16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

اللہ کا حکم آپہنچا پس اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ ، اس کی ذات بلند ہے جو یہ لوگ شرک کر رہے ہیں

اللہ کا حکم آگیا ؟ وہ کونسا حکم تھا جس کے متعلق آپ کو یقین دہانی کرائی گئی : 1۔ (امر اللہ) سے مقصود اللہ کی یہ ٹھہرائی ہوئی بات ہے کہ دعوت وحی کامیاب ہوتی ہے اور اس کی مخالف قوتیں ناکام رہتی ہیں ۔ اس حقیقت کو قرآن کریم نے ” قضائے بالحق “ اور ” شہادت الہی “ سے بھی تعیری کیا ہے ۔ منکر اس بات کی ہنسی اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچ مچ کو ایسا ہونے والا ہے تو کیوں نہیں ہو چکتا ؟ یعنی کیوں اللہ کا حکم ظہور میں نہیں آجاتا ؟ ابتدائی عہد کی سورتوں میں کہا گیا تھا کہ قانون حق نے ہر بات کے لئے ایک وقت ٹھہرا دیا ہے اور وہ اپنے وقت ہی پر ظاہر ہوتی ہے اور اب اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے یعنی بالکل قریب ہے کیونکہ اب مخالفوں کا ظلم وتشدد انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا اور مومنوں پر زندگی دشوار ہوگئی تھی اور عنقریب ہجرت مدینہ کا معاملہ ظہور میں آنے والا تھا اور اس کا ظہور فیصلہ امر کا اعلان تھا ۔ سوال یہ ہے کہ یہ ” فیصلہ “ کیا تھا اور کس شکل میں آیا ؟ ظاہر ہے کہ کفار مکہ بار بار آپ ﷺ سے جو مطالبہ کرتے تھے وہ عذاب الہی کے آنے کا کرتے تھے کہ آپ ﷺ جس عذاب کی دھمکیاں ہمیں دیا کرتے ہیں وہ لے آئیے ، اللہ تعالیٰ کے ہاں ! ہر کام حکمت سے ہوتا ہے اور اپنے متعین وقت پر ہوتا ہے ان کی اس قسم کی طفلانہ حرکتیں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو نہیں بدل سکتیں ؟ چناچہ ہجرت سے پہلے بارہ تیرہ سال مکہ میں گزرے ان میں اگرچہ کفار مکہ کی طرف سے دل آزاریوں اور ستم ظریفیوں کی انتہا ہوتی رہی لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون انہیں برداشت کرتا رہا اور اپنے محبوب مکرم ﷺ کو صبر کرنے اور انتظار کرنے کی تلقین کی جاتی رہی ۔ مکہ کے چھوڑنے کی ساعت آپہنچی اور چند ماہ بعد رسول اللہ ﷺ یہاں سے کوچ کرنے والے تھے اس وقت ارشاد ہوتا ہے کہ اسے پمبرہی اسلام ! آج ان متکبروں اور سرکشوں کو بتا دو کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گھڑی اب قریب آپہنچی ہے تمہارے غرور اور نخوت کو خاک وخون میں ملانے کے لئے اس کی شمشیر انتقام بےنیام ہونے والی ہے چناچہ ہجرت کے بعد ابھی دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ وہ خود بدر کے میدان میں آئے اور کیفر کردار کو پہنچے اس کے بعد ہر آنے والی ساعت ان کے لئے ہلاکت و بربادی کا پیغام بن کر ہی آتی رہی لیکن انہوں نے اس سے ذرا بھی سبق حاصل نہ کیا اور فتح مکہ ہونے تک برابر وہ ہر سال بلکہ ایک سال میں کتنی کتنی بار شکست کھاتے رہے ۔ اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں : 2۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بھی منزہ اور اس کی صفات بھی ارفع ان تمام نالائق امور سے جو اہل شرک وجاہلیت اس کی جانب منسوب کرتے رہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کفار کو نزول عذاب کے لئے جلدی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے جلدی تو کسی ایسے کام کے لئے کی جاتی ہے جس میں خیروبرکت ہو تباہی و بربادی کے لئے تو ٹلنے کی آرزو کی جاتی ہے اور وہ بڑا ہی نادان ہوگا جو اپنی بربادی کے لئے سخت بےچین ہو ، اللہ تعالیٰ کی ذات تو ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے وہاں کمال ہی کمال ہے کسی کمی یا کمزوری کا کوئی احتمال ہی نہیں باقی ہرچیز خواہ کتنی بڑی کتنی مفید اور کتنی پائیدار ہو وہ عیب سے خالی نہیں اگر اس کو کوئی دوسرا عیب نظر نہ آئے تو یہ عیب تو کسی سے مخفی نہیں کہ وہ اپنے موجود ہونے میں اپنے بنانے والے اور پیدا کرنے والے کی محتاج ہے اور پھر جس میں احتقار اور احتیاج ہو وہ اللہ کا شریک کیسے ہو سکتا ہے ؟
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس غرض سے چن لیتا ہے کہ اپنے حکم سے فرشتے { الروح } کے ساتھ اس پر بھیجے اور اسے حکم دے کہ لوگوں کو اس حقیقت سے خبردار کر دو ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے پس مجھ سے ڈرو

وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے : 3۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نبوت جب تک جاری تھی عطیہ الہی تھی امر استحقاقی نہیں تھی اور روح سے اس جگہ مراد وحی الہی ہے یعنی نزول ملائکہ ونزول وحی اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے کوئی اور اس میں دخیل نہیں ہے ، جس طرح روح سے ہرچیز کی زندگی ہے اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ وحی الہی حیات بخش ہے ۔ زندہ ہونے کو تو لوگ قرآن کریم سے پہلے بھی زندہ تھے لیکن اس روح پاک کے نزول کے بعد حجاز کے صحراؤں میں جس حسین و جمیل زندگی کے چمنستان آباد ہوئے اس سے تو دنیا کی نگاہیں آشنانہ تھیں کفار کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی بنا کر بھیجنا ہی تھا تو عبدالمطلب کے اس یتیم پوتے کے علاوہ اور کوئی نظر نہ آیا ؟ کسی رئیس اعظم کو نبی بنایا ہوتا تو لوگ اس کی باتیں دھیان سے سنتے اور اس کا کہنا مانتے ، ان کے اس سوال کو مسترد کرنے کے لئے فرمایا کہ نبی کے انتخاب کے لئے تمہارا مقرر کیا ہوا میعار غلط ہے ، نبی تو وہ بنتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ خود نبی بنانا چاہتا ہے جسے وہ ان قوتوں اور استعدادوں سے مالا مال کرکے پیدا کرتا ہے جو بار نبوت کو اٹھانے کے لئے ضروری ہیں ۔ غور کرو کہ قرآن کریم نے جا بجا وحی الہی کو (الروح) سے تعبیر کیا ہے اس جگہ بھی (الروح) سے مقصود وحی الہی ہے اور ظاہر ہے کہ وحی کے لئے اس سے بہتر تعبیر نہیں ہو سکتی ۔ وہ نظر نہیں آتی لیکن جس جسم پر اترتی ہے ۔ وہ اس سے معمور ہوجاتا ہے اور اس کے اندر سے اس کی صدائیں اٹھنے لگتی ہیں نیز اس اعتبار سے بھی (الروح) ہے کہ انسانی سعادت کی زندگی اسی سے قائم ہے ، چناچہ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” استجیبوا اللہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم “۔ (الانفال 8 : 24) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اس حقیقت کو ” روح القدس “ سے تعبیر کیا ہے اور حواریوں نے بھی اسی معنی میں اسے استعمال کیا ہے اگرچہ بعد میں اس کی حقیقت عیسائیوں پر مشتبہ ہوگئی ۔ اور نبی کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے اس کا کام اپنے لئے جائیدادیں بنانا نہیں بلکہ یہ جھوٹے نبیوں کا شیوہ ہی ہو سکتا ہے ، کبھی کسی نبی نے اپنے لئے ناحق برتری کا دعوی نہیں کیا اس کی بعثت کی ایک اور صرف ایک ہی غرض ہوا کرتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس حقیقت سے خبردار کرے کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی الہ اور معبود نہیں وہی ایک الہ ہے اور ہر انسان کو اس کی نافرمانی اور حکم عدولی سے ڈرنا چاہئے اور یہی بات نبی اعظم وآخر ﷺ نے آکر ارشاد فرمائی کہ لوگو ! خبردار ہوجاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خاص اللہ ہی سے ڈرو۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اس نے آسمان و زمین کا یہ تمام کارخانہ تدبیر و مصلحت سے پیدا کیا ہے اس کی ذات اس بات سے بلند ہے جو یہ لوگ شرک کر رہے ہیں

آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا وہی ہے وہ ہر شرک سے بالاتر ہے : 4۔ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت اور ربوبیت کے ان دلائل کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے جو اتنے واضح اور یقین آفرین ہیں کہ اگر کوئی معمولی سی بھی عقل وفہم رکھنے والا غور کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی توحید کا اسے اعتراف کرنا ہی پڑے گا ذرا غور تو کیجئے کہ زمین و آسمان کا یہ کارخانہ کتنا وسیع ہے اور کتنے ان گنت اور بیشمار پرزوں سے مرکب ہے اور ہر پرزہ چھوٹا ہو یا بڑا اپنی اپنی جگہ پر اس خوبی سے فٹ ہے کہ نہ کوئی پیچ ڈھیلا ہوتا ہے نہ کوئی گراری ٹوٹتی ہے اور نہ ہی انجن کی رفتار میں فرق پڑتا ہے ۔ ہرچیز اپنا اپنا فریضہ انجام دے رہی ہے ، جس کے ذمہ چلنا ہے وہ چل ہی رہی ہے نہ اپنی سمت بدلتی ہے نہ اپنے مقررہ راستہ سے بال برابر ادھر ادھر سرکتی ہے اور نہ اس کی چال میں فرق پڑتا ہے ، جس کے ذمے دوڑنا ہے وہ دوڑتی ہی چلی جارہی ہے جنہیں ٹھہرنے کا حکم ملا ہے وہ دم بخود چپ چاپ کھڑی ہیں انسان اس محیر العقول کارخانہ کی پیچیدگیوں میں غور کرے تو سر چکرا جاتا ہے اور اگر حقیقت شناس نگاہ سے یہ منظر دیکھے کہ ہرچیز ایک حلقہ بگوش غلام کی طرح تعمیل حکم میں مصروف ہے تو بےساختہ اس کی زبان سے یہ نکلتا ہے کہ (آیت) ” تبارک اللہ احسن الخالقین “۔ کیا ہی بابرکت ذات ہے اللہ کی ‘ بنانے والوں میں سب سے زیادہ حسن و خوبی کے ساتھ بنانے والی ۔ ہم زندگی کی بناوٹی اور خود ساختہ آسائشوں میں اس درجہ منہمک ہوگئے ہیں کہ ہمیں قدرتی راحتوں پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور بسا اوقات تو ہم ان کی قدرت و قیمت کے اعتراف سے بھی انکار کردیتے ہیں لیکن اگر چند لمحوں کے لئے اپنے آپ کو اس غفلت سے بیدار کرلیں تو معلوم ہوجائے کہ کائنات ہستی کا حسن و جمال فطرت کی ایک عظیم اور بےپایاں بخشش ہے اور اگر یہ نہ ہوتی یا ہم میں اس کا احساس نہ ہوتا تو زندگی زندگی نہ ہوتی ، نہیں معلوم کیا چیز ہوجاتی ؟ ممکن ہے کہ موت کی بدحالیوں کا ایک تسلسل ہوتا ، ایک لمحہ کے لئے تصور کرو ، کہ دنیا موجود ہے مگر حسن و زیبائی کے تمام جلووں اور احساسات سے خالی ہے آسمان ہے مگر فضاء کی یہ نگاہ پرور نیلگونی نہیں ہے ستارے ہیں مگر ان کی درخشندگی وجہاں تابی کی یہ جلوہ آرائی نہیں ہے ۔ درخت ہیں مگر بغیر سبزی کے پھول ہیں مگر بغیر رنگ وبو کے ‘ اشیاء کا اعتدال ‘ اجسام کا تناسب ‘ صداؤں کا ترنم ‘ روشنی ورنگت کی بوقلمونی ان میں سے کوئی چیز بھی وجود نہیں رکھتی یا یوں کہا جائے کہ ہم میں ان کا احساس نہیں ہے ، غور کرو کہ ایک ایسی دنیا کے ساتھ زندگی کا تصور کیسا بھیانک اور ہولناک منظر پیش کرتا ہے ایسی زندگی جس میں نہ تو حسن کا احساس ہو اور نہ ہی حسن کی جلوہ آرائی ‘ نہ نگاہ کے لئے سرور ہو ‘ نہ سامع کے لئے حلاوت ‘ نہ جذبات کی رقت ہو نہ محسوسات کی لطافت یقینا عذاب جانکاہی کی ایک ایسی حالت ہوتی جس کا تصور بھی ہمارے لئے ناقابل برداشت ہوتا ، لیکن جس قدرت نے ہمیں زندگی دی اس نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت یعنی حسن و زیبائی کی بخشش سے بھی مالا مال کر دے ۔ اس نے ایک ہاتھ سے ہمیں حسن کا احساس دیا دوسرے ہاتھ سے تمام دنیا کو جلوہ حسن بنا دیا ہے ۔ اس نے آسمان و زمین بنائے تو ان کو اپنی اپنی جگہ حسن وزیبائش بھی بخشا پھر اس کی اس بخشائش کی ان لوگوں نے کیا قدر کی جنہوں نے اس کے ساتھ شریک ٹھہرانا شروع کردیئے حالانکہ وہ ہر طرح کے شرک سے پاک ومنزہ ہے ۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اس نے انسان کو نطفہ (ایک قطرہ منی) سے پیدا کیا ، پھر وہ ایک جھگڑنے والا اور ابھرنے والا ہو گیا

اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا اور یہ پیدائش انسان اول کے بعد ہوئی : 5۔ مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے تخلیقی عمل سے انسان کو پیدا کیا اور اس کے بعد خود ہی انسان کے اندر تناسل کی یہ طاقت رکھ دی کہ اس کے نطفہ سے ویسے ہی انسان پیدا ہوتے چلے جائیں ۔ ایک کمال تو یہ تھا کہ زمین کے مواد کو جمع کرکے ایک تخلیقی حکم سے اس میں وہ زندگی اور وہ شعور وتعقل پیدا کردیا جس سے انسان جیسی ایک حیرت مخلوق وجود میں آگئی اور دوسرا کمال یہ ہے کہ آئندہ مزید انسانوں کی پیدائش کے لئے ایک ایسی عجیب مشینری خود انسانی ساخت کے اندر رکھ دی جس کی ترکیب اور کار گزاری کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اس کی تشریح اس سے پہلے سورة آل عمران کی آیت 56 جلد دوم اور سورة الانفال آیت 95 اور سورة الاعراف آیت 11 ‘ سورة الحجر آیت 26 ‘ 27 میں گزر چکی ہے اور سورة الحج میں ارشاد فرمایا گیا کہ : ” لوگو ! اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ‘ پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے ‘ پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بےشکل بھی تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں ہم جس کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے “۔ (الحج 22 : 5) مطلب یہ ہے کہ انسان پورے نظام کائنات کو چھوڑ کر صرف اپنی ہی پیدائش پر غور کرے تو معلوم ہوجائے کہ ایک ایک انسان کی ہستی میں اللہ تعالیٰ کی حقیقی اور واقعی تدبیر ہر وقت بالفعل کار فرما ہے اور ہر ایک کے وجود اور نشو ونما کا ایک ایک مرحلہ اس کے ارادی فیصلے پر ہی طے ہوتا ہے ، کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک لگے بندھے قانون پر ہو رہا ہے جس کو صرف فطرت چلا رہی ہے لیکن وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں نظر آئے کہ ایک ایک فرد انسانی جس طرح وجود میں آتا ہے اور پھر جس طرح وجود کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اس میں ایک حکیم و قادر مطلق ہستی کا ارادی فیصلہ کس شان سے کام کر رہا ہے ، آدمی جو غذا کھاتا ہے اس میں کہیں بھی انسان تخم موجود نہیں ہوتا ‘ نہ اس میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو نفس انسانی کے خواص پیدا کرتی ہو یہ غذا جسم میں جا کر کہیں بال ‘ کہیں گوشت اور کہیں ہڈی بنتی ہے اور ایک خاص مقام پر پہنچ کر یہی اس نطفے میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کے اندر انسان بننے کی استعداد رکھنے والے تخم موجود ہوتے ہیں ، ان تخموں کی کثرت کا حال یہ ہے کہ ایک وقت میں جتنا مواد خارج ہوتا ہے اس کے اندر کئی کروڑ تخم پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک بیضہ انشی سے مل کر انسان بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر یہ کس حکیم وقدیر اور حاکم مطلق کا فیصلہ ہے جو ان بیشمار امیدواروں میں سے کسی ایک کو کسی خاص وقت پر چھانٹ کر بیضہ انشی سے ملنے کا موقع دیتا ہے اور اس طرح استقرار حمل رونما ہوتا ہے پھر استقرار کے وقت مرد کے تخم اور عورت کے بیضی خلیئے کے ملنے سے جو چیز ابتداء بنتی ہے وہ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ خوردبین کے بغیر نہیں دیکھی جا سیتص ۔ یہ حقیر سی چیز 9 مہینے اور چند روز میں رحم کے اندر پرورش پا کر جن بیشمار مرحلوں سے گزرتی ہوئی ایک جیتے جاگتے انسان کی شکل اختیار کرتی ہے ان میں سے ہر مرحلے پر غور کرو تو تمہارا دل گواہی دے گا کہ یہاں ہر آن ایک حکیم فعال کا ارادی فیصلہ کام کررہا ہے ، وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کسے تکمیل کو پہنچانا ہے اور کسے کون کے لوتھڑے یا گوشت کی بوٹی یا ناتمام بچے کی شکل میں ساقط کردینا ہے وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو زندہ نکالنا ہے اور کس کو مردہ ، کس کو معمولی انسان کی صورت وہیئت میں نکالنا ہے اور کسے ان گنت غیر معمولی صورتوں میں سے کوئی صورت دے دینی ہے ، کس کو صحیح وسالم نکالنا ہے اور کسے اندھا ‘ بہرا گونگا ٹنڈا اور لنجا بنا کر پھینک دینا ہے ، کس کو خوبصورت بنانا ہے اور کسے بدصورت ۔ کس کو مرد بنانا ہے اور کس کو عورت ۔ کس کو اعلی درجے کی قوتیں اور صلاحیتیں دے کر بھیجنا ہے اور کسے کو دن اور کند ذہن پیدا کرنا ہے ، یہ تخلیق وتشکیل کا عمل جو ہر روز کروڑوں عورتوں کے رحموں میں ہو رہا ہے اس کے دوران میں کسی وقت کسی مرحلے پر بھی ایک اللہ کے سوا دنیا کی کوئی طاقت ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہو سکتی ‘ بلکہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس پیٹ میں کیا چیز بن رہی ہے اور کیا بن کر نکلنے والی ہے ؟ حالانکہ انسانی آبادیوں کی قسمت کے کم از کم 90 فیصدی فیصلے انہیں مراحل میں ہوجاتے ہیں اور یہیں افراد ہی کے نہیں قوموں کے بلکہ پوری نوع انسانی کے مستقبل کی شکل بنائی اور بگاڑی جاتی ہے اس کے بعد جو بچے دنیا میں آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کسے زندگی کا پہلا سانس لیتے ہی ختم ہوجانا ہے ‘ کسے بڑھ کر جوان ہونا ہے اور کس کو قیامت کے بوریے سمیٹنے ہیں ؟ یہاں بھی ایک غالب ارادہ کار فرما نظر آتا ہے اور غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی کار فرمائی کس عالمگیر تدبیر و حکمت پر مبنی ہے جس کے مطابق وہ افراد ہی کی نہیں قوموں اور ملکوں کی قسمت کے فیصلے بھی کر رہا ہے ، یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کسی کو اس امر میں شک ہے کہ اللہ ” حق “ ہے یا نہیں حالانکہ صرف اللہ ہی ” حق “ ہے تو بلاشبہ وہ عقل کا ۔ دیکھو وہ ایک جھگڑنے والا اور ابھرنے والا وجود ہوگیا : 6۔ غور کرو کہ انسان شے کیا ہے ؟ اور اس نے اپنے رب کی ذات وصفات کے باب میں کیسے کیسے مناقشے برپا کردیئے ہیں اور وہ اپنی اصل کی طرف کبھی بھی نہیں دھیان دیتا کہ حقیقتا اس کی اصل مادی اور کتنی پست و حقیر چیز ہے گویا یہ حضرت انسان جس کے حسن و کمال کے سامنے چاند اور پھول نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں جس کی ہئیت سے جنگل کے شیر لرزہ براندام ہیں جس کی تسخیری قوتیں اب ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں اس کا اصل کیا ہے ؟ کیسے ہے ؟ اور کہاں ہے ؟ پانی کی ایک ناپاک بوند اور پھر وہ بھی کہاں سے جا ٹپکی اور کس حال میں ٹپکی اور اب غور کرو کہ یہ رعنائی ودلبری ‘ یہ زور وتنومندی ‘ یہ قلب اور یہ دماغ کیا اس ایک قطرہ میں سموئے ہوئے تھے ۔ جس ہستی نے ان حیرت انگیز گوناگوں صلاحیتوں کو یوں سمیٹا اور پھر جس طرح ان کو پھیلایا اور ان کی نشو ونما کی اس کے آستانہ عظمت پر سر نہ جھکایا جائے تو کہاں جھکایا جائے ؟ لیکن یہ انسان نہ تو اپنے اصل پر غور کرتا ہے اور نہ ہی اس مربی کریم کے لطف وکرم کا اعتراف کرتا ہے بلکہ اس سے اور اس کے فرستادوں سے بات بات پر الجھتا ہے اور جھگڑتا ہے ایک دن ابی بن خلف ایک بوسیدہ ہڈی لے کر بارگار رسالت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ ﷺ اس ہڈی کے متعلق ہمیں کہتے ہیں کہ اسے پھر زندہ کیا جائے گا ‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ بس وہ جھگڑا ہے جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے گویا جب اس ضعیف الخلقت انسان کو طاقت اور قوت گویائی عطا ہوئی تو خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگڑے نکالنے لگا۔
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور اس نے چارپائے پیدا کیے ، ان میں تمہارے لیے گرم کرنے والی پوشش ہے اور فائدے اور ان میں ایسے جانور ہیں جن کا تم گوشت کھاتے ہو

تفسیر : انسان کی پیدائش کے بعد چارپایوں کی پیدائش اور ان سے فائدے حاصل کرنے کا بیان : 7۔ انسان کی پیدائش کے بعد اب دوسرے جانوروں کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے جس کا اصل مطلب یہ ہے کہ دیکھو چوپایوں میں کوئی شان ربوبیت والوہیت نہیں ۔ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے مخلوق ومربوب ہیں اور انسان ہی کے نفع اور خدمت کے لئے ہیں نہ کہ الٹے انسان کے مخدوم اور دیوتا بننے کے قابل ۔ یہ تردید ہو رہی ہے ان مشرک اور جاہل قوموں کی جنہوں نے گائے ‘ بیل اور بھینسوں وغیرہ کی پرستش کی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان فوائد میں سے دو فائدوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک یہ کہ (لکم فیھا دفء) یعنی ان میں سے تمہارے لئے سرمائی پوشش کا فائدہ ہے کہ ان کی اون سے تم اپنے کپڑے وہ بھی نہایت گرم قسم کے کپڑے جن میں دوشالے ، شالیں ‘ پوستین ‘ دھ سے ‘ خیمے ‘ ٹوپیاں اور واسکٹیں سب آگئیں ۔ یعنی جاڑے کا سارا سامان جو انہی جانوروں کی کھالوں اور اون سے تیار کیا جاتا ہے اور ان جانوروں میں سے اور بھی سینکڑوں قسم کے فوائد ہیں جو انسان حاصل کرتا ہے پھر کتنا ناسمجھ اور کتنا بیوقوف ہے کہ انہوں جانوروں کو اپنے لئے متبرک سمجھنے لگتا ہے ، ان جانوروں میں سے زندہ جانوروں کے فوائد اور پھر مردہ جانوروں کے فوائد پر غور کرو گے تو کتنی ہی چیزیں ہیں جو خود بخود تمہارے ذہن میں آئیں گی اور کیسے کیسے فوائد ہیں جو ان میں رکھے گئے ہیں اور پھر سب لوگ ان سے یہ فائدے حاصل کر بھی رہے ہیں اور ان ہی جانوروں میں سے وہ بھی ہیں جن کو تم ذبح کر کے کھاتے ہو اور اس طرح اپنی خوراک کا کام لیتے ہو۔
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور ان میں تمہاری نگاہوں کیلئے خوشنمائی پیدا ہوگئی ہے جو تم شام کے وقت انہیں واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چھوڑ دیتے ہو

تفسیر : انسان کے لئے ان جانوروں میں جمال ہے جب چرانے لے جاتا ہے : 8۔ انسان کی ” انا “ کی تسکین بھی بہت بڑی چیز ہے اور وہ بھی ان جانوروں میں اس کے لئے وافر رکھی گئی ہے کبھی آپ اس وقت دیکھیں جب یہ لوگ اپنی گائیوں ‘ بھینسوں اور اونٹوں کو چرانے کے لئے لے جا رہے ہوں اور ان کو چرا کر واپس لا رہے ہوں تو ان لوگوں کی کیا شان ہوتی ہے اور کیا خوشی ان کو محسوس ہوتی ہے ؟ جس کے بیان کرنے کے لئے الفاظ کا ملنا بھی نہایت مشکل ہے اور اس تصویر کشی کا منظر دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ان کو چرانے کے لئے لے جانے کا وقت صبح کا ہے اور چرا کر واپس لانے کا وقت شام کا ہے ، فرمایا کبھی تم دیکھو جب وہ صبح سویرے اپنے جانوروں کو چرانے کے لئے اپنی بستیوں سے باہر نکلتے ہیں اور وہاں سے پھر چرانے کے بعد جب شام کو اپنے ڈیروں کی طرف واپس آتے ہیں تو وہ منظر دیکھنے والوں کے لئے کتنا خوبصورت ہوتا ہے اور ان جانورو کے مالکوں کی حالت تو دیدنی ہوتی ہے اور پھر خصوصا جب وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان جانوروں کے پیچھے چلتے ہیں تو کس شان سے چلتے ہیں اور پھر وہ راستے بھی آباد ‘ آباد دکھائی دیتے ہیں جہاں سے وہ گزر رہے ہوتے ہیں فرمایا ذرا غور کرو کہ جب اپنے ان مویشیوں کو یکجا مرغزاروں کو جاتے ہوئے یا وہاں سے آتے ہوئے تم دیکھتے ہو تو جو فرحت اور طمانیت تمہارے دل محسوس کرتے ہیں ذرا اس کا اندازہ لگاؤ تم اللہ تعالیٰ کے کس کس احسان کو بھلاؤ گے اور کس کس یاد رکھو گے اور کہاں تک اس کی ناشکری کرو گے ؟
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور یہی جانور ہیں جو تمہارا بوجھ اٹھا کر ایسے شہروں تک لے جاتے ہیں کہ تم وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے مگر بڑی ہی جانکاہی کے ساتھ ، بلاشبہ تمہارا پروردگار بڑا ہی شفقت رکھنے والا ، بڑا ہی رحمت رکھنے والا ہے

