Ayah 16:1قیامت کا آنا یقینی ہے، انسان بڑا جھگڑالو ہے
یہاں سے سورة نحل شروع ہے اس میں عموماً اللہ کی توحید بیان کی گئی ہے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں اور مشرکین کی تردید فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائی ہیں، اس میں ایک جگہ شہد کی مکھی کے گھر بنانے اور پھلوں کو چوسنے اور اس سے شہد پیدا ہونے کا تذکرہ فرمایا ہے، شہد کی مکھی کو عربی میں نحل کہتے ہیں اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورة النحل رکھا گیا۔
مذکورہ بالا آیت میں معاد یعنی قیامت اور توحید و رسالت اور آسمان و زمین کی تخلیق اور انسانوں کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا (اَتآی اَمْرُاللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ ) (اللہ کا حکم آپہنچا لہٰذا تم اس کے بارے میں جلدی نہ مچاؤ) جب مشرکین کے سامنے ایمان نہ لانے پر اور شرک اختیار کرنے پر عذاب آنے کا تذکرہ ہوتا تھا تو کہتے تھے کہ عذاب آنے والا نہیں یہ تو خالی دھمکیاں ہیں ہمیں تو عذاب آتا ہوا نظر نہیں آتا، اور جب قیامت کی بات سامنے آتی تھی تو اس کا بھی انکار کرتے تھے اور عذاب کے بارے میں کہتے تھے کہ عذاب آنا ہے تو کیوں نہیں آجاتا، ابھی آجائے اور جلدی آجائے، ان کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا حکم آپہنچا یعنی اس کا آنا یقینی ہے اور جس چیز کا آنا یقینی ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی چیز پہنچی ہو، کسی چیز کے آنے میں دیر لگنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ نہیں آئے گی، دنیا کی جتنی زندگی گزر گئی اس کے اعتبار سے اب قیامت کے آنے میں قابل ذکر دیر نہیں رہی، یہ امت آخر الامم ہے اس کے بعد کوئی امت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین (یعنی میں اور قیامت دونوں اس طرح سے بھیجے گئے ہیں جیسے آپس میں یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں اور ان میں بیچ کی انگلی اشارہ والی انگلی ہے ذرا سی آگے بڑھی ہوئی ہے) اتنی بات ہے کہ میں اس سے پہلے آگیا۔ (رواہ البخاری)
بعض مفسرین نے (اَمْرُاللّٰہِ ) سے تکذیب کرنے والوں کا عذاب مراد لیا ہے صاحب معالم التنزیل (ص 17 ج 2) لکھتے ہیں کہ نضر بن حارث نے یوں کہا تھا اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ (کہ اے اللہ اگر یہ (یعنی دین اسلام) حق ہے آپ کی طرف سے ہے (تو اس کے قبول نہ کرنے پر) ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجیے، اس نے عذاب جلدی آنے کا مطالبہ کیا لہٰذا عذاب آگیا اور وہ (اور اسکے ساتھی) غزوہ بدر کے موقع پر مقتول ہوگئے۔
پھر فرمایا (سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (وہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو وہ شرک کرتے ہیں) مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے شریک قرار دیتے تھے اور غیر اللہ کو بھی عبادت کا مستحق جانتے تھے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان فرمائی اور صاف بتادیا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک ہو اور اس سے برتر ہے کہ کوئی اس کے برابر اور مستحق عبادت ہو، یہ مضمون جگہ جگہ قرآن میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔
Ayah 16:2پھر فرمایا (یُنَزِّلُ الْمَلآءِکَۃَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ ) (وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فرشتوں کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر نازل فرماتا ہے کہ اس بات سے باخبر کر دو کہ بلاشبہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم مجھ سے ڈرو) مفسرین نے روح سے وحی مراد لی ہے اور من امرہ کو اس کا بیان قرار دیا ہے اور ملائکہ سے جنس کے طور پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مراد لیا ہے آیت شریفہ میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندہ پر چاہے وحی بھیج دیتا ہے اور وحی بھیجنا اس لیے ہے کہ وحی لانے والے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخاطبین کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی بھیج دیں کہ اگر تم نے توحید کی دعوت کو قبول نہ کیا تو عذاب میں مبتلا ہوگے لہٰذا تم مجھ سے ڈرتے رہو۔
Ayah 16:3اس کے بعد آسمان اور زمین کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا (اس کی تفسیر چند صفحات پہلے سورة حجر کے آخری رکوع میں گزر چکی ہے) پھر بطور تاکید مضمون سابق کا اعادہ فرمایا (تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ) (اللہ تعالیٰ اس سے برتر ہے جو وہ شریک تجویز کرتے ہیں۔ )
Ayah 16:4پھر انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ) (اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا تو یکایک وہ جھگڑالو ہوگیا واضح طور پر) انسان کو اللہ تعالیٰ نے منی کے نطفہ سے پیدا فرمایا جو انسان کے نزدیک خود ایک گندی اور ذلیل چیز ہے لیکن انسان اپنی اصل کو تو دیکھتا نہیں اور جھگڑے بازی کرتا ہے اس کا یہ جھگڑا صرف مخلوق ہی کے ساتھ نہیں خالق تعالیٰ جل مجدہ کی اخبار اور احکام میں بھی جھگڑے بازی کرتا ہے سورة یٰسین میں فرمایا (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ) (کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ بلاشبہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا وہ واضح طور پر جھگڑالو ہوگیا اور اس نے ہمارے بارے میں مثل بیان کردی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا وہ کہتا ہے کہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا اس حال میں کہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی) معالم التنزیل ص 62 میں لکھا ہے کہ ابی بن خلف مشرک ایک دن ایک بوسیدہ ہڈی لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کیا تم یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے بوسیدہ ہونے کے بعد اس کو زندہ کردے گا، اس پر آیت بالا نازل ہوئی، سبب نزول جو بھی ہو آیت بالا میں انسان کا جھگڑالو ہونا بیان فرمایا ہے۔ مشرکین اور کافرین کے جھگڑے جگہ جگہ قرآن حکیم میں نقل فرمائے ہیں اور ان کے سوالات اور کٹ حجتی کے جوابات بھی دئیے ہیں، کافر تو کافر ہیں جو لوگ نام کے مسلمان ہیں وہ بھی حجت بازی کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ شیطان کو ہمارے پیچھے کیوں لگا دیا ؟ کبھی کہتے ہیں کہ جب پہلے سے تقدیر میں لکھ دیا ہے تو ہمارا مواخذہ کیوں ہے ؟ کبھی کہتے ہیں کہ ہم نے کون سا تار بھیجا تھا کہ ہمیں پیدا کردے، کبھی کہتے ہیں اور کون شریعت پر چل رہا ہے جو ہم چلیں ؟ بعض لوگوں کو یوں بھی کہتے ہوئے سنا کہ سب نیک ہوجائیں تو دوزخ کس سے بھرے گی، بعض لوگوں سے یہ بات بھی سنی گئی ہے کہ اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں ہے ہم نے عبادت نہ کی تو کیا حرج ہے، ایسا کہنے والے وہ لوگ ہیں جو اسلام کے بھی دعوے دار ہیں اور اللہ پر اعتراض بھی کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنے سے کفر عائد ہوتا ہے۔
