Ayah 16:120ابراہیم (علیہ السلام) گویا ایک پوری امت تھا اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا ہوا :
134۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہ اچانک کیسے آگیا ؟ اچانک نہیں آیا بلکہ اپنی صحیح نسبت اور ضرورت ہی کے مطابق اس کا ذکر کیا گیا ۔ مشرکین عرب اپنے سارے ادہام و خرافات کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے اور زیر نظر آیت میں اس نسبت کی تغلیط کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ انکی راہ تو وہی راہ تھی جس کی طرف نبی اعظم وآخر ﷺ دعوت دے رہے ہیں ۔ اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ یہ گمراہی آج سے نہیں بلکہ بہت پرانی ہے کہ لوگ باتیں خود گھڑتے ہیں اور اپنے بزرگوں کی طرف ان کی نسبت کرکے چلا دیتے ہیں اور پھر کیا ہوتا ہے کہ لوگ اندھا دھند انکے پیچھے لگ جاتے ہیں اور کوئی نہیں سوچتا کہ جن بزرگوں کی طرف ان باتوں کی نسبت کی جارہی ہے آیا وہ ایسی بات کر بھی سکتے تھے یا نہیں ؟ اور آج بھی بیسیوں ایسی باتیں ہماری قوم میں موجود پائی جاتی ہیں جن کی نسبت بزرگوں کی طرف کی گئی ہے اور ان بزرگوں کی تعلیم ان باتوں کی کھلی تردید کرتی ہے لیکن لوگ ہیں کہ اندھا دھند کئے جا رہے ہیں اور ان کو کوئی پکار پکار کر کہتا رہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے تو وہ کبھی کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ، یہ نذر اللہ کے ساتھ نیاز حسین کیا ہے ؟ شیخ عبدالقادر پیران پیر کے نام کی گیارہویں شریف کیا ہے ؟ امام جعفر صادق کے کو نڈے کیا ہیں ؟ خظر خواج کی دعوت کیا ہے ؟ بی بی فاطمہ کی صحنک کیا ہے ؟ جمعرات کی چراغی کیا شے ہے ؟
” فرمایا کہ بلاشبہ ابراہیم اپنی شخصیت میں ایک پوری امت اللہ کے آگے جھکا ہوا ‘ تمام بناوٹی راہوں سے ہٹا ہوا اور ہرگز مشرکوں سے نہ تھا ۔ “ تو پھر اے مشرکو ! تم اپنے آپ کو طریق ابراہیمی کا پیروکار کس منہ سے کہتے ہو ؟ ہم نے تو اپنے پیغمبر اور آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ کو ان کے طریقہ پر چلنے کی ہدایت کی ہے اور جو طریقہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا وہی طریقہ ہمارے نبی ورسول محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ایک طرف کا ہو کر رہنے والا تھا جس نے ساری زندگی کبھی مشرکوں کا ساتھ نہیں دیا حتی کہ انہوں نے اپنے والد کو خیر باد کہہ دیا جب کہ وہ شرک کا پیچھا چھوڑنے والا نہ ہو اور اپنے وطن اور عزیز و اقارب کو چھوڑ کر نکل گیا اور کبھی مشرکوں کا ساتھ نہ دیا پھر تم عجیب ہو کہ شرک بھی کرتے ہو اور ابراہیمی طریقہ کے پیرو بھی کہلاتے ہو اور یہی حال آج کل ہمارے حنفی بھائیوں کا ہے اور ” سنی “ کہلانے والوں کا کہ سنتوں کا نام لے کر بدعتوں کی اشاعت میں دن رات مصروف ہیں اور نئی سے نئی بدعات خود ایجات کرتے ہیں رسولوں اور ولیوں کے گستاخ دوسروں کو قرار دیتے ہیں کسی قسم کا جہاد کرنے کے لئے تیار نہیں لیکن لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے کے لئے ہر وقت تیار کھڑے ہیں ۔
Ayah 16:121حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لانے والا منتخب بندہ تھا ۔
135۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو اللہ کی نعمتوں کا بڑا شکر گزار اور اللہ کا برگزیدہ اور منتخب شدہ تھا اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سیدھی راہ چلنے والا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو وہ اللہ کے رسول ہیں جو آج بھی تین ادیان کے منتخب شدہ رسول ہیں ، یہودیت ‘ نصارانیت اور اسلام تینوں ہی ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو ہونے کا دعوی کرتے ہیں ، وہ ایسے کام تو نہیں کرسکتا تھا جو تم لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ملاحظہ کرنے کے لئے سورة الانعام کی آیت 75 تا 85 ملاحظہ کریں ۔
Ayah 16:122وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب وکامران ہوا :
136۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ایسا انسان تھا جو دنیا میں بھی بہت کامیاب ہوا اور اللہ نے اس کو آخرت میں بھی سرخرو فرمایا اس لئے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ دنیوی نعمتوں سے سرفرازی ‘ مراتب اخروی کے ذرا بھی منافی نہیں بلاشبہ دنیا میں جتنی بھی نعمتیں ہو سکتی ہیں سب آپ کی ذات میں جمع تھیں اور آپ صالحین کے بھی سرور وسردار تھے ، آپ جد انبیاء بھی کہلائے اور قرآن کریم نے آپ کی صدیقیت کو بھی نمایاں کر کے بیان کیا اور گزشتہ آیات میں آپ کو (کان امۃ) بھی کہا گیا گویا آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی ایک جماعت کے قائم مقام تھے ۔
Ayah 16:123نبی اعظم وآخر ﷺ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دیا گیا :
137۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ وہ کام کریں جو ابراہیم (علیہ السلام) کیا کرتے تھے اور امت مسلمہ کو بھی اس بات کی تعلیم دو اور تم بھی اسی طرح شرک کی بیخ کنی کرو جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی کیونکہ ملت ابراہیمی کا اصل الاصول مشرکوں کی بیخ کنی ہی تھا اور وہ اس نے پوری زندگی خوب کی اور آپ کی زندگی کے واقعات کا مطالعہ کرو تو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں اور ہر واقعہ میں شرک کا سر کو ٹنے میں ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے اور ہر طریقہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی وہ برکت عطا فرمائی ہے کہ آپ کی قوم کو ملکوں کے ملک عطا کردیئے گئے اور آپ کے خاندان کو اتنا بڑھایا کہ آج دنیا کی کثیر آبادی آپ کے خاندان ہی کے لوگ ہیں اور دوسری آپ کی پیروی کا دم بھرتے ہیں اور کوئی نہیں جو آپ کی شخصیت کا انکار کرنے والا ہو اور آپ کی نسل میں اس طرح نبوت رکھ دی گئی کہ آپ ہی کی نسل پر اس کو ختم کردیا گیا ۔ آپ کی وجہ سے محمد رسول اللہ ﷺ کا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے آپ کا درجہ دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) میں بلند کردیا ۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم آخر صلی اللہ علہر والہ وسلم کو مخاطب فرما کر آپ کی ملت کی پیروی کا پروانہ دیا اور آج اس دنیا کے مسلمان ملت ابراہیمی پر ہونے کا فخر بیان کرتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں اور قرآن کریم نے اس بات کی بار بار وضاحت فرمائی ہے کہ جو مقصد ابراہیم (علیہ السلام) کی بعثت کا تھا وہی محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا قرار دیا زیر نظر آیت میں بھی اس کی تصدیق ہو رہی ہے ۔