تمہارے اللہ کی کتنی ہی تمہارے ساتھ شفقت ہے اور کتنا تم سے اس کو پیار ہے : 10۔ تم اپنے ان جانوروں پر غور کرتے جاؤ اور دیکھتے جاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان میں کیا کیا فوائد ومنافع رکھ دیئے ہیں اور تم ان کو کس طرح حاصل کر رہے ہو لیکن تمہارے ذہن میں کبھی یہ خیال بھی پیدا نہیں ہوا کہ یہ ہمارے پروردگار کی رحمت اور شفقت ہی کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ انسانوں کے ساتھ بہت ہی شفقت کرنے والا بہت ہی پیار کرنے والا ہے ۔ کیا تم نے کبھی اپنی ان ضرورتوں کا اس کے پاس اظہار کیا تھا کہ اس نے تم کو سہولت دینے کے لئے ان جانوروں کو پیدا کیا ، ہرگز نہیں بلکہ وہ رب العالمین ان سارے جہانوں کی ضرورتوں سے خود بخود ہی واقف تھا اور اس نے بغیر تمہارے مشورہ کے تمہارے لئے یہ آسانیاں فراہم کردیں اور پھر غور کرو کہ ان جانوروں کو صرف قوت گویائی نہ دے کر تم پر اس نے کیا احسان کیا ؟ اور اگر جانوروں کو وہ ناطق بنا دیتا تھا تمہارے لئے کیا کیا دشواریاں ہوتیں ؟ ان جانوروں کے بیان کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ ضرورت یہ پیش آئی کہ لوگ آخرت کے متعلق آپ ﷺ کی باتیں سن کر یہ کہتے کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہو سکتا ہے ؟ ان کو کہا گیا کہ کیا تم نے اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد کے ماحول کو کبھی نہیں دیکھا ؟ اگر دیکھا ہے تو پھر کبھی غور کرکے بھی دیکھو کہ یہ اونٹ کیسے بن گئے ؟ یہ آسمان کیسے بلند ہوگیا ؟ یہ پہاڑ کیسے قائم ہوگئے ؟ یہ زمین کیسے بچھ گئی ؟ اور خصوصا تم خود کیسے پیدا ہوگئے ؟ اور تم کو یہ عقل وفکر کہاں سے ارزاں ملی ؟ اگرچہ سب کچھ بن گیا ہے اور تمہاری آنکھیں اس سب کچھ کو دیکھ رہی ہیں تو پھر تم ہی بتاؤ کہ یہ سب کچھ بنانے والا آخرت کو کیوں نہیں بنا سکتا ؟ دوزخ اور جنت کیوں نہیں ہو سکتی ؟ اور آخرت کی وہ ساری نعمتیں اور سارے عذاب کیوں نہیں ہو سکتے ؟ آخر اس میں مشکل کیا ہے ؟ اس طرح کے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا ہے کہ :
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور گھوڑے ، خچر اور گدھے پیدا کردیئے ہیں کہ تم ان سے سواری کا کام لو اور ویسے ان میں خوشنمائی اور رونق بھی ہے وہ (سواری کے لیے) اور بھی بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کی تمہیں خبر نہیں

تفسیر : یہ گھوڑے ‘ خچر اور گدھے تمہارے لئے کیسے پیدا کردیئے گئے اور کیوں ؟ : 11۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں تمہاری باربرداری کا خیال رکھا وہاں تمہاری سواری کا بھی انتظام فرما دیا ، جب تم ان پر سوار ہوتے ہو تو وہ اپنی سبک رفتاری سے ہوا سے باتیں کرنے لگتے ہیں اور قلیل عرصہ ہی میں تمہیں اپنی منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں اور پھر قطع مسافت میں سہولت کے ساتھ ساتھ اس میں زینت کا پہلو بھی قابل لحاظ ہے ، ایک خوبصورت نقرے گھوڑے پر انسان سوار ہو تو وہ کتنا سجیلا معلوم ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس وقت برتری کے جس جذبہ سے سرشار پاتا ہے وہ تو بیان سے باہر ہے ، اس جگہ گھوڑے ‘ خچر اور گدھے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ تینوں جانور وہ ہیں جو قریب الجنس ہونے کے باعث بار برداری اور سواری کا کام دینے والے ہیں ، اور یہ بھی کہ گھوڑے اور گدھے کے ملاپ سے خچر پیدا ہوتا ہے یعنی نر گھوڑا ہو اور مادہ گدھا یا نر گدھا ہو اور مادہ گھوڑا تو دونوں صورتوں میں نتیجۃ خچر ہی پیدا کرے گا ، ان جانوروں میں تمہارے لئے سواری کے فوائد بھی ہیں اور زینت بھی اور اس کے بعد فرمایا کہ ابھی وہ وہ سواریاں تمہارے لئے پیدا ہوں گی جن کو تم اس وقت تک نہیں جانتے کہ وہ سواریاں کیا کیا ہوں گی ؟ سواری کی بہت سی چیزیں پیدا ہوں گی جن کو تم ابھی نہیں جانتے : 12۔ آج کتنی سواریاں ہیں جو اس وقت موجود نہ تھیں ، یہ ریل گاڑیاں ‘ بسیں ‘ کاریں اور ہوائی جہاز وغیرہ سب نئی اقسام کی سواریاں ہیں اور ابھی نہ معلوم کیسی کیسی مزید سواریاں آنے والی ہیں جن کے ذریعہ زمین پیمائی کے علاوہ آسمانی پیمائی کا کام لیا جائے گا اور آیت ان سب سواریوں کی نشاندہی کرتی ہے اور ان میں جو زینت رکھی گئی ہے اس کا کون انکار کرسکتا ہے ؟ زینت ان جانوروں میں بھی پائی جاتی تھی اور سواریوں کی ان چیزوں میں بھی وافر موجود ہے ۔ ہوائی سفر کر کے آنے والا اپنے آپ کو کتنا امتیازی انسان سمجھتا ہے آج یہ کسی سے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ان سب چیزوں کی تخلیق اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور خالق مطلق ان سب کا وہی ہے سائنس قدیم اور جدید کا ابھی بھی صرف اتنا ہی کام ہے کہ قدرت کی پیدا کی ہوئی دھاتوں میں قدرت ہی کی دی ہوئی عقل وفہم کے ذریعہ جوڑ توڑ کر کے ان کے مختلف کل پرزے بنائے اور پھر اس میں قدرت الہیہ کی بخشی ہوئی ہوا ‘ پانی اور آگ وغیرہ سے برقی روپیدا کرلی یا قدرت ہی کے دیئے ہوئے خزانوں میں سے پڑول نکال کر ان سواریوں میں استعمال کرے ۔ سائنس جدید ہو یا قدیم آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کہیں لوہا اس نے تیار کرلیا ہو یا پتیل بنا لی ہو اور نہ ایلومینیم جیسی کوئی ہلکی دھات پیدا کرسکتی ہے اور تو اور لکڑی تک کو تو وہ پیدا نہیں کرسکی اور نہ ہی کبھی کرسکے گی ، قدرت الہی نے انسان کے لئے ان ساری چیزوں کی فراوانی پیدا کی اور ایک مدت سے پیدا کی ہوئی تھی ان ساری چیزوں سے اس طرح کا کام لینا تو ایک مسلم کا کام تھا لیکن افسوس کہ علمائے اسلام نے مسلمانوں کو ان چیزوں کی ایجاد کے قریب ہی نہ جانے دیا اور قرآن کریم کی ان عبارات پر غور وفکر کرنا قوم کے لئے حرام ٹھہرا دیا اور نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ غرد مسلم قوموں نے اس سے فائدہ حاصل کیا اور آج وہ قوم مسلم کو اسی ناطے سے ناکوں چنے چبوا رہی ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ گزشتہ تمام اشاء کی تخلیق میں لفظ ماضی (خلق) استعمال فرمایا گیا ہے اور معروف سواریوں کا ذکر کرنے کے بعد بصیغہ مستقبل (یخلق) ارشاد فرمایا اور اس تغیر ہی سے واضح ہوگیا کہ یہ لفظ ان سواریوں اور دوسری اشیاء کے متعلق ہے جو ابھی تک معرض وجود میں نہیں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اگلے زمانے میں کیا کیا سواریاں اور اشیاء کو پیدا کرنا ہے لیکن ان سب کو اظہار اس مختصر فقرہ میں کردیا گیا ۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور یہ اللہ کا کام ہے کہ راہ حق واضح کر دے اور راہوں میں ٹیڑھی راہیں بھی ہیں ، وہ اگر چاہتا تو تم سب کو راہ دکھا دیتا

