Ayahs 16:66–70آیت نمبر 66 تا 70
ترجمہ : اور امر واقعہ یہ ہے کہ چوپایوں میں (بھی) تمہارے لئے بڑی عبرت ہے چوپایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے ہم اسی گوبر (یعنی) معدہ کے فضلے اور خون کے درمیان سے، (نسقیکم) عبرہ کا بیان ہے، مِنْ ابتدائیہ ہے نسقیکم کے متعلق ہے، ہم پینے والون کو خوشگوار (خوش ذائقہ) صاف دودھ پلاتے ہیں جو حلق میں بآسانی اترنے والا اور حلق میں نہ پھنسنے والا ہے، جس میں نہ گوبر اور خون کے مزے کی آمیزش ہے اور نہ رنگ وبو کی، حالانکہ وہ ان دونوں کے درمیان ہوتا ہے اور انگوروں اور کھجوروں کے پھلوں میں بھی (تمہارے لئے عبرت ہے) کہ جن سے تم شراب بناتے ہو، جو نشہ آور ہوتی ہے خمر کا نام سَکَر (بطور مبالغہ) مصدر کے ساتھ رکھا گیا ہے اور یہ (امتنان) شراب کو حرام کرنے سے پہلے کی بات ہے، اور کھانے کی عمدہ چیزیں بناتے ہو مثلاً چھوارے اور سرکہ اور شیرہ، جو لوگ عقل (سلیم) رکھتے ہیں (یعنی) غور و فکر کرتے ہیں ان کے لئے ان مذکورہ چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی نشانی ہے اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں وحی الہامی کے ذریعہ یہ بات ڈال دی (أن) مفسرہ یا مصدر یہ ہے، کہ پہاڑوں میں گھر (چھتّے) بنائے تاکہ اس میں پناہ لے سکے اور درختوں پر بھی (چھتے) بنائے اور ان ٹہنیوں میں بھی جن کو لوگ تیرے لئے ٹھکانے بناتے ہیں ورنہ تو تو اس میں پناہ نہیں لے سکتی تھی، اور ہر طرح پھلوں کا رس اور اپنے رب کی آسان راہوں میں اپنی غذا کی جستجو کے لئے داخل ہو کر چلتی پھرتی رہ ذُلُلًا، ذَلول کی جمع ہے اور (ذُلُلًا) سُبُلٌ سے حال ہے (یعنی) حال یہ ہے کہ تیرے لئے (راستوں کو) آسان کردیا جس کی وجہ سے تیرے لئے کوئی دشواری نہیں ہوتی اگرچہ وہ راہیں (دوسروں کیلئے) کتنی ہی دشوار گذار کیوں نہ ہوں، اور تو راستہ بھٹکتی نہیں ہے اگرچہ وہ راہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو، اور کہا گیا ہے کہ (ذُلُلًا) اُسلکی کی ضمیر سے حال ہے یعنی اس کے (حکم) کے تابع فرمان ہو کر داخل ہو جو تجھ سے مطلوب ہے، اور اس کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے اور وہ شہد ہے، اس میں لوگوں کی بیماریوں کے لئے شفاء ہے کہا گیا ہے کہ بعض بیماریوں کے لئے شفاء ہے جیسا کہ (لفظ) شفاء کی تنکیر پر دلالت کرتی ہے یا تمام بیماریوں کے لئے شفاء ہے دیگر دواؤں کے ساتھ مل کر میں کہتا ہوں بغیر ملائے بھی (ہرمرض کی شفاء ہے) بشرطیکہ نیت خالص ہو، اور آپ ﷺ نے شہد کے استعمال کو اس شخص کو حکم فرمایا جس کا پیٹ چل رہا تھا (یعنی دست آرہے تھے) رواہ الشیخان اور اللہ کی صنعت میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت بڑی نشانی ہے، اور اللہ نے تم کو پیدا فرمایا حالانکہ تمہارا کوئی وجود نہیں تھا اور تمہاری (مدت عمر) پوری ہونے کے بعد تم کع موت دے گا، تم میں کے بعض وہ ہیں جن کو نکمی عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے، بعض گھٹیا ترین عمر کو اور وہ بڑھاپے اور سٹھا جانے کی عمر ہے کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہ جانے، (حضرت) عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ جو شخص فرآن کا مشغلہ رکھتا ہے اس کی ایسی حالت نہیں ہوتی بیشک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی تدبیر سے واقف ہے اور جو چاہے اس پر قادر ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : ممافی بطونہٖ ، من تبعیضیہ، ابتدائیہ ہے۔ قولہ : من بین فرثٍ ، لبنًا سے حال مقدم ہے یا ما سے حال ہے جو اس سے مقدم ہے
سوال : بطونہٖ کی ضمیر انعام کی طرف راجع ہے اور انعام جمع ہونے کی وجہ سے مؤنث ہے اور اس کی طرف کوٹنے والی ضمیر مذکر ہے دونوں میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : لفظ انعام کی رعایت سے ضمیر مذکر کی لائے ہیں اور سورة المؤمنون میں معنی کی رعایت سے مؤنث لائے ہیں سیبویہ نے کہا ہے کہ انعام بروزن افعال مفرد ہے۔ قولہ : وھو بینھما، یہ لبنًا سے حال ہے۔