Ayahs 16:5–7چوپائے اللہ تعالیٰ کے انعام ہیں ان سے متعدد قسم کے منافع متعلق ہیں
اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے بےانتہا انعام ہیں، طرح طرح کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں جن سے انسان منتفع اور متمتع ہوتے ہیں، ان چیزوں میں حیوانات یعنی چوپائے بھی ہیں ان چوپایوں سے کئی طرح کے منافع حاصل ہوتے ہیں، آیات بالا میں جن منافع کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ان میں سے ایک تو سردی کا انتظام ہے یعنی ان کے جسم سے بال اور اون کاٹتے ہیں پھر ان سے کپڑے بناتے ہیں، کمبل وغیرہ تیار کرتے ہیں، کھالوں کے بھی کپڑے بنالیتے ہیں اور ان سے بستر بھی تیار کرتے ہیں نیز کھالوں سے خیمے بھی تیار ہوتے ہیں جس کا اسی سورت کے گیارہویں رکوع میں تذکرہ فرمایا ہے، چوپاؤں کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے۔
چوپایوں کا دوسرا فائدہ یہ بتایا کہ اس میں تمہارے لیے رونق ہے جبکہ تم انہیں شام کو چراگاہوں سے واپس لاتے ہو اور صبح کو چراگاہوں کی طرف لے جانے کے لیے چھوڑتے ہو یہ رونق جو جانوروں سے حاصل ہوتی ہے اس کو جانور والے ہی جانتے ہیں۔ جس کسی کے پاس بہت سے مویشی ہوں جب وہ صبح شام اپنے جانوروں کو آتا جاتا دیکھتا ہے تو خوشی میں پھولا نہیں سماتا۔ گاؤں کا چودھری چارپائی پر بیٹھے ہوئے جب اپنے جانوروں پر نظر ڈالتا ہے اور دیکھتا ہے کہ احاطہ جانوروں سے بھرا ہوا ہے اور جانور بول رہے ہیں ان کے بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس وقت جو اس کی کیفیت ہوتی ہے اس کا پوچھنا ہی کیا ہے، جب شام کو جانور پیٹ بھرے ہوئے واپس آتے ہیں جن کے تھن بھی دودھ سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر نوکر چاکر دودھ دوہنے لگتے ہیں اور اس وقت جو چودھری صاحبان کی کیفیت ہوتی ہے اور خوشی میں مست و مگن ہوتے ہیں اسے دیکھنے والے ہی جانتے اور سمجھتے ہیں۔
چوپایوں کا تیسرا فائدہ یہ بتایا کہ وہ تمہارے بوجھ والے سامان کو اٹھاتے ہیں دور شہروں میں پہنچاتے ہیں اگر یہ جانور نہ ہوتے تو تمہیں یہ بوجھ خود اٹھانے اور لے جانے پڑتے اور اس وقت تم مصیبت میں پڑجاتے، بڑی محنت اور تکلیف کے ساتھ سامان پہنچاتے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جانور پیدا فرما دئیے جو تمہارے بوجھ اٹھانے کی خدمت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ بڑی مشقت والا اور بڑی رحمت والا ہے۔
Ayah 16:8اس کے بعد سواری کے جانوروں کا تذکرہ فرمایا (وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا وَ زِیْنَۃً ) اللہ تعالیٰ نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا فرما دئیے تاکہ تم ان پر سوار ہو، اور ان میں تمہارے لیے زینت بھی ہے، ان تینوں قسم کے جانوروں پر سواری بھی کرتے ہیں اور خچر اور گدھے تو اپنے سوار کے ساتھ بہت سا بوجھ بھی اٹھا کرلے جاتے ہیں، یہ جانور اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور انسانوں کے لیے مسخر بھی فرمائے اسی کو سورة زخرف میں فرمایا (لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِِنَّآ اِِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ) (تاکہ تم ان کی پشتوں پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب ان پر بیٹھ چکو اور یوں کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا اور ہم اسے قابو میں کرنے والے نہ تھے اور بلاشبہ ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانا ہے) یہ جانور اللہ تعالیٰ نے مسخر فرما دئیے اگر جانور ہٹی ہوجائے اور قابو نہ دے، نہ پیار سے مانے نہ چمکار سے تب انسان کو اللہ تعالیٰ کی تسخیر کا پتہ چلتا ہے کہ اس نے محض اپنے کرم سے ان جانوروں پر قابو دے دیا۔ سورة یٰسین میں یوں ارشاد فرمایا (ذَلَّلْنٰھَا لَھُمْ فَمِنْھَا رَکُوْبُھُمْ وَ مِنْھَا یَاْکُلُوْنَ ) اور ہم نے جانوروں کو ان کا فرمانبردار بنا دیا سو ان میں سے بعض سواری کے جانور ہیں اور بعض کو وہ کھاتے ہیں، گھوڑوں، خچروں اور گدھوں سے پہلے جن جانوروں کا ذکر تھا ان کے بارے میں (وَلَکُمْ فِیْھَا جَمَالٌ) فرمایا اور یہاں وَزِیْنَۃً فرمایا جس طرح مذکورہ مویشیوں کے آتے جاتے وقت صبح شام مالکوں کی شان و شوکت کا مظاہرہ ہوتا ہے اسی طرح سواری کے جانوروں سے بھی مالکوں کی شان و شوکت ظاہر ہوتی ہے۔
فائدہ : آیت بالا میں اجمالی طور پر چوپایوں کے منافع کا تذکرہ فرمایا پھر تفصیلاً بھی بعض منافع ذکر فرما دئیے اور سورة یٰسین میں منافع کے ساتھ مشارب کا ذکر بھی فرمایا نیز سورة نحل کے نویں رکوع میں دودھ کا بھی ذکر فرمایا ہے، یہ دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے صاف ستھرا نکل آتا ہے جسے گلے سے بآسانی اتار لیتے ہیں، جن منافع کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا اس میں کھالیں بھی ہیں اور ہڈیاں بھی ہیں ان سے بھی انسان نفع اٹھاتے ہیں اور اب تو انسانی اعضاء کا مبادلہ بھی شروع ہوگیا ہے مثلاً کسی کا کوئی عضو خراب ہوجائے تو اسے ہٹا کر جانوروں کے اعضا لگا دئیے جاتے ہیں۔
فائدہ ثانیہ : سواریوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے (وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) بھی فرمایا (اللہ تعالیٰ وہ چیزیں پیدا فرماتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے) اس کے عموم میں وہ سب چیزیں داخل ہیں جو نزول قرآن کے وقت دنیا میں موجود نہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے بعد میں پیدا فرمائیں اور آئندہ کیا کیا پیدا ہوگا اس کا علم بندوں کو نہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ کو ان کا بھی علم ہے چونکہ اس بات کو سواریوں کے ذیل میں ذکر فرمایا ہے اس لیے بعض اکابر نے نو ایجاد سواریوں کے بارے میں فرمایا کہ ہوائی جہاز اور ریل اور موٹر کار وغیرہ ان سب کا وجود میں آنے کی طرف آیت شریفہ میں اشارہ ملتا ہے بلکہ قیامت تک جتنی بھی سواریاں ایجاد ہوں گی عموم الفاظ میں ان سب کی خبر دے دی گئی ہے۔
