Ayahs 16:41–50آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اہل مکہ کی اذیتوں کے ظلم سہنے کے بعد ترک وطن کیا، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب ہیں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ عطا کریں گے وہ ٹھکانہ مدنیہ ہے، اور آخرت کا اجر یعنی جنت بہت ہی بڑا ہے کاش کافر یا ہجرت نہ کرنے والے اس بات کو جان لیتے کہ مہاجروں کے لئے کس قدر اعزاز ہے تو ضرور مہاجرین کی (ہجرت میں) موافقت کرتے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکوں کی اذیتوں اور اظہار دین کے لئے ہجرت پر صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں تو وہ ان کو ایسے طریقہ سے رزق دیتا ہے کہ ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا، اور آپ سے پہلے بھی ہم مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں، کہ جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے نہ کہ فرشتوں کو، سو تم اہل علم یعنی تورات اور انجیل کے عالموں سے معلوم کرلو اگر تم اس بارے میں نہیں جانتے، اسلئے کہ وہ اس بارے میں جانتے ہیں، اور تم ان کی تصدیق کے قریب تر ہو نسبت رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی تصدیق کے (اور ہم نے ان کو) دلائل کے ساتھ بھیجا (بالبینٰت) محذوف کے متعلق ہے، یعنی ہم نے ان کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور کتابوں کے ساتھ اور ہم نے آپ پر ذکر قرآن نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لئے وہ احکام واضح طور پر بیان کردیں جو ان کے لئے اس قرآن میں حلال و حرام کے احکام نازل کئے گئے ہیں اور تاکہ وہ اس میں غور و فکر کریں اور عبرت حاصل کریں، کیا وہ لوگ جو نبی کے ساتھ دارالندوہ میں آپ ﷺ کو قید کرنے یا قتل کرنے یا ان کو وطن سے نکالنے کے بارے میں بدترین چالیں چل رہے ہیں، جیسا کہ سورة انفال میں ذکر کیا گیا ہے، اس بات سے بےخوف ہوگئے کہ اللہ انہیں قارون کے مانند زمین میں دھنسا دے یا ان پر عذاب ایسی جگہ سے آجائے کہ انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو، یعنی ایسی جہت سے کہ اس کا ان کے دل میں کبھی خطرہ بھی نہ گذرا ہو، اور ان کو بدر میں ہلاک کردیا گیا، اور انہوں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا یا انھیں ان کے تجارتی سفر کے دوران چلتے پھرتے پکڑلے، اور وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے یعنی اس کے عذاب سے بچ کر نہیں نکل سکتے، یا ان کی بتدریج گرفت کرے یہاں تک کہ سب کو ہلاک کر دے (علی تخوفٍ ) فاعل یا مفعول سے حال ہے یقیناً تمہارا پروردگار، اعلی شفقت والا اور بڑا مہربان ہے اس لئے کہ ان کی فوری گرفت کرتا کیا ان لوگوں نے ان چیزوں کو نہیں دیکھا کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے سایہ دار پیدا کیا ہے جیسا کہ درخت اور پہاڑ کہ ان کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں، شِمائل، شِمال کی جمع ہے یعنی شئ اپنی دائیں بائیں دن کے اول اور آخر حصے میں (سُجّدًا) ظلالہ کی ضمیر سے حال ہے، یعنی جو ان سے مطلوب ہے اس کے لئے سر تسلیم خم کئے رہتے ہیں، اور وہ یعنی سائے اظہار عاجزی کرتے ہیں اور سایوں کو ذوی العقول کے درجہ میں اتار لیا، اور آسمانوں اور زمین کا ہر جاندار جو زمین پر چلتا پھرتا ہے اللہ کو سجدہ کرتا ہے یعنی جو اس سے مطلوب ہے اس کے لئے سر تسلیم خم کرتا ہے اور ’ ما ‘ لانے میں غیر ذوی العقول کو ان کی کثرت کی وجہ سے (ذوی العقول پر) غلبہ دیا گیا ہے اور فرشتے بھی سجدہ کرتے ہیں، ان کی فضیلت کی وجہ سے خصوصیات کے ساتھ ان کا ذکر کیا گیا ہے، اور وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور فرشتے حال یہ ہے کہ اپنے رب سے جو غلبہ کے ساتھ ان کے اوپر ہے لرزہ براندام رہتے ہیں اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : لِاِِ قامۃ دینِہٖ ، اس اضافہ میں اس سوال کا جواب ہے کہ فِی اللہ میں، اللہ، مھاجرت کا ظرف واقع ہورہا ہے حالانکہ اللہ کے ظرف ہونے کے کوئی معنی نہیں ہیں جواب کا حاصل یہ ہے کہ فی بمعنی لام ہے اور نضاف محذوف ہے فی اللہ، ای لدین اللہ .
قولہ : لَنُبَوِّ أنَّھُمْ (تفعیل) سے مضارع جمع متکلم لام تاکید بانون تاکید ثقیلہ، ہم ان کو ضرور اتاریں گے، ضرور ٹھکانہ دیں گے مادہ
بَوءٌ ہے، ھم، ضمیر جمع مذکر غائب کی ہے۔
قولہ : دارًا، اس اضافہ میں حسنۃ کی تانیث کی علت کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : ای الکفار او المتخلفون عن الھجرۃ، اس میں یعلمون کی ضمیر میں دو احتمالوں کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : مَا للمھاجرین، یہ یعلمون کا مفعول ہے۔ قولہ : لَوَ افقوھم اس میں اشارہ ہے کہ لَوْ کا جواب محذوف ہے۔
قولہ : فانھم لیعلمونہ، یہ اِنْ شرطیہ کا جواب ہے جو کہ محذوف ہے۔
قولہ : متعلق بمحذوف، یعنی بالبینٰت، اَرْسلنا محذوف کے متعلق ہے نہ کہ مااَرْسَلْنَا مذکورہ کے اور نہ حی کے اور نہ تعملوں کے اس لئے کہ پہلی دو صورتوں میں متعلق اور متعلق کے درمیان فضل بالا جنبی لازم آتا ہے اور وہ فاسئلوا اھل الذکر ہے اور تیسری صورت میں شرط تیکیب اور الزام کے لئے ہے اسلئے کہ ان کے عالم ہونے کی نفی متحقق ہے۔
قولہ : المکرات یہ السیئات کی وجہ تانیث کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : یَتَفَیَّوُّ ، مضارع واحد مذکر غائب مصدر تَفَیُّئٌ (تفعل) مادہ فَئٌ جھک جاتے ہیں۔
قولہ : تَنَفُّصٌ، تحوُّف کی تفسیر تنقص سے بیان معنی کے ہے، اسلئے کہ تحوُّف کے معنی خوف اور ڈر کے بھی آتے ہیں اور بتدریج کم کرنے کے بھی، کمی خواہ نفس میں ہو یا اموال میں مفسر علام نے یہی مراد لئے ہیں، یقال تُخَوِف الشئ ای تُنِقّصُہ .