قولہ : من ثمراتِ النخیل، یہ نسقیکم، محذوف کے متعلق ہے اور اس کا عطف وان لکم فی الانعام الخ پر ہے۔
قولہ : سُمیت للمصدر، یعنی سَکَرًا اگرچہ مصدر ہے مگر معنی میں خمرًا کے ہے ای تتخذون منہ خمرًا، اب حمل کے بارے میں کوئی
اشکال نہیں اور خمر کا نام سَکَر مبالغہ و مجازاً رکھا ہے۔
قولہ : ھذا قبل تحریمھا، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ تتخذون منہ سکرًا (احسان) جتانے کے طور پر بیان ہوا ہے حالانکہ شراب حرام ہے اور حرام چیز کے ساتھ احسان جتانا درست نہیں، جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ امتنان حرمت نازل ہونے سے پہلے ہے آیت مکی ہے اور شراب کی حرمت مدینہ میں نازل ہوئی۔
قولہ : مما یَعْرِشون ای ما بین الناس بیوتا للنحل التی تتعسَّلُ فیھا، یعنی یعرشون سے مرادوہ ٹٹیاں ہیں جو لوگ شہد کی مکھیاں پالنے کے لیے چھتے بناتے ہیں۔
قولہ : جمع ذلول، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ سُبُلٌ جمع ہے جو کہ ذولحال ہے اور ذُلُلًا مفرد ہے اور وہ حال ہے لہٰذا حال و ذوالحال میں مطابقت نہیں ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ ذُلُلًا مفرد نہیں ہے بلکہ ذلول کی جمع ہے لہٰذا عدم مطابقت کا اعتراخ ختم ہوگیا۔
قولہ : وان تو عَّرت، اَلوعر، ضد السھل، دشوار۔
تفسیر وتشریح
وَاِنَّ ۔۔۔ لعبرۃ (الآیۃ) انعام چوپائے سے اونٹ، گائے بکری اور بھیڑ دنبہ وغیرہ مراد ہوتے ہیں چوپائے جو کچھ کھاتے ہیں، معدے میں جاتا ہے، اسی خوراک سے دودھ، خون، گوبر، اور پیشاب بنتا ہے، خون رگوں میں اور دودھ تھنوں میں اسی طرح گوبر اور پیشاب اپنے اپنے مخرج میں منتقل ہوجاتے ہیں اور دودھ میں نہ خون کی رنگت شامل ہوتی ہے نہ گوبرو پیشاب کی بدبو، سفید اور شفاف دودھ باہر آتا ہے جو نہایت آسانی سے حلق سے نیچے اتر جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں سے گوبر اور خون وغیرہ گندی چیزیں اور فضلے پیدا ہوتے ہیں وہیں سے اللہ تعالیٰ دودھ جیسی نفیس اور پاکیزہ خوشگوار اور مفید نعمت انسان کے لئے تیار کردیتا ہے جس کے آگے بڑے بڑے کیمیا دان دنگ رہ جائیں یہ دلیل ایک صناع اعظم کے وجود کی نہیں تو اور کیا ہے ؟
بطونہٖ ، کی ضمیر واحد مذکر غائب انعام کی طرف مذکور کے معنی میں لوٹ رہی ہے کسائی اور مبرد نے یہی کہا ہے، نیز لفظ کی رعایت سے بھی مذکر کی ضمیر لانا جائز ہے، اگر معنی کی رعایت ہو تو ضمیر مؤنث کی ہوگی جیسا کہ سورة مومنون میں ہے۔
اَوحٰی۔۔۔ النحل، وحی کے یہاں اصلاحی معنی مراد نہیں ہیں بلکہ معنی مراد ہیں وہ یہ کہ مخاطب کو کوئی خاص بات مخفی طور پر اس طرح سمجھا دے کہ دوسرا شخص اس کو نہ سمجھ سکے۔ النحل شہد کی مکھی اپنی عقل و فراست اور حسن تدبیر کے لحاظ سے تمام حیوانات میں ممتاز جانور ہے۔
شہد کی مکھی کی فہم و فراست : شہد کی مکھیوں کی فہم و فراست کا اندازہ ان کے نظام حکومت سے بخوبی ہوتا ہے اس ضعیف جانور کا نظام زندگی انسانی سیاست و حکمرانی کے اصول پر چلتا ہے، تمام نظم ایک بڑی مکھی جس کو یعسوب (رانی) کہتے ہیں کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو تمام مکھیوں کی حکمراں اور ملکہ ہوتی ہے اس کی تنظیم اور تقسیم کار کی وجہ سے پورا نظام صحیح سمت میں چلتا رہتا ہے، اس کے عجیب و غریب نظام اور مستحکم قوانین کو دیکھ کر عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے، خود یہ ملکہ تین ہفتوں میں چھ ہزار سے بارہ ہزار تک انڈے دیتی ہے ملکہ (رانی) اپنی قدوقامت اور وضع و قطع کے لحاظ سے دوسری مکھیوں سے ممتاز ہوتی ہے ملکہ تقسیم کار کے اصول پر اپنی رعایا کو مختلف امور پر مامور کرتی ہے ان میں سے بعض دربانی کے فرائض انجام دیتی ہیں، اور کسی نامعلوم خارجی فرد جو اندر داخل نہیں ہونے دیتیں، بعض انڈوں کی حفاظت کرتی ہیں، بعض نابالغ بچوں کی تربیت