15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ را۔ یہ آیتیں ہیں { الکتب } کی اور قرآن روشن ہے

حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کی آیات کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ 1۔ الف ۔۔۔۔ لام ۔۔۔۔۔۔ م ۔۔۔۔۔۔۔ را۔۔۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہیں اور یہ حروف قرآن کریم کی انتیس سورتوں کے شروع میں بیان ہوئے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان سورتوں کے مضامین خاص کر اہم ہیں لہذا ان کو پوری توجہ سے دل لگا کر سن لو اور انکے احکام کے مطابق عمل کرو اس میں تمہارا فائدہ ہے ، فرمایا یہی وہ کتاب ہے جو صحیح معنوں میں کتاب کہلانے کی مستحق ہے جو اپنی افادیت اور جامعت کے اعتبار سے نہایت پختہ ہے اور اس کے مضامین ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کو گہرائی میں جا کر دیکھے تو انسانی زندگی کیلئے سنہری اصول ہیں جو اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں شرط یہ ہے کہ کوئی ان سے مستفید ہونے کی کوشش بھی تو کرے ، ہاں اس کے مضامین ایسے ہیں کہ ان میں حق و باطل کی تمیز سکھائی گئی ہے اور قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جو حق و باطل اور حرام و حلال کو واضح کرتی ہے اور جس کی روشنی انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو بیک وقت منور کرتی ہے اور اسکے حقائق اس قدر پختہ ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے ذرا بھر جنبش نہیں کرتے ۔ (آیت) ” مبین “۔ قرآن کریم نے جابجا اپنے اس وصف پر زور دیا ہے کہ وہ ” مبین “۔ ہے یعنی ظاہر ہے ، نمایاں ہے ‘ روشن ہے ، اپنے مطالب میں ‘ اپنی دعوت میں ‘ اپنے دلائل آیات میں ۔ یعنی اس کی کوئی بات نہیں جو الجھی ہوئی ہو اور مبہم ہو خصوصا جب کہ انسانیت کو اس کی ضرورت بھی ہو اس طرح ایسی مشکل ہو کہ سمجھ میں نہ آئے ، ناقابل فہم ہو کہ سمجھی نہ جاسکے ، ہر ذہن اسے بوجھ سکتا ہے ہر دل اسے قبول کرسکتا ہے ، ہر روح اس پر مطمئن ہو سکتی ہے ، وہ زیادہ سے زیادہ سیدھی سادی بات ہے جو انسان کے دل و دماغ کیلئے ہو سکتی ہے چونکہ وہ سچائی ہے اور سچائی کی کوئی بات بھی مشکل اور الجھی ہوئی نہیں ہوتی ، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اپنے آپ کو ” النور “ بھی کہا ہے یعنی روشنی اور روشنی کا خاصہ یہ ہے کہ وہ ہر بات کو نمایاں کردیتی ہے کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی ۔ اگر وضاحت اور عذر نہیں ہے تو پھر اجالا بھی نہیں ہے ، اجالا جب ہی ہوگا تو غور ووضاحت اپنے ساتھ لائے گا ۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

(جن لوگوں نے) انکار کیا ہے ایک وقت آنے والا ہے کہ (آرزوئیں کریں گے) کاش ہم ماننے والوں میں ہوتے

انکار کرنے والے عنقریب حسرت کریں گے کہ کاش ہم مان لیتے : 2۔ یہ کلمات حسرت وافسوس کے ہیں ، جو کافروں کی زبان پر آخرت میں جاری ہوں گے ، خصوصا جب اپنا حشران پر منکشف ہوچکے گا اور طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونے لگیں گے ” ربما ‘ خود کلمات حسرت وافسوس میں سے ہے اور یہ تکرار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت واقع ہوگی اور ساتھ ہی محسوس ہوگی کہ اس کی اصل وجہ انکا کفر ہی ہے تو ظاہر ہے کہ یہ حسرت ہر دفعہ تازہ ہوجائے گا اور اس میں ہر نوع اور ہر قسم کے کافر شامل ہیں جن میں قدر مشترک صفت کفر ہے خواہ وہ کسی طرح اور کسی قسم کا ہے ۔ (آیت) ” لوکانوا مسلمین “۔ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے یہ افسوس انکو اس وقت ہوگا جب گنہگار مسلمانوں کو کچھ دیر کیلئے دوزخ میں ڈال کر اور پاک ووصاف کرکے ان کی صحت ہوجانے کے بعد ان کو وہاں سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا چناچہ احادیث میں ہے کہ جہنم میں کافروں کے ساتھ کچھ مسلمان گنہگار بھی داخل ہوں گے اس پر کافر ان سے طنزا کہیں گے کہ تمہارا کلمہ شہادت بھی تمہارے کچھ کام تو نہ آیا معا اس وقت ان مسلمانوں کو وہاں سے نکالے جانے کا وقت ہوگا لہذا انکو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا بلکہ بعض روایات میں ہے کہ سب اہل قبلہ کو وہاں سے نکال لیا جائے گا اس وقت کافروں کی زبان سے یہ پر حسرت کلمات نکلیں گے جن میں حسرت ہی حسرت ہوگی یہ مضمون حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ حضرت انس ؓ ، حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ، حضرت ابو سعید خدری ؓ جیسے متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین اور تابعین عظام (رح) کے واسطہ سے بیان کیا گیا ہے اور یہ روایات ابن جریر ، ابن کثیر ، معالم التنزیل اور تفسیر کبیر امام رازی میں بیان ہوئی ہیں ، مختصر یہ کہ جن لوگوں نے اس کے خلاف انکار وسرکشی کی راہ اختیار کی ہے اور اپنی ہلاکت کا اپنے ہاتھوں سامان کر رہے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ ایک دن آنے والا ہے جب وہ حسرت وندامت کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم نے انکار نہ کیا ہوتا تو آج ہم نے پھنسے پڑے ہوتے ۔ ” ربما “ کے لفظ پر بھی مفسرین نے بہت بحث کی ہے لیکن جب مضمون صاف ہے تو عام قاری کو اس گورکھ دھندا کی کوئی ضرورت نہیں ۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو ، کھائیں پئیں اور عیش و آرام کریں ، امیدوں پر پھولے رہیں لیکن وہ وقت دور نہیں کہ انہیں معلوم ہوجائے گا

ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو وہ وقت دور نہیں کہ ان کو حقیقت واضح ہوجائے گی : 3۔ نبی اعظم وآخر ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ اے میرے رسول ! ان احمقوں کو اسی حالت میں رہنے دیجئے جن کو اپنے نفع ونقصان کی بھی سمجھ نہیں اور یہ امتیاز بھی نہیں کہ کون ہمارا خیر خواہ ہے اور کون خیر خواہ نہیں ہے ؟ ان کو مزید سمجھانے کی ضرورت نہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ یہ ہدایت کے طلب گار نہیں یہ بات جو کہی گئی ہے کہ ان کا مطلب فریضہ نبوت سے منع کرنا نہیں بلکہ آپ کو تسلی دینا مقصود ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ دل برداشہ نہ ہوں کہ یہ لوگ ماننے کیلئے تیار نہیں اگر وہ نہیں مان رہے تو نقصان کس کا کر رہے ہیں ؟ یقین جانئے کہ وہ سراسر ان کا اپنا ہی نقصان ہے اور جب وہ ہدایت کے طلب گار ہی نہیں تو وہ ہدایت کیونکر پائیں گے ، ان کی خواہش کیا ہے ؟ یہی کہ وہ خوب کھائیں پئیں اور عیش و عشرت کریں انہیں اس میں مگن رہنے دیجئے یہ گویا لمبی آسیں لگائے بیٹھے ہیں اور ہم بھی ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جا رہے ہیں تاکہ جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اٹھا لیں اور رج رج کر کھائیں اور دب دب کر ہل چلائیں اور عقل وفکر سے کبھی بھی کام نہ لیں بس گویا وہ جانور کے جانور ہی رہے سوچ وبچار کام تو انسانوں کا ہے ۔ ان کو خود بخود پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے اپنے اوپر کتنا ظلم کیا ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان کی بدبختی کی چار نشانیاں ہیں : 1۔ آنکھوں میں آنسوؤں کا نہ آنا ۔ 2۔ دل کا سخت ہونا ۔ 3۔ طول امل ملنا اور 4۔ حرص دنیا کا اعتدال سے متجاوز ہوجانا۔ یہ بات ان لوگوں کی ہے جن کو کافر کہا جاتا ہے لیکن اگر ذرا غور کرلیا جائے اور ہم سب اپنا اپنا تجزیہ کر کے بھی دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ آج ہمارا اپنا حال کیا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ” پار والوں “ کو جو کچھ سمجھ رہے ہیں ان کیلئے ” پار والے “ ہم کود ہی ہوں ، حرص دنیا میں آج کون پیچھے ہے ؟ دنیا کے مال ومتاع کی اتنی فراوانی ہے کہ شاید ہی کسی دور میں اتنی ہوئی ہو لیکن طمع وحرص کا یہ عالم ہے کہ کسی کا دل بھرنے میں نہیں آتا جدھر دیکھوپریشانی ہی پریشانی ہے اور دوڑ بھاگ اتنی ہے کہ راتوں کو آرام ہے نہ دونوں کو چین اور یہ بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ جتنا مال و دولت بڑھتا جاتا ہے پریشانیاں بھی ساتھ ساتھ اسی قدر بڑھتی جارہی ہیں لیکن ہم ہیں کہ اپنا تجزیہ کر کے دیکھنا حرام سمجھتے ہیں ہم جب بات کریں گے تو ” زمانہ “ ہماری زبان پر آئے گا اور ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ذرا دیکھیں تو کہ ” زمانہ “ کیا چیز ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ” زمانہ “ ہم خود ہی ہیں ۔
Ayah 15:4

