Ayah 16:90اس آیت میں تین چیزوں عدل ‘ احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیا گیا :
102۔ زیر نظر آیت کے اس مختصر سے فقرہ میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرہ کی درستی کا انحصار ہے اور اس میں پہلی چیز عدل ہے اب غور کرنا ہے کہ عدل کیا ہے ؟
کسی بوجھ کو دو برابر حصوں میں اس طرح بانٹ دیا جائے کہ ان دو میں سے کسی میں ذرا بھی کمی یا بیشی نہ ہو تو اس کو عربی میں ” عدل “ کہتے ہیں ، (امام راغب) اس سے وہ معنی پیدا ہوتے ہیں جن میں ہم اس لفظ کو اپنی زبان میں بولتے ہیں یعنی جو بات ہم کہیں یا جو کام کریں اس میں سچائی کی میزان کسی طرح جھکنے نہ پائے اور وہی بات کہی جائے اور وہی کام کیا جائے جو سچائی کی کسوٹی پر پورا اترے اس تشریح سے معلوم ہوگا کہ اخلاق کی ترازو میں عدل و انصاف کا پلہ بھی کچھ کم بھاری نہیں ۔ عدل سب سے پہلے خود اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جن روایات میں اللہ تعالیٰ کے 99 نام گنائے گئے ہیں ان میں ایک ” عدل “ یعنی عدل والا کے بھی ہیں اور ان کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ اس کا فیصلہ حق ہوتا ہے ‘ وہ حق بات کہتا ہے اور وہی کرتا ہے جو حق ہے (بیہقی ص 71)
قرآن کریم میں کئی دفعہ یہ حقیقت مختلف لفظوں میں دہرائی گئی ہے فرمایا (واللہ یقضی بالحق) (ال مومن 40 : 20) ” اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے ۔ “ اور ظاہر ہے کہ یہ عدل کی طرف اشارہ ہے اور دوسری جگہ فرمایا (واللہ یقول الحق) (الاحزاب 33 : 4) ” اللہ حق بات کہتا ہے ۔ “ یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کے عدل قولی کو ظاہر کرتا ہے اور یہ دونوں باتیں قرآن کریم کی آیت میں یکجا بھی بیان کی گئی ہیں فرمایا (وتمت کلمہ ربک صدقا وعدلا) (الانعام 6 : 115) ” اور تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف کے ساتھ پوری ہوگئی ۔ “ دنیا کا یہ سارا کارخانہ جو آسمان سے لے کر زمین تک پھیلا ہوا ہے صرف اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے بل بوتے پر قائم ہے ‘ وہ اپنی تمام مخلوقات میں اپنی شہنشاہی پورے انصاف کے ساتھ قائم کئے ہوئے ہے اور یہی اس کی وحدانیت کی دلیل ہے اور اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو والملئکۃ واولوالعلم قآئما بالقسط “۔ (آل عمران : 3 : 18) اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی الہ نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی عدل کے ساتھ اس کی گواہی دی ۔ “
معلوم ہوگیا کہ عدل و انصاف صرف نظم وسلطنت ہی کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں عدل کی ضرورت ہے اور نظام عالم محض عدل کی وجہ سے قائم ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی جامع آیت میں جن اچھی باتون کا حکم دیا ہے وہ یہی آیت ہے جس کی یہاں تفسرک کی جا رہی ہے اور ان میں سب سے پہلے عدل و انصاف کرنے ہی کا حکم دیا ہے ، دراصل عدل ہی قانون کا اقتضاء ہے اور احسان کرنا اور درگزر کرنا اخلاق کا مطالبہ ہے اللہ تعالیٰ نے نظم عالم کو قائم رکھنے کے لئے سب سے پہلے عدل کا حکم دیا ہے اور اس کے بعد احسان کی تاکید کی ہے ۔ جس سے اشخاص کی روحانی تکمیل ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ سارے عالم کی نگہداشت کا فرض کسی شخص کی ذاتی تکمیل کے فرض سے زیادہ اہم ہے ، پھر اس مجمل تعلیم پر بس نہیں کیا ہے بلکہ زندگی کے اہم شعبوں کو لے کر ان میں عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ۔ مثلا معاشرتی زندگی میں عدل و انصاف کی سب سے زیادہ ضرورت ان لوگوں کو ہوتی ہے جو ایک سے زائد عورتوں سے نکاح کرتے ہیں اس لئے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ (آیت) ” فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ اوما ملکت ایمانکم “۔ (النساء 4 : 3) ” اگر تم کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ (ایک سے زائد بیبیوں میں) انصاف نہ کر سکوگے ‘ تو ایک ہی بیوی کرنا یا وہ جو تمہاری ملک یمین ہوں ان سے نکاح کرلینا “۔ عورتوں کے بعد یتیموں کے حقوق کی حفاظت کے لئے بھی عدل و انصاف کی ضرورت ہے اس لئے کہا گیا کہ ” یتیموں کے حق میں انصاف ملحوظ رکھو “۔ (النساء 4 : 127)
قرآن کریم کی متعدد آیتوں میں بار بار اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ ناپ تول میں بےانصافی نہ کی جائے کیونکہ خریدوفروخت کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی ہر انسان کو ضرورت ہوتی ہے اس لئے وزن وپیمانہ میں کمی کرنے سے جو نقصان پہنچتا ہے وہ نہایت عام ووسیع ہے اس کے ساتھ نہایت حقیر مقدار میں کمی کرنے سے انسان کی سخت دنائت ثابت ہوتی ہے اور اس سے روح میں سخت اخلاقی گندگی پیدا ہوتی ہے پھر عدل و انصاف کی ضرورت خاص کر عدالتی معاملات میں ہوتی ہے اور اسلام نے عدالتی کاروبار کے ہر پہلو میں عدل و انصاف کا لحاظ رکھا ہے ، اس کے بعد شہادت یا فیصلہ کے وقت دو حالتوں میں اکثر لوگوں کا ایمان ڈگمگا جاتا ہے ایک تو یہ کہ فریق مقدمہ اپنا قرابت دار ہو یا اس سے گواہ یا حاکم کی عداوت ہو لیکن اسلام نے عدالتی کاروبار کے ہر پہلو میں عدل و انصاف کا لحاظ رکھا ہے ، اس کے بعد شہادت یا فیصلہ کے وقت دو حالتوں میں اکثر لوگوں کا ایمان ڈگمگا جاتا ہے ایک تو یہ کہ فریق مقدمہ اپنا قرابت دار ہو یا اس سے گواہ یا حاکم کی عداوت ہو لیکن اسلام کی اخلاقی تعلیم اس حالت میں بھی عدل و انصاف سے تجاوز کرنے کو جائز نہیں رکھتی چناچہ ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” واذا قلتم فاعدلوا ولو کان ذا قربی “۔ (الانعام 6 : 152) ” اور جب بات کہو تو اگرچہ قرابت داری ہو انصاف کا پاس رکھو “۔
یہود ونصاری اسلام کے کھلے دشمن تھے لیکن اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے وحی الہی یہ بات کہلواتی ہے کہ :
(آیت) ” وقل امنت بما انزل اللہ من کتب وامرت لا عدل بینکم اللہ ربنا وربکم لنا اعمالنا ولکم اعمالکم لا حجۃ بیننا وبینکم اللہ یجمع بیننا والیہ المصیر “۔ (شوری 43 : 15)
” اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا مجھے حکم دیا گیا کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا بھی ‘ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اور ہمارے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ، اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اس کی طرف سب کو جانا ہے “۔
