خوش ہے اور باالفاظ دیگر ہم مجبور اور معذور ہیں خدا کے ارادہ اور مشیت کے خلاف نہیں کرسکتے۔ اس آیت میں مشرکین کے اس شبہ کا جواب دیتے ہیں حاصل جواب یہ ہے کہ یہ جہالت کی باتیں ہیں اگلے کافر بھی اپنے رسولوں کے مقابلہ میں اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے یعنی اپنے آپ کو بالکل مجبور محض بتاتے تھے یہ بالکل غلط ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبور محض نہیں بنایا۔ بلکہ حق اور باطل کے سمجھنے کے لیے عقل عطا فرمائی اور پھر اس کو عمل کی قدرت بھی دی کہ اپنے اختیار سے خیرو شر کرسکے اور ہر گروہ میں اللہ تعالیٰ نے رہبری اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجے جو بالاتفاق شرک اور بت پرستی اور برے کاموں سے منع کرتے رہے اور صاف یہ اعلان کرتے رہے کہ یہ کام خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہے انبیاء (علیہ السلام) کا کام تبلیغ تھا سو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بندوں تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد جس نے انبیاء (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا اس کو سزا ملی اس طرح ان پر اللہ کی حجت پوری ہوئی لہٰذا تم کو ان عبرتناک سزاؤں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ اگر کفر اور شرک خدا کو پسند ہوتا تو ان کو یہ عبرتناک سزائیں دے کر ہلاک نہ کرتا اور خوب سمجھ لو کہ اللہ کو پہلے سے معلوم تھا کہ کون ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی مرضیات اور نامرضیات سے تم کو آگاہ کردیا ہے اور اس حلیم و کریم نے کفر و شرک پر فورا نہیں پکڑا۔ جب جرم کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو عذاب سے تباہ اور ہلاک کردیا لہٰذا تم کو خدا کی مہلت سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ بات خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ اور خدا تعالیٰ اس سے راضی اور خوش ہیں۔ مجرم کا اپنے جرم کے جواز اور استحسان ثابت کرنے کے لیے یہ کہنا کہ حکومت نے مجھ کو فورا کیوں نہیں پکڑا۔ ماہر قانون کی نظر میں اس قسم کا عذر دیوانہ کی بڑ ہے۔ قانون دان یہی کہے گا کہ جب حکومت نے یہ قانون بنا دیا اور اس کا اعلان بھی کردیا کہ فلاں چیز قانونا جرم ہے تو اب اگر حکومت پر بنائے شفقت یا بربنائے مصلحت کسی مجرم کو فورا نہ پکڑے اور اس کو کچھ مہلت دے تو حکومت کا کسی مجرم کو فورا نہ پکڑنا اور اس کی مہلت دینا یہ اس جرم کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔
اور چونکہ آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین تھے اس لیے آپ ﷺ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرلیں اور عذاب الٰہی سے بچ جائیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تسلی کے لیے ارشاد فرمایا ان تحرص علی ھدھم یعنی آپ ﷺ ان بدبختوں کے ایمان لانے کی حرص اور طمع میں نہ پڑئیے کیونکہ جو شخص دیدہ و دانستہ باختیار خود گمراہی کو اختیار کرے اللہ ایسے ماند کو ہدایت اور توفیق سے نہیں نوازتا۔
ان کا عناد اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کا ارادہ نہیں فرمایا چناچہ فرماتے ہیں۔ اور مشرکین نے یہ کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کو نہ پوجتے نہ ہم اور نہ ہمارے آباؤ اجداد اور نہ ہم اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام قرار دیتے خدا تعالیٰ تو ہر امر پر قادر ہے کوئی اس کے ارادہ اور مشیت کو روک نہیں سکتا جو وہ چاہتا ہے اگر خدا ہم سے شرک چھڑانا چاہتا تو ہم کبھی شرک نہ کرتے اور نہ بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ کو حرام ٹھہراتے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے ان افعال سے ناخوش ہوتا تو ہم کو اس کام کے کرنے کی قدرت ہی نہ دیتا۔
اور زجاج (رح) یہ کہتے ہیں کہ ” مشرکین کا یہ کلام بطور استہزاء اور تمسخر تھا اور اگر بطور اعتقاد ہوتا تو مومن ہوجاتے ان کا مقصود آنحضرت ﷺ کے ساتھ استہزاء کرنا تھا اور مطلب یہ تھا کہ خدا کو نبی بھیجنے کی کیا ضرورت ہے اگر خدا ہم سے شرک چھڑانا چاہتا تو ہم کبھی شرک نہ کرتے۔ خواہ تو آتا یا نہ آتا اب جب ہم تیرے خیال میں کفر کر رہے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو ہم سے کفر کرانا ہی منظور تھا “۔
بعض علماء نے زجاج (رح) کے قول کو اختیار کیا اور اس تفسیر پر یہ آیت گزشتہ آیت وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزؤن کے ساتھ غایت درجہ مربوط ہوجائے گی۔ مگر راجح اور صحیح بات وہی ہے جو اول مذکور ہوئی کہ اس قول سے مشرکین کا اصلی مقصود اپنے کفر و شرک کا جواز اور استحسان ثابت کرنا تھا نہ کہ استہزاء و تمسخر۔
حق جل شانہ ان کے اس جاہلانہ اور معاندانہ سوال با استدلال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ کوئی ان کی نئی بات نہیں بلکہ ان سے پہلے جتنے مشرک گزرے ہیں۔ انہوں نے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کے لیے اسی قسم کا حیلہ بہانہ اور یہی مہمل شبہ کیا تھا اور اسی طرح انہوں نے بھی رسولوں کا مقابلہ کیا اور ہلاک ہوئے پس اس سے رسولوں کا کیا بگڑ گیا۔ رسولوں پر تو صرف اس قدر فرض ہے کہ صاف صاف حکم اللہ کا پہنچا دیں۔ ماننا نہ ماننا لوگوں کا اختیار ہے۔ انبیاء کا کام تو پہنچا دینا ہے باقی ہدایت دینا یہ اللہ کا کام ہے وہ مالک ہے جس کو چاہے گمراہ کرے اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے بینا بنائے اور جس کو چاہے نابینا بنائے بعثت کا فریضہ صرف دعوت الی الحو ہے باقی سعادت و شقاوت اور ہدایت و ضلالت وہ سب اللہ کے اختیار میں ہے اس میں کسی نبی اور ولی کو دخل نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے وقت سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ تک تمام انبیاء ومرسلین نے بالاتفاق سختی کے ساتھ سڑک سے منع کیا اور بتلا دیا کہ جو ایمان لائے گا وہ نجات پائے گا اور جو کفر کریگا وہ ہلاک ہوگا اور برباد ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خیر و شر کرنے کی قدرت دی اور انبیاء کے ذریعے یہ بتلا دیا کہ یہ چیز خیر ہے اور یہ چیز شر ہے پھر جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ عذاب الٰہی سے ہلاک ہوا معلوم ہوا کہ یہ چیز اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ ابتداء میں انبیاء کرام (علیہ السلام) نے آگاہ کیا اور کفر و شرک سے منع کیا اور آخر میں اس کے ارتکاب پر قہر الٰہی نازل ہوا جس کے آثار اب بھی زمین میں موجود ہیں پس ثابت ہوا کہ یہ چیز اللہ کے نزدیک قطعا ناپسندیدہ ہے کفار اور مشرکین کو عبرت ناک سزائیں دینا۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ کفر اور شرک کے نزدیک جرم عظیم ہیں۔ پسندیدہ چیز کے نجالانے پر تو عذاب نازل نہیں ہوتا۔
