16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔

آیت نمبر 1 قولہ تعالیٰ : اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ کہا گیا ہے کہ اس میں اتی بمعنی یأتی ہے، (یعنی آ رہا ہے) اور یہ تیرے اس قول کی طرف ہے : إن اکرمتنی أکرمتک (اگر تو نے میری عزت کی تو میں تیری تکریم کروں گا) ۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ماضی اور مستقبل میں خبر دینا برابر ہے، کیونکہ وہ لامحالہ ہو کر رہنے والا ہے، جیسا کہ اس کا قول ہے : ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار (الاعراف :44) اور امر اللہ سے مراد اسکے لئے اس کی سزا اور عقاب ہے جو شرک کرنے اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے پر قائم رہا۔ حسن، ابن جریج اور ضحاک نے کہا ہے : امر سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے فرائض و احکام کو بیان کیا ہے۔ اور اس میں بہت بعد ہے، کیونکہ یہ منقول نہیں ہے کہ صحابہ کرام میں سے کسی نے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی طلب میں عجلت کی ہو اس سے پہلے کہ وہ ان پر فرض کئے جائیں، البتہ عذاب و عقاب کی طلب میں جلدی کرنے والے ہیں اور وہ بہت سے کفار قریش وغیرہ سے منقول ہے حتیٰ کہ نضر بن حارث نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک، تو اس نے عذاب کی طلب میں عجلت کی۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : حضاک حضرت عمر ؓ کے قول سے استدلال کرتے ہیں کہ میں نے اور میرے رب نے تین چیزوں میں باہم موافقت کی ہے : مقام ابراہیم میں، حجاب میں اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں، اسے امام بخاری اور امام مسلم رحمہا اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بیان سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ وہ ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر پر انہیں جزا دینے کا وعدہ کیا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی مثل ہے : فاذا جآء امرنا وفار التنور (المومنون :27) (یہاں تک کہ جب آگیا ہمارا حکم اور ابل پڑا تنور) ۔ اور بعض نے کہا ہے : یہ قیامت کا دن ہے یا قیامت کی علامت میں سے وہ جو اس کے قرب پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی : اقتربت الساعۃ وانشق القمر۔ (القمر) (قیامت قریب آگئی ہے اور چاند شق ہوگیا) ۔ کفار نے کہا : بیشک یہ گمان کر رہے ہیں کہ قیامت قریب آچکی ہے، پس تم ان بعض کاموں سے رک جاؤ جو تم کرتے ہو، پس وہ رک گئے اور انتظار کرنے لگے لیکن انہوں نے کوئی شے نہ دیکھی، تو پھر کہنے لگے : ہم تو کوئی شے نہیں دیکھ رہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی، اقترب للناس حسابھم الآیہ (الانبیاء :1) (قریب آگیا لوگوں کے لئے ان کے (اعمال کے) حساب کا وقت) پس وہ خوفزدہ ہوگئے اور قرب قیامت کا انتظار کرنے لگے، پھر ایام طویل ہوگئے تو وہ کہنے لگے : ہم تو کوئی شے نہیں دیکھ رہے ہیں، پھر یہ آیت نازل ہوئی : اتی امر اللہ پس رسول اللہ ﷺ اور مسلمان اچھل پڑے اور خوفزدہ ہوگئے، پھر یہ ارشاد نازل ہوا : فلا تستعجلوہ پس وہ مطمئن ہوگئے، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے قیامت کے ساتھ ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے “۔ اور آپ ﷺ نے دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور وہ ایک سبابہ (شہادت کی انگلی) اور اس کے ساتھ والی انگلی تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ قریب تھا کہ وہ مجھ سے سبقت لے جاتی لیکن میں اس پر سبقت لے گیا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ حضور نبی مکرم ﷺ کی بعثت قیامت کی نشانیوں میں سے ہی ہے۔ اور یہ کہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) جب آسمان والوں کے پاس سے گزرتے اس حال میں کہ انہیں حضور نبی رحمت ﷺ کی طرف بھیجا جاتا تھا تو وہ کہتے : اللہ اکبر، قیامت قریب آگئی۔ قولہ تعالیٰ : سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر اس شے سے پاک ہے جس کے ساتھ وہ اسے متصف کرتے ہیں کہ وہ قیامت قائم کرنے پر قدرت نہیں رکھتا، اور یہ اس لئے ہے کہ وہ کہتے تھے : کوئی بھی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت نہیں رکھتا، پس وہ اللہ تعالیٰ کو اس عجز کے ساتھ متصف کرتے تھے جس کے ساتھ صرف اور صرف مخلوق کو متصف کیا جاسکتا ہے، اور یہ شرک ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : عما یشرکون یعنی اس کی ذات ان کے شریک ٹھہرانے سے پاک ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ما بمعنی الذی ہے، یعنی وہ ذات جو ان سے بلند ہے جنہوں نے اس کے ساتھ شرک کیا۔
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی فرشتوں کو پیغام دیکر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے۔ کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو۔

آیت نمبر 2 مفضل نے عاصم سے تنزل الملائکۃ پڑھا ہے اور یہ اصل میں تتنزل تھا، پس فعل کو ملائکہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اور کسائی نے ابوبکر سے اور انہوں نے عاصم سے اس سے مختلف قرأت کی ہے، اور اعمش نے تنزل الملائکۃ فاعل کا ذکر کئے بغیر (فعل مجہول) پڑھا ہے۔ اور جعفی نے ابوبکر سے اور انہوں نے عاصم سے تنزل الملائکۃ نون کے ساتھ اور فعل معروف کے ساتھ قرأت کی ہے، اور باقیوں سے ینزل یا اور فعل معروف کے ساتھ پڑھا ہے، اور اس میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے اسم کے لئے ہے۔ اور حضرت قتادہ سے تنزل الملائکۃ نون اور تخفیف کے ساتھ مروی ہے۔ اور اعمش نے تنزل تا کے فتحہ اور زا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہ نزول سے ماخوذ ہے۔ اور الملائکۃ مرفوع ہے جیسا کہ تنزل الملائکۃ میں ہے۔ بالروح یعنی وحی کے ساتھ اور وہ نبوت ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اس کی نظیر یلقی الروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ (غافر :15) ہے۔ ربیع بن انس نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ کے کلام کے ساتھ اور وہ قرآن کریم ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : یہ اس حق کا بیان ہے جس کی اتباع اور پیروی واجب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد مخلوق کی ارواح ہیں ؛ یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے کہ کوئی فرشتہ نہیں اترتا مگر اس کے ساتھ ایک روح ہوتی ہے۔ اور اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے جیسا کہ ابن آدم کی صورتیں اور شکلیں ہیں، اور آسمان سے کوئی فرشتہ نازل نہیں ہوتا مگر اس کے ساتھ ان میں سے ایک ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : رحمت کے ساتھ (یعنی ملائکہ کو رحمت کے ساتھ اتارتا ہے) یہ حسن اور قتادہ نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہدایت کے ساتھ، کیونکہ دل اس کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں جیسا کہ بدن ارواح کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں، اور یہی معنی زجاج کے قول کا ہے۔ زجاج (رح) نے کہا ہے : روح وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے امر سے ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے امر کی طرف ارشاد اور ہدایت سے حیات ہے۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : یہاں روح سے مراد حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہیں۔ اور قول باری تعالیٰ بالروح میں با بمعنی مع ہے، جیسا کہ تیرا یہ قول ہے : خرج بثیابہ، ای مع ثیابہ (وہ اپنے کپڑوں کے ساتھ نکلا) ۔ من امرہ، ای بأمرہ (اپنے حکم کے ساتھ) ۔ علیٰ من یشاء من عبادہ یعنی ان پر جنہیں اللہ تعالیٰ نبوت کے لئے منتخب فرما لے۔ یہ ان کے اس قول کا رد ہے : لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم۔ (الزخرف) (کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن کسی ایسے آدمی پر جو دو شہروں میں بڑا ہے) ۔ ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون یہ بتوں کی عبادت سے تحذیر اور ڈرانا ہے، اور اسی لئے انذار کا لفظ آیا ہے، کیونکہ اس کا اصل معنی اس سے ڈرانا اور آگاہ کرنا ہے جس سے ڈرا جاتا ہے۔ اور اس پر قول باری تعالیٰ : فاتقون دلالت کر رہا ہے۔ اور أن (یعنی اس کے ساتھ کہ تم کافروں کو اس بارے خبردار کرو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں) ۔ پس أن حرف جر کے ساقط ہونے کے ساتھ محل نصب میں ہے یا اس پر انذار کے وقوع کے سبب (یہ محل نصب میں ہے) ۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے۔

آیت نمبر 3 قولہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق یعنی زوال اور فناہ کے لئے (زمین اور آسمان کو پید ا کیا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : بالحق یعنی اپنی قدرت پر دلالت کرنے کے لئے، اور یہ کہ بندے اس کی طاعت کرتے ہوئے عبادت کریں اور یہ کہ وہ موت کے بعد مخلوق کو زندہ کرسکتا ہے۔ تعلیٰ عما یشرکون یعنی وہ برتر ہے ان بتوں سے جو کسی چیز کو پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتے۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا۔

آیت نمبر 4 قولہ تعالیٰ : خلق الانسان من نطفۃ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر دلیل ذکر فرمائی تو اس کے بعد انسان، اس کی درشتیوں، مشقتوں اور ایک حالت سے دوسری کی طرف تجاوز کرنے کا ذکر کیا۔ الانسان یہ اسم جنس ہے۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ اس سے مراد ابی بن خلف جمحی ہے، وہ حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس چند بوسیدہ ہڈیاں لے کر آیا اور کہا : کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کرے گا اس کے بعد کہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہیں، گل سڑ چکی ہیں ؟ اور اسی بارے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی : اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین۔ (یسٓ) (کیا انسان (اس حقیقت کو) نہیں جانتا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پس اب عہ (ہمارا) کھلا دشمن بن بیٹھا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس پانی سے تخلیق فرمایا جو آدمی کی صلب اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر اسے مختلف ہئیتوں میں منتقل کرتا ہے یہاں تک کہ وہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس حیثیت سے پروان چڑھتا ہے کہ امور میں جھگڑا کرنے لگتا ہے، پس کلام کا معنی انسان کے بارے میں تعجب کا اظہار کرنا ہے وضرب لنا مثلا ونسی خلقہ (یسین : 78) (اور بیان کرنے لگا ہے ہمارے لئے (عجیب و غریب) مثالیں اور اس نے فراموش کردیا اپنی پیدائش کو) اور قولہ تعالیٰ : فاذا ھو خصیم یعنی مخاصم جھگڑا کرنے والا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے نسیب بمعنی مناسب ہے، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی قدرت کے بارے میں جھگڑتا ہے۔ اور مبین یعنی اس کا جھگڑنا بالکل ظاہر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اپنی طرف سے باطل کے ساتھ جھگڑنے کا اظہار کرتا ہے۔ اور المبین سے مراد وہ ہے جو اپنے کلام کے ساتھ اس کی وضاحت کرنے والا ہو جو اس کے دل میں چھپا ہوا اور پوشیدہ ہے۔
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لئے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو۔

آیت نمبر 5 اس میں تین مسائل ہیں :۔ مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : والانعام خلقھا، لکم جب اللہ تعالیٰ نے انسان کا ذکر کیا تو پھر اس کا ذکر کیا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان فرمایا اور الانعام سے مراد اونٹ، گائیں اور بکریاں ہیں۔ اور نعم اور انعام کے الفاظ اکثر اونٹوں کے لئے بولے جاتے ہیں، اور یہ مجموعہ کے لئے بولے جاتے ہیں اکیلئے بکریوں کے لئے یہ لفظ نہیں بولا جاتا۔ حضرت حسان نے کہا ہے : عفت ذات الأصابع فالجواء إلی عذراء منزلھا خلاء دیار من بنی الحسح اس قفر تعفیھا الروامس والسماء وکانت لایزال بھا أنیس خلال مروجھا نعم وشاء پس اس میں نعم سے مراد صرف اونٹ ہیں۔ اور جوہری نے کہا ہے : النعم الانعام کی واحد ہے اور اس سے مراد چرنے والا مال ہے، اور اکثر اوقات اس اسم کا اطلاق اونٹوں پر ہوتا ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ مذکر ہے اس کی مونث نہیں آتی، وہ کہتے ہیں : ھذا نعم وارد (یہ اونٹ آرہا ہے) ، اور اسکی جمع نعمان آتی ہے جیسا کہ حمل اور اس کا جمع حملان آتی ہے۔ اور الأنعام مذکر بھی آتا ہے اور مونث بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : مما فی بطونہ (النحل : 66) اور دوسرے مقام پر فرمایا : مما فی بطونھا (المومنون : 21) اور الانعام، الانسان پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یا پھر فعل مقدر کے ساتھ منصوب ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : دفء، الدف کا معنی السخانۃ (گرم ہونا) ہے، اور اس سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ گرمائش حاصل کی جاتی ہے یعنی ان کی اون سے، اونٹوں کے بالوں سے اور دیگر جانوروں کے بالوں سے یعنی لباس، لحاف اور کمبل وغیرہ (بنا کر ان سے گرمائش حاصل کی جاتی ہے) ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : دفوھا سے ان کی نسل مراد ہے۔ واللہ اعلم۔ علامہ جوہری نے صحاح میں کہا ہے : الدفء سے مراد اونٹ کا بچے جننا، ان کا دودھ دینا اور دیگر منافع جو ان سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لکم فیھا دفء اور حدیث میں ہے لنا من دفئھم بما سلموا بالمیثاق (ہمارے لئے ان کے اونٹوں میں سے وہ ہیں جو انہوں نے معاہدہ کے ساتھ حوالے کئے) اور الدفء کا معنی السخونۃ (گرم ہونا) بھی ہے، اس معنی میں تو کہتا ہے، وفی الرجل دفاءۃ جیسا کہ کرہ کراھۃ ہے۔ (آدمی نے گرمی محسوس کی) ۔ اور اسی طرح دنی اور دفا ہے مثلا ظمئ اور ظمأ ہے۔ اور اسم الدفء (کسرہ کے ساتھ) ہے اس سے مراد وہ شے ہے جو تجھے گرمائش پہنچائے، اور اس کی جمع الأدفاء ہے۔ آپ کہتے ہیں : ما علیہ دف (اس پر گرم لباس نہیں ہے) کیونکہ یہ اسم ہے۔ اور آپ یہ نہیں کہتے : ما علیک دفاءۃ، کیونکہ یہ مصدر ہے۔ اور آپ کہتے ہیں : اقعد فی دف ھذا الحائط ای کنہ (آپ اس دیوار کے پردے میں بیٹھیں) ۔ اور رجل دفی علی فعل جب وہ ایسا لباس پہنے جو اسے گرمی پہنچائے۔ اور اسی طرح رجل دفآن اور امرأۃ دفاء ہے۔ اور تحقیق أدفأہ الثوب (کپڑے نے اسے گرمائش دی) وتدفأ ھو بالثوب (اس نے کپڑے کے ساتھ گرمائش حاصل کی) داستدفأبہ، اور ادفأ بہ اور یہ باب افتعال ہے، یعنی اس نے وہ لباس پہنا جو اسے گرمی پہنچاتا ہے۔ اور دفؤت لیلتنا (ہماری رات گرم ہوگئی) وھو یوم دفیء (اور وہ گرم دن ہے) یہ فعیل کے وذن پر ہے۔ اور لیلۃ دفیئۃ، (گرم رات) اور اسی طرح کپڑا اور گھر ہے۔ اور المدفئۃ بہت زیادہ اونٹ، کیونکہ وہاں بعض بعض کو اپنی سانسوں کے ساتھ گرمی پہنچاتے ہیں، اور کبھی اسے مشدد پڑھا جاتا ہے اور المدفاۃ وہ اونٹ جس کے بال اور چربی بہت زیادہ ہو، یہ اصمعی سے منقول ہے۔ اور شماخ نے شعر بیان کیا ہے : وکیف یضیع صاحب مدفآت علی أثباجھن من الصقیع قولہ تعالیٰ : ومنافع حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : المنافع سے مراد ہر جانور کی نسل ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد سوار ہونا، بوجھ اٹھانا، دودھ، گوشت اور گھی وغیرہ ہیں۔ ومنھا تاکلون صرف کھانے کی منفعت ذکر کی گئی ہے کیونکہ یہ تمام منافع میں سے عظیم منفعت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تم ذبح کے وقت ان کا گوشت کھاتے ہو۔ مسئلہ نمبر 3: یہ آیت اون کا لباس پہننے پر دلیل ہے ؛ تحقیق رسول اللہ ﷺ اور آپ سے قبل دیگر انبیاء (علیہم السلام) جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ نے اس کا لباس پہنا ہے۔ اور حدیث مغیرہ میں ہے : پس آپ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک دھویا اور اون کا بنا ہوا شامی جبہ پہنے ہوئے تھے اس کی آستینیں تنگ تھیں۔ الحدیث، اسے امام مسلم وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : یہ متقی لوگوں کا شعار اور علامت ہے، صالحین کا لباس ہے، صحابہ کرام اور تابعین کا حسن ہے، اور زہاد اور عارفین کی پسند ہے، اور وہ نرم، سخت (کھردرا) ، عمدہ، درمیانہ اور ردی (گھٹیا) سبھی قسم کا لباس پہنتے ہیں، اور اسی کی طرف لوگوں میں سے صوفیہ کی جماعت منسوب ہے، کیونکہ اکثر ان کا لباس یہی ہوتا ہے۔ پس (صوفیہ میں) یا نسبت کی ہے اور ھا تانیث کے لئے ہے۔ ان کے بعض اشیاخ نے مجھے بیت المقدس طہرہ اللہ کے یہ شعر بیان کئے ہیں : تشاجر الناس فی الصوفی واختلفوا فیہ وظنوہ مشتقا من الصوف لوگوں نے صوفی کے بارے میں باہم جھگڑا کیا اور ان کا اس بارے میں اختلاف ہوا اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ الصوف سے مشتق ہے۔ ولست انحل ھذا الاسم غیرفتی صافی فصوفی حتی سمی الصوفی اور میں یہ نام اس جو ان کے بغیر کسی کو نہیں دیتا جو خود خالص اور پاک ہوا اور اسے پاک صاف کیا گیا یہاں تک کہ اسے صوفی کا نام دے دیا گیا۔
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور جب شام کو انھیں (جنگل سے) لاتے ہو اور) جب صبح کو (جنگل) چرانے لیجاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے۔

آیت نمبر 6 الجمال وہ شے جس سے خوبصورتی اور زیب وزینت حاصل کی جائے۔ اور الجمال کا معنی حسن ہے۔ اور جمل الرجل (ضمہ کے ساتھ) جمالا فھو جمیل (آدمی حسین ہوا) ، اور المرأۃ جمیلۃ (عورت حسین ہے) اور جملاء بھی صفت آتی ہے۔ یہ کسائی سے منقول ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے : فھی جملاء کبدر طالع بذت الخلق جمیعا بالجمال اور ابو ذؤیب کا قول ہے : جمالک ایھا القلب القریح مراد یہ ہے : تو اپنے حسن و جمال اور اپنے حیاء کو لازم پکڑ اور برمی اور قبیح جزع فزع نہ کر۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : پس حسن و جمال صورت اور ترکیب اعضاء میں ہوتا ہے، اور اخلاق باطنہ میں ہوتا ہے، اور افعال میں ہوتا ہے، پس جہاں تک خلقت اور صورت کے حسن و جمال کا تعلق ہے تو وہ ایسا امر ہے جس کا ادراک آنکھ کرسکتی ہے اور اسے نرمی اور ملائمت کے ساتھ دل کی طرف متوجہ کرسکتی ہے، اور اسکے چہرے کی پہچان کے بغیر اور انسانوں میں سے کسی کی طرف اس کی نسبت کے بغیر نفس اس کے ساتھ متعلق ہوجاتا ہے۔ اور رہا اخلاق کا جمال تو یہ صفات محمودہ کی بنا پر ہوتا ہے مثلاً علم، حکمت و دانائی، عدل، پاکدامنی، غصہ کو پی جانا، اور ہر ایک کے لئے خیر کا ارادہ کرنا اور جہاں تک افعال کے جمال کا تعلق ہے تو اس کا وجود مخلوق کے مصالح اور منافع کے لئے ملائمۃ اور نرمی اختیار کرنے اور ان میں جلب منافع کے فیصلے کرنے اور ان سے شر اور برائی کو دور کرنے سے ہوتا ہے۔ اونٹوں اور چوپاؤں کا جمال جمال خلقت میں سے ہے، اور وہ آنکھوں کے ساتھ دکھائی دیتا ہے اور دیکھنے والوں کے موافق ہوتا ہے۔ اور ان کے حسن و جمال میں سے ان کا کثیر ہونا ہے اور لوگ جب انہیں دیکھیں تو ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ فلاں کے جانور ہیں ؛ یہ سدی نے کہا ہے۔ اور اس لئے کہ جب وہ شام کو چر کر واپس آتے ہیں تو ان کا حسن زیادہ ہوچکا ہوتا ہے، ان کی شان عظیم ہوجاتی ہے، اور دل ان کے ساتھ معلق ہوجاتے ہیں، کیونکہ اس وقت چرنے کے سبب ان کا موٹاپا اور ان کے کھیر دودھ کے سبب بڑھے ہوئے ہوتے ہیں ؛ یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ اسی معنی کی وجہ سے رواح (شام کے وقت واپس آنا) کو سراح (صبح کے وقت چرانے کے لئے لے جانا) پر مقدم کیا ہے۔ کیونکہ ان کا دودھ اور ان کے سبب نفس کا سرور اس حالت میں مکمل ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ اور اشہب نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ولکم فیھا جمال حین تریحون وحین تسرحون۔ (البحل) اور یہ مویشیوں میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ چراگاہ کی طرف آتے جاتے ہوں۔ اور الرواح شام کے وقت چراگاہ سے واپس لوٹنا ہوتا ہے اور سراح صبح کے وقت اسکی طرف جانا ہوتا ہے، تو کہتا ہے : سرحت الابل أسرحھا سرحا وسروحا جب تو صبح کے وقت اونٹ کو چراگاہ کی طرف لے جائے اور اسے چھوڑ دے، وسرحت یہ متعدی اور لازم دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی میں ہے۔