Ayahs 16:9–10اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بہت سے لوگ ہٹے ہوئے ہیں
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تک سیدھا راستہ پہنچتا ہے، صراط مستقیم یعنی دین اسلام پر جو شخص چلے گا وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا یعنی اللہ کی رضا اس کو حاصل ہوجائے گی اور دوسرے راستے ٹیڑھے ہیں وہ طریق حق سے ہٹے ہوئے ہیں جو شخص ان پر چلے گا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہ ہوگی، آخرت میں مبتلائے عذاب ہوگا۔
(وَ لَوْ شَآءَ لَھَدٰیکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (اور اگر اللہ چاہے تو تم سب کو ہدایت دے) جو لوگ ہدایت کے طالب ہوتے ہیں دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دیتا ہے۔ طریق حق تو اس نے واضح طور پر سب کے لیے بیان فرما دیا اب جو شخص ہدایت کے لیے فکر مند ہوگا دلائل میں غور و فکر کرے گا اسے ہدایت بمعنی ایصال الی المطلوب بھی حاصل ہوجائے گی۔
بعض حضرات نے (وَ لَوْ شَآءَ لَھَدٰیکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو مجبور کرکے سب کو صراط مستقیم پر ڈال دیتا، لیکن حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ جبر نہ کیا جائے دونوں راستے بیان کردئیے جائیں اب جو چاہے اپنے اختیار سے صراط مستقیم کو اختیار کرکے جنت میں چلا جائے اور جو چاہے کجی والا راستہ اختیار کرکے دوزخ میں چلا جائے۔
(وَ عَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ ) کا ترجمہ ایک تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا اور بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ اللہ صحیح راہ بتاتا ہے یہ اس نے اپنے ذمہ لیا ہے اس نے دلائل بیان کردئیے اپنے نبیوں اور کتابوں کے ذریعہ حق پہنچا دیا ہے وہ کسی کو حق کی راہ بتائے بغیر عذاب نہ دے گا اور بہت سے لوگ حق کو حق جاتے ہوئے اس سے ہٹے ہوئے ہیں۔ (معالم التنزیل ص 63 ج 3)
Ayah 16:11گزشتہ آیات میں توحید کے دلائل بیان فرمائے اور درمیان میں بطور جملہ معترضہ سیدھے راستے کی تشریح فرما دی اگر کوئی شخص دلائل میں غور کرے گا تو وہ راہ مستقیم پر چلے گا اور راہ حق پالے گا۔ مذکورہ بالا آیات میں بھی چند دلائل توحید بیان فرمائے ہیں۔
اول : یہ کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے اس پانی سے ایک تو یہ فائدہ ہے کہ اس میں سے بہت سا حصہ پینے کے کام آتا ہے، آسمان سے برسے ہوئے میٹھے پانی سے مخلوق سیراب ہوتی ہے اور اس پانی سے درخت بھی پیدا ہوتے ہیں، ان درختوں کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ درخت جانوروں کی خوراک بنتے ہیں، ان جانوروں کو درختوں میں چھوڑ دیتے ہیں جہاں وہ چارہ کھاتے ہیں، نیز اس پانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اگاتا ہے اور ان کے علاوہ اور بھی طرح طرح کے پھل پیدا فرماتا ہے ان کے درخت بارش کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور پھلتے پھولتے ہیں۔ بارش کے پانی کے مذکورہ فوائد و منافع بیان فرمانے کے بعد فرمایا (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے ہیں۔ )
Ayah 16:12دوم : لیل و نہار (رات دن) کی تسخیر بیان فرمائی، اللہ تعالیٰ شانہٗ رات کو پیدا فرماتا ہے جس میں آرام کرتے ہیں، اور دن کو پیدا فرماتا ہے جس میں معاش کی طلب میں لگتے ہیں۔
سوم : شمس و قمر کی تسخیر کا تذکرہ فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکم سے آفتاب اپنی حرارت اور روشنی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے پھر غروب ہوجاتا ہے اس عرصہ میں اس سے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ روشنی اور گرمی کا فائدہ تو سبھی کو معلوم ہے اس کی حرارت کی وجہ سے کھیتیاں بھی پکتی ہیں اور پھل تیار ہوتے ہیں، اور اب تو آفتاب سے بجلی بھی حاصل کرتے ہیں، اور چاند کو بھی مسخر فرما دیا جس کی دھیمی دھیمی روشنی میں ایک خاص کیف ہوتا ہے سفر و حضر میں چلنے والوں کو چاند کے ذریعے راستے معلوم ہوتے ہیں۔
چہارم : ستاروں کی تسخیر کا تذکرہ فرمایا، یہ سب ستارے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں اس کی مشیت اور ارادہ کے پابند ہیں ہزاروں سال گزر گئے جو رفتاریں ان کی مقرر فرما دی ہیں انہیں کے مطابق چلتے ہیں، کسی آلہ یا انجن کے بغیر محض امر الٰہی سے رواں اور دواں ہیں، ان امور کا تذکرہ فرما کر ارشاد فرمایا (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں)
Ayah 16:13پنجم : زمین سے پیدا ہونے والی مختلف الوان کی چیزوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے یہ چیزیں تمہارے لیے زمین میں پیدا فرمائی ہیں، الوان لون کی جمع ہے عربی میں لون رنگ کو کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے الوان کا ترجمہ اقسام کیا ہے۔ الفاظ کا عموم زمین پر پیدا ہونے والی اور رہنے والی اور بسنے والی سب چیزوں کو شامل ہے جتنی بھی چیزیں زمین میں پائی جاتی ہیں حیوانات، معدنیات، نباتات، جمادات وغیرہ مذکورہ بالا آیت میں اجمالی طور پر ان کا تذکرہ آگیا، یہ چیزیں رنگ برنگ کی ہیں، ان کی مختلف صورتیں ہیں اور طرح طرح کے انواع و اقسام ہیں ان سب میں انسانوں کے لیے منافع ہیں، یہ چیزیں غذاؤں میں بھی کام آتی ہیں، اور مکانات کی تعمیر میں بھی اور امراض کے علاج میں بھی، ان چیزوں کا تذکرہ فرما کر ارشاد فرمایا (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْن) (بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ )
Ayah 16:14ششم : سمندر کی تسخیر کا تذکرہ فرمایا، اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے سمندر پیدا فرمائے اور بندوں کے لیے ان میں منافع رکھ دئیے ان میں سے چار انعامات کا تذکرہ فرمایا۔ اول تو یہ فرمایا کہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اس سے مچھلیاں مراد ہیں سمندر سے مچھلیاں نکالتے ہیں اور تازہ بتازہ بھون کر یا پکا کر کھالیتے ہیں، دوسرا فائدہ یہ بتایا کہ تم سمندر سے زیور نکالتے ہو، اس سے موتی مراد ہیں جو سمندر سے نکالے جاتے ہیں جس کا سورة رحمن میں ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ) تیسرے کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کشتیاں چھوٹی ہوں یا بڑی، بادبانی کشتیاں ہوں، یا پٹرول سے چلنے والے بڑے جہاز ہوں یہ سب پانی کو پھاڑتے ہوئے سمندر میں سے گزر جاتے ہیں ان کشتوں کے ذریعہ سفر بھی طے ہوتا ہے ایک براعظم سے دوسرے براعظم پہنچ جاتے ہیں، یہ اسفار تجارت کے لیے بھی ہوتے ہیں اور تعلیم کے لیے بھی، کشتیوں کے ذریعے مال کی آمد و رفت بھی ہوتی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کا ذریعہ ہے، ایک براعظم کے لوگ دوسرے براعظم کی پیداوار کھاتے ہیں اور بھی دوسری استعمالی چیزیں برآمد کی جاتی ہیں اس کو (وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ ) میں بیان فرمایا اور ساتھ ہی (وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) بھی فرما دیا (اور تاکہ تم شکر ادا کرو) انسانوں میں شکر گزار کم ہوتے ہیں۔ خالق کائنات جل مجدہ کی پیدا کی ہوئی نعمتیں تو استعمال کرلیتے ہیں لیکن شکر کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اس لیے بار بار شکر کی طرف توجہ دلائی ہے۔
