Ayah 15:27تفسیر :
27۔ جن ‘ فرشتہ اور انسان کے متعلق مختصر الفاظ میں ذہن نشین رکھنے کی بات یہ ہے کہ کبھی تو جن اور فرشتہ دو مخالف قوتوں کے نام کے طور پر قرآن کریم میں مذکور ہیں اور کبھی جن اور انسان دو متقابل شخصیتوں کے طور پر بیان ہوئے ہیں ، اس لئے ان کو سمجھنے میں اکثر غلطی ہوئی ہے ، وہ جن جو فرشتہ کے مخالف قوت کے طور پر اس نام سے معروف ہے بلاشبہ اس میں تولد وتناسل نہیں اور وہ مکلف بھی نہیں بلکہ ملائکہ کے مقابلہ کی ایک طاقت کا نام ہے تاکہ دونوں میں امتیاز قائم کیا جاسکے ایک ان میں سے نیکی وخیر کی طاقت ہے یعنی ملک یا فرشتہ اور دوسری برائی اور شر کی طاقت ہے یعنی ابلیس یا شیطان اور وہ مخلوق جو ابو البشر کے مقابلہ میں بیان کی گئی وہ اس جنس انسان کی ایک الگ صنف ہے جس پر شیطان شیطان کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ، کیونکہ اس میں نیکی وخیر بہت کم اور برائی وشر کی طاقت بہت قوی ہے لیکن اس کے باوجود وہ مکلف ہے اور اس میں توالد وتناسل بھی ہے انسانوں کے ساتھ اس کا میل جول ‘ آنا جانا ‘ بیٹھنا اٹھنا ‘ کھانا پینا اور رشتہ ناتا سب ہوتا ہے کیونکہ وہ اس جنس کی ایک دوسری صنف ہے ، جو صرف اپنے بعض اوصاف سے ہی پہنچانی جاتی ہے ۔
زیر نظر آیت میں جس مخلوق کا ذکر ہے وہ ‘ وہ مخلوق ہے جو فرشتہ کے مقابلہ کی طاقت وقوت ہے جو مجسمہ برائی اور شر ہے جس میں خیر وبھلائی کی کوئی بات نہیں پائی جاتی اور نہ ہی خارج میں اس کا کوئی مرئی وجود موجود ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس جگہ اور بہت سی جگہوں پر بیان کرتے ہوئے اس کے ایسے نام تجویز کئے گئے ہیں جن کا فی نفسہ کوئی وجود نہیں بلکہ ان کو دیکھنے کیلئے کسی دوسری چیز کی طرف منسوب کرکے ہی دیکھا جاسکتا ہے جیسا کہ اس جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو ہم نے گرم آگ یعنی آگ کی گرمی سے پیدا کیا جو اجزائے دخانیہ اور کثیفہ سے خالی ہیں اور اس لئے غایت لطافت سے مثل ہوا کے غیر مرئی تھے انسان کا ذکر جب آتا ہے تو اس شیطان کا ذکر خود بخود آجاتا ہے کیوں ؟ اس لئے انسان مجمسہ خیر وشر ہے یعنی دونوں قسم کے مادے اس کے اندر موجود ہیں اس لئے اس سے خیر اور شر دونوں کا امکان موجود ہے ، پھر اس کا یہ اعزاز ہے کہ جب اس کی اندرونی طاقت خیر کی ابھرتی ہے اور وہ شر کی طاقت وقوت پر قابو پا جاتی ہے اس لئے اس کا صدور اس سے نہیں ہونے دیتی تو یہ اس کی خوبی کے طور پر بیان ہوئی ہے اور اگر کہیں اس کی اندر کی دوسری طاقت یعنی شر اور برائی کی طاقت پکڑ جائے اور خیر وبھلائی اس کے سامنے جھک جائے تو اس کے شیطان یا ابلیس کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے گویا وہ اس وقت عام انداز تخاطب انسان کی طرف نہیں بلکہ شیطان وابلیس کی طرف ہوتا ہے اگرچہ جس سے اس کا صدور ہوا ہے وہ مجسمہ انسان ہی کا ہے ۔ امثال اس کی واضح ہیں لیکن تشریح اس کی بہت لمبی ہے اور اس کا مکمل بیان جو قرآن کریم میں جگہ جگہ موجود ہے اس کو یکجا کرکے کسی نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے ہم نے اس کے متعلق کچھ دبی زبان اور استعارات ومحاورات کا ذکر سورة الاعراف اور الانعام میں کردیا ہے اور تفصیل بیان انشاء اللہ العزیز سوہ جن میں عرض کریں گے اگر اللہ نے چاہا۔ ہاں ! ایک بات قابل غور ہے کہ قدوقامت میں انسان کو کائنات کی دوسری بڑی چیزوں سے کوئی نسبت ہی نہیں لیکن خالق کائنات نے بتایا کہ اس کے گردوپیش اور بالا وپست میں جو کچھ تمہیں نظر آرہا ہے یہ اس پیکر خاکی کیلئے ہے جسے انسان کہا جاتا ہے جو مجسمہ خیر وشر کا ہے ، لازمی طور پر دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت انسان کو اتنی اہمیت کیوں بخشی گئی آخر اس میں کونسا ایسا جوہر ہے جو زمین و آسمان ‘ مہر وماہ ‘ بحر وبر اور بادل اور ہوائیں سب اس کی خدمت گزاری میں سرگرم عمل ہیں اس لئے یہاں انسان کی حقیقت کو بیان کرکے اس کی اس خصوصیت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کے باعث اسے یہ بلند مقام نصیب ہوا لیکن اس چیز کو سمجھنے سے پہلے اس بات کو ضرور ذہن نشین کرلیجئے کہ قرآن کریم اللہ رب العزت کا کلام ہے ۔ یہ حق وصداقت کا نڈر ترجمان ہے ۔ اسے اپنی سچائی کے ثبوت کیلئے کسی فلسفی ‘ کسی سائنس دان وہ قدیم ہو یا جدید کی تائید کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ ہمارے مفسرین کے بیان کا محتاج ہے کہ ان سب کی تحقیقات اور جستجو کے نتایج اس کے بیان سے ہم آہنگ ہوں اور انسانی پیدائش کا باب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کی دونوں قوتوں کو برابری کے طور پر بیان نہ کیا جائے اگر ایسا ہو تو وہ انسان کی پیدائش کا معاملہ نہیں ہوگا ، اس لئے ضروری ہوا کہ جب اس کی تخلیق کے مادہ ارض کا بیان ہوا جس کو صلصال اور حماء مسنوں کا جامہ پہنایا گیا تو اس کے مادہ آگ کا ذکر کرنا بھی ضروری اور لازم تھا اس لئے اس کو ’ ۃ ’ الجان “ اور ” نار سموم “ کا جامہ پہنا کر بیان کیا گیا تاکہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے اور پھر جب ان قوی کو الگ الگ صنف میں بیان کیا تو ایک وصف کو مٹی سے تشبیہ دی کیونکہ مٹی ہی سے اس کا اصل خمیر لیا گیا تھا جس کو آگ کے ساتھ پکا کر صلصال یعیے بجنے والی مٹی بنایا گیا ظاہر ہے کہ اس پر وہ آگ کی طاقت وقوت صرف ہوئی جس نے اس کو بجتی مٹی میں تبدیل کردیا اور یہ گویا اس کی ایک حالت کا بیان ہے جب وہ آگ سے دوچار ہوچکی اور دونوں کو الگ الگ کرکے بھی بیان کیا گیا تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو ، جس طرح انسانی جسم کے اعضاء کے الگ الگ افعال ہیں اور ہم روزہ مرہ زندگی میں ان کو بیان بھی کرتے ہیں لیکن اگر انسانی جسم سے اس اعضاء کو الگ کرلیا جائے تو اس کا وہ فعل مطلق باقی نہیں رہتا لیکن ہم مجبور ہیں کہ بات کو سمجھنے کیلئے اپنے خیال ہی خیال میں جسم کے سارے حصوں کو الگ الگ کر کے افعال بنائیں اور سمجھائیں تو کوئی بیوقوف یہ نہیں کہے گا کہ جو وصف آپ نے بیان کیا ہے وہ اس کے دل کا ہے لہذا تم دل کو الگ کرکے اس کا وہ وصف ثابت کرو میں تب ہی مان سکتا ہوں ، اس طرح یہ وصف انسان ہی کے جسم کا ہے لیکن اس کو تفہیم کرنے کیلئے اس کا بیان الگ کیا گیا اور اس کو قوت خیر کے مقابلہ میں رکھ کر قوت شر کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور جب دونوں کا الگ بیان ہوچکا تو اب اس کے مجسمہ یعنی خیر وشر دونوں کا ذکر ہوگا اور اس سے پہلے کہ اس کا بیان ہو اس کی ایک قوت یعنی بھلائی کی قوت کو مخاطب کرکے بارن فرمایا جیسا کہ آنے والی آیت میں آرہا ہے ۔
