16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور اس نے علامتیں پیدا کردیں اور ستاروں سے لوگ رہنمائی پاتے ہیں

اللہ نے علامتیں پیدا کردیں تاکہ لوگ ہدایت حاصل کرسکیں : 21۔ ان راہوں کی شناخت کے لئے علامات مقرر کردیں یعنی ٹیلے ‘ پہاڑ ‘ درخت اور چشمے وغیرہ سب علامات راہ کا کام دیتے ہیں اور خصوصا ستارے تو سمت مقرر کرنے میں اتنی مدد بہم پہنچاتے ہیں کہ شاید ہی کوئی چیز اس قدر راہنمائی کرنے والی موجود ہو ۔ دن میں سفر کرتے ہوئے تو مختلف مقامات اور نشانیوں سے اپنا صحیح راستہ معلوم کرتے ہو اور جب رات کی تاریکی چھا جاتی ہے اور کوئی علامت بھی نظر نہیں آتی تو پھر آسمان کے ستارے تمہاری راہنمائی کرتے ہیں اور تمہیں تمہاری منزل کا پتہ دیتے ہیں ، خاموش ہیں بولتے نہیں لیکن جو راہنمائی کرتے ہیں وہ کبھی غلط نہیں ہوتی ، ستاروں سے کس طرح راہنمائی ملتی ہے اسی کے لئے آپ ان لوگوں کی طرف رجوع کریں جو لق و دق صحراؤں میں بھیانک جنگلوں میں سفر کرتے ہیں یا جنہیں سمندری سفر پر جانے کا کبھی اتفاق ہوا ہو ۔ آج اس ترقی کے دور میں کشتی بانوں اور صحرا اور ریگستانوں کے مسافروں کے کام آنے والا آلہ ” قطب نما “ کہلاتا ہے یا اس کو ” قطب نما “ ہی کہا جاتا ہے یعنی وہ آلہ جو ” قطب ستارہ “ کی سمت متعین کرتا ہے وہ شمال کا ہو یا جنوب کا اور ساری دنیا کے لوگوں کے حساب سے کام آنے والا وہی آلہ ہے جو اس ” قطب ستارہ “ کی سمت بتاتا ہے اور آج تک کبھی کسی کو یہ وہم بھی نہیں گزرا کہ ” قطب نما “ تو ایک آلہ ہے وہ اس کی سمت تو متعین کر دے گا لیکن قطب وہاں رہے گا یا کسی پیر و بزرگ اور نبی وولی کے کہنے پر اگر اپنی سمت ہی بدل گیا تو پھر کیا ہوگا ؟ علم الہی میں یہ بات طے تھی اور یہ کہ یہ نشانات ایسے ہیں جن کا بدلنا محال ہے اور ان کو بدلنے والے کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں یہ اللہ کا نظام خاص ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں اور اس طرح کا خیال کرنا بھی ظلم عظیم ہے ، زیر نظر آیت اور گزشتہ آیت میں (لعلکم تھتدون) اور (ھم یھتدون) کے الفاظ آئے ہیں اور اس طرح کے الفاظ قرآن کریم میں بار بار آئے ہیں اس لئے اس جگہ ہدایت کی مکمل بحث سمجھ لینر چاہئے تاکہ ہر جگہ ہدایت سے صرف ایک ہی ہدایت مراد نہ لی جائے کیونکہ ہدایت کی اقسام مختلف ہیں اور ہمارے مفسرین نے اس کی بہت ہی کم نشاندہی کی ہے کہ یہ کس قسم کی ہدایت کا بیان ہے اور جب تک قسم ہدایت واضح نہ ہو ٹھوکر لگنے کا امکان موجود رہتا ہے لہذا سمجھ لینا چاہئے کہ : ” ہدایت “ کے معنی راہنمائی کرنے ‘ راہ دکھانے ‘ راہ پر لگا دینے کے ہیں ، اجمالا اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے ۔ یہاں ہم چاہتے ہیں کہ ہدایت کے مختلف مراتب و اقسام پر نظر ڈالیں جن کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے اور جن میں سے ایک خاص مرتبہ وحی ونبوت کی ہدایت کا ہے ۔ تکوین وجود کے مراتب اربعہ : تم ابھی پڑھ چکے ہو کہ اللہ کی ربوبیت نے جس طرح مخلوقات کو ان کے مناسب حال جسم وقوی دیئے ہیں ‘ اسی طرح ان کی ہدایت کا فطری سامان بھی مہیا کردیا ہے ، فطرت کی یہی ہدایت ہے جو ہر وجود کو زندگی ومعیشت کی راہ پر لگاتی اور ضرورت زندگی کی جستجو میں رہنما ہوتی ہے ، اگر فطرت کی یہ ہدایت موجود نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ کوئی مخلوق بھی زندگی وبقاء کا سامان بہم پہنچا سکتی ، چناچہ قرآن نے جا بجا اس حقیقت پر توجہ دلائی ہے اور کہتا ہے ہر وجود کے بننے اور درجہ تکمیل تک پہنچنے کے مختلف مراتب ہیں اور ان میں آخری مرتبہ ہدایت کا مرتبہ ہے ۔ سورة اعلی میں بالترتیب چار مرتبوں کا ذکر کیا ہے : (آیت) ” (الذی خلق فسوی ، والذی قدر فھدی “ ۔ (87 : 2 ‘ 3) وہ پروردگار جس نے ہرچیز پیدا کی ‘ پھر اسے درست کیا ‘ پھر ایک اندازہ ٹھہرا دیا ، پھر اس پر راہ عمل کھول دی ۔ یعنی تکوین وجود کے چار مرتبے ہوئے : تخلیق ‘ تسویہ ‘ تقدیر ‘ ہدایت : ” تخلیق “ کے معنی پیدا کرنے کے ہیں ، یہ بات کہ کائنات خلقت اور اس کے ہر وجود کا مواد عدم سے وجود میں آگیا ‘ تخلیق ہے ۔ ” تسویہ “ کے معنی یہ ہیں کہ ہر ایک چیز کو جس طرح ہونا چاہئے ‘ ٹھیک ٹھیک اسی طرح درست اور آراستہ کردینا ” تقدیر “ کے معنی اندازہ ٹھہرا دینے کے ہیں اور اس کی تشریح پیچھے گزر چکی ہے ۔ ” ہدایت “ سے مقصود یہ ہے کہ ہر وجود پر اس کی زندگی ومعیشت کی راہ کھول دی جائے اور اس کی تشریح بھی ربوبیت کے مبحث میں گزر چکی ہے ۔ مثلا مخلوقات میں ایک قسم پر ند کی ہے : 1۔ یہ بات کہ ان کا مادہ خلقت ظہور میں آگیا ‘ تخلیق ہے ۔ 2۔ یہ بات کہ ان کے تمام ظاہری وباطنی قوی اس طرح بنا دیئے گئے کہ ٹھیک ٹھیک قوام و اعتدال کی حالت پیدا ہوگئی تسویہ ہے ۔ 3۔ یہ بات کہ ان کے ظاہری وباطنی قوی کے اعمال کے لئے ایک خاص طرح کا اندازہ ٹھہرا دیا گیا ہے ‘ جس سے وہ باہر نہیں جاسکتے ‘ تقدیر ہے ، مثلا یہ کہ ہوا میں اڑیں گے ، مچھلیوں کی طرح پانی میں تیریں گے نہیں ۔ 4۔ یہ بات کہ ان کے اندر وجدان و حواس کی روشنی پیدا ہوگئی جو انہیں زندگی وبقاء کی راہیں دکھاتی اور سامان حیات کے طلب و حصول میں رہنمائی کرتی ہے ‘ ہدایت ہے ۔ قرآن کہتا ہے اللہ کی ربوبیت کا مقتضی یہی ہے کہ جس طرح اس نے ہر وجود کو اس کا جسامہ ہستی عطا فرمایا اور اس کے ظاہری وباطنی قوی درست کردیئے اور اس کے اعمال کے لئے ایک مناسب حال اندازہ ٹھہرا دیا ‘ اسی طرح اس کی ہدایت کا بھی سروسامان کردیا ۔ (آیت) ” ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی “۔ (20 : 50) ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہرچیز کو اس کی بناوٹ دی ‘ پھر اس پر راہ عمل کھول دی۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا مکالمہ جابجا نقل کیا ہے ‘ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے عقیدہ کا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” واذ قال ابراہیم لابیہ وقومہ اننی برآء مما تعبدون ، الا الذی فطرنی فانہ سیھدین “۔ (43 : 26 ‘ 27) اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم سے کہا تھا تم جن (دیوتاؤں) کی پرستش کرتے ہو ‘ مجھے ان سے کوئی سروکار نہیں ۔ مرا اگر رشتہ ہے تو اس ذات سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہنمائی کرے گی ۔ (آیت) ” الذی فطرنی فانہ سیھدین “۔ (43 : 27) (یعنی) جس خالق نے مجھے جسم ووجود عطا فرمایا ہے ضروری ہے کہ اس نے میری ہدایت کا بھی سامان کردیا ہو ۔ سورة شعراء میں یہی بات زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے : (آیت) ” الذی خلقنی فھو یھدین ، والذی ھو یطعمنی ویسقین ، واذا مرضت فھو یشفین ، (26 : 80) جس پروردگار نے مجھے پیدا کیا ہے ‘ وہی میری ہدایت کرے گا اور پھر وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بخشتا ہے ۔ یعنی جس پروردگار کی پروردگاری نے میری تمام ضروریات زندگی کا سامان کردیا ہے ‘ جو مجھے بھوک کے لئے غذا پیاس کے لئے پانی اور بیماری میں شفاء عطا فرماتا ہے کیونکر ممکن ہے کہ اس نے مجھے پیدا تو کردیا ہو لیکن میری ہدایت کا سامان نہ کیا ہو ؟ اگر اس نے مجھے پیدا کیا ہے تو یقینا وہی ہے جو طلب وسعی میں میری راہنمائی بھی کرے ، سورة صافات میں یہی مطلب ان لفظوں میں ادا کیا گیا ہے : (آیت) ” انی ذاھب الی ربی سیھدین “۔ (37 : 99) میں (ہر طرف کٹ کر) اپنے پروردگار کا رخ کرتا ہوں وہ میری ہدایت کرے گا ۔ ” ربی “ کے لفظ پر غور کرو ‘ وہ میرا ” رب “ ہے اور جب وہ ” رب “ ہے تو ضروری ہے کہ وہی مجھ پر راہ عمل بھی کھول دے ۔ ہدایت کے ابتدائی تین مرتبے : پھر ہدایت کے بھی تین مختلف مراتب ہیں ‘ جو ہم حیوانات میں محسوس کرتے ہیں ، سب سے پہلا مرتبہ وجدان کی ہدایت کا ہے ، وجدان طبیعت حیوانی کا فطری اور اندرونی الہام ہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بچہ پیدا ہوتے ہیں غذا کے لئے رونے لگتا ہے اور پھر بغیر اس کے کہ خارج کی کوئی راہنمائی اسے ملی ہو ‘ ماں کی چھاتی منہ میں لیتے ہی اسے چوستا اور اپنی غذا حاصل کرلیتا ہے ۔ وجدان کے بعد حواس کی ہدایت کا مرتبہ ہے اور وہ اس سے بلند تر ہے یہ ہمیں دیکھنے ، سننے ‘ چکھنے ‘ چھونے اور سونگھنے کی قوتیں بخشتی ہے اور انہی کے ذریعہ ہم خارج کا علم حاصل کرتے ہیں ۔ ہدایت فطرت کے یہ دونوں مرتبے انسان اور حیوان سب کے لئے ہیں لیکن جہاں تک انسان کا تعلق ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک تیسرا مرتبہ ہدایت بھی موجود ہے اور وہ عقل کی ہدایت ہے ، فطرت کی یہی ہدایت ہے جس نے انسان کے آگے غیر محدود ترقیات کا دروازہ کھول دیا ہے اور اسے کائنات ارضی کی تمام مخلوقات کا حاصل وخلاصہ بنادیا ہے ۔ وجدان کی ہدایت اس میں سعی وطلب کا ولولہ پیدا کرتی ہے ‘ حواس اس کے لئے معلومات بہم پہنچاتے ہیں اور عقل ونتائج احکام مرتب کرتی ہے ، حیوانات کو اس آخری مرتبہ کی ضرورت نہ تھی ، اس لئے ان کا قدم وجدان اور حواس سے آگے نہیں بڑھا لیکن انسا میں یہ تینوں مرتبے جمع ہوگئے ۔ جو ہر عقل کیا ہے ؟ اور اصل اسی قوت کی ایک ترقی یافتہ حالت ہے جس نے حیوانات میں وجدان اور حواس کی روشنی پیدا کردی ہے جس طرح انسان کا جسم ‘ اجسام ارضی کی سب سے اعلی کڑی ہے اسی طرح اس کی معنوی قوت بھی تمام معنوی قوتوں کا برتریں جوہر ہے ، روح حیوانی کا وہ جوہر ادراک ‘ جو نباتات ہیں مخفی اور حیوانات کے وجدان ومشاعر میں نمایاں تھا انسان کے مرتبے میں پہنچ کر درجہ کمال تک پہنچ گیا اور جوہر عقل کے نام سے پکارا گیا ۔ ہر مرتبہ ہدایت ایک خاص حد سے آگے راہنمائی نہیں کرسکتا : پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہدایت فطرت کے ان تینوں مرتبوں میں ہر مرتبہ اپنی قوت وعمل کا ایک خاص دائرہ رکھتا ہے ، اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر اس مرتبہ سے ایک دوسرا بلند مرتبہ موجود نہ ہوتا تو ہماری معنوی قوتیں اس حدتک ترقی نہ کرسکتیں جس حد تک فطرت کی راہنمائی سے ترقی کر رہی ہیں ۔ وجدان کی ہدایت ہم میں طلب وسعی کا جوش پیدا کرتی ہے اور مطلوبات زندگی کی راہ پر لگاتی ہے ، لیکن ہمارے وجود سے باہر جو کچھ موجود ہے اس کا ادراک حاصل نہیں کرسکتی یہ کام مرتبہ حواس کی ہدایت کا ہے ، وجدان کی راہنمائی جب درماندہ ہوجاتی ہے تو حواس کی دستگیری نمایاں ہوتی ہے آنکھ دیکھتی ہے ‘ کان سنتا ہے ‘ زبان چکھتی ہے ہاتھ چھوتا ہے ‘ ناک سونگھتی ہے اور اسی طرح ہم اپنے وجود سے باہر کی تمام محسوس اشیاء کا ادراک حاصل کرلیتے ہیں ۔ لیکن حواس کی ہدایت بھی ایک خاص حد تک ہی کام دے سکتی ہے اس سے آگے نہیں بڑھ سکتی ، آنکھ دیکھتی ہے مگر صرف اسی حالت میں جب کہ دیکھنے کی تمام شرطیں موجود ہوں ۔ اگر کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے مثلا روشنی نہ ہو یا فاصلہ زیادہ ہو تو ہم آنکھ رکھتے ہوئے بھی ایک موجود چیز کو براہ راست نہیں دیکھ سکتے ، علاوہ بریں حواس کی ہدایت صرف اتنا ہی کرسکتی ہے کہ اشیاء کا احساس پیدا کر دے لیکن مجرد احساس کافی نہیں ہے ، ہمیں استنباط واستنتاج کی ضرورت ہے ‘ کلیات کی ضرورت ہے اور یہ کام عقل کی ہدایت کا ہے ، وہ ان تمام مدرکات کو جو حواس کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں ترتیب دیتی ہے اور ان سے احکام وکلیات کا استنباط کرتی ہے ۔ ہر مرتبہ ہدایت اپنی تصحیح ونگرانی میں بالا تر مرتبہ ہدایت کا محتاج ہے : علاوہ بریں جس طرح وجدان کی نگرانی کے لئے حواس ومشاعر کی ضرورت تھی اسی طرح حواس کی تصحیح ونگرانی کے لئے عقل کی ضرورت ہوئی ، حواس کا ذریعہ ادراک نہ صرف محدود ہی ہے بلکہ بسا اوقات غلطی وگمراہی سے بھی محفوظ نہیں ، ہم دور سے ایک چیز دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ایک سیاہ نقطے سے زیادہ حجم نہیں رکھتی ، حالانکہ وہ ایک عظیم الشان گنبد ہے ‘ ہم بیماری کی حالت میں شہد سی میٹھی چیز چکھتے ہیں لیکن ہمارا حامنہ ذوق یقین دلاتا ہے کہ مزہ کڑوا ہے ، ہم تالاب میں ایک لکڑی کا عکس دیکھتے ہیں ، لکڑی مستقیم ہے لیکن عکس میں ٹیڑھی دکھائی دیتی ہے ، بارہا ایسا ہوتا ہے کہ کسی عارضے کی وجہ سے کان بجنے لگتے ہیں اور ہمیں ایسی صدائیں سنائی دیتی ہیں جن کا خارج میں کوئی وجود نہیں ۔ اگر مرتبہ حواس سے ایک بلند تر مرتبہ ہدایت کا وجود نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ ہم حواس کی ان درماندگیوں میں حقیقت کا سراغ پا سکتے لیکن ان تمام حالتوں میں عقل کی ہدایت نمودار ہوتی ہے وہ حواس کی درماندگیوں میں ہماری راہنمائی کرتی ہے ، وہ ہمیں بتلاتی ہے کہ سورج ایک عظیم الشان کرہ ہے اگرچہ ہماری آنکھ اسے ایک سنہری تھال سے زیادہ محسوس نہیں کرتی ، وہ ہمیں بتلاتی ہے کہ شہد کا مزہ ہر حال میں میٹھا ہے اور ہمیں کڑوا محسوس ہوا ہے تو یہ اس لئے ہے کہ ہمارے منہ کا مزہ بگڑ گیا ہے ، اسی طرح وہ ہمیں بتلاتی ہے کہ بعض اوقات خشکی بڑھ جانے سے کان بجنے لگتے ہیں اور اس حالت میں جو صدائیں سنائی دیتی ہیں وہ خارج کی صدائیں نہیں ہوتیں ‘ خود ہمارے ہی دماغ کی گونج ہوتی ہے ۔ ہدایت فطرت کا چوتھا مرتبہ : لیکن جس طرح وجدان کے بعد حواس کی ہدایت نمودار ہوئی کیونکہ وجدان کی ہدایت ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی تھی اور جس طرح حواس کے بعد عقل کی ہدایت نمودار ہوئی کیونکہ حواس کی ہدایت بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی تھی ، ٹھیک اسی طرح ہم محسوس کرتے ہیں ، کہ عقل کی ہدایت کا کوئی مزید مرتبہ ہونا چاہئے کیونکہ عقل کی ہدایت بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور اس کے دائرہ عمل کے بعد بھی ایک دائرہ رہ جاتا ہے ، عقل کی کارفرمائی جیسی کچھ اور جتنی کچھ بھی ہے محسوسات کے دائرہ میں محدود ہے ‘ یعنی وہ صرف اسی حد تک کام دے سکتی ہے جس حد تک ہمارے حواس خمسہ معلومات بہم پہنچاتے رہتے ہیں لیکن محسوسات کی سرحد سے آگے کیا ہے ؟ اس پردے کے پیچھے کیا ہے جس سے آگے ہماری چشم حواس نہیں بڑھ سکتی ؟ یہاں پہنچ کر عقل یک قلم درماندہ ہوجاتی ہے اس کی ہدایت ہمیں کوئی روشنی نہیں دے سکتی ۔ علاوہ ازیں جہاں تک انسان کی عملی زندگی کا تعلق ہے عقل کی ہدایت نہ تو ہر حال میں کافی ہے نہ ہر حال میں مؤثر ۔ نفس انسانی طرح طرح کی خواہشوں اور جذبوں سے کچھ اس طرح مقہور واقع ہوا ہے کہ جب کبھی عقل اور جذبات میں کشمکش ہوتی ہے تو اکثر حالتوں میں فتح جذبات ہی کے لئے ہوتی ہے ، بسا اوقات عقل ہمیں یقین دلاتی ہے کہ فلاں فعل مضر اور مہلک ہے لیکن جذبات ہمیں ترغیب دیتے ہیں اور ہم اس کے ارتکاب سے اپنے آپ کو نہیں روک سکتے ، عقل کی بڑی سے بڑی دلیل بھی ہمیں ایسا نہیں بنا سکتی کہ غصے کی حالت میں بےقابو نہ ہوجائیں اور بھوک کی حالت میں مضر غذا کی طرف ہاتھ نہ بڑھائیں ۔ اچھا ! اگر اللہ کی ربوبیت کے لئے ضروری تھا کہ وہ ہمیں وجدان کے ساتھ حواس بھی دے کیونکہ وجدان کی ہدایت ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور اگر ضروری تھا کہ حواس کے ساتھ عقل بھی دے کیونکہ حواس کی ہدایت بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی اور اعمال کی درستی وانضباط کے لئے کافی نہیں ؟ اگر اس نے وجدان کے ساتھ حواس بھی دیئے تاکہ وجدان کی لغزشوں میں نگرانی کریں اور اگر حواس کے ساتھ عقل بھی دی تاکہ حواس کی غلطیوں میں قاضی وحاکم ہو تو کیا ضروری نہ تھا کہ عقل کے ساتھ کچھ اور بھی دیتا ۔ تاکہ عقل کی درماندگیوں میں رہنما اور فیصلہ کن ہوتا ؟ قرآن کہتا ہے کہ ضروری تھا اور اسی لئے اللہ کی ربوبیت نے انسان کے لئے ایک چوتھے مرتبہ ہدایت کا بھی سامان کردیا ۔ یہی مرتبہ ہدایت ہے جسے وہ وحی ونبوت کی ہدایت سے تعبیر کرتا ہے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے جا بجا ان مراتب ہدایت کا ذکر کیا ہے اور انہیں ربوبیت الہی کی سب سے بڑی بخشش مرحمت قرار دیتا ہے ۔ (آیت) ” انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج نبتلیہ فجعلنہ سمیعا بصیرا ، انا ھدینہ السبیل اما شاکرا واما کفورا “۔ (76 : 2) ہم نے انسان کو ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا جسے (ایک کے بعد ایک) مختلف حالتوں میں پلٹتے ہیں ، پھر اسے ایسا بنا دیا کہ سننے والا اور دیکھنے والا وجود ہوگیا ، ہم نے اس پر راہ عمل کھول دی ، اب یہ اس کا کام ہے کہ یا تو شکر کرنے والا ہو یا ناشکرا (یعنی یا تو اللہ کی دی ہوئی قوتیں ٹھیک ٹھیک کام میں لائے اور فلاح وسعادت کی راہ اختیار کرے یا ان سے کام نہ لے اور گمراہ ہوجائے ۔ (آیت) ” الم نجعل لہ عینین ، ولسانا وشفتین ، وھدینہ النجدین “۔ (90 : 6) کیا ہم نے اسے ایک چھوڑ دو دو آنکھیں نہیں دے دی ہیں (جن سے وہ دیکھتا ہے) اور زبان اور ہونٹ نہیں دیئے ہیں (جو گویائی کا ذریعہ ہیں) اور کیا اس کو (سعادت وشقاوت کی) دونوں راہیں نہیں دکھائیں ؟ (آیت) ” وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ لعلکم تشکرون “۔ (16 : 78) اور اللہ نے تمہارے لئے سننے اور دیکھنے کے حواس پیدا کردیئے اور سوچنے کے لئے دل (یعنی عقل) تاکہ تم شکر گزار ہو (یعنی اللہ کی دی ہوئی قوتیں ٹھیک طریقہ پر کام میں لاؤ ) خیال رہے کہ عربی زبان میں (قلب) اور (فواد) کے معنی محض اس عضو ہی کی نہیں ہیں جسے اردو زبان میں دل کہتے ہیں بلکہ اس کا اطلاق عقل وفکر پر بھی ہوتا ہے ، قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی (اسمع وبصر ) کے ساتھ (قلب وفواد) کہا گیا ہے اس سے مقصود جوہر عقل ہی ہے ۔ ان آیات اور ان کے ہم معنی آیات ہیں حواس ومشاعر اور عقل وفکر کی ہدایت کی طرف اشارات کئے گئے ہیں ۔ (آیت) ” ان علینا للھدی وان لناللاخرۃ والاولی “۔ (93 : 13) بلاشبہ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم راہنمائی کریں اور یقینا آخرت اور دنیا دونوں ہمارے ہی لئے ہیں ۔ (آیت) ” واما ثمود فھدینھم فاستحبوا العمی علی الھدی “۔ (41 : 17) اور باقی رہی قوم ثمود تو اسے بھی ہم نے رہ (حق) دکھائی تھی لیکن اس نے ہدایت کی راہ چھوڑ کر اندھے پن کا شیوہ پسند کیا۔ (آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین “۔ (29 : 69) اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جانفشانی کی تو ضروری ہے کہ میں بھی ان پر اپنی راہیں کھول دوں اور بلاشبہ اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو نیک عمل ہیں ۔ قرآن کریم میں (الھدی) کا خصوصی ذکر کیا گیا ۔ چنانچہ اس سلسلہ میں وہ اللہ کی ایک خاص ہدایت کا ذکر کرتا ہے اور اسے (الھدی) کے نام سے پکارتا ہے یعنی الف ۔ لام ۔ تعریف کے ساتھ ۔ (آیت) ” قل ان ھدی اللہ ھو الھدی وامرنا لنسلم لرب العلمین “۔ (6 : 71) اے پیغمبر ! ان سے ، کہہ دو یقینا اللہ کی ہدایت تو (الھدی) ہے اور ہم سب کو (اسی بات کا) حکم دیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کے پروردگار کے آگے سر عبودیت جھکا دیں ۔ (آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولانصری حتی تتبع ملتھم قل ان ھدی اللہ وھولاھدی “۔ (2 : 120) اور (یاد رکھو) یہودی تم سے خوش ہونے والے نہیں جب تک کہ تم ان کی ملت کی پیروی نہ کرو اور یہی حال نصاری کا ہے (اے پیغمبر ! ) تم ان سے کہہ دو اللہ کی ہدایت کی راہ تو وہی ہے جو (الھدی) ہے (یعنی ہدایت کی حقیقی اور عالمگیر راہ) یہ (الھدی) یعنی ہدایت کی ایک ہی اور حقیقی راہ کونسی ہے ؟ قرآن کہتا ہے ‘ وحی الہی کی عالمگیر ہدایت ہے جو اول دن سے دنیا میں موجود ہے بلاتفریق و امتیاز تمام نوع انسانی کے لئے ہے ۔ وہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے وجدان ‘ حواس اور عقل کی ہدایت میں نہ تو نسل وقوم کا امتیاز رکھا ‘ نہ زمان ومکان کا اسی طرح اس کی ہدایت وحی بھی ہر طرح کے تفرقہ و امتیاز سے پاک ہے وہ سب کے لئے ہے اور سب کو دی گئی ہے اور اس ایک ہدایت کے سوا اور جتنی ہدایتیں بھی انسانوں نے سمجھ رکھی ہیں سب انسانی بناوٹ کی راہیں ہیں ۔ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی راہ صرف یہی ایک راہ ہے ۔ اسی لئے وہ ہدایت کی ان تمام صورتوں سے یک قلم انکار کرتا ہے جو اس اصل سے منحرف ہو کر طرح طرح کی مذہبی گروہ بندیوں اور متخالف ٹولیوں میں بٹ گئی ہیں اور سعادت ونجات کی عالمگیر حقیقت خاص خاص گروہوں اور حلقوں کی میراث بنا لی گئی ہے ، وہ کہتا ہے انسانی بناوٹ کی یہ الگ الگ راہیں ہدایت کی راہ نہیں ہو سکتیں ، ہدایت کی راہ تو وہی عالمگیر ہدایت کی راہ ہے اسی عالمگیر ہدایت وحی کو وہ (الدین) کے نام سے پکارتا ہے یعنی نوع انسانی کے لئے حقیقی دین اور اسی کا نام اس کی زبان میں (الاسلام) ہے ۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