Ayah 16:15ہفتم : زمین پر بھاری بھاری پہاڑ پیدا فرمانے کی نعمت یاد دلائی ہے اور فرمایا (وَ اَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) (اور زمین میں بھاری پہاڑ ڈال دئیے تاکہ زمین تم کو لے کر ہلنے نہ لگے) زمین پر انسان کو بسایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ انسان ضعیف ہے اگر زمین حرکت کرتی اور ڈگمگاتی رہتی تو انسان کا جینا دشوار ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ڈگمگانے سے محفوظ فرمانے کے لیے اس میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دئیے ان پہاڑوں کے بوجھ کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کرتی، انسان اس پر چلتے پھرتے ہیں کام کاج کرتے ہیں وہ ہلنے اور ڈگمگانے سے محفوظ ہے، یہ انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے، جب کبھی اللہ کی مشیت ہوتی ہے اور زمین حرکت میں آجاتی ہے تو آبادیاں فنا ہوجاتی ہیں جس کو زلزلہ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں، زمین گردش کرتی ہے یا نہیں اس کے بارے میں قرآن مجید میں نفیاً واثباتاً کوئی بات نہیں ملتی اگر زمین گردش کرتی ہو تو وہ (اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) کے خلاف نہیں ہے کیونکہ آیت شریفہ میں زمین کے کانپنے اور ڈگمگانے کی نفی فرمائی ہے اگر وہ معتدل انداز میں چلتی رہے جیسا کہ دور حاضر کے اہل سائنس کہتے ہیں تو یہ ممکن ہے، قرآن میں اس کی نفی نہیں ہے۔
ہشتم : نہروں کا تذکرہ فرمایا نہریں سمندروں سے چھوٹی ہوتی ہیں، میٹھے پانی کی ہوتی ہیں اور ان سے انسان حیوان، کھیتیاں اور باغات سیراب ہوتے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتیں ہیں نیل، فرات، دجلہ، جیحون، سیحون، گنگا، جمنا، راوی، چناب، جہلم، دریائے سندھ ان سے خلق کثیر منتفع اور مستفید ہوتی ہے۔
نہم : یہ فرمایا کہ تمہارے لیے راستے بنائے، یہ راستے نرم زمین میں بھی ہیں اور پہاڑوں میں بھی، جنگلوں میں بھی اور آبادیوں میں بھی، سمندروں میں بھی اور فضاؤں میں بھی، ان راستوں کے ذریعہ پیدل چل کر یا سواریوں پر بیٹھ کر منزل مقصود پر پہنچتے ہیں۔ سورة نوح میں فرمایا (وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا لِتَسْلُکُوْا مِنْہَا سُبُلًا فِجَاجًا) (اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا تاکہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو) اگر راستے بنے ہوئے نہ ہوتے اور اٹکل پچو سے سفر کرتے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتے اس بات کو بیان فرمانے کے لیے سُبُلاً کے ساتھ (لَعَلَّکُمْ تَھتَدُوْنَ ) بھی فرمایا راستوں کے ذکر کے ساتھ و علامات بھی فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں راستے بھی ہیں۔ راستوں کی نشانیاں بھی ہیں درخت پہاڑ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے مسافر اندازہ کرکے چلتا رہتا ہے اور علی وجہ البصیرۃ اپنا سفر قطع کرلیتا ہے۔ قال ابن کثیر قولہ و علٰمت ای دلائل من جبال کبار واکام صغار ونحو ذلک یستدل بھا المسافرون برا وبحرا اذا ضلوا الطریق (ص 565 ج 2) علامہ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں ارشاد الٰہی ہے (وَعلمٰت) یعنی بڑے بڑے پہاڑوں اور چھوٹے ٹیلوں وغیرہ کی نشانیاں کہ خشکی کے اور سمندروں کے مسافر جب بھولتے ہیں تو انہیں کے ذریعہ راستہ کا نشان تلاش کرتے ہیں۔
Ayah 16:16دہم : ستاروں کے ذریعے راستے معلوم کرنے کا تذکرہ فرمایا، ارشاد ہے۔ (وَ بالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ ) (اور ستاروں کے ذریعہ لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں) جنگلوں میں پہاڑوں میں سمندر میں جب رات کو راستہ خطا کرجاتے ہیں تو ستاروں کو دیکھ کر مشرق و مغرب و شمال و جنوب کا پتہ چلا لیتے ہیں اگر ستارے نہ ہوں یا ستاروں کی پہچان نہ ہو تو حیران کھڑے رہ جائیں یا غلط راستے پر چل کر منزل مقصود کے علاوہ کسی دوسری جگہ جاپہنچیں۔ (فَسُبْحَانَ الَّذِیْ خَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ )
Ayahs 16:17–18مخلوق اور خالق برابر نہیں ہوسکتے، تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو نہیں گن سکتے، اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں وہ بےجان ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے
گزشتہ آیات میں توحید کے دلائل بیان فرمائے اور مخلوقات کی انواع و اقسام بیان فرمائیں اور ان کے فوائد بھی بتائے، یہ تمام چیزیں اور ان کے علاوہ ہر چیز جو کبھی موجود تھی یا موجود ہے یا موجود ہوگی سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو جاہلوں نے دوسروں کی عبادت شروع کردی ان کے وہ معبود اللہ کی مخلوق ہیں۔ مخلوق خالق کے برابر نہیں ہوسکتی پھر یہ کیسی حماقت ہے کہ مخلوق کو خالق کا ساجھی بنا دیا کچھ تو سمجھ کی بات کرتے اور دلائل توحید سے نصیحت لیتے، سورة لقمان میں فرمایا (ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ فَاَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (یہ اللہ کی مخلوق ہے سو مجھے دکھاؤ ان لوگوں نے پیدا کیا جو اس کے سوا ہیں، بلکہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں ہیں) درحقیقت یہ بہت بڑی بھونڈی اور بھدی اور بےعقلی کی بات ہے کہ خالق کو مخلوق کے برابر کردیا جائے اور مخلوق کو معبود بنالیا جائے، پھر فرمایا کہ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار نہیں کرسکتے، پہلی نعمت تو یہ ہے کہ اس نے وجود بخشا اعضاء دئیے آنکھ ناک دئیے، سمجھنے کی قوت دی، اچھے برے کی تمیز عطا فرمائی، اور اس کے علاوہ بےانتہاء نعمتیں ہیں، ان نعمتوں کی قدر دانی کا تقاضا یہ تھا کہ موحد بنتے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے لیکن اس کے برخلاف مشرکین نے شرک اختیار کرلیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان غفاریت بیان فرمائی کفر و شرک بہت بڑا جرم ہے لیکن اگر کوئی مشرک یا کافر توبہ کرلے اور ایمان والا بن جائے تو اس کی مغفرت ہوجاتی ہے اگر کوئی شخص ایمان قبول نہ کرے تب بھی دنیا میں کچھ نہ کچھ نعمتیں ملتی رہتی ہیں، یہ شان رحمت کا مظاہرہ ہے، بعض حضرات نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہر نعمت کے مقابلہ میں شکر کا مطالبہ فرماتا تو اس سے عاجز رہ جاتے لیکن وہ غفور و رحیم ہے گناہوں اور کوتاہیوں کو معاف کرتا ہے اور تھوڑے عمل پر بھی جزا دیتا ہے (ذکرہ ابن کثیر)
