Ayah 16:75شرک کے رد سے لوگوں کو شرک کا خزانہ مل گیا جس کو وہ خوب بانٹ رہے ہیں :
87۔ ان کافروں اور مشرکوں کو ایک مثال دے کر سمجھایا جارہا ہے فرمایا اللہ کے لئے مثالیں بیان نہ کرو بلکہ اس کی مخلوق اور وہ بھی انسان ہیں مختلف حالتوں پر غور کرلو تو تم کو سمجھ آجائے گی کہ جب مخلوق کے اندر اور وہ بھی ایک جنس کی مخلوق میں اس قدر فرق ہے اور وہ تو خالق ہے اس کو کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہہ کیونکر دی جاسکتی ہے غور کرو کہ ایک شخص کسی کا زر خرید غلام ہے اس کو کسی چیز پر قدرت نہیں ہے وہ کسی بھوکے آدمی کو باسی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دے سکتا اور سردی میں ٹھٹھرنے والے کو ایک کپڑا نہیں اوڑھا سکتا خواہ وہ پھٹا پرانا ہی کیوں نہ ہو اور ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے خزانوں کا مالک بنا دیا ہے اور اس کے پاس ہرچیز وافر مقدار میں موجود ہے اور وہ خود اپنے اختیار سے خرچ بھی کرسکتا ہے دونوں انسان ہیں لیکن دونوں کی حالتوں میں کتنا بڑا فرق ہے اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو تم کس کے پاس جاؤ گے ؟ ایک غلام کے پاس جو کسی دوسرے کے اختیار میں ہے اور خود کوئی اختیار میں ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا یا اس کے پاس جو خود مالک ومختار ہے اور جس طرح چاہے اپنا مال خرچ کرسکتا ہے ؟ کیا وہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں کہ تم اپنی حاجتوں اور مصیبتوں میں ان کے آگے جھکتے ہو جو خود اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اپنی ساری اختیاجوں میں اس کی بخشائش کے محتاج ہیں اور اس کی طرف سے گردن لیتے ہیں جس کے اختیار میں سب کچھ ہے اور کوئی نہیں جو اس کا ہاتھ پکڑنے والا ہو ؟
بات تو سمجھائی جارہی تھی کہ اللہ کا تصور مخلوق کے ساتھ نہ جوڑا کر کیونکہ مخلوق مخلوق اور خالق خالق ہے دونوں آپ میں کسی طرح بھی نہیں مل سکتے نہ ان کی جنس ایک اور صنف میں وہ کہیں کوئی میل رکھتے ہیں ہاں ! اس کی ذات بےنیاز کو سمجھانا چاہو تو اس کی مخلوق ہی میں سے دو مختلف حیثیتوں کے انسانوں میں غور کرو کہ جنس دونوں کی ایک ہے اور ایک صنف سے تعلق رکھتے ہیں لیکن حالت کے لحاظ سے دونوں میں خاص فرق ہے جو سمجھایا گیا لیکن الٹی سمجھ کے لوگوں نے اس سے شرک کے جواز کی راہ تلاش کرلی اور فتوی دینا صادر کردیا کہ اس مثال سے یہ فرق واضح کردیا گیا ہے کچھ لوگ لینے والے ہوتے ہیں اور کچھ دینے والے اللہ کے محبوب اور پیارے اللہ ہی کے دیئے ہوئے رزق سے بیٹے بیٹیاں دے رہے ہیں اور دوسرے لوگوں کی مشکلات کو حل کر رہے ہیں اور اللہ نے اپنا رزق اس قدر وافر ان کو عطا کردیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جتنا کسی کو چاہتے ہیں دیئے چلے جاتے ہیں ان کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور ضرورت مند اور حاجت مند ان کے دروازوں کی طرف رواں دواں ہیں اور دن رات وہ لوگوں کی حاجت روائیاں کر رہے ہیں اور اللہ کے دیئے ہوئے خزانے بانٹ رہے ہیں اور تقسیم کر رہے ہیں اور اس کے باوجود نہ انکو دیئے گئے خزانے ختم ہوتے ہیں اور نہ ان کے ہاتھ ہی تقسیم کرنے سے تھکتے ہیں اور ان کے در پر مانگنے والوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے ہر کوئی اپنی ہمت ‘ حوصلہ اور سمجھ کے مطابق مانگ رہا ہے اور وہ انکو ان کے ظروف کے مطابق بانٹ رہے ہیں ، کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی دینے والا نہیں ، اللہ کے سوا کسی کے ہاتھ میں خیر وبھلائی نہیں ہے اور اللہ کے سوا کسی سے مانگنا حرام اور جرم عظیم ہے اور ” من دون اللہ “ کی رٹ دن رات رٹتے رہتے ہیں اور یہ بات اولیائے کرام (علیہم السلام) کی ہے کہ ان کی فیاضی حد و حساب سے باہر ہے رہے خود محمد رسول اللہ ﷺ حبیب مکرم اور محبوب اعظم ﷺ تو آپ ﷺ کو تو اللہ نے دنیا ومافیہا میں جو کچھ ہے سب بخش دیا ہے اور آپ ﷺ کا اپنا ارشاد ہے کہ ” اعطیت مفاتیح خزائن الارض “ میرے رب نے زمین کے سارے خزانوں کی کنجیاں مجھے عطا فرما دی ہیں اور ” انا قاسم “ میں تقسیم کرنے والا ہوں جیسے چاہتا ہوں ان کو تقسیم کرتا ہوں اس لئے کسی نے یہ جسارت کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ
جو لینا ہے لے لیں گے محمد ﷺ سے اللہ کے پاس سوائے وحدت کے رکھا ہی کیا ہے ؟
اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید و وحدانیت کی آیات ہی سے شرک کی سند پکڑ لی اور اب وہ اس شرک کو دن رات پھیلا رہے ہیں اور بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ” اولیاء سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا “ ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع وشیء مرغوب ہے ‘ جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا دشمن انصاف ۔ “ (حیوۃ الموات احمد رضا درفتوی رضویہ ج 4 ص 300) ایک جگہ تحریر کیا گیا کہ ” حضور ہی ہر مصیبت میں کام آتے ہیں ‘حضور ﷺ ہی بہتر عطا کرنے والے ہیں عاجزی وتذلل کے ساتھ حضور کو ندا کرے ‘ حضور ہی ہر بلا سے پناہ ہیں ۔ “ (الامن والعلی ص 10) ایک جگہ ارشاد ہوا کہ ” جبرئیل (علیہ السلام) حاجت روا ہیں پھر حضور اقدس ﷺ کو حاجت روا ‘ مشکل کشا ‘ دافع البلاء ماننے میں کسی کو تامل ہو سکتا ہے وہ تو جبرئیل (علیہ السلام) کے بھی حاجت روا ہیں ۔ “ (ملفوظات ص 99) ” جو کوئی رنج وغم میں مجھ سے مدد مانگے اس کا رنج وغم دور ہوگا اور جو سختی کے وقت میرا نام لے کر مجھے پکارے تو وہ شدت رفع ہوگی اور جو کسی حاجت میں رب کی طرف مجھے وسیلہ بنائے اس کی حاجت پوری ہوگی ۔ “ (جاء الحق از احمد رضا بریلوی ص 300)
زیر نظر آیت میں جو سوال تھا وہ کیا تھا ؟ کیا غلام جو کسی طرح کا کوئی اختیار نہیں رکھتا اور وہ جو آقا ہے جس کے پاس بہت کچھ اللہ کا دیا ہے جس وہ اپنی مرضی اور اختیار کے ساتھ خرچ کرتا ہے ” ھل یستؤون “ ؟ کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ اس سوال کے بعد فرمایا الحمد للہ چہ معنی دارد ؟ ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس سے یہ سوال سن کر مشرکین کے لئے یہ جواب دینا تو کسی طرح ممکن نہ تھا اور نہ ہی ممکن ہے کہ ہاں ! دونوں برابر ہیں ‘ لامحالہ اس کے جواب میں کسی نے صاف صاف اقرار کیا ہوگا کہ واقعی دونوں برابر نہیں ہیں ہاں کسی نے اس اندیشہ سے خاموشی اختیار کرلیا ہوگی کہ اقراری جواب دینے کی صورت میں اس کے متعلق نتیجے کا بھی اقرار کرنا ہوگا اور اس سے خود بخود ان کے شرک کا ابطال ہوجائے گا لہذا نبی نے دونوں کا جواب پا کر فرمایا الحمد للہ اقرار کرنے والوں کے اقرار پر بھی الحمد للہ اور خاموش رہنے والوں کی خاموشی پر بھی الحمد للہ ۔ پہلی صورت میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کا شکر ہے کہ اتنی بات تو تمہاری سمجھ میں آئی ۔ “ دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ خاموش ہوگئے ؟ الحمد للہ ۔ اپنی ساری ہٹ دھرمیوں کے باوجود دونوں کو برابر کہہ دینے کی ہمت تم بھی نہ کرسکے ۔
ہاں ! اکثر لوگ اس سیدھی سی بات کو بھی نہیں جانتے یعنی باوجود اس کے کہ انسانوں کے درمیان وہ صریح طور پر بااختیار اور بےاختیار کے فرق کو محسوس کرتے ہیں اور اس کو ملحوظ رکھ کر بھی دونوں کے ساتھ الگ الگ طرز عمل اختیار کرتے ہیں پھر بھی وہ ایسے نادان و جاہل بنے ہوئے ہیں کہ خالق و مخلوق کا فرق ان کی سمجھ میں نہیں آتا ، خالق کی ذات اور صفات اور حقوق و اختیارات سب میں وہ مخلوق کو اس کا شریک سمجھ ہیں اور مخلوق کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کر رہے ہیں جو صرف خالق کے ساتھ ہی اختیار کیا جاسکتا ہے ، عالم اسباب میں کوئی چیز مانگنی ہو تو گھر کے مالک سے مانیں گے نہ کہ گھر کے غلام سے ، مگر مبداء فیض سے حاجات طلب کرنی ہو تو کائنات کے مالک کے چھوڑ کر اس کے بندوں کے آگے ہاتھ پھیلا دیں گے ۔
Ayah 16:76اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان کرتے ہے تم ذرا سن کر خود فیصلہ کرو :
