14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ را۔ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تجھ پر اتاری [ ہے تاکہ لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم کی تعمیل میں تاریکیوں میں سے نکالے اور روشنی میں لائے کہ غالب اور ستودہ خدا کی راہ ہے

حروف مقطعات کے بعد کتاب الٰہی کی سچی تعلیم کا بیان 1 ؎ حروف مقطعات قرآن کریم کی انتیس سورتوں کے شروع میں آئے ہیں اور ان سورتوں کے مضامین سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ ان سورتوں کے شروع میں دیئے گئے ہیں جن سورتوں کے مضامین میں انسانوں کیلئے تنبیہات بیان کی گئی ہیں۔ ان حروف کا مفصل بیان سورة البقرہ کی آیت ایک میں کردیا گیا ہے اس لئے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔ فر مایا اس کتاب مقدس قرآن کریم کی تنزیل کی غرض وغایت تمام تر یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو جو اس وقت تک تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں توحید و ہدایت کی روشنی میں لے آئیں۔ اس کا طریقہ کیا ہے ؟ فرمایا اس نکال لانے کا طریقہ تبلیغ دین ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ اس کتاب کی تعلیم عام کریں اور آپ ﷺ کے بعد کائنات کے سارے انسانوں کی ذمہ داری یہی ہوگی یعنی جمیع نسل انسانی کا فرض ہے یہ گویا ایک دلیل ہے اس بات کی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت پوری دنیا کے انسانوں کیلئے ہے نہ کہ دوسرے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرح کسی ایک قوم یا ایک بستی و علاقہ کیلئے۔ آپ ﷺ کا کام لوگوں کو شیطانی راستوں سے ہٹا کر خدا کے راستے کی طرف لانا ہے اور یہ اس طرح ہے جس طرح کوئی شخص اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کی کوشش کر رہا ہو اور یہ کام بھی آپ ﷺ حکم الٰہی ہی سے سرانجام دے سکتے ہیں اور یہی راستہ ہے غالب آنے والا ‘ ستودہ صفات ذات کا۔ چونکہ گمراہی کی سینکڑوں صورتیں ہیں اس لئے ظلمات کا لفظ جمع لایا گیا اور ہدایت ایک ہی ہے اس لئے واحد لفظ کا استعمال کیا گیا ۔
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ اللہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، سب اسی کا ہے اور عذاب سخت کی خرابی ان منکروں کے لیے ہے

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے اور کافروں کیلئے خرابی ہے 2 ؎ اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کیونکہ ہرچیز کا مالک حقیقی وہی ہے کیونکہ ہرچیز کا وہ خالق ہے اور کسی دوسرے کی کوئی ملکیت ثابت نہیں نہ مکمل طور پر اور نہ ہی کسی حصہ میں جزوی طور پر اور خرابی ہے ان لوگوں کیلئے جو کفر پر قائم رہے اور اپنی حالت کی اصلاح کی کوشش نہ کی اور انجام کار عذاب شدید میں گھر کر رہ گئے اور رحمت سے جو وافر موجود تھی ذرا بھی حصہ نہ پایا۔ یعنی اس وحی الٰہی سے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہ کی بلکہ اس کی مخالفت میں بضد ہوگئے۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جنہوں نے آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پسند کرلی ، جو اللہ کی راہ سے انسانوں کو روکتے ہیں اور چاہتے ہیں اس میں کجی ڈالیں یہی لوگ ہیں کہ بڑی گہری گمراہی میں جا پڑے

خرابی ہے ان کیلئے جنہوں نے آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پسند کی اور کھائی میں جاگرے 3 ؎ دنیا کیا ہے ؟ چار دن کی چاندی پھر اندھیری رات ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت نہ ختم ہونے والی زندگی کا نام ہے جب موت کو موت آجائے گی اور پھر اس کے بعد کسی کو مرنا نہیں ہوگا۔ اگر دنیا کی زندگی کی فراوانیاں ‘ کامرانیاں اور کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن آخرت کئے ہو کوئی توشہ موجود نہ ہوا تو یہ کامیابیاں ‘ کامرانیاں اور سرفرازیاں کیا ہوئیں ؟ کچھ بھی نہیں کیونکہ ان میں سے کسی چیز کو یہاں ثبات نہ تھا بلکہ ہرچیز کیلئے فنا ہی فنا تھی نہ زندگی رہی اور نہ ہی زندگی کی کامرانیاں ‘ کامیابیاں اور سرفرازیاں رہیں اور جہاں زندگی ہی زندگی ہوئی موت کا وہاں گزر ہی نہ ہوا لیکن آخرت کی کامیابیاں اور سرفرازیاں نہ رہیں تو کیا ہوا ؟ نقصان ہی نقصان ہوا اور پھر ایسا نقصان جس کا کوئی حل ہمارے پاس نہ رہا۔ یہ نقصان کیوں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ اب لوگوں نے دنیا کو آخرت پر محبوب جانا خود نیک کاموں سے رکے اور دوسرے کے روکنے کا باعث ہوئے نہ خود ارادہ الٰہی کی طرف آئے اور نہ دوسروں کو آنے دیا اور انہوں نے راہ راست کو ٹیڑھا بنانے کی کوشش کی حالانکہ کوئی سلیم الطبع انسان اس پیغام سے انکار نہیں کرسکتا۔ صرف وہی لوگ اس کا انکار کر رہے ہیں جو دنیوی زندگی پر فریفتہ ہیں اس کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ بنانا اس میں زیادہ سے زیادہ ناموری حاصل کرنا ان کا مقصد وحید ہے۔ آخرت کی ابدی زندگی کو خوشگوار بنانے اور اس میں سرخرو اور آبرو مند ہونے کا جنہیں کبھی خیال ہی نہ آیا۔ اور دیکھو ‘ یہ واقعہ ہے کہ ہم نے اپنی نشانیوں کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا تھا کہ اپنی وہ خود بھی راہ حق سے گریزاں ہیں اور انہیں یہ بھی گوار نہیں کہ کوئی دوسرا اس شاہراہ ہدایت پر گامزن ہو لوگوں کو اسلام سے بدظن کرنے کیلئے اسلامی تعلیمات کو اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ سننے والا جب کہ وہ رسما اسلام کو نہ مان رہا ہو تو اس سے دور رہنے میں اپنی عافیت سمجھے کہ اسلام کو اسلام نہیں بلکہ ایک آپ ﷺ بنا کر وہ رکھ دیں۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی پیغمبر دنیا میں نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ اپنی قوم ہی کی زبان میں پیام حق پہنچانے والا تھا تاکہ لوگوں پر مطلب واضح کر دے پس اللہ جس پر چاہتا ہے راہ گم کردیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے کھول دیتا ہے وہ غالب آنے والا حکمت والا ہے