Ayah 16:19پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ ) (اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو) اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں اللہ کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری عقیدہ اور عمل سے کرتے ہیں یوں نہ سمجھیں جیسے دنیا گزر رہی ہے اس میں عام طور سے سزا نہیں دی جاتی، اسی طرح موت کے بعد بھی عذاب سے بچ جائیں گے اللہ تعالیٰ کو سب کے باطنی احوال بھی معلوم ہیں اور ظاہری اعمال بھی، وہ اپنے علم کے مطابق شکر گزاروں کو ان کے شکر کا ثواب عطا فرمائے گا اور ناشکروں کا مواخذہ فرمائے گا،
Ayah 16:20پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا وَّ ھُمْ یُخْلَقُوْنَ ) (اور یہ لوگ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں یعنی ان کی عبادت کرتے ہیں اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں وہ کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ تو خود ہی مخلوق ہیں) جو چیز مخلوق ہے اس کا یہ مقام نہیں کہ معبود بن جائے یا اسے معبود مان لیا جائے۔ عبادت کے لائق صرف خالق ہی ہے جل مجدہ وثناء
Ayah 16:21، پھر فرمایا (اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ ) (یعنی یہ بت جنہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے بےجان ہیں زندہ نہیں ہیں) تم ان کی عبادت کیسے کرنے لگے ؟ (وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ) (اور ان باطل معبودوں کو خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے) ایمان اور عبادت کا سب سے بڑا انعام داخلہ جنت کی صورت میں موت کے بعد نصیب ہوگا اور یہ قیامت آنے پر موقوف ہے ان بےجان بتوں کو کچھ بھی خبر نہیں کہ مردے کب اٹھائے جائیں گے اگر ان سے موت کے بعد کسی طرح کا کوئی فائدہ حاصل ہونے کی امید رکھتے ہو تو یہ تمہاری غلطی ہے، جسے اعمال کا بدلہ دینا ہے وہ اللہ تعالیٰ شانہٗ ہے اسے معلوم ہے کہ قیامت کب قائم ہوگی تمہارے معبود جاہل محض ہیں، انہیں نہ کچھ علم ہے نہ قیامت کا پتہ ہے نہ قیامت کے آنے کی خبر ہے یہ موت کے بعد تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے قال ابن کثیر ص 565 ج 2 ای لا یدرون متی تکون الساعۃ فکیف یرتجی عند ھذہ نفع او ثواب او جزاء انما یرجی ذلک من الذی یعلم کل شئ وھو خالق کل شی یعنی وہ نہیں جانتے کہ قیامت کب ہوگی پس یہ لوگ ان سے نفع یا ثواب یا جزاء کی امید کیسے رکھتے ہیں ان چیزوں کی امید تو اس ذات سے لگائی جاتی ہے جو ہر شے کا علم رکھتی ہے اور وہی ہر شے کی خالق ہے۔
Ayah 16:22تمہارا معبود ایک ہی ہے وہ ظاہر اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے گمراہ کرنے والے دوسرے کے بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہوں گے
مشرکین کی تردید اور ان کے معبودان باطلہ کی حالت بیان فرمانے کے بعد (کہ وہ مخلوق ہیں بےجان ہیں بےعلم ہیں) معبود حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان فرمائی اور فرمایا (اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ) (کہ تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے) صرف اسی کو معبود مانو، اس کے بعد آخرت کے منکرین کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل اس کے ماننے سے انکاری ہیں اور وہ تکبر کرنے والے ہیں، یہ تکبر انہیں حق قبول کرنے سے روکتا ہے۔
Ayah 16:23(لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ ) (یہ بات ضروری ہے یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے وہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں) لہٰذا وہ ان کے عقیدہ انکار آخرت اور ظاہری و باطنی احوال و اعمال پر سزا دے گا۔ (اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ ) (بلاشبہ وہ تکبر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا)
Ayah 16:24پھر فرمایا (وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ ) (الایۃ) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں) صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان لوگوں نے مکہ معظمہ کی گھاٹیوں کو تقسیم کرلیا تھا۔ مختلف گھاٹیوں پر مختلف لوگ بیٹھ گئے تھے جو لوگ حج کے لیے آتے تھے انہیں بہکاتے اور ورغلاتے تھے تاکہ مسلمان نہ ہوجائیں، باہر سے آنے والے حجاج ان سے دریافت کرتے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے کیا نازل ہوا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے کن چیزوں کی وحی کا تذکرہ فرمایا اور اللہ کی طرف سے جو ان پر نازل ہوا انہوں نے کیا بتایا، اس پر یہ لوگ کہہ دیتے تھے کہ اللہ کی طرف سے نازل کچھ نہیں ہوا وہ تو پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں انہوں نے بھی سن رکھی ہیں۔ انہیں کو بیان کردیتے ہیں اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ خود تو منکر ہیں ہی نبوت و رسالت کے بارے میں دریافت کرنے والوں کو بھی ایمان نہ لانے دیں۔ انہوں نے اپنے کفر اور اعمال بد کا بوجھ اپنے اوپر اٹھایا اور ساتھ ہی ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھایا جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کرتے ہیں اور اپنے شہر میں آنے والوں کو ایمان لانے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 16:25اسی کو فرمایا (لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) کہ ان حرکتوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اپنے کفر و شرک اور گناہوں کے پورے پورے بوجھ اپنے اپنے اوپر اٹھا کر لائیں گے اور ان لوگوں کے بھی بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے جنہیں گمراہ کیا تھا پھر فرمایا (اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ ) (خبردار یہ برا بوجھ ہے جسے اپنے اوپر لاد رہے ہیں) اپنے کیے کی بھی سزا بھگتیں گے اور ان لوگوں کے گناہ بھی ان کے سر پڑیں گے جن کو بہکایا اور ورغلایا، ان کے گناہوں کی بھی سزا ملے گی (گو وہ بھی عذاب سے نہ بچیں گے کیونکہ انہوں نے جانتے بوجھتے کفر اختیار کیا اور لوگوں کے ورغلانے میں آئے) سورة عنکبوت میں فرمایا (وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِھِمْ وَ لَیُسْءَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) (اور یہ لوگ ضرور ضرور اپنے بوجھوں کو اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے اور البتہ قیامت کے دن ان سے ان باتوں کے بارے میں باز پرس ہوگی جو جھوٹ موٹ بنایا کرتے تھے۔ )