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

۔ ہم نے کبھی کسی بستی کے باشندوں کو ہلاک نہیں کیا مگر اس طرح کہ اس کے لیے ایک ٹھہرائی ہوئی بات تھی

تفسیر : ہم نے کبھی کسی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس وقت پر جو اس کیلئے مقرر تھا : 4۔ فرد اور قوم کی ہلاکت کا وقت مقرر ہے اور جب تک وہ وقت مقررہ نہ آجائے ہم اس کو کبھی ہلاک نہیں کرتے کیونکہ اس وقت میں تقدیم وتاخیر نہیں ہو سکتی اور یہ مضمون قرآن کریم میں اتنی بار بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بیان کی زیادہ ضرورت نہیں ، بلکہ اس کو سمجھ لینے کے بعد اس پر قائم رہنا اور اس پر پختہ یقین کرنا ضروری ہے ، گزشتہ قوموں کے واقعات آپ پیچھے پڑھتے آرہے ہیں اور خصوصا سورة ہود میں آپ نے ہر نبی ورسول کی امت کا تفصیلی تذکرہ بھی اسی جلد میں پڑھا ہے اس پر غور کرو گے تو یہ بات مزید واضح ہوجائے گی کہ جس قوم کی ہلاکت کا وقت آیا اس کو ذرا بھر بھی مہلت نہ ملی اور افراد کی زندگی پر بھی ذرا غور کرنے سے آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ یہ امر الہی کے سوا واقعی کچھ نہیں ہے ۔ ایک آدمی کے مرنے کا وقت نہیں آیا بظاہر اس پر ایسا حادثہ گزرتا کہ اس کا زندہ رہنا محال نظر آتا ہے لیکن وہ بال بال بچ جتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض افراد کی جان نکلنے کو نظر آتی ہے لیکن ایک مدت تک وہ سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک اچھا بھلا صحت مند ‘ تنومند نوجوان اتنی جلدی رخت سفر باندھتا ہے کہ آدمی بوکھلا کر رہ جاتا ہے کہ ایسا کیونکر ہوا پھر بات کیا ہوئی ؟ وہ کوئی قوم ہو یافرد اپنے مقررہ وقت سے پہلے یا بعد تاخیر میں نہیں جاسکتا بلکہ عین وقت پر اس کو قبض کرلیا جاتا ہے خواہ وہ کون ہو ؟ اور خواہ وہ کہاں ہو ؟
Ayah 15:5

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی امت نہ تو اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے ، نہ پیچھے رہ سکتی ہے

کوئی امت نہ تو اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے ۔ 5۔ گزشتہ مضمون کی مزید تفصیل اس آیت میں کردی کہ کوئی امت نہ تو اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے اس لئے کافروں پر اگر فی الفور عذاب نہیں آرہا اور گرفت نہیں ہو رہی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی ان کا وقت موعود نہیں آیا ۔
Ayah 15:6

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام ! اور ان لوگوں نے تم سے کہا اے وہ آدمی کہ تجھ پر نصیحت اتری ہے تو یقینا دیوا نہ ہے

تفسیر : اے پیغمبر اسلام ! یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو دیوانہ بنایا ہے ۔ 6۔ ” ذکر “ کیا ہے ؟ ذکر سے مراد قرآن کریم ہے یہ لفظ اصطلاحا ” کلام الہی کیلئے استعمال ہوا ہے جو سراسر لوگوں کیلئے نصیحت بن کر آیا ہے ، گزشتہ انبیائے کرام (علیہم السلام) پر جو کتابیں نازل کی گئیں وہ بھی ” ذکر “ تھیں اور یہ قرآن کریم بھی ” ذکر “ ہے ” اسے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا “ یہ فرقہ وہ لوگ دراصل استہزا اور مذاقا کہتے تھے یہ بات ان کو تسلیم ہی نہیں تھی کہ یہ ” ذکر “ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے اگر وہ ایسا تسلیم کرتے ہوتے تو پھر آپ ﷺ کو وہ دیوانہ کیوں کہتے ؟ دراصل ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ” اے وہ شخص جس کا دعوی یہ ہے کہ مجھ پر ذکر نازل ہوا ہے ۔ “ یہ وہی بات جو فرعون نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے کہی تھی جب اس نے آپ کی دعوت سنی تو درباریوں سے کہا کہ (آیت) ” ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون “۔ ” یہ پغمبر صاحب جو تم لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں ان کا دماغ درست نہیں ہے ۔ “ اور اس طرح کی طعنہ زنیاں آج بھی لوگ کیا کرتے ہیں اور بڑے بڑے علامہ فہامہ ان بیماریوں میں مبتلا ہیں جو ” ہم چوما دیگر نیست “ کی ڈینگیں مارتے ہیں ۔
Ayah 15:7

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو اپنے وعدے میں سچا ہے تو ایسا کیوں نہیں کرتا کہ فرشتے اتار کر ہمیں دکھا دے ؟

اگر تو سچا ہے تو ایسا کیوں نہیں کرتا کہ ذرا فرشتے ہی اتار کر ہم کو دکھا دے ؟ 7۔ گویا ان کے نزدیک رسول کے سچے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس پر نازل ہوں اور وہ لوگوں کو دعوت دیکر بلائے اور پھر فرشتوں سے ان کا تعارف کرائے گویا انہوں نے فرط عناد سے بےخود ہو کر قرآن کریم کے اصل دعوی و دلیل یعنی اس کے مضامین کی صداقت اور ان کی تعلیمات کے معجز ہونے پر غور ہی نہ کیا بلکہ لغو مطالبہ ہی پیش کردیا کہ سچے نبی ورسول ہو تو بطور معجزہ فرشتوں کو اپنے ساتھ لگا کر ہمیں دکھا دو ، مگر نبوت کے دعوی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ؟ پھر فرشتہ اگر نازل ہوتا ہے تو وہ نبی ورسول پر نازل ہوتا ہے اور اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور اگر کسی دوسرے سے کلام کرنا مقصود ہو تو بذریعہ رسول ہی کہا جاسکتا ہے پھر ان کی اس ان ہونی ضد کا فائدہ یہ کہ اگر تو اپنے دعوی میں سچا ہے توا یسا کیوں نہیں کرتا کہ فرشتے اتار کر ہمیں دکھادے ؟ کیا میں نے فرشتے دکھانے کا تم سے دعوی کیا ہے ۔ پھر دعوی ایمان کو اس کے ساتھ مشروط کیوں کرتے ہیں ؟ ۔
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم فرشتے جبھی اتارتے ہیں کہ کوئی مصلحت ہوتی ہے اور اس وقت انہیں مہلت نہیں ملے گی

ہم نے فرشتوں کو بیکار تو کبھی نہیں اتارا کہ صرف تمہاری ضد کیلئے انکو اتار کر دکھائیں : 8۔ جس طرح تم فرمائش کر رہے ہو اس طرح فرمائشی نزول فرشتوں کا ہوتا ہی کب ہے ؟ فرشتے تو نافرمان قوموں پر اتمام حجت کے بعد خاص اعلان کے مطابق اتارے جاتے ہیں اور جب وہ اترتے ہیں تو وہ وقت ہوتا ہے کہ نافرمان قوم کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” الا بالحق “ یعنی کسی فیصلہ شدہ بات کے بعد اور وہ فیصلہ ہمیشہ نافرمان قوموں کے حق میں عذاب ہی کا ہوتا ہے ، اگر تمہاری خواہش کے مطابق فرشتہ اتارا جاتا اور پھر بھی تم ایمان نہ لاتے جیسا کہ تمہاری ضد اور تعصب سے عیاں ہے تو پھر تمہیں اسی وقت تہس نہس کرکے رکھ دیا جاتا ۔ یہ تو ہمارا کرم ہے کہ ہم تمہیں مہلت دیتے ہیں تاکہ تم غور وفکر کرو شاید تمہیں ہدایت نصیب ہوجائے ، جب فرشتوں کا نزول ہوگا تو اس کے بعد تم کو ڈھیل کیونکر دی جائے گی ایسا ممکن نہیں بڑے بدنصیب ہو جو خود مطالبہ کر رہے ہو اور نتیجہ عذاب الہی کو دعوت دے رہے ہو ۔
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے { الذکر } اتارا ہے اور بلاشبہ ہم ہی اس کے نگہبان ہیں

