16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsانوار البیان

Ayahs 16:1–2

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی فرشتوں کو پیغام دیکر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے۔ کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو۔

اتی۔ اتی یاتی اتیان۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل مستعمل ہے اور ایسی متعدد مثالیں قرآن مجید میں ہیں۔ قطعی طور پر وقوع پذیر ہونے والی اور قریب تر ہونے والی بات کو ماضی کے لفظوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ گویا سمجھو کہ یہ بات ہو ہی چکی۔ اتی امر اللہ۔ اللہ کا حکم آن ہی پہنچا۔ (یعنی بہت جلد آنے والا ہے اور ضرور بالضرور آئے گا۔ امر اللہ ۔ خدا کا حکم۔ اس سے مفسرین نے متعدد معانی مراد لئے ہیں۔ (1) امر سے مراد سزائے کفروشرک کا حکم ہے۔ یہ سزا (عذاب) دنیوی بھی ہوسکتی ہے اور اخروی بھی ۔ (2) اس سے مراد روز قیامت ہے۔ (3) اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مسلمانوں کو فتح وظفر ہوگی۔ اور مشرکین شکست وہزیمت بربادی و رسوائی سے دوچار ہوں گے۔ لا تستعجلوہ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر ہُ ضمیر کا واحد مذکر غائب امر اللہ کی طرف راجع ہے تم اس کی جلدی (وقوع پذیر ہونے کے لئے بیتابی) مت کرو۔ عجلۃ سے باب استفعال جس کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ باب استفعال کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت طلب ِ ماخذ ہے جیسے استغفر اس نے مغفرت مانگی۔ استعجل اس نے عجلت چاہی۔ ینزل۔ مضارع واحد مذکر غائب تنزیل ۔ مصدر باب تفعیل وہ نازل کرتا ہے۔ یعنی اللہ نازل کرتا ہے۔ بالروح۔ روح کے ساتھ۔ روح بمعنی وحی یا قرآن۔ کیونکہ ہر دو دین میں بمقام روح فی الجسد کے ہیں۔ (جیسے جسد انسانی میں روح) اور ہر دو جہالت وکفر سے مردہ دلوں کو زندگی بخشتے ہیں۔ علی من یشاء من عبادہ۔ اپنے بندوں میں سے وہ جن پر چاہتا ہے (اپنے حکم سے وحی دے کر فرشتوں کو بھیجتا ہے) ۔ ان انذروا۔ یہ الروح کا بدل ہے یعنی مقصود وحی لوگوں کو اس کی وحدانیت میں کسی اور کو شریک ٹھہرانے سے ڈرانا ہے یا خبردار کرنا ہے۔ انذروا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ تم ڈر سنائو۔ تم ڈرائو۔ تم خبردار کرو۔ تم آگاہ کرو۔ انذار ایسا اعلان جس میں خوف بھی ملا ہوا ہو۔ انہ۔ ضمیر شان۔ (اگر جملہ سے پہلے ضمیر غائب بغیر مرجع کے واقع ہو تو اگر وہ ضمیر مذکر کی ہے تو اس کو ضمیر شان کہتے ہیں اور اگر مؤنث کی ہو تو اس کو ضمیر قصہ ّ کہتے ہیں۔ ان انذروا انہ لا الہ الا انا۔ والمعنی یقول اللہ تعالیٰ بواسطۃ الملائکۃ لمن یشاء من عبادہ (ای رسلہ) اعلموا الناس قولی۔ لا الہ الا انا۔ یعنی خداوند تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے اپنے رسولوں کو فرماتا ہے کہ لوگوں کو میرے اس قول سے خبردار کردو کہ کوئی معبود نہیں سوائے میرے۔ فاتقون۔نتیجہ کے لئے ہے۔ اتقون مجھ سے ڈرو۔ اتقوا۔ فعل امر۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ۔ یواحد متکلم محذوف ہے یعنی جب میں ہی معبود ہوں تو صرف مجھی سے ڈرو۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے۔

(16:3) تعلی۔ وہ برتر ہے۔ وہ بلند ہے تعالیٰ سے (باب تفاعل) لیکن باب تفاعل کا استعمال تکلف و تخیل کے لئے نہیں بلکہ یہ ابتداء کی صورت ہے۔ جیسے تبارک اللہ (خدا تعالیٰ بہت بابرکت ہے) باب تفاعل کے خواص میں سے تخییل ہے یعنی دکھاوے کے لئے حصول ماخذ کو اپنے میں دکھانا۔ جیسے تمارض زید زید نے دکھاوے کے لئے اپنے تئیں بیمار بتایا۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا۔