Ayah 16:26معاندین سابقین کے عذاب کا تذکرہ، قیامت کے دن کافروں کی رسوائی اور بدحالی، متکبرین کا برا ٹھکانہ ہے
مشرکین مکہ جو قرآن مجید کے اولین مخاطب تھے اسلام اور داعی اسلام ﷺ کے خلاف طرح طرح کی تدبیریں سوچتے تھے اور آپس میں مشورے کرتے تھے۔ (وَ قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) میں ان لوگوں کی مکاری کا تذکرہ فرمایا جو پہلی امتوں میں گزرے ہیں، یہ لوگ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کا کیا کرایا سب برباد کردیا جیسے کوئی شخص عمارت بنائے اور پھر اس کی بنیادیں اور ستون گرپڑیں اور پھر اوپر سے چھت گرجائے، ان کی بنائی ہوئی تعمیر بھی برباد ہوئی اور خود بھی اس میں دب کر رہ گئے اپنے مقاصد میں ناکام ہوئے اور اس طرح ان پر عذاب آگیا جس کا انہیں خیال بھی نہ تھا، آیت کریمہ سے عام اقوام مراد لی جائیں تو کسی خاص قوم یا کسی خاص شخص کی تعیین کی ضرورت نہیں رہتی کثیر تعداد میں ایسی قومیں گزری ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی مخالفت کی اور ان کی تدبیریں ناکام ہوئیں اور ان پر عذاب آیا اور برباد و ہلاک ہوئے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں۔ واختار جماعۃ بناۂ علی التمثیل حسبما سمعت وعلیہ فالمراد علی المختار من الذین کفروا من قبل ما یشمل جمیع الماکرین الذین ھدم علیھم بنیانھم وسقط فی ایدیھم ایک جماعت نے اس کو ترجیح دی ہے کہ اس کی بناء تمثیل پر ہے پس مختار قول کے مطابق اس سے مراد سابقہ اقوام کے کافر ہیں جو ان تمام مکاروں کو شامل ہے جن کی تعمیریں خود ان کے اپنے اوپر گرپڑیں اور انہیں کے ہاتھوں گریں۔ (ص 136 ج 14)
اور حافظ ابن کثیر نے بھی (ص 566 ج 2) یہ بات لکھی ہے حیث قال ھذا من باب المثل بالابطال ما صنعتہ ھولاء الذین کفروا باللّٰہ واشرکوا فی عبادتہ جو یہ فرمایا یہ ان کافروں کی ان مکاریوں کے ابطال کے لیے ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا کفر کیا اور دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کیا۔
لیکن خود صاحب روح المعانی اور حافظ ابن کثیر نے اور علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ (وَ قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) سے نمرود بن کنعان مراد ہے جس نے شہر بابل میں ایک محل بنایا تھا جس کی اونچائی پانچ ہزار ہاتھ اور چوڑائی تین ہزار ہاتھ تھی اس کا مقصد یہ تھا کہ آسمان پر چڑھے اور وہاں کے حالات معلوم کرکے آسمان والوں سے قتال کرے، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیج دی جس نے اس محل کو گرا دیا اور اس کی چھت نمرود پر اور اس کے اتباع پر گر پڑی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ صاحب روح المعانی نے ایک قول یہ بھی لکھا ہے کہ خود نمرود اس وقت ہلاک نہیں ہوا تھا بلکہ محل کی بربادی کے بعد زندہ رہا اور اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مچھر کے ذریعے ہلاک فرما دیا جو اس کے دماغ میں پہنچ گیا تھا۔ حافظ ابن کثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس سے بخت نصر مراد ہے اس نے بھی مکاری کی تھی اور اونچا محل بنایا تھا پھر وہ محل برباد ہوگیا یہ سب اسرائیلی روایات ہیں اگر محل بنانے والی بات درست ہو تو یہ ایسا ہی ہے جیسے فرعون نے اپنے وزیر سے کہا تھا (یَاھَامَانُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ اَسْبَاب السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِِلٰی اِِلٰہِ مُوْسٰی وَاِِنِّیْ لاََظُنُّہٗ کَاذِبًا) (اے ہامان بنا دے میرے لیے ایک عمارت شاید میں آسمان پر جانے کی راہوں تک پہنچ جاؤ پھر موسیٰ کے معبود کو دیکھوں اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں) فرعون کی تدبیریں بھی فیل ہوئیں، قارون بھی اپنے گھر سمیت زمین میں دھنسایا گیا عاد وثمود بھی برباد ہوئے اور دنیا میں عذاب چکھ لیا۔
Ayah 16:27(فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ ) (سو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا) مکذبین اور معاندین کو دنیا میں تو عذاب پہنچنا ہی ہے آخرت میں بھی ذلیل ہوں گے اور عذاب میں ڈالے جائیں گے اسی کو فرمایا (ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُخْذِیْھِمْ ) پھر اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن رسوا کرے گا اور سوال فرمائے گا کہ وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑے کیا کرتے تھے، اس موقع پر علم والے حضرات بول اٹھیں گے اور یوں کہیں گے (اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ) (بلاشبہ آج رسوائی اور بدحالی کافروں پر ہے)
Ayah 16:28(الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ ) (یہ وہ لوگ ہیں جن کی جانیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کیں کہ یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے) کفر ہی پر جئے اور کفر ہی پر مرے لہٰذا آج کفر کی سزا ملے گی۔ (فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ ) (پھر کافر لوگ صلح کا پیغام ڈالیں گے کہ ہم کوئی برا کام نہ کرتے تھے) جب وہاں عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اس کے چھٹکارے کے لیے تدبیریں سوچیں گے، ان تدبیروں میں سے ایک تدبیر یہ ہوگی کہ سفارشی تلاش کریں گے اور یوں کہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کردیتا، کبھی کہیں گے کہ یہاں سے نکال دئیے جاتے تو دوبارہ دنیا میں جاکر اچھے عمل کرتے، اور کبھی اس بات کے منکر ہوجائیں گے کہ ہم مشرک یا کافر تھے، اس آیت میں ان کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ ہم تو کوئی بھی برا کام نہ کرتے تھے، اس میں کفر سے بھی انکاری ہوگئے اور شرک سے بھی اور ہر قسم کی معصیت سے اس انکار کو وہ اپنی نجات کا ذریعہ بنائیں گے چونکہ صلح کرنے سے بعض مرتبہ مصیبت ٹل جاتی ہے اس لیے اسے صلح سے تعبیر فرمایا، ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا۔ کہ بلیٰ ہاں تم نے برے کام کیے ہیں اور بہت بڑے جرم کیے ہیں کفر کیا شرک کیا پھر کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی بھی برا کام نہیں کیا (یہ انکار اور دھاندلی قیامت کے دن چلنے والی نہیں) (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کاموں کو جانتا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔
Ayah 16:29(فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا) (سو تم دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ رہو گے) (فَلَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ ) (سو تکبر والوں کا برا ٹھکانہ ہے) تکبر نے ان کو حق قبول کرنے نہ دیا لہٰذا دوزخ ہی ان کے مناسب حال ہے۔
Ayahs 16:30–32اہل تقویٰ کا اچھا انجام، انہیں جنت کے باغوں میں وہ سب کچھ نصیب ہوگا جو ان کی خواہش ہوگی
گزشتہ آیات میں کافروں کے مکر اور آخرت میں جو انہیں عذاب ہوگا اور رسوائی ہوگی اس کا ذکر تھا اور اس بات کا بھی ذکر تھا کہ فرشتے ایسی حالت میں ان کی جانیں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، ان آیات میں اہل ایمان کے اچھے اعمال اور اچھے اقوال کا تذکرہ فرمایا اور انہیں بشارت دی کہ وہ ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور ان باغیچوں میں ان کی خواہش کے مطابق سب کچھ موجود ہوگا جو بھی چاہیں گے وہ سب ملے گا، سورة زخرف میں فرمایا (وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ ) (اور وہاں وہ چیزیں موجود ہوں گی جن کی ان کے نفسوں کو خواہش ہوگی اور جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی) ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کو اسی طرح بدلہ عطا فرماتا ہے، تقویٰ میں ہر چیز آگئی شرک و کفر سے بچنا اور تمام گناہوں سے بچنا لفظ تقویٰ ان سب کو شامل ہے متقی حضرات کی موت کے وقت کی حالت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ فرشتے ان کی روحیں اس حال میں قبض کریں گے کہ یہ لوگ پاکیزہ ہوں گے جس کا دل کفر و شرک سے پاک ہو اور دل میں ایمان کی نورانیت ہو اور اس کا ظاہر اعمال صالحہ سے مزین ہو ظاہر ہے کہ موت کے وقت بھی اس کی حالت اچھی ہوگی، فرشتے بھی ان سے اچھا معاملہ کرتے ہیں اور انہیں اس وقت سلام پیش کرتے ہیں اور جنت کی بھی بشارت دے دیتے ہیں، دنیا سے ایمان پر رخصت ہونا اور اچھے اعمال لے کر جانا یہ جنت میں جانے کا سبب ہے، جنت کا حقیقی داخلہ تو قیامت کے دن ہوگا لیکن موت کے وقت اس کی خوشخبری بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ فی معالم التنزیل ص 66 ج 3 طیبین مومنین طاھرین من الشرک، قال مجاھد زکیۃ افعالھم واقوالھم وقیل معناہ ان وفاتھم تقع طیبۃ سھلۃ
فائدہ : چند آیات پہلے فرمایا تھا (وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْٓا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) اور یہاں ان آیات میں فرمایا (وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوْا خَیْرًا) مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان دونوں آیتوں کا سبب نزول ایک ہی ہے جس کا کچھ تذکرہ آیت (کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ ) کے ذیل میں گزر چکا ہے اور وہ یہ کہ مکہ معظمہ کے مشرکین نے یہ مشورہ کیا کہ اس شہر میں آنے والوں کو رسول اللہ ﷺ سے دور رکھنے کے لیے مختلف راستوں پر بیٹھ جاؤ جب اس پر عمل کیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ جس کسی قبیلے کا کوئی نمایندہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پوچھتا تو جھوٹی باتیں کرکے اسے وہیں سے برگشتہ کرتے تھے جب وہ لوگ اپنی قوم میں واپس ہوتے اور ان کی قوم کے لوگ دریافت کرتے کہ کیا معلوم کرکے آئے ہو تو یہ نمائندہ انہیں راستوں پر بیٹھنے والوں کا قول نقل کردیتا تھا اور کہہ دیتا تھا (اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) (کہ یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیاں ہوتی ہیں) اور ان نمائندوں میں سے جو شخص یہ طے کر ہی لیتا کہ مجھے اصل بات کا پتہ چلانا ہی ہے تو وہ ان لوگوں کی باتوں میں نہ آتا تھا اور حضور اقدس ﷺ تک پہنچ ہی جاتا تھا یہ شخص مکہ معظمہ میں داخل ہوجاتا اور مومنین سے ملاقات کرتا اور آنحضرت سرور عالم ﷺ کے بارے میں دریافت کرتا تو اہل ایمان جواب میں کہتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ پر خیر نازل فرمائی ہے مومنین کا جواب سن کر یہ نمائندہ مطمئن ہوجاتا اور پھر واپس جاکر اپنی قوم کو مطمئن کردیتا تھا۔
Ayahs 16:33–34منکرین اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں
اہل کفر دعوت حق کو قبول نہ کرتے تھے اور انہیں برابر کفر پر اصرار تھا، واضح دلائل سامنے آنے پر بھی ہدایت سے اعراض کرتے تھے، ان کے بارے میں فرمایا کہ جب دلائل واضحہ ظاہرہ کو نہیں مانتے تو کس بات کا انتظار ہے، ان کا طریقہ کار تو یہ بتاتا ہے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکم یعنی موت آجائے لیکن اس وقت ایمان قبول نہ ہوگا، جیسا کہ انہیں اپنے کفر پر اصرار ہے ان سے پہلے لوگ بھی ایسا ہی کرتے رہے پھر ان پر عذاب آگیا، عذاب کی باتیں سامنے آتی تھی تو وہ مذاق بناتے تھے پھر جب عذاب نے گھیر لیا تو بچاؤ کا کوئی بھی راستہ نہ پاسکے، ان پر جو عذاب آیا وہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ تھا، جیسا کیا ویسا بھرا اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا یہ مضمون سورة بقرہ کی آیت (ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ ) اور سورة انعام کی آیت (ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَلآءِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ) میں بھی گزر چکا ہے۔
Ayah 16:35مشرکین کی کٹ حجتی، اور ہر امت کے لیے رسول کی بعثت کا تذکرہ
