An-Nahl 16:93

An-Nahl · from ayah 93

16:93

وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَیَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَلَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَـعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ يُّضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَلَـتُسۡــئَلُنَّ عَمَّا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if Allah had willed, He could have made you [of] one religion, but He causes to stray whom He wills and guides whom He wills. And you will surely be questioned about what you used to do.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 13 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:93

اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروه بنا دیتا لیکن وه جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، یقیناً تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں باز پرس کی جانے والی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت (یعنی ایک ہی دین کا پیرو) بنا دیتا، لیکن وہ جس کو چاہتا ہے (اس کی ضد کی وجہ سے) گمراہی میں ڈال دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے۔ اور تم جو عمل بھی کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے، اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، اور ضرور تم سے تمہارے کام پوچھے جائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرما دیتا ہے، اور تم سے ان کاموں کی نسبت ضرور پوچھا جائے گا جو تم انجام دیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر اللہ چاہتا تو یقینا تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا اور لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یقینا تم اس کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے رہے، اس سے متعلق ضرور تمہاری باز پرس ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کے باب میں ضرور تم سے پرسش ہونی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر اللہ چاہتا (کہ تمہارے اندر کوئی اختلاف ہو ہی نہ) تو وہ یقیناً (بڑی آسانی سے) تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ (اپنے دستور عدل و حکمت کے مطابق) جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت (کی دولت) سے نواز دیتا ہے، اور (یاد رکھنا کہ تمہیں یونہی چھٹی نہیں ملی رہے گی، بلکہ) تم سب سے ضرور باز پرس ہونی ہے، ان سب کاموں کے بارے میں جو تم لوگ کرتے رہے تھے (اپنی زندگیوں میں)

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ دکھا دیتا ہے۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو ضرور اس کے باب میں تم سے سوال ہو کر رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا اس بارے میں جو کچھ تم کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Had Allah so willed, He would have made you all one single community. However, He lets go astray whomsoever He wills and shows the Right Way to whomsoever He wills. Surely you shall be called to account regarding what you did.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If Allah so willed, He would have made all of you a single community, but He lets whom He wills go astray and takes whom He wills to the right path; and surely you will be questioned about what you used to do.

— Muhammad Taqi Usmani

If Allah so willed, He would have made all of you a single community, but He lets whom He wills go astray and takes whom He wills to the right path; and surely you will be questioned about what you used to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And had Allah willed, He would have made you (all) one nation, but He allows whom He wills to stray and He guides whom He wills. But you shall certainly be called to account for what you used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Had Allah willed He could have made you (all) one nation, but He sendeth whom He will astray and guideth whom He will, and ye will indeed be asked of what ye used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if Allah had willed, He could have made you [of] one religion, but He causes to stray whom He wills and guides whom He wills. And you will surely be questioned about what you used to do.

— Saheeh International

Had God wanted, He would have made you one single nation but He guides or causes to go astray whomever He wants. You will certainly be questioned about what you have done.

— Muhammad Sarwar

And if Allah please He would certainly make you a single nation, but He causes to err whom He pleases and guides whom He pleases; and most certainly you will be questioned as to what you did.

— Muhammad Habib Shakir

And had Allah willed, He would have made you all one community, but he sendeth astray whomsoever He willeth, and guideth whomsoever He willeth; and surely ye shall be questioned regarding that which ye have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

If Allah so willed, He could make you all one people: But He leaves straying whom He pleases, and He guides whom He pleases: but ye shall certainly be called to account for all your actions.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 93–96

ایک مذہب و مسلک اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا (ترجمہ) یعنی اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کردیتا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ باایمان ہی ہوتے۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لئے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ قسموں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 93 یہ پچھلے مضمون کی مزید توضیح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ کا طرفدار سمجھ کر بھلے اور برے ہر طریقے سے اپنے مذہب کو (جسے وہ خدائی مذہب سمجھ رہا ہے) فروغ دینے اور دوسرے مذاہب کو مٹا دینے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کی یہ حرکت سراسر اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر اللہ کا منشاء واقعی یہ ہوتا کہ انسان سے مذہبی اختلاف کا اختیار چھین لیا جائے اور چاروناچار سارے انسانوں کو ایک ہی مذہب کا پیرو بنا کر چھوڑا جائے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو اپنے نام نہاد " طرف داروں " کی اور ان کے ذلیل ہتھکنڈوں سے مدد لینے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ یہ کام تو وہ خود اپنی تخلیقی طاقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 92–93