کرتی ہیں بعض معماری اور انجینئیر کے فرائض انجام دیتی ہیں، ان کے تیار کردہ چھتوں کے خانے بیس ہزار تک ہوتے ہیں، بعض موم جمع کرکے معماروں کے پاس پہنچاتی رہتی ہیں جس سے وہ اپنے مکانات تعمیر کرتی ہیں، یہ مختلف پارٹیوں اور جماعتیں اپنے اپنے مفوضہ امور کع نہایت سرگرمی سے انجام دیتی ہیں اور اپنی ملکہ کے حکم کو دل سے قبول کرتی ہیں ان کی ڈیوٹی کی تبدیلی کا نظام بھی بڑی استواری کے ساتھ چلتا ہے، نظافت و پاکیزگی کا اس قدر اہتمام کرتی ہیں کہ اگر کوئی مکھی کسی گندی یا مضر چیز پر بیٹھ جائے تو چھتے کے دربان اس کو باہر ہی روک لیتے ہیں اور تفتیش و تحقیق کے بعد اگر ثابت ہوجائے کہ ان کا لایا ہوا مادہ مضر و نقصان دہ ہے تو ملکہ اس کو قتل کردیتی ہے ان کے اس حیرت انگیز نظام اور حسن کارکردگی کو دیکھ کر انسان حیرت میں پڑجاتا ہے، ماہرین حیوانات نے شہد کی مکھی کے نظام حیات کار اور ضابطۂ حکمرانی کے متعلق کتابیں تصنیف کی ہیں اور ایسے ایسے عجیب و غریب انکشافات کئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
شہد کے منافع و فضائل : شہد کے منافع طب یونانی اور طب ہندی (ویدک) طب افرن کی (ڈاکٹری) سب کو مسلم ہیں اس کے فوائد شروع سے مسلم چلے آتے ہیں طب یونانی اور طب ہندی کی کتابوں میں ہزار ہاسال سے برابر درج ہیں، ادھر چند سالوں سے یورپ بھی ادھر زیادہ متوجہ ہوا ہے، اور جرمن، سوئٹزرلینڈ، فرانس اور روس کے ڈاکٹروں نے بالخصوص اس کے معالجاتی تجربے کئے ہیں ان سے ثابت ہوا ہے کہ امراض دوران خون، امراض تنفس، امراض جگر، امراض صدر، امراض شرائین، امراض امعاء، امراض چشم، امراض جلد وغیرہ میں نہایت درجہ مفید ہے، اور ڈاکٹرز کی علی مبارک ایک طبی مقالہ میں لکھتے ہیں کہ دراصل شہد ایک قدرتی نعمت ہے جو بہت سی ایسی ضرورتوں میں کام آتا ہے جسے پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔
أن۔۔۔ بیوتا تقریبًا ہر جاندار اپنے رہنے سہنے کے لئے ٹھکانہ بناتا ہے مگر شہد کی مکھی کو خاص طور پر اپنے گھر بنانے کی نہ صرف ہدایت دی ہے بلکہ بنانے کا طریقہ اور جائے وقوع کی نشان دہی بھی فرمادی ہے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کے علاوہ مکھی کے چھتے پر بیت کا اطلاق فرمایا جو عمومًا انسانی رہائش گاہوں کے لئے بولا جاتا ہے، اس سے اشارہ ایک تو اس طرف کردیا کہ مکھیوں کو جو شہد تیار کرنا ہے اس کے لئے پہلے سے ایک محفوظ گھر بنالیں اور دوسرا اس طرف اشارہ کردیا کہ جو گھر یہ بنائیں گی وہ عام جانوروں کے گھروں کی طرح نہیں ہوں گے بلکہ ان کی ساخت اور بناوٹ غیر معمولی قسم کی ہوگی چناچہ ان کے گھر دیگر جانوروں کے گھر سے ممتاز ہوتے ہیں، جن کو دیکھ کر انسانی عقل بھی حیران و ششدر رہ جاتی ہے، ان کے گھر مسدس شکل کے ہوتے ہیں پرکار اور مسطر سے بھی اگر ان کی پیمائش کی جائے تو بال برابر بھی فرق نہیں نکلتا مسدس شکل کے علاوہ دوسری کسی شکل مثلاً مربع، مخمس وغیرہ کو اس لئے اختیار نہیں کرتی کہ ان کے بعض گوشے بےکار رہ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے صرف گھر بنانے ہی کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کا محل وقوع بھی بتلا دیا کسی بلندی پر ہونا چاہیے کیونکہ ایسی جگہ پر شہد گندگی اور آلودگی سے محفوظ رہتا ہے اور صاف اور تازہ ہوا ملتی ہے جس کی وجہ سے صاف اور شفاف رہتا ہے، نیز توڑ پھوڑ سے بھی محفوظ رہتا ہے چناچہ فرمایا ” من الجبال ومن الشجر وممایعرشون “ یعنی ان کے گھروں کی تعمیر پہاڑوں درختوں اور عمارتوں پر ہونی چاہیے تاکہ شہدبالکل محفوظ طریقہ پر تیار ہوسکے۔
ثم۔۔۔ الثمرات، یہ دوسری ہدایت ہے جس میں مکھی کا حکم دیا گیا ہے کہ اپنی رغبت اور پسند کے مطابق پھلوں، پھولوں سے رس چوسے من کل الثمرات دنیا بھر کے پھل پھول مراد نہیں ہیں بلکہ وہ پھل پھول مراد ہیں جن تک بآسانی رسائی ہوسکے، معلوم ہوا کہ کل سے کل استغراقی مراد نہیں ہے بلکہ ان کی تمام ضروریات و مناسبات مراد ہیں۔ یہ مکھیاں پھلوں اور پھولوں کے ایسے قیمتی اور مفید اجزاء چوستی ہیں کہ آج کے سائنسی دور میں مشینوں سے بھی وہ جوہر نکالا نہیں جاسکتا۔