جس عدل اور برابری کا حکم اس آیت کریمہ میں ہے اس کے کئی پہلو ہیں ایک یہ کہ جو سچائی مجھ تک پہنچی ہے اس کو میں برابر برابر تم سب کو پہنچا دوں دوسرا یہ کہ محض دینی مخالفت کی وجہ سے تمہارے ساتھ بےانصافی نہ کی جائے بلکہ وہ کیا جائے جس کا تقاضا عدل و انصاف کرتا ہے اور تیسرا یہ کہ اب تک تم میں مقدمات کے فیصلہ کی جو یہ صورت جاری ہے کہ دولت مندوں اور عزت والوں کے ساتھ رعایت کا اور عام لوگوں کے ساتھ سختی کا قانون برتا جائے ‘ میرے رب نے ایسا کرنے سے مجھے منع کیا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ عام وخاص اور امیر و غریب سب کے ساتھ یکساں اور برابری کا سلوک کیا جائے کیونکہ ہمارا تمہارا سب کا رب ایک ہی ہے ہم سب اس کے غلام ہیں اس لئے اس کے سب غلاموں کے لئے ایک ہی قانون ہونا چاہئے ہم کو ہمارا اعمال اور تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ ملے گا ، اس میں جھگڑنے کی کوئی بات نہیں سب کو قیامت میں اس مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونا ہے جس کا کام اس کو پسند آئے گا اس کو ویسا ہی انعام ملے گا اور اگر برا کام کیا ہے تو ویسی ہی سزا ملے گی ۔
عدل و انصاف کی راہ میں ان سب سے زیادہ ایک اور کٹھن منزل ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کے مقابلہ میں بھی عدل و انصاف کا سررشتہ ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے نبی اعظم وآخر ﷺ کی پاک تعلیم کی روشنی میں اہل ایمان کو اس کٹھن منزل کی رہنمائی بھی پوری طرح کی گئی ہے ارشاد الہی ہے کہ ” مسلمانو ! ایسے ہوجاؤ کہ انصاف پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے سچی گواہی دینے والے ہو اگر تمہیں خود اپنے خلاف یا اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے جب بھی نہ جھجھکو ‘ اگر کوئی مالدار یا محتاج ہے تو اللہ تم سے زیادہ ان پر مہربانی رکھنے والا ہے تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ مال دار کا دولت کے لالچ میں یا محتاج کی محتاجی پر ترس کھا کر سچی بات کہنے سے باز رہو پس ایسا نہ ہو کہ ہوائے نفس کی پیروی تمہیں انصاف سے باز رکھے اور اگر تم بات گھما پھرا کر کہو گے یا گواہی دینے میں پہلو تہی کرو گے تو تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے ۔ “ (النساء : 4 : 135)
ان آیات کریمات سے عدل کے خلاف ایک ایک ریشہ کو جڑ سے نکال کر پھینک دیا گیا ہے کہا گیا ہے کہ معاملات میں عدل و انصاف کی حمایت تمہارا مقصد ہو جو کچھ کہو یا کرو خدا لگتی کہو اور خدا واسطے کہو ‘ عدل و انصاف کے فیصلہ اور گواہی میں نہ تو اپنے نفس کا خیال بیچ میں آئے نہ عزیزوں اور قرابت داروں کا ‘ نہ دولت مندوں کی طرف داری کا ‘ نہ محتاج پر رحم کا ‘ پھر اس فیصلہ اور گواہی میں کوئی بات لگی لپٹی نہ رکھی جائے ‘ نہ حق کا کوئی جان بوجھ کر بچالیا جائے ‘ مطلب یہ ہوا کہ فیصلہ اور گواہی میں دولت مند کی پاسداری نہ کرو اور نہ محتاج پر ترس کھاؤ اور قرابت کو بھی نہ دیکھو ‘ جو حق ہو وہ کرو یا کہو ‘ کچھ چھپا لو تو یہ سب باتیں عدل و انصاف کے خلاف ہیں ، کسی غریب کی غربت پر ترس کھا کر فیصلہ میں ردوبدل کردینا بظاہر نیکی کا کام دکھائی دیتا ہے مگر درحقیقت یہ ایک مقدس فریب ہے ‘ فیصلہ میں ترس کھا کر بےایمانی کرنا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ کسی کی خاطر رکھ کر یا کسی کی بزرگی کو مان کر یا کسی کی بڑائی سے مرعوب ہو کر بےایمانی کرنا ہے غرض یہ ہے کہ عدل و انصاف کی راہ میں کوئی اچھا یا برا جذبہ حاکم کے لئے ٹھوکر کا پتھر نہ بنے ۔ اس طرح اس آیت کا اشارہ ادھر بھی ہوا کہ جو گواہ کسی فریق کو نفع پہنچانے کی غرض سے طرفدارانہ گواہی دیتا ہے وہ غلطی میں مبتلا ہے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اس کا نگران نہیں ہو سکتا ‘ اس لئے نہ گواہوں کو اس کے لئے طرفداری کرنی چاہئے اور نہ خود کسی فریق کو گواہ کی طرفداری کے ذریعہ سے منفعت کا خیال دل میں لانا چاہئے بلکہ دونوں کو اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردینا چاہئے کہ وہی ان کا سب سے بہتر اور سب سے بڑھ کر ولی ہے ۔
یہ مضمون قرآن کریم کی آیات کے تحت آپ پڑھ رہے ہیں آپ ایمانداری سے ذرا غور وفکر کرکے بتائیں کہ اس طرح کی تعلیم دینے والا قرآن کریم اور محمد رسول اللہ ﷺ اور خود اللہ تعالیٰ اپنے نبی ورسول سیدنا یوسف (علیہ السلام) کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ اے یوسف ! تو اپنے بھائی بنیامین کی بوری میں ایک پیالہ رکھ دے اور جب قافلہ تیار ہو کر نکلنے لگے تو اپنے کارندوں کو کہو کہ ان کو چور کہہ کر بلاؤ اور ان کے سامان کی تلاشی لو اور پھر جس کے سامان سے وہ پیالہ دستیاب ہوجائے اس کو ملزم بنا کر روک لو یہ تدبیر ہم (اللہ تعالیٰ ) تجھ کو بتا رہے ہیں کیونکہ تو بادشاہ کے دین میں اپنے بھائی کو روک نہیں سکتا تھا اور ہماری اس تدبیر سے تمہارے بھائی رک جائے گا اور تمہاری خواہش پوری ہوجائے گی ، کیا انصاف کے تقاضے یہی ہیں جن کے متعلق اوپر ہدایات دی جا رہی ہیں کیا اللہ تعالیٰ بھی فریب سکھاتا ہے ؟ اور دھوکہ دہی کا سبق دیتا ہے ؟ اگر نہیں تو تم نے قرآن کریم کی آیات کا ترجمہ کرتے وقت کیوں نہ سوچ بچار سے کام لیا اور سیدھا ترجمہ کرنے کی بجائے کیوں الٹا مفہوم بیان کرنا شروع کردیا اور قرآن کریم میں کیوں تناقض ڈال دیا ۔ پھر تم کو ذرا خیال نہ آیا کہ اگر باہر سے آیا ہو آدمی مصر میں نہیں ٹھہر سکتا تھا تو یہ بنیامین کا بڑا بھائی یعنی یعقوب (علیہ السلام) کا بیٹا مصر میں کیسے رہ گیا جس نے زور دے کر بھائیوں کو یہ کہ کہ ” اب میں یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک میرا والد مجھے اجازت نہدے یا پھر اللہ ہی کوئی میرے حق میں فیصلہ فرما دے ۔ “ (12 : 80) بنیامین کو ملزم بنا کر روکا گیا اور یہ بھائی جو خود بخود رک گیا اس کو کیسے یہاں رہنے دیا گیا کیا قرآن کریم کی ہدایات میں تناقض ہے ؟ اگر نہیں تو تم نے کیوں اللہ اور اس کے رسول سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے ذمہ وہ لگا دی جو سراسر عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے قرآن کریم کا یہ حکم کہ ” اے ایمان والو ! ایسے ہوجاؤ کہ انصاف پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والیے اور اللہ کے لئے سچی گواہی دینے والے ہوجاؤ ۔ “ کہا گیا کہ اس کو سچی گواہی کہتے ہیں جو ماں باپ اور اپنے نفس کے خلاف بھی لگے تو سچ سچ کہنے کی ہدایت ہے ، ہاں غور کرو اور سچ کہنے کے لئے اٹھ کھڑے ہو اور صاف صاف کہہ دو کہ ہمیں جو مفہوم ان سورة یوسف کی آیات کا سمجھایا گیا ہے وہ صحیح نہیں اور اللہ تعالیٰ کبھی متضاد ہدایات نہیں دیتا جن لوگوں نے ایسا ترجمہ کیا ہے انہوں نے تحریف شدہ تورات کے مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجمہ کردیا ہے اور اس طرح تفسیر بیان کردی ہے جو حقیقت کے سراسر خلاف ہے ۔
مختصر یہ کہ اوپر بیان کی گئی آیات کریمات کی تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے عدل و انصاف کا جو حکم دیا ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت اور سیاست کے ہر ایک گوشہ کو محیط ہے یعنی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس پر اسلام کی یہ اخلاقی تعلیم حاوی نہ ہو ۔ ان آیات کی رو سے اگرچہ ہر مسلمان کو عادل ہونا چاہئے تاہم امام وحاکم وقت کے لئے عادل ہونا اور بھی زیادہ ضروری ہے اس لئے حدیث شریف میں امام عادل کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے سایہ کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں لے لے گا جن میں سے ایک شخص وہی امام عادل ہوگا ۔ (بخاری کتاب المحاربین باب فضل من ترک الفواحش) اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ ہم سب کو عدل و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما اور اللہ کی کتاب اور سنت رسول کو سمجھنے کی ہمت اور طاقت عنایت فرما یا ارحم الراحمین ہم سب پر رحم فرما۔