ہر نبی و رسول پیغام حق لے کر آیا لوگوں پر مطلب واضح کیا لیکن لوگوں نے ایک نہ مانی 4 ؎ فرمایا ہم نے کوئی نبی و رسول نہیں بھیجا مگر اس کی زبان وہی تھی جو اس کی قوم کی تھی اور اس نے اس زبان میں اپنا پیغام سنایا جس زبان میں وہ اپنی قوم سے گفتگو کرتا تھا ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ کوئی بھی بول بولنے والا ہو اپنی بول کی رموز ‘ استعارات ‘ محاورات ‘ ضرب الامثال اور تسبیحات سے اچھی طرح واقف ہوتا تھا اور ہر زبان و بولی میں انسان زبان سے حروف کچھ نکلتا ہے اور اس کا مفہوم کچھ ہوتا ہے اور وہ اچھی طرح سمجھتا ہے اور اس کے مقابلہ کے لوگ یعنی قوم کے افراد بھی اس سے اچھی طرف وقف ہوتے ہیں اور وہ بات کو بات کرنے کے انداز اور ڈھنگ سے بھی پہچانتے ہیں اور الفاظ کے استعمال کو بھی سمجھتے ہیں غیر زبان بولنے والا اس زبان کی اس شیرینی اور مٹھاس سے کلی طور پر واقف نہیں ہوتا اور مطلب کچھ سے کچھ نکال لیتا ہے اس لئے ضروری ہوا کہ ہر نبی و رسول کو اس قوم کی زبان ہی کے ساتھ بھیجا جائے اور ایسا ہوا۔ کیونکہ جب بھی کوئی نبی و رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا تو اس قوم کی زبان میں اس پر وحی نازل کی گئی تاکہ سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی رہے ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ سے پیشتر جو انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث ہوئے وہ کسی مخصوص قوم یا کسی مخصوص علاقہ کیلئے ہوئے لنکق نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کو سارے عالم کا ہادی اور مرشد بنا کر بھیجا گیا۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیرا ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ (سباء 24 : 28) ” اور اے پیغمبر اسلام ! ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کیلئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ” یعنی اے پیغمبر اسلام آپ صرف اس شہر یا اس ملک یا اس زمانے کے لوگوں کیلئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کیلئے اور ہمیشہ کیلئے نبی بنا کر بھے جل گئے ہیں مگر یہ تمہارے ہم عصر اہل وطژن تمہاری قدر و منزلت کو نہیں سمجھتے اور ان کو احساس نہیں ہے کہ کیسی عظیم ہستی کی بعثت سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ بات کہ نبی اعظم و آخر ﷺ صرف اپنے لک یا اپنے زمانے کیلئے نہیں بلکہ قیامت تک پوری لوح بشریٰ کیلئے مبعوث فرمائے گئے ہیں۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلاً : ” اور میری طرف یہ قرآن کریم وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔ “ (الانعام 6 : 19) ایک جگہ فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! کہہ دو کہ اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ “ (الاعراف 7 : 158) ایک جگہ فرمایا : ” اے پیغمبر اسلام ! ہم نے تم کو نہیں بھیجا مگر تمام جہان والوں کیلئے رحمت بنا کر۔ “ (الانبیاء 21 : 107) ایک جگہ فرمایا : ” بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کیلئے تنبیہ کرنے والے ہوں۔ “ (الفرقان 25 : 1) یہی مضمون نبی اعظم و آخر ﷺ نے خود بھی بہت سی احادیث میں مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے مثلاً ” میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ “ ( مستند احمد ‘ ابو موسیٰ اشعری ؓ) ” میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں حالانکہ مجھ سے پہلے جو نبی بھی گزرا وہ اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ “ (مسند احمد ‘ عبداللہ بن عمرو) ” پہلے ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام انسانوں کیلئے مبعوث ہوا ہوں۔ “ (بخاری و مسلم ‘ جابر بن عبداللہ) ” میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں ‘ یہ فرماتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا اٹھایا۔ “ (بخاری و مسلم) آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی حائل نہیں ہے اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبوت نہیں ہے ۔ میرے بعد بس قیامت ہی ہے اور قیامت تک میں ہی نبی رہنے والا ہوں۔ ” پھر اللہ ہی جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ “ یعنی اس نے قانون بنا دیا ہے جو اس قانون کے مطابق عمل کرتا ہے ‘ ہدایت حاصل کرلیتا ہے اور جو اس قانون سے انحراف کرتا ہے وہ گمراہ ہوجاتا ہے چونکہ یہ قانون تکوینی اس رب کریم کا ہے اس لئے گمراہ کرنا اور ہدایت دینا اس کی طرف منسوب کردیا گیا ” اور وہ غالب ہے حکمت والا۔ “ یہ صفات اس جگہ لا کر یاد دلا دیا کہ اس کی قدرت میں ہر ایک کو ہدایت دینا ہے لیکن وہ ہدایت انہی کو دیتا ہے جن کی ہدایت مصالح تکوینی کے عین موافق ہوتی ہے۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے اپنی نشانیوں کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالے اور روشنی میں لائے نیز یہ کہ اللہ کے واقعات کا تذکرہ کر کے وعظ و نصیحت کرے کیونکہ ہر اس انسان کے لیے جو صبر و شکر کرنے والا ہے اس تذکرہ میں بڑی ہی نشانیاں ہیں

موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی نشانیاں دے کر بھیجا گیا ‘ ان نشانیوں سے قوم نے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا 5 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کی مختلف نشانیوں کا قرآن کریم میں کہا گیا ہے جن کا بیان سورة الاعراف کی آیت 31 تا 135 میں گزر چکا وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ان نشانیوں کو بطور شعبدہ بازی نہیں بھیجا گیا تھا بلکہ مختلف عذاب تھے جو قوم موسیٰ کو وقفہ وقفہ کے بعد دیئے گئے اور ان کو ان چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلا کر کے اس بڑے دن کے عذاب سے ڈرایا گیا تاکہ وہ باز ائیں اور اپنی اصلاح کر کے اپنی دنیا کو بھی سنوارنے کی کوشش کریں اور آخرت کو بھی برباد ہونے سے بچا لیں لیکن اس طرح کی آزمائشیں ان کے کچھ بھی کام نہ آئیں اور انہوں نے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا اور قوم تاریکیوں سے نکلنے کی بجائے مزید تاریکیوں میں بڑھتی ہی گئی ان کو ” ایام اللہ “ قوموں کے گزرے ہوئے دونوں کی یاد تازہ کرائی گئی لیکن ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اور کسی وعظ و نصیحت نے ان پر کوئی اثر نہ دکھایا اور پھر ان کا انجام یعنی فرعون کا انجام بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن جس طرح نصیحت حاصل کرنا چاہئے تھی انہوں نے ویسی نصیحت حاصل نہ کی اور نتیجہ یہ رہا کہ ان کا تذکرہ بعد میں آنے والوں کیلئے ایک نشانی بن گیا۔ عربی زبان میں نعمتوں کو بھی ایام کہا جاتا ہے اور گزشتہ واقعات کو بھی یہاں دونوں معنی مراد لئے جاسکتے ہیں یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ہم نے ان پر کیں کہ ہم نے کس طرح انہیں فرعون کے ظلم و استبداد سے رہائی دی ‘ کس طرح سمندر سے انہیں سلامتی کے ساتھ گزارا اور کس طرح ان کی آنکھوں کے سامنے فرعون کو غرق کیا اور اس طرح ان سے پہلے کی گزئی ہوئی قوموں کے واقعات بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے سنائے گئے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں اور ان واقعات میں ہر اس شخص کیلئے جو صبر و شکر کی صفات سے متصف ہے ہماری قدرت کی نشانیاں نظر آئیں گی بشرطیکہ ان کو کوئی دیکھنے والی آنکھ بھی رکھتا ہو۔
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور پھر جب ایسا ہوا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کہا تھا کہ اللہ نے تم پر جو احسان کیے ہیں انہیں نہ بھولو اس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمہیں کیسے جانکاہ عذابوں میں ڈالتے تھے ؟ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے ، تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے ، دیکھو اس صورتحال میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے کیسی سخت آزمائش تھی ؟

موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو فرعون کے ظلم و ستم سے بچانے کی نعمت کو یاد کرنے کی ہدایت کی 6 ؎ بنی اسرائیل مصر میں عرصہ تک مظلومی و مقہوری کی زندگی بسر کرچکے تھے اس لئے طبیعتوں میں مایوسی اور بےہمتی سرایت کرگئی تھی مستقبل میں ان کی فتح و اقبال کی بشارتیں ان کو سنائی جاتیں لیکن وہ اپنے دلوں میں عزم و ثبات کے ولولے نہیں پاتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ” ایام اللہ “ کے تذکرے ان کو سنائے اور خصوصاً اللہ تعالیٰ کے اس انعام خاص کا ذکر کیا جس انعام نے ان کو مصر سے غلامی کی زندگی سے نکال کر آزادی کی زندگی گزارنے کی طرف راہنمائی کی۔ فرمایا اس نعمت کو دیکھو کہ اللہ نے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے دشمنوں کو غرق کردیا جو تم کو بہت بڑے عذاب میں مبتلا کرچکا تھا جس نے تمہاری قوم کے ساتھ ظلم کی انتہا اس طژرح کی کہ تمہاری قوم کے بچوں کو مروا دیا اور قوم کی لڑکیوں کو ان کی حیاء کو نشانہ بنانے کیلئے زندہ رکھا اور اس نے تم پر دوسرا ظلم کیا زیر نظر آیت قبل ازیں بھی دو بار گزر چکی ۔ سورة البقرہ کی آیت 49 میں اور سورة الاعراف کی آیت 141 میں۔ تفصیل کیلئے دونوں مقامات کا مطالعہ کریں۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے اعلان کیا تھا کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں بخشوں گا اور اگر ناشکری کی تو پھر یاد رکھو میرا عذاب بھی بڑا ہی سخت ہے

