Ayah 15:94تو لوگوں تک حق پہنچا دو اور مشرکوں کی کچھ پروا نہ کرو :
94۔ مشرکوں سے اعراض کے معنی یہ ہیں کہ ان کی مخالفت ‘ عداوت اور منصوبوں کی کچھ پروا نہ کرو اور کھول کھول کر بیان کرتے چلے جاؤ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا یہ سورت مکہ کے آخری زمانہ کی ہے اور نبی کریم ﷺ تو اس سے پہلے بھی کھول کر ہی بیان فرماتے تھے مگر اس وقت آپ ﷺ کو مٹانے کے لئے کفار میں مشورے ہو رہے تھے اور وہ طرح طرح کے منصوبے بنا رہے تھے اس لئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! تم ان کے منصوبوں کی پروا نہ کرو اور یہ وقت ہے کہ آپ قرآن کریم کو کھول کھول کر بیان کرو اور اس قدر بیان کرو کہ تمہارا سر پھٹنے لگ جائے یعنی پوری تن دہی کے ساتھ بیان کرتے رہو اور جس طرح سخت چیز کو شق کرنے کیلئے بار بار ضرب لگانی پڑتی ہے اس طرح ان سخت دلوں پر جو دنیا کی آلائشوں میں ملوث ہیں صداقت الہی کو بار بار پیش کرو تاکہ انکو کوئی عذر نہ پیش رہ جائے جس کا مطلب صاف ہے کہ تبلیغ دین کیلئے ضروری ہے کہ پیغام الہی پہنچانے میں خوب کوشش کی جائے اور کسی طرح کی لچک نہ ڈالی جائے لیکن انداز بیان نرم اور پیارا ہونا ضروری ہے ۔ صدع سخت اجسام میں شق کرنے کو کہتے ہیں اور صدع الامر کے معنی ہیں کھول دیا اور صداع سخت درد سر کو کہتے ہیں گویا سردرد سے پھٹ رہا ہو جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ لا یصدعون عنھا (الواقعہ 56 : 19) اور تصدع القوم کے معنی ہیں تفرقوا پراگندہ ہوگئے جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” یومئذ یصدعون “۔ (الروم 30 : 43) کہ اس دن لوگ پھٹ کر الگ ہوجائیں گے ۔
Ayah 15:95تفسیر :
ہنسی اڑانے والوں کے مقابلہ میں ہم آپ ﷺ کو کفایت کرتے ہیں :
95۔ مکی زندگی میں جہاں نبی کریم ﷺ کو ایک طرف ہر طرح کی جسمانی وروحانی اذیتیں برداشت کرنا پڑتی تھیں وہاں دوسری طرف تمسخر و استہزاء کا بھی ایک بےپناہ طوفان بدتمیزی برپا تھا ، فرمایا : اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان کافروں سے خائف نہ ہوں آپ ﷺ پر جو بھی زبان طعن دراز کرے گا اور جو بھی گستاخی کی جرات کرے گا اور اس طرح جو بھی مذاق کرے گا ہم خود ان کو سنبھال لیں گے اور ان کا شر آپ تک نہیں پہنچے گا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے خلاف بہتان باندھنے والے اور افتراء کا طوفان برپا کرنے والے اسلام کو ختم کرنے کے لئے اپنی کوششیں داؤد پر لگانے والے یا تو حلقہ بگوش اسلام ہو کر پروانہ وار ان پر نثار ہونے لگے یا انہیں ایسی رسوائی اور ذلت سے دوچار کردیا گیا کہ آج ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں رہا ۔ بعض لوگوں نے تحریر کیا کہ اس سے مراد مکہ کے یہ پانچ رئیس ہیں جو اسلام کی مخالفت اور پیغمبر اسلام ﷺ کی مخالفت اور دل آزاری میں سب سے پیش پیش تھے یعنی ولید بن مغیرہ ‘ عاص بن وائل ‘ عدی بن قیس اسود بن عبد یغوث اور حارث ان سب کو اللہ تعالیٰ نے ذلت کی موت سے ہلاک کیا ، اگرچہ اس بات کی ٹوہ مستحسن امر نہیں کہ اس بات کا کھوج لگایا جائے بس اتنا جان لیناکافی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک طبقہ صاحب اثر