دوسری بات جو اس جگہ تلقین کی گئی ہے وہ احسان ہے اس لئے ہم کو غور کرنا ہے کہ احسان کیا ہے ؟ احسان بھلائی کو کہتے ہیں اور یہ ایک ایسی صفت ہے جو ہر نیکی کے کام کو محیط ہے اس لئے اس کی صورتیں ان گنت اور بیشمار ہیں کہ ان کا مکمل احاطہ نہیں کیا جاسکتا البتہ ان تمام سورتوں کی ایک عام شکل یہ نکلتی ہے کہ دوسرے کے ساتھ ایسا نیک سلوک کرنا جس سے اس کا دل خوش ہو اور اس کو آرام پہنچے ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر محسن اور کوئی نہیں ہوگا جس کے احسانات کی حد وپایاں نہیں ہے ، عرش سے فرش تک جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے احسانوں کی جلوہ نمائی ہے اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احسانات کو شمار کرنا چاہئے تو ممکن نہیں کہ ان کو شمار کرسکے وہ تو اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں لیکن زیر نظر آیت میں ہم سب کو حکم دیا جا رہا ہے کہ ” احسان کرو “ یعنی نیکی اور بھلائی کرو ‘ قرابتداری کے ساتھ ‘ ماں باپ کے ساتھ ‘ یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ ‘ رشتہ دار پڑوسیوں کے ساتھ اور غیر رشتہ دار پڑوسیوں کے ساتھ ‘ آس پاس کے بیٹھنے والوں کے ساتھ ‘ مسافروں ‘ غلاموں ‘ کمزوروں کے ساتھ اور خصوصا جو احسان کرنے کو تیار نہ ہوں ان کے ساتھ بھی تم احسان کرو ، احسان کی ایک اہم صورت یہ ہے کہ کسی کو اس کی مصیبت سے نجات دلائی جائے خواہ وہ کسی طرح کی مصیبت میں مبتلا ہو ‘ غرض کسی کو مالی امداد دینا یا کسی کو کسی دوسری مصیبت سے نجات دلانا احسان کی اہم صورتیں ہیں اور علاوہ ازیں بھی بہت سے کام ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لفظ احسان کا اطلاق فرمایا اور حکم دیا مثلا عورتوں کو قانونی حیلے نکال کر دق کرنا برا کام تھا ، جس سے مسلمانوں کو روکا گیا اور فرمایا گیا کہ اگر عورت کو اپنی زوجیت میں رکھنا پسند نہ ہو تو نہایت خوبی کے اس کو الگ کر دو ۔ چناچہ ارشاد فرمایا (آیت) ” الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان “۔ (البقرہ : 2 : 229) ” طلاق جس کے بعد رجوع کیا جاسکتا ہے دو مرتبہ پھر اس کے بعد شوہر کے لئے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں یا تو اچھے طریقے کے ساتھ روک لینا یعنی رجوع کیا جاسکتا ہے دو مرتبہ ہے پھر اس میں کے بعد شوہر کے لئے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں یا تو اچھے طریقے کے ساتھ روک لینا یعنی رجوع کرلینا یا پھر حسن سلوک کے ساتھ الگ کردینا۔ “
اس طرح اگر تم پر کسی کا کچھ واجب ہو تو اس کو بھی خوبی کے ساتھ ادا کرو اور اس کی ادائیگی میں لیت ولعل اور حجت وحوالہ نہ کرو ۔ “ (البقرہ : 2 : 185)
قصور واروں کے قصور کو معاف کرنا اور ان کے مقابلہ میں غصہ کو پی جانا بھی احسان ہے اللہ تعالیٰ نے اس احسان کو یہ درجہ دیا ہے کہ جو اس صفت سے متصف ہوں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں سے ہوں گے ، کسی غریب یا عزیز و قریب سے کوئی ایسی حرکت ہوجائے جس سے ناراضگی پیدا ہوجائے تو بھی اہل احسان کا فرض یہی ہے کہ وہ معاف کریں اور اپنے احسان سے باز نہ آئیں بلکہ اس کو بدستور جاری رکھیں ۔ ( سورة النور 24 : 22) صحابہ کرام میں کچھ ایسے لوگ تھے جو غیر مسلموں پر صدقہ کرنا ثواب کا کام نہیں سمجھتے تھے اس پر یہ حکم ہوا کہ ہدایت بخشنا تمہارا نہیں میرا کام ہے ، تم کو بلا امتیاز ہر ایک مسلم اور غیر مسلم کے ساتھ نیکی کرنی اور اپنی نیت ٹھیک رکھنی چاہئے اس لئے کہ تم کو اپنی نیک نیتی کا اجر وثواب ملے گا ، نیکی کا بدلہ نیکی سے دینا اسلام کا وہ اصول ہے جس پر ثواب و عذاب کا دارومدار ہے ، جو نیک کام کریں گے ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک جزا ملے گی ، دنیا کی سب سے بڑی ضرورت قرض کے بوجھ کو ہلکا کرنا ہے دنیا میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اس بوجھ کو ہلکا کیا ہے ‘ قرض داروں پر احسان کرنا ، ضرورت مندوں کو قرض دینا اور تنگ دست مقروضوں کو مہلت دینا جو قرض ادا کرنے سے بالکل مجبور ہوں ان کا قرض معاف کردینا ثواب کا کام بتایا ہے چناچہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص جو نیکی کا کام نہیں کرتا تھا (یعنی فرائض کی ادائیگی کے بعد) لیکن لوگوں کو قرض دیتا تھا اور جب اس کا کوئی مقروض تنگ دست نظر آتا تھا تو اپنے ملازموں سے کہتا تھا کہ اس سے درگزر کرو کہ شاید اللہ ہم سے بھی درگزر کرے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اسی صلہ میں اس سے درگزر کیا ، ایک حدیث ہے کہ تم سے پہلے ایک شخص جس سے موت کے بعد فرشتوں نے سوال کیا کہ تم نے نیک کا کوئی کام کیا ہے ؟ اس نے کہا کوئی نہیں کا فرشتوں نے کہا ذرا یاد کرو ‘ اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اگر مقروض فراخ دست ہوتا تھا تو قرض لینے آسانی کرتا تھا اور اگر تنگ دست ہوتا تھا تو اس کو مہلت دیتا تھا یا یہ کہا کہ فراخ دست کو مہلت دیتا تھا اور تنگ دست کو قرض معاف کردیتا تھا ۔ (بخاری کتاب البیوع باب من النظر معسراصحیح مسلم باب فضل النظائر المعسر)
ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ قیامت کی تکلیف سے اس کا نجات دے تو وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (صحیح مسلم کتاب البیوع باب ایضا) ایک روایت میں یہ بات اس طرح بیان کی گئی کہ جو شخص اپنے قرض دار کو مہلت دے گا یا اس کا معاف کر دے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ میں ہوگا ۔ (مسند ابن حنبل جلد 5 ص 308) پھر یہ اصول کہ جو شخص احسان کرے اس کے ساتھ احسان کرنا چاہئے نبی اعظم وآخر ﷺ کی اخلاقی تعلیم کے خلاف ہے ، ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے آکر پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں کسی شخص کے پاس سے گزرتا ہوں تو وہ میری مہمانی نہیں کرتا تو کیا جب اس کا گزر مجھ پر ہو تو میں بھی اس کی کج خلقی کا بدلہ یہی دوں ‘ فرمایا نہیں تم اس کی مہمانی کرو ۔ (جامع ترمذی باب ما جاء فی الاحسان والعفو) ایک بار نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایسے نہ بنو کہ خود تمہاری گرہ کی عقل نہ ہو صرف دوسروں کی دیکھا دیکھی کام کرو ‘ کہتے ہو کہ اگر لوگ احسان کریں گے تو ہم بھی احسان کریں گے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر مطمئن کرلو کہ اگر دوسرے احسان کریں تو تم احسان کرو ہی گے اور اگر وہ برائی بھی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔ “ (جامع الترمذی ایضا)