(16:4) نطفۃ۔ اسم مفرد۔ صاف پانی۔ مراد نطفہ انسانی۔ فاذا۔ بعض کے نزدیک ظرف زمان ہے۔ سیبویہ کے نزدیک ظرف مکان ہے اہل کوفہ کے نزدیک حرف ہے اکثر شرط پر آتا ہے۔ اور مستقبل کے معنی دیتا ہے۔ (بطور ظرف زمان) حرف مفاجات (کسی چیز کا اچانک پیش آنا) کی صورت میں زمانہ حال کے معنی دیتا ہے۔ یہاں اسی معنی میں آیا ہے بطور حرف مفاجات۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ فالقھا فاذاھی حیۃ تسعی (20:20) پس اس نے اسے ڈال دیا اور وہ دوڑتا ہوا ایک سانپ بن گیا۔ پس اذا کے معنی ہوئے ۔ جب ۔ اس وقت۔ ناگہاں۔ خصیم۔ خصم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ سخت جھگڑالو۔ اخصام۔ خصما، خصمان۔ جمع۔
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لئے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو۔

(16:5) الانعام۔ مویشی ۔ بھیڑ ۔ بکری۔ گائے۔ اونٹ ۔ مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک کہ اس میں اونٹ شامل نہ ہو۔ یہ نعم کی جمع ہے۔ الانعام۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے کہ اس کا فعل محذوف ہے یا بوجہ الانسان (آیت 4 مذکورہ) پر عطف ہونے کے۔ ای خلق الانسان والانعام۔ دف۔ جاڑے کی پوشاک ۔ گرمی کا اسباب، جڑا ول۔ ادقاء جمع۔ دف کے اصل معنی گرمی یا حرارت کے ہیں اور یہ برد (سردی) کی ضد ہے۔ یہاں دف بمعنی جاڑے کا سامان ہے۔ جاڑے کی سردی سے بچائو کے لئے گرم سامان ۔ سرمائی پوشش (غلاف البرد) از قسم دوشالہ۔ شال، پوستین۔ کمبل دھسّے وغیرہم۔ آیت ہذا میں خلقھا کے بعد ج کا وقف ہے جو کہ وقف جائز ہے۔ یعنی یہاں ٹھہرنا بہتر ہے اور نہ ٹھہرنا جائز ہے۔ اگر خلقھا الگ ہوگا اور لکم فیھا دف و منافع الگ نیا جملہ ہوگا۔ اور ترجمہ ہوگا : اور اس نے چوپایوں کو پیدا کیا۔ ان سے تم کو گرم لباس اور دیگر فوائد حاصل ہیں۔ اور اگر وقف نہ کیا جائے تو لام اجلیّہ ہوگا۔ (یعنی سبب تخلیق) اور والانعام خلقھا لکم ایک جملہ مکمل ہو کر فیھا دفء و منافع۔ الگ جملہ مستانفہ ہوگا۔ اور ترجمہ ہوگا۔ اور اس نے چوپایوں کو تمہارے لئے پیدا کیا ان سے (حاصل ہوتے ہیں) گرم لباس و دیگر فوائد۔
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور جب شام کو انھیں (جنگل سے) لاتے ہو اور) جب صبح کو (جنگل) چرانے لیجاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے۔