(آیت) اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جس جماعت سے تمہارا معاہدہ ہوجائے اس معاہدہ کو دنیوی اغراض و منافع کے لئے نہ توڑو مثلا تمہیں یہ محسوس ہو کہ جس جماعت یا پارٹی سے معاہدہ ہوا ہے یہ کمزور اور تعداد میں قلیل ہے یا مال کے اعتبار سے مفلس ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جماعت کثیر اور قوی ہے یا مال و دولت والی ہے تو صرف اس طمع سے قوی اور مالدار پارٹی میں شامل ہوجانے سے منافع زیادہ ہوں گے پہلی جماعت کا عہد توڑنا جائز نہیں بلکہ اپنے عہد پر قائم رہے اور نفع وضرر کو خدا تعالیٰ کے سپرد کرے البتہ جس جماعت یا پارٹی سے عہد کیا ہے وہ اگر خلاف شرع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ یعنی اگر اللہ اپنے جبر و زور سے کام لینا چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اس نے جبر کے بجائے تمہیں اختیار بخشا ہے اور اس طرح تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنی سمجھ بوجھ اور اپنے اختیار و ارادہ سے کام لے کر ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہو یا ضلالت کی، تو تم میں سے جو ہدایت کے طالب بنتے ہیں ان کو ہدایت کی توفیق بخشتا ہے اور جو ضلالت ہی پر جمے رہنا چاہتے ہیں ان کو اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔ ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 92–93

92۔ 1 یعنی مؤکد بہ حلف عہد کو توڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی عورت سوت کاتنے کے بعد اسے خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ یہ تمثیل ہے۔ 92۔ 2 یعنی دھوکہ اور فریب دینے کا ذریعہ بناؤ۔ 92۔ 3 جب تم دیکھو کہ اب تم زیادہ ہوگئے ہو تو اپنے گمان سے حلف توڑ دو ، جب کہ قسم اور معاہدے کے وقت وہ گروہ کمزور تھا، لیکن کمزوری کے باوجود وہ مطمئن تھا کہ معاہدے کی وجہ سے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ لیکن تم عذر اور نقص عہد کر کے نقصان پہنچاؤ۔ زمانہء جایلیت میں اخلاقی پستی کی وجہ سے اس قسم کی عہد شکنی عام تھی، مسلمانوں کو اس اخلاقی پستی سے روکا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 92–93

39: روایات میں ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک دیوانی عورت تھی جسے خرقاء کہتے تھے۔ وہ بڑی محنت سے دن بھر سوت کا تتی تھی، اور شام کو اسے ادھیڑ ڈالتی تھی۔ یہ عورت اس معاملے میں ایک ضرب المثل بن گئی تھی۔ جب کوئی شخص اچھا خاصا کام کر کے خود ہی اسے بگاڑ دے تو اسے اس عورت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہاں یہ تشبیہ ان لوگوں کے لیے استعمال کی گئی ہے جو زور و شور سے کسی بات کی قسم کھا کر اسے توڑ ڈالیں 40: جھوٹی قسم کھانے یا قسم کو توڑنے کا مقصد عام طور پر کوئی نہ کوئی دنیا کا فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اس معمولی سے فائدے کی خاطر ایسے گناہ کا ارتکاب نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 92–93

قرآن کہتا ہے : ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ انما یبلوکم اللہ بہ ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 19) ” تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہوتا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔ حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔ جو شخص عہد توڑتا ہے وہ اس بیوقوف عورت کی طرح ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اسے قدرت تھی کہ اختلاف نہ رہنے دیتا، مگر حکمت اس کو مقتضی نہ تھی۔ جیسا کہ کئی مواقع میں ہم اس کی تقریر کرچکے ہیں۔ 9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس سے معلوم ہوا کہ کافر سے بھی غدر اور بدعہدی نہ کرے۔ کفر ان باتوں سے ہٹتا نہیں۔ اور اپنے اوپر وبال آتا ہے۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 93 وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً اللہ تعالیٰ یہ بھی کرسکتا تھا کہ پوری انسانیت کو ایک ہی امت بنا دیتا تاکہ نسلوں اور قوموں کی یہ تفریق ہی نہ ہوتی اور نہ ہی ایک امت کو معزول کر کے دوسری امت کو نوازنے کی ضرورت پیش آتی۔ پھر جس اللہ نے بخت نصر کے ہاتھوں تمہاری بربادی کے بعد حضرت عزیر کی دعوت توبہ کے ذریعے تمہاری نشأۃ ثانیہ کی تھی وہ یہ بھی کرسکتا تھا کہ ایک دفعہ پھر کسی اصلاحی تحریک کے ذریعے تمہیں اپنی ہدایت اور رحمت سے نواز دیتا۔ اس طرح آخری نبی بھی تم ہی میں آتے اور یہ قرآن بھی تم ہی کو ملتا۔ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو یہ سب کچھ ممکن تھا۔ وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