اس اعلان الٰہی کا ذکر جس میں شکر کرنے والوں کو زیادہ دینے کا ارشاد فرمایا گیا 7 ؎ ” ناذن “ اور ” اذن “ ایک ہی معنی رکھتے ہیں یعنی اعلم جس کا مطلب خبردار کرنے یا آگاہ کرنا ہے اور اس کو اعلان کرنا بھی کہتے ہیں۔ شکر کیا ہے ؟ لغت میں شکر کے اصل معنی یہ تحریر ہیں کہ ” جانور میں تھوڑے سے چارہ ملنے پر بھی ترو تازگی پوری ہو اور دودھ زیادہ دے “۔ اس سے انسانوں کے محاورہ میں یہ معنی پیدا ہوئے کہ کوئی کسی کا تھوڑا سا کام بھی کر دے تو دوسا اس کی پوری قدر کرے پھر یہ قدر شناسی تین طریقہ سے ہو سکتی ہے۔ دل سے ‘ زبان سے اور ہاتھ پائوں سے یعنی دل میں اس کی قدر شناسی کا جذبہ ہو ‘ زبان سے اس کے کاموں کا اقرار ہو اور ہاتھ پائوں سے اس کے ان کاموں کے جواب میں ایسے افعال صادر ہوں جو کام کرنے والے کی برائی کو ظاہر کریں۔ شکر کی نسبت جس طرح بندوں کی طرف کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی طرف بھی کی ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ذرا ذرا سے کاموں کی پوری قدر کرتا ہے اور ان کو ان کا پورا بدلہ عطا فرماتا ہے۔ شکر کا تضاد کفر ہے اس کے لغوی معنی چھپانے کے ہیں اور محاورہ میں کسی کام یا احسان پر پردہ ڈالنے اور زبان و دل سے اس کے اقرار اور عمل سے اس کے اظہار نہ کرنے کے ہیں۔ اس سے ہماری زبان میں ” کفران نعمت “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ یہی کفر وہ لفظ ہے جس سے زیادہ کوئی برا لفظ اسلام کی لغت میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور نعمتوں کو بھلا کر دل سے اس کا احسان مند نہ بننا ‘ زبان سے ان کا اقرار اور عمل سے اپنی اطاعت ‘ شعاری اور فرمانبرداری ظاہر نہ کرنا کفر ہے ‘ جس کے مرتکب کا نام کافر ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح کفر اسلام کی نگاہ میں بدترین خصلت ہے اس کے بالمقابل شکر سب سے بہتر اور اعلیٰ صفت ہے ۔ قرآن کریم میں یہ دونوں الفاظ اس طرح ایک دوسرے کے بالمقابل بولے گئے ہیں۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : انا ھدینا السبلک اما شاکرا واما کفورا۔ (الدھر 76 : 3) ” ہم نے انسانوں کو راستہ بتا دیا۔ (اب وہ) یا شکر گزار ہے اور یانا شکر گزار (کافر) ہے۔ ” اور زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں بخشوں گا اور اگر ناشکری کی تو پھر یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ “ اس تقابل سے خود بخود ثابت ہوجاتا ہے کہ اگر کفر اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور نعمتوں کی ناقدری کر کے اس کی نافرمانی کا نام ہے تو اس کے مقابلہ میں شکر کی حقیقت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور نعمتوں کی قدر جان کر اس کے احکام کی اطاعت اور دل سے فرمانبرداری کی جائے۔ چناچہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی شہادت اس طرح ہے کہ : ان ابراھیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا ولم یک من المشرکین شاکر الا نعمہ احبہ و ھدا الی صراط مستقیم۔ (النحل 16 : 121) ” بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنی شخصیت میں ایک پوری امت تھا اللہ کے آگے جھکا ہوا تمام راہوں سے ہٹا ہوا اور وہ ہرگز مشرکوں سے نہ تھا۔ “…… اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانوں کی شکرگزاری یہ ہے کہ دین کی راہ اختیار کی جائے۔ احکام الٰہی کی پیروی کی جائے اور شرک سے پرہیز کیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ ہم کو قبول فرمائے گا اور علم و عمل میں ہم کو سیدھی راہ دکھائے گا۔ معلوم ہوا کہ شکر ایمان کی جڑ ‘ دین کی اصل اور اطاعت الٰہی کی بنیاد ہے یہی وہ جذبہ ہے جس کی بناء پر بندہ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت اور محبت پیدا ہونی چاہئے اور اس قدر و عظمت اور محبت کے قولی و عملی اظہار کا نام شکر ہے اور اس کا بیان بہت وسیع ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ” اور اگر تم نے ناشکری کی تو یاد رکھو گے کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح شکر مزید انعام و اکرام کا باعث ہے اسی طرح ناشکری اور کفر ان نعمت محرومی کا سبب ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت ‘ عزت ‘ علم وغیرہ کو اس کی نافرمانی میں خرچ کرنا سب سے بڑی ناشکری ہے۔ یہ تقریر دراصل موسیٰ (علیہ السلام) کی ہے جو وہ اپنی قوم کے سامنے کر رہے تھے جیسا کہ پیچھے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ یہ تقریر موسیٰ (علیہ السلام) اپنی وفات سے چند روز پہلے بنی اسرائیل کو تاریخ کے سارے اہم واقعات یاد دلاتے ہیں اور پھر تورات کے ان تمام احکامات کو دہراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو بھیجے تھے پھر آپ ﷺ ایک طویل خطبہ دیتے ہیں جس میں بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے رب کی فرمانبرداری کی تو کیسے کیسے انعامات سے نوازے جائیں گے اور اگر نافرمانی کی روش اختیار کی تو اس کی کیسی سخت سزا دی جائے گی اس تقریر کی تفصیل کتاب استثناء کے مختلف ابواب میں ملتی ہے اور اس کے بعض مقامات تو فی الواقعہ کمال درجہ موثر و عبرت انگیز ہیں۔ چناچہ ان کے چندفقرات ہم اس جگہ عرض کرتے ہیں تاکہ ہم کو اندازہ ہوجائے کہ ان کا بیان کیسا ہے ؟ ” پس اے اسرائیل ! خدا وند تیرا خدا تجھ سے اس کے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو خدا وند اپنے خدا کا خوف مانے اور اس کی سب راہوں پر چلے اور اس سے محبت رکھے اور اپنے سارے دل اور ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی بندگی کرے اور خداوند کے جو احکام اور آئین میں تجھ کو آج بتاتا ہوں ان پر عمل کرے تاکہ تیری خیر ہو۔ دیکھ آسمان اور زمین اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب خداوند تیرے خدا ہی کا ہے۔ (استثناء 10 : 12 ‘ 14) ” اور اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات کو جان فشانی سے مان کر ان سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھے دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا اور تو خداوند اپنے خدا کی بات سنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو ملیں گی۔ شہر میں بھی تو مبارک ہوگا اور کھیت میں مبارک … خداوند تیرے دشمنوں کو جو تجھ پر حملہ کریں تیرے روبرو شکست دلائے گا… خداوند تیرے انبار خانوں میں اور سب کاموں میں جن میں تو ہاتھ ڈالے برکت کا حکم دے گا… تجھ کو اپنی پاک قوم بنا کر رکھے گا اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی تو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر خود قرض نہیں لے گا اور خداوند تجھ کو دم نہیں بلکہ سر ٹھہرائے گا تو پست نہیں بلکہ سرفراز ہی رہے گا۔ (استثناء 28 ابواب 4 ‘ 6 ‘ 8 ‘ 10 ‘ 11 ‘ 28 ‘ 30 ملاحظہ کریں۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور اگر تم اور وہ سب جو زمین میں بستے ہیں کفران نعمت کریں تو اللہ کی ذات تو بےنیاز اور ستودہ صفات ہے

موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ اگر تم کفران نعمت کرو تو اللہ بےنیاز ہے 8 ؎ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں کہ اسے کسی کی ناشکری سے ضرر پہنچے یا اس کی قدر دانی سے اس کو کوئی فائدہ ہو یہ نفع و نقصان بھی انسان کا اپنا ہے اس سے مشرک قوموں کی تردید بھی ہوگئی جن کے بزرگ خود اپنے ماننے والوں کے چڑھاوں کے محتاج رہتے ہیں۔ ع من نہ گردم پاک از تسبیح شاں اس جگہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے معاملہ کی طرف یہ مختصر اشارہ کرنے سے مقصود اہل مکہ کو یہ بتانا ہے ۔ ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے ؟ وہ اللہ کہ آسمان و اللہ جب کسی قوم پر احبان کرتا ہے اور جواب میں وہ قوم نمک حرامی اور سرکشی دکھاتی ہے تو ایسی قوم کو وہ عبرت ناک انجام دیکھنا پڑتا ہے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے بنی اسرائیل دیکھ رہے ہیں۔ اب کیا تم بھی خدا کی نعمت اور اس کے احسان کا جواب کفران نعمت سے دے کر یہی انجام دیکھنا چاہتے ہو ؟
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

پھر کیا تم تک ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور وہ قومیں جو ان کے بعد ہوئیں اور جن کا حال اللہ کو معلوم ہے ؟ ان تمام قوموں کے پاس ان کے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے تھے لیکن انہوں نے ان کی باتیں انہیں پر لوٹا دیں انہوں نے کہا جو بات لے کر تم آئے ہو ہمیں اس سے انکار ہے اور جس بات کی طرف تم بلاتے ہو ہمیں اس پر یقین نہیں ہم شک و شبہ میں پڑگئے ہیں

کیا تمہارے پاس گزشتہ قوموں کے تذکرے نہیں آئے ؟ پھر جو کچھ وہاں ہوا یہاں بھی ہو گا 9 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا پچھلی قوموں کے ایام و وقائع تم تک نہیں پہنچے ؟ یعنی تم نہیں سن چکے ہو ؟ پھر تین قوموں کا نام لیا گیا جن کے حالات سے نہ تو بنی اسرائیل بیخبر تھے ‘ نہ مصر کے باشندے بیخبر ہو سکتے تھے یہاں ان کی نشو ونما ہوئی تھی بقیہ قوموں کا حال چونکہ اس درجہ مشہور نہ تھا اس لئے صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا۔ ” والذین من بعدھم لا یعلمھم الا للہ “۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بہت سی قومیں تھیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے تم ان کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ رہی وہ قومیں جن کا نام اس جگہ لیا گیا تو ان کے تعارف پیچھے سورة ھود میں گزر چکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔ ” ان تمام قوموں کے پاس ان کے رسول روسن دلیلوں کے ساتھ آئے تھے۔ ” فردوا ایدھیم فی افواھم “ محاورہ ہے یعنی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ” انہوں نے ان کی باتیں انہیں پر لوٹا دیں۔ “ جس طرح ہماری زبان میں بولا جاتا ہے کہ فلاں نے میری بات کو میرے منہ پر دے مارا۔ میں نے اس کی بات کو اس کے منہ پر دے مارا۔ یعنی ان کی بات کی کوئی پروا نہ کی اور سنی ان سنی کردی اور کہنے لگے ” جو بات تم لے کر آئے ہو ہمیں اس سے انکار ہے اور اس بات کی طرف تم بلاتے ہو ہمیں اس پر یقین نہیں۔ ہم شک و شبہ میں پڑگئے ہیں۔ ” کہ ان باتوں سے تمہارا اصل مقصد کچھ اور ہی ہے حالانکہ رسول تو ان کو کہتے رہے کہ اگر تم کسی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ کو نہ سمجھ سکتے تو تم معذور تھے لیکن اتنی بڑی کھلی اور روشن حقیقت کا انکار سخت نادانی ہے کیا اللہ تعالیٰ کی توحید میں تمہیں شک ہے جو سب کا خالق ہے اور جس کی رحمت تم کو تمہاری ساری سرتاہیوں کے باوجود اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے ؟ وہ اللہ کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ہے ؟ وہ تمہیں بلا رہا ہے کہ تمہارے گناہ بخش دے اور ایک مقررہ وقت تک (زندگی اور کامرانی کی) مہلتیں دے ، اس پر قوموں نے کہا تم اس کے سوا کیا ہو کہ ہماری ہی طرح کے ایک آدمی ہو اور پھر چاہتے ہو جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ان کی پوجا کرنے سے ہمیں روک دو اچھا کوئی واضح دلیل پیش کرو

رسولوں نے اپنی امتوں کو کہا کہ تم کو اللہ کے بارے میں شک ہے ؟ 10 ؎ قوموں کے استعجاب پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تعجب ! رسولوں نے اپنی اپنی قوموں سے فرمایا کہ اگر تم کسی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ کو نہ سمجھ سکتے تو تم معذور تھے لیکن اتنی بڑی کھلی اور روشن حقیقت کا انکار سخت نادانی ہے کیا اللہ تعالیٰ کی توحید میں تمہیں شک ہے جو سب کا کا خالق ہے اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے اور تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہ معاف کر کے تم کو ایک وقت اچھے اعمال کرنے کی مہلت بھی دے تاکہ تم اچھے اعمال کر کے اپنی آخرت کو سنوار سکو لیکن انہوں نے اپنے انبیاء و رسول کو جو جواب دیا وہ وہی پرانا جواب تھا۔ مشرک اور مشرک مزاج قوموں کا یہ وصف اس جگہ بار بار بیان ہوچکا ہے کہ رسالت کا مسئلہ کسی طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ وہ کہتے ہیں کہ بزرگوں کا بعد از وفات اپنے ماننے والوں کی حاجتوں کو پورا کرنا تو ہماری سمجھ میں آتا ہے اور خدا کا انسانی یا میدانی قالب میں مجسم بہ بھی ہماری سمجھ کی بات ہے لیکن یہ کہ انسان انسان بھی رہے ‘ انسانوں ہی کی طرح رہے سہے ‘ چلے پھرے ‘ سوئے جاگے اور پھر دعویٰ کرے کہ میرا تعلق خصوصی خالق کائنات سے جڑا ہوا ہے۔ میں اس کی مرضیات کا علم رکھتا ہوں اور دوسروں کو وہی راہ بتاتا ہوں۔ یہ چیز ہماری سمجھ سے بالکل باہر ہے ! غور کرو گے تو جو مشکل ہے وہ تو ان کی سمجھ میں آجاتا ہے اور جو آسان ہے وہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ مشکل ان کے باب دادوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور انہوں نے خود ہوتے اس کو دیکھا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ان کی سمجھ میں نہ آنے کے باوجود سمجھ میں آتا دکھائی دیتا ہے اور وہ بات جو بالکل آسان ہے لیکن ان کے آبائو اجداد کے وقت سے ہوتا نہیں آ رہا لہٰذا ان کی سمجھ میں وہ نہیں آتا۔ لیکن افسوس کہ آج مسلمان بھی کس کثرت اور شدت سے اس مرض میں مبتلا ہیں۔ سید الانبیاء ﷺ تو خیر بڑی چیز ہیں ان کے ایک ایک خادم و چاکر کو جس سے بھی عقیدت پیدا ہوجائے اسے فوق البشر بنائے بغیر اور ” دیوتا “ کے مرتبہ پر پہنچائے بغیر نہیں چھوڑتے۔ اللہ سمجھ کی توفیق دے۔
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے جواب میں کہا ہاں ! ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہ تمہاری ہی طرح کے آدمی ہیں لیکن اللہ جس بندہ کو چاہتا ہے اپنے فضل و احسان کے لیے چن لیتا ہے اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں کہ تمہیں کوئی سند لا دکھائیں مگر ہاں ! یہ کہ اللہ کے حکم سے ہو اور اللہ ہی ہے جس پر ایمان رکھنے والوں کو بھروسہ ہے

