16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 16:1–9

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی فرشتوں کو پیغام دیکر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے۔ کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا۔

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لئے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو۔

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور جب شام کو انھیں (جنگل سے) لاتے ہو اور) جب صبح کو (جنگل) چرانے لیجاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے۔

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمت شاقہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارے پروردگار نہایت شفقت والا مہربان ہے۔

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لئے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جنکی تم کو خبر نہیں۔

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھا راستے پر چلا دیتا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا یہ نازل کرتا ہے اور وہ انبیاء ہیں، یہ کہ لوگوں کو آگاہ کردو أن مفسرہ ہے، کافروں کو عذاب سے ڈراؤ اور ان کو یہ بتاؤ کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں لہٰذا مجھ ہی سے ڈرو، اس اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق یعنی بامقصد پیدا کیا وہ ان بتوں سے وراء الوراء ہے جس کو یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، انسان کو نطفہ منی سے پیدا کیا یہاں تک کہ اس کو قوی اور مضبوط کردیا، تو وہ بعث (بعد الموت) کا انکار کرکے (صریح) جھگڑالو بن گیا یہ کہتے ہوئے کہ بوسیدہ ہڈیوں کو (بھلا) کون زندہ کرسکتا ہے ؟ اور تمہارے لئے جانوروں کو (مثلاً ) اونٹ اور گائے (بیل) اور بکریاں پیدا کیں اور (اَنْعَامَ ) کا نصب اس فعل مقدر کی وجہ سے، ہے جس کی تفسیر خلقھا لکم کررہا ہے، منجملہ دیگر لوگوں کے تمہارے لئے وہ مویشی پیدا کئے کہ ان کی اون اور بالوں سے بنی ہوئی (گرم) چادروں اور لباسوں میں سردی سے حفاظت ہے (اس کے علاوہ) نسل، دودھ اور سواری کے منافع (بھی) ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے (بھی) ہو اور ظرف (منھا) کو فواصل کر رعایت کی وجہ سے مقدم کیا ہے، اور تمہارے لئے وہ باعث زینت بھی ہوتے ہیں جب کہ تم ان کو شام کے وقت ان کے باڑوں کی طرف واپس لاتے ہو اور اس وقت بھی (باعث زینت ہوتے ہیں) کہ جب تم انہیں صبح کے وقت ان کی چراگاہ کی طرف لے جاتے ہو، اور وہ تمہارے سامان کا بوجھ اٹھا کر ایسے شہروں تک لیجاتے ہیں کہ تم وہاں اونٹوں کے بغیر نہیں پہنچ سکتے مگر سخت جانفشانی کے بعد، حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق و مہربان ہے، اس لئے کہ اس نے تمہارے لئے ان جانروں کو پیدا کیا، اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تمہاری سواری کے لئے اور زینت کے لئے دونوں مفعول لہ ہیں، اور (رکوب وزینت) کو علت قرار دینا نعمتوں کے تعارف کے لئے ہے، لہٰذا اس کے علاوہ کیلئے تخلیق کے منافی نہیں، جیسا کہ گھوڑا کھانے کے لئے (بھی) جو کہ صحیحین کی حدیث سے ثابت ہے اور وہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم جانتے بھی نہیں، اور سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمہ ہے جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں، اگر وہ تمہاری ہدایت چاہتا تو سب کو ہدایت دیدتا تو تمہارے اختیار سے اس تک رسائی ہوجاتی۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ای قَرُبَ ، ای قَرُبَ وقوعُہٗ ، تطلبوہ، ای تطْلبوا وقوعہٗ ۔ قولہ : سبحانَہٗ ، یہ فعل محذوف کا مفعول ہے، ای سَبَّحَ سبحانہٗ ۔ قولہ : بہٖ اس میں اشارہ ہے کہ عَمَّا میں ماموصولہ ہے جس کے صلہ میں عائد کا ہونا ضروری ہے، اور اگر مامصدر یہ ہو تو عائد کی ضرورت نہ ہوگی۔ قولہ : عَمَّا میں سبحانہ اور تعالیٰ دونوں فعل تنازع کررہے ہیں ہر ایک عَمَّا میں ما کو اپنا مفعول بنانا چاہتا ہے یہ بات تنازع فعلان سے ہے، بصریین کے نزدیک ثانی فعل کو اور کو فیین کے نزدیک اول فعل کو عمل دیں گے۔ قولہ : ای جبرئیل۔ سوال : اَلْملائکۃ صیغہ جمع بول کر واحد مراد لیا ہے ایسا کیوں ؟ جواب : ایسا مجازًا کیا ہے جیسا کہ اذقالتِ الملائکۃ یا مریم میں ملائکہ سے مراد جبرئیل امین ہی ہیں، واحدی نے کہا ہے کہ جب فرد جماعت کا رئیس ہو تو اس پر جمع کا اطلاق درست ہے، جبرئیل چونکہ ملائکہ کے سردار ہیں لہٰذا ان پر جمع کا اطلاق صحیح ہے۔ قولہ : بارادتہ اس میں اشارہ ہے کہ مِنْ اَمْرہ میں مِنْ بمعنی باء ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ من امرہٖ میں مِنْ نہ بیانیہ ہوسکتا ہے اور نہ تبعیضیہ اور نہ ابتدائیہ۔ قولہ : اَنْ مفسرہ۔ سوال : أن مفسرہ قال یا قال کے مشتقات یا قال کے ہم معنی کے بعد واقع ہوتا ہے اور یہاں ایسا نہیں ہے۔ جواب : یہاں روح چونکہ وحی کے معنی ہے اور وحی قال میں ہے لہٰذا أن مفسرہ ہونا درست ہے۔ قولہ : وَاعلموھم، یہ اضافہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : انداز متعدی بیک مفعول اور وہ محذوف ہے ای اندرو المشرکین، لہٰذا أنَّہٗ لا الہٰ میں اَنَّ کے فتحہ کی کیا وجہ ہے ؟ قیاس کا تقاضا ہے کہ اِنَّ بکسر الھمزہ ہو۔ جواب : یہ ہے کہ یہاں اعلموا مقدر ہے اور أنَّہ لا اِلہٰ الا انا، مفعول ثانی ہے، اسی وجہ سے أنّہ لایا گیا ہے۔ قولہ : محقًا، اس میں اشارہ ہے کہ بالحق حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : شدید الخصومۃ اس میں اشارہ ہے کہ خصیم (فعیل) مبالغہ کے لئے ہے۔ قولہ : نصبُہٗ بفعلٍ یفسرہ خلَقَھا، یعنی یہ ما اضمر عاملہ کے قبیل سے ہے، تقدیر عبارت یہ ہے خَلَق الانعام خلَقَھا لکم۔ قولہ : دفْءٌ جاڑے کی پوشاک، گرم کپڑا، گرمی حاصل کرنے کا سامان، اونٹوں کی پیداوار اور ان سے جو نفع حاصل ہو، (س ک) دَفْأً ، دُفُوءًا، دَفَاء ۃً ، گرم ہونا گرمی محسوس کرنا، استدفاءٌ، گرم کپڑا پہننا۔ قولہ : من اشعارھا واصوفھا مَا تستَدْفِئونَ ، میں ما کا بیان ہے، دِفْ ءٌ کی تفسیر ما تسَتَدْفِئونَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ دِفْءٌ مصدر اسم کے معنی میں ہے، اس طرح دفْءٌ کا حمل بھی درست ہوگیا۔ قولہ : قدّم الظرف للفاصلۃ یعنی ومنھا تاکلون اصل میں تاکلون منھا تھا، فواصل کے رعایت کی وجہ سے ظرف کو مقدم کردیا۔ قولہ : مُراح بضم الیم، آرام کی جگہ، ٹھکانہ، جانوروں کا باڑا۔ قولہ : وخَلَقَ ، خَلَقَ مقدر مان کر اشارہ کردیا الخیل کا عطف الانعام پر ہے، ای خَلَقَ الانعام وخلق الخیل الخ۔ قولہ : مفعولٌ لَہٗ ، زینۃً مفعول لہ ہے، اور لتر کبوھا کے محل پر عطف ہے یعنی ترکبوھا اور زینۃً دونوں خَلَقَ کے مفعول لہ ہیں۔ سوال : دونوں مفعول لہ ہیں مگر دونوں کو ایک طرز پر نہیں لایا گیا۔ جواب : دونوں میں فرق ہے کہ رکوب مخاطبین کا فعل ہے اور زینتہ خالق کا فعل ہے۔ قولہ : والتعلیلُ بھما لتعریف النعم الخ، یہ احناف کے استدلال کا جواب ہے، احناف کا استدلال اس آیت سے اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کی تخلیق کی علت زینت بیان فرمائی ہے اور ان تینوں کی تخلیق کو کھانے کی علت قرار نہیں دیا جیسا کہ انعام میں تخلیق کی علت اکل بیان فرمائی ہے حالانکہ منفعت اکل دیگر منفعتوں سے اعلی ہے اور آیت بیان نعمت ہی کے لئے لائی گئی ہے اور یہ بات ہرگز مناسب نہیں ہے کہ احسان جتانے کے موقع پر ادنی کا ذکر کیا جائے اور اعلی کو چھوڑدیا جائے۔ قولہ : قولہ : قصدالسبیل، یہ اضافت الی الموصوف ہے، ای السبیل القصد، اور قصد بمعنی قاصد ہے تاکہ حمل درست ہوجائے قصد سیدھے راستے کو کہتے ہیں، یقال سبیلٌ قصدٌ وسبیلٌ قاصدٌ سیدھا راستہ۔ تفسیر وتشریح سورت کا نام : اس صورت کا نام سورۂنحل اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر قدرت کی عجیب و غریب صفت کے بیان کے سلسلے میں ہوا ہے، اس کا دوسرا نام سورة نِعَمْ بھی ہے (قرطبی) نِعَمْ نعمت کی جمع ہے، اس لئے کہ اس صورت میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ موضوع اور مرکزی مضمون : مرکزی مضمون شرک کا بطلان اور توحید کا اثبات، دعوت پیغمبر کو نہ ماننے کے برے نتائج پر تنبیہ اور فہمائش، اور حق کی ممانعت و مزاحمت پر زجروتوبیخ ہے۔ اس سورت کو بغیر کسی خاص تمہید کے ایک شدید و عید اور ہیبت ناک عنوان سے شروع کیا گیا ہے جس کی وجہ مشرکین کا یہ کہنا تھا کہ محمد ﷺ ہمیں قیامت سے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہتے ہیں، اور یہ دعوی کرتے رہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو غالب کرنے اور مخالفوں کو مغلوب کرنے اور سزا دینے کا وعدہ کیا ہے، ہمیں تو یہ کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آتا، اس کے جواب میں اشاد فرمایا کہ " آپہنچا حکم اللہ کا تم جلد بازی نہ کرو " (معارف) یعنی عنقریب پہنچنے والا ہے جس کو تم خود عنقریب بچشم سر دیکھ لو گے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس میں اللہ سے مراد قیامت ہے اس کے آپہنچنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کا وقوع دنیا کی گذشتہ مدت کے اعتبار سے قریب ہے۔ مذکورہ آیت کا خلاصہ ایک وعید شدید کے ذریعہ توحید کی دعوت دینا ہے، دوسری آیت میں دلیل نفلی سے توحید کا اثبات ہے کہ آدم علیہ الصلاۃ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک دنیا کے مختلف خطوں، مختلف زمانوں میں جو رسول آیا، ہے اس نے یہی عقیدۂ توحید پیش کیا ہے حالانکہ ایک کو دوسرے کے حال اور تعلیم کے اسباب سے کوئی اطلاع بھی نہ تھی، غور کرو کہ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار حضرات عقلاء جو مختلف اوقات میں مختلف ملکوں مختلف خطوں میں پیدا ہوں اور وہ سب کے سب ایک ہی بات کے قائل ہوں تو فطرۃً انسان یہی سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ بات غلط نہیں ہوسکتی، ایمان لانے کیلئے تنہا یہی دلیل کافی ہے، لفظ روح سے مراد اس آیت میں بقول ابن عباس وحی اور بقول دیگر مفسرین ہدایت ہے۔ عقیدۂ توحید کا عملی طور پر اثبات : خَلَقَ السمٰوات۔۔۔ بالحق (الآیۃ) ان آیتوں میں تخلیق کائنات کی عظیم نشانیوں سے حق تعالیٰ کی توحید کا اثبات ہے، اول تو سب سے پہلی مخلوق آسمان اور زمین کا ذکر فرمایا اس کے بعد تخلیق انسانی کا ذکر فرمایا، جس کو اللہ تعالیٰ نے مخدوم کائنات بنایا، انسان کی ابتداء ایک حقیر نطفہ سے ہونا بیان کرکے فرمایا، فَاِذَا ھُوَ خصیم مبین یعنی جب اس ضعیف الخلقت کو طاقت اور قوت گویائی عطا ہوئی تو خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگڑنے لگا۔ انسانی تخلیق کے بعد ان اشیاء کی تخلیق کا ذکر فرمایا جو انسان کے فائدے کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں، اور قرآن کے سب سے اول مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب کی معیشیت کا بڑا دارمدار جانوروں میں اونٹ، گائے، بکری پر تھا اس لئے پہلے ان کا ذکر فرمایا، " وَالْاََنعام خَلَقھا " پھر جانوروں سے جو فوائد انسان کو حاصل ہوتے ہیں ان میں سے دو فائدے خاص طور سے بیان کردیئے۔ فائدہ : (1) ایک لکم فیھا دِفْءٌ یعنی ان جانوروں کی اون سے انسان اپنے گرم کپڑے اور کھال سے پوستین وغیرہ تیار کرکے سردی کے موسم میں گرمائش حاصل کرتا ہے۔ فائدہ : (2) ومنھا تاکلون، یعنی انسان جانوروں میں سے بعض کو ذبح کرکے اپنی خوراک بھی بنا سکتا ہے، غرضیکہ انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے دو یعنی خوراک اور پوشاک کی ضرورت جانوروں سے پوری ہوسکتی ہیں، اور ان کے دودھ سے اپنی بہترین غذا تیار کرسکتا ہے اور باقی عام فوائد کے لئے فرمایا " و منافع للناس " اور بیشمار فوائد انسان کے جانوروں کے گوشت چمڑے، ہڈی، اور بالوں سے وابستہ ہیں، اس ابہام و اجمال میں ان سب نئی سے نئی ایجادات کی طرف بھی اشارہ ہے جو حیوانی اجزاء سے انسان کی غذا، لباس، دواء استعمال اشیاء کے لئے ابتک ایجاد ہوچکی ہیں یا آئندہ قیامت تک ہوں گی۔ (معارف) ولکم۔۔۔۔ تریحون، اس میں ایک فائدہ عرب کے ذوق کے مطابق یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے جمال اور زینت کا ذریعہ ہیں خصوصاً جب وہ شام کو چراگاہوں کی طرف آتے ہیں یا صبح کو آرام گاہوں سے نکل کر چراگاہوں کی طرف جاتے ہیں، کیونکہ اس وقت مویشیوں سے ان کے مالکان کی خاص شان و شوکت کا مظاہرہ ہوتا ہے آخر میں ان جانوروں کا ایک اور فائدہ یہ بیان کیا کہ یہ جانور تمہارے بوجھل سامان دور دراز شہروں تک پہنچادیتے ہیں جہاں تمہاری اور تمہارے سامان کی رسائی جان جوکھوں میں ڈالے بغیر ممکن نہ تھی، آج ریل گاڑیوں اور ٹرکوں اور ہوائی جہازوں کے زمانہ میں بھی انسان ان جانوروں سے مستثنی نہیں۔ کھائے جانے والے حلال جانوروں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوا جن کی تخلیق ہی سواری اور باربرداری کے لئے ہے ان کے دودھ یا گوشت سے انسان کا فائدہ متعلق نہیں کیونکہ ازروئے شرع وہ اخلاقی بیماریوں کا سبب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہیں، فرمایا، " والخیلَ والبغال والحمیر لتر کبوھا و زینۃً ، یعنی ہم نے گھوڑے، خچر، گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور وہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہوں۔ مسئلہ : قرآن کریم نے اول انعام یعنی اونٹ، گائے، بکری، کا ذکر فرمایا، اور ان کے فوائد میں سے ایک اہم فائدہ ان کا گوشت کھانا بھی قرار دیا پھر اس سے الگ کرکے فرمایا، والخیل والبغال والحمیر ان کے فوائد میں ان سے سواری لینے اور ان سے اپنی زینت حاصل کرنے کا ذکر ہے مگر گوشت کھانے کا یہاں ذکر نہیں کیا اس میں یہ دلالت پائی جاتی ہے کہ گھوڑے، خچر، گدھے کا گوشت حلال نہیں، گدھے اور خچر کا گوشت حرام ہونے پر تو جمہور فقہاء کا اتفاق ہے اور ایک مستقل حدیث میں ان کی حرمت کا صراحۃً بھی ذکر ہے مگر گھوڑے کے معاملہ میں حدیث کی دو روایتیں متعارض آئی ہیں ایک سے حلت اور دوسری سے حرمت معلوم ہوتی ہے اسی لئے فقہاء امت کے اقوال اس میں مختلف ہوگئے بعض نے حلال قرار دیا اور بعض نے حرام، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے اسی تعارض دلائل کی وجہ سے گھوڑے کے گوشت اور خچر کی طرح حرام نہیں کہا مکروہ قرار دیا۔ (احکام القرآن جصاص) مسئلہ : اس آیت سے جمال اور زینت کا جواز معلوم ہوتا ہے، اگرچہ تفاخرو تکبر حرام ہیں فرق یہ ہے کہ جمال وزینت کا حاصل اپنے دل کی خوشی یا اللہ تعالیٰکی نعمتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ (معارف) وعلی۔۔۔ السبیل، یہ آیت درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے لائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ قدیمہ کی بنا پر اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ لوگوں کے لئے وہ صراط مستقیم واضح کردے جو اللہ تک پہنچانے والا ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کچھ لوگوں نے دوسرے ٹیڑھے راستے بھی اختیار کر رکھے ہیں وہ ان تمام واضح آیات اور دلائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ گمراہی میں بھٹکتے رہتے ہیں، پھر ارشاد فرمایا کہ مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ جبر نہ کیا جائے، دونوں راستے سامنے کردیئے جائیں چلنے والا جس راستہ پر چلنا چاہے چلا جائے، صراط مستقیم اللہ تعالیٰ اور جنت تک پہنچائیگا اور ٹیڑھے راستے جہنم پر پہنچائیں گے۔
Ayahs 16:10–21