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمت شاقہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارے پروردگار نہایت شفقت والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 7 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : و تحمل اثقالکم، الأثقال سے مراد لوگوں کے بوجھ ہیں مثلاً سازو سامان، اور اناج وغیرہ۔ اور یہی وہ ہے جسے اٹھانا انسان پر بھاری اور بوجھل ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ان کے بدن ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : واخرجت الارض اثقالھا۔ (الزلزلہ) (اور باہر پھینک دے گی زمین اپنے بوجھوں (یعنی دفینوں) کو) اور عکرمہ کے قول کے مطابق البلد سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ عموم پر محمول ہے ہر اس شہر کے بارے میں جس کے لئے خشکی کا راستہ ہے۔ اور شق الانفس سے مراد ان کی مشقت اور ان کی غایۃ جھد ہے۔ قرأت عامہ شین کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ جوہری نے کہا ہے : الشق کا معنی مشقت ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : لم تکونوا بلغیہ الا بشق الانفس اور یہ کبھی مفتوح ہوتا ہے، اسے ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے۔ مہدوی نے کہا ہے : شق میں شین کے کسرہ اور اس کے فتحہ دونوں باہم متقارب ہیں، اور دونوں مشقت کے معنی میں ہیں اور یہ الشق فی العصاو نحوھا سے ماخوذ ہے۔ (ڈنڈے میں مشقت ہے) کیونکہ اس سے انسان سے پائی جانے والی مشقت کی مثل مشقت پائی جاتی ہے۔ اور ثعلبی (رح) نے کہا ہے : ابو جعفر نے الا بشق الانفس پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں، مثلا رق و رق اور جص وجص اور رطل ورطل ہیں۔ اور شاعر کا قول شین کے کسرہ اور اسکے فتحہ دونوں کے ساتھ آتا ہے : وذی إبل یسعی ویحسبھا لہ أخی نصب من شقھا ودؤوب اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مصدر کے معنی میں ہو، یہ شققت علیہ أشق شقا (میں نے اسے مشقت میں ڈال دیا) سے ماخوذ ہے۔ اور الشق کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی نصف بھی ہے، کہا جاتا ہے : أخذت شق الشاۃ شقۃ الشاۃ۔ (میں نے بکری کا نصف لیا) اور کبھی آیت سے یہ معنی مراد ہوتا ہے، یعنی تم اس تک پہنچنے والے نہیں ہو مگر قوت کے نقصان کے ساتھ اور اس سے نصف ختم کرنے کے ساتھ، یعنی تم اس تک نہیں پہنچ سکتے مگر اپنی نصف قوت کے ساتھ اور دوسرا نصف ختم کرنے کے ساتھ اور الشق کا معنی پہاڑ کا کنارہ بھی ہے۔ اور ام زرع کی حدیث میں ہے : وجدنی اہل غنیمہ بشق (اس نے مجھے پہاڑ کے کنارے اہل غنیمہ میں پالیا) ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : یہ جگہ کا نام ہے۔ اور الشق کا معنی الشقیق بھی ہے، کہا جاتا ہے : ھو أخی وشق نفسی (وہ میرا بھائی ہے اور میری جان کا حصہ ہے) ۔ اور شق عرب کے کاہنوں میں سے ایک کاہن کا نام ہے۔ اور الشق کا معنی الجانب (طرف) بھی ہے۔ اور اس معنی میں امرء القیس کا قول ہے : إذا ما بکی من خلفھا انصرفت لہ بشق و تحتی شقھا لم یحول پس یہ لفظ کئی معنوں میں مشترک ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عمومی جانوروں کے ساتھ احسان فرمایا ہے، لیکن یہاں بوجھ اٹھانے میں صرف اونٹ کے ذکر کو تمام جانوروں پر فوقیت اور خصوصیت دی ہے، کیونکہ بکریاں چرنے کے لئے جانے اور ذبح کے لئے ہیں، اور گائیں ہل جوتنے کے لئے ہیں، اور اونٹ بوجھ اٹھانے کے لئے ہیں۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اس اثنا میں کہ ایک آدمی اپنی گائے بانک کرلے جا رہا تھا اور اس نے اس پر بوجھ لاد دیا تو وہ گائے اس کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا : بلاشبہ مجھے اس کے لئے نہیں پیدا کیا گیا بلکہ مجھے تو ہل جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو لوگوں نے تعجب اور گھبراہٹ کی حالت میں کہا : سبحان اللہ ؟ کیا یہ گائے باتیں کر رہی ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بیشک میں، ابوبکر اور عمر اسکی تصدیق کرتے ہیں “۔ تو یہ حدیث اس پر دلیل ہے کہ گائے پر نہ بوجھ لادا جاسکتا ہے اور نہ اس پر سوار ہوا جاسکتا ہے، بلکہ وہ ہل جوتنے کے لئے، کھانے کے لئے، نسل کشی کے لئے اور دودھ دینے کے لئے ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ جانوروں کے ساتھ سفر کرنا اور ان پر بوجھ لادنا جائز ہے، لیکن اتنی مقدار میں جسے وہ برداشت کرسکتے ہوں، بوجھ حد سے بڑھا ہو انہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ چال میں نرمی ہو۔ تحقیق حضور نبی مکرم ﷺ نے ان کے ساتھ نرمی برتنے، انہیں راحت اور سکون پہنچانے اور ان کے چارے اور ان کے پانی کو تلاش کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ امام مسلم (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث روایت کی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم خوشحالی (اور شادابی) میں سفر کرو تو اپنے اونٹ کو زمین سے اس کا حصہ دو (یعنی اسے چرنے دو ) اور جب تم قحط سالی میں سفر کرو تو پھر اسے اس کی منزل پر پہنچانے میں جلدی کرو “۔ اسے امام مالک (رح) نے موطا میں ابو عبید سے اور انہوں نے خالد بن معدان سے روایت کیا ہے۔ اور معاویہ بن قرہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو الدرداء ؓ کا ایک اونٹ تھا اس کو ومون کہا جاتا تھا، تو آپ اسے کہتے تھے : اے دمون ! تو اپنے رب کے پاس میرے ساتھ جھگڑا نہ کرنا۔ پس جانور تو گونگے (بےزبان) ہیں یہ اس کی قدرت نہیں رکھتے کہ وہ بذات خود اس شے کا حیلہ کریں جس کے وہ محتاج ہوتے ہیں، اور نہ وہ قدرت رکھتے ہیں کہ وہ اپنی حاجات کو کھلے بیان کرسکیں، پس جس نے ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا پھر اس نے ان کی ضروریات و حاجات کو ضائع کردیا تو اس نے شکر ضائع کردیا اور خصومت کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی پیشی ہوگی۔ اور مطربن محمد نے بیان کیا ہے، ابو داؤد نے ہمیں بیان کیا اس نے کہا ہمیں ابن خالد نے بیان کیا اس نے کہا ہمیں مسیب بن آدم نے بیان کیا اس نے کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو دیکھا آپ نے ایک ساربان کو مارا اور فرمایا : تو اپنے اونٹ پر اتنا بوجھ لادتا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا ؟
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لئے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جنکی تم کو خبر نہیں۔

آیت نمبر 8 اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : والخیل یہ نصب کے ساتھ ہے اور معطوف ہے، یعنی وخلق الخیل (اور اس نے گھوڑے پیدا کئے) اور ابن ابی عبلہ نے والخیل والبغال والحمیر ان تمام کو رنع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور گھوڑے کو خیل کا نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اس کی چال میں اکڑ اور تکبر ہوتا ہے۔ اور خیل کا واحد خائل ہے، جیسا کہ ضائن، ضأنکا واحد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا کوئی واحد نہیں۔ اور یہ پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، اور ہم نے وہاں احادیث ذکر کی ہیں۔ اور جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا الگ ذکر کیا ہے تو اس پر دلیل ہے کہ یہ لفظ الانعام کے تحت داخل نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس کے تحت داخل ہیں لیکن انہیں الگ اور منفرد اس لئے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ رکوب (سوار ہونا) ان کے ساتھ متعلق ہوتا ہے، کیونکہ یہ عمل گھوڑوں، خچروں اور گدھوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: علماء نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے ہمیں جانروں اور چوپاؤں کا مالک بنایا ہے اور انہیں ہمارے لئے مطیع کردیا ہے، اور ہمارے لئے انہیں مسخر کرنا اور ان سے نفع اٹھانا مباح قرار دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے رحمت ہے، اور حیوانوں میں سے جس کا انسان مالک ہے اسے مسخر کرنا (مطیع بنانا) اس کے لئے جائز ہے اور اس کو کرائے پر دینا بھی اس کے لئے جائز ہے اس پر اہل علم کا اجماع ہے، ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اونٹوں اور چوپاؤں کے کرائے کا حکم کتب فقہ میں مذکور ہے۔ مسئلہ نمبر 3: جانروں اور اونٹوں پر بوجھ لادنے اور ان کے ساتھ سفر کرنے کے لئے ان کا کرایہ لینے میں علماء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و تحمل اثقالکم الآیہ۔ اور علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ ایک آدمی اپنا جانور اور سواری (اونٹ) ایک معین شہر تک کرائے پر دے اگرچہ وہ یہ ذکر نہ کرے کہ وہ کہاں اس سے اترے گا، اور کتنے گھاٹ ہیں جن پر وہ (اسے پانی پلانے کے لئے) اترے گا، اور اس کے چلنے کی رفتار کیسے ہوگی، اور کتنی باروہ اپنے راستے میں اترے گا، اور انہوں نے اس بارے میں اس کی اجازت دی ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہے۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : اور کرائے پر دنیا قائم مقام بیوع (خریدو فروخت) کے ہوتا ہے ان چیزوں میں جو حلال ہوتی ہیں اور حرام ہوتی ہیں (یعنی حلال و حرام ہونے میں حکم بیوع کا ہے جن کی بیع حلال ہے انہیں اجرت پر دینا بھی حلال ہے اور جن کی بیع حرام ہے انہیں اجرت پر دینا بھی حرام ہے) ۔ ابن القاسم نے کہا ہے : جس کسی نے جانور ایک معین جگہ تک ہر وی کپڑے کے عوض کرائے پر لیا اور کپڑے کی اصل حقیقت (کوالٹی) اور اس کی پیمائش بیان نہ کی، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ امام مالک (رح) بیع میں اسے جائز قرار نہیں دیتے، اور وہ کرائے کے ثمن میں جائز قرار نہیں دیتے ہیں مگر وہی چیز جو بیع کے ثمن میں جائز ہوتی ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا گیا ہے، ان شاء اللہ، کیونکہ یہ اجارہ ہے۔ ابن منذر نے کہا ہے : اور اہل علم میں سے وہ جن پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ان تمام نے اس پر اجماع کیا ہے کہ جس نے کوئی جانور کرائے پر لیا تاکہ وہ اسے اس پر دس قفیز گندم لادے گا پس اس نے اس پر اتنا بوجھ ہی لادا جس کی شرط لگائی پھر وہ جانور ضائع ہوگیا، ہلاک ہوگیا تو اس پر کوئی شے نہ ہوگی۔ اور اسی طرح حکم ہے اگر اس پر اتنا بوجھ ہی لادا جس کی شرط لگائی پھر وہ جانور ضائع ہوگیا، ہلاک ہوگیا تو اس پر کوئی شے نہ ہوگی۔ اور اسی طرح حکم ہے اگر اس نے دس قفیز جو لاد دئیے۔ اور انہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے جس نے جانور کرائے پر لیا کہ وہ اس پر دس فقیز لادے گا پھر اس نے اس پر گیارہ قفیز لاد دئیے، تو امام شافعی (رح) اور ابو ثور رحمہما اللہ تعالیٰ دونوں کہتے ہیں : وہ جانور کی قیمت کا ضامن ہوگا اور اس پر کرایہ بھی ہوگا۔ اور ابن ابی لیلیٰ نے کہا ہے : اس پر اس کی قیمت ہوگی اور اس پر اجرت نہ ہوگی۔ اور اس میں تیسرا قول یہ ہے کہ اس پر کرایہ ہوگا اور اس پر اجرت میں سے ایک جز ہوگا اور جانور کی قیمت میں سے اس مقدار کے عوض ایک جز ہوگا جتنی مقدار معینہ بوجھ سے زائد لادی اور یہ حضرت نعمان (رح)، یعقوب (رح) اور امام محمد (رح) کا قول ہے۔ اور ابن القاسم صاحب مالک (رح) نے کہا ہے : امام مالک (رح) کے قول کے مطابق اس پر کوئی ضمان نہ ہوگی جبکہ زائد قفیز جانور کے لئے باعث مشقت نہ ہو، اور یہ معلوم ہو کہ اس کی مثل سے جانور ہلاک نہیں ہوسکتا، اور جانور کے مالک کے لئے پہلے کرائے کے ساتھ ساتھ زائد قفیز کی اجرت بھی ہوگی، کیونکہ اس کا ہلاک ہونا اس زیادتی کی وجہ سے نہیں ہے۔ اور یہ مسافت میں مقررہ حدود سے تجاوز کر جانے کے خلاف ہے، کیونکہ مسافت میں تجاوز کرنا مکمل طور پر تعدی اور زیادتی ہے لہٰذا وہ ضامن ہوگا جب جانور ہلاک ہوجائے چاہئے وہ تجاوز قلیل مقدار میں ہو یا زیادہ مقدار میں۔ اور مشروط بوجھ پر زیادتی میں اجازت اور تعدی دونوں چیزیں جمع ہیں، پس جب زیادتی ایسی ہے جس کی مثل سے جانور کی ہلاکت نہیں ہوسکتی تو اس سے معلوم ہوگیا کہ اس کی ہلاکت اس سے ہوئی جس کی اجازت دی گئی ہے۔ مسئلہ نمبر 4: اور اہل علم نے ایسے آدمی کے بارے میں اختلاف کیا ہے جو معلوم اجرت کے عوض مقررہ جگہ تک ایک جانور کرائے پر لیتا ہے، پھر وہ تعدی کرتا ہے اور اس مقررہ جگہ سے تجاوز کرجاتا ہے پھر لوٹ کر اس جگہ کی طرف آتا ہے جس کی اجازت دی گئی ہے (تو) اس کی طرف لوٹنے میں اختلاف ہے۔ پس ایک گروہ نے کہا ہے : جب اس نے اس معین جگہ سے تجاوز کرلیا تو وہ اس کا ضامن ہوگیا اور اس تعدی میں اس پر کرایہ نہیں ہوگا ؛ اسی طرح ثوری نے کہا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : اس کے لئے مقررہ مسافت کی اجرت ہوگی، اور جو مقرر نہیں اس کی اجرت نہ ہوگی، لیکن چونکہ اس نے (وعدہ کا) خلاف کیا ہے لہٰذا وہ ضامن ہوگا، اور یہی یعقوب (رح) نے بھی کہا ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : اس پر اس کا کرایہ ہوگا جو مسافت مقرر تھی، اور اس کا کرایہ مثلی ہوگا جتنا اس نے تجاوز کیا، اور اگر جانور ہلاک ہوگیا تو اس کی قیمت لازم ہوگی، اسی طرح فقہائے سبعہ نے کہا ہے، اہل مدینہ کے مشائخ نے کہا ہے : جب وہ مقررہ مسافت تک پہنچ جائے پھر اس سے آگے نکل جائے تو اس پر اس زائد مسافت کا کرایہ ہوگا اگر وہ جانور محفوظ رہا اور اگر وہ ہلاک ہوگیا تو وہ اس کا ضامن ہوگا۔ اور امام احمد، اسحاق اور ابو ثور نے کہا ہے : اس پر کرایہ اور ضمان دونوں ہوں گے۔ ابن منذر نے کہا ہے : اور یہی ہم بھی کہتے ہیں۔ اور ابن القاسم نے کہا ہے : جب وہ اس جگہ کی حد تک پہنچ جائے جہاں تک اس نے جانور کرائے پر لیا تھا پھر وہ ایک میل یا کئی میل یا بہت زیادہ آگے گزر گیا اور جانور ہلاک ہوگیا، تو اس کے مالک کے لئے پہلا کرایہ ہوگا اور جہاں تک وہ زائد آگے چلا گیا ہے اس کا کرایہ لینے میں اسے اختیار ہوگا یا پھر جانور کی وہ قیمت لے لے جو تعدی اور زیادتی بنتی ہے۔ ابن المواز نے کہا ہے : تحقیق یہ بھی روایت ہے کہ وہ اس کا ضامن ہوگا اگرچہ وہ ایک قدم بھی آگے بڑھے۔ ابن القاسم نے امام مالک (رح) سے میل اور اس طرح کے پیمانے کی زیادتی کی صورت میں کہا ہے : اور رہی وہ مسافت (زیادتی) جس کو لوگ ایک مرحلہ کے برابر قرار دیتے ہیں تو وہ ضامن نہ ہوگا۔ اور ابن حبیب نے ابن ماجشون اور أصبغ سے بیان کیا ہے : جب زیادتی تھوڑی ہو یا وہ اس مقررہ حد سے تھوڑا سا تجاوز کر جائے جو اس نے کرایہ پر لی تھی اور وہ مر جائے یا اس جگہ تک پہنچنے والے راستے میں مر جائے جہاں تک اس نے اسے کرائے پر لے رکھا تھا، تو اس کے لئے زیادتی کے کرائے کے سوا کچھ نہیں ہوگا، جیسا کہ اس کا اس مال کو لوٹانا جو اس نے ودیعت سے قرض لے رکھا تھا۔ اور اگر اس نے بہت زیادہ زیادتی کی جس میں اتنے زیادہ دن ٹھہراؤ رہا جس کی مثل میں اس کی چال بدل سکتی ہے تو وہ ضامن ہوگا، اسی طرح حکم ہے اگر جانور مقررہ حد سے تجاوز کرنے یا سفر کرنے کے درمیان مرگیا، کیونکہ جب زیادتی اتنی تھوڑی ہو جس کے بارے یہ جانا جاسکتا ہو کہ یہ اس کے قتل پر معاون و مددگار نہیں ہے اور اس کی ہلاکت معینہ جگہ تک واپس لوٹنے کے بعد ہوئی تو یہ بالقین اس مال کی ہلاکت کی طرح ہے جو اس نے مال و دیعت سے قرض لیا تھا اور اس کے لوٹانے کے بعد وہ ہلاک ہوگیا۔ اور اگر زیادتی زیادہ ہو تو پھر وہ زیادتی اس کے قتل اور ہلاک ہونے میں معاون ہوگی۔ (لہٰذا اس ہر ضمان ہوگی) ۔ مسئلہ نمبر 5: ابن القاسم اور ابن وہب نے بیان کیا ہے کہ امام مالک (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ پس اس نے انہیں سواری اور زیب وزینت کے لئے بنایا ہے اور انہیں کھانے کے لئے نہیں بنایا ہے ؛ اور اسی طرح أشہب سے بھی منقول ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے کہا ہے : گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے سواری اور زیب وزینت پر نص بیان کردی ہے تو یہ اس پر دلیل ہے کہ جو اس کے سوا ہے وہ اس کے خلاف ہے۔ اور الأنعام کے ذکر میں فرمایا : ومنھا تاکلون۔ (النحل) اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس سے گرم لباس اور دیگر منافع کے ذکر کے ساتھ بھی احسان فرمایا۔ پس ان میں ذبح کو مشروع قرار دے کر ان کا کھانا ہمارے لئے مباح قرار دیا۔ اور اسی آیت سے حضرت ابن عباس ؓ اور حکم بن عتیبہ نے استدلال کیا ہے، حکم نے کہا ہے : گھوڑوں کا گوشت کتاب اللہ میں حرام ہے، اور انہوں نے یہ اور اس سے پہلے والی آیت پڑھی اور کہا : یہ کھانے کے لئے ہے اور یہ سواری کے لئے ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے گھوڑے کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے اسے مکروہ قرار دیا، اور آپ نے یہی آیت تلاوت کی اور فرمایا : یہ سواری کے لئے ہے، اور آپ نے وہ آیت پڑھی جو اس سے پہلے ہے والانعام خلقھا، لکم فیھا دفء ومنافع پھر فرمایا : یہ کھانے کے لئے ہے۔ اور اسی طرح امام مالک، امام ابو حنیفہ، ان کے اصحاب، اوزاعی، مجاہد اور ابو عبید رحمہم اللہ تعالیٰ وغیر ہم نے کہا ہے، اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے ابو داؤد، نسائی اور دار قطنی وغیرہم نے صالح بن یحییٰ بن مقدام بن معد یکرب سے انہوں نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے اور انہوں نے حضرت خالد بن ولید ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھوڑوں، خچروں، گدھوں، تمام چیر پھاڑ کرنے والے درندوں اور پنجوں کے ساتھ شکار کرنے والے پرندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ یہ الفاظ دار قطنی کے ہیں۔ اور نسائی نے بھی حضرت خالد بن ولید ؓ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھانا حلال نہیں ہے “۔ اورع جمہور فقاء و محدثین نے کہا ہے : یہ مباح ہے۔ اور یہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ سے روایت کیا گیا ہے۔ اور ایک گروہ علیحدہ ہوگیا ہے اور اس نے تحریم کا قول کیا ہے، ان میں سے ایک حکم ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا ہے، اور امام ابوحنیفہ (رح) سے مروی ہے۔ ان سے تین روایات رویانی نے ” بحر المذہب علی مذہب الشافعی “ میں بیان کی ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : وہ صحیح مذہب جس پر نظر و فکر اور خبر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز ہے، اور رہی آیت اور حدیث تو ان دونوں میں حجت لازمہ نہیں ہے، جہاں تک آیت کا تعلق ہے تو اس میں گھوڑوں کے حرام ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ اگر آیت اس پر دلالت کرے تو پھر یقیناً گدھوں کے گوشت کے حرام ہونے پر بھی دلالت کرے، اور یہ سورة مکی ہے، اور پھر کون سی حاجت اور ضرورت تھی کہ غزوہ خیبر کے سال گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دینے کی تجدید ہوئی حالانکہ اخبار میں گھوڑوں کا حلال ہونا ثابت ہے جیسا کہ اس کا بیان آرہا ہے، اور یہ بھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے الأنعام کا ذکر کیا، تو ان کے اغلب اور اہم ترین منافع کا بھی ذکر کیا، اور وہ بوجھوں کو اٹھانا اور (ان کا گوشت) کھانا ہے، اور ان کے ساتھ سوار ہونے اور ہل جوتنے کا ذکر نہ کیا اور نہ علاوہ ازیں کسی کی تصریح کی، حالانکہ ان پر سوار بھی ہوا جاتا ہے اور ان کے ساتھ ہل بھی چلا یا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الذی جعل لکم الانعام لترکبوا منھا ومنھا تاکلون۔ (غافر) اور گھوڑوں کے بارے میں فرمایا : لترکبوھا وزینۃ اور ان کے بھی أغلب منافع ذکر کئے اور جو ان سے مقصود ہے وہ ذکر کیا، اور ان پر بوجھ لادنے کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ وہ ان پر لادا جاتا ہے جیسا کہ عام مشاہدہ ہے اور اسی طرح ان کے کھانے کا ذکر نہیں کیا۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ نے اس کی وضاحت کی جسے اس کا بیان بنایا گیا جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا جیسا کہ اس کا بیان آگے آرہا ہے۔ اور اس سے کہ انہیں سواری اور زیب وزینت کے لئے پیدا کیا گیا ہے یہ لازم نہیں آتا کہ انہیں نہ کھایا جائے، پس اس گائے کو اس کے اس خالق نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر شے کو بولنے کی طاقت دی پس اس نے کہا : بیشک اسے ہل جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے، تو اس سے اس پر یہ لازم آتا ہے جس نے یہ علت بیان کی ہے کہ گھوڑوں کا گوشت نہیں کھایا جائے گا کیونکہ انہیں سواری کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ گائے کا گوشت بھی نہ کھایا جائے کیونکہ اسے ہل جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں نے اس کے کھانے کے جواز پر اجماع کیا ہے، پس اسی طرح گھوڑے بھی ہیں اور ان کے بارے سنت ثابت موجود ہے۔ ایام مسلم (رح) نے حضرت جابر ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کے بارے میں اجازت عطا فرمائی۔ اور نسائی نے حضرت جابر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خیبر کے دن گھوڑوں کا گوشت کھلایا اور آپ نے گدھوں کے گوشت سے ہمیں منع فرمایا۔ اور حضرت جابر ؓ سے ایک روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے اسے خیبر کے دن کھایا یہ حال کی حکایت ہے اور آنکھوں دیکھا فیصلہ ہے، پس اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ضرورت کے تحت ذبح کئے ہوں، اور مخصوص احوال کے تحت جو فیصلے کئے جائیں ان سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ تو ہم کہیں گے : حضرت جابر ؓ سے ایک روایت ہے اور آپ کی جانب سے یہ خبر دی جا رہی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں گھوڑوں کا گوشت کھاتے تھے اور یہ اس احتمال کو زائل کردیتا ہے، اور اگر اسے تسلیم کر بھی لیں تو ہمارے پاس حضرت اسماء ؓ کی حدیث ہے انہوں نے بیان کیا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں گھوڑا ذبح کیا اس حال میں کہ ہم مدینہ طیبہ میں تھے اور ہم نے اسے کھایا ؛ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور نص کے مقابلہ میں بغیر ترجیح کے ہر تاویل بلاشبہ وہ دعویٰ ہوتا ہے، پس نہ اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور نہ اس کی طرف مائل ہوا جائے گا۔ اور دار قطنی نے حدیث اسماء ؓ میں حسین زیادتی روایت کی ہے جس پر ہر تاویل رفع ہوجاتی ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے بیان کیا : ہمارے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں زیک گھوڑا تھا وہ مرنے کے قریب ہوگیا تو ہم نے اسے ذبح کردیا اور پھر ہم نے اسے کھایا۔ پس اسے ذبح کرنا اس پر طاری ہونے والی موت کے خوف سے ہوا نہ کہ احوال میں سے کسی اور حاجت اور حالات کے سبب۔ وباللہ التوفیق۔ اور اگر کہا جائے : یہ حیوان ہے جو کھروں والا ہے پس اسے نہیں کھایا جائے گا جیسا کہ گدھے ؟ تو ہم کہیں گے : یہ قیاس الشبہ ہے اور ارباب اصول نے اس کے بارے گفتگو میں اختلاف کیا ہے اور اگر تہم اسے تسلیم کرلیں تو پھر یہ خنزیر کے ساتھ باطل ہوجاتا ہے کیونکہ وہ سینگوں والا ہے حالانکہ سینگوں والے جدا جدا ہیں۔ اور اس بنا پر بھی کہ قیاس جب نص کے مقابلہ میں ہو تو وہ وضعا ہی فاسد ہے لہٰذا وہ قابل التفات نہیں ہوگا۔ علامہ طبری (رح) نے بیان کیا : ہے اس پر اجماع ہے کہ جن کے کھانے کا ذکر کیا گیا ہے ان پر سوار ہونا جائز ہے تو یہ اس پر دلیل ہے کہ جن کے لئے سواری کا ذکر کیا گیا ہے انہیں کھانا بھی جائز ہے۔ مسئلہ نمبر 6: اور رہے خچر تو انہیں گدھوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے، اگر ہم کہیں کہ بیشک گھوڑا کھایا جاتا ہے، تو یہ (خچر) دو عینوں سے پیدا ہوتا ہے جو دونوں نہیں کھائے جاتے (یعنی گھوڑا اور گدھا) اور اگر ہم کہیں کہ گھوڑا کھایا جاتا ہے، تو بیشک یہ (خچر) ایسے دوعینوں سے پیدا ہوتا ہے جن میں سے ایک (گھوڑا) کھایا جاتا ہے اور دوسرا (گدھا) نہیں کھایا جاتا۔ پس اصول قاعدہ کے مطابق اس پر تحریم غالب ہوگی۔ اور اسی طرح جب وہ کافروں کے درمیان سے پیدا ہونے والا بچہ کسی جانور کو ذبح کرے ان (کافروں) میں سے ایک کا ذبیحہ حلال ہو اور دوسرا اس اہل نہ ہو، تو اس کا ذبح کرنا دوست نہیں ہوگا اور اس کے سبب اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہوگا۔ اور گدھوں کی تحریم کے بارے میں کلام سورة الانعام میں گزر چکی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اور گدھا کھانے کے حرام ہونے کی علت یہ بیان کی ہے کہ اس نے اپنا جرہر خبیث ظاہر کردیا ہے جس وقت وہ مذکر (یعنی اپنے جیسے گدھے) پر کود پڑا اور اس نے لواطت کی، پس اسے رجس (پلید) کا نام دے دیا گیا۔ مسئلہ نمبر 7: آیت میں اس پر دلیل ہے کہ گھوڑوں میں زکوٰۃ نہیں ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہم پر ان چیزوں کے ساتھ احسان فرمایا جو اس نے ہمارے لئے مباح فرمائیں اور ہمیں ان کے منافع سے عزت و تکریم عطا فرمائی، تو پھر یہ جائز نہیں کہ ان میں کوئی تکلیف اور مشقت بغیر دلیل کے لازم ہو۔ تحقیق امام مالک (رح) نے عبد اللہ بن دینار سے انہوں نے سلیمان بن یسار سے انہوں نے عراک بن مالک سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مسلمان پر اس کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں کوئی صدقہ نہیں ہے “۔ اور ابوداؤدنے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” گھوڑوں اور غلاموں میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے مگر غلام میں صدقۃ الفطر ہے “۔ اور یہی امام مالک، امام شافعی، اوزاعی، لیث، ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے بیان کیا ہے : اگر یہ سارے مونث (گھوڑیاں) ہوں یا مذکر اور مونث ملے جلے ہوں، تو پھر ہر گھوڑے میں ایک دینار ہے جبکہ وہ چرنے والے ہوں، اور اگر چاہے تو وہ اس کی قیمت لگا لے اور پھر ہر دو سو درہم سے پانچ درہم ادا کرے۔ اور انہوں نے ایک اثر جو حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے سے استدلال کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” چرنے والے گھوڑوں میں سے ہر گھوڑے میں ایک دینار ہے “۔ اور آپ ﷺ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : ” گھوڑے تین قسم کے ہیں “ الحدیث۔ اور اس میں ہے : ” اور وہ ان کی گردنوں اور ان کی پشتوں میں اللہ تعالیٰ کا حق نہ بھولے “۔ پہلی روایت کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کو غورک سعدی کے سوا کسی نے جعفر بن محمد عن أبیہ عن جابر ؓ سے روایت نہیں کیا۔ اور دار قطنی نے کہا ہے : جعفر سے روایت کرنے میں غورک منفرد ہے اور وہ بہت ضعیف ہے، اور اس کے نیچے بھی ضعفاء ہیں۔ اور رہی وہ حدیث جس میں حق کا ذکر کیا گیا تو وہ ان پر نکلنا ہے جب عام اعلان جنگ ہوجائے اور دشمن کے ساتھ قتال کے لئے وہ متعین ہوجائیں جب وہ تعین اس پر ہوگیا اور وہ (لشکر سے) کٹ جانے والوں کو اس پر اٹھانے لگے جبکہ انہیں اس کی ضرورت ہو، تو اب اس پر یہ واجب ہوگیا جب یہ تعین ہوچکا، جیسا کہ اس پر متعین ہوجاتا ہے کہ وہ انہیں ضرورت کے وقت چارہ وغیرہ کھلائے، تو یہی ان کے گردنوں (ذاتوں) میں اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں۔ اور اگر کہا جائے : یہ تو وہ حق ہے جو ان کی پشتوں میں ہے اور وہ حق باقی رہا جو ان کی گردنوں میں ہے۔ تو کہا جائے گا : تحقیق روایت یہ ہے لاینسو حق اللہ فیھا، تو آپ نے ارشاد حق اللہ فیھا اور فی رقابھا وظھورھا کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ معنی ایک ہی شے کی طرف لوٹ رہا ہے، کیونکہ حق ان کے سارے بدن کے ساتھ متعلق ہوتا ہے۔ اور تحقیق علماء کی جماعت نے کہا ہے : بیشک یہاں حق سے مراد ان کی ملکیت کا حسن اور ان کے سیر ہونے (پیٹ بھرنے) کی دیکھ بھال کرنا، اور ان کے ساتھ اچھا اور خوبصورت سلوک کرنا، اور بغیر کسی مشقت کے ان پر سواری کرنا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے : ” تم ان کی پشتوں کو کرسیاں نہ بناؤ “۔ ان کی گردنوں کو ذکر کے ساتھ خاص کیا گیا ہے کیونکہ حقوق لازمہ اور فرائض واجبہ کے مقامات میں کثرت سے رقاب اور اعناق مستعار لی جاتی ہیں اور اسی سے یہ قول باری تعالیٰ ہے : فتحریر رقبۃ مؤمنۃ (النساء :92) (پس مومن غلام کو آزاد کرنا ہے) ۔ اور عربوں کے نزدیک ان کا استعمال اور ان کا استعارہ کثیر ہے حتیٰ کہ انہوں نے اسے خوشحالی اور اموال میں بھی ذکر کیا ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کثیر لوگوں کا یہ قول ہے : غمر الرداء اذا تبسم ضاحکا غلقت لضحکتہ رقاب المال اور یہ بھی کیونکہ وہ حیوان جس میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اس کا نصاب اس کی جنس سے ہوتا ہے، تو جب گھوڑے اس سے خارج ہیں تو ہم نے جان لیا کہ ان میں زکوٰۃ ساقط ہوچکی ہے۔ اور یہ بھی کہ صرف ان کی مونثات (گھوڑیوں) میں زکوٰۃ واجب کرنا بغیر مذکروں پر قیاس کرتے ہیں، اس وجہ سے کہ یہ حیوان اپنی نسل کی حفاظت کے لئے رہیں نہ کہ دودھ کے لئے، اور اس کے مذکروں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی لہٰذا اس کے مؤنثوں میں بھی واجب نہ ہوگی جیسا کہ خچر اور گدھے ہیں۔ اور ان سے یہ بھی روایت ہے کہ اس کی مؤنثوں میں زکوٰۃ نہیں ہوتی اگرچہ وہ منفرد ہوں جیسا کہ اس کے مذکفروں میں واجب نہیں ہوتی درآنحالیکہ وہ منفرد ہوں۔ یہی وہ مذہب ہے جس پر جمہور ہیں۔ ابن عبد البر نے کہا ہے : گھوڑوں کی زکوٰۃ کے بارے میں جو خبر حضرت عمر ؓ سے مروی ہے وہ حدیث زہری وغیرہ سے صحیح ہے۔ اور حدیث مالک سے مروی ہے، اسے ان سے جویریہ نے اور انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے کہ حضرت سائب بن یزید نے کہا : تحقیق میں نے اپنے باپ کو دیکھا وہ گھوڑوں کی قیمت لگاتے پھر ان کی زکوٰۃ حضرت عمر ؓ کے پاس بھیج دیتے۔ اور یہی امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے شیخ حماد بن ابی سلیمان رحمہم اللہ تعالیٰ کی حجت ہے، میں فقہائے امصار میں سے کسی کو نہیں جانتا جس نے ان دو کے سوا گھوڑوں میں زکوٰۃ واجب کی ہو۔ اس کو روایت کرنے میں جو یریہ امام مالک (رح) سے منفرد ہے اور وہ ثقہ ہے۔ مسئلہ نمبر 8: قولہ تعالیٰ : وزینۃ یہ اضمار فعل کے ساتھ منصوب ہے، اس کا معنی ہے : وجعلھا زینۃ (اور اس نے انہیں زینت (اور خوبصورتی) بنایا) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مفعول من أجلہ ہے۔ اور الزینۃ سے مراد وہ شے ہے جس کے ساتھ تزئین اور خوبصورتی حاصل کی جاتی ہے، اور یہ حسن و جمال اور زیب وزینت ہیں اگرچہ سامان دنیا میں سے ہیں تحقیق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس میں اجازت عطا فرمائی ہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” اونٹ اپنے مالکوں کے لئے عزت ہے اور بکری برکت ہے اور گھوڑے کی پیشانی میں خیر اور بھلائی ہے “۔ اسے برقانی اور ابن ماجہ نے سنن میں نقل کیا ہے۔ اور سورة الانعام میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ بلاشبہ حضور نبی کریم ﷺ نے عزت کو اونٹ میں جمع کیا ہے، کیونکہ اس میں لباس، کھانا، دودھ، بوجھ اٹھانا، اور جنگ میں شریک ہونا سبھی امور ہیں اور اگرچہ حملہ اور فرار ہونا اسے نقصان پہنچائے اور آپ نے برکت بکریوں میں رکھی ہے اس لئے کہ ان میں لباس، کھانا، پینا اور کثرت اولاد ہے، کیونکہ یہ ایک سال میں تین بار بچے جنتی ہیں یہاں تک کہ سکون اور راحت ان کے پیچھے پیچھے ہوتی ہے اور یہ اپنے مالک کو اس پر جھکانے اور پہلو نرم کرنے کے بارے ابھارتی ہیں، بخلاف خیموں میں رہنے والے ان لوگوں کے جن کے پاس اونٹ کثیر مقدار میں ہوتے ہیں۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ نے خیر اور بھلائی کو گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ ملا دیا ہے جب تک زمانہ باقی ہے کیونکہ ان میں ایسے فوائد اور منافع ہیں جو کسب اور معاش کے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں، اور جو دشمنوں کے قہر اور کافروں کے غلبہ اور اعلاء کلمۃ اللہ تعالیٰ میں سے اس تک پہنچاتے ہیں۔ قولہ تعالیٰ : ویخلق ما لا تعلمون جمہور نے کہا ہے : وہ پیدا فرمائے گا مخلوق سے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ زمین خشکی اور تری کی نچلی تہوں میں کیڑے مکوڑوں اور دیگر موذی جانوروں کی اتنی اقسام پید افرمائے گا جن کو کسی انسان نے نہ دیکھا ہے اور نہ اس کے بارے میں سنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ویخلق مالا تعلمون یعنی ان میں سے وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے اہل کے لئے اور جہنم میں اس کے اہل کے لئے تیار کی ہیں، ان میں سے جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور کسی کان نے اس کے بارے سنا نہیں اور کسی انسان کے دل میں اس کا تصور تک نہیں آیا۔ حضرت قتادہ اور سدی نے کہا ہے : اس سے مراد کپڑوں میں سوس (گھن) اور پھلوں میں کیڑوں کو پیدا کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : مراد عرش کے نیچے چشمہ پیدا کرنا ہے، اسے ماروردی نے بیان کیا ہے۔ ثعلبی نے بیان کیا ہے : اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : عرش کی دائیں جانب نور کی ایک نہر ہے جو سات آسمانوں، سات زمینوں، اور سات سمندروں کے ستر بار ہونے کی مثل ہے، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر سحری کے وقت اس میں داخل ہو کر غسل کرتے ہیں اور اس کے نور سے اپنے نور میں، اس کے حسن و جمال سے اپنے حسن و جمال میں اور اس کی عظمت و بڑائی سے اپنی بڑائی میں اضافہ کرتے ہیں، پھر پروں کو جھاڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہر پر سے ستر ہزار قطرے نکالتا ہے، اور ہر قطرے سے ستر ہزار فرشتے پیدا فرماتا ہے، ان میں سے ہر روز ستر ہزار فرشتے بیت المعمور میں، اور کعبہ معظمہ میں ستر ہزار داخل ہوتے ہیں اور پھر یوم قیامت تک اس کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ اور پانچواں قول یہ ہے اور یہ حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ ” وہ سفید زمین ہے، سورج کی مسافت تیس دونوں کی ہے وہاں ایک مخلوق پیدا فرمائے گا وہ انہیں جانتے ہوں گے کہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی ہے “۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ، کیا وہ آدم کی اولاد سے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا ہے “۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ، تو ان میں سے ابلیس کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو پیدا کیا ہے “۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ویخلق مالا تعلمون اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں، اسی معنی کی طرح وہ ہے جسے علامہ بیہقی (رح) نے حضرت شعبی (رح) سے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا : بیشک اندلس سے اتنا پرے اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہیں جتنا ہمارے اور اندلس کے درمیان فاصلہ ہے، وہ نہیں جانتے کہ مخلوق نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے، ان کے سنگر یزے موتی اور یاقوت کے ہیں اور ان کے پہاڑ سونے اور چاندی کے ہیں، نہ وہ ہل چلاتے ہیں، نہ وہ کاشتکاری کرتے ہیں اور نہ کوئی اور کام وہ کرتے ہیں، ان کے درخت ان کے دروازوں پر ہیں ان کے ساتھ پھل ہیں اور یہی ان کا طعام اور کھانا ہے ان کے کچھ درخت ہیں ان کے پتے چوڑے چوڑے ہیں اور وہی ان کا لباس ہیں ؛ انہوں نے اسے ” کتاب الاسماء والصفات “ کے باب بدء الخلق میں ذکر کیا ہے۔ اور حضرت موسیٰ بن عقبہ کی حدیث ذکر کی ہے جو انہوں نے محمد بن منکدر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے حاملین عرش ملائکہ میں سے کسی فرشتے سے گفتگو کروں جس کے کان کی لو سے لے کر اس کے کندھے تک سات سو سال کی مسافت ہے “۔