88۔ گزشتہ مثال میں اللہ اور بناوٹی معبودوں کے فرق کو اختیار اور بےاختیاری کے اعتبار سے نمایاں کیا گیا ہے اب اس دوسری مثال میں وہی فرق اور زیادہ کھول کر صفات کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ اور ان بناوٹی معبودوں کے درمیان فرق صرف اتنا ہی نہیں کہ ایک بااختایر مالک ہے اور دوسرا بےاختیار غلام ہے بلکہ مزید برآں یہ فرق بھی ہے کہ یہ غلام نہ تمہاری ہی پکار سنتا ہے ‘ نہ اس کا جواب دے سکتا ہے نہ کوئی کام بااختیار خود کرسکتا ہے اس کی اپنی زندگی کا سارا انحصار اس کے آقا کی ذات پر ہے اور اگر آقا کوئی کام اس کی ذات پر چھوڑ دے تو وہ کچھ بھی نہیں بنا سکتا بخلاف اس کے آقا کا حال یہ ہے کہ صرف ناطق ہی نہیں ناطق حکیم ہے ‘ دنیا کو عدل کا حکم دیتا ہے اور صرف فاعل مختارہی نہیں فاعل برحق بھی ہے جو کچھ کرتا ہے راستی اور صحت کے ساتھ کرتا ہے بتاؤ یہ کونسی دانائی ہے کہ تم ایسے آقا اور اس غلام کو یکساں سمجھ رہے ہو ، اس مفہوم کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ :
یہ مثال ایمان وکفر کی مثال ہے فرمایا فرض کرو دو ؤدمی ہو ایک گونگا بہرا ‘ اپنے ساتھیوں کے لئے بوجھ ‘ کوئی کام بھی اس سے بن نہ پڑے ، دوسرا متکلم اور راہنما فلاح و کامیابی کی راہ چلنے والا اور دوسروں کو بھی راہ دکھانے والا تو کیا دونوں کی حالت میں تمہیں کوئی فرق نہیں دکھائی دے گا ؟ تمہاری نگاہ میں دونوں کا حکم ایک ہی ہوگا ؟ اگر نہیں ہوگا اور تم بےاختیار بول اٹھو گے کہ کہاں ایک گونگا بہرا اور کہا ایک گویا اور کار فرما ‘ تو پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ایمان کی زندگی پر کفر کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ‘ ایمان کی زندگی کیا ہے ؟ عقل وبصیرت کی زندگی جو خدا کے دیئے ہوئے حاسوں سے کام لیتی ‘ خود بھی سیدھی راہ چلتی اور دوسروں کی بھی راہنمائی کرتی ہے ۔ کفر کی زندگی کیا ہے ؟ بہری گونگی زندگی عقل و حواس تاراج کردینے والی جس راہ میں قدم اٹھائے کوئی خوبی کی بات حاص نہ کرسکے ، قرآن کریم ہر جگہ ایمان کو عقل وبصیرت اور ہدایت و راہنمائی کی راہ قرار دیتا ہے اور کفر جہل وکوری اور تعطل وہیچ کاری سے تعبیر کرتا ہے ۔
Ayah 16:77آسمانوں اور زمین کا غیب جاننے والا کون ہے ؟ فقط اللہ :
89۔ پچھلی دونوں آیتوں میں مخلوق کی بےبسی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و کمال کو بڑے دل نشیں پیرایہ میں بیان کیا گیا تھا اور بات کو مثالیں دے کر ذہن نشین کرایا گیا تھا اب اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کی دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ آسمانوں اور زمین کے تمام غیبوں کو جاننا اس کے ساتھ مخصوص ہے کوئی انسان بھی اپنے حواس کے ذریعہ یا اپنی عقل کے زور سے ان کو نہیں جان سکتا ، غیب اسے کہتے ہیں جس کا ادراک نہ حواس سے ہوسکے اور نہ عقل وفکر سے ” مالا یدرک بالحس ولا یفھم بالعقل “۔ (بحر) غیب پر مطلع ہونے کا ایک ذریعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود غیب سے اپنے کسی نبی ورسول کو مطلع کر دے اور جس کو کوئی بتانے والا ہو وہ اس کے بتانے کے بعد جن کو نہیں بتائی گئی انکے لئے بیشک غیب ہو سکتی ہے لیکن جس کو بتائی گئی اس کے لئے وہ غیب نہ رہی ، یہی وجہ ہے کہ علم غیب اللہ کے ساتھ مختص ہے کئی بھی غیب کو نہیں جان سکتا بجز اس کے اللہ تعالیٰ کو خود آگاہ کر دے اور ظاہر ہے کہ جس کو وہ آگاہ کردے گا اس کے لئے وہ غیب کیوں ہوا اگرچہ وہ دوسرے سارے لوگوں کے لئے غیب ہو۔ فرمایا کہ اس کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ جب وہ قیامت بپا کرنا چاہے گا تو اس نظام کو درہم برہم کرنے کے لئے اسے صدیاں ‘ سال ‘ مہینے یا دن درکار نہیں ہوں گے بلکہ کم سے کم مدت جس کا تصور تم کرسکتے ہو وہ لمح بصر ہے بس اتنا وقت بلکہ اس سے بھی کم وقت میں یہ کچھ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا ۔ کبھی ” تسبیح “ کا دھاگا ٹوٹتا تم نے دیکھا ہوگا ‘ اچھا نہیں تو کھینچ کر توڑ دو تم کو سارا منظر نظر آجائے گا بس اس طرح ہرچیز زیر وزبر کردی جائے گی ، جس کے علم کا یہ حال ہے اور جس کی قدرت کا یہ عالم ہے وہی خدائے برحق اور معبود برھق ہے اس کی مخلوق میں سے کسی کو یہ حق نہیں دیا جائے سکتا ۔
Ayah 16:78تم اپنی ماؤں کے بطن سے کس حال میں نکلے اور اس وقت تم کیا ہو ؟ :