(16:6) جمال ۔ رونق۔ جمال۔ زیب و زینت۔ وجاہت۔ تریحون۔ روح (مادہ) سے مشتق ہے۔ یہ مادہ کثیر المشتقات ہے۔ تریحون المراوحۃ سے ہے جس کے معنی دو کاموں کو باری باری کرنے کے ہیں۔ استعارہ کے طور پر رواح سے شام کو آرام کرنے کا وقت مراد لیا جاتا ہے۔ اور اسی سے کہا جاتا ہے۔ ارحنا ابلنا۔ ہم نے اونٹوں کو آرام دیا (یعنی باڑے میں لے آئے۔ مراح باڑہ) اراح یریح اراحۃ (افعال) اونٹوں کو بوقت شام باڑہ میں لانا۔ تریحون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم شام کو چوپایوں کو باڑے میں واپس لے آتے ہو۔ تسرحون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم صبح کے وقت چرانے لے جاتے ہو۔ سرح سے السرح ایک قسم کا پھل دار درخت ہے اس کا واحد سرحۃ ہے درحت الامل کے اصل معنی تو اونٹ کو (سرح) درخت چرانے کے ہیں بعد میں چراگاہ میں چرنے کے لئے کھلا چھوڑ دینے پر اس کا استعمال ہونے لگا۔ حین تسرحون۔ جب تم صبح کو جنگل میں (چوپایوں کو) چرانے کے لئے لے جاتے ہو۔ سارح اونٹوں کو چرانے والا چرواہا۔ آیت ہذا میں چوپایوں کو شام کے وقت واپس لانے کو پہلے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اس وقت وہ سیر شکم ہونے کے باعث زیادہ بارونق دکھائی دیتے ہیں۔
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمت شاقہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارے پروردگار نہایت شفقت والا مہربان ہے۔

(16:7) لم تکونوا بلغیہ۔ جہاں تک تم نہیں پہنچ سکتے۔ بالغیہ مضاف مضاف الیہ۔ بلغی اصل میں بالعین تھا۔ ن جمع بسبب اضافت حذف ہوگیا۔ بلوغ مصدر۔ شق الانفس۔ مضاف مضاف الیہ۔ جانی مشقت ۔ جانی دشواری ۔ شق بمعنی مشقت جا نکاہی۔
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لئے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جنکی تم کو خبر نہیں۔

(16:8) والخیل والبغال والحمیر۔ (گھوڑے۔ خچر۔ گدھے) ان تینوں کا عطف الانعام پر ہے۔ ای وخلق الخیل والبغال والحمیر۔ زینۃ۔ یا تو مفعول لہ ہے اور ترجمہ ہوگا۔ کہ تم سوار ہو ان پر زینت کے لئے۔ یا یہ معطوف ہے اور اس کا عطف لترکبوھا پر ہے (ان کو پیدا کیا) کہ تم ان پر سوار ہو اور (ان کو پیدا کیا) زینت کے لئے بھی۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھا راستے پر چلا دیتا۔

(16:9) علی اللہ قصد السبیل۔ علی اللہ ۔ اللہ کے ذمہ ہے قصد السبیل۔ ای بیان الطریق القاصد المستقیم ۔ سیدھے مستقیم راستہ کی واضح نشاندہی کردینا۔ یعنی سیدھے راستہ کو اپنے برگزیدہ پیغمبروں کے ذریعہ سے لوگوں پر واضح کردینا اللہ کے ذمہ ہے اور اس ذمہ داری کو وہ وحی کے ذریعہ سے اپنے رسولوں کی وساطت سے پورا کردیتا ہے۔ قصد۔ اسم مصدر ومصدر ہے بمعنی فاعل۔ سیدھا جانے والا راستہ۔ یعنی سیدھا راستہ جائر کی ضد ہے۔ قصد (باب افتعال) سے بمعنی اعتدال اور افراط و تفریط کے درمیان۔ میانِ راہ کے معنی دیتا ہے۔ السبیل۔ اسم جنس ہے۔ بعض نے وعلی اللہ قصد السبیل۔ کا ترجمہ کیا ہے : اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے (علی ) کو الی کے معنی میں لیا ہے ومنھا جائر۔ اور بعضی راہ کج اور ٹیڑھے بھی ہیں۔ (جو حق تک نہیں پہنچاتے ) جائر جور سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ جور کے معنی راہ سے ہٹنے اور کج ہونے کے ہیں۔ جائر وہ راستہ جو کج ہو اور حق تک نہ لے جائے۔
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔

(16:10) منہ شراب۔ اس سے پانی پینے کو (ملتا ہے) ومنہ شجر اور اس سے سبزہ پیدا ہوتا ہے۔ تسیمون۔ اسامہ یسیم اسامۃ (افعال) سے جمع مذکر حاضر۔ تم چراتے ہو۔ السوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانے کے ہیں۔ پس اس کا مفہوم دو اجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا۔ پھر کبھی صرف ذہاب یعنی چلے جانا کے معنی ہوتے ہیں جیسے سامت الابل۔ (اونٹ چراگاہ میں چرنے کے لئے چلے گئے) اور کبھی صرف طلب کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے سمت کذا۔ (میں نے اسے فلاں کو تکلیف دی) ۔ اور اسی سے ہے یسومونکم سوء العذاب۔ (2:49) وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ (باب نصر) باب افعال، تفعیل سے اسمت وسومت الابل میں نے اونٹوں کو چرنے کے لئے بھیجا۔ باب افعال ہی سے ہے تسیمون ۔ تم چراتے ہو یا چرنے کے لئے بھیجتے ہو۔
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اسی پانی سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور (اور بیشمار درخت) اگاتا ہے اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بڑی) نشانی ہے۔

(16:11) ینبت۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ انبات افعال سے وہ اگاتا ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ماء ہے جو کہ سابقہ آیت میں ہے۔ الزرع۔ زرع یزرع (فتح) سے مصدر ہے اس کے اصل معنی انبات یعنی اگانے کے ہیں۔ لیکن یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول مزروعآیا ہے یعنی کھیتی۔ اسی معنی میں اور جگہ آیا ہے فنخرج بہ زرعا۔ (32:27) پھر ہم اس (پانی) کے ذریعہ سے کھیتی نکالتے ہیں۔ زرع کے اصل معنی اگانے کے ہیں جو پونے سے مختلف ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے کہ افرأیتم ما تحرثونء انتم تزرعونہ ام نحن الزارعون (56:24) بھلا بتائو تو کہ جو تم بوتے ہو کیا اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ یتفکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب تفکر (تفعل) مصدر۔ وہ غور کرتے ہیں۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(16:12) مسخرات۔ اسم مفعول ۔ جمع مؤنث مسخرۃ واحد۔ تسخیر (تفعیل) مصدر۔ زیر تسخیر۔ مغلوب ۔ تابع فرمان۔ ابواب ثلاثی مجرد سے باب سمع سے بمعنی ٹھٹھا کرنا کے آتا ہے۔
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لئے اس میں نشانی ہے۔

(16:13) وما ذرألکم۔ میں ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔ اس جملہ کا عطف الیل آیۃ (12) پر ہے۔ ای وسخر لکم ما ذرألکم۔ یا اس کا فعل محذوف ہے۔ ای خلق وابدع۔ ذرأیذرأ (باب فتح) ذرئ۔ مصدر ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے بکھیرا۔ وما ذرألکم فی الارض (اور اس نے ان چیزوں کو بھی پیدا کیا یا مسخر بنایا) جن کو اس نے تمہارے (فائدے کے) لئے زمین پر پھیلا دیا۔ مختلفا الوانہ۔ یہ حال ہے فعل محذوف کا۔ الوانہ مضاف مضاف الیہ۔ الوان جمع لون کی جس کے معنی رنگ کے ہیں۔ کبھی الوان سے مراد کسی چیز کے انواع و اقسام بھی مراد ہوتے ہیں چناچہ محاورہ ہے الوان من الطعام قسم قسم کے کھانے۔ یہاں مختلف النوع اور مختلف اللون مراد ہوسکتے ہیں۔ یذکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب ای یتظون۔ نصیحت پکڑتے ہیں تذکر (تفعل) مصدر۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ۔ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں اور اس لئے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ (اسکا) شکر کرو۔

(16:4) طربا تروتازہ۔ طراوۃ سے جس کے معنی تروتازہ ہونے کے ہیں۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ تستخرجوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تستخرجون تھا نون اعرابی (لام محذوف) حرف عامل کی وجہ سے حذف ہوگیا۔ تم نکالتے ہو استخراج (باب استفعال) ہے۔ حلیۃ۔ بمعنی زیور پہنانا۔ عورت کے لئے زیور بنانا۔ یحلون فیھا اساور من ذھب۔ (18:31) ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ حلی زیورات حلی زیورات۔ تلبسونھا۔ تم جسے پہنتے ہو۔ تم اس کو پہنتے ہو۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب حلیۃ کی طرف راجع ہے۔ مواخر۔ صیغہ صفت جمع ماخرۃ۔ ماخر واحد مخر ومخور مصدر۔ باب فتح۔ پانی کو چیرنے والی کشتیاں۔ مخر یمخر (فتح) مخر یمخر (نصر) مخر ومخور کشتی کا پانی کو آواز کے ساتھ چیرنا سمندر کو چیر کر چلنے والی کشتی کو سفیۃ ماخرۃ کہتے ہیں۔ ولتبتغوا من فضلہ۔ تبتغوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبتغون تھا۔ نون اعرابی بوجہ لام حرف عامل ) گرگیا۔ تا کہ تم اس کے فضل (رزق) کو تلاش کرو۔ (1) جملہ کا عطف تستخرجوا پر ہے۔ (2) یا اس کا عطف علت محذوف پر ہے۔ ای لتنتفعوا بذلک ولتبتغوا (تاکہ تم اس سے استفادہ کرو اور تلاش کرو۔۔ ) (3) یا یہ متعلق فعل محذوف ہے ای فعل ذلک لتبتغوا۔ اس نے ایسا کیا تاکہ تم تلاش کرو۔۔ ) فضل قرآن مجید میں مختلف معانی میں آیا ہے یہاں مراد رزق روزی ہے۔
Ayahs 16:15–17

