Ayah 16:49آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا سب رب کریم کے آگے سربسجود ہے :
57۔ اس آیت نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ قرآن کریم کے نزدیک اتباع حق کی حقیقت کیا ہے ؟ فرمایا کائنات ہستی میں جس قدر مخلوق ہے سب اللہ کے احکام وقوانین کے آگے جھکی ہوئی ہے ، اجرام سماویہ سے لے کر درختوں اور پتھروں تک کوئی چیز نہیں جس کے لئے اس نے احکام وقوانین نہ ٹھہرا دیئے ہوں اور ان کے مطابق ان کی ہستی کا کارخانہ نہ چل رہا ہو پھر اگر یہاں درخت کے ایک پتہ اور پہاڑ کی ایک چٹان کے لئے بھی کسی کے ٹھہرائے ہوئے احکام ہیں تو کیا انسان کے لئے نہیں ہوں گے جو کرہ ارض کے تمام سلسلہ خلقت کا ماحصل اور تمام کارخانہ تخلیق وتکمیل کا آفرین مظہر ہے ؟ اور اگر سب کی ہستی وبقا اس پر موقوف ہوئی کہ احکام حق کے آگے سربسجود ہیں تو کیا انسان کی ہستی وسعادت کے لئے ایسا ہونا ضروری نہیں ؟
اس آیت کے اسلوب بیان پر غور کرو کہ انسان کو مخلوقات ہستی کی عام صف سے الگ کھڑا نہیں کیا بلکہ ایک ہی سلسلہ میں سب کا ذکر کیا ‘ اس جگہ فرمایا ہے کہ (آیت) ” وللہ یسجد ما فی السموت وما فی الارض من دآبۃ “۔ آسمانوں میں جتنی چیزیں ہیں اور زمین میں جتنے جانور ہیں سب اللہ کے آگے سربسجود ہیں۔ “ اور دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا کہ (آیت) ” الم تران اللہ یسجدلہ من فی السموات ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجر والدوآب وکثیر من الناس “۔ (الحج 22 : 18) ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو کوئی بھی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی بھی زمین میں ہے نیز سورج ‘ چاند ‘ ستارے پہاڑ ‘ درخت اور چارپائے سب اللہ کے آگے سربسجود ہیں اور کتنے ہی انسان بھی ؟ “ اور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا وظللھم بالغدو والاصال “۔ (الرعد 13 : 15) ” اور آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے اللہ ہی کے آگے سجدہ میں گرا ہوا ہے خوشی سے ہو یا مجبوری سے اور دیکھو ان کے سایے صبح وشام (کس طرح گھٹتے بڑھتے ہیں) “ اور زیر نظر آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ ” اور فرشتے کہ وہ کبھی بھی سرکشی نہیں کرتے ۔ “ گویا اس پر بتا دیا کہ ملک یعنی فرشتہ اس طاقت وقوت کا نام ہے جس میں فرمانبرداری ہی فرمانبرداری ہے ، سرکشی کا اس میں نام ونشان تک نہیں کیونکہ صاحب ارادہ تو وہ ہے نہیں اور نہ ہی وہ مکلف ہے لہذا اس قوت کا نام ہے جو فرمانبرداری اور حکم کے بجا لانے میں ممدومعاون ہوتی ہے اور سرکشی نام کی کوئی شے اس میں نہیں ہے اور پھر مزید وضاحت آنے والی آیت میں بھی کردی گئی ۔
Ayah 16:50وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور اس کے حکم کے پابند ہیں ۔
58۔ فرشتوں کی طاقت وقوت اور ماہیت بیان کرتے ہوئے اس طرح ان کی تعریف کی کہ شرک کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں ، مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور ان کا تخیل یہ تھا کہ معاشرہ کے اندر جس طرح بیٹی کی سفارش ساری سفارشوں سے بڑی تسلیم کی گئی ہے اس لئے فرشتے اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کے متعلق یہ بیان جاری کیا گیا کہ جو شخص ان طاقتوں اور قوتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کو اللہ کے سامنے سفارش کے لئے پیش کرے اللہ ممکن نہیں کہ ان کی سفارش کو قبول نہ کرے لہذا انہوں نے اپنے خیال ہی خیال میں یہ طے کر کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے لیا اور پھر ان کے ساتھ یہ تخیل لگا دیا کہ انکی خوش کرنے سے خدا خوش ہوتا ہے اور انسانوں کے گناہ معاف کردیتا ہے ، اسلام نے آکر ان کو بتایا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں نہیں بلکہ اللہ کی ایک مخلوق ہیں ، جس طرح کائنات کی اندر دوسری مخلوقات پائی جاتی ہیں اور انہی مخلوقات میں سے ایک مخلوق خود انسان بھی ہے فرق ہے تو یہ کہ انسان مکلف ہے اور صاحب ارادہ ہے اور فرشتے اس کی مخلوق ہیں جو اس کے حکم کے پابند اور اس کے فرمانبردار ہیں ان میں نافرمانی کی طاقت وقوت موجود ہی نہیں بلکہ وہ سراسر فرمانبرداری ہی فرمانبرداری ہیں ، تعجب ہے کہ اس مخلوق کے اس تعارف کے بعد جو اللہ تعالیٰ نے خود ہی کرایا ہے اس کو ماننے کے باوجود ہمارے علمائے کرام جس وقت چاہتے ہیں فرشتوں سے برائی کا ارتکاب کراتے اور ان سے وہ وہ کام کراتے ہیں جو ایک انسان کو بھی کرتے یا کراتے شرم محسوس ہوتی ہے مثلا یہ تیمح کرنا کہ اللہ نے دو فرشتوں کو جادو سکھانے کے لئے دنیا میں بھیج دیا اور وہ جادو سکھاتے سکھاتے ہی دو بدکار عورتوں پر عاشق ہوگئے اور ان سے بدکاری کے بعد آج تک سزا پا رہے ہیں اور قیامت تک سزا پائیں گے وغیرہ انا للہ وانا الیہ راجعون “۔
Ayah 16:51تفسیر :
دو معبود نہ بناؤ معبود ایک ہی ہے پس اسی سے ڈرو :
59۔ قرآن کریم جس طرح شرک کی اور ہر صورت کو مٹا رہا ہے اسی طرح ثنویت کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے اور دو خداؤں کی نفی سے تعداد کی نفی مطلوب ہے یعنی وہ ایک ہی ہے دو نہیں اور جب دو نہیں جو کثرت تعداد کا ادنی درجہ ہے تو اس سے زیادہ کیسے ہوسکتے ہیں اور پھر یہ بھی کہ توحید الہی کے کھلے اور روشن دلائل سن لینے کے بعد کسی دوسرے کو خدا سمجھنا انتہائی حماقت ہے جہ جائیکہ سینکڑوں معبود گھڑ لئے جائیں اور ان کی پوجا کی جائے ، اللہ تعالیٰ سے ڈرو کہ واقعی اس کی پکڑ بہت سخت ہے ، دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ ” اے پیغمبر اسلام “ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے ۔ “ (بنی اسرائیل 17 : 142) مطلب یہ ہے کہ اگر ایک سے زیادہ معبود ہوتے تو وہ سارے مالک عرش بننے کی کوشش کرتے اس لئے کہ چند ہستیوں کا خدائی میں شریک ہونا دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا یا تو وہ اپنی جگہ مستقل خدا ہوں یا ان میں سے ایک اصل خدا ہو اور باقی اسی کے بندے ہوں جنہیں اس نے کچھ خدائی اختیارات دے رکھے ہوں پہلی صورت میں یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ یہ سب آزاد ‘ خود مختار خدا ہمیشہ ہر معاملے میں ایک دوسرے کے ارادے سے موافقت کرکے اس اتھاہ کائنات کے نظم ونسق کو اتنی مکمل ہم آہنگی ‘ یکسانیت اور تناسب و توازن کے ساتھ چلا سکتے ناگزیر تھا کہ ان کے منصوبوں اور ارادوں میں قدم قدم پر تصادم ہوتا اور ایک اپنی خدائی دوسرے خداؤں کی موافقت کے بغیر چلتی نہ دیکھ کر یہ کوشش کرتا کہ وہ تنہا ساری کائنات کا مالک بن جائے رہی دوسری صورت تو بندے کا ظرف خدائی اختیارات تو درکنار خدائی کے ذرا سے وہم اور شائبے کا تحمل بھی نہیں کرسکتا ، اگر کہیں کسی مخلوق کی طرف ذرا سی خدائی بھی منتقل کردی جائے تو پھٹ پڑتا ‘ چند لمحوں کے لئے بھی بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوتا اور فورا ہی خداوند عالم بن جانے کی فکر شروع کردیتا اور پھر اس کا جو نتیجہ نکلتا وہ ظاہر ہی ہے کیا ہوتا ؟