97 دین کی حمایت کے لئے غلط ذرائع استعمال کرنے کے نقصانات اور ان کی ممانعت :۔ یہ کوئی پسندیدہ بات نہیں کہ تم اپنے دینی مفاد کے لیے عہد شکنی یا دوسرے ناجائز ذرائع استعمال کرنے لگو۔ ایک پاکیزہ اور صاف ستھرے دین میں لوگوں کو لانے اور دعوت دینے کے طریق بھی پاکیزہ ہونے چاہئیں۔ اور اگر محض لوگوں کو ہدایت دینا ہی مقصود ہوتا تو اللہ یہ کام خود بھی کرسکتا تھا۔ مگر اس نے لوگوں کو قوت ارادہ و اختیار دے رکھا ہے تاکہ اس کا آزادانہ استعمال کریں۔ پھر جو شخص اپنے ارادہ سے غلط راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے اسباب بھی ویسے ہی بنا دیتا ہے اور سیدھی راہ پر چلنا چاہے تو اسے ویسی ہی توفیق عطا فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

148۔ یعنی اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوتی کہ کوئی گمراہ ہونے ہی نہ پائے تو سب کو ایک ہی طریقہ پر لازمی طور پر چلا دیتا اور مذہب وملت کا کوئی اختلاف پیدا ہی نہ ہونے دیتا۔ لیکن اس کی حکمت بالغہ کو یہ تو منظور ہی نہیں، اس نے تو ہدایت وضلالت کا قانون ہی دوسرا رکھا ہے۔ 149۔ (سو تم کہیں جبریت کے فریب میں نہ آجانا، اور اپنے کو مجبور محض نہ سمجھ بیٹھنا، تم فاعل مختار اور اپنے افعال کے ذمہ دار بنا کر بھیجے گئے ہو، تمہیں عقل، شعور، ارادہ واختیار سے سرفراز کیا گیا ہے تم سے ایک ایک عمل کے بابت سوال ہوگا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 90–100

آیت نمبر 90 تا 100 ترجمہ : بلا شبہ اللہ تعالیٰ عدل (یعنی) توحید یا انصاف اور احسان (یعنی) اداء فرائض کا یا (اس طرح) عبادت کرنے کا گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اہتمام کرنے کی وجہ سے خاص طور پر قرابتداروں کا ذکر کیا ہے حالانکہ احسان کے عموم میں وہ بھی داخل ہیں حکم دیتا ہے اور (اللہ) فحش یعنی زنا اور شرعًا منکرات سے مثلاً کفر و معاصی، اور لوگوں پر ظلم کرنے سے منع کرتا ہے (ممانعت ظلم کو اہتمام کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ تو نھی عن الفحش میں ظلم بھی داخل ہے) امرو نہی کی تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو، (تذکرون) میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو شآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ ولکن یضل من یشآء ویھدی من یشآء ولتسئلن عما کنتم تعملون اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا ‘ لیکن (اس کی مشیّت ہے) وہ جس کو چاہتا ہے ‘ بےراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ‘ راہ پر ڈال دیتا ہے اور (قیامت کے دن) تم سے تمہارے اعمال کی ضرور بازپرس ہوگی۔ ایک ہی طریقہ کا بنا دینے کا مطلب یہ ہے کہ سب کو اسلام پر متفق کردیتا اور سب وفائے عہد کرنے والے ہوجاتے ‘ آپس میں اختلاف نہ رہتا۔ بےراہ کردینے کا یہ مطلب ہے کہ اس کو بےمدد چھوڑ دیتا __ مدد نہ کرتا اور راہ پر ڈالنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو ایمان و خیر کی توفیق دے دیتا __ ہر شخص سے بازپرس لاجواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(93) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تم سب کو ایک ہی ملت اسلامی کا پیروکار بنادیتے لیکن جو دین الہی کا اہل نہیں ہوتا۔ اس کو اس سے گمراہ کرتے ہیں اور جس میں دین خداوندی کی صلاحیت ہوتی ہے، اسے راہ پر چلاتے ہیں اور تم حالت کفر میں کیا برائیاں کر رے ہو اور حالت ایمان میں کیا کیا نیکیاں کرتے ہو یا یہ کہ وفائے عہد اور نقص عہد سب اعمال کی قیامت کے دن پوچھ گچھ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل تھی کہ تمہارے درمیان اختلافات نہ رہنے دیتا۔ (دیکھیے یونس : 99۔ ہود : 118، 119) مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ تمہیں اپنا اختیار استعمال کرنے کا پورا موقع دے، پھر جو گمراہی پر اصرار کرے اس کی رسی گمراہی کی طرف دراز کر دے اور جو حق کی جستجو کرے اسے ہدایت سے سرفراز کر دے۔ دیکھیے سورة لیل (5 تا 10)۔ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ کافر کو بدعہدی کر کے نہ ماریے، ایسی باتوں سے کفر تو مٹتا نہیں الٹا وبال آتا ہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 93 قولہ تعالیٰ : ولو شآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں ایک ہی ملت اور دین پر بنا دیتا۔ ولکن یضل من یشآء (لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے) اپنی طرف سے ان کی مدد چھوڑنے کے سبب اور اپنی طرف سے ان میں عدل کرتے ہوئے۔ ویھدی من یشآء انہیں اپنی توفیق سے نوازتے ہوئے اور اپنی طرف سے ان پر فضل و احسان فرماتے ہوئے، جو وہ کرتا ہے اس کے بارے اس سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ تم سے پوچھا جائے گا : اور یہ آیت قدریہ کا رد کرتی ہے جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ اور ولیبینن اور ولتسئلن میں لام اور نون مشددہ (ثقیلہ) دونوں مضمر قسم پر دلالت کرتے ہیں، یعنی واللہ لیبینن لکم ولتسئکن۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 92–96