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اسی پانی سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور (اور بیشمار درخت) اگاتا ہے اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بڑی) نشانی ہے۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لئے اس میں نشانی ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ۔ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں اور اس لئے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ (اسکا) شکر کرو۔

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بناکر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور ستے بنادیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جا سکو۔

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (راستوں میں) نشانات (بنادیئے) اور لوگ ستاروں سے بھی راستے معلوم کرتے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گن نہ سکو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بنا سکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ لاشیں ہیں بےجان ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے۔

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور رفع کے ساتھ مبتداء ہونے کی وجہ سے اور (القمر اور النجوم) میں بھی مذکورہ دونوں اعراب ہیں، (مسخراتٍ ) نصب کے ساتھ ہے، حال کی وجہ سے اور رفع ہے خبر ہونے کی وجہ سے بلا شبہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں (یعنی) غور و فکر کرتے ہیں، بہت سی چیزوں کو اس نے زمین میں تمہارے لئے پیدا کیا جن کے رنگ روپ مختلف قسم کے ہیں جیسا کہ سرخ، سبز اور زرد وغیرہ، وہ حیوان اور نبات وغیرہ ہیں یقیناً ان (مذکورہ) چیزوں میں نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے بہت سی نصیحتیں ہیں اور دریا بھی اس نے تمہاری سواری کے لئے اور اس میں غوطہ زنی کے لئے بس میں کردیئے ہیں تاکہ تم اس میں سے نکال کر تازہ گوشت کھاؤ وہ مچھلی ہے، اور اس میں سے زیور نکالو کہ جن کو تم پہنو اور وہ موتی اور مونگے ہیں، اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں، یعنی ایک ہی ہوا سے آتے جاتے دریا میں پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں، اور تاکہ تم تجارت کے ذریعہ اللہ کا فضل (روزی) طلب کرو (لِتبتغوا) کا عطف لتا کلوا پر ہے، اور تاکہ اس پر تم اللہ کا شکریہ ادا کرو اور اس نے زمین میں نہ ہلنے والے پہاڑ ثبت کردیئے تاکہ تم کو لے کر نہ ہلے (یعنی اضطرابی) حرکت نہ کرے اور زمین میں نیل کے، مانند نہریں بنائیں اور راستے بنائے تاکہ تم اپنے مقاصد تک رسائی حاصل کرسکو اور بہت سی ایسی نشانیاں بنائیں جن سے تم رہنمائی حاصل کرتے ہو جیسا کہ پہاڑوں سے دن میں اور ستاروں کے ذریعہ اور نجم بمعنی نجوم ہے راستہ کی اور قبلے کی، رات میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں کیا وہ اللہ جو پیدا کرتا ہے اس کے برابر ہے جو (کچھ) پیدا نہیں کرتا اور وہ بت ہیں، کہ جن کو عبادت میں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، نہیں (یعنی برابر نہیں ہوسکے) کیا تم اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتے کہ ایمان لے آؤ، اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے، چہ جائیکہ تم ان کا شکرادا کرسکو، بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے اسلئے کہ وہ تمہاری کوتاہیوں اور نافرمانیوں کے باوجود تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے اور جو تم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو اللہ اس کو جانتا ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں (بندگی) کرتے ہیں اور وہ بت ہیں، وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے وہ تو خود مخلوق ہیں، یعنی پتھر وغیرہ سے تراشے ہوئے ہیں، بےجان ہیں یہ خبر ثانی ہے ان میں جان نہیں یہ تاکید ہے، اور ان بتوں کو تو یہ بھی شعور نہیں کہ مخلوق کو کب اٹھایا جائیگا ؟ تو پھر ان کی کیوں بندگی کی جائے ؟ اسلئے کہ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو خالق ہو، زندہ ہو، عالم الغیب ہو۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بالنصب حالٌ (مَسَخَّرات) الشمس پر نصب میں حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا اور ماقبل میں مذکورہ سب سے حال ہوگا اور عامل سَخَّر کی ضمیر ہوگی، اور الشمسُ پر رفع کی صورت میں مسخّراتٌ مبتداء کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔ قولہ : ماذرَاَ اس کا عطف اللیلَ پر ہے مفسر علام نے سخّر محذوف نکال کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : مَوَاخِرَ یہ ماخر کی جمع ہے (ف) مَخْرًا، مخورًا، پانی کو چیرنا۔ قولہ : عطفٌ علی لتا کلوا (یعنی) تبتغوا اس کا عطف لتا کلوا پر ہے، درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : وجعلَ فیھا، اس کا عطف رواسیَ پر ہے اسلئے کہ القیٰ کے اندر جعل کے معنی ہیں۔ قولہ : خبرٌ ثان، یعنی اَمْواتٌ، الذین یدعون کی خبر ثانی ہے اور اول خبر مِنْ دونِ اللہ ہے۔ قولہ : تاکید، یعنی غیر احیاء، اموات کی تاکید ہے، لہٰذا عدم حاجت کا اعتراض ختم ہوگیا۔ تفسیر وتشریح منہ۔۔۔۔ تسیمون، شجر کا لفظ اکثرتنے دار درخت کے لئے بولا جاتا ہے، اور کبھی زمین سے اگنے والی ہر چیز کیلئے بھی بولا جاتا ہے، جیسا گھاس، بیلیں وغیرہ اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں اسلئے کہ آگے جانوروں کے چرانے کا ذکر ہے اس کا تعلق زیادہ تر گھاس ہی سے ہے۔ تسیمون، اسامت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں جانوروں کو چراگاہ میں چرنے کے لئے چھورنا۔ انَّ ۔۔۔ یتفکرون، ان تمام آیات میں نعماء الٰہیہ اور عجیب و غریب حکمت کے ساتھ تخلیق کائنات کا ذکر ہے جس میں غور و فکر کرنے والوں کو ایسے دلائل و شواہد ملتے ہیں کہ ان سے حق تعالیٰ کی توحید کا گویا مشاہدہ ہونے لگتا ہے اسی لئے ان آیتوں میں ذکر کرتے کرتے بار بار درمیان میں فرمایا کہ اس میں سوچنے والوں کے لئے دلیل ہے، کیونکہ کھیتی اور درخت اور ان کے پھل پھول وغیرہ کا تعلق اللہ جل شانہ کی صنعت و حکمت کے ساتھ غور و فکر چاہتا ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ دانہ یا گٹھلی زمین کے اندر ڈالنے سے اور پانی ڈالنے سے اور پانی دینے سے تو خود بہ خود یہ نہیں ہوسکتا کہ اس میں سے ایک عظیم الشان درخت نکل آئے اور اس پر رنگا رنگ پھول لگنے لگیں یہ سب قادر مطلق کی صنعت و حکمت ہے۔ وسخر۔۔۔۔ النھار الخ خدائی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں رات اور دن کا ایک دوسرے کے پیچھے چلے آنا بھی ہے، تاکہ لوگوں کا کاربار چلے اور ان کو سکون و راحت بھی ملے، اسی طرح چاند اور سورج بھی ایک معینہ نظام کے ساتھ نکلتے اور چھپتے ہیں رات اور دن کی آمد و رفت اور سمش و قمر کے طلوع و غروب کے ساتھ انسانوں کے بیشمار فوائد وابستہ ہیں بلکہ غور سے دیکھا جائے تو ان کے بغیر انسانی زندگی محال ہے خدا تعالیٰ نے اپنے اقتدار کامل سے چاند سورج اور تمام ستاروں کو ایک ادنی خادم کی طرح ہمارے کاموں میں لگا رکھا ہے، مجال نہیں کہ ذرا بھی سستی یا سرتابی کرسکیں۔ ھو۔۔۔۔ کلوا، آسمان اور زمین کی مخلوقات اور ان میں انسان کے فوائد و منافع بیان کرنے کے بعد سمندروں کے اندر حق تعالیٰ کی حکمت بالغہ سے انسان کے لئے کیا کیا فوائد ہیں ان کا بیان ہے کہ اس سے تم کو مچھلی کا تازہ گوشت ملتا ہے، اور دریا کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس میں غوطہ لگا کر انسان اپنے لئے زینت کا سامان نکال لیتا ہے، مراد موتی مونگے اور جواہرات ہیں جو سمندر سے نکلتے ہیں اگرچہ زیورات کے پہننے کی نسبت مردوں کی طرف کی گئی ہے مگر مراد عورتیں ہیں، اس لئے کہ دراصل عورتوں کی زیب وزینت مردوں ہی کے لئے ہے، اس کے علاوہ انگوٹھی وغیرہ کی صورت میں بھی استعمال کرتا ہے۔ وَتَرَ ۔۔۔ فیہ الخ دریاؤں کا یہ تیسرا فائدہ بتایا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دریا کو بلا دبعیدہ کے سفر کا راستہ بنایا ہے ہوائی جہاز کی ایجاد سے پہلے دور و دراز ملکوں کے سفر کا سب سے آسان طریقہ دریا کے راستہ سفر کرنا تھا اور تجارتی مال کی درآمد برآمد کا آسان وسیلہ بھی۔ والقیٰ ۔۔۔ بکم، رواسِیَ ، راسیۃ کی جمع ہے بھاری پہاڑ کو کہتے ہیں، تمیدَ ، میدٌ سے مشتق ہے جس کے معنی ڈگمگانے اور اضطرابی حرکت کرنے کے ہیں، معنی آیت کے یہ ہیں کہ کرۂ ارض کو حق تعالیٰ شانہ نے اپنی بہت سی حکمتوں کے تحت ٹھوس اور اجزاء سے نہیں بنایا اس لئے وہ کسی جانب سے بھاری اور کسی جانب سے ہلکی واقع ہوئی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ زمین کو عام فلا سفروں کی طرح ساکن مانا جائے یا حرکت مستدیرہ کے ساتھ متحرک قرار دیا جائے اور دونوں صورتوں میں زمین میں ایک اضطرابی حرکت ہوتی اس اضطرابی حرکت کو روکنے کے لئے اور اجزاء زمین کو متوازن کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے زمین پر پہاڑوں کا وزن رکھ دیا تاکہ وہ اضطرابی حرکت نہ کرسکے باقی رہا سوال حرکت مستدیرہ کا تو دیگر سیارات جیسے حرکت کرتے ہیں زمین بھی ویسی ہی حرکت کرتی ہے اور قدیم فلاسفہ میں سے فیثا غورث کی بھی یہی تحقیق ہے اور جدید فلاسفہ سب اس پر اور نئے تجربات نے اس کو زیادہ واضح کردیا ہے، تو قرآن کریم میں نہ اس کا اثبات ہے اور نہ اس کی کہیں نفی بلکہ یہ اضطرابی حرکت جس کو پہاڑوں کے ذریعہ بند کیا گیا ہے اس کی حرکت مستدیرہ کے لئے اور زیادہ معین ہوگی جو دیگر سیارات کی طرح زمین کے لئے ثابت ہے۔ (معارف) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور کائنات کا مفصل ذکر کرنے کے بعد اس بات پر تنبیہ فرمائی جس کے لئے ان سب نعمتوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے وہ ہے حق تعالیٰ کی توحید کہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، اسلئے فرمایا کہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ نے تنہا زمین و آسمان بنائے کوہ و دریا بنائے، نباتات اور حیوانات بنائے، درخت اور ان کے پھل پھول بنائے کیا وہ ذات کہ جو ان سب چیزوں کی خالق ومالک ہے ان بتوں کی مانند ہوجائے گی جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے، تو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟
Ayahs 16:22–25

