Ayah 16:29کافروں کو قیامت کے روز دوزخ میں داخل ہونے کے متعلق کہا جائے گا :
35۔ سمجھ لینا چاہئے کہ بہشت یا دوزخ جو کچھ ہے انسان کے اپنے عمل کا لازمی نتیجہ ہے جس طرح دنیا کے ہر عمل کا کوئی نہ کوئی لازمی نتیجہ ہے مثلا کھانے کا نتیجہ شکم سیری ‘ پینے کا سیرابی ‘ بھوک کا تکلیف ‘ بیماری کا بےآرامی ‘ گرنے کا چوٹ ‘ زہر کا موت ‘ شہد کا مٹھاس غرض ہر اچھے یا برے فعل کا ایک لازمی جسمانی نتیجہ ہے جو دنیا میں ہمارے عمل کے بعد ہم کو ملتا رہتا ہے اسی طرح ہم کو اپنے اعمال کا ایک روحانی نتیجہ بھی لازمی ملنے والا ہے جو ہم کو اس دوسرے عالم میں ملے گا پھر جس طرح زہر کھا کر مرنے کی ذمہ داری خود ہم ہی پر عائد ہوتی ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم زہر کھا کر مر کیوں گئے یا گرنے سے ہم کو چوٹ کیوں آئی اسی طرح ہم یہ سوال بھی نہیں کرسکتے کہ ہم کو ان اعمال کے بعددوزخ کی سزا کیوں ملے گی کہ دونوں ہمارے اعمال کی یکساں لازمی نتیجے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ہم کو اپنی غایت ورحمت سے ہمارے اعمال کے نتیجوں سے قبل از وقت مطلع فرما دیا ہے ہم کو اس کے نیک بد کی تمیز کا احساس بخشا ‘ عقل عنایت کی ضمیر عطا کیا ‘ پھر ہماری طرف نبی اور رسول بھیجے ‘ شریعت دی ‘ کتاب مرحمت فرمائی اس پر بھی ہم اگر باز نہ آئے اور ان اعمال کا ارتکاب کیا تو اب ہم کو اناعمال کے نتائج سے کون بچا سکتا ہے ۔ اس لئے ارشاد فرمایا کہ ” اب تمہارے لئے یہی ہے کہ جہنم کے دروازوں میں گروہ در گروہ داخل ہوجاؤ تمہیں ہمیشہ کے لئے اس میں رہنا ہے تو دیکھو حق کے مقابلہ میں گھمنڈ کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہے ۔ “
Ayah 16:30تفسیر :
متقی لوگوں سے پوچھا جائے گا تو وہ جواب دیں گے کہ ” اللہ نے حق اتارا تھا “۔
36۔ اور جو لوگ بچتے رہتے ہیں برائیوں سے ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے ؟ تو وہ کہیں گے کہ بڑی خیر نازل فرمائی ہے یعنی جو سرتاسر خیر و برکت ہے۔ متقی لوگ کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جو کفر وشرک سے بچتے رہتے ہیں اور دل سے کلمہ طیبہ کا اقرار کرتے ہیں (بیضاوی) گزشتہ آیت 24 میں آچکا ہے کہ مکذبین قرآن سے جب پوچھا جاتا ہے کہ کیا چیز اتری ہے ؟ تو وہ کہتے ہیں (آیت) ” اساطیر الاولین “۔ یعنی پہلوں کی کہانیاں ہی تو اتری ہیں ۔ اب ٹھیک ان کے مقابل گروہ مومنین کا ذکر ہے کہ جب ان سے قرآن کریم کی بابت سوال کیا جاتا ہے تو وہ جواب میں اسے سرتاسر برکت اور خیر بتاتے ہیں ، اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے ان کے لئے اس دنیا میں بھی نیکی اور بھلائی ہی ہوگی کیونکہ ان کو ان ہی کے کئے کا جو بدلہ ملے گا تو نیکی کا بدلہ بھی تو نیکی اور بھلائی ہی ہوگی اور عالم آخرت تو اور بھی زیادہ ہی بہتر ہوگا ، کیونکہ اس دنیا کی بھلائی سے تو مراد یہاں کی کل نعمتیں ہو سکتی ہیں مثلا فتح اور مال غنیمت ‘ نیک نامی ‘ فارغ البالی ‘ اطمینان قلب وغیرہ اور پھر سب سے بڑھ کر اجر آخرت کا وعدہ وبشارت اور عالم آخرت اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر بہتر اس لحاظ سے ہوگا کہ اول تو وعدہ الہی اجر کے تحقق و ظہور کا مقام وہی ہوگا اور پھر وہاں کی نعمتیں کیا بلحاظ تعداد اور کار بلحاظ دوام و قیام اور کیا بلحاظ کیفیت ونوعیت ‘ دنیا کی نعمتوں سے کوئی نسبت ہی نہ رکھتی ہوں گی اس لئے اہل تقوی کا وہ گھر تو واقعی اچھا ہوگا ۔ اس طرح وہ کتاب جو نبی اعظم وآخر ﷺ پر نازل ہوئی ہے اس نے تمہیں یہ سمجھایا ہے کہ جو لوگ اپنے عقائد اور اعمال کی اصلاح کرلیں گے ان کے لئے اس دنیوی زندگی میں بھی بہتری ہے کہ فتح ونصرت ان کے قدم چومے گی اور سب نیک لوگ دل سے ان کی عزت و تکریم کریں گے اور جب وہ اطاعت الہی کو اپنا شعار بنا لیں گے تو ان پر احسانات ‘ مشاہدات اور الطاف وکرم کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور قیامت تک ان کی جو عزت افزائی کی جائے گی اس کا تو آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ غور کرو جن لوگوں نے اللہ کے دین کی خدمت کے لئے کام کئے یا لوگوں کی بھلائی کے لئے ایجادات کیں انکو گئے ہوئے سینکڑوں سال گزر گئے لیکن ان کے نام آج تک زندہ ہیں اور انشاء اللہ العزیز قیامت تک زندہ رہیں گے ۔
Ayah 16:31تفسیر :
متقی لوگوں کے لئے باغات ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے :
37۔ اس موجودہ دنیا میں بھی گو لذتیں اور مسرتیں ہیں اگر یہ نہ ہوتیں تو آخرت کی لذتوں اور مسرتوں کا کچھ نام ہمارے سامنے نہ آتا جب ہی ان لذتوں اور مسرتوں کا نام ہمارے سامنے لیا جاتا ہے کہ ہم ان سے ایک حد تک واقف ہیں ، مگر ایک چیز یہاں بالکل میسر نہیں وہ کیا ہے ؟ وہ بقائے دوام ہے ، یہاں کی ہر لذت عارضی اور ہر مسرت آنی ہے ، یہاں خوشی کا کوئی ایسا ترانہ نہیں جس کے بعد غم وماتم کا نالہ نہ ہو ‘ یہاں ہر پھول کے ساتھ کانٹے ‘ ہر روشنی کے ساتھ تاریکی ‘ ہر وجود کے ساتھ فنا ‘ ہر سیری کے بعد بھوک ‘ ہر سیربی کے بعد پیاس اور ہر غنا کے بعد محتاجی ہے ۔ انسان ہزاروں مشکلیں اٹھانے اور ہزاروں صدمات سہنے کے بعد ایک مسرت کا پیغام سنتا ہے اور خوشی کا منظر دیکھتا ہے مگر ابھی اس سے سیر ہونے کی بھی نبوت نہیں آتی کہ اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے ، غرض اس موجودہ عالم فانی کی ہر شے آنی جانی ہے اور یہی یہاں کی سب سے بڑی کمی ہے ، لیکن جنت اس مملکت کا نام ہے جہاں کی لذتیں جاودانی اور جہاں کی مسرتیں غیر فانی ہیں ، جہاں حیات ہے مگر موت نہیں ‘ راحت ہے مگر تکلیف نہیں ‘ لذت ہے مگر الم نہیں ‘ مسرت ہے مگر غم نہیں ، جہاں وہ سکون ہے جس کو اضطراب نہیں اور وہ شادمانی ہے کہ اس کے بعد حزن وغم نہیں اور شیطان آدم کے سامنے جو جنت کا نقشہ کھینچتا تھا وہ بالکل صحیح تھا اس نے کہا تھا کہ (آیت) ” ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی “۔ (طہ : 20 : 120) ” کیا میں تجھے ہمیشہ جینے کا درخت اور وہ بادشاہی بتاؤں جس کو فنا نہیں۔ “
زیر نظر آیت میں بھی متقین کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغات کا ذکر ہے فرمایا ان کو جو باغات دیئے جائیں گے ان میں ان کا داخلہ عارضی طور پر نہیں ہوگا بلکہ وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور ان کی خوبصورتی کا یہ عالم ہے کہ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ وہاں جو کچھ چاہیں گے ان کو مل جائے گا اور ان کی کوئی بات ایسی نہیں ہوگی جو وہاں پوری نہ ہو سکے اور اس طرح کا اجر اللہ تعالیٰ اہل تقوی کو دیتا ہے ۔ (آیت) ” لھم فیھا مایشآء ؤن “۔ ایک بڑی گہری اور اصولی حقیقت ان دو مختصر لفظوں کے اندر آگئی ہے ، جنت میں جو ہوا بھی چلے گی وہ سب اہل جنت کی مرضی کے مطابق ہوگی اور جو کچھ بھی جس کسی کا جی چاہے گا سب پورا ہو کر رہے گا ‘ ہر تمنا نکل کر ‘ ہر آرزو حاصل ہو کر رہے گی ، دنیا کی زندگی کی طرح یہ نہیں ہوگا کہ ۔