ووجاہت مستہزئین کا تھا وہ کتنے تھے اور کیا کیا تھے اس کی ٹوہ کی ضرورت نہیں اور ایسے لوگوں کی اس وقت بھی کوئی کمی نہیں جنہوں نے مذہب ودین کو اس کی حیثیت کے مطابق سمجھنے کی کوشش نہیں کی لیکن اس وقت علمائے اسلام کہلانے والے ان کے مذاق اور استہزاء کو اس طرح برداشت کرگئے ہیں کہ ان کی رسومات کو ادا کرنے کیلئے تو ہر وقت مستعد ہیں لیکن ان تک پیغام الہی کا پہنچانان ان کے اختیار کی بات نہیں رہا اس ملک کی بڑی بڑی شخصیتیں اس وقت مشرکین مکہ کے بھی کان کاٹ چکی ہیں ، لیکن علمائے کرام ہیں کہ ان کے تو نام آج بھی گنواتے نظر آتے ہیں لیکن آج کے ان مشرکین کا نام تک لینے کو تیار نہیں بلکہ ان کی طرف اشارہ کرنے سے بھی ان کے دل گھبراتے ہیں۔
Ayah 15:96اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے والے عنقریب جانیں گے کہ انہوں نے کیسی غلطی کی :
96۔ دین محمدی کا دوسرا بنیادی اصول اس عالم خلق میں انسان کی حیثیت اور درجہ ہے جو لوگ بتوں کو اور قبروں کو سجدہ کرتے ہیں ‘ پتھروں کو پوجتے ہیں ‘ درختوں کے آگے جھکتے ہیں ‘ جانوروں کو دیوتا مانتے ہیں ‘ جنات اور ارواح خبیثہ کے نام کی دہائی پکارتے ہیں ‘ آسمانی مخلوقات کو ارباب جانتے ہیں ‘ انسانوں کو خدا سمجھتے ہیں وہ حقیقت میں انسان کے درجہ اور مرتبہ سے ناواقف ہیں ‘ وہ دراصل اس طرح انسان کو پتھروں سے ‘ درختوں سے ‘ جانوروں سے ‘ دریاؤں سے ‘ پہاڑوں سے اور چاند تاروں سے بہت کمتر جانتے ہیں انہوں نے درحقیقت انسان کے اصل مرتبہ اور حیثیت کو نہیں پہچانا ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی وحی کی زبان سے جاہل عربوں کو یہ نکتہ سمجھایا کہ انسان اس عالم خلق میں تمام مخلوقات سے اشرف ہے اور اس دنیا میں اللہ رب العرت کی نیابت کا فرض انجام دینے کے لئے آیا ہے ۔ قرآن کریم کی دوسری ہی صورت میں آدم (علیہ السلام) کی خلافت کا قصہ محض داستان نہیں بلکہ انسان کی اصل حیثیت کو عیاں اور نمایاں کرنے والی تعلیم کا اولین دیباچہ ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان ہی اس عالم میں اللہ تعالیٰ کا صحیح معنوں میں نائب ہے اور اس کا سرخلافت الہی کے تاج سے ممتاز ہے ، کروڑوں مخلوقات الہی میں اللہ تعالیٰ کی امانت کا حامل وہی منتخب ہوا یہ منصب اعلی نہ فرشتوں کو ملا نہ آسمان کو عطا ہوا اور نہ ہی زمین کے حصے میں آیا نہ پہاڑ ہی اس کے مستحق قرار پائے صرف انسان ہی کا سینہ تھا جو اس امانت کا خزینہ دار ہوا اور اس کی گردن تھی جو اس بوجھ کے قابل نظر آئی ، پھر اس کی کیا بدبختی ہے کہ وہ اللہ ہی کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے گویا اس طرح انسان نے اپنی ہی حیثیت کو نہ سمجھا غور کرو کہ مشرک ‘ بت پرست ‘ ستارہ پرست ‘ فطرت پرست ‘ قبر پرست اور شخصیت پرست غیروں کے آگے جھک کر یہ ثبوت دیتے ہیں کہ یہ ان کیلئے نہیں بلکہ وہ ان کیلئے بنے ہیں حالانکہ وحی الہی نے انسان کو یہ بتایا ہے کہ کائنات کی ہرچیز انسان کیلئے بنی ہے اور انسان خدا کے لئے بنا ہے اس لئے جب کائنات کا ہر ذرہ انسان کی خدمت گزاری میں مصرف ہے تو انسان کو بھی خدا ہی کی خدمت گزاری میں مصروف رہنا چاہئے ۔
ابروبادومہ وخورشید وفلک درکارند تاتونانے بکف آری وبغفلت نہ خوری ۔