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بناکر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور ستے بنادیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جا سکو۔

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (راستوں میں) نشانات (بنادیئے) اور لوگ ستاروں سے بھی راستے معلوم کرتے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(16:15) القی۔ القاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے ڈالا۔ رواسی ۔ رسو۔ مصدر رسا الشیٔ (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے وقدور رسیت (34:13) اور بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ پر جمی رہیں۔ اونچے اونچے پہاڑوں کو بوجہ ان کے اثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے۔ لہٰذا رواسی بمعنی اونچے اونچے پہاڑ۔ بندرگاہ کو مرسی (اسم ظرف مکان) اس واسطے کہتے ہیں کہ یہاں بھی جہاز اور کشتیاں آکر ٹھہر جاتی ہیں۔ رواسی راسیۃ کی جمع ہے۔ پہاڑ۔ تمید۔ ماد یمید مید (باب ضرب) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ ہلتی ہے وہ جھکتی ہے۔ ان تمید بکم ای لئلا تمیدبکم کہ وہ تم کو لے کر نہ ڈگمگائے نہ ڈولے (یہ زمین کی اضطراری واضطرابی حرکت مراد ہے) ۔ انھرا۔ کا عطف رواسی پر ہے اور سبلا کا عطف انھارا پر ہے۔
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گن نہ سکو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(16:18) تعدوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تعدون تھا۔ ان شرطیہ کے عمل سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ عد مصدر۔ عدیعد (باب نصر) ان تعدوا اگر تم شمار کرنے لگو۔ اگر تم گننے لگو تو ان کو گن نہ سکو گے۔
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے۔

(16:19) ما تسرون۔ جو تم چھپاتے ہو وما تعلنون۔ اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ آشکار کرتے ہو۔ اعلان سے۔
Ayah 16:20

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بنا سکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں

(16:20) والذین یدعون من دون اللہ لا یخلقون شیئا میں یدعون من دون اللہ صفت ہے الذین کی۔ یعنی وہ (معبودانِ باطل ) جن کو (مشرکین) اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے۔
Ayah 16:21

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ لاشیں ہیں بےجان ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے۔

(16:21) ایان۔ کب ۔ متی کے قریب المعنی ہے بعض کے نزدیک یہ اصل میں ای ادان تھا۔ (کونسا وقت ہے) الف کو حذف کر کے وائو کو یاء کیا پھر یاء کو یاء میں مدغم کیا۔ ایان بن گیا۔ یبعثون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ وہ اٹھائے جائیں گے۔ بعث مصدر۔
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں۔

(16:22) منکرۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ انکار مصدر منکر واحد مذکر۔ یہاں بمعنی جمع آیا ہے۔ انکار کرنے والے۔ مستکبرون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ مستکبر واحد استکبار (استفعال) سے مصدر۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے۔ مغرور۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا ضرور اس کو جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

(16:23) لا جرم۔ بےشک۔ یقینا ۔ ضرور۔ حقا۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