بہت نکلے میرے آرماں مگر پھر بھی کم نکلے :
لہذا وہاں کی ایک ایک نعمت اور اس کے جزئیات وتفصیلات کہاں تک بیان کئے جاسکتے ہیں بس ایک جامع جواب ہر مذاق اور ہر درجہ کے سائلین کے لئے کافی ہوگیا کہ ” وہاں تمہاری ہر خواہش پوری ہوگی “ لیکن خواہش کیا ہوگی ؟ وہاں چلیں گے تو پتہ چل جائے گا ، ہاں ! وہ جو کچھ بھی ہوگی خیر وہ برکت کی ہوگی کیونکہ وہ جگہ ہی خیر و برکت والوں کی ہے دوسروں کا وہاں گزر بھی نہیں ہوگا ۔
Ayah 16:32متقین کا حال تو اس وقت کھل جائے گا جب ان کی وفات کا وقت قریب آگیا :
38۔ فرمایا کہ نیک لوگوں کی روحوں کو جب فرشتے قبض کرتے ہیں اور چونکہ وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخر وقت تک توحید و ایمان پر قائم رہتے ہیں یہاں ٹھیک ان طبقات کا مقابلہ ہورہا ہے جن کا ذکر پیچھے آیت 28 میں آچکا ہے کہ فرشتے ان کی جانیں نہایت سختی اور عذاب سے نکال رہے ہوں گے اور پھر ان کے مقابلہ میں ” طیبین “ کا ذکر کیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر وشرک اور فسق وفجور کی آلودگیوں سے پاک ہیں ان کی روحیں صحیح معرفت و محبت الہی سے معمور رہتی ہیں اور یہ قدرتا اپنی جانیں بڑے سرور وشوق کے ساتھ جان آفرین کو سپرد کرتے ہیں اور فرشتوں کی آمد پر ان کو ذرا گھبراہٹ نہیں ہوگی بلکہ شاداں وفرحاں اس دنیا سے روانہ ہوں گے ان کے لئے موت آج وصال یار کا مژدہ لے کر آئی ہے جس جمال جاں افروز کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے وہ بےتاب رہا کرتے تھے آج وہ جلوہ نمائی کرنے والا ہے اور فرشتے ان کو آتے ہی السلام علیکم کہتے ہیں یعنی جب ملک الموت ان کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے اے اللہ کے بندے ! اور اے اللہ کے دوست ! تجھ پر سلامتی ہو اللہ بھی تجھ کو سلام فرماتا ہے ‘ غور کرو کہ کتنا خوش بخت ہے وہ انسان جو یہاں سے جب رخت سفر باندھ رہا ہو تو رحمت کے فرشتے اس کے استقبال کے لئے کھڑے ہوں اور اس پر رحمت کے پھول نچھاور کریں کیا ایسے لوگوں کو اس دنیا کی روٹی پانی کی کوئی حاجت باقی رہ جاتی ہے ؟ اگر نہیں تو پھر تم نے یہ فراڈ کیوں چلا رکھا ہے ، قل کی رسم میں طرح طرح کے پھل اور کھانے پکانا اس لئے کہ ان کا ثواب اس کی روح کو ایصال کریں ، وہ تو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے پھلوں اور میووں میں اس قدر خوش اور مست ہے کہ اس کو تمہارے اس بھیجے ہوئے کی ضرورت مطلق نہیں وہ نہ ختم ہونے والے ‘ نہ گلنے سڑنے والے پھلوں کو چھوڑ کر تمہارے ان فانی پھلوں کو آخر کیوں وصول کرے گا اور کیوں ان کی حرص رکھے گا ؟ یہ سارا جھوٹ تو تم نے محض اپنے پیٹ کی خاطر چلا دیا اور اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے مرنے والوں کے لواحقین کی حالت زار پر بھی تم کو رحم نہ آیا ، کتنے بےرحم اور کتنے ڈھیٹ ہو تم نے اس مرنے والے کی حالت کا سارا بیان اپنی آنکھوں سے پڑھ کر اس کو ان دیکھا کردیا اور یہ تیسرے ‘ چوتھے ‘ ساتویں اور دسویں کی تم نے ایسی لائن لگا دی کہ مرنے والوں کے لواحقین کے پیچھے ہی پڑگئے اور تم نے چالیس دن تک اس کا پیچھا نہ چھوڑا جس کو فرشتے جنت کی خوشخبریاں سنا رہے ہیں تم اس کو دوزخ سے بچانے کی راہیں نکال رہے ہو یہ ” ریموٹ کنٹرول “ تمہارے ہاتھ میں کس نے دیا ؟ شرم کرو ‘ ایک روز تم کو بھی مرنا ہے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش ہونا ہے اس وقت کیا جواب دو گے ؟
فرمایا اللہ کے فرستادے فرشے جان نکالنے کے وقت ہی ان کو یہ خوشخبری سنا دیتے ہیں کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ اور تم کو تمہارے اپنے اعمال کے صلہ میں یہ ہبہ کی جارہی ہے اور اب گویا تم اس کے وارث بنا دیئے گئے ہو اور یہ تمہارے اچھے اعمال ہی کا نتیجہ ہے جو وعدہ الہی کے مطابق تم کو پیش کیا جا رہا ہے اب تم نے اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لیا جس کا دنیا میں تم کو وعدہ دیا گیا تھا اور تم نے اس وعدہ الہی پر بن دیکھے جو یقین کیا تھا اب اس کا صلہ بھی وصول کرلو اور یہ صلہ ایسا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے ۔
Ayah 16:33مشرک لوگ اب کس چیز کے انتظار میں ہیں کیا ان کے پاس فرشتے آئیں گے ؟ :
39۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ نے ان کو سمجھانے میں اب کونسی کسر چھوڑی ہے جس کو کوئی دوسرا آکر پورا کرے گا ، کیا روشن دلائل نے انکے شک وشبہ کی ساری تاریکیوں کا خاتمہ نہیں کہا ؟ جب نبوت کا آفتاب ہدایت جگمگا رہا ہے تو یہ لوگ پھر کیوں ایمان نہیں لاتے کیا یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ موت کا فرشتہ آئے اور ان کی روح نکال کرلے جائے یا عذاب الہی اترے اور ان کو خاک سیاہ بنا کر رکھ دے کتنے نادان ہیں یہ لوگ جو اب بھی ہدایت کو قبول نہیں کرتے ، سچ ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں کو نہیں مانتے “۔
جو یہ کہہ رہے ہیں ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کہا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں :
40۔ یہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں بالکل ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کہا تھا جو ان سے پہلے تھے پھر کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ ان کا انجام کیا ہوا تھا ؟ ان پر اللہ نے تو ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ کود ہی تو اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے ، لوگوں کا یہ کہنا آج سے نہیں بلکہ ایک مدت سے ہے کہ اگر اسلام سچا ہے تو ہم جو اسلام کی مخالفت کر رہے ہیں تو پھر ہم تباہ وبرباد کیوں نہیں ہوتے ؟ ان کا یہ سوال و جواب پیچھے سورة بقرہ کی 210 آیت میں گزر چکا ہے ، وہاں فرمایا تھا کہ (آیت) ” ان یاتیھم اللہ فی ضلل من الغمام “۔ اور اس جگہ فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” اویاتی امر ربک “۔ اور ان الفاظ نے کہ (آیت) ” کذلک فعل الذین من قبلھم “۔ اس کی اور بھی تشریح کردی ہے کہ اس طرح پہلے لوگوں نے بھی کہا کیونکہ پہلے لوگ بھی حق کی مخالفت کر کے عذاب استیصال مانگتے تھے یہ مانگنا ان کا منہ سے ہو یا اپنے افعال سے ظاہر ہے کہ اللہ کے آنے سے مراد اس کا خود آنا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ آنے جانے سے پاک ہے بلکہ اس کے آنے سے مراد اس کی سزا کا آنا ہے جس سے کفار کی کوششیں اسلام کے خلاف نیست ونابود ہوجائیں اور مسلمان مظفر ومنصور ہوں جیسا کہ سورة الحشر میں ہے کہ (آیت) ” فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبوا “۔ (الحشر 59 : 2) اللہ ان کے پاس ایسی طرف سے آیا جدھر سے اس کو گمان بھی نہ تھا حالانکہ وہاں ذکر سزائے استیصال کا ہے جیسا کہ پہلے الفاظ سے ظاہر ہے ، اسی طرح اس آیت میں یہود کے مدینہ سے نکالے جانے کو یعنی استیصال اور اسلام کے خلاف ان کی کوشش کے نابود کردینے کو اللہ کے آنے سے تعبیر کیا ہے اور یہی مراد اس جگہ بھی ہے یعنی اللہ کے آنے سے مراد اس امر الہی کا آنا ہے جو ان کی مخالفت کا استیصال کلی کردے (آیت) ” وما ظلمھم اللہ “ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا تھا (آیت) ” ولکن کانوا انفسھم یظلمون “۔ بلکہ وہ آپ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے کہ انہوں نے کفر وعناد پر اصرار کیا تھا جس کے عوض میں انہیں بھی سزا ملنا ضروری تھی اور وہ مل کر ہی رہی ۔