مختصر یہ کہ زمین سے لے کر آسمان تک جو مخلوق بھی ہے انسان اس سے اشرف اور بلند تر ہے اور ساری مخلوق اس کے لئے ہے پھر اس انسان سے بڑھ کر اور کون نادان ہے جو مخلوقات میں سے کسی کو اپنا معبود اور مسجود بنائے اس حقیقت کے آشکارا ہونے کے بعد شرک کا کوئی پہلو بھی ایسا ہے جس میں کوئی سچا مسلمان گرفتار ہو سکے اور ایک آستانہ کو چھوڑ کر وہ کسی اور چوکھٹ پر اپنا سر جھکا سکے ، لہذا نبی اعظم وآخر ﷺ نے جس توحید کی تلقین کی وہ ان ہی دو اصولوں پر قائم ہے :
(1) ۔ یہ کہ انسان تمام مخلوقات میں اشرف ہے اس لئے کہ مخلوق کے سامنے اس کا سر نہ جھکنا چاہئے ،
(2) ۔ یہ کہ ہر قسم کی قوت ‘ ہر قسم کی قدرت اور تمام اوصاف کمالیہ ایک بزرگ و برتر ہستی کے لئے ہیں جو ماورائے عرش سے زیر فرش تک ہر ذرہ پر حکمران ہے اس کی اطاعت کے دائرہ سے کوئی نقطہ باہر نہیں انسان کی پیشانی کو ہر چوکھٹ سے اٹھ کر صرف اس کے آستانے پر جھکنا چاہئے ، ہماری تمام عقیدت ، ہماری تمام محبت ‘ ہمارا تمام خوف ‘ ہماری تمام امیدیں ‘ ہماری تمام دعائیں ‘ تمام التجائیں ہماری تمام عاجزیاں صرف اس ایک درگاہ پر نثار ہوں اور اس کے رحم وکرم کے سہارے ہماری زندگی کا ہر لمحہ بسر ہو۔
Ayah 15:97ہمیں معلوم ہے کہ ان لوگوں کی باتوں سے تیرا دل دکھتا ہے :
97۔ دل کی یہ تنگی ایک طبعی امر ہے نبی اعظم وآخر ﷺ کا قلب خلق خدا کے لئے ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات سے لبریز تھا آپ ﷺ جب اپنی قوم کی گمراہی اور اس پر ان کے اصرار کو دیکھتے تو آپ ﷺ کا دل درد سے بھر جاتا اور شدید قسم کی گھٹن محسوس ہونے لگتی اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اس غم واندوہ سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ تلقین فرما رہے ہیں کہ جب ان کی نافرمانی اور کجروی کے باعث آپ ﷺ غمگین ہوجائیں تو اس وقت اپنے رب قدوس کی تسبیح اور اس کی حمد میں مشغول ہوجایا کریں اور اپنا سرنیاز اس کی بارگاہ صمدیت میں جھکا دیا کریں ، غم واندوہ کے بادل خود بخود چھٹ جائیں گے اور دل کی افسردگی اور گھٹن دور ہوجائے گی ، ” فرمایا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو ۔ “ فارغ ہونے سے مراد اپنے مشاغل سے فارغ ہونا ہے خواہ وہ دعوت وتبیغ کے مشاغل ہوں یا اسلام قبول کرنے والوں کی تعلیم وتربیت کے مشاغل یا اپنے گھر بار اور دنیوی کاموں کے مشاغل ، حکم الہی کا منشاء یہ ہے کہ جب کوئی اور مشغولیت نہ رہے تو اپنا فارغ وقت عبادت کی ریاضت ومشقت میں صرف کرو اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور جو پیغام آپ سنا رہے ہیں اس کو کو جب لوگ تسلیم نہیں کرتے تو دل تنگ نہ ہو کہ آپ ﷺ نے اپنا فرض ادا کردیا اب اگر اس سے کوئی نقصان ہوگا تو نہ ماننے والوں کا اپنا ہوگا اور جو شخص اپنے اپنا نقصان کرنے کے لئے تیار ہے آپ ﷺ اس کے لئے کیوں دل تنگ ہوں ، وہ آپ کا پیغام سن کر جو کچھ کہتے ہیں اس کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے کفر وشرک ‘ انکار و استکبار اور طنز و تمسخر کی باتیں ہم اچھی طرح سن رہے ہیں آپ ﷺ ان کی باتیں سن کر خاموشی اختیار کریں گے تو ہم خود ان کو جواب دیں گے اور وہ جواب ایسا ہوگا جس سے آپ ﷺ کو دلی سکون ملے گا ۔
