16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ ختم ہونے والا نہیں ، جن لوگوں نے صبر کیا ہم ضرور انہیں اجر عطا فرمائیں گے انہوں نے جیسے جیسے اچھے کام کیے ہیں اس کے مطابق ہمارا اجر بھی ہو گا

تمہارے پاس کتنا بھی مال اکٹھا ہوجائے انجام کار اس کو ختم ہونا ہے : 110۔ زیر نظر آیت میں دنیا کا مال کتنا بھی ہو وہ آخرت کے لحاظ سے تھوڑا ہی ہے اس کی مزید تفصیل فرما دی کہ یہ کیسے ہوا ؟ فرمایا یہ ایسے ہوا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے ۔ (آیت) ” ماعندکم “ کے لفظ سے فقط مال ہی مراد نہیں ہے کہ اگر نقد روپیہ وصول نہ کیا تو اس حکم سے بچ گئے (ما) لغت کے اعتبار سے عام ہے اور عموم کے معنی مراد ہیں اس لئے اس میں دنیا کا مال ومتاع بھی ہے اور اس میں پیش آنے والے تمام حالات ومعاملات بھی یعنی خوشی وغمی ‘ رنج اور راحت ‘ بیماری اور صحت ‘ نفع اور نقصان ‘ کسی کی دوستی یا دشمنی یہ سب چیزیں شامل ہیں کہ سب کی سب فنا ہونے والی ہیں البتہ ان حالات ومعاملات پر جو آثار مرتب ہونے والے ہیں اور قیامت میں ان پر عذاب وثواب ہونے والا ہے وہ سب باقی رہنے والے ہیں ، فنا ہوجانے والے حالات ومعاملات کی دھن میں لگا رہنا اور اپنی زندگی اور اس کی توانائی کو اس کی فکر میں لگا کر دائمی عذاب وثواب سے غفلت برتنا کسی ذی عقل کا کام نہیں بلکہ یہ سراسر بیوقوفی ہے ۔ ” اور جو لوگ ثابت قدم رہے ہم ان کا اجر انہیں ضرور دے کر رہیں گے جو کچھ وہ اچھے کام کر رہے ہیں اس کے عوض میں “ ترہیب و تخویف کے ساتھ ساتھ قرآن کریم ترغیب وتشویق سے بھی کام لیتا رہتا ہے اور ہر نیکو کار کو جنت کا مشتاق کس طرح بناتا رہتا ہے ، صبر کرنے والے کون ہیں ؟ وہی جو احکام دین پر قائم وثابت قدم رہے اور اس کے لئے ہر کڑی سے کڑی آزمائش کو جھیل گئے اور صیغہ مخاطب سے صیغہ غائب کی طرف دفعتا انتقال عربی کے مشہور ومعروف اسلوب بلاغت ‘ طریق التفات کے مطابق ہے اور اللہ تعالیٰ کا اپنے فئے صیغہ واحد یا جمع متکلم کا استعمال بھی عام بات صرف اشارتا ذکر کی گئی ہے تاکہ یاد رہے اور وقت پر کام آئے ۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جس کسی نے اچھا کام کیا خواہ مرد ہو خواہ عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو ہم ضرور اسے اچھی زندگی دیں گے اور آخرت میں بھی ضرور اسے اجر دیں گے انہوں نے جیسے اچھے کام کیے ہیں اس کے مطابق ہمارا اجر بھی ہو گا

عامل مذکر ہو یا مؤنث اس کا ایمان والا ہونا ضروری ہے : 111۔ نیک عمل جو کوئی بھی کرے گا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ صاحب ایمان ہو تو ہم اسے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اس دنیا میں جیسا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) ‘ مومنین ومتقین کی پاکیزہ زندگیاں خود اس پر گواہ ہیں ۔ مادی تہذیب کے علم برداروں کے ذہن میں عقبی کی زندگی جاوداں کا کوئی تصور ہی نہیں ، ان کی ساری کوششیں اس دنیوی زندگی کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار ‘ آرام دہ اور پر جلال بنانے پر مرکوز ہیں ۔ وہ جو کام کرتے ہیں ان کے پیش نظر فقط مادی منفعت ہوتی ہے حتی کہ جو ضابطہ اخلاق انہوں نے اپنا رکھا ہے جسے دیکھ کر ظاہر بین لوگ ان کی اخلاقی برتری کی قصیدہ خوانی کرتے ہیں اس ۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی کاروبار کی ترقی ‘ معاشی خوش حالی یا سیاسی وقار واقتدار کی ہوس ہی پنہاں ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ وہ قوم جس کا بنیادی عقیدہ ہی دار آخرت پر ایمان تھا وہ بھی مادی تہذیب کی ظاہری ترقی سے مرعوب ہو رہی ہے اور وہ دین میں ایسی ایجادات کر رہے ہیں جن سے ان کے پیٹ کی آگ بجھ سکے اور وہ دنیا کا مال اکھٹا کرسکیں تاکہ دنیا کی فراوانیاں ان کو بھی حاصل ہوں ۔ غور کرو کہ ان کے اذہان میں بھی عقیدہ آخرت کی اہمیت گھٹتی جارہی ہے وہ بھی تیزی سے اس غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم کا مقصد فقط آخرت کی زندگی کو خوشگوار بنانا ہے ہماری اس دنیوی زندگی کو خوشیوں سے ہم کنار کرنا نہ اس کے مقاصدم میں داخل ہے اور نہ اس کی دسترس میں ہے ۔ قرآن کریم کی اس آیت میں اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان کی دولت سے مشرف ہو کر اسلام کے پیش کئے ہوئے ضابطہ کو اپناتے ہیں خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ‘ شرقی ہوں یا غربی ‘ ان کے دونوں جہاں سنور جاتے ہیں وہ دنیا کے کاموں کو بھی بڑی دیانت داری سے سرانجام دیتے ہیں اور اللہ کے قانون کے مطابق ان تسخیر شدہ چیزوں سے فوائد حاصل کرتے ہیں ایمان و اعمال صالحہ کا جو اجر ان کو اس دنیا میں ملے گا اس کو قرآن کریم نے (حباۃ طیبہ) کے جامع الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے ۔ (حیاۃ طیبۃ) کے لفظی معنی پاکیزہ زندگی ہے لیکن اس کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ ساری پائیدار مسرتیں اور حقیقی کامیابیاں اس میں سمٹی ہوئی ہیں ۔ دولت کی فراوانی اور سامان تعیش کی بہم رسانی کے باوجود دل کو قرار و اطمینان نصیب نہیں ہوتا اور جب تک دل میں اطمینان کی شمع روشن نہ ہو سچی خوشی اور حقیقی کامیابی نصیب نہیں ہو سکتی ۔ اگر آپ کا دل نور ایمان سے اور آپ کی شاہراہ حیات اعمال حسنہ سے جگمگا رہی ہے تو آپ کی روح ایک کٹیا میں بیٹھے ہوئے بوسیدہ لباس پہن کر بھی سرور و شاداں ہوسکتی ہے اس لئے آپ کو ناجائز وسائل اور ناجائز طریقے استعمال کرنے سے یقینا نفرت ہوگی اور فطری طور پر آپ کبھی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گے ۔ ہمارے اپنے معاشرے میں جہاں جہاں خدا فراموشی اور تصور آخرت سے بےبہرہ تہذیب کے قدم جمتے جا رہے ہیں وہاں خاندانوں کی بنیادیں لرز گئی ہیں ۔ اس ضرب المثل ‘ اعتماد اور باہمی ایثار کی جگہ خود غرضی اور بےاعتمادی نمو دار ہو رہی ہے بچے اپنے والدین کے نافرمان بنتے جا رہے ہیں ، دولت کے حصول کا وہ بھوت ہم پر مسلط ہوچکا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا آدمی دولت سمیٹنے میں ہمہ تین مصروف ہے ، حلال و حرام کی تمیز کلی طور پر اٹھ گئی ہے ہماری زیاں کاری کا یہ عالم ہے کہ ہم دولت فرہام کرنے کے لئے اپنے ملک اور اپنی قوم سے غداری کرنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں بددیانتی سے باز نہیں آتے جن کا براہ راست ہمارے دفاع سے تعلق ہے ، ہسپتالوں اور درسگاہوں کے ٹھیکے دینے اور ٹھیکے لینے میں کون سی ایسی قباحت ہے جس کا چرچا خاص وعام کی زبان پر نہیں ، ذرا غور کرو کہ یہ دولت جو ہم اس طرح اکٹھی کرتے ہیں ہمیں اطمینان اور خوشی کی نعمت سے مالا مال کرسکتی ہے قومی مفاد کے ساتھ غداری کرکے کیا ہم اپنے آپ کو محب وطن یا قابل فخر شہری کہلانے کا حق رکھتے ہیں ۔ (حباۃ طیبۃ) کے دامن میں عزت نفس ہے ‘ بلند نظری ہے ‘ اولوالعزمی ہے ‘ ایثار اور اخلاص ہے ‘ قناعت ہے اور ان تمام چیزوں کے علاوہ زندگی کی بازی جیتنے پر ایک بہار آفرین تبسم ہے ۔ یہ (حیاۃ طیبۃ) ساری دولتوں سے بڑی دولت ‘ ساری عزتوں سے بڑی عزت ہے اور ساری راحتوں سے بڑی راحت ہے اور وہ اس کو ملتی ہے جس کے دل میں ایمان کا نور ضوفشاں ہوتا ہے جس سے اس کا ظاہر اور اس کا باطن ‘ اس کا قول اور اس کا عمل جگمگا رہا ہوتا ہے اور یہ وہ اجر ہے جو ایک بندہ مومن کو اس دنیا میں بخش دیا جاتا ہے لیکن یہ زندگی بہرحال فانی ہے اسے ایک دن یقینا ختم ہونا ہے ، اس لئے ارشاد الہی ہوا کہ ” انہوں نے جیسے جیسے اچھے اعمال کئے ہیں اس کے مطابق ہمارا اجر بھی ہوگا ۔ “ اور یہ بات وہی ہوئی جس کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ” جیسا کرو گے ویسا بھروگے ۔ “ اور آخرت میں جو کچھ ملنے والا ہے وہ بھی ہمارے دنیا میں کئے ہی کا نتیجہ ہے جو کچھ آج ہم کر رہے وہی کل ہم کو ملے گا ۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