حضرت شاہ عبد القادر قدس اللہ سرہ لکھتے ہیں کہ یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ کو یہ کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا آخر ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں پھر وہ کیوں ہوتے ہیں (کیا ان کے نزدیک خدا تعالیٰ ان کے روکنے سے عاجز تھا) دنیا میں اعمال اور افعال مختلف ہو رہے ہیں پس کیا یہ مختلف اور متضاد کام اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں اور سب اس کی مرضی سے ہو رہے ہیں یہاں حق تعالیٰ نے مجمل جواب فرمایا کہ ہمیشہ رسول منع کرتے آئے ہیں جن کی قسمت میں ہدایت تھی انہوں نے ہدایت پائی اور جو خراب ہونا تھا وہ خراب ہوا اللہ کو یہی منظور ہے۔ (انتہی) ۔
انسان کو فی الجملہ ایسی قدرت اور ایسا اختیار دے دیا گیا کہ جو خیر و شر دونوں کے کرنے پر قادر ہو اینٹ اور پتھر کی طرح مجبور نہ ہو مگر اس کے علم ازلی میں یہ مقدر ہوچکا ہے کہ بعض ایمان لائیں گے اور بعض کفر پر قائم رہیں گے اتمام حجت کے لیے اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا کہ وہ تم کو آگاہ کردیں کہ کفر اور شرک صریح گمراہی وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا غرض یہ کہ انبیاء و رسل کا تبلیغ اور دعوت سے اور پھر کافروں اور مشرکوں پر قہر الٰہی کے نزول سے یہ واضح ہوگیا کہ کفر و شرک خدا کے نزدیک جرم عظیم ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرح ہر امت میں ایک رسول بھیجا اس صریح حکم کے ساتھ کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور شیطان کے راستے سے یعنی کفر و شرک سے بچو مطلب یہ ہے کہ توحید کی دعوت کوئی نئی دعوت نہیں قدیم سے یہی تعلیم چلی آرہی ہے سارے پیغمبر یہی کہتے رہے کہ خالص اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ سے بچو۔ انبیاء (علیہ السلام) نے تو اللہ کا پیغام پہنچا دیا لیکن لوگ مختلف اور متفرق ہوگئے کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا چناچہ فرماتے ہیں۔
پھر ان ائم میں سے جن کے پاس گئے کسی کو اللہ نے ہدایت دی کہ اس نے حق قبول کیا اور کسی پر یہ قضائے الٰہی گمراہی ثابت ہوئی یعنی گمراہی اس کو ایسی چمٹی کہ مرتے دم تک اس کا پیچھا نہ چھوڑا جیسا کہ دوسری آیت فریقا ھدی وفریقا حق علیہم الضلالۃ ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور ایک گروہ پر گمراہی ثابت اور قائم ہوئی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کا حکم اور اس کی رضا مندی اور شئی ہے اور اس کا ارادہ اور مشیت اور شق ہے۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ سب اس کی عبادت کریں اور کفر و شرک سے بچیں اور یہ حکم عام ہے اور سب کے لیے ہے مگر اس کا ارادہ اور مشیت یہ ہے کہ بعض کو ہدایت دے اور بعض کو گمراہ کرے
در کار خانہ عشق از کفر ناگزیر است دوزخ کرا بسوزدگر بو لہب نباشد
اگر وہ سب کی ہدایت چاہتا تو سب ہدایت پر ہوجاتے کما قال تعالیٰ ولوشاء لھداکم اجمعین۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہی ہدایت دیتا لیکن اللہ کا یہ ارادہ اور یہ مشیت کہ بعض ایمان لائیں اور بعض کفر کریں۔ یہ اس کی تقدیر ازلی ہے اس کا علم سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو نہیں اس نے اپنی تقدیر ازلی کو پوشیدہ رکھا اور اپنے حکم کو پیغمبروں کی زبانی ظاہر فرما دیا اور بندوں کو آگاہ کردیا کہ سب اس کی عبادت کریں بندوں کو چاہئے کہ اس کے حکم کی تعمیل کریں اور اس کی مشیت اور اس کی تقدیر پر ازلی میں نہ پڑیں وہ ایک سر مکتوم ہے جس کا سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو علم نہیں۔ مشرکین کے اس شبہ کا منشا یہ تھا کہ انہوں نے مشیت خداوندی اور رضائے خداوندی میں فرق نہ کیا اللہ نے جواب میں فرق کی طرف اشارہ فرما دیا۔
خلاصہ جواب یہ ہے کہ بیشک ہر چیز اللہ کی مشیت سے ہے مگر اس کی مشیت اور چیز ہے۔ اور اس کا حکم اور رضا مندی اور چیز ہے۔ اللہ ہر کام سے راضی نہیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے اس نے اپنے احکام اور مرضیات سے تم کو باخبر کردیا اور اپنی رضا مندی کو تم پر ظاہر کردیا اور اپنے ارادہ اور مشیت کو تم سے پوشیدہ رکھا۔ پس تم ملک میں پھرو، پھر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں اور انبیاء (علیہ السلام) کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوا اگر خدا کے نزدیک کفر و شرک اور انبیاء کی تکذیب کرنے والوں اور انبیاء (علیہ السلام) کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوا اگر خدا کے نزدیک کفر و شرک اور انبیاء کی تکذیب پسندیدہ ہوتی تو گزشتہ قومیں اس ذلت اور رسوائی کے ساتھ تباہ نہ ہوتیں اور مشرکین اور مکذبین کا عذاب الٰہی سے مسلسل اس طرح تباہ و برباد ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ واقعات اتفاقی نہ تھے بلکہ ان کی تکذیب اور کفر کی سزا تھی جو انبیاء کرام کی پیشن گوئی کے بعد پیش آئے جس سے کفار ہلاک ہوئے اور اہل ایمان عذاب سے محفوظ رہے عذاب ایک ہے مگر بحکم خداوندی کافروں کو تہ وبالا کر رہا ہے اور مومنین سے کنارہ کشی کر رہا ہے پس کفار اور مشرکین پر اس طرح مسلسل قہر خداوندی کا نزول اس امر کی دلیل ہے کہ کفر اور شرک خدا تعالیٰ کے نزدیک غایت درجہ مبغوض ہے اور ابتہا درجہ کا جرم ہے زمانہ حال کے مشرکین کو چاہئے کہ گزشتہ زمانے کے مشرکین کی عبرتناک سزاؤں کے آثار دیکھ کر عبرت پکڑیں اور خدا کے ارادہ اور مشیت کو بہانہ نہ بنائیں بیشک عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اسی کی مشیت اور ارادہ سے ہو رہا ہے عالم کا کوئی ذرہ بغیر اس کے ارادہ اور مشیت کے حرکت نہیں کرسکتا لیکن کسی چور اور قزاق کو اپنی چوری کے جواز کے لیے یہ کہنا کہ اگر خدا چاہتا تو میں چوری نہ کرتا اس سے اس کے جرم میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور چور کا یہ عذر جرم بالائے جرم متصور ہوگا۔