90۔ تم کون ہو اور کیا ہو ؟ عالم ہو ‘ مفکر ہو ‘ پروفیسر ہو ‘ حکیم ہو ‘ ڈاکٹر ہو ‘ انجینئر ہو ‘ ایم پی اے ہو ‘ ایم این اے ہو ‘ وزیر اعلی ہو ‘ وزیر اعظم ہو یا کسی ملک کے صدر ہو ؟ جو کچھ بھی تم ہو اللہ تم کو مبارک کرے ذرا غور کرو اور دیکھو جب اپنی ماں کے بطن سے باہر آئے تھے کیا تھے اور اب کیا ہو ؟ بس یہ اس علیم وقدیر کی نوازش ہے کہ اس نے تم کو انسان کی شکل میں پیدا فرمایا اور جب تم پیدا ہوئے تو تمہاری نادانی کا یہ حال تھا کہ تم اپنی ماں کو بھی نہیں پہچان سکتے تھے جس کے شکل میں پیدا فرمایا اور جب تم پیدا ہوئے تو تمہاری نادانی کا یہ حال تھا کہ تم اپنی ماں کو بھی نہیں پہچان سکتے تھے جس کے شکم میں تم ایک عرصہ گزار کر آئے تھے ، اس خالق حقیقی نے تم کو ظاہری حواس کان ‘ آنکھیں وغیرہ بھی بخشیں اور اس نے تم کو سمجھنے ‘ سوچنے کی استعداد بھی مرحمت فرمائی تاکہ تم اپنے خالق ومالک کی عنایات بےپایاں کا اعتراف کرو اور اس کا شکر ادا کرو لیکن اب تم جس عہدہ پر براجمان ہو اس پر پہنچنے کے بعد بھی جو فیصلہ اس خالق حقیقی کے متعلق کیا وہ کیا ہے ؟ کہ اس کے لئے سفارشیں تلاش کر رہے ہو ‘ آسرے ڈھونڈ رہے ہو ، اگر ایسی بات ہے تو تف ہے تم پر خواہ تم کچھ بھی ہو کہ تم نے آج تک اپنے من میں ڈوب کر یہ بھی نہ پایا کہ جس نے سب کچھ تم کو بےمانگے عطا کردیا وہ کتنا رحیم وکریم ہے اور اس سے بات کرنے کے لئے تم کو کسی واسطہ یا وسیلہ کی ضرورت ہے ، آخر اس دنیا میں کون ہے جو بن مانگے دیتا ہے ؟ تمہارے ماں باپ نے بھیتم کو جو کچھ دیا وہ تمہاری طلب پر دیا لیکن اس خالق حقیقی نے تم کو طلب بھی دی اور بےطلب کئے اور بےمانگے سب کچھ عنایت بھی کیا اب اگر تم کو طلب ہے تو اس سے مانگو وہ یقینا تم کو دے گا اور یاد رکھو کہ اگر وہ تم کو نہیں دے گا تو کوئی نہیں جو اس دنیا میں کچھ دینے والا ہو ، اگر تم نے یہ بات یاد رکھی تو تم نے اپنی زندگی کا یقینا سراغ پالیا اور تم دین و دنیا میں کامیاب وکامران ہوئے ۔
Ayah 16:79ذرا ان پرندوں ہی پر غور کرو جو آسمان و زمین کے درمیان اڑ رہے ہیں :
91۔ ان پرندوں کو کس نے پیدا کیا ؟ اور وہ کون ہے جس نے ان کو پیدا کر کے انکی روزی کا بندوبست بھی کردیا اور پھر صرف بندوبست ہی نہیں کیا بلکہ ہر روز روزی ان کو بہم پہنچا رہا ہے ؟ وہ کون ہے جس نے ان کو یہ اڑان بخشی اور وہ تمہارے اس زمین و آسمان کی درمیانی خلا میں اڑ رہے ہیں ۔ اچھا جس طرح کی حاجات کھانے پینے کی تمہاری ساتھ ہیں ان سب کے ساتھ بھی ہیں تو ان کی ساری احتیاجوں کو کون پورا کر رہا ہے ؟ اور انہوں نے کس سے سفارش کرائی ہے ‘ ۔
کس کا واسطہ ڈالا ہے ‘ کس کے توسط وتوسل یہ سب کچھ حاصل کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ ان کو دیا جا رہا ہے جس کی ان کو ضرورت ہے اگر ان پر یہ سب کچھ بغیر کسی وسیلہ وواسطہ کے دے دیا جا رہا ہے تو کیا تم عقل وفکر اور سمجھ وسوچ اور نطق رکھنے کے باوجود ان جانوروں اور پرندوں سے بھی گئے گزرے ہو جن کو یہ یقین ہی نہیں آرہا کہ جب تک ہمارا داتا علی ہجویری نہ ہو ہم کو دیا ہی نہیں جاسکتا ۔ وہ رب العالمین جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کی پروردگاری سے آخر تم کو کیوں انکار ہے اور تم اقتدار کی خاطر ‘ عزت کی خاطر ‘ عہدہ کی خاطر ‘ رزق کی خاطر ‘ اولاد کی خاطر اور اپنی نفسانی خواہشات کی خاطر کہاں کہاں دھکے کھا رہے ہو اور کس کس خانقاہ ‘ دربار اور درگاہ کی خاک چھان رہے ہو تم اس ذات پر ایمان کیوں نہیں رکھتے ہو جو تمہارے سارے داتوں کا بھی اکیلا ہی داتا ہے ، افسوس کہ جن ایمان والوں کے لئے پرندوں میں ان کی ہئیت ترکیبی میں آیات و علامات تھیں وہ ان درسگاہوں پر دھکے کھاتے رہے اور پتنگ اڑا کر ہی خوش ہوتے رہے اور دوسری قوموں نے اس راہنمائی سے فائدہ اٹھا کر طیارے اور معلوم نہیں کیا کیا بنا کر اس فضا کو بھر دیا اور اس کو مسخر کر کے وہاں اپنے جھنڈے گاڑ دیئے ، کھانا کس کے لئے تیار کیا گیا اور کھانے کے لئے کون حاضر ہوگیا وائے علمائے قوم اپنے سروں پر ہاتھ پھیر کر غور کرو۔
Ayah 16:80اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے قیام گاہیں بنائیں اور اس کی تسخیر سے تم فوائد حاصل کرتے ہو :