تفسیر : اللہ تعالیٰ کا کام کیا ہے ؟ یہ کہ وہ راہ حق کو واضح کر دے : 13۔ (قصد السبیل) استقامت والا راستہ یا سیدھا راستہ (جآئر) سیدھے راستے سے پھرنے والا ۔ مطلب یہ ہے کہ راہ راست کو دلائل وبراہین سے واضح کردینا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے یہ سب اس کی مہربانی ہے کہ اس نے سیدھی راہ ہم کو بتا دی لیکن سیدھی راہ معلوم کرنے اور جاننے پہچاننے کے لئے لازم وضروری ہے کہ وہ راستے بھی ساتھ موجود ہوں جو انسان کو غلط سمت کی طرف لے جاتے ہیں تاکہ معلوم کرنے والا اچھی طرح معلوم کرسکے کہ ان میں سے سیدھا راستہ کونسا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ عقل وفکر کے استعمال کی ہر جگہ ضرورت ہے اور اس کے سوا انسان سیدھا راستہ بھی نہیں چل سکتا ، اس جگہ توحید ورحمت اور ربوبیت کے دلائل پیش کرتے ہوئے یہاں ایک اشارہ کردیا کہ سیدھا راستہ دیکھ کر اس پر چلنا ضروری ہے ‘ فرمایا : دنیا میں انسان کے لئے فکر وعمل کے بہت سے مختلف راستے ممکن ہیں اور عملا موجود ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ سارے راستے بیک وقت تو حق نہیں ہو سکتے ، سچائی تو ایک ہی ہے اور صحیح نظریہ حیات صرف وہی ہو سکتا ہے جو اس سچائی کے مطابق ہو اور عمل کے بیشمار ممکن راستوں میں سے صحیح راستہ بھی صرف وہی ہو سکتا ہے جو صحیح نظریہ حیات پر مبنی ہو ۔ اس صحیح نظریئے اور صحیح راہ عمل سے واقف ہونا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے بلکہ اصل بنیادی ضرورت یہی ہے کیونکہ دوسری تمام چیزیں تو انسان کی صرف ان ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں جو ایک اونچے درجے کا جانور ہونے کی حیثیت سے اس کو لاحق ہوا کرتی ہیں مگر یہ ایک ضرورت ایسی ہے جو انسان ہونے کی حیثیت سے اس کو لاحق ہے یہ اگر پوری نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی کی ساری زندگی ہی ناکام ہوگئی ، اب غور کرو کہ جس اللہ نے تمہیں وجود میں لانے سے پہلے تمہارے لئے یہ سب کچھ سروسامان مہیا کر کے رکھا اور جس نے وجود میں لانے کے بعد تمہاری حیوانی زندگی کی ایک ایک ضرورت کو پورا کرنے کا اتنی دقیقہ سنجی کے ساتھ بڑے پیمانے پر انتظام کیا ‘ کیا اس سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ اس نے تمہاری انسانی زندگی کی اس سب سے بڑی اور اصل ضرورت کو پورا کرنے کا بندوبست نہ کیا ہوگا ؟ یہی بندوبست تو ہے جو نبوت کے ذریعے سے کیا گیا ہے اگر تم نبوت کو نہیں مانتے تو بتاؤ کہ تمہارے خیال میں اللہ نے انسان کی ہدایت کے لئے اور کونسا انتظام کیا ہے ؟ اس کے جواب میں تم نہ یہ کہہ سکتے ہو کہ اللہ نے ہمیں راستہ تلاش کرنے کے لئے عقل وفکر دے رکھی ہے کیونکہ انسانی عقل وفکر پہلے ہی بیشمار مختلف راستے ایجاد کر بیٹھی ہے جو راہ راست کی صحیح دریافت میں اس کی ناکامی کی کھلی دلیل ہیں اور نہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ اللہ نے ہماری راہنمائی کا کوئی انتظام نہیں کیا کیونکہ اللہ کے ساتھ اس سے بڑھ کر بدگمانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ جانور ہونے کی حیثیت سے تو تمہاری پرورش اور تمہاری نشو ونما کا اتنا مفصل اور مکمل انتظام کرے مگر انسان ہونے کی حیثیت سے تم کو یوں ہی تاریکیوں میں بھٹکنے اور ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑ دے ۔
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں سے پانی برسایا اس میں سے کچھ تو تمہارے پینے کے کام آتا ہے کچھ زمین کو سیراب کرتا ہے اس سے درختوں کے جنگل پیدا ہوتے ہیں اور تم اپنے مویشی ان میں چراتے ہو

وہی تو ہے جس نے آسمانوں سے پانی برسایا اور تمہاری آبادی کے سامان پیدا کیے : 14۔ تم دیکھو گے کہ زندگی کے لئے پانی اور رطوبت کی ضرورت ہے ہم دیکھتے ہیں کہ پانی کے وافر ذخیرے ہر طرف موجود ہیں لیکن اگر صرف اتنا ہی ہوتا تو یہ زندگی کے لئے کافی نہ تھا کیونکہ زندگی کے لئے صرف یہی ضروری نہیں ہے کہ پانی موجود ہیں لیکن اگر صرف اتنا ہی ہوتا تو یہ زندگی کے لئے کافی نہ تھا کیونکہ زندگی کے لئے صرف یہی ضروری نہیں ہے کہ پانی موجود ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک خاص انتظام ‘ ایک خاص ترتیب اور ایک خاص مقررہ مقدار کے ساتھ موجود ہو ۔ پس یہ جو دنیا میں پانی کے بننے اور تقسیم ہونے کا ایک خاص انتظام پایا جاتا ہے اور فطرت صرف پانی بناتی ہی نہیں بلکہ ایک خاص ترتیب ومناسب کے ساتھ بناتی اور ایک خاص اندازہ کے ساتھ بانٹتی رہتی ہے تو یہی ربوبیت ہے اور اس سے ربوبیت کے تمام اعمال کا تصور کرنا چاہئے ، قرآن کریم کہتا ہے یہ اللہ کی رحمت ہے جس نے پانی جیسا جوہر حیات پیدا کردیا لیکن یہ اس کی ربوبیت ہے جو پانی کو ایک بوند بوند کرکے ٹپکاتی ہے اور زمین کے ایک ایک گوشہ تک پہنچاتی ہے اور ایک خاص حالت اور مقدار میں تقسیم کرتی ہے ، ایک خاص موسم اور محل میں برساتی ہے اور پھر برسانے کے لئے ایک خاص قسم کا نظام اس نے تشکیل دیا ہے جس سے زمین کے ایک ایک تشنہ ذرے کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر سیراب کردیتی ہے ۔ اس سے پہلے انسان اور اس کی بقا کے لئے جن اشیاء کی ضرورت تھی ان کی تخلیق کا ذکر فرمایا اور اس آیت سے شان ربوبیت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جس قادر مطلق نے ایک قطرہ آب سے انسان جیسی دل کش اور دل چسپ مخلوق پیدا فرمائی ، اس نے پیدا کرنے کے بعد اسے فراموش نہیں کردیا بلکہ ان کی نشو ونما کے تمام تقاضوں کو باحسن وجوہ پورا فرمایا ، اس آیت میں سب سے پہلے پانی کا ذکر کیا کیونکہ انسانی ‘ حیوانی اور نباتاتی زندگی کا دارومدار اسی پر ہے انسان اسے پیتا ہے اور اپنی چراگاہوں ‘ کھیتوں اور باغات کو سیراب بھی کرتا ہے ، اسی سے چراگاہوں میں سبز گھاس اور کھیتوں میں شادات چارہ لہلہانے لگتا ہے جو جانوروں کی خوراک بنتا ہے ، اگر پانی ہی نایاب ہوجائے تو زندگی کی ساری رنگینیاں خا میں مل جائیں ، یہاں شجر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو زمین سے اگتی ہے خواہ وہ گھاس ہو یا بیل وغیرہ اور زیر نظر آیت میں یہی مراد ہے کیونکہ آگے جانوروں کے چرانے کا ذکر ہے اور اس کا تعلق زیادہ تر گھاس پھوس ہی سے ہے ، فرمایا ہے کہ (فیہ تسیمون) یعنی تم جانوروں کو چراگاہوں میں چرنے کے لئے چھوڑتے ہو۔ غور کرو کہ وہ قانون کیا ہی قانون ہے جس کے تحت زمین سے پانی کو ہوا میں تبدیل کرکے اٹھا لیا جاتا ہے اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی ، اور پھر فضا میں اس کو اس طرح کھلے طور پر رکھا جاتا ہے کہ کوئی چیز اس کو روک کر رکھنے کی نظر نہیں آتی اور پھر کھلی فضا سے اس کو بوند بوند کرکے ٹپکایا جاتا ہے اور وہاں وہاں ٹپکایا جاتا ہے کہ اگر یہ نظام قائم نہ کیا جاتا تو وہاں تک پانی پہنچانا نہایت مشکل اور دشوار ہوتا اور پھر اس کو کس طرح مقطر کرکے صاف ستھرا بنا کر ایک ترتیب کے ساتھ گرایا جاتا ہے اور اس کی مقدار اتنی وافر رکھی ہے کہ زیادہ تگ ودو کے بغیر اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے ، اور یہ سارا قانون جس قانون دان نے بنایا ہے اور چلایا ہے وہ کتنا دانا اور بینا ہے اور یقینا وہی ہے جو رب کہلانے کا حقدار ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جس کو رب بنایا جائے ، ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم :
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اس پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتیاں بھی پیدا کردیتا ہے نیز زیتون ، کھجور ، انگور اور ہر طرح کے پھل یقینا اس بات میں ان لوگوں کیلئے ایک بڑی [ نشانی ہے جو غور و فکر کرنے والے ہیں

