Ayahs 16:90–100آیت نمبر 90 تا 100
ترجمہ : بلا شبہ اللہ تعالیٰ عدل (یعنی) توحید یا انصاف اور احسان (یعنی) اداء فرائض کا یا (اس طرح) عبادت کرنے کا گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اہتمام کرنے کی وجہ سے خاص طور پر قرابتداروں کا ذکر کیا ہے حالانکہ احسان کے عموم میں وہ بھی داخل ہیں حکم دیتا ہے اور (اللہ) فحش یعنی زنا اور شرعًا منکرات سے مثلاً کفر و معاصی، اور لوگوں پر ظلم کرنے سے منع کرتا ہے (ممانعت ظلم کو اہتمام کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ تو نھی عن الفحش میں ظلم بھی داخل ہے) امرو نہی کی تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو، (تذکرون) میں تاء کو دراصل ذال میں ادغام کردیا ہے اور مستدرک میں ابن مسعود سے مروی ہے کہ قرآن کی آیات میں سے یہ آیت (بیان) خیر و شر کے لئے جامع ترین آیت ہے اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو خواہ بیعت کے طور پر ہو خواہ ایمان وغیرہ کے طور پر ہو، جبکہ تم آپس میں معاہدہ کرو اور قسموں کو ان کے پختہ کرنے کے بعد مت توڑو حالانکہ اللہ کو تم نے اپنے اوپر گواہ بنالیا ہے عہد پوار کرنے پر، اسلئے کہ تم نے اس کی قسم کھائی ہے، اور (وقد جعلتم) جملہ حال ہے، اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ تم کرتے ہو یہ ان کے لئے دھمکی ہے، اور تم اس عورت کے مانند نہ ہوجاؤ کہ جس نے سوت کو مضبوط اور دہرا کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے ادھڑ ڈالا (انکاثا) حال ہے (اور) نِکث کی جمع ہے ادھیڑ کر جس کی مضبوطی کو ختم کردیا گیا ہو، (یہ واقعہ) مکہ کی ایک پاگل عورت کا ہے جو دن بھر سوت کا تا کرتی تھی، اور پھر (شام) کو توڑ کر (خراب کردیتی تھی) تم اپنی قسموں کو آپس میں فریب کا ذریعہ بناتے ہو، (تتحذون) تکونوا کی ضمیر سے حال ہے دخلاً اجنبی چیز کو کہتے ہیں جو اس جنس سے نہ ہو یعنی تم اپنی قسموں کو فساد اور دھوکانہ بناؤ، بایں صورت کہ ان کو توڑ دو ، تاکہ تم میں کی ایک جماعت دوسری جماعت سے بڑھ جائے اور وہ لوگ اپنے حلیفوں سے معاہدہ کرتے تھے اور جب ان سے بڑی جماعت یا زیادہ باعزت پاتے تو پہلے حلیفوں کا حلف ختم کردیتے اور دوسروں کے حلیف ہوجاتے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ آزمارہا ہے یعنی وفاء عہد کا حکم دے کر تم کو جانچ رہا ہے تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے جس عہد وغیرہ کے معاملہ میں تم دنیا میں اختلاف کررہے تھے کھول کھول کر بیان کردے گا، یہ کہ عہد شکن کو سزا دے گا اور وفا کرنے والے کو جزا دے گا، اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت ( یعنی) ملت والا بنا دیتا، لیکن (اللہ) جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو اس کے بارے میں یقیناً قیامت کے دن لاجواب کرنے کے لئے تم سے سوال کیا جائیگا اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فریب کاری کا ذریعہ نہ بناؤ، تاکید کے لئے مکرر لایا گیا ہے پھر تمہارے قدم شاہراہ اسلام سے پر جم جانے کے بعد جائیں گے، اور تم بدترین عذاب کا مزا چکھو گے تمہارے اللہ کے راستہ سے روکنے کی وجہ سے یعنی تمہارے وفاء عہد سے باز رہنے کی وجہ سے یا وفاء عہد سے دوسرے کو باز رکھنے کی وجہ سے اس لئے کہ وہ تمہارے نقش قدم پر چلا، اور تم کو آخرت میں بڑا عذاب ہوگا اور تم اللہ کے عہد کو دنیا کی قلیل پونجی کے لئے نہ بیچدیا کرو بایں طور کہ اس کے لئے نقص عہد کرو بلاشبہ اللہ کے پاس اس کا اجر تمہارے لئے بہتر ہے اس سے کہ جو کچھ دنیا میں ہے اگر تمہیں اس بات کا علم ہو تو تم نقص عہد نہ کرو اور دنیا کی جو متاع تمہارے پاس ہے وہ فنا ہونے والی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ دائمی ہے اور ہم (لیجرینّ ) یاء اور نون کے ساتھ ہے، یقیناً وفاء عہد پر صبر کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے، احسن بمعنی حسن ہے اور جو شخص نیک عمل کرے مرد عورت اور وہ باایمان بھی ہو تو ہم اس کو ضرور اچھی زندگی عطا کریں گے کہا گیا ہے کہ وہ جنت کی زندگی ہے اور کہا گیا ہے کہ دنیا ہی میں قناعت اور رزق حلال ہے اور ان کے نیک اعمال کا بدلہ ہم ضرور بالضرور دیں گے اور جب آپ قرآن پڑھو (یعنی) پڑھنے کا ارادہ کرو تو شیطان مردود سے پناہ طلب کرو (یعنی) اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم کہہ لیا کرو، یقینی بات ہے کہ ایمان والوں پر اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرنے والوں پر اس کا مطلقًا زور نہیں چلتا ہاں اس کا زور ان پر ضرور چلتا ہے جو شیطان کو اس کی اطاعت میں اپنا سرپرست بناتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : القربیٰ ، اسم مصدر ہے رشتہ داری۔ قولہ : تخصیص بعد التعمیم، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، احسان میں داخل ہے مگر اس کی اہمیت کے پیش نظر دوبارہ خاص طور پر ذکر فرمایا۔
قولہ : کما بَدَأبالفحشاء لذلک یعنی اہتمام ہی کی وجہ سے سب سے پہلے فحشاء یعنی زنا کو بیان فرمایا اسلئے کہ زنا کی وجہ سے نسب محفوظ نہیں رہتا اور اللہ کے غضب کا بھی موجب ہے۔
قولہ : من البیعۃ، ای بَیْعۃ الرسول علی الاسلام، اس سے بیعت رضوان مراد نہیں ہے اسلئے کہ یہ سورت مکی ہے اور بیعت رضوان ہجرت کے بعد ہوئی۔ قولہ : کفیلاً ، ای شاھدًا .