92۔ وہ کون ہے جس نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے سکون کی جگہ بنا دیا ؟ غور کرو کہ جھونپڑیوں میں بسنے والا انسان بڑے محلات اور کو ٹھیوں میں پہنچ کر بھی وہ سکون حاصل نہیں کرسکتا جو اس کو اس جھونپڑی میں نصیب ہوتا ہے جس میں وہ سکونت پذیر ہے گویا سکونت انسان کے لئے ان انعامات الہی میں سے ہے جن سے ہر شخص ہر وقت مستفید ہوتا ہے لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے ان کی اہمیت کا احساس بہت کم ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آسانیاں اور سہولتیں جن کو ہم کبھی خاطر میں بھی نہیں لاتے اگر ہم سے چھین لی جائیں تو زندگی گزارنا دوبھر ہوجاتا ہے اس آیت میں انہی نعمتوں کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جن سے ہم ہر وقت لطف اندوز ہوتے ہیں کہ دیکھو یہ کس کی کرم گستریاں ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ ان سے دل نہ لگا بیٹھنا اس لئے کہ انہیں ایک دن یقینا چھوڑنا ہوگا ، فرمایا تم غور کرو کہ یہ جانور جن کے مرنے کے بعد تم ان کی کھالوں سے کیا کیا سامان تیار کرتے ہو یہاں تک کہ اپنے سفر کے گھر بھی انہیں سے تیار کرلیتے ہو ان جانوروں کو ان کی ان کھالوں کو کس نے اس طرح کا بنا دیا کہ تم ان سے جو کام لینا چاہو لیتے رہو ۔ ان کھالوں کے تیار کردہ ہلکے پھلکے گھروں یینا خیموں کو تم اپنے سفروں میں بھی استعمال کرتے ہو اور جہاں چاہتے ہو اقامت گاہ بھی اختیار کرلیتے ہو ، یہ بھیڑوں کی صوفیں ‘ اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بال جن سے مختلف قسم کی چیزیں اور گھریلو سامان اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے لباس تیار کرتے ہو ان ساری چیزوں کو اس قابل بنا دینے کا کام کس نے سر انجام دیا ؟ غور کرو ‘ سوچو ‘ سمجھو تو یقینا اسی نتیجہ پر پہنچو گے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ہاں ! بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر تم اس اللہ کو چھوڑ کر کہاں کہاں دھکے کھا رہے ہو اور کیوں دھکے کھا رہے ہو تم نے اپنی بگڑی بنانے والے کن کو سمجھ رکھا ہے اور کیوں سمجھ رکھا ہے ؟ ہاں ! ہاں ! تم کو عقل اس لئے دی گئی ہے کہ جب ضرورت ہو تو اس سے کام لو جن لوگوں نے تمہاری عقلوں پر پابندی لگا دی ہے کہ دین کی باتوں اور دین کے کاموں کو عقل وفکر سے سوچ کر نہیں کیا جاتا انہوں نے بہت بڑا ظلم کیا ہے کیونکہ کتاب الہی اور سنت رسول ﷺ کا سارا انحصار اسی پر رکھا گیا ہے کہ جس کے پاس عقل وفکر اور سمجھ سوچ ہے اس کی راہنمائی کتاب وسنت کرتی ہے بےعقلوں کو کچھ بھی نصیب نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ تو ویسے ہی مرفوع القلم قرار دیئے گئے ہیں ۔
Ayah 16:81اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دنیا میں کیا کچھ ہی پیدا کردیا ہے :
93۔ اگر کوئی شخص انعامات الہی کو گننا چاہے تو ممکن نہیں کہ وہ گن سکے وہ انعامات جو روز مرہ زندگی کے استعمال میں آنے والے ہیں اور ہر انسان کو قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے برابری کے طور پر مہیا کردیئے ہیں انکی بھی کمی نہیں اور وہ انعامات بھی جن کو حاصل کرنے کی انسانی مین صلاحیت ودیعت فرما دی ہے اور ہر انسان محنت کرکے ان سے مستفید ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے غور کرو کہ گرمی کا موسم ہو سورج اپنی پوری تمازت کے چمک رہا ہو اور سخت لو چل رہی ہو آپ اس وقت کسی گھنے درخت کے سایہ میں بیٹھ کر دیکھیں یا سستانے کے لئے ذرا رک جائیں آپ کو پتہ چلے گا کہ سایہ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے ، پھر غور کرو دنیا میں جو چیز بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے یا انسان نے اس کو عقل خداداد سے تیار کیا اور بنایا جیسے دیواریں ‘ مکان اور ٹٹیاں ہرچیز اپنا سایہ دے رہی ہے اور یہ سایہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا اعنام ہے اور پھر اس کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے پہاڑوں کو بھی ایسا نہیں بنانا کہ وہ سپاٹ چٹانیں ہوں اور وہاں سفر کرتے کرتے اگر مینہ برسنے لگے ‘ برف کا طوفان آجائے تو تمہیں کہیں چھپانے کو جگہ نہ ملے بلکہ جگہ جگہ غاریں بنا دیں ہیں جہاں تم آرام کرسکو یا رات گزار سکو ، اس نعمت کی قدوقیمت آپ ان لوگوں سے پوچھئے جن کا بسیرا کو ہستانی علاقوں میں ہے یا جنہیں کبھی پہاڑی کا سفر کا اتفاق ہوا ہو دوسروں کو ان کی کیا قدر ہے ۔