زندگی کے سارے سامانوں کا وہی اکیلا پیدا کرنے والا ہے : 15۔ انسان جس خوراک کو ایک معمولی سی چیز سمجھتا ہے اس پر ذرا غور کرے تو اس کی سمجھ میں آئے کہ یہ آخر پیدا کیسے ہوتی ہے اگر اللہ نے اس کے اسباب فراہم نہ کئے ہوتے تو کیا انسان کے بس میں یہ تھا کہ زمین پر یہ غذا خود پیدا کرلیتا ؟ ہم نے کس طرح آسمان سے زمنن پر پانی لنڈھایا اور پھر سورج کی حرارت سے بیحد و حساب مقدار میں سمندروں سے پانی بھاپ بنا کر اٹھایا جاتا ہے پھر اس سے کثیف بادل بنتے ہیں ‘ پھر ہوائیں ان کو لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلاتی ہیں ‘ پھر عالم بالا کی ٹھنڈک سے وہ بھاپیں از سر نو پانی کی شکل اختیار کرتی ہیں اور ہر علاقے میں ایک خاص حساب سے برستی ہیں ‘ پھر وہ پانی براہ راست جو زمین پر برستا ہے زیر زمین کنوؤں اور چشموں کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے اور دریاؤں اور ندی نالوں کی شکل میں بھی بہتا ہے اور پہاڑوں پر برف کی شکل میں جم کر پھر پگھلتا ہے اور بارش کے موسم کے سوا دوسرے موسموں میں بھی دریاؤں کے اندر رواں ہوتا ہے کیا یہ سارے انتظامات انسان نے خود کئے ہیں ؟ یا اس کا خالق اس کی رزق رسانی کے لئے یہ سارے انتظامات کر رہا ہے اگر وہ یہ انتظامات نہ کرتا تو کیا انسان زمین پر جی سکتا تھا ؟ وہ ذات جس نے اس زمین میں کیا کیا پھل اس کے لئے اگا دیئے کہیں انگور کی بیلیں بچھی ہوئی ہیں اور کہیں کھجور کے سربفلک درخت اور پیڑ کھڑے کردیئے کہیں طرح طرح طرح کی کھیتیاں اس کے لئے اگائیں تو کسی طرف سبزیوں کی بیلیں لہلہا رہی ہیں اور یہ ہر طرح کے پھل اس کے لئے رزاق کی کس طرح نشاندہی کر رہے ہیں کہ وہ کیا ہی رزاق ہے ؟ جس نے نے اپنی رزاقی کا سارا نظام اس طرح چلا رکھا ہے اور پھر ان چیزوں کے پیدا کرنے سے صرف تمہاری غذائی ضرورتوں کی تکمیل ہی مطلوب نہیں ورنہ کوئی ایک جنس ہی پیدا کردی جاتی اور سے تمہاری شکم پری ہوتی رہتی ۔ طرح طرح کے اناج اور گوناگوں پھل پیدا فرما کر جہاں اپنی قدرت کی نیرنگیوں کی نقاب کشائی کی ہے وہاں تمہارے ذوق لطیف کی بھی ناز برداری کی گئی ہے ، گندم کی روٹی نہیں کھانا چاہتے تو چاول حاضر ہیں پکا لیجئے یہ نہیں تو باجرے کا روٹ پکا لو اگر طبیعت برداشت نہیں کرتی تو کھجوریں کھالیں اور اگر ان سے جی بھر گیا ہے تو یہ انگور بھی تمہارے ہی لئے تیار رکھے ہیں تم دیکھو گے کہ ہر پھل میں غذائیت کی مقدار اور ان دیگر مخصوص اثرات کا آپ جتنی گہری نظر سے مطالعہ کریں گے اتنے ہی اس کی قدرت کے مستور جلوے اپنا گھونگٹ اتارتے چلے جائیں گے اور تمہیں کہنا پڑے گا کہ رنگ میں ‘ بو میں ‘ ذائقہ میں اور اثر میں یہ تنوع پیدا کرنا اندھی اور بہری فطرت کے بس کا روگ نہیں بلکہ یہ کسی علیم وخبیر ہستی کی کرشمہ سازی ہے اس لئے آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لئے کتنی ہی نشانیاں ہیں ، لیکن افسوس کہ علمائے اسلام نے یہ شرط لگا دی کہ دین کے معاملہ میں عقل وفکر سے کام لینا حرام ہے اور اس سے بددینی پھیلتی ہے اس نظریئے نے قوم کو مردہ بنا کر رکھ دیا اور آج قوم مسلم میں زندگی کی صرف ایک رمق باقی رہ گئی ہے اس لئے وہ دوسروں کے سہارے زندہ نظر آتی ہے ۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اس نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند مسخر کر دئیے اور ستارے بھی اس کے حکم سے تمہارے لیے مسخر ہوگئے ہیں یقینا اس بات میں ان لوگوں کیلئے بڑی ہی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

