16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اس طرح کھجور اور انگور کے درختوں کے پھل ہیں کہ ان سے نشہ آور عرق اور اچھی غذا دونوں طرح کی چیزیں تم حاصل کرتے ہو بلاشبہ اس بات میں ان لوگوں کے لیے ایک نشانی ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں

پھلوں پر غور کرو کہ ان میں تمہارے لئے کیا کیا غذائیت رکھی گئی ہے : 77۔ عربوں کے پاس اس وقت زیادہ پھل ‘ کھجور اور انگور ہی تھے اس لئے قرآن کریم نے انہیں پھلوں کا نام زیادہ تر لیا ہے اور ان کے بعد زیتوں اور انار تھے اس لئے ان کا نام بھی پہلے دونوں پھلوں کے بعد آتا ہے لیکن اس وقت ماشاء اللہ دنیا میں پھلوں کی اتنی کثرت ہے کہ اگر کوئی شخص ان کو گننا چاہے تو شاید ہی گن سکے اور آیت سے ہر طرح کے پھل مراد ہیں اور اس جگہ خاص کر جو ان کا نام لیا گیا ہے اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہی دونوں پھل ہیں جن سے زیادہ تر شراب سکر چیزیں تیار کی جاتی ہیں بلاشبہ مسکر چیزوں کا استعمال ہے لیکن آیت میں تفہیم ان لوگوں کی بھی کراتا ہے جو ان دونوں سے کافی مقدار میں شراب تیار کرتے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیت چونکہ سورة مکی ہے جو مکہ مکرمہ ہی میں نازل ہوگئی تھی جبکہ شراب کی حرمت کا اعلان نہیں ہوگا تھا اگرچہ آپ ﷺ نے کبھی بھی اس کو استعمال نہیں کیا نہ نبوت سے قبل نہ نبوت کے بعد اور حرمت سے پہلے کیونکہ آپ ﷺ کو ساری حرام ہونے والی چیزوں سے قبل نبوت بھی بہت زیادہ نفرت تھی اور آپ ﷺ ایسی چیزوں کے کبھی قریب بھی نہ گئے تھے جو بعد میں حرام قرار پائیں ۔ فرمایا پھلوں میں طرح طرح کے خوش ذائقہ عرق پیدا ہوتے ہیں اور انہیں مختلف طریقوں سے تم کام میں لاتے ہو ۔ مثلا کھجور اور انگور کتنے شاندار پھل ہیں لیکن تم ان ہی سے شراب یعنی نشہ کی چیز بنا لیتے ہو اور اچھی اور جائز غذائیں بھی ان ہی سے حاصل ہوتی ہیں یہ پھل پدتا کس طرح ہوئے ؟ کھجور اور انگور کا ہر دانہ شیرینی اور غذائیت کی ایک سربمہر شیشی ہے جو درختوں میں لٹکنے لگتی ہے اور تم ہاتھ بڑھا کرلے لیتے ہو لیکن یہ بنتی کس کارخانہ میں ہے ؟ زمین اور مٹی میں ، ہاں ہاں ! اس مٹی میں جس کا ایک ذرہ بھی تمہارے منہ میں پڑجائے تو بےاختیار تھوکنے لگتے ہو اور پھر کلیاں کر کر نہیں تھکتے ، تم خشک گٹھلیاں مٹی میں پھینک دیتے ہو مٹی وہی گٹھلی ان نعمتوں کی شکل میں تمہیں واپس دے دیتی ہے ‘ وہ کون ہے جس کی ربوبیت و حکمت مٹی کے درزوں سے یہ خزانے اگلوا رہی ہے ؟ خوشبو ‘ ذائقہ اور غذائیت کے خزانے ؟ اس آیت کے مضمون نے گزشتہ آیت کے مضمون کو زیادہ وسیع کردیا ہے اور اس پر اگر غور وفکر کیا جائے تو قلم صفحات کے صفحات لکھتا چلا جائے اور اس مضمون میں اتنی ہی وسعت پیدا ہوتی چلی جائے گی ، قارئین کا کام ہے کہ وہ بےخوف وخطر اپنی عقل سے کام لیں اور اس کے انمول موتی نکال کر کام میں لاتے رہیں ل۔
Ayah 16:68

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور دیکھو تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں ، درختوں میں اور ان چھپروں میں جو اس غرض سے بلندی میں بنا دیئے جاتے ہیں اپنا چھتہ بنا

اللہ نے شہد کی مکھی کی طرف کیا وحی کی کہ اس نے عسل المصفاتم کو تیار کردی : 78۔ اس شہد کی مکھی اور اس کے چھتے پر ذرا غور کرو کہ تم نے اپنے چولہے کے لئے ایندھن اکٹھا کر کے رکھا اور اس کو ڈھینگر ڈھپوں میں لگا دیا لیکن وہی چیز جو تم نے زمین سے اوپر اٹھا رکھی تھی اس میں ان مکھیوں نے چھتا لگایا ذرا اس چھتا پر غور تو کرو کہ کس صنعت وکاریگری کا حیرت انگیز نمونہ ہے ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی ماہر کاریگر نے بڑے طریقہ اور سلیقہ سے اس کو تیار کیا ہے لیکن اللہ نے اس مکھی کی طرف کیا وحی فرمائی ہے جس کے تحت یہ سب مل کر کام کرتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے آپ کے لئے سیروں شہد تیار کردیا ، ذرا ان شہد کے چھتوں کو دیکھو ‘ یہ وہ کارخانے ہیں جن میں تمہارے لئے شب وروز شہد تیار ہوتا رہتا ہے تم دنیا کے سارے پھل اور پھول جمع کر کے چاہو کہ شہد کا ایک قطرہ بنا لو تو کبھی بھی نہ بنا سکو گے لیکن اس کو چھوٹی سی مکھی بناتی رہتی ہے اور اس نظم وانضباط ‘ منتت و استقلال ‘ تحسیس وتدقیق ‘ ترتیب وتناسب ‘ اجتماع و اشتراک اور یکسانیت وہم آہنگی کے ساتھ بناتی رہتی ہے کہ اس کی ہر بات ہماری عقلوں کو درماندہ کردینے والی اور ہماری فکروں کو ساری توجیہوں اور تعلیلوں پر دروازہ بند کردینے والی ہے ۔
Ayah 16:69

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر طرح کے پھولوں سے رس چوستی پھر اور اپنے پروردگار کے ٹھہرائے ہوئے طریقہ پر پوری فرمانبرداری کے ساتھ گامزن ہوجا اس کے پیٹ سے مختلف رنگتوں کا رس نکلتا ہے اس میں انسان کیلئے شفا ہے ، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے ایک نشانی ہے جو غور و فکر کرنے والے ہیں

شہد کی مکھی سے کہا جا رہا ہے پھولوں سے رس چوس کر اپنے کارخانہ میں شکر پیدا کر : 79۔ قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرو کس طرح یہ معاملہ کے دقائق واضح کردیتے ہیں ؟ چونکہ شہد کی مکھی کی یہ صنعت گری جدوجہد ‘ نظم وانضباط اور سرگرمی اور باقاعدگی کا ایک پورا سلسلہ ہے جو ایک عرصہ تک جاری رہتا ہے اور یکے بعد دیگرے بہت سی منزلوں سے گزر کر مکمل ہوتا ہے اس لئے اس کے کاموں کو (سبل) سے تعبیر کیا یعنی عمل کی راہوں سے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” فاسلکی سبل ربک “۔ اور پھر چونکہ اس بات پر توجہ دلانا مقصود تھا کہ جو راہ عمل ٹھہرا دی گئی ہے اس پر ٹھیک ٹھیک چلتی رہتی ہے کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ ذرا بھی ادھر ادھر ہو اس لئے فرمایا (آیت) ” ذللا “۔ کہ حکم الہی کے آگے جھکی ہوئی کام کئے جا ۔ چناچہ اس کا ہر فرد اس طرح حکم الہی کے آگ جھک گیا ہے کہ ممکن نہیں کسی کو راہ عمل سے منحرف ہوتا ہوا پاؤ ۔ ” وحی “ مخفی اشارہ کو کہتے ہیں اور اس جگہ لغوی معنی میں مستعمل ہوا ہے ، فرمایا یہ ربوبیت الہی کی وحی ہے جو تمام مخلوقات کو ان کے کاموں پر لگاتی ہے اور جس نے ایک حقیر سے جانور میں سعی وعمل کی ایک حیرت انگیز قوت پیدا کردی ہے ، ان مکھیوں کا چھتا بھی صنعت وکاری گری کا ایک حیرت انگیز نمونہ ہوتا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص مہندس یا انجینئر نے اس کو تیار کیا ہے ، ماہرین نفسیات جس چیز کو جبلت سے تعبیر کرتے ہیں وہ وحی حیوانی کا دوسرا نام ہے اور علامہ راغب نے اس مفہوم کو ” تسخیر “ سے ادا کیا ہے النحل یعنی شہد کی مکھی اپنی خاص قسم کی فراست و دانائی اور عقل و توانائی کے لحاظ سے ساری حیوانی دنیا میں مشہور وممتاز ہے ۔ فرنگی ماہرین فن نے کتابوں پر کتابیں ان مکھیوں کی فراست و دانائی اور حسن انتظام وتدبیر پر لکھ دی ہیں ۔۔۔۔۔۔ حق تھا کہ اس ننھی سی مخلوق کی ذہانت خاصہ کو وحی الہی اپنی جانب منسوب کرتی اور اس نے ایسا ہی کیا۔ یہ مٹھاس کہاں سے پیدا ہوئی ؟ قرآن کریم نے فرمایا کہ ” سارے پھلوں سے رس چوس لے اور اس کو کھا جا اس طرح تیرے پیٹ کے اندر سے ایک پینے کی چیز نکلے گی اس کو محفوظ کرتی چلی جا۔ “ اس کے مقابلہ کی کوئی چیز اتنی میٹھی نہیں ہے جتنی کہ یہ شہد ہے ، یاد رکھو کہ جس وقت تک ہندوستان کا گنا دوسرے ملکوں میں نہیں پہنچا تھا میٹھی غذاؤں کے بنانے کا تمام تر دارومدار اسی شہد پر تھا یا پھر ایسے پھلوں پر جو بہت زیادہ میٹھے ہوتے ہیں جیسے کھجور اور چقندر ۔ سکندر اعظم جب ہندوستان آیا تھا اور یونانیوں نے یہاں کی قند کھائی تھی تو خایل کیا تھا کہ یہ بلور کی طرح کوئی معدنی چیز ہے جس کا مزہ شہد کی میٹھا ہوتا ہے ۔ غالبا سب سے پہلے عربوں نے ہندوستانی گنے کی کاشت مصر میں کی اور پھر مصر سے ” مصری “ یورپ میں پہنچی ۔ اس جگہ شہد کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا گیا کہ دنیا کے اکثر حصوں میں مٹھاس کا مادہ اس کے سوا اور کچھ نہ تھا نیز یہ محض لذیذ غذا ہی نہیں بلکہ کتنی ہی بیماریوں کا نسخہ وشفا بھی ہے اس کے مختلف رنگ آج بھی ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں اور مختلف موسموں کے شہد کے فوائد مختلف اور مزے بھی مختلف ہیں۔ قرآن کریم نے (آیت) ” فیہ شفاء للناس “۔ کے الفاظ استعمال کرکے ریسرچ کے مختلف ابواب کھول دیئے ہیں ، اغیار نے اس میں بہت حصہ لیا ہے اور وہ کافی حد تک اس پر مقالے تحریر کرچکے ہیں اور ابھی کتنی ہی اس میں گنجائش موجود ہے ، شہد کا ایک خاصہ یہ ہے کہ یہ ایک مدت تک نہ خود خراب ہوتی ہے اگرچہ مزا میں فرق آجاتا ہے اور جو چیز اس میں ڈال دی جائے اس کو بھی محفوظ رکھتی ہے اور کافی مدت تک خراب نہیں ہونے دیتی خصوصا جتنی چیزیں مٹھاس کے لئے مصنوعی تیار کی گئی ہیں ان میں اس کی عمر سب سے زیادہ ہے اس وقت خالص شہد کا ملنا محال نہیں تو بہرحال مشکل ضرور ہے اور وہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا خالص دودھ یا خالص گھی اور اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لئے جو نشانیاں رکھی گئی ہیں وہ ان ساری باتوں سے علاوہ ہیں جو اوپر بیان کی گئیں چیونٹیاں ‘ دیمک اور شہد کی مکھیاں تینوں ہی اپنے اندر بہت سے اسباق رکھتی ہیں اور خوصا نظم وضبط میں ان کا بہت بڑا دخل ہے اور تلاش کرنے والوں کو ان میں سے بہت کچھ حاصل ہوا اور ابھی بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے ۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی ہے جو تمہاری زندگی پوری کردیتا ہے اور تم میں سے کوئی بدترین عمر تک پہنچ جاتا ہے کہ سمجھ بوجھ رکھنے کے بعد پھر نادان ہوجائے ، بیشک اللہ جاننے والا ، ہر بات کی قدرت رکھنے والا ہے

اللہ نے تم کو پیدا کیا اور پھر تمہاری زندگی کے مختلف ادوار مقرر کر دئیے : 80۔ قرآن کریم نے اس سے پہلے بارش ‘ نباتات ‘ چوپائے اور شہد کی مکھی کے مختلف احوال بیان فرما کر انسان کو اپنی قدرت ‘ رحمت اور ربوبیت کے انعامات پر متنہ کیا اب اس آیت میں اس کی اندرونی حالت پر غوروفکر کی اس کو دعوت دیتا ہے کہ اے انسان تو کچھ بھی نہ تھا اللہ نے تجھ کو وجود سے نوازا پھر جب چاہا موت بھیج کر وہ نعمت ختم کردی لیکن بعض اوقات موت سے پہلے تجھ کو پیرانہ سالی کے ایسے درجے میں پہنچا دیا کہ تیرے ہوش وحواش ٹھکانے نہ رہے اور تیرے سارے اعضاء کی طاقت ختم ہو کر رہ گئی تیرے سارے اعضاء موجود ہیں لیکن سارے کے سارے ہی بیکار ہوگئے اور پھر انجام کار ایسا وقت بھی بعض اوقات آجاتا ہے کہ تو سب کچھ جاننے کے باوجود کچھ نہیں جانتا ۔ (آیت) ” منکم من یرد “۔ کے الفاظ میں اشارہ اس طرف ہے کہ انسان پر پہلے بھی ایک ضعف اور کمزوری کا وقت آیا اور گزر چکا ہے یہ اس کے بچپن کا ابتدائی دور تھا جس میں یہ کسی سوجھ بوجھ کا مالک نہ تھا ‘ اس کے قوی بالکل ضعیف وناتواں تھے ، یہ اپنی بھوک پیاس کو دور کرنے اور اپنے اٹھنے بیٹھنے میں غیروں کا محتاج تھا پھر اللہ نے اس کو جوانی عطا کی جو اس کی ترقی کا زمانہ ہے پھر رفتہ رفتہ اس کو بڑھاپے کے ایسے درجہ میں پہنچا دیتا ہے جس میں وہ بالکل اسی طرح کمزوری ضعف اور اضمحلال کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جیسا کہ بچپن میں تھا ۔ (آیت) ” ارذل العمر “۔ سے مراد پیرانہ سالی کی وہ عمر ہے جس میں انسان کے تمام جسمانی اور دماغی قوی مختل ہوجاتے ہیں اور وہ سب کچھ جاننے کے باوجود کچھ نہیں جانتا ، نبی اعظم وآخر ﷺ نے اس عمر سے پناہ مانگی ہے فرمایا اللھم انی اعوذبک من سوء العمر۔ ” اے اللہ ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں بری عمر سے “ اور رویت میں ہے کہ (من ان اردالی ارذل العمر) ” پناہ مانگتا ہوں میں رذیل عمر سے ۔ “ بلاشبہ ” ارذل عمر “ کی تعریف میں کوئی تعین نہیں ہے البتہ مذکورہ تعریف صحیح ہے جس کی طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ فرمایا کہ (آیت) ” لکیلا یعلم بعد علم شیئا) کہ وہ ایسی عمر ہے جس میں ہوش و حواس باقی نہ رہیں جس کے نتیجہ میں انسان اپنی ساری معلومات بھول جاتا ہے ۔ ارذل العمر میں لوگوں کے مختلف اقوال مذکور ہیں بعض صحابہ سے اسی سال کی عمر بتائی گئی ہے اور بعض نے پچھتر سال نقل کی ہے ۔ بہرحال پیرانہ سالی کی وہ انتہا ہے جب آدمی میں نہ قوت جسمانیہ رہتی ہے اور نہ ہی قوت عقیلہ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بیخبر ہوجاتا ہے اور تمام معلومات بھول کر ایک بچے کی طرح ہوجاتا ہے جو بالکل معصوم وبے خبر ہوتا ہے اور اس میں فہم و فراست نام کی شے باقی نہیں رہتی اور اس کی نوعیت مختلف لوگوں میں مختلف عمروں میں نمایاں ہوتی ہے ایسے بھی ہیں جو سو سال سے زیادہ عمر میں جا کر بھی عقل وفکر سے بالکل محروم نہیں ہوتے اور گزشتہ باتیں بھی وہ یاد رکھتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو ستر ‘ پچھتر سال ہی میں کافی حد تک قوی وعقل دونوں سے محروم ہوجاتے ہیں (آیت) ” ان اللہ علیم قدیر “ بلاشبہ اللہ بڑا علم والا اور قدرت والا ہے اور ہو ہر شخص کی عمر کو جانتا ہے کہ کس کو کس عمر میں کس خاص حالت سے دو چار ہوجانا ہے اور کسی کو سو سال تک پہنچ کر بھی درست اور صحیح رہنا ہے ۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور دیکھو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر بہ اعتبار روزی کے برتری دی ہے پھر ایسا نہیں ہوتا کہ جس کسی کو زیادہ روزی دی گئی ہے وہ اپنی روزی اپنے زیردستوں کو لوٹا دے حالانکہ سب اس میں برابر کے حقدار ہیں پھر کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں سے صریح منکر ہو رہے ہیں ؟

اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر مالی فضیلت دی ہے جو تمہاری آزمائش ہے : 81۔ زیر نظر آیت اپنے اندر بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے دنیا میں مختلف ادوار میں مختلف قسم کی کوششیں کی گئیں ہیں کہ بعض کو بعض پر جو مالی فضیلت دی گئی ہے اس کا کوئی حل تلاش کیا جائے کہ یہ فضیلت باقی نہ رہے جن لوگوں نے اس معاملہ میں جتنے بڑے دعوے کئے وہ اتنے ہی برے طریقے سے ناکام ونامراد ہوئے غیروں نے تو جو کچھ کیا سو کیا لیکن خود مسلمانوں نے اس سلسلہ میں بہت بڑی ٹھوکریں کھائیں اور اب تک کھا رہے ہیں ۔ کاش کہ قرآن کریم کی اس آیت اور اس مفہوم کی دوسری آیات جن میں کمانے اور خرچ کرنے کے طریقے سکھائے گئے تھے ان سے کما حقہ فائدہ اٹھایا گیا ہوتا ؟ نزول قرآن کے وقت جو طریقہ اختیار کیا گیا اس کو وسعت دی جاتی تو بہت حد تک مسئلہ سلجھ سکتا تھا لیکن اس کی طرف بہت کم دھیان دیا گیا ، ہم تفصیل میں گئے بغیر مختصر عرض کریں گے کیونکہ تفصیلات اس کی اتنی بڑی اور لمبی ہیں کہ ان کو اس جگہ بیان نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان تفصیلات کا یہ مقام متحمل ہے ۔ دنیا میں انسانی معیشت کا کارخانہ اس طرح چل رہا ہے کہ ہر طرح کے فوائد ووسائل کے حصول کا دروازہ ہر انسان اور ہر گروہ پر کھول دیا گیا ہے مگر کوئی چیز کسی کو خود نہیں مل جاتی ۔ اس کو ملتی ہے جو اس کے لئے جدوجہد کرے اور وہ تمام طریقے کام میں لائے جو حصول مقصد کے لئے ضروری ہیں اور یہ فطری بات ہے کیونکہ یہ دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہین اس لئے ہر انسان کو اس کے عمل ہی کے موافق ملنا چاہئے لہذا اگر اعتدال کے ساتھ یہ نظام چلتا رہے تو یہی اصل اور حقیقی نظام ہوگا ۔ لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہر انسان کی ذہنی وجسمانی استعداد یکساں نہیں ہوتی اور نہ ہی ہو سکتی ہے اور چونکہ یہ حالت یکساں نہیں ہوتی اس لئے وسائل معیشت کے حصول کے اعتبار سے بھی سب کی حالت یکساں نہیں ہوئی ، کسی نے وسائل معیشت پر زیادہ قابو پالیا کسی نے کم ۔ کسی کو کمانے کے زیادہ مواقع حاصل ہوئے کسی کو بہت تھوڑے ، پہلے جسمانی قوت و طاقت میں مقابلہ ہوا اور طاقتور نے کمزور کو مغلوب کرلیا پھر ذہن وجسم کا مقابلہ ہوا اور ذہنی قوت نے جسمانی قوت کو مقہور کرلیا ۔ زیر نظر آیت ان آیتوں میں سے ہے جن سے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ اس بارے میں قرآن کریم کی تعلیم کا رخ کس طرف ہے ؟ چناچہ یہ آیت ہم کو بتاتی ہے کہ قرآن کریم اس صورت حال سے تو تعرض نہیں کرتا کہ معیشت کے اعتبار سے تمام انسانوں کی حالت یکساں نہیں کسی کے پاس زیادہ سامان معیشت ہے کسی کے پاس کم لیکن وہ یہ صورت حال برداشت نہیں کرتا کہ حصول رزق کے اعتبار سے لوگوں کی حالت یکساں نہ ہو کسی کو ملے کسی کو نہ ملے ، وہ کہتا ہے کہ ہر انسان جو دنیا میں پیدا ہوا دنیا کے سامان ورزق سے حصہ پانے کا یکساں طور پر حق دار ہے اور کسی فرد اور گروہ کو یہ حق نہیں کہ اس سے اس کو محروم کر دے خواہ وہ طاقتور ہو یا کمزور ‘ تندرست ہو یا بیمار ‘ قابل ہو یا ناقابل ‘ دولت مندوں کے گھر پیدا ہو یا فقیروں کے لیکن اگر انسان ہے تو ماں کے پیٹ سے وہ یہ حق لے کر آیا ہے کہ زندہ رہے اور زندگی کا سروسامان پائے ۔ ہاں ! اب غور طلب بات یہ ہے کہ ہر فرد زندگی کا سروسامان کیونکر پاسکتا ہے ؟ جو کمزور ہے یا جو ایسے حالات میں پڑگیا ہے کہ کمانے کا موقعہ نہیں پاتا جو معذور اور لاچار ہوگیا ہے وہ سروسامان معیشت کہاں سے پائے گا ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ اس طرح جن لوگوں کو کمائی کا زیادہ موقع ملا ہے ان کے ذمے خرچ کرنے کا فرض بھی زیادہ عائد ہوگیا ہے وہ اپنی کمائی کا ایک خاص حصہ کمزوروں کو لوٹا دیں ہاں ! ” لوٹا دیں “ کیونکہ فی الحقیقت کمائی کی یہ زیادہ مقدار ان افراد کے لئے تھی جو کمزوری کی وجہ سے حاصل نہ کرسکے چونکہ وہ اب طاقتور افراد کے پاس چلی گئی ہے اس لئے چاہئے کہ وہ حق داروں کی طرف لوٹا دی جائے یعنی جو ان کا حق ہے وہ ان کو مال جائے اور اسلامی حکومت اس کی مجاز ہے کہ وہ اس حق کو واپس دلوائے ، وہ کہتا ہے یہ بات کہ تمہیں سامان معیشت کے زیادہ کمانے کا موقع مل گیا تمہیں اس بات کا حق دار نہیں بنا دیتی کہ اپنی ساری کمائی صرف اپنی انفرادی زندگی ہی کے لئے روک لو کیونکہ دنیا کے وسائل زندگی کسی خاص انسان کی حقیقی ملکیت نہیں ہو سکتے یہاں جو کچھ ہے تمام نوع کے لئے ہے پس اگر ایک فرد نے زیادہ کما لیا ہے تو کما سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ ساری کمائی اس کی ہوگئی جو کچھ اس نے کمایا ہے دراصل نوع انسانی کی ایک امانت ہے جو اس کے قبضہ میں آگئی ہے وہ اس پر قابض رہ سکتا ہے لیکن وہ اس کو صرف اپنے ہی لئے خاص نہیں کرسکتا اس کا فرض ہے کہ خود بھی کھائے اور کمزوروں کو بھی کھلائے جو حصول معیشت سے محروم رہ گئے ہیں ۔ قرآن کریم کی اس تعلیم کی تہ میں یہ اصل کام کر رہی ہے کہ وہ نوع انسانی کے مختلف افراد اور جماعتوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ اور منقطع تسلیم نہیں کرتا بلکہ سب کو ایک ہی گھرانے کے مختلف افراد قرار دیتا ہے ایسے افراد جو آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے شریک حال ہیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے والے ہیں جیسے مختلف اعضاء کے مجموعہ کا نام انسان ہے بالکل اسی طرح مختلف افراد کے مل جانے کا نام معاشرہ ہے ، بلاشبہ ان میں سے ہر ایک فرد اپنے اپنے طور پر اپنی اپنی استعداد کے مطابق جدوجہد معیشت میں لگا ہوا ہے اور کوئی زیادہ کامیاب ہوتا ہے کوئی کم ۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک فرد دوسرے فرد کی حالت سے بےپروا ہوجائے ۔ جو زیادہ کماتا ہے وہ اپنی کمائی دوسرے کو اٹھا کر نہیں دے دیتا لیکن ایسا بھی نہیں کرسکتا کہ دوسرے کی یک قلم محرومی برداشت کرلے اور اس کے لئے اپنے کو ذمہ دار ہی نہ سمجھے جو زیادہ کماتا ہے اس کے پاس زیادہ کمائی رہتی ہے جو کم کماتا ہے اس کے پاس کم رہتی ہے لیکن کھاتے پیتے سب ہیں بھوکا کوئی نہیں رہ سکتا ‘ کمائی میں سب الگ الگ جدوجہد کریں گے لیکن کھانے میں سب ایک دوسرے کے شریک ہوں گے زیادہ کمائی والا سونا اور چاندی نہیں کھائے گا بلکہ وہی رزق کھائے گا جو انسان کے لئے بنایا گیا ہے ۔ دنیا میں نسل وتوارث کے قریبی رشتوں نے خاندانوں کی بنیاد ڈال دی ہے یہ خاندانی زندگی ٹھیک ٹھیک اسی زندگی کا ایک نمونہ ہے جو قرآن کریم چاہتا ہے کہ تمام نوع انسانی کی ہوجائے ، ایک خاندان میں مختلف افراد ہوتے ہیں اور استعداد کار کے لحاظ سے تمام افراد کی حالت یکساں نہیں ہوتی کوئی شخص زیادہ کماؤ ہوتا ہے کوئی کم ، کوئی ایسا نہیں کرتا کہ اٹھا کر دوسروں کو دے دے لیکن باہم رشتہ داری نے باہمی فرائض و تعاون کا جو فرض عائد کردیا ہے اسے خاندان کا کوئی فرد نظر انداز نہیں کرسکتا ۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ خاندان کا ایک فرد کود تو عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے لیکن دوسروں کو فقر وفاقہ کی حالت میں ہلاک ہونے کے لئے چھوڑ دے۔ کمانے میں سب کی راہیں الگ الگ ہیں اور نتائج بھی سب کو ایک طرح کے پیش نہیں آتے لیکن کھانے میں سب ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی فکر سے غافل نہیں ہو سکتے ۔ اگر خاندان کا ایک فرد زیادہ کماتا ہے تو وہ محسوس کرے کہ خرچ کرنے کی ذمہ داری بھی اسی پر زیادہ عائد ہوتی ہے اور دوسرے بھی سمجھتے ہیں کہ یہ زیادہ کماتا ہے تو اسے ہماری خبر گیری بھی دوسروں سے زیادہ کرنی چاہئے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی خاندان کے مختلف افراد ہوتے ہیں مگر باہمی تعاون و اشتراک کا فرض بھلا دیتے ہیں ، ایک بھائی لاکھوں کماتا ہے دوسرا بھائی بھوکا مرتا ہے لیکن دنیا ایسے آدمی کو ملامت کرے گی وہ کہے گی کہ یہ ننگ خاندان ہے اس نے یہ بات کیسے گوارا کرلی کہ خود تو عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے اور اس کا بھائی ایک ایک دانہ کو تر سے ۔ قرآن کریم چاہتا ہے کہ ایسا اعتقاد نوع انسانی کے تمام افراد میں پیدا ہوجائے وہ کہتا ہے تمام افراد و انسان دراصل ایک ہی گھرانے کے مختلف افراد ہیں ۔ انسانیت ان کی نسل ہے اور کرہ ارض ان کا وطن ۔ بلاشبہ ان کا ہر فرد حق رکھتا ہے کہ اپنی اپنی حالت اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق معیشت کے وسائل حاصل کرے لیکن ان کا حق نہیں رکھتا کہ اپنی کمائی کو صرف اپنے ہی لئے سمجھ لے اور اپنے کمزور بھائی کے لئے کچھ نہ نکالے ، کمانے میں سب کی راہیں الگ الگ ہوں گی قبضہ و تصرف میں بھی سب الگ الگ رہیں گے لیکن کھانے میں الگ نہیں رہ سکتے یہ خدا کے اس عالمگیر گھرانے کے ہر فرد کا قدرتی حق ہے وہ کما سکے یا نہ کما سکے لیکن اسے زندہ رہنے کا سامان ملنا چاہئے ۔ وہ کہتا ہے کہ کمائی کا حق کا دامن انفاق کی ذمہ داری سے بندھا ہوا ہے ، یہ دونوں لازم وملزوم ہیں تم انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے ، یہاں کمائی کرنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ خرچ کرنے کی ذمہ داری اٹھائی جائے ، اگر تم کچھ نہیں کما سکتے تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ جونہی تم کمانے لگے ‘ تم پر ذمہ داری عائد ہوگئی ۔ اب یہ جتنی بڑھتی جائے گی انفاق کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی ۔ ہر پیشہ جو تمہاری جیب میں آئے گا انفاق کی ایک تازہ ذمہ داری اپنے ساتھ لائے گا ، تمہاری کمائی کی راہ میں کوئی روک نہیں ۔ تم جس قدر کما سکتے ہو کماؤ بلکہ چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ کماؤ لیکن یہ نہ بھولو کہ زیادہ سے زیادہ کمانا زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کو کہتے ہیں ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ افراد کے ہاتھ کمائی کے لئے ہیں لیکن حکومت کا حق خرچ کرنے کا ہے ، افراد جتنا کما سکتے ہیں کمائیں لیکن ڈھیر لگانے کے لئے نہیں خرچ کرنے کے لئے ، یہی وجہ ہے کہ وہ ” اکتناز “ کو روکنا چاہتا ہے یعنی چاندی سونے کے ڈھیر لگانے کو اور کہتا ہے کہ ان کے لئے عذاب الیم کی بشارت ہے جو ڈھیر لگاتے ہیں اور خرچ نہیں کرتے ۔ (آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ “۔ (التوبہ 9 : 24) ” جو لوگ چاندی سونا اپنے ذخیروں میں ڈھیر کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ نہیں کرتے ۔ “ (آیت) ” فبشرھم بعذاب الیم “۔ ” ایسے لوگوں کو عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دو “۔ اس تمام تفصیل سے معلوم ہوا کہ جہاں تک نظام معیشت کا تعلق ہے قرآن کریم نے اکتساب مال کا معاملہ انفاق مال کے ساتھ وابستہ کردیا ہے وہ فرد کے حق اکتساب سے تعرض نہیں کرتا لیکن اس حق کو انفاق کی ذمہ داری کے ساتھ باندھ دیتا ہے ۔ جس قدر کما سکتے ہو کماؤ لیکن کوئی کمائی جائز تسلیم نہیں کی جاسکتی اگر وہ انفاق سے انکار کرتی ہو ہر وہ کمائی جو محض ” اکتناز “ کے لئے ہو اور انفاق کے لئے دروازہ کھلا نہ رکھے قرآن کریم کے نزدیک ناجائز وناپاک اور مستحق عقوبت ہے ، زیر نظر آیت میں فرمایا کہ (آیت) ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق “۔ سروسامان رزق کے اعتبار سے سب کی حالت یکساں نہ ہوئی کسی کے پاس زیادہ ہے کیونکہ اس کا کام زیادہ ہے کسی کے پاس کم ہے ۔ کوئی بالکل محروم ہے ۔ (آیت) ” فما الذین فضلوا برادی رزقھم علی ما ملکت ایمانھم “۔ پھر جن لوگوں کو رزق میں برتری دی گئی ہے وہ ایسا کرنے والے نہیں کہ اپنے کمائے ہوئے رزق اپنے غلاموں اور زیردستوں کو دے دیں “۔ (فھم فیہ سوآء) حالانکہ جو رزق انہوں نے کمایا ہے وہ کچھ ان کا خلق کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے اس لئے رزق کے حق دار ہونے میں وہ سب کے سب برابر ہیں خواہ کوئی زیردست ہو کر محروم ہوگیا ہو خواہ کوئی زبردست ہو کر خوش حال ہوگیا ہو ۔ (آیت) ” افبنعمۃ اللہ یجحدون ؟ “۔ پھر کیا یہ اللہ کی نعمت کے منکر ہیں ؟ اللہ کی نعمت نہیں اور اگر وہ ایک فرد کے قبضہ میں آگئی ہے تو یہ ایک اللہ کا فضل ہے پس چاہئے کہ اس کی شکر گزاری بجا لائی جائے نہ یہ کہ کفران نعمت کیا جائے ، اس کی شکر گزاری کیا ہے ؟ ان افراد پر خرچ کرنا ہے جو اس کے حصوں سے محروم ہیں ۔ اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ سروسامان معیشت سب کے پاس یکساں نہیں اور یہ اختلاف حال قدرتی ہے انسانوں کی آزمائش کے لئے اس لئے اسے اللہ نے براہ راست اپنی طرف منسوب کیا ہے دوسری یہ کہ رزق کے حقدار ہونے میں سب برابر ہیں خواہ کوئی آقا ہو ‘ کوئی مملوک ہو ‘ کوئی طاقتور ہو ‘ کوئی زیردست ہو چناچہ یہ دونوں باتیں یک جا ہو کر اس سوال پر روشنی ڈالتی ہیں کہ نظام معیشت کے معاملہ میں قرآن کی ہدایت کس طرف ہے اس لئے ضروری تھا کہ مندرجہ صدر تشریحات اس محل میں کردی جائیں ۔ اس آیت میں (آیت) ” فھم فیہ سوآء “۔ کا مطلب قرار دیتے ہوئے اکثر مفسرین نے اسے عدم تساوی مال پر محمول کیا ہے اور تقدیر عبارت اس طرح قرار دی ہے ۔ (آیت) ” افھم فیہ سوآء “۔ اور بعض نے (فھم) کی فاء کو حتی کے معنوں میں لیا ہے لیکن اس جملہ کا صاف صاف مطلب وہی ہے جو ہم نے قرار دیا ہے یعنی یہ صریح تساوی مال کی خبر ہے نہ کہ اس کی نفی اور جب مطلب ٹھیک ٹھیک بیٹھ رہا ہے تو پھر کونسی وجہ ہے کہ اصل جگہ سے ہٹنے کے لئے مضطرب ہوں ۔ بہرحال فی زماننا ‘ اس معاملہ میں حکومت اسلامی کے کرنے کے بہت کام ہیں جس کی طرف آج تک جب سے یہ ملک عزیز معرض وجود میں آیا اس سلسلہ میں صحیح رخ پر کسی نے کام کرنے کی کوشش نہیں کی اور مذہبی ٹھیکہ دار بھی اس قدر نظام معیشت کے سامنے مبہوت ہوچکے ہیں کہ وہ عوام کو اصل حقیقت سے روشناس نہیں کرا سکے یا نہیں کرانا چاہتے کہ ان کو خود اس میں کئی طرح کے خدشات نظر آتے ہوں گے اور دیانت وامانت کا جنازہ ویسے ہی نکل چکا ہے اور ہر حکومت اتنی غلط پالیسیاں بناتی ہے کہ اعتدال کی راہ سے ہم بہت دور جا چکے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ چند ایک خاندان یا افراد جن کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے جن میں بہت بڑے زمیندار اور بہت بڑے سرمایہ دار ایسے ہیں کہ اس پورے ملک کی دولت سمٹ کر ان ہاتھوں میں چلی گئی اور ان میں سے ایک ایک اتنا امیر ہے کہ یہ پورا ملک خریدنا چاہے تو بےدھڑک خرید سکتا ہے لیکن حکومت کا خزانہ اس طرح خالی ہے جس طرح ڈھول اندر سے خالی ہوتا ہے اور جو حکومت بنتی ہے چونکہ وہ اس دولت کے بل پر معرض وجود میں آتی ہے اور سوچ پہلے ہی ان لوگوں کو اپنی نہیں اس لئے اصل حکمران جو اس ملک کے نہیں بلکہ وہ ملک سے باہر کے لوگ ہیں وہ جن مہروں کو سمجھتے ہیں کہ ان پر ہمارا مکمل ھولڈ ہے ان کو آگے بڑھاتے ہیں باقی کو تربیت کے لئے اپنے پاس بلا لیتے ہیں اور اس طرح یہ ایک کھیل ہے جو برصیغر کے ان ملکوں میں کھیلا جا رہا ہے جن کو آزاد ہوئے ابھی پچاس ساٹھ سال ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب آزادی بھی انہی کی مرہون منت ہے اور ابھی تک وہ اس احسان کا بدلہ چکوا رہے ہیں ۔ قرآن کریم کا دیا ہوا نظام معیشت وہ ہے جس سے دولت افراد کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ قوم کے خزانہ میں جمع ہوتی ہے اور وہاں سے تقسیم ہو کر بقدر ضرورت سب لوگوں میں تقسیم ہوتی ہے خواہ وہ اپاہج ہوں یا لولے لنگڑے ہوں یا غریب ونادار لوگ جن کے ہاں آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کردیئے اور تمہارے جوڑوں میں تمہارے لیے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کردیئے نیز تمہاری روزی کے لیے اچھی اچھی چیزیں مہیا کردیں ، پھر کیا یہ لوگ جھوٹی باتیں تو مان لیتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی حقیقت سے انکار کرتے ہیں ؟

اللہ نے تمہاری جنس ہی سے تمہارے جوڑے بنائے اور تمہیں بڑھا دیا : 82۔ انعامات الہی کا ذکر جاری ہے زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا ہے کہ دیکھو میں نے تمہیں جنس میں تمہاری بیویاں بنا دی ہیں تاکہ باہمی موانست بھی پوری ہو اور نسل انسانی کی بقاء اور اس کی شرافت و بزرگی بھی قائم رہے ، اس آیت میں لفظ (انفسکم) ” آیا ہے جس کا ترجمہ ہمارے مفسرین نے جنہوں نے عربی تفاسیر لکھی ہیں اول سے آخر تک سب ہی نے کیا ہے ” اے من جنسکم “ اور اردو مترجمین نے ترجمہ کیا ہے ” تمہیں میں سے “ ” تمہاری ہی قسم سے “ ” تمہاری ہی جنس سے “ پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ جن لوگوں نے (آیت) ” من نفس واحدۃ “۔ کا ترجمہ عربی میں ” اے من جنس واحدۃ “ اور اردو میں ” ایک ہی جنس سے “ کیا تھا تو شورپیا ہوگیا تھا اور ہر طرف سے ان لوگوں پر جنہوں نے یہ ترجمہ کیا کافر کافر کی بوچھاڑ شروع ہوگئی اور طوفان بدتمیزی کھڑا ہوگیا ایک نے کچھ غلط سلط کہا تو پھر جو اٹھا اس نے نہ معلوم کیا کچھ کہہ دیا اور کفر کے کیسے کیسے فتوے لگائے گئے ، مولانا ثناء اللہ امرتسری (رح) نے قرآن کریم کی تفسیر لکھی تو انہوں نے بھی ” نفس “ کا ترجمہ ” جنس “ کردیا اور وہ طوفان کھڑا ہوگیا کہ مولانا مرحوم پر ایک صد علماء ہند اور بیسیوں علماء سعودی عرب ‘ مصر ‘ شام ‘ لبنان ‘ یمن اور دوسرے اسلامی ممالک کے نام اس میں دیئے گئے اور سب نے مل کر آپ کو کافر قرار دیا آپ کے کفریات میں سے ایک ” نفس “ کا ترجمہ ” جنس “ کرنے کا بھی تھا ، مولانا مرحوم بھی یہی کہتے کہ میرے یارو جب قرآن کریم کی دوسری آیت خود اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” نفس واحد “۔ کی بجائے (آیت) ” من انفسکم “ کا لفظ فرمایا ہے جس کا ترجمہ آپ سب کے ہاں بھی ” ای من جنسکم “ موجود ہے جو عام طور پر شائع وذرائع ہے تو اس میں سوائے جمع اور واحد کے کوئی فرق بھی ہے اور یہ کہ (نفس) جمع کے لئے آئے تو ” جنس “ ترجمہ صحیح ہے اور اگر (نفس) واحد ہو تو ” جنس “ ترجمہ کفر ہے ؟ آخر کیوں ؟ لیکن اس وقت مولانا کی کسی ایک نے بھی نہ سنی اور آپ کو ہر طرف سے پریشان کرنے کی کوشش کی گئی آج جب وہ دونوں فریق یعنی کافربنانے والے بھی اور کافر بننے والا بھی نہ رہے تو سب نے مولانا مرحوم کو (رح) کہنا شروع کردیا آج ان مرنے والوں کی روحیں اپنے ماننے والوں کو کیا کہتی ہوں گی ؟ ہمارے عرض کرنے کا مطلب فقط یہ ہے کہ بدقسمتی سے قوم مسلم کے ہاں لوگوں کو کافر بنانے کا اتنا ذوق وشوق ہے کہ ذرا کسی نے ان علماء کے اختراعی عقیدوں کے خلاف زبان سے کوئی بات نکالی کہ کفر کا فتوی جاری ہوا اگرچہ ان کا اپنا ہی بنایا ہوا عقیدہ قرآن کریم اور سنت رسول دونوں کے مخالف ہو ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ سب سے زیادہ وزنی دلیل یہ ہے کہ آج تک ہمارے علماء یہ کہتے آئے ہیں آج فلاں کی سمجھ میں یہ کیسے آگیا جبکہ اتنے اتنے بڑے علماء کرام کی سمجھ میں نہ آیا گویا وہی اعتراض جو کفار اور مشرکین مکہ کرتے تھے اس کے سوا ان کو اور کوئی بات میسر نہ آئی اور کفار کے کہے ہوئے جملہ کو بےدھڑک کہنا شروع کردیا ۔ واہ رے زمرہ علماء تمہاری بھی کیا ہی بات ہے ۔ ہم کرتے ہیں آہ تو ہوتے ہیں بدنام جو وہ کرتے ہیں قتل تو چرچا نہیں ہوتا : یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ اولاد تو ماں باپ دونوں ہی سے مل کر پیدا ہوتی ہے اس آیت میں اس کو صرف ماؤں سے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا ۔ ” اس میں اشارہ ہے کہ بچہ کی تولید و تخلیق میں بہ نسبت باپ کے ماں کا دخل زیادہ ہے باپ سے تو صرف ایک قطرہ بےجان نکلتا ہے اس قطرہ پر مختلف قسم کے دور گزرتے ہوئے انسانی شکل میں تبدیل ہونا اور اس میں جان پڑنا قدرت کے ان سارے تخلیقی کارناموں کا محل تو ماں کا پیٹ ہی ہے اسی لئے حدیث میں ماں کے حق کو باپ کے حق پر مقدم رکھا ہے “۔ (معارف القرآن) اگر میتک محمد شفیع صاحب مرحوم سے کوئی پوچھ لیتا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی کسی کی اولاد تھے یا نہیں ؟ اور یہ کہ آپ نے اس تخلیقی قطرہ یعنی ” نطفہ “ کو بےجان کیسے کہہ دیا ؟ تو اس پر کیا فتوی صادر ہوتا ؟ مولانا مرحوم تو اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ہزاروں مولانا ابھی زندہ ہیں کسی مولانا سے پوچھ کر دیکھ لو کہ کیا فتوی ملتا ہے ، ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ، اس جملہ میں بیٹوں کے ساتھ پوتوں کا ذکر فرمانے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس جوڑے بنانے کا اصل مقصد نسل انسانی کی بقاء ہے کہ اولاد اور پھر اولاد ہوتی رہے تو یہ انسان کی بقاء نوعی کا سامان ہے جو ایک طرح سے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان ہے ۔ فرمایا کہ اے انسان ہم نے تجھ کو پیدا کیا تو تیری غذا کا بندوبست بھی کردیا : 83۔ مجموعی طور پر اس آیت میں تین نعمتوں کا ذکر کیا گیا ۔ (1) ۔ یہ کہ اس نے انسان کی زندگی ایک ہی جنس کی دو مختلف صنفوں یعنی مرد اور عورت میں تقسیم کردیا اور پھر ایک کو دوسرے کا ساتھی بنا دیا یعنی ازدواجی زندگی کا نظام قائم کردیا ہے اور اس میں ساری تسکین حیات رکھ دی ہے ، ایک ایسی محبت ‘ طلب صادق فریقین میں رکھ دی ہے کہ اس کی مثال کسی دوسری چیز سے دی ہی نہیں جاسکتی ۔ (2) ۔ یہ کہ ازدواجی زندگی سے خاندانی زندگی پیدا ہوگئی ‘ اولاد پیدا ہوتی ہے پھر ان کی اولاد پیدا ہوتی ہے اور اس طرح ایک دائرہ قریبی رشتہ داروں کا بن جاتا ہے جس کا ہر فرد دوسرے فرد سے وابستہ ہوتا ہے اور پھر اس وابستگی سے اجتماعی زندگی کی ساری برکتیں اور راحتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ (3) ۔ یہ کہ اس کی غذا کے لئے اچھی چیزیں پیدا کردیں جو نہ صرف مفید ہیں بلکہ خوشگوار ہیں ‘ خوش رنگ ہیں ‘ خوشبو ہیں جن کے استعمال سے فرحت و توانائی حاصل ہوتی ہے ۔ ذرا غور کرو کہ کارساز فطرت کی یہ کیسی کرشمہ سازی ہے کہ حالات متفاوت ہیں طبائع متنوع ہیں ‘ اشغال مختلف ہیں ‘ اغراض متضاد ہیں لیکن معیشت کی دل بستگی اور سرگرمی سب کے لئے یکساں ہے اور سب ایک ہی طرح اس کی مشغولیتوں کے لئے جوش وطلب رکھتے ہیں ، مرد و عورت ‘ طفل وجوان ‘ امیر وفقرا و جاہل ‘ قوی و ضعیف ‘ تندرست وبیمار مجرد ومتاہل ‘ حاملہ ومرضعہ سب اپنی اپنی حالتوں میں منہمک ہیں اور کوئی نہیں جس کے لئے زندگی کی کاوشوں میں محویت نہ ہو ‘ امیر اپنے محل کے اندر عیش ونشاط میں اور فقیر اپنی بےسروسامانیوں کی فاقہ مستی میں زندگی کی کرتا ہے لیکن دونوں کے لئے زندگی کی مشغولیتوں میں دل بستگی ہوتی ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کون زیادہ مشغول ہے۔ ایک تاجر جس انہماک کے ساتھ اپنی لاکھوں روپے کی آمدنی کا حساب کرتا ہے اسی طرح ایک مزدور بھی دن بھر کی محنت کے چند پیسے گن لیا کرتا ہے اور دونوں کے لئے یکساں طور پر زندگی محبوب ہوتی ہے ایک حکیم کو دیکھو جو اپنے علم و دانش کی کاوشوں میں غرق ہے اور ایک دہقان کو دیکھو جو دوپہر کی دھوپ میں برہنہ سر ہل جوت رہا ہے اور پھر بتلاؤ کس کی زندگی کی مشغولیتوں میں زیادہ دل بستگی ہے ؟ ایک بار پھر دیکھو کہ بچے کی پیدائش ماں کے لئے کیسی جان کا ہی ومصیبت ہوتی ہے ؟ اس کی پرورش ونگرانی کس طرح خود فروشانہ مشقتوں کا ایک طول طویل سلسلہ ہے ؟ تاہم یہ سارا معاملہ کچھ ایسی خواہشوں اور جذبوں کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے کہ ہر عورت میں ماں بننے کی قدرتی طلب ہے اور ہر ماں پرورش اولاد کے لئے مجنونہ خود فراموشنی رکھتی ہے ، وہ زندگی کا سب سے بڑی دکھ سہے گی اور پھر اسی دکھ میں زندگی کی سب سے بڑی مسرت محسوس کرے گی ! وہ جب اپنی معیشت کی ساری راحتیں قربان کردیتی ہے اور اپنی رگوں کے خون کا ایک ایک قطرہ دودھ بناکر پلا دیتی ہے تو اس کے دل کا ایک ایک ریشہ زندگی کے سب سے بڑے احساس مسرت سے معمور ہوجاتا ہے پھر کاروبار فطرت کے تصرفات دیکھو کہ کس طرح نوع انسانی کے منتشر افراد ‘ اجتماعی زندگی کے بندھنوں سے باہم دگر مربوط کردیئے گئے ہیں ؟ اور کس طرح صلہ رحمی کے رشتہ نے ہر فرد کو سینکڑوں ‘ ہزاروں افراد کے ساتھ جوڑ رکھا ہے ؟ فرض کرو کہ زندگی ومعیشت ان ساری مؤثرات سے خالی ہوتی ‘ ہاں ! قرآن کریم کہتا ہے کہ خالی نہیں ہو سکتی تھی ، اس لئے کہ فطرت کائنات میں رحمت کار فرما ہے اور رحمت کا مقتضی یہی تھا کہ معیشت کی مشقتوں کو خوشگوار بنا دے اور زندگی کے لئے تسکین و راحت کا سامان پیدا کر دے ۔ یہ رحمت کی کرشمہ سازیاں ہیں جنہوں نے رنج میں راحت ‘ الم میں لذت اور سختیوں میں دل پذیری کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ قرآن کریم نے تسکین حیات کے مختلف پہلوؤں پر جا بجا توجہ دلائی ہے ازاں جملہ کائنات خلقت کے مناظر واشیاء کا اختلاف وتنوع ہے ، انسانی طبیعت کا خاصہ ہے ، کہ یکسانی سے اکتاتی ہے اور تبدیلی وتنوع میں خوشگواری وکیفیت محسوس کرتی ہے بس اگر کائنات ہستی میں محض یکسانی ویک رنگی ہی ہوتی تو یہ دلچسپی اور خوشگوار بنا دے اور زندگی کے لئے تسکین و راحت کا سامان پیدا کر دے ۔ یہ رحمت کی کرشمہ سازیاں ہیں جنہوں نے رنج میں راحت ‘ الم میں لذت اور سختیوں میں دل پذیری کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ قرآن کریم نے تسکین حیات کے مختلف پہلوؤں پر جا بجا توجہ دلائی ہے ازاں جملہ کائنات خلقت کے مناظر واشیاء کا اختلاف وتنوع ہے ، انسانی طیعت کا خاصہ ہے ، کہ یکسانی سے اکتاتی ہے اور تبدیلی وتنوع میں خوشگواری وکیفیت محسوس کرتی ہے بس اگر کائنات ہستی میں محض یکسانی ویک رنگی ہی ہوتی تو یہ دلچسپی اور خوشگواری پیدا نہ ہو سکتی جو اس کے ہر گوشہ میں ہمیں نظر آرہی ہے اوقات کا اختلاف ‘ موسموں کا اختلاف ‘ خشکی وتری کا اختلاف ‘ مناظر طبیعت اور اشیائے خلقت کا اختلاف جہاں بیشمار مصلحتیں اور فوائد رکھتا ہے وہاں ایک بڑی مصلحت دنیا کی زیب وزینت اور معیشت کی تسکین و راحت بھی ہے۔ گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن اے ذوق اس جہاں میں ہے زیب اختلاف سے ۔
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

یہ اللہ کے سوا ان ہستیوں کی پوجا کرتے ہیں (حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں) جو آسمان و زمین سے رزق دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتیں اور نہ انہیں کسی بات کا مقدور ہے

تفسیر : اللہ کے سوا ان ہستیوں کو پکارتے ہیں جو خود ہی محتاج رزق ہیں : 84۔ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں ایک وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی بندگی کریں دوسرے وہ جو قبروں میں دفن ہوئے اور جن کے بت تراشے گئے اور دوسرے شجر وحجر وغرگہ سب کے سب جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی ہے ۔ ان میں سے پہلی قسم کے معبود تو اپنے جرم کے باعث مجرمین میں شامل ہوں گے اور انہیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا اور دوسری قسم کے معبود بھی اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لئے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں دیکھ کر ہر وقت شرمندگی محسوس کریں اور اپنی حماقتوں کا ماتم کرتے رہیں اور ان کے علاوہ ایک تیری قسم بھی ہے جنہیں دنیا میں پوجا تو گیا ہے لیکن اس میں خود ان کا اپنا ایمان پر ہرگز نہ تھا کہ ان کی پرستش کی جائے بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ انسانوں کو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے رہے جیسے فرشتے ‘ انبیاء اولیاء اس طرح کے معبود ظاہر ہے کہ ان معبودوں میں شامل نہیں ہوں گے جنہیں اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم رسید کیا جائے گا اگرچہ ان کے بتوں اور قبروں کے مجسموں کو جہنم میں پھینک دیا جانا ممکن ہے ۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

پس دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کر کے اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو اللہ جانتا ہے اور تم کچھ نہیں جانتے

اللہ کے لئے مثالیں نہ گھڑو ‘ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے : 85۔ (آیت) ” فلا تضربوا للہ الامثال “۔ ” پس اللہ کے لئے مثالیں مت گھڑو “ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن اس کے اندر اتنا مضمون قلم بند کردیا گیا ہے کہ اس کو کھول کر رکھا جائے تو ایک دفتر درکار ہے اس کو کہتے ہیں کو زے میں دریا بند کرنا ۔ انسان کی ساری درماندگی اس راہ میں یہ ہے کہ وہ اپنے معیار خیال سے اللہ کا تصور آراستہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے مثالیں تراشتا ہے حالانکہ اس کے سارے تصور اس کے سارے قیاسات ‘ اس کی ساری تمثیلیں ‘ اس کے لئے ٹھوکروں پر ٹھوکریں اور گمراہیوں پر گمراہیاں ہوتی جاتی ہیں وہ اپنی سوچی سمجھی تمثیلوں میں جتنا بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی حقیقت سے دور ہوتا جاتا ہے کیونکہ وہ جتنی بھی تمثلیں بنا تا ہے اپنے ادراک و احساسات کے اندر رہ کر بناتا ہے اور ذات مطلق اس دائرہ کی رسائی سے ماورا ہے ۔ اے بروں از وہم وقال وقیل من : خاک بر فرق من و تمثیل من : جہاں تک تصور الہی کی تنزیہہ کا تعلق ہے قرآن کریم کی ان دو چھوٹی چھوٹی آیتوں میں سب کچھ کہہ دیا گیا ہے جن میں سے ایک آیت تو یہی ہے جو زیر نظر ہے اور دوسری (آیت) ” لیس کمثلہ شیء “ (الشوری 42 : 11) تنزیہہ کے بارے میں تم جو کچھ بھی کہو اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے لئے مثالیں نہ گھڑو ، وہ ان ساری چیزوں میں سے کسی چیز کے بھی مثل نہیں ہے جس کا تم تصور کرسکتے ہو ۔ اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن کریم کے تصور الہی کی تنزیہ کا یہ حال ہے تو پھر کیوں اس نے صفات کا اثبات کیا ہے ؟ صفات کے اثبات کا لازمی نتیجہ تشخص ہے یعنی تصور کی وہ نوعیت جسے انگزیزی میں پرسنل گارڈ (Prasonal Guard) سے تعبیر کیا جاتا ہے اور تشخص پیدا ہوا تو اطلاق باقی نہ رہا اور اس طرح تنزیہہ بھی اپنی بلندی سے نیچے اتر آئی اس لئے کہ اگر تنزیہہ کا مطلب یہ سمجھا جائے تو انسان کے تصور کے لئے کچھ باقی نہیں رہتا ۔ خدا کا تصور محض ایک سلبی تصور ہوجاتا ہے اور سلبی تصور سے خدا پرستی کی زندگی پیدا نہیں ہو سکتی ، خدا کا ایسا تصور اس کی فطرت کے لئے ایک ناقابل برداشت بوجھ ہوجائے گا ، انسان وجدانی طور پر ایک خالق و پروردگار ہستی کا یقین رکھتا ہے اور جب یقین رکھتا ہے تو ناگزیر ہے کہ اس کا تصور بھی کرے اور جب تصور کرے گا تو تشخص کے ساتھ ہی کرے گا ، غیر مشخص اور سلبی حقیقت کا تصور اس کی فطری طاقت سے باہر ہے اور اگر بہ تکلیف ایسا تصور پیدا بھی کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے کوئی زندہ اور عامل تصور نہیں ہو سکتا اور پھر یہ بات کہ اس کی فطرت میں ایک ایسی ہستی کا وجدانی اعتقاد موجود ہے اس بات کا بھی فطری ثبوت ہے کہ اسے اس کا تصور کرنا چاہئے یعنی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ تصور کرے ‘ وہ وجدانی طور پر مجبور ہے کہ ایسا کرے لیکن جب وہ تصور کرے گا تو یہ ایک انسان ہی کا تصور ہوگا ‘ ماورائے انسانیت تصور نہیں ہوگا اور انسانی تصور کرے گا تو یہ ایک انسان ہی کا تصور ہوگا ‘ ماورائے انسانتا تصور نہیں ہوگا اور انسانی تصور تشخص کی پرچھائیں سے منزہ نہیں ہو سکتا ۔ اس تصور کا ولولہ انسان کی فطرت میں کیوں ابل رہا ہے ؟ اس لئے کہ اس کے معنوی ارتقاء کے لئے ایک نسب العین کی ضرورت تھی اور یہ نصب العین اللہ کی ہستی کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا ۔ مخلوقات میں جتنی چیزیں ہیں سب اس سے پست ہیں وہ بلند ہونے کے لئے ان کی طرف نہیں دیکھ سکتا ۔ اسے ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے جو سب سے بلند تر ہو اور زیادہ سے زیادہ بلندیوں تک اسے کھینچنے والی ہو ، یہ صرف اللہ کا تصور ہے اور یہی تصور ہے جو اسکے لئے اڑنے اور اونچے ہونے کا ایک ایسا نصب العین بہم پہنچا دیتا ہے ، جس سے بلند تر کوئی نصب العین نہیں ہو سکتا اور یہاں جو کچھ ہے سب اس سے فروتر ہے یہ اس کے آگے مقام انسانیت کی غیر محدود ترقیوں کی شاہراہ کھول دیتا ہے پس ضروری ہے کہ وہ اپنے سامنے ایک تصور رکھے اور تصور رکھے تو یہ ایک ایجابی تصور ہو محض نفی وسلب نہ ہو ‘ نفی وسلب اسے کچھ نہیں دے سکتا اسے کھینچ نہیں سکتا اسے اپنی آغوش میں نہیں لے سکتا ، سلبی تصور کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ صرف نفی کی جائے ‘ اثبات نہ ہو یعنی کہا جائے وہ ایسا نہیں ہے ، ایسا بھی نہیں ہے اور پھر ایسا بھی نہیں ہے مگر یہ نہ کہا جائے کہ وہ ایسا ہے ‘ ایسا بھی ہے اور ایسا بھی ہے اور اس کا وجدان ایک ایسی ہستی کے لئے تشنہ ہے جو دینے والی ہو ‘ بلانے والی ہو ‘ کھینچنے والی ہو اپنے حسن و جمال کی صفتوں کے اندر سے جھانکنے والی ہو ؟ انسان کی پیاس صرف اس سے نہیں بجھ سکتی کہ اسے بتلا دیا جائے کہ خدا کی ذات ایسی نہیں ہے ‘ ایسی بھی نہیں ہے اس کی طلب والی احتیاج تو کسی ایسے کو ڈھونڈ رہی ہے جو بتائے میں ایسا ہوں اور مجھ میں ایسی ایسی صفتیں ہیں ۔ پھر تمام کائنات ہستی کی پکار کیا ہے ؟ جو انسان کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے ، خود اس کی ہستی کا ایک ایک لمحہ کیا کہہ رہا ہے ؟ کیا ممکن ہے کہ انسان اس کی طرف سے کان بند کرلے ؟ کیا ہو سکتا ہے کہ وہ آنکھیں کھولنے سے انکار کردے ؟ یہاں کی ہرچیز گواہی دے رہی ہے کہ کسی بنانے والے میں بنانے اور سنوارنے کی صفتیں ہیں اور اس کی صفتوں ہی کے ہم نقش ونگار ہیں ، انسان یہ سارے نقش ونگار دیکھتا ہے اور ان میں حقیقتیں پاتا ہے پس ان کا تصور اسے کرنا ہی پڑے گا وہ دیکھا ہے کہ یہاں حسن و جمال ہے اس لئے اسے تصور کرنا ہی پڑے گا کہ اس میں حسن و جمال ہے وہ دیکھتا ہے کہ یہاں پروردگاری ہے اس لئے اسے تصور کرنا ہی پڑے گا کہ وہ پروردگار ہے ۔ پس اس راہ کی ٹھوکر اثبات صفات میں نہ ہوئی اس میں ہوئی کہ صفات کیسی ہونی چاہئیں ؟ ذہن انسانی نے جب کبھی نقشہ کھینچنا چاہا اپنی رسائی فکر کے مطابق تمثیلیں بنائیں اور اس میں گمراہ ہوا انبیاء کرام کی دعوت کا مقصد یہ رہا کہ اس گمراہی سے دنیا کو نجات دلائیں اور صفات الہی کا صحیح تصور پیدا کردیں ۔ قرآن کریم کا تصور الہی اسی لئے تصور کی تکمیل ہے کہ اس نے تیزیہہ کا مقصد بھی پورا کردیا اور صفات الہی کا کامل نقشہ بھی کھینچ دیا اس نے ایک طرف تو ہر طرح کی تمثیل وتجسم کا دروازہ بند کردیا کہ (آیت) ” لا تضربوا اللہ الامثال “۔ اور (آیت) ” لیس کمثلہ شیء “۔ اور دوسری طرف اس کی صفتوں سے بھی ہمیں آشنا کردیا تمام تر ” حسنی “ ہیں یعنی حسن و خوبی کی صفتیں ہیں اور جنہیں ہم کائنات ہستی کے ایک ایک ذرہ سے پوچھ سکتے ہیں اور ایک ایک ذرہ کے منہ سے بھی سکتے ہیں ! (آیت) ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو والملائکۃ واولوا العلم قآئمابالقسط لا الہ ھو العزیز الحکیم “۔ (آل عمران 3 : 18) اس کی تنزیہہ بھی کامل ہے کیونکہ تشبہ اور تجسم کی پرچھائیں بھی برداشت نہیں کرسکتی ۔ اس کی بتلائی ہوئی صفتیں بھی اعلی ہیں کیونکہ سرتاسرحسن ‘ سرتاسر کبریائی اور سرتاسرعظمت و جلال ہیں ۔ اس کی تفصیل پیچھے اس سورت کی آیت 60 اور حاشیہ 188 میں بھی گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔ حقیقت حال اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے : 86۔ چونکہ پہلے بھی لوگ استدلال کرتے رہے اور آج بھی کر رہے ہیں جیسا کہ مشرکین کا ایک مایہ ناز استدلال اس وقت یہی تھا اور اب بھی ہے کہ آخر دنیا کے بادشاہوں کی خدمت میں براہ راست عرض ومعروض کون کرسکتا ہے ؟ درمیانی واسطوں کی عرض بیگیوں کی ‘ امیروں ‘ وزیروں کی ضرورت پڑتی ہے پھر جو سب سلاطین کا سلطان اور شہنشاہ اعظم ہے اس سے براہ راست اور بلاواسطہ تعلق پیدا کرنا کیونکر ممکن ہے اور ہم جو ان مورتیوں ‘ قبروں اور شبیہوں کی اور ان اجرام سماوی کی پرستش کرتے ہیں تو وہ بھی اس لئے کہ وہ رب الارباب کے خادم اور اس کے ہاں مقرب ہیں ۔ حالانکہ استدلال کی خرافت بالکل ظاہر ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی آخر انسان ہی ہوتا ہے اور بشر ہی کے محدود وناقص قوی رکھتا ہے وہ تو اس پر مجبور ہے کہ وہ دوسروں کی اعانت حاصل کرے ، اس کے خلاف کہاں رب العلمین جو ہر قید سے ماورا اور ہر اعتبار سے غیر محدود ‘ ہر حدونہایت سے برتر ہے دونوں کا کوئی مقابلہ ہے ؟ دونوں کے درمیان کوئی نسبت ہے ؟ اس بےنیاز ہستی کو محتاج ہستیوں پر کس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے ؟ مغالطہ قیاس مع الفارق کی اس سے زیادہ کھلی ہوئی مثال اور کیا ہوگی ؟ ایک محدود چیز اور اس غیر محدود طاقت کا آپس میں کیا مقابلہ ؟ کرے کیا کعبہ میں سر بت خانہ سے آگاہ ہے یہاں تو کوئی صورت بھی ہے واں اللہ ہی اللہ ہے ۔