Ayah 15:9898۔ حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی تعریف وثناء کرنا بھی ہے اور اس کا شکر ادا کرنا بھی اور تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر لحاظ سے پاک اور منزہ قرار دینا ہے اس موقع پر یہ ارشاد ہے کہ اپنے رب کا یہ کرشمہ جب تم دیکھو کہ لوگ آپ ﷺ کی دعوت کو استہزاء کے ساتھ ٹال رہے ہیں تو آپ کو دل تنگ ہونے کی بجائے اس ذات کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو کہ تمہارے دل میں اس سے ذرا گھٹن نہیں پیدا ہوئی اور تم نے اپنا کام سرانجام دیا تو اس کی رضا تمہارا مطلوب ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور قلب و زبان سے اس امر کا اعتراف کرو کہ آپ نے یہ سب کچھ برداشت کیا تو اللہ کی رجا کیلئے اور تم اپنے رب سے دعا مانگو کہ جو خدمت اس نے تمہارے سپرد کی تھی اس کو انجام دینے میں تم سے جو بھول چوک یا کوتاہی بھی ہوئی ہو اس سے چشم پوشی اور درگزر فرماتے ، یہ وہ ادب ہے جو اسلام میں بندے کو سکھایا گیا ہے کسی انسان سے اللہ کے دین کی خواہ کیسی ہی بڑے سے بڑی خدمت انجام پائی ہو ‘ اس کی راہ میں خواہ کتنی ہی قربانیاں اس نے دی ہوں اور اس کی عبادت و بندگی بجا لانے میں خواہ کتنی ہی جانفشانیاں اس نے کی ہوں اس کے دل میں کبھی یہ خیال تک نہ آنا چاہئے کہ میرے اوپر میرے رب کا جو حق تھا میں نے پورے کا پورا ادا کردیا ہے بلکہ اسے ہمیشہ یہی سمجھنا چاہئے کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہئے تھا وہ میں نہیں کرسکا اور اسے اللہ سے یہی دعا ماننا چاہئے کہ اس کا حق ادا کرنے میں جو کوتاہی بھی مجھ سے ہوئی ہو اس سے درگزر فرما کر میری حقیر سی خدمت قبول فرما لے ، یہ ادب جب رسول اکرم ﷺ کو سکھایا گیا جن سے بڑھ کر اللہ کی راہ میں سعی وجہد کرنے والے کسی انسان کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا تو دوسرے کسی کا یہ مقام کہاں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے عمل کو کوئی بڑا عمل سمجھے اور اس غرے میں مبتلا ہو کہ اللہ کا جو حق اس پر تھا وہ اس نے ادا کردیا ، اللہ کا حق اس سے بہت بالا و برتر ہے کہ کوئی مخلوق اسے ادا کرسکے ، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں کو ہمیشہ کیلئے یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی کسی عبادت و ریاضت اور کسی خدمت دین کو بڑی چیز نہ سمجھیں بلکہ اپنی جان تک راہ خدا میں کھپا دینے کے بعد یہی سمجھتے رہیں کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ۔ “
اسی طرح جب انہیں کوئی فتح نصیب ہو جیسا کہ ابھی وقت آنے والا ہے تو یاد رکھیں کہ اسے اپنے کسی کمال کا نہیں بلکہ اللہ کا فضل سمجھیں اور اس میں فخر و غرور میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ سر جھکا کر حمد وتسبیح اور توبہ استغفار کریں کیونکہ یہی ساری کامیابیوں کی کلید ہے اور سارے دکھوں اور دردوں کا مداوا ہے اور اس سے طبیعت میں انشراح پیدا ہوتا ہے اور غم اور ضیق صدر کا علاج بھی بتایا گیا ہے اور یہ ذکر توجہ الی الحق ہے اور سجدوں کی زیادتی کے باعث اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے جو دین و دنیا دونوں کے لئے واحد علاج ہے ۔