Ayah 16:34جیسے کچھ ان کے اعمال تھے ویسے ہی نتیجے سے وہ دوچار ہوگئے :
41۔ اس طرح ان کے اعمال کی سزائیں ان کو ملیں اور انہیں اس عذاب نے گھیر لیا جس پر وہ تمسخر کرتے تھے ، اس دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ، انبیائے کرام کے تذکرے پڑھو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جب بھی کسی نبی کے مخالفین کی ہلاکت کا وقت آیا تو پہلے انکو بتا دیا گیا کہ اب تمہاری ہلاکت کا متعین وقت قریب آچکا ہے اور پھر جو وقت ان کو بتایا گیا اس سے ایک ذرا بھر بھی تاخیر نہ کی اور وہ اپنے کئے کے نتیجہ سے دو چار ہوگئے ۔
Ayah 16:35مشرکوں کا یہ کہنا کہ اگر ہمارا یہ شرک اللہ کو برا لگتا تو ہم کیسے کرسکتے تھے ؟ :
42۔ مشرکین کہتے تھے کہ اللہ کو اگر ہمارے طریقے ناپسند ہیں تو وہ ہمیں روک نہیں دیتا اس نے ہمیں ان چیزوں پر قدرت ہی کیوں دی ؟ مشرکوں کا یہ قول پیچھے سورة الانعام کی آیت 124 میں گزر چکا ہے اور دوسری جگہوں پر بھی وہ نقل کیا گیا ہے کہ وہ بڑے دھڑلے سے کہتے تھے اگر شرک برائی ہے تو اللہ کیوں ہمیں برائی کرنے دیتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کی جائے تو ایسا نہ ہو سکتا کہ ہم اور ہمارے آباء و اجداد ایسی بات کرسکتے اگر وہ چاہے تو اب بھی وہ ہمیں روک سکتا ہے ، اس شور وہنگامہ کی جگہ جو تم نے بپا کر رکھا ہے کیوں اللہ سے نہیں کہتے کہ ہمیں روک دے ؟ چناچہ اس جگہ بھی ان کا یہی قول نقل کیا ہے اور پھر اس کا جواب دیا ہے فرمایا یہ کوئی نئی بات نہٰں ہے جو انہوں نے کہہ دی پہلے بھی لوگ ایسی ہی روش اختیار کرچکے ہیں لیکن یہ روش گمراہی اور ہٹ دھرمی کی روش ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے رسو اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں سے برائی کرنے کی طاقت صلب کرلیں اور نہیں ایسا بنا دیں کہ برائی کر ہی نہ سکیں وہ تو پیام حق پہنچانے والے ہیں اور پیغام پہنچانے والے کا کام صرف یہ ہے کہ صاف صاف اور روشن طریقہ پر پیغام پہنچا دے ، اب اسے ماننا یا نہ ماننا سننے والوں کا کام ہے پیغام پہنچانے والا اس کے لئے ذمہ دار نہیں اور جب اللہ کی مشیت یہی ہوئی کہ انسان کو کسی ایک حالت پر مجبور نہ کردیا جائے بلکہ ہر طرح کی حالت اختیار کرنے کی قدرت دی جائے تو اللہ کے رسولوں سے کیوں اس کی توقع کی جائے کہ لوگوں سے یہ قوت سلب کرلیں ؟
Ayah 16:36ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو ، لیکن ہدایت پانے والے کم ہی تھے :
43۔ اور بلاشبہ ہم نے ہر ایک امت میں ایک پیغمبر بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان کی راہ سے بچو اور یہ توحید اور دین حق کی تعلیم کوئی نئی تعلیم نہی شروع سے چلی آرہی ہے کیا ہندوستان میں بھی کوئی رسول آیا ؟ یہ سوال بھی گشت کرتا رہتا ہے اگر ہندوستا میں کوئی قوم بستی تو یقینا رسول آیا ہوگا ؟ کیا ہندوسان میں کسی رسول کا آنا اچنبھا لگتا ہے ؟ بات یہ ہے کہ جن انبیاء کرام کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے ان کو نام کے ساتھ نبی ماننا لازم وضروری ہے لیکن جن انبیاء کا نام نہیں لیا گیا اپنی طرف سے یا تاریخی شہادت سے یا لوگوں کے خیال سے کسی نام کی تصدیق کی جاسکتی اور نہ ہی کسی گزشتہ نیک اور صالح انسان کے نام لینے سے یہ لازم آتا ہے کہ اس نام کے انسان کو ضرور نبی مان ہی لیاجائے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے علاوہ بھی اللہ کے نیک بندے پیدا ہوتے رہے ہیں اور وہ اسلام کی تعلیم وتبلیغ بھی کرتے رہے ہیں اس لئے اس بات کو باعث نزاع بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ، اسی طرح خود نبی اعظم وآخر ﷺ کا نبی ورسول بن کر آنا کوئی اچنبھا نہیں ہے آپ ﷺ سے پہلے بھی انبیاء کرام تشریف لائے ہیں اور انہوں نے آکر لوگوں کو یہی دعوت دی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور گمراہی وضلالت کے سرغنوں سے دور رہو ‘ اس میں تمہاری سلامتی ہے اور یہی فلاح کی راہ ہے ۔
” طاغوت “ طغیان ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں خواہ وہ خود سرکش ہوں یا سرکش بنا دیئے یا بنائے گئے ہوں اور اس کا اطلاق ہر سرکش ‘ گمراہ متمرد اور ضلالت کے سرغنہ پر ہوتا ہے اور اس طرح شیطان ‘ کاہن ‘ بت ‘ جبت اور تھان وغیرہ سب کو طاغوت کہا جاتا ہے ، انبیاء کرام نے ہمیشہ ” طاغوت “ سے بچنے کی ہدایت دی اور قوم کو بتایا کہ ان سے بچ کر ہی تم اللہ کے فرمانبردار بندے بن سکتے ہو ، پھر انبیاء کرام کے آنے کا نتیجہ کیا رہا ؟ انبیاء کرام کی آمد کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرما دی اور بعض کے مقدر میں گمراہی لکھ دی ، یہ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا گیا ، بعض کو ہدایت کیوں دی گئی اور بعض کو گمراہ کیوں کردیا گیا ، اس کے متعلق بنیادی چیز یہ ہے کہ ہدایت دینا یا گمراہ کرنا محض اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ، لیکن اس نے ہدایت دینے یا گمراہ کرنے کے لئے ایک اصول مقرر فرما دیا ہے وہ یہ کہ جب انبیاء کرام اپنی اپنی قوم کو پیغام ہدایت سناتے ہیں اور انہیں ان کی غلط روی پر ٹوکتے ہیں تو ساری قوم کا رد عمل یکساں نہیں ہوتا بعض ان میں سے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے نبی کی دعوت پر غور کرتے ہیں اور اپنے عقائد و اعمال کو عقل سلیم کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور جب ان کا بطلان آشکارا ہوجاتا ہے تو وہ ان سے دست کش ہونے کی کوشش کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے دلوں کو نور ہدایت سے منور کردیتا ہے قرآن کریم میں کئی مرتبہ اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سورة رعد کی 27 میں پیچھے گزر چکا اور بعض دوسرے لوگ ہوتے ہیں جو انبیاء کرام کی دعوت کو لائق اعتناء ہی نہیں سمجھتے اور ان کے اخلاص وایثار کا مذاق اڑاتے ہیں حق کی روشن دلیلیں دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں ایسے لوگوں کے مقدر میں گمراہی لکھ دی جاتی ہے اس حقیقت کو بھی قرآن کریم نے بارہا وضاحت سے بیان کیا ہے جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” ویضل اللہ الظالمین “۔ جو ظلم کی روش اختیار کرتے ہیں اللہ انہیں گمراہ کردیتا ہے گویا اللہ کا یہ اصول ہے کہ جس کے دل میں ہدایت کی طلب پیدا ہوتی ہے اسے ہدایت کا انعام بخشا جاتا ہے اور جو دانستہ حق کا انکار کرے اور پاغلم ہدایت کو سمجھنے کے بعد بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو اسے گمراہ کردیا جاتا ہے ، پھر فرمایا کہ جو لوگ ہمارے رسولوں کی تکذیب کرتے رہے ہیں اور ہمارے کلام کو جھٹلاتے رہے اور معجزات کو سحر ونظر بندی کہتے رہے ان کو آخر کار تباہی سے دو چار ہونا پڑا ، تم مختلف ملکوں کی سیر و سیاحت کرو ان کے اجڑے ہوئے شہروں اور ویران کھنڈروں سے انکی بربادی کی داستان سن لو وہ بزبان حال پکار پکار کر ان کے کرتوتوں کی نشاندہی کریں گے اور تم کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ جس ترقی کے دور پر آج ہم نازاں ہیں اس طرح کی ترقیوں کے کتنے ہی دور ہیں جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں ۔
Ayah 16:37آپ ﷺ ان لوگوں کی ہدایت کے کتنے ہی حریص ہوں لیکن راہ ہدایت ان کو نہیں ملے گی :
44۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا عجیب حال ہے تمہاری نبوت کی آزمائش کے لئے بہت سوچ سمجھ کر اور مشورے کرکے جو مطالبہ انہوں نے کیا تھا اسے تم نے بھری محفل میں برجستہ پورا کردیا اب شاید تم متوقع ہوگئے کہ اس کے بعد تو انہیں یہ تسلیم کرلینے میں کوئی تامل نہیں رہے گا کہ تم یہ قرآن خود تصنیف نہیں کرتے بلکہ واقعی تم پر وحی آتی ہے مگر یقین جانو کہ یہ لوگ اب بھی نہیں مانیں گے اور اپنے انکار پر جمے رہنے کے لئے کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے کیونکہ ان کے نہ ماننے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری صداقت کا اطمینان حاصل کرنے کے لئے یہ کھلے دل سے کوئی معقول دلیل چاہتے تھے اور وہ ابھی تک انہیں نہیں ملی بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہاری بات یہ ماننے چاہتے نہیں اس لئے ان کو تلاش دراصل ماننے کے لئے کسی دلیل کی نہیں بلکہ نہ ماننے کے لئے کسی بہانے کی ہے ۔ اس کلام سے مقصود نبی کریم ﷺ کی کسی غلط فہمی کو رفع کرنا نہیں ہے اگرچہ بظاہر خطاب آپ ﷺ ہی سے ہے لیکن اس کا اصل مقصد مخاطب گروہ کو جس کے مجمع میں یہ تقریر کی جارہی تھی ایک نہایت لطیف وبلیغ طریقہ سے اس کی ہٹ دھرمی پر متنبہ کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ جو شخص خود ہدایت پانے کی کوشش نہ کرے بلکہ گمراہی کی طرف دوڑ دوڑ کر جائے اس کو کوئی نہیں جو ہدایت کی طرف پھیر کرلے آئے اور نہ ہی سنت اللہ اس طرح واقع ہوئی ہے کہ لوگوں کو پیچھے لگ کر بزور ان کو ہدایت پر لا کھڑا کیا جائے جب کہ وہ خود ہدایت کی طرف نہ آنا چاہتے ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ان لوگوں کا کبھی ساتھ نہیں دیتی جو خود راہ ہدایت سے بھاگ رہے ہوں ۔
Ayah 16:38یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ” دوبارہ اٹھائے جانے والی بات ممکن نہیں “ :
45۔ قیامت اپنے اندر کتنی ہی شان دار حقیقت رکھتی ہے لیکن اہل عرب کو توحید کے بعد جس عقیدہ سے شدت کے انکار تھا جس کے ماننے پر وہ کسی طرح آمادہ نہیں ہوتے تھے اور جو انکی عقل میں کسی طرح نہیں سماتا تھا وہ یہی قیامت اور حشر ونشر کا مسئلہ ہے جاہل عرب حیات بعد الموت خدا کے آگے اپنے اعمال کے مواخذہ اور پرسش اور سزا وجزا سے قطعا لا علم تھے اس لئے ان کو اعمال کے خیر وشر اور نیکی وبدی میں وہ تمیز نہ تھی جس پر اخلاق ومعاملات کا تمامتر دارومدار ہے ، عرب کا ایک شاعر نبی کریم ﷺ کی اس تعلیم کو سن کر تعجب سے کہتا ہے ۔
اموت ثم بعث ثم حشر حدیث خرافۃ یا ام عمر
” کیا موت ہے ‘ پھر جی اٹھنا ہے ‘ پھر اکٹھا ہونا ہے : اے ام عمر (شاعر کی بیوی کا نام) یہ سب خرافات باتیں ہی تو ہیں “۔
ایک دوسرا شاعر کہتا ہے کہ :
یحدثنا النبی بان سخی وکیف حیاۃ اصداء وھام :
” یہ نبی ہم سے کہتا ہے کہ ہم پھر زندہ کئے جائیں گے حالانکہ صدی اور ہام ہو کر پھر زندگی کیسی ؟ “ (بخاری جلد اول باب الحجرہ ص 558)
ان کا عقیدہ تھا کہ انسان مر کر پرندہ ہوجاتا ہے اور آواز دیتا پھرتا ہے ‘ اس کا نام ان کے ہاں ” صدی “ اور ” ہام “ تھا ، قرآن کریم نے ان کے یہ اقوال بکثرت نقل کئے ہیں ، مثلا ارشاد ہوتا ہے کہ :
” کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو یہ لوٹنا تو بہت دور کی بات ہے ۔ “ (ق 50 : 3) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” انہوں نے کہا کہ یہی ہماری موجودہ زندگی ہے دوسری نہیں ‘ مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہم کو مارتا ہے ۔ “ (الانعام : 6 : 29) ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
” ان سڑی گلی ہڈیوں کو کون جلائے گا ؟ “ (یس 36 : 58) ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
” اور انہوں نے کہا کہ یہی ہماری موجودہ زندگی ہے دوسری نہیں ، مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہم کو مارتا ہے ۔ “ (الجاثیہ 45 : 24)
مختصر یہ کہ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ یہ دنیا اسی قائم رہے گی ‘ موت وحیات کا سلسلہ بھی اسی طرح برابر جاری رہے گا اور اس دنیاوی زندگی کے علاوہ کوئی دوسری زندگی نہیں ہے ۔
خباب بن الارت ؓ نہایت قدیم مسلمانوں میں سے ہیں ، یہ لوہاری کا پیشہ کرتے تھے ان کے کچھ دام قریش کے ایک رئیس عاص بن وائل پر واجب الادا تھے وہ جب جا کر تقاضا کرتے تو عاص کہتا کہ جب تک تم محمد ﷺ کا انکار نہ کرو گے میں تم کو کچھ نہ دوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم مر کر پھر نہ جیو ‘ اس نے کہا کیا مجھے مر کر پھر جینا بھی ہے ؟ انہوں نے کہا ‘ بلاشبہ تو اس نے مذاق کرتے ہوئے کہا تو اچھا پھر وہی میرا مال و دولت اور سروسامان بھی ہوگا ‘ وہی تم دام بھی لے لینا ، (صحیح بخاری کتاب التفسیر سورة الکہف ص 691)
اس سے اندازہ ہوگا کہ اس بارہ میں اہل عرب کا کفر کتنا شدید تھا اس لئے نبی اعظم وآخر ﷺ نے ان کے سامنے توحید الہی کے بعد جس عقیدہ کو سب سے زیادہ زور کے ساتھ پیش کیا وہ یہی تھا چناچہ قرآن کریم کی کل سورتوں میں سب سے زیادہ اس مضمون کو مختلف تعبیروں اور مؤثر طریقوں سے روز مرہ کے مشاہدات اور دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے اس میں ہیبت الہی ‘ ہنگامہ قیامت اور حشر ونشر کے معاملات کی ایسی تصویر کھینچی ہے کہ سننے والا سرتا پا متاثر ہوجائے اس نے اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت اور کائنات کی حیرت انگیز خلقت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ سامع ہر قدم پر لرزہ براندام ہوجاتا ہے اور عذاب الہی کی تہدید کا ایسا ہولناک نقشہ کھینچا ہے کہ نفس انسانی اپنے تاثر کو چھپانے پر قادر نہیں رہتا ۔ زیر نظر آیت میں بھی اس چیز کا ذکر ہے کہ وہ سخت قسمیں کھاتے ہیں جو شخص مرگیا وہ کبھی دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا ‘ ارشاد ہوا کہ کیوں نہیں ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور یقینا ایسا ہوگا ہاں یہ بات صحیح ہے کہ یہ بات اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی اس لئے وہ اس کا انکار کردیتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر سمجھ میں نہ آنے والی بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