فاسلکی۔۔۔ ذُلُلاً ، شہد کی مکھی کو یہ تیسری ہدایت ہے کہ اپنے رب کے ہموار کئے ہوئے راستوں پر چلے، شہد کی مکھی جب اپنے گھر سے دور دراز مقامات پر پھلوں اور پھولوں کا رس چوسنے کے لئے جاتی ہے تو بظاہر اس کا اپنے گھر واپس آنا مشکل ہونا چاہیے تھا لیکن اللہ نے اس کے لئے راہوں کو آسان بنادیا ہے، چناچہ وہ میلوں دور نکل جاتی ہے اور بغیر بھولے بھٹکے اپنے گھر واپس پہنچ جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فضا میں اس کے لئے راستے بناد یئے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس حقیر و ناتواں کے لئے فضا کو مسخر کردیا ہے تاکہ وہ کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے گھر اسانی سے آجا سکے۔
فیہ۔۔۔ للناس، اس کی کچھ تشریح سابق میں گذر چکی ہے شہد قوت بخش غذا ہے اور امراض کے لئے نسخۂ شفاء بھی، بلغمی امراض میں تو بلا واسطہ اور دیگر امراض میں دوسری دواؤں کے ساتھ ملا کر بطور دوا شہد کا استعمال ہوتا ہے، معجونوں میں خاص طور پر استعمال کرتے ہیں، اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ خود بھی خراب نہیں ہوتا اور دوسری اشیاء کی بھی طویل عرصہ تک حفاظت کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال سے اطباء اس کو الکحل کی جگہ استعمول کرتے آئے ہیں۔
شہد کے متعلق ایک صحابی کا واقعہ : اخرج البخاری و مسلم و غیر ھما من حدیث ابی سعید، أنَّ رجلاً اَتی رسول اللہ ﷺ فقال یا رسول اللہ ! ان اخی استطلق بطنہ، فقال ” اسقہ عسلاً “ فسقاہ عسلاً ، ثم جاء فقال سقیتہٗ عسلاً فما زاد الا استطلاقًا، قال اذھب فاسقہ عسلاً فذھب فسقاہ فقال مازادہ الا استطلاقًا فقال، رسول اللہ ﷺ صدق اللہ و کذب بطن اخیک، اذھب فاسقہ عَسَلاً فذھب فسقاہ عسلاً فبرئَ.
شہد مسہل ہے اور پیٹ سے فاسد مادہ نکالنے میں بہت مفید ہے : رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک صحابی نے اپنے بھائی کے استطلاق بطن، یعنی دستوں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے شہد پلانے کا مشورہ دیا دوسرے دن اس نے آکر بتلایا بیماری بدستور ہے آپ نے پھر شہدپلانے کا مشورہ دیا تیسرے دن جب اس نے کہا اب بھی کوئی فرق نہیں ہے تو آپ نے فرمایا ” صدق اللہ و کذب بطن اخیک “ یعنی اللہ کا قول بلا ریب سچا ہے تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، مطلب یہ ہے کہ دواء کا قصور نہیں ہے بلکہ مریض کے مزاج خاص کی وجہ سے جلدی اثر نہیں ہوا یا یہ کہ فاسد مادہ زیادہ، مقدار میں تھا جب تمام فاسد مادہ نکل گیا تو فائدہ ہوگیا۔
Ayahs 16:71–76آیت نمبر 71 تا 76
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے رزق میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تو تم میں مالدار اور غریب اور مالک ومملوک (دونوں قسم کے
لوگ) ہیں، یعنی جو مال وغیرہ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں اپنے اور اپنے غلاموں کے درمیان شرکت کرنے والے نہیں ہیں اس طریقہ پر کہ آقا و غلام اس میں برابر کے شریک ہوجائیں مطلب یہ ہے کہ ان کے غلاموں میں سے کوئی غلام ان کے مالوں میں شریک نہیں ہے تو پھر خدا کے غلاموں میں سے بعض کو اس کا کس طرح شریک ٹھہراتے ہیں ؟ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہورہے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری ہی جنس کی تم کو بیویاں عطا فرمائیں چناچہ حوّاء کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا فرمایا اور تمام انسانوں کو مردوں اور عورتوں کے نطفہ سے پیدا فرمایا اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے عطا کئے، یا اولاد عطا فرمائی اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں یعنی قسم قسم کے پھل اور غلے اور جانور رزق کے طور پر عطا فرمائے کیا پھر بھی یہ لوگ باطل بت پر ایمان لائیں گے اور کیا وہ لوگ خدا کا شریک ٹھہرا کر اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کریں اور اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی بندگی کریں گے، اور وہ بارش کے ذریعہ آسمان سے اور نباتات کے ذریعہ زمین سے رزق دینے کے کچھ بھی مختار نہیں ہیں (شیئًا) رزقًا سے بدل ہے، اور نہ کسی چیز پر قدرت رکھتے ہیں اور وہ بت ہیں، تو تم اللہ کے لئے مثالیں مت گھڑو (یعنی) اللہ کی کسی شبیہ قرار نہ دو کہ ان کو تم اس کا شریک ٹھہراؤ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ اس کا کوئی مثل نہیں، اور تم اس کو نہیں جانتے اللہ نے عبد مملوک کی ایک مثال بیان فرمائی (عبدًامملو کاً ) مَثلاً سے بدل ہے (مملو کاً ) عبدًا کی صفت ہے جس کی وجہ سے غلام آزاد سے ممتاز ہوگیا، اسلئے کہ آزاد (بھی) اللہ کا بندہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے کسی شئ پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک شخص وہ ہے کہ جس کو ہم نے اپنے پاس سے معقول (خوب) روزی دے رکھی ہے (مَن) نکرۂ موصوفہ ہے (ای عبدًا حرًا) اور وہ پوشیدہ طور پر اور ظاہر طور پر اس میں سے خرچ کرتے ہیں یعنی جس طرح چاہتے ہیں اس میں تصرف کرتے ہیں، پہلی بتوں کی مثال ہے اور دوسری اللہ کی مثال ہے، تو عبد عاجز اور آزاد خود مختار (و متصرف) برابر ہوسکتے ہیں نہیں ہوسکتے، سب تعریفیں اللہ وحدہ کے لئے ہیں بلکہ ان میں کے اکثر یعنی اہل مکہ اس عذاب کو نہیں جانتے کہ جس کی طرف کا رہے ہیں (اسی عدم واقفیت) کی وجہ سے وہ شرک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی ایک اور مثال بیان فرمایا (رجلین) مثلاً سے بدل ہے ایک ان میں سے پیدائشی گونگا ہے وہ کسی کرت کا نہیں اسلئے کہ وہ نہ سمجھ سکتا ہے اور نہ سمجھا سکتا ہے (بلکہ) وہ تو اپنے صاحب پر بوجھ ہے جہاں بھی وہ اسے بھیجے وہ کوئی ٹھیک کام کرکے نہیں لاتا، یعنی کامیابی حاصل نہیں کرتا، یہ کافر کی مثال ہے کیا ایسا یعنی مذکورہ گونگا شخص اور وہ شخص جو انصاف کا حکم دیتا ہے یعنی وہ شخص جو بول سکتا ہے اور لوگوں کو نفع پہنچانے والا ہے اس طریقہ پر کہ وہ عدل کا حکم دیتا ہے اور اس پر آمادہ کرتا ہے برابر ہوسکتے ہیں حال یہ کہ وہ خود راہ مستقیم پر ہے اور یہ دوسرا مومن ہے برابر نہیں ہوسکتے اور کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مثال ہے اور گونگا بتوں کی مثال ہے اور اس سے پہلی مثال کافر اور مومن کی ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : بِرَادِّی، باء جارہ ہے، رادِّی اصل میں رَادِّیْنَ تھا، پھیردینے والے، لوٹا دینے والے، دینے والے، مادہ رَدٌ ہے نون جمع
اضافت کی وجہ سے گرگیا۔ قولہ : بجا علی یہ جَعَلَ سے اسم فاعل جمع مذکر غائب بحالت جر ہے، نون جمع اضافت کی وجہ سے ساقط ہوگیا
قولہ : المعنی لیس لھم شرکا یہ جملہ جواب نفی کے مقام میں واقع ہے اور یہ رد ہے مشرکین پر کہ وہ اپنے غلاموں کو اپنی ملکیت میں مساوی طریقہ پر شریک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور خدا کے معض غلاموں کو اس کی الوہیت میں شریک کرتے ہیں۔
قولہ : یکفرون، یجدون کی تفسیر یکفرون سے کرکے اشارہ کردیا کہ یجحدون، یکفرون کے معنی کو متضمن ہے لہٰذا اس کا متعدی بالباء درست ہے ورنہ تو یجدون متعدی بنفسہ ہے۔
قولہ : بدلٌ من رزقًا بہتر ہوتا کہ مفسر علام شیئًا کو رزقًا سے بدل قرار دینے کے بجائے مفعول بہ قرار دیتے رزقًا کو خواہ مصدر مانیں یا اسم مصدر۔ اسلئے کہ بدل دو معنی میں سے ایک معنی کے لئے آتا ہے بیان کیلئے یا تاکید کیلئے اور یہاں یہ دونوں درست نہیں ہیں۔
قولہ : ولا یستطیعون یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہاں جمع صیغہ لایا گیا اور مالایملکُ میں واحد کا حالانکہ مرجع دونوں کی ضمیروں کا ایک ہے اور وہ ہیں شرکاء .