اس ذکر کو ہم نے اتارا ہے اور ہم خود ہی اس کے محافظ ونگہبان بھی ہیں : 9۔ ہم نے اس نصیحت نامہ کو نازل کیا ہے یہ گویا بڑے زور دار الفاظ میں کفار کے اس اعتراض کا بطلان ہے کہ قرآن کریم کلام الہی نہیں ہے فرمایا بلاشبہ ہم ہی نے اس کو اتارا ہے اس پر تین بار ضمیر متکلم کا بیک وقت تکرار اور تاکید ہی کیلئے ہے یعنی (آیت) ” انا نحن نزلنا “۔ بلکہ تاکید کو مزید پکا کرنے کیلئے اور پھر ضمیریں بھی جمع متکلم کی استعمال ہوئی ہیں جو نازل کرنے والے کی عظمت وکبریائی کا اظہار کر رہی ہیں ۔ قرآن کریم کی جامعیت ‘ اکملیت وابلغیت وغیرہ سے قطع نظر اس کی محفوظیت کامل اور پھر شروع ہی سے بےدھڑک اس کا اعلان بجائے خود ایک معجز دلیل ہے اس کے کلام الہی ہونے کی ، دنیا کے کتب خانے کسی دوسری کتاب کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہیں جو چودہ سو سال سے اپنے الفاظ ‘ حروف ‘ نقوش سب کے لحاظ سے جوں کی توں چلی آرہی ہو اور سارے ادوار کے قرآن کریم اکٹھے کرنے کے بعد بھی ایک شوشہ کا فرق کوئی نہ نکال سکے ، اپنے تو خیر اپنے ہی ہیں دوسروں کی رایوں کو دیکھنا ہو تو وہ بھی دیکھی جاسکتی ہیں جیسے میور ‘ پامر اور آرنلڈ وغیرہ کی ، خیال رہے کہ حفاظ وغیرہ انسانی مدد سے قرآن کریم کا محفوظ رہ جانا بھی وعدہ الہی کے منافی نہیں بلکہ پوری موید ہے ، غور کرو کہ ثبوت و دلیل کا مرتبہ تو بعد کا ہے ‘ مجرد یہ دعوی کہ یہ لفظ بہ لفظ کلام الہی ہے آج روئے زمین میں کسی بھی دوسری کتاب کا نہیں یہاں تک کہ تورات اور انجیل کا بھی ، قرآن کریم اس دعوی میں بالکل منفرد ہے دوسری آسمانی کتابوں کے متعلق دعوی زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ ان کے اندر مغز وروح خدائی تعلیم کی آگئی ہے باقی وہ مرتب کی ہوئی تمام تر انسانوں کی ہیں اور ان کی عبارتیں صرف خاصان خاص خدا کی لکھی ہوئی ہیں ۔ آج چودہ سو سال سے زیادہ گزر گئے ہیں کہ دشمنان اسلام کی خواہشوں کوششوں اور سازشوں کے باوجود ایک آیت میں بھی رد وبدل نہیں ہوسکا اور ایک نقطہ کی کمی بیشی اور زیر وزبر کا فرق بھی تو نہیں ہوا ۔ آج بھی لاکھوں انسان اسے اپنے سینوں میں محفوظ کئے ہوئے ہیں اگر خداونخواستہ سارے لکھے ہوئے قرآنی نسخے نایاب ہوجائیں تو پھر بھی یہ جوں کا توں محفوظ رہے گا اگر کوئی جابر سے جابر حکمران اور کوئی بڑے سے بڑا عالم زیر کو زبر سے یا زبر کو زیر سے بدل دے یعنی غلطی سے اسے بدل کر پڑھ جائے تو سات ‘ آٹھ سال کا بچہ اسے ٹوک دے گا ، آج دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں جس کا مصنف یا جس کے ماننے والے اس کے متعلق یہ دعوی کرسکتے ہوں ، مذہبی صحائف جو دنیا کی مختلف قوموں کی عقیدت کا مرکز ہیں ان کے ماننے والوں کا بھی یہ دعوی نہیں کہ اس کے مذہبی صحیفے ہر قسم کے ردوبدل سے پاک ہیں ، صرف قرآن کریم کا یہ دعوی ہے ” لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ “۔ (السجدہ 41 : 42) کہ باطل اس میں کسی جانب سے بھی داخل نہیں ہوسکتا اور ان چودہ صدیوں کے طویل عرصہ میں اسلام کا کوئی بدترین بدخواہ بھی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ اس میں کوئی تحریف ہوئی ہے ، یورپ کے مستشرقین جنہوں نے اپنے وسیع علم ‘ بےعدیل ذہانت اور طویل عزیز عمر میں قرآن کریم کے اس دعوی کو غلط ثابت کرنے کیلئے صرف کیں وہ بھی انجام کار یہ ماننے پر مجبور ہوگئے کہ یہ کتاب ہر قسم کی تحریف اور تغیر سے پاک ہے ، میور جیسے انسان کو آخر کار تسلیم کرنا پڑا کہ : There Probably The World Book Which Has Remained Twelve Centuries With So Pure Tixt. یعنی اغلبا دنیا میں قرآن کریم کے علاوہ کوئی اور ایسی کتاب نہیں جس کا متن بارہ صدیوں تک ہر قسم کی تحریف سے یوں پاک رہا ہو۔ اس وقت جب میور نے یہ لکھا بارہ صدیاں گزری تھیں لیکن مزید دو سو سال سے زیادہ گزرنے کے قریب ہیں اور صورتحال جوں کی توں موجود ہے اور قیامت تک قائم رہے گی ۔ انشاء اللہ العزیز ، آج تک نہ فرق آیا اور نہ ہی کبھی آئے گا ، غور کرو کہ اس سے بڑھ کر قرآن کریم کا معجزہ اور کیا ہوگا ؟ اور کیا ہونا چاہئے ؟
Ayah 15:10

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یہ واقعہ ہے کہ) ہم نے تم سے پہلے بھی پچھلے گروہوں میں پیغمبر بھیجے

تفسیر : 10۔ ” اور اے پیغمبر اسلام ! یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی پچھلے گروہوں میں رسول بھیجے تھے ، “ اور ان کی بھی انکی قوموں نے تکذیب کی تھی اس لئے آپ ﷺ کی تکذیب پیغمبروں کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے ، پھر ان تکذیب کرنے والوں کا حال ، آپ ﷺ نے پڑھا اور سنا ؟ پھر یاد رکھو کہ جو حال ان کا ہوا تھا وہی حال انکا بھی ہوگا لیکن وہ وقت تم کو بتایا نہیں گیا اور یہ بات یقینی ہے کہ جب وقت آئے گا تو وہی کچھ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہونا طے شدہ ہے اور یہ بھی کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کا اعلان بھی کردیا جائے گا کہ تم نے میرے رسول کی مخالفت کی اس لئے تمہارے لئے اس طرح کا عذاب مقرر کیا گیا ہے ۔
Ayah 15:11

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی گروہ میں کوئی پیغمبر آیا ہو اور لوگوں نے اس کی ہنسی نہ اڑائی ہو

ہر رسول کی ہنسی اڑائی گئی اور پھر ہنسی اڑانے والوں کا انجام بھی سب کے سامنے ہے : 11۔ گزشتہ انبیائے کرام (علیہم السلام) کی ہر گزشیں پڑھ جاؤ اور ایک ایک کا مطالعہ کرو کسی نبی کی قوم نے نبی ورسول کو کیا جواب دیا اور جو مخالفت شروع کی اس کو کیا کیا کہا اور پھر جب ان کی پکڑ کا وقت آیا تو ان کو کس طرح پکڑ لیا گیا ، کیا پکڑنے سے قبل ان کو اطلاع دی یا نہیں دی ؟ اور پھر جو اطلاع ان کو دی گئی تھی کیا کہیں اس کا خلاف بھی ہوا ؟ یہ ساری باتیں تم کو اس وقت بتائی جارہی ہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ تم ان سے فائدہ حاصل کرو اور باز آجاؤ ورنہ پھر وہی دمادم مست قلندر ہوگی اور ایک ہی جست میں تم کو اچک لیاجائے گا ۔
Ayah 15:12

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اس طرح ہم مجرموں کے دلوں میں کلام حق کی مخالفت بٹھا دیتے ہیں

تفسیر : دیکھو ہم مجرموں کے دلوں میں اس طرح مخالفت کی بات بٹھا دیتے ہیں : 12۔ ایک مخلص اور قوم کا سچا مخلص مصلح اپنی شدید مخالفت ومزاحمت اسی قوم کی طرف سے دیکھتا ہے جس کی بہی خواہی میں وہ گھلا جاتا ہے تو طبعا وہ دنگ رہ جاتا ہے اور اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہتی اور پھر وہ مصلح اعظم جو دنیا کے سارے مصلحوں سے بڑھ کر مخلص اور پیکر اخلاص و شفقت ہے آپ کے دل پر اس وقت کیا کچھ گزری ہوگی ؟ قرآن کریم اس لئے بار بار آپ کی تسکین وتشی کیلئے تاریخی نظیروں پر توجہ فرماتا ہے ” مجرموں کے دلوں میں کلام حق کی مخالفت کا بٹھانا “ کیا ہے ؟ وہی استہزاء کا القا بالکل اس طرح کا جیسے ہر معصیت ‘ ہر فسق ‘ ہر کفر کا القاء نظام ، تکوینی میں مسبب الاسباب ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے حالانکہ یہ استہزاء مطلوب خداوندی نہیں بلکہ قانون تکوینی سے ہے کیونکہ ان کی ہلاکت کیونکر ہوگی اگر وہ اس استہزاء سے باز آجائیں جب یہ بات ان کو سمجھائی گئی تو انہوں نے اس کو سمجھنے کی کوشش نہ کی بلکہ الٹے چور والا معاملہ کیا اور پھر اس کا صلہ جو قانون تکوینی میں طے تھا اس سے وہ دوچار ہوگئے سلک کے معنی پرونے کے ہیں یعنی جس طرح انہوں نے انکار اور استہزاء کو اپنا شعار بنایا ہم نے بھی بطور سزا انکو فہم ہدایت سے محروم کردیا اور اخلاقی طور پر نہایت ہی ناپسندیدہ اور نامرغوب بات جو انہوں نے اللہ کے بندوں کے ساتھ مذاق کرکے کہی اس کی سزا ان پر مقرر کردی گئی جو اپنے وقت پر ان کو مل کر رہی ۔
Ayah 15:13