قولہ : والجملۃ حالٌ یعنی (وقد جعلتم) جملہ ہو کر تنقضوا کی ضمیر سے حال ہے نہ کہ معطوف، ورنہ تو عطف خبر علی الانشاء لازم آئے گا
قولہ : تھدیدلھم یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ (اِنَّ اللہ یعلم ماتفعلون) معطوف علیہ لا تنقضوا، اور معطوف لا تکونوا کے درمیان فضل بالا اجنبی ہے، جواب کا حاصل یہ ہے (اِنَّ اللہ یعلم ماتفعلون) جملہ تہدید یہ ہے کہ اجنبی نہیں ہے۔
قولہ : ماغزلَتْہ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ غزل مصدر ہے اس کی جانب نقص (توڑنے) کی نسبت درست نہیں ہے مفسر علام نے غزل کی تفسیر ماغزلَتْہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ مصدر بمعنی مفعول ہے یعنی جس کو اس نے کا تا اس کو توڑ دیا۔
قولہ : بعد قوۃ بعض حضرات نے بعدقوۃ کے معنی، مضبوط کرنے کے بعد کے لئے ہیں مفسر علام نے بھی یہی معنی مراد لئے ہیں اور بعض دیگر مفسرین نے بعد قوۃٍ ، کے معنی محنت سے کاتنے کے بعد، کے لئے ہیں۔
قولہ : غزلَھَا، یہ (ض) سے مصدر ہے جو کہ، ھا ضمیر کی طرف مضاف ہے، اس کے معنی سوت کا تنا اس جگہ بمعنی اسم مفعول ہے یعنی کا تا ہوا سوت، مکہ میں ایک بیوقوف عورت تھی جو صبح سے شام تک اپنی باندیوں کے ساتھ سوت کا تتی تھی اور شام کو کا تا ہوا تمام سوت توڑ کو ضائع کردیتی تھی اس عورت کا نام رَیْطَۃُ بنت سعد بن تیم القرشیہ ہے مطلب یہ ہے کہ تم نے اللہ سے جو معاہدہ کر
رکھا ہے اس کو نہ توڑو ورنہ تمہاری کری کرائی محنت بیکار ہوجائے گی۔
قولہ : برم استوار کرنا سوت کو دہرا کاتنا (صراح) ۔
قولہ : حال من ضمیر تکونوا، یعنی تتخذون، تکونوا کی ضمیر سے حال ہے نہ کہ مفعول ثانی اسلئے کہ تکون متعدی بدو مفعول نہیں ہوتا
الایہ کہ تصییر وغیرہ کے معنی کو متضمن ہوجائے۔ قولہ : انکاثا یہ نکث کی جمع ہے، پرانی روئی وغیرہ کو درہراکاتنے کے لئے توڑ ڈالنا۔
قولہ : وھو ماینکث اس میں اشارہ ہے کہ نکث بمعنی منکوث (منقوض) ہے۔
قولہ : دَخَلاً یہ لا تکونوا کی ضمیر سے حال ہے ای لا تکونوا مشابھین بامرأۃ شانھا ھذا . قولہ : دَخَلاً ، بہانہ، فریب، دغا، فساد، دراندزی، اجنبی
قولہ : اَرْبیٰ ، چڑھا ہوا، بڑھا ہوا، (ن) یہ رِباً سے اسم تفصیل کا ضیغہ ہے۔
قولہ : أتفونَ ، ھمزہ، استفہام کا ہے، تفون یہ وَفیٰ سے مضارع جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے، تم وفا کرتے ہو۔
قولہ : ای اقرام، قدم کی تفسیر اقدام سے کرکے اشارہ کردیا کہ جب ایک قدم کا پھسلنا باعث ننگ و عار اور موجب عقاب ہے تو اگر دونوں قدم پھسل جائیں تو کیا حال ہوگا ؟ قولہ : محجۃ درمیانی راستہ، شاہراہ۔
قولہ : یصدکم عن الوفاء اس میں اشارہ ہے کہ صدٌّ لازم ہے۔
قولہ : بصد کم غیر کم اس میں اشارہ ہے کہ صدٌّ منع کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے متعدی بھی استعمال ہوتا ہے۔
قولہ : فلا تنقضوا یہ انْ شرطیہ کا جواب ہے۔
تفسیر وتشریح
عدل کے معنی شریعت کی نظر میں : ان۔۔۔ القربیٰ (الآیۃ) یہ آیت قرآن کریم کی جامع ترین آیت ہے جس میں پوری اسلامی تعلیمات کو چند الفاظ میں سمو دیا گیا ہے، اسلئے سلف صالحین کے عہد مبارک سے آج تک دستور چلا آرہا ہے کہ جمعہ اور عیدین کے خطبوں کے آخر میں یہ آیت تلاوت کی جاتی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ قرآن مجید کی جامع ترین آیت سورة نحل میں یہ ہے انَّ اللہ یامر بالعدل (الاٰیۃ).(ابن کثیر)
اس آیت میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرہ کی درستی کا انحصار ہے، پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو دوسرے یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کا حق بےلاگ پر دیا جائے، ” عدل “ کے مشہور معنی انصاف کے ہیں یعنی اپنوں اور بیگانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے، کسی کے ساتھ دشمنی یا عنادیا محبت یا قرابت کی وجہ سے انصاف کے تقاضے مجروح نہ ہوں، ایک دوسرے معنی اعتدال کے ہیں یعنی کسی معاملہ میں افراط یا تفریط کا ارتکاب نہ کیا جائے۔
” احسان “ کسے کہتے ہیں : آیت میں مذکور دوسری چیز احسان ہے جس سے مراد نیک برتاو، فیا ضانہ معاملہ، ہمدردانہ روّیہ، رواداری، خوش خلقی، درگذر باہمی مراعات، ایک دوسرے کا پاس لحاظ، دوسرے کو اس کے حق سے کچھ زیادہ دینا اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجانا، یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے، جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے، عدل اگر معاشرہ کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال اور اس کا کمال ہے، عدل معاشرہ کو ناگواریوں اور تلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں خوشگواری اور حلاوت پیدا کرتا ہے، کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پر کھڑا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہر فرد ہر وقت ناپ تول کو دیکھا رہے کہ اس کا کیا حق ہے ؟ اور اسے وصول کرکے چھوڑے اور دوسرے کا کتنا حق ہے اسے بس اتنا ہی دیدے، ایک ٹھنڈے اور کھرے معاشرہ میں کشمکش تو نہ ہوگی مگر محبت اور شکر گذاری اور عالی ظرفی اور ایثار و اخلاص و خیر خواہی کی قدروں سے محروم رہے گا جو دراصل زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کرتے ہیں۔ احسان کے ایک معنی اخلاص عمل اور حسن عبادت کے ہیں جس کو حدیث میں أن تعبداللہ کأنک تراہُ (عبادت تم اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