اور چونکہ آنحضرت ﷺ کو ان کی گمراہی سے غایت درجہ رنج و غم ہوتا تھا اس لیے آئندہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسلی فرماتے ہیں۔ اے نبی ! اگر آپ ﷺ ان کی ہدایت پر حریص ہیں۔ اور آپ ﷺ کی دلی تمنا یہ ہے کہ یہ گمراہی سے نکل کر راہ راست پر آجائیں تاکہ دوزخ میں نہ جائیں۔ اس امید سے آپ ﷺ اپنے دل کو خالی کر دیجئے۔ تحقیق اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو علم ازلی میں گمراہ کرنے کا ارادہ فرماتا ہے۔ اللہ کا سابق ارادہ ازلی اور قدیم ہے وہ کسی حادث کو روکنے سے رک نہیں سکتا۔ لہٰذا آپ ﷺ کی یہ حرص اور طمع ان کی ہدایت کے بارے میں بےفائدہ اور بےنتیجہ ہے ان کا کوئی مددگار نہیں کہ جو ان کو اللہ کی مشیت سے بچا سکے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان سرکشوں کی ہدایت منظور نہیں یہ کسی طرح ہدایت پر نہیں آئیں گے۔ آپ ﷺ ان کی فکر میں نہ پڑیں اور تنگ دل نہ ہوں۔ ازلی گمراہ کو کون ہدایت پر لاسکتا ہے جس پر اللہ کی گمراہی ثابت ہوچکی ہے اس کی ہدایت کی حوص میں نہ پڑیں۔ شروع آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلا دیا کہ اللہ نے ہر امت میں جو رسول بھیجا اس نے اللہ کے تمام بندوں کو ایمان کی دعوت دی اور کفر و شرک سے سب کو منع کیا اب ان اخیر آیات میں یہ بتلایا اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت اور مصلحت کی بناء پر سب بندوں کی ہدایت کا ارادہ نہیں فرمایا ہدایت اور توفیق اس کا عطیہ ہے۔ اس کو اختیار ہے جس کو چاہے اپنی عطا سے نوازے اور جس کو چاہے نہ نوازے اس کے ذمہ کسی کا قرض نہیں۔ واللہ یختص برحمتہ۔
خلاصہ کلام یہ کہ پیغمبروں کے ذمے اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچا دینا ہے سو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے یہ بتلا دیا کہ تکوینی طور پر اسکی بارگاہ لم یزل ولا یزال میں یہ طے ہوچکا ہے کہ سب ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر تشریعی طور پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی زبانی یہ بتلا دیا کہ حکم خداوندی یہ ہے کہ کفر اور شرک سراسر گمراہی ہے اور سم قاتل اور ایمان اور اطاعت سراسر ہدایت ہے اور تریاق ہے اور عالم میں جو کچھ بھی ہے اور جو ہو رہا ہے وہ سب اس کے ارادے اور مشیت کے دائرہ سے باہر نہیں۔ ہدایت اور ضلالت اور سعادت و شقاوت ازل میں جاری ہوچکی ہے۔ ان میں تبدیل و تحویل کی گنجائش نہیں۔ عطر اور گلاب (ایمان و اطاعت) تمہارے سامنے ہے اور پاخانہ اور پیشاب (کفر و شرک) بھی تمہارے سامنے ہے اگر کوئی دیوانہ نجائے عرق گلاب کے پیشاب پینے لگے اور دلیل یہ بیان کرے کہ ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے اور میرا ہر کام اللہ کی مشیت اور ارادہ سے ہے لہٰذا پیشاب پینا جائز ہے تو یہ دلیل نہیں بلکہ دیوانہ کی بڑ ہے۔
(اطلاع) اسی قسم کی آیت پارہ ہشتم میں گزر چکی ہے وہاں اس کی مفصل تفسیر آچکی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔
Ayahs 16:38–42چوتھا شبہ
قال اللہ تعالیٰ : واقسموا باللہ جھد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت .... الیٰ .... وعلی ربھم یتوکلون۔
(ربط) اس آیت میں بھی کافروں کی ایک جہالت کا بیان ہے کہ وہ لوگ قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ جو مرگیا اور ریزہ ریزہ ہو کر خاک میں مل گیا وہ دوبارہ زندہ نہیں ہوسکتا اور جب انسان دوسری زندگی کا قائل نہیں ہوتا تو پھر وہ نیکی اور بدی کی پرواہ نہیں کرتا۔ دنیا کی کامیابی اور بیہودی ہی اس کا مطمح نظر ہوتی ہے جیسا کہ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں، اللہ پناہ میں رکھے آمین۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیا کہ قیامت کا آنا برحق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے حق اور ناحق کے فیصلہ کے لیے اور فرماں برداروں اور نافرمانوں کی جزاء اور سزا کے لیے قیامت کا قائم ہونا اور مردوں کا زندہ ہونا ضروری ہے جس قادر مختار نے پہلی بار تم کو ایک قطرہ آب سے پیدا کیا اس کے لیے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں اس کے بعد اپنی قدرت کا ملہ کو بیان کیا۔ انما قولنا لشیء اذا اردنہ ان نقول لہ کن فیکون۔ اس آیت میں اپنا قادر مطلق ہونا بیان کیا کہ ہم دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز نہیں پھر اس کے بعد والذین ھاجروا فی اللہ الخ میں مہاجرین کی فضیلت اور بشارت کو بیان کیا جنہوں نے خدا کی راہ میں آخرت کے یقین اور ثواب کی امید پر کفار اور مشرکین کے ہاتھ سے طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں بالآخر لاچار اور مجبور ہو کر وطن چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے کیا ان مہاجرین کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ ان سب کی جزاء اور انعام ان کو دار آخرت میں ملے گا چناچہ فرماتے ہیں۔
اور قسمیں کھائیں ان لوگوں نے اللہ کی۔ سخت قسمیں یعنی انتہائی کوشش اور بڑی مضبوطی اور پورے زور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھائیں کہ اللہ نہیں اٹھائے گا اس کو کہ جو مرجائے گا اور قیامت نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کیوں نہیں وہ اٹھائے گا۔ پکا وعدہ ہوچکا ہے جس کا ایفاء اس پر لازم ہے تمام پیغمبروں کی زبانی اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد بندوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے حق تعالیٰ حسب وعدہ بندوں کو ضرور زندہ کرے گا تاکہ اللہ ان پر اس امر کو کھول دے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ یعنی قیامت کے قائم ہونے سے ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ خدا کے پیغمبر جو بیان کرتے تھے وہ سب حق تھا قیامت اور جنت اور جہنم سب حق ہے اور جو اب باتوں کے مخالف تھے وہ سب غلطی پر تھے اور دوسری حکمت قیامت کے قائم ہونے میں یہ ہے کہ کافر جان لیں کہ ہم افکار قیامت اور تکذیب رسالت میں جھوٹے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قائم ہونے میں دو حکمتیں ہیں اول تو یہ کہ حق اور باطل کے بارے میں جو اختلاف تھا اس کا فیصلہ ہوجائے اور آنکھوں سے حق اور باطل نظر آجائے اور دوسری حکمت یہ ہے کہ صدق اور کذب کا فیصلہ ہوجائے۔
اب آگے کافروں کے شبہ کا رد فرماتے ہیں کہ ہم دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز نہیں ہماری قدرت کا تو یہ حال ہے کہ جب ہم کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو جو چیز ہمارے علم میں ہوتی ہے ہم اسے کہتے ہیں ” کن “ ہوجا۔ پس وہ ہوجاتی ہے۔ جس چیز کے پیدا کرنے کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے فقط ہمارا ارادہ کافی ہوتا ہے ہماری ایجاد کسی مادہ اور مدت پر موقوف نہیں۔ کافروں کا یہ اعتقاد تھا کہ اللہ تعالیٰ بعث اموات سے عاجز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کی قدرت حاصل ہے وہ کسی بات سے عاجز نہیں جب وہ قادر مطلق معدوم سے کہتا ہے ہوجا تو فوراً عدم نے نکل کر وجود میں آجاتا ہے ایسی ذات کو مردوں کا زندہ کرنا کیا دشوار ہے جب زندہ کرنا چاہے گا فوراً زندہ ہوجائیں گے۔