پس جب تم قرآن پڑھنے لگو تو چاہیے کہ شیطان مردود (کے وسوسوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو

جب قرآن کی تلاوت کرو تو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو : 112۔ قرآن کریم کی تلاوت کے وقت استعاذہ ضروری ہے ، استعاذہ کیا ہے ؟ اللہ کی پناہ طلب کرنا کہ قرآن کریم کو پڑھ رہا ہوں تو مجھے اس کی سمجھ عطا فرما اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بہم پہنچا تاکہ میرے سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہو جو تیری رضا کے خلاف ہو ، ایسا نہ ہو کہ میں قرآن کریم کی تلاوت بھی کرتا رہوں اور عمل بھی اپنی ہی غرض اور ضرورت کے مطابق اپنی ہی مرضی کی مطابق کرتا رہو۔ گویا قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ بالکل خالی الذہن ہو کر تلاوت کرے اور عبارت قرآنی میں غور وفکر کرکے جو جو زندگی کی راہنمائی اس میں پائے وہ اپنے ذہن میں خوب جماتا جائے جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان کے کرنے کی تیاری اور جن سے منع کیا ہے ان سے باز رہنے کا تہیہ کرتا جائے اور جب اوامر ونواہی اس کے دل میں جم جائیں تو ان کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالتا چلا جائے اور ہرگز نہ دیکھے کہ معاشرہ ‘ خاندان ‘ برداری اور مذہبی اور سیاسی راہنما کیا کر رہے ہیں بلکہ وہ پوری پوری راہنمائی قرآن کریم ہی سے حاصل کرنے کی کوشش کرے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھے کہ میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے جو اس کے متعلق کیا وہی اصل اور حق ہے کیونکہ آپ ﷺ کے سینے اقدس ہی پر قرآن نازل ہوا اے اللہ ! میرے اندر کے شیطان پر مجھے پور قابو عطا فرما تاکہ وہ میرے راستے میں کہیں حائل نہ ہوجائے کیونکہ وہ کوئی خارجی چیز نہی جو باہر سے آنے والا ہو تاکہ میں اس کا دھیان رکھ سکوں۔ اے اللہ ! یہ شر کی طاقت جو تو نے میرے اندر ودیعت فرما دی ہے اس سے بچنے اور اس کو رام کرنے کی توفیق بھی تیرے ہی پاس ہے اس لئے تو مجھے وہ توفیق عطا فرما کہ کہیں یہ مجھے دھوکہ نہ دے جائے ، یہ پورا مضمون قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے پہلے اپنے دماغ اور عقل وفکر میں ضرور لائیں اور زبان سے بھی اعوذ باللہ من ال شیطان الرجیم کے الفاظ یا عوذ باللہ السمیع العلیم من ال شیطان الرجیم بھی ادا کرے اور اس کا مطلب ومفہوم وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا ۔ اس لئے یاد رہے کہ استعاذہ کی ہر وقت ضرورت ہے قرآن کریم کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے ، شروع کرتے وقت ‘ تلاوت کرتے وقت اور تلاوت بند کرتے وقت کیونکہ قاری جب تلاوت شروع کرنا چاہتا ہے تو انسان ہے تلاوت کرتے وقت بھی انسان اور تلاوت کر چکنے کے بعد بھی انسا ہے اور انسان مجسمہ ہے قوت خیر وشر کا ، اس لئے قرآن کریم نے تلاوت کا خاص عمل شروع کرتے وقت بھی اس کا حکم دیا کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا کہیں اس راندہ درگاہ سے مغلوب نہ ہوجائے اور کوئی ایسا مطلب ومفہوم اپنے دل میں نہ جما لے جو اس قابل نہ ہو کہ اس کو دل میں جمایا جائے اور یہ عمل ہر وقت کرنا ہوگا خواہ وہ نماز کے اندر قرآن کریم کی تلاوت ہو یا باہر بہرحال قرآن کریم کی تلاوت کے لئے زبان وعمل دونوں سے استعاذہ کرنا ضروری ہے اور غصہ کے وقت بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” اعوذ باللہ من ال شیطان الرجیم “۔ پڑھنے سے شدت غضب فرو ہوجاتی ہے اور بلاشبہ برحق ہے آج بھی کوئی عمل کرکے دیکھ لے بشرطیکہ وہ سمجھ کر پڑھے کیونکہ جن لوگوں کو سب سے پہلے آپ ﷺ نے حکم دیا وہ اس کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے ۔
Ayah 16:99

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

جو لوگ ایمان والے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ ان پر اس کا زور چلے

اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں پر شیطان کا غلبہ نہیں ہو سکتا : 113۔ زیر نظر آیت نے یہ بات واضح کردی کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ایسی قوت نہیں دی کہ وہ کسی بھی انسان کو برائی پر مجبور اور بےاختیار کر دے بلکہ انسان خود اپنے اختیار وقدرت یا کسی غرض نفسانی سے استعمال نہ کرے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے اس لئے فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے اعمال واحوال میں اپنی نفس و خواہشات کی بجائے رضائے الہی کے طالب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہی ہر خیر کی توفیق اور ہر شر سے بچانے والا ہے اور یہی لوگ ہیں کہ ان پر شیطان کا تسلط نہیں ہوتا ، اس جگہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ پر بھروسہ کیا چیز ہے ؟ بھروسہ توکل کا معنی ہے اگرچہ وہ توکل کا لفظ بھی اردو زبان میں استعمال ہوتا ہے تاہم توکل ہی کا دوسرا نام بھروسہ سمجھنا چاہئے ، اس لئے جو معنی ومفہوم ” توکل “ کے ہیں وہی بھروسہ کے ہوں گے ، اس جگہ لفظ (متوکلون) استعمال ہوا ہے جو متوکل کی جمع ہے یعنی توکل اختیار کرنے والے ، قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ لفظ اکثر بولا گیا ہے ، عام لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں یا ان کو یہ معنی سمجھائے گئے ہیں کہ کسی کام کے لئے کوئی جدوجہد اور کوشش نہ کی جائے بلکہ چپ چاپ ہاتھ پاؤں توڑے کسی حجرہ یا خانقاہ میں بیٹھ رہا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ اللہ میاں کو جو کچھ کرنا ہے وہ خود ہی کر دے گا اور تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا ‘ اسباب اور تدبیر کی کوئی ضرورت نہیں ‘ لیکن یہ سراسر وہم ہے اور مذہبی اپاہجوں اور کو ڑھوں کا دل خوش کن فلسفہ ہے جس کو اسلام سے ذرہ بھر بھی کوئی تعلق یا نسبت نہیں۔ توکل کے لفظی معنی بھروسہ کرنے کے ہیں اور اصلاح میں اللہ پر بھروسہ کرنے کو کہتے ہیں لیکن کسی بات میں بھروسہ کرنا ‘ کسی کام کے نہ کرنے میں ؟ جھوٹے صوفیوں اور مولویوں نے ترک عمل ‘ اسباب اور تدبیر سے بےپروائی اور خود کرکے دوسرے کے سہارے جینے کا نام توکل رکھا ہے حالانکہ نام ہے کسی کام کو پورے ارادہ وعزم اور تدبیر و کوشش کے ساتھ انجام دینے اور یقین رکھنے کا کہ اگر اس کام میں بھلائی ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں ضروری ہم کو کامیاب فرمائے گا ، اگر تدبیر اور جدوجہد اور کوشش کا ترک ہی توکل ہوتا تو دنیا میں لوگوں کو سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ پیغمبروں کو مبعوث نہ کرتا اور ان کو دینی تبلیغ رسالت کے لئے جدوجہد اور سعی و کوشش کی تاکید فرماتا اور نہ اس راہ میں جان ومال کی قربانی کا حکم دیتا ‘ نہ بدر واحد اور خندق وحنین میں سواروں ‘ تیراندازوں ‘ زرہ پوشوں اور تیغ آزماؤں کی ضرورت پڑتی اور نہ رسول کو ایک ایک قبیلہ کے پاس جا جا کر حق کا پیغام سنانے کی حاجت ہوتی ۔ یاد رہے کہ توکل مسلمانوں کی کامیابی کا اہم راز ہے حکم ہوتا ہے کہ جب لڑائی یا کوئی مشکل کام پیش آئے تو سب سے پہلے اس کے متعلق لوگوں سے مشورہ لے لو ‘ مشورہ کے بعد جب رائے ایک نقطہ پر ٹھہر جائے تو اس کے انجام دینے کا عزم کرلو اور اس عزم کے بعد کام کو پوری مستعدی اور تندہی کے ساتھ کرنا شروع کر دو اور اللہ پر بھروسہ اور توکل رکھو کہ وہ تمہارے کام کا حسب خواہ نتیجہ پیدا کرے گا اگر ایسا نتیجہ نہ نکلے تو اس کو اللہ کی حکمت ومصلحت اور مشیت الہی سمجھو اور اس سے مایوس ہرگز نہ ہو اور جب نتیجہ خاطر خواہ نکلے تو یہ غرور نہ ہو کہ یہ تمہاری تدبیر اور جدوجہد کا نتیجہ ہے بلکہ یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و کرم ہوا اور اسی نے تم کو کامیاب اور بامراد کیا اس کی تفصیل ہم سورة آل عمران کی آیت 17 میں اور سورة النساء کی آیت 81 میں کر آئے ہیں وہاں ملاحظہ کریں ۔
Ayah 16:100