ذرا غور کرو کہ جس کائنات میں گہیوں کا دانہ اور گھاس کا ایک تنکا بھی اس وقت تک پیدا نہ ہوتا ہو جب تک کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں مل کر اس کے لئے کام نہ کریں اس کے متعلق ایک انتہا درجے کا جاہل اور کند زہن آدمی ہی یہ تصور کرسکتا ہے کہ اس کی فرمانروائی ایک سے زیادہ خود مختار یا نیم خود مختار خدا کر رہے ہوں گے ورنہ جس نے کچھ بھی اس نظام کے مزاج اور طبیعت کو سمجھنے کی کوشش کی ہو وہ تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ خدائی بالکل ایک ہی کی ہے اور اس کے ساتھ کسی درجہ میں بھی کسی اور کے شریک ہونے کا قطعی امکان نہیں ہے ، اس لئے اس جگہ فرمایا کہ ” دیکھو دو دو معبود اپنے لئے نہ بناؤ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہی ایک معبود ہے تو وہ میں ہی ہوں پس صرف مجھ سے ڈرو۔ “
Ayah 16:52آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس ایک ہی کے لئے ہے :
60۔ شرک کی ساری حقیقت اس آیت میں کھول کر رکھ دی ، فرمایا یاد رکھو کہ شرک کی اصل بنیاد عموما اس غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے مشرک انسان یہ سمجھتا ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں اور فلاں فلاں ایسی ہیں جو مجھے نفع دے سکتی ہیں سو انہیں راضی رکھنے کے لئے ان کے آگے یون نذر ماننی چاہیے اور اس طرح بھینٹ چڑھانا چاہئے ، قرآن کریم نے اس نظریہ پر کاری ضرب لگائی اور ان کو کھلے الفاظ میں بتا دیا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور خالصتا اس کا دین ساری کائنات میں چل رہا ہے ، دوسرے الفاظ میں اس کی اطاعت پر اس پورے کارخانہ ہستی کا نظام قائم ہے پھر کیا اللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور کا ڈر اختیار کرو گے اور دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ اللہ کے بجائے کسی اور کا خوف اور کسی اور کی ناراضگی سے بچنے کا جذبہ تمہارے نظام کی بنیاد بنے گا ؟ حالانکہ ہرچیز اس کی مخلوق ہے اور اس کی مملوک ہے اس کا شریک تو وہ ہو جس کو اس نے پیدا نہ کیا ہو اس کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو اس کا شریک ٹھہرانا اور اس کا مدمقابل ماننا الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہے ، حالانکہ تابعداری اور اطاعت اس کی لازم وضروری ہے ، اس جگہ دین سے مراد اطاعت واخلاص ہے ، (واصبا) ” وصب سے ہے جس کے معیو اور دائم کے ہیں مطلب یہ ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گویا یہ فطرت کی شہادت ہے کیونکہ دو آقاؤں کی فرمانبرداری ممکن نہیں ہے ۔
Ayah 16:53سب نعمتیں تو اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں اور تکلیفیں دور کرنے والا بھی وہی ہے :
61۔ نعمتوں میں سے جو کچھ تمہارے پاس ہے سب اللہ ہی کی طرف سے ہے اور جب بھی تم کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اس کے آگے آہ وزاری کرتے ہو تاکہ وہ اس دکھ کو رفع کر دے ، اس جگہ اس حقیقت کو یاد دلایا ہے جس طرح کی نعمتیں بھی انسان کو حاصل ہیں ان کا سرچشمہ ذات خداوندی ہی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو خود بھی اس کا احساس ہے چناچہ اس پر جب بھی کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ بےساختہ اللہ ہی کو یاد کرنے لگتا ہے ، فطرت انسانی بھی بڑی عجیب چیز ہے کہ ذرا پھنس گئے تو خدا یاد آگیا اور پھر جب تک کام چلتا رہا کبھی بھول کر بھی خدا یاد نہ آیا اس طرح اس جگہ بیان کیا گیا ہے جن نعمتوں سے تم لطف اندوز ہو رہے ہو اور فائدہ اٹھا رہے ہو وہ تو ساری کی ساری اللہ تعاولیٰ نے عطا فرمائی ہیں چاہئے تو یہ تھا کہ تم ہر دم اس کا شکریہ ادا کرتے رہتے لیکن تم الٹے اکڑ جاتے ہو اور نافرمان بن جاتے ہو تو وہ کبھی یاد نہیں آیا جب تک کہ تم دوبارہ کسی مسئلہ میں پھنس نہ گئے گویا جب تم کو چاروں طرف سے مصیبتیں گھیر لیتی ہیں تو ہر طرف سے مایوس ہو کر اللہ ہی کے پاس گڑگڑانے لگتے ہو حالانکہ بات تو جب تھی کہ اب بھی تم اکڑے ہی رہتے اور ایسے وقت بھی تم اس کو یاد نہ کرتے (تجئرون) کے معنی ہیں تضرع وعاجزی کے ساتھ گڑگڑانے لگنا ، مطلب یہ ہے کہ جب تک تم کو کوئی دکھ اور مصیبت آ نہیں لیتی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کو بھولے بیٹھے رہتے ہو اور جب پکڑ لئے جاتے ہو تو اس وقت جزع وفزع کرنے لگتے ہو اور چیختے ہو گویا یہ حالت ہے فطرت انسانی کی کہ دکھ کے وقت وہ صرف ایک خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اور جب انعامات الہی کی بارش ہو رہی ہوتی ہے تو مست ہوجاتا ہے اور اللہ کو اس طرح بھول جاتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اس کو پکارا نہیں تھا ۔
Ayah 16:54جب وہ تمہارا دکھ کھول دیتا ہے تو تم اچانک شریک ٹھہرانا شروع کردیتے ہو :
62۔ تمہارے دکھوں کا مداوا کرنے والا کون ہے ؟ وہی اللہ ہی تو ہے جو تمہاری فریادوں کو قبول کرتا ہے اور تمہارے گڑگڑانے پر رحم فرما کر تمہاری مصیبتوں کو دور فرما دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو اور شریک ٹھہرانے لگتے ہو تم کو یاد ہی نہیں رہتا کہ ہم نے کبھی اپنے دکھوں اور مصیبتوں میں اس کو ۔۔۔۔ بلایا یا پکارا بھی تھا کتنی جلدی بھول جاتے ہو اور یادداشت کے کتنے کمزور ہو۔
Ayah 16:55انعامات الہی کی ناشکری کرتے ہو ‘ اچھا عنقریب تم جان لو گے :
63۔ حاصل کلام کیا ہوا ؟ یہی کہ اللہ کی ناشکری کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو دے رکھا ہے اس کو بہت جلد بھول جاتے ہیں حالانکہ رفع تکلیف سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے ، اچھا ؟ چند روز عیش اڑا لو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ تمہاری اس ناشکری کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ اس طرح گویا ان کو دھمکی دی جاری ہے اور کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے غائب کی جگہ اب مخاطب کا صیغہ استعمال فرمایا جا رہا ہے کہ نابکاروا احسان فراموشو ! چند روز مزے اڑا لو ! ابھی تم کو معلوم ہوجائے گا اور تم ہم سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔
Ayah 16:56جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں غیروں کا حصہ بھی مقرر کرنے لگتے ہیں :