Ayah 15:99تفسیر :
آپ اللہ کی بندگی میں لگے رہئے یہاں تک کہ موت تمہارے پاس آجائے :
99۔ ” الیقین “ یقین سے مراد نصرت خداوندی بھی ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مقابلہ میں آپ ﷺ کو دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس سے مراد موت بھی ہے کیونکہ اس کا آنا بھی یقینی امر ہے اور یہاں اس سے مراد یقینا موت ہی ہے یعنی اے پیغمبر اسلام ! عبادت کا یہ سلسلہ پورے ذوق وشوق کے ساتھ اس وقت تک جاری ہے جب تک اس دارفنا سے دارالبقاء کی طرف رحلت کا پیغام نہ آجائے ‘ جب تک آنکھ جھپک رہی ہے ، نبض چل رہی ہے ‘ میری یاد ہوتی رہے ‘ میرے ذکر اور عبادت کا چراغ روشن رہے اور بندگی کا حق بھی یہی ہے کہ تادم واپس دل اپنے معبود برحق کے ذکر اور عبادت کا چراغ روشن رہے ، اور بندگی کا حق بھی یہی ہے کہ تادم واپسیں دل اپنے معبود برحق کے ذکر سے سرشار رہے ۔ ” یقین “ سے مراد موت کتاب وسنت میں استعمال ہے ، چناچہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ (آیت) ” وکنا نکذب بیوم الدین حتی اتنا الیقین “۔ (المدثر 74 : 46 ‘ 47) ” اور ہم روز جزاء کو جھوٹ قرار دیتے تھے یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا “۔ یعنی مرتے دم تک ہم اس روشن پر قائم رہے یہاں تک کہ وہ یقینی چیز ہمارے سامنے آگئی ہے جس سے ہم غافل تھے یعنی وہ موت جس سے انسان دو چار ہونے کے بعد واپس نہیں آسکتا اور حدیث شریف میں حضرت عثمان بن مظعون ؓ ، کی شہادت کے سلسلے میں لفظ یقین اسی یقین اسی معنی میں آیا ہے اما ھو فقد جاء الیقین اللہ وانی لا رجولہ الخیر “۔ (صحیح بخاری الجنائز) اور سارے مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ زیر نظر آیت میں ” الیقین “ سے مراد موت ہی ہے اور آیت سے محققین نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ آیت رد ہے ان مدعیان باطل کا جو کہتے ہیں کہ سلوک میں کوئی مرتبہ ایسا بھی آتا ہے جس میں تکلیفات شرعی ساقط ہوجاتی ہیں اور یہ اعتقاد والحاد محض ہے کیونکہ جب صاحب وحی الہی کو حکم یہ ہے کہ آپ اس وقت تک اللہ کی عبادت میں لگے رہو جب تک جسم میں جان موجود ہے تو کسی دوسرے کو کیسے اجازت ہو سکتی ہے کہ وہاب عبادت الہی سے آزاد رہے کہ اس سے شرعی حدود ساقط ہوجائیں ، ہاں ! جب خود پیغمبر اسلام ﷺ نے تین قسم کے لوگوں کو مرفوع القلم قرار دے دیا ہے تو ان تینوں صورتوں میں سے کسی ایک صورت کا آدمی ہو سکتا ہے وہ ہیں ایک نابالغ بچہ اور دوسرا سویا ہوا اور تیسرا فاتر العقل پھر سلوک میں آنے والا بچہ اور سویا ہوا یہ تو ہو نہیں سکتے البتہ وہی ہو سکتے ہیں جو فاتر العقل ہوجائیں اور ان کی عقل درست نہ رہے اور انہی لوگوں کو ہماری زبان میں ” رند “ بھی کہا جاتا ہے اور علاوہ ازیں جو کچھ ہے وہ کفر والحاد ہے اسلام کے ساتھ اس کا کوئی واسطہ نہیں اگرچہ ان کو ولی اللہ اور اللہ والے سمجھتے ہوں ۔
اللھم اعنا علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک حتی یاتینا الیقین ۔ اللھم صلی علی محمد وعلی ال محمد ۔
اور اس مضمون پر سورة الحجر ختم ہو رہی ہے ۔ 15 ، جون 1996۔