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا ضرور اس کو جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو ) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی (اٹھائیں گے) سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔

آیت نمبر 22 تا 25 ترجمہ : تمہاری عبادت کا مستحق تو صرف ایک معبود ہے، ذات وصفات میں اس کی کوئی نظیر نہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے قلوب وحدانیت کے منکر ہیں اور وہ وحدانیت پر ایمان لانے سے تکبر کرنے والے ہیں یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بات کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں، لہٰذا وہ اس کی جزاء ان کو دے گا، وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بایں معنی کہ ان کو سزا دے گا، اور نضر بن الحارث کے بارے میں (آئندہ) آیت نازل ہوئی، اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے محمد ﷺ پر کیا نازل کیا ؟ (ما) استفہامیہ اور (ذا) موصولہ ہے تو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے جواب دیا، پہلے لوگوں کے جھوٹے قصے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انجام کار یہ لوگ اپنے تمام گناہوں کے ساتھ کہ جن میں سے کچھ بھی کم نہ کیا گیا ہوگا قیامت کے دن اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان لوگوں کے گناہوں کا بھی جن کو ان لوگوں نے ان کی لا علمی کی وجہ سے گمراہ کیا ہوگا اس لئے کہ ان لوگوں نے ان کو گمراہی کی طرف بلایا تو انہوں نے ان کی اتباع کی جس کی وجہ سے گناہ میں دونوں شریک ہوگئے، دیکھو تو کیسا برا بوجھ ہے ؟ جس کو یہ اٹھا رہے ہیں، یعنی ان کا یہ اٹھانا نہایت برا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : متکبرون، مستکبرون کی تفسیر متکبرون سے کرکے اشارہ کردیا کہ استفعال تَفَعُّل کے معنی میں ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ یہاں طلب کے معنی درست نہیں ہے۔ قولہ : بمعنی اَنَّہٗ یُعاقِبُھم یہ اس سوال کا جواب ہے کہ حب کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا درست نہیں ہے اسلئے کہ حُبّ کا تعلق قلب سے ہے اور قلب مجسم ہوتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ جواب : عدم حب کے لازم معنی مراد ہیں یعنی سزا، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : ھو۔ سوال : (ھو) مقدر ماننے کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : اساطیر الاولین چونکہ قال کا مقولہ ہے اور مقولہ کے لئے جملہ ہونا ضروری ہے حالانکہ اساطیر الاولین مفرد ہے یعنی جملہ تام نہیں ہے، مفسر علام نے ھو محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ اساطیر الاولین مبتداء محذوف کی خبر ہو کر جملہ تام ہے۔ قولہ : فی عاقبۃ الامر اس میں اشارہ ہے کہ لیحملوا میں لام عاقبت کا ہے۔ قولہ : حملھم ھذا یہ مخصوص بالذم ہے۔ تفسیر وتشریح اِلھٰکم اِلٰہٌ واحدٌ (الآیۃ) یعنی ایک اِلٰہ کا تسلیم کرنا منکرین و مشرکین کے لئے بہت مشکل ہے وہ کہتے ہیں " اَجَعَلَ الآ لِھَۃََ اِلٰھًا واحِدً اِنَّ ھذا لشَئ عُجابٌ " اس تمام معبودوں کا ایک ہی معبود کردیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے، سورة زمر میں فرمایا گیا " وَاِذا ذُکِرَاللہ وَحْدَہٗ اشمأزتْ قُلوبُ الّذین لا یؤ منون بالآ خرۃِ وَاِذَا ذُکِرَ الذین مِنْ دونِہٖ اِذا ھم یَسْتبشرون " جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو منکرین کے دل تنگ ہوجاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوتے ہیں۔ وَاِذَا۔۔۔۔ ربکم الخ گذشتہ آیت مکیں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی گمراہی اور اپنے انعامات و احسانات کا ذکر فرمایا اب مشرکین کے دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے، نبی ﷺ کی دعوت کا چرچا جب اطراف و اکناف میں پھیلا تو مکہ کے لوگ جہاں کہیں جاتے تھے ان سے جب پوچھا جاتا کہ تمہارے یہاں جو صاحب نبی بنکر اٹھے ہیں وہ کیا تعلیم دیتے ہیں ؟ قرآن کس کی کتاب ہے ؟ اس کے مضامین کیا ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ، اس قسم کے سوالات کا جواب کفار مکہ ہمیشہ ایسے الفاظ میں دیتے تھے کہ جن سے سائل کے دل میں نبی ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کے متعلق کوئی نہ کوئی شک بیٹھ جائے تا کم از کم اس کو آپ سے اور آپ کی دعوت سے کوئی دلچسپی نہ رہے، جو بات مشرکین سوالوں کے جواب میں کہا کرتے تھے ان میں سے ان کا ایک جملہ یہ بھی تھا " قالوا اَسَاطیرُ الاولین " گذشتہ لوگوں کے گھڑے ہوئے قصے ہیں قرآن کریم نے اس پر یہ وعید سنائی کہ یہ ظالم قرآن کو کہانیاں بتلا کو دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اس کا نتیجہ ان کو بھگتنا پڑے گا، روز قیامت ان کے گناہوں کا پورا بوجھ تو ان پر پڑنا ہی ہے، جن کو یہ لوگ گمراہ کررہے ہیں انکا بھی وبال ان پر پڑے گا، اور پھر فرمایا کہ گناہوں کے جس بوجھ کو یہ لوگ اپنے اوپر لاد رہے ہیں وہ بہت برا بوجھ ہے
Ayahs 16:26–34