تفسیر : اللہ تعالیٰ نے رات ‘ دن ‘ سورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کردیا : 16۔ انسانی طبیعت کی یہ کمزوری ہے کہ جب تک وہ ایک نعمت سے محروم نہیں ہوجاتا اس کی قدر و قیمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں کرسکتا ، تم چناب کے کنارے بستے ہو اس لئے تمہارے نزدیک زندگی کی سب سے زیادہ بےقدر چیز پالی ہے لیکن اگر یہی پانی چوبیس گھنٹے تک میسر نہ آئے تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ اس کی قدر و قیمت کا کیا حال ہے ؟ یہی حال فطرت کے فیضان جمال کا بھی ہے اس کے عام اور بےپردہ جلوے شب وروز تمہاری نگاہوں میں سے گزرتے رہتے ہیں اس لئے تمہیں ان کی قدروقیمت محسوس نہیں ہوتی ، صبح اپنی ساری جلوہ آرائیوں کے ساتھ ساتھ روز آتی ہے اس لئے تم بستر سے سراٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ، چاندنی اپنی ساری حسن افروزیوں کے ساتھ ہمیشہ نکھرتی رہتی ہے اس لئے تم کھڑکاں بند کرکے سو جاتے ہو لیکن جب یہی شب وروز کے جلوہ ہائے فطرت تمہاری نظروں سے روپوش ہوجاتے ہیں یا تم میں ان کے نظارہ اور سماع کی استعداد باقی نہیں رہتی تو غور کرو کہ اس وقت تمہارے احساسات کا کیا حال ہوتا ہے ؟ کیا تم محسوس نہیں کرتے کہ ان میں سے ہرچیز زندگی کی ایک بےبہابرکت اور معیشت کی ایک عظیم الشان ہوتا ہے ؟ کیا تم محسوس نہیں کرتے کہ ان میں سے ہرچیز زندگی کی ایک بےبہا برکت اور معیشت کی ایک عظیم الشان نعمت تھی ؟ سرد ملکوں کے باشندوں سے پوچھو جہاں سال کا بڑا حصہ ابر آلود گزرتا ہے کیا سورج کی کرنوں سے بڑ کر بھی زندگی کی کوئی مسرت ہو سکتی ہے ؟ ایک بیمار سے پوچھو جو نقل و حرکت سے محروم بستر مرض پر پڑا ہے وہ بتائے گا کہ آسمان کی صاف اور نیلگوں فضا کا ایک نظارہ راحت و سکون کی کتنی بڑی دولت ہے ؟ ایک اندھا جو پیدائشی اندھا نہ تھا تمہیں بتا سکتا ہے کہ سورج کی روشنی اور باغ وچمن کی بہار دیکھے بغیر زندگی بسر کیسی ناقابل برداشت مصیبت ہے ، تم بسا اوقات زندگی کی مصنوعی آسائشوں کے لئے ترستے ہو اور خیال کرتے ہو کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت چاندنی سونے کا ڈھیر اور جاہ وحشم کی نمائش ہے لیکن تم بھول جاتے ہو کہ زندگی کی حیقی مسرتوں کا جو خود روسامان فطرت نے ہر مخلوق کے لئے پیدا کر رکھا ہے اس سے بڑھ کر دنیا کی دولت و حشمت کونسا سامان نشاط مہ اس کرسکتی ہے اور ایک انسان کو وہ سب کچھ میسر ہو تو اس کے بعد کیا باقی رہ جاتا ہے ؟ جس دنیا میں سورج ہر روز چمکتا ہو ‘ جس دنیا میں صبح ہر روز مسکراتی اور شام ہر روز پردہ شب میں چھپ جاتی ہو ، جس کی راتیں آسمان کی قندیلوں سے مزین اور جس کی چاندنی حسن افروزیوں سے جہاں تاب رہی ہو ‘ جس کی بہار سبزہ وگل سے لدی ہوئی اور جس کی فصلیں لہلہاتے ہوئے کھیتوں سے گراں بار ہوں ، جس دنیا میں روشنی اپنی چمک ‘ رنگ اپنی بوقلمونی ‘ خوشبو اپنی عطر بیزی اور موسیقی اپنی نغمہ وآہنگ رکھتی ہو کیا اس دنیا کا کوئی باشندہ آسائش حیات سے محروم اور نعمت معیشت سے مفلس ہو سکتا ہے ؟ کیا کسی آنکھ کے لئے جو دیکھ سکتی ہے اور کسی دماغ کے لئے جو محسوس کرسکتا ہو ‘ ایک ایسی دنیا میں نامرادی اور بدبختی کا گلہ جائز ہے ؟ قرآن کریم نے جابجا انسان کو اس کے اس کفران نعمت پر توجہ دلائی ہے ۔ تمہاری ظاہر پسند نظریں تو اتنا ہی دیکھ سکتی ہیں کہ اب رات ہوگئی ، سونے کا وقت آگیا ، اب دن چڑھ رہا ہے ‘ اب ہمیں جاگنا چاہئے ، سورج دن کو روشنی پہنچاتا ہے اور چاند کا کام رات کو منور کرنا ہے ، آسمان کی نیلی چادر پر ستاروں کو اس لئے ٹانک دیا گیا ہے کہ وہ خوبصورت بن جائے ، تم نے کبھی شب وروز کی گردش ‘ شمس وقمر کے اثرات اور ستاروں کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ‘ ان میں سے ہرچیز ہزاروں فوائد کی حامل ہے لیکن ان فوائد سے وہ جواں ہمت لوگ ہی آگاہ ہو سکتے ہیں جو اپنی عقل وفکر کی قوتوں کو استعمال کرنا جانتے ہوں ، ایسے باہمت لوگوں کو مظاہر قدرت کے ان آئینوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے دلائل ضیاء پاشیاں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور زمین کی سطح پر طرح طرح کے رنگوں کی پیداوار جو تمہارے لیے پیدا کردی ہے بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے ایک نشانی ہے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں

تفسیر : ان رنگتوں میں بھی ان لوگوں کے لئے کتنی نشانیاں ہیں جو سوچ سمجھ سے کام لیتے ہیں ۔ 17۔ ہم زندگی کی بناوٹی اور خود ساختہ آسائشوں میں اس درجہ منہمک ہوگئے ہیں کہ ہمیں قدرتی راحتوں پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور بسا اوقات تو ہم ان کی قدروقیمت کے اعتراف سے بھی انکار کردیتے ہیں لیکن اگر چند لمحوں کے لئے اپنے آپ کو اس غفلت سے بیدار کرلیں تو معلوم ہوجائے کہ کائنات ہستی کا حسن و جمال فطرت کی ایک عظیم اور بےپایاں بخشش ہے اور اگر یہ نہ ہوتی یا ہم میں اس کا احساس نہ ہوتا تو زندگی زندگی نہ ہوتی نہیں معلوم کیا چیز ہوتی ، ممکن ہے موت کی بدحالیوں کا ایک تسلسل ہوتا ؟ غور کرو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج ‘ چاند ‘ ستاروں کو تمہاری خدمت کے لئے مسخر کردیا ہے اسی طرح اس سطح زمین پر جن چیزوں کو پیدا فرمایا ‘ حیوانات ونباتات اور معدنیات انہیں بھی تمہارے لئے مسخر فرما دیا لیکن ان سے فائدہ صرف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو عقل وفہم سے کام لینا جانتے ہیں بےعلموں اور بےفکروں کے لئے تو یہ انمول خزانے بےمصرف ہیں ، پانی میں بجلی کی حیرت انگیز قوت پہلے دن سے موجود تھی ‘ کرہ ہوائی کی موجیں تیری آواز کو آنا فانا دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچانے کی اہلیت رکھتی تھیں ، بڑے ریگستانوں کے نیچے پٹرول کے سمندر موجزن تھے لیکن ان سے فائدہ اٹھانا تیرا کام تھا اغیار نے اپنی انتھک کوششوں اور جانفشانیوں سے ان پنہاں قوتوں کا سراغ لگایا اور ان سے خوب خدمت لی لیکن اے حامل قرآن ! تیری سہل انگاری نے تجھے مہلت نہ دی کہ تو اپنی اس کتاب کا مطالعہ کرے ، جس نے سب سے پہلے ان قوتوں کی تسخیر کی دعوت دی ، تیرے فقیر حال مست اور تیرے امیر مال مست رہے ، تیرے بلند ہمت اسلاف نے علم و حکمت کی جو چمن بندی کی تھی اس میں بہار آنے کا وقت آیا تو تو اس سے غافل ہوگیا اور اس پر اغیار نے تسلط جما لیا ، انہوں نے تمہارے ” دیا “ سے اپنا ” دیا “ روشن کیا لیکن بڑی چالاکی کے ساتھ تمہارے ” دیا “ کو پھونک لگا دی لیکن تم کتنے سہل انگار نکلے کہ تم کو یہ باور کرایا گیا کہ تم کو روشنی کی ضرورت ہے اور وہ تم کو مل رہی ہے اور اچھا ہوا کہ تیرا تیل بچ گیا ، غور کرو کہ آج اہل ہمت ستاروں پر کندیں ڈال رہے ہیں ، اور تجھے تیسرے کے ختم سے فرصت حاصل نہیں اور پھر پتنگ بازی کا مشغلہ بھی تو صرف تمہاری ہی لئے بنایا گیا ہے ، اے مسلم ! تو کیا تھا اور کیا بن کر رہ گیا ؟ اٹھ کمر ہمت باندھ مستقل مزاجی سے محنت وجفاکشی کو اپنا شعار بنا اور اگے بڑھ کر علم و دانش اور فن و حکمت کے کار دانوں کی قیادت سنبھال ، موجودہ بےدین قیادت انسانیت کو اپنے رب سے دور کر رہی ہے اور اسے ہلاکت کی طرف لے جا رہی ہے تیری مومنانہ قیادت جہاں انسانیت کے لئے امن و عافیت کی ضامن ہوگی وہاں بندے کا رشتہ اپنے رب سے بھی استوار کرنے کا باعث بنے گی ، دیکھ رب کریم کا کلام کیا کہہ رہا ہے کہ ” اس زمین کی سطح پر طرح طرح کے رنگوں کی پیداوار جو تمہارے پیدا کردیئے ہیں بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لئے ایک نشانی ہے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں۔ “۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور دیکھو وہی ہے جس نے سمندر تمہارے لیے مسخر کردیا کہ اس سے تروتازہ گوشت نکالو اور کھاؤ اور زیور کی (قیمتی اور خوشنما) چیزیں نکالو جنہیں آرائش کیلئے پہنتے ہو نیز تم دیکھتے ہو کہ جہاز پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں تاکہ اس کا فضل تلاش کرو اور شکرگزار ہو جاؤ