قوم کے لوگوں کا انبیاء (علیہ السلام) کو جواب کہ تم کیا ہو ہمارے جیسے انسان ہی تو ہو 11 ؎ ساری قوموں کے لوگ اپنے اپنے رسولوں کو یہی جواب دیتے آئے ہیں کہ دیکھو تم کون ہو ایسی نصای کرنے والے ؟ تم تو ہماری طرح بشر ہو ہم تمہارے کنے پر اپنے آبائو اجداد کا مسلک چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اپنے آبائو اجداد کا مسلک چھوڑ کر تمہارا نیا دین اختیار کرلیں۔ نہیں نہیں ہم تو ایسا نہیں کرسکتے۔ ہاں ! اگر تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل نہ لے آئو ‘ رہی یہ بات کہ روشن دلیل کیا ہے ؟ تو اس کی تفصیل ذرا لمبی ہے کیونکہ بات ایک نہیں بلکہ مختلف دلیلیں طلب کی گئی تھیں۔ جن میں ایک یہ ہے کہ تم اس سرزمین مکہ سے ان پہاڑوں کو اٹھوا دو اور زمین کو ہموار کرا دو ۔ یہاں پہاڑوں کی بجائے باغات کھڑے نظر آئیں اور پھر باغات کے سامنے نہریں بہہ رہی ہوں۔ اچھا اگر نہیں تو تیرا گھر ہی سونے کا بن کر تیار ہوجائے اور اگر یہ بھی نہیں تو فرشے تیرے پاس جو آتے ہیں ہمارے پاس بھی اترنے لگیں اور ہمارے ساتھ باتیں کریں کچھ تو ہو کہ لوگ سن کر تیری طرف دوڑنے لگیں۔ رسولوں کا جواب کہ ہاں ! ہم بلاشبہ انسان ہیں لیکن اللہ کے برگزیدہ 12 ؎ منکرین و معاندین کے استدلال کا ایک مقدمہ تو تمام تر صحیح تھا یعنی پیغمبر بھی محض بشری ہوتے ہیں لیکن جب اس پر مقدمہ اول ان پر لگا کر کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہو سکتا نتیجہ یہ نکالنا چاہتے تھے کہ ” اس لئے تم رسول ہو ہی نہیں سکتے “ تو ان کا استدلال تمام تر فاسد ہوجاتا تھا۔ اس لئے کہ ان کا یہ مفروضہ کہ بشر رسول نہیں ہو سکتا خود تمام تر باطل تھا۔ رسولوں نے فرمایا کہ ہم کب انکار کرتے ہیں کہ ہم بشر نہیں ہیں اور ہم نے کب دعویٰ کیا ہے کہ ہم فرشتے ہیں ہم بھی تمہاری طرح بشر ہیں لیکن جو فضائل و کمالات اور جو قوتیں اور استعدادیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں مرحمت فرمائی ہیں ان سے تم بےبہرہ ہو۔ کفار نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو چونکہ ظاہری بشریت سے دیکھا تھا اس لئے فریب کھا گئے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کو نبی ماننے سے انکار کردیا لیکن اس وقت چونکہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی بشریت کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا اس لئے اس وقت انبیاء کرام (علیہ السلام) کو انبیاء (علیہ السلام) ماننے والوں کی اکثریت نے ان کی حقیقی بشریت سے انکار کیا لیکن دونوں فریقوں کے عقیدہ میں کوئی فرق نہ رہا اگرچہ فرق اول نے فی نفسہ ان رسولوں کا انکار کیا اور فریق دوم نے اقرار کیا لیکن پھر بشر ماننے سے انکار کردیا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اللہ نے اعلان کرا دیا کہ ” ہاں ! ہم بلاشبہ تمہاری طرح انسان ہیں یعنی ظاہر شکل و صورت کے لحاظ سے بھی اور نسل و جنس کے لحاظ سے بھی اور بشری تقاضوں کے لحاظ سے بھی جیسے سونا ‘ جاگنا ‘ کھانا پینا ‘ راحت و آرام کا محسوس کرنا اور دکھ و تکلیف کا حساس ہونا ‘ گرمی و سردی سے دوچار ہونا اور مرنا اور جینا سب کچھ اس طرح جس طرح سارے انسانوں کیلئے ہے لیکن ان ساری باتوں کے باوجود جو فرق ہے وہ بھی بالکل واضح اور بدیہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ” اللہ جس بندہ کو چاہتا ہے اپنے فضل و احسان کیلئے چن لیتا ہے “۔ غور کیجئے کہ اگر انسانوں میں سے کوئی انسان اپنی ہی جنس کے لوگوں میں سے دنیا ہی کیلئے چن لیا جائے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے جلدی سمجھنا چاہو تو آج کل کے بی ڈی ممبر ‘ ایم پی اے ‘ ایم این اے وغیرہ ہیں ان سے اندازہ کرلو لیکن جس کو اللہ منتخب فرمائے اس کی کیا حالت ہوگی۔ مولانا روم (رح) فرماتے ہیں ۔ ؎ گفت انیک ما بشر ایشاں بشر مادوایشاں بستہ خواہم و خور ایں ندانستد ایشاں از عما ہست فرق درمیاں بےانتہا ہر دو یک گل حور و رنبور و نحل زاں یکے شد نیش زاں دیگر عمل ہر دو گوں آہو گیاہ خوردند و آب زیں یکے سرگیں شد وزاں مشک ناب ایں خورد گرد و بلیدی دیں جدا واں خورد گردو ہماں نور خدا 1۔ کفار نے کہا کہ ہم بھی انسان ہیں اور انبیاء بھی انسان ہیں ‘ ہم بھی سوتے ہیں اور کھاتے ہیں اور وہ بھی۔ 2۔ ان اندھوں نے یہ نہ جانا کہ ان کے درمیان اور انبیاء (علیہ السلام) کے درمیان تو واضح فرق موجود ہے۔ 3۔ دیکھو زنبور اور شہد کی مکھی ایک پھول سے ہی خوراک حاصل کرتی ہیں لیکن وہاں ڈنگ نمودار ہوتا ہے اور یہاں شہد۔ 4۔ دونوں ہرن ایک ہی گھاس کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں لیکن ایک سے صرف لید نکلتی ہے اور دوسرے سے خالص کستوری۔ 5۔ کافر کھاتے ہیں تو اس سے نجاست نکلتی ہے اور نبی کھاتا ہے تو وہ نور خدا بنتا ہے۔ ” ہمارے اختیار میں نہیں کہ ‘ تمہیں کوئی سند لا دکھائیں مگر ہاں یہ کہ اللہ کے حکم سے ہو۔ “ وہ اعلان و تحدی جس کو چیلنج کہتے ہیں وہ ہمارے اختیار میں نہیں وہ تو سراسر اعلان الٰہی ہوتا ہے جب وہ کسی اعلان کا حکم دیتا ہے تو نبی اس کے مطابق اعلان کردیتا ہے جیسے گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے وقت سارے انبیاء نے اللہ کے حکم سے اعلان کیا اور جو کیا وہ من و عن اپنے وقت پر ہو کر رہا ” اور اللہ ہی ہے جس پر مومنوں کو بھروسہ کرنا چاہئے “۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں ؟ حالانکہ اس نے ہماری رہنمائی کی ہے کہ ہم ان ایذاؤں پر صبر کریں جو تم ہمیں دے رہے ہو بس اللہ ہی ہے جس پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے

ہمارے لئے کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے ہم کو راہ دکھائی 13 ؎ جب سارے مومنوں کا حق یہ ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانیں تو پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) جو براہ راست وحی الٰہی کے مخاطب ہیں کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے اللہ پر مکمل بھروسہ نہ رکھیں جب کہ اللہ نے ہدایت کی راہ ان پر کھول دی جو ان کے زمانہ کے دوسرے لوگوں پر بند تھی اس لئے انہوں نے اپنے مخالفین و معاندین کو مطلع کردیا کہ ” ہم تمہاری ایذا رسانیوں پر ضرور صبر کریں گے۔ “ تم جی بھر کر ہمیں اذیت پہنچنا ‘ مقدور بھر ہم پر ظلم و ستم کرو ہم بڑی استقامت سے ان تمام مصائب کو برداشت کریں گے اور صبر کا دامن ہمارے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پائے گا کیونکہ ہم اپنے رب پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں اور جن کا بھروسہ قادر و توانا پروردگار پر ہوتا ہے انہیں گھبراہٹ سے اور بےصبری سے کیا واسطہ۔
Ayah 14:13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور منکروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں اپنے ملک سے ضرور نکال باہر کریں گے یا پھر تم ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ گے ، تو ہم نے رسولوں پر وحی بھیجی کہ اب ایسا ضرور ہوگا کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کر ڈالیں