فرمایا وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے لباس جیسی چیز کو بنایا جو تمہارے لئے زیبائش کا کام بھی کرتی ہے اور ستر بھی ڈھانکتا ہے اور پھر اس میں کتنی ہی طرح کا لباس ہے گرمیوں میں کام آنے والا بھی اور سردیوں میں کام آنے والا بھی اور پھر وہ لباس بھی جو تم کو لڑائی سے بچائے یعنی جنگ کے وقت کام آنے والا ۔ کبھی زرہیں تھیں جو تلواروں اور نیزوں سے بچایا کرتی تھیں ، اور اب ایسے لباس بھی موجود ہیں جن پر بندوق کی گولی بھی ایک حد تک اثر نہین کرتی اور اب ایسے ایسے لباس تیار ہو رہے ہیں جو آگ پروف ہیں کہ ان پر آگ بھی اپنا اثر نہیں کرتی اور ابھی معلوم نہیں کون کون سے لباس مہیا کئے جائیں اور جب تک انسان اس دنیا میں موجود ہے اور وہ ریسرچ کرکے نئی سے نئی چیزیں ایجاد کرتا رہے گا جو کچھ اس قسم میں تیار ہوگا سب کا سب اس آیت میں داخل ہوجائے گا ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی تو ہے جس نے ان اشیاء میں یہ خاصیت ودیعت کی ہے کہ وہ خاصہ اگر ان اشیاء میں ہوتا تو کبھی انسان کوئی چیز ایجاد نہ کرسکتا پھر وہ عقل جس سے انسان کا ملے کر اس دنیا میں ترقی کر رہا ہے ‘ وہ عقل بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے جس سے کام لے کر انسان ایجادات پر ایجادات کئے چلا جا رہا ہے ، یہ دوسری بات ہے کہ ایجادات کرنا اور ان سے صحیح کام لینا جن لوگوں کا اصل حق تھا انہوں نے سستی سے کام لیا اور وہ اپنی سستی کے باعث اس کے قریب نہ گئے اور وہ لوگ صحیح معنوں میں مسخر تھیں اس لئے طفیلیوں نے اپنا ہاتھ دکھایا اور آج طفیلی مالک بن کر بیٹھ گئے اور مالک جو تھے ان کو غلاموں والی جگہ بھی نصیب نہ ہوئی ، بلاشبہ اس کائنات کی ہرچیز سے کام لینے کا جتنا ایک سچے مسلم کو حق ہے اتناکسی دوسرے انسان کو بھی نہیں تھا لیکن افسوس کہ اس نے اپنا یہ حق ضائع کردیا اور ابھی تک وہ اپنا یہ حق استعمال کرنا تو الگ تسلیم کرنا کے کے لئے تیار نہیں ۔
فرمایا وہ ذات جو ہر حال اور ہر آن تم پر اپنی نعمتوں کا مینہ برسا رہی ہے جسے تمہاری ہر ضرورت کا خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی پوری طرح خیال ہے اس کے سامنے جھک جاؤ اور اس کے احکام کی اطاعت کرو وہ بن مانگے تم کو دے رہا ہے اس لئے جس نے اتنی فیاضی سے کام لیا ہے تم بھی اس کے حق میں بخل چھوڑ دو اور اس کے احکام کی اطاعت کو اپنا شعار بنا لو احسان شناسی کا یہی تقاضا ہے اور تمہیں یہی بات زیب دیتی ہے کہ اس مالک حقیقی کا اس طرح حق ادا کرو جس طرح اس کا حق ادا کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ تم اپنی ساری طلب اس سے مانگو اور اس کی ذات میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو خواہ وہ کوئی ہو ؟ تم صرف اور صرف اس کی اطاعت وفرمانبرداری کا پٹا اپنے گلے میں ڈال لو اور یاد رکھو کہ اللہ کی تابعداری اور فرمانبرداری رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں ہی میں ہے علاوہ ازیں کہیں سے تم کو یہ میسر نہیں آئے گی ۔
Ayah 16:82لوگ اگر ان دلائل سے منہ پھیریں تو آپ کے ذمہ صرف ان کا پہنچانا ہے :
94۔ جو لوگ حق سے منہ پھیر جانے والے ہیں ان کا منہ پھیر جانا آپ کو کچھ نقصان نہیں دے گا آپ کے ذمہ ان کو ہدایت دینا نہیں بلکہ ہدایت دینا نہیں بلکہ ہدایت کا پیغام پہنچانا ہے وہ آپ پہنچا رہے ہیں تو آپ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں آپ مطمئن رہیں کہ اگر وہ ان کو گوناگوں انعامات اور پہیم نوازشات کے باوجود دین حق کو قبول نہیں کرتے اور اللہ کی توحید پر ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں آپ کا جو فرض تھا وہ آپ ﷺ نے باحسن وجوہ ادا فرما دیا اور آپ کی ذمہ داری پوری ہوگئی اگر وہ نہیں مانتے تو نقصان بھی ان ہی کا ہوگا اور جو اپنا نقصان خود کرتا ہے اس کا کوئی علاج آپ ﷺ کے پاس نہیں وہ عنقریب خود ہی سمجھ جائے گا اگرچہ اس وقت اس کا سمجھ جانا اس کے کچھ بھی کام نہ آئے ۔
Ayah 16:83انعام الہی کو پہچان لینے کے بعد انکار کرنے والے ہی دراصل کافر ہیں :