(16:24) ما ذا ۔ کیا ہے یہ ؟ کیا چیز ہے ؟ ما ذا کی لفظی ساخت میں اختلاف ہے کوئی بسیط (غیر مرکب) اور کوئی اس کو مرکب کہتا ہے۔ بسیط کہنے والوں میں سے بعض قائل ہیں کہ ما ذا پورا اسم جنس ہے یا موصول ہے اور الذی کا ہم معنی یا پورا حرف استفہام ہے۔ مرکب کہنے والے کہتے ہیں کہ ماذا مرکب ہے ما استفہام اور ذا موصولہ سے۔ جیسے آیت ہذا یا آیت یسئلونک ما ذا ینفقون۔ (2:219) لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں یا ما استفہامیہ ہے اور ذا اسم اشارہ۔ یا ما زائدہ ہے۔ اور ذا اسم اشارہ۔ یا ما استفہامیہ اور ذا زائدہ ہے۔ اساطیر۔ اسطورۃ کی جمع ہے جیسے ارجوحۃ کی جمع اراجیح۔ اور احدوثۃ کی جمع احادیث ہے۔ اساطیر۔ کہانیاں ۔ من گھڑت لکھی ہوئی باتیں۔ وہ جھوٹی خبر جس کے متعلق یہ اعتقاد ہو کہ وہ جھوٹ گھڑ کر لکھ دی گئی ہے۔ اسطورہ کہلاتی ہے۔ السطر والسطر قطار کو کہتے ہیں خواہ کتاب کی ہو یا درختوں کی یا آدمیوں کی۔ سطر فلان کذا کے معنی ایک ایک سطر کر کے لکھنے کے ہیں۔ کتب مسطور۔ لکھی ہوئی کتاب۔ سطر کی جمع سطور ہے جیسے عین کی جمع عیون اسی سے مسیطر۔ بمعنی نگہداشت کرنے والا۔ داروغہ ہے یہ تسیطر۔ فلان علی کذا وسیطر علیہ کذا۔ سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کی حفاظت کے لئے اس پر سطر کی طرح سیدھا کھڑا ہونے کے ہیں۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو ) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی (اٹھائیں گے) سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔

16:25 ۔ لیحملوا میں لام تعلیل کا ہے یحملو یحملون تھا۔ لام حرف عامل سے نون اعرابی گرگیا۔ (بوجہ اس کے) یا نتیجۃً وہ اٹھائیں گے۔ ادزارھم۔ مضاف، مضاف الیہ۔ اپنے بوجھ۔ وذرۃ کی جمع۔ ومن اوزار الذین۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ یعنی بوجھ میں سے کچھ۔ بعض حصہ۔ یضلونہم۔ مضارع جمع مذکر غائب ہم ضمیرمفعول جمع مذکر غائب۔ یضلون کا فاعل وہ کفار ہیں جن کا ذکر اوپر چل رہا ہے اور ہم ضمیر مفعول کا مرجع الذین اسم موصول ہے۔ یعنی قیامت کے دن وہ اپنے گناہوں کا مکمل بوجھ اٹھائیں گے اور کچھ ان لوگوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے جن کو یہ بربنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں۔ بغیر علم۔ فاعل کا حال بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ وہ ہوگا۔ جو اوپر مذکور ہوا۔ اور مفعول کا بھی حال ہوسکتا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا اور کچھ ان جاہلوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں وہ گمراہ کر رہے ہیں۔ الا۔ خبردار۔ دیکھو۔ سن لو۔ جان لو۔ سائ۔ ساء یسوء سوء (باب نصر) سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ فعل ذم ہے۔ برا ہے۔ (کتنا برا ہے)
Ayahs 16:26–27

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے۔

(16:26) مکر۔ اس نے (یہاں بمعنی جمع۔ انہوں نے) خفیہ تدبیر چلی۔ القواعد ۔ اس کی بنیادیں ۔ اس کی واحد القاعدہ ہے، جس چیز کسی چیز کا قعود ہو یعنی قیام ہو۔ وہ قاعدہ ہے۔ القواعد۔ بمعنی عمر رسیدہ عورتیں ہو تو اس کا واحد القاعدہ ہے جیسے کہ والقواعد من النساء (24:60) عورتوں میں سے بڑی بوڑھی عورتیں ہیں۔ خر۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب ضرب) خر مصدر۔ وہ گرپڑا۔ شرکایٔ۔ مضاف مضاف الیہ۔ میرے شریک (تمہارے زعم کے مطابق) کنتم تشاقون فی۔ جن کی بابت تم جھگڑا کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری ۔ جمع مذکر حاضر۔ مشاقۃ وشقاق مصدر بمعنی مخالفت کرنا۔ عداوت کرنا۔ جھگڑنا۔ ضد کرنا۔
Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (وہ یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے۔