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (وہ یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے۔

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) جو لوگ نیکو کار ہیں ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیزگاروں کا گھر بہت خوب ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں) وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلا دیتا ہے۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے انکی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر و شرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے انکے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے ؟ اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے تھے۔ اور خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا

آیت نمبر 26 تا 34 ترجمہ : ان سے پہلے لوگوں نے بھ مکر کیا تھا، اور وہ نمرود تھا جس نے ایک بہت اونچا منارہ بنایا تاکہ اس پر چڑھ کر آسمان والوں سے قتال کرے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑدیا کہ ان پر آندھی اور زلزلہ بھیج کر ان کو منہدم کردیا، اور ان کے سروں پر ان کی چھتیں اوپر آپڑیں جس وقت وہ ان کے نیچے تھے اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا، یعنی ایسی جہت سے کہ ان کے خیال و خواب میں بھ نہ تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ تمثیل ہے ان منصوبوں کو ناکام کرنے کی جن کو انہوں نے رسول کے خلاف استوار کیا تھا، پھر روز قیامت بھی اللہ انھیں رسوا کرے گا اور فرشتوں کے ذریعہ اللہ ان سے تو بیخًا کہے گا بزعم شما میرے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم مومنین سے جھگڑتے تھے یعنی مومنین سے اختلاف کرتے تھے، اور جن کو علم عطا کیا گیا یعنی انبیاء اور مومنین کہیں گے یقیناً آج رسوائی اور بدبختی کافروں کے لئے ہے، اور یہ بات ان کی مصیبت پر اظہار مسرت کے طور پر کہیں گے جن کافروں کی جان فرشتے حالت کفر پر قبض کرتے ہیں (آخر وقت تک) کفر کرکے اپنے اوپر ظلم کرتے رہے، اس وقت یہ لوگ ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور موت کے وقت تسلیم و رضا کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم تو کوئی شرک نہیں کرتے تھے، تو فرشتے کہیں گے ہاں کیوں نہیں اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے تھے، وہ تم کو اس کی سزا دے گا اور ان سے کہا جا ئیگا پس تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ، وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا، اور جو لوگ شرک سے بچتے ہیں ان سے (فرشتے) پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا نازل کیا ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں خیر ہی خیر ( نازل کی) یعنی جن لوگوں نے ایمان کے ذریعہ اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے یعنی پاکیزہ زندگی ہے اور دار آخرت یعنی جنت بہت ہی بہتر ہے دنیا اور مافیہا سے اللہ تعالیٰ نے دار آخرت کے بارے میں فرمایا، جنت متقیوں کے لئے کیا خوب گھر ہے، ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں (جنّٰت عدن) مبتداء ہے یدخلونھا، اس کی خبر ہے جن میں وہ داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوگی، جو کچھ یہ لوگ اس میں طلب کریں گے وہ ان کو ملے گا پرہیز گاروں کو اللہ اسی طرح جزاء عطا فرماتا ہے وہ پرہیز گار کہ جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ کفر سے پاک صاف ہوتے ہیں (فرشتے) ان سے موت کے وقت کہتے ہیں تمہارے لئے سلامتی ہی سلامتی ہے، اور آخرت میں ان سے کہا جائیگا اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ انھیں صرف اسی بات کا انتظار ہے کہ فرشتے ان کے پاس ان کی روح قبض کرنے کے لئے آجائیں (یاتیھم) یاء اور تاء کے ساتھ، یا تیرے رب کا حکم یعنی عذاب یا قیامت کا دن جو عذاب پر مشتمل ہوگا آجائے، اسی طرح جس طرح انہوں نے کیا ان سے پہلی امتوں نے بھی کیا ( یعنی) اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو وہ ہلاک کردیئے گئے، ان کو بغیر جرم کے ہلاک کرکے اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا لیکن وہ کفر کے ذریعہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے پس ان کے برے اعمال کے نتیجے انھیں مل گئے یعنی ان کے اعمال کی سزا ان کو مل گئی، اور جس عذاب کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے وہی عذاب ان پر ٹوٹ پڑا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و رتفسیری فوائد قولہ : قَصَدَ ، اتیان کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے لئے چونکہ محال ہے اسلئے اتیان کی تفسیر مجازًاقَصَدَ سے کی ہے۔ قولہ : بُنیا نھم اس سے پہلے مضاف محذوف ہے، ای قَصَدَ استیصال بنیا نِھِمْ. قولہ : لِاِ فساد مَا اَبْرَموہ، یعنی تمثیل مراد لینے کی صورت میں ان کے منصوبوں کو جن کو وہ استوار کرچکے تھے ناکام بنانا مراد ہوگا نہ کہ نمرود کی تعمیر کردہ عمارت کو منہدم کرنا۔ قولہ : ای یقول اس اشارہ ہے کہ ماضی بمعنی مضارع ہے تحقیق و قوع کی وجہ سے مضارع کو ماضی سے تعبیر کردیا ہے۔ قولہ : قائلین، قائلین کا اضافہ کلام کو مربوط و مسلسل بنانے کے لئے کیا ہے، اس کے بغیر ماقبل و مابعد میں ربط نہیں رہتا۔ قولہ : نعت یعنی المتقین موصوف ہے اور تتوفّٰھم اس کی صفت ہے اور طیبین، تتو فّٰھُمْ کی ضمیر سے حال ہے۔ تفسیر وتشریح وَقد۔۔۔۔ القواعد، بعض مفسرین اسرائیلی روایات کی بنیاد پر کہتے ہیں اس سے مراد نمرود یا بخت نصّر ہے جنہوں نے بلندو بالامحل یا منارے بناکر آسمانوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور لوگوں کو بیوقوف بنایا کہ ہماری آسمانی مخلوق سے جنگ ہوئی جس میں فتح اور ان کی شکست ہوئی لہٰذا اب ہمارا کوئی سہیم وشریک نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ناکام و نامراد کردیا اور ان کا تعبیر کردہ چشم زدن میں زمین بوس ہوگیا، اور یہ واقعہ عراق کے شہر بابل کا بتایا جاتا ہے۔ مگر بعض دیگر مفسرین نے فرمایا کہ یہ محض ایک تمثیل ہے، جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کے ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کے عمل اسی طرح برباد ہوں گے جس طرح کسی مکان کی بنیادیں متزلزل ہوجائیں اور وہ چھت کے بل گرپڑے، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس تمثیل سے مقصود ان قوموں کے انجام کی طرف اشارہ ہے جن قوموں نے پیغمبروں کی تکذیب پر اصرار کیا اور ان کے خلاف منصوبہ سازیاں کیں بالآخر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور اپنے گھروں سمیت تباہ ہوگئے، مثلاً قوم عاد اور قوم لوط اور وثمود وغیرہ۔ اَلَّذِیْنَ تتوفّٰھُمُ الملائکۃ (الآیۃ) یہ مشرک ظالموں کی اس وقت کی کیفیت بیان کی جارہی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ صلح کی بات کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں، اور اطاعت و عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو برائی (شرک) نہیں کرتے تھے، مشرکین میدان حشر میں اللہ تعالیٰ کے دو برو جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے " وَاللہ ربنا ما کنا مشرکین ". فرشتے جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ یعنی تم جھوٹ بولتے ہو، تمہاری عمر برائیوں میں گذری ہے اور اللہ کے پاس تمہارے تمام اعمال کار کارڈ موجود ہے تمہارے اس انکار سے کچھ نہیں ہوگا، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ان کے انتقال کے بعد فوراً ان کی روحیں جہنم میں پہنچ جاتی ہیں اور جسم قبر میں رہتے ہیں۔ دفع تعارض : سورة اعراف کی آیت 43 کے تحت یہ حدیث گذر چکی ہے کہ کوئی شخص بھی محض اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائیگا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ ہوگی، لیکن یہاں فرمایا جارہا ہے کہ تم اپنے عملوں کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ، دراصل ان میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے اعمال صالحہ ضروری ہیں گویا کہ عمل صالح اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہیں اس لئے عمل کی اہمیت بھی بجائے خود مسلم ہے اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، نہ اس کے بغیر آخرت میں اللہ کی رحمت مل سکتی ہے۔ وَاصَا۔۔۔۔ عملوا (الآیۃ) یعنی جب رسول اللہ ﷺ ان سے کہتے کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر اللہ کا عذاب آجائیگا تو وہ استہزاء کے طور پر کہتے ہیں کہ جا اپنے اللہ سے جا کر کہہ کہ عذاب بھیج کر ہمیں تباہ کردے، چناچہ اس عذاب نے انھیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے، پھر ان کے پاس بچاؤ کا کوئی راستہ نہ رہا۔
Ayahs 16:35–40