قولہ : حال من الفاعل اوالمفعول یعنی عَلیٰ تخوفٍ یا تو یاخذ ، کی ضمیر فاعل سے حال ہے، یا ھم ضمیر سے۔
قولہ : جمع شمال یہ انسان کے یمین و شمال سے کنایہ ہے اور غالباً یمین کو مفردلانے میں ’ ما ‘ کے لفظ کی رعایت ہے اور سُجَّدًا میں ما کے معنی کی۔ قولہ : نُزِّلوا منزلۃ العقلاء اس میں اس شبہ کا جواب ہے کہ واؤنون کے ساتھ جمع ذوی العقول کی لائی جاتی ہے اور ظلال ذوی العقول سے نہیں ہے، حالانکہ اس کی جمع داخرون، واؤنون کے ساتھ لائی گئی ہے۔
جواب : چونکہ ظلال کی طرف دخور (عاجزی کرنا) کی نسبت کی گئی ہے جو کہ ذوی العقول کی صفت ہے، اس لیے واؤنون کے ساتھ جمع لائی گئی ہے۔
قولہ : من دابۃٍ ، یہ مافی السمٰوات وما فی الارض کا بیان ہے اور اس میں اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے کہ دابۃ اس کو کہتے ہیں جو زمین پر چلے لہٰذا اس میں وہ مخلوق شامل نہیں ہے جو آسمانوں یا فضا میں حرکت کرتی اور چلتی ہے، اس کا جواب دیا کہ اِنَّ الدبیبھی حرکۃ جسمانیۃ سواء کان فی الارض اوفی السماء لہٰذا یہ کہنا کہ دابۃ، ما یدب علی الارض ہی کو کہتے ہیں جس میں ملائکہ وغیرہ داخل نہیں ہیں درست ہے۔
تفسیر وتشریح
والذین۔۔۔۔ اللہ الخ ھاجروا ہجرت سے مشتق ہے ہجرت کے لغوی معنی ہیں ترک وطن، اصلاح میں ہجرت کہتے ہیں دین
کی خاطر اللہ کی رضا جوئی کیلئے اپنے وطن، اپنے عزیز و اقارب، دوست و احباب وغیرہ کو چھوڑ کر ایسے علاقہ میں چلے جانا جہاں آسانی سے اللہ کے دین پر عمل ہوسکے، ہجرت اللہ کی راہ میں بڑی عبادت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، الھجرۃ تَھْدِمُ ما کان قبلھا، یعنی ہجرت ان تمام گناہوں کو ختم کردیتی ہے جو انسان نے ہجرت سے پہلے کئے ہوں۔
ہجرت بعض صورتوں میں فرض اور بعض میں واجب اور بعض میں مستجب و افضل ہوتی ہے اس کے مفصل احکام سورة نساء کی آیت 97 کے تحت بیان ہوچکے ہیں، اس جگہ صرف ان وعدوں کا بیان ہے جو اللہ نے مہاجرین سے کئے ہیں۔
یہ آیت عام ہے جو تمام مہاجرین کو شامل ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ خاص ہو اور ان مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی ہو جو اپنی قوم کی ایذاؤں سے تنگ آکر ہجرت کرگئے تھے ان کی تعداد عورتوں سمیت ایک سو یا اس سے کچھ زیادہ تھی، جن میں حضرت عثمان ؓ اور آپ کی زوجہ دختر رسول حضرت رقیّہ ؓ بھی تھیں۔
کیا ہجرت دنیا میں فراخی کا سبب ہوتی ہے ؟
آیات مذکورہ میں چند شرائط کے ساتھ مہاجرین کے لئے دو عظیم الشان وعدے کئے گئے ہیں اول دنیا ہی میں اچھاٹھکانہ دینے کا، دوسرے آخرت میں بےحساب اجرعظیم کا، دنیا میں اچھا ٹھکانہ ایک نہایت جامع لفظ ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ مہاجرین کو سکونت کے لئے مکان اور اچھے پڑوسی ملیں اور یہ بھی شامل ہے کہ رزق اچھا ملے دشمنوں پر فتح و غلبہ نصیب ہو عزت و شرف ملے۔
بعض مفسرین نے کہا ہے یہ وعدے ان مہاجرین کے لئے ہیں جنہوں نے پہلی ہجرت حبشہ میں حصہ لیا، اور یہ بھی احتمال
ہے کہ ہجرت حبشہ اور اس کے بعد کی ہجرت الی المدینہ دونوں اس میں داخل ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین سے کئے ہوئے وعدے مکمل اور احسن طریقہ پر پورے فرمادیئے۔
ہجرت کے فضائل اور فوائد ان ہی مہاجرین کے لئے ہیں جنہوں نے مطلوبہ شرائط پوری کردی ہوں ان شرائط میں پہلی شرط ” فی اللہ “ ہے یعنی ہجرت کرنے کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو اس میں دینوی منافع تجارت، ملازمت وغیرہ نفسانی فوائد پیش نظرنہ ہوں دوسری شرط مہاجرین کا مظلوم ہونا ہے جیسا کہ من بعد ما ظلموا سے معلوم ہوتا ہے، تیسری شرط ابتدائی تکلیف و مصائب پر صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا ہے، جس کی طرف ” اَلَّذِیْنَ صَبَرُا “ سے اشارہ ہے چوتھی شرط تمام مادی تدبیروں کا اہتمام کرتے ہوئے بھی بھروسہ صرف اللہ پر رکھنا، وعلی ربھم یتوکلون سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ابتدائی مشکلات و تکالیف تو ہر کام میں ہوا کرتی ہیں ان کو عبور کرنے کے بعد بھی اگر کسی مہاجر کو اچھا ٹھکانہ اور اچھے حالات نہ ملے تو قرآن کے وعدہ میں کوئی شک کرنے کی بجائے اپنی نیت اخلاص اور اس کے حسن عمل کا جائزہ لینا چاہیے جس پر یہ وعدے کئے گئے ہیں تو اس کو معلوم ہوگا کہ قصور اپنا ہی تھا، کہیں نیت میں کھوٹ ہوتا ہے اور کہیں صبر و ثبات و توکل میں کمی ہوتی ہے۔ (معارف)
ترک وطن کی مختلف قسمیں اور ان کے احکام : امام قرطبی نے بحوالہ ابن عربی لکھا ہے کہ وطن سے نکلنا اور سفر کرنا کبھی تو
کسی چیز سے بچنے کے لئے ہوتا ہے اور کبھی کسی چیز کی طلب کے لئے پہلی قسم کے سفر کو جو کسی چیز سے بچنے کے لئے ہو اس کو ہجرت کہتے ہیں اور اسکی چھ قسمیں ہیں۔
(1) دارلکفر سے دارالاسلام کی طرف جانا، یہ سفر ہجرت بشرط استطاعت فرض ہے (جبکہ دارلکفر میں اپنے جان و مال اور آبرو کا امن نہ ہو یا دینی فرائض کی ادائیگی ممکن نہ ہو) ایسی صورت میں دارلکفر میں مقیم رہنے سے گنہگار ہوگا۔
(2) دارلبدعت سے سفر کرنا، ابن قاسم کہتے ہیں کہ امام مالک سے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اس مقام پر قیام کرنا حلال نہیں جس میں سلف صالحین پر سب و شتم کیا جاتا ہو، ابن عربی یہ قول نقل کرکے لکھتے ہیں کہ یہ بالکل صحیح ہے کیونکہ اگر تم کسی منکر کا ازالہ نہیں کرسکتے تو تم پر لازم ہے کہ تم خود وہاں سے زائل ہوجاؤ۔
(3) تیسرا سفر وہ ہے کہ جس جگہ حرام کا غلبہ ہو وہاں سے نکل جانا، کیونکہ طلب حلال ہر مسلمان پر فرض ہے۔
(4) چوتھا جسمانی اذیتوں سے بچنے کیلئے سفر، یہ سفر جائز ہے کہ انسان جس جگہ دشمنوں سے جسمانی اذیت محسوس کرے وہاں سے نکل جائے تاکہ اس خطرہ سے نجات حاصل ہو، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اہذاؤں سے نجات حاصل کرنے کے لئے عراق سے شام کا سفر کیا تھا، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی قسم کا سفر مصر سے مدین کا کیا تھا، ” فَخَرَجَ منھا خائفا یترقب “.