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

وہ اس پر ایمان لانے والے نہیں اور جو پہلے گزر چکے ہیں ان کا بھی ایسا ہی دستور رہ چکا ہے

وہ بھی پہلوں کی طرح اس پر ایمان لانے والے نہیں : 13۔ بلاشبہ وہ پہلے گروہوں اور قوموں کی طرح ایمان لانے والے نہیں اور ہم بھی ان کو یقینا کھلا استہزاء کرتے رہنے کیلئے نہیں چھوڑ سکتے ، وہ ایمان نہ لا کر گزشتہ لوگوں کے طریقہ پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ہم بھی اپنی سنت کے مطابق ان کے ساتھ وہی کچھ کریں گے جو پہلوں کے ساتھ کیا گیا ۔ ایسا نہیں کہ ہمارا ان کے ساتھ کوئی بیر تھا اور ان کے ساتھ ہمیں زیادہ پیار ہے ہم بھی کسی طرف جھکنے والے نہیں ہر عمل کرنے والے کو اس کے نتیجہ کے ساتھ وابستہ کردیتے ہیں ، اور پھر جیسا اس کا عمل ہوتا ہے ویسی ہی اس کو جزا بھی مل کر رہتی ہے اور قیامت کے بپا کرنے کا یہی مقصد ہے اس لئے ان کو پہلوں کا طریقہ بھولنا نہیں چاہئے بلکہ اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے ، لیکن ان کا حافظہ بھی بہت کمزور ہے بلکہ گزشتہ قوموں کی طرح ان کے ذہن و دماغ میں بھی کم ہی یہ بات بیٹھے گی ۔
Ayah 15:14

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اگر ہم ان پر آسمان کا دروازہ کھول دیں اور یہ دن دہاڑے اس پر چڑھنے لگیں تب بھی یہ لوگ نہیں مانیں گے

اگر ہم آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ ان میں چڑھنے لگیں تو بھی ماننے والے نہیں : 14۔ ” یعرجون “ وہ چڑھ جائیں اور اس سے کفار مراد لئے گئے ہیں کہ وہ آسمان کے دروازے کھل جانے پر خود وہاں چڑھ جائیں تو بھی وہ یقین کرنے والے بلکہ وہ اس کے متعلق کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیں گے گویا وہ اس قدر ہٹ دھرم ہیں کہ کفر انکے دلوں میں یوں جڑ پکڑ چکا ہے یا زنگ کی طرح ان پر جم چکا ہے کہ اگر ان کیلئے آسمان کے دروازے کھول بھی دیئے جائیں اور یہ دن دہاڑے وہاں چڑھ بھی جائیں جیسا کہ ان کا مطالبہ ہے اور پھر وہاں یہ لوگ ہماری نشانیوں کا سارا حال معلوم کرلیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں پھر بھی یہ حق کو قبول کرنے کے لئے نہیں یہ دراصل بار بار ایک بات کی تاکید کی جارہی ہے اور ان کی ہٹ دھرمی کو استعارات وامثال سے بیان کیا جارہا ہے اور لب لباب یہ ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے کبھی نہیں مانتے ۔ “ ان کے سامنے دلائل پیش کرنا بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے اس لئے نہ ماننے کی سوگند کھانے والوں کو کون منائے گا اور کس طرح منائے گا ؟ ان کو لاکھ دلائل دے دے کر سمجھاؤ وہ دلیل کی ایک ہی دلیل رکھتے ہیں ، وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہی کہ ” میں نہ مانوں۔ “
Ayah 15:15

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

(اس وقت) یہ کہنے لگیں گے ضرور ہماری آنکھیں دھوکہ کھا گئی ہیں یا ہم پر جادو کردیا گیا ہے

یہ سب کچھ دیکھ کر کہیں گے کہ ہماری آنکھیں بند ہوگئی ہیں ہم پر جادو کردیا گیا ہے : 15۔ کہا جاتا ہے کہ شرم آنی جانی چیز ہے آدمی کو ڈھیٹ ہونی چاہئے ‘ شرم کہا ہوتی ہے ؟ آنکھوں میں ‘ بس یہ لوگ آنکھیں بند کردیتے ہٰن اور کبھی کھولنے کے نہیں اس لئے یہ نہ آنکھیں کھولیں گے اور نہ ان کو شرم آئے گی ، یہ لوگ بڑی بےحیائی اور ڈھٹائی سے کہہ دیں گے کہ یہ جو کچھ ہمیں نظر آرہا ہے یہ حقیقت نہ تھی بلکہ کچھ منتر پڑھ کر ہماری نظر بند کردی گئی ہے ۔ کچھ بھی نہیں تھا بس ہمیں یوں نظر آیا کہ ہم آسمان پر چڑھے وہاں فرشتوں کو دیکھا اور قدرت کی اعجاز آفرینیوں کا مشاہدہ کیا لیکن یہ مشاہدہ کیا تھا ؟ بس ایک نظر بندی تھی ، ایک شعبدہ بازی تھی اور حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہ تھا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم پر جادو کردیا گیا ۔ اس طرح جب جادو کردیا گیا ۔ جادو ہوگیا ‘ ہماری آنکھیں مدہوش ہوگئیں وغیرہ کے الفاظ پڑھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ دیکھو قرآن کریم میں جادو کا ہوجانا کتنا واضح طور پر لکھا ہوا ہے ۔ لہذا جادو ” برحق “ ہے ۔ اور یہ اپنا اثر رکھتا ہے اس لئے اس سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ کوئی شخص ہم پر وار نہ کر دے ۔ حالانکہ یہ تخیلات جو یہاں بیان کئے گئے ہیں کن لوگوں کے تھے ؟ کیا اللہ نے اس جادو کے اثر انداز ہونے کا کہیں ذکر کیا ہے انبیاء کرام (علیہم السلام) نے اس کا ذکر کرکے کوئی بات ارشاد فرمائی ہے حاش اللہ بالکل نہیں تو پھر یہ کیوں کہا گیا ؟ قرآن کریم میں کفار مکہ اور دوسرے کفار کا ذکر کے فرمایا گیا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے یا کسی رسول نے اپنی طرف سے یا اللہ کی طرف سے اس کو بیان نہیں کیا ، یہی وہ غلطی ہے جو آج تک عوام و خواص کو لگتی چلی آرہی ہے اور وہ کبھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ جادو دھوکا ‘ فریب اور مکاری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ ایک حقیقت چیز ہے اور زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کمزور عقیدہ کے لوگ اس طرح کے ادہام میں پھنس کر رہ جاتے ہیں اور جن لوگوں میں جتنی وہم پرستی زیادہ ہوگی ، وہ اس طرح کی باتیں بتایا کرتے ہیں اور بتاتے رہیں گے ہم نے اس کی تفصیل سورة البقرہ کی آیت 102 میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 15:16

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور دیکھو یہ ہماری ہی کارفرمائی ہے کہ آسمان میں برج بنا دیئے اور انہیں دیکھنے والوں کے لیے خوشنما بنا دیا