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور تو انہی پر چلتا ہے جو اسے اپنا رفیق بناتے ہیں اور جو اس کی وجہ سے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں

شیطان کا زور کن لوگوں پر لگتا ہے ؟ وہی جو اس کو دوست بناتے ہیں : 114۔ جو لوگ اپنی اغراض نفسانی کے باعث شیطان ہی سے دوستی کرتے ہیں ‘ اس کی باتوں کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیروں کو یعنی نبیوں ‘ رسولوں اور اللہ کے نیک بندوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ان پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے کہ کسی خیر کی طرف نہیں جانے دیتا اور ہر برائی میں وہ آگے آگ ہوتے ہیں ، ایسے لوگوں کے متعلق ارشاد الہی یہ ہے کہ جو لوگ سرکشی کریں گے میں ان کی نگاہیں اپنی نشانیوں سے پھیر دوں گا یعنی جو کوئی جان بوجھ کر سرکشی کرے تو اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ وہ دلیلون اور روشنیوں سے متاثر ہونے کی استعداد کھو دیتا ہے پھر واضح کردیا کہ یہ حالت اس لئے پیش آئے گی کہ انہوں نے نشانیاں جھٹلائیں اور غافل رہے ‘ پس معلوم ہوا جو کوئی نشانیاں جھٹلاتا ہے اور غفلت سے باز نہیں آتا وہ کبھی سچائی نہیں پاسکتا یہی مطلب نگاہ پھرا دینے کا ہے ‘ یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کسی آدمی کو بےعقل اور گمراہی پر مجبور کردیتا ہے ۔ اس جگہ ارشاد فرمایا کہ ” اس کا زور تو انہی پر چلتا ہے جو اسے اپنا رفیق بناتے ہیں اور جو اس کی وجہ سے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ “ گویا شیطان کا لوگوں پر کچھ تسلط مطلق نہیں ہے کہ وہ کسی سے کوئی کام بزور بازو کرائے ، اس کا کام صرف یہ ہے کہ جو اس کو اپنا دوست یار بناتا ہے تو اس کی دوستی کا حق اس طرح ادا کرتا ہے کہ چونکہ وہ خود مجموعہ گمراہی ہے اس کو بھی اپنی گمراہی سے وافر حصہ دیتا ہے اور اس کی خوب آؤ بھگت کرتا ہے لیکن اگر وہ لوگ اس کو اپنا محبوب اور دوست نہ جانتے تو وہ انکو اپنی گمراہی سے کیوں حصہ دیتا ، اس کی تفصیل ہم پیچھے سورة الاعراف کی آی 146 ‘ سورة الحجر کی آیت 42 میں بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے کہ وہ کیا نازل کر رہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں تم تو بس اپنے جی سے گھڑ لیا کرتے ہو ، حالانکہ ان میں سے اکثروں کو معلوم نہیں

کسی آیت کے ساتھ آپ کے بدلنے کا مفہوم کیا ہے ؟ 115۔ ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ زیر نظر آیت سے مفسرین نے ناسخ ومنسوخ کا مسئلہ نکالا ہے حالانکہ اس آیت کا مفہوم مطلق ایسا نہیں ہے ، قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ کوئی دوسری آیت کے لانے کا تصور تو ممکن ہی نہیں اور نہ ہی کوئی آیت اس طرح منسوخ کی گئی تاہم اس جگہ اس بحث کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ناسخ ومنسوخ کے متعلق ہم مکمل بحث سورة البقرہ کی آیت 106 میں کرچکے ہیں ۔ دراصل یہود ونصاری اور مشرکین مکہ یہ تینوں گروہ قرآن کریم کے نزول کے وقت مخاطبین اول تھے اور تینوں ہی کو دعوی تھا کہ وہ اپنے پاس ایک ہدایت رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے ، جب کوئی آیت قرآن کریم میں نازل ہوتی اور وہ اس کا مضمون ومفہوم اپنے دین و مذہب کے خلاف پاتے تو رسول اللہ ﷺ پر یہ الزام لگاتے کہ اس نے یہ بات اپنے پاس سے گھڑ لی ہے اور انہوں نے یہ الزام ایک بار نہیں بلکہ بار بار لگایا جس کا ذکر قرآن کریم نے بھی ہر بار کیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں پہلی آیت سے مراد انکی آیت ہے جس کو وہ اپنے ہاں ہدایت الہی تسلیم کرتے تھے اگرچہ وہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ تھی لیکن اس جگہ اس بحث میں مبتلا ہونے سے بچتے ہوئے کہ آیا وہ حکم الہی ہے یا نہیں اس کو بطور نشانی تسلیم کیا گیا کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے ہاں وہ حکم من حیث القوم تسلیم شدہ تھا لہذا اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ” جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس نے جو کچھ نازل کیا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم تو بس اپنے جی سے گھڑ لیا کرتے ہو۔ “ گویا وہ یہ الزام تو محمد رسول اللہ ﷺ پر رکھتے ہیں اور حقیقت حال یہ ہے کہ یہ بات محمد رسول اللہ ﷺ نے نہیں گھڑی بلکہ انہوں نے یا انکے بڑون نے وہ بات گھڑی تھی جس کو بیان کرتے ہیں اور اس کے متعلق سمجھتے ہیں کہ یہ ہم پر اللہ نے اتارا ہے حالانکہ اللہ نے اس کو نہیں اتارا اللہ نے تو وہی اتارا جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا گاو اس لئے یہاں ارشاد فرمایا کہ ” ان میں سے اکثروں کو معلوم نہیں کہ حقیقت حال کیا ہے ۔ “ وہ ایسے ہی ٹامک ٹوئیاں لگاتے رہتے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی کو مان لیں اور تسلیم کرلیں دوسروں پر الزام دیتے ہیں اور یہ بات بھی ان کی کوئی نئی بات نہیں گزشتہ قومیں بھی اپنے انبیاء کرام کے ساتھ یہی کچھ کرتی رہی ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں ۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

تم کہہ دو یہ تو تمہارے پروردگار کی طرف سے روح القدس نے اتاری ہے اور اس لیے اتاری ہے کہ ایمان والوں کے دل جما دے فرمانبردار بندوں کے لیے رہنمائی ہو اور خوشخبری

جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا وہ روح القدس نے نازل کیا ہے : 116۔ جو بات پیچھے ہم نے بیان کی اس کی مزید تشریح اس آیت میں آگئی اور اس سے ہمارے نظریہ کو تقویت حاصل ہوگئی کہ جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا وہ وہ آیت ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی اور جس کو وہ لوگ آیت کہہ رہے ہیں اس کا نزول اللہ کی طرف سے نہیں ہوا اور اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ لوگوں کی مصنوعی آیات کو مٹا کر اپنی طرف سے حقیقی آیات کو نازل فرمائے اور یہی کام اللہ تعالیٰ نے کیا کہ لوگوں کی اخترائی آیات و احکام کو مٹا کر محمد رسولہ اللہ ﷺ پر بذریعہ روح القدس اس آیات و احکام کو نازل کردیا جو صحیح معنوں میں آیات و احکام کہلانے کے حق دار ہیں اور اس کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے ان کو ثابت قدم رکھا جائے اور یہ ہدایت اور خوشخبری مسلمانوں تک پہنچا دی جائے کہ جو کچھ ان کی طرف نازل ہوا وہی حق ہے اور جو پیچھے سے لوگ کرتے آرہے تھے وہ سراسر افتراء تھا اس لئے اس کو مٹا دیا گیا تم لوگ دوسرے لوگوں کے کہنے میں نہ آؤ بلکہ اس ہدایت کو مانتے رہو جو محمد رسول ﷺ پر نازل کی گئی اور آپ ﷺ ہی تم لوگوں تک پہنچا رہے ہیں ۔
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں اس شخص کو تو ایک آدمی سکھا دیتا ہے حالانکہ اس آدمی کی زبان جس کی طرف اسے منسوب کرتے ہیں عجمی ہے اور یہ صاف اور آشکارا عربی زبان ہے

تفسیر : وہ جو بات کہتے ہیں کہ اس کو ایک انسان نے سکھایا ہے ہم اس بات کو جانتے ہیں : 117۔ نزول قرآن کے وقت کے سارے مخاطبین کو یہ اعتراض تھا کہ جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ بیان کرتے ہیں وہ ان کو ایک انسان کی طرف سے سکھایا گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جب انسان بوکھلا جاتا ہے تو معقولیت کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے ، جب قرآن کریم کے متعلق ان کے تمام شبہات کا جواب دے دیا گیا اور ان کو اس جیسی کتاب نہیں تو اس کی ایک چھوٹی سی سورت کی مانند سورت کے بنانے کے چیلنج نے جب ان کے لبوں پر مہر خاموشی ثبت کردی تو کہنے لگے کہ ان کو کوئی سکھاتا ہے اور یہ سیکھ کر بیان کرتے ہیں ، رہی یہ بات کہ سیکھتے ہیں تو کس سے ؟ اس کے لئے کوئی جواب ہوتا تو وہ دیتے ، جتنے منہ اتنی باتیں کسی نے کسی کا نام لیا اور کسی نے کسی اور کا لیکن اتفاق دیکھنے کہ جن لوگون کی طرف انہوں نے نسبت دی وہ سب کے سب آدمی عجمی تھے اور ان میں ایک بھی عربی عجمی نہیں تھا ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو ان لوگوں کی بیوقوفی کا یہ عالم کہ یہ لوگ جس آدمی کی طرف نسبت دیتے ہیں وہ عجمی ہے اور قرآن کریم تو صریح عربی زبان ہے پھر ایک عجمی آدمی جس کی اپنی زبان ہی عربی نہیں وہ ایسی لاثانی کتاب کس طرح گھڑ سکتا ہے جس کی مثال ان بڑے بڑے فصیح اللسان لوگوں میں بھی نہیں پائی جاتی ۔ اگر ان کی ہمت ہے تو ذرا قرآن کریم کے اس دعوی کا جواب کیوں نہیں دیتے اور قرآن کے برابر نہیں تو ایک سورت ہی ایسی بنا کر کیوں نہیں لے آتے ؟ ان جھوٹوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ” جھوٹ کے پاؤں کہاں “ اور ” دروغ گو را حافظہ نباشد “ کی بات ان پر صادق آئی ۔
Ayah 16:104

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

اصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیتوں پر یقین نہیں کرتے ، اللہ انہیں کامیابی کی راہ کبھی نہیں دکھاتا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا

جو لوگ ایمان نہیں لائے اللہ انکو کبھی ہدایت نہیں دے گا : 118۔ اس بات میں یہ بات واضح کردی کہ اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو ہدایت کو بھی ہدایت ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہوں ۔ اگر کوئی بات قابل تردید ہے تو بلاجھجھک تردید کریں لیکن جب وہ تردید بھی نہ کرسکیں اور حق کو حق ماننے کے لئے بھی تیار نہ ہوں بلکہ صریح جھوٹ و باطل کو حق کہیں اور اس کا حق ماننے پر مجبور کریں تو اس کا آخر کوئی علاج ؟ اور پھر ان کو کہا جائے تو کیا ؟ یہی کہ ” جو لوگ اللہ کی آیتوں پر یقین نہیں کرتے اللہ انہیں کامیابی زندگی کے دن کاٹ کر اس دارفانی سے رخصت ہوجائیں گے اور پھر وہاں ” ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ۔ “
Ayah 16:105

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

اپنے جی سے جھوٹ گھڑنا تو انہیں کا کام ہے جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے یہی ہیں کہ سرتاسر جھوٹے ہیں

جھوٹوں کا کیا کام ہے کہ سچوں کو جلدی سے جھوٹے کہہ دیں : 119۔ غور کرو کہ خود جھوٹے ہی جھوٹ بولتے ہیں اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں اور پھر اتنے جھوٹے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ جیسے رات باز انسان کو مفتری اور کذاب کہتے ہیں حالانکہ جھوٹ تو ایمان کے منافی ہے ایک سچا ایماندار آدمی جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ جو اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھوٹ سے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ وہ یہ بات کہہ کر خود جھوٹ کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ناقابل تردید دلائل کے باوجود اپنی ضد سے باز نہیں آتے اور یہی وہ بدنصیب ہیں جن کے مقدر میں گمراہی لکھ دی گئی ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ خود جھوٹے ہیں اور سچے کو جھوٹا کہہ رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس بات کو سمجھتے بھی ہیں انجان نہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مومن بزدل ہو سکتا ہے ، اور اللہ کسی انسان کو جھوٹ بولنے کی کبھی اجازت نہیں دیتا ، اگر یہ بات آپ کے ہاں بھی صحیح اور سچ ہے تو اس کو اچھی طرح یاد رکھتا ، ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو ہاں ہاں کہتے رہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ” اپنے جی سے جھوٹ گھڑنا تو انہی کا کام ہے جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے یہی ہیں کہ سرتاسرجھوٹے ہیں ۔ “
Ayah 16:106

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو کوئی ایمان لانے کے بعد پھر اللہ سے منکر [ ہوا اور اس کا دل اس انکار پر رضامند ہوگیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے مگر ہاں ، جو کوئی کفر پر مجبور کیا جائے اور (بےبس ہو کر کوئی بات منہ سے کہہ دے) اس کا دل اندر سے ایمان پر مطمئن ہو