تیسری چیز جس کا آیت میں ذکر ہے وہ صلہ رحمی ہے، جو رشتہ داروں کے معاملہ میں احسان کی ایک خاص قسم ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان صرف اپنے رشتہ داروں ہی کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے پر تاؤ کا معاملہ کرے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر صاحب استطاعت اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے، شریعت الہٰی ہر خاندان کے خوشحال افراد کو اس امر کا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں، خدا کی نظر میں ایک معاشرہ کی اس سے بدتر کوئی حالت نہیں ہے کہ خاندان کے اندر ایک شخص عیش کررہا ہو اور اسی کے خاندان میں اس کے اپنے بھائی بندروٹی کپڑے تک محتاج ہوں۔
ہر خاندان کے خوشحال افراد پر پہلا حق ان کے اپنے غریب رشتہ داروں کا ہے اس کے بعد دوسروں کے حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے اسی کو احادیث میں مختلف انداز سے بیان فرمایا ہے، آپ نے فرمایا کہ انسان کے حسن سلوک کے اولین حقدار اس کے والدین، اس کی بیوی بچے اور اس کے بھائی بہن ہیں پھر وہ جو ان کے بعد قریب تر ہوں علی ہذا القیاس، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس معاشرہ کا ہر واحدہ (Unit) اس طرح اپنے اپنے افراد کو سنبھال لے اس میں معاشی حیثیت سے کتنی خوشحالی، معاشرتی حیثیت سے کتنی حلاوت اور اخلاقی حیثیت سے کتنی پاکیزگی اور بلندی پیدا ہوجائے گی۔
تین ایجابی حکموں کے مقابلہ میں تین سلبی احکام : تینوں منکرات میں فحشاء کو اس کے اہم ہونے کی وجہ سے پہلے بیان کیا ہے یہاں ” فحشاء “ سے بےحیائی کے کام مراد ہیں آجکل بےحیائی اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا نام تہذیب، ترقی، آرٹ، فن لطیف قرار پا گیا ہے تفریح کے نام پر اس کا جواز تسلیم کرلیا گیا ہے، مگر خوشنما لیبل لگا دینے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل سکتی، فحشاء کا اطلاق بیہودہ کام اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو فحش ہے، مثلاً زنا اور اس کے مقدمات، عریانیت، عمل قوم لوط، محرمات سے نکاح، چوری، رقص و سرود، فیشن پرستی، اور مردوزن کا بےباکانہ اختلاط اور مخلوط معاشرت، شراب نوشی، پیشے کے طور پر بھیک مانگنا، گالی گلوچ کرنا، علی الاعلان برے کام کرنا، اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحشاء میں شامل ہے مثلاً جھوٹا پروپیگنڈہ، الزام تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے، اور فلمی عریاں تصاویر، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا اور اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا تھرکنا ومٹکنا، اور دیگر اسی قسم کی خرافات کو شریعت نے بےحیائی ہی قرار دیا ہے خواہ ان کا کتنا ہی اچھا نام کیوں نہ رکھ لیا جائے، مغرب سے درآمد شدہ ان خباثتوں کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔
دوسری چیز ” منکر “ میں تمام گناہ، ظاہری اور باطنی، عملی اور اخلاقی سب داخل ہیں۔
تیسری چیز ” بغی “ ہے، اس کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا اور دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرنا خواہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے، اس میں ظلم وزیادی، قطع رحمی سب داخل ہیں، ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ قطع رحمی اور بغی یہ دونوں جرم اللہ کو اتنے ناپسند ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے (آخرت کے علاوہ) دنیا میں بھی ان کی فوری سزا کا امکان غالب رہتا ہے۔
واوفوا۔۔۔ ھدتم (الآیۃ) یہاں تین قسم کے معاہدوں کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے الگ الگ بیان کرکے ان کے پابندی کا
حکم دیا گیا ہے (1) ایک وہ عہد جو انسان نے خدا کے ساتھ باندھا ہو، اور یہ اپنی اہمیت میں سب سے بڑھ کر ہے (2) دوسرا وہ عہد جو ایک انسان نے دوسرے انسان سے یا گروہ سے کیا ہو اور اس پر اللہ کی قسم کھائی ہو، یا کسی نہ کسی طرح اللہ کا نام لے کر قول کی پختگی کا یقین دلایا ہو، یہ عہد دوسرے درجہ کی اہمیت رکھتا ہے، (3) تیسرا وہ عہد و پیمان ہے کہ اللہ کا نام درمیان میں لائے بغیر کیا گیا ہو یہ تیسرے درجہ کا عہد ہے اور اس کی اہمیت پہلے دو کے بعد ہے، لیکن پابندی ان سب کی ضروری ہے، خلاف ورزی ان میں سے کسی کی بھی روا نہیں۔
عہد شکنی حرام ہے : لفظ ” عہد “ ان تمام معاملات و معاہدات کو شامل ہے جس کا زبان سے یا تحریر سے التزام کیا جائے خواہ اس پر قسم کھائے یا نہ کھائے خواہ وہ کسی کام کے کرنے سے متعلق ہو یا نہ کرنے سے۔ یہ آیات درحقیقت آیت سابقہ کی تشریح و تکمیل ہیں آیت سابقہ میں عدل کا حکم تھا لفظ کے مفہوم میں ایفاء عہد بھی داخل ہے۔ (قرطبی)
کسی سے معاہدہ کرنے کے بعد عہد شکنی کرنا بڑا گناہ ہے مگر توڑنے پر کوئی کفارہ نہیں بلکہ آخرت کا مواخذہ ہے، حدیث میں
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز عہدشکنی کرنے والے کی پشت پر ایک جھنڈا نصب کردیا جائے گا جو میدان حشر میں اس کی رسوائی کا سبب بنے گا۔
لا۔۔۔ غزلھا (الآیۃ) اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ عہد شکنی کی اس بدترین قسم پر ملامت کی گئی ہے جو دنیا میں سب سے بڑھکر موجب فساد ہوتی ہے اور جسے بڑے بڑے اونچے درجے کے لوگ بھی کار ثواب سمجھ کر کرتے اور اپنی قوم سے داد لیتے ہیں، قوموں اور گروہوں کی سیاسی، معاشی اور مذہبی کشمکش میں یہ آئے دن ہوتا رہتا ہے، ایک قوم کا لیڈر ایک وقت میں دوسری قوم سے ایک معاہدہ کرتا ہے اور دوسرے وقت میں محض اپنے قومی مفاد کی خاطر یا تو اسے علانیہ توڑ دیتا ہے یا در پردہ اس کی خلاف ورزی کرکے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے، یہ حرکتیں ایسے لوگ بھی کر گذرتے ہیں جو ذاتی زندگی میں بڑے استعمال ہوتے ہیں اور اس قسم کی چالبازیوں کو ڈپلومیسی (سیاست) کا کمال سمجھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر متنبہ فرمایا ہے ہر معاہدہ دراصل معاہدہ کرنے والے شخص اور قوم کے اخلاق و دیانت کی آزمائش ہے اور جو لوگ اس آزمائش میں ناکام ہونگے وہ اللہ کی عدالت میں مؤاخذہ سے بچ نہ سکیں گے
کسی کو دھوکا دینے کے لئے قسم کھانے میں سلب ایمان کا خطرہ ہے : لا۔۔۔ دخلاً ، اس آیت میں ایک اور عظیم گناہ سے بچانے کی ہدایت ہے وہ یہ کہ قسم کھاتے وقت ہی سے اس قسم کے خلاف کرنے کا ارادہ ہو اور صرف مخاطب کو فریب دینے کے لئے قسم کھائی جائے، یہ قسم عام قسموں سے زیادہ خطرناک گناہ ہے جس کے نتیجہ میں یہ خطرہ ہے کہ ایمان کی دولت ہی سے محروم ہوجائے فتزل قدم بعد ثبو تھا، کا یہی مطلب ہے۔ (معارف)
رشوت لینا سخت حرام اور اللہ سے عہد شکنی ہے : ولا۔۔۔ قلیلا، یعنی اللہ کے عہد کو قلیل قیمت کے لئے نہ توڑو یہاں قلیل قیمت سے مراد دنیا اور دینوی منافع ہیں یہ مقدار میں خواہ کتنے ہی بڑے ہوں آخرت کے منافع کے مقابلہ میں پوری دنیا اور اس کی تمام دولتیں بھی قلیل ہیں، جس نے آخرت کے بدلے میں دنیا لے لی اس نے نہایت خسارے کا سودا کیا، اسلئے کہ دائمی نعمت و دولت کو بہت جلد فنا ہونے والی گھٹیا چیز کے عوض بیچ ڈالا، اور یہ کام کوئی سمجھدار شخص نہیں کرسکتا۔ ابن عطیہ نے لکھا ہے کہ جس کام کا پورا کرنے پر کسی سے معاوضہ لینا اور بغیر لئے نہ کرنا اللہ کا عہد توڑنا ہے، اسی طرح جس کام کا نہ کرنا کسی کے ذمہ واجب ہو اس پر کسی سے معاوضہ لے کر اس کو کرنا یہ بھی اللہ کا عہد توڑنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رشوت کی مروجہ قسمیں سب حرام ہیں، جیسے کوئی سرکاری ملازم کسی کام کی تو تنخواہ حکومت سے پاتا ہے تو اس نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ یہ تنخواہ لے کر مفوضہ خدمت پوری کروں گا، اب اگر وہ اس کام کے کرنے پر معاوضہ طلب کرے اور بغیر معاوضہ اس کام کو نہ کرے یا معمول سے تاخیر کرے تو یہ اللہ کے عہد کو توڑرہا ہے، اسی طرح جس کام کا اس محکمہ کی طرف سے اختیار نہیں اس کو رشوت لے کر کر ڈالنا بھی اللہ سے عہد شکنی ہے۔
رشوت کی جامع تعریف : اخذ الاموال علی فعل مایجب علی الاٰ خذفعلہ اوفعل مایجب علیہ ترکہ .
یعنی جس کام کا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا اور جس کام کا نہ کرنا واجب ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا رشوت ہے۔ (تفسیر بحر محیط ص 533 ج 5)
فلنحیینّہ حیٰوۃ طیبہ، حیات طیبہ سے مراد دنیا کی زندگی ہے اسلئے کہ آخرت کی زندگی کا ذکر اگلے جملے میں ہے، مطلب یہ ہے کہ ایک مومن باکردار کو صالحانہ اور متقیانہ زندگی گذارنے اور اللہ کی عبادت و اطاعت اور زہدو قناعت میں جو لذت و حلاوت محسوس ہوتی ہے وہ ایک کافر اور نافرمان کو دنیا بھر کی آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود میسر نہیں آتی، بلکہ وہ ایک گونہ قلق و اضطراب کا شکار رہتا ہے، (ومن اَعْرَضَ عن ذکری فاِن لہ معیشۃ ضنکا) جس نے میری یاد سے اعراض کیا اس کا گذا ان تنگی والا ہے۔
فاذا قرأت القرآن فاستعذباللہ من الشیطان الرجیم .
ربط آیات : سابقہ آیت میں اول ایفاء عہد کی تاکید تھی اب مطلقًا اعمال صالحہ کی تاکید و ترغیب کا بیان ہے انسان کی احکام میں غفلت اغواء شیطانی سے پیدا ہوتی ہے اس لئے آیت میں شیطان رجیم سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے، جس کی ضرورت ہی نیک عمل ہے یہاں اگرچہ خاص طور پر قراءت قرآن کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اس تحصیص کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ تلاوت ایک ایسا عمل ہے جس سے خود شیطان بھاگتا ہے، اور بعض خاص آیات اور سورتیں بالخاصہ شیطان کے اثرات زائل کرنے کے لئے مجرب
ہیں جن کا مؤثرہونا نصوص شرعیہ سے ثابت ہے۔ (بیان القرآن)
مسئلہ : نماز میں تعوذ امام ابوحنیفہ کے نزدیک صرف پہلی رکعت کے شروع میں پڑھا جائے، امام شافعی (رح) تعالیٰ ہر رکعت کے شروع میں پڑھنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔
مسئلہ : تلاوت قرآن نماز میں ہو یا خارج نماز دونوں صورتوں میں تلاوت سے پہلے اعوذباللہ پڑھنا سنت ہے مگر شروع میں ایک دفعہ پڑھنا کافی ہے، البتہ تلاوت کے درمیان اگر تلاوت موقوف کرکے کسی اور کام میں لگ گیا اور پھر تلاوت شروع کی تو اس وقت اعوذ باللہ دوبارہ پڑھنی چاہیے۔
Ayahs 16:101–110آیت نمبر 101 تا 110
ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس شخص کی زبان کہ جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں کہ فلاں ان کو سکھاتا ہے، عجمی ہے اور یہ قرآن صاف عربی زبان میں ہے جو بلیغ و فصیح ہے تو (بھلا) اس کو عجمی (غیر عربی) کیسے سکھا سکتا ہے ؟ جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے ان کو اللہ کی طرف سے ہدایت نہیں ملتی، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، جھوٹ تو وہ لوگ بولتے ہیں جو اللہ کی آیتوں (قرآن) پر ایمان نہیں رکھتے ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ یہ تو انسانی کلام ہے، درحقیقت جھوٹے یہی لوگ ہیں، اور تکرار اور اِنَّ وغیرہ کے ذریعہ تاکید ان کے قول ” اِنَّماانت مفترٍ “ کو رد کرنے کے لئے ہے اور جو شخص ایمان کے بعد اللہ کا منکر ہوا، تو ان کے لئے شدید وعید ہے البتہ وہ شخص اس سے مستثنیٰ ہے کہ جس کو کفریہ کلمات کہنے پر مجبور کیا گیا اور اس نے زبان سے کفر یہ کلمہ کہہ بھی دیا حال یہ کہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، اور مَن مبتداء یا شرطیہ ہے اور خبر یا جواب، لھم وعیدٌ شدیدٌ ہے، جس کے (حذف پر) یہ آیت علیھم غضب من اللہ الخ دلالت کررہی ہے لیکن جو شخص شرح صدر کے ساتھ کفر کے مرتکب ہوں (یعنی) کھلے دل اور وسعت قلبی کے ساتھ کفر اختیار کریں، یعنی کفر سے ان کا دل خوش ہو تو ان پر اللہ کا غضب ہے، اور ان کے لئے اللہ کا بڑا عذاب ہے ان کے لئے عذاب کی یہ وعید اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے دنیاوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کیا ہے، یعنی اس کو اختیار کرلیا ہے، اور اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں فرماتا یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور جو ان سے مقصود ہے اس سے یہی لوگ غافل ہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ یہی لوگ آخرت میں دائمی آگ کی طرف لوٹنے کی وجہ سے خسارہ میں ہیں، پھر یقیناً تیرا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے بعد اس کے کہ وہ ستائے گئے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور کلمۂ کفر زبان سے نکالنے کے بعد، اور ایک قراءت میں (فَتَنُوا) صیغۂ معروف کے ساتھ ہے یعنی مشرکین نے کفر کرنے اور لوگوں کو ایمان سے روکنے کے بعد پھر انہوں نے جہاد کیا اور طاعت پر صبر کیا بیشک تیرا رب ان آزمائشوں کے بعد ان کو معاف کرنے والا ان پر رحم کرنے والا ہے اور پہلے اَنَّ کی خبر (محذوف) ہے جس پر اِنَّ ثانی کی خبر دلالت کر رہی ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اِذا، شرطیہ ہے، قَالُوا انما اَنْتَ مُفْتَرٍ ، جواب شرط ہے۔ قولہ : وَاللہ اعلم بما یُنَزِّلُ ، شرط وجزاء کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔
قولہ : روح القدس یہ اضافت موصوف الی الصفت ہے ای الروح المقدس، القدس کے دال پر ضمہ اور سکون دونوں جائز ہیں۔
قولہ : متعلق بنزّلَ یعنی، متلبسًاسے متعلق ہو کر نزلہٗ کی ضمیر مفعولی سے حال ہے، ای نزّلہ متلبسًا بالحق . قولہ : ھدًی وَبشریٰ.
سوال : ان کا عطف لیثبتَ پر ہے، حالانکہ یہ عطف درست ہے اسلئے کہ یہ دونوں معطوف علیہ کے ساتھ نہ اعراب میں متحد ہیں اور نہ علت میں حالانکہ یہ دونوں باتیں ضروری ہیں۔
جواب : ھدیٰ اور بشریٰ کا عطف لیثبِّتَ کے محل پر ہے، لِیثبّتَ میں لام تعلیلیہ ہے جس کے بعد أن مصدر یہ مقدر ہے جس کی وجہ سے مضارع مصدر کے معنی ہے یثبّت کے اندر ھو ضمیر فاعل ہے جس کا مرجع قرآن ہے، اور لِثبّتَ مفعول لاجلہ ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے، اور ھدًی اور بشریٰ دونوں مصدر ہیں جن کا عطف لیثبّتَ کے محل پر ہے ای تثبیتا و ھدایۃ و بشارۃً لہٰذا اب عدم مطابقت کا اعتراض نہیں۔
قولہ : للتحقیق، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ قدْ جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو عمومًا تقلیل کے لئے ہے حالانکہ یہاں تقلیل کے معنی نہ تو لنعلم سے میل کھاتے ہیں اور نہ شان باری کے مناسب ہیں، جواب کا حاصل یہ ہے کہ قد یہاں تحقیق کے لئے ہے، لَقَدْ میں لام قسمہ ہے۔ قولہ : قَیْنٌ، آہنگر، لوہار، (جمع) قُیُونَ واقیان . قولہ : یمیلون الیہ ای یشترون الیہ .
قولہ : اَعجمیٌّ، جو فصیح اللسان نہ ہو اگرچہ عربی ہو، اور عجمی، منسوب الی العجم، جو لغت عرب سے واقف نہ ہو اگرچہ فصیح ہو۔
قولہ : والتاکید بالتکرار واِنَّ وغیر ھما چونکہ مکہ نے متعدد تاکیدات کیساتھ، اِنّما انت مفترٍ ، کہتے ہوئے نزول قرآن کا انکار کیا تھا انکا جواب بھی متعدد تاکیدات کساتھ دیا گیا ہے، اول تکرار سے مراد اِنَّ الذین لایؤمنون کا تکرار ہے اور اِنَّ کا تکرار ہے اور غیر ھما سے مراد ضمیر فیصل ہے اور تعریف مسند اور جملہ کا اسمیہ ہونا ہے لہٰذا ظاہر نظر میں تکذیب کا حصر جو قریش میں معلوم ہورہا تھا وہ ختم ہوگیا۔
قولہ : مَن مبتداء اوشرطیۃ، من کفر باللہ کے مَنْ میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ من موصولہ مبتدا ہو نہ کہ الذین لا یؤمنون بآیات اللہ سے بدل، اس لئے کہ بدل اور مبدل منہ کے فصل بالا جنبی جائز نہیں ہے اور یہاں ” اولئِک ھم الکافرون “ کا فصل موجود ہے، مَن کو موصولہ مبتداء ماننے کی صورت میں کَفَرَ اس کا صلہ ہوگا اور موصول صلہ سے مبتداء ہوگا اور اس کی خبر محذوف ہوگی اور وہ لَھُمْ وَعید شدیدٌ ہے اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ مَنْ شرطیہ ہو اور جزاء مقدر ہو اور وہ لھم وعیدٌ شدیدٌ ہے، جیسا کہ علامہ سیوطی نے
ظاہر کردیا ہے، اور دال برحذف آئندہ جملہ، فعلیھم غضب من اللہ، یا ولَھَم عذاب شدیدٌ، ہے۔
قولہ : صدرًا لَہٗ ، لَہٗ کا اضافہ اس شبہ کا جواب ہے کہ شَرَحَ کا صلہ باء نہیں آتا حالانکہ یہاں بالکفر میں باء صلہ واقع ہورہا ہے، جواب یہ ہے کہ باء بمعنی لام ہے۔
قولہ : بمعنی طابت یہ اس شبہ کا جواب ہے یہاں فتحہ کے معنی نہیں ہیں، جواب یہ ہے کہ فتحہ بمعنی طاب ہے اور اسبات کی طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ صَدرًا، مفعول سے منقول ہو کر تمیز واقع ہے۔
قولہ : اختاروھا، یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ استحبّوا کا صلہ علہ نہیں آتا حالانکہ یہاں علیٰ صلہ ہورہا ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ استحبّوا، اختاروا کے معنی میں ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : وفی قراءۃ بالبناء للفاعل، یعنی فتنوا میں دو قراءتیں ہیں مجھول اور معروف، مجھول ہونے کی صورت میں مھاجرین نائب فاعل ہوں گے اور کفروا کے فاعل بھی اور معروف کی صورت دونوں فعلوں کے فاعل کفار ہوں گے، یعنی مشرکین نے کفر کیا اور لوگوں کو ایمان سے روکا۔ قولہ : خبراِنَّ الاولیٰ الخ یعنی پہلے اِنَّ کی خبر کو حذف کردیا ہے اسلئے اِنَّ ثانیہ کی حذف پر دال ہے۔
تفسیر وتشریح
ربط آیات : سابقہ آیت میں تلاوت اعوذ باللہ پڑھنے کا حکم تھا اس لئے کہ تلاوت قرآن کے وقت شیطان مختلف قسم کے وسوسے دل میں ڈالتا ہے، اس آیت میں شیطان کے مختلف وسوسوں کا ذکر اور ان کا جواب ہے۔
نبوت پر کفار کے شبہات کا جواب مع تہدید : ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرنے سے مراد ایک حکم کے بعد دوسرا حکم بھیجنا بھی ہوسکتا ہے، یعنی ایک آیت کے لفظ یا معنی منسوخ کرکے دوسرا حکم بھیج دیتے ہیں حالانکہ جو حکم اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ بھیجتا ہے اس کی مصلحت اور حکمت وہی خوب جانتا ہے کہ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے ان کے حالات کے اعتبار سے ایک وقت میں مصلحت کچھ تھی پھر حالات بدل جانے سے مصلحت اور حکمت دوسری ہوگئی تو یہ لوگ کہتے ہیں معاذ اللہ آپ افترا کرتے ہیں کہ اپنے کلام کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ورنہ اگر اللہ کا حکم ہوتا تو اس کے بدلنے کی کیا ضرورت تھی کیا اللہ کو پہلے حالات بدلنے کا علم نہ تھا یا اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ ایسا حکم بھیجے جو ہرحال میں اور ہر زمان میں قابل عمل ہو، یہ لوگ اس پر غور نہیں کرتے کہ بعض اوقات تمام حالات کا علم ہونے کے باوجود پہلی حالت پیش آنے پر حکم دیا جاتا ہے اور دوسری حالت پیش آنے کا اگرچہ اس کو علم ہوتا ہے مگر بتقاضائے مصلحت اس دوسری حالت کا حکم اس وقت بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ جب وہ حالت پیش آجاتی ہے اس وقت بیان کیا جاتا ہے جیسے طبیب یا ڈاکٹر ایک وقت ایک دوا تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے استعمال سے حالت بدلے گی اور اس وقت دوسری دوادی جائے گی، مگر مریض کو ابتداءً سب تفصیل نہیں بتاتا، یہی حقیقت نسخ احکام کی ہے جو قرآن وسنت میں ہوتا ہے جو حقیقت سے واقف نہیں وہ باغواء شیطانی نسخ کا انکار کرنے لگتے ہیں، اسی لئے اس کے جواب میں حق تعالیٰ مفری نہیں ہے بلکہ انہی میں اکثر جاہل ہیں کہ نسخ کو بلادلیل کلام الہٰی ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں۔
البتہ جو لوگ مومن ہیں وہ کہتے ہیں کہ ناسخ اور منسوخ دونوں رب کی طرف سے ہیں علاوہ ازیں نسخ کے مصالح جب ان کے سامنے آتے ہیں تو ان کے اندر مزید ثبات قدمی اور ایمان میں رسوخ پیدا ہوتا ہے حقیقت یہ ہے کہ قرآن مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت کا ذریعہ ہے کیونکہ قرآن کی مثال بارش کی سی ہے جس سے بعض زمینیں خوب شاداب ہوتی ہیں اور بعض خاروخس کے سواکچھ نہیں اگتا، مومن کا دل ظاہر اور شفاف ہوتا ہے جو قرآن کی برکت اور ایمان کے نور سے منور ہوجاتا ہے، اور کافروں کا دل زمین شور کیطرح ہوتا ہے جو کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے بھرا رہتا ہے جہاں قرآن کی ضیا پاشیاں بھی بےاثر رہتی ہیں
وَلَقَدْ ۔۔۔ بَشَر، مشرکین مکہ کا یہ کہنا تھا کہ محمد ﷺ کو فلاں شخص سکھاتا ہے اور محمد اس کلام کو خدا کی طرف منسوب کرکے خدائی کلام کہتے ہیں ایک روایت میں اس کا نام جبر بیان کیا گیا ہے جو عامر بن الحضرمی کا ایک رومی غلام تھا دوسری روایت میں حویطب بن عبدالعزّیٰ کے ایک غلام کا نام آیا ہے جسے عائش یا یعیش کہتے تھے، ایک اور روایت میں یسار کا نام لیا گیا ہے جس کی کنیت ابوفکُیہہ تھی جو مکہ کی ایک عورت کا یہودی غلام تھا، اور ایک روایت میں بلعان یا بلعام نامی ایک رومی غلام کا ذکر ہے، بہرحال ان میں سے جو بھی ہو، کفار مکہ نے محض یہ دیکھکر کہ ایک شخص توراۃ و انجیل پڑھتا ہے اور محمد ﷺ کی اس سے ملاقات اور دیدشیند ہے بےتکلف یہ الزام گھڑدیا کہ اس قرآن کو دراصل وہ تصنیف کررہا ہے اور محمد ﷺ اسے اپنی طرف سے خدا کا نام لے کر پیش کر رہے ہیں، اس سے نہ صرف یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مخالفین آپ کے خلاف افتراء پر دازیاں کرنے میں کس قدر بےباک تھے، بلکہ یہ سبق بھی ملتا ہے کہ لوگ اپنے ہم عصروں کی قدر و قیمت پہچاننے میں کتنے بےانصاف ہوتے ہیں۔
ان کے لوگوں کے سامنے تاریخ انسانی کی ایک عظیم شخصیت تھی جس کی نظیرنہ اس وقت دنیا بھر میں کہیں تھی اور نہ آج تک پائی گئی، مگر ان عقل کے اندھوں کو اس کے مقابلہ میں ایک عجمی غلام، جو کچھ توراۃ، انجیل پڑھ لیتا تھا بہت قابل نظر آرہا تھا۔
من۔۔۔ ایمانہ (الآیۃ) اس آیت میں ان مظلوم مسلمانوں کا تذکرہ ہے کہ جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے، کوئی دن
ایسا نہیں ہوتا تھا کہ ان میں سے ایک نہ ایک دست ستم سے زخم خوردہ ہو کر نہ آتا ہو، اور انھیں ناقابل برداشت اذیتیں دے کر کفر پر نہ کیا جاتا ہو، انھیں بتایا گیا ہے کہ اگر تم کسی وقت ظلم سے مجبور ہو کر محض جان بچانے کیلئے کلمۂ کفر زبان سے ادا کرو اور تمہارا دل عقیدۂ کفر سے محفوظ ہو تو معاف کردیا جائیگا، لیکن اگر دل سے تم نے کفر قبول کرلیا تو دنیا میں سے چاہے جان بچالو، خدا کے عذاب سے نہ بچ سکو گے۔ اس کا مطلب نہیں ہے کہ جان بچانے کیلئے کلمہ کہ دینا چاہیے، بلکہ صرف رخصت ہے البتہ مقام عزیمت یہی ہے کہ خواہ آدمی کا جسم تکا بوٹی کر ڈالا جائے مگر وہ کلمۂ حق ہی کا اعلان کرتا رہے دونوں قسم کی نظریں آپ ﷺ کے عہد مبارک میں پائی جاتی ہیں، ایک طرف خباب بن اَرت ہیں جن کو آگ کے انگاروں پر لٹا دیا گیا یہاں تک کہ ان کی چربی پگھلنے سے آگ بجھ گئی مگر وہ سختی کے ساتھ اپنے ایمان پر جمے رہے، دوسرے بلال حبشی ہیں جن کو لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کردیا جاتا تھا، پھر تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر گھسیٹا جاتا تھا مگر وہ ” احد احد “ ہی کہتے رہتے تھے، ان ہی مظلوم و مجبور لوگوں میں حبیب بن زید بن عاصم ہیں جن کے بدن کا ایک ایک عضو مسیلمہ کذاب کے حکم سے کاٹا جاتا تھا اور پھر مطالبہ کیا جاتا تھا کہ مسیلمہ کو نبی مان لیں مگر وہ ہر مرتبہ اس کے دعوائے رسالت کی تصدیق سے انکار کرتے تھے یہاں تک کہ اسی حالت میں کٹ کٹ کر انہوں نے جان دیدی اور دوسری طرف عمار بن یاسر ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے والد ان کی والدہ کو سخت عذاب دے کر شہد کردیا گیا پھر ان کو اتنی ناقابل برداشت تکلیفیں دی گئیں کہ آخر کار انہوں نے جان بچانے کے لئے وہ سب کچھ دیا جو کفار ان سے کہلوانا چاہتے تھے پھر وہ روتے ہوئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ماتُرِکتُ حتی سببتکَ و ذکرتُ آلِھَتَھُمْ بخیر، یارسول مجھے اس وقت تک نہ چھوڑا گیا جب تک کہ میں آپ کو برا اور ان کے معبودوں کو اچھا نہ کہہ دیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ” کیف تحد قلبک “ اپنے دل کا کیا حال پاتے ہو عرض کیا ” مطمَئِنًّا بالا یمان “ ایمان پر پوری طرح مطمئن اس پر حضور نے فرمایا ” اِن عادو افعد “ اگر اس طرح ظلم کریں تو پھر وہی باتیں کہہ دینا۔
ثم۔۔۔ ھاجروا (الآیۃ) یہ مکہ کے لوگوں کے ان مسلمانوں کا تذکرہ ہے جو کمزور تھے اور قبول اسلام کی وجہ سے کفار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے بالآخر ان کو ہجرت کا حکم دیا گیا، تو اپنے خویش و اقارب، وطنِ مالوف اور مال و جائیداد سب کچھ چھوڑ کر حبشہ یا مدینہ چلے گئے، پھر جب کفار کے ساتھ معرکہ آرائی ہوئی تو مردانہ وار جہاد میں بھر پور حصہ لیا اور اس کی راہ کی شدتوں اور تکالیف کو صبر کے ساتھ برداشت کیا، ان تمام باتوں کے بعد یقیناً تیرا رب ان کے لئے غفور رحیم ہے۔
سوال : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورة نحل مکی ہے پھر اس میں ہجرت و جہاد کا ذکر کیسا، اس کا کیا مطلب ہے ؟
جواب : اول تو ابن عطیہ کی روایت کے مطابق یہ آیت مدنی ہے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ ہجرت سے مراد ہجرت حبشہ ہے اس صورت میں بھی کوئی شبہ باقی نہیں رہتا، تیسرا جواب یہ ہے کہ صیغۂ ماضی کے ذریعہ اخبار مستقبل کی مثالیں قرآن میں بکثرت موجود ہیں۔
Ayahs 16:111–119آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھوک کا محیط عذاب کہ سات سال تک قحط میں مبتلا کئے گئے اور آپ ﷺ کے سرایا کے خوف کا مزا چکھایا یہ سب کچھ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا، ان کے پاس انہی میں کا ایک رسول محمد ﷺ پہنچا، پھر بھی انہوں نے اسے جھٹلایا تو انھیں بھوک اور خوف کے عذاب نے آدبوچا، اور وہ تھے ہی ظالم اے ایمان والو اللہ نے جو تمہیں حلال طیب روزی دے رکھی ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکرادا کرو اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو، تم پر صرف مرد اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام پکارا جائے حرام کیا گیا ہے پھر جو شخص (فاقہ کی وجہ سے) بالکل ہی بےقرار ہوجائے بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور نہ (حد) ضرورت سے تجاوز کرنے والا ہو (تو ان کے اس کھانے کو) اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور کسی چیز کو جو تمہاری زبان سے نکلتا ہے جھوٹ موٹ نہ کہد یا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اسلئے کہ اللہ نے نہ اس کو حلال کیا ہے اور نہ اس کو حرام کہ اس (حلت و حرمت) کی نسبت اس کی طرف کرکے اللہ پر بہتان بازی کرو، یقیناً وہ لوگ جو اللہ پر بہتان تراشی کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاتے ان کے لئے دنیا میں چند روزہ عیش ہے اور ان کے لئے آخرت میں دردناک عذاب ہے اور یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان ہم آپ سے اس سے پہلے کرچکے ہیں ” وعلی الذین ھادوا حرّمنا کل ذی ظفر “ (الی آخر الآیۃ) میں یعنی ہم نے یہودیوں پر ہر ناخون والے جانور کو حرام کردیا تھا، ان چیزوں کو حرام کرکے ہم نے ان پر ظلم کیا بلکہ ان معاصی کا ارتکاب کرکے جو اس سزا کی موجب تھیں خود ہی انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا، پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے نادانی کی وجہ سے شرک کیا پھر انہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی تو آپ کا رب (ان کی) جہالت یا توبہ کے بعد بڑی مغفرت والا اور بڑی رحمت والا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : تحاجُّ ، تجادل کا صلہ چونکہ عن نہیں آتا اسلئے مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ تجادلُ ، تحاجّ کے معنی میں ہے۔
قولہ : لا یھمُّھا غیر ھا، یعنی کسی کو کسی کا کوئی غم نہ ہوگا، بلکہ ہر شخص نفسی نفسی پکاررہا ہوگا۔
قولہ : جزاء اسمیں حذف مضاف کیطرف اشارہ ہے اسلئے کہ توفی عمل کے کوئی معنی نہیں ہیں چونکہ اعراض کا انتقال نہیں ہوا کرتا
قولہ : لاتھاج، یہ اَھَاجَ الغبارَ سے ماخوذ ہے یعنی غبار اڑایا، (اور فارسی میں) بمعنی تاراج شد۔
قولہ : لباس الجوع، بھوک اور خوف کو لباس کے ساتھ تشبیہ دی ہے، دونوں میں وجہ تشبیہ یہ ہے کہ جس طرح بھوک اور خوف جسم انسانی کو چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے اس لئے کہ ان دونوں کا اثر پورے جسم پر ہوتا ہے اسی طرح لباس بھی پورے جسم کو گھیر لیتا ہے اسی وجہ سے بھوک اور خوف کے اثر کو لباس سے تشبیہ دی ہے، ادراک کو چکھنے سے اس لئے تعبیر کیا ہے کہ چکھنے سے بھی بعض چیزوں کا ادراک ہوتا ہے۔ قولہ : لو صفِ السنتکم اس میں اشارہ ہے کہ لما تصف میں ما، مصدریہ ہے۔
قولہ : الکذبَ ، لا تقولوا کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : ھذا حلال و ھذا حرام یہ الکذب سے بدل ہے۔
قولہ : لَھُمْ ، متاعٌ، متاعٌ قلیل مبتداء مؤخر اور لھم مقدم ہے۔
سوال : یوم تاتی کل نفسٍ تجادل عن نفسھا، یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عن نفسِھا میں نفس کی اضافت نفس کیجانب ہورہی ہے حالانکہ مضاف اور مصاف الیہ کے درمیان تغایر ضروری ہے ورنہ تو اضافۃ الشئ الی نفسہ لازم آئے گی۔
جواب : اول نفس سے پورا جسم انسانی مراد ہے اور ثانی نفس سے ذات عبارت ہے کل انسانٍ یجادل عن ذاتِہٖ ولا یھم غیرھا، مجادلۃ کے معنی عذر خواہی کے ہیں۔
تفسیر وتشریح
یوم۔۔۔ نفسھا، یعنی ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا اس وقت نہ کوئی کسی کی حمایت کرے گا اور نہ سفارش بلکہ آپس میں تعارف اور جان پہچان اور نسبی و صہری رشتہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بھاگیں گے، بھائی بھائی سے، بیٹے ماں باپ سے، شوہر بیوی سے بھاگے گا کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا، اور لکلٌ امریٌ منھم یومئذٍ شان یغنیہ ہر شخص کو اس دن اپنی پڑی ہوگی، وَضَرَبَ اللہ مثلا قریۃ الخ اکثر مریں اس قریہ سے مراد مکہ لیا ہے یعنی اس میں اہل مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب اللہ کے رسول نے ان کے لئے یہ بددعا فرمائی اللھُمَّ اشددُ وطأتکَ علی مُضَرَ واجعلھا علیھم سنین کسنی یوسفَ ، (بخاری شریف) اے اللہ مضر قبیلہ پر اپنی سخت گرفت فرما اور ان پر اس طرح قحط سالی مسلط فرما جس طرح حضرت یوسف علیہ الصلاۃ السلام کے زمانہ میں ہوئی تھی، چناچہ اللہ نے مکہ کے امن کو خوف سے اور خوشحالی کو بھوک سے بدل دیا حتی کہ اس کا یہ حال ہوگیا کہ ہڈیاں، درختوں کے پتے کھانے پڑے اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ غیر معین بستی ہے اور تمثیل کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کفران نعمت کرنے والوں کا یہ حال ہوگا جہاں بھی ہوں، نزول کا سبب اگر خاص بھی ہو تب بھی جمہور مفسرین کو عموم سے انکار نہیں، العبرۃُ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب .
انما۔۔۔ بہ الخ یہ آیت اس سے پہلے تین مرتبہ گذر چکی ہے، سورة بقرہ میں، سورة انعام میں، سورة مائدہ میں، یہ چوتھا مقام ہے اس میں لفظ اِنّما حصر کے لئے ہے لیکن یہ حصر حقیقی نہیں بلکہ اضافی ہے یعنی مخاطبین کے عقیدے اور خیال کے مطابق حصر لایا گیا ہے ورنہ دوسرے جانور اور درندے وغیرہ بھی حرام ہیں، البتہ ان آیات سے واضح ہے کہ ان میں چار محرمات کا ذکر ہے ان سے مسلمانوں کو نہایت تاکید کے ساتھ بچانا چاہتا ہے۔
وما۔۔۔ بہ، جو جانور غیر اللہ کے نام زد کردیا جائے۔ اس کی مختلف صوتیں ہیں ایک صورت یہ ہے کہ غیر اللہ کے تقریب اور اس کی خوشنودی کے لئے اسے ذبح کیا جائے اور بوقت ذبح اسی غیر اللہ کا نام لیا جائے جس کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہے دوسری صورت یہ ہے کہ مقصود تو غیر اللہ کا تقریب ہی ہو لیکن ذبح اللہ کے نام پر ہی کیا جائے جیسا کہ بعض جاہل، جانور کو بزرگوں کے لئے نام زد کرتے ہیں مثلاً یہ کہ یہ فلاں پیر کا بکرا گیارہوں شریف کا ہے وغیرہ وغیرہ اور ان کو وہ بسم اللہ پڑھ کر ہی ذبح کرتے ہیں، اس لئے وہ کہتے ہیں کہ پہلی صورت تو یقیناً حرام ہے لیکن یہ دوسری صورت حرام نہیں ہے بلکہ جائز ہے کیونکہ یہ غیر اللہ کے نام پر ذبح نہیں کیا گیا، حالانکہ دفقہاء نے اس صورت کو بھی حرام قرار دیا ہے، اس لئے کہ یہ ” مااُھِلَّ لغیر اللہ بہ “ میں داخل ہے چناچہ حاشیہ بیضاوی میں ہے، ہر وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے حرام ہے اگرچہ ذبح کرتے وقت اللہ ہی کا نام لیا گیا ہو، اس لئے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی مسلمان غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی غرض سے جانور ذبح کرے گا تو وہ مرتد ہوجائیگا، اور اس کا ذبیحہ مرتد کا ذبیحہ ہوگا درمحتار میں ہے کسی حاکم یا کسی بڑے کی آمد پر (حسن خلق یا شرعی ضیافت کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی رضا مندی اور اس کی تعظیم کے طور پر) جانور ذبح کیا جائے تو وہ حرام ہوگا، اس لئے وہ ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ میں داخل ہے اگرچہ بوقت ذبح اس پر اللہ ہی کا نام لیا گیا ہو، اور علامہ شامی نے اس کی تائید کی ہے (کتاب الذبائح) ، البتہ بعض فقہاء اس دوسری صورت کو ” وما اُھِلّ لغیر اللہ بہ “ کا مدلول نہیں مانتے اور اشتراک علت (تقرب بغیر اللہ) کی وجہ سے اسے حرام سمجھتے ہیں گویا حرمت میں کوئی اختلاف نہیں صرف استدلال کی طریقہ میں اختلاف ہے باقی تفصیل سورة مائدہ میں ” وَمَا ذبح علی النصب “ کے تحت ملا حظہ فرمائیں