1:۔ ابن ابی حاتم نے ا بوبکر بن حفص ؓ سے روایت کیا کہ سعیدہ الاسد یہ ایک مجنونہ عورت تھی بال اور پتے جمع کرتی تھی (اور ان کو کات کر پھر ریزہ ریزہ کردیتی تھی) تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا “ (الآیہ ) ۔ 2:۔ ابن مردویہ نے عطاء بن ابی رباح کے طریق سے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو ابن عباس ؓ نے فرمایا اے عطا کیا میں تجھ کو جنت والوں میں سے ایک عورت نہ دکھاوں (پھر) انہوں نے مجھ کو ایک حبشی زرد رنگ کی عورت دکھائی اور فرمایا یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی مجھے جنون کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو عافیت دے رسول اللہ ﷺ نے اس سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَوْ : اور اگر ] [ شَاۗءَ : چاہتا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لَجَعَلَكُمْ : تو وہ بنا دیتا تم سب کو ] [ اُمَّةً وَّاحِدَةً : ایک (ہی) امت ] [ وَّلٰكِنْ : اور لیکن ] [ يُّضِلُّ : وہ گمراہ کرتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيَهْدِيْ : اور وہ ہدایت دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ ۭ: وہ چاہتا ہے ] [ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ : اور تم سے لازماً پوچھا جائے گا ] [ عَمَا : اس کے بارے میں جو ] [ كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ عمل کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ) (اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت ہے کہ اختلاف نہ ہونے دیتا اور سب کو ایک ہی راہ پر چلاتا لیکن اس کی حکمت کا تقاضا ہوا کہ لوگوں میں اختلاف رہے، اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، سب کچھ اس کی حکمت اور مشیت کے مطابق ہے۔ رہی یہ بات کہ جب گمراہ کرنا اور ہدایت دینا اللہ کی طرف سے ہے تو بندے کیوں ماخوذ ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–100

تلقین مکارم اخلاق محاسن اعمال و آداب قال اللہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان .... الیٰ .... والذین ہم بہ مشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ یہ قرآن پر شے کا بیان ہے اور وہ ایک جامع کتاب ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اور اہل ایمان کے لیے بشارت ہے اب ان آیات میں بتلاتے ہیں کہ یہ قرآن جو اللہ نے آپ ﷺ پر نازل کیا ہے وہ تمام مکارم اخلاق اور محاسن آداب اور اعمال خیر کا حکم دیتا ہے اور تمام برائیوں اور بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں سے منع کرتا ہے اور قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کی اصلاح کرتا ہے کہ نہ کوئی فحش بات زبان سے نکالو اور نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ قسم کھا کر توڑو اور نہ خدا سے بدعہدی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

77:۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، ان میں کوئی اختلاف نہ ہوتا اور سب ہی اللہ کے عہد پر قائم ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ ہر شخص کا امتحان لینا چاہتا ہے کہ ان میں کون ضد کرتا ہے اور کون اللہ کی طرف انابت اور رجوع کرتا ہے۔ ” ولکن یضل من یشاء “ چناچہ جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لیتے اور محض ضد وعناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں انہیں ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔ ” و یھدی من یشاء “ اور جو لوگ نیک نیتی سے حق کی جستجو کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی دستگیری فرماتا اور انہیں قبول حق کی توفیق دے دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 91–95

(ربط آیات) گذشتہ سے پیوستہ درس میں قرآن کریم کی جامعیت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو (آیت) ” تبیانا لکل شیئ “ بنایا ہے یعنی اس کتاب میں بنیادی طور پر ہر چیز کی وضاحت موجود ہے ، اس کے بعد گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جامع ترین آیت (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ میں تین مثبت اور تین منفی اشیاء کا ذکر فرمایا یعنی تین کام کرنے کا حکم دیا اور تین سے منع فرما دیا ، کرنے والے امور میں عدل واحان اور قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی ہے اور روکنے والے کام بےحیائی ، برائی اور سرکشی ہیں ، یہ آیت کریمہ قرآن کے تبیان کی بہترین مثال ہے کہ کوئی اچھی یابری چیز ایسی نہیں جو ان چھ باتوں سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَلَتُسْـــَٔـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 93؀ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 93–94

ترکیب : فتزل جواب ہے نہی لاتتخذوا کا وتذوقوا جواب پر معطوف انما متصل لکھا جاتا ہے ورنہ یہ ان اور ما موصولہ ہے۔ ھو ضمیر اس کی طرف راجع من ذکر الخ من کا بیان ہے۔ وھو مومن جملہ حال ہے من سے فلنحیینہ جواب ہے من عمل کا ولنجزینہم اس پر معطوف۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جس چیز میں تم اختلاف کر رہے ہو (کہ بعض تم میں سے اپنے طریقے کو اچھا اور بعض اس کو برا کہتے ہیں) اس سے سوال ہوگا اس پر ناظرین کو تسلی دیتا ہے کہ یہ اختلاف بھی قضاء وقدر سے ہے ورنہ خدا چاہتا تو سب کو امۃ واحدۃ یعنی متفق العقائد و المذہب کردیتا مگر یہ ہدایت و گمراہی اس کے ہاتھ میں ہے پھر اس پر اس سے کون سوال کرسکتا ہے کہ تو نے یوں کیوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰـکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَلَتُسْئَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 93) (اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے راہ بھلا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے اور تم سے ضرور پوچھا جائے گا جو کام تم کرتے تھے۔ ) جس طرح باقی دنیا کی قومیں اپنی قومی برتری، قومی مفادات کے حصول یا سیاسی وسائل کی فراہمی کے لیے ہر طرح کے فریب ڈپلومیسی کے نام سے کرنا جائز سمجھتی ہیں بلکہ ان کا جو لیڈر غلط سے غلط طریقے سے اپنے ملک کے لیے مفادات کے راستے نکالتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن دنیوی مفاد اور باہمی اختلاف کی و جہ سے عہدتوڑنا اور قسم کی بےحرمتی کرنا گمراہ لوگوں کا کام ہے۔ لوگ دنیوی مفاد اور باہمی اختلاف میں آکر اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کرنے اور ہدایت یافتہ لوگوں کو تسلی دینے کے لیے فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت میں سب کو ہدایت دینا لازم ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ بااختیار اور طاقتور ہے کہ تمام انسانوں کو ہدایت یافتہ بنا دیتا اور پوری دنیا کے انسان بہترین کردار کے حامل اور ایک ہی امت قرار پاتے۔ لیکن ” اللہ “ نے ہدایت اور گمراہی کے اختیار کرنے میں انسان کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ جو لوگ ہدایت واضح ہونے کے باوجود گمراہی اختیار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