Ayah 16:124سبت میں اختلاف کرنے والوں کا فیصلہ اب قیامت کے روز ہی ہوگا :
138۔ سبت والوں سے مراد کیا ہے ؟ اس سے مراد یہود ہیں اور اس امر کی وضاحت خود قرآن کریم نے دوسری جگہ کردی ہے تفصیل اس کی سورة الاعراف کی آیت 163 میں ہے اگرچہ اس کا مختصر بیان سورة البقرہ کی آیت 65 میں اور سورة النساء کی آیت 48 اور 154 میں اور سورة الاعراف کی آیت 163 میں اور زیر نظر آیت میں موجود ہے ۔ (السبت) سبت کے اصل معنی قطع عمل کے ہیں اور امام راغب نے یہی مراد لئے ہیں کہ ترک العمل فیہ ” اس دن کام کا ترک کرنا “ اور پھر اس کے معنی مدت یا زمانہ کے بھی لئے گئے ہیں خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ۔
اس جگہ اس کے ذکر کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پیچھے حلت و حرمت کا ذکر چل رہا تھا اور قرآن کریم کا دعوی یہ تھا کہ میں وہی پیغام ہوں جو اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) دے چکے اور اس پر اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ پیغام اور دعوت ایک ہی ہے تو یہود بھی ملت ابراہیمی ہی کے دعویدار ہیں جب یہود کے لئے سبت کے دن کا شکار منع اور حرام ہے تو پھر قرآن کریم اس سے نہیں روکتا ؟ گویا ایک طرح یہ سوال کرنے والوں کا اعتراض تھا کہ اگر یہ دعوت وہی دعوت ہوتی جیسا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا کہنا ہے اور قرآن کریم اس سلسلہ میں تصریح کرتا ہے تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس دن کے شکار یا دوسرے کاروبار زندگی کو اسلام نے منع نہ کیا گویا یہ دعوی باطل ہے ، قرآن کریم ان کی تفہیم کرانا چاہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کو غلطی لگ رہی ہے بات کچھ ہے اور تم اس کو کچھ سمجھ رہے ہو حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں کو جو اس سے روکا گیا تھا تو اس لئے نہیں کہ سبت کے دن اگر حلال جانور کا شکار کیا جائے تو وہ حرام ہوجاتا ہے بلکہ یہ ان کے اختلاف اور عدم اطاعت کی ایک سزا تھی اس کی مثال یوں سمجھو کہ اسلام نے دن رات میں مسلمانوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور ان کے فرضوں کی تعداد بھی مقرر کردی ہے اور اوقات بھی بتا دئیے ہیں لیکن ان سب کی وضاحت قرآن کریم میں بیان نہیں کی گئی بلکہ اس کو پیغام دینے والے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ پر چھوڑ دیا گیا ہے اب اگر کوئی شخص یا کوئی گروہ نماز کا مفہوم ہی بدل کر کچھ اور کر دے اور اوقات کو بھی اس طرح تسلیم نہ کرے ‘ ادائیگی کا طریقہ بھی نہ مانے اور اپنے آپ کو نماز کا پابند بھی قرار دے تو اس کو کیا کہیں گے ؟ اور اس کو کوئی سزا بھی نہ دی جائے گی تو آخر کیوں ؟ یہی بات یہود کی تھی وہ فی نفسہ السبت کو مانتے تھے لیکن اس کی عجیب طریقہ سے تاویل کرتے تھے اور اس تاویل کے باعث ان پر شکار ممنوع کیا گیا گویا یہ ان کو ان کے فعل کی سزا دی گئی اور جو بات یا کام سزا کے طور پر کیا جائے وہ فرائض کے ضمن میں نہیں آتا جو سارے معاشرے کے لئے ضروری قرار دیئے گئے ہوں بلکہ اس ممانعت کی ایک علت ہوتی ہے اور جب وہ علت نہ رہے تو اس کا حکم خودبخود ختم ہوجاتا ہے ، ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ یہود نے جب احکام سبت کی تعمیل نہ کی اور حیلے بہانے نکال کر شکار کرنے لگے تو سزاء ان پر سبت کے شکار کا گوشت ممنوع قرار دیا گیا نہ کہ فی نفسہ اس گوشت کو حرام ٹھہرایا گیا چناچہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرما دی کہ یہ ان لوگوں کے اختلاف کے باعث ہے حالانکہ اس اختلاف کی کوئی دلیل ان کے پاس موجود نہیں تھی اور جس اختلاف پر کسی کے پاس کوئی دلیل بھی موجود نہ ہو اور وہ اپنے اختلاف کو بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہو گویا وہ نہ دلیل دیتا ہے اور نہ ہی کسی کی دلیل کو قبول کرتا ہے تو اس اختلاف کے ختم ہونے کی کوئی صورت ہے ؟ ہرگز نہیں نہ کوئی صورت اس وقت تھی نہ آج ہے اور نہ رہتی دنیا تک اس کی کوئی صورت بنے گی ۔ اسلام نے ہمیشہ جو حکم دیا ہے اس پر دلیل بھی پیش کی ہے اور کوئی حکم ایسا نہیں دیا جس کی دلیل وہ نہ رکھتا ہو اور اسی لئے جو لوگ کوئی کام اور عمل کرتے ہیں ان سے وہ دلیل طلب کرتا ہے لیکن ان کے پاس کوئی دلیل ہو تو وہ پیش کریں ان کی دلیل تو صرف یہ ہے کہ یہ کام اور یہ عمل ہم اس لئے کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے اور ان کی اس دلیل کو کبھی قرآن کریم نے دلیل تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کو باور کرایا کہ بیوقوفو ! یہ بھی کوئی دلیل ہے کسی کا باپ دادا چور ہو تو کیا اس کے لئے چوری جائز ہوجائے گی اور کسی کا باپ دادا ڈاکو ہو تو کیا اس کے لئے ڈاکہ جائز قرار پائے گا ، جس کا باپ دادا نماز نہ پڑھے کیا اس کے لئے نماز پڑھنا حرام قرار پائے گی علی ہذا القیاس ان کو کہا گیا کہ یہ دلیل تمہاری کوئی دلیل نہیں دلیل اس کو کہتے ہیں کہ تمہارے پاس تورات ہے اہل انجیل کے پاس انجیل ہے دوسرے صحائف ہیں ان میں سے کسی نبی نے کوئی ایسا حکم دیا ہے کسی نبی ورسول کو کبھی اللہ نے ایسا حکم دیا تھا تو بطور دلیل پیش کرو اگر یہ نہیں تو کم از کم عقل وفکر کی بات تو کرو تاکہ اس کسوٹی پر اس کو پرکھ لیا جائے لیکن انکے پاس نہ دلیل تھی نہ انہوں نے پیش کی اور نہ ہی اپنے فعل وعمل سے باز آئے اس لئے ان کو کہا گیا کہ اچھا اس کا فیصلہ پھر قیامت ہی کے روز کیا جائے گا اگرچہ وہ کسی فریق کے لئے بھی مفید ثابت نہ ہو اور تم کو پتہ چل جائے گا کہ ایسی من گھڑت باتوں کا انجام کیا ہوتا ہے ۔
Ayah 16:125پیغمبر اسلام کو ہدایت کہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف دعوت دو :
139۔ اے پیغمبر اسلام ! لوگوں کو دلائل علمی وعقلی کے ساتھ دعوت دو ‘ گویا آیت زیر نظر میں واضح کیا ہے کہ دعوت الی الحق کا طریقہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ سرتاسر حکمت اور (موعظۃ حسنۃ) ہے ” حکمت “ یعنی دانائی کی باتیں (موعظۃ حسنۃ) یعنی پند ونصیحت کی باتیں جو حسن و خوبی کے ساتھ کی جائیں اور اس کے بعد فرمایا (وجادلھم بالتیھی احسن) اور اگر بحث ونزاع کرنی پڑے تو کرسکتے ہو لیکن ایسی ہی بحث ونزاع جو نہایت اچھے طریقہ پر ہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعوت حق کا طریقہ حکمت اور (موعظۃ حسنۃ) کا طریقہ ہے اور بحث ونزاع کی اجازت صرف اس صورت میں ہے کہ وہ احسن طریقہ پر ہو ۔ پس ہر بحث ونزاع جو احسن طریقہ پر نہ ہو ‘ دعوت کا طریقہ نہ ہوگی ۔ احسن طریقہ سے مقصود کیا ہے ؟ یہ کہ مقصود طلب حق ہو ‘ اپنی بات کی پچ نہ ہو مخالف کے اندر یقین پیدا کرنا ہو ‘ اسے باتوں ہی باتوں میں ہرانا نہ ہو ۔ اگر وہ چپ ہوگیا اور دل کا کانٹا نہ نکلا تو بحث سے کیا فائدہ ہوا ؟ ایسا اسلوب ‘ ایسا طریق خطاب ‘ ایسا لب و لہجہ ‘ اس طرح کے الفاظ اختیار نہ کئے جائیں جو مخالف کے دل کو دکھ ہوا ؟ ایسا اسلوب ‘ ایسا طریق خطاب ‘ ایسا لب و لہجہ ‘ اس طرح کے الفاظ اختیار نہ کئے جائیں جو مخالف کے دل کو دکھ پہنچانے والے ہوں یا اسے سننے والوں کی نظروں میں ذلیل ورسوا کرنے والے ہوں کیونکہ اگر بحث سے مقصود دعوت حق ہے ‘ تو مخاطب کے دل کو نرمی و محبت سے حق کی طرف متوجہ کرنا ہے اور اس طرح متوجہ کرنا چاہئے نہ یہ کہ مقصود اس کو صدمہ پہنچانا ہو ‘ ضد میں لانا ہو اور جوش نفرت سے بھر دینا ہو ، بدقسمتی سے دنیا میں طلب حق کی راہ بھی محض جدل ونزاع کی راہ بن گئی ہم اپنے دنیوی اغراض ومقاصد کے لئے لڑنے جھگڑنے کے عادی ہیں جب کبھی کوئی ایسا جھگڑا پیش آجاتا ہے تو صرف اپنی جیت ہی کے لئے لڑتے ہیں اس خیال سے نہیں لڑتے کہ حق و انصاف کیا ہے ؟ اکثر اوقات خود ہمارا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ ہم برسرحق نہیں ہیں اور انصاف مخالف کے ساتھ ہے لیکن چونکہ اپنا مطلب کسی نہ کسی طرح حاصل کرنا ہوتا ہے اس لئے کبھی اعتراف حقیقت کے لئے تیار نہیں ہوتے ، حق اور انصاف ہم سے جس قدر الگ ہوتا جاتا ہے بحث ونزاع کی سرگرمی اتنی ہی زیادہ بڑھتی جاتی ہے ، اگر ہمارا مقدمہ سب سے زیادہ کمزور ہوگا تو ہم خیال کریں گے کہ ہماری بحث ونزاع کی سرگرمی سب سے زیادہ ہونی چاہئے ۔
چاہئے تو یہ تھا کہ کم از کم دین کے معاملہ میں ہمایسا نہ کرتے ، دنیوی معاملہ میں کچھ نہ کچھ لینا دینا ہوتا ہے اس لئے غرض پرست آدمی اپنی بات کی پچ کرتا ہی رہے گا لیکن دین کی راہ لین دین کی راہ نہیں ہے سچ کو سچ مان لینے کی راہ ہے اور جونہی ہم نے کسی بات کو سچ نہ سمجھ کر بھی سچ ثابت کرنا چاہا دین کی راہ نہ رہی عین اس کی ضد ہوگئی لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہم نے سچائی کے کام کو بھی جھوٹ کا کاروبار بنا دیا ہے ۔ ہم دین کے بارے میں بھی ٹھیک اسی طرح جھگڑتے ہیں جس طرح دنیا کے معاملات میں ہم جب کبھی کسی سے بحث کریں گے تو ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ خیال نہیں گزرے گا کہ اس راہ میں اصل مقصود طلب حق ہے اور جونہی حق سامنے آجائے ہمارا فرض ہے کہ اعتراف کرلیں بلکہ بحث کریں گے ہی اس لئے اپنی اور اپنے فریق کی بات منوانا ہے ‘ خواہ کچھ ہو ‘ فریق مخالف کو ہرانا ہے ۔ اگر دیکھیں گے کہ ھق اور معقولیت ہمارے نہیں تو غیر متعلق باتوں پر زور دینے لگیں گے بدزبانی پر اتر آئیں گے ‘ مارنے مرنے کے لئے تیار ہوجائیں گے اور پھر کہیں گے کہ ہم جیت گئے ۔
قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ ” جدل “ کا طریقہ ہے ” دعوت “ کا طریقہ نہیں ہے اور دین کی راہ دعوت کی راہ ہے جدل کی نہیں ہے ، ہاں ! اگر جدل کرنا ہی پڑے تو صرف اس حالت میں کیا جاسکتا ہے کہ احسن طریقہ پر ہو یعنی راست بازی ‘ دیانت ‘ شیریں زبانی اور شائستگی کے ساتھ کیا جائے چناچہ آگے چل کر سورة العنکبوت میں بھی تمہیں یہی حکم ملے گا جہاں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” ولا تجادلو اھل ال کتاب الا بالتیھی احسن “۔ (العنکبوت 29 : 46) ” اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے “ یعنی مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ ‘ مہذب وشائستہ زبان میں اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہئے تاکہ جس شخص سے بحث کی جا رہی ہے اس کے خیالات کی اصلاح ہو سکے ، مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہئے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اتار دے اسے راہ راست پر لائے ،
اب غور کرو کہ اگر ” 1 “ مبلغ ہے تو ” ب “ کو مبلغ ہونا چاہئے گویا دونوں کا موقف ایک جیسا ہو نہ کہ ” ا “ کا موقف تو یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی حق پر ہوں لہذا میرے دل کے دروازہ کے تو کھلنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس میں اب کسی کی کوئی بات اتر سکتی ہے ہاں میں نے ” ب “ کے دل کے دروازہ کو کھولنا ہے اور اس میں حق بات اتارنا ہے اگر بات ایسی ہوئی تو اس میں افہام و تفہیم کی بات نہ ہوئی بلکہ وہی جدل وجدال ہی ہوا جس کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے اور ہمارے ہاں مذہبی بحث ونزاع میں یہی کچھ ہوتا ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک اپنے آپ کو بغیر کسی دلیل کے حق سمجھتا ہے اور وہ ہمیشہ دوسرے کے دل ہی کے دروازہ کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے دل کے دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے دل کے دروازہ کو مطلقا بند رکھتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے پاس تو پہلے ہی حق ہے اور پھر یہ موقف فریقین کا ہے یعنی ہر ایک کا موقف یہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری ساری بحث ونزاع محض دوسرے کو ہرا دینے کے لئے ہوتی ہے اور دوسرے کو چت کرنے کے لئے ہوتی ہے اور اس کو افہام و تفہیم نہیں کہا جاسکتا بلکہ کشتی کہا جاتا ہے اور دین میں کشتی لڑنے کا کوئی تصور اسلامی تصور نہیں ہے ۔ یہ مضمون ہم قبل ازیں سورة الاعراف کی آیات 199 ‘ 200 کے تحت بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔ اور یہی مضمون سورة حم السجدہ کی آیت 34 ‘ سورة المومنون کی آیت 96 میں بیان ہوا ہے ، اوپر بیان کئے گئے مفہوم کو سمجھنے کے لئے سورة سبا 34 کی آیات 34 تا 39 کا مطالعہ کیا جائے تو بات مزید واضح ہو سکتی ہے جہاں بیان کیا گیا ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کی قوموں کے وڈیروں نے بھی ‘ ہمیشہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو غلط اور اپنے آپ کو صحیح مانا ہے اس لئے ان کی اصلاح کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوسکی ، انبیاء کرام (علیہم السلام) کی دعوت سراسر ہدایت تھی لیکن انہوں نے بھی قوم کو جب من حیث العقل وفکر دعوت دی تو برابری کا خیال رکھا تاکہ مخالفین جزبز نہ ہوں بلکہ غور وفکر کے لئے تیار ہوں چناچہ سورة سبا کہ آیت 24 (آیت) ” وانا او ایاکم لعلی ھدی اوفی ضلال مبین قل لا تسئلون عما اجرمنا ولا نسئل عما تعملون “۔ (السبا 34 : 24 ‘ 25) ” اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے ۔ ان سے کہو جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی ۔ “ کاش کہ آج ہمارے مختلف مکاتب فکر کے علماء بھی اس برابری پر آکر بات کرنے کے لئے تیار ہوتے تو آج ہماری مذہبی حالت اس قدر دگرگوں نہ ہوتی جس قدر ہوچکی ہے ، آج بدقسمتی سے ہمارا ہر ایک مذہبی راہنما اپنے آپ کو نبوت سے بھی کہیں اوپر مقام پر سمجھتا ہے اور ایسا ممکن نہیں تو نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج وہ ہر نبی کی قوم کے وڈیروں کے مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں جس کا نتیجہ بھی بالکل وہی ظاہر ہو رہا ہے جو اس وقت ہوا تھا یہ مقام بہت وسعت چاہتا ہے لیکن افسوس کہ میں اس وقت ان اشارات کے سوا کچھ نہیں کرسکتا ۔
Ayah 16:126سختی کے جواب میں سختی ضروری ہو تو صرف اتنی ہی کرو :
140۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم فھو خیرللصابرین “۔ اگر مخالف ناحق کوشی میں سرگرم ہے اور سختی و زیادتی پر اتر آیا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ تم بھی آپے سے باہر ہوجاؤ ایسا کرنا راست بازی کا طریقہ نہ ہوگا ایک برائی کے جواب میں دوسری برائی کا ارتکاب ہوگا جو ممکن ہے کہ پہلے سے بھی زیادہ سخت برائی ہوجائے بہتری تو اس میں ہے کہ سختی کا جواب سختی سے نہ دو جھیل جاؤ ‘ پروا نہ کرو ‘ بخش دو ‘ اس میں تمہاری اصل جیت ہے لیکن اگر طبیعت پر قابو نہیں پاتے اور سختی کا جواب سختی سے دینا ہی چاہتے ہو تو پھر انصاف کا سررشتہ ہاتھ سے نہ چھوٹے جتنی اور جیسی سختی تمہارے ساتھ کی گئی ہے ویسی ہی اور اتنی ہی تم بھی کرلو ، اس سے آگے نہ بڑھو ، ذرا بھی بڑھے تو یہ ظلم ہوگا اور ظلم راستی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا ۔
غور کرو کہ قرآن کریم کا محض ایک لفظ یا محض ایک ترکیب کس طرح مقاصد ومسائل کے فیصلے کردیا کرتی ہے پہلے بصیغہ امر حکم دیا گیا تھا (آیت) ” ادع الی سبیل ربک “۔ پس چاہئے تھا کہ یہاں بھی بدلہ لینے کا حکم دیا جاتا اور کہا جاتا کہ اگر تمہارے ساتھ سختی کی گئی تو تم بھی ویسے سختی کرو مگر نہیں ‘ ایسا نہیں فرمایا بلکہ کہا (آیت) ” وان عاقبتم “۔ اگر ایسا ہو کہ تم مخالف کی سختی کے جواب میں سختی کرنا چاہو تو چاہئے کہ حد سے نہ بڑھو ، اس سے معلوم ہوگیا کہ سختی کے جواب میں سختی کا حکم نہیں ہے محض اجازت ہے یعنی اگر ایک آدمی وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جو اس بارے میں بہتری اور خوبی کا اصل مقام ہے جھیل جانا ‘ بخش دینا اور معاف کردینا تو پھر اس کو بدلے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اجازت کو (آیت) ” بمثل ما عوقبتم “۔ سے مقید کردیا ہے تاکہ زیادتی کا دروازہ مکمل طور پر بند ہوجائے اب دو ہی راہیں کھلی رہ گئیں ، عزیمت تو اس میں ہوئی کہ جھیل جاؤ ، بخش دو اور معاف کر دو ۔ رخصت اس کی ہوئی کہ جتنی سختی کی گئی ہے اتنی ہی تم بھی کرلو اس سے آگے قدم نہیں بڑھا سکتے ۔
اس آیت کی تفسیر میں امام غزالی (رح) کی ایک تقریر بہت مقبول ہے جو انہوں نے قکامی المستقیم میں لکھی ہے اور بعد کے مفسرین نے عموما اسے اختیار کرلیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ استعداد وفہم کے لحاظ سے ہر انسان کی طبیعت یکساں نہیں اور ہر ذہنی حالت ایک خاص طرح کا اسلوب خطاب چاہتی ہے ، ارباب دانش کے لئے استدلال کی ضرورت ہوتی ہے عوام کے لئے موعظت کی اور اصحاب خصومت کے لئے جدل کی پس اس آیت میں قرآن کریم نے تینوں جماعتوں کے لئے یہ تینوں طریقے بتلا دیئے ہیں ارباب دانش کے لئے استدلال یعنی حکمت کے ساتھ مخاطب کرو عوام کو موعظت کے ساتھ اور ارباب خصومت کے لئے جدل کی بھی اجازت ہے مگر بطریق احسن ۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب “۔
Ayah 16:127اے پیغمبر اسلام ! صبر کرو اور آپ ﷺ کا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہوسکتا ہے :
(141) ۔ صبر کی حقیقت پر عوام کی غلط فہمی نے تدبر پر تو پردے ڈال رکھے ہیں ، وہ ان کے نزدیک بےبسی وبے کسی کی تصویر ہے اور اس کے معنی اپنے دشمن سے کسی مجبوری کے باعث انتقام نہ لے سکنا کے کئے جاتے ہیں لیکن کیا واقعہ یہی ہے ؟ یاد رہے کہ صبر کے لغوی معنی ” روکنے “ اور ” سہارنے “ کے ہیں یعنی اپنے نفس کو اضطراب اور گھبراہٹ سے روکنا اور اس کو اپنی جگہ ثابت قدم رکھنا اور یہی صبر کی معنوی حقیقت بھی ہے یعنی اس کے معنی بےاختیاری کی خاموشی اور انتقام نہ لے سکنے کی مجبوری کے نہیں بلکہ پامردی ‘ دل کی مضبوطی ‘ اخلاقی جرات اور ثابت قدم کے ہیں ۔ اور قرآن کریم میں صبر کا لفظ اس ایک معنی میں مستعمل ہوا ہے گو حالات کے تغیر سے اس کے مفہوم میں کہیں کہیں ذرا ذرا فرق پیدا ہوگیا ہے بایں ہمہ انسب کا مرجع ایک ہی ہے یعنی ثابت قدمی اور استقامت ‘ صبر کے یہ مختلف مفہوم دراصل اپنے اندر ایک ہی حقیقت رکھتے ہیں ۔ ہر قسم کی تکلیف اٹھا کر اور اپنے مقصد میں جمے رہ کر کامیابی کے وقت کا انتظار کرتا ہے اور اس بات کا زیر نظر آیت میں آپ کو حکم دیا گیا ہے جس کو مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے پبرم اسلام !
ا۔ صبر کر اور تیرا صبر کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی مدد وتوفیق سے ہے ۔
ب۔ منکروں کی محرومی پر غم نہ کھا ‘ جو ماننے والے نہیں ہیں وہ کبھی نہیں مانیں گے ۔
ج۔ دعوت حق کی مخالفت میں وہ جو کچھ مخفی تدبیریں اور سازشیں کر رہے ہیں ان سے بھی دل تنگ نہ ہو۔
Ayah 16:128نیک عملی میں سرگرم رہنے والوں کا اللہ مددگار ہوتا ہے :
(142) ۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو آخری ہدایت اس سورت میں دی جارہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! اللہ تعالیٰ کی مدد ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو دو صفتوں کے حامل ہوں ایک تقوی اور دوسرے احسان ۔ تقوی کا حاصل نیک عمل کرنا اور احسان کا مفہوم اس جگہ خلق خدا کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے یعنی جو لوگ شریعت کے تابع ہوں اور اعمال صالح کے پابند ہوں اور دوسروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے ہوں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت حاصل ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ؟ اختصار کے ساتھ زیر نظر آیت میں یہ بات کہی گئی کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ قانون یاد رکھو کہ اللہ کی نصرت ان کا ساتھ دیتی ہے جو برائیوں سے بچتے ہیں اور جن کی زندگی نیک کرداروں کی زندگی ہوتی ہے ۔ اور اس مضمون پر سورة النحل کی تفسیر ختم ہو رہی ہے ۔ وللہ الحمد اولا واخرا وظاہرا و باطنا۔