ایک بار پھر غور کرلو کہ قرآن کریم کہتا ہے اے انسان ! تیری یہ زندگی صرف اتنی ہی نہیں ہے جتنی تو دنیا میں بسر کرتا ہے بلکہ اس کے بعد بھی ایک زندگی ہے اور اس زندگی میں جزاء عمل کا معاملہ پیش آنے والا ہے ، تمام مذاہب عالم کا عالمگیر اعتقاد ہے لیکن مشرکین عرب اس سے بالکل بیخبر تھے اس لئے جب قرآن کریم نے آخرت کی زندگی اور حشر اجساد کا اعلان کیا تو انہیں بڑی ہی عجیب بات معلوم ہوئی وہ کہتے تھے جب آدمی مر گیا تو مر گیا پھر اس کے بعد زندگی کیسے ہو سکتی ہے ؟ چناچہ قرآن کریم نے جا بجا ان کے اقوال نقل کئے ہیں اور جواب دیا ہے یہاں بھی آیت 38 میں فرمایا لوگ یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اللہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا ، لیکن نہیں جانتے کہ اللہ کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کا وعدہ ہے یعنی اس کی ٹھہرائی ہوئی بات ہے اور ضروری ہے کہ ظہور میں آئے ، یہ اس کا وعدہ کیونکر ہے ؟ اس طرح کہ خود دنیوی زندگی کی ہر بات کہہ رہی ہے کہ اسے ایسا کرنا ہے اور وہ ضرور کرے گا چناچہ اس جگہ فرمایا (آیت) ” لیبین لھم الذی یختلفون فیہ ولیعلم الذین کفروا انھم کانوا کاذبین “۔ تاکہ جن حقیقتوں کو انسان دنیا میں ذکر کرتا ہے اور اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا فیصلہ ہوجائے اور حقیقت سب کے سامنے آجائے نیز اس لئے کہ گمراہ اور بدعمل اپنی گمراہی اور سرکشی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گویا دنیوی زندگی میں پردوں کا نہ اٹھنا اور مشاہدہ حقیقت کا نہ ہونا بلا رہا ہے کہ کوئی اور زندگی ضرور ہے جہاں وہ اٹھیں گے پس یہ صورت حال گویا خالق ہستی کی طرف سے ایک وعدہ ہوئی کہ اب نہیں تو آئندہ ایسا ہونے والا ہے اور ضروری ہے کہ وہ وعدہ الہی پورا ہو کر رہے ۔
Ayah 16:39جن باتوں میں لوگ شک کرتے ہیں انہی کو کھولنے کے لئے قیامت قائم ہوگی :
46۔ زیر نظر آیت حیات بعد الموت اور قیام حشر کی عقلی اور اخلاقی ضرورت ہے ، دنیا میں جب سے انسان پیدا ہوا ہے ، ۔
حقیقت کے بارے میں بیشمار اختلافات رونما ہوئے نہیں اختلافات کی بنا پر نسلوں اور قوموں اور خاندانوں میں پھوٹ پڑی ہے ، انہی کی بناء پر مختلف نظریات رکھنے والوں نے اپنے الگ مذہب ‘ الگ معاشرے ‘ الگ تمدن بنائے یا اختیار کئے ہیں ایک ایک نظرئیے کی حمایت اور وکالت میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں نے مختلف زمانوں میں جان ‘ مال آبرو ‘ ہرچیز کی بازی لگا دی ہے اور بیشمار مواقع پر ان مختلف نظریات کے حامیوں میں ایسا سخت کشاکشی ہوئی ہے کہ ایک نے دوسرے کو بالکل مٹا دینے کی کوشش کی ہے اور مٹنے والے نے مٹتے مٹتے بھی اپنا نقطہ نظر نہیں چھوڑا ہے ، عقل چاہتی ہے کہ ایسے اہم اور سیدہ اختلافات کے متعلق کبھی تو صحیح اور یقینی طور پر معلوم ہو کہ فی الواقع ان کے اندر حق کیا تھا اور باطل کیا ؟ راستی پر کون تھا اور ناراستی پر کون ؟ اس دنیا میں تو کوئی امکان اس پردے کے اٹھنے کا نظر نہیں آتا ۔ بلاشبہ عمل مکافات موجود ہے اور اس سے انسان دو چار بھی ہوتا ہے لیکن جو وضاحت مطلوب ہے وہ اس سے حاصل نہیں ۔
اس دنیا کا نظام ہی کچھ ایسا ہے کہ اس میں حقیقت پر سے پردہ اٹھ نہیں سکتا اور یہ نظام اس طرح کا ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے بعد کوئی دوسرا نظام ہو اگر وہ نہ ہوتا تو یقینا اس دنیا کا نظام بھی اس طرح قائم نہ ہوتا ، لہذا لامحالہ عقل کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لئے ایک دوسرا ہی عالم درکار ہے اور پھر یہ صرف عقل ہی کا تقاضا نہیں ہے بلکہ اخلاق کا تقاضا بھی ہے کیونکہ ان اختلافات اور ان کش مکشوں میں بہت فریقوں نے حصہ لیا ہے ‘ کس نے ظلم کیا ہے اور کس نے ظلم سہا ہے ، کس نے قربانیاں کی ہیں اور کس نے ان قربانیوں کو وصول کیا ہے ، ہر ایک نے اپنے نظریئے کے مطابق ایک اخلاقی فلسفہ اور ایک اخلاقی رویہ اختیار کیا ہے اور اسی سے ابروں اور کھربوں انسانوں کی زندگیاں برے یا بھلے طور پر متاثر ہوئی ہیں ، آخر کوئی دقت تو ہونا چاہئے کہ ان سب کا اخلاقی نتیجہ صلے یا سزا کی شکل میں ظاہر ہو ، اس دنیا کا نظام اگر صحیح اور مکمل اخلاقی نتائج کے ظہور کا متحمل نہیں ہے تو ایک دوسری دنیا ہونی چاہئے جہاں یہ نتائج ظاہر ہو سکیں اور یہی بات زیر نظر آیت میں بیان ہوئی ہے ۔
Ayah 16:40جب ہم کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کو حکم دیتے ہیں اور وہ ہوجاتا ہے :
47۔ لوگوں کو اس قیامت کے متعلق یقین کیوں نہیں آتا ؟ اس لئے کہ ان کے نزدیک ایسا ہونا ناممکن ہے انہیں بتایا گیا ہے کہ قیامت برپا کرنے والا ان جیسا کوئی نہیں ہے جس کا علم بھی ادھورا ہو اور قدرت بھی ناقص ہو بلکہ قیامت کا وقوع اس خداوند ذوالجلال کے حکم سے ہوگا جو ہرچیز پر قادر ہے یعنی اس نے ہرچیز کے لئے ایک بندھن باندھ دیا ہے اور اس کے مطابق کام ہو رہا ہے وہ قانون کیا ہے فرمایا وہ کلمہ ” کن “ ہے کہ وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے کہ وہ ہو تو وہ ہوجاتی ہے گویا اس کے علم میں جس چیز کا ہونا طے ہے وہ ممکن نہیں کہ نہ ہو یقینا وہ ہو کر رہتی ہے اور یہی ارادہ ہی اس کا کلمہ کن ہے ، ہاں ! یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ وہ ذات ایسی ” لائی لگ “ نہیں کہ ایک دوسرے کے متضاد حکم صادر کرتی ہو اور جس طرف کوئی اس کو پھیرنا چاہے وہ خود بخود ساتھ پھرتی جاتی ہو ، اس کے پاس اصول اٹل اور امٹ ہیں جو کسی کے ٹالے نہ ٹلتے اور کسی کے مٹانے سے نہ مٹتے ہیں ، یہ بات اس لئے عرض کرنا پڑی کہ لوگوں نے اس آیت کو ایک مذاق بنا رکھا ہے کہ خود بےاصولیاں اور ناسمجھی کی باتیں کرتے ہیں اور پھر جب عقل جواب دے جاتی ہے اور اپنے کئے کی تفہیم کرانا ان سے ممکن نہیں رہتی تو وہ فورا یہ آیت تلاوت کرتے ہیں کہ دیکھو اللہ قادر ہے اس کے کلمہ کن سے سب کچھ ہوتا ہے پھر وہاں کسی اصول کی بات آخر کیوں ؟ کیا خدا بھی کسی اصول کا پابند ہو سکتا ہے یا اس کا بھی کوئی اصول ہے ؟ ان بےاصولوں اور جاہلوں نے خدا کو ایک بےاصول اور اندھی طاقت سمجھ رکھا ہے یا ایسا بادشاہوں کا بادشاہ جس کے نزدیک قانون کوئی چیز نہ ہو ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نہ تو بےاصولا ہو سکتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کا گمان ہے اور نہ ہی کوئی اندھی طاقت کا نام ہے ہاں ! اس کے کلمہ کن ہی سے سارے عالم کا نظام قائم ہے اور اسی طرح قائم ہے کہ اس میں کبھی ردوبدل کی ضرورت نہ پیش آتی ہے اور نہ ہی کبھی آئے گی اور اس کے کلمہ کن کے سوا کوئی پتہ نہیں جو درخت سے گر سکے یا درخت پر اگ آئے اور سارے کام اس کے ارادہ سے ہو رہے ہیں اور باقاعدہ ایک نظم کے تحت ہو رہے ہیں جو کبھی بھی اس کے خلاف نہیں ہوتے نہ ہی کوئی اس کا امکان ہے اور یہی اس کی طاقت وقوت کے اظہار کی سب سے بڑی اور سب سے اہم نشانی ہے ۔