اللہ کا غضب اور عذاب کن لوگوں پر بھڑکتا ہے ؟ 120۔ ہر شخص کی استعداد عقلی وفکری ایک جیسی نہیں ہوتی مشکلات کے بعض لوگ اتنے سخت جان ہوتے ہیں کہ وہ ان سے قطعا نہیں گھڑتے حتی کہ ان کی جان پر بن جائے تو وہ جان پر کھیل جانا بالکل آسان سمجھتے ہیں اور صدر اول میں سینکڑوں ایسے واقعات ہوئے جن کی روشنی آج تک مدھم نہیں ہوئی کہ مخالفین نے ان کو کفر پر مجبور کیا اور اس مقصد کے لئے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے لیکن وہ اللہ کے بندے اتنے شجاع اور بہادر نکلے کہ جان پر کھیل جانا ان کے لئے ذرا مشکل نہ نکلا اور وہ بڑے سکون کے ساتھ مظالم سہتے ہوئے اپنے خلق حقیقی سے جا ملے حتی کہ ان میں ایسے بھی تھے جن کی ٹانگوں کو دو مخالف سمت بھگائے جانے والے اونٹوں کے ساتھ کس کو باندھا گیا اور پھر ان اونٹوں کو مخالف بھگا کر انکے دو ٹکڑے کردیئے گئے اور اس اذیت میں بھی انہوں نے جان دینا کفر اختیار کرنے پر آسان سمجھا اور وہ بخوشی جان دے گئے اور اپنے مالک و خالق حقیقی کے ہمیشہ رہنے والے باغات میں جا بسے لیکن ایک آدھ مثال ایسی بھی سامنے آئی ہے کہ جب کسی شخص کو مخالفین نے کفر پر مجبور کیا اور دنیوی زندگی کی مشکلات کو اس نے دیکھا تو مجبورا ان کے سامنے کفر اختیار کرلیا حالانکہ اس کا دل ہر لحاظ سے اسلام پر مطمئن تھا اور اس نے جو کچھ کیا محض ان مشکلات سے گھبرا کر کیا اور اپنی جان بچا لی حالانکہ یہ حالت اس نے فقط ان مشکلات سے گھبرا کر اختیار کی ۔ بس اسی طرح کے لوگوں کو بھی وحی الہی نے چھوٹ دے دی کہ اگرچہ یہ کوئی خوبی کا کام نہیں تاہم ان مجبوریوں کے باعث جو کچھ ہوا ان سے درگزر کردی جائے گی ، پھر کسی فعل کا کرنا یا اس کا ہوجانا اس میں کتنا فرق ہے صاحب عقل لوگوں پر بالکل واضح ہے ، یہ حالت اس شخص کی بیان کی جارہی ہے جس سے یہ فعل سرزد ہوجائے ، اس کا یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں ہے کہ جان بچانے کے لئے کلمہ کفر کہہ دینا چاہئے بلکہ یہ رخصت ہے اس لئے جس سے ایسا ہوجائے اور ایمان دل میں رکھتے ہوئے وہ زبان سے کوئی ایسی بات کہہ دے تو گویا اس نے مجبورا ایسا کیا اگرچہ بات خوبی کی نہ ہوئی تاہم اس پر مواخذہ نہیں ہوگا وہ اگرچہ انعام الہی کا مستحق تو نہ ہوا لیکن کسی جرمانہ سے بھی اس کو بچالیا گیا اور یہ رحمت الہی کا تقاضا تھا جس نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے کر کسی طرح کے عذاب کا مستحق نہ ہونے دیا ، مقام عزیمت کیا تھا ؟ وہ تو یہی تھا کہ خواہ اس کا جسم تکا بوٹی کردیا جاتا ، بہرحال وکلمہ حق ہی کا اعلان کرتا اور اس کے جسم کو تکا بوٹی کرنے والے خود حیران و ششدر رہ جاتے ۔ صدر اول میں ان لوگوں کی کمی نہ تھی ، یہ خباب بن ارت ؓ ہیں جن کو آگ کے انگاروں پر لٹایا گیا یہاں تک کہ ان کی چربی پگھلنے سے آگ بجھ گئی مگر وہ سختی کے ساتھ اپنے ایمان پر جمے رہے اور یہ بلال حبشی ؓ ہیں جن کو لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کردیا گیا اور تپتی ہوئی ریت پر ڈال کر گھسیٹا گیا مگر ان کی زبان پر احد ، احد کی آواز بدستور جاری رہی پھر دیکھو کہ یہ حبیب بن زید ؓ بن عاصم ہیں جن کے بدن کا ایک ایک عضو مسیلمہ کذاب کے حکم سے کا تا جاتا تھا اور مطالبہ کیا جاتا تھا کہ مسیلمہ کو نبی مان لو لیکن وہ سمجھ چکے تھے کہ نبوت و رسالت تو میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم کردی گئی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آئے گا تو انہوں نے ہر مرتبہ مسیلمہ کو کذاب ہی کہا یہاں تک کہ اس طرح کٹ کٹ کر انہوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی ، یہ یاسر ؓ اور سمیہ ؓ ہیں جو عمار ؓ کے والد اور والدہ ہیں جن کو اذیتیں دے دے کر عمار ؓ کے سامنے ختم کردیا گیا اور وہ تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی آنکھوں کے سامنے شہید ہوگئے اور ان لوگوں کی داستانیں تو بہت لمبی وطولانی ہیں لیکن اس جگہ بطور حوالہ ان کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے کہ ان لوگوں نے جان بچانے کے لئے کبھی کوشش نہیں کی بلکہ جان کو جان دینے والے کے سپرد کردینا اچھا اور بہتر جانا اور انہوں نے بڑی ثابت قدمی سے اپنی جانیں قربان کیں۔ کوئی اللہ کے بندے ایسے بھی تھے کہ جب ان کو اذیتیں دی گئیں کہ وہ ان کی تاب نہ لاتے ہوئے کلمہ کفر کو کہہ گئے اور کفار سے نجات پاتے ہی روتے اور چیختے ہوئے محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ما ترکت حتی سببتک وذکرت الہتھم بخیر ” یارسول اللہ ﷺ مجھے نہ چھوڑا گیا جب تک کہ میں نے آپ ﷺ کو برا اور ان کے معبودوں کو اچھا نہ کہہ دیا ۔ “ تو ان صاحب کی بات سن کر نبی اعظم وآخر ﷺ کو ذرا ملال نہ آیا اور فرمایا کیف تجد قلبک ” تم نے اس وقت اپنے دل کا کیا حال پایا ؟ ” انہوں نے عرض کیا مطمئنابال ایمان “ ” میں نے اپنے دل کو ایمان پر پوری طرح مطمئن پایا ۔ “ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زیر نظر آیت نازل ہوئی یا آپ ﷺ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی اور ان صحابی کو اپنا حال معلوم ہوگیا ، لیکن افسوس کہ ہمارے مفتیوں نے ایسے حالات میں جان بچانا فرض ہے کہ فتوی صادر کرنا شروع کردیئے اور ان جان دینے والوں کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا گیا گویا خوبی کو ذم اور ذم کو خوبی بنا دیا اور اس محنت کا قوم سے خوب عوضانہ کمایا جس کے جواز کی کوئی صورت شریعت اسلامی میں ہرگز نہ تھی ، اس طرح کا فتوی صادر کر کے انہوں نے کفر کے لئے اپنا سینہ کھول دیا اور اس معاملہ میں شرح صدر پایا حالانکہ اس کے متعلق حکم الہی یہ تھا کہ : ” جو کوئی دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کرلے اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے لوگوں کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ۔ “ جو شخص مجبور کردیا گیا تھا اور اس مجبوری کے باعث اس سے کوئی بات سرزد ہوگئی حالانکہ اس کا دل کفر کی بات پر ہرگز مطمئن نہ تھا اس کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا دروازہ کھول کر اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کو اس کی اپنے نفس کی ملامت کے باعث معافی دے دی ، لیکن ان مفتیوں پر کیا گزری تھی کہ انہوں نے حقیقت بیان کرنے کے بجائے جان بچانے کے فتوی فروخت کرنا شروع کردیئے اور ہلدی کی ایک گانٹھ پر شفا کی دکانیں کھول دیں اور بیماروں کو صدائیں دینے لگے اور جو پھنس گیا اس سے خوب مال کھایا ، انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟ آنے والی آیت کریمہ خود ہی اس جواب دے رہی ہے ۔
Ayah 16:107

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے آخرت چھوڑ کر دنیا کی زندگی سے محبت کی نیز اس وجہ سے کہ اللہ (کا قانون ہے کہ وہ) منکروں پر راہ (سعادت ہرگز ہرگز) نہیں کھولتا

انہوں نے آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی سے محبت کی : 121۔ گزشتہ آیت میں عذاب عظیم کی خبر کن کو سنائی گئی تھی ؟ ان ہی لوگوں کو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف مراجعت کی اور پھر واپس لوٹ آنے کی ہمت ان کو نہ ہوئی اور ایسے گھبرائے کہ دوبارہ انہوں نے اسلام کا نام سننا پسند ہی نہ کیا یا ان لوگوں کو جنہوں نے جان بچانا فرض قرار دیا اور لوگوں کے لئے مشکل اوقات کا آسان حل تجویز کردیا ۔ اور ان کو یہ نسخہ دے کر نسخہ لکھنے کی اجرت نقد وصول کرلی اور اپنی پگڑی اور داڑی کے بال میں کمزور دل کے لوگوں کو چھپا لینے کی پوری کوشش کی ‘ فرمایا انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟ اور پھر خود ہی اس کا جواب بھی سنا دیا اور وہ اس لئے کہ اس جواب کے علاوہ اور کوئی جواب اس سوال کا صحیح اور درست نہ تھا فرمایا انہوں نے یہ اس لئے کیا کہ ” انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی اور ان کا ایسا کرنا دراصل کفر کرنے کے مترادف تھا اور قانون الہی یہ ہے کہ اللہ کفر اختیار کرنے والوں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا ۔ “ کتنا صاف اور واضح جواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے پیغمبر ﷺ کو سنا دیا ۔ تاکہ آپ ﷺ اپنی امت کو من وعن سنا دیں اور آپ ﷺ نے بھی ذرا دیر نہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وصول شدہ جواب فورا سنا دیا لیکن اللہ بھلا کرے ہمارے مفتیوں اور مولویوں کا کہ انہوں نے بھی اس جواب پر ذرا کان نہ دھرے اور سنی ان سنی کردی اور اس چیز کے بچانے کی سرتوڑ کوشش کی جس کو بچانا ان کے بس کی بات نہ تھی ، ان لوگوں نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کا جواب بھی ان کو نقد بہ نقد سنا دیا گیا چناچہ آنے والی آیت پر نظر پھیریں ۔
Ayah 16:108

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر ، کانوں پر اور آنکھوں پر مہر کردی ہے اور یہی ہیں کہ غفلت میں ڈوب گئے ہیں