(5) پانچواں سفر آب و ہوا کی خرابی اور وبائی امراض کے خطرہ سے بچنے کے لئے سفر کرنا ہے، شریعت اسلام نے اس کی اجازت
سی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل عرینہ کو مدینہ سے باہر جنگل میں قیام کرنے کی اجازت دی تھی، اسی طرح حضرت عمر ؓ نے ابو عبیدہ ؓ کو حکم دیا تھا کہ دارلخلافہ اردن سے منتقل کرکے کسی مرتفع سطح پر لے جائیں جہاں کی آب وہوا خراب نہ ہوا۔
وبائی امراض کے مقام پر جانے یا وہاں سے آنے کا حکم : جہاں وباپھیلی ہو اس کا حکم یہ ہے کہ جو لوگ اس جگہ پہلے سے موجود ہیں وہ تو وہاں سے نہ بھاگیں اور جو باہر ہیں وہ وہاں نہ جائیں، جیسا کہ حضرت فاروق اعظم ؓ کو سفر شام کے وقت پیش آیا تھا، کہ سرحد شام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ شام میں طاعون پھیلا ہوا ہے تو آپ کو اس ملک میں داخل ہونے میں ترددپیش آیا صحابۂ کرام سے مسلسل مشوروں کے بعد آخر میں جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے ان کو یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اِذا وقع بارضٍ وانتم بھا فلا تخرجوا منھا و اِذا وقع بارضٍ ولستم بھا فلا تھبطوا عَلَیْھا . (رواہ الترمذی)
جب کسی خطہ میں طاعون پھیل جائے اور تم موجود ہو تو وب وہاں سے نہ نکلوا اور جہاں تم پہلے سے موجود نہیں وہاں طاعون پھیلنے کی خبر سنو تو اس میں داخل نہ ہو۔
اس وقت فاروق اعظم نے حکم حدیث کی تعمیل کرتے ہوئے پورے قافلہ کو لے کر واپسی کا اعلان کردیا، بعض علماء نے فرمایا
کہ حدیث شریف کے اس حکم میں ایک خاص حکمت یہ بھی ہے کہ جو لوگ اس جگہ مقیم ہیں جہاں کوئی وباپھیل چکی ہے یہاں کے لوگوں میں وبائی جراثیم کا موجود ہونا ظن غالب ہے، وہ اگر یہاں سے بھاگیں گے تو جس میں وہ وبائی مادہ سرایت کرچکا ہے وہ تو بچے گا نہیں اور جہاں یہ جائیگا وہاں کے لوگ اس سے متاثر ہوں گے اسلئے یہ حکیمانہ فیصلہ فرمایا۔
(6) چھٹا سفر اپنے مال کی حفاظت کے لئے ہے جب کوئی شخص کسی مقام میں چوروں ڈوکوؤں کا خطرہ محسوس کرے تو وہاں سے منتقل ہوجائے، شریعت میں اس کی اجازت ہے۔
سفر کی یہ چھ قسمیں تو کسی چیز سے بچنے اور بھاگنے کی ہیں، اور جو سفر کسی طلب و جستجو کے لئے کیا جائے اس کی نو قسمیں ہے
1۔ سفر عبرت یعنی دنیا کی سیاحت اس لئے کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات اور قدرت کاملہ اور اقوام سابقہ کے آثار کا مشاہدہ کرکے عبرت حاصل کرے قرآن کریم نے ایسے سفر کی ترغیب دی ہے فرمایا، اَوَلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الَّذِیْنَ من قبلھم
2۔ سفر حج اس کا چند شرائط کے ساتھ فرضِ اسلامی ہونا سب کو معلوم ہے۔
3۔ سفر جہاد، اس کا فرض یا واجب یا مستحب ہونا سب کو معلوم ہے۔
4۔ سفر معاش، جب کسی کو اپنے وطن میں ضرورت کے مطابق معاشی سامان حاصل نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہاں سے سفر کرکے دوسری جگہ تلاش روزگار کرے۔
5۔ سفر تجارت یعنی قدرضرورت سے زائد حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا یہ بھی شرعًا جائز ہے حق تعالیٰ نے فرمایا ” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم “ ابتغاء فضل سے مراد اس آیت میں تجارت ہے۔
6۔ طلب علم کے لئے سفر، علم دین کا بقدر ضرورت فرض عین ہونا اور زائد از ضرورت کا فرض کفایہ ہونا معلوم و معروف ہے لہٰذا اس کی طلب بھی اسی درجہ میں ہے۔
7۔ کسی مقام کو مقدس اور متبرک سمجھ کر اس کے لئے سفر کرنا، یہ بجز تین مسجدوں کے درست نہیں مسجد حرام (مکہ مکرمہ) مسجد نبوی (مدینہ طیبہ) مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) یہ قرطبی اور ابن عربی کی رائے ہے دوسرے اکابر علماء سلف و خلف نے عام مقامات متبرکہ کی طرف سفر کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ (معارف)
8۔ اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے لئے سفر، جس کو رباط کہا جاتا ہے احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
9۔ عزیزوں اور دوستوں سے ملاقات کے لئے سفر، حدیث میں اس کو بھی باعث اجر وثواب قراردیا گیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں اقرباء و احباب کی ملاقات کے لئے سفر کرنے والے کے لئے فرشتوں کی دعاء کا ذکر فرمایا گیا ہے یہ اس وقت ہے جب اس ملاقات سے اللہ کی رضا مقصود ہو، کو یئ مادی غرض نہ ہو۔ (واللہ اعلم) ۔ (قرطبی، ملخصاً )
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قبلکَ اِلَّا رجالًا (الآیۃ) روح المعانی میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مشرکین مکہ نے اپنے قاصد مدینہ کے یہود کے پاس دریافت حال کے لئے بھیجے کہ کیا یہ بات واقعی ہے کہ پہلے بھی سب انبیاء جنس بشر سے ہوتے آئے ہیں۔
اس آیت میں ” اہل ذکر “ سے مراد اہل کتاب یہود و نصاری ہیں :
ائمہ مجتہدین کی تقلید غیر مجتہدین پر واجب ہے ؟ آیت مذکورہ کا یہ جملہ ” فَسْئلوا اَھْلَ الذکر ان کنتم لا تعلمون “ اس جگہ اگرچہ ایک خاص مضمون کے بارے میں آیا ہے، مگر الفاظ عام ہیں جو تمام معاملات کو شامل ہیں، اس لئے قرآنی اسلوب کے اعتبار سے درحقیقت یہ اہم ضابطہ ہے جو عقلی بھی کہ جو لوگ احکام نہیں جانتے وہ جاننے والوں سے پوچھ کر عمل کریں اسی کا نام تقلید ہے یہ قرآن کا واضح حکم بھی ہے اور عقلاً بھی اس کے سوا عمل کونے کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی، امت میں عہد صحابہ سے لے کر آج تک بلا اختلاف اسی ضابطہ پر عمل ہوتا آیا ہے جو تقلید کے منکر ہیں وہ بھی اس تقلید کا انکار نہیں کرتے کہ جو لوگ عالم نہیں وہ علما نہیں وہ علماء سے فتویٰ لے کر عمل کریں، اور یہ ظاہر ہے کہ ناواقف عوام کو علماء اگر قرآن و حدیث کے دلائل بتلا بھی دیں تو وہ ان دلائل کو بھی ان ہی علماء کے اعتماد پر قبول کریں گے ان میں خود دلائل کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت تو ہوتی نہیں اور تقلید اسی کا نام ہے کہ نہ جاننے والے کے اعتماد پر کسی حکم کو شریعت کا حکم قرار دے کر عمل کرے، یہ تقلید وہ ہے جس کے جواز بلکہ وجوب میں کسی کو اختلاف کی گنجائش نہیں البتہ وہی علماء کہ جو خود قرآن و حدیث کو اور مواقع اجماع کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کو ایسے احکام میں جو قرآن و حدیث میں صریح اور واضح طور پر مذکور ہیں، اور علماء وتابعین کے درمیان ان مسائل میں کوئی اختلاف بھی نہیں ان احکام میں وہ علماء براہ راست قرآن و حدیث اور اجماع پر عمل کریں ان میں علماء کو کسی مجتہد کی تقلید کی ضرورت نہیں لیکن وہ احکام و مسائل جو قرآن و حدیث اور اجماع پر عمل کریں ان میں علماء کو کسی مجتہد کی تقلید کی ضرورت نہیں لیکن وہ احکام و مسائل جو قرآن و حدیث میں صراحۃً مذکور نہیں یا جن میں آیات قرآن اور روایات حدیث میں اختلاف پیش آیا ہے یہ احکام و مسائل محل اجتہاد ہوتے ہیں ان کو اصطلاح میں ” مجتہد فیہ “ کہا جاتا ہے ان کا حکم یہ ہے کہ جس عالم کو درجۂ اجتہاد حاصل نہیں اس کو بھی ان مسائل میں کسی امام مجتہد کی تقلیدضروری ہے، محض اپنی ذاتی رائے کے بھروسہ پر ایک آیت یا روایت کو ترجیح دیکر اختیار کرنا اور دوسری آیت اور روایت کو مرجوح قرار دے کر چھوڑ دینا اس کے لئے جائز نہیں۔