Ayah 16:41جن لوگوں نے ظلم کو برداشت کیا اور ہجرت کی اللہ ان کو ٹھکانا دے گا یہ اس کا وعدہ ہے :
48۔ گزشتہ آیت میں جس ارادہ کا ذکر کیا تھا زیر نظر آیت میں اس ارادہ کے پورا کرنے کی ایک حتمی بات بتا دی اور اس کا قبل از وقت اعلان کردیا تاکہ دنیا کے سارے لوگ مل کر کوشش کرلیں کہ اس کے ارادہ کو کوئی ٹال سکتا ہے تو ٹال کر دیکھ لے اور اپنا زور آزما لے شاید اس طرح ہی اس کو یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ارادہ اپنے کسی اصول کے خلاف نہیں جس کا اس نے پہلے ہی سے اعلان کردیا ہو ، فرمایا سن رکھو ہمارا قانون یہ ہے کہ وہ لوگ جو ہم پر ایمان لانے کے جرم کی پاداش میں قوم کے ظلم وستم کا نشانہ بنے یہاں تک کہ انہیں ان کے گھروں سے بھی نکال دیا گیا ہم ان کی اس قربانی اور ایثار کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے بلکہ اس دنیا میں بھی ان کو بہترین رہائش گاہ ملے گی اور اس کے علاوہ دارآخرت میں بھی ان کی جو عزت افزائیاں اور پذیرائیاں ہوں گی ان کو تو یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ، یہ گزشتہ کلمہ کن کی تشریح فرماتے ہوئے قبل از وقت اعلان فرما دیا پھر ذرا غور کرو کہ مکہ والوں نے اپنی مشاورتی کمیٹی میں اکثریت رائے سے نہیں بلکہ اتفاق رائے سے یہ طے کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اب زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا ، اعلان الہی یہ تھا کہ جو شخص ہجرت کا ارادہ کرلے ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں اس طرح مکہ والوں کی اتفاق رائے سے پاس ہونے والی بات اعلان الہی کے متصادم ہوگئی اور اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ اللہ نے ہجرت کا ارادہ کرنے والے محمد رسول اللہ ﷺ کو مدینہ طیبہ جیسی پاک بستی کی طرف نکل جانے کا حکم دیا کہ وہ بستی آپ کا مسکن ہوگی اور وہی ہوا کہ اللہ نے مکہ سے ہزاروں درجہ بہتر دنیا کے اندر ہی محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو ٹھکانا دیا اور پھر فتح ونصرت آپ ﷺ پر سایہ فگن ہوگئی اور کچھ زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ وہی ظالم مغلوب ومقہور ہو کر آپ ﷺ کے سامنے پیش کردیئے گئے اور مدینہ طیبہ میں اللہ نے رزق کی وہ فراوانی عطا فرمائی کہ چند ہی سال گزرے تھے کہ رزق وہاں وافر ہوگیا یہ دنیاکا حال تھا جو لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آج ہمارے کانوں نے بھی اس کو سنا اور اپنے تو اپنے غیروں نے بھی اس کا اعتراف کیا اور آخرت کے وعدے بھی انشاء اللہ العزیز اسی طرح پورے ہوں گے کیونکہ یہ اعلان الہی کی دوسری شق ہے کہ ارشاد ہوا (آیت) ” والاجرالاخرۃ اکبر “۔ کہ آخرت کا اجر تو بہت ہی بڑا ہے ‘ کاش کہ علمائے اسلام بھی اس بات کو سمجھیں اور عوام کو یاد کرائیں کہ اللہ کا وعدہ آج تک کبھی غلط نہیں ہوا اور نہ ہی اس کوئی امکان ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا اتنا پابند ہے کہ وہ کبھی ان کے خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ہونے دیتا ہے اور یہی نشانی ہے اس کے طاقتور ہونے کی کہ اس سے بڑھ کر کوئی طاقت وقوت کا مالک نہیں ہے۔
Ayah 16:42جو لوگ ثابت قدم رہے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں :
49۔ صبر کی حقیقت پر عوام کی غلط فہمی نے تو بر تو پردے ڈال رکھے ہیں وہ ان کے نزدیک بےبس وبے کسی کی ایک تصویر ہے اور اس کے معنی اپنے دشمن سے کسی مجبور کے سبب سے انتقام نہ لے سکنا کے بتاتے ہیں ‘ لیکن کیا واقعہ یہی ہے ؟ ” صبر “ کے لغوی معنی روکنے اور سہارنے کے ہیں یعنی اپنے نفس کو اضطراب اور گھبراہٹ سے روکنا اور اس کو اپنی جگہ ثابت قدم رکھنا اور یہی صبر کے معنی میں حقیقت بھی ہے یعنی اس کے معنی بےاختیاری کی خاموشی اور انتقام نہ لے سکنے کی مجبور کے نہیں بلکہ پامردی ‘ دل کی مضبوطی ‘ اخلاقی جرات اور ثابت قدمی کے ہیں ، غور کرو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کے قصہ میں ایک ہی آیت میں تین جگہ یہ لفظ آیا ہے اور ہر جگہ یہی معنی مراد ہیں ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ ” تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے “۔ ” کیسے اس بات پر صبر کرسکتے ہو جس کا علم تمہیں نہیں ہے “ ” اگر اللہ نے چاہا تو مجھے صابر پائیں گے ۔ “ ظاہر ہے کہ اس صبر سے مقصود لاعلمی کی حالت میں غیر معمولی واقعات کے پیش آنے سے دل میں اضطراب اور بےچینی کا پیدا نہ ہونا ہے ۔
قرآن کریم میں صبر کا لفظ اس ایک معنی میں مستعمل ہوا ہے گو حالات کے تغیر سے اس کے مفہوم میں کہیں کہیں ذرا ذرا فرق پیدا ہوگیا ہے بایں ہمہ ان سب کو مرجع ایک ہی ہے یعنی ثابت قدمی اور استقامت ، صبر کے یہ مختلف مفہوم جن میں قرآن کریم نے اس کو استعمال کیا ہے درج ذیل ہیں :
1۔ ہر قسم کی تکلیف اٹھا کر اور اپنے مقصد پر جمے رہ کر کامیابی کے وقت کا انتظار کرنا ۔
2۔ مصیبتوں اور مشکلوں میں اضطراب اور بےقراری نہ ہو بلکہ ان کو اللہ کا حکم اور مصلحت سمجھ کر خوشی خوشی جھیلا جائے ۔
3۔ منزل مقصود کی راہ میں جو مشکلیں اور خطرے پیش آئیں ‘ دشمن جو تکلیفیں پہنچائیں اور مخالفین جو طعن وطنز کریں ‘ ان میں کسی چیز کو خاطر میں نہ لایا جائے اور ان سے بددل اور پست ہمت ہونے کی بجائے اور زیادہ استقلال اور استواری پیدا ہو ۔
4۔ برائی کرنے والوں کی برائی کو نظر انداز اور جو بدخواہی سے پیش آئے اور تکلیفیں دے اس کے قصور کو معاف کیا جائے یعنی تحمل اور برداشت میں اخلاقی پامردی دکھائی جائے ۔
5۔ لڑائی پیش آجانے کی صورت میں میدان جنگ میں بہادرانہ استقامت اور ثابت قدمی دکھائی جائے ۔
زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” وہ لوگ جو ہر طرح کی مصیبتوں میں ثابت قدم رہے اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اپنا کام پورے دھیان سے کرتے ہیں حالات خواہ کچھ ہوں ، اس جگہ اس کی تلقین کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ مخالفت جب حد سے بڑھ گئی اور مخالفین کی ایذاؤں اور تکلیفوں کا سلسلہ روز بروز بڑھتا گیا تو مسلمانوں پر زندہ رہنا دشوار ہوگیا تو پیغمبر اسلام نے اجازت دے دی کہ حبش یعنی ابی سینا کی طرف ہجرت کر جائیں چناچہ پہلے بارہ مرد اور چار عورتوں کا قافلہ مکہ سے نکلا جس کے رئیس حضرت عثمان بن عفان ؓ تھے اس کے بعد اور لوگ نکلے جن کی تعداد 73 مردوں اور 18 عورتوں تک پہنچ گئی ، تاریخ اسلام کی یہ پہلی ہجرت ہے اور دوسری ہجرت یثرب کی ہجرت تھی آیت 41 ‘ 42 میں جن مہاجرین کا ذکر کیا ہے اس سے مقصود ابی سینا کے مہاجرین ہیں ، فرمایا انہوں نے اللہ کی سچائی کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا ہے اور ہجرت کی مصیبتیں برداشت کی ہیں تو ضروری ہے کہ اللہ ان کا مددگار ہو اور ان کے لئے دنیا میں ایک اچھا ٹھکانا پیدا کر دے ، چناچہ دنیا میں ان کا پہلا ٹھکانہ ابی سینا اور دوسرا اور آخری ٹھکانہ ان مہاجرین کا مدینہ قرار پایا جس کی طرف آپ (علیہ السلام) نے بھی ہجرت کی :
Ayah 16:43ہر آنے والا رسول مرد تھا کسی فرشتہ کو رسول بنا کر کسی قوم کی طرف نہیں بھیجا گیا :
50۔ منکرین رسالت کے کتنے ہی گروہ تھے ، بعض نے تو فی نفسہ نبوت کا انکار کیا اور بعض نے بشر کے رسول ہونے سے انکار کیا اس جگہ انہیں لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے بشر کے رسول ہونے سے انکار کیا تھا ان سے کہا جارہا ہے کہ تم نے یہ عقیدہ کہاں سے اخذ کیا کہ ” اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بڑی بلند ہے کہ وہ کسی بشر کو اپنا رسول بنا کر بھیجے اگر اسے کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو اس کے پاس فرشتوں کی کیا کمی تھی کسی فرشتہ ہی کو رسول بنا کر بھیج دیتا ۔ “ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارا تو شروع ہی سے یہ دستور ہے کہ جب ہم قوموں کی ہدایت کے لئے قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجتے ہیں تو انسانون ہی میں سے ایک انسان کو وہ بھی خصوصا مرد کو اس خدمت پر مامور کرتے ہیں ، اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کوئی پہلے نبی تو نہیں آپ ﷺ سے پہلے بھی ہمارے رسول تشریف لاتے رہے اور وہ سب کے سب نوع انسانی کے فرد تھے ، اے کافر ! اگر تم اس مسئلہ کی مزید تحقیق کرنا چاہتے ہو تو کسی صاحب علم سے پوچھ لو وہ تمہیں بتائے گا کہ نبی کی بعثت کا اصل مقصد افہام و تفہیم ہے اور یہ مقصد تب ہی پورا ہو سکتا ہے جب کہ رسول بھی ایک انسان ہو ، ایک فرشتہ کسی قوم کی طرف پیغام عذاب تو لے کر آسکتا ہے لیکن رسالت کے فرائض انجام دینا اس کے بس میں نہیں ہے اس کے لئے انسان کا رسول بنایا جانا ضروری ہے اور انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا اور خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ بھی انسان ہیں بلکہ ایک کامل اور مکمل انسان ۔
Ayah 16:44دوسرے نبیوں کو بھی کتابیں دی گئیں اور آپ ﷺ کو ” الذکر “ دیا گیا :
51۔ ایک مسلمانوں کے لئے یہ بھی ضرروی ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے صحیفہ وحی پر ایمان لائے ہر چند کہ یہ عقیدہ گزشتہ عقیدہ رسالت کا لازمی نتیجہ ہے یعنی رسول کو رسول مان لینا اس کی تعلیمات اور وحی کو مان لینے کے مرادف ہے تاہم یہ تصریح اس لئے کی گئی تاکہ پوری طرح صاف اور واضھ ہوجائے کہ رسول کو رسول مان لینے کے بعد اس کے صحیفہ وحی کو مان کر اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ کتاب الہی پر ایمان لانے سے مقصود ان تمام صداقتوں اور حکموں کو بجان ودل قبول کرنا ہے جو اس میں مذکور ہیں یہ گویا پوری شریعت مطہرہ کو قبول کرلینے کا مختصر ترین طریقہ تعبیر ہے اور اسی لئے ایمانیات کی بہت سی دوسری باتیں جن کی تفصیل ہر موقع پر ضروری نہیں اس ایک فقرہ کے ماتحت میں آجاتی ہے۔ زیر نظر آیت کریمہ سے واضح ہوگیا کہ نبی کریم ﷺ کی سنت کے اتباع کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا صحیح علم اپنے رسول ﷺ کو عطا فرمایا اور اس کے معانی ومطالب کے بیان اس کے اجمال کی تفصیل اور اوامر نواہی کی وضاحت کا منصب فقط نبی اعظم اعظم وآخر ﷺ کو تفویض کیا اس لئے قرآن کریم کی جو تفسیر وتشریح نبی کریم ﷺ نے فرمائی وہی اس قابل ہے کہ اس کو تفسیر کہا جائے اور کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی عقل وخرد سے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کام لے ۔ ہاں ! جب آپ ﷺ کا کوئی واضح ارشاد کسی آیت کی تفسیر میں موجود نہ ہو تو اس وقت دوسرے لوگوں کی اس طرح پیروی کرنا جس طرح رسول اللہ ﷺ کی پیروی حق ہے جائز نہیں بلکہ آزادی کے ساتھ جو کچھ کتاب وسنت سے استدلال کرکے بیان کیا جاسکتا ہو بیان کرنا چاہئے اور یہی اس آیت کا مطالبہ ہے نبی کریم ﷺ کے بعد یہ قطعا جائز نہیں کہ کسی ایک شخصت پر انحصار کرکے فقط اس تفسیر کو قبول کیا جائے جو بزعم خویش فلاں نے کہا جیسے کہ ہمارے ہاں دوستور ہو چلا ہے اور جب تک کسی کا حکیم الامت نام نہ رکھ لیا جائے یا کسی کے متعلق مرشد تھانوی (رح) نے یوں فرمایا کہ الفاظ اختیار نہ کئے جائیں یا ہمارے اعلی حضرت نے اس آیت کے متعلق یہ ارشاد فرمایا کہہ کر تفسیر نہ جائے وہ تفسیر کہلانے کی حق دار ہی نہیں ۔ اس اندھی تقلید کا اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے ۔
Ayah 16:45برے طریقہ کی مخفی تدبیر کرنے والے اللہ کے عذاب سے کیوں نڈر ہوگئے :
52۔ کی مخفی تدبیریں کرنے والوں نے اور بڑے بڑے منصوبے باندھنے والوں نے اتنے بڑے منصوبے باندھ کر اور عذاب الی سے بےفکر ہو کر اس طرح کا خیال ہی ترک کردیا کہ کہیں اللہ انہیں زمین میں دھنسا ہی نہ دے یا ان پر کہیں اس طرف سے عذاب نہ پڑے کہ انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو تو ان کو عذاب الہی اچانک آکر پکڑ لے چناچہ معرکہ بدر میں ایسا ہی ہوا کہ سردارن قریش کو اس بات کا گمان تک نہ تھا کہ وہ چندے معدودے مسلمانوں کے ہاتھوں سے اتنی بری شکست کھاجائیں گے اور وہ لوگ جو بایں ساز و سامان اور اس ساری کثرت رکھنے کے باوجود اس قدر پٹ گئے ان کو اس بات کی سمجھ نہ آئی کہ یہ ایک عذاب الہی ہے جس نے ہم کو آگھیرا ہے ورنہ نہتے مسلمانوں کے ہاتھوں ہتھوں والوں کا شکست کھا جانا چہ معنی دارد ؟ بلاشبہ یہ اچانک پکڑ لئے جانے ہی کے مترادف ہے اور وہ بھی اس طرح اور اس طریقہ سے جہاں سے انکے پکڑے جانے کا سان و گمان بھی نہ تھا ۔
Ayah 16:46ایسا بھی ممکن ہے کہ ان کو چلتے پھرتے ہی میں پکڑ لیا جائے :