کافروں نے اپنے رسولوں کو کہا کہ ہم تم کو اپنی زمین سے نکال باہر کردیں گے 14 ؎ یہ وہی بات ہے جس کو ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس “ زور آور ہمیشہ جو کام کرتا ہے وہ زور ہی کے بل بوتے پر کرتا ہے دلیل اور حجت کی اس کو کھبی ضرورت نہیں پیش آتی کیونکہ اس کے ہاں میں ہاں ملانے والے بہت ہوتے ہیں اور اس بات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں “ طاقت ان کے پاس ہے اور وہ طاقت ہی کے بل بوتے پر سب کچھ کرنے کے عادی ہیں فرمایا کفار نے بڑے اطمینان کے ساتھ رسولوں کو کہا کہ دیکھو تم جو بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو ان سے باز آجائو ورنہ ہم تم کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیں گے۔ یہ گائوں ‘ یہ شہر ‘ یہ علاقہ ہمارا ہے یا تمہارا ؟ بس ایک ہی بات ہے یا اس دین و ملت کو چھوڑ دو اور اس دین میں لوٹ کر آجائو جو ہمارے باپ دادا کا دین تھا یا ہماری زمین سے نکل جائو اور جہاں تمہارا جی چاہتا ہے وہاں چلے جائو۔ کفار کی اس دھمکی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو خبردار کردیا کہ گھبرائو نہیں ہم عنقریب ان لوگوں کو ہلاک کریں گے اور تم کو کامیابی اور کامرانی سے دوچار کریں گے اور تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئے گی۔
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تمہیں اس سرزمین میں جگہ دیں یہ ہے نتیجہ اس کے لیے جو ہماری جگہ سے ڈرا نیز اس کیلئے تنبیہ ہے

اللہ نے اپنے رسولوں کو آگاہ کردیا کہ عنقریب کامیابی تمہارے قدم چومے گی 15 ؎ عنقریب ہم تمہارے مخالفین کو ہلاک کردیں گے اور ان کی جگہ ان لوگوں کو لاکھڑا کریں گے جو تمہارے دین کو ماننے والے ہیں اور تمہارے ساتھ ایمان لا چکے ہیں اور یہ وعدہ ہر اس شخص کیلئے ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعد سے خائف ہے گویا رمایا کہ یہ کامرانی کا مژدہ ان تمام لوگوں کیلئے ہے جن کے دل روز محشر میرے روبرو حاضر ہونے سے ہر لحاظ خائف و ترساں رہتے ہیں اور یہ تصور ان کو میری نافرمانی سے روکتا ہے اور میری اطاعت و فرمانبرداری پر انہیں ثابت قدم رکھتا ہے یہی کامیاب و کامران ہوں گے اور انہی کے دشمنوں کیلئے ناکامی و نامرادی ہے۔ ابھی ابھی فتح و نصرت کا وعدہ حضرات انبیاء سے تھا کہ تمہارے مخالفین تمہارے سامنے نیست و نابود کئے جائیں گے اور سرفرازی و سربلندی تم کو نصیب ہوگی معا بعد اس وعدہ کا دائرہ وسیع کر کے اسے ہر مومن کیلئے عام کردیا گیا ہے اور مومن کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ موقف حشر کی حاضری اور اللہ کی وعید کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

غرض کہ پیغمبروں نے فتح مندی طلب کی اور ہر سرکش ضدی نامراد ہوا

انبیاء کرام (علیہ السلام) نے فتح طلب کی اور سرکشوں کو نامراد کیا گیا 16 ؎ واستفتحوا کا فاعل کون ہے یعنی یہ فیصلہ کس نے چاہا ؟ اکثر کی رائے تو یہی ہے کہ یہ فیصلہ کا مطالبہ کرنے والے کافر تھے اسے استضروا یعنی الامم (معالم عن ابن عباس ؓ الضمیر للکفار (روح المعانی ‘ ابن زید) اور ضمیر بجائے کفار کے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی طرف بھی کی جاسکتی ہے۔ والضمیر الانبیاء علیھم السلام (بیضاوی) ہم نے ترجمہ میں انبیاء (علیہ السلام) کو مراد لیا ہے جو اس لئے تحریر کرنا پڑتا کہ قارئین سمجھ لیں کہ یہاں ضمائر کی وجہ سے مضمون میں رد و بدل ہو سکتا ہے وہاں گنجائش ہوتی ہے کہ بات اس طرح کی جائے جس طرح مضمون صاف اور واضح ہوجائے اور معانی میں نکھار اور وضاحت آئے کیونکہ اگر اس اختلاف کی ممانعت ہوتی یا جائز نہ ہوتا تو طریقہ بیان ایسا بھی ممکن تھا کہ یہ اختلاف پیدا ہی نہ ہوتا۔ اگر مضمون میں وسعت رکھی گئی ہو تو اس وسعت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب کہ بات کی وضاحت ہوجائے اور مفہوم میں ابہام نہ رہے ۔ اگر یہ بات آپ نے سمجھ لی تو انشاء اللہ قرآن فہمی میں کام آئے گی۔
Ayah 14:16

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے دوزخ ہے (دُنیا کی نامرادی کے بعد آخرت کی نامرادی) وہاں خون اور پیپ کا پانی پلایا جائے گا

کفار کیلئے دوزخ میں ان کی مہمانی اور ضیافت کا سامان کیا ہوگا ؟ 17 ؎ کفار و معاندین کی مہمانی کا ذکر بھی زیر نظر آیت میں کردیا گیا کہ ان کی ضیافت کس اشیاء سے کی جائے گی ؟ ان کے متعلق ارشاد ہوا کہ جہنم میں ان کو خون اور پیپ پیش کیا جائے گا اور اس سے اصل مراد ان کی تضحیک اور رسوائی ہے جو بطور مثال بیان کی گئی ہے اور ” ماہ صدید “ کھولتے ہوئے پانی کو بھی کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ان کو ذلت و رسوائی سے دوچار کرنے کے بعد انہیں فراموش نہیں کردیا جائے گا بلکہ ہمارے انبیاء اور رسول کی جو انہوں نے توہین کی تھی ان کے سامنے جو گستاخیاں کی تھیں اور قول حق سے انکار کیا تھا اس کے بدلے میں انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور ان کو وہ کچھ وہاں کھانے کو دیا جائے گا جو دنیا کی زبان میں نہایت ہی گھٹیا اور بری غذا سمجھی گئی ہے جس کو انسان نہیں بلکہ جانور بھی کھانے سے گریز کرتے ہیں تاکہ ان کو نصیحت ہو اور یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ یہ قوم کے جباروں اور متکبروں یعنی بڑے بڑے چودہریوں اور سرداروں کی ضیافت کا بیان ہے۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ ایک ایک گھونٹ کر کے منہ میں لے گا اور گلے سے اتار نہ سکے گا ہر طرف سے اس پر موت آئے گی مگر مرے گا نہیں اس کے پیچھے ایک سخت عذاب لگا ہوا ہے