عدل و انصاف اور احسان کے ساتھ تیری چیز جو بیان کی گئی ہے وہ ایتائے ذوالقربی ہے یعنی رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا یا صلہ رحمی کیا ہے ؟ صلہ رحمی ہی ہے جو رشتہ داروں کے معاملے میں احسان کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور خوشی وغمی میں ان کا شریک حال ہو اور جائز حدود کے اندر ان کا حامی و مددگار بنے بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہر صاحب استطاعت شخص اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے ، شریعت اسلامی ہر خاندان کے خوش حال افراد کو اس امر کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں ‘ اس کی نگاہ میں ایک معاشرے کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ اس کے اندر ایک شخص عیش کر رہا ہو اور اس کے خاندان میں اس کے اپنے بھائی بند روٹی کپڑے تک کو محتاج ہوں ، وہ خاندان کو معاشرے کا ایک اہم عنصر ترکیبی قرار دیتی ہے کہ ہر خاندان کے غریب افراد کا پہلا حق اپنے خاندان کے خوش حال افراد پر ہے پھر دوسروں پر ان کے حقوق عائد ہوتے ہیں اور ہر خاندان کے خوش حال افراد پر پہلا حق ان کے اپنے غریب رشتہ داروں کا ہے پھر دوسروں کے حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں یہی بات ہے جس کو نبی کریم ﷺ نے اپنے مختلف ارشادات میں واضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے چناچہ متعدد احادیث میں اس بات کی تصریح فرمائی گئی کہ آدمی کے اولین حقدار اس کے والدین ‘ اس کے بیوی ‘ بچے اور اس کے بھائی بہن ہیں پھر ہو جو ان کے بعد قریب تر ہوں اور یہی اصول ہے جس کی بنا پر حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک یتیم بچے کے چچا زاد بھائیوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کی پرورش کریں کیونکہ وہ اس کی پرورش کے ذمہ دار ہیں اور ایک دوسرے یتیم کے متعلق آپ کا بیان موجود ہے کہ اگر اس کا کوئی بعید رشتہ بھی موجود ہوتا تو میں اس پر اس کی پرورش لازم کردیتا ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قریب کے رشتہ داروں کتنے ہی حقوق ہیں جن کی آج کوئی پروا نہیں کرتا حالانکہ ان چیزوں کے متعلق بارگاہ الہی میں سوال و جواب ہوگا جو ایک یقینی بات ہے ۔
اس آیت میں تین چیزوں الفحشا ‘ المنکر اور البغی سے منع فرمایا گیا :
103۔ زیر نظر آیت کے پہلے فقرہ میں تین چیزوں کے کرنے کا حکم تھا اور آیت کے اس دوسرے فقرے میں تین چیزوں سے روکا گیا ہے اور ان تینوں چیزوں میں پہلی (الفحشآء) ہے ، رہی یہ بات کہ (الفحشآء) کیا ہے ؟ یہ لفظ فحش سے نکلا ہے جس کے اصل معنی حد سے تجاوز کر جانے کے ہیں (الصحاح للجوہری) اور اس کے دوسرے لازمی معنی قبح یعنی برائی کے ہیں ۔ کیونکہ جس چیز کی جو حد خالق فطرت نے مقرر کردی ہے اس سے آگے بڑھنا قبح یعنی برائی ہے یا یہ کہ جو برائی حد سے زیادہ ہوجائے وہی فحشاء کہلاتی ہے قرآن کریم نے گناہ کے معنی میں حدود الہی سے مقدس اور تجاوز کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں ، مثال سے یوں سمجھئے کہ اللہ نے انسان کی قوت شہوانی کی تسکین کے لئے کچھ حدیں مقرر فرما دی ہیں اب جو ان حدود اور فحشاء اور فاحشہ کا مرتکب ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ :
(آیت) ” والذین ھم لفروجھم حفظون الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العدون “۔ (المؤمنون 23 : 5 تا 7)
اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی آزاد بیویوں پر یا ملک یمین پر جن سے نکاح کرلیا ہے ان پر کچھ ملامت نہیں ہے پھر جو کوئی علاوہ ازیں تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں ۔ “ اس لئے زنا کا نام بھی فاحشہ رکھا گیا ہے اور اس کے معنی ہی امر قبیح کے ہوگئے جیسا کہ ارشاد الہی ہے ۔ کہ (آیت) ” ولا تقربوالزنی انہ کان فاحشۃ وسآء سبیلا “۔ (بنی اسرائیل : 17 : 32) ” اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ کیونکہ یہ فاحشہ یعنی قبیح بات اور بری رہ ہے ۔ “ اور وسعت کے ساتھ اس کا اطلاق ہر فحش گوئی اور فحش کاری پر ہوتا ہے جس کی ہر نوع سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو باز رہنے کی تاکید کی ہے ۔
دوسرا کام جس سے روکا گیا ہے وہ (المنکر) ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ (المنکر) کیا ہے ؟ اس لفظ کے لغوی معنی ناشناسا کے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ جو کام لوگوں میں عام طور پر پسند کیا جاتا ہے اور جس کا کرنے والا لوگوں میں ممدوح ہوتا ہے تو جانا پہچانا کام ہے اس لئے اس کو معروف یعنی شناسا کہتے ہیں اور جو کام ہر طبقہ میں ناپسند کیا جاتا ہے اور اس کے کرنے والا سب کی نگاہ سے گر جاتا ہے وہ ” منکر “ ناشناسا ہے ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنا جو کچھ ناشنانا مہمان آجاتے ہیں کہ (قوم منکرون) (الحجر 15 ، 62) کہ لوگ ان جانے اور ان پہچانے ہیں ۔ یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جب ان کے مہمان آئے تو انہوں نے پہچان لیا مگر وہ یوسف (علیہ السلام) کو پہچان نہ سکے اس موقع پر قرآن کریم نے فرمایا (آیت) ” فعرفھم وھم لہ منکرون “۔ (یوسف 12 : 58) ” یعنی یوسف نے تو ان کو پہچان لیا مگر وہ ان کو پہچان نہ سکے ۔ “
ناگواری کی حالت میں انسان کا چہرہ ہر شخص کو نظر آتا ہے کہ وہ کس طرح بگڑ جاتا ہے اور اس کے طور وانداز سے بداہۃ ’ ناگواری ظاہر ہونے لگتی ہے یہ کیفیت بھی منکر ہے فرمایا :
(آیت) ” وذا تتلی علیہم ایتنا بینت تعرف فی وجوہ الذین کفروا المنکر یکادون یسطون بالذین یتلون علیھم ایتنا “۔ (الحج 22 : 72) پہچانے گا نزدیک ہوتے ہیں کہ وہ ان پر جو ہماری آیتیں سنائی جائیں تو کافروں کے چہروں سے تو منکر (بگڑی ہوئی شکل) پہچانے گا نزدیک ہوتے ہیں کہ وہ ان پر جو ہماری آیتیں سناتے ہیں حملہ کر بیٹھیں ۔ “ اس آیت میں ناخوشگواری کے اثر سے چہرہ میں جو بدنمائی پیدا ہوتی ہے اس کا منکر کہا گیا ہے ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ منکر وہ کام ہیں جن کو ہر شخص فطرتا اور بداہتہ ” ناپسند کرتا ہے اور ان کی برائی ایی کھلی ہے کہ اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ سبب ہے کہ ہر مذہب وملت اور ہر اچھے تمدن وتہذیب میں وہ یکساں برے سمجھے جاتے ہیں ۔