53۔ بالکل اسی طرح جس طرح فرعون کو پکڑ لیا گیا کہ وہ بھاگتے ہوئے بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے لگا اور بھاگنے والوں سے زیادہ بھاگ کر انکو پکڑنے ہی لگا تھا کہ خود پکڑ لیا گیا اور پھر ایسا پکڑا گیا کہ اس کے لشکر کا ایک آدمی بھی اپنی جان نہ بچا سکا ، فرمایا کہ یہ کفار جو اسلام اور داعی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف سازشیں کرنے میں اتنے مصروف ہیں انہیں مرنے کے لئے بھی فراغت نہیں اور وہ اس قدر مصروف ہیں کہ انہیں اپنے تن بدن کا ہوش نہیں ہے وہ اتنے مطمئن اور غافل کیوں ہیں ؟ کیا انہیں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ ان کی سرکشیوں اور بداعمالیوں کے باعث غضب الہی جوش میں آگیا تو انہیں تباہ وبرباد کردیا جائے گا ان کے سامنے عذاب الہی کی کتنی ہی صورتیں آچکی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صورت بھی ان کا پیچھا کرسکتی ہے کیا انکو یہ معلوم نہیں کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ زمین شق ہو اور وہ اس میں دھنس کر اچانک پکڑ لیا جائے ، کیا ان کو کوئی ایسی امید لگی ہوئی ہے کہ اگر عذاب الہی آیا تو وہ کوئی ایسا گوشہ عافیت تلاش کرلیں گے اور ناسمجھی کی دلیل ہے اور انکی یہی غفلت ان کو ایک دن لے ڈوبے گی اور پھر کیا ہوگا ؟ یہی کہ جو کچھ بگڑے گا ان ہی کا بگڑے گا اللہ ایسی ذات تو نہیں کہ اس کا بھی کوئی نقصان ہو سکے ۔
Ayah 16:47ممکن ہے کہ ان کو ڈرتے وقت ہی پکڑ لیا جائے کیونکہ بچے رہنا اس کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے :
54۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں گھٹاتے گھٹاتے پکڑ لے اور اگر وہ مہلت پر مہلت دیئے جا رہے ہیں تو یہ تو اس کی سراسر شفقت ورحمت ہی کا نتیجہ ہے (تخوف) خوف سے ہے اور خوف کے معنی ڈر کے بھی ہیں اور تنقص کم ہونے بھی اور دونوں معنوں میں اس (تخوف) کا لفظ صحیح ہے یعیک ممکن ہے کہ پہلے عذاب کی نشانیاں نمودار ہوں جس سے وہ خوفزدہ ہوجائیں اور پھر ان پر عذاب اترے جو ان کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں پہلے کاروبار میں نقصان ہو اور کھیتی باڑی سے برکت اٹھ جائے اور سب کچھ ہونے کے باوجود ان کی غیر یقینی کی حالت بڑھتی ہی چلی جائے یا پدھاوار فی الواقع گھٹنی شروع ہوجائے اور پھر صحت بھی بگڑنے لگے اور اس طرح ان کے تندرست و توانا اجسام گھل گھل کر لاغر ونحیف ہوجائیں اور اس طرح جب ان کی زندگی معیشت کا تنا کھوکھلا ہوجائے تو اچانک عذاب الہی کا طوفان ان کو اپنے گھیرے میں لے لے اور ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے ۔ ” تخو فناھم “ کے معنی ہیں ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے یعنی تدریجا کم کیا جب کہ اقتضائے خوف ہو اور ان تین آیتوں میں عذاب کے تین رنگ یا تین صورتیں بیان کی گئیں ہیں ایک ان پر ذلت وارد کرنا ‘ دوسرے یہ کہ ان کے آنے جانے یا سفروں میں ان کو پکڑ لینا تیسرے یہ کہ تدریجا ان کو کم کرتا چلے جانا اور پھر اچانک ان کو پکڑ لینا اور مکہ والوں پر یہ تین ہی قسم کے عذاب نازل ہونے شروع ہوئے جبکہ انہوں نے عذاب الہی کو روکنے والوں کو وہاں سے نکال دیا یعنی نبی اعظم وآخر ﷺ کی ہجرت کے بعد نازل ہونا شروع ہوا اور انجام کار وہ قحط سالی میں پکڑ لئے گئے ۔
Ayah 16:48سایہ کے گھنٹے بڑھنے اور دائیں بائیں آنے جانے سے الوہیت پر دلیل :
55۔ فرمایا قوانین الہی کی عجائب آفرینیوں میں سے ایک عجیب و غریب منظر (ظل) یعنی اجسام کے سایے کا ہے نظام شمس کے تمام کرشمے ہم اس چیز میں دیکھ سکتے ہیں ، یہ ہمارے جسم کے ساتھ ساتھ رہتا ہے اور ساتھ ساتھ چلتا ہے لیکن لاکھوں میل فاصلہ کی خبر دیتا ہے ، سورج کا طلوع ‘ عروج زوال ‘ غروب کی ساری حالتیں ہم اس آئینہ میں دیکھ سکتے ہیں ، یہ کبھی گھٹتا ہے کبھی بڑھتا ہے ‘ کبھی ابھرتا ہے اور کبھی غائب ہوجاتا ہے ، کبھی کھڑا ہوتا ہے کبھی جھکتا ہے ‘ کبھی داہنے ہوتا ہے کبھی بائیں ، اس کی ان تمام حالتوں کا قانون اس درجہ قطعی ‘ اس درجہ یکساں اس درجہ منظم ہے کہ اس میں فتور پڑنے کا ہمیں وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا ، جس وقت گھڑیاں ایجاد نہیں ہوئیں تھیں ، یہی سایہ گھڑی کا کام دیتا تھا اور اسی سے دھوپ گھڑی بنی تھی ، آج کل بھی میدانوں اور دیہاتوں میں جہاں گھڑیاں نہیں ہوتیں ، دہقان سایہ دیکھ معلوم کرلیتا ہے کہ کتنا دن چڑھ چکا ہے ، کتنا ڈھل چکا ہے ، سایہ جب مساوی ہوجائے تو دوپہر کا وقت ہے ، اور جب گھٹنے بڑھنے لگے تو اس کی ہر مقدار گھڑی کی سوئی ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم قوانین الہی کے احاطہ ونفاذ کا ذکر کرتے ہوئے سایہ کی طرف توجہ دلاتا ہے اور کہتا ہے یہ تم سے دور نہیں ۔ ہر وقت تمہارے جسم کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے ہمیشہ اس پر تمہاری نگائیں رہتی ہیں کیونکہ اس سے وقت کا اندازہ لگایا کرتے ہو پس غور کرو کہ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ کس طرح یہ شہادت دے رہا ہے کہ یہاں کی ہرچیز کسی مدبر و حکیم ہستی کے احکام کے آگے سربسجود ہے اور اس نے جس چیز کے لئے جو حکم نافذ کردیا ہے ممکن نہیں کہ اس کی تعمیل میں بال برابر بھی انحراف ہو ! اس جگہ بھی زیر نظر آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے چناچہ اس کے بعد ہی فرمایا جا رہا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کے لئے سجدہ ریز ہے ۔
ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز و درماندہ ہے :
56۔ قرآن کریم بار بار غور وفکر کرنے کی دعوت دیتا ہے اور ” مذہبی رہنما “ بار بار یہ تلقین کرتے ہیں کہ مذہب کے معاملہ میں عقل کو کوئی دخل نہیں اور پھر قرآن کریم کی دعوت جتنا عقل وفکر سے کام لینے کی دعوت دیتی ہے اسی قدر مذہب کے ٹھیکہ دار اس کی نفی کرتے چلے جاتے ہیں ۔ فرمایا جس طرح تمہارے سایے دائیں بائیں آنے جانے اور گھٹنے اور بڑھنے پر مجبور ہیں بالکل اسی طرح دنیا کی ہر ایک چیز اللہ کی فرمانبرداری کرنے پر مجبور محض ہے اور صاحب اختیار اگر ہے تو کسی حد تک صرف انسان ہے اور اس اختیار کے باعث وہ اشرف المخلوقات قرار پایا ہے باقی ساری چیزیں قانون الہی کے سامنے اسی طرح محکوم ہیں جس طرح ان سایوں کا گھٹنا اور بڑھنا ہے اور اسی گھٹنے اور بڑھنے کو اس جگہ سجدہ ہے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ سجدہ کے اصل معنی فرمانبرداری ہی کے ہیں گویا اس کائنات کی ہرچیز اور ہر مخلوق کو اپنے خالق اور فاعل حکیم کے روبرو پیش کیا جانا ہے اور سایہ دار چیزیں سب اسی کے مطیع وفرمانبردار ہیں ، کچھ ہمارے بھائی کھلے طور پر تو پیغمبر اسلام ﷺ کے مخلوق ہونے سے انکار نہ کرسکے کہ شاید انکو اس میں کوئی گنجائش نظر نہ آئی تو انہوں نے محمد رسول اللہ صیہ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سایہ سے انکار کردیا اور اس طرح وہ بزعم خویش چپکے سے آپ کو مخلوق ہونے نکالنے پر کامیاب قرار پائے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی کہ یہ لوگ آپ ﷺ کے سایہ سے کیوں انکاری ہیں ؟