وہ گھونٹ گھونٹ پئیں گے ‘ موت کا سماں ہوگا لیکن موت اب کہاں آئے گی ؟ 18 ؎ غذا کھانے کیلئے ہر انسان دنیا میں مجبور ہے خواہ وہ کوئی ہو اس کے پیش نظر یہ بیان فرمایا گیا ہے دوزخ کے حالات عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان پر ایمان و اعتقاد رکھا جاتا ہے اور رکھا جانا چاہئے مطلب یہ ہے کہ پیاس کی شدت کے باعث وہ پینے پر مجبور بھی ہوگا لیکن اس بدبودار ‘ بد ذائقہ اور کھولتی ہوئی پیپ کو پئے تو کیونکر ؟ حلق سے نیچے اترے تو کیسے ؟ اگر آپ برا نہ مانیں تو اس وقت ہمارے لئے یہ بات سمجھنا اتنا مشکل نہیں رہا بلکہ ہم کو اس کا عادی بنا دیا گیا ہے جس چیز کو ” چائے “ اور ” کافی “ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اگر نقشہ اس کے مطابق بنتا ہے تو یہ ہمارے منہ لگ چکی ہے اور ہم کو اس کا عادی بنا دیا گیا ہے شاید ان لوگوں نے جنہوں نے اس کو ایجاد کیا ان کے ذہن و دماغ میں کوئی ایسی ہی شرارت موجود ہو۔ پتی کو پانی میں ڈال کر جوش دیں تو ” خون “ کے قریب قریب ایک رنگ نکل آتا ہے اور پھر جب دو سیر پانی میں پائو بھر دودھ ڈال دیا جائے تو وہ کیا تیار ہوتا ہے غور خود فرما لیں ؟ ہمیں تو اتنا معلوم ہے کہ کبھی یہ چیز مفت پیش کی جاتی تھی لیکن اس کو قبول کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں تھا اور یہ بات 1922 ء تا 1924 ء کی ہے اور تقریباً دو تین برس کے اندر یہ بکنا شروع ہوگئی اور ہم نے وہ وقت بھی دیکھا جب دیہات میں بیماری کے باعث اس کو ڈاکٹروں نے تجویز کرنا شروع کیا اور فیشین کے ساتھ دی جاتی تھی اور بوڑھیاں اس کو پانی میں پکا کر پانی ضائع کر کے پتی کھالیا کرتی تھیں اگرچہ یہ ان کی سمجھ کی غلطی کے باعث ہوتا تھا لیکن آج ہمارا کیا حال ہے کہ ہماری سب سے مرغوب غذا یہی بن کر رہ گئی ہے اور گھونٹ گھونٹ کر پینے کی شرط تو ویسے ہی اس کے ساتھ لازم ہے اور جتنی گرم ہوگی اتنی ہی پسندیدہ ہوگی اور اس وقت ہماری ذہنی اور دماغی پریشانیوں کے باعث اس کا استعمال لازم سمجھا جاتا ہے بہرحال یہ دنیا کا معاملہ ہے لیکن آخرت کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس پینے کی چیز کو دیکھ کر پینے والا چاہے گا کہ اس کو موت آجائے لیکن وہ مرنے کا بھی نہیں ہوگا اس لئے اس کو مجبوراً پئے گا لیکن ابھی دوزخ کا عذاب تو اس کے علاوہ ایک بہت بڑی غلیظ چیز ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا تو ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کا ڈھیر کہ آندھی کے دن ہوا لے اڑے جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا ، یہی گمراہی کی حالت ہے جو بڑی ہی گہری گمراہی ہے

رب العزت کے انکاریوں کے اعمال کی مثال راکھ کے ڈھیر کے ساتھ 19 ؎ کفار کے وہ اعمال جو اعمال حسنہ سمجھتے جاسکتے ہیں ان کا ذکر ہے کہ ان کے کفر و شرک کے باعث ان کی مثال کیسی ہے ؟ فرمایا ان کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کا ایک ڈھیر ہو اور تیز و تند آندھی چلے اور اس کو اڑا کرلے جائے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے ان اعمال کی کوئی قدر و منزلت نہیں اور انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انہیں ان کے اعمال پر قیامت کے روز کوئی اجر نہ ملے ‘ انہوں نے جو یہ کام کئے تھے تو ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ انہیں اچھا کہیں ‘ ان کی رحم دلی اور سخاوت کا چرچا ہو اور لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں تاکہ ان کو النکشا جیتنے میں آسانی ہو اور ان کی تجارت کو چار چاند لگ جائیں اور ان کے کاروبار میں ترقی ہو۔ جس مقصد کیلئے انہوں نے یہ سب کچھ کیا وہ مقصد انہیں حاصل ہوگیا۔ جب اللہ کی رضا انہیں مطلوب ہی نہ تھی تو اس کے حاصل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب قیامت کی سرخروئی کا ان کے دل میں تصور ہی نہ تھا تو انہیں روز قیامت سرخرو کیا جائے تو آخر کیوں ؟ اور جن لوگوں نے اپنے پیروں ‘ بزرگوں اور مرشدوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کچھ کیا تو وہ جائیں اپنے ان پیروں ‘ بزرگوں اور مرشدوں کے پاس اور ان سے اس کا صلہ طلب کریں۔ بہرحال وہ ان اعمال پر قطعاً اس بات کے حق دار نہیں کہ بارگاہ الٰہی سے انہیں اس کی جزا دی جائے۔ غور کرو کہ محرومی اور بدنصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ممکن ہے کہ اپنے جن اعمال پر انسان کو بھروسہ اور ناز ہو عین وقت پر وہی بالکل ہیچ اور ناکارہ نکلیں ۔ ” لا یقدرون علی شئی “ یعنی نفع اور اثر کی قسم سے انہیں کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ یہ تو ان کے اپنے اچھے اعمال کا حال ہے اور جو لوگ اس فانی دنیا سے خود تو بغیر کچھ اچھا عمل کئے رخصت ہوئے اور مرنے کے بعد ان کے لواحقین نے مولویوں ‘ صوفیوں اور قاریوں کے ذریعہ جو مال بھجوائے ان کا حال خود سمجھ لو۔ فرمایا ” ساری گمراہیوں سے بڑی گمراہی “ یہی ہے کہ کوئی انسان کوئی عمل آخرت پر صحیح ایمان نہ لا کر کرے کیونکہ اس طرح اس کے عمل کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی اور اس کی ساری محنت اکارت چلی گئی گویا اس نے ” سوپیاز بھی کھا لئے اور سو جوتے بھی “ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کے پاس کوئی اعتباری نظریہ نہ تھا بلکہ ہر حال اس کو اپنی ہی سہولت کا خیال رہا لیکن سہولت بھی میسر نہ آئی اور جو کام وہ کرنا نہیں چاہتا تھا اس کو بھی کر گیا۔ اگر اس کا کوئی نظریہ موجود ہوتا تو دونوں قسم کے عذابوں سے دوچار نہ ہوتا اگرچہ ایک اس پر مسلط کر ہی دیا جائے۔
Ayahs 14:19–20

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو ایک فعل عبث کی طرح نہیں بنا دیا ہے کسی مصلحت سے بنایا ہے اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہٹا دے اور ایک نئی پیدائش نمودار کر دے