93: وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمہیں ایک جماعت بنا دیتے) یعنی حنیفہ مسلمہ وَّ لٰکِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآ ئُ (لیکن وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے) اسکے بارے میں ضلالت کو اختیار و پسند کرنے کا اسے علم ہے۔ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآ ئُ (اور جس کو چاہتا ہے وہ ہدایت دیتا ہے) جس کے متعلق ہدایت کا اختیار و پسند کرنا جانتا ہے۔ وَلَتُسْئَلُنَّ عَمَّاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (اور تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔ ان باتوں کے متعلق جو تم کرتے تھے) قیامت کے دن۔ پھر تمہیں بدلہ دیا جائیگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (93)” ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ “ اس سے ملت واحدہ اسلام ہے۔ ” ولکن یضل من یشائ “ ان کو اس کے کاموں کے سبب رسوا کردیا یا اسلام سے عدول فرمانے کی وجہ سے اس کو اس سے دور رکھا۔ ” ویھدی من یشائ “ اس کی توفیق کے سبب ان پر اللہ نے فضیلت بخشی۔ ” ولتسئلن عما کنتم تعملون “ قیامت کے دن۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 93–96

93۔ 96۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا کہ اگر اللہ جل شانہ چاہتا تو سارے جہان کے لوگوں کو ایک ہی فرقہ بنا دیتا کوئی کسی کا مخالف نہ ہوتا اور بد عہدی اور جھوٹی قسم کھانے کا موقع پیش نہ آتا مگر اس کی مشیت اس کو مقتضی نہ ہوئی اسی بات میں اس کی حکمت تھی کہ متعدد طریقے قائم ہوں اور وہ جس کو چاہے راہ راست پر آنے کی توفیق نہ دے اور جسے چاہے ہدایت دے دے اور پھر قیامت کے دن سارے لوگوں سے ان کے اعمال کی پرسش کرے کہ تم نے کیا بھلائی کی اور کیا برائی کی پھر اس کے بعد اللہ پاک نے اس بات کا ذکر کیا اور تاکید کی کہ تم قسم کھا کر اور قول وقرار کر کے پھرو نہیں اس میں بہت بڑی خرابی تمہارے لئے بھی ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت : (93) (ولو شاء اللہ) ” اور اگر اللہ چاہے “ تو تمام لوگوں کو ہداکت پر جمع کر دے اور (لجعلکم امۃ واحدۃ) ” تم کو ایک امت بنا دے۔ “ مگر اللہ تعالیٰ ہدایت دینے اور گمراہ کرنے میں یکتا ہے اور اس کا ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اس کے ایسے افعال ہیں جو اس کے علم و حکمت کے تابع ہیں ‘ وہ اپنے فضل و کرم سے ایسے شخص کو ہدایت سے نوازتا ہے جو اس کا مستحق ہے اور اپنے عدل کی بنا پر ایسے شخص کو ہدایت سے محروم کردیتا ہے جو اس کا مستحق نہیں۔ (ولتسئلن عما کنتھم تعملون) ” اور جو عمل تم کرتے ہو ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ “ یعنی تمہارے اچھے برے اعمال کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 92–97

قول باری ہے (ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قو ۃ انکاتاً تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا) آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو تقرب الٰہی کی نیت سے اپنے اوپر کوئی نیکی اور عبادت لازم کرلے اور پھر اسے فسخ کر کے پورا نہ کرے اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اون یا کسی قسم کی کوئی اور شے کات کر دھاگا بنائے اور پھر اسے اچھی طرح کات لینے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کو ڈالے۔ قول باری (من بعد قوۃ) کا یہی مفہوم ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ مضبوطی کے ساتھ سوت یا اون کاتنے کا نام دیتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرے یا کوئی عبادت واجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

206۔ جبرواکراہ کا ایمان مطلوب نہیں :۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ جبرا وقہرا اس طرح کہ تمہیں اس کے حکم سے سرتابی اور قوت کی گنجائش اور قوت ہی نہیں رہتی۔ جیسا کہ یہ پوری کائنات اس قادر مطلق کے حکم مطلق کے تابع ہے۔ (کل لہ قانتون) ۔ اور ایسا کرنا اس قادر مطلق کیلئے کچھ مشکل نہیں تھا۔ بلکہ محض اس کے ایک اشارہ و ارادہ کی دیر تھی اور بس۔ لیکن ایسی جبری ہدایت سے امتحان واختیار کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اس لئے اس وحدہ لاشریک نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ تمہارا معاملہ خود تمہارے اپنے ارادہ اختیار پر چھوڑ دیا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ خیر وشر اور ہلاکت و فلاح کے دونوں راستے تمہارے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 93–98