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کیلئے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کو کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائیگا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دے اور اس لئے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارے بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

آیت نمبر 35 تا 40 ترجمہ : اور مکہ کے مشرکوں نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرتے اور نہ بحائر اور سوائب میں سے کسی کو اس کی مرضی کے بغیر حرام ٹھہراتے، تو معلوم ہوا کہ ہمارا شرک کرنا اور حرام ٹھہرانا اسی کی مشیت سے ہے اور وہ اس سے راضی ہے، اور اسی طرح ( کی حرکت) ان سے پہلے لوگوں نے کی، یعنی رسول جو حکم لیکر آئے تھے اس میں انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہچانے کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری ہے ؟ (یعنی) واضح طور پر پہنچانے کی اور ان پر ہدایت دینے کی ذمہ داری نہیں ہے جس طرح ہم نے ان میں رسول بنا کر بھیجا ہے ہم نے ہر قوم میں رسول بھیجا کہ اے (لوگو) صرف اللہ ہی کی بندگی کرو اس کی توحید کا عقیدہ رکھو، اور بتوں سے بچو (یعنی) ان کی بندگی سے بچو تو ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوئے کہ جن کو اللہ کے اللہ نے ہدایت دیدی تو وہ ایمان لے آئے، اور ان میں کچھ ایسے بھی ہوئے کہ جن پر اللہ کے علم میں گمراہی ثابت ہوچکی تھی جس کی وجہ سے وہ ایمان نہ لائے، لہٰذا اے مکہ کے کافرو تم زمین میں چلو پھر و اور دیکھو کہ اپنے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا ہلاکت کے ذریعہ کیسا کچھ انجام ہوا ؟ اے محمد آپ ان کی ہدایت کے خواہ کتنے ہی خواشمند ہوں اور اللہ نے ان کو گمراہ کردیا تو آپ ان کی ہدایت پر قادر نہیں، اس لئے کہ اللہ جس لہ گمراہی کا فیصلہ فرمالیتے ہیں تو پھر اس کو ہدایت نہیں دیا کرتے، (یَھدی) مجھول اور معروف (دونوں قراءتیں ہیں) اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے یعنی اللہ کے عذاب سے بچانے والا، وہ لوگ بڑی زوردار قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں یعنی انتہائی مؤکد قسمیں کہ اللہ ہوگز مردوں کو زندہ نہ کریگا، کیوں نہیں ضرور زندہ کرے گا، یہ تو اس کا برحق وعدہ ہے (وعدًا اور حقًا) دونوں مصدر تاکیدی ہیں جو اپنے فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہیں، تقدیر عبارت یہ ہے وَعَدَ ذلک وَعْدًا وَحَقَّہٗ حَقَّا لیکن اکثر لوگ یعنی اہل مکہ اس کو جانتے نہیں ہیں، ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے کہ جس دین کی بات میں یہ مومنوں کے ساتھ جھگڑ رہے ہیں، ان کو عذاب دے کر اور مومنین کو ثواب دے کر، اور اسلئے بھی ضروری ہے کہ کافر جان لیں کہ وہ بعث بعد الموت سے انکار کے بارے میں غلطی پر ہیں، (لیُبَیّن) یَبْعثھم مقدر کے متعلق ہے جب ہم کسی شئ کے ایجاد کا ارادہ کرلیتے ہیں تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے، قولنا مبتداء ہے ان نقول لہ الخ اس کی خبر ہے اور ایک قراءت میں (یکون) کے نصیب کے ساتھ نقول پر عطف کی وجہ سے، اور آیت مرنے کے بعد زندہ کرنے پر قدرت کو ثابت کرنے کے لئے ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : فَھُوَ راضٍ یہ اضافہ اس شبہ کا جواب ہے کہ کفار و مشرکین کا یہ کہنا کہ ہمارا شریک کرنا اور کسی چیز کو حرام کرنا اللہ کی مشیت اور اس کے ارادہ سے ہے یہ بات تو بالکل درست ہے اسلئے کہ اللہ کی مشیت اور ارادہ کے بغیر تو کچھ نہیں ہوتا پھر اس پر نکیر کرنے اور اس کو رد کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ جواب : فھو راضٍ بہ سے اسی شبہ کا جواب ہے خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت اور ارادہ سے ان کا مقصد اللہ کی رضا مندی اور پسندیدگی ہے، حالانکہ مشیت اور ارادہ کے لئے رضا مندی ضروری نہیں ہے۔ قولہ : الابلاغ البین، البلاغ المبین کی تفسیر الا بلاغ البین سے اشارہ کردیا کہ دونوں معنی میں متعدی کے ہیں۔ قولہ : أن تعبدوھا اس میں حذف مضارف کی طرف اشارہ ہے اسلئے کہ نفس اوثان سے اجتناب کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ قولہ : اٰمَنَ اس میں اشارہ ہے کہ ہدایت سے مراد ایصال الی ایصال الی المطلوب ہے، لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ اللہ کی ہدایت و رہنمائی تو عام ہے تو پھر تحصیص کا کیا مطلب ہے ؟ قولہ : لا تقدر اس میں اشارہ ہے کہ ان تحرص کی جزاء محذوف ہے اور لا تقدر علی ذلک ہے۔ قولہ : بالبناء للمفعول اس کی وجہ یہ ہے کہ مَنْ یُّضلُّ ، مبتداء ہے اور لایھدی اس میں خبر ہے، معنی یہ ہیں مَنْ یضل اللہ لا یُھُدیٰ الیہ لعدم تغییر فعل اللہ تعالیٰ. قولہ : من یرید اضلالہ الخ یعنی اگر من یُضلُّ سے حقیقۃ ضلالۃ مراد ہے تو پھر ہدایت کی نفی کی ضرورت نہیں ہے۔ قولہ : لِیُبَیِّنَ متعلق بیبعثھم المقدر اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ (لِیُبیِّنَ ) کا تعلق یَبْعَثُھُمْ سے ہے نہ کہ لا یعلمون سے لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ وَلِیُبَیِّنَ کا، لا یعلمون کی علت بننا صحیح نہیں ہے، اب تقدیر عبارت یہ ہوگی انّھم یُبعثونَ لِیبَیّنَ لھم الذی یختلفون فیہ . قولہ : ای فھو یکون اس میں اشارہ ہے کہ یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور جملہ ہو کر محل میں نصب کے ہے اور جن حضرات نے یکون کو جواب امرقرار دیکر منصوب قرار دیا ہے درست نہیں ہے اسلئے کہ دونوں مصدر ہیں حالانکہ جواب امر میں یہ شرط ہے کہ اول ثانی کے لئے سبب ہو اور یہ تغایر کو چاہتا ہے، نصب کی صورت بھی صحیح ہے اگر نقول پر عطف ہو نہ کہ جواب امر کی وجہ سے، ورنہ تو ایک موجود (مکون) کے لئے (دو وجودوں) یعنی دو کونوں کا ہونا لازم آئے گا کہ ان میں ایک دوسرے کا سبب ہوگا۔ قولہ : والآ یۃ لتقریر القدرۃ علی البعث اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس اعتراض کو دفع کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ” کُنْ “ یا تو موجود سے ہوگا اس صورت میں تحصیل حاصل لازم آئے گا یا یہ معدوم سے خطاب ہوگا تو معدوم کو خطاب لازم آئے گا جو کہ محال ہے۔ جواب کا حاصل یہ کہ (کن) کا مقصد قدرت علی البعث کا اثبات ہے اور سرعت فی الایجاد ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ تفسیر وتشریح وقال۔۔۔ اشرکوا (الآیۃ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ایک وہم اور مغالطہ کو دور فرمایا ہے، وہ کہتے تھے کہ ہم جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی کرتے ہیں یا اس کے حکم کے بغیر ہی کچھ چیزوں کو حلال اور کچھ کو حرام ٹھہرالیتے ہیں اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ اپنی قدرت کاملہ سے ہمیں زبردستی روک کیوں نہیں دیتا ؟ اگر وہ نہ چاہیے تو ہم ان کاموں کو کر ہی نہیں سکتے جب وہ نہیں روکتاتو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ اس سے راضی ہے اور وہ کام اس کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ مشرکین کے مذکورہ مغالطہ کا یہ کہہ کر ازالہ فرمادیا، کہ تمہارا خیال صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے روکا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے تو تمہیں ان مشرکانہ امور سے بڑی سختی اور تاکید کے ساتھ روکا ہے اسی لئے اس نے ہر قوم میں رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں اور ہر نبی نے سب سے پہلے شرک ہی سے بچانے کی کوشش کی ہے اب رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ زبردستی ہاتھ پکڑ کر ان کاموں سے روک کیوں نہیں دیتا، اس کی قدرت میں تو سب کچھ ہے۔ اس شبہ بلکہ حماقت اور عناد کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم دنیا کا نظام ہی اس بنیاد پر قائم فرمایا ہے کہ انسان کو بالکل مجبور نہیں رکھا بلکہ انسان کو ایک گونہ اختیار دیا گیا ہے، اب وہ اس اختیار کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرے تو اجرو ثواب کا مستحق قرار پائے اور اگر نافرمانی میں استعمال کرے تو زجروتوبیخ و عید اور عذاب کا مستحق قرار پائے، اسی کے پس منظر میں قیامت اور حشر و نشر کے سارے ہنگامے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہیے تو سب کو اپنی اطاعت پر مجبور کردے کس کی مجال کہ اطاعت و فرمانبرداری سے سر موانحراف کرسکے، مگر بتقا ضائے حکمت مجبور کیوں نہیں کردیتا ایک احمقانہ اور معاندانہ سوال ہے۔ وَلَقَد۔۔۔ رسولاً ، یعنی تم اپنے شرک اور اپنی خود مختارانہ تحلیل و تحریم کے حق میں ہماری مشیت کو کیسے سند جواز بنا سکتے ہو جبکہ ہم نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے اور ان کے ذریعہ سے لوگوں کو صاف صاف بتادیا کہ تمہارا کام صرف ہماری بندگی کرنا ہے طاغوت کی بندگی کے لئے تمہیں پیدا نہیں کیا گیا اب ہماری مشیت کی آڑ لیکر اپنی گمراہیوں کو جائز ٹھہراناکسی طرح بھی معقولیت نہیں رکھتا۔ اِنْ ۔۔۔ ھداھم (الآیۃ) اب پھر خطاب نبی ﷺ کو ہے آپ کی افراط شفقت علی الخلق کی بنا پر آپ کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ جو لوگ خود اپنی ہدایت کی پرواہ نہیں رکھتے ان کے لئے قانون تکوینی بدلا نہیں جائیگا وہ یوں ہی بدستور گمراہی میں پڑے رہیں گے اور آخری انجام کو پہنچ کر ہی رہیں گے جہاں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ أن۔۔۔۔ فیکون، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حق تعالیٰ اس کلمہ ” کن “ کا (جوخود ایک دو حرفی حادث لفظ ہے) تلفظ بھی کرتے ہوں، مراد صرف اس قدر ہے کہ چھوٹی بڑی کوئی بھی شئ ہو اس کی تکوین کے لئے اس کے باوجود میں آگئی، شئ کا اطلاق موجود فی الخارج ہونے سے پہلے وجود ذہینی پر بھی درست ہے اسلئے کہ علم الٰہی میں شئ کے وجود سے پہلے اس کا علم ہوتا ہی ہے۔