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں ‘ کانوں اور آنکھوں پر مہریں لگائی گئی ہیں : 122۔ یہ کون ہیں جن کے گلے میں اسلام کا خشک لقمہ پھنس گیا اور انہوں نے اسے اگل کر اپنی جان بچائی ؟ یہ وہی ہیں جنہوں نے اسلام سے رشتہ جوڑ کر توڑ لیا جنہوں نے دنیوی زندگی کی آسائش اور آرام پر دار آخرت کو قربان کردیا ایے لوگوں کو ہدایت جیسی نایاب اور بیش قیمت نعمت سے نوازا نہیں جاتا بلکہ ان سے تو فہم وخرد کی قوت سلب کرلی جاتی ہے اور وہ دیدہ حق بیں سے بےنور ہوجاتے ہیں اور ان کے کان صدائے حق سننے سے بہرے ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق اور سچ ان کے دلوں میں نہیں جمتا اور ان کے کان صدائے حق سننے سے بہرے اور ان کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں اور دین الہی کی روشنی ان کو چکا چوند کردیتی ہے اور اس طرح وہ خود تو جو کچھ تھے وہ تھے ہی لیکن وہ بہت سے سادہ لوح لوگوں کے لئے بھی گمراہی کا سبب ہوئے اور آج تک اس طرح کے فتوی صادر کرکے ہو رہے ہیں اور اپنے اعمال کے نتائج سے بالکل غافل ہیں لیکن انکی اس غفلت کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ اس کا حال آنے والی آیت کھول رہی ہے ۔
Ayah 16:109

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

لامحالہ یہی لوگ ہیں کہ آخرت میں تباہ حال ہوں گے

یہی لوگ ہیں جو آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں : 123۔ فرمایا ان لوگوں نے اسلام سے منہ موڑا تو کیوں ؟ اس لئے کہ انکی جان بچے لیکن کیا وہ اس طرح اپنی جانوں کو بچاسکے ؟ اگر جواب ہاں ہے تو وہ آج کہاں ہیں ؟ اگر وہ موجود نہیں تو یقینا وہ اپنی جانوں کو بچا نہ سکے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جس مقصد سے کنارہ کشی کی اس مقصد کو وہ حاصل نہ کرسکے اور اپنی آخرت کو مفت میں برباد کیا اور یہ ایسا گھاٹا تھا جس کے پورا ہونے کی کوئی صورت نہ تھی اور نہ ہی ہے اور نہ کبھی ہوگی اور اس طرح وہ دودھ پینے سے گئے اور یہ لید مفت میں اٹھانا پڑی اور جو حال ان کا ہوا وہی ان کے حواریوں کا ہوگا جو ان کی رعایت کے فتوی صادر کر رہے ہیں ۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

اور پھر جن لوگوں کا یہ حال ہوا کہ آزمائشوں میں پڑنے کے بعد ہجرت کی اور پھر جہاد بھی کیا اور صابر رہے تو بلاشبہ تمہارا پروردگار ان اعمال کے بعد ضرور بخشنے والا ، ضرور رحمت فرمانے والا ہے

جن لوگوں نے آزمائشوں سے پاس ہو کر ہجرت اختیار کی وہ کامیاب ہوئے : 124۔ پھر جن لوگوں کا حال یہ ہوا کہ کفر و ایمان کی آزمائشوں میں پڑنے کے بعد ہجرت کی اور راہ حق میں جہاد کیا اور ہر طرح کی مصیبتوں میں صابر رہے تو بلاشبہ تمہارا پروردگار ان اعمال کے بعد ضرور بخشنے والا ‘ ضرور رحمت فرمانے والا ہے اور کیوں نہ ہو جب کہ انہوں نے پیغمبر اعظم وآخر ﷺ کی محبت میں کونسی مصیبت ہے جس کو قبول نہیں کیا اور وہ کونسا دکھ ہے جو انہوں نے اپنے سر نہیں اٹھایا ‘ وطن چھوڑا اور حق و باطل کی ہر جنگ میں حق کا پرچم بلند کیا اور سردھڑ کی بازی لگائی اور نہایت صبر و استقلال کے ساتھ اس وادی سے نکل گئے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت نے اس کا استقبال کی اور فرشتوں نے ان کو مبارک بادیاں پیش کیں ، اس طرح وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب وکامران ہوئے اور آج تک ان کی کامیابی کے گیت گائے جا رہے ہیں اور رہتی دنیا تک گائے جائیں گے ۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

وہ آنے والا دن جب ہر جان صرف اپنے ہی لیے سوال و جواب کرتی ہوئی آئے گی اور جس دن ہر جان کو اس کے عمل کا پورا پورا نتیجہ مل جائے گا کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو گی

قیامت کیا ہے ؟ وہی دن جس دن ہر جان کو اپنی اپنی پڑی ہوگی : 125۔ وہ دن اور وقت انصاف کامل کا ہوگا ‘ دنیا کی طرح وہاں خیر وشر کو مخلوط اور حق و باطل کو باہم ملبوس کرنے کی قطعا حاجت نہ ہوگی اور وہ گھڑی ایسی نفسا نفسی کی ہوگی کہ کسی کو کسی دوسری توجہ کرنے کی مہلت ہی کب ہوگی ؟ بلکہ ہر شخص کو اپنی اپنی فکر دامن گیر ہوگی ۔ عذاب الہی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے وہ سارے جتن کرے گا اگر انکار جرم میں اپنی سلامتی محسوس کرے گا تو بلاجھجھک مکر جائے گا اور کہے گا میں نے تو قطعا کوئی جرم کیا ہی نہیں تھا ، میری ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں بسر ہوئی لیکن جب فرشتے اس کی زندگی کا مکمل ریکارڈ پیش کردیں گے اور اس کے اپنے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء اس کی غلط کاریوں پر گواہی دیں گے تو پھر وہ اقبال جرم کر کے فورا معذرت خواہی کرنے لگے گا اور طرح طرح کے حیلے بہانے پیش کرے گا لیکن اس روز کسی قسم کی حیلہ سازی کام نہیں آئے گی ہر شخص کو اس کے نیک وبداعمال کا بدلہ دیا جائے گا ‘ نیکوں کی نیکیاں فراموش نہیں کی جائیں گی بلکہ انہیں ان کا نیک بدلہ ملے گا اور بروں کی برائیاں اپنا رنگ لا کر رہیں گی اور انہیں سزا بھگتنا پڑے گی اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے وہ ظلم کیا ہے ؟ ظلم یہی ہے کہ نیکوں کی نیکیاں فراموش کردی جائیں اور بروں کو ان کی برائیوں سے زیادہ سزا دی جائے ‘ ایسا نہیں ہوگا اگر نیکوں کو انکی نیکیوں کا اجر ان کے حق سے زیادہ دیا جائے یا بروں کی سزا میں تخفیف کردی جائے تو یہ ظلم نہیں بلکہ ایسا عدل و انصاف ہے جو فضل و کرم کا آئینہ دار ہے اور اس کی شان کریمی کو یہی زیبا ہے اور یہی کچھ بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 16:112

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور اللہ نے ایک مثال بیان کی ایک بستی تھی جہاں ہر طرف امن چین تھا ہر جگہ سے سامان رزق آتا رہتا اور ہر شخص فراغت سے کھاتا پیتا تھا لیکن پھر ایسا ہوا کہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے بھی ان کے کاموں کی پاداش میں انہیں نعمتوں سے محروم کردیا پھر فاقہ اور خوف ان پر چھا گیا