آنکہ پیش از وجود جاں بخشد ہم تو اند کہ بعد ازاں بخشد
چوں در آورد از عدم بوجود چہ عجب باز گر کند موجود
یہاں تک منکرین بعث اور مکذبین قیامت کا ذکر تھا اب آگے ان مومنین کاملین کی فضیلت اور بشارت کا ذکر فرماتے ہیں جن کا آخرت اور قیامت پر یقین کامل ہے اور اس یقین کامل کی بنا پر انہوں نے ہجرت کی اور قسم قسم کی مصیبتوں اور اذیتوں پر صبر کیا اور اللہ پر بھروسہ کیا چناچہ فرماتے ہیں۔
اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ بعد اس کے کہ کافروں کی طرف سے ان پر ظلم کیا گیا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ان کو ضرور دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے۔ جہاں احکام اسلام پر عمل کرنے میں کوئی حارج اور مزاحم نہ ہو۔ اچھا ٹھکانہ دینے سے دنیا میں سلطنت دنیا مراد ہے جہاں اسلام غالب ہوا اور کفر مغلوب ہو چناچہ خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کو پورا فرما دیا اور اسلام اور مسلمانوں کو کفر اور کافروں پر غلبہ عطا کیا اور جن ظالموں نے مسلمانوں کا اجر اس سے کہیں بہتر ہے کاش کافر جان لیتے کہ خدا تعالیٰ نے کفار کے مظالم پر صبر کیا۔ اور مضبوطی کے ساتھ حق پر ثابت قدم رہے اور خدا کا وعدہ ہے کہ صابرین کو بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔ اور یہ لوگ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اور جو اللہ کریم پر بھروسہ کرے اور مخلوق سے بالکل یہ منقطع ہوجائے اور بالکلیہ خالق کی طرف متوجہ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کو کافی ہے اور جس میں صبر اور توکل کی صفتیں جمع ہوجائیں وہ بلاشبہ انعامات خداوندی کا مستحق ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت وعدہ مہاجرین اولین میں نص صریح ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے لیے وعدہ فرمایا کہ وہ انہیں دنیا میں بھی نیکی اور بھلائی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی۔ اور دنیا کی نیکی سے یہی فتح و نصرت اور خلافت و امارت اور اخذ غنائم مراد ہے بعد ازاں جب ہم نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں حسنہ اور بھلائی عطا فرمائی تو ہم یقین کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں بھی اجر عظیم فرمائے گا۔
چناچہ روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ جب کسی مہاجر کو اس کا حق دیتے تو فرماتے اللہ تمہیں اس میں برکت دے یہ تمہارا وہ حق ہے جس کا اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے اور آخرت میں جو کچھ اس نے تمہارے لیے رکھا ہے وہ اس سے بھی بہتر ہے اور پھر یہ آیت تلاوت کرتے۔ لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ ولاجر الاخرۃ اکبر۔ (ازالۃ الخفاء)
Ayahs 16:43–44پانچواں شبہ
قال اللہ تعالیٰ : وما ارسلنا من قبلک الا رجالا .... الیٰ .... ولعلہم یتفکرون۔
(ربط) اس آیت میں کافروں کے اس شبہ کا جواب دیتے ہیں جو وہ کہا کرتے تھے کہ پیغمبر بشر نہیں ہوتا بلکہ فرشتہ ہونا چاہئے۔ یہ لوگ رسالت اور بشریت میں منافات سمجھتے تھے اس لیے ایسا کہتے تھے حق تعالیٰ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جتنے پیغمبر ہم نے پہلے بھیجے وہ سب بشر تھے اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو اہل علم سے دریافت کرلو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی ہدایت کے لیے فرشتے نازل نہیں کئے، بلکہ انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا اور ان کی صداقت کے لیے ان کو معجزات عطا کیے چناچہ فرماتے ہیں اور نہیں بھیجا ہم نے رسول بنا کر آپ سے پہلے مگر صرف مردوں کو نہ فرشتوں کو اور نہ عورتوں کو وحی بھیجتے تھے ہم ان کی طرف ہقام نبوت و رسالت مردوں کے لیے مخصوص ہے۔ کسی عورت کو اللہ تعالیٰ نے بنی اور رسول نہیں بنایا اور نہ ان کی طرف وحی نبوت و رسالت بھیجی۔ حضرت مریم (علیہ السلام) اور مادر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جس وحی کا ذکر آیا ہے وہ وحی الہام اور روحی ولایت تھی نہ کہ وحی نبوت و رسالت کیونکہ وحی کا لفظ قرآن کریم میں مختلف معنی میں مستعمل ہوا ہے ” الہام “ کے معنی میں بھی آیا ہے جیسا کہ واوحی ربک الی النحل میں ایحاء سے وحی الہام مراد ہے۔ اور وان الشیاطین لیوحون الیٰ اولیاءھم میں ایحاء سے وسوسہ مراد ہے اس لیے کہ وحی کے لغوی معنی القاء خفی کے ہیں جو وحی نبوت اور وحی الہام اور وسوسہ وغیرہ کو شامل ہیں۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ شان خداوندی اس سے بالا تر ہے کہ اس کا پیغمبر آدمی ہو اگر خدا کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا تو فرشتوں کو بھیجتا اس پر خدا تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ عادۃ اللہ یوں ہی جاری ہے کہ وہ فرشتوں کو پیغمبر بنا کر نہیں بھیجتا ہے سابق میں اس نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب آدمی تھے اور سب مرد تھے تو محمد ﷺ کی نبوت و رسالت میں کیا استبعاد ہے۔ پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ جن میں ہمیشہ پیغمبر آتے رہے وہ تم کو بتلا دیں گے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر اس وقت تک جو نبی گزرا وہ مرد تھا فرشتہ نہ تھا اہل کتاب سے پوچھنے کا حکم اس لیے دیا کہ کفار مکہ ان کے علم کے معتقد تھے غرض یہ کہ آپ ﷺ سے پہلے جس قدر نبی بھیجے گئے وہ سب مردوں میں سے تھے اور کھلے معجزات اور صحیفوں کے ساتھ بھیجے گئے اور اسی طرح اے نبی ﷺ ہم نے تیری طرف یہ نصیحت کی کتاب اتاری تاکہ تو تمام لوگوں کے لیے اللہ کے نازل کردہ احکام۔ اوامرو نواہی کو صاف اور واضح طور پر بیان کرے اور نیز یہ نصیحت کی کتاب اس لیے اتاری گئی کہ وہ اس میں غوروفکر کریں اور جانیں کہ یہ مخلوق کا کلام نہیں اور ہدایت پا جائیں۔ غوروفکر سے انسان حق کی راہ پاتا ہے اور عناد اور غفلت آدمی کو تباہ اور برباد کر کے چھوڑتی ہے۔