مشرکین شرک تو کرتے ہی تھے اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا انہیں حرام قرار دیتے تھے، جب توحید کی دعوت دی جاتی تھی تو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو یوں جواب دیتے تھے کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو ہمیں اس بات کا جواب دو کہ ہم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں بقول تمہارے اللہ تعالیٰ ہمارے اس عمل سے ناراض ہے اگر وہ ناراض ہے تو ہمیں ایسا کیوں کرنے دیتا ہے، جب وہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی کام اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا تو ظاہر ہے کہ ہمارے باپ دادوں نے جو یہ کام کیے اور ہم بھی کر رہے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہیں، اس کی مشیت نہ ہوتی تو نہ باپ دادے ایسا کرتے نہ ہم کرتے، ہم ایسا کرتے ہیں اور اس کے علم میں ہے اور اس کی مشیت سے کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ وہ ان کاموں سے راضی ہے، مشرکین کا یہ قول سورة انعام کے رکوع نمبر 18 میں بھی گزرا ہے وہاں فرمایا (کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ حَتّٰی ذَاقُوْا بَاْسَنَا) (اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ )
سورة انعام میں مزید فرمایا (قُلْ ھَلْ عِنْدَکُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا) (آپ فرما دیجیے کہ تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے تم ہمارے لیے ظاہر کرو۔ ) (اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ ) (تم صرف گمان کے پیچھے چلتے ہو اور تم صرف اٹکل پچو باتیں بناتے ہو) سورة انعام کی آیت میں ان لوگوں کی بات کی تردید فرما دی کہ تم صرف جاہلانہ باتیں کرتے ہو اور اٹکل پچو حجت بازی کرتے ہو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق بھی ہے اور اس کی مشیت کے بغیر کچھ ہو بھی نہیں سکتا لیکن کسی کام کو ہونے دینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام سے راضی بھی ہیں، مشیت کی وجہ سے کسی کام کا وجود میں آجانا اور بات ہے اور کسی کام سے راضی ہونا یہ دوسری بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انسانوں کو ابتلاء اور امتحان کے لیے دنیا میں بھیجا ہے اور موت اور حیات کو آزمائش کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ کما قال تعالیٰ (لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ) اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور ان کو سمجھ دے دی اور عقل عطا فرما دی اور اعمال کا اختیار دے دیا بندے خیر کے کام بھی کرسکتے ہیں اور شر کے کام بھی، ایمان بھی قبول کرسکتے ہیں اور کفر بھی (کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَھَلْ عَلَی الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ) (ایسے ہی ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے تھے سو رسولوں کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے خیر اور شر کو سمجھایا ایمان کے منافع بتائے اور موت کے بعد جو اس کا فائدہ ہوگا یعنی نجات اور جنت کی نعمتیں ان سے باخبر فرمایا ان کے ذمہ اتنا ہی تھا کہ خوب کھول کر واضح طریقے پر بیان فرما دیں، انہوں نے بیان فرمایا لیکن جسے نہ ماننا تھا اس نے نہ مانا، اپنے اختیار سے لوگ کفر اختیار کرتے ہیں اور شرک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی حلال فرمودہ چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں پھر کٹ حجتی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے یہ اعمال منظور نہیں ہیں تو ہمیں کیوں کرنے دیتا ہے، درحقیقت یہ جاہلانہ باتیں ہیں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اختیار نہ دیا جاتا اور جبراً ایمان پر اور اعمال صالحہ پر لگا دئیے جاتے تو ابتلاء اور امتحان کا کوئی موقع ہی نہ رہتا، امتحان تو اسی صورت میں ہے جب کہ خیر و شر دونوں جانب کا اختیار دے دیا گیا یعنی یہ قدرت دے دی ہے کہ اگر چاہیں تو خیر پر چلیں اور اگر چاہیں تو شر پر چلیں، مشرکین نے اس بات کو سامنے نہ رکھا کہ دارالامتحان میں خیر اور شر دونوں کی قدرت و استطاعت ہونا ہی ذریعہ امتحان ہوسکتا ہے جبراً جو کام لیا جائے وہ تو ذریعہ امتحان بن ہی نہیں سکتا، لہٰذا معلوم ہوا کہ بہ مشیت خداوندی کسی چیز کا وجود میں آجانا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی بھی ہے کٹ حجتی کرنے والے کفر و شرک نہیں چھوڑتے اور محض اٹکل اور گمان سے غلط اور الٹے الٹے جواب دیتے ہیں، بررسولاں بلاغ باشدوبس رسولوں نے بتادیا اور سمجھا دیا اب جو عذاب میں جائے گا اپنے اختیار سے جائے گا۔
Ayah 16:36پھر فرمایا (وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) (اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا اور رسولوں کا یہ پیغام تھا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان کے اتباع سے دور رہو) مخاطبین میں دونوں طرح کے لوگ ہوئے بعض کو تو اللہ نے ہدایت دی جنہوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بات مانی اور ان پر ایمان لائے اس کو فرمایا (فَمِنْھُمْ مَّنْ ھَدَی اللّٰہُ ) اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو کفر پر اڑے رہے حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت پر کان نہ دھرا اور ان پر ایمان نہ لائے اسی کو فرمایا (وَمِنْھُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰلَۃُ ) جن لوگوں سے قرآن نے خطاب فرمایا ان کے سامنے حق کی دعوت رکھ دی اور پرانی امتوں میں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا تھا ان پر جو عذاب آئے ان کو بیان فرما دیا یہاں بھی منکرین و مکذبین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ) (کہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا۔ )
Ayah 16:37رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں اس بات کا بہت زیادہ تقاضا تھا کہ جن لوگوں کے سامنے حق کی دعوت پیش کر رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بلا رہا ہوں یہ لوگ ایمان قبول کر ہی لیں، لیکن سارے انسانوں کا اسلام قبول کرلینا اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر میں نہیں ہے اس لیے ارشاد فرمایا (اِنْ تَحْرِصْ عَلٰی ھُدٰیھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ ) (اگر آپ حرص کریں تو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ فرماتا ہے۔ )
آپ اپنا کام کرتے رہیں جسے ایمان نہیں لانا وہ ایمان نہ لائے گا۔ (وَ مَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ) اور جو لوگ گمراہی اختیار کریں گے اور اس کی وجہ سے آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوں گے ان کے لیے کوئی مددگار اور حمایتی نہ ہوگا، اگر یہ لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ ہم اللہ کے علاوہ جن لوگوں کی پرستش کرتے ہیں وہ ہمیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے یہ ان کی جہالت اور حماقت ہے۔