سمندروں کو مسخر کرنے والا اور ان میں طرح طرح کے فوائد رکھنے والا اللہ ہی تو ہے : 18۔ سمندر کی طرف نظر اٹھاؤ تو اس کی سطح پر جہاز تیر رہے ہیں ، تہہ میں مچھلیاں اچھل رہی ہیں ، قعر میں مرجان اور موتی نشو ونما پا رہے ہیں ۔ یہ کس کی کارفرمائی ہے ؟ یہ اس اللہ ہی کی کارفرمائی ہے کہ اس نے سمندر تمہارے لئے مسخر کردیا تاکہ اپنی غذا کے لئے تروتازہ گوشت حاصل کرو اور زیور کی چیزیں بھی اس کی تہہ میں سے نکالو جنہیں خوشنمائی کے لئے تم پہنتے ہو ، اس خاک دان ارض میں اپنی عنایات کا جو بازار سجایا تھا اس سے متعارف کرنے کے بعد اپنی نوازشات کی ایک دوسری جلوہ گاہ کی طرف انسان کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ ان نگواں سمندروں کو دیکھو جن کا کوئی کنارہ نہیں ۔ ان میں اٹھتی ہوئی لہروں کی بلندی کا اندازہ کرو اس میں اٹھنے والے طوفان کتنے تندوتیز ہیں لیکن سب کو پابند حکم کردیا گیا ہے اور اس میں تمہاری خوراک کے لئے تازہ گوشت پیدا کردیا گیا ہے اور ہماری قدرت کے اس اعجاز میں بھی تو غور کرو کہ مچھلی جس پانی میں جنم لیتی ہے ، جس میں پرورش پاتی ہے اور جو اس کی خوراک ہے وہ تو اتنا کھاری اور کڑوا ہے کہ ہونٹوں پر بھی نہیں لگایا جاسکتا لیکن کیا مچھلی کے گوشت میں اس کا ذائقہ اور اس کی بدبو تم محسوس کرتے ہو ‘ ہرگز نہیں اور علاوہ ازیں ہم نے تمہاری انسانیت کے لئے اس میں خوبصورت موتی پیدا کردیئے ہیں کہ ان کی دمک وچمک سے چاند بھی شرماتا ہے ، وہ دیکھو ! سمندر کی تہ میں آغوش صدف میں ایک چمکدار اور قیمتی موتی تمہارے حوصلوں کو دعوت دے رہا ہے ہمت ہے تو آگے بڑھ کر اٹھا لو اگر زندہ ہو تو زندوں کا کام بھی کر دکھاؤ ، یہ تمہارے قرآن کریم ہی کی تو تعلیم ہے جس سے تم کو تمہارے ان مولیوں نے دور کردیا ہے اور اغیار سے وہ رشوت کھا گئے ہیں اور اب وقت ہے کہ تم اس حقیقت کو سمجھو اور قرآن پر اپنا حق قائم رکھو جو مسلمان ہونے کے ناطہ سے تم کو دیا گیا ہے اور مذہبی ٹھیکہ داروں کی قطعا پروا نہ کرو ان کے پاس کوئی پروانہ الہی موجود نہیں جس کی بنا پر ان کی اجارہ داری تسلیم کرلی جائے ، خبردار ! یہ بات سن لو کہ یہ لوگ اہل نظر نہیں بلکہ اہل فتنہ و فساد ہیں ۔ تفسیر : سمندروں میں بحری جہازوں کو کس نے چلانے کا حکم دیا ہے ؟ وہ اللہ ہی تو ہے : 19۔ تم دیکھتے ہو کہ جہاز سمندر میں موجیں چیرتے ہوئے چلے جا رہے ہیں اور تم سیر و سیاحت کے ذریعہ اللہ کا فضل تلاش کرتے ہو تاکہ تم اس کی نعمت کے شکر گزار ہو ۔ سمندر بےکراں سہی اس کی گہرائی بےپایاں سہی اس میں اٹھنے والے طوفان تندوتیز سہی اس کے بھنور ہیبت ناک سہی لیکن ان تمام قہرمانیوں کے باوجود ہم نے ان کو حکم دے دیا ہے کہ تمہاری کشتیوں اور تمہارے جہازوں کو اپنے دوش پر اٹھائے اور تمہیں تمہاری منزل تک پہنچائے اب تم دیکھتے ہو کہ کس طرح تمہاری کشتیاں اور جہاز تمہیں اٹھائے ہوئے موجوں کو چیرتے خراماں خراماں چلے جا رہے ہیں ، اگر سمندر کو مسخر نہ کیا جاتا تو تم ‘ تمہاری تجارت ‘ تمہاری مصنوعات اور ایجادات ملک میں ہی محصور ہو کر رہ جاتیں ، ہم نے سمندر کو تمہاری کشتیوں کے اٹھانے کا حکم اس لئے دیا ہے کہ تمہارے کاروبار میں ترقی ہو ۔ تمہاری مصنوعات اور ایجادات سے دوسرے لوگ بھی مستفید ہوں ، مسلمانوں نے اپنے دور عروج میں بحر پیمائی میں جو کمال حاصل کیا ان کے تجارتی جہاز طویل سمندر سفر طے کرکے ایک ملک کا سامان جس طرح دوسرے ملک میں لے جایا کرتے تھے وہ ایک تاریخ کے طالب علم کے لئے کوئی مخفی بات نہیں ، اب تو یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ لولمبس کے جہاز کا ملاح بھی احمد نامی ایک مسلمان تھا ، زیر نظر آیت میں یہ چیز بھی ہے کہ رزق کو اللہ تعالیٰ نے (فضلہ) یعنی اپنا خاص فضل فرمایا ہے اور تجارت بلاشبہ اس کے فضل میں سے ایک فضل ہے ، تجارت اور تاجر کے فضائل سے کسی کو انکار نہیں بشرطیکہ وہ اسلامی خطوط کے مطابق ہو ، آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا کہ بحر وبر میں خشکی اور تری میں ‘ میدانوں اور پہاڑوں میں ‘ جنگلوں اور صحراؤں میں ہر جگہ ہم نے اپنی قدرت اور حکمت اور اپنے انعامات کا بازار سجا رکھا ہے تاکہ تم اپنے منعم حقیقی کو پہچانو اور اس کا شکر ادا کرو ۔
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اس نے زمین میں پہاڑ قائم کردیئے کہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ پڑے اور اس نے نہریں رواں کردیں اور راستے نکال دیئے تاکہ تم اپنی منزل تک (بآسانی) پہنچو

اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑوں کو گاڑ دیا ہے تاکہ وہ ہچکولے نہ کھائے : 20۔ یہ آیت قبل ازیں سورة الرعد کی آیت 3 اور الحجر کی آیت 19 میں گزر چکی ہے اور سورة الانبیاء کی آیت 31 ‘ سورة النحل کی آیت 61 ‘ سورة لقمان کی آیت 10 اور سورة فصلت کی آیت 10 ‘ سورة ق کی آیت 7 اور المرسلات کی آیت 27 میں بھی آئے گی اور زیر نظر آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے کہ سطح زمین پر پہاڑوں کے ابھار کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زمین کی گردش اور اس کی رفتار میں انضباط پیدا ہوتا ہے ، قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ آیت بیان ہوئی ہے وہاں پہاڑوں کے اس فائدے کو نمایاں کر کے بتایا گیا ہے جس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے تمام فائدے ضمنی ہیں اور اصل فائدہ یہی حرکت زمین کو اضطراب سے بچا کر منضبط کرنا ہے ، جب ایک چیز ایک جگہ جم کر کھڑی ہوجاتی ہے تو اس پر ” رسا “ کا لفظ بولا جاتا ہے اور اس کو ” ثبت “ اور ” رسخ “ بھی کہتے ہیں اور اس سے بندر گاہ بھی ” مرسی “ کہلاتی ہے کیونکہ جہاز اور کشتیاں وہاں آکر ٹھہر جاتی ہیں پہاڑ بھی چونکہ ایک جگہ جم کر کھڑے رہتے ہیں اور حرکت نہیں کرتے اس لئے ان کو بھی ” رواسی “ کہ گیا اور ” تمید مید “ سے ہے جس کے معنی ہیں دائیں بائیں ڈولتے رہنا اور آیت کا ماحصل یہ ہے کہ زمین کو جب پدچا کیا گیا تو وہ اضطراری طور پر دائیں بائیں کو ڈولتی رہتی اگر اس پر پہاڑ گاڑ نہ دیئے جاتے گویا اس پر پہاڑ گاڑ کر اس کا توازن قائم کردیا ۔ اور آج کل جو زمین کی حرکت قطعیات میں ہے تو وہ اس کے منافی نہیں کیونکہ اس گاڑنے کا مطلب یہی ہے کہ زمین فی نفسہ قائم رہے ، رہی اس کی گردش تو اس کے یہ بات منافی نہیں ، زمین کو ایک جسم بنانے کے لئے گاڑنا اور بات ہے اور اس کی حرکت روزانہ یا گردش سالانہ اور بات ہے لہذا قرآن کریم کی اس آیت کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ اس سے گردش کی بحث پیدا کرکے اس کی نفی و اثبات کی بحث چھیڑ دی جائے ، قرآن کریم ایسے مضامین کا ہرگز متحمل نہیں یہ ہم یاروں کی موشگافیاں ہیں ۔ فرمایا زمین میں نہریں یعنی دریا بنا دیئے اور راہیں تیار کردیں تاکہ تم راستے پاسکو اور اپنی اپنی منزلوں کو متعین کرکے وہاں تک پہنچ سکو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ زمین میں راہیں تلاش کرنا اور ان راستوں پر چلنا اور دنیوی فوائد حاصل کرنا خود دنیا کے اندر ترقی کرنا اور دوسروں کی ترقی کی راہیں کھولنا سب ” ہدایت “ میں داخل ہے اور فی الواقع یہ ہدایت اس اخروی ہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے جب کوئی رہنمائی حاصل کرنے والا ہو اور دنیوی ودینی ہدایت کے لئے کوشش کرے اور جو بندہ یا بندہ کا اصول واضح اور پکا ہے کہ جو جس بات کی تلاش کرتا ہے وہ اس کو مل جاتا ہے ۔