64۔ مشرکین کی حالت یہ ہے کہ ہماری ان نعمتوں میں سے جو ہم نے ان کو دے رکھی ہیں ان معبودوں کا بھی حصہ لگاتے ہیں جن کے معبود ہونے ہی پر کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ، قرآن کریم میں ہر قسم کے شرک کی تردید کی جاتی ہے اور بار بار کی جاتی ہے گویا یہ اتنی ضرر رساں چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز ضرر رساں نہیں ہے ، شرک کا اصل ضرر کیا ہے ؟ شرک کا اصل ضرر یہ ہے کہ خدا سے انسان کو جس درجہ کا تعلق ‘ جس قسم کا عجزو نیاز ‘ جس مرتبہ کی محبت ‘ جس درجہ کی التجا درکار ہے اس کا رخ دوسری جانب بدل جاتا ہے ہزاروں ‘ لاکھوں آدمی ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ دیوتا کائنات اور زمین و آسمان کے خالق نہیں ہیں تاہم وہ ہر قسم کی حاجتیں اور مرادیں انہیں دیوتاؤں اور معبودوں سے مانگتے ہیں ‘ انہی کی حاجت روا جانتے ہیں اٹھتے بیٹھتے ان ہی کا نام لیتے ہیں ‘ انہیں پر نذر ونیاز چڑھاتے ہیں ، غرض براہ راست ان کا جو تعلق ہوتا ہے انہیں معبودوں سے ہوتا ہے خود مسلمانوں میں ہزاروں ‘ لاکھوں آدمیوں کا طرز عمل انبیاء وصلحاء بلکہ اولیائے کرام کے مزارات کی نسبت اس کے قریب قریب ہے اس بنا پر مقدم ترین امر یہ ہے کہ معبودوں کی نسبت اس قسم کا خیال نہ پیدا ہونے پائے بلکہ صاف صاف بتا دیا جائے کہ خدا کے آگے کسی کی کچھ نہیں چل سکتی اور اس کی مرضی میں کوئی بھی دست اندازی نہیں کرسکتا ، غور کرو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے اولوالعزم نبی ورسول ہیں انہوں نے اپنے باپ سے طلب مغفرت کا وعدہ کیا تو ساتھ ہی کہہ دیا کہ (آیت) ” وما املک لک میں اللہ من شیء “۔ (الممتحنہ 60 : 4) ” مجھے خدا کے سامنے آپ کی نسبت کوئی اختیار نہیں ۔ “ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنی والدہ کے لئے استغفار کی اجازت طلب کی تھی وہ نہیں ملی البتہ یہ درخواست قبول ہوئی کہ میں ان کی قبول کو دیکھ لوں (صحیح مسلم کتاب الجنائز)
قرآن کریم میں آیت اتری کہ (آیت) ” انذر عشیرتک الاقربین “۔ تو آپ ﷺ نے اپنے خاندان کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا اے قریشیو ! اے اولاد عبدالمطلب اے عباس ! اے صفیہ ! اے فاطمہ ! میرے مال میں سے جو مانگو میں دے سکتا ہوں لیکن خدا کے ہاں میں تمہارے لئے کچھ نہیں کرسکتا ۔ زیر نظر آیت میں واضح الفاظ میں فرما دیا کہ ” اور پھر دیکھو ہم نے رزق انہیں عطا کیا ہے اس میں یہ ان ہستیوں کا بھی حصہ ٹھہراتے ہیں جن کی حقیقت کی انہیں خبر نہیں حاش اللہ ! تم سے ضرور اس بارے میں باز پرس ہوگی کہ حقیقت کے خلاف کیسی کیسی افتراپردازیاں کرتے رہتے ہو۔ “
Ayah 16:57اللہ کے لئے انہوں نے بیٹیاں ٹھہرا رکھی ہیں حالانکہ وہ اولاد سے پاک ہے :
65۔ مشرکین عرب میں بھی یہ تخیل عام تھا اور خصوصا قریش کے قبیلہ خزاعہ اور کنانہ کے قبیلوں کا یہ اعتقاد تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ‘ ان کا یہ تخیل کیوں اور کیسے پیدا ہوگیا ؟ کفار ومشرکین کے ہاں داماد اور بیٹی کی سفارش ساری سفارشوں سے بڑی سمجھی جاتی تھی لہذا اس تخیل نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تصور کرلیا گیا کہ ان سے سفارش کا کام لیا جائے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی یعنی بیٹیوں کی سفارش قبول کرنے پر مجبور ہوگا فرمایا (سبحانہ) کہ اللہ اولاد سے پاک ہے اسے نہ بیٹے کی ضرورت ہے اور نہ بیٹی کی لیکن ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم کتنے ناسمجھ اور بےعقل ہو کہ اللہ کے لئے اولاد بناتے ہیں اور پھر اولاد میں سے بھی تم اللہ کے لئے بیٹیاں انتخاب کرتے ہو کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں ؟ اور یہ کس سند سے تم نے اخذ کرلیا ہے ذرا ہمیں بھی بتا دو کہ تمہاری دلیل کیا ہے ؟
Ayah 16:58ان کی حال یہ ہے کہ بیٹی کی خبر پا کر ان کا چہرہ اتر جاتا ہے :
66۔ وہ فرشتوں کو تو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے لیکن خود عورتوں کی جنس کے لئے ان کے تصورات کیا تھے ؟ یہ کہ زیادہ سے زیادہ ذلیل و حقیر مخلوق ہے ، جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تو اسے غم گینی اور بدنصیبی کی بات سمجھتا یہاں تک کہ بعض قبائل جنہیں اپنے نسلی شرف کا بڑا گھمنڈ تھا یعنی بیٹی کے باپ ہونے میں ایسی ذلت سمجھتے کہ اکثر حالتوں میں اسے خود اپنے ہاتھ سے زندہ گاڑ دیتے اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر ملتی تو مارے شرم کے لوگوں کے سامنے نہ آتا اور سوچنے لگتا کہ یہ ذلت گوارا کرکے بیٹی والا بن جائے یا اسے ایک باعزت آدمی کی طرف زندہ زمین میں گاڑ دے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکیوں کو زندہ دفن کردینا اپنی سوسائٹی میں باعزت ہونے کی نشانی سمجھتے تھے ۔ اس جگہ ایک طرف تو ان کے عقیدہ کی برائی دکھائی ہے کہ جس بات کو وہ خود اپنے لئے ذلت کی بات سمجھتے تھے اسے خدا کے لئے تجویز کرنے میں ان کو ذرا جھجھک بھی محسوس نہ ہوئی اور دوسری طرف اس گمراہی کا ابطال فرما دیا کہ عورت کی جنس کو جو مرد ہی کی طرح ایک انسانی جنس ہے ذلیل و حقیر سمجھتے تھے حتی کہ اپنی اولاد کو خود اپنے ہاتھوں قتل کردینے کے لئے آمادہ ہوجاتے تھے ، ایسا کیوں کرتے ؟ فرمایا اس لئے کہ جب ان کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو انکے چہرے اتر جاتے اور وہ قوم سے چھپتے پھرتے تھے اس ذلت کے باعث کہ ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوگئی ۔ فرمایا کہ یہ کفار کی تقسی میں ہیں اور غور کرو کہ کتنی ہی بری تقسیم ہے جو انہوں نے روا رکھی کہ جو چیز ان کے لئے باعث ذلت تھی اس کو خدا کے لئے باعث فخر ومباہات جانا حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی حاجت کہاں ہے وہ تو اولاد سے پاک ہے اس کو نہ بیٹوں کی ضرورت ہے نہ بیٹیوں کی کتنے ہی برے ہیں جو یہ لوگ فیصلے کرتے ہیں ۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ” کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ؟ اور حال یہ ہے جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی اولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے ۔ کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور وہ بحث وحجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی ؟ “ (الزخرف 43 : 17 ‘ 18)
Ayah 16:59بیٹی کی خبر سن کر لوگوں سے چھپتے پھرنا کتنی بڑی جہالت ہے :