Ayah 15:28فرشتوں سے کہا گیا کہ میں اس سوکھ کر بجنے والی مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں :
28۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا خیر کی الگ طاقت کا نام انسان نہیں ہے اور اس طرح شرک کی الگ طاقت کا نام بھی انسان نہیں تھا ۔ اب جب دونوں قسم کے قوی کو جمع کردیا تو اس کرشمہ سازی سے جو مجسمہ تیار ہو کر کھڑا ہوگیا بس اس کا نام انسان تھا ‘ ہے اور رہے گا ۔ اب اس طاقت کو جو سراسر خیر ہی خیر ہے اور سراسر شر ہی شر ہے حکم دیا گیا کہ اس مجسمہ خیر وشر کی فوقیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس علت کی بنا پر سجدہ ریز ہوجا جب کہ میں اس کو ایک مجسمہ کی صورت بنا کر صحیح اور درست کر دوں ، گویا یہ ایک وعدہ تھا جو تخلیق آدم سے پہلے ان دونوں طاقتوں اور قوتوں سے لیا گیا اور پھر یہ بھی کہ ایک ہی قوت کا نام لینے میں دوسری خود بخود اس میں آگئی کیونکہ ایک کے وجود کیلئے دوسری طاقت لازم آتی ہے جس طرح 24 گھنٹے کا دن شمار ہو تو رات اس میں خود لازم ہوتی ہے اور اس سے کسی کو یہ غلط فہمی کبھی نہیں ہوئی کہ شاید 24 گھنٹے کا دن جو کہا گیا تو رات وہاں موجود نہ رہی ہوگی یا رات کا وجود ختم ہوگیا ہوگا یا یہ الفاظ بولنے والے کے غلط ہوں گے کیونکہ 24 گھنٹے کا دن تو آج تک جب سے یہ نظام قائم ہوا کبھی ہوا ہی نہیں ۔ قرآن کریم نے جہاں کہیں بھی اس قصہ کو بیان کیا تو اس کاپیرایہ بیان اس طرح رکھا تاکہ لوگوں کو غلطی نہ لگے اور بات کو سنتے ہی اچھی طرح سمجھ جائیں ، مفسرین نے اس بات کو سمجھانے کیلئے اپنے اپنے مذاق کے مطابق بہت لمبی چوڑی بحثیں کی ہیں لیکن ان بھاری بھر کم بحثوں سے مستفید ہونے کیلئے اس ” اٹل بحث “ کو یاد کرنا پڑتا ہے جو علماء کہلانے کیلئے پڑھنا لازم قرار پائی ہے ، ہمارے جیسے کم علموں کے ذہن و دماغ میں آنے والی وہ باتیں نہیں ، لیکن قرآن کریم جو اللہ کا کلام ہے وہ ہم سب کیلئے یکساں حیثیت رکھتا ہے جیسے ان کیلئے وہ اللہ کی کتاب ہے ہمارے لئے بھی ہے اور چونکہ خواص تھے اس لئے انہوں نے خواص کیلئے ضابطے خود گھڑے اور انہیں خود ساختہ ضابطوں کے تحت اس کو سمجھا لیکن معاملہ ان سے بالکل الگ ہے جیسا کہ ان لوگوں کا تھا جن کے ادوار میں ابھی یہ ضابطے تشکیل نہیں دیئے گئے تھے لیکن قرآن کریم کو وہ بلاشبہ ان سے بدرجہا بہتر سمجھتے تھے پھر جب وہ سمجھتے تھے تو آج ہم ان ضابطوں سے ہٹ کر اس فطری طریقہ سے ان کو کیوں نہیں سمجھ سکیں گے ؟
Ayah 15:29جب میں اس کو درست کر دوں تو تم اس کیلئے سربسجود ہوجانا :
29۔ تخلیق انسانی کے متعلق بہت کچھ بیان کیا گیا ہے ہم نے اس کے متعلق پوری تفصیل سورة البقرہ میں بیان کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ، روح کیا ہے ؟ قرآن کریم نے اس کے متعلق دوسری جگہ وضاحت فرما دی کہ یہ احاطہ عقل انسانی سے ماوراء چیز ہے اس لئے اس کا آسان اور جامع جواب یہی ہے کہ وہ امر الہی ہے ، اللہ کا روح انسانی کی اضافت اپنی جانب کرنا اس کے اظہار قدرومنزلت کے لئے ہے اور اس نفخ روح کا نتیجہ ہے کہ روح انسانی میں خلافت الہی کی استعداد پیدا ہوگئی ہے ، اس کی کیفیت وماہیت پر مفسرین نے بڑے عجیب عجیب مناظر پیش کئے ہیں ممکن ہے کہ ان کو کوئی الہام ہوا یا کسی طریقہ سے ان کو مشاہدہ کرایا گیا ہو ، لیکن جب کتاب وسنت میں ایسی کوئی بات نہین تو ہم اپنی طرف سے کچھ کہنا نہیں چاہتے اور یہ بھی کہ ان باتوں کا ہماری زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور جو چیز ہمارے زندگی کے متعلق ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی خواہ وہ کون ہے ‘ امیر ہو یا غریب ‘ عالم ہو یا جاہل ‘ پیر ہو یا فقیر ‘ ولی ہو یا نبی ورسول اس دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں آیا اور نہ ہی یہاں سے کوئی اپنی مرضی سے گیا اور نہ ہی رہتی دنیا تک کوئی اپنی مرضی سے آئے گا یا جائے گا ، لیکن جب ہم آنے والے موجود ہیں تو یقینا ہمارا لانے والا بھی کوئی ہے اور اسی طرح لے جانے والا بھی ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام جس کا ہے اس کا نام ” اللہ “ ہے ۔ اللہ ہی کے لانے سے ہم آئے اور اسی کے لے جانے سے ہم چلے جاتے ہیں اور اس آنے اور جانے پر مجبور محض ہیں ، اگر ہم نیک اعمال کریں اور اخلاق وکردار کو سنواریں تو فرشتے یقینا ہماری گرد کو بھی نہیں پاسکتے لیکن اگر معاملہ دوسرا ہو تو ہم سے زیادہ گیا گزرا اس دنیا میں کوئی جانور کتا اور بلا بھی نہیں ۔ انسان بلاشبہ مسجود الیہ ہے اگرچہ ہم سے بہت ہی کم ہیں جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں ۔
Ayah 15:30تفسیر :
فرشتے اللہ کے حکم کے مطابق فورا سربسجود ہوگئے اور سجدہ شکر ادا کیا :
30۔ فرشتوں کو چونکہ انسان کو درست کرنے بھی بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرما دی تھی اور فرشتوں کو بتانا کیا تھا کہ ان کے مقابلہ کی دوسری طاقت بھی ویسی ہی مخاطب تھی جیسا کہ فرشتے مخاطب کئے گئے تھے لیکن چونکہ وہ مجسمہ برائی تھا اور علم الہی میں موجود تھا کہ شر کی طاقت کبھی سجدہ ریز نہیں ہو سکتی اس لئے اس کا نام نہیں لیا گیا بلکہ نام صرف فرشتوں ہی کا لیا گیا اگرچہ ان کے مقابلہ کی قوتیں اور طاقتیں بھی ان میں شامل تھی جن کی وجہ سے ملائکہ ملائکہ کہلا سکے اگر وہ شر کی طاقتیں اور قوتیں نہ ہوتیں تو ملائکہ کا وجود بذات خود ختم ہوجاتا ۔ اس لئے ایک نام لینا دوسرے کے خود بخود وجود کا اعتراف ہے ۔ خیر کو کس چیز نے بنایا ؟ شر نے اگر شر نہ ہوتا تو خیر کیسے خیر ہوتی ؟ یہ بات قبل ازیں بھی عرض کی جا چکی ہے کہ لوگوں نے اگر اس بات کو سمجھا ہوتا تو ان سوالوں کا کوئی وجود ہی باقی نہ رہتا کہ سجدہ کا جب فرشتوں کو حکم ہوا تو ابلیس کے سجدہ نہ کرنے سے نافرمانی کیسے ہوگئی ؟ جب فرشتوں کا وجود ہی تب قائم ہے کہ جن ساتھ موجود ہیں تو اس لئے جنوں کا یا ابلیس کا نام لینا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ یہ حکم سجدہ سے باہر ہیں اور پھر یہ بات خود بخود واضح ہوگئی جیسا کہ سیاق کلام نے اس کی پوری پوری وضاحت فرما دی کہ حکم سب کو ایک ہی طرح کا ملا تھا اگرچہ نام ملائکہ کا استعمال ہوا کہ وہ ادنی کے مقابلہ میں اعلی تھے جیسا کہ آگے وضاحت آرہی ہے ۔