(16:28) تتوفہم الملئکۃ ۔ وہ فرشتوں کی جماعت ان کی جان قبض کرتی ہے۔ توفی (باب تفعل) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ظالمی انفسہم۔ حال ہے تتوفہم کی ضمیر ہم سے۔ ظالمی اصل میں ظالمین تھا نون بوجہ اضافت کے ساقط ہوگیا۔ درآں حالیکہ وہ اپنے اوپر ستم کر رہے تھے (بوجہ کفر کے) ۔ فالقوا السلم۔ القوا۔ القاء (افعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے ڈالا۔ سلم (اسم ہے) صلح۔ انقیاد۔ فرماں برداری۔ اطاعت۔ عاجزی۔ تسلیم سے جس کے معنی سپرد کرنے کے ہیں۔ القوا السلم۔ وہ اطاعت و عاجزی کا اظہار کریں گے۔ ما کنا نعمل من سوئ۔ سے قبل وقالوا محذوف ہے۔
Ayah 16:29

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

(16:29) مثوی۔ ظرف مکان واحد۔ مثاوی جمع۔ ٹھکانا۔ دراز مدت تک ٹھہرنے کا انتظام فرودگاہ۔ آیات 27 ۔ 28 ۔ 29 میں کلام اور متکلم کے متعلق اشکال ہے جس کی وضاحت حسب ذیل ہے۔ یقول این ۔۔ سے تشاقون فیہم تک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ان الخزی الیوم ۔۔ ظالمی انفسہم اہل علم کا کلام ہے۔ ما کنا نعمل من سوء ۔۔ یہ کفار مشرکین کا کلام ہے۔ بلی ان اللہ ۔۔ خلدین فیھا۔ اہل علم کا کلام ہے۔ فلبئس مثوی المتکبرین۔ ارشاد ِ ربانی ہے۔
Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) جو لوگ نیکو کار ہیں ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیزگاروں کا گھر بہت خوب ہے۔

(16:30) خیرا۔ بہتر ، بھلائی، نیکی، نیک کام۔ پسندیدہ فعل ۔ عقل ۔ عدل۔ فضل۔ جملہ اشیاء نافعہ۔ خیر میں شامل ہیں۔ شر کی ضدّ ہے حسنۃ۔ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کی جان، بدن یا حالات میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنۃ کہلاتی ہے۔ سیئۃ کی ضد ہے۔ ولدار الاخرۃ۔ آخرت کا گھر۔ یعنی آخرت کا ثواب۔ ولنعم۔ اور بہت ہی عمدہ ہے۔ کلمہ مدح ہے بئس کی ضد ہے۔
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں) وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلا دیتا ہے۔

(16:31) جنت عدن۔ مضاف مضاف الیہ مل کر خبر جس کا مبتدا محذوف ہے ایھی جنت یا یہ مبتدا ہے جس کی خبر محذوف ہے ای لہم جنت۔ یا یہ مبتدا ہے اور یدخلونہا اس کی خبر ہے۔ اور جملہ تجری من تحتہا الانہر لہم فیھا ما یشاء ون حال ہے۔ جنت عدن ہمیشہ رہنے کے باغات ۔ فیھا کو ما یشاء ون کیا اشارہ ہے کہ تمام خواہشات کی تکمیل جنت میں ہوگی !
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے انکی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر و شرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ۔

(16:32) طیبین۔ پاکیزہ ۔ ستھرے۔ پاک۔ طیب کی جمع ہے یہ ضمیر ہم (تتوفہم) سے حال ہے درآنحالیکہ وہ پاک وصاف ستھرے گناہوں کی آلودگی سے صاف تھے۔ یقولون۔ الملئکۃ کا حال ہے (یعنی اس وقت فرشتے ان متقین سے کہیں گے) ۔
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے انکے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے ؟ اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے تھے۔ اور خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

(16:33) ھل ینظرون۔ ھل نفی کے معنوں میں ما کے مرادف آیا ہے۔ نہیں انتظار کر رہے (یہ منکرین) مگر (اس بات کا) کہ ۔۔ یعنی یہ منکرین تو بس اسی امر کا انتظار کر رہے ہیں کہ۔۔ الملئکۃ۔ سے ملائکہ موت یا ملائکہ عذاب مراد ہیں۔ اور امر ربک سے وقوع حشر یا نزول ِ عذاب مراد ہے۔
Ayah 16:34