تیسرا کام جس سے اس آیت میں روکا گیا (بغی) ہے جس کے معنی کسی پر زیادتی یادست درازی کرنے کے ہیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (خصمان بغی بعضنا علی بعض) (ص 38 : 21) ” ہم دو جھگڑنے والے ہیں ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ۔ “ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر لوگوں کو بےانتہا دولت دے دی جائے تو وہ ایک دوسرے پر زیادتی کریں گے (آیت) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض “۔ (الشوری 42 : 7 12) اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے روزی پھیلا دے تو وہ زمین میں زیادتی کریں ، معلوم ہوا کہ (بغی) کے معنی دوسروں پر زیادتی اور تعدی کے ہیں ، جس سے معلوم ہوا کہ رذایل تین یعنی فحشاء ‘ منکر ‘ اور بغی میں منحصر ہیں صفات ذمیمہ فحشاء یعنی حد درجہ قبیح اور بےحیائی کے کام ہیں اور ایسی باتیں ہیں جن کو سارے انسان فطرتا ناپسند کرتے ہیں اور ان کے جائز کردینے سے دوسروں کے حقوق پر تعدی لازم آتی ہے اور المنکر کو بعض جگہ (الاثم) بھی کہا گیا ہے مختصر یہ کہ رذائل کو تین لفظوں میں منحصر کردیا گیا فواحش یعنی برائی اور بےحیائی کے سارے کام جو کھلے ہوں یا چھپے ہوں ‘ دوسرے گناہ کے کام اور ہر طرح کے برے کام جن کو (الاثم) یا (المنکر) کہا جاتا ہے اور تیسرے ناحق زیادتی ان اخلاق ذمیمہ کی جن کو ہر مذہب اور ہر انسانی معاشرت نے یکساں برا کہا ہے اگر تحلیل کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ درحقیقت برائی اور بےحیائی کے کام ہیں اور دین و شرافت کی نگاہ میں گناہ اور ناپسندیدہ ہیں اور اگر انکو جائز ٹھہرایا جائے تو افراد کے باہمی حقوق سے امان اٹھ جائے اور کسی کی جان ومال اور عزت وآبرو سلامت نہ رہے ۔ مختصر لفظوں میں ان رذائل کی ترتیب اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ سب سے پہلے فحشآء پھر منکر اور اس کے بعد بغی (فحشآء) میں جس برائی کی طرف اشارہ ہے وہ اساسا ایک فرد کی ذات تک محدود رہتی ہے ۔
جیسے ننگے رہنا ‘ بدکاری میں مبتلا ہوجانا اور (منکر) سے پوری جماعت کی معاشرتی زندگی متاثر ہوتی ہے جیسے شوہر کا ظلم باپ کی سنگدلی اور اولاد کی نالائقہ اور (بغی) جماعت سے آگے بڑھ کر پورے ملک وملت پر چھا جاتی ہے جیسے چوری ‘ ڈاکہ اور قتل وغیرہ اور ایک مسلمان کو ان سے ہر لحاظ سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
Ayah 16:91تفسیر :
اللہ کا عہد پورا کرو اور قسموں کی پوری حفاظت کرو :
104۔ کسی سے جو وعدہ یا کسی قسم کا قول وقرار کرلیا جائے اس کو پورا کرنا ایک راست باز کا شعار ہے اور خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت یہ بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ (آل عمران 3 : 2) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر 39 : 2) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران 3 : 20) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ فرمایا (آیت) ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم 30 : 1) ” اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ (آیت) ” ولن تخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج 22 : 6) ” اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ ۔ “ (آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : 2 : 80) ” پس اللہ تعالیٰ اپنے قول وقرار کے خلاف نہ کرے گا۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ 9 : 14) ” اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ “
بعض لوگوں کو اس سے بڑی چڑ ہے کہ اللہ کو وعدہ کا پکا کہا جائے اور یہ بتایا جائے کہ اللہ کبھی اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ہونے دیتا ہے اس لئے کہ وہ سب زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے اور وعدہ خلافی ایک کمزوری ہے جو کمزور ہی سے سرزد ہو سکتی ہے اور جن لوگوں کو چڑ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ طاقتور کی نشانی ہی یہ ہے کہ اس کا وعدہ کوئی وعدہ نہیں ہوتا اور اس کی جو مرضی میں آئے کر گزرتا ہے دراصل وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ان دنیا کے طاقتوروں اور بادشاہوں پر قیاس کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ شاید طاقتور کسی ضابطہ کا پابند نہیں ہوتا قصور انکی سمجھ کا ہے لیکن وہ کبھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ اور وہ دوسرے لوگوں کے نظریہ کی تو خیر پرواہ نہ بھی کرتے ان آیات کریمات پر بھی غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اپنی رٹ لگائے جاتے ہیں اور بار بار ییہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے کہ اللہ نے یہ فرمایا ہے لیکن وہ باوجود اس طرح فرمانے کے لازم نہیں کہ اپنے وعدہ کا پابند ہو ۔ ان کو لاکھ سمجھاؤ کہ میاں اس کو وعدہ کا کسی دوسرے نے پابند نہیں کرایا اور نہ کسی دوسرے نے اس سے وعدہ لیا ہے وہ اپنا وعدہ کرنے میں مختار کل تھا اس نے اپنی مرضی سے وعدہ کیا ہے اور اپنی مرضی ہی سے یہ اعلان فرمایا ہے جیسا کہ ان آیات کریمات میں آپ پڑھ چکے لیکن وہ اتنے ڈھیٹ ہیں کہ ان پر کوئی بات اثر انداز نہیں ہوتی اور وہ ایک ہی رٹ لگائے جاتے ہیں ۔
بہرحال زیر نظر آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا ہے اور اپنے وعدہ کا پکا ہے اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول وقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ، عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار ہی کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاقی معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا ‘ شرعا ‘ قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی ‘ قانونی ‘ اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اس لئے قرآن کریم میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے ایک جگہ اصل نیکی کے اوصاف کے تذکرہ میں فرمایا (آیت) ” والموفون بعھدھم اذا عاھدوا “۔ (البقرہ : 2 : 177) ” اپنی بات کے پکے ہوتے ہیں جب قول وقرار کرلیتے ہیں تو اسے پورا کرکے رہتے ہیں ۔ ‘ ؓ
مختصر یہ کہ تمام عہدوں میں سب سے پہلے انسان پر اس عہد کو پورا کرنا واجب ہے جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے یہ عہد ایک تو وہ فطری ہے جو اللہ کا نام لے کر کسی بیعت اور اقرار کی صورت میں کیا گیا اور تیسرا وہ عہد ہے جو عام طور سے قول وقرار کی شکل میں بندوں میں آپس میں ہوا کرتا ہے اور چوتھا عہد وہ ہے جو اہل حقوق کے درمیان فطرتا قائم ہے اور جن کے ادا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور تفصیل اس کی بہت لمبی ہے ۔
قرآن کریم میں قریب قریب اس عہد کے معنی میں دو اور لفظ بھی استعمال ہوئے ہیں ایک کو (عقد) کا نام دیا گیا ہے اور دوسرے کو (الایمان) کا ، زیر نظر آیت میں فرمایا کہ (آیت) ” لا تنقضوا ال ایمان “۔ ” اپنی قسموں کو مت توڑو “ اور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا گیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا افوا بالعقود “۔ (المائدہ 5 : 1) ” اے ایمان والو ! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ “ (عقد) کے لفظی معنی گرہ اور گرہ لگانے کے ہیں اور اس سے مقصود لین دین اور معاملات کی باہمی پابندیوں کی گرہ ہے اور اصطلاح شرعی میں یہ لفظ معاملات کی ہر قسم کو شامل ہے ہاں عقد کا تعلق صرف معاملات سے ہے اور عہد کا لفظ اس سے بہت زیادہ عام ہے یہاں تک کہ تعلقات کو اس ہمواری کے ساتھ قائم رکھنا بھی جس کی توقع ایک دوسرے سے ایک دو فعہ ملنے جلنے سے ہوجاتی ہے حسن عہد میں داخل ہے ۔