اللہ کا عہد اور پاکیزہ زندگی تشریح : یہاں بھی اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار یوں کیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا یا سب کو ہی گمراہ کردیتا مگر اس نے تو انسان کو دونوں راستے دکھا کر ارادہ اور مرضی کا اختیار دے دیا جو چاہو اختیار کرلو اور پھر اعمال صالحہ میں عہد کا پورا کرنا، قسموں کو نہ توڑنا اور غلط کاموں کے لیے اپنے عہد کو یا قسموں کو توڑ دینا کہ تمہاری اس بدفعلی کو دیکھ کر، یعنی اخلاقی کمزوری کو دیکھ کر نو مسلم اسلام سے نفرت کرنے لگیں۔ اس کی کئی شکلیں ہیں۔ مثلاً کسی کو دھوکہ دینے کے لیے قسم کھا لینا، یا پھر ناجائز کام کرنا، مثلاً ابن عطیہ کے کلام سے اس کی تعریف یوں ہوتی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 90–100

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف پھر کتاب اللہ جل جلالہ کی تعلیمات کی خوبی اور کمال دیکھئے کہ ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو ایسی تعلیمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہاں ایک آیہ مبارکہ میں قرآنی تعلیمات کا سارا خلاصہ اور حاصل ارشاد فرما دیا گیا ۔ (عدل) کہ اللہ جل جلالہ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں ، عدل ، احسان اور (آیت) ” ایتای ذالقربی “ برابر کرنے کے معنوں میں آتا ہے ، اسی لیے جھگڑے میں فیصلے کو عدل کہا جاتا ہے یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کا حسین راستہ ، یعنی سب سے پہلے بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے کہ اللہ جل جلالہ کی رضا کو خواہشات نفس پر مقدم رکھے اور اس کے احکام کی تعمیل میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اسے قدرت حاصل تھی کہ تمہارے درمیان اختلافات نہ رہنے دیتا مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ تمہیں اپنے حق خودارادیت کا پورا موقع دے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 92–93

(16:92) نقضت غزلھا۔ نقضت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس عورت نے توڑ ڈالا۔ بل کھول دئیے۔ غزلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ غزل کا تا ہوا دھاگہ۔ غزل یغزل (ضرب) غزل (روئی یا اون کا تنا۔ اغزل عورت کا چرخہ کاتنا اور باب سمع سے غزل یغزل وتغزل۔ عورتوں سے محبت جتانا۔ ان کے حسن و جمال کی تعریف کرنا۔ اسی سے غزل عشقیہ کلام ہے۔ الکاثا۔ ٹکڑے ٹکڑے نکث کی جمع جس کے معنی سوت کے اس ٹکڑے کے ہیں جو دوبارہ کاتنے کے لئے توڑا جائے۔ نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا۔ اس نے اپنے دھاگے کو مضبوط کاتنے کے بعد توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ انکاتا غزل کا حال ہے۔ مکہ میں ایک بیوقوف قریشی عورت تھی جو صبح سے دوپہر تک یا دن بھر باندیوں کو ساتھ لے کر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 93–96

لغات القرآن آیت نمبر 93 تا 96 شاء اللہ اللہ نے چاہا۔ لتسئلن البتہ تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ ل اتتخذو تم نہ بناؤ۔ تزل پھسلج اتا ہے۔ تذوقوا تم چکھو۔ صددتم تم نے روکا۔ لاتشتروا تم نہ بیچو، فروخت کرو۔ ینفد ختم ہوجائے گا۔ باق باقی رہنے والا ۔ احسن زیادہ بہتر۔ تشریح : آیت نمبر 93 تا 96 اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ عقل سے انسان خیر اور شر کو پہچانتا ہے اور ارادہ کی قوت سے ہدایت یا گمراہی میں سے کسی ایک راستہ کا انتخاب کر کے اس پر چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہوجائے تو وہ نجات حاصل کر کے جنت کی ابدی راحتوں سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ جب وہ صراط مستقیم پر چلنے کا پختہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