جواب : یملک میں ما کے لفظ کی رعایت ہے اور یستطیعون میں ما کے معنی کی۔
قولہ : یُصَرِّفہٗ ای یُصرِفہٗ. قولہ : نُجعٌ بضم النون ای الظفر بالشئ۔
تفسیر وتشریح
ربط آیات : واللہ۔۔۔ الرزق، سابقہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم وقدرت کے اہم مظاہرکا تذکرہ فرما کر اپنی توحید کے فطری دلائل بیان فرمائے ہیں، جن کو دیکھ کر ادنی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی کسی مخلوق کو حق تعالیٰ کے ساتھ اس کی صفات اور قدرت میں شریک نہیں مان سکتا، اس آیت میں اسی مضمون کو ایک باہمی معاملہ کی مثال سے واضح کیا گیا ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے انسانی مصالح کے پیش نظر رزق میں سب انسانوں کو برابر نہیں کیا، بلکہ بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے کسی کو ایسا غنی بنادیا جو بہت سے ساز و سامان کا مالک ہے بہت سے خدمتگار اور نوکر چاکر رکھتا ہے وہ خود بھی اپنی منشاء کے مطابق خرچ کرتا ہے اور خدمتگاروں اور نوکروں کو بھی اپنے ہاتھ سے رزق پہنچاتا ہے اور کسی کو اس کے برعکس غلام اور خدمتگار بنادیا کہ وہ دوسروں پر تو کیا خرچ کرتا خود اپنے خرچ میں بھی دوسروں کا دست نگر ہوتا ہے، اور کسی کو متوسط الحال بنادیا نہ اتنا غنی کہ دوسروں پر خرچ کرسکے نہ اتنا فقیر و محتاج کہ اپنی ضروریات میں بھی دوسروں کا دست نگر ہو۔ اس قدرتی تقسیم کا یہ اثر تو سب کے مشاہدہ میں ہے کہ جس کو رزق میں فضیلت دی گئی اور غنی بنادیا گیا وہ کبھی اس کو گوارہ نہیں کرتا ہے کہ اپنے مال کو اپنے غلاموں اور خدمتگاروں میں اس طرح تقسیم کردے کہ وہ مال میں اس کے برابر ہوجائیں، اس مثال سے یہ بخوبی سمجھ آسکتا ہے کہ جب مشرکین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بت اور دوسری مخلوقات جن کی وہ پرستش کرتے ہیں سب اللہ کی مخلوق و مملوک ہیں تو وہ کیسے تجویز کرتے ہیں کہ یہ مخلوق ومملوک اپنے خالق ومالک کے برابر ہوجائیں، یہی مصمون سورة روم کی اس آیت میں ارشاد ہوا ” ضَرَبَ لکم مثلا من انفسکم ھل لکم مما ملکت ایمانکم من شرکاء فیھا رزقنا کم فانتم فیہ سواء “ اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ تم اپنے مملوک و غلاموں کو اپنے برابر کرنا پسند نہیں کرتے تو اللہ کے لئے یہ کیسے پسند کرتے ہو کہ وہ اور اس کی مخلوق و مملوک اس کے برابر ہوجائیں۔ مذکورہ آیت سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوگئی کہ مال و دولت میں عدم مساوات فطری اور طبعی ہے اور تقسیم دولت میں کامل مساوات کا دعوٰی بجائے خود خلاف فطرت ہے۔
اشتراکیوں کا اصل مغالطہ : اشتراکیین کے استدلال میں اصل مغالطہ یہ ہے کہ خود افراد کو جن کے درمیان دولت تقسیم ہوتی ہے باہم مساوی سمجھ کیا گیا ہے اور یہ مفروضہ ہی سرے سے غلط ہے، قوم کے افراد آپس میں یکساں اور مساوی ہیں کہاں ؟ نہ عمر، صحت، جثہ اور جسمانی قوٰی کے لحاظ سے اور نہ عقل و فہم، ہنرمندی اور دماغی صلاحیتوں کے لحاظ سے غرضیکہ کسی بھی معیار سے باہم مساوی نہیں ہیں، اور یہ فرق فطری اور قدرتی ہے مصنوعی نہیں پھر آخر تقسیم دولت میں مساوات کا مطالبہ خود عقلی حیثیت سے کیا معنی رکھتا ہے۔ قرآن مجید جہاں ایک طرف نظام سرمایہ داری کا حامی نہیں اور ہرگز دیکھنا نہیں چاہتا کہ ملک کے اندر کچھ لوگ تو انتہا درجہ کے امیر و کبیر ہوں اور ملک کی بڑی آبادی اپنی بنیادی ضرارتوں سے بھی محروم ہو، دوسری طرف تقسیم دولت میں مساوات کاملہ کا بھی حامی نہیں جیسا کہ سوشلزم کا نظام ہے۔