اسی طرح جو احکام قرآن و سنت میں صراحتہ مذکور نہیں ان قرآن و سنت کے بیان کردہ اصول سے نکالنا اور ان کا حکم شرعی متعین کرنا یہ بھی ان ہی مجتہدین امت کا کام ہے جن کو عربی زبان عربی لغت اور محاورات اور طریق استعمال کا نیز قرآن و سنت سے متعلقہ تمام علوم کا معیاری علم اور معیاری علم اور روع کا اونچا مقام حاصل ہو، جیسے امام اعظم ابوحنیفہ، شافعی، مالک، احمد بن حنبل یا اوزاعی، فقیہ ابواللیث (رح) تعالیٰ وغیرہ جن میں حق تعالیٰ نے قرب زمانہ نبوت اور صحبت صحابہ اور تابعین کی برکت سے شریعت کے اصول و مقاصد سمجھنے کا خاص ذوق اور منصوص احکام سے غیر منصوص کو قیاس کرکے حکم نکالنے کا خاص سلیقہ عطا فرمایا تھا، ایسے مجتہد فیہ مسائل میں عام علماء کو بھی ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید لازم ہے، ائمہ مجتہدین کے خلاف کوئی نئی رائے اختیار کرنا خطاء ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امت کے اکابر علماء، محدثین و فقہاء، امام غزالی، رازی، ترمذی، طحاوی، مزنی، ابن ہمام، ابن قدامہ (رح)
تعالیٰ اور اسی معیار کے لاکھوں علماء سلف و خلف باوجود علوم عربیت اور علوم شریعت کی اعلی مہارت حاصل ہونے کے اجتہادی
مسائل میں ہمیشہ ائمہ مجتہدین کی تقلید کے پابند رہے ہیں ان سب مجتہدین کے خلاف اپنی رائے سے کوئی فتوی دینا جائز نہیں۔
البتہ ان حضرات کو علم وتقویٰ کا وہ معیاری درجہ حاصل تھا کہ مجتہدین کے اقوال و آراء کو قرآن و سنت کے دلائل سے جانچنے پرکھتے پھر ائمہ مجتہدین کے مسلک سے خروج اور ان سب کے خلاف کوئی رائے قائم کرنا ہرگز جائز نہ جانتے تھے، تقلید کی اصل حقیقت اتنی ہی ہے۔
اس کے بعد علم کا معیار دن بدن گھٹیا گیا اور تقویٰ اور خدا ترسی کے بجائے اغراض نفسانی غالب آنے لگیں ایسی حالت میں اگر یہ آزادی دیدی جائے کہ جس مسئلہ میں چاہیں کسی ایک امام کا قول اختیار کرلیں اور جس میں چاہیں کسی دوسرے امام کا قول لے لیں تو اس کا لازمی اثر یہ ہوگا کہ لوگ اتباع شریعت کا نام لے کر اتناع ہویٰ میں مبتلا ہوجائیں، کہ امام کے قول میں اپنی غرض نفسانی پوری ہوتی نظر آئے اس کو اختیار کرلیں، اور یہ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا کوئی دین و شریعت کا اتباع نہیں ہوگا بلکہ اپنی اغراض و ہویٰ کا اتباع ہوگا جو جماع امت حرام ہے، علامہ شاطبی نے موافقات میں اس پر بڑی تفصیل سے کلام کیا ہے اور ابن تیمہ نے بھی عام تقلید کی مخالفت کے باوجود اس طرح کے اتباع کو اپنے فتاوی میں باجماع امت کہا ہے، اس لئے متاخرین فقہاء نے یہ ضروری سمجھا کہ عمل کرنے والوں کو کسی ایک ہی امام مجتہد کی پابند کرنا چاہیے یہیں سے تقلید شخصی کا آغاز ہوا جو درحقیقت ایک انتظامی حکم ہے جس سے دین کا انتظام قائم رہے، اور لوگ دین کی آڑ میں اتباع ہویٰ کا شکار نہ ہوجائیں، اس کی مثال بعینہٖ وہ ہے جو حضرت عثمان غنی ؓ نے با جماع صحابہ قرآن کے سبعۃ احرف (یعنی سات لغات) میں سے صرف ایک لغت کو مخصوص کردینے میں کیا، اگرچہ ساتوں لغات قرآن ہی کے لغات تھے، جبرئیل امین کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کی خواہش کئ مطابق نازل ہوئے مگر جب قرآن کریم عجم میں پھیلا اور مختلف لغات میں پڑھنے سے تحریف قرآن کا خطرہ محسوس کیا گیا تو با جماع صحابہ مسلمانوں پر لازم کردیا گیا کہ صرف ایک ہی لغت میں قرآن کریم کو لکھا اور پڑھا جائے، حضرت عثمان ؓ نے اسی ایک لغت کئ مطابق تمام مصاحف کو لکھوا کر اطراف عالم میں بھجوایا، اور آج تک پوری امت اسی کی پابند ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ دوسرے لغات حق نہیں تھے بلکہ انتظام دین اور حفاظت قرآن از تحریف کی بنا پر صرف ایک لغت کو اختیار کرلیا گیا اسی طرح ائمہ مجتہدین سب برحق ہیں ان میں سے کسی ایک کو تقلید کے لئے معین کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امام معین کی تقلید کسی نے اختیار کی ہے اس کے نزدیک دوسرے ائمہ قابل تقلید نہیں، بلکہ اپنی صواب دید اور اپنی سہولت جس امام کی تقلید میں دیکھی اس کو اختیار کرلیا اور دوسرے ائمہ کو بھی اسی طرح قابل احترام سمجھا۔
اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا بیمار آدمی شہر کے حکیم اور ڈاکٹروں میں سے کسی ایک ہی کو اپنے علاج کے لئے متعین کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ بیمار اپنی رائے سے کبھی کسی ڈاکٹر سے پوچھ کر دوا استعمال کرے کبھی کسی دوسرے سے پوچھ کر یہ اس کی ہلاکت کا سبب ہوگا وہ جب کسی ڈاکٹر کا انتخاب اپنے علاج کے لئے کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوگز نہیں ہوتا کہ دوسرے ڈاکٹر ماہر نہیں یا ان میں علاج کی صلاحیت نہیں، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی کی جو تقسیم امت میں قائم ہوئی اس کی حقیقت اس سے زائد کچھ نہ تھی، اس میں فرقہ بندی اور گروہ بندی کا رنگ اور باہمی جدال و شقاق کرکے گرم بازاری نہ کوئی دین کا کام ہے اور نہ کبھی اہل بصیرت علماء نے اسے اچھا سمجھا، بعض علماء کے کلام میں علمی بحث و تحقیق نے مناظرانہ رنگ اختیار کرلیا اور بعد میں طعن و طنز تک نوبت آگئی پھر جاہلانہ جنگ وجدال نے وہ نوبت پہنچادی جو آج عمومًا دینداری اور مذہب پسندی کا نشان بن گیا۔
تنبیہ : مسئلہ تقلید و اجتہاد پر جو یہاں لکھا گیا وہ اس مسئلہ کا بہت مختصر خلاصہ ہے مزید تحقیقات و تفصیلات اصول فقہ کی کتابوں میں مفصل موجود ہیں خصوصًا کتاب ” الموافقات “ علامہ شاطبی جلد رابع باب الاجتہاد اور علامہ سیف الدین آمدی کی کتاب ” الاحکام “ جلد ثالث القاعدۃ الثالثہ فی المجتہدین، حضرت شاہ ولی اللہ (رح) تعالیٰ کی کتابیں، حجتہ اللہ البالغہ اور رسالہّ عقد الجید اور آخر میں حضرت حکیم الامت مولانہ اشرف علی تھانوی (رح) تعالیٰ کی کتاب الا قتصاد فی التقلید والاجتہاد اس مسئلہ میں خاص طور سے قابل دید ہیں اہل علم ان کی طرف رجوع فرمائیں۔