حدیث میں ہے کہ ایک بڑھیا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ ﷺ نے اس سے کہا کہ تم کیسی ہو ؟ تمہارا کیا حال ہے ؟ ہمارے بعد تمہارا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا اچھا حال رہا ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ ؓ نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ نے اس بڑھیا کی طرف اس قدر توجہ فرمائی ؟ فرمایا عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) یہ خدیجہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے زمانہ میں ہمارے یہاں آیا کرتی تھی اور ” حسن عہد “ ایمان سے ہے گویا آپ ﷺ نے ملنے جلنے والوں سے حسب توقع یکساں سلوک قائم رکھنا ایمان کی نشانی قرار دیا ۔ اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد تو بحمد اللہ آج بھی بچہ بچہ کی زبان پر ہے کہ لادین لمن لاعھدلہ “۔ (احمد ‘ طبرانی ‘ ابن حبان) جس میں عہد نہیں اس میں دین نہیں ۔ مطلب کتنا صاف ہے کہ اس قول وقرار کو جو بندہ اللہ سے کرتا ہے پورا کرنا حق اللہ اور حق العباد کو ادا کرنا ہے جس کے مجموعہ کا نام دین ہے ، اب جو اس عہد کو پورا نہیں کرتا وہ دین کی روح سے محروم ہے بات بالکل صاف ہے ۔
زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ باہمی معاملات میں جو قسمیں کھائی جاتی ہیں ان کو پورا کرو اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ تم نے اس وقت اللہ تعالیٰ کو اپنے عہد و پیمان یا قسموں کا گواہ بنایا تھا تو یہ کتنی رذالت ہے کہ ایک چیز پر تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بناؤ اور پھر اس کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچاؤ ” حالانکہ تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بنایا ہے ۔ “ اور کفیل کا معنی گواہ ہے اور اس کا معنی نگہبان اور بعض نے ضامن بھی کیا ہے ۔ فرمایا ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو ۔ “ اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔
Ayah 16:92بدعہدی کی مثال بیان کی جاتی ہے کہ اس پر اچھی طرح غور کرو :
105۔ زیر نظر آیت کے اس حصہ میں بدعہدی کی مثال بیان کی جا رہی ہے کہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اس کی مثال ایسی ہے کہ جس نے بڑی جانفشانی سے سوت کا تا اور پھر خود ہی جھنجھلا کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے برباد کردیا یعنی جب ایک شخص یا ایک گروہ کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اس کی پختگی کے لئے بڑی بڑی باتیں کرتا ہے اور ہر طرح دوسرے فریق کو یقین دلاتا ہے پھر اگر ایک بات اتنی کوشش کے بعد پختہ کی گئی ہے تو کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ جس نے کل پختہ کی تھی وہ آج اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ کر رکھ دے ؟
تاریخ کا طالب علم اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے مشرک قبائل کا یہ دستور تھا کہ وہ ایک قبیلہ سے دوستی کا معاہدہ کرتے اس کے بعد اگر انہیں موقع ملتا تو کسی دوسرے قبیلہ سے جو قوت اور دولت میں پہلے قبیلہ سے فزوں تر ہوتا اس کے ساتھ معاہدہ کرتے خواہ یہ ان کا نیا دوست قبیلہ ان کے پہلے معاہد قبیلہ کا دشمن ہی کیوں نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرزندان اسلام کو اس اخلاقی گراوٹ اور عہد شکنی سے مجتنب رہنے کی ہدایت فرمائی کہ تم یہ روش اختیار نہ کرنا تم نے جو معاہدہ کیا ہے اس کو پورا نبھاؤ اور جو پیمان بھی باندھا ہے اس کو پورا کرو اس خیال سے کہ یہ نیا قبیلہ قوت اور دولت میں پہلے دوست قبیلہ سے زیادہ ہے اس لئے مصلحت کا تقاضا ہے کہ سابقہ معاہدہ کو بلاوجہ توڑ دیا جائے اور نیا معاہدہ اس قبیلہ سے کیا جائے ایسا کرنا تمہارے مقام سے بہت فروتر ہے تم تو مکارم اخلاق کے داعی بنا کر بھیجے گئے ہو اگر تم نے ایسی اخلاقی پستی کا ثبوت دیا تو لوگ مکارم اخلاق کا درس کس سے جا کرلیں گے ، سیرت کی پختگی اور اطوار کی پاکیزگی کا نمونہ انہیں کہاں دستیاب ہوگا یہ باتیں محمد رسول اللہ ﷺ سے کر کے دراصل آپ ﷺ کی امت کو سبق دیا جارہا ہے جیسا کہ کلام الہی کا اکثر وبیشتر ایسا ہی رخ چلتا ہے ، فرمایا اے مسلمانو ! اگر تم نے ایسا کیا تو تمہاری مثال بھی اس عورت کی سی ہوگی جو دن بھر سوت کا تتی رہتی ہے اور شام ہوتی ہے تو اس کو پارہ پارہ کردیتی ہے ، عہد شکنی کا ارتکاب کرکے جس حماقت کا تم ثبوت دو گے وہ اس عورت کی بیوقوفی سے ہرگز کم نہیں ہوگا ۔
ان باتوں سے تمہاری آزمائش کی جارہی ہے کہ تم کیا کرتے ہو ؟ :
106۔ ” اللہ اس معاملے میں تمہاری آزمائش کرتا ہے اور جن جن باتوں میں تمہارے اختلاف ہیں ضرور ایسا ہوگا کہ وہ قیامت کے دن تم پر اشکارا کر دے ۔ “ مطلب یہ کہ یہ فیصلہ تو قیامت ہی کے روز ہوگا کہ جن اختلافات کی بنا پر تمہارے درمیان کشمکش بپا ہے اس میں برسرحق کون ہے اور برسر باطل کون لیکن بہرحال خواہ کوئی سراسر حق پر ہی کیوں نہ ہو اور اس کا حریف بالکل گمراہ اور باطل پرست ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے یہ کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے گمراہ حریف کے مقابلہ میں عہد شکنی اور کذب وافتراء اور مکروفریب کے ہتھیار استعمال کرے ۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو قیامت کے روز اللہ کے امتحان میں ناکام ثابت ہوگا کیونکہ حق پرستی صرف نظریئے اور مقصد ہی میں صداقت کا مطالبہ نہیں کرتی طریق کار اور ذرائع میں بھی صداقت ہی چاہتی ہے ، یہ بات خصوصیت کے ساتھ ان مذہبی گروہوں کی تنبیہ کے لئے فرمائی جا رہی ہے جو ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں اور اور آج بھی ہیں کہ ہم چونکہ اللہ میاں کے طرفدار ہیں اور ہمارا فریق مقابل اللہ تعالیٰ کا باغی ہے اس لئے ہمیں حق پہنچتا ہے اسے جس طریقہ سے بھی ممکن ہو زک پہنچائیں ، ہم پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ خدا کے باغیوں کے ساتھ معاملہ کرنے بھی صداقت ‘ امانت اور وفائے عہد کا لحاظ رکھیں ٹھیک یہی بات تھی جو عرب کے یہودی کہا کرتے تھے کہ (آیت) ” لیس علینا فی الامیین سبیل “۔ یعنی مشرکین عرب کے معاملہ میں ہم پر کوئی پابندی نہیں ہے ان سے ہر طرح کی خیانت کی جاسکتی ہے جس چال اور تدبیر سے بھی اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا بھلا ہو اور کافروں کو زک پہنچے وہ بالکل روا ہے اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ اور آج اس چیز نے مذہبی گروہ بندی کو پکا کردیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کافر اور مشرک کہہ کر اس قدر چھوٹ ہوچکے ہیں کہ اب کسی ضابطہ حیات کے وہ پابند نہیں ۔ غور کرو گے تو یقینا اس نتیجہ پر تم بھی پہنچو گے اگر غور کرنا تم کفر نہیں سمجھتے ۔
Ayah 16:93اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو مجبور کرکے ایک امت بنا دیا :