اسلام کا معاشی نظام عادلانہ ہے : افراط اور تفریط سے بچکر اس کا اپنا ایک مستقل معاشی نظام ہے جو توازن و اعتدال پر مبنی ہے جس میں امیر و غریب کی درجہ بندی قائم رہے گی لیکن ایک طرف ظلم و تمکینت۔ بیجا عیش پرستی، اور دوسری طرف تنگدستی اور مذلت کا وجود بھی باقی نہ رہیگا۔ اسلام اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ دولت کے خزانوں اور کسب معاش کے مرکزوں پر چند افراد یا کوئی خاص جماعت قبضہ کرلے اور دوسرے اہل صلاحیت کے کام کا میدان ہی باقی نہ رہے اس کے لئے قرآن مجید نے سورة حشر میں ارشاد فرمایا ” کَیْلا یکون دولۃ بین الا غنیاء منکم “ یعنی ہم نے تقسیم دولت کا قانون اس لئے بنایا ہے کہ دولت صرف سرمایہ داروں میں محصور ہو کر نہ دہ جائے۔ آج کل دنیا کے معاشی مظاموں میں جو افراتفری پھیلی ہوئی ہے وہ اس ربانی قانون حکمت کو نظر انداز کرنے ہی کا نتیجہ ہے ایک طرف سرمایہ دارنہ نظام ہے جس میں دولت کے مرکزوں پر سود اور قمار کے راستوں سے چند افراد یا جماعتیں قابض ہو کر باقی ساری مخلوق کو اپنا معاشی غلام بنانے پر مجبور کردیتی ہیں۔ سرمایہ داروں کے اس ظلم و جور کے ردعمل کے طور پر ایک متضاد نظام اشتراکیت کمونزم یا شلزم کے نام سے وجود میں آتا ہے جس کا قدرے تعارف اور خلاف فطرت و عقل ہونا اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ قرآن حکیم نے ظالمانہ سرماداری اور احمقانہ اشتراکیت کی دونوں انتہاؤں کے درمیان افراط وتفریط سے پاک ایک نظام متعارف کرایا ہے کہ رزق و دولت میں فطری تفاوت کے باوجود کوئی فرد یا جماعت کسی کو غلام نہ بنا سکے۔ غیر فطری مساوات کا نعرہ لگانے والے بھی چند قدم چلنے کے بعد اس مساوات کے دعوے کو چھوڑنے اور معیشت میں تفاوت کرنے پر مجبور ہوگئے روس میں حال ہی میں اشترا کی نظام ساٹھ (60) ستر (70) سال اپنی عمر پوری کرنے کے بعد ناکام ہوگیا۔
روس کے سابق صدر خروشیف کا اعلان ناکامی : خروشیف نے 5 مئی 1960 کو سپریم سویت کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا ” ہم اجرتوں میں فرق مٹانے کی تحریک کے سختی سے مخالف ہیں “ ہم اجرتوں میں مساوات قائم کرنے اور ان کے ایک سطح پر لانے
کے کھلے بندوں مخالف ہیں۔ (معارف)
لیوشیڈو لکھتا ہے : شایدہی کوئی ترقی یافتہ سرمایہ دارملک ایسا ہو جہاں مزدوروں کی اجرتوں میں اتناتفاوت ہوجتناروس میں ہے (تعارف) واقعات کی ان مثالوں نے آیت مذکورہ واللہ فَضَّل بعضکم علی بعض فی الرزق کی جبری تصدیق منکرین کی زبانی کرادی۔ (واللہ یفعل مایشاء) ۔
فلا۔۔۔ الامثال میں ایک اہم حقیقت کو واضح فرمایا ہے جس سے غفلت برتنا ہی تمام کا فرانہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، وہ یہ کہ عام طور پر لوگ حق تعالیٰ کو اپنے بنی نوع انسان پر قیاس کرکے ان میں سے اعلیٰ ترین انسان مثلاً بادشاہ وفرمانروا کو اللہ کی مثال قراردیتے ہیں، اور پھر اس غلط بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کو بھی انسان بادشاہوں کے نظام پر قیاس کرکے کہنے لگتے ہیں کہ جس طرح سلطنت و حکومت میں اکیلا بادشاہ سارے ملک کا انتظام نہیں چلا سکتا بلکہ اپنے ماتحت وزراء اور دوسرے افسروں کو اختیارات سپرد کرکے ان کے ذریعہ نظم مملکت چلاتا ہے اسی طرح یہ بھی ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے ماتحت کچھ اور معبود ہوں جو اللہ کے کاموں اس کا ہاتھ بٹائیں بت پرستوں اور مشرکوں کا عام نظریہ یہی ہے، اس جملہ نے ان کے شبہات کی جڑ کاٹ دی کہ اللہ کے لئے مخلوق کی مثال پیش کرنا خود بےعقلی ہے۔
آخری دو آیتوں میں انسان کی جودو مثالیں دی گئی ہیں ان میں سے پہلی مثال میں تو آقا اور غلام یعنی مالک و مملوک کی مثال دے کر بتایا کہ جب یہ دونوں ایک ہی جنس ایک ہی نوع کے ہوتے ہوئے آپس میں برابر نہیں ہوسکتے تو کسی مخلوق کو خالق کے ساتھ کیسے برابر ٹھہراتے ہو۔ اور دوسری مثال میں ایک طرف ایک انسان ہے جو لوگوں کو عدل و انصاف اور اچھی باتیں سکھاتا ہے جو اس کی قوت علمیہ کا کمال ہے اس علمی اور عملی قوت میں مکمل انسان کے بالمقابل وہ انسان ہے جو نہ خود اپنا کام کرسکتے ہے نہ کسی دوسرے کائی کام درست کرسکتا ہے یہ دونوں قسم کے انسان ایک ہی جنس ایک ہی نوع کے ہونے کے باوجود آپس میں برابر نہیں ہوسکتے تو خالق ومالک کائنات کو حکیم مطلق اور قادر مطلق اور علیم وخبیر ہے اس کے ساتھ کوئی مخلوق کیسے برابر ہوسکتی ہے ؟