Ayah 15:31ابلیس نے سجدہ نہ کیا اور اس طرح وہ نافرمانی کا مستحق قرار پایا :
31۔ یہ بدنصیب تو پہلے ہی تھا کیونکہ مجسمہ برائی تھا اور خیر کے مقابلہ کی چیز تھا اس لئے (آیت) ” حماء مسنون “۔ ہی کو دیکھ کر رہ گیا لیکن (آیت) ” نفخت فیہ من روحی “ کے راز کو نہ سمجھ سکا اور اس کی ساری اصلیت اس ایک جملہ سے واضح ہوگئی اور زبان سے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس نے عملی انکار کردیا اور عملی انکار وہ چیز ہے جس کی تردید بھی ممکن نہیں اور عذر بھی پیش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ معذرت کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی اس بات سے عملی انکار کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کا انکار کتنا سخت انکار ہے لیکن ہمارے علماء نے ہم کو اس کی پوری تفہیم نہیں ہونے دی یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا پورا معاشرہ عملی انکار مرتکب ہے اور اسلام کو سچے دل سے ماننے والے عنقاہو چکے ہیں لیکن ہمارے مفیتوں کا فتوی کیا ہے ؟ یہی کہ یہ گنہگار ضرور ہیں لیکن ان کو انکاری نہیں کہا جاسکتا ؟ اس لئے کہ یہ سارے ارکان اسلامی کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ وہ سرہلانے سے ہو یا ” ہوں ‘ ہوں “ کرنے سے اور عملی انکار ان کا اگرچہ موجود ہے لیکن جب تک زبان سے اقرار کرتے ہیں صرف عملی انکار کے مرتکب ہو کر وہ انکار نہیں کہلا سکتے ، یہ مفتیان شرع متین کا فتوی ہے لیکن اس جگہ اس کے قولی انکار سے پہلے اس کے عملی انکار ہی کا ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا ہے کہ ” ابی “ اس نے انکار کردیا یہ انکار اس کا کیا تھا ؟ فرمایا وہ یہ تھا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ ریز نہ ہوا۔
Ayah 15:32ابلیس تجھے کیا بات مانع ہوئی کہ تو سجدہ کرنے والوں سے نہ ہوا ؟
32۔ ارشاد ہوا کہ ابیسا ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا ؟ اگر اس کو حکم نہیں تھا جیسا کہ ہمارے بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ جب ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم ہی نہیں تھا تو پھر اس کی نافرمانی کیا ہوئی ؟ معلوم ہوا کہ جو بات ترجمانوں کو معلوم ہوئی خود ابلیس کو بھی معلوم نہ تھی اگر معلوم ہوتی تو وہ خود یہی اعتراض کرتا جو ترجمان کر رہے ہیں کیا وہ ابلیس سے بھی زیادہ ہوشیار ہیں ؟ بات دراصل وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی کہ مخاطب تھا اس لئے تو اس نے وہ جواب دیا جو آئندہ زیر نظر آیت میں آرہا ہے ۔
Ayah 15:33تفسیر :
ابلیس نے کہا میں ایک انسان کیلئے سجدہ کروں ؟ جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے :
33۔ ابلیس کہنے لگا کہ اے میرے اللہ ! اے میرے رب ! ایک انسان کی فوقیت کو تسلیم کرلوں کہ وہ مجھ جیسے پر فوقیت رکھتا ہے ؟ یہ کیسے ممکن ہے جب کہ وہ خود پرانے کیچڑ کی بجنے والی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ، گویا ایسے حقیر و ذلیل مادہ سے بنی ہوئی مخلوق کیلئے میں سجدہ کروں اور تسلیم کرلوں کہ وہ میرے سے فی الواقع افضل واعلی ہے حالانکہ میں نورانی مادہ آتش سے بنا ہوا ہوں ! آتش کہیں خاکی کے آگے نورانی کہیں ظلماتی کے آگے اپنی سبکی اور ہار مان سکتا ہے ؟ گویا وہ لطیف مادہ کثیف سے افضل و بہتر ہر جہت و اعتبار سے ہوتا ہے اور افضل کو غیر افضل کے آگے کبھی اور کسی اعتبار سے بھی جھکنا غلط ہے ! ابلیس کی ان باطل آرائیوں کی تردید سورة الاعراف میں پوری طرح کی جا چکی ہے ۔ اس لئے کہ وہاں آیت 10 سے آیت 27 تک مسلسل یہی مضمون چلا گیا ہے اور تقریبا 22 ، 23 ، حاشیوں میں اس کی بڑی تفصیل دی گئی ہے ۔ عروۃ الوثقی : جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 10 سے 27 تک ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 15:34فرمایا اللہ تعالیٰ نے ‘ اگر بات ایسی ہے تو نکل جا یہاں سے کہ تو راندہ درگاہ ہے :
34۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر بات ایسی ہے جیسا کہ تو کہہ رہا ہے کہ میں ایک انسان کی فوقیت کو تسلیم کرلوں اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے اس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا لیکن میری پیدائش تو نے آگ سے کی ہے اس لئے ایک اونچی ذات کا آدمی اپنے سے بہت نیچے کے آدمی کی فوقیت مان لے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ بات سنی تو اس کو دھتکار دیا اور فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو تو بلاشبہ مردود ہے ، تو کہاں ذات پات میں الجھ کر رہ گیا ؟ ہمارے ہاں تو ذات پات کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا ۔ یہاں تو فقط اعمال دیکھے جاتے ہیں ، اس میں کتنا بڑا سبق ہے ان لوگوں کیلئے جو آج بھی اپنے آپ کو باپ دادا سمجھتے اور دوسروں کو بغیر باپ دادا کے گردانتے ہیں اور ہم چوما دیگرے نیست کی ڈینگیں مارتے ہیں ، ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ شیطان لعین کی پیروی کرکے کیا کر رہے ہیں ؟ انسانی اوصاف سے دیکھا جاتا ہے اگر اس کے اوصاف اچھے ہیں تو انسان ہے اگر اس کے اوصاف وکردار اچھے نہیں تو وہ انسان کبھی اچھا نہیں کہلا سکتا خواہ وہ نسل کے لحاظ سے کتنا اونچا بنا بیٹھا ہو بلکہ اگر وہ نسل کے اعتبار سے اونچا ہے اور اوصاف کے لحاظ سے کمتر ہے تو وہ کبھی بہتر نہیں ہوسکتا ، آج بھی وہ لوگ جو ذات پات کے لحاظ سے اپنے آپ کو افضل واعلی سمجھتے ہیں جے سے چوہدری اور و ڈیرے خصوصا سادات خاندان کے افراد کہلانے والے وہ یقینا شیطان کے پر وکار ہیں اور ڈھانچہ کے لحاظ سے اگرچہ وہ انسان نظر آئیں ، کردار کے لحاظ سے وہ ابلیس سے کم نہیں .
فرمایا گیا ابلیس سن لے کہ روز جزاء تک تو لعنت کا مستحق ہوگیا :
35۔ لعنت الہی کیا ہے ؟ اوپر گزر چکا ہے کہ لعنت دراصل رحمت الہی سے دوری کا نام ہے ، قیامت تک محاورہ کے لحاظ سے دوام ہے یعنی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تو لعنتی ہوگیا لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ قیامت کے بعد ابلیس کی ملعونیت جاتی رہے گی ، محاورہ زبان سے قطع ویسے بھی ظاہر ہے کہ جو شخص محل رحمت قیامت تک نہ ہو اس کے لئے بعد از قیامت محل رحمت ہونے کی گنجائش ہی کیا ہے ؟ تفصیل کیلئے سورة الاعراف کی آیت 10 تا 27 کا مطالعہ کریں وہاں پوری تفصیل مل جائے گی اور اس واقعہ کے سارے پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے ، انشاء اللہ العزیز سارے شبہات ہوا ہوجائیں گے ۔
Ayah 15:35ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت طلب کرلی کہ اے اللہ مجھے ڈھیل دے دے :
36۔ اس سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے جو غیر اللہ کے دو رازوں کی طرف دھکے کھاتے پھرتے ہیں کہ اللہ ہماری تو نہیں سنتا اس لئے انکے پاس کوئی سفارش لے جانا ضروری ہے کیونکہ وہ اپنے خاص بندوں کی دعاؤں کو خوب سننے والا ہے ، اس آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے جو شیطان کی پکار سن کر بھی اس کو پورا کردیتا ہے جب کہ وہ شیطان ہونے کے باوجود اس کو پکارتا ہے ، پھر ایک انسان جب ہریاں دل لے کر رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوگا اور اس کو اپنا رب سمجھ کر پکارے گا تو وہ اس کی فریاد ضرور سنے گا کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی فریاد رس نہیں بلکہ اس نے خود فرمایا ہے کہ میرے بندے جب میرے متعلق سوال کرے تو آپ کہہ دیں کہ وہ تو بالکل قریب ہے جو ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سنتا اور اس کی حاجت و ضرورت کو پورا کرتا ہے ، پھر جب اس نے خود وعدہ فرمایا تو کیا وہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا ؟ ہرگز نہیں وہ کبھی وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ورزی ہونے دیتا ہے کیونکہ وہ سارے طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے ۔
Ayah 15:36اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو جواب دیا کہ جا تو ڈھیل دیئے گئے ہوؤں سے ہے :
37۔ فرمایا ابلیس ! تو نے مہلت طلب کی ہے جا ! ہم نے تجھے مہلت دے دی اور یہ ہمارا قانون ہے کہ جو طلب کرتا ہے ہم اس کو دے دیتے ہیں خواہ وہ کون ہو اور کیا کرتا ہو ؟ اور یہاں تو سارا معاملہ ہی تفہیم کا ہے اور ہم کو یہ بتانا ہے کہ انسان کی آزمائش کیلئے ہم نے کات کیا چیزیں تیار کر رکھی ہیں اور ان میں سے ایک ابلیس بھی ہے کہ ہم نے اس کو محض اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ وہ انسان کو اگر گمراہ کرنا چاہے تو کرتا پھرے ہم بھی جب تک اچھی طرح انسان کو آزما نہیں لیتے اس کے لئے ڈھیل پر ڈھیل دیئے جاتے ہیں ۔ اور بار بار ان کو کھٹیالی میں ڈال خوب دھونکتے ہیں اور جب یہ ظاہر ہوجائے اور سب لوگ اس کو دیکھ لیتے ہیں کہ یہ کھرا ہے یا کھوٹا تو اس وقت ہم اس پر کھرا یا کھوٹا ہونے کی مہر ثبت کردیتے ہیں۔
Ayahs 15:37–38اللہ تعالیٰ نے فرمایا مقررہ وقت کے دن تک تجھے مہلت دی گئی ہے ۔
38۔ فرمایا جب تک اس عالم ناسور کی عمر قائم ہے اسے ابلیس تجھ پر گرفت نہ ہوگی ، کیوں ؟ اس لئے کہ تجھ کو محض پیدا ہی انسان کی آزمائش کے لئے کیا گیا ہے ۔ اگر تو نہ ہوتا تو اللہ کے بندوں کی نشانی کیا ہوتی تو مجسمہ نافرمانی کیوں بنایا گیا ؟ اس میں حکمت ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کی آزمائش ہوجائے ، ابلیس کی قوت یا ہستی اگر باقی نہ رہے تو اس عالم ابتلاء کی مصلحتیں ہی فوت ہوجائیں لیکن یہ بھی خوب واضح رہے کہ ابلیس کے ہاتھ میں کوئی قوت خیر استبداء کی نہیں صرف بہلانے پھسلانے اور سبز باغ دکھانے کی ہے ، گویا وہ بزور کسی کو برائی پر نہیں لگا سکتا ہاں ترغیب دے سکتا ہے اور شہد پر انگلی لگا سکتا ہے اور پھر نتیجے کا انتظار کرتا ہے اور یہاں اس نے مہلت مانگی تھی اور اس کی خواہش کے مطابق دی گئی ۔
Ayah 15:39کہنے لگا اے اللہ ! تو نے مجھے جب گمراہ کردیا تو میں بھی اپنا کام کروں گا :
39۔ کہنے لگا اے اللہ ! جب جہالت کا ٹھپہ مجھ پر لگ ہی گیا ہے تو اب میں بھی ان لوگوں کو زینت دوں گا ہاں ! انہی لوگوں کو جن کو تو نے مجھ پر فوقیت دی ہے ، کتناان جھک اور شرارتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو براہ راست مخاطب فرما کر کتنی بڑی بات کہہ دی کہ اے اللہ ! جب تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا یعنی تیرے قانون کے مطابق مجھ پر فتوی صادر ہوگیا اور تیری مشیت کا جو فیصلہ تھا وہ پورا ہوگیا تو اب میں بھی ان کی دنیا کی زندگی انہیں اچھی کر کے دکھاؤں گا ۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیوی زندگی کو ہی اپنا اصل مقصد بنالیں گے ” لاغوینھم “ میں جو لفظ استعمال ہوا اس کی اصل غی ہے اور غی کی معنی وہ جہالت ہیں جو اعتقاد فاسد سے پیدا ہو اور غوی کے معنی خاب یعنی ناکام ہو اور اغواء کے معنی ناکام رکھنے کے ہیں یعنی اصل مقصد زندگی کی طرف ان کی توجہ نہ ہونے دوں گا اور یوں انہیں اس مقصد کے حصول میں ناکام رکھوں گا ، اس نے ایسا کیوں کہا ؟ اس لئے کہ اس کو معلوم تھا کہ میں باعث آزمائش ہوں اور وہ جو مجھے مہلت دی گئی ہے وہ اس قدر پکی بات ہے کہ اب اس کے روک لینے کی کوئی امید نہیں کیونکہ وہ ایک لحاظ سے وعدہ ہے جس کا غلط ہونا محال ہے گویا شیطان کو بھی وعدہ الہی کے اس قدر پکے ہونے کی امید ہے جو بالکل سچ ہے لیکن وعدہ الہی پر یقین نہیں آتا تو ہمارے علماء حضرات کو کہ وہ آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکے اس لئے برملا کہتے ہیں کہ اگر اللہ بھی وعدہ کا پابند ہوا تو اللہ ہی کا ہے کا ہوا ؟ اور اس کی طاقت پھر کیا طاقت ہوئی ؟ ابلیس ہے تو شطاعن لیکن اس معاملہ میں اس کی تفہیم بالکل صحیح ہے کہ اللہ کا جب وعدہ ہے کہ میں نے تجھے ڈھیل دی تو اب میں کچھ بھی کہوں گا وہ اپنی دی ہوئی مہلت واپس نہیں لے گا کیونکہ وہ اس کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ، یہی وجہ ہے کہ اس نے بھی بےدھڑک جواب سنایا کہ اے اللہ ! میں ” ایسا کروں گا کہ زمین میں ان کیلئے خوشنمائیاں بنا دوں اور ان سب کو خوب گمراہ کروں “ اللہ کی ڈھیل کیا تھی ؟ انسانوں کیلئے ایک آزمائش تھی تاکہ اللہ کے نیک بندوں اور شیطان کے بندوں میں فرق واضح ہوجائے اور اس طرح کہ جو اللہ کے نیک بندے ہوں گے وہ شیطان کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے اور جو شیطان کے غلام ہوں گے اور اس کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہوں گے وہ نیکی کی طرف رغبت نہیں کریں گے اور آج اگر آپ غور کر کے دیکھیں گے تو ہر طرف شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہی نظر آئیں گے اور بہت ہی کم ہیں جو اللہ کے بندے کہلانے کے مستحق ٹھہریں گے ، تفصیل اس سارے قصے کی سورة الاعراف کی آیات 10 تا 27 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 15:40ہاں ! ان میں جو مخلص بندے ہوں گے وہ میرے بہکانے میں نہیں آئیں گے :
40۔ آیت کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ شیطان نیک بندوں کو پھانسنے کی کوشش ہی نہ کرے گا ‘ نہیں ! جال تو وہ سب پر پھینکے گا بلکہ نیک بندوں پر زیادہ کوشش بھی کرے گا البتہ اللہ کے نیک بندوں پر اس کی کوئی چال بھی کامیاب نہیں ہوگی اور ہر حال میں اس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اس لئے وہ خود ہی اعتراف کررہا ہے کہ اے اللہ ! تیرے نیک بندوں پر میری کوئی چال بھی کام نہیں کرے گی ، لہذا اس کو اس حق بات کے اعتراف میں ذرا جھجھک محسوس نہیں ہوتی اس لئے ہم اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ شیطان کو جھوٹ چلانے کیلئے کچھ نہ کچھ سچ بھی بولنا پڑتا ہے اور وہ بولتا ہے دیکھ وہ کہہ رہا ہے کہ اے اللہ ! وہ بندے جن کو تو نے اپنی عبادت وطاعت کیلئے چن لیا ہے اور شکوک و شبہات کی آلودگیوں سے پاک وصاف ہوچکے ہیں ان پر میرا بس نہیں چلتا ، یہ وہ پاک لوگ ہیں جن کے عزم و استقامت کے سامنے شیطان جیسا خرانٹ بھی ہار ماننے پر مجبور ہے ۔
حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ” ان ابلیس قال یا رب وعزتک وجلالک لا ازال اغوی بنی ادم مادامت ارواحھم فی اجسامھم وقال الرب وعزتی وجلالی لا ازال اغفرلھم ما استغفرونی “ یعنی شیطان نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے تیری عزت و جلال کی قسم جب تک انکی روحیں ان کے جسم میں رہیں گی میں ان کو گمراہ کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھے بھی اپنی عزت و جلال کی قسم جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے میں ان کو معاف کرتا رہوں گا ، اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ انسان جہاں تک ہو سکے گناہ کے کام سے بچتا رہے لیکن اگر اس سے کوئی گناہ ہو ہی جائے تو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ وہ اس کی معافی طلب کرلے کیونکہ معافی طلب کرنے والوں کو معاف کردیا جاتا ہے ۔
Ayah 15:41اللہ تعالیٰ نے فرمایا بس یہی سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچ جاتی ہے ۔
41۔ سیدھا راستہ کیا ہے ؟ فرمایا وہ سیدھا راستہ ایمان و اطاعت واعمال صالحہ کا ہے کہ اس پر چل کر ہی بندہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کوئی راہ ہدایت پر چلنے کا واقعی قصد کرتا ہے اسے وہ راہ ضرور مل جاتی ہے اور قانون الہی بھی یہی ہے کہ ہر وہ شخص جو تلاش کرتا ہے پالیتا ہے ، مفسرین نے کہا ہے کہ ” علی “ بمعنی ” الی “ ہے یعنی مجھ تک پہنچانے والا یہ صراط مستقیم ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ ” ھذا “ کا مشار الیہ اخلاص ہے یعنی جس نے بناوٹ اور ریا ‘ تکلیف اور تصنع سے کلیۃ اجتناب کرتے ہوئے اخلاص کو اپنا شعار بنایا ہے وہی اس راہ پر گامزن ہوا جو سیدھا اس کی ہمارے پاس لے آئے گا ۔
Ayah 15:42بلاشبہ اللہ کے بندوں پر تیرا کچھ بھی زور نہیں چلے گا مگر ہاں ! جو راہ سے بھٹک گئے :
42۔ آیت 40 میں خود ابلیس نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ تیرے بندوں میں میری غوایت اثر نہیں کرے گی اور میرے گمراہ کرنے بھی گمراہ نہیں ہوں گے ، زیر نظر آیت میں اب اللہ تعالیٰ خود ارشاد فرما رہا ہے کہ بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا ، اس آیت سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ کوئی شخص گناہ پر مجبور ومضطر ہرگز نہیں اور توفیق الہی ساتھ ہی تب چھوڑتی ہے جب انسان خود شیطان کی جانب میل قوی رکھنے لگتا ہے ، شیطان کا منتہائے قوت بس یہ ہے کہ دم دلاسا خوب دلا دیتا ہے ، انسان کو فوری لذتوں کی چاٹ خوب دلادیتا ہے بس اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ شیطان نے اوپر جو دعوی کیا ہے کہ میں لوگوں کو گمراہ کروں گا اور سبز باغ دکھاؤں گا تو اس سے یہ گمان پیدا ہو سکتا تھا کہ شیطان کو بھی کچھ قوت واقتدار حاصل ہے ، آیت میں اس غلط عقیدہ کی تردید ہے اور اعلان ہے کہ شیطان کا زور کسی بندہ پر بھی نہیں خواہ وہ برگزیدہ ہو یا غیر برگزیدہ ہاں ! البتہ جو بندہ خود ہی شیطان کی راہ پر چلنے لگے تو اسے اختیار ہے ، غرض اس آیت سے حق تعالیٰ نے خود شیطان کی بھی ممکنہ غلط فہمی دور کردی ہے اگر کوئی غلطی فہمی اس کو تھی ؟
Ayah 15:43جو شیطان کے بندے ہیں ان کیلئے جہنم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وعدہ ہے :
43۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا جارہا ہے کہ جو لوگ شیطان کے جال میں پھنس گئے ہماری طرف سے ان کیلئے دوزخ کا اعلان کیا جاتا ہے کہ شیطان وابلیس کے دام فریب میں آنے والوں کیلئے دوزخ کا وعدہ کیا جارہا ہے بلا امتیاز کہ وہ کون ہوں گے اور کیسے ہوں گے اور تفصیل انسب کی ہم نے سورة الاعراف میں بیان کردی ہے الاعرف کی آیات 10 تا 27 میں ان ساری باتوں کا مفصل ذکر آچکا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 15:44دوزخ کیلئے سات دروازے ہیں اور ہر دروازہ سے خاص گروہ گزرے گا :
44۔ ابواب باب کی جمع ہے ، کسی چیز میں داخل ہونے کا راستہ اور اصل میں مکانوں میں داخل ہونے کا راستہ ہے اور ایک علم کو بھی دوسرے علم کا دروازہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے دوسرے علم تک پہنچا جاتا ہے قرآن کریم میں ہے (آیت) ” فتحنا علیہم ابواب کل شیء “۔ (الانعام 6 : 44) اور ہم نے ان پر ہرچیز کے دروازے کھول دیئے ، مراد اس سے ذرائع ہیں ” ابواب الجنۃ “ اور ” ابواب الجھنم “ مراد وہ باتیں ہیں جن کے ذریعہ سے ان تک پہنچا جائے ۔ (راغب) اور ابواب جہنم سے مراد طبقات جہنم بھی لئے گئے ہیں اور پھر ان سات طبقوں کے نام بھی اس طرح ہیں جھنم ‘ نطی ‘ حطمۃ سعیر ‘ سقر ‘ جحیم ‘ اور ھاویہ اور یہ ساتویں قرآن کریم بطور اسم آئے ہیں اور ہر ایک ان میں کسی وصف کے لحاظ سے دوزخ کا نام ہے اور پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ سات کا عدد عامل کے طور پر ذکر کیا گیا ہے یعنی ہر زبان میں 7 ‘ 70 ٗ 100 ‘ 700 اور ہزار کے اعداد بولے جاتے ہیں جن سے مراد ” بہت “ لی جاتی ہے ، اگر اس سے مراد سات طبقات ہیں تو ہر طبقہ میں تدریجا عذاب زیادہ ہوتا جائے گا اور مختلف گناہوں والے اپنے اپنے گناہوں کی سینگنی کے مطابق الگ الگ حصوں میں ڈالے جائیں گے ۔ اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔
Ayah 15:45پرہیزگار لوگ چشموں اور باغوں میں ہوں گے :
45۔ بدبختوں کے ذکر کے بعد نیک بختوں کا ذکر شروع کردیا گیا ، زیر نظر آیت سے نیک بخت اور نیک سیرت ونیک کردار لوگوں کا ذکر ہے کہ یہ لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ، آخرت کے خانہ عیش و راحت کیلئے قرآن کریم نے عموما جنت اور بعض جگہ روضہ کا لفظ استعمال کیا ہے ‘ نادان اس کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ عرب کے شور وبے حاصل صحرا کے بسنے والوں کی انتہا کی آرزو چونکہ سرسبز و شاداب باغوں ہی کی ہو سکتی ہے اس لئے ان کیلئے یہ لفظ اس مقام پر آخرت کیلئے قرآن کریم نے استعمال کیا ہے مگر یہ سمجھنا چاہئے کہ قرآن کریم کا مخاطب صرف عرب ہی نہیں بلکہ دنیا کا گوشہ گوشہ ہے اس لئے عرب کی تخصیص بےمعنی ہے ، کیا دنیا کے سرسبز و شاداب ملکوں کے بسنے والوں کیلئے تخیل باغ دراغ اور رنگ وگل کی بہار پسندیدہ نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ یہاں بیابان وگلستان کی تخصیص نہیں ‘ یہ فطرت انسانی کی تصویر ہے انسان کسی خطہ ارضی میں بھی آباد ہو مگر وہ سرسبز و شاداب قطعات باغ و بہار اور کنار آب ونہر کو عیش ومسرت کا مقام سمجھتا ہے اور ان کو دیکھ کر اندر سے اس کی روح وجد کرتی ہے ۔
اس استعارہ کے استعمال کا ایک نکتہ بھی توجہ کے قابل ہے انسان کا گھر وہ عیش خانہ ہوتا ہے جس میں حزن وغم کی آمیزش بھی شامل ہوتی ہے اہل و عیال اور دولت ومال کے متعلق ہر قسم کی فکریں اس کے دل کے دامن میں لپٹی ہوتی ہیں مگر جب انسان سیر و تفریح کیلئے باغ وچمن کا رخ کرتا ہے تو تھوڑی دیر کیلئے وہ ہر غم کو بھول جاتا ہے اور ہر تعلق کو دل سے نکال دیتا ہے اور ایسا شاداں وفرحان جاتا ہے کہ غم والم اس کے ہر گوشہ خاطر سے دور ہوجاتے ہیں ۔ قرآن کریم کی وحی الہی نے اس لفظ کو اس لئے استعمال کیا ہے تاکہ اس سے اخروی عیش ومسرت شادابی و خوشی اور فراغ خاطر کی پوری تصویر کھنچ جائے ۔
Ayah 15:46سلامتی کے ساتھ باطمینان ان باغوں میں داخل ہو جاؤ :
46۔ یہ حقیقت بار بار دہرائی جاچکی ہے کہ عالم آخرت کی اشیاء کی اشیاء کو جن دنیاوی الفاظ سے ادا کیا گیا ہے ان سے مقصود بالکل وہ نہیں ہے جو ان لفظوں سے سمجھنے کے ہم عادی ہیں بلکہ ان اخروی اشیاء کو ان دنیاوی الفاظ سے اس لئے ادا کیا گیا ہے کہ وہ ان سے خاص مناسبت رکھتی ہیں اور جب ان چیزوں کا نام نہ لیا جائے تو ہم ان انعامات کو بالکل سمجھ نہیں سکتے کیونکہ ان چیزوں سے ہمارا تعارف نہیں اور ان چیزوں سے تم متعارف ہوچکے ہیں ان چیزوں کے لطف سے ہم قطعا نا آشنا ہیں اور ان چیزوں کے لطف سے ہم پوری طرح آشنا ہیں بس اسی مناسب سے ان کے یہ نام رکھے گئے ہیں ورنہ اس جہان کی چیزوں سے ان چیزوں کی نسبت کیا ؟ اس لئے ان چیزوں کو بیان کرنے کیلئے ان چیزوں کے ساتھ مشابہت وتشبیہہ دینے کیلئے ہم مجبور محض ہیں ورنہ ان چیزوں کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ‘ کسی کان نے سنا نہیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا تصور بھی ممکن نہیں ۔
Ayah 15:47جنتیوں کے دلوں میں جتنی کدورتیں تھیں سب نکال دی جائیں گی :
47۔ دنیا میں جو کچھ ان کے ایک دوسرے کے متعلق کدورتیں اور کینہ وغیرہ کے طبعی اسباب موجود تھے وہ سب کے سب ان سب لوگوں کے دلوں سے محو کردیئے جائیں گے جو متقی وپرہیزگار تھے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ دنیوی زندگی کی بعض کدورتیں ایسی بھی ہیں جو طبعی یا فطری ہیں اور ان کو دور کرنے کی کتنی بھی فکر کی جائے پھر ان کا بقیہ دلوں میں رہنا ممکن ہے لیکن آخرت میں وہ بھی ممکن نہیں اس لئے دوسری جگہ اس کو ” قیل سلاما سلاما “۔ ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی سے تعبیر کیا گیا ہے ، اس جگہ فرمایا گیا ہے کہ ہم اہل جنت کے دل صاف و شفاف کردیں گے اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی نفرت قطعا نہیں رہے گی بلکہ ان سب کے دل صاف و شفاف کردیئے جائیں گے اور وہ سب آپس میں شیر وشکر ہو کر رہیں گے ۔ اہل حق کے درمیان اگر طبعی اسباب سے ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیاں ‘ غلط فہمیاں اور ناگواریاں پیدا ہوجائیں تو یہ تقوی کے ذرا بھی منافی نہیں تاہم یہ دنیوی زندگی کی ایک تلخ چیز ضرور ہے جو آخرت کی زندگی میں مطلق نہیں ہوگی ، گویا دنیا میں دو آدمیوں کا پس میں کھچے کھچے رہنا ممکن ہے بلکہ عام ہے اور بعض اوقات دل میں ایک دوسرے کے متعلق حسد اور منافرت بھی پیدا ہوجاتی ہے لیکن آخرت میں دل ان چیزوں سے بالکل پاک وصاف کردیئے جائیں گے ۔
اس سے بعض صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین اور تابعین (رح) اور اللہ کے نیک بندوں کے درمیان جو مناقشات پیدا ہوگئے تھے ان کو محو کردینے کا اعلان فرما دیا گیا ، افسوس کہ اللہ تعالیٰ تو ان کے دلوں کو پاک وصاف کردینے کا اعلان فرما رہا ہے لیکن ہمارے بھائی ہیں کہ وہ ان کو ختم کرنے کی بجائے آپس میں جنگ وجدال اور طرح طرح کے جھگڑے کر رہے ہیں اور ایک دوسرے پر فضیلت دینے کے چکر میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ ان کے واپس آنے کی کوئی شکل و صورت بظاہر دکھائی نہیں دیتی ، اللہ تعالیٰ ہم کو سمجھ دے اور ہم اپنے ہاتھوں جہنم کا سامان مہیا کرنا چھوڑ دیں اور سب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کیلئے رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کہہ کر اپنے دلوں کی زمین کو بھی صاف کرلیں کیونکہ وہاں تو سب کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہی بیٹھنا ہوگا ، اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو یہاں بھی مل بیٹھنے کی عادت ڈالو اور تبرا وبیزاری کا اظہار نہ کرو اور سلامتی سے رہو۔
وہاں ان کو کوئی صدمہ بھی نہیں پہنچے گا وہ جگہ صدمات کی نہیں :
Ayah 15:4848۔ کسی صاحب دل نے جنت کی یہ تعریف خوب کی ہے کہ ۔
بہشت آنجا کہ آزارے نباشد۔
دنیا میں کوئی بڑی سے بڑی مسرور زندگی بھی ایسی نہیں مل سکتی جس کے پہلو میں مسرت کے پھول کے ساتھ غم کا کوئی کانٹا نہ چبھ رہا ہو یا تو موجودہ مسرت کے آئندہ ختم ہوجانے کا خوف ہے اور یا پھر گزشتہ ناکامی کا افسوس ہے ۔ اس بناء پر یہاں کی کوئی خوشی بھی کامل نہیں ، مگر جنت وہ مقام ہوگا جہاں نہ ماضی وحال کا غم ہوگا اور نہ مستقبل کا خوف ہوگا ، چناچہ اہل جنت کے متعلق بار بار ارشاد ہوا کہ (آیت) ” لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ ” نہ ان کو خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے ۔ “ اور یہی بہشت کی سب سے بڑی نعمت ہوگی اور اس میں جسمانی اور روحانی سب قسم کی نعمتیں داخل ہیں ، دنیا میں کوئی انسان اس وقت تک کوئی لقمہ گلے سے نہیں اتار سکتا اور نہ کوئی چیتھڑا بدن پر رکھ سکتا ہے جب تک اس کے سر کا پسینہ پاؤں تک نہ آجائے ، دنیا کی تمام فانی مسرتیں ہماری فانی کاوشوں کا فانی نتیجہ ہیں اور یہ محض اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم ہے کہ وہاں ہم کو ہماری آسائش کا تمام سامان اس قسم کی ادنی زحمت ومشقت اٹھائے بغیر میسر آئے گا جس کے بغیر دنیا میں کوئی انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا اور جس کی کشمکش سے یہ دنیا ہر انسان کیلئے دوزخ بنی ہوئی ہے ۔ چناچہ اہل جنت جنت میں داخل ہو کر اور شاہانہ تزک واحتشام اور لباس وزیور سے آراستہ ہو کر رب العزت کی تعریف کا ترانہ گائیں گے ۔ انشاء اللہ العزیز ۔
Ayah 15:49اس بات کا اعلان کہ اللہ ہی اصل میں بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے :
49۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کب نہیں اور کہاں نہیں ؟ مگر دنیا کے فطری قانون کے بموجب اس دنیا میں ایسے واقعات اور حادثے بھی پیش آجاتے ہیں جن کو ہم رحمت کے بجائے قہر الہی سے تعبیر کرتے ہیں ‘ پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ خود ہم کو ہمارے اعمال کی بدولت خداوند تعالیٰ کے قہر وغضب میں مبتلا ہونا پڑتا ہے ‘ لیکن ایک عالم وہ ہے جہاں اس کی رحمت کے سوا اس کے قہر وغضب کا نام ونشان بھی نہ ہوگا وہاں ہر طرف اس کی رحمت اور فیض وکرم کی بارش ہوگی اور اس کی رحمت کے سوا وہاں کوئی اور منظر کہیں اور کبھی دکھائی نہ دے گا ، چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” یبشرھم ربھم برحمۃ ورضوان و جنت لھم فیھا نعیم مقیم “۔ (التوبہ 9 : 21) ” انکا پروردگار ان کو اپنی رحمت خوشنودی اور ان باغوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کیلئے ہمیشہ کا آرام ہے ۔ “ اور اہل جنت کو جن کے چہرے خوشی سے دمکتے ہوں گے ‘ یہ آواز سنائی دے گی (ففی رحمۃ اللہ ھم فیھا خلدون “۔ (ال عمران) ” وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے اور اس میں وہ سوار رہیں گے ۔ “
Ayah 15:50میرے بندوں کو یہ بھی بتا دو کہ بلاشبہ میرا عذاب بھی بڑا دردناک ہے :
50۔ آخرت میں جزاوسزا تمام تر تمثیل ہوگی اور اس تمثیل کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ جیسا عمل ہوگا اس کے مناسب ومشابہ اس کی جزا وسزا ہوگی مثلا قرآن کریم میں ہے کہ جو لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے یعنی اپنے مال کا میل کچیل مستحقین کو کھانے کیلئے نہ دے گا تو اس کو دوزخ میں زخموں کا دھو ون کھانے کو ملے گا اور ” لترتھوہر “ اس کی خوراک ہوگی ، وہ دولت مند جس کی دھوپ کی تپش سے بچنے کیلئے قصر ومحل اور پینے کیلئے ٹھنڈے سے ٹھنڈا پانی اور عزت کی جگہ عنایت کی گئی تھی اگر اس نے دنیا میں ان نعمتوں کے ملنے کا حق اس دنیا میں ادا نہ کیا تو دوسری دنیا میں اس کو یہ سامان ملے گا کہ وہ ” لو اور کھولتے پانی میں ہوں گے ‘ دھوئیں کے سایہ میں کہ نہ وہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی باعزت کیونکہ انہوں نے باعزت رہنے کی کیا قیمت ڈالی ۔ “ غور کیجئے کہ اس سے زیادہ اور دردناک عذاب کیا ہوگا ؟ حدیث میں ہے کہ اہل تکبر قیامت کے روز چیونٹیاں بنا کر اٹھائے جائیں گے جن پر ہر طرف سے ذلت و خواری چھائی ہوئی ہوگی ، معلوم ہوا کہ تکبر کی سزا ذلت و خواری سے ملے گی اور چیونٹیوں سے زیادہ حقیر و ذلیل کوئی ہستی اور بھی ہے ؟ یہ حدیث ترمذی کتاب الزہد والرقاق ص 410 پر ہے ، اس طرح ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو بخل کرے گا قیامت کے روز اس کا مال سانپ بن کر اس کو ڈسے گا ۔ “ (صحیح بخاری) کیا یہ عذاب اہم نہیں ہے ؟
Ayah 15:51ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر کیا جارہا ہے جنہوں نے بیٹے کی خوشخبری سنائی تھی :
51۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا وہی قصہ ہے جس میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو آنے والوں نے علیک سلیک کی تو آپ اٹھے اور انکی میزبانی کیلئے بچھڑا بھون کر لائے لیکن انہوں نے اس کی طرف ہاتھ ہی نہ بڑھایا ‘ آپ کو خوف ہوا کہ مہمانوں نے ایسا کیوں کیا ؟ مہمان بھی بات کو سمجھ گئے تو انہوں نے کہا کہ ہم تو آپ (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دینے کیلئے آئے ہیں چناچہ انہوں نے آپ (علیہ السلام) کو یا آپ (علیہ السلام) کی اہلیہ کو بیٹے کی خوشخبری سنائی اور آپ (علیہ السلام) کے یہ بیٹے ہیں جن کا نام اسحاق رکھا گیا ، اس واقعہ کی پوری تفصیل ہم سورة ہود کی آیت 69 تا 75 میں بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور سورة ہود اسی جلد میں ہے ۔
Ayah 15:52مہمانوں نے آپ (علیہ السلام) کو السلام عیکمل کہا لیکن آپ (علیہ السلام) ان سے ڈر گئے :
52۔ چونکہ علیک سلیک کے بعد آپ بغیر کچھ پوچھے ہی وہاں سے تشریف لے گئے اور ان کی میزبانی کیلئے کھانا تیار کرا لائے اور جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو اس وقت وہ مہمانوں سے ڈرے کہ یہ کی ماجرا ہے کہ وہ کھانا کیوں نہیں کھا رہے ؟ اس جگہ اختصار ہے اس لئے ان مہمان کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ ” وجلون “ جمع ہے ” وجل “ کی اور وجل اس ڈر یا خوف کو کہتے ہیں جس کا اثر دل میں محسوس ہو جس کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ ” دل کانپ گیا “ یہ وہ صورت ہوتی ہے جب انسان ” ہکا بکا “ رہ جاتا ہے اور اس کے چہرہ سے اس کے اثرات ظاہر ہوجاتے ہیں اور وہ کچھ بول نہیں سکتا گویا حیران و ششدر رہ جاتا ہے ۔
Ayah 15:53ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں نے آپ (علیہ السلام) کو کہا کہ ڈرو مت :
53۔ مہمان کون تھے ؟ اللہ تعالیٰ کے وہ فرشتے جو سارے انسانوں کو دکھائی نہیں دیتے بلکہ صرف انبیاء کرام (علیہم السلام) ہی ان کو دیکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ملک نبوت ہی سے دیکھے جانے والے ہوتے ہیں ، ہاں ! ان کے مثال وجود بعض اوقات دوسرے انسانوں کو بھی نظر آتے ہیں لکنہ اس وقت وہ کبھی پہچانے نہیں جاتے ، بہرحال ان مہمانوں نے کہا کہ آپ ڈریں مت ہم تو فرستادہ الہی ہیں جو آپ کو خبر دینے کیلئے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا کرنے والا ہے ، اس کا نام آپ اسحاق رکھنا ، اس سلسلہ میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جہاں بھی قرآن کریم میں ” غلام علیم “ کا ذکر آیا تو اس سے مراد اسحاق ہی ہوں گے اور جہاں کہیں بھی ” غلام حلیم “ بیان ہوا تو اس سے مراد اسمعیل (علیہ السلام) ہوں گے چونکہ یہ خوشخبری آپ (علیہ السلام) کو دونوں بار دی گئی پہلی خوشخبری میں ” غلام حلیم “ کی خوشخبری دی گئی جس سے مراد اسمعیل (علیہ السلام) ہیں جو اسحاق (علیہ السلام) سے تقریبا 13 تا 18 سال بڑے بتائے گئے ہیں ۔
Ayah 15:54ابراہیم (علیہ السلام) نے انکی خوشخبری سن کر کہا کہ یہ کیسی خوشخبری دے رہے ہو ؟ :
54۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ ایک بڑی مدت کے بعد تو اللہ تعالیٰ نے اسمعیل دیا تھا اور اب تو اس کو پیدا ہوئے بھی ایک عرصہ گزر گیا اور میں اگرچہ اس وقت بھی بوڑھا تھا لیکن اب تو پہلے سے بھی زیادہ بوڑھا ہوگیا اب یہ خوشخبری کیسے ؟ پھر یہ جو تم سارہ کے بطن سے بیٹے کی خوشخبری سنا رہے ہو تو یہ بات مزید حیران کن ہے کہ وہ تو بظاہر سن یاس کو پہنچ چکی ہے ۔
Ayah 15:55ہم تو یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے سنا رہے ہیں اور آپ (علیہ السلام) مایوس ہو رہے ہیں :
55۔ یہ خوشخبری کسی ڈاکٹر یا طبیب کی طرف سے نہیں یہ تو اللہ عالم الغیب والشہادۃ کی طرف سے دی جارہی ہے کسی انسان کی طرف سے نہیں اور کیا اللہ کی دی گئی خبر سن کر بھی کوئی انسان (نبی (علیہ السلام) ورسول (علیہ السلام) ناامید ہوسکتا ہے کہ معلوم نہیں ایسا ہوگا بھی یا نہیں جب کہ وہ انسان کے ظاہری اور باطنی سارے قوی سے پوری طرح واقف ہے ۔
Ayah 15:56ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں ناامید تو نہیں اور رحمت الہی سے مایوس کون ہوتا ہے :
56۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے انکو جواب دیا کہ میں اور رحمت الہی سے مایوسی ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ رحمت الہی سے مایوس تو سب گمراہیوں سے بڑی گمراہی ہے ۔ اگر وہ ہم کو بےموسم کے پھل دینا چاہتا ہے تو ہم اس کے مزید شکر گزار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ یہ رحمت تو ہم پر پہلے بھی کرچکا ہے اور اب بھی ہم اس کے فضل و کرم پر چشم امید لگائے بیٹھے ہیں ، آئے جس کو وہ بھیجنا چاہتا ہے ہم اس کا استقبال کریں گے ۔
Ayah 15:57تفسیر :
اے فرستگان تم تو بہت اہم خبر لے کر آئے ہو :
57۔ ” اے آمدنت باعث آبادی ما “ اے آنے والو ! تم نے بہت ہی اہم خبر ہم کو پہنچائی ہے اس خبر کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” وبشروہ بغلم علیم ‘ ، فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصکت وجھھا وقالت عجوز عقیم “۔ (الذاریات 51 : 28 ‘ 29) اور اسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا ‘ یہ سن کر اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنے منہ پر زور دار ہاتھ مارا اور کہنے لگی ” میں تو بوڑھی بانھ ہوں ۔ “ ظاہر ہے کہ سارہ کو تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان دونوں کے ملنے سے جو صورت حال واقع ہوئی اس کا بیان اس آیت میں کیا گیا ہے لیکن اس خوشی کے تعجب پر ایک نہایت افسوس کا تعجب بھی سن لیجئے کہ قرآن کریم کی یہی وہ آیت ہے جس سے ہمارے شیعہ بھائیوں نے پیٹنے ‘ ماتم کرنے اور چھریاں چلانے کا جواز تلاش کیا اور وہ اس کو لے کر بیٹھ گئے اور اپنی مجالس کو خوب رلایا اور اپنے سارے کام کا جواز قرآن کریم کی اس آیت سے اخذ کیا کہ دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی بھی تو پیٹتی رہی ۔ کوئی پوچھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کیوں پیٹی ؟ بیٹے کی خوشخبری سن کر ۔ ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ وہ تو خوشی سے چیخی اور منہ پر ہاتھ مارا جب کہ عموما عورتوں کی عادت ہوتی ہے لیکن تم کو کیا ہوگیا کیا تم بھی امام ؓ کی شہادت کی سن کر خوشی ہوگئے اور اس خوشی میں آج تک پیٹا کرتے ہو ؟ غور کیجئے کہ بات کیا تھی اور یاروں نے کیا بنالی ؟
Ayah 15:58مہمانوں نے کہا ہمارا مقصد ایک اور اطلاع بھی ہے کہ ہم مجرموں کی طرف بھیجے گئے ہیں :
58۔ یہ مجرم کون ہیں ؟ اس سے مراد لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے اور آگے آنے والی آیت میں اس کی پوری وضاحت بھی موجود ہے ، ہم لوط (علیہ السلام) کو مطلع کرنے کیلئے بھی بھیجے گئے ہیں ان کی قوم کی بداعتدالیوں کا یہ عالم ہے کہ اب ان کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے ہم اس وقت کا الاؤنس کرنے کیلئے لوط (علیہ السلام) کے پاس جا رہے ہیں ۔ دوسری جگہ ابراہیم (علیہ السلام) کے جھگڑے کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور پھر یہ بتایا گیا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ آچکا ہے اس لئے اس طرح کا جھگڑا ایک بےفائدہ بات ہے اور انجام کار بھیجے گئے لوط علہن السلام کے پاس پہنچ گئے اور جو ہونا تھا وہ ہوگیا ۔
Ayah 15:59لوط (علیہ السلام) لوگوں کو بچانے کیلئے ان کو ہجرت کر جانے کا حکم دیں گے :
59۔ فرستادوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) سے فرمایا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی طرف جا رہے ہیں ہمارا یہ پروگرام مرتب ہے جس میں ترمیم کی اب کوئی گنجائش نہیں ، لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل ہونے والا ہے اس لئے مقررہ وقت سے پہلے ہم وہاں پہنچ کر لوط (علیہ السلام) کو وہاں سے اپنے لوگوں سمیت نکل جانے کی اجازت دیں گے اور وہ وہاں سے نکل چکیں گے تو اس کے بعد ” دمادم مست قلندر “ ہوجائے گی ۔
Ayah 15:60ہاں ! لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی اس عذاب الہی کی لپیٹ میں آنے والی ہے ۔
60۔ ہاں ! ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہم لوط (علیہ السلام) کو ساری بات بتادیں کہ اللہ کے حکم میں یہ بات بھی ہے کہ لوط (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے سارے لوگ وہاں سے ہجرت کرکے نکل جائیں گے اور وہ ہماری اس اطلاع کو خبر پا کر وہاں سے نکل جائیں گے مگر آپ (علیہ السلام) کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی اور پھر ظاہر ہے کہ اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو دوسرے لوگوں کا ہوگا ۔
Ayah 15:61اب بھیجے گئے لوط (علیہ السلام) کے لوگوں کے پاس پہنچ گئے :
61۔ فرستدگان رب العزت (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر لوط (علیہ السلام) کے لوگوں کے پاس پہنچ گئے اور جو حالات وہاں معرض وجود میں آئے ان کی پوری تفصیل سورة ہود کی آیت 77 سے 82 تک بیان کی گئی ہے کہ لوط (علیہ السلام) مہمانوں کو دیکھ ناخوش ہوئے اس باعث کہ اب یہ بدمعاش پارٹی مجھے تنگ کرے گی اور پھر ان بدکاروں نے جو حملہ آپ کے گھر پر کیا اس کا ذکر بھی کیا گیا اور انجام کار فرستادگان نے صاف صاف بتادیا کہ آپ اے لوط ! فکر نہ کریں ان بدکاروں کو انکے انجام تک پہنچانے کی خبر لے کر ہی تو ہم آئے ہیں ۔ آپ رات کے پہلے حصے میں ہی یہاں سے نکل جائیں اس لئے کہ آج صبح تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کو ہوجانا ہے ۔
Ayah 15:62لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو تم کو نہیں پہچانتا کہ تم کہاں سے آئے ہو ؟ :
62۔ فرستادگان الہی کو دیکھ کر لوط (علیہ السلام) پہچان بھی نہ سکے اور ان کو صاف صاف کہہ دیا کہ بھائیو ! میں تو تم کو دیکھ کر پہچان بھی نہیں سکا کہ تم کون ہو ؟ کیونکہ ہمارے قریب کے رہنے والے تو آپ نہیں ہیں ورنہ تم میرے تو واقف ہوتے اور تم مسافر بھی نظر نہیں آتے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ تم پر سفر کا کوئی اثر ونشان نظر نہیں آتا۔
Ayah 15:63فرستادگان نے کہا کہ ہم تمہاری قوم کے لوگوں کا شک نکالنے کیلئے آئے ہیں :
63۔ فرستادگان نے لوط (علیہ السلام) سے عرض کی کہ دیکھو ہم وہ چیز لے کر آج تمہارے پاس آئے ہیں جس کے متعلق تم اپنی قوم کو بتاتے تھے اور وہ اسے تسلیم کرنے کیلئے تیار نہ تھے بلکہ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ اس عذاب کو لے کیوں نہیں آتے ہو ؟ خالی دعو وں پر ہم کو ٹرخاتے رہو گے یعنی تم جب ان کو ڈراتے تھے تو وہ الٹا مذاق اڑاتے تھے ، اب وہ وقت آگیا ہے کہ عنقریب ان پر عذاب الہی نازل ہوگا اور انہیں تباہ وبرباد کردیا جائے گا ۔
Ayah 15:64ہمارا آنا امر حق ہے اور ہمارا بیان سوفیصد سچ ہے :
64۔ ہم بحکم الہی آپ ﷺ کے پاس آئے ہیں اپنی مرضی سے نہیں آئے اور جو خبر ہم کو دی گئی ہے وہی آپ (علیہ السلام) تک پہنچا رہے ہیں اور ہمارا کہنا سوفیصد سچ ہے اور ہمارا بیان کردہ وعدہ کوئی لمبا وعدہ نہیں ہے ۔ بس آپ کو یہاں سے ہجرت کرنا ہوگا اور رات کے پہلے ہی حصے کو آپ (علیہ السلام) نے اور آپ (علیہ السلام) کے لوگوں نے ہجرت کر جانا ہے بس آپ (علیہ السلام) یہاں سے نکلے اور عذاب الہی آدھمکا ۔ تم خود سمجھ لو کہ آخر الصبح ہونے میں کتنا وقت باقی ہے ؟
Ayah 15:65لوط (علیہ السلام) اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر کچھ ہی رات گئے گھر سے نکل جاؤ :
65۔ لوط (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ بس کچھ ہی رات گئے آپ (علیہ السلام) گھر سے نکل جائیں اور اپنے لوگوں کو بھی ساتھ لے جائیں ، لوط (علیہ السلام) کہاں گئے یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں اور ضرورت بھی نہیں ۔ تورات کے بیان کے مطابق اس شہر کا نام ” ضغر “ بتایا گیا ہے ۔ (پیدائش : 19 : 22) تورات کے بیان کے مطابق دھوپ نکل چکی تھی کہ لوط اپنے لوگوں کو لے کر ” ضغر “ پہنچ گئے ، مورخین کے کہنے کے مطابق اس نام کا شہر کوئی وہاں موجود نہیں لیکن علماء بابل کا خیال ہے کہ یہ شہر بحر مردہ کے جنوبی ساحل میں واقع تھا ، بہرحال قرآن کریم کے حکم کے مطابق صرف یہ بات ہے کہ ” جس طرف تم کو نکل جانے کا حکم دیا جارہا ہے نکل جاؤ ۔ “ اور مقصود بھی دراصل صرف اتنا ہی ہے کہ لوط (علیہ السلام) اپنے لوگوں سمیت وہاں سے نکل گئے ۔