95۔ فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں اور ازیں بعد ان کا انکار کرتے ہیں اور ان کا یہ انکار طرز عمل کا انکار ہے ، کفار مکہ اور مشرکین اس بات کی منکر نہ تھے کہ یہ سارے احسانات اللہ تعالیٰ نے ان پر کئے ہیں مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ نے یہ احسانات ان کے بزرگوں اور دیوتاؤں کی وجہ سے اور ان کے بزرگوں اور دیوتاؤں کی وجہ سے ان کے وسیلہ سے کئے ہیں اور اس وجہ سے اور ان کے وسیلہ سے کئے ہیں اور اس وجہ سے وہ ان احسانات کا شکریہ اللہ کے ساتھ بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی بڑھ کر ان متوسط ہسیتوں کا ادا کرتے تھے اور زبان سے بھی یہ بات کہتے تھے کہ اللہ نے ہم پر یہ احسانات انہیں بزرگ ہسیتوں کی وجہ سے کئے ہیں ، قرآن کریم نے ان کی اسی حرکت کو اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسان فراموشی اور کفران سے تعبیر کیا ہے ۔ آج بھی لوگ بزرگوں کے نام کی نذر ونیاز اور شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کی گیارہویں اس عقیدہ کی بناء پر دیتے ہیں کہ ان کو جو کچھ ملا ہے مال و دولت ‘ اقتدار اور اولاد ‘ انہی بزرگوں کے توسط سے ملا ہے اور ان کو خوش کرنا اللہ کو خوش کرنا ہے حالانکہ اللہ کے بندے ان کی ایسی حرکات سے کیسے خوش ہو سکتے ہیں ؟ وہ بیچارے تو اس بات کو نہیں جانتے کہ یہ لوگ ان کے مرنے کے بعد ان ہی کو پکارتے اور ان ہی کے نام کی نذر ونیاز دیتے ہیں اور اس طرح وہ دانستہ طور پر کفر وشرک سے چمٹے ہوئے ہیں ۔
Ayah 16:84ہم ہر ایک امت سے ایک گواہ ان پر پیش کردیں گے جو ان پر شہادت دے گا :
96۔ ہر ایک امت سے ایک گواہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر ان کے نبی ورسول کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا کہ یہ لوگ جن انعامات الہی کا انکار کرتے تھے کیا تم نے ان کی توجہ اس شرک سے ہٹانے کی سعی و کوشش نہیں کی تھی ؟ انبیاء کرام (علیہم السلام) ان پر گواہی دیں گے کہ اے بار الہ ! ہم نے تو ان کو تیرا پیغام پہنچایا تھا اور تیری توحید قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور تیرے احسانات کی یاد دہانی کرائی تھی لیکن انہوں نے اس وقت ہماری ایک نہ سنی ۔ اس دن وہ معذرت خواہی کی اجازت چاہیں گے یا دنیا میں واپس لوٹائے جانے کی خواہش کا اظہار کریں گے تو ان کی کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی ، فرمایا اس روز وہ بڑی کوشش کریں گے کہ اللہ کو کسی طرح راضی کرلیں لیکن ان کی اس کوشش کو ٹھکرا دیا جائے گا اور ان کی ایک نہیں جائے گی جس طرح ہو نہیں سنا کرتے تھے ۔ (یستعتبون) جمع مذکر غائب مضارع مضارع منفی (استعتاب) مصدر باب استفعال باب سے ان سے رضا مند کرنے کی خواہش نہیں کی جائے گی اور اس سے ان کے عذر قبول نہیں کئے جائیں گے ، اس کی تشریح اس طرح کی گئی ہے لا یطلب منھن ان یرضوا ربھم بالتوبۃ والطاعۃ لانھا تنتفع یومئذ ان سے اس بات کی طلب نہیں کی جائے گی کہ توبہ اور طاعت کرکے اپنے رب کو رضا مند کرلیں کیونکہ اس روز یہ چیزیں کسی کے لئے مفید نہ ہوں گی اس لئے فرمایا گیا کہ ” کافروں کو اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ہی ان سے کہا جائے گا کہ وہ توبہ کرلیں۔ “ کیونکہ وہ جگہ دارالعمل نہیں ہوگی بلکہ دارالجزاء ہوگی اور دارالجزاء میں عمل کی دعوت ممکن نہیں اور نہ ہی دارالعمل میں دوبارہ لوٹنا ممکن ہے ۔
Ayah 16:85مشرکوں کا عذاب الہی سے دوچار ہونا اور تخفیف نہ دیئے جانے کا اعلان :
97۔ اس آیت نے اس بات کی وضاحت کردی کہ قانون امہال و تدریج کا تعلق بھی اس دنیوی زندگی کے ساتھ ہے آخرت کا یہ قانون نہیں ہے ، یہاں ہر کام آہستہ آہستہ اور بتدریج ہوتا ہے اور اس عمل سے اس دنیا میں انسان مہلت اور ڈھیل کا فائدہ اٹھاتا رہتا ہے اور اس کا یہ قانون انسان کو فرصتوں پر فرصتیں دیتا ہے اور اس کا ہر فعل عفو و درگزر کا دروازہ آخر تک کھلا رکھتا ہے اور بلاشبہ اس کے قوانین اپنے نفاذ میں اٹل ہیں ان میں کسی ردوبدل کا امکان نہیں نہ اس جگہ یعنی دنیا میں اور نہ اس جگہ یعنی آخرت میں ، جس طرح یہاں کا قانون امہال و تدریج ہے اس طرح وہاں کا قانون امہال و تدریج کی نفی کرتا ہے کہ وہاں ایک ذرا بھر بھی کسی کو مہلت نہ دی جائے گی اس لئے کہ قانون میں کوئی لچک نہیں ہے اور نہ ہی کسی طرح کی لچک ڈالی جاسکتی ہے اس لئے فرمایا کہ ” جن لوگوں نے ظلم کیا ہے جب وہ عذاب اپنے سامنے دیکھیں گے تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ ان پر عذاب ہلکا کردیا جائے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی ۔ “