آسمانوں میں ہم نے برج بنائے اور ستاروں سے انکو مزین کردیا : 16۔ بروج کیا ہیں ؟ برج کی جمع ہے اور اس سے مراد ستارے ہیں اور قرآن کریم نے خود اس کی وضاحت دوسری جگہ کردی ہے ۔ چناچہ فرمایا ہے کہ (آیت) ” انا زینا السمآء الدنیا بزینۃ الکواکب ۔ وحفظا من کل شیطان مارد “۔ (الصفت : 37 : 7) اور ایک جگہ انہی کو اکب کو مصابیح کہا ہے جیسا ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” ولقدزینا السمآالدنیا بمصابیح وجعلنھا رجوما للشیاطین “۔ (الملک 67 : 5) مختصر یہ کہ ” بروج ” سے مراد ستاروں ہی سے ہے لیکن دور اول کے بعد ” برج “ کا لفظ ستاروں کے ان بارہ فرضی اشکال کیلئے مستعمل ہوگیا جو قدماء نے دورہ شمسی کیا نضباط کیلئے قرار دی تھیں اس لئے سوال پیدا ہوا کہ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ اسی مصطلح معنی میں بولا گیا ہے اور مقصود اس سے بارہ برج ہیں ؟ یا لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے اور مقصود بڑے بڑے روشن ستارے ہیں جو بحر وبر کی ظلمتوں میں مسافروں کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ بارہ برجوں کی تقسیم سب سے پہلے اہل بابل نے کی پھر سریانی اقوام ان سے آشنا ہوئیں ، اور بالاخر یونانیوں نے اختیار کرلیا ، عربی زبان اپنی ابتدائی شکلوں میں عراق ، مصر اور شام کی حکمران زبان رہ چکی ہے اور ان ممالک کے ساتھ عربوں کے قدیم تجارتی تعلقات بھی معلوم ومسلم ہیں پس اگر چاند کی منزلوں کی طرح سورج کے بارہ برجوں سے بھی عربی زبان آشنا ہوچکی ہو تو یہ کوئی عجیب بات نہ ہوگی لیکن اس میں شک نہیں کہ عرب جاہلیت کے کلام سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ، بس زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہاں برج سے مقصود روشن کو اکب ہیں اور ابن مسعود ؓ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے اور یہ قابل ترجیح ہے ، چناچہ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ (آیت) ” وزینھا للناظرین “۔ ہم نے اس فضا کو جو تمہارے اور اوپر پھیلی ہوئی ہے اس طرح بنا دیا کہ دیکھنے والوں کیلئے اس میں خوشنمائی پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ مقام بھی من جملہ ان مقدمات کے ہے جہاں قرآن کریم نے جمال فطرت سے استدلال کیا ہے یعنی اس بات سے استدلال کیا ہے کہ کائنات ہستی کے تمام مظاہر اس طرح واقعہ ہوتے ہیں کہ ان میں حسن و جمال کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ رحمت وفیضان کا کوئی ارادہ یہاں ضرور کام کر رہا ہے جو چاہتا ہے کہ جو کچھ بنے حسن و خوبی کے ساتھ بنے اور اس میں روحوں کیلئے مسرور اور نگاہوں کیلئے عیش ونشاط ہو ، اگر ایک صاحب رحمت ہستی کی یہ کارفرمائی نہیں ہے تو پھر کس کی ہے ؟ نہیں تمہاری فطرت کہہ رہی ہے کہ یہ سب کچھ کسی ایسی ہستی کی کاری گری ہے جو حسن و جمال ہے اور جس نے چاہا ہے کہ حسن و جمال کا فیضان ہو۔ یہاں فرمایا کہ آسمانوں کو دیکھو عربی میں ” سماء “ کے معنی بلندی کے ہیں مکان کیلئے اس کی چھت اس کی سماء ہوتی ہے پس یہ جو بلندی تمہیں نظر آرہی ہے کس طرح دیکھنے کیلئے حسین و جمیل بنا دی گئی ہے ؟ چاندنی راتوں میں چاند کی شب افروزیان دیکھو اور اندھیری راتوں میں ستاروں کی جلوہ ریزیوں کا نظارہ کرو اور دیکھو کہ صبح جب اپنی ساری دل فریبیوں کے ساتھ آتی ہے اور شام جب اپنی ساری رعنائیوں کے ساتھ چھپتی ہے ۔ گرمیوں میں صاف شفاف آسمان کا نکھرنا ، بارش میں بادلوں کا ہر طرف سے امنڈنا شفق کی لالہ گونی ‘ قوس قزح کی بوقلمونی ‘ سورج کی زرافشانی ‘ غرضیکہ آسمان کا کونسا منظر ہے جس میں نگاہوں کیلئے زینت نہیں ، جس میں دلوں کیلئے راحت و سکون نہیں ؟
Ayah 15:17

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

نیز ہر پھٹکارے ہوئے شیطان سے اس کی حفاظت کردی ہے

ہر راندے ہوئے شیطان سے اس کی حفاظت بھی فرمادی گئی ۔ 17۔ زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ اگر اجرام سماوی کی حفاظت کا سامان نہ کردیا گیا ہوتا تو ایسی شیطانی قوتیں تھیں جو انکے اعمال میں خلل انداز ہوتی ، نیز یہ کہ جب کوئی ایسی قوت ٹوہ لگانا چاہتی ہے تو شعلے بھڑکتے ہیں اور انہیں قریب نہیں آنے دیتے ۔ اس آیت میں (آیت) ” شہاب مبین “۔ کا لفظ آیا ہے شہاب شعلہ کو کہتے ہیں لیکن چونکہ اس کا اطلاق اس ستارے پر بھی ہوتا ہے جو راتوں کو ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن قرآن کریم میں کوئی ایسی تفصیل نہیں جس سے یہ بات متعین کی جاسکے ۔
Ayah 15:18

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

اِ لّا یہ کہ کوئی (گھات لگا کر) سن گن لینا چاہے تو پھر ایک چمکتا ہوا شعلہ ہے جو اس کا تعاقب کرتا ہے

اگر کچھ اس میں سے کوئی سن گن لینا چاہئے تو شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے : 18۔ ” شہاب “ کے معنی شعلے کے ہیں ، باقی رہی اس معاملہ کی حقیقت تو یہ عالم الغیب کے معاملات میں سے ہے جسے ہم اپنے وسائل علم وادراک سے معلوم نہیں کرسکتے ، وہی الہی نے جس قدر تصریح کردی ہے اس پر یقین کرنا چاہئے اور مزید کاوش میں نہیں پڑنا چاہئے ، اگر سائنس یہ کہتی ہے کہ فضا میں بڑے بڑے وزنی پتھر چکر کھا رہے ہیں اور وہ ہوا سے رگڑ کھا کر روشن ہوجاتے ہیں اور کہیں زمین پر ٹوٹ کر گر بھی پڑتا ہیں تو قرآن کریم کی بتائی ہوئی حکمت کے ذرا بھی یہ منافی نہیں کیونکہ قرآن کریم کو انکی ترکیب ‘ ساخت وغیرہ سے مطلق بحث نہیں وہ تو اپنے موضوع کے اندر رہ کر صرف اتنا بیان کرتا ہے کہ ان سے کام شیطان سے بھگانے کا بھی لیا جاتا ہے ۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور ہم نے زمین پھیلا دی اور اس میں پہاڑ گاڑ دیئے نیز جتنی چیزیں اس میں اگائیں سب موزوں اگائیں

زمین کو پھیلا دیا ‘ پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیا اور سب چیزیں اس نے اس میں اگا دیں : 19۔ زمین کو دیکھو کہ وہ گیند کی طرح گول ہے لیکن حکمت الہی نے اس کی کردیت کا نشیب و فراز اس طرح پھیلا دیا کہ کوئی آنکھ اونچ نیچ محسوس نہیں کرتی اور اس کا ہر گوشہ اپنی جگہ ایک بچھے ہوئے فرش کی طرح مسطح ہے اگر سطحیت کی یہ حالت پیدا نہ ہوتی تو وہ تمام ارضی خصوصیات بھی ظہور میں نہ آتیں جنہوں نے زمین کو زندگی ومعیشت کیلئے خوشگوار بنا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جا بجا اس کی سطح کے پھیلاؤ پر زور دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ نے اسے فرش کی طرح بچھایا ہے زیر نظر آیت میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ فرمایا زمین کا بنانا ‘ پھیلانا اس پر پہاڑوں کا قائم کرنا ، زمین سے ہر نباتات ایک مقدار معین کے مطابق اگانا یہ سب کام اس خدائے واحد قادر و حکیم کے ہیں ، نہ یہ چیزیں خود بخود ہوگئی ہیں ‘ نہ انہیں کسی دیوی ‘ دیوتا ‘ پیرومرشد اور بزرگ وولی نے کیا ہے ، یہ پہاڑ اس لئے بھی بنائے گئے کہ زمین ڈانواں ڈول نہ ہو اور دوسری جگہ خود قرآن کریم نے اس کی تشریح اس طرح فرما دی کہ (آیت) ” رواسی ان تمید بکم “۔ گویا پہاڑ حکمت تکونی میں زمین کا لنگر بٹھائے رہنے کیلئے اس کا توازن درست رکھنے کیلئے ہے اور یہ بھی کہ وہ تم لوگوں کے بڑے بڑے دفینوں کا بندوبست کئے ہوئے ہیں ، قرآن کریم نے صرف اس قدر بیان کیا ہے اس کے آگے زمین کی گردش سالانہ اور روزانہ اور اس کی حرکت محوری اور اس طرح کے دوسرے مسائل سے قرآن کریم بحث نہیں کرتا نہ اس معاملہ میں کسی چیز کی نفی کرتا ہے اور نہ ہی ثباتا کوئی چزم بیان کرتا ہے بلکہ انکو انسان کی عقل وفکر پر چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ ان چیزوں کا تعلق صرف دنیوی زندگی سے ہے آخری زندگی سے ان چیزوں کا کوئی تعلق نہیں اور وہ باتیں اور کام جن کا تعلق صرف اور صرف دنیوی زندگی کے ساتھ ہو ان کو قرآن کریم بیان نہیں کرتا بلکہ وہ صرف ان باتوں سے بحث کرتا ہے جن کا تعلق دنیوی زندگی کے بعد تک قائم رہنا ہے ۔ اس آیت میں ذہن کے متعلق تین باتیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ زمین بچھی ہوئی ہے دوسری یہ کہ پہاڑوں کی بلندیاں ہیں تیسری یہ کہ جتنی چیزیں اس میں اکتی ہیں سب موزوں ہیں ” موزوں “ یعنی وزن کی ہوئی اگر کسی چیز کو ٹھیک ٹھیک کسی خاص اندازہ پر رکھنا ہوتا ہے تو اسے کانٹے میں تول لیا کرتے ہیں کہ رتی بھر بھی ادھر ادھر نہ ہوجائے پس ہرچیز کے موزوں ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ زمین میں جتنی نباتات اگتی ہیں سب کیلئے حکمت الہی نے ایک خاص اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔ ہرچیز اپنی نوعیت ‘ اپنی کمیت ‘ اپنی کیفیت میں ایک جچی تلی حالت رکھتی ہے جس سے کبھی باہر نہیں جاسکتی ممکن نہیں کہ گھاس کی ایک شاخ بھی ایسی اگ آئے جو گھاس کے مقررہ اندازہ اور تناسب کے خلاف ہو۔ طرح طرح کے غلے ، طرح طرح کے پھول ، طرح طرح کے پھل ، طرح طرح کی سبزیاں ‘ طرح طرح کے درخت ، طرح طرح کی گھاسیں ہر طرف اگ رہی ہیں ، لیکن کوئی چیز بھی ان میں ایسی ہے جس کی شکل ڈیل وڈول ‘ رنگت ‘ خوشبو ‘ مزہ اور خاصہ ایک خاص مقررہ انداز پر نہ ہو ؟ اور ٹھیک ٹھیک کانٹے کی قول نہ ہو ؟ گیہوں کا ایک دانہ اٹھاؤ ‘ پھول کی ایک کلی توڑو ‘ گھاس کی ایک پتی سامنے رکھ لو اور دیکھو ان کی ساری باتیں کس طرح تلی ہوئی اور کس طرح دقیقہ سنجی کے ساتھ سانچے میں ڈھلی ہوتی ہیں ؟ اگر صحیح ہے تو اس کا مقررہ انداز ہے ‘ لاکھ مرتبہ بوؤ ‘ کروڑ مرتبہ بوؤ اس اندازہ میں فرق آنے والا نہیں ، اگر شکل ہے تو اس کا ایک خاص اندازہ ہے ، وہ چیز جب آئے گی اس شکل میں آئے گی اگر رنگت ہے ‘ خوشبو ہے ‘ مزہ ہے ‘ خاصہ ہے تو سب کا ایک مقررہ اندازہ ہے اور یہ اندازہ قطعی ہے ‘ دائمی ہے ‘ اٹل ہے ‘ ان مٹ ہے اور ہمیشہ اس یکسانیت کے ساتھ ظہور میں آتا ہے ‘ گویا مٹی کے ایک ایک ذرہ میں ‘ ایک ایک ترازو میں رکھ دیا گیا ہے اور وہ ایک ایک دانے ‘ ایک ایک پتے ، ایک ایک پھل کو تول تول کر بانٹ رہا ہے ممکن نہیں اس قول میں کبھی خرابی پڑے ! ” موزوں “ میں تناسب ‘ اعتدال کا مفہوم بھی داخل ہے یعنی جتنی چیزیں اگتی ہیں ، اپنی ساری باتوں میں تناسب و اعتدال کی حالت رکھتی ہیں ، کوئی شے نہیں جو اپنی کمیت وکیفیت میں غیر متناسب اور غیر معتدل ہو۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور تمہارے لیے معیشت کا سارا سامان مہیا کردیا اور ان مخلوقات کیلئے بھی کردیا جن کیلئے تم روزی مہیا کرنے والے نہیں ہو

تمہارے لئے معیشت کا انتظام اور ہر اس مخلوق کیلئے بھی جس کو تم روزی نہیں دے سکتے : 20۔ زیر نظر آیت نظام ربوبیت سے متعلق ہے اس کا مطالعہ بھی اس روشنی میں کرو اور دیکھو کتنے مختصر اور کیسے سیدھے سادے لفظوں میں کتنی بڑی حقیقت بیان کردی گئی ہے ؟ فرمایا (آیت) ” جعلنا لکم فیھا معایش “۔ ہم نے زمین میں تمہارے لئے زندگی ومعیشت کے سارے سروسامان مہیا کردیئے لیکن کس طرح مہیا کئے ؟ اس طرح کہ اگرچہ ہرچیز کے ہمارے پاس ذخیرے ہیں لیکن ان کی بخشش ایک مقررہ اندازے ہی کے ساتھ ہوتی ہے ، ایسا نہیں ہوتا کہ بغیر کسی اندازہ اور نظام کے تمام چیزیں بکھیر دی ہوں اور یہ جو ایک مقررہ اندازہ کا نظام ہے یعنی ” تقدیر اشیاء “ کا تو یہی ہے جو بتلا رہا ہے کہ یہاں کوئی اندازہ مقرر کرنے والی اور اسے قائم رکھنے والی ہستی ضرور ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس شناسی اور انضباط کے ساتھ ہر ضروری چیز کی بخشش کا نظام قائم ہوجاتا ۔ غور کرو کہ یہ کیا بات ہے کہ دنیا میں صرف یہی نہیں کہ پانی موجود ہے بلکہ ایک خاص نظم وترتیب کے ساتھ موجود ہے ؟ یہ کیوں ہے کہ پہلے سورج کی شعاعیں سمندر سے ڈول بھر بھر کر فضا میں پانی کی چادریں بچھا دیں ‘ پھر ہواؤں کے جھونکے انہیں حرکت میں لائیں اور پانی کی بوندیں بنا بنا کر ایک خاص وقت اور خاص محل میں برسا دیں ؟ پھر یہ کیوں ہے کہ جب کبھی پانی برسے تو ایک خاص ترتیب اور مقدار ہی سے برسے اور اس طرح برسے کہ زمین کی بلائی سطح پر اس کی ایک خاص مقدار بہنے لگے اور اندرونی حصوں تک ایک خاص مقدار میں نمی پہنچے ؟ کیوں ایسا ہوا کہ پہلے پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کے تودے جمتے ہیں ‘ پھر موسم کی تبدیلی سے پگھلنے لگتے ہیں ، پھر ان کے پگھلنے سے پانی کے چشمے ابلنے لگتے ہیں ، پھر چشموں سے دریا کی جدولیں بہنے لگتی ہیں ‘ پھر یہ جدولیں پیچ وخم کھاتی ہوئی دور دور تک دوڑ جاتی ہیں ، اور سینکڑوں ‘ ہزاروں ‘ میلوں تک اپنی وادیاں شاداب کردیتی ہیں کیوں یہ سب کچھ ایسا ہی ہوا ؟ کیوں ایسا نہ ہوا کہ پانی موجود ہوتا مگر اس نظام اور ترتیب کے ساتھ نہ ہوتا ؟ قرآن کریم کہتا ہے اس لئے کہ کائنات ہستی میں ربوبیت الہی کار فرما ہے اور ربوبیت کا مقتضاء یہی تھا کہ پانی اس ترتیب سے بنے اور اس ترتیب ومقدار سے تقسیم ہو ، یہ رحمت و حکمت تھی جس نے پانی پیدا کیا مگر یہ ربوبیت ہے جو اسے اس طرح کام میں لائی کہ پرورش اور رکھوالی کی تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں ، پھر اس حقیقت کی ربوبیت ہے جو اسے اس طرح کام میں لائی کہ پرورش اور رکھوالی کی تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں ، پھر اس حقیقت کی طرف غور کرو کہ زندگی کیلئے جن چیزوں کی سب سے زیادہ ضرورت تھی انہی کی بخشائش سب سے زیادہ اور عام ہے اور جن کی ضرورت خاص خاص حالتوں اور گوشوں کیلئے تھی انہی میں اختصاص اور مقامیت پائی جاتی ہے ، ہوا سب سے زیادہ ضروری تھی کیونکہ پانی اور غذا کے بغیر کچھ عرصہ تک زندگی ممکن ہے مگر ہوا کے بغیر ممکن نہیں پس اس کا سامان اتنا وافر اور عام ہے کہ کوئی جگہ ، کوئی گوشہ ‘ کوئی وقت نہیں جو اس سے خالی ہو ۔ فضاء میں ہوا کا بیحد وکنار سمندر پھیلا ہوا ہے ، جب کبھی اور جہاں کہیں سانس لو ‘ زندگی کا یہ سب سے زیادہ ضروری جو ہر تمہارے لئے خود بخود مہیا ہوجائے گا ہوا کے بعد دوسرے درجے پر پانی ہے ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” وجعلنا من الماء کل شیء حی “۔ اس لئے اس کی بخشائش کی فراوانی اور عمومیت ہوا سے کم ہے مگر ہرچیز سے زیادہ ہے زمین کے نیچے آب شیریں کی سوتیں بہہ رہی ہیں ، زمین کے اوپر بھی ہر طرف دریا رواں دواں ہیں پھر ان دونوں ذخیروں کے علاوہ فضائے آسمانی کا بھی کارخانہ ہے جو شب وروز سرگرم کار رہتا ہے ، وہ سمندر کا شورابہ کھینچتا ہے اسے صاف و شیریں بنا کر جمع کرتا رہتا ہے پھر حسب ضرورت زمین کے حوالے کردیتا ہے ، پانی کے بعد غذا کی ضرورت تھی لہذا ہوا اور پانی سے کم مگر اور تمام چیزوں سے زیادہ اس کا دسترخوان کرم بھی خشکی وتری میں بچھا ہوگا کہ یہ ” نظام ربوبیت “ کے اتنے گوشے ہیں کہ اگر ان کا احصاء کرنا شروع کردیں تو بہت مشکل ہے کہ احصاء ہوسکے ۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے کہ اس کے ذخیرے ہمارے پاس نہ ہوں مگر ہم انہیں ایک ٹھہرائے ہوئے اندازہ کے مطابق ہی بھیجتے ہیں

تفسیر : کوئی چیز ایسی نہیں جس کے ذخیرے ہمارے پاس موجود نہ ہوں ۔ 21۔ فرمایا دیکھو ہمارے ہاں کمی کسی چیز کی نہیں اور نہ ہو سکتی ہے ؟ ہرچیز کا ظہور اپنی کیفیت وکمیت کے لحاظ سے اس کے قانون قدرت و حکمت کے ماتحت ہی ہوتا رہتا ہے فرمایا کہ تم اس عالمگیر نظام پرورش پر ہی غور کرو جو اپنے ہر گوشہ وعمل میں پروردگار کی گود اور بخشش حیات کا سرچشمہ ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ تمام کارخانہ صرف اسی لئے بنا ہے کہ زندگی بخشے اور زندگی کی ہر استعداد کی رکھوالی کرے ، سورج اس لئے ہے کہ روشنی کیلئے چراغ کا اور گرمی کیلئے تنور کا کام دے اور اپنی کرنوں کے ذریعے ڈول بھر بھر کر سمندر سے پانی کھچتاگا رہے ، ہوائیں اس لئے ہیں کہ اپنی سردی اور گرمی سے مطلوبہ اثرات پیدا کرتی رہیں اور کبھی پانی کے ذرات جما کر ابر کی چادریں ہٹا دیں کبھی اتر کر پانی بن کر بارش برسا دیں ، زمین اس لئے ہے کہ نشو ونما کے خزانوں سے ہمیشہ معمور رہے اور ہر دانے کیلئے اپنی گود میں زندگی اور ہر پودے کیلئے اپنے سینہ میں پروردگی رکھے مختصر یہ کہ کارخانہ ہستی کا ہر گوشہ صرف اسی کام میں لگا ہوا ہے ، ہر قوت استعداد ڈھونڈ رہی ہے اور ہر تاثیر اثر پذیری کے انتظار میں ہے جونہی کسی وجود میں بڑھنے اور نشو ونما پانے کی استعداد پیدا ہوتی ہے معا تمام کارخانہ ہستی اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ، سورج کی تمام کارفرمائیں ‘ فضا کے تمام تغیرات ‘ زمین کی تمام قوتیں ‘ عناصر کی تمام سرگرمیاں صرف اسی انتظار میں رہتی ہیں کہ کب چیونٹی کے انڈے سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور کب دھقان کی جھولی سے زمین پر ایک دانہ گرتا ہے ۔ فرمایا کہ ہرچیز کے ہمارے پاس خزانے بھرے ہوئے ہیں کسی چیز کی کمی نہیں ، انہی سے ساری مخلوق کے رزق کا انتظار ہو رہا ہے اور ان کی ضروریات کی کفالت کی جا رہی ہے اور تم تو اندازہ ہی نہیں لگا سکتے کہ یہ سلسلہ کب سے شروع ہوا ہے اور تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ کب تک جاری رہے گا ، نامعلوم زمانہ سے لے کر ان کی خوارک کا انتظام انہیں قدرتی خزانوں سے ہو رہا ہے اور وہاں کوئی کمی نہیں ہوتی اس طرح ہوتا رہے گا اور یہ خزانے بھرے کے بھرے رہیں گے لیکن ان معمور اور بھرے ہوئے خزانوں کے بانٹنے پر کوئی اندھی فطرت مقرر نہیں جو بلاتمیزیوں ہی لٹاتی رہے بلکہ اس تقسیم کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جو علیم بھی ہے اور حکیم بھی وہ اپنی حکمت کے مطابق جتنا چاہتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم نے ہوائیں چلائیں کہ باردار تھیں پھر آسمان سے پانی برسا دیا اور وہ تمہارے پینے کے کام آیا اور تم نے اسے ذخیرہ کر کے نہیں رکھا تھا

ہم نے بار دار ہوائیں چلائیں اور آسمان سے پانی برسایا جو تمہارے پینے کے کام آیا ۔ 22۔ زیر نظر آیت میں بارش کی مثال دے کر مزید وضاحت فرما دی ، فرمایا بارش زمین کی شادابی اور روئیدگی کا ذریعہ ہے اگر یہ نہ ہو تو زمین کی روئیدگی بھی نہ ہو لیکن دیکھو کسی طرح یہ معاملہ ظہور میں آتا ہے اور کس طرح مقررہ اندازوں اور پیمانوں کا ایک پورا نظام کام کر رہا ہے ؟ پہلے سمندر سے بھاپ اٹھتی ہے اور وہ پانی کے ذروں سے بار دار ہو کر یعنی ان کو اپنے اندر لے کر بلندی کی طرف چڑھتی ہے پھر بلندی میں ابر کی چادریں بنتی ہیں اور چادریں فضا میں پھیل جاتی ہیں ۔ پھر وہی چادریں بارش کے قطرے بن کر گرنے لگتی ہیں اور زمین کے ایک ایک ایک ذرے کو شاداب کردیتی ہیں ، تم نے پانی کے ذخیرے جمع کرکے نہیں رکھے تھے لیکن آسمان جمع کرتا رہتا ہے اور پھر ٹھیک ٹھیک تمہاری احتیاج کے مطابق مطلوبہ مقدار تمہیں بخشتا رہتا ہے ، یہ بات کہ پانی کے جمع ہونے اور ایک خاص ترتیب اور اندازہ کے ساتھ برستے رہنے کا ایک پورا کارخانہ بنا ہوا ہے یہاں استدلال کا اصل نقطہ ہے کیونکہ ” تقدیر ونظم “ کی یہ حالت بغیر اس کے نہیں ہو سکتی کہ ربوبیت کا کوئی ارادہ پس پردہ کام کر رہا ہو اور یہی وہ ” نظام ربوبیت “ ہے جس کا بیان اس جگہ جاری وساری ہے ۔ اس آیت میں ایک لفظ آیا ہے ۔ ” لواقح “ اس پر ذرا نظر ڈالتے چلئے ۔ لقاح ماء الفحل ، کو کہتے ہیں یعنی جب نرمادہ کے ساتھ جفتی کرتا ہے اور مادہ تولید اس میں ڈالتا ہے عرب اس کو اونٹنی کے حاملہ ہوجانے پر استعمال کرتے ہیں اور اس طرح عورت کے حاملہ ہونے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ، ان ہواؤں کو ” لواقح “ کہنے کے متعدد وجوہ مفسرین نے ذکر کئے ہیں لیکن سب فرسودہ خیال ہیں اس لفظ پر غور وفکر کر کے مسلم سائنسدان اس کا صحیح مفہوم متعین کرسکتے ہیں کہ آیا ان ہواؤں کو محض اس لئے لواقح کہا جاتا ہے کہ یہ بارش کے پانی بادلوں کے مشکیزوں میں اٹھائے ہوئے آتی ہیں یا اس لئے کہ بادلوں میں یہ اس رطوبیت کو ملاتی ہیں ، جس سے ان سے بارش برسنے لگتی ہے اور وہ بوند بوند ہو کر ٹپکتی ہے کسی برتن سے کسی چیز کے انڈیلنے کی طرح نہیں انڈیلی جاتی یا ان سے درختوں کو بار دار کیا جاتا ہے یعنی درختوں کے مادہ منویہ کو مادہ درختوں کی اور یوں میں جا کر ڈالتی ہیں اس لئے ان کو ” لواقح “ کہا جاتا ہے ۔ قرآن کریم نے اس راز سے ایک حد تک تو پہلے ہی پردہ اٹھا دیا ہوا ہے کہ نر و مادہ کا وجود صرف جاندار مخلوق میں نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی نباتات کی افزائش نسل کیلئے یہی طریقہ مقرر کیا ہوا ہے چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” سبحان الذی خلق الازواج کلھا مما تنبت الارض ومن انفسھم ومما لا یعلمون “۔ (یس 36) ” پاک ہے وہ ذات جس نے سب جوڑے بنائے ان چیزوں سے بھی جنہیں زمین اگاتی ہے اور خود ان سے بھی اور ان چیزوں سے بھی جنہیں (ابھی) وہ نہیں جانتے ، نر درختوں ‘ پودوں ‘ جڑی بوٹیوں کے شگوفے ان کی مادہ تک پہنچیں تو کیونکر ؟ انسان سارے کام چھوڑ کر اگر یہی ایک کام کرنے لگے تو پھر بھی وہ اس کا لاکھواں حصہ انجام نہیں دے سکتا ، یہ چیزیں انسان کی طاقت سے ماوراء تھیں اس لئے قدرت نے اپنی خاص کرم گستری سے اس کا خود اہتمام فرما دیا ، انسان کو خبر تک بھی نہیں ہوتی اور اس کے باغوں ، کھیتوں ‘ چراگاہوں اور جنگلوں میں اور نہ معلوم اور کہاں کہاں ہوائیں چپکے سے عمل تلقیح کو انجام دے رہی ہوتی ہیں جن کے باعث درختوں کی ٹہنیاں رنگ برنگ خوش ذائقہ پھلوں سے لدی گئی ہیں اور جھوم جھوم کر اپنے خالق ومالک کے حضور آداب بندگی بجا لارہی ہیں ، کھیتوں کے پودوں پر خوشوں کے تاج سجائے جا رہے ہیں اور ان کو دانوں کے موتیوں سے آراستہ کیا جارہا ہے اور وہ جھک جھک کر اپنے خالق کی ربوبیت اور کبریائی کے گیت گا رہے ہیں ، چراگاہوں میں آپ نے کبھی دیکھا ہوگا کہ گھاس کس طرح زمین پر بچھی چلی جا رہی ہے وہ بھی اس کی بارگاہ عظمت میں سجدہ کر رہی ہے جس نے اس کی بقا اور بالیدگی کا حکیمانہ انتظام فرمادیا ایک حضرت انسان جس کیلئے کارخانہ ہستی کی ہر چھوٹی اور بڑی چیز مصروف خدمت ہے وہ بےسدھ پڑا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ یہی حقیقت تھی جس کے پیش نظر نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنے صحابہ کو تابیر نخل نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ جب دوسرے تمام درختوں پر ہم عمل تلقیح نہیں کرتے بلکہ ہوائیں از خود اس کام کو سر انجام دے رہی ہیں تو آخر کھجور کے درخت نے کیا قصور کیا ہے کہ ہواؤں کی عملداری سے اسے خارج کردیا گیا ہو اور اس کیلئے انسان کو زحمت گوارا کرنی پڑے لیکن جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے دوسرے سال کم پھل آنے کی شکایت کی جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ درخت اس عمل تابیر کے برسوں سے عادی تھے اور انکو اپنی طبعی حالت پر آنے کیلئے کچھ وقت چاہئے تھا تو نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا : انتم اعلم بامور دیناکم ، یہ دنیوی کام ہیں جنہیں تم بہتر سمجھتے ہو کیونکہ اس کا تعلق احکام شرعی سے نہ تھا اس لئے اس پر عمل کرنا اور نہ کرنا ان کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق عمل کریں ۔ اس سلسلہ میں سورة الطارق کی آیات ” والسمآء ذات الرجع ، والارض ذات الصدع ، انہ لقول فصل “۔ پر ایک گہری نظر ڈال لینا بھی خالی از حکمت نہیں خصوصا ” ذات الرجع “ اور ” ذات الصدع “۔ کے الفاظ کے اندر ایک بہت بڑا دفتر پہناں ہے لیکن انشاء اللہ العزیز اس کی بحث اپنی جگہ آئے گی ۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی جلاتے اور موت دیتے ہیں اور ہمارے قبضہ میں سب کی کمائی ہے