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی ذات پر کچھ دشوار نہیں

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ایک فعل عبث کے طور پر نہیں بنایا بلکہ خاص مقصد کے تحت بنایا 20 ؎ اوپر کچھ لوگوں کے اعمال کا ذکر کیا گیا تھا کہ انہوں نے اعمال تو کئے اور تھے بھی وہ اچھے اعمال لیکن انہوں نے بغیر آخرت پر ایمان لانے کے محض دنیاوی زندگی کی خوبیاں ‘ کامیابیاں ‘ کامرانیاں حاصل کرنے کیلئے کئے اس لئے دنیا میں بھی ان کا صلہ ان کو دے دیا گیا۔ اس کے بعد اب ذکر کیا جا رہا ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے کتنے بڑے آسمانوں اور زمین کو بچھایا ہے لیکن صرف اتفاقیہ ایسا نہیں کیا یا ایسا ہوگیا بلکہ اتنا بڑا کام بھی کسی خاص مقصد کے تحت کیا گیا اگرچہ وہ مقصد سارے انسانوں کی سمجھ میں نہ آئے۔ اس لئے یہ آیت دلیل ہے اس دعویٰ کی جو اوپر کیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اس بات کو سن کر تمہیں تعجب کیوں ہوتا ہے ؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ زمین و آسمان کا عظیم الشان کارخانہ تخلیق حق پر قائم ہوا نہ کہ باطل پر ؟ یہاں جو چیز حقیقت اور واقفیت پر مبنی نہ ہو بلکہ محض ایک بےاصل قیاس گمان پر جس کی بنا رکھ دی گئی ہو اسے کوئی پائیداری نصیب نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے قرار و ثبات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے اعتماد پر کام کرنے والا کبھی اپنے اعتماد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جو شخص پانی پر نقش بنائے اور ریت پر قصر تعمیر کرے وہ اگر یہ امید رکھتا ہے کہ اس کا نقش باقی رہے گا اور اس کا قصر کھڑا رہے گا تو اس کی یہ امید کبھی پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ پانی کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ وہ نقش قبول کرے اور ریت کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ وہ عمارت کیلئے مضبوط بنیاد بن سکے لہٰذا سچائی اور حقیقت کو نظر انداز کر کے جو شخص باطل امیدوں پر اپنے عمل کی بنیاد رکھے اسے ناکام ہونا ہی چاہئے۔ یہ بات اگر تمہاری سمجھ میں آتی ہے تو پھر یہ سن کر تمہیں حیرت کیوں ہوتی ہے کہ خدا کی اس کائنات میں جو شخص اپنے آپ کو خدا کی بندگی و اطاعت سے آزاد فرض کر کے کام کرے گا یا خدا کے سوا کسی اور کی خدائی مان کر زندگی بسر کرے گا اس کا پورا کارنامہ زندگی ضائع ہوجائے گا ؟ جب واقعہ یہ نہیں ہے کہ انسان یہاں خود مختار ہو یا خدا کے سوا کسی اور کا بندہ ہو تو اس جھوٹ پر اس کے خلاف واقعہ مفروضے پر اپنے پورے نظام فکر و عمل کی بنیاد رکھنے والا انسان تمہاری رائے میں پانی پر نقش کھینچنے والے احمق کا سا انجام نہ دیکھے گا تو اس کیلئے اور کس انجام کی تم توقع رکھتے ہو ؟ اور دیکھو جو فیصلہ ہوچکا تو شیطان بولا بلاشبہ اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا ‘ سچا وعدہ ” وہ اگر چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔ “ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ عالم فنا پذیر ہے جو قائم بالغیر ہے اور جو اس کو قائم کرنے والا ہے وہی خالق کائنات کہلاتا ہے اور پوری کائنات میں اس کا کوئی ساجھی اور شریک نیں س۔ تمہاری جگہ نئی مخلوق پیدا کر کے لے آنا کوئی مشکل کام نہیں ہے 21 ؎ ظاہر ہے کہ جس اللہ نے پہلی بار اس کائنات کو پیدا کیا اور وہ معرض وجود میں آگئی اب دوبارہ پیدا کرنا جو اس کے مثل کہلائے گی کیا مشکل ہے ‘ اگر مشکل تھا تو وہ پہلی بار پیدا کرنا تھا۔ کیا تمہارا پہلی بار پیدا کرنے کو دل مانتا ہے ؟ اگر مانتا ہے تو تم ہی بتائو کہ مشکل امر کو تم مانتے اور تسلیم کرتے ہو اور آسان پر تم کو تعجب ہے حالانکہ یہ بات تو اللہ رب العزت پر کوئی مشکل نہیں ہے۔ پھر یہ بھی کہ اس بوڑھی دنیا میں کتنی قومیں آئیں اور چلی گئیں اس طرح تم کو بھی ایک دن چلے جانا ہے۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور اللہ کے حضور سب لوگ حاضر ہوگئے پس ناتوانوں نے سرکشوں سے کہا ہم تمہارے پیچھے چلنے والے تھے پھر کیا آج تم ایسا کرسکتے ہو کہ ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا دو ؟ انہوں نے کہا اللہ ہم پر بچاؤ کی کوئی راہ کھولتا تو ہم بھی تمہیں کوئی راہ دکھاتے ، اب خواہ جھیل لیں خواہ روئیں پیٹیں ہمارے لیے دونوں حالتیں برابر ہوگئیں ہمارے لیے آج کسی طرح چھٹکارا نہیں

کمزوروں اور متکبروں کا ایک دوسرے پر سوال و جواب 22 ؎ زیر نظر آیت میں قیامت کا ذکر ہو رہا ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں جس کی حاضری وہاں نہ ہو اور کوئی ایسا نہیں کہ بجائے اللہ کے پیشی یا حاضری اس کے سامنے ہو۔ پیش ہونے والوں میں ہر قسم کے لوگ ہوں گے اگر پیر ہوں گے مرید بھی ‘ عالم ہوں گے تو جاہل بھی ‘ گروہوں گے تو چیلے بھی ‘ سردار اور آقا ہوں گے تو نوکر اور غلام بھی ‘ طاقتور ہوں گے تو کمزور بھی۔ دنیا کی صورت حال یہ تھی کہ چھوٹے ہمیشہ بڑے لوگوں کے تابع ہوتے ہیں اس لئے وہاں تابع ہوں گے تو متبوع بھی ہوں گے اور سب کے متعلق پوچھا جائے گا۔ فرمایا جب قیامت کا دن آئے گا تو طوعاً و کرماً سب کے سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوں گے۔ اپنی نافرمانیاں ‘ اپنا کفر و شرک ‘ اپنا فسق و فجور اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جس طرح انہوں نے دکھ پہنچائے تھے اور ان کے بےادبیاں کی تھیں ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آجائیں گی ادھر جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیں گے۔ اس وقت گمراہ سرداروں کے پیروکار انہیں کہیں گے کہ زندگی بھر ہم تمہارے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے رہے تم نے ہمیں کہا کہ اس نبی کی بات مت سنو ‘ ہم نے کانوں میں روئی ٹھونس لی۔ تم نے کہا کہ ان پر پتھر برسائو ہم نے ان اللہ کے بندوں پر پے درپے پتھر پھینکے اور انہیں لہولہان کر کے چھوڑا۔ آج بتائو کچھ تم ہمارے لئے کرسکتے ہو ؟ وہ سردار اپنی مکمل بےبسی کا اعترف کریں گے اور بڑی حسرت و ندامت سے کہیں گے کہ ہم تو خود گمراہ رہے۔ ہم تمہاری کیا امداد کرسکتے ہیں ؟ گمراہوں کا ایک یہ گروہ بھی ہے جو اپنے رئیسوں اور سرداروں کی اندھی تقلید میں یوں مگن رہتا ہے کہ وہ حق کو سمجھنے اور اس میں غور و فکر کرنے کی عمر بھر ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ ان کو خواب غفلت سے نکالنے کیلئے قیامت کے دن پیش آنے والے واقعات کو دل کش انداز میں بیان کیا تاکہ اگر وہ چاہیں تو اپنی اس نازیبا حرکت سے باز آجائیں۔ بے بسی کی حد ہوگئی کہ وہ کمزور وڈیروں سے کہتے ہیں کہ ” آج تم ایسا کرسکتے ہو کہ اللہ کے عذاب سے کچھ ہی بچا دو ؟ “ مطلب یہ ہے کہ اس مصیبت کے وقت اگر پوری مصیبت رفع نہیں کرسکتے تو اس کا کسی قدر ہلکا ہوجانا بھی بہت غنیمت معلوم ہوتا ہے اس لئے اگر کل نہیں تو اس کا جزء یعنی کچھ حصہ ہی ہٹ جائے ذرا تخفیف ہی ہوجائے۔ دنیا میں جو تمام اکابر سمجھے جاتے تھے وہ سب کے سب اپی بےبسی اور بےکسی کا اعتراف کریں گے اور پکار پکار کر کہیں گے کہ ” اللہ ہم پر بچائو کی کوئی راہ کھولتا تو ہم بھی تمہیں کوئی راہ دکھاتے “ اب تو خواہ خاموش رہ کر جھیلیں یا جزع فزع کریں اور روئیں پیٹیں ہمارے لئے دونوں حالتیں برابر ہیں۔ “ یہ تنبیہہ ہے ان سب لوگوں کو جو دنیا میں آنکھیں بند کر کے دوسروں کے پیچھے چلتے ہیں یا اپنی کمزوری کو حجت بنا کر طاقت ور ظالموں کی اطاعت کرتے ہیں۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ آج جو تمہارے لیڈر اور پیشوا اور افسر اور حاکم بنے ہوئے ہیں کل ان میں سے کوئی بھی تمہیں خدا کے عذاب سے ذرہ برابر بھی نہ بچا سکے گا۔ لہٰذا آج ہی سوچ لو کہ تم جس کے پیچھے چل رہے ہو یا جس کا حکم مان رہے ہو وہ خود کہاں جا رہا ہے اور تمہیں کہاں پہنچا کر چھوڑے گا لیکن لاکھ سمجھائو ان باتوں سے کوئی سمجھنے والا نہیں۔