Ayah 16:86مشرک اپنے شریکوں کو پہچان کر شور کریں گے کہ یہی ہیں ہم کو گمراہ کرنے والے :
98۔ فرمایا جب مشرک اپنے شریکوں کو دیکھیں گے جن کو وہ دنیا میں اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہی ہمارے بنائے ہوئے شریک ہیں جنہیں ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے ، فرمایا حشر کے روز مشرکین اپنے آپ کو بری الذمہ اور بےگناہ ثابت کرنے کے لئے سارا الزام اپنے معبودوں پر لگائیں گے کہ اے بار الہی ! اے رب العالمین ! یہ ہیں وہ جن کو ہم تیرا شریک بناتے تھے اور تجھے چھوڑ کر ان کی پوجا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کا سوال و جواب شروع ہوجائے گا اور بولنے والے بزبان قال اور گویائی سے محروم بزبان حال اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے اللہ ! یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں ، انہوں نے تو ہم کو کبھی نہیں پکارا تھا اور نہ ہی ہم نے انکو کبھی کہا تھا کہ تم ہم کو پکارو ۔ انہوں نے خود ہی یہ نظریہ گھڑا اور اپنے نظریہ کے مطابق انہوں نے جو کچھ کیا ہم نے ان کو اپنی عبادت کرنے کا کبھی نہیں کہا تھا اور نہ ہی ہم کہہ سکتے تھے ۔
Ayah 16:87وہ عاجزی پیش کریں گے اور ان کے سارے سہارے ختم ہوجائیں گے :
99۔ اور مشرکین اس روز اللہ تعالیٰ سے صلح اور اطاعت کی طرح ڈال چلیں گے اور جو کچھ وہ افترادازیاں کرتے رہے تھے وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گی اور جتنے سہارے اپنے عقائد باطلہ کی بنا پر قائم کر رکھے تھے ان میں سے کوئی ان کے کام نہ آئے گا ۔ وہ اطاعت اور خوشامد کی راہ میں اس وقت اختیار کریں گے جب ماپنے آپ کو ہر طرح مجبور ومضطر پائیں گے ، آخرت میں ان کا یہ طریق استدلال و اطاعت دنیا کے ٹھیک طریق استکبار واعراض کے مقابل ہوگا ۔ مطلب واضح ہے کہ جن جن سہاروں پر وہ دنیا میں بھروسہ کئے ہوئے تھے وہ سارے کے سارے گم ہوجائیں گے ، کسی فریاد رسی کیلئے موجود نہ پائیں گے اور کوئی مشکل کشا ان کی مشکل حل کرنے کے لئے نہیں ملے گا اور کوئی آگے بڑھ کر یہ کہنے والا نہ ہوگا کہ یہ میرے توسل تھے انہیں کچھ نہ کہا جائے ۔
Ayah 16:88شرارتیوں کو انکی شراتوں کی پاداش میں دھر لیا جائے گا :
100۔ رہی ان کافروں کی بات جو خود تو کافر تھے ہی لیکن وہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکنے کا باعث ہوئے ان کو ان کی ساری شرارتوں کا مزہ چکھنا ہوگا اس لئے فرمایا کہ ان کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اپنی گمراہی کا بھی اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا بھی جن کو انہوں نے ہدایت قبول کرنے سے روکا اور انکے گناہوں کا وبال بھی ان پر پڑگیا اسی لئے وہ اپنے دوسرے گناہوں کی پاداش میں دھر لئے جائیں گے ۔
Ayah 16:89ہر ایک امت کے لئے ایک گواہ ہوگا اور نبی کریم ﷺ ان سب پر گواہ ٹھہریں گے :
101۔ بلاشبہ آپ ﷺ کی شہادت ایک عالمگیر شہادت ہوگی جو سب کے مقابلہ میں حجت ہوگی ۔ جس طرح سارے انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ان کی امتوں پر بطور گواہ طلب کیا جائے گا بعینہ اسی طرح آپ کو اپنی امت پر گواہ کے طور پر لایا جائے گا اس لئے ظاہر ہے کہ شہادت تو آپ ﷺ بھی اپنی امت کے متعلق دیں گے لیکن آپ ﷺ کی امت دعوت تو ساری انسانی آبادی ہے اس لئے آپ ﷺ کی شہادت بھی ایک عالمگیر شہادت ہوگی ، یہ مضمون اپنے اندر بہت وسعت رکھتا ہے لیکن ہم نے اس کو سورة النساء 4 کی آیت 41 کے تحت مفصل طور پر بیان کردیا ہے قارئین سے درخواست ہے کہ وہ تفصیل کے لئے سورة البقرہ کی آیت 143 اور سورة آل عمران کی آیت 81 اور پوری تفصیل کے لئے سورة النساء 4 کی آیت 41 حاشیہ 89 کو ضرور ملاحظہ کریں کہ اس حاشیہ میں سارا مضمون اکٹھا کردیا گیا ہے اور کوئی بات تشنہ کام نہیں رہی اور سورة النساء کی تفسیر دیکھنے کے لئے ” عروۃ الوثقی “ کی دوسری جلد کو اٹھانا ہوگا ۔