تمام دنیا کے لوگوں کو ایک ہی امت بنانے کا ذکر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے جہان کے لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا کوئی کسی کے مخالف نہ ہوتا اور بد عہدی او جھوٹی قسم کھانے کا موقع پیش نہ آتا مگر اس کی مشیت اس کی مقتضی نہ ہوئی۔ اس بات میں اس کی حکمت تھی کہ متعدد طریقے قائم ہوں اور وہ جس کو چاہے راہ راست پر آنے کی توفیق نہ ہے اور جسے چاہے ہدایت دے اور پھر قیامت کے دن سارے لوگوں سے ان کے عمل کی پرستش کرے کہ تم نے کیا بھلائی کی اور کیا برائی کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[60] یعنی اگر اللہ اپنے جبر و زور سے کام لینا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا لیکن اس نے تمہیں اختیار بخشا ہے اور اس طرح تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنی سمجھ بوجھ سے کام لے کر ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہو یا ضلالت کی۔ پھر تم میں سے جو ہدایت کے طالب بنتے ہیں ان کو ہدایت کی توفیق بخشتا ہے اور جو ضلالت پر جمے رہنا چاہتے ہیں ان کو اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو سورة ابراہیم حاشیہ 1۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 92–94

(ف 1) ان آیات میں وفاء عہد کی تلقین کی ہے اور بتایا ہے کہ تمہیں عہد ومعاہدہ کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہئے ، ایسا نہ ہو کہ مضبوط عہد کرنے کے بعد محض اس لئے کہ تم طاقتور حلیف کا ساتھ دو ، عہد توڑ دو ، کیونکہ تمہاری مثال پھر اس دیوانی کی سی ہوگی ، جو سوت کات کر تاگا تاگا کر دے ۔ قرآن کی اصطلاح میں عہد وہ التزام ہے جو شرع ، اخلاق یا مجلس کی جانب سے تمہارے اوپر عائد ہوتا ہو ، یا جیسے تم خود اپنے اوپر لازم بنا لو ۔ حل لغات : انکاثا : (ٹکرے ٹکڑے) جمع نکث بمعنی توڑنا اور کاٹنا دخلا : عذر کرنا ، عقل و قرائن کا تباہ ہونا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

93 ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظورہوتا تو وہ تم سب کو ایک ہی فرقہ اور ایک ہی طریقہ کا ہم خیال بنادیتا اور آپس میں پھوٹ نہ پڑتی لیکن وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ اور بےراہ رکھتا ہے اور ضرور باز پاس ہوگی ۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا تھا کہ تم سب ایک ہی ملت کے پابند ہوتے اور تم میں باہم اختلاف نہ ہوتا لیکن بمقتضائے حکمت و مصلحت ایسا نہیں کیا گیا یہ حضرت حق تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہے کوئی گمراہی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور کوئی ہدایت اور راہ یافتہ ہے قیامت کے دن ہر شخص سے اس کے اعمال کی پوچھ گچھ ہوگی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کافر کو بھی بد قولی سے نہ مارے کفر ان باتوں سے مٹتا نہیں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو مجبور کرکے ایک امت بنا دیا : 107۔ انسان کے متعلق مشیت ایزدی کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ ایک حد تک اختیار دیا گیا ہے اور یہ اختیار اس کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کو وہ اختیار دیتا اور اس طرح سارے انسانوں کو وہ ایک امت بنا دیتا لیکن اس نے چاہا کہ وہ سارے انسانوں کو مجبور کرکے ایک امت بنائے بلکہ اس کی مشیت کا فیصلہ یہ ہوا کہ وہ انسان کو ایک حد تک اختیار دے کر آزاد رکھے تاکہ وہ جس راہ کو چاہے من حیث العقل وفکر اختیار کرے تاکہ وہ اپنے کئے کے لئے جواب دہ ہو سکے یہ گویا مذہبی کش مکش بپا رکھنے والوں کو ہدایت دی جارہی ہے کہ تم نے یہ کش مکش کیوں بنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–93

In verse 92: أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْ‌بَىٰ مِنْ أُمَّةٍ (merely because a group is higher [ in number and wealth ] than the other), Muslims have been ordered that they should not break the pact they enter into with a group simply for the sake of worldly interests and gains. For example, they may come to think that the group or party with which they have entered into a pact is weak and few in numbers, or lacks financial backing, while the other group or party abounds in numbers and strength, or is wealthy. Now, if they are tempted to join the party having power and wealth in the hope of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

93. This further supports the previous warning. It means that it would be wrong for any champion of Allah’s religion to arrogate to himself the use of every sort of method and means irrespective of whether they are right or wrong to propagate his own religion (considering it to be Allah’s religion) and try to destroy opposite religions. For this would be utterly against the will of Allah. If Allah had willed that there should be no religious differences, He could have deprived mankind of the freedom of choice. In that case, there would have been no need for Allah to get help of any such…

Read the full tafseer →