تفسیر : موت دینے والے اور جلانے والے بھی تو ہم ہی ہیں اور سب کا کیا ہمارے سامنے ہے : 23۔ موت وحیات سب اسی ذات رب العالمین کے قبضہ قدرت میں ہے فرمایا کہ ہم ہی ہیں کہ جلاتے ہیں اور موت طاری کرتے ہیں اور اس کا علم رکھتے ہیں کہ کون پہلے آنے والوں میں ہوئے اور کون پیچھے آنے والوں ہیں ؟ یعنی جس طرح ہم نے تمام چیزوں کی تقدیر کردی ہے یعنی مقررہ اندازہ ٹھہرا دیا ہے اسی طرح موت وحیات کا بھی ایک خاص اندازہ ٹھہرا دیا ہے اور قوموں کے تقدم وتاخیر کیلئے بھی مقررہ اندازہ ہے ہر ہستی جو پیدا ہوتی ہے اپنے مقررہ اندازہ کے مطابق پیدا ہوتی ہے اور ہر ہستی جو مرتی ہے مقررہ اندازہ کے مطابق مرتی ہے ، تقدیر اشیاء و اجسام کا قانون عالمگیر قانون ہے ، بستی کا کوئی گوشہ نہیں ہے جو اس سے باہر ہو ، اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ قرآن کریں میں ” قدر “ اور ” تقدیر “ کا مطلب کیا ہے ؟ نیز ان تمام غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوگیا جو اس بارہ میں پھیلی ہوئی ہیں اور اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ جہاں بارش وغیرہ کے انتظامات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں زندگی وموت بھی تمام تر اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ، یہاں کوئی وشنوجی نہیں کہ وہ زندگی بخشنے والے ہوں اور پھر قائم رکھنے والے ہوں اور نہ ہی کوئی یہاں شیوجی ہیں کہ ہلاک کرنا اور فنا کرنا انکا کام ہو۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کو جانا جو تم سے پہلے آنے والے تھے اور انہیں بھی جو پیچھے آنے والے تھے

بلاشبہ ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو پہلے تھے اور ان کو بھی جو پیچھے آنے والیے ہیں و : 24۔ ہمارے علم کامل و محیط میں کسی غلطی ‘ نقص ‘ خطا کا امکان ہی نہیں نہ ماضی میں ‘ نہ مستقبل میں بلکہ ہمارے ہاں ماضی ومستقبل ہیں ہی کہاں ہمارے ہاں تو سب حال ہی حال ہے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت کاملہ کا اثبات بیان ہوا اب صفت علم کامل کا اثبات ہورہا ہے مشرک اور جاہل قوموں کو صفات باری میں ٹھوکریں سب سے زیادہ انہیں دو صفات کے باب میں لگی ہیں ۔ (آیت) ” المتقدمین “۔ سے مراد وہ نسلیں ہیں جو گزر چکی ہیں اور (آیت) ” المستاخرین “ سے مراد بعد کو آنے والی نسلیں ہیں اور بعض نے اس سے مراد نیکیوں میں سبقت کرنے والے اور نیکیوں میں پیچھے رہ جانے والے بھی مراد لئے ہیں اور دونوں صورتوں میں کمال قدرت کے ذکر کے بعد کمال علم کا بیان کردیا یعنی جس طرح وہ ہرچیز پر قادر ہے اسی طرح ہرچیز کو وہ جانتا بھی ہے ۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تیرا پروردگار ہی ان سب کو جمع کرے گا ، وہ حکمت والا ، علم والا ہے

سب کا جمع کرنے والا اور حکمت وعلم والا بھی وہی ہے : 25۔ ایسا یقینا ہونے والا ہے کہ تمہارا پروردگار جزائے عمل کیلئے انہیں اپنے حضور جمع کرے کیونکہ تمام باتوں کی طرح اس بات کیلئے بھی اس نے ایک اندازہ ٹھہرادیا ہے وہ حکیم وعلیم ہے اور جب وہ حکیم ہے تو ممکن نہیں کہ اس نے انسان کے اعمال کیلئے کوئی اندازہ نہ ٹھہرا دیا ہو اور جب وہ علیم ہے تو ممکن نہیں کہ انسان کے اعمال اس کی نظر سے پوشیدہ رہ سکیں اور یہ بھی کہ حشر اللہ تعالیٰ ہی کرے گا یہ نہ ہوگا کہ اس دن فیصلہ کسی دیوتا ‘ کسی اوتار ‘ کسی ابن اللہ یا کسی پیرومرشد اور رسول اللہ کے ہاتھ میں آجائے ہرگز نہیں ، وہی ذات ہے جس کو بذات الصدور کہا جاتا ہے اور اس کے ہاتھ اس دن فیصلہ بھی ہوگا وہی اس کا مستحق ہے اور وہی حکمت والا ‘ علم والا ہے اور یہاں سے مضمون کو پھیر کر تخلیق انسانی کی طرف لے جایا گیا ہے ۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ واقعہ ہے کہ ہم نے انسان کو خمیر اٹھائے ہوئے گارے سے بنایا جو سوکھ کر بجنے لگتا ہے

بلاشبہ ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے جو سوکھ کر بجنے لگتی ہے : 26۔ فرمایا : ذرا اس حقیقت کی طرف آؤ کہ قدرت الہی نے کس طرح ایک حقیر سی چیز جو ہمیشہ تمہارے قدموں سے پامال ہوتی رہتی ہے سے تمہاری ہستی پیدا کی اور اسے اس درجہ تک بلند کیا کہ ملائکہ کے سجدہ کی علامت بنا دی گئی اور دنیا کی تمام قوتیں اس کے اعتبار و تصرف میں دے دی گئیں البتہ ایک قوت تمہارے آگے نہیں جھکی اور اس نے تم کو بطور علامت تسلیم کرنے سے عملی طور پر انکار کردیا وہ قوت کیا تھی ؟ فرمایا وہ ابلیس تھا جو ایک ایسی قوت ہے جو سراسر شر ہی شر ہے یہ تمہارے سامنے نہیں جھکی اور نہ ہی جھکے گی بلکہ تمہیں اپنے سامنے جھکانا چاہتی ہے ۔ فرمایا اے انسان ! تیرا پتلا اس خشک مٹی سے بنایا جو چٹکی مارنے سے کھن کھن آواز دیتی ہے گویا اس طرح کی آواز تو تیری فطرت میں داخل ہے اور اس سے تم سارے انسانوں کا پیدا کرنا اور پیدا ہونا ہوا اس لئے اپنی حقیقت کو بھولنا ہی تیری بھول ثابت ہوگا کہ تو اپنی پیدائش کو بھول جائے ۔