فائدہ اولیٰ : (1) اس آیت کے عموم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر عالم پر عالم کی تقلید واجب ہے۔ اور تقلید کے معنی یہ ہیں کہ غیر عالم کسی عالم سے حکم شرعی دریافت کرے۔ اور بغیر دلیل معلوم کیے اس پر عمل کرے تقلید شخصی میں کسی خاص امام کی ذات کا اتباع مقصود نہیں ہوتا اس لیے کہ ذاتی طور پر سوائے رسول خدا ﷺ کے کسی کا اتباع واجب نہیں۔ غیر عالم، عالم شریعت سے جو مسئلہ پوچھتا ہے اس کا مقصود حکم شرعی کا دریافت کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس کی ذاتی رائے۔ جو شخص کسی کو نبی کی طرح واجب الاتباع سمجھے وہ کافر ہے البتہ بغیر سند اور بغیر دلیل معلوم کیے کسی حدیث کو امام بخاری (رح) کے اعتماد پر صحیح مان لینا یہ تقلید فی الروایت ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کا علم اور فہم اور ان کے تقویٰ اور ان کی نقاہت اور درایت پر اعتماد کرکے قرآن اور حدیث پر عمل کرنا اور ان کے فتویٰ کے مطابق شریعت کا اتباع کرنا۔ تقلید فی الدرایت ہے اور غیر عالم کو عالم کا اتباع واجب ہے اور ظلوم و جہول ایک انسان کو جس کا علم بھی ناقص اور فہم بھی ناقص اور تقویٰ بھی ناقص اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے سمجھے ہوئے معنی کے مطابق قرآن و حدیث پر عمل کرے اس پر فرض ہے کہ راسخین فی العلم اور مستنبطین کی تقلید کرے ناقص پر کامل کا اتباع عقلاً و شرعاً واجب ہے۔
چوں تو یوسف نیستی یعقوب باش بانراران گریہ وآشوب باش
اور جو شخص اپنے آپ کو علم اور فہم میں ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کا ہمسر سمجھے اس سے ہمارا خطاب نہیں اور جو اپنی کمتری کا اقرار کرے تو پھر عرض یہ ہے کہ باجماع عقلاء کمتر پر بالاتر کا اتباع واجب ہے معلوم نہیں کہ مدعیان کمتری بالحدیث کے نزدیک عقلاء عالم کا یہ اجماع حجت ہے یا نہیں۔ نابالغ پر بالغ کا اتباع عقلا و شرعا واجب ہے بغیر ولی کی اجازت کے نابالغ کا کوئی تصرف بیع و شراء اور نکاح وغیرہ معتبر نہیں اسی طرح علم اور فہم کے نابالغوں کا فتویٰ بغیر ائمہ ہدایت۔ ابوحنیفہ (رح) اور شافعی (رح) اور احمد (رح) کی تصدیق اور ولایت کے معتبر نہیں یہ حضرات باتفاق اہل علم۔ علم اور عقل اور ہدایت کے بالغ تھے اور آج کے مدعیان عمل بالحدیث اگر یہ کہیں کہ ہم بھی علم اور عقل کے بالغ ہیں ہمیں کسی بالغ کی ولایت کی ضرورت نہیں تو ہم عرض کریں گے کہ آپ اپنے علم و عقل کے بلوغ کی علامتیں بیان کیجئے تاکہ آپ کے دعوے کا صدق ظاہر ہو سکے۔ فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔
فائدہ دوم : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلق تقلید کو فرض فرمایا ہے اور مطلق تقلید کے دو فرد ہیں ایک تقلید شخصی کو سب مسائل ضروریہ ایک ہی عالم سے پوچھ کر عمل کرے دوسرے تقلید غیر شخصی وہ یہ ہے کہ جس عالم دین سے چاہے حکم شرعی دریافت کرکے اس پر عمل کرے اور آیت اپنے اطلاق کی وجہ سے دونوں قسموں کو شامل ہے اور ظاہر ہے کہ مطلق کا وجود خارج میں افراد ہی کے ضمن میں ہوتا ہے لہٰذا تقلید شخصی بھی مامور بہ کا ایک فرد ہوگی فی حد ذاتہ تقلید کی دونوں قسمیں جو از میں برابر ہیں اور صحابہ کرام وتابعین کے زمانہ میں مسلمان اپنے اپنے شہر کے عالم اور مفتی سے حکم شرعی معلوم کرکے اس پر عمل کرتے تھے اور یہ تقلید شخصی تھی قرأت قرآن بہ سبعۃ احرف جائز اور مخیر تھی مگر حضرت عثمان ؓ نے باجماع صحابہ کرام قرأت قرآن کو لغت قریش پر مقصود کردیا اور باقی حروف پر قرأت قرآن کو ممنوع قرار دیا تقلید غیر شخصی فی حد ذاتہ جائز ہے بشرطیکہ مقصود اتباع شریعت ہو اور بشرطیکہ ہوائے نفسانی سے کالی ہو اور اگر مقصود اتباع ہوائے نفس ہو کہ جس امام کا قول اس کی خواہش اور غرض کے مطابق ہو اس کو لے لے تو یہ تلفیق ہے اور باجماع امت حرام ہے جیسا کہ حافظ ابن تیمیہ (رح) نے اس کی تصریح کی ہے تقلید غیر شخصی سے دین کھیل تماشہ نہیں پڑھا وہ لامحالہ کسی کی تقلید پر مجبور ہے تو اس زمانہ کے علماء اہل حدیث کی تقلید سے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کی تقلید بہتر ہے۔
اے مسلمانو ! امام ابوحنیفہ (رح) سنہ 80 ہجری میں گزرے اور صحابہ کرام کو دیکھا اور پھر صحابہ کرام مثلا حضرت عمر اور حضرت علی ؓ کے شاگردوں سے علم حاصل کیا تو کیا ابوحنیفہ (رح) اس زمانہ کے علماء اہل حدیث سے بھی گئے گزرے تھے کہ ان کی تقلید تو شرک اور بدعت ہوجائے۔ اور اس زمانہ کے علماء اہل حدیث کی تقلید توحید بن جائے۔ اے مسلمانو ! تم اپنے انجام کو سوچ لو۔ (وما علینا الا البلاغ) ۔
Ayahs 16:45–47تہدید اہل مکر بانواع اقسام قہر
قال اللہ تعالیٰ ۔ افا من الذین مکرو السیات .... الیٰ .... فان ربکم لرء وف رحیم۔
(ربط) اب ان آیتوں میں اول سرکشوں کو جو دین حق کے مقابلہ میں مکرو فریب کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو اپنے قسم قسم کے قہر اور عذاب سے ڈراتا دھمکاتا ہے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔
(1) کیا تم کو اطمینان ہوگیا ہے کہ اللہ تم کو زمین میں دھنسا دے ان یخسف اللہ بھم الارض جیسے پہلے بہت سی قوموں پر زلزلہ آیا اور زمین پھٹ گی اور وہ زمین میں دھنس گئے جیسے قارون۔ تو کیا تمہارے لیے یہ ممکن نہیں۔
(2) دوم یہ کہ ان پر ناگہانی طور پر کوئی عذاب آجائے جس کی پہلے سے ان کو خبر نہ ہو کام قال تعالیٰ او یاتیہھم العذاب من حیث لایشعرون۔ جیسے قوم لوط پر ناگہانی طور پر آسمان سے پتھر برسے۔
(3) سوم یہ کہ چلنے پھرنے کی حالت میں یا سفر کی حالت میں ان کو پکڑے مثلا دفعتا کسی ناگہانی بلایا ناگہانی بیماری میں مبتلا ہوجائیں۔
(4) چہارم یہ کہ ان کو بتدریج پکڑے کہ دفعتاً ان پر کوئی بلا نازل نہ ہو بلکہ اس بلا اور آفت سے پہلے اس کے آثار نمایاں ہوجائیں۔ جن کو دیکھ کر یہ پریشان ہوجائیں جیسے قحط اور بیماری اور پھر ہلاک ہوجائیں مگر خدا تعالیٰ رء وف رحیم ہے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔
ان آیات سے مقصود کافروں کو ان کے ناشائستہ افعال و اعمال پر خوف دلانا ہے اور مکر اور تکبر کرنے والوں کو اپنے غلبہ اور قہر سے ڈرانا ہے اور عذاب الٰہی کے ناگہاں آجانے سے انہیں خبردار کرنا ہے اور اپنے علم کی خبر دینا ہے کہ ایسے گنہگاروں اور مکاروں کو مہلت دے رکھی ہے حالانکہ اس کو یہ قدرت ہے کہ فی الفور ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے ان پر عذاب لے آئے۔ جہاں کی ان کو خبر نہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں کیا یہ لوگ جو دین حق کے باطل کرنے کے لیے بڑی بڑی تدبیریں سوچتے رہتے ہیں اس بات سے بےخوف اور نڈر ہوگئے کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسائے جیسے قاروں کو دھنسایا، یا ایسی جگہ سے ان پر عذاب آجائے جہاں ان کو وہم و گمان بھی نہ ہو جیسے قوم لوط اور قوم عاد پر ناگہانی عذاب آیا۔ یا چلتے پھرتے ان کو ناگہانی عذاب میں پکڑ لے مثلا کھیل تماشہ میں یا عیش و عشرت کی حالت میں ناگہانی طور پر مصیبت آجائے پس وہ کسی حالت میں اللہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر نکل نہیں سکتے یا وہ نڈر ہیں اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خوف میں مبتلا کرکے عزاب میں پکڑ لے یعنی اچانک نہ پکڑے بلکہ علامات عذاب کے ظاہر کرنے کے بعد ایسی ھالت میں پکڑے کہ جب لوگ آثار عذاب کو دیکھ کر خوف زدہ ہو رہے ہوں مگر ندامت اور توبہ کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ ایسی حالت میں ان پر عذاب نازل کرے۔ الغرض اللہ ہر طرح قادر ہے کہ ان کی مکاریوں اور بد اعمالیوں کی سزا میں جس عذاب میں جس طرح چاہے مبتلا کرے سب ممکن ہے لیکن وہ حلیم و غفور ہے۔ سزا میں جلدی نہیں کرتا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ بیشک تیرا پروردگار بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے کہ مہلت دیتا ہے اور باوجود استحقاق عقوبت کے فوراً نہیں پکڑتا اس نے تمہیں سمجھا دیا اب آگے خود جانو۔
تذکیر آثار قدرت و تنبیہ برغفلت
Ayahs 16:48–50قال اللہ تعالیٰ : اولم یرو الی ما خلق اللہ من شیء .... الیٰ .... ویفعلون ما یؤمرون۔
(ربط) اب ان آیات میں اپنے آثار جبروت اور آثار ملکوت کو یاد دلاتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ تمام چیزیں اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہیں اور ہر چیز اسی کے حکم پر گردن جھکائے ہوئے ہے اور افسوس ہے کہ تم بنی آدم اور اشرف المخلوقات ہو کر اس کی اطاعت سے انحراف کرتے ہو اور غیروں کی عبادت میں سرگرداں ہو اور خداوند ذوالجلال کے قہر اور عذاب سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہو۔ چناچہ فرماتے ہیں کیا نہیں دیکھتے کافر کہ اللہ نے جو چیز پیدا کی ہے کہ اس کا سایہ داہنی جانب سے اور بائیں جانب سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے جھکتا ہے۔ درآں حالیکہ یہ سب سائے اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شے کا سایہ اللہ تعالیٰ کا مطیع اور منقاد ہے اس کے حکم کے بموجب داہنے سے بائیں اور بائیں سے داہنے کو پھرتا رہتا ہے اور یوں بھی ہر عقت زمین پر پڑا رہتا ہے گویا کہ اللہ کے آگے سربسجود ہے مقصود یہ ہے کہ کافر گو خدا کو سجدہ نہیں کرتے مگر ان کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ سایوں کی حالتیں اور حرکتیں بدلتی رہتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ سایوں کا یہ اختلاف اور تغیر و تبدل کوئی امر ذاتی نہیں بلکہ کسی قادر مختار کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ ہر لمحہ بندوں کو اپنی قدرت کے تماشے دکھا رہا ہے تاکہ سمجھیں کہ پتلیاں کس کے اشارہ پر ناچ رہی ہیں۔
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے یعنی ہر وہ جانور جو زمین پر حرکت کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کے زیر حکم ہیں جس کو جس کام کے لئے بنایا ہے وہی کام اس سے سرزد ہوتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ جب تکوینی طور پر تمام چیزیں اللہ کی مطیع اور فرمانبردار ہیں۔ حتیٰ کہ سایہ دار چیزوں کا سایہ بھی اسی کے حکم کے مطابق گھٹتا اور بڑھتا ہے اور ڈھلتا اور سمٹتا ہے تو پھر ایسے قدرت والے خدا کو عذاب بھیجنے سے کون سی طاقت روک سکتی ہے ایسے قادر و قاہر کے عذاب سے تم کیوں بےخوف ہوگئے اور فرشتے اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ علوی اور نورانی ہیں اور خدا کے مقرب ہیں اور ملائکہ اس کی بندگی سے سرکشی نہیں کرتے اور تکبر سے پاکی یہی تمام محاسن و کمالات کا سرچشمہ ہے بندہ کی بڑائی اسی میں ہے کہ خدا کے سامنے زمین پر اپنا سر رکھ دے اور فرشتے ہر لمحہ ڈرتے رہتے ہیں اپنے پروردگار کی عظمت و جلال سے جو ان پر قاہر و غالب ہے اللہ کی فوقیت سے فوقیت حسیہ اور مکانیہ مراد نہیں بلکہ عظمت و جلال اور غلبہ اور قہر کی فوقیت مرا د ہے مطلب یہ ہے کہ جو بلندی شان اور عظمت میں تمام مخلوق پر بلند اور برتر ہے اس کی اطاعت کرو کما قال تعالیٰ وھو القاھر فوق عبادہ۔ وانا فوقھم قاھرون۔ وفوق کل ذی علم علیم۔
ان تمام آیات میں فوقیت حسیہ مراد نہیں بلکہ فوقیت مرتبہ مراد ہے اور فرشتوں کا یہ خوف۔ خوف اجلال و اعظام ہے نہ کہ خوف اجرام۔ اور قرب خداوندی کا دارومدار اسی خوف پر ہے جس درجہ کا خوف ہو اسی درجہ کا قرب ہوگا اور فرشتے وہی کام کرتے ہیں جس کا ان کو حکم دیا جاتا ہے ان کی جبلت ہی اطاعت و فرماں برداری ہے اس آیت کے پڑھنے والے اور سننے والے پر فقہاء حنفیہ کے نزدیک سجدہ واجب ہے اور دوسرے اماموں کے نزدیک سنت ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ جس زات با برکات کی عظمت و جلال کا یہ حال ہو کہ ہر چیز اس کے سامنے سربسجود ہو اس کا شریک کہاں ہوسکتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ” ہر چیز ٹھیک دوپہر میں کھڑی ہے اس کا سایہ بھی کھڑا ہے جب دن ڈھلا سایہ جھکا پھر جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑگیا۔ جیسے نماز میں کھڑے سے رکوع رکوع سے سجدہ اسی طرح ہر چیز آپ کھڑی ہے اپنے سائے سے نماز کرتی ہے کسی ملک میں کسی موسم میں داہنی طرف جھکا ہے کہیں بائیں طرف “ (موضع القرآن)
اثبات توحید و ابطال مجوسیت
Ayahs 16:51–55قال اللہ تعالیٰ : وقال اللہ لا تتخذو الہین اثنین .... الیٰ .... فسوف تعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ جمیع ماسوا اللہ خواہ وہ عالم اجسام سے ہو یا عالم ارواح سے ہو سب اللہ کے مطیع اور فرماں بردار ہیں اور اس کے آگے سر تسلیم جھکائے ہوئے ہیں اس لیے آئندہ آیت میں توحید خالص کا حکم دیتے ہیں اور شرک سے منع فرماتے ہیں۔ اور یہ بیان کرتے ہیں کہ سب کے سب اللہ ہی کے مملوک اور عبد مطلق ہیں تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ ہماری ہی دی ہوئی ہے اور تم پر جب کوئی مصیبت اور آفت آتی ہے تو تم ہمیں سے فریاد کرتے ہو تو پھر تم غیر اللہ کی کیوں عبادت کرتے ہو مصیبت کے وقت ہم کو پکارنا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ کی محبت اور معرفت انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ جب دل سے غفلت کا پردہ اٹھا تو اس کو پکارا ان آیات سے مجوس کا رد مقصود ہے جو یہ کہتے ہیں کہ (معاذ اللہ) دو معبود ہیں۔ ایک نور اور ایک ظلمت (یعنی تاریکی) نور خیر کا خالق ہے جس کو یزدان کہتے ہیں۔ اور ظلمت شرکا خالق ہے جس کو اھرمن کہتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ اور حکم دیا اللہ نے کہ نہ ہٹاؤ دو معبود کیونکہ اثنینیت (دوئیت) الوہیت (معبودیت) کے منافی ہے کیونکہ معبود وہ ہے جو خالق الکل ہو اور سب سے اعلیٰ اور اکمل ہو اور اس کی ذات وصفات میں کوئی اس کا شریک نہ ہو اور اس کے ماسوا سب اس کے محتاج ہوں اور وہ سب سے بےنیاز ہو اور وہ ایک ہی ہوسکتا ہے کیونکہ اگر ایک کے سوا دوسرا بھی معبود مانا جائے پس وہ اگر اس کے مساوی ہو اتو وہ بھی خالق الکل ہوگا تو ایک مخلوق کے لیے وہ خالق ہونا لازم آئے گا۔ نیز جب دوسرا معبود کے مساوی ہوگا تو دونوں میں کوئی بھی معبود نہ رہے گا اس لیے کہ معبود کے لیے شرط ہے کہ وہ سب سے اعلیٰ اور اکمل ہو اور سب اس کے محتاج ہوں پس جب دوسرا معبود پہلے معبود کے برابر نہ ہوا تو لامحالہ اس سے کمتر ہوگا اور کمتری اور خدائی کا جمع ہونا عقلاً محال ہے اور جب معبود دو نہیں ہوسکتے تو دو سے زیادہ کیونکر ہو سکیں گے اور الہین کے بعد اثنین اس لیے بڑھایا کہ دو معبود ماننے والوں کی حماقت ظاہر ہو کہ دو معبود بنانا سراسر حماقت ہے اور جو لوگ ہزاروں اور لاکھوں معبودوں کے قائل ہیں جیسے بھارت کے ” ہلومان “ ان کی حماقت کی تو کوئی حد نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک سے زیادہ معبود نہ بناؤ خوب سمجھ لو کہ وہ تو بس ایک ہی معبود ہے جو کمال میں اعلیٰ اور بالا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی ہستی نہیں الوہیت کے لیے وحدانیت لازمی ہے۔ اثنینیت الوہیت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ سو اے لوگو ! تم مجھ ہی سے ڈرو کیونکہ معبود صرف میں ہی ہوں اور سب کچھ میری قدرت میں ہے اور خدا ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہی تمام کائنات کا مالک ہے اور اس کی اطاعت اور عبادت لازم اور واجب ہے۔ کیونکہ تمام کائنات اسی کی محتاج ہے اور ہر ممکن کیلئے احتیاج لازمی اور دائمی ہے اور ایک لمحہ کے لیے بھی کوئی ممکن واجب الوجود سے مستغنی اور بےنیاز نہیں ہوسکتا۔ پس کیا تم غیر خدا سے ڈرتے ہو جو اپنے وجود کا بھی مالک نہیں یعنی جب تم نے یہ معلوم کرلیا کہ اللہ ایک ہے اور ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے تو تمہیں اس کے سوا کسی اور شئے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور علاوہ ازیں تمہارے پاس جو بھی دینی اور دنیوی نعمت ہے تو وہ سب خدا کی طرف سے ہے تو تم کو اس کا شکر کرنا چاہئے غرض یہ کہ جو تمہارے نفع اور ضرر کا مالک ہے اسی سے ڈرنا چاہئے اور جو تم کو نعمتیں دے رہا ہے اس کا شکر کرنا چاہئے اسی کی ذات قابل رغبت اور لائق رہبت ہے پھر جب کسی وقت تم کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو تم اس کی طرف التجا کرتے ہو اور اسی سے فریاد کرتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ تکلیف کا دور کرنے والا اور راحت کا پہنچانے والا وہی ہے۔ اور پھر جب وہ سختی کو تم سے دور کردیتا ہے جس کے سبب تم اس سے فریاد کرتے تھے تو فورا ہی تم میں سے ایک فریق اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے کہتا ہے کہ یہ تکلیف فلاں سبب سے دور ہوئی بجائے شکر کے شرک اور ناشکری میں پڑجاتا ہے۔ مصیبت پڑے تو اللہ کو پکاریں اور جب مصیبت دور ہوجائے تو اس کے دور ہونے کو دوسروں کی طرف منسوب کریں اور اس شرک میں ان کا کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ ناشکری کریں اس نعمت کی جو ہم نے ان کو دی ہے پس چند روز دنیا میں اللہ کی نعمتوں سے نفع اٹھا لو اور مزے اڑا لو پس عنقریب تم اس کے انجام کو جان لوگے کہ چند روزہ لذتوں اور شہوتوں کے پیچھے آخرت کی دائمی اور غیر متناہی نعمتوں سے محروم ہوگئے۔
Ayahs 16:56–60کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ : ویجعلون لما لایعلومن نصیبا .... الیٰ .... وھو العزیز الحکیم۔
(ربط) اثبات توحید کے بعد اب ان آیات میں کفار کے چند ناشائستہ اقوال و افعال کا ذکر فرماتے ہیں۔ تاکہ ان کی جہالت اور حماقت ظاہر ہو اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان نادانوں نے نادانی سے دو خدا سے بڑھ کر بکثرت معبود بنائے ہوئے ہیں اور طرح طرح سے اعمال شرکیہ میں گرفتار ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
اور ٹھہرا لیتے ہیں یہ مشرک بتوں کے لیے جن کے معبود ہونے کا ان کو مطلق علم نہیں اور نہ ان کے پاس ان کے معبود ہونے کی کوئی سند اور دلیل موجود ہے ہماری دی ہوئی روزی میں سے ان کے لئے حصہ ٹھہرا لیتے ہیں۔ مشرکین نے اپنی کھیتی اور مویشی اور مالوں میں سے بتوں کے نام کا حصہ مقرر کر رکھا تھا۔ جس کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ لا یعلمون کی ضمیر بتوں کی طرف راجع کرتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جن بتوں کو کسی چیز کا علم نہیں اور نہ ان کو یہ علم ہے کہ ہماری کون عبادت کرتا ہے کیونکہ بت تو پتھر ہیں ہر قسم کے علم و شعور سے عاری ہیں یہ نادان مشرک ان پتھروں کے لیے خدا کی دی ہوئی روزی میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں اور ان کو اپنا معبود ٹھہراتے ہیں خدا کی قسم تم سے ضرور اس بات کی بابت باز پرس کی جائے گی جو تم دنیا میں افتراء کرتے تھے۔ مشرک جو یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کے شریک ہیں یہ ان کا افتراء ہے اور خدا کی دی ہوئی روزی میں سے ان کا حصہ مقرر کرنا یہ بھی افتراء ہے کفار تو قیامت اور آخرت کے صراحۃً منکر ہیں اور زمانہ حال کے ملحد اور زندیق ظاہر میں تو قیامت اور حشر و نشر پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن در پردہ منکر ہیں۔ یہ گروہ بظاہر مسلمان ہے اور در پر دوہ کافر ہے۔ امام مالک (رح) سے منقول ہے کہ ملحد اور زندیق منافق کے حکم میں ہے اور ان کا ایک افتراء یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس بہتان سے پاک اور منزہ ہے اس کے نہ بیوی ہے اور نہ بیٹا ہے وہ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ہے۔
لم یلد لم یولد اور الائق است والد و مولود را او خالق است