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا

(16:34) حاق ب۔ اس نے گھیر لیا۔ وہ نازل ہوا۔ (باب ضرب) حیق سے جس کے معنی گھیر لینے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ حاق بہم ای احاط بہم۔ سیئات ما عملوا۔ سیئات۔ اعمال ِ بد۔ گناہ۔ برے کام۔ سیئات ما عملوا۔ ای جزاء سیئات اعمالہم۔ ان کے اعمال بد کی سزائیں۔ (اس دنیا میں۔ آخرت میں۔ یا ہر دو جگہ) ما کانوا بہ یستھزء ون۔ جس (عذاب۔ سزا) پر وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔ استھزاء (استفعال) مذاق اڑانا۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔

(16:35) ولا حرمنا۔ نہ ہم حرام ٹھہراتے (کسی چیز کو) من دونہ بغیر اس کے حکم کے۔ حرم یحرم تحریم (تفعیل) سے حرام ٹھہرانا۔ ھل ۔ بمعنی ما نافیہ آیا ہے (پیغمبروں کے ذمہ صرف صاف صاف اور واضح طور پر پیغام کا پہنچا دینا ہی ہے) ۔
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

(16:36) ان اعبدوا اللہ ۔ ای کان یقول لہم اعبدوا اللہ۔ اجتنبوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم بچو۔ تم پرہیز کرو۔ تم اجتناب کرو۔ (باب افتعال) ۔ الطاغوت۔ شیطان۔ ہر وہ معبود جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا پرستش کی جائے۔ لہٰذا ساحر۔ کاہن۔ سرکش کو طاغوت کہیں گے۔ معبود باطل وداعی الی الضلالۃ۔ حقت علیہ۔ ثبتت۔ وجبت علیہ۔ (اور بعض کے لئے ضلالت) واجب ہوگئی (بوجہ ان کی سرکشی اور پیغام انبیاء سے بےاعتنائی برتنے کے) ۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کیلئے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کو کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا۔

(16:37) تحرص۔ مضارع واحد مذکر حاضر مجزوم بوجہ عمل ان (شرطیہ) (باب ضرب) سے ان تحرص۔ اگر تو چاہتا ہے ۔ اگر تو حریص ہے۔ اگر تیری تمنا ہے۔ اگر تجھ کو خواہش ہے۔ الحرص۔ شدتِ خواہش ۔ فرطِ آرزو۔ اصل میں یہ حرص القصار الثوب کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں دھوبی نے کپڑے کو پتھر پر مار مار کر (اس کو دھونے کی آرزو میں) پھاڑ دیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ وما اکثر الناس ولو حرصت بمؤمنین (12:103) گو تم کتنی ہی خواہش کرو بہت سے آدمی ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائیگا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(16:38) جھد ۔ پوری کوشش۔ طاقت۔ مشقت۔ جھد یجھد سے مصدر ۔ جس کے معنی ہیں پورے طور پر کوشش اور مشقت کرنا۔ ایمانہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی قسمیں جھد ایمانہم۔ پورے شدومد سے قسمیں کھانا۔ یعنی وہ بڑے شد ومد سے پکی قسمیں کھا کر کہتے ہیں۔ لا یبعث۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ نہیں اٹھائے گا۔ بلی وعدا علیہ حقا۔ بلی بمعنی بلی یبعثہم۔ ہاں وہ ضرور اٹھائے گا۔ وعدا مصدر تاکید کے لئے لایا گیا ہے ۔ حقا ای واجب علیہ۔ یعنی وعدہ جس کا پورا کرنا اس کے ذمہ ہے۔
Ayahs 16:39–40

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دے اور اس لئے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارے بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

(16:39) لیبین لہم۔ میں لام تعلیل کا ہے اور اس کا تعلق فعل مقدر یبعثہم سے ہے جس پر لفظ بلی دلالت کرتا ہے۔ اور لہم میں ضمیر جمع مذکر غائب من یموت (38) کی طرف راجع ہے اس میں مومن کافر سبھی شامل ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ مردوں کو ضرور بالضرور دوبارہ اٹھائے گا تا کہ ان پر (وہ بات) واضح کردے جس کے متعلق ان میں اختلاف تھا۔