Ayahs 16:77–83آیت نمبر 77 تا 83
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے یعنی ان دونوں میں مخفی چیزوں کا علم، قیامت کا معاملہ تو بس ایسا ہوگا جیسا کہ پلک کی ایک جھپک یا اس سے بھی جلدی، اسلئے کہ وہ لفظ کن سے ہوگا، تو وہ ہوجائے گی، یقیناً اللہ ہر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے (لاتعلمون شیئًا) کم ضمیر سے حال ہے، اور اس نے تمہیں کان دیئے سمع، اسماعٌ کے معنی میں ہے اور آنکھیں دیں اور دل دیئے تاکہ تم ان کا شکریہ ادا کرو، اور ایمان لے آؤ، کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ؟ کہ وہ پرواز کے لئے آسمان کی فضاء میں مسخر ہورہے ہیں یعنی آسمان اور زمین کی درمیانی فضاء میں، ان کے بازؤں کو بند کرنے اور کھولنے کی حالت میں اللہ ہی کی قدرت ہے جو ان کو گرنے سے تھامے ہوئے ہے ایمان والوں کے لئے اس میں (قدرت) کی چند نشانیاں ہیں یعنی اس نے ان کو ایسا بنایا کہ ان کے لئے پرواز ممکن ہو اور فضا کو ایسا بنایا کہ اس میں پرواز اور ٹھہرنا ممکن ہو، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے جائے سکون بنایا یعنی ایسی جگہ کہ جس میں تم سکون حاصل کرو، اور تمہارے لئے جانوروں کی کھالوں کے گھر بنائے جیسا کہ خیمے اور قّبے، کہ سفر کے وقت تم ان کو اٹھانے میں ہلکا پھلکا پاتے ہو اور قیام کے دوران (بھی) اور (بھیڑ) بکری کی اون اور اونٹ کے رؤوں اور بکری کے بالوں سے اپنے گھروں کا سامان بناتے ہو جیسا کہ بچھونے اور چادریں، اور ایسا سامان کہ جس سے تم ایک مدت تک کہ جس میں وہ بوسیدہ ہوں فائدہ حاصل کرتے ہو اللہ تعالیٰ نے اپنی کی ہوئی چیزوں سے جیسا کہ گھر اور درخت اور بادل تمہارے لئے سائے بنائے ظِلال، ظلٌ کی جمع ہے جو تم کو دھوپ کی گرمی سے بچاتے ہیں اور تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں (اکنان) کِنَّ کی جمع ہے اور وہ وہ ہے کہ جس میں چھپایا جاسکے مثلاً غار اور تہہ خانے اور تمہارے لئے ایسا لباس بنایا کہ جو تم کو گرمی اور سردی سے بچاتا ہے اور ایسا لباس (زرہ) بنایا کہ تم کو تمہاری آپس کی لڑائی میں نیزہ اور تلوار کی زر سے بچائے، جیسا کہ زرہ اور سینہ بند، اسی طرح جس طرح کہ اس نے یہ چیزیں پیدا فرمائیں، وہ دنیا میں بھی تمہاری ضرورت کی چیزیں پیدا فرماکر تمہارے اوپر اپنی نعمتوں کو مکمل فرماتا ہے تاکہ تم اے اہل مکہ فرمانبردار ہوجاؤ یعنی اس کی توحید کے قائل ہوجائو، اگر یہ لوگ اسلام سے اعراض کریں تو اے محمد ﷺ آپ کے ذمہ تو صاف صاف پہنچادینا ہے یعنی واضح طور پر بیان کردینا، اور یہ حکم جہاد کا نازل ہونے سے پہلے کا ہے (یہ لوگ) خدا کی نعمتوں کو تو پہنچانتے ہیں یعنی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں پھر بھی شرک کر کے ان نعمتوں کا انکار کرتے ہیں اور زیادہ تر ان میں ناشکرے ہیں۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : علم ما غابَ ، ای ماغاب عن العباد . قولہ : کلمح البصر، ای کر جع الطرف من اعلی الحدقۃِ الی اسفلھا .
قولہ : اوھُوَاقرب اوللتخییر او بمعنی ھل . قولہ : اللجملۃ حال لاتعلمون جملہ ہو کر کُمْ ضمیر سے حال ہے اور شیئًا مفعول بہ ہے۔
قولہ : جعل لکم اس کا عطف اخرجکم پر ہے اس کا فاعل اس میں مستتر ہے۔ قولہ : بُسُطٌ، بستر، فرش، بچھونا (واحد) بساط .
قولہ : اکسیۃ، (واحد) کساءً ، چادر۔ قولہ : ظعنکم، ظعن، سفر، کوچ (ف) ظعنًا کوچ کرنا، سفر کرنا۔
قولہ : قباب، یہ قُبّۃٌ کی جