Ayah 15:66تفسیر :
لوط (علیہ السلام) پر فرستادگان نے حقیقت حال واضح کردی :
66۔ آخر جب عذاب الہی کا وقت بالکل قریب آگیا تو ابتدائے شب میں لوط (علیہ السلام) کو اپنے لوگوں سمیت یہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا اور لوط (علیہ السلام) اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ازیں بعد آپ کی پوری قوم کی سوائے ان لوگوں کے جو آپ کے ساتھ تھے جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی ۔ قرآن کریم جب بھی کوئی قصہ بیان کرتا ہے تو واقعات کو ترتیب دے کر بیان نہیں کرتا ، کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کے نزدیک قصہ گوئی نہیں بلکہ نصیحت آموزی ہے ۔ یہ بات اس لئے کہی گئی کہ زیر نظر آیت میں جو کام ہونا تھا وہ تو معرض وجود میں لا کر بیان کردیا گیا لیکن بطور قصہ لوط (علیہ السلام) کے پاس آپ کے مہمانوں کے آنے کے بعد جو حالات وہاں ہوئے ان کا بیان ابھی باقی ہے جو آنے والی آیت سے شروع ہو رہا ہے حالانکہ قصہ کی رفتار تو یہ تھی کہ مہمانوں کی آمد کے بعد قوم کے بدبختوں نے لوط (علیہ السلام) کو تنگ کرنا شروع کردیا اور لوط (علیہ السلام) نے ان سے کتنی معذرت کی اور اپنی رسوائی نہ کرنے کے متعلق ان کو باور کرایا اور جب وہ باز نہ آئے تو لوط (علیہ السلام) کو بستی سے نکل جانے کا حکم دیا اور پھر جب آپ وہاں سے نکل گئے تو ان کو عذاب الہی نے آگھیرا۔
اس طرف آپ کی توجہ اس لئے مبذول کرائی گئی کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جب دوسری بار غلہ لینے کیلئے آئے اور مصر میں بنیامین کے ساتھ ایک اتفاقی واقعہ پیش آگیا اور بنیامین اس الزام میں روک لئے گئے تو وہاں ارشاد الہی ہوا کہ ہم نے ” یہ تدبیر یوسف (علیہ السلام) کو سکھائی تھی ۔ “ (آیت) ” کذالک کدنا لیوسف “۔ اور مفسرین نے اس سے یہ سمجھا کہ بنیامین کی بوری میں پیالہ رکھ کر جو بنیامین کو روک لیا گیا تو یہ تدبیر ہم نے یوسف کو سکھائی تھی کہ تم اس طرح چوری کا الزام لگاؤ اور پھر اس الزام میں بنیامین کو روک لو حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان تھا جس کو نہ یوسف کرسکتے تھے اور نہ ہی اللہ آپ سے اس طرح جھوٹ بلوا سکتا تھا ۔ دراصل بات وہی تھی جو ہم نے بیان کردی کہ چونکہ بنیامین پر الزام لگ گیا تھا لہذا اس واقعہ کی اللہ نے یوسف (علیہ السلام) کو یہ تدبیر سکھائی کہ آپ ” کن کن دلائل سے یہ بات ثابت کرسکتے ہیں کہ یہ کام بنیامین نے نہیں کیا بلکہ کارندوں سے اتفاقا ہوگیا اور جان بوجھ کر انہوں نے بھی نہیں کیا اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مشیت ایزدی میں جو کام ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے اور کوئی کچھ بھی کرلے لیکن تقدیر کا لکھا نہیں مٹایا جاسکتا اور جس کو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے اور یہ وہی بات ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو سکھائی گئی تدبیر کا ذکر پہلے ہی کردیا جیسا کہ اس جگہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کا پہلے ہی ذکر کردیا ۔
Ayah 15:67تفسیر :
لوط (علیہ السلام) کے پاس مہمان دیکھ کر شہر کے لوگ خوشیاں منانے حاضر ہوگئے :
67۔ جس طرح آج بھی کسی کے مہمان کے ساتھ کوئی زیادتی دراصل اس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے جس کے ہاں وہ مہمان ہوتے ہیں ۔ لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال معلوم کرکے آپ کے مکان کی طرف دوڑے اور جب دروازے بند دیکھے تو دیواروں سے چڑھ کر اندر داخل ہوگئے اور لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کرنے لگے کہ تم انکو ہمارے حوالے کر دو ، حضرت لوط (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا لیکن وہ باتوں سے سمجھنے والے ہی کب تھے ؟
Ayah 15:68لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو سمجھایا کہ دیکھو میری فضیحت نہ کرو :
68۔ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! دیکھو یہ لوگ تو میرے مہمان ہیں اور تم میرے فضیحت ان کے سامنے کیوں کرتے ہو ؟ کیا تم میں کوئی بھی سمجھدار انسان نہیں ہے کہ وہ کم از کم انسانیت ہی کے ناطے سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرے ؟ تم کیوں اس لعنت میں گرفتار ہو اور دائرہ انسانیت سے تجاوز کر رہے ہو ، لوگ شرارتی بھی ہوتے ہیں لیکن تمہاری شرارت دنیا جہاں سے انوکھی شرارت ہے کہ جس بےحیائی کا ارتکاب تم کرتے ہو اور غیر فطری فعل ہے ، کیا تم انسانی فطرت ہی کو مسخ کر کے رہ گئے ہو ۔ باز آجاؤ ورنہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کی لپٹ میں آجاؤ گے اور پھر یقینا تمہارا عذاب بھی دوسرے لوگوں کے عذاب سے کسی الگ ہی طرح کا ہوگا اور بساط اس طرح لپیٹ دی جائے گی گویا کہ تم کبھی اس جگہ آباد ہوئے ہی نہ تھے ۔
Ayah 15:69اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری رسوائی نہ کرو :
69۔ لوط (علیہ السلام) کی ان باتوں کا قوم کے لوگوں پر ذرا اثر نہ ہوا اور وہ دھرنا مار کر بیٹھ گئے اور اپنی حرکتوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بالکل تیار ہوگئے اور انہوں نے بڑا کام کیا تو ایک بار دوبارہ زبان کھولی کہ اے لوط (علیہ السلام) ! تو جانتا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور تجھ کو یہ بھی معلوم ہے کہ جو کچھ چاہتے ہیں وہ کر گزرتے ہیں اتنا لمبا معاملہ کیوں کرتا ہے اور ہمارا مطالبہ پورا کیوں نہیں ہونے دیتا ، ہماری عادت کا تجھ کو پتہ نہیں ہے ؟
Ayah 15:70قوم کے لوگوں نے کہا کہ اے لوط (علیہ السلام) تو جانتا ہے کہ ہم نے تجھ کو باز آنے کا کتنی بار کہا ہے ؟ :
70۔ کیا ہم تجھ کو دنیا بھر کے لوگوں سے منع نہیں کردیا تھا ؟ کہ اجنبیوں اور پردیسیوں کے ٹھہرانے کے ہم روادار نہیں اور تم نے خود ہی ہماری اس مخالفت کی پروا نہ کر کے اور مہمانوں کو ٹھہرا کر اپنے ہاتھوں اپنی رسوائی کرائی ہے اور ہماری متفقہ بات کو توڑ دیا ہے اس لئے تو بذاتہ اپنی رسوائی کا خود باعث ہوچکا ہے یہ بات پیچھے بیان کی جا چکی ہے کہ قوم والے باہر سے آنے والوں کو اپنے ہاں ٹھہرنے نہیں دیتے اور اگر وہ یہ جاننے کے باوجود پھر آتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ضرور یہ بیہودگی کریں گے اور تو کون ہوتا ہے کہ ہم کو ان سے منع کرے اور ان کو ہمارے حوالے نہ کر دے ؟
Ayah 15:71لوط (علیہ السلام) نے دوبارہ انکی توجہ انکی عورتوں کی طرف دلائی :
71۔ لوط (علیہ السلام) نے انکو ان کی ازواج کی طرف توجہ دلائی جیسے شرم دلانے کیلئے بات کہی جاتی ہے لیکن ان کے ہاں شرم نام کی کوئی چیز تھی ہی کب ؟ ” بناتی “ سے کیا مراد ہے ؟ اس پر حایشہ پیچھے سورة ہود کی آیت 79 پر گزر چکا اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اہل امت کی بیاں خود رسول امت کیلئے بہ منزلہ بیٹیوں ہی کے ہوتی ہیں ” ان کنتم فعلین “۔ یعنی اگر تم میری بات ماننے پر عقل و شرافت کے مقتضاء پر عمل کرنے کو تیار ہو شاید آپ کو خیال تھا کہ وہ آبروباختہ گو آپ کی نصیحت پر عمل کریں گے تو عذاب سے بچ جائیں گے ، تم کو اپنی مستی اور خمار جھاڑنے کیلئے اللہ نے فطری عمل جو بتایا ہے اور تمہارے گھروں میں عورتیں جو موجود ہیں تو پھر اس بےغیرتی اور بےحیائی سے باز کیوں نہیں آتے ؟
Ayah 15:72تیری زندگی کے رب کی قسم یہ لوگ اپنی مستی میں بدمست ہوچکے تھے :
72۔ فرمایا یہ لوگ تو جذبات سفلی کی بدمستی میں کوئی بات عقل وفہم کی کیوں سننے لگتے ؟ ” لعمرک “ میں ل قسم ہی کا ہے ، عربی اسلوب بلاغت میں قسم ایک ادبی صنعت وفنکاری ہے اور بہترین ادیب وشاعر اس سے حسب موقع آزادی سے کام لیتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بھی وہی اسلوب اپنایا جو ان کے ادب کا ایک حصہ تھا اور ان لوگوں پر وہ ذرا بھی شاک نہ گزرا اور جو لوگ ہر وقت کیڑے نکالنے کیلئے تیار رہتے تھے انہوں نے بھی کبھی کوئی بات اس سلسلہ میں نہ کہی اور کبھی بھی یہ نہ پوچھا کہ خدا کے کلام میں یہ مخلوقات کی قسمیں کیسی ؟ اور قسموں کے فلسفہ یا ان کی توجیہات عقل پر توجہ صرف عجمی اور ہندی اہل علم ہی نے شروع کی ، رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک کی قسم یا زندگی دینے والے کی قسم جو بھی سمجھ لیں بہرحال آپ ﷺ کی زندگی کی صداقت و پاکیزگی کا جو کافروں کو بھی مسلم تھی بطور گواہ پیش کیا جارہا ہے اور قسم کا یہی مقصد بھی ہوتا ہے ، سارے قصے میں اتنی بات آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرما دی گئی ۔
Ayah 15:73تفسیر :
مختصر یہ کہ صبح ہوتے ہوتے ہی ان لوگوں کا سارا قصہ پاک کردیا گیا :
73۔ آخر شب ہوئی تو سب سے پہلے ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہ وبالا کردیا اور پھر آبادی کے پورے تختہ پر طوفان اور پتھروں کی ایسی بارش برسائی کہ ان کا نام ونشان تک باقی نہ رہا اور ازیں بعد ایک زور دار آواز پیدا ہوئی کہ اس سے اردگرد کے علاقوں کے لوگوں کے دل بھی دہل گئے اور انجام کار ایک ہی بارے اتنے زور سے زلزلہ آیا کہ زمین شق ہو کر رہ گئی اور وہ ساری بستیاں جو لوط (علیہ السلام) کی بستیاں کہلاتی تھیں زمین کے اندر ہی کہیں گھس کر رہ گئیں اور دن چڑھنے تک وہاں وہی بحرمیت تھا جو آج بھی وہاں موجود ہے ۔
Ayah 15:74اس طرح وہ بستیاں زروزبر کرکے رکھ دی گئیں :
74۔ اس طرح ان بستیوں کا اوپر کا حصہ نیچے کر کے رکھ دیا گیا اور ان کو اس شق ہونے والے ٹکڑے کے اندر اوندھا گرا دیا گیا جس طرح دریا یا سمندر کی ” من “ یا ” منڈیر “ گرا کرتی ہے اور تاریخ آج تک ان کی ہلاکت و بربادی پر گواہ ہے چناچہ تورات میں ہے کہ ” تب خداوند نے سدوم اور عمورہ پر گندھک اور آگ خداوند کی طرف سے آسمان سے برسائی اور اس نے ان شہروں کو اور اس سارے میدان کو اور ان شہروں کے سب رہنے والوں کو اور سب کچھ جو زمین سے اگا تھا نیست کردیا ۔ “ (پیدائش 19 : 24 ‘ 25) اور اس طرح قرآن کریم نے اس کی تفصیل میں گئے بغیر بیان فرما دیا کہ ان کا نام ونشان مٹا کر رکھ دیا ۔ اس طرح نہ ظالم رہے اور نہ ہی ان کا ظلم باقی رہا لیکن ان کی داستان آج بھی موجود ہے اور رہتی دنیا تک باقی رہے گی اور جو اس سے نصیحت حاصل کریں گے وہ آج بھی فائدہ میں رہیں گے ۔
Ayah 15:75اس واقعہ میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو پہچان رکھنے والے ہیں :
75۔ ” المتوسمین “ اسم فاعل جمع مذکر مجرور المتوسم مفرد توسم مصدر (باب تفعل) اہل فرات ‘ دیکھنے والے علامات دیکھ کر شناخت کرنے والے توسم کے معنی ہیں علامت دیکھ کر شناخت کرلینا نبی اعظم وآخر ﷺ کی شان میں عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا تھا :
انی توسمت فیک الخیرا اعرفہ واللہ یعلم انی ثابت البصر :
” میں نے اپنی جانی بوجھی ہوئی خوبیاں آپ کے اندر پہلے ہی سے دیکھ کر شناخت کرلیا تھا ‘ خدا گواہ ہے کہ میری نظر غلطی نہیں کرتی ۔ “
اس قصہ لوط (علیہ السلام) میں اللہ کی قدرت وحاکمیت کی اور بدی کی مکافات کی بہت نشانیاں ہیں لیکن ان نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ حاصل کرتے ہیں جو عقل وبصیرت رکھتے ہیں ۔
Ayah 15:76یہ بستیاں ایسی راہ پر واقع ہیں جہاں آنے جانے والوں کی گزر گاہ ہے :
76۔ یہ بستیاں کہاں تھیں ؟ عرب وشام کے درمیان خوب چلتے ہوئے راستہ پر سدوم وعمورہ کے برباد شدہ شہر بحر لوط یا بحر مردہ کے کنارے عین اس راستہ پر واقع تھے جس پر حجاز و شام کے درمیان قافلے برابر آتے جاتے رہتے تھے اور جس سے قرآن کریم کے مخاطبین اول ‘ اہل عرب خوب واقف ومانوس تھے ۔ ” مقیم “ اس راستہ کو کہتے ہیں جو خوب چلتا ہو۔
Ayah 15:77بلاشبہ اس میں ایمان لانے والوں کیلئے بہت ہی نشانیاں ہیں :
77۔ اس میں ان لوگوں کیلئے جو اس کلام کو اللہ کا کلام سمجھتے ہیں بہت ہی نشانیاں ہیں ۔ اس سورت میں تین قوموں کے ایام ووقائع کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ان کے انکار و بدعملی اور شرارت وسرکشی کا نتیجہ کیسے درد ناک عذابوں کی شکل میں ظاہر ہوا اس وقت لوط (علیہ السلام) کی آبادیوں کا ذکر ہوا جن کی آبادیوں پر عرب کے قافلے گزرتے تھے اور ان کی ہولناک ہلاکتوں کے مناظر ان کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھے یعنی قوم لوط جس کی بستیاں عرب اور فلسطین کے درمیان شاہراہ عام پر واقع تھیں اس کے بعد قبیلہ مدین جس کی بستی بحر قلزم کے کنارے تھی اور حجاز سے فلسطین کی طرف جائیں تو ادھر ان کے کھنڈر راہ میں ضرور پڑتے تھے اور تیسری شہر حجر میں بسنے والی قوم یعنی قوم ثمود جس کا مقام بھی اس شاہراہ پر واقع تھا یعنی حجاز اور شام کی شاہراہ پر اور لوط (علیہ السلام) کے بعد انہی دونوں بستیوں کا ذکر آنے والا ہے ۔
Ayah 15:78گھنے جنگل کے باشندے بھی بڑے ہی ظالم تھے :
78۔ یہ لوگ مدین سے متصل رہتے تھے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) ہی کی امت میں شامل تھے ۔ یہ مدین قوم بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد مدین مین جو بنو قطورا میں سے ایک تھے اور انہیں لوگوں کو دوسری جگہ اصحابہ الایکہ یعنی بند والے بھی کہا گیا ہے لیکن بعض ائمہ تفسیر کے ہاں یہ دو قومیں الگ الگ تھیں اگرچہ متقارب تھیں لیکن بعض اقوال ایسے بھی ملتے ہیں کہ ان ناموں کی قومیں مختلف نہیں تھیں بلکہ ایک ہی قوم کے دو نام تھے ، بہرحال یہ لوگ بڑے ظالم تھے ، ایکہ لغت میں گھنے درختوں کی جگہ کو کہتے ہیں ، مدین کا علاقہ بڑا زرخیز اور گنجان آباد تھا ہر طرف باغات اور شاداب درخت دعوت نظارہ دے رہے تھے ۔
Ayah 15:79ان لوگوں کو بھی سزا دی گئی اور ان بستیوں کو تباہ وبرباد کردیا گیا :
79۔ یہ لوگ شام کے متصل ایک ایسی جگہ آباد تھے جس کا عرض البلد افریقہ کے جنوبی صحرا کے عرض البلد کے مطابق پڑتا ہے اور بعض کے نزدیک شام کے متصل معانی کے حصہ زمین پر آباد تھا ، قرآن کریم نے اس قبیلہ کی آبادی کے متعلق ہم کو دو باتوں سے تعارف کرایا ہے ایک یہ کہ وہ ” امام مبین “ پر آباد تھا ” اور لوط (علیہ السلام) کی قوم اور مدین دونوں بڑی شاہراہ پر آباد تھے ۔ “ دوسرے یہ کہ وہ ” اصحاب ایکہ “ گھنے درختوں والے تھے ، عربی میں ایکہ ان سرسبز و شاداب جھاڑیوں کو کہتے ہیں جو ہرے بھرے درختوں کی کثرت کی وجہ سے جنگلوں اور بنوں میں اگی رہتی ہیں اور جھاندے کی شکل اختیار کرلیتی ہیں ، ان دونوں باتوں کی جان لینے کے بعد مدین کی آبادی کا پتہ آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے وہ یہ کہ مدین کا قبیلہ بحر قلزم کے مشرقی کنارہ اور عرب کے مغرب شمال میں ایسی جگہ آباد تھے جو شام کے متصل حجاز کا آخری حصہ کہا جاسکتا ہے اور حجاز والوں کو شام ‘ فلسطین بلکہ مصر تک جانے میں اس کے کھنڈر راہ پر پڑتے ہیں جو تبوک کے بالمقابل واقع ہے ۔
حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) کا یہ خیال ہے کہ یہاں ” ایکہ “ نام کا ایک درخت تھا ، اہل قبیلہ چونکہ اس کی پرستش کرتے تھے لہذا اس کی نسبت سے ” مدین “ کو ” اصحاب ایکہ “ کہا گیا نیز چونکہ یہ نسبت نسبی نہ تھی بلکہ مذہبی تھی اس لئے جن آیات کریمات میں ان کو اس لقب سے یاد کیا گیا ہے ان حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ” اخوھم “ ان کا بھائی یا اس قوم کے نسبی علاقہ سے یاد نہیں کیا گیا البتہ جن آیات کریمات میں قوم شعیب (علیہ السلام) کو مدین کہہ کر یاد کیا گیا ہے ان حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھی انکے نسبی رشتہ میں منسلک ظاہر کیا گیا ہے اور مختصر یہ کہ مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قبیلہ ہے جو باپ کی نسبت سے مدین کہلایا اور زمین کی طبعی اور خفرانی حیثیت سے اصحاب ایکہ کے لقب سے مشہور ہوا ۔
Ayah 15:80دیکھو حجر کے لوگوں نے بھی رسولوں کی بات جھٹلائی :
80۔ ” الحجر “ شمالی عرب اور شام کے درمیان کا علاقہ کہلاتا ہے یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت قوم ثمود کا مسکن ہے اور شام سے مدینہ کو آئیں تو سب سے پہلے ارض لوط (علیہ السلام) پڑے گی پھر سرزمین شعیب (علیہ السلام) یعنی مدین ملے گی اور کا مسکن ہے اور شام سے مدینہ کو آئیں تو سب سے پہلے ارض لوط (علیہ السلام) پڑے گی پھر سرزمین شعیب (علیہ السلام) یعنی مدین ملے گی اور سب سے آخر میں علاقہ حجر یا مسکن قوم ثمود آئے گا ، یہ تینوں عبرت انگیز خطے باہم متصل ہیں اور شاید اسی مناسبت سے تینوں کا ذکر بھی یہاں ایک ساتھ کیا گیا ہے ” المرسلین “ کے صیغہ جمع سے متعلق امام رازی (رح) نے تحریر کیا ہے کہ ممکن ہے یہ قوم ہندی برہمنوں کی طرح کل سلسلہ رسالت ہی کی منکر ہو اس لئے ” المرسلین “ جمع کا صیغہ لایا گیا ہو اور ممکن ہے کہ انکی طرف ایک سے زیادہ نبی ورسول آئے ہوں اور ان کی ہلاکت صالح (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد میں ہوئی ہو اور یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ کسی ایک رسول کی رسالت کا انکار سارے رسولوں کے انکار کے مترادف ہے اور اسی وجہ سے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہو۔
Ayah 15:81ہم نے نشانیاں ان کو دکھائیں لیکن وہ انکار ہی کرتے رہے :
81۔ ہمارے رسولوں نے ان کو مختلف نشانات دکھائے لیکن وہ ہمیشہ ان سے روگردانی کرتے رہے ۔ یہ خطاب تینوں قوموں سے ہے یا صرف قوم مدین سے یا اصحاب الحجر سے ۔ قرآن کریم نے یہ وضاحت نہیں فرمائی لیکن انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ساتھ نشانات کا ہونا کوئی بعید از قیاس بات نہیں کیونکہ ہر نبی مستقل طور پر ایک نشان تھا اپنی قوم کی طرف خود ہوتا ہے ، اگر قوم اس کی دی ہوئی ہدایت کو قبول کرتی ہے تو دین و دنیا میں سرفراز وکامیاب ہوتی ہے ورنہ انجام کار اس کو ہلاکت سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور پھر نبی کی پوری زندگی مختلف نشانات سے لبریز ہوتی ہے اور بالاخر ہر نبی سے ایک اعلان کرایا جاتا ہے کہ اگر نبی کی دعوت کو قوم نے قبول نہیں کیا تو اس قوم کے ہلاکت کا نشان صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی قرار دے دی گئی اور ان کو واضح کردیا کہ اگر تم نے اس اونٹنی کو کوئی گزند پہنچائی تو وہی وقت تمہارے عذاب کا ہوگا قوم کے لوگوں نے مشورہ کرکے ایک آدمی کو اونٹنی کے پاؤں کاٹ دینے پر متعین کردیا اور بالاخر اس بدبخت نے ایسا کام کر دکھایا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ اونٹنی کا مرنا تھا کہ ان کے تین دن کا اعلان کردیا گیا صالح (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والے اللہ کے حکم سے تیسرے روز وہاں سے ہجرت کر گئے اور باقی قوم کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا گیا جیسا کہ تفصیل اس کی سورة ہود میں گزر چکی ۔
Ayah 15:82قوم ثمود عمارات کے فن کی بڑی ماہر تھی اور پہاڑوں کو کھود کر محل بنانا ان کا مخصوص مشغلہ تھا :
82۔ بلاشبہ ان لوگوں نے پہاڑ کھود کھود کر بڑے بڑے مضبوط محلات تیار کر رکھے تھے اور میدانی علاقوں میں فلک بوس عمارتیں بنانے میں وہ ماہر تھے لیکن جب انکی ہلاکت کا وقت آیا تو ایسا نہیں ہوا کہ انکو ان کی عمارتوں سے نکال باہر کردیا گیا نہیں بلکہ وہ اپنے انہیں مضبوط قلعوں کے اندر رہے اور جب ہمارا عذاب آیا تو نہ ان کی فلک بوس عمارتیں اور پہاڑوں کے اندر بنائے گئے تہ خانے کچھ بھی کام نہ آئے بلکہ نتیجتا نہ ان کے مسکن ہی رہے اور نہ سکونت اختیار کرنے والے اور جو ان کے نبی ورسول نے کہا تھا وہ اپنے وقت پر پورا ہو کر رہا ۔
Ayah 15:83ایک صبح کو وہ اٹھے ہی تھے کہ انکی ہلاکت نے ان کو آلیا :
83۔ سونا اور جاگنا تو انسان کی زندگی کے ساتھ جانے والی چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی جب پکڑ آتی ہے تو وہ کہیں باہر سے نہیں آجاتی بلکہ ان کے اندر ہی پیدا ہوجاتی ہے اس ڈرائی گئی قوم کا بھی ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ایک رات وہ بڑی آرام کی نیند سوئے تھے اور صبح ہوتے ہی اٹھ رہے تھے یا اٹھنے ہی والے تھے کہ دھر لئے گئے اور صبح ہوتے ہی ہمارے ہولناک عذاب نے ان کو ایسا پکڑا کہ ان میں سے ایک بھی نہ تھا جو اس پکڑ سے بچ گیا ہوتا وہ عذاب کیا تھا ؟ فرمایا کہ بس ایک ہولناک آواز ہی تھی کہ وہ بلند ہونے لگی اور اس نے بلند ہوتے ہوتے ان کے اوسان خطا کردیئے اور پھر کیا تھا بس کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اور ان کا کام تمام کر گیا ۔ بعد میں کوئی نہ تھا جو ان کی خبرگیری کرتا انجام کار عذاب کی گرفت چھوٹنے کے بعد صالح (علیہ السلام) نے انکی خبر گیری کی تو وہ گھروں میں اس طرح پڑتے تھے جیسے کٹے ہوئے درختوں کے تنے کاٹ کاٹ کر رکھے گئے ہوں اور وہ ان پر افسوس کرکے رہ گئے :
Ayah 15:84تفسیر :
جو کچھ انہوں نے کمایا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا :
84۔ انہوں نے کن کن چیزوں کو اپنے لئے پناہ گاہ ٹھہرایا تھا اور وہ باپ دادا سے لے کر کن کن بزرگوں کی عبادت کرتے چلے آرہے تھے اور کون کون ان کا حاجت روا اور مشکل کشا تھا اور ان کو جن گھروں پر ناز تھا ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی نہ پہاڑ کھود کر بنائے گئے تہ خانے اور نہ فلک بوس عمارتیں اور مضبوط قلعے اور پناہ گاہیں جو انہوں نے تعمیر کر رکھی تھیں جب اللہ کا عذاب آدھمکا تو سب کو نابود کرکے رکھ دیا اور ان کو کہیں بھی پناہ نہ مل سکی گویا ان کی دنیوی علوم وفنون اور ان کی ساری ہنرمندیاں اور صناعیاں ‘ ان کی ہندسہ دانی اور انجینری کوئی چیز بھی انہیں الہی قانون کی گرفت سے پناہ نہ دے سکے اور یہ ساری باتیں تم کو بار بار کیوں سنائی جا رہی ہیں ؟ محض اس لئے کہ تم بھی کبھی اپنا تجزیہ کر کے دیکھو کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو پہلوں نے کیا وہی کچھ تم بھی کر رہے ہو اگر ایسا ہی ہے تو یاد رکھو کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو پہلی امتوں کا ہوچکا اور جس طرح ان کی ساری ہوشیاریاں ان کے کچھ بھی کام نہ آئیں تمہاری چالاکیاں بھی تم کو نہیں بچا سکیں گی ۔
Ayah 15:85ہم نے آسمان و زمین کو بیکار نہیں بنایا قیامت یقینی ہے آپ ﷺ خوبی سے وقت پاس کیجئے :
85۔ اے پیغمبر اسلام گزشتہ سرگزشتیں آپ کو اس لئے سنائی گئیں ہیں کہ میں وہی اللہ ہوں جو پہلی قوموں کا تھا اور ایسا نہیں کہ ان کے ساتھ مجھے کچھ بیر تھا اور ان لوگوں کی محبت میں ریجھ گیا ہوں ؟ نہیں جس طرح وہ میرے بندے تھے یہ بھی ہیں ان کی شرارتوں کا نتیجہ ان کو مل گیا اور یہ لوگ جو شرارتیں کر رہے ہیں ان کو ہم جانتے ہیں اور ہم نے آسمان و زمین میں کوئی چیز بھی ناحق اور بیکار پیدا نہیں کی غور کرو کہ یہ عقلوں کو دنگ کردینے والا اور دماغوں کو چکرا دینے والا یہ نظام معمولی نظام نہیں بلکہ ایک شاندار نظام کائنات ہے ‘ آسمان و زمین ‘ سورج اور چاند یوں ہی بےمقصد اور خود بخود نہیں بن گئے یہ سب کچھ ایک حکیمانہ نظم کے تحت ایک متعین مقصود کی طرف لے جانے والا ہے اور اس کے بعد منزل آخرت کی ہے جب سب کام مکمل کرکے حساب کتاب کے لئے انکو حاضر کرلیا جائے گا اور وہ کیا ہوگا ؟ وہ آخری فیصلہ کا دین ہی ہوگا جو قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے ۔ آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! ان کے عناد اور مخالفت سے زیادہ غم میں نہ پڑئیے بلکہ درگزر کیجئے ایسا درگزر کرنا جو ” الصفح الجمیل “ ہو یعنی جس میں کسی قسم کا شکوہ وشکایت بھی زبان پر نہ آئے ۔
مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر اعظم وآخر ﷺ زمین و آسمان اور اس میں جتنی بھی چیزیں موجود ہیں ان سب کو اپنی اپنی جگہ پر یوں مرتب کردیا گیا ہے کہ ہزاروں صدیاں گزرنے کے باوجود کائنات کے اس کارخانہ میں کوئی نقص پیدا نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کارخانہ کو اس طرز پر بنایا ہے کہ یہاں باطل دوام پذیر نہیں ہو سکتا یہ فضا حق کیلئے ہی سازگار ہے باطل کیلئے سازگار نہیں اور آپ کے لئے سراسر حق ہی حق ہے اس لئے آپ اپنے حسن خلق اور حسن ادب کا دامن پکڑے رہئے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیجئے پھر دیکھئے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟
کسی بات سے درگزر کرنے کی ایک صورت تو یہ ہوتی ہے کہ آدمی بےبس ہوتا ہے اس لئے مجبور ہو کر بدلہ نہیں لیتا درگزر کردیتا ہے لیکن دل نفرت وانتقام سے لبریز رہتا ہے یہ ” صفح “ ہے مگر ” صفح جمیل “ نہیں ۔ ” صفح جمیل “ یہ ہے کہ مجبور ہو کر نہیں بلکہ خود اپنی مرضی اور خواہش سے در گزر کیا جائے اور نفرت وانتقام کا کوئی جذبہ دل میں نہ اٹھے اگر اٹھے تو غالب نہ آئے بلکہ مغلوب ہو کر رہ جائے پس فرمایا کہ تمہیں مخالفوں کے ساتھ صفح جمیل کرنا چاہئے یاد رہے کہ یہ کام جتنا معمولی نظر آتا ہے اتنا ہی مشکل ہے اس لئے اس کو پڑھ کر سنی ان سنی کر کے آگے نہ بڑھئے بلکہ اپنا تجزیہ کر کے دیکھئے اور خصوصا یہ کہ یہ رویہ مخالفوں کے ساتھ کرنے کا حکم ہے اپنی پارٹی ‘ اپنے خاندان ‘ اپنے مکتبہ فکر اور اپنے ہم پیالہ وہم نوالہ لوگوں کی بات نہیں ۔ اگر آپ یہاں رک گئے اور ذرا اپنا تجزیہ کیا تو تم کو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں کیا کہا گیا ہے اور یہ کہ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟
Ayah 15:86تمہارا پروردگار ہی سب کا پیدا کرنے والا اور سب کے حال کو جاننے والا ہے :
86۔ خالق سب کا ایک ہی ہے اگر نیک اس نے پیدا کئے ہیں تو بد بھی اس کی پیدائش ہیں ۔ اچھے اخلاق والے اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں تو بداخلاق بھی کسی اور کی پیدائش نہیں ۔ اگر وہ لوگ ستانے سے باز نہیں آتے اگر اسلام کے خلاف ان کی سرگرمیاں تیز سے تیز تر ہو رہی ہیں تو اے پیغمبر اسلام ! آپ تو بلند اخلاق اور بلند کردار کے مالک ہیں آپ ان سے یہ سمجھ کر درگزر کرتے رہئے کہ یہ ضدی بھی اس کی پیدائش ہیں اور اس کا دیا ہوا رزق کھا رہے ہیں اگر وہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باوجود ان کو رزق دے رہا ہے تو آپ بھی بلند اخلاق ہونے کے باعث درگزر کرتے رہئے اور یہی بات آپ کے خلق عظیم کیلئے زیبا ہے ، وہ راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں تو آپ ان کیلئے مغفرت طلب کیجئے وہ اگر پتھر برساتے ہیں تو ان کے پاس پھول ہیں ہی کہاں اور بالکل اسی طرح آپ کے پاس پھول ہیں تو آپ وہی نچھاور کیا کیجئے وہ ان کیلئے پتھر ثابت ہوں گے اور دیکھنے والے خود نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے ۔ اس کام کیلئے آپ کو فاتحہ اور قرآن عظیم دیا گیا ہے ۔