پھر بتلاؤ کیا دونوں ہستیاں برابر ہیں ؟ وہ جو پیدا کرتی ہے اور وہ جو کچھ پیدا نہیں کرتی ؟ پھر کیا تم سمجھتے بوجھتے نہیں ؟

تفسیر : کیا پیدا کرنے والا اور نہ پیدا کرنے والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ : 22۔ (آیت) ” افمن یخلق “۔ کیا وہ شخص جو پیدا کرتا ہے (آیت) ” کمن لا یخلق “۔ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو پیدا نہیں کرتا۔ (آیت) ” خلق “۔ آفرینش ‘ پیدائش ‘ بنانا ‘ پیدا کرنا اصل میں تو (آیت) ” خلق “۔ کے معنی تقدیر مستقیم یعنی صحیح اندازہ ٹھہرانے کے ہیں اور اس کا استعمال کسی چیز کے بغیر نمونہ اور پیروی کے ایجاد کرنے کے ہیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ اس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو “ اس جگہ (خلق) کا استعمال ابداع یعنی بےمثال اور بےنمونہ سابق بنانے کے لئے ہوا جیسا کہ (آیت) ” بدیع السموت والارض “۔ بغیر کسی میڑیل کے بنانے والا آسمانوں اور زمین کا “ اس بات پر دلالت کر رہی ہے نیز ایک شے کے دوسری شے سے بنانے اور ایجاد کرنے کے معنی میں آتا ہے جیسے (آیت) ” خلقکم من نفس واحدۃ “۔ ” اس نے تم کو نفس واحدہ سے پیدا کیا “ اور اسی طرح یہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” خلق الانسان من نطفۃ “۔ ” انسان کو اس نے نطفہ سے بنایا۔ “ (خلق) بمعنی ابداع ذات باری کی مخصوص صفت ہے اس میں کسی کو شریک کرنا باذن اللہ کہہ کر یا ایسے ہی ہر حال میں شرک ہے اور اس صفت میں ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” افمن تخلق کمن لا یخلق “۔ جو زیر نظر آیت میں آیا ہے ” کیا پس جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہوجائے گا جو کچھ پیدا نہیں کرتا ۔ “ اس آیت میں اس فرق کو واضح کیا گیا ہے اور عام لوگوں کے لئے جو (خلق) کا استعمال ہوتا ہے تو وہ صرف دو معنی ہی کے لئے ہوتا ہے ، ایک اندازہ کرنے کے لئے اور دوسرے جھوٹ گھڑنے کے لئے ، پہلے کی مثال (آیت) ” تخلق من الطین کھیئۃ الطیر “۔ ہے اور دوسرے کی مثال (آیت) ” وتخلقون افکا “۔ (العنکبوت : 17) سے دی جاسکتی ہے چناچہ کلام کی صفت میں جہاں (خلق) کا لفظ آئے گا اس سے جھوٹ ہی مراد ہوگا ۔ امام راغب لکھتے ہیں ۔ کہ ومن ھذا الوجہ امتنع کثیر من الناس من اطلاقہ لفظ الخلق علی القران اسی وجہ سے بہت سے لوگ قرآن کریم کے متعلق (خلق) کا لفظ استعمال کرنے سے رک گئے اور آیت کریمہ (آیت) ” فتبرک اللہ احسن الخالقین “۔ ” بڑی برکت والی ذات اللہ کی ہے جو سب سے بہتر بنانے والا ہے “۔ میں (خلق) کا استعمال اندازہ کرنے اور صورت گری کے معنی میں ہے ابداع ایجاد کے معنوں میں نہیں ہے اور آیہ کریمہ (آیت) ” ولا امرنھم فلیغیرن خلق اللہ “۔ اور میں ان کو حکم دوں گا کہ وہ اللہ کی خلق کو بدلیں “ اس جگہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ حسن بصری (رح) ، قتادہ (رح) ، سعید بن المسیب (رح) اور ضحاک (رح) نے (خلق اللہ) کی تفسیر دین اللہ سے کی ہے یعنی دین کی وضع جو اللہ نے رکھی ہے اسے بدل کر وہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیں گے اور عکرمہ (رح) اور بہت سے دوسرے مفسرین نے (خلق اللہ) کی تبدیلی سے صورت بدلنا مراد لیا ہے مثلا فقی کرنا یا ہونا ‘ بدن گودنا اور کان چیرنا (معالم التنزیل ج اول ص 499 طبع مصر) اس طرح (آیت) ” لا تبدیل لخلق اللہ “۔ ” اللہ کی پیدائش کو مت بدلو “ میں بعض نے (خلق اللہ) سے قضا وقدر الہی مراد لی ہے اور بعض نے احکام ملت اور بعض نے تبدیلی خلقت اور (خلق) کا استعمال بمعنی مخلوق بھی ہوتا ہے (خلق) اور (خلق) اصل میں دونوں ایک ہی ہیں جیسے شرب اور شرب اور صرم اور صرم مگر اتنا فرق ہے کہ (خلق) کا استعمال خلقت کے لئے مخصوص ہے اور (خلق) کا عادت وخصلت کے لئے ۔ ہم نے اس جگہ (خلق) کے سارے احتمالات بیان کردیئے ہیں جس سے صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ (خلق) کے مادہ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے سب کے سامنے آجائیں اور وہ اس کے معنی متعین کرنے میں غلطی نہ کریں اور خصوصا یہ کہ جو (خلق) غیر اللہ کے لئے ممنوع ہے اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ (آیت) ” خلق کل شیء “ کہنے کے باوجود دوسروں کو اس کا شریک نہ ٹھہراتے رہیں خصوصا جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو پرندوں اور چمگادڑوں کا خالق تصور کرتے ہیں اس سے پرہیز کریں اور جو معنی وہاں فٹ ہوتے ہیں ان سے تجاوز نہ کریں ، قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ : (آیت) ” الذی لہ ملک السموت والارض ولم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا واتخذوا من دونہ الھۃ لا یخلقون شیئا وھم یخلقون ولا یملکون لانفسھم ضرا ولا نفعا ولا یملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا “۔ (الفرقان : 25 : 2 ‘ 3) ” اللہ وہ ذات ہے جو زمین میں اور آسمانوں میں بادشاہت کا مالک ہے ‘ جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے ‘ جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے ، جس نے ہرچیز کو پیدا کیا ہے پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی ہے اور لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لئے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو خود اپنے لئے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے جو نہ مار سکتے ہیں نہ جلا سکتے ہیں نہ مرے ہوؤں کو پھر اٹھا سکتے ہیں “۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ نہ تو اس سے کسی کا کوئی نسبی تعلق ہے اور نہ ہی اس نے کسی کو اپنی متبنی بنایا ہے کوئی ہستی کائنات میں ایسی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نسلی تعلق یا تبنیت کے تعلق کی بنا پر اس کو معبودیت کا استحقاق پہنچتا ہو ، اس کی ذات یکتائے محض ہے ‘ کوئی اس کا ہم جنس نہیں اور کوئی خدائی خاندان نہیں ہے کہ معاذ اللہ ایک خدا سے کوئی نسل چلی ہو اور بہت سے خدا پیدا ہوتے چلے گئے ہوں ، اس لئے وہ تمام مشرکین سراسر جاہل و گمراہ ہیں جنہوں نے فرشتوں یا جنوں یا بعض انسانوں کو خدا کی اولاد سمجھا اور اس بنا پر انہیں دیوتا اور معبود قرار دے لیا ہو ، اس طرح وہ لوگ بھی نری جہالت وگمراہی میں مبتلا ہیں جنہوں نے نسلی تعلق کی بنا پر نہ سہی کسی خصوصیت کی بنا پر ہی سہی اپنی جگہ یہ سمجھ لیا کہ خداوند عالم نے کسی شخص کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے ” بیٹا بنا لینے “ کے اس تصور کو جس پہلو سے بھی دیکھا جائے یہ سخت غیر معقول نظر آتا ہے ‘ کجا کہ یہ ایک امر واقعی ہو ، جن لوگوں نے یہ تصور ایجاد یا اختیار کیا ان کے گھٹیا ذہن ذات الہی کی برتری کا تصور کرنے سے عاجز تھے ، انہوں نے اس ذات بےبہا وبے نیاز کو انسانوں پر قیاس کیا جو یا تو تنہائی سے گھبرا کر کسی دوسرے کے بچے کو گود لے لیتے ہیں یا جذبات محبت کے وفور سے کسی کو بیٹا بنا لیتے ہیں یا متبنی بنانے کی اس لئے ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی تو ان کا وارث اور ان کے نام اور کام کو زندہ رکھنے والا ہو ، یہی تین وجوہ ہیں جن کی بنا پر انسانی ذہن میں تبنیت کا خیال پیدا ہوتا ہے اور ان میں سے جس وجہ کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے سخت جہالت اور گستاخی اور کم عقلی ہے ۔ دوسری بات جو یہاں واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا مختار مطلق ہے اور فرمانروائی کے اختیارات میں ذرہ برابر بھی کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے ، یہ چیز آپ سے آپ اس بات کو مستلزم ہے کہ پھر معبود بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہے اس لئے کہ انسان جس کو معبود بناتا ہے یہ سمجھ کر بناتا ہے کہ اس کے پاس کوئی طاقت ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیں کسی قسم کا نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے اور ہماری قسمتوں پر اچھا یا برا اثر ڈال سکتا ہے ، بےزور اور بےاثر ہستیوں کو ملجاوماوی بنانے کے لئے کوئی احمق سے احمق انسان بھی کبھی تیار نہیں ہو سکتا ، اب اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ جل شانہ کے سوا اس کائنات میں کسی کے پاس بھی کوئی زور نہیں ہے تو پھر نہ کوئی گردن اس کے سوا کسی کے آگے اظہار عجزو ونیاز کے لئے جھکے گی ‘ نہ کوئی ہاتھ اس کے سوا کسی کے آگے نذر پیش کرنے کے لئے بڑھے گا ‘ نہ کوئی زبان اس کے سوا کسی کی حمد کے ترانے گائے گی یا دعا والتجا کے لئے کھلے گی اور نہ ہی دنیا کے کسی نادان آدمی سے بھی کبھی یہ حماقت سرزد ہو سکے گی کہ وہ اپنے حقیقی خدا کے سوا کسی اور کی اطاعت و بندگی بجا لائے یا کسی کو بذات خود حکم چلانے کا حق دار مانے ، اس مضمون کو مزید تقویت اوپر کے اس فقرے سے پہنچتی ہے کہ ” آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور اسی کے لئے ہے ۔ “ ” لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لئے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں ۔ “ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ کائنات کی ہرچیز کو وجود بخشا ہے بلکہ وہی ہے جس نے ایک ایک چیز کے لئے صورت ‘ جسامت ‘ قوت و استعداد ‘ اوصاف وخصائص ‘ کام اور کام کا طریق ‘ بقاء کی مدت ‘ عروج وارتقاء کی حد او دوسری وہ تمام تفصیلات مقرر کی ہیں جو اس چیز کی ذات سے متعلق ہیں اور پھر اس نے عالم وجود میں وہ اسباب ووسائل اور مواقع پیدا کئے ہیں جن کی بدولت ہرچیز یہاں اپنے اپنے دائرے میں اپنے حصے کا کام کر رہی ہے ۔ اس ایک ہی آیت میں توحید کی پوری تعلیم سمیٹ کر رکھ دی گئی اور ان چند الفاظ میں اتنا بڑا مضمون سمو دیا گیا ہے کہ ایک پوری کتاب بھی اس کی وسعتوں کے احاطہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہو سکتی ۔ حدیث میں آتا ہے کہ کان النبی ﷺ اذا افصح الغلام من بنی عبدالمطلب علمہ ھذہ الایہ کہ نبی کریم ﷺ کا یہ قاعدہ تھا کہ آپ ﷺ کے خاندان میں جب کسی بچہ کی زبان کھل جاتی تھی تو آپ ﷺ یہ آیت اسے سکھاتے تھے ۔ (عبدالرزاق ‘ ابن ابی شہبن بروایت غمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ) بس آپ بھی صرف اس ایک آیت پر بار بار غور کریں کہ اس کے بعد اس بات کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” اللہ کا بیٹا “ جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے اور ” جبرئیل کا بیٹا “ جیسا کہ مسلمانوں کی اکثریت کا خیال ہے اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کو پرندوں کا خالق قرار دینا جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے اور اس طرح باذن اللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خالق قرار دینا جیسا کہ مسلمانوں کی اکثریت کا خیال ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا مردوں کو زندہ کرنا جیسا کہ عیسائیون کا خیال ہے اور مردوں کو باذن اللہ زندہ کرنا جیسا کہ مسلمانوں کی اکثریت کا عقیدہ ہے کہ کوئی گنجائش رہ جاتی ہے اور پھر تعجب ہے کہ ان آیات کو بھی مسلمان پڑھتے جاتے ہیں اور اس طرح کے عقائد کا بھی پرچار کئے جاتے ہیں اور اس طرح اسلام اور شرک کا ایک آمیزہ تیار کرکے قوم کے سامنے پیش کرتے اور قوم ہے کہ تقلیدا اس کو مانتی ہی چلی جاتی ہے ، اس کی تفصیل ہم قبل ازیں عروۃ الوثقی جلد دوم تفسیر سورة آل عمران کی آیت 49 میں حاشیہ 115 کے تحت بیان کرچکے ہیں ، وہاں ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنی چاہو ، تو وہ اتنی ہیں کہ کبھی شمار نہ کرسکو ، بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا ، بڑا ہی رحمت والا ہے

اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو کبھی گن نہیں سکو گے وہ بخشنے والا رحمت والا ہے : 23۔ اوپر انعامات الہی کا ذکر ہو رہا تھا اور چند نعمتوں کے ذکر کے بعد فرما دیا کہ یہ جو نعمتیں بیان ہوئیں محض نمونہ کے طور پر بیان ہوئیں ورنہ اللہ کی بیشمار اور ان گنت نعمتوں کا احصاء بھلا کسی شخص کے امکان میں ہے ؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات بیحد و حساب ہیں اگر تم کوشش بھی کرو تب بھی ان کا شمار نہیں کرسکتے ، تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم اپنے منعم حقیقی کو پہنچانوں اور اس کی بندہ نوازیوں کا شکریہ ادا کرو لیکن شکر ادا کرنا تو کجا تم نے اس کی واحدانیت کا انکار کردیا اور ان بےجان مورتیوں اور مقبروں والوں کو اس کا شریک بنا دیا ، یہ آیت سورة ابراہیم کی آیت 43 میں بھی گزر چکی ہے ، مزید تفصیل وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ، فرمایا ” یہ تو اللہ تعالیٰ کی بخشش و پیار ہے کہ وہ ہر حال میں انسانوں کے لئے رحم وکرم اور بخشش عام کئے ہوئے ہے ۔ “
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور سب کچھ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو

تفسیر : تمہارے چھپانے اور ظاہر کرنے کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ 24۔ یہ حاضر و غائب کی تفریق تو ہمارے معیار سے ہے اللہ تعالیٰ کے لئے تو ماضی ومستقبل کا کوئی مسئلہ نہیں اس کے لئے تو گویا سب حال ہی حال ہے کیونکہ اس کے لئے تو سب کچھ عیاں ہے ، اس کا علم کامل بھی ہے اور محیط بھی ، اس لئے کوئی احمق یہ نہ سمجھے کہ انکار الہی اور شرک ومعصیت کے باوجود نعمتوں کا سلسلہ بند نہ ہونا کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کو لوگوں کے کرتوتوں کی خبر نہیں ہے یہ کوئی اندھی بانٹ اور غلط بخشش نہیں ہے جو بیخبر ی کی وجہ سے ہو رہی ہو یہ تو وہ حلم اور درگزر ہے جو مجرموں کے پوشیدہ اسرار بلکہ دل کی چھپی ہوئی نیتوں تک سے واقف ہونے کے باوجود کیا جا رہا ہے اور یہ وہ فیاضی وعالی ظرفی ہے جو صرف رب العالمین ہی کو زیب دیتی ہے ۔
Ayah 16:20

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں ان کا حال تو یہ ہے کہ وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود کسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں

اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں وہ کسی کو کیا پیدا کریں گے ؟ : 25۔ غور کرو کہ کتنے جامع اور مختصر الفاظ بیان فرمائے گئے ہیں جو ہر قسم کے جعلی معبودوں پر حاوی ہیں ۔ وہ بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انسان ان کو معبود مان بیٹھا مثلا فرشتے ‘ جن ‘ انبیاء کرام ‘ اولیاء عظام ‘ سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ درخت دریا اور جانور وغیرہ اور وہ بھی جن کو انسان خود بناتا ہے یعنی گھڑتا ہے اور خود ہی معبود بنا لیتا ہے جیسے پتھر اور لکڑی کے بت وغیرہ اور قبریں اور مقبرے اگرچہ ان قبروں اور مقبروں کی کوئی شخص پرستش نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی بتوں کو پوجتا ہے پوجا دراصل ان قبروں اور مقبروں والوں کی ہوتی ہے اور اسی طرح بتوں والوں کی لیکن یاروں نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے بتوں کا نام لے لیا تاکہ دوسری طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹا دی جائے ، آنے والی آیت مزید وضاحت کرر ہی ہے ۔
Ayah 16:21

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ مردے ہیں نہ کہ زندگی رکھنے والے انہیں اس کی خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے

وہ مردے ہیں نہ کہ زندگی رکھنے والے ‘ وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے : 26۔ کیا ایسے بےخروں اور ناقص علم والوں کو معبود تسلیم کرلینا جہل وسفاہت کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خاص طور پر جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جارہی ہے وہ فرشتے جن شیاطین یا لکڑی ‘ پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں بلکہ اصحاب قبور ہیں اس لئے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں ان پر (آیت) ” اموات غیر احیآء “۔ کے الفاظ کا اطلاق نہیں ہو سکتا اور لکڑی پتھر کی مورتیوں کے معاملہ میں (آیت) ” بعث بعد الموت “۔ کا کوئی سوال ہی نہیں ہے اس لئے (آیت) ” مایشعرون ایان یبعثون “۔ کے الفاظ انہیں بھی خارج از بحث کردیتے ہیں اب لامحالہ اس آیت میں (آیت) ” الذین یدعون من دون اللہ “۔ سے مراد وہ انبیاء ‘ اولیاء ‘ صالحین ، اور دوسرے غیر معمولی انسان ہی ہیں جن کو غالی معتقدین داتا ‘ مشکل کشا ‘ فریاد رس ‘ غریب نواز ‘ گنج بخش ‘ اور نہ معلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لئے پکارنا شروع کردیتے ہیں ، اس کے جواب میں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ عرب میں اس طرح کے معبود نہیں پائے جاتے تھے تو ہم عرض کریں گے کہ یہ جاہلیت عرب کی تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت ہے کون پڑھا لکھا نہیں جانتا کہ عرب کے متعدد قبائل ربیعہ ‘ کلب ‘ تغلب ‘ قضاعہ ‘ کنانہ ‘ حرث ‘ کعب اور کندہ وغیرہ میں کثرت سے عیسائی اور یہودی پائے جاتے تھے ‘ اور یہ دونوں مذاہب بری طرح انبیاء ‘ اولیاء اور شہدا کی پرستش سے آلودہ تھے ۔ پھر مشرکین عرب کے اکثر نہیں تو بہت معبود وہ گزرے ہوئے انسان ہی تھے جنہیں بعد کی نسلوں نے خدا بنا لیا تھا بخاری میں ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ ود ‘ سواع ‘ یغوث یعوق اور نسریہ سب صالحین کے نام ہیں جنہیں بعد کے لوگ بت بنا بیٹھے ، حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ اساف اور نائلہ دونوں انسان تھے ، اسی طرح کی روایات لات اور منات اور عزی کے بارے میں بھی موجود ہیں اور مشرکین کا یہ عقیدہ بھی روایات میں آیا ہے کہ لات اور عزی اللہ کے ایسے پیارے تھے کہ اللہ میاں جاڑا ” لات “ کے ہاں اور گرمی ” عزی “ کے ہاں بسر کرتا تھا ۔ (آیت) ” سبحنہ وتعالیی عما عصفون “۔
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود تو ایک ہی معبود ہے ، (اس کے سوا کوئی نہیں ہے) پھر جو لوگ آخرت کی زندگی پر یقین نہیں رکھتے تو ضرور ان کے دل انکار میں ڈوبے ہوئے ہیں اور وہ (سچائی کے مقابلہ میں) گھمنڈ کر رہے ہیں

معبود تو ایک ہی معبود ہے جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں : 27۔ زیر نظر آیت کا خطاب ساری نسل انسانی سے ہے اور سب کو بتایا ہے کہ حق تعالیٰ لاثانی اور لا شریک لہ ہے اور لوگ حق کے اتنے وضوع کے بعد ایمان نہیں لاتے ، گویا دلائل توحید کے ذکر کرنے کے بعد اصل مقصد کا اعلان فرمادیا کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ ہے جو تمہارا خدا اور معبود ہے جس کی قدرت جس کی ربوبیت ‘ جس کی ہمہ دانی اور عہد بینی کے متعدد شواہد تم دیکھ چکے ہو اور اس کے علاوہ زمین و آسمان میں کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہاری معبود بن سکے اسے مسجود ملائکہ ! اے مخدوم مہروماہ ! تجھے کیا ہوگیا کہ تو اپنے محسن ومنعم حقیقی کا بندہ بننے کی بجائے اپنے ادنی خادموں کی چاکری بلکہ بندگی پر ناز کرنے لگا ، اے خود فراموش ! فطرت کے آئینہ میں اپنا جمال دیکھ ! اور اپنے ہی ہم جنس لوگوں کو خدا مت بنا ، وہ سارے بزرگ بھی اللہ ہی کی پرستش کرتے تھے اور اسی کو معبود سمجھتے تھے تو نے ان کی وفات کے بعد غیر مسلموں کی طرف اگر بت نہیں بنائے تو قبروں میں رکھنے کے بعدان قبروں ہی کی معبود بنا بیٹھا ہے یہ تیری کتنی کم ظرفی اور کتنی ہی کم عقلی ہے ۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یقیناً یہ جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں سب اس کے علم میں ہے وہ گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

اللہ تعالیٰ ہر چھپی چیز اور مخفی چیز کو خوب جانتا ہے اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں : 28۔ (لاجرم) کا لفظ قرآن کریم میں پانچ بار بیان ہوا ہے ، سورة ہود کی آیت 22 میں اور اسی سورت النحل کی آیت 23 ‘ 62 اور 109 میں ایک بار سورة ال مومن کی آیت 43 میں ، اور ہر بار شرک کے رد ہی میں اس کا بیان ہوا ، نادانو ! تم کس سے چھپ رہے ہو اور کس سے اپنے دلوں کے نفاق اور اسلام دشمنی کو چھپا رہے ہو اس ذات پاک سے جو ہمہ داں اور ہمہ بیں ہے جو تمہارے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور تمہارے باطن سے بھی واقف ہے جو تمہارے ان اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے جو تم چھپا کر کرتے ہو اور ان کو بھی جن کا تم برملا ارتکاب کرتے ہو وہ تو وہ ذات ہے جو تمہارے سینوں کے رازوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے اس لئے تم جو کچھ کر رہے ہو ایک ناکام کوشش میں مصروف ہو اور اپنا وقت خواہ مخواہ ضائع کر رہے ہو ، اور اگر تم سنی ان سنی کر رہے ہو اور پرواہ نہیں کرتے ہو کہ جو کچھ ہم کر رہے ہی کون ہے جو ہم کو اس سے باز رکھے تو گویا تکبر کر رہے ہو اور تکبر کرنے والوں کو اللہ کبھی دوست نہیں رکھتا تم کو یہ غلط فہمی کیوں ہوتی ہے حالانکہ ہمارا رسول تو صرف ہمارا پیغام پہنچا رہا ہے اس کی اپنی تو بات نہیں جو وہ تم کو کہ رہا ہے ناسمجھی اور بیوقوفی کا مظاہرہ ہے جو تم کو رہے ہو کہ نقصان اپنا کرتے ہو اور شماتت ہمسایہ بھی خود ہی برداشت کر رہے ہو ۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا ہے وہ کیا بات ہے جو تمہارے پروردگار نے اتاری ہے ؟ تو کہتے ہیں کچھ نہیں محض اگلے وقتوں کے افسانے ہیں

تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے ؟ کہتے ہیں کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں : 29۔ یہ ان کی گوہر افشانی کس کے متعلق ہے ؟ قرآن کریم جیسی کتاب کے متعلق ، مشرکین مکہ تو خیر اپنی بیخبر ی تاریک خیالی اور جہالت کے لئے ضرب المثل ہی تھے کمال یہ ہے کہ آج کل بڑے بڑے ” روشن خیال “ مدعیان علم و دانش بہک بہک کر بس یہی کہتے ہیں کہ ” قرآن “ میں ہے ہی کیا ؟ یہود ونصاری کی کتابوں کے کچھ قصے ہی تو ہیں جو وہاں سے لے کر یہاں بیان کردیئے گئے ہیں ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا دراصل نبی اعظم وآخر ﷺ کی دعوت کا چرچا جب اطراف واکناف میں پھیلا تو مکہ کے لوگ جہاں کہیں جاتے تھے تو ان سے پوچھا جاتا تھا کہ تمہارے ہاں جو صاحب نبی بن کر آئے ہیں و وہ کیا تعلیم دیتے ہیں ؟ قرآن کس قسم کی کتاب ہے ؟ اس کے مضامین کیا ہیں ؟ ایسے سوالوں کا جواب کفار مکہ ہمیشہ ایسے الفاظ میں دیتے تھے جن سے سائل کے دل میں نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی کتاب کے متعلق کوئی نہ کوئی شک بیٹھ جائے یا کم از کم اس کو آپ ﷺ سے اور آپ ﷺ کی نبوت کے معاملے سے کوئی دلچسپی باقی نہ رہے ، لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں بھی آتی تھی کہ جہاں اس طرح کے سوالات سو آدمیوں کو مشکوک کرتے ہیں وہاں سو میں سے دو چار کو وہ خود دیکھنے اور سمجھنے پر مجبور بھی کرتے ہیں اور اس طرح یہ تحریک کے آہستہ آہستہ چلنے کا باعث وہ خود ہی بن رہے ہیں ۔ نالائق ساری زندگی یہ بات نہ سمجھ سکے اور نہ چاہنے کے باوجود انہوں نے خود اس پیغام کو دوسروں تک پہنچایا کیونکہ وہ کتنے ہی تھے جنہیں انہوں نے اس طرح کی تعلیم کی اور وہ خود درودراز سے چل کر آئے اور یہیں کہ ہو کر رہ گئے کیونکہ سچ جب کسی کی سمجھ میں آجائے تو پھر وہ کسی کے نکالے بھی نہیں نکلتا ۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

قیامت کے روز یہ لوگ اپنا پورا پورا بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ کا ایک حصہ بھی جنہیں یہ بغیر علم و روشنی کے گمراہ کر رہے ہیں تو دیکھو کیا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اپنے اوپر لادے چلے جا رہے ہیں

قیامت کے روز وہ لوگ اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے : 30۔ قرآن کریم میں (آیت) ” لا تزر وازرۃ وزر اخری “۔ کی آیت پانچ بار آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا “ جس کا مطلب بالکل واضح اور صاف ہے کہ تم میں سے ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے کوئی شخص اگر دوسروں کو راضی رکھنے کے لئے یا انکی ناراضگی سے بچنے کی خاطر کفر اختیار کرے گا تو وہ دوسرے لوگ اس کے کفر کا وبال اپنے اوپر نہیں اٹھائیں گے بلکہ اسے آپ ہی اپنا وبال بھگتنے کے لئے چھوڑ دیں گے لہذا جس پر کفر کا غلط اور ایمان کا صحیح ہونا واضح ہوجائے اس کو چاہئے کہ وہ غلط رویہ چھوڑ کر صحیح رویہ اختیار کرلے اور اپنے خاندان یا برادری یا قوم کے ساتھ لگ کر اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا مستحق نہ بنائے ، لیکن درج ذیل آیت میں اس کے برخلاف یہ فرمایا گیا کہ ” قیامت کے روز وہ اپنا پورا پورا بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ کا ایک حصہ بھی جنہیں یہ بغیر علم و روشنی کے گمراہ کر رہے ہیں “ اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کا بوجھ اٹھانے کا بھی کہا جا رہا ہے تو گویا پہلی آیت اور دوسری آپس میں مخالف ہوگئیں اور بات صرف سمجھنے کی ہے کہ انہوں نے جو بوجھ دوسروں کا اٹھایا وہ بھی دراصل انہی کا اٹھوایا ہوا تھا لہذا انکو اتنا ہی حصہ ملا جو انہوں نے اٹھوایا تھا ، ۔ وضاحت اس کی یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں بات واضح کی تھی کہ پوچھنے والوں نے جو پوچھا تھا وہ یہ تھا کہ قرآن کریم میں اللہ نے کیا اتارا ہے اس کا سیدھا جواب دینے کی بجائے انہوں نے الٹا جواب دے کر ان کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے اور سیدھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی لہذا انہوں نے ان کے کہنے کے باعث سیدھا راستہ اختیار نہ کیا تو گویا وہ باعث ہوئے ان کے سیدھا راستہ نہ اختیار کرنے کے اسی طرح انہوں نے ان کو غلط راستے پر ڈالنے کی جو سعی کی وہ دراصل ان کا اپنا عمل تھا اور اس کا انہوں نے وبال بھی اٹھایا لیکن ایک لحاظ سے وہ دوسروں کا بھی تھا کہ وہ سیدھی راہ سے ہٹانے کا باعث ٹھہرے تھے لہذا اس طرح سے ان کا بوجھ کہا گیا لیکن اس میں کوئی مخالفت نہ رہی وہ صورت تب تھی جب سیدھی راہ اختیار نہ کرنے والوں پر اس کا کوئی اثر نہ رہتا تو اس طرح وہ بری الذمہ قرار دیئے جاتے حالانکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ ان کے سیدھی راہ اختیار نہ کرنے کی وجہ سے جو عذاب ہوگا وہ انہیں پر ہوگا لیکن اس کا باعث کون ہوا وہی جنہوں نے ان کی غلط راہنمائی کرنے کا حصہ تھا وہ دراصل انہی کا تھا جس کا بوجھ ان پر پڑا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ” جو شخص لوگوں کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اس کی دعوت پر جتنے لوگ ہدایت قبول کرتے ہیں ان سب کا ثواب اسے ملتا ہے اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص گمراہی کی طرف بلاتا ہے اور جو لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں ان سب کا گناہ بھی اس پر لادا جاتا ہے اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی ۔ “ اس لئے دراصل نیکی کی دعوت کا ثواب بھی اس کا عمل ہے اور برائی کی دعوت دینے والے کی دعوت کا بوجھ بھی اس کا اپنا ہی بوجھ ہوتا ہے ۔ مزید وضاحت کے لئے سورة الانعام کی آیت 31 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگوں نے بھی تدبیریں کی تھیں لیکن اپنی تدبیروں سے جو عمارت بنائی تھی اللہ نے اس کی بنیاد کی اینٹیں تک ہلا دیں ، پس ان کے اوپر چھت آ گری اور ایسی راہ سے عذاب نمودار ہوا جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا

پہلوں نے بھی تدبیریں کی تھیں اور وہ اس کا وبال بھگت رہے ہیں : 31۔ واقعات تاریخی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ذرا غور کرو اور دیکھو کہ جن پر قوت و شوکت منکرین سابقین نے انبیائے کرام کے خلاف خوب منصوبے گانٹھے تھے ، بڑی بڑی زبردست چالیں چلیں تھیں اور سوچے سمجھے منصوبے بنائے تھے حق تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا کیا اور انکی ساری چالیں کس طرح ناکام بنا دی گئیں اور انکی ساری خیالی عمارتیں مسمار ہو کر رہیں اور وہ اس طرح برباد ونابود ہوئے کہ جیسے سب چھت کے نیچے دب کر رہ گئے ، شامت زدہ قوموں پر تباہی عموما ایسے ہی راستوں اور طریقوں سے آتی ہے جدھر ان کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا ، گزشتہ انبیاء کی قوموں کے واقعات تم پیچھے پڑھ چکے ہو اگر ان کا مطالعہ نہیں کیا تو سورة ہود کا مطالعہ کریں اور انبیاء کرام کی سرگزشتوں کو بڑے غور کے ساتھ پڑھیں اور دیکھیں کہ ہماری زندگی کے لئے اس میں کیا کیا نصائح رکھی گئی ہیں جن سے ہم چشم پوشی کئے ہوئے ہیں۔ ان پر اچانک عذاب آدھمکا کہ ان کو اس کا سان گمان بھی نہ تھا : 32۔ گزشتہ قوموں کی داستان کی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام کے دور کے لیڈروں نے حالات زمانہ پر غور کر کے یہ طے کیا کہ نبی کی دعوت ہمارے لئے سراسر نقصان کا باعث ہوگی اگر ہم نے ان کی دی ہوئی ہدایت پر عمل کیا چناچہ شعیب (علیہ السلام) کا قصہ بھی آپ پڑھ چکے اس میں بتایا گیا ہے کہ قوم کے وڈیروں نے شعیب (علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کیا اور آپس میں مشورہ کرکے کہا کہ ” اگر تم نے شعیب کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجاؤ گے ۔ “ لیکن ان کے اس کہنے کا انجام کیا ہوا کہ ” دہلا دینے والی آفت نے انکو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا ہماری سنت شروع سے چلی آرہی ہے کہ جب کوئی قوم اپنے اکھڑپنے کے باعث نبی ورسول کی مخالفت میں کمر بستہ ہوتی ہے تو ہم جب وقت آجاتا ہے تو اس قوم کو اچانک تہ وبالا کر کے رکھ دیتے ہیں ۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت کا دن ہے جب وہ انہیں رسوائی میں ڈالے گا اور پوچھے گا بتلاؤ آج وہ ہستیاں کہاں گئیں جنہیں تم نے میرا شریک بنایا تھا اور جن کے بارے میں تم لڑا کرتے تھے ؟ جنہیں علم دیا گیا تھا پکار اٹھیں گے ، بیشک آج کے دن کی رسوائی اور خرابی سرتاسر کافروں کیلئے ہے

قیامت کے روز پکارنے والوں اور پکارے جانے والوں کی حالت کا بیان : 33۔ فرمایا دنیا کی رسوائی تو ان کے حصے میں آئی جو آئی ، لیکن اس کا حال تو صرف اتنا تھا کہ وہ اس دنیا میں تباہ وبرباد کر کے رکھ دیئے گئے یہ رسوائی تو اتنی ہی تھی ابھی عذاب تو آگے آنے والا ہے جو انکے کئے کا اصل نتیجہ ہے اور جس نیتجہ سے وہ آخرت میں دوچار ہونے والے ہیں اور اس دنیاوی بربادی کے علاوہ قیامت کے دن بھی ان کو ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا ، سارے انبیاء کرام اور ان کی امتیں جمع ہوں گی یہ غریب ونادار مسلمان جن کو آج یہ بڑی حقارت سے دیکھتے ہیں وہ عزت و کرامت کی خلعتیں پہنے کھڑے ہوں گے اور ان سب کے سامنے ان سرکشوں کو شرمسار کیا جائے گا ۔ وہ شرمساری کیا ہوگی ؟ فرمایا ان سے کہا جائے گا کہ وہ لوگ جن کو دنیا میں تم نے میر شریک بنایا ہوا تھا اور ان کے متعلق تم جھگڑا کرتے تھے یعنی ان کی ترجمانی میں تم جھگڑا کیا کرتے تھے کہ یہ اللہ والے ہیں اور اللہ سے جو چاہیں منوا لیتے ہیں لہذا قیامت کے روز ہماری سفارش کریں گے آج جب کہ تم عذاب الہی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو وہ کہاں ہیں ؟ تاکہ تم کو تمہارے کہنے کے مطابق چھڑا لیں اور اس وقت صاحب علم بول اٹھیں گے کہ بلاشبہ آج کے دن کی رسوائی کافروں ہی کے حصے میں آنے والی ہے لہذا وہ آکر ہی رہے گی ، یعنی یہ لوگ جو آج نخوت و غرور کے پہاڑ بنے بیٹھے ہیں اور خود برگشتہ ہیں ہی لیکن دوسرے لوگوں کو بھی برگشتہ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ان کی بساط تو اتنی ہی ہے کہ جب ملک الموت اپنی جماعت کے ساتھ جان نکالنے کے لئے آئے گا تو ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا ، پھر سروں کو جھکا دیں گے اور کہیں گے کہ خدا را ہم پر اتنی سختی نہ کرو اور غصہ سے اس طرح گھور گھور کر ہماری طرف نہ دیکھو ہم ان خشمناک نگاہوں کی تاب نہیں لاسکتے ، ہم تو ساری عمر خدا کے فرمانبردار بنے رہے ہماری کیا مجال تھی کہ ہم نافرمانی کرتے ؟ فرشتے جواب دیں گے کہ اب تمہارے اس فریب سے کیا بنتا ہے تمہاری نافرمانیاں تو محتاج بیان ہی نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے تمام کرتوتوں سے خوب واقف ہے ، اس وقت وہ سرتسلیم خم کردیں گے اور ان کی غرور ونخوت سے اکڑی ہوئی گردن جھک جائے گی (آیت) ” این شرکآئی “۔ کا لفظ قرآن کریم میں پانچ بار آیا ہے اور زیر نظر آیت میں پہلی دفعہ بیان کیا جا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرمانا کہ ” کہاں ہیں شریک میرے “ سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے شریکوں کا اعتراف ہے کہ میرے شریک ہیں بلکہ یہ اس طرح کا بیان ہے جس طرح انسان انکار کے رنگ میں مثبت بات کرتا ہے یا مثبت کے رنگ میں انکار کا پہلو اجاگر کرتا ہے یہ مثبت کے رنگ میں انکار کا پہلو اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ میرے شریک بنے بیٹھے تھے یا وہ جو تم نے میرے شریک بنائے ہوئے تھے آج کہاں ہیں ؟ چناچہ ایک جگہ ارشاد الہی ہے کہ : پھر کیا کریں گے یہ لوگ اس روز جب کہ ان کا رب ان سے کہے گا کہ پکارو اب ان ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھے بیٹھے تھے ‘ یہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کردیں گے ۔ “ ( سورة الکہف 18 : 252) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : اور بھول نہ جائیں کہ یہ لوگ اس دن جب کہ وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے ؟ ـ یہ قول جن پر چسپاں ہوگا وہ کہیں گے اے ہمارے رب بلاشبہ یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا انہیں ہم نے اس طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ، ہم آپ کے سامنے برات کا اظہار کرتے ہیں یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے کاش ! یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے ۔ “ (القصص 28 : 62 تا 64) ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ : ” یاد رکھیں : یہ لوگ وہ دن کہ جب وہ انہیں پکارے گا پھر پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے ؟ “ (القصص 28 : 74) ایک جگہ ارشاد الہی ہے کہ : ” اس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے وہی ان سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں ‘ اس کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے اور پھر جس روز وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ یہ کہیں گے ہم عرض کرچکے ہیں آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے ۔ “ (حم السجدہ : 41 : 47) ان آیات کی نشاندہی کردی گئی ہے اور تفسیر میں بیان ان کا موقعہ پر آئے گا ۔ انشاء اللہ ۔
Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

ان کافروں کے لیے کہ فرشتوں نے جب ان کی روحیں قبض کی تھیں تو اپنی جانوں پر خود اپنے ہاتھوں ظلم کر رہے تھے ، تب وہ اطاعت کا اظہار کریں گے ہم نے تو کوئی برائی کی بات نہیں کی تھی ، ہاں تم جو کچھ کرتے رہے ہو اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے

A ۔ فرشتوں کا کفار سے خطاب جب وہ ان کی روحیں قبض کریں گے : 34۔ فرمایا جن لوگوں کی جانیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کی تھیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے یعنی موت کے وقت تک کفر وشرک میں مبتلا رہے تھے تب وہ صلح کا پیغام ڈالیں گے کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے رہے اس پر ہیبت ناک وہولناک منظر سے دو چار ہو کر منکرین حق اب خوشامندانہ لہجہ میں عرض کرنا شروع کریں گے ، کہ بھلا ہماری کیا مجال تھی جو ہم شرک میں مبتلا ہوتے ! کہاں تو دنیا میں اتنا اکڑے ہوئے رہتے تھے اور کہاں اب وہ خوشامد پر اتر آئیں گے کہ (آیت) ” ماکنا نعمل من سوء “۔ یعنی اپنے خیال اور عقیدہ میں تو ہم کوئی بری بات نہیں کر رہے تھے ‘ بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم کرتے رہے تھے تو اب تمہارے اقرار و انکار سے ہوتا کیا ہے ؟ تمہارا حال تو عالم الغیب پر خود ہی سب کا سب روشن ہے ۔ غور کرو کہ ان لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی پکڑ میں آگئے تم انکے مرنے کے بعدتیسرے ‘ چوتھے ساتویں ‘ دسویں اور چالیسویں کر رہے ہو اور مرنے والوں کے لواحقین کو کس دھوکہ میں تم نے مبتلا کر رکھا ہے تمہارے اس فراڈ سے وہ فرشتوں کے نرغے سے چھوٹ جائیں گے ؟ یہ تو اللہ کی کتاب کا بیان ہے تمہارے یہاں اس کی دلیل کیا ہے ؟ اللہ نے اور اس نے رسول ﷺ نے کہاں سے تم کو یہ بات سمجھا دی کہ ہماری پکڑ سے بچانے کے لئے تم تیسرا ‘ چوتھا ‘ ساتواں ‘ دسواں اور چالیسواں کرو تو ان پکڑے جانے والوں کو آزاد کردیں گے ، تم نے صرف اپنے پیٹ کی خاطر یہ ظلم کیسے روا رکھا ؟ کیا تم کو مرنا نہیں ہے ‘ پھر تم اللہ کے سامنے کیا بیان دو گے اور اس کی پکڑ سے کیونکر بچو گے ؟ یاد رہے کہ برائی اور معصیت کرنے کو ہر جگہ قرآن کریم نے (آیت) ” ظلموا انفسھم “۔ اور (آیت) ” اسرافوا علی انفسھم “۔ سے تعبیر کیا ہے ، یعنی انہوں نے اپنی جانوں کے ساتھ ناانصافی کی اور اپنی جانوں پر زیادتی کی یہاں بھی زیر نظر آیت میں ایسی ہی تعبیر ہے اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے نزدیک کفر و بدعملی کی حقیقت اس سے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ خود اپنے ہاتھوں اپنی جانوں کو نقصان ہلاکت میں ڈالنا ہے ، اس بات کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کی آدمی کو ہم سینکھیا کھاتے دیکھتے ہیں تو بےاختیار کہہ اٹھتے ہیں کہ کیوں اپنی جان کے پیچھے پڑے ہو ؟ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہو ؟ قرآن کریم کے نزدیک کفر ومعصیت بھی ایسی ہی چیز ہے ، یہ دودھ پینے جگہ سنکھیا کھانا ہے اور جو کھاتا ہے وہ خود ہی اپنی جان کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے اور خود ہی اپنے اوپر زیادہ کرنے والا ہوتا ہے ۔