اس بستی کی مثال جس کو اللہ نے بافراغت رزق اور امن وامان دیا تھا : 126۔ اس بستی سے کون سی بستی مراد ہے ؟ قرآن کریم نے اگرچہ اس کو واضح نہیں کیا لیکن تاہم دوسری جگہ ایسے اشارات پائے جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بستی مکہ ہی کی بستی ہوگی ۔ بلاشبہ یہ بستی اس وقت کی بستیوں میں سب سے زیادہ محفوظ اور مطمئن تھی اور یہاں کے باشندے بھی دوسری قوموں میں اچھی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اگرچہ وہ آپس میں جو کچھ بھی تھے کیونکہ کعبہ مقدسہ کی وجہ سے مکہ کو جو عزت وشرف حاصل تھا وہ محتاج بیان نہیں ۔ اس جگہ ہر طرح کا امن وامان تھا کوئی حملہ آور اس پر کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا ، اس کے باشندے جہاں جاتے لوگ ان کی راہ میں آنکھیں بچھاتے ‘ کوئی ڈاکو یا راہزن اس پر دست درازی نہ کرتا ۔ کھانے پینے کی تمام چیزیں غلہ ‘ سبزیاں اور پھل بکثرت دستیاب ہوتے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہوئے تو بجائے اس کے کہ اہل مکہ مشرف بہ اسلام ہو کر مزید عنایات الہیہ کے مستحق ہوتے انہوں نے نافرمانی کی اور انعامات الہی کا شکر ادا کرنے کی بجائے کفران نعمت کو اپنا ان کے اس مطالبہ کا ذکر سورة الانفال کی آیت 33 ‘ 34 میں کیا گیا ہے لیکن انکو یہ کہا گیا کہ تمہارا یہ مطالبہ کیسے پورا کیا جاسکتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس عذاب کے نہ آنے کا باعث خود محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہے کہ جب تک وہ آپ کے اندر موجود ہے اس وقت تک تم کو عذاب نہیں دیا جاسکتا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ قانون الہی ہے کہ جب کوئی نبی رسول اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنی قوم کو پہچانتا ہے اور قوم اس کے پیغام کو ماننے سے انکار کردیتی ہے تو اس قوم کو فورا عذاب میں مبتلا نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو فرصت ومہلت دی جاتی ہے تا آنکہ اعلان الہی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی ورسول کو وہاں سے نکل جانے کا حکم صادر فرمایا ہے اور نبی ورسول کے ذریعہ عذاب کا وقت اور دن مقرر کیا جاتا ہے اور پھر اس مقررہ تاریخ کو نزول عذاب سے پہلے نبی ورسول کو وہاں سے ہجرت کر جانے کا حکم نازل ہوتا ہے اور جب وہ ہجرت کرجاتا ہے تو وہ موعود عذاب بھی اپنے وقت پر نازل ہوجاتا ہے ، یہی بات آپ ﷺ کی قوم کے ساتھ یعنی مکہ کی بستی کو بھی درپیش آئی ۔ چناچہ سورة الانفال میں فرمایا گیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اب تم کو عذاب نہ دیا جائے جب کہ تم اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ کو یہاں سے ہجرت کر جانے پر تم نے مجبور کردیا ہے اور وہ ہجرت کرکے مکہ سے جا چکے ہیں ۔ آپ ﷺ کی ہجرت کے بعد سنت اللہ کے مطابق بالکل وہی کچھ ہوا جس کا ذکر آیت میں کیا گیا ۔ غور کرو کہ ہجرت کے دوسرے ہی سال اسلام کے ساتھ ان کی جنگوں کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا جس کے باعث امن وامان درہم برہم ہوگیا ہر گھر میں آئے دنوں صف ماتم بچھنے لگی ‘ تجارت کی وہ گرم بازاری باقی نہ رہی ‘ قحط وخشک سالی نے ان کا ناطقہ مکمل طور پر بند کردیا ۔ زیر نظر آیت میں جس نعمت سے ان کے انکار کا ذکر کیا گیا وہ نعمت بھی خود محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے ۔ ” لباس “ بلاشبہ پہننے کی چیز ہے جو جسم کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس جگہ خوف اور بھوک (جوع) کو لباس کہا گیا ہے اس لئے کہ اس نے ان کے جسموں کو فی الحقیقت ڈھانک لیا تھا اور ان کی حالت ناگفتنی ہوچکی تھی خوف اور ڈر کے باعث نیند حرام ہوچکی تھی اور جوع یعنی بھوک نے ان کے جسموں کو لاغر کر کے رکھ دیا تھا جس سے وہ چاروں طرف سے گویا ڈھانک لئے گئے تھے ، اور اس کا اصل باعث ان کی اپنی ہی کارستانیاں تھیں ، اور انہی کے کئے کا نتیجہ تھا مزید تفصیل کے لئے سورة الانفال کی آیت 33 ‘ 34 کی تفسیر ملاحظہ کریں اور آگے آنے والی آیت بھی اس کی وضاحت پیش کر رہی ہے ۔
Ayah 16:113

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور پھر خود انہیں میں سے ایک رسول بھی ان کے سامنے آیا مگر انہوں نے اسے جھٹلایا ، پس عذاب میں گرفتار ہوگئے اور وہ ظلم کرنے والے تھے

جب ان کے پاس اللہ کا رسول آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا : 127۔ اس آیت نے گزشہ مضمون کی مزید تشریح کردی اور بات واضح ہوگئی کہ پچھلی آیت میں جس بستی کا ذکر کیا گیا وہ ” مکہ مکرمہ “ ہی تھی اور زیر نظر آیت میں (رسول) سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں اور آپ ﷺ کے حسب ونسب کا تعلق بھی مکہ والوں ہی کے ساتھ تھا اور مکہ والوں ہی نے سب سے پہل آپ ﷺ کی تکذیب کی اور مسلسل تیرہ سال تک کرتے رہے اور انجام کار آپ ﷺ کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی لیکن آپ ﷺ کو ہجرت کئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مکہ والوں کو قحط سالی میں مبتلا کردیا گیا اور علاوہ ازیں ان کو ہر سال میدان جنگ میں ایک سے زیادہ بار آزمایا جانے لگا اور ہر بار وہ پٹ کر رہ گئے اور ان کا جانی اور مالی نقصان ہوا اور اس طرح چند ہی سالوں کے بعد مکہ فتح کرکے محمد رسول اللہ ﷺ کے قبضہ میں دے دیا گیا اور اس طرح وہ لوگ اپنے ظلم کی پاداش میں دھر لئے گئے جو ان کے لئے سب عذابوں سے بڑا عذاب تھا ۔
Ayah 16:114

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس چاہیے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اسے شوق سے کھاؤ ، حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں اور چاہیے کہ اللہ کی نعمت کا شکر بھی بجا لاؤ اگر تم صرف اس کی عبادت کرنے والے ہو

مخالفین کے قلع قمع کے بعد اب مسلمانوں کو ہدایت جاری کی جارہی ہے : 128۔ مشرکوں کے خاتمہ کے ساتھ ہی ایک طرح سے شرک کی بھی بیخ کنی ہوگئی اور شرک کی جگہ اب توحید کا درس دیا جانے لگا اس لئے توحید پر ستوں ہدایت جاری کی جارہی ہے کہ ” اللہ نے جو رزق تم کو دیا ہے اسے شوق سے کھاؤ پیو کیونکہ وہ سب حلال وطیب چیزیں ہیں ۔ “ اور اس بات کی تشریح آپ قبل ازیں ایک سے زیادہ بار پڑھ چکے ہیں کہ ہر وہ چیز جو طیب ہے وہ یقینا حلال ہے اگرچہ ہر حلال چیز طبیب نہیں ہے اس لئے مسلمانوں کو خصوصا حکم دیا جا رہا ہے کہ ہر وہ چیز کھاؤ جو حلال ہونے کے ساتھ طیب بھی ہے یہی تمہارے شایان شان ہے ” اور چاہئے کہ اللہ کی نعمت کا شکر بھی بجا لاؤ “۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ساری نعمتوں سے بڑھ کر خود نبی اعظم وآخر ﷺ کی ذات گرامی کی نعمت ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اس نعمت عظمی کا بھی شکر ادا کریں کہ اگر وہ توحید پرست ہیں تو توحید کا سبق سکھانے والے کا بھی شکریہ ادا کریں ، اس جگہ یہ ہدایت اس لئے ضروری تھی کہ مشرکین مکہ نے اپنے ادہام سے طرح طرح کی چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں ، یہودیوں اور عیسائیوں نے بھی کھانے پینے میں طرح طرح کی رکاوٹیں اختیار کرلی تھیں اور سمجھتے تھے یہ کوئی شریعت کا حکم ہے اور پھر آنے والی آیت میں حرام چیزوں کی فہرست بھی پیش کردی گئی کہ تمہارے لئے کیا کچھ حرام ہے ؟
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

جو کچھ تم پر حرام کیا گیا ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ مردار جانور ، لہو ، سور کا گوشت اور وہ چیز جسے اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کیلئے پکارا جائے ، پھر جو کوئی ناچار ہوجائے اور نہ تو سرتابی کرنے والا ہو ، نہ حد سے گزر جانے والا ، تو اللہ بخشنے والا رحمت والا ہے

حرام کی گئی چیزوں کی فہرست کہ وہ کیا کیا چیزیں ہیں جو اہل اسلام کے لئے حرام ہوئیں : 129۔ زیر نظر آیت اس سے قبل پیچھے تین بار گزر چکی سورة البقرہ کی آیت 173 ‘ سورة المائدہ کی آیت 3 اور سورة الانعام کی آیت 145 پھر تینوں جگہوں پر کی گئی تشریح کو پڑھ لینے کے بعد مزید کچھ بیان کرنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی اور ہمارے خیال میں کوئی پہلو تشنہ نہیں رہا جس کو اس جگہ بیان کردیا جائے تاکہ مضمون کی تکمیل ہوجائے ، اس لئے ہماری رائے میں اس آیت کی تفسیر کے لئے قارئین پیچھے ہی مراجعت کریں اور حوالہ دیئے گئے مقامات کی تفسیر اٹھا کر دیکھ لی جائے اور اگر ترتیب وار دیکھا جائے یعنی پہلے بقرہ 2 : 173 کو پھر المائدہ کی آیت 3 ‘ ازیں بعد سورة الانعام کی آیت 145 کو زیادہ مفید ہوگا کیونکہ ہر مقام پر تشنہ رہ گئی بات کی تفصیل کردی گئی ہے ۔
Ayah 16:116

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور ایسا نہ کرو کہ تمہاری زبانوں پر جو جھوٹی بات آجائے بےدھڑک نکال دیا کرو اور حکم لگا دو ، یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے ، اس طرح حکم لگانا اللہ پر افتراء پردازی کرنا ہے جو لوگ اللہ پر افتراء پردازیاں کرتے ہیں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں

حلت و حرمت میں چھوٹ نہ ہوجاؤ کہ اپنی مرضی سے حلال و حرام ٹھہرانے لگو : 130۔ فرمایا اپنی زبانوں کو کذب سرائی کے لئے بےلگام نہ چھوڑو کہ جس چیز کو چاہا اپنی رائے اور قیاس سے حرام ٹھہرا دیا جس کو چاہا حلال کہہ دیا ، حلال و حرام ٹھہرانے کا حق تو صرف وحی الہی کو ہے اور تمہارے پاس اپنے ادہام وآراء کے سوا ‘ کوئی وحی کی روشنی نہیں جو قرآن کریم کے خلاف پیش کرسکو ، یہ آیت ان لوگوں کے خلاف بیان دے رہی ہے جو محض اپنے گھڑے ہوئے قیاسوں کی بناء پر جس چیز کو چاہتے ہیں حرام ٹھہرا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں حلال قرار دے لیتے ہیں اگرچہ کوئی نص قطعی موجود نہ ہو ۔ قرآنی اصل اس کے متعلق یہ ہے کہ اللہ کی تمام پیدا کی ہوئی چیزیں انسان کے برتنے کے لئے ہیں الا وہ جو مضر ہیں اور وحی الہی نے ان سے روک دیا ہے پس معلوم ہوا کہ ہرچیز مباح ہے جب تک شریعت اسے حرام نہ ٹھہرا دے اور شریعت کے معنی یہاں قرآن وسنت کے نصوص قطعیہ ہیں نہ کہ کسی فرد یا گروہ کی مجرد رائے اور قیاس اور اس کی تشریح پیچھے گزر چکی ہے جہاں ارشاد فرمایا کہ : ” اے اولاد آدم ! عبادت کے ہر موقعہ پر اپنے جسم کی زیب وزینت سے آراستہ رہا کرو ‘ نیز کھاؤ پیو مگر حد سے نہ گزر جاؤ اللہ انہیں پسند نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے ہیں ۔ اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں سے کہو اللہ کی ذینتیں جو اس نے اپنے بندوں کے برتنے کے لئے پیدا کی ہیں اور کھانے پینے کی حلال اور طیب چیزیں کس نے حرام کی ہیں ؟ تم کہو نعمتیں تو اس لئے ہیں کہ ایمان والوں کے کام آئیں ، دنیا کی زندگی میں زندگی کے مکروہات کے ساتھ اور قیامت کے دن ہر طرح کی مکروہات سے خالص ! دیکھو ‘ اس طرح ہم ان لوگوں کے لئے کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں جو جاننے والے ہیں ، اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں سے کہو میرے پروردگار نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے وہ تو یہ ہے کہ بےحیائی کی باتیں جو کھلے طور پر کی جائیں اور جو چھپا کر کی جائیں ‘ گناہ کی باتیں ‘ ناحق زیادتی یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور یہ کہ اللہ کے نام سے ایسی بات کہو جس کے لئے تمہارے پاس کوئی علم نہیں ۔ “ (الاعراف : 7 : 32 : 33) یہ عام احکام ہیں اور ان کی تشریحات بہت وسیع ہیں اور کھانے پینے میں حلت و حرمت کا قانون الہی گزشتہ آیت 115 میں گزر چکا جس کا مفصل بیان گزشتہ سورتوں میں بھی گزرا جس کی نشاندہی آیت 115 میں کردی گئی ہے اور اس کی پوری تفصیل جو مکمل وضاحت سے کی گئی وہ سورة الانعام میں اور المائدہ میں گزر چکی ہے ۔ اور اس جگہ فرمایا ” ایسا نہ کرو کہ تمہاری زبانوں پر جو جھوٹی بات آجائے ‘ بےدھڑک نکال دیا کرو اور اپنے جی سے ٹھہرا کر حکم لگا دو کہ یہ چیز حلال ہے ‘ یہ چیز حرام ہے ، اس طرح حکم لگانا اللہ پر افتراء پردازی کرنا ہے اور یاد رکھو کہ جو لوگ اللہ پر افتراء پردازیاں کرتے ہیں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں ۔ “
Ayah 16:117

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

بہت تھوڑے فائدے ہیں انہیں عذاب دردناک پیش آنے والا ہے

تھورا فائدہ ہے جو اٹھا رہے ہیں اور عذاب میں یہ لوگ پڑنے والے ہیں : 131۔ دنیا کی زندگی آخر چیز ہی کیا ہے ؟ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے ۔ اور اس کا فائدہ بھی کتنا ہی تھوڑا ہے گویا نہ ہونے کے برابر ‘ نہ آنے کا پتہ نہ جانے کا کوئی صحیح علم اور نہ ہی قیام کے وقت کا کوئی تعین یہ چار دن کی مستعار زندگی ہی تو ہے جس کے دو دن آنے اور جانے میں لگ گئے اور دو دن انتظار میں کٹ گئے ، زندگی کیا ہے ؟ ایک حباب ہی تو ہے اور پھر ؟ فرمایا حلت و حرمت میں مرضی چلانے والوں اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں اور جھوٹ گھڑنے والوں کے لئے فلاح و کامیابی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ان کے لئے تو بس ایک دردناک عذاب ہی ہے وہ اس میں دیر سے مبتلا ہوں گے یا سویر سے ؟
Ayah 16:118

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کی سرگزشت تجھے پہلے سنا چکے ہیں اور ہم نے ان پر زیادتی نہیں کی وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر زیادتی کرتے رہے ہیں

یہود پر جو کچھ حرام کیا گیا وہ ان کے ظلم کے باعث تھا جو گویا ان کی سزا تھی : 132۔ کفار مکہ کو یہ اعتراض تھا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں تو بہت سی چیزیں حرام ہیں جن کو تم نے حلال کر رکھا ہے ، اگر وہ شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی اور تمہاری شریعت بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے تو دونوں میں یہ اختلاف کیوں ہے ؟ اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہود پر جو کچھ ہم نے حلال و حرام کیا تھا وہ تو بالکل وہی ہے جو ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کے حلال و حرام ٹھہرایا ہاں ! یہود نے حلت و حرمت میں بداعتدالیاں کیں اور ان کو انکی بداعتدالیوں کی سزا کے طور پر بعض چیزیں حرام کی گئی تھیں اور جو کچھ کسی قوم کی سزا کے لئے کیا جاتا ہے وہ کبھی مستقل قانون نہیں قرار پا جاتا ۔ وہ لوگ تو بالکل ضدی تھے اور اپنی ضد ہی کے باعث انہوں نے خود بہت سی چیزیں اپنے لئے حرام ٹھہرا لیں تو ہم نے ان کو سزا کے طور پر نافذ کردیا کہ اگر تم کنوئیں میں گرنا ہی چاہتے ہو تو جلدی کرو تاکہ ہم تم پر جلدی مٹی ڈال دیں ، یہود کی حلت و حرمت میں بداعتدالیوں کی پوری تفصیل سورة الانعام کی آیت 146 میں بیان کی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

ہاں ! جو لوگ نادانی سے برائیوں میں پڑگئے لیکن اس کے بعد تائب ہوگئے اور توبہ کے بعد اپنی حالت بھی سنوار لی تو تمہارا پروردگار اس کے بعد ضرور بخشنے والا رحمت فرمانے والا ہے

جو لوگ جہالت کے باعث کسی فعل کے مرتکب ہوں اور پھر توبہ کرلیں تو اللہ رحیم وکریم ہے : 133۔ کسی غلطی کا ارتکاب کسی انسان سے کوئی بعید از قیاس بات نہیں ۔ غلطی ہوتی آئی ہے ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی ، ہاں ! جو لوگ جہالت کے باعث کسی غلطی میں مبتلا ہوگئے اور پھر آگاہ ہو کر فورا تائب بھی ہوگئے تو یہ بات ان کے اچھے مقدر کی نشانی ہوئی اور اب جب کہ وہ اپنی اصلاح کرلیں گے تو ایسے ہی ٹھہریں گے کہ گویا انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی سزا تو ساری کی ساری ان ہی لوگوں کے حصے میں آئی ہے جو اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں اور حق واضح ہوجانے کے بعد بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں وہ لوگ جو نادان ونافرمان ہیں ان کے قصوروں سے وہ درگزر کرے گا اور اس کے تحت ہر چھوٹی بڑی ہر قسم کی برائی ، معصیت آگئی یہاں تک کہ ہر قسم کا شرک وکفر بھی ہاں ! حقوق العباد کا تعلق عباد اللہ یعنی اللہ کے بندوں سے بھی ہے اور جب تک وہ معاف نہ کریں اللہ تعالیٰ بھی معاف نہیں کرتا اور باقی سب کچھ توبہ سے اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے اور اس کا لوگوں کے ساتھ گویا وعدہ ہے اور یہ بات پہلے ہی طے ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ہونے دیتا ہے ۔