67۔ مشرکین مکہ نے جن بتوں کے نام لات ‘ منات ‘ عزی وغیرہ رکھا تھا وہ کیا تھے ؟ اللہ کی نیک بندیاں ہی تو تھیں ، جب وہ اس دنیا سے اٹھالی گئیں تو انہوں نے ان کے بت بنا کر رکھ لئے اور ان کی پرستش کرتے ‘ کن کی ؟ ان بتوں کی ، نہیں وہ اس دانیا سے اٹھالی گئیں تو انہوں نے ان کے بت بنا کر رکھ لئے اور ان کی پرستش کرتے ‘ کن کی ؟ ان بتوں کی ۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ان لوگوں کی جن کے یہ بت بنائے گئے تھے ، ظاہر ہے کہ وہ عورتیں ہی تو تھیں پھر انہوں نے ان کی پرستش کیوں شروع کردی ؟ اس لئے کہ ان کے آباء و اجداد کے تخیل میں وہ اللہ کی بندیاں یا اس کی بیٹیاں ہی ہوں گی خواہ وہ انسانوں میں سے تھیں ‘ یا فرشتوں میں سے ‘ ان کا تعلق انہیں نے جوڑ رکھا تھا ، فرمایا یہ لوگ کیسے ہیں کہ ” انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمن کے خاص بندے ہیں عورتیں قرار دے لیا ہے ‘ کیا ان کے جسم کی ساخت انہوں نے دییھ ہے ؟ اچھا ان کی یہ گواہی لکھ لی گئی ہے اور انہیں اس کی جوابدہی کرنا ہوگی ۔ “ (الزخرف : 43 : 20)
ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینے والے اپنے پاس دو دلیلیں رکھتے تھے اور دونوں ہی من گھڑت تھیں ، دلیل تو وہ ہوتی ہے جس میں کوئی وزن ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو یا کم از کم اللہ کے کسی رسول کی طرف سے اور اس کو دلیل نقلی کہیں گے اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ ایسی دلیل ہو جس کو انسانی عقل قبول کرے اور اس کا کوئی عقلی جواب موجود نہ ہو اور اس کو عقلی جواب موجود نہ ہو اور اس کو عقلی دلیل کے نام سے بیان کیا جاتا ہے اب ان کی دلیل سنو وہ کہتے تھے کہ ” اگر خدائے رحمن نہ چاہتا کہ ہم ان کی عبادت کریں تو ہم کبھی ان کو پوجتے ؟ “ (الزخرف 43 : 20) اور اس کا جواب ان کو نقد بنقد خود اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے رسول کے ذریعہ سے سنا دیا کہ ” یہ اس معاملہ کی حقیقت کو قطعا نہیں جانتے محض تیرت کے لڑاتے ہیں۔ “ (الزخرف : 43) غور کرو کہ جو جواب انہوں نے دیا اس کا تو صاف مطلب یہ بنتا ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ کوئی کرتا ہے خواہ وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو میں نہ کرتا کیا میں اس سے زیادہ زور آور ہوں کہ میں نے اس کی مرضی کے خلاف کیا ہے ۔ چناچہ خود اللہ نے ان سے یہ بات فرما دی کہ ایسے تیر تکے نہ چلاؤ کوئی علم کی بات کرو ” کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی جس کی سند کے تحت یہ لوگ ملائکہ پرستی کرتے اور ان کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں ؟ “ (الزخرف 43 : 21) نہیں اور ہرگز نہیں یعنی کوئی نقلی دلیل تو ان کے پاس نہیں ہاں ! ان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ ” ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسے کرتے پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم پر چل رہے ۔ “ (الزخرف : 43 : 22) اور یہ دلیل ان کی پہلی دلیل سے بھی گئی گزری ہے غور کرو کہ چور ‘ ڈاکو ‘ زانی ‘ شرابی اور قاتل سے اگر پوچھا جائے کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو اس کا صرف یہ کہہ دینا کہ میں نے چوری اس لئے کی ہے کہ اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے دیکھا ہے وقس علی ہذا تو کیا یہ دلیل اس کی دلیل ہوگی حالانکہ اتنی بات تو آپ کو بھی تسلیم ہے کہ چوریاں ‘ ڈاکے ‘ زنا ہوتے چلے آتے ہیں اور لوگ شراب پیتے رہے اور لوگوں کو قتل کرنے والے بھی بہرحال قتل کرتے ہی رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس دلیل کو کوئی دلیل نہیں کہہ سکتا ۔ اس مضمون کو پیچھے سورة الانعام آیت 107 ‘ 112 ‘ 137 ‘ 148 ‘ 149 جلد سوم تفسیر ” عروۃ الوثقی “ میں بڑی تفصیل سے بیان کردیا گیا ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 16:60آخرت پر یقین نہ رکھنے والے اسی طرح الٹی سیدھی باتیں بناتیں بناتے ہیں :
68۔ جن لوگوں کا آخرت پر یقین نہیں ہوتا تو وہ اسی طرح کی من گھڑت باتیں کرتے آئے ہیں ‘ کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ دراصل ان کے پاس کوئی مستقل اور ٹھوس نظریہ تو موجود نہیں اس لئے جو ان کے منہ در آتا ہے کہہ دیتے ہیں ۔ اللہ کے لئے اولاد قرار دینا اور پھر وہ بھی لڑکیاں کیوں ؟ اس لئے کہ فرشتوں میں کوئی توالد وتناسل تو ہے نہیں کہ وہ انسانوں کی طرح پیدا ہوتے اور مرتے ہوں اور ساری قومیں آج تک ان طاقتوں اور قوتوں کو مانتی آئی ہیں اور وہ اتنے قرار دیتے ہو تو وہ فورا بول اٹھیں گے کہ اچھا وہ اللہ کی لڑکیاں نہیں تو پھر کیا ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تم فرشتوں کو مانتے ہو لیکن نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا ہیں ؟ اسی طرح ہم بھی فرشتوں کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی لڑکیاں ہیں اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہمارے آباء و اجداد ایسے ہی کہتے آئے ہیں ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اولاد سے پاک ہے خواہ وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے اس لئے کہ فانی اجسام کو اپنی نسل واولاد کی ضرورت ہوتی ہے اللہ کو جب فنا ہی نہیں تو اس کو اولاد کی آخر ضرورت کیا ہے ؟ اور اللہ کے لئے ان بری مثالوں کی ضرورت کیا ہے ؟ حالانکہ وہ تو اعلی اور بلند صفات کا مالک ہے اور جو کچھ اس کائنات میں ہے سب اسی کا پیدا کیا ہوا ہے وہ سب پر غالب اور حکیم کل ہے ۔
یہ توالد وتناسل کا سلسلہ جہاں بھی ہے اس کی علت یہ ہے کہ افراد فانی ہوتے ہیں اور ان کی جنس باقی رہنے کے لئے ناگزیر ہوتا ہے ان سے اولاد پیدا ہو جس سے ان کی نسل آگے چلے ۔ پس اللہ کے لئے اولاد فرض کرنے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ بذات خود معاذ اللہ فانی ہو اور باقی رہنے والی چیز خداؤں کی نسل ہو نہ کہ ذات خدا۔ نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ تمام فانی افراد کی طرح نعوذ باللہ خدا کی بھی کوئی ابتداء اور انتہا ہو کیونکہ توالد وتناسل پر جن اجناس کی بقا کا انحصار ہے انکے افراد نہ ازلی ہوتے ہیں نہ ابدی۔
پھر اولاد کا کوئی تصور اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ نر و مادہ میں اتصال ہو اور پھر کوئی مادہ باپ اور ماں کے جسم سے نکل کر ایک خاص مقام پر بچے کی شکل اختیار کرے ، پس اللہ کی اولاد فرض کرنے سے لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ وہ ایک مادی اور جسمانی وجود ہو اور اس کی ہم جنس کوئی اس کی بیوی ہو اور اس کے بطن سے پیدا ہونے والا جسم اس کی اولاد کہلائے ، اس لئے ضروری ہوا کہ جو لوگ اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں وہ اللہ کی بیوی کی بھی نشاندہی کریں کہ وہ کون ہے ؟ جب کہ یہ بھی لازم ہے کہ ہر جوڑا ایک دوسرے کی جنس میں سے ممکن ہے یا کم از کم قریب الجنس ہونا ضروری ہے ۔
جن کے ہاں حقیقی اولاد نہیں ہوتی ان کو متبنی بنانے کی ضرورت محض اس لئے پیش آتی ہے کہ ایک لاولد شخص اپنی زندگی میں کسی مددگار کا اور اپنی وفات کے بعد کسی وارث کا حاجت مند ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے لئے یہ فرض کرنا کہ اس نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اس ذات پاک کی طرف لازما وہی سب کمزوریاں منسوب کرنا ہیں جو فانی اشخاص میں پائی جاتی ہیں ۔ اور اس مضمون کی پوری وضاحت پیچھے سورة النساء 4 : 171 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور سورة الانعام کی آیت 100 ‘ 101 میں بھی اس کی تفصیل کی گئی ہے اور پھر سورة یونس کی آیت 68 میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
افسوس کہ اس آیت کا مطلب اکثر لوگوں نے نہیں سمجھا اس میں جو کچھ بیان کیا گیا اس کی تفصیل آگے اسی سورت کی آیت 74 میں آرہی ہے ، قرآن کریم اس سے نہیں روکتا کہ انسان خدا کے تصور کے لئے ایک بات دھیان میں لائے وہ کہتا ہے کہ وہ بات کیسی ہونی چاہئے ؟ انسان نے ہمیشہ اس جگہ ٹھوکر کھائی وہ اسے نہیں پاسکا ، وہ حسن و جمال کبریائی و کمال اور علو و عظمت کی بات تھی لیکن اس نے گمراہی فکر سے بری باتیں گری ہوئی باتیں ، ناروا باتیں گھڑ لیں یعنی ” مثل السوء “ سے کام لیا المثل الاعلی نہ پاسکا حالانکہ اللہ کے لئے جو بات ہوگی ” المثل الاعلی “ ہی ہوگی ” مثل السوء “ کی نہیں ہو سکتی اور ” مثل السوء “ کی صورت ہے جس کو اختیار کرتے ہوئے لوگوں نے اللہ کی اولاد تسلیم کی خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا جیسا کہ بعض نے فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیا اور بعض نے اللہ کے لئے اولاد ہی کے طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کو تسلیم کیا کہ وہ اللہ کے بیٹے تھے ۔
قرآن کریم نے دوسری جگہ (آیت) ” المثل الاعلی “۔ کا جمال حقیقت نمایاں کردیا جہاں اس نے یہ ارشاد فرمایا کہ : (آیت) ” وللہ الاسمآء الحسنی فادعوہ بھا وذروالذین یلحدون فی اسمآئہ سیجزون ما کانوا یعملون “۔ (الاعراف 7 : 18) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
(آیت) ” لہ الاسمآء الحسنی یسبح لہ ما فی السموت والارض وھو العزیز الحکیم “۔ (الحشر 59 : 24) ” اس کے لئے حسن و خوبی کی صفتیں ہیں اور آسمانوں میں اور زمین کی جتنی مخلوقات ہیں سب اس کی تسبیح کر رہی ہیں یعنی تمام کائنات ہستی ان صفتوں کی شہادت دے رہی ہے آسمان و زمین کی ہرچیز ان صفتوں کا اعتراف ہے ان صفتوں کی نمود ہے اس کی پاکیزگی وکبریائی کے اعلان تسبیح کی زبان ہے تقدیس کی پکار ہے ، گویا اس جگہ (آیت) ” مثل الاعلی “ سے مراد بھی وہی صفات ہیں وہ مثال نہیں جس سے اس سورت کی آیت 74 میں (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “ کہہ کر روکا گیا ہے کہ اللہ کے لئے مثالیں مت گھڑو اس لئے دونوں آیتوں میں کوئی تناقض نہیں ہے بلکہ پوری وضاحت موجود ہے ۔ تفصیل حاشیہ 85 میں دیکھیں ۔
Ayah 16:61اللہ تعالیٰ اگر ان لوگوں کو فورا پکڑ لیتا تو آج تک ان کا قصہ پاک ہوگیا ہوتا :
69۔ (دابہ) کا لفظ قرآن کریم میں 14 بار آیا ہے اور اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ دابہ : اسم لکل حیوان ذکرا کان انشی عاقلا اوغیر عاقل ‘ وغلب علی غیر عاقل ‘۔ (دابہ) کا لفظ اسم ہے ہر ایک جانور کا وہ مذکر ہو یا مؤنث ‘ عاقل ہو یا غیر عاقل ، ناطق ہو یا غیر ناطق اور زیادہ تر غیر ناطق اور غیر عاقل پر استعمال ہوتا ہے ۔ (دابہ) میں ۃ واحد کی ہے اور اس کی جمع دواب ہے ، پاؤں پرچلنے والا ، رینگنے والا ، اور عرف عام میں یہ لفظ گھوڑے کے لئے بولا جاتا ہے اور قرآن کریم میں (دابہ الارض) ایک خاص جانور پر بھی بولا گیا ہے جس کی تشریح احادیث میں آئی ہے کہ وہ کیا ہے ؟ اس کا ذکر انشاء اللہ العزیز سورة النحل میں آئے گا ۔ اس سورة النحل کی آیت 49 میں بھی یہ لفظ گزرچکا ہے جس سے ہر طرح کے جاندار مراد ہیں جیسا کہ پیچھے گزر چکا کہ زیر نظر آیت میں (دابہ) کا لفظ فقط انسان اور وہ بھی ان انسانوں پر بولا گیا ہے جو شرک کرنے والے یعنی مشرک ہیں ۔ فرمایا کہ اگر سنت اللہ یہ ہوتی کہ جب ہی کوئی انسان ظلم و زیادتی کرتا اس وقت اس کو پکڑ لیا جاتا اور قانون امہال نہ مقرر کیا جاتا تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا یہی کہ اس دنیا کا قصہ مدت کا پاک ہوگیا ہوتا ۔ برے لوگوں کو اگر ان کی برائی کرتے ہی پکڑ لیا جاتا تو برے لوگوں کا وجود اب تک کیسے ممکن تھا پھر اگر بروں کا وجود نہ رہتا تو کسی کے نیک ہونے کی کیا دلیل ہوتی کہ وہ نیک ہے کیونکہ اس دنیا میں ہرچیز کی پہچان تو اس کی ضد ہی سے ہے نیکی کی ضد کیا ہے ؟ برائی پھر جب برائی ہی ختم ہوجائے تو نیکی کا وجود کیسے ممکن ہے ؟ اور نیک وبدل کا تعلق کس سے ہے ؟ انسان سے لہذا اگر برے انسان کا وجود نہ رہتا تو نیک کا وجود مٹ گیا ہوتا نتیجتا انسان ہی کا خاتمہ ہوجاتا اور پھر انسان کا خاتمہ ہوجائے تو باقی ساری چیزوں میں سے کسی کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ۔
فرمایا لوگ جس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں عجلت سے کام لیتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ بھی اتنی ہی جلدی سے کام لیتا اور انکو گناہوں کی سزا نقد بنقد سنا دیتا تو آج زندگی کا نام ونشان بھی کہیں باقی نہ ہوتا اور یہ ساری دنیا اجاڑ اور ویران ہوجاتی لیکن وہ تو بڑا ہی کریم ہے کہ وہ ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے تم گناہ کرتے ہو تو وہ چشم پوشی کرتا ہے ، تم غلطیاں کرتے ہو اور وہ معاف فرماتا ہے اور اس کی عفو و درگزر کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ وہ مقررہ وقت آنہ جائے جو کسی قوم کے لئے مقرر کیا گیا ہے اس طرح قوموں کی زندگی سے آگے گزر کر ایک دن اس پوری کائنات کے درہم برہم ہونے کے لئے مقرر وطے ہے اور جب تک وہ آ نہیں جاتا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اور فرمایا جب تک یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی ساعت آ نہیں جاتی یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا ۔
مقررہ وقت جب آئے گا تو ایک پل بھر مہلت نہیں دی جائے گی :
70۔ تمہاری جلد بازی سے اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے نہیں بدلتا جب وہ وقت آئے گا جو اللہ کے ہاں طے ہے اور تمہاری موت یا عذاب کے لئے مقرر کیا گیا تو اس کو کوئی ماں کا لال روک نہیں سکے گا ، آیت کا یہ حصہ اس سے قبل چار پار گزر چکا ہے سورة الاعراف 7 کی آیت 34 میں بھی یہ بیان ہوا اور سورة یونس کی آیت 49 میں بھی اس کے بعد سورة الحجر کی آیت 25 اور آیت 24 میں گزر چکا اور پانچویں بار اس آیت میں بیان کیا گیا اور فرمایا کہ ” پھر جب وہ مقررہ وقت آپہنچاتو نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں نہ ایک گھڑی آگے جاسکتے ہیں ۔ “
فطرت کے قانون میں تاخیر وامہال لازم قرار پایا ہے اور اس کے علاوہ کام چل ہی نہیں سکتا ، آج اس ایٹمی دنیا میں یہ بات سمجھنا اور سمجھانا بالکل مشکل نہیں ، ایٹم چلتا ہے تو تباہی و بربادی لازم ہے لیکن یہ ایٹم کب تیار ہوا اور کب استعمال کیا گیا ؟ اگر اس میں تاخر وامہال نہ ہوتا تو کیا ایٹم تیار ہو سکتا تھا ؟ فطرت کے اس اصول کو سمجھنے کے لئے مثال سے سمجھنا زیادہ آسان ہوتا ہے غور کرو کہ فطرت کا یہ قانون ہے کہ اگر پانی آگ پر رکھا جائے تو وہ گرم ہو کر کھولنے لگے گا لیکن پانی کے گرم ہونے اور بالاخر کھولنے تک حرارت کی ایک خاص مقدار ضروری ہے اور اس کے ظہور وتکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ایک مقررہ وقت تک انتظار کیا جائے ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم پانی چولہے پر رکھو اور وہ فورا کھولنے لگے وہ یقینا کھولنے لگے گا لیکن اس وقت جب حرارت کی مقررہ مقدار بہ تدریج تکمیل تک پہنچ جائے گی ٹھیک اسی طرح یہاں انسانی اعمال کے نتایج بھی اپنے مقررہ اوقات ہی میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور ضروری ہے کہ جب تک اعمال کی اثرات ایک خاص مقررہ مقدار تک نہ پہنچ جائیں نتائج کے ظہور کا انتظار کیا جائے اور انتظار کا طریقہ بھی وہی اختیار کیا جائے جو جس مقدار کے لئے اللہ نے مقرر فرمایا ہے ، اس صورت حال سے تدریج وامہال کی حالت پید ہوگئی اور عمل حق اور عمل باطل دونوں کے نتائج کے ظہور کے لئے ” تاجیل “ یعنی ایک معین وقت کا ٹھہراؤ لازم وضروری ہوگیا ۔
Ayah 16:62اللہ کیلئے وہ باتیں ٹھہراتے ہیں جنہیں خود پسند نہیں کرتے اور جھوٹ انکی گھٹی میں پڑا ہے :
71۔ فرضی تقسیموں میں کیا ہوتا ہے ؟ جو کسی کے دل میں آیا وہ کہہ دیا ، یہی ڈھنگ مشرکین کا ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں بالکل فرضی باتیں بناتے ہیں کسی دلیل سے کوئی بات نہیں کرتے بزعم خویش بٹائی کرتے ہیں اور جو ردی اور خسیس چیز ہوتی ہے اس کو اللہ تعالیٰ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا حصہ ہے ایسا ہی انہوں نے یہاں بھی کیا ان کا ذہن لڑکیوں کو ردی تسلیم کرتا ہے اور لڑکوں کو کار آمد شے تصور کرتے ہیں اس لئے انہوں نے فرشتوں کو لڑکیاں تصور کرکے اللہ کے حصے میں ڈال دیا اور لڑکے ان کو پسند تھے اس لئے وہ اپنے لئے رکھ لئے لیکن جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوگئی اس نے اس کو زندہ درگور کردینا اپنی بہادری کا نشان سمجھا ، ان سارے مفروضوں کے لئے کیا ان کے پاس کوئی دلیل بھی موجود ہے ؟ یقینا نہیں ، پھر جو ان کے جی میں آتا ہے بیان کرتے رہتے ہیں ، منت مانیں گے تو اللہ کے نام کے ساتھ دوسروں کے نام بھی شامل کریں گے اللہ کے نام کوئی چیز دیں گے تو ساتھ اپنے پیروں ‘ بزرگوں اور ولیوں کے نام پر بھی دیں گے پھر ان کے جی میں آیا تو جو اللہ کے نام کی چیز ہے اس میں ردوبدل کرکے اچھی چیز بزرگوں کے لئے اور لاغر وکمزور چیز اللہ کے نام سے منسوب کریں گے اس طرح کی حماقتیں جو اکثر مشرک لوگ اس وقت بھی کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں سورة الانعام کی 130 سے 150 تک بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ، وہاں سے مطالعہ کریں۔
بھلائی ان کے لئے ہے یہ ان کا ایک گمان ہے حالانکہ وہ آگ کے مستحق ہیں :
72۔ وہ اس قدر چھوٹ ہے کہ ان کے دل قیامت کے نظریہ کو مطلق نہیں مانتے اور جو کچھ قیامت کے متعلق بیان کیا جاتا ہے وہ سنتے ہیں تو محض اس لئے کہ یہ انکا قومی نظریہ ہے اس لئے وہ خاموش رہتے ہیں اور اگر کوئی شرارتی ذہن طرح مصرح دے جائے تو بات کو فورا اٹھالیں گے اور خوب ہسنی و مذاق اڑائیں گے اور ان سے اور کچھ نہ ہو سکے تو وہ اس طرح کہیں گے کہ اگر بفرض محال نبی ورسول کی یہ بات سچی بھی ہوئی اور قیامت آبھی گئی تو جنت تو یقینا ہمارے ہی حصہ کی چیز ہے اس روز بھی یہ دوزخ کے سارے شعلے انہیں بےنواؤں کے لئے مخصوص ہوں گے جو آج جنت کے واحد ٹھیکہ دار بنے ہوئے ہیں ، ارشاد الہی ہوتا ہے کہ یہ کم بخت کھلا جھوٹ بول رہے ہیں ۔ (آیت) ” لا جرم ان لھم النار “۔ ” اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے لئے تو دوزخ کی آگ ہے ۔ “ مفرطون اس مفعول جمع مذکر افراط مصدر یعنی آگے بھیجے ہوئے آگے روانہ کئے جائیں گے یعنی ان کی یہ خوش فہمیاں ان کو وہاں کچھ بھی کام نہ دیں گے اور ان کی ہنسی اور مذاق انکے لئے مزید وبال بن جائے گا ۔
Ayah 16:63شیطان کا کام ہے کہ وہ ان کی بدعملیوں کو اچھائیوں کی صورت دکھاتا ہے :
73۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کوئی نئے رسول نہیں بھیجے گئے کہ آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول بھیجے گئے تھے اس لئے ہم آپ ﷺ کو بتا رہے ہیں کہ آج جو کچھ تیری قوم تجھ سے کر رہی ہے اور جو کچھ یہ لوگ بیا کر رہے ہیں ان سے پہلے لوگوں نے بالکل یہی کچھ کیا تھا شیطان نے ان کے اعمال بھی اچھے کر دکھائے تھے اور آج تمہاری قوم کے ساتھ بھی وہ وہی کچھ کر رہا ہے ان قوموں کو بھی ان کے اندر ہی کے شیطان نے سب کچھ سکھایا تھا اور آپ کے لوگوں کو بیھ ان کے اندر ہی کے شیطان نے ان باتوں پر اکسایا ہے اور وہ اس طرح کی باتیں بنا رہے ہیں جس طرح پہلے لوگ دنیا میں شیطان کے چیلے بنے رہے ہیں آج یہ لوگ بھی اس کے چیلے بنے ہوئے ہیں نہ انہوں نے اپنے خدا کو پہچانا اور نہ یہ لوگ پہچان رہے ہیں ، شیطان ہی ان کا دوست تھا اور آج یہ لوگ بھی اس کو یار بنائے ہوئے ہیں اور بلاشبہ ان کے لئے درد ناک عذاب تیار کھڑا ہے جس طرح اس نے پہلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا آج اسی طرح ان کو بھی اس نے لپیٹ میں لے رکھا ہے اگر برے اعمال کو یہ لوگ برے تصور کرتے تو آخر ان کے مرتکب کیوں ہوتے ؟ وہ ان اعمال کو کر رہے ہیں تو یقینا وہ ان کو برا نہیں سمجھتے تھے بلکہ یہ تو بہادری کے کام ان کو تصور کرتے ہیں اور ان کے اندر کے شیطان نے ایسی چاشنی لگائی ہے کہ ان سارے برے کاموں کو اس نے اچھا کردکھایا ہے اس لئے یہ لوگ انکو کبھی بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔
Ayah 16:64ان چیزوں کی اچھائی ‘ برائی سمجھانے کے لئے تو ہم نے آپ پر ” ال کتاب “ نازل کی ہے :
74۔ (الکتاب) سے مراد کیا ہے ؟ ” ال کتاب “ سے مراد قرآن کریم ہے اور قرآن کریم کے سوا کسی اور صحیفہ نے یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ مکمل ہے اور اس کے ذریعہ سے دین الہی اپنے تمام اصول و فروع ‘ مناسک ومناہج اور شرائع کے لحاظ سے تکمیل کو پہنچ گیا ہے بلکہ گزشتہ مذاہب میں سے ہر ایک نے اپنے وقت میں یہی کہا ہے کہ اس کے بعد ایک اور نبوت آئے گی جو اس کے کام کی تکمیل کرے گی جب کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : ” میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا ۔ “ (استثناء 18 : 19) اس سے معلوم ہوگیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کی مانند ایک اور نبی آنے والا تھا جس کے منہ میں اللہ تعالیٰ خود اپنا کلام ڈالے گا اس سے ثابت ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ایک اور صاحب شریعت نبی اللہ کے نئے کلام کے ساتھ آئے گا اور یہی بات عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کہی ” لیکن وہ فارقلیط (احمد) پاکیزگی کی روح ہے جسے باپ (خدا) میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھائے گا اور سب باتیں جو میں نے تم سے کہی ہیں تمہیں یاد دلائے گا ۔ “ (یوحنا 14 : 36) ” اور وہ فارقلیط (احمد) آکر دنیا کو دنیا کو گناہ سے راستی اور عدالت سے قصور وار ٹھہرائے گا گناہ اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے ۔ میری اور بھی باتیں ہیں کہ میں تم سے کہوں پر اب تم ان کو برداشت نہیں کہ سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کی روح آئے گی تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گا اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا اور کہے گا میری بزرگی کرے گا ۔ “ (یوحنا 16 : 8 تا 13) عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنے کلام کو ہنوز ناتمام ہی فرمایا اور ایک آئندہ آنے والے کا پتہ دیا جو اس کی تکمیل کرے گا اور آخر وہ نبی مکرم ﷺ آیا اور دعوی کی کہ میں موسیٰ کی مانند بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسمعیل میں آیا ہوں اور میرے منہ میں خدا نے اپنی بولی ڈالی ہے اور یہ دعوی کیا کہ میں ہی وہ سچائی کی روح ہوں جو مسیح کی اصل بڑائی ظاہر کرنے ‘ سچائی کی راہ بتانے اور مسیح کی ادھوری بات کو کامل کرنے کے لئے ہوں ۔ میں اپنی نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو اوپر سے سنتا ہوں اور آخر زمانہ نبوت کے ختم پر وحی الہی نے اس کی زبان سے یہ اعلان عام کیا کہ ” آج میں نے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کا دین پسند کیا ۔ “ (المائدہ : 5 : 2) تورات واناجیل کے ان حوالوں پر اچھی طرح غور کرو کہ وہ آنے والا رسول ونبی جس کی پیش گوئی کی گئی تھی وہ کون تھا ؟ ظاہر ہے کہ اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہی تھے اور وہی احمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور یہی وہ موعود رسول ہیں جن کی خوشخبری عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی اور اب کے بعد دوسرے آنے والی کی گنجائش کہاں رہ گئی جس کا انتظار اس وقت تک کیا جا رہا ہے ؟ اور اس انتظار کے پیش نظر ایک گروہ نے بار بار اس کو لانے کی کوشش کی اگرچہ ہر بار اس نے منہ کی کھائی اور جن 22 ‘ 23 لوگوں نے اپنے موعود ہونے کا دعوی کیا انکے دعوے سمیت انکو خاک کے سپرد کردیا گیا اور اس تئیسویں نے مہلت پائی وہ علمائے کرام کی غلط تعبیر کے باعث پائی اور انگریز نے اس کو ایک عرصہ تک آگے بڑھانے کی سرتوڑ کوشش کی اور آخر کار وہ اپنے وقت پر اپنے انجام کو پہنچ کر رہا اور اس میں کسی شخص کا بھی کوئی کمال نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی کا کمال ہے جو بےآواز گنی گئی ہے ، اشارہ ہم نے کردیا ہے تفصیل انشاء اللہ العزیز اس کی اپنے وقت پر آئے گی ۔
زیر نظر آیت میں (الکتاب) کے نزول کا مقصد بھی بیان کیا گیا ہے اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ جس بات میں اختلاف کر رہے ہیں اس کو واضح کردیا جائے اور یہ بات قرآن کریم نے جابجا کہی ہے کہ ہدایت وحی کا ظہور تبیین حقیقت اور رفع اختلاف کے لئے ہوتا ہے یعنی جن باتوں کو انسان اپنی عقل وادراک سے نہیں پا سکتا اور اس لئے طرح طرح کے اختلافات میں مبتلا ہوجاتا ہے کوئی کچھ سمجھنے لگتا ہے کوئی کچھ ‘ وحی الہی نمودار ہوتی ہے تاکہ ان اختلافات کو دور کر دے اور بتلا دے کہ اصل حقیقت کیا ہے چناچہ یہاں بھی آیت 64 میں قرآن کریم کے نزول کا ایک مقصد یہ بتلایا گیا ہے کہ (آیت) ” لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ “۔
یہ باتیں کونسی ہیں جن میں لوگ اختلاف کرتے ہیں اور جن کا اختلاف بغیر اس کے دور نہیں ہو سکتا کہ کتاب الہی آئے اور پردہ اٹھا دے ؟ وہ تمام باتیں جو انسان کے عقل وادراک کی سرحد سے ماورا ہیں ‘ اللہ کی صفات ‘ مرنے کے بعد زندگی ‘ عالم معاد کے احوال اور واردات ‘ جزائے عمل کا قانون ‘ عالم غیب کے حقائق یعنی وہ ساری باتیں جن کے اعتقاد وعمل کی درستگی سے روحانی سعادت کی زندگی پیدا ہو سکتی ہے انسان جب کبھی اس راہ میں وحی الہی کی روشنی سے الگ ہو کر قدم اٹھاتا ہے ، اختلافات کی تاریکیوں میں گم ہوجاتا ہے لیکن جونہی اس روشنی کی نمود میں آجاتا ہے حقیقت واضح ہوجاتی ہے اور ہر طرح کے اختلافات وشکوک معدوم ہوجاتے ہیں۔
Ayah 16:65اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کی بارش سے دلوں کی مردہ زمین کو زندہ کردیا :
75۔ گزشتہ آیت میں کتاب کا نزول ہدایت ورحمت ہے اور اس جگہ اس کی وضاحت فرما دی کہ یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسے باران رحمت کا نزول ۔ وہ مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہے یہ مردہ دلوں کو زندہ کردیتا ہے اس کی تشریح سورة الرعد میں بڑی تفصیل سے ذکر کی گئی جہاں اس کو ایک تمثیل کے رنگ میں سمجھایا گیا ، اس تمثیل میں اس علم کو جو نبی اعظم وآخر ﷺ پر بذریعہ وحی نازل کیا گیا تھا آسمانی بارش سے تشبیہ دی اور ایمان لانے والے سلیم الفطرت لوگوں کو ان ندی نالوں کی مانند ٹھہرایا گیا ہے جو اپنے اپنے ظرف کے مطابق باران رحمت سے بھرپور ہو کر رواں دواں ہوجاتے ہیں اور اس ہنگامہ وشورش کو جو اسلام کے خلاف منکرین و مخالفین نے برپا کر رکھی تھی اس جھاگ اور خس و خاشاک سے تشبیہہ دی گئی ہے جو ہمیشہ سیلاب کے رکتے ہی سطح آب پر اپنی اچھل کود دکھانی شروع کردیتا ہے اور ایک جگہ اس کو اس طرح بیان فرمایا : ” کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف وخبیر ہے اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بلاشبہ وہ غنی وحمید ہے ۔ “ (الحج 22 : 64) یہاں بھی ظاہر مفہوم کے پیچھے ایک لطیف اشارہ چھپا ہوا ہے ۔ ظاہر مفہوم تو محض اللہ کی قدرت کا بیان ہے مگر لطیف اشارہ اس میں یہ ہے کہ جس طرح اللہ کی برسائی ہوئی بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی تم دیکھتے ہو کہ سوکھی پڑی ہوئی زمین یکایک لہلہا اٹھتی ہے اسی طرح یہ وحی کا باران رحمت جو آج ہو رہا ہے عنقریب تم کو یہ منظر دکھانے والا ہے کہ یہی عرب کا بنجر ریگستان علم اور اخلاق اور تہذیب صالح کا وہ گلزار بن جائے گا جو چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور ایک جگہ ارشاد الہی ہے کہ :
” دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جلا اٹھاتا ہے یقینا وہ مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہرچیز کا بندھن باندھنے والا ہے ۔ “ ( سورة الروم 30 : 50) کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ، اس جگہ بھی جس انداز سے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا گیا ہے اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ نبی کی آمد بھی انسان کی اخلاقی زندگی کے لئے ویسی ہی رحمت ہے جیسر بارش کی آمد اس کی مادی زندگی کے لئے رحمت ثابت ہوتی ہے جس طرح آسمانی بارش کے نزول سے مردہ پڑی ہوئی زمین یکایک جی اٹھتی ہے اور اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اسی طرح وحی کا نزول اخلاق ورروحانیات کی ویران پڑی ہوئی دنیا کو جلا اٹھاتا ہے اس میں فضائل و محامد کے گلزارلہلہانے شروع ہوجاتے ہیں یہ کفار کی اپنی بدقسمتی ہے کہ اللہ کی طرف سے یہ نعمت جب ان کے ہاں آتی ہے تو وہ اس کا کفران کرتے ہیں اور اس کو اپنے لئے مژدہ رحمت سمجھنے کے بجائے پیام موت سمجھ لیتے ہیں ۔
زیر نظر آیت میں بھی فرمایا کہ ” اللہ نے اوپر سے پانی نازل کیا پھر اس سے زمین کو اس کے خشک ہونے کے بعد جلا دیا بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی ہی نشانی ہے جو بات کو اچھی طرح سنتے ہیں ۔ “ اوپر سے پانی برسانا اور اس سے خشک زمین کو از سر نو سبز کردینا جو روز مرہ کا مشاہدہ ہے اس میں آسمانی پانی وحی الہی ہے جو مردہ دلوں کو زندہ کرتی ہے اور یہ تشبیہ دے کر بات واضح فرما دی ہے کہ جس طرح بارش سے مردہ زمین میں ہریاول ہی ہریاول نظر آنے لگتی ہے اسی طرح جو لوگ اس وحی الہی کی بارش سے مستفید ہوتے ہیں ان کے دلوں کی مردہ زمین ماشاء اللہ زندہ ہوجاتی ہے اور وہ اس دنیا کی ساری زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں ادنی اور ہیچ سمجھنے لگتے ہیں اور آخر میں ارشاد فرمایا کہ اس میں بگوش ہوش سننے والوں کے لئے ایک بہت بڑی نشانی ہے ۔
Ayah 16:66ان جانوروں کے دودھ میں سمجھنے والوں کے لئے بڑی نشانی ہے :
76۔ زیر نظر آیت سے شروع کرکے آیت 69 تک ربوبیت الہی کی بخشائشوں کا خوب نقشہ کھینچا ہے اور ساتھ اس کی صنعت و حکمت کی کرشمہ سازیوں پر بھی توجہ دلائی ہے اور یہ بحیثیت مجموعی ربوبیت ‘ رحمت اور حکمت کا استدلال کیا ہے غور کرو کہ تمہاری غذا میں تین چیزیں سب سے زیادہ مفید اور لذیذ ہیں ، دودھ ‘ پھلوں کا عرق اور شہد ، تم میں سے کوئی نہیں جو ان تینوں نعمتوں سے آشنا نہ ہوا ہو ‘ یہ تمہاری روزانہ غذا کا جو ہر ‘ لذت طعام کا ذریعہ اور جسمانی شفا کا نسخہ ہے ، زیر نظر آیت میں دودھ کا ذکر فرمایا ۔ بلاشبہ ان گھریلو جانوروں کی ساخت و ترکیب اور ان کے اعضاء کے افعال میں جو صدہا عجائب ہیں ان کی تفصیلات بیالوجی اور زوالوجی کے ہر ماہر پر آج روشن ہیں لیکن ہمیں تو یہ غور کرنا ہے کہ یہ سب صناعیاں اور حکمتیں پتہ کس چیز کا دیتی ہیں ؟ ظاہر ہے کہ ایک صناع اعظم کا جو فی الواقع حکیم مطلق بھی ہے ، اور علام الغیوب بھی ، بس یہی ہے جس نے تمہاری گائے سے تمہارے لئے دودھ پیدا فرما دیا ‘ ہاں ہاں ! یہی دودھ جو طفولیت سے لے کر بڑھاپے تک تمہاری سب سے زیادہ دل پسند غذا ہوتی ہے ، خیال کرو کہ یہ کس طرح اور کہاں پیدا ہوتا ہے ؟ کیا تم نے کبھی غور کیا ؟ اگر غور کرتے تو تمہارے فہم و عبرت کے لئے صرف یہی ایک بات کافی تھی ، یہ اس جسم میں بنتا ہے جس جسم میں غلاظت یعنی گوبر بنتا ہے جو طرح طرح کی آلائشوں سے بھرا ہوا ہے جس میں اگر کوئی سیال شے موجود ہوتی ہے تو خون ہے جسے کبھی ہونٹوں سے لگانا کوئی بھی پسند نہ کرے گا ، پھر دیکھو جانوروں میں اس کے اترنے کا مخرج کہاں ہے ؟ وہی جس کے بالکل قریب بول وبراز کا مخرج ہے یعنی ایک ہی کارخانہ میں ‘ ایک ہی مادہ سے ‘ ایک ہی طرح کے ظروف میں ایک طرف تو غلاظت بنتی اور نکلتی رہتی ہے جسے تم دیکھنا بھی پسند نہ کرو گے ‘ دوسری طرف ایک ایسا جوہر غذا ولذت بھی بنتا ہے جسے تم دیکھتے ہی اٹھا لو اور بےغل وغش ایک ہی سانس میں سارا پی جاؤ ۔ وہ کون ہے جس نے یہ عجیب و غریب کارخانہ بنا دیا ؟ کون ہے جو ایسے عجیب طریقوں سے زندگی کے یہ بہترین وسائل بخش رہا ہے ‘ پھر کیا ممکن ہے کہ قدرت کی یہ کارفرمائی ‘ حکمت کی یہ صنعت طرازی ‘ ربوبیت کی یہ چارہ سازی بغیر کسی قدیر ‘ حکیم اور رب العالمین ہستی کے ظہور میں آگئی ہو ؟
یہ دودھ جو اس مادہ کے بطن سے پیدا ہو رہا ہے اور تم روزانہ اس کو اس مادہ ہی سے دوھ کر نکال رہے ہو شریعت اسلامی اس کو صرف اس مادہ کا نہیں بلکہ اس کے نر کا قرار دیتی ہے جس نے اس مادے سے جفتی کی جس سے اس مادہ نے بچہ جنا اور اللہ تعالیٰ نے اس بچہ کی ضرورت کے لئے اس دودھ کو پیدا کیا اور اتنی وافر مقدار میں پیدا کیا کہ اس مادہ کا بچہ پرورش پانے کے باوجود تمہاری غذا کے بھی یہ دودھ کام آیا اور اسی سے ” لبن الفحل “ ایک شرعی مسئلہ قرار پا گیا ۔ کسی بچہ کو دودھ پینے کی مدت کے اندر کسی عورت نے دودھ پلا دیا حالانکہ اس عورت نے اس بچہ کو جنم نہیں دیا لیکن شریعت میں وہ فقط دودھ پلانے کے باعث اس بچہ کی ماں ٹھہری اور اس عورت کا خاوند اس بچہ کا باپ قرار پاگای ۔ حالانکہ اس بچے نے جو دودھ پیا تو وہ فقط اس عورت کا پیا جو اس کی ماں ٹھہری لیکن اسلام نے اس عورت کے خاوند کو بھی اس بچہ کا باپ قرار دیا کیوں ؟ اس لئے کہ دراصل وہ دودھ جو اس بچہ نے پیا وہ اس مرد کا تھا جو اس عورت کا خاوند تھا ۔ اگر اس عورت کا کوئی خاوند نہ ہوتا جائز یا ناجائز تو یقینا یہ دودھ پیدا ہی نہ ہوتا ۔
وہ بچہ جو اس نے جنا جس طرح وہ فقط اس مادہ کا تھا بلکہ اس مادہ کے ساتھ جفتی کرنے والے نر اور اس مادہ دونوں کا تھا یہ جفتی خواہ مصنوعی طریقے سے کرائی گئی یا غیر مصنوعی اور فطری طریقہ سے بہرحال اس بچہ کے اجزاء نر اور مادہ دونوں سے قدرت الہی نے بنائے اور اس طرح اس بچہ کی غذا بھی دونوں ہی کے توسط سے معرض وجود میں آئی ۔
نبی کریم ﷺ نے مرد اور عورت دونوں کا ذکر کرکے یہ بات تفہیم کرائی جو ہر طرح کے نر اور مادہ پر صادق آتی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : للرجل العظام والعروق والعصب وللمراۃ اللحم والدم والشعر “۔ (بخاری ومسلم بحوالہ مشکوۃ ص 48)
باپ کی طرف سے ہڈیاں ‘ عروق اور اعصاب ہوتے ہیں اور ماں کی طرف سے گوشت ‘ خون اور بال ہوتے ہیں اور پھر اس کی تشریح میں کثرت سے احادیث موجود ہیں ۔ مسلم سائنس دان ان احادیث اور قرآن کریم کی آیات میں غور کرتے تو ان کے لئے بہت راہنمائی موجود تھی لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں غور وخوض کا نام تو موجود ہے لیکن اس سے کام لینا حرام سمجھا جاتا ہے اور خصوصا علمائے اسلام نے عقل وفکر پر جو پابندی عائد کی ہے اس نے پوری قوم کے ذہنوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