چونکہ خدائے لم یزل کے لیے بیٹا اور بیٹی کا ہونا عقلا محال ہے۔ اور خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا سراسر حماقت اور جہالت ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ فقط سبحانہ فرما کر اپنی تنزیہ و تقدیس کو ظاہر فرما دیا عجیب نادان ہیں کہ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ جو ان کی چہیتی اور مرغوب چیز ہے اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کے پیدا ہونے کی) خوشخبری دی جاتی ہے جس کو وہ اللہ کے لیے تجویز کرتے ہیں تو غم کے مارے ان کا چہرہ کالا پڑجاتا ہے اور غم و غصہ میں گھٹا ہوا ہوتا ہے۔ مشرکین عرب لڑکی پیدا ہونے سے سخت ناخوش ہوتے تھے اور اس غریب کو زندہ درگور کر ڈالتے تھے بایں ہمہ یہ احمق خدا کے لیے لڑکیاں تجویز کرتے تھے اور اس خبر یرنی تولد دختر کی برائی سے جس کی بشارت اس کو دی گئی ہے قوم سے چھپتا پھرتا ہے عربوں میں جب کسی کی بیوی بچہ جننے کے قریب ہوتی تو بچہ پیدا ہونے تک لوگوں کی نظروں سے غائب رہتا اگر لڑکا پیدا ہوتا تو وہ خوش ہوتا اور ظاہر ہوجاتا اور اگر لڑکی پیدا ہوتی تو وہ غم کرتا اور کچھ دونوں تک ظاہر نہ ہوتا اور سوچتا کہ اس لڑکی کو کیا کرے جیسا کہ فرماتے ہیں کہ آیا ذلت گوارا کرکے اپنے پاس رکھے یا اس کو مٹی میں چھپا دے۔ مضر اور خزاعہ اور تمیم اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے اسلام نے آکر جاہلیت کی اس رسم بد کا خاتمہ کردیا اور سارے ملک کی بےرحمی کو شفقت و رحم سے بدل دیا آگاہ ہوجاؤ برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کرتے ہیں وہ فیصلہ یہی ہے کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا اس کے لیے لڑکیاں تجویز کرتے ہیں۔ اور خود لڑکیوں سے کراہت اور نفرت کرتے ہیں اور بیٹوں کو چاہتے ہیں دوسرے موقعہ پر خدا تعالیٰ فرماتے ہیں الکم الذکر ولہ الانثیٰ تلک اذا قسمۃ ضیزی یعنی تمہارے لیے بیٹے اور خدا کے لیے بیٹیاں یہ تو ناانصافی کی تقسیم ہے عجیب بیوقوف ہیں کہ بیٹا اور بیٹی میں خود فرق کرتے ہیں اور بیٹی سے بیٹا افضل جانتے ہیں اور اپنے لیے بیٹا چاہتے ہیں اور خدا کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں جو چیز اپنے لیے معبوب سمجھتے ہیں وہ خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کی صفت بری ہے کہ لڑکوں کو چاہتے ہیں اور لڑکیوں سے ناخوش ہوتے ہیں اور ایسے بےرحم اور سنگ دل ہیں کہ ان کو زندہ درگور کردیتے ہیں حالانکہ جو خدا دے سب اچھا ہے نہ لڑکا برا ہے اور نہ لڑکی اور اللہ ہی کے لیے ہے صفت اعلیٰ وہ بےنیاز ہے۔ بیوی اور اولاد کا محتاج نہیں وہ تمام اوصاف حمیدہ کے ساتھ موصوف ہے کسی کے عیب لگانے سے اس کو عیب نہیں لگتا اور وہی زبردست ہے حکمت والا۔ کمال عزت اور کمال حکمت کے ساتھ موصوف ہے کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں ہوسکتا اور یہ گروہ مشرکین عجیب نادان گروہ ہے کہ اس کے نزدیک شجر اور حجر کا خدا کا شریک ہوجانا اور فرشتوں کا خدا کی دختر ہوجانا تو جائز ہے مگر کسی بشر کا پیغمبر ہونا ان کے نزدیک ناممکن اور محال ہے۔ ع
بریں عقل و دانش بباید گریست
Ayahs 16:61–62بیان حلم خداوندی
قال اللہ تعالیٰ : ولو یؤاخذ اللہ الناس یظلمھم .... الیٰ .... وانھم مفرطون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کے اقوال شنیعہ اور افعال فظیعہ کو بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑے حلیم و کریم ہیں باوجود جرم عظیم کے مؤاخذہ اور گرفت میں جلدی نہیں کرتے بلکہ حلم سے مجرمین کو مہلت دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور اللہ کی عزت و رفعت اس کو مقتضی ہے کہ ان ظالموں اور گستاخوں کو فورا عذاب سے ہلاک کردیا جائے لیکن اس کا حلم اور حکمت اس کی مقتضی ہے کہ ان ظالموں کو کچھ مہلت دی جائے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم پر پکڑنے لگے یعنی ان کے کفر و شرک پر فورا پکڑنے لگے تو (زمین پر) کسی جاندار کو جو زمین پر چلتا ہے نہ چھوڑے یکلخت سب کے سب تباہ کر دئیے جائیں لیکن وہ حلیم و کریم اپنے علم سے ان کو ایک وقت مقررہ تک یعنی ان کی موت کے وقت تک مہلت دیتا ہے تاکہ کوئی توبہ کرنا چاہے تو اس کے لیے گنجائش رہے اور یہ اس کی رحمت اور اس کے جودو کرم اور اس کے حلم کا تقاضا ہے پھر جب ان کی موت کا وقت مقرر آجائے گا تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکیں گے اور نہ ایک گھڑی آگے جاسکیں گے مرتے ہی آنکھیں کھل جائیں گی اور اللہ کی عزت و حکمت سامنے آجائے گی۔
کہ یک لحظہ صورت نہ بند داماں نہ پیمانہ پر شد بدور زماں
اور اللہ کے لیے ٹھہراتے ہیں وہ چیزیں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں مثلا بیٹیاں یا اپنی ریاست میں کسی کی شرکت یا اپنے قاصدوں کی اہانت۔ یہ چیزیں اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور خدا کے لیے بیٹیاں اور شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے رسولوں کی اہانت کرتے ہیں اور باوجود ان کفریات اور شرکیات کے ان کی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں کہ اگر بالفرض والتقدیر قیامت قائم ہوئی تو ہمارے لیے وہاں بھی بڑی خوبی اور بھلائی ہوگی۔ اور ہم بھی جنت میں جائیں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ولئن رجعت الیٰ ربی ان لی عندہ للحسنی یعنی منکر قیامت یہ کہتا ہے کہ اگر بالفرض میں خدا کی طرف لوٹایا گیا تو میرے لیے اس کے پاس بڑی خوبی اور بھلائی ہوگی۔ بد اعمالیوں میں مبتلا ہیں اور زبان سے جھوٹ موٹ کی باتیں بناتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان نابکاروں اور ستم گاروں کے لیے بھلائی کہاں سے آسکتی ہے۔ بلاشبہ ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے اور بیشک وہ دوزخیوں میں آگے آگے ہوں گے یا یہ معنی ہیں کہ یہ لوگ بحکم الٰہی جلد ہی اپنے دائمی مقام میں پہنچا دئیے جائیں گے۔
فائدہ : حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرنا چاہتا ہے تو وہ عذاب ان سب کو پہنچ جاتا ہے جو اس قوم میں موجود ہوں لیکن قیامت کے دن گنہگار اور بےگناہ اپنی اپنی نیت پر اٹھائے جائیں گے۔ (مسلم)
جب ظلم و معصیت عام ہوجائے تو اللہ کی طرف سے جو عذاب آتا ہے وہ عام ہوتا ہے ظالم اور غیر ظالم سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ظالم اپنے ظلم کے سبب ہلاک ہوتا ہے اور غیر ظالم ظلم کی نحوست کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں ظالم کی ہلاکت بطور انتقام ہوتی ہے اور غیر ظالم ظلم کی نحوست کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ کما قال تعالیٰ واتقوا فتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خامۃ پھر قیامت کے دن اپنی اپنی نیتوں کے مطابق قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