107۔ انسان کے متعلق مشیت ایزدی کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ ایک حد تک اختیار دیا گیا ہے اور یہ اختیار اس کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کو وہ اختیار دیتا اور اس طرح سارے انسانوں کو وہ ایک امت بنا دیتا لیکن اس نے چاہا کہ وہ سارے انسانوں کو مجبور کرکے ایک امت بنائے بلکہ اس کی مشیت کا فیصلہ یہ ہوا کہ وہ انسان کو ایک حد تک اختیار دے کر آزاد رکھے تاکہ وہ جس راہ کو چاہے من حیث العقل وفکر اختیار کرے تاکہ وہ اپنے کئے کے لئے جواب دہ ہو سکے یہ گویا مذہبی کش مکش بپا رکھنے والوں کو ہدایت دی جارہی ہے کہ تم نے یہ کش مکش کیوں بنا رکھی ہے اور آپس میں یہ الجھاؤ کیوں بنا رکھا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو لوگوں سے یہ مذہبی اختیار چھین لیتا اور چار وناچار سارے انسان ایک امت اور ایک مذہب کے پیروکار ہوتے جیسے سارے حیوانات ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے طرفداروں کی اور ان کے ذلیل ہتھکنڈوں کی جو وہ اللہ کے لئے بزعم خویش استعمال کر رہے ہیں قطعا حاجت نہ تھی یہ کام تو وہ خود اپنی تخلیقی طاقت سے کرسکتا تھا اس لئے ان ذلیل ہتھکنڈوں کو استعمال کو استعمال کرنے والوں کا یہ دعوی باطل ہے کہ وہ اپنے دین کے ہاں اصل کسی کو ان ہتھکنڈوں کی اجازت مرحمت فرما دے جیسا کہ یہ مذہبی ٹھیکہ دار بداعتدالیاں کر رہے ہیں ۔ اللہ کے ہاں اصل چیز دیانت وامانت اور سچی اور صاف وسیدھی بات ہے جس میں کسی طرح کا ایچ پیچ نہ ہو اور ان بداعتدالیوں کو وہ ہرگز ہرگز پسند نہیں کرتا جو لوگ مذہب وملت کے نام پر کر رہے ہیں ، اس نے ہدایت اور گمراہی کے لئے ایک قانون مقرر کردیا ہے اور جو ہدایت پاتا ہے وہ اس قانون کے تحت پاتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے وہ بھی اس کے قانون کے تحت گمراہ ہوتا ہے اس لئے وہ یقینا انسانوں سے ان کے اعمال کے متعلق سوال کرے گا کہ انہوں نے جو راہ اختیار کی وہ کیسے کی ؟ مطلب مزید صاف اور واضح ہوگیا کہ انسان کو اختیار وانتخاب کی آزادی اللہ نے خود دی ہے اس لئے انسانوں کی راہیں دنیا میں مختلف ہیں کوئی گمراہی کی طرف جانا چاہتا ہے تو اللہ اس کے لئے گمراہی کے اسباب ہموار کردیتا ہے اور کوئی راہ راست کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ہدایت کا سامان پیدا کردیتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جو ئندہ یا بندہ ہوتا ہے اور جو تلاش کرتا ہے وہ پا لیتا ہے ۔
Ayah 16:94اپنی قسموں کو مکروفریب کا ذریعہ مت بناؤ تمہارے قدم ڈگمگا جائیں گے :
108۔ ” قسموں کو آپس میں ایک دوسرے کو فریب دینے کا ذریعہ نہ بناؤ ۔ “ ایک بار پھر تاکیدا عہد شکنی اور دوستوں سے عذر اور دھوکا بازی سے روکا جا رہا ہے نیز عہد شکنی پر جو برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی طرف بھی ملت اسلامہ کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ اگر تم نے عہد شکنی پر جو برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی طرف بھی ملت اسلامیہ کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ اگر تم نے عہد شکنی کی تو اس طرح دوسرے لوگوں کو بھی عہد شکنی کا بہانہ مل جائے گا ۔ نیز جب تمہارے عہد شکنی کا پردہ چاک ہوگا تو تمہاری اس حرکت کو دیکھ کر لوگ اسلام سے بدظن ہوجائیں گے اور ان کا یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ جب اس دین کے پہلے ماننے والے ایسی خسیس حرکتیں کرتے ہیں تو ایسے دین کو دور سے ہی سات سلام ، علاوہ ازیں دنیا میں بھی تمہارا بھرم کھل جائے گا اور تمہارے قول وقرار پر کسی کو اعتماد نہیں رہے گا جس طرح تم اپنے معاملات اور معاہدات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہو تمہارے دوست بھی تمہارے ساتھ مخلصانہ برتاؤ نہیں کریں گے ۔ یہ ساری خرابیاں جو تمہاری عہد شکنی پر مرتب ہوں گی ان کے تم ذمہ دار ہو گے اور تمہیں اس کی سزا بھگتنی ہوگی ۔ قرآن کریم کی یہ تعلامٔت کتنی واضح ہیں وہ اپنے ماننے والوں کو معاہدہ کی ہر قیمت پر پابندی کا کتنا صاف حکم دے رہا ہے اور کتنی خوبی سے ان برے نتائج کی نشاندہی فرمائی جارہی ہے جو ایک مسلمان کی عہد شکنی پر مرتب ہوتے ہیں ۔ اگر ہم حقیقت پسند بننا گوارا کریں اور حالات کا صحیح جائزہ لینے کی ہمت بھی رکھتے ہوں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ تبلیغ اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری اپنی بداعمالیاں ہیں ورنہ اس دور میں جب کہ آمدو رفت کے ذرائع آسان ہوگئے ہیں اور تبلیغ اشاعت کے وسائل سہل بھی ہیں اور ارزاں بھی تو نور اسلام سے وسیع علاقوں کے محروم رہنے کی اور کوئی عجہ نہیں ہو سکتی ۔
فکر کرنا چاہئے کہ مذہبی راہنماؤں اور بظاہر بڑے بڑے پاکباز لوگوں میں یہ عہد و پیمان کی پاسداری نہ کرنے اور ایک دوسرے کو فریب دینے کی بیماری قوم کے بڑے بڑے زعما میں کیوں ہے ؟ غور کریں گے تو اس کی صرف اور صرف ایک وجہ نظر آئے گی اور وہ ہے غلط تعلیم اور غلط تفہیم ۔ ایک قرآنی فکر کا داعی اور مذہب کا راہنما جب یہ دیکھتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) جو اللہ کے ایک نبی ورسول تھے اپنے بھائی کو ٹھہرانے کے لئے جس میں نہ کوئی مذہبی ضرورت تھی اور نہ ہی بنیامین کے واپس جانے سے کسی الہی حکم کی نافرمانی ہو رہی تھی تو انہوں نے اپنے بھائی بنیامین سے مشورہ کرکے یہ طے کرلیا تھا کہ اس طرح میں تیرے سامان میں ایک پیالہ رکھ دوں گا اور پھر میرے کارندے جب اس کو تلاش کریں گے اور نہ پائیں گے تو وہ تمہارے سامان کی تلاش لیں گے اور پھر جب آپ کے سامان سے وہ پیالہ درآمد ہوجائے گا تو آپ کو ملزم بنا کر روک لیا جائے گا ۔ یہی ایک صورت ہے آپ کو روک لینے کی لہذا اس طرح دونوں بھائیوں کے درمیان یہ بات طے پا جانے کے بعد ایسا ہی ہوا اور پھر اس پر مزید طرہ یہ کہ یہ اسکیم بھی براہ راست اللہ نے اپنے رسول کو سکھائی اور سمجھائی تھی تو وہ اپنی ساری بداعتدالیوں کو جو وہ جان بوجھ کر اور سمجھ سوچ کر کرتے ہیں اپنے دل کو مکمل تسکین دے لیتے ہیں کہ خیر ہی ہے اللہ میاں نے خود ہی تو یہ تعلیم فرمائی ہے تو آخر اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ ازیں بعد جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ جب وہ پیالہ بنیامین کے سامان سے اخذ کرلیا گیا اور یعقوب کے سارے بیٹوں نے سوائے بنیامین کے جب یہ درخواست پیش کی کہ اے عزیز مصر ہمارا باپ بوڑھا ہے اور اس سے پہلے وہ اپنے ایک بیٹے کے غم میں مغموم ہے لہذا ہم میں سے کسی ایک کو روک کر بنیامین کو واپس جانے کی اجازت مرحمت فرما دیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے ” معاذ اللہ “ اللہ کی پناہ کہ ہم ایسا کریں کہ جس سے ہمارا مال برآمد ہوا اس کے سوا دوسرے کو روک کر ہم تو ظالم ٹھہرے اور ہم ایسا ظلم کیوں کریں گے ؟ تو اس وقت بھی ان کا ضمیر مطمئن رہا کہ یہ سارا معاملہ تو انہوں نے خود بنایا اور اس طرح ایک اسکیم کے تحت بنیامین کو روکا گیا اور بھائیوں کے سامنے کس دھڑلے سے یہ بات فرما دی کہ اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم ٹھہرے تو ان مذہبی راہنماؤں کے لئے وہ ایک بہت بڑا سہارا ہے کہ مصلحت کے تحت کوئی حیلہ اختیار کرلینا جائز اور درست ہے جب وہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام) نے قسم کھائی تھی کہ میں صحت مند ہوجاؤں گا تو اپنی بیوی کو سو درے لگاؤں کا ہاں ! وہی بیوی جس نے نامساعد حالات میں بھی پوری طرح ساتھ دیا اور تن من دھن سب کچھ ایوب (علیہ السلام) پر قربان کردیا ۔ بہرحال ایوب (علیہ السلام) کو اللہ نے صحت عطا فرمائی تو اس صحت عطا کرنے والے اللہ نے ساتھ ہی ایک حیلہ بھی سکھا دیا کہ اے میرے رسول ! تو نے جو قسم کھالی تھی تو اب اس کا حل یہ ہے کہ تو بہاری اٹھا اور بیوی کو لگا دے لہذا اس میں ایک سو سے تنکے کم نہیں ہوں گے بلکہ زیادہ ہی ہوں گے جب تو نے وہ بہادری بیوی کو لگا دی تو گویا سو کوڑے لگا دیئے اور اس طرح تیری قسم بھی پوری ہوگئی اور تیری بیوی کو کوئی گزند بھی نہ پہنچی اس کو کہتے ہیں کہ سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی اور یہ حیلہ بھی ایک اللہ کے نبی اور رسول نے اختیار کیا اور اللہ نے خود ہی اپنے نبی ورسول کو یہ حیلہ سکھایا تو اس کا مطلب واضح ہے کہ ایسے حیلے شرعا کیوں جائز نہی ہوں گے لہذا ماشاء اللہ مذہبی راہنما تو وہ پہلے ہی ہیں اور علم ان کے پاس وافر مقدار میں موجود ہے قرآن کریم کے ایک ایک لفظ پر وہ بحث کرسکتے ہیں اور بڑی گہری نظر بھی وہ رکھتے ہیں اور اس ملک کے بڑے بڑے مذہبی مدارس کی سندیں بھی ان کے پاس موجود ہیں اور علم کے دریاؤں اور سمندروں سے علم بھی حاصل کرچکے ہیں اور تقوی وپرہیزگاری میں وہ اپنی مثال آپ ہیں لہذا ان کو اس طرح کے حیلے نکالنے اور بنانے میں کیا دیر لگے گی لہذا اس طرح جو ان کے جی میں آیا کریں گے اور اس کو جائز کرنے کے لئے ان کے پاس علم وتقوی کا ہتھیار بھی موجود ہے تو اب ان کو کوئی کیا سمجھائے گا اور وہ کون ہے جو ایسی گستاخی کرے گا اور اگر کوئی کرے گا بھی تو ان پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تو پوری قوم میں مانے ہوئے بزرگ اور تسلیم شدہ متقی ہیں اور جو انہوں نے کہا ہے اس پر وہ سند بھی رکھتے ہیں بغیر سند کے انہوں نے کچھ نہیں کیا یہ تو ایک دو باتیں میں نے پردہ اٹھانے کے لئے کہہ دیں ورنہ ان کے ہاں کیا کیا سند جواز موجود ہے اور کہاں کہاں سے انہوں نے یہ سندیں حاصل کی ہیں الحمد للہ کہ ہم پر سب روشن ہے ۔
بہرحال قرآن کریم کی زیر نظر آیت نے صاف صاف یہ بتا دیا کہ اگر تم نے فریب دہی ‘ عہد شکنی اور دیگر رذائل سے اپنی سیرت کا دامن آلودہ کرلیا تو یاد رکھو اشاعت دین کی راہ میں روڑے اٹکانے والے تم ہوگئے ہم نے تو یوسف (علیہ السلام) کا یہ حیلہ سکھایا تھا اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا حیلہ اختیار کیا تھا اور نہ ہی ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو کوئی ایسی بات سمجھائی تھی یہ بھی سارا تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے جو تم نے یا تمہارے پہلوں نے گھڑ لیا ہے ان سہاروں سے تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور جب وقت آئے گا تو اپنے سنگین جرم کے نتائج سے تمہیں دو چار ہونا ہی پڑے گا (آیت) ” وتذوقوا السوء “۔ کے الفاظ کتنے معنی خیز ہیں اور اگر آپ برا نہ مانیں تو آج ہم اس کوتاہی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور نہ معلوم کب تک بھگتتے رہیں گے اللہ ہم سب کو اور خصوصا ہمارے مذہبی ٹھیکہ داروں کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور ہم کو عقل وفکر سے کام لینے کی توفیق فراہم کردے تاکہ ہم وحی الہی کو پوری طرح سمجھ سکیں ‘ حاش اللہ قرآن کریم نے اور اللہ تعالیٰ کی ذات نے کبھی ایسے حیلے اور بہانے ہم کو نہیں سمجھائے اور بتائے یہ سب کچھ دراصل تحریف شدہ تورات سے ہمارے بزرگوں نے اخذ کر کے قرآن کریم کی تفسیر میں بھر دیا ہے اور آج اس کو ہم قرآن کی تفسیر سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف کسی میں ہمت نہیں کہ وہ آواز بلند کرسکے اگر کوئی بھول کر آواز نکال بھی بیٹھے گا تو چوطرفہ یلغار سے وہ اپنے آپ کو کیسے بچا سکے گا ؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی تکہ بوٹی کردی جائے گی کہ دیکھنے والے عبرت پکڑیں گے اور اس طرح دوبارہ کوئی کیسے ہمت کرے گا کہ زبان کھول سکے ۔
ترجمہ :
Ayah 16:95اللہ کے عہد کو دنیا کے مال کے بدلے مت بیچو ‘ اللہ سے طلب کرو :
109۔ یہاں تھوڑے سے مال اور تھوڑے سی قیمت سے مراد دنیا اور اس کے منافع ہیں وہ مقدار میں کتنے ہی بڑے ہوں آخرت کے منافع کے مقابلہ میں ساری دنیا اور اس کی ساری دولتیں بھی قلیل ہی ہیں جس نے آخرت کے بدلے میں دنیا لے لی اس نے انتہائی خسارہ کا سودا کیا کہ ہمیشہ رہنے والی اعلی ترین نعمت و دولت کو بہت جلد فنا ہونے والی گھٹیا قسم کی چیز کے عوض بیچ ڈالنا کوئی سمجھ بوجھ والا انسان گوارا نہیں کرسکتا ، یاد رکھو کہ جس کام کا پورا کرنا کسی شخص کے ذمہ واجب ہو وہ اللہ کا عہد ہے جو اس کے ذمہ لازم ہے اس کے پورا کرنے پر کسی سے معاوضہ لینا اور بغیر لئے نہ کرنا اللہ کا عہد توڑنا ہے اور اس آیت میں جوں جوں غور کرتے جاؤ گے بات واضح ہوتی جائے گی اور پھر اس کو اپنی ذات پر رکھ کر دیکھتے چلے جاؤ گے تو دل پکار پکار کر کہے گا کہ یہاں تو اللہ کا عہد توڑا اور للہ کا عہد بیچا جا رہا ہے اور پھر دل کی گواہی پر انحصار رکھ کر اپنی اصلاح کرو گے تو تمہاری زندگی میں زمین و آسمان کا فرق نمایاں ہوگا بشرطیکہ تم نے قرآن ہی سے کوئی حیلہ تلاش نہ کرلیا کیونکہ قرآن کریم خود تو نہیں بولے گا کہ بھائی میرے ساتھ کیا کر رہے ہو میں کوئی حیلوں اور بہانوں کی کتاب تو نہیں ۔ فرمایا مال کی طلب ہے تو اللہ سے مال طلب کرو اور اللہ طلب کرنے کا مطلب جائز طریقوں سے مال کمانا اور خرچ کرنا ہے مراد ہے لیکن رشوت خور خواہ وہ دنیوی رشوت خور ہوں ‘ دینی رشوت خور ہوں ان کو بتایا جارہا ہے کہ جن فوائد ومنافع کے پیش نظر تم عہد شکنی کر رہے ہو اور آیات الہی کو بیچ رہے ہو تمہاری نظر میں بڑے ہی اہم کیوں نہ ہوں اللہ کے نزدیک وہ فوائد ومنافع تمہارے قول وقرار کی بہت ہی گھٹیا قیمت ہیں اور اتنی سستی قیمت پر مومن کو اپنا قول وقرار بیچتے ہوئے شرم آنی چاہئے اس آیت میں ان حکام اور عدالت کی کرسی پر بیٹھنے والوں کو بھی تنبیہ کہ تم نے یہ منصب سنبھالتے ہوئے عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا عہد کیا تھا اور اس طرح مذہبی راہنماؤں کو بتایا گیا اور یاد دلایا گیا کہ تم نے اس مسند پر بیٹھتے وقت ایک عہد اللہ سے کیا تھا اور وہ اللہ کا عہد ہی اللہ کی قسم تھی تم اس کو سراسر پس پشت ڈال کر من مانیاں کر رہے ہو اور اپنے علم کے زور پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر رہے ہو کیا تمہیں یہ سودا منظور ہے ؟ پھر کیا ہی گھٹیا سودا ہے جو تم نے اپنی جانوں سے کیا ہے ۔