قرآن فہمی کے لئے حدیث رسول ضروری ہے : وانزلنا۔۔۔۔ للناس، اس آیت میں ذکر سے مراد بالاتفاق قرآن ہے اور رسول اللہ ﷺ کو اس آیت میں مامور فرمایا گیا ہے آپ قرآن کی نازل شدہ آیات کا بیان اور وضاحت لوگوں کے سامنے کردیں یہ آیت بھی متعدد دیگر آیتوں کی طرح اس باب میں نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حیثیت محض حامل وحی یا پیغام رساں کی نہیں بلکہ شارح اور بیان کرنے والے کی بھی قرآن مجید کے حقائق و اسرار کے حل کرنے کا حق سب سے زیادہ آپ ﷺ ہی کو حاصل ہے اور رسول کا فرج جس طرح تبلیغ وحی ہے تبیین وحی بھی اس کے فرائض میں داخل ہے اور جو لوگ سنت و حدیث رسول سے بےنیازی برتتے ہیں وہ فہم قرآن سے اپنے کو محروم رکھ رہے ہیں اگر ہر انسان صرف عربی زبان و ادب سے واقف ہو کر قرآن کے احکام کو حسب منشاء خداوندی سمجھنے پر قادر ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کو بیان و توضیح کی خدمت سپرد کرنے کے کوئی معنی نہیں رہتے۔
اَفَا۔۔۔ السّیئات الخ اس سے پہلی آیت میں کفار کو عذاب آخرت سے ڈرایا گیا تھا، ان آیات میں ان کو اس سے ڈرایا گیا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں بھی اللہ کے عذاب میں پکڑے جاؤ، جیسے غزوۂ بدر میں ایک ہزار بہادر مسلح نوجوانوں کو چند نے سروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں سے ایسی سزا ملی جس کا ان کو کبھی وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چلتے پھرتے کسی عذاب الہٰی میں پکڑے جاؤ کہ کوئی بیماری جان لیوا آکھڑی ہو اور عذاب کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ دفعتہً عذاب نہ آئے مگر مال، صحت اور تندرستی اور اسباب راحت و سکون گھٹتے چلے جائیں اسی طرح گھٹاتے گھتاتے اس قوم کا خاتمہ ہوجائے۔
لفظ تخوّف آیت میں بظاہر خوف سے مشتق ہے، اور بعض حضرات مفسرین نے اسی معنی کے اعتبار سے یہ تفسیر کی ہے کہ ایک جماعت کو عذاب میں پکڑاجائے تاکہ دوسرے جماعت ڈرجائے اسی طرح دوسری کو اور پھر تیسری جماعت کو پکڑا جائے یوں ڈراتے ڈراتے سب کا خاتمہ ہوجائے۔
مفسر قرآن حضرت ابن عباس اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے یہاں لفظ تخوف کو تَنَقُّصْ کے معنی میں لیا ہے اور اسی معنی کے
اعتبار سے ترجمہ گھٹاتے گھٹاتے کیا ہے۔ حضرت سعید بن مسیّب نے فرمایا کہ حضرت فاروق اعظم کو بھی اس لفظ کے معنی میں ترددپیش آیا تو آپ نے برسر منبر صحابہ کو خطاب کرکے فرمایا کہ لفظ تخوف کے آپ لوگ کیا معنی سمجھتے ہیں ؟ تمام مجمع خاموش رہا مگر قبیلہ ہذیل کے ایک شخص نے عرض کیا امیر المومنین یہ ہمارے قبیلہ کا خاص لفظ ہے ہمارے یہاں یہ لفظ تنقص کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی بتدریج کم کرنا، اس پر حضرت فاروق اعظم نے سوال کیا کہ کیا عرب اپنے اشعار میں یہ لفظ تنقص کے معنی مکیں استعمال کرتے ہیں اس نے عرض کیا کہ ہاں اور اپنے قبیلہ کے شاعر ابو کبیر ہذلی کا ایک شعر پیش کیا جس میں یہ لفظ بتدریج گھٹانے کے معنی میں استعمال کیا گیا تھا۔ ؎
تَخَوّفَ الرحلُ منھا تامکاً قَرِدًا کما تخوّفُ عودَ النَبْعَۃِ السَّفَنُ
ترجمہ : کجا وہ اونٹنی کے فربہ کو ہان کو بتدریج کم کردیا جیسا کہ نبعہ کی لکڑی کو رندہ بتدریج کم کردیتا ہے۔
اس پر حضرت عمر فاروق نے فرمایا، لوگو تم اشعار جاہلیت کا علم حاصل کرو کیونکہ تمہاری کتاب کی تفسیر اور تمہارے کلام کے معنی کا فیصلہ اسی سے ہوتا ہے۔
قرآن فہمی کے لئے معمولی عربی دانی کافی نہیں : اس سے ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کہ معمولی طور پر عربی زبان بولنے، لکھنے کی قابلیت قرآن فہمی کے لئے کافی نہیں بلکہ اس میں اتنی مہارت اور واقفیت ضروری ہے جس سے قدیم عرب جاہلیت کے کلام کو پورا سمجھا جاسکے کیونکہ قرآن کریم اسی زبان اور انہی کے محاوارت میں نازل ہوا ہے اس درجہ کا عربی ادب مسلمان پر سیکھنا لازم ہے۔
وللہ۔۔۔۔ الارض، یسجد یہاں اپنے اصلی لغوی معنی میں ہے یعنی فرمانبردار جیسا کہ ہر مخلوق کو اپنے خالق اور حکیم کے روبرو ہونا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ مخلوق چھوٹی ہو یا بڑی عالم اجساد میں جہاں کہیں بھی ہو سب کے سب عظمت الہٰی کے آگے سرنگوں ہیں
وما۔۔۔ دابّۃ، دَابۃ کے معنی یہاں جاندار کے بھی کئے گئے ہیں اور متحرک کے بھی اور پھر انقیاد کے بھی ایک سرے پر دابّہ اور دوسرے سرے پر ملائکہ کو لاکر گویا یہ بتادیا ہے کہ ادنی سے لے کر اعلی تک ہر ذی حیات زنجیر انقیاد میں یکساں جکڑا ہوا ہے۔
نیز من دابۃ کا تعلق جس طرح ارض سے ہے اسی طرح سمٰوات (اجرام فلکی) سے بھی ہے اسلئے بالکل جائز ہے کہ فرشتوں کے علاوہ متحرک و جاندار مخلوق انسان کی طرح سیاروں یا آسمانوں پر بھی ہو۔
یخافون۔۔۔۔ فوقھم، یہاں فوق سے فوقیت معنوی مراد ہے ورنہ جہت فوق سے تو خوف پیدا ہونے کی کوئی صورت نہیں، اور نہ خدا کے شایان شان۔
Ayahs 16:51–60آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ (اِثْنَیْنِ ) اِلھٰیْنِ کی تاکید ہے معبود تو صرف وہی اکیلا ہے اس کو الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کرنے کے لئے لائے ہیں، پس تم سب میرا ہی خوف (ڈر) رکھو، (یعنی) مجھ ہی سے ڈرو نہ کہ کسی اور سے، اس میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے آسمانوں اور زمین میں کو کچھ ہے اسی کا ہے ملک اور مخلوق اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور طاعت دائماً اسی کی لازم ہے، واصِبًا، دین ٌ سے حال ہے اور اس میں عامل معنی ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لہٗ الدین) کیا پھر بھی تم غیر اللہ سے ڈرتے ہو ؟ معبود برحق وہی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور استہفام انکار یا تو بیخ کے لئے ہے اور تمہارے پاس جینی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں یعنی ان نعمتوں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا، اور ما شرطیہ یا موصولہ ہے، پھر اب بھی جب تمہیں کوئی فقرومرض وغیرہ کی مصیبت پیش آجاتی ہے تو تم اسی سے نالہ و فریاد کرتے ہو، یعنی فریاد رسی اور دعاء کے لئے اسی کو زور زور سے پکارتے ہو، اور جہاں اس نے تمہاری مصیبت دور کی تو تم میں کا ایک فریق اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتا ہے تاکہ ان نعمتوں کی ناشکری کرے جو ہم نے ان کو دی ہیں، اچھا تو بتوں کی عبادت پر اجتماعیت کے ساتھ کچھ مزے اڑالو، اس کا انجام تمہیں معلوم ہو ہی جائیگا اور مشرک ان کے لئے کہ جن کو نہیں جانتے کہ وہ نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور وہ بت ہیں ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے کہ وہ کھیتی اور جانور ہیں یہ کہہ کر حصہ لگاتے ہیں کہ یہ اللہ کے لئے ہے اور یہ ہمارے شرکاء (بتوں) کے لئے ہے واللہ جو تم اللہ پر بہتان لگاتے ہو کہ اسی نے ہمیں (شرک کا) حکم دیا ہے تم سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس میں غیبت سے خطاب کی طرف التفات ہے، اور وہ اللہ کے لئے یہ کہ کر کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں بیٹیاں ثابت کرتے ہیں یہ جو عقیدہ رکھتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے اور اپنے لئے وہ ثابت کرتے ہیں جو ان کو پسند ہیں یعنی لڑکے، جملہ (مایشتھون) محل میں رفع کے ہے یا جَعَلَ کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے (آیت کے) معنی یہ ہیں کہ اللہ کے لئے لڑکیاں پسند کرتے ہیں جنہیں خود (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں حالانکہ وہ تو اولاد ہی سے پاک ہے، اور اپنے لئے بیٹے ثابت کرتے ہیں جنہیں اپنے لئے پسند کرتے ہیں، (یعنی) بیٹوں کو اپنے لئے محصوص کرتے ہیں، دلیل اللہ کا قول ہے، آپ ان سے پوچھئے کیا تیرے رب کے لئے لڑکیاں ہیں اور ان کے لئے لڑکے ہیں، اور جب ان میں سے کسی کو (اس کے یہاں) لڑکی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے یعنی ایسا متغیر ہوجاتا ہے جیسا کسی غم زدہ کا، اور وہ (دل ہی دل میں) گھٹنے لگتا ہے یعنی غم سے بھر جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کی کیوں نسبت کی جاتی ہے ؟ اور اس بری خبر کی وجہ سے مارے شرم کے اپنی قوم سے چھپا چھپا پھرتا ہے اور اس شش و پنج میں پڑجاتا ہے کہ وہ اس نومولود کے بارے میں کیا کرے ؟ آیا ذلت کے ساتھ بغیر قتل کئے اس کو تھامے رہے (یعنی زندہ رہنے دے) یا اس کو مٹی میں دفن کردے یعنی اسے زندہ درگور کردیے، آہ ! یہ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں ! یعنی ان کا یہ حکم کہ اپنے خالق کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں جو خود ان کے نزدیک (حقارت) میں اس (انتہائی) درجہ کی ہیں ام کافروں کی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے بری مثال ہے یعنی بری صفت ہے اور (السؤیٰ ) معنی میں قبیحہ کے ہے اور وہ (بری صفت) ان کا لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا ہے ان سے نکاح کی حاجت کے باوجود اور اللہ کی تو بہت ہی بلند صفت ہے (ای الصفۃ العُلیا) اور وہ یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اپنے ملک میں غالب ہے (اور) اپنی مخلوق کے بارے میں باحکمت ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : تاکیدٌ، یعنی اِثْنَیْنِ ، اِلھَٰیْنِ کی تاکید ہے، لا تتخذو اِلھٰیْنِ اثْنَیْن کی ترکیب میں دو قول ہیں اور لفظ اثنین کے بارے میں دو احتمال
ہیں، (1) یہ کہ اِثْنَیْنِ اِلھٰین کی تاکید ہے صورت میں لا تتخذوا متعدی بیک مفعول ہوگا اور لا تتخذوا اِلھٰینِ اِثنینِ معبودًا، اِلھٰین مفعول
اول ہے اور اثنین اس کی تاکید ہے اور معبودًا مفعول ثانی ہے جو کہ محذوف ہے۔
دوسراقول : یہ کہ اثنین، لا تتخذوا کا مفعول اول ہے مگر اس کو مؤخر کردیا ہے اور الھٰیْنِ مفعول ثانی ہے جو کہ لفظًا مقدم ہے، اصل عبارت یہ ہے لا تتخذوا اثنین الھٰین .
عجیب اتفاق : تقریباً تمام مفسرین نے اثنَیْنِ کو الھٰین کی تاکید قرار دیا ہے حالانکہ اِثْنَیْنِ نہ تاکید لفظی میں سے ہے اور نہ تاکید معنوی ہے، صحیح یہ ہے کہ اثنین اِلھٰین کی صفت ہے، ہوسکتا ہے کہ جن حضرات نے اثنین کو تاکید قرار دیا ہے معنی وصفی کی دجہ سے تاکید قرار دیا ہو اس لئے کہ صفت میں بھی تاکید کے معنی ہوتے ہیں، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ کلام میں تقدیم و تاخیر ہے، اصل عبارت اس طرح ہے، لاتتخذوا اثنین الھٰین انما ھو الہٌ واحد (اعراب القرآن) بعض حضرات نے اثنین کو اس تثنیہ کی تاکید قرار دیا ہے جو الھٰین سے مفہوم ہے (جمل) اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ تکرار مبالغہ فی التنفیر کے لئے ہے اسلئے کہ کثرت معافی پر دلالت کرتے ہیں۔ قولہ : اِلھٰین اثنین .
سوال : اِلھٰین، تثنیہ ہونے کی وجہ سے خود دو پر دلالت کرتا ہے اس میں معدود کی ضرورت نہیں ہوتی اسی طرح اِلہٌ واحد میں بھی معدود کو ضرورت نہیں ہوتی، اسلئے کہ الھٰین اور اِلٰہٌ عدد اور معدود دونوں پر دلالت کرتے ہیں، البتہ اثنین سے اوپر کے لئے معدود لانا لازمی ہوتا ہے مثلاً رجلٌ ایک آدمی، رجل واحدٌ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اسی طرح رجلین دو آدمی اس میں رجلَین اثنین کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بخلاف رجال ثلثٰۃ ونساء ثلٰث کہ ان میں معدود کے ذکر کی ضرورت ہے اسلئے کہ رجال اور نساء مبہم ہیں اس کے ابہام کو دور کرنے کے لئے معدود کی ضرورت ہوتی ہے۔
جواب : اس سوال کا جواب چند طریقہ پر ہے، (1) عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر یہ ہے لا تتخذوا اثنین اِلٰھینِ ، (2) شئ جب مستنکر اور قبیح ہوتی ہے اور اس کی قباحت میں مبالغہ مقصود ہوتا ہے تو اس کو کثیر عبارت سے تعبیر کرتے ہیں تاکہ کثرت حروف
کثرت معانی پر دلالت کریں۔
قولہ : أتیٰ بہٖ لاِثباتِ الواحدانیۃِ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اِلٰہ خود واحد پر دلالت کرتا ہے پھر واحدٌ لانے کی کیا ضرورت ؟
جواب : صرف اِلہٌ ذکر کرنے سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید صرف الوہیت کو ثابت کرنا مقصود ہو، اس لئے واحدٌ کا اضافہ کردیا تاکہ الوہیت اور وحدانیت دونوں پر دلالت ہوجائے۔ لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ لفظ اِلٰہٌ، جنسیت اور وحدت دونوں پر دلالت کرتا ہے لہٰذا واحدٌ کے ساتھ تاکید کی ضرورت نہیں ہے۔
قولہ : الطاعۃ اس میں اشارہ ہے کہ دین بمعنی طاعت ہے نہ کہ بمعنی جزاء اسلئے کہ جزاء دائماً نہیں ہے چونکہ جزاء دار آخرت میں ہوگی۔ قولہ : واصب، یہ وُصُوبٌ (ض) سے اسم فاعل واحد مذکر غائب ہے قائم رہنے والا، ہمیشہ رہنے والا۔
قولہ : حالٌ، یعنی واصبًا، دینٌ سے حال ہے نہ کہ صفت اس لئے کہ نکرہ معرفہ سے صفت واقع نہیں ہوتا اور عامل اس میں وہ فعل
ہے جو جار مجرور سے مفہوم ہے ای استقرَّ ، یاثَبَتَ ، اور بعض نے ثَبَتَ یا استقرَّ کی ضمیر مستتر سے حال قراردیا ہے، معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں، تقدیر عبارت یہ ہے، استقر الدین وَثَبَتَ لہ حال کو نہ دائماً.
قولہ : تَجْأرُؤنَ تم فریاد کرتے ہو، تم آواز بلند کرتے ہو، الجُوَار، رفع الصوت فی الدعاء مضارع جمع مذکر حاظر۔
قولہ : ولا تدعون غیرہ، اس اضافہ کا مقصد الیہ تجأرون میں ظرف کی تقدیم کے فائدہ (یعنی تخصیص) کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ : امر تھدید، یعنی فَتَمَتَّعوا میں امر تہدید کے لئے ہے۔
قولہ : لِما لا یعلمونَ اَنَّھا، یعلمون کی ضمیر مشرکین کی طرف راجح ہے، اور ما کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف یہ ہے جس کو علامہ سیوطی (رح) تعالیٰ نے اَنَّھا، سے ظاہر کردیا ہے، لہٰذا عدم کا اعتراض ختم ہوگیا تقدیر عبارت یہ ہے لا یعلمونھا اَنَّھا اٰلِھۃ و یعتقدون فیھا اَنَّھا تضّرو تنفع ولیس کذلک لَاَِ نّھا جماد لا تنفع ولا تضرّ.
قولہ : والجملۃ فی محل رفعٍ او نصبٍ بیجعل یعنی ” ولَھُمْ مایَشتھون “ میں دو اعراب کا ئز ہیں اول مایشتھون جملہ ہو کر محل میں رفع کے اور لَھُمْ محذوف ثابتٌ وغیرہ کے متعلق ہو کر خبر مقدم، اور البنات پر عطف کی وجہ سے یجعل کا مفعول ہونے کی وجہ سے نصب ہے
قولہ : سبحانہ، یہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے، نہ کہ فضل بالا جنبی۔
قولہ : یختار ونھا، نسخ متداولہ میں یہی ہے اور ظاہر یہ ہے یختارونھم، ہونا چاہیے اس لئے کہ ضمیر ابناء کی طرف راجع ہے۔
قولہ : اَلَّذِیْنَ یختارون یہ اضافہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ یجعلون کی ضمیر فاعل جو کہ کفار کی طرف راجع ہے اور مفعول کی ضمیر جو کہ لَھُمْ ہے، دونوں کا مصداق ایک ہے اور وہ کفار ہیں، حالانکہ علم نحو کا قاعدہ ہے کہ فاعل اور مفعول کی ضمیروں کا متعدد ہونا نفس کے واسطہ کے بغیر جائز نہیں ہے سوائے
باب ظَنَّ اور اس کے اخوات کے یہی وجہ ہے کہ زید ضربہ جائز نہیں ہے البتہ زید طنہ قائماً ای نفسہ کہنا درست ہے۔
جواب : الذین یختارون سے اسی سوال کا جواب دیا ہے کہ یجعلون بمعنی یختارون ہے اس لئے کہ اختیار دو مفعولوں کا تقاضا نہیں کرتا اور ایک مفعول مایشتھون ہت، لہٰذا لام اجل کے معنی میں ہوگا۔
قولہ : یَئِدُ ، (ض) وَأدَیَئِدُ ، زندہ درگور کرنا۔ قولہ : بمعنی القبیحۃ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ مثل صفت مؤنث ہے اور السَوْء مذکر ہے حالانکہ موصوف صفت ضروری ہے، جواب کا حاصل یہ ہے اَلسّوْء، السُّواٰیٰ ، قبیحۃ کے معنی میں ہے لہٰذا موافقت موجود ہے۔ قولہ : الصفۃ العلیا یہ اضافہ بھی اسی قسم کے سوال کا جواب ہے۔
تفسیر وتشریح
قال۔۔۔ اثنینِ ، قرآن مجید جس طرح ہر قسم کے شرک کی نفی کرتا ہے اسی طرح ثنویت کی بھی نفی کرتا ہے جس طرح بہت سے فرقے متعدد معبودوں کے قائل ہیں اسی طرح ایک مجوسی فرقہ دو خداؤں کا قائل ہے ایک یزدان یعنی خدائے نور و خیر، دوسرا اہرمن خدائے ظلمت و شر۔ ہندوستان میں ان ہی لوگوں کو پارسی اور آتش پرست کہتے ہیں اس کا بڑا مرکز بمبئی میں ہے جہاں ان کی بڑی تعداد ہے یہ لوگ اپنی نسبت زرتشت کی جانب کرتے ہیں زرتشت ان کے عقیدہ کے مطابق پیغمبر تھے ان کا زمانہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے قبل کا ہے یہ لوگ خیر کا خالق یزدان کو اور شر کا خالق اہرمن کو مانتے ہیں ان کے مذہب و اخلاق کو مزدک نے بڑی طرح مسخ کردیا تھا حتی کہ حقیقی بہن سے بھی ان کے نکاح جائز تھا، مسلمانوں میں بھی تقریباً آٹھ سو سال پہلے ایک فرقہ پیدا ہوا تھا جو باطنی کے نام سے مشہور تھا اس کو قرامطہ بھی کہتے تھے اس فرقہ کا ایک مشہور پیشوا گذرا ہے جس کا نام عبید اللہ بن حسن قیروانی ہے اس کے یہاں بھی سگی بہن سے نکاح جائز تھا۔ غرضیکہ اس آیت میں مجوسی کے عقیدۂ کی تردید کی گئی ہے اس کے ضمن میں عقیدۂ تثلیث اور عقیدۂ تعدد کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود ہوتا تو یہ عالم قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا ” لو کان فیما اٰلِھَۃ اِلَّا اللہ لَفَسَدتا “ (سورۂ انبیاء) اس لئے تعداد اِلٰہ کا عقیدہ باطل ہے، جب خالق کائنات ایک ہے اور وہی بلا شرکت غیر تمام کائنات کا نظام چلا رہا ہے تو معبود بھی وہی ہے جو اکیلا ہے۔
وَلَہ۔۔۔ واصباً ، اسی کی اطاعت دائمی اور لازم ہے، وَاصب کے معنی ہمیشگی اور دائمی کے ہیں، ولھم عذاب واصب ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ (الصافات)
جب سب نعمتوں کا دینے والا اللہ ہی ہے تو پھر بندگی کسی اور کی کیوں ؟ اس کے علاوہ اللہ کے ایک ہونے کا عقیدہ قلب ووجدان کی گہرائیوں میں فطری طور پر راسخ اور توحید کی ایک صریح شہادت تمہارے نفس میں موجود ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتی ہے ہر طرف سے مایوسی کے بادل گہرے ہوجاتے ہیں اور مصیبت کے وقت اصل فطرت نمودار ہونے لگتی ہے جو اللہ کے سوا کسی اِلٰہ کسی رب، اور کسی مالک ذی اختیار کو نہیں جانتی، تخلیق کی ابتداء کے متعلق عرب کے مشرکین اور ہر جگہ کا ہر مشرک جانتا ہی ہے کہ یہ صرف اللہ ہی کا کام ہے اس کے شریکوں میں سے اس کام میں کسی کا کوئی حصہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ مصیبت کے وقت جب ہر طرف سے مایوسی اور ناامیدی ہوجاتی ہے تو اس وقت صرف معبود ہی یاد اتا ہے اور اسی سے فریاد کرتا ہے۔
ثم۔۔۔ الخ، لیکن انسان بھی کتنا نا شکرا ہے کہ تکلیف و مصیبت کے دور ہوتے ہی پھر رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔
ویجعلون۔۔۔۔ نصیبًا الخ یعنی جس کو یہ حاجت روا مشکل کشا سمجھتے ہیں وہ پتھر کی مورتیاں ہیں یا جنات و شیاطین ہیں جن کی حقیقت کا سن کو علم ہی نہیں اسی طرح قبروں میں مدفون لوگوں کی حقیقت بھی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ وہاں کیا معاملہ ہورہا ہے ؟ وہ اللہ کے پسندیدہ افراد ہیں یا کسی دوسری فہرست میں ہیں ؟ ان باتوں کو کوئی نہیں جانتا، لیکن ان ظالموں نے ان کے لئے نذر و نیاز چڑھاوا اور پر شاد کے طور پر حصہ مقرر کرلیا ہے، بلکہ اگر اللہ کا حصہ رہ جائے تو رہ جائے، ان کے حصہ میں کمی نہیں کرسکتے، جیسا کہ سورة انعام میں بیان کیا گیا ہے۔
ویجعلون۔۔۔ البنات، عرب کے بعض قبیلے (خزاعہ اور کنانہ) فرشتوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، یعنی ایک ظلم تو یہ کہ اللہ کی اولاد قرار دی جبکہ اس کی کوئی اولاد نہیں اور پھر اولاد میں مؤنث جسے وہ خود اپنے لئے بھی
پسند نہیں کرتے تھے۔
وَاِذَا۔۔۔۔ کظیم یعنی لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ رنگ فق ہوجاتا ہے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے اور شرم کے مارے لوگوں سے چھپا پھرتا ہے، اور اللہ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں یہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں ؟ یہاں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بھی لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں کو حقیر اور کم تر سمجھتا ہے، نہیں، اللہ کے یہاں جنس کی بنیاد پر حقارت کا کوئی تصور نہیں ہے یہاں تو صرف عربوں کی اس ناانصافی اور سراسر غیر معقول رویّے کی وضاحت مقصود ہے، جو انہوں نے اللہ کے ساتھ اختیار کررکھا تھا۔
لِلَّذِیْنَ ۔۔۔ لآخرۃِ ، کافروں کے برے اعمال بیان کئے گئے ہیں یہ ان ہی کی بری مثال یا صفت ہے یعنی جہل و کفر کی صفت، یا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بیوی اور اولاد جو یہ ٹھہراتے ہیں یہ بری مثال ہے جو یہ منکرین آخرت اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں، یعنی اللہ کی ہر صفت، خلوق کے مقابلہ میں اعلیٰ و برتر ہے، مثلاً اس کا علم وسیع ہے اس کی قدرت لامتناہی ہے، اس کی جو دو عطا بےنظیر ہے۔
Ayahs 16:61–65آیت نمبر 61 تا 65
ترجمہ : اگر معاصی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی گرفت کرتا تو زمین پر چلنے پر ایک بھی چلنے والا (جاندار) نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دیتا ہے، سو جب ان کا وقت (مقرر) آجاتا ہے تو وہ اس سے نہ گھڑی پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں، اور اللہ کے لئے وہ چیز ثابت کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں، اور وہ چیزیں بیٹیاں اور ریاست میں شرکت اور اھانت رسول ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک اچھا بدلہ ہے یعنی جنت جیسا کہ وہ کہتے ہیں اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے پاس اچھا بدلہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یقینی بات تو یہ ہے کہ ان کے لئے اگ ہے، اور ان کو آگ میں ڈال کر چھوڑ دیا جائیگا یا ان کو سب سے پہلے آگ (دوزخ) کی طرف بڑھایا جائیگا اور ایک قراءت میں راء کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں، واللہ ہم نے آپ سے پہلے کی امتوں کی طرف رسول بھیجے مگر شیطان نے ان کے لئے ان کے برے اعمال کو آراستہ کرکے پیش کیا جسکی وجہ سے وہ اعمال کو اچھے (نیک) سمجھنے لگے تو انہوں نے رسولوں کو جھٹلادیا، وہ شیطان آج بھی (یعنی) دنیا میں ان کا رفیق یعنی ان کے امور کا کارساز بنا ہوا ہے اور ان کے لئے آخرت میں دردناک عذاب ہے کہا گیا ہے کہ الیوم سے آئندہ کی حالت کو بیان کے طور پر قیامت کا دن مراد ہے یعنی (روز قیامت) ان کا شیطان کے علاوہ کوئی رفیق نہ ہوگا حالانکہ وہ (شیطان) خود اپنی مدد سے بھی عاجز ہوگا، تو کیسے ان کی مدد کرے گا ؟ اور اے محمد ہم نے اس کتاب قرآن کو آپ پر اس لئے اتارا ہے کہ آپ لوگوں کے لئے امر دین کی ہر اس چیز کو کھول کھول کو بیان کردیں جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں اور وہ (قرآن) رہنما ہے اس کا لتبیِّنَ پر عطف ہے اور ان لوگوں کے لئے رحمت ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس پانی سے نباتات اگا کر زمین کو زندہ کردیا اس کے مردہ (یعنی) خشک ہونے کے یقیناً ان مذکورہ چیزوں میں ایسے لوگوں کے لئے جو غور وفکر کے ساتھ سنتے ہیں بعث بعد الموت پر دلالت کرنے والی نشانی ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : الارض . سوال : عَلَیْھا کی ضمیر کا مرجع الارض کو قرار دیا ہے حالانکہ ماقبل میں الارض مذکور نہیں ہے اس میں اضمار قبل الذکر لازم ہے۔ جواب : چونکہ ناس اور دابّۃ ارض پر دلالت کرتے ہیں لہٰذا الارض اگرچہ صراحۃ مذکور نہیں ہے مگر دلالۃ مذکور ہے لہٰذا اضمار قبل الذکر کا اعتراض وارد نہیں ہوگا۔
قولہ : نسمۃ، شخص، روح، (جمع) نَسَمٌ و نَسَماتٌ. قولہ : تقول، تصفُ کی تفسیر تقول سے کرنے کا مقصد اس سوال کا جواب ہے کہ تصف کا لفظ موصوف اور صفت کا تقاضا کرتا ہے حالانکہ یہاں نہ موصوف ہے اور نہ صفت۔
جواب : یہاں تصف بمعنی تقول ہے لہٰذا موصوف اور صفت کی حاجب نہ ہوگی۔
قولہ : ھو اس کی تقدیر میں اشارہ ہے کہ اَنَّ مع اپنے مدخول کے جملہ ہو کر ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے، نہ کہ تصِفُ کا مفعول اسلئے کہ تصف کا مفعول الکذبَ موجود ہے۔
قولہ : مُقدَّمون آگے کئے ہوئے یہ افرطتہ فی طلب الماء سے ماخوذ ہے، ای قدَّمتُہ لہٗ میں نے اس کو پانی کے لئے آگے بھیجا۔
تفسیر وتشریح
وَلَوْ ۔۔۔ الناس (الآیۃ) یہ اللہ کا حکم اور اس کی حکمت و مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی نافرمانی دیکھتا ہے لیکن پھر بھی وہ نعمتیں سلب نہیں کرتا، اور نہ فوری مواخذہ کرتا ہے، اگر وہ ارتکاب، معصیت پر گرفت کرنا شروع کردے تو ظلم و معصیت اور کفر و شرک اتنا عام ہوگیا ہے کہ روئے زمین پر کوئی ذی روح باقی نہ رہے، اس لئے کہ جب برائی عام ہوتی ہے تو اس کا عذاب بھی عام ہوتا ہے اس عذاب عام میں نیک لوگ بھی ہلاک کردیئے جاتے ہیں گو وہ آخرت میں سرخ رو رہیں گے۔ الیوم سے یا تو زمانۂ دنیا مراد ہے تب تو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور اگر یوم سے مراد فریب و تزیین ہے تو اس وقت حکایت حال ماضیہ کی تاویل کرنی ہوگی اور اگر یوم سے یوم آخرت مراد ہے تو حکایت حال آتیہ کی تاویل کرنی ہوگی جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے۔
وَمَا۔۔۔ الکتاب (الآیۃ) اس میں آپ ﷺ کا یہ منصب بیان کیا گیا ہے کہ عقائد و احکام شرعیہ کے سلسلہ میں یہود و نصاری کے درمیان اور اسی طرح مجوسیوں اور مشرکوں کے درمیان اور دیگر اہل ادیان کے درمیان جو باہم اختلافات ہیں اس کی اسطرح تفصیل بیان فرمائیں کہ حق اور باطل واضح ہوجائے تاکہ حق کو اختیار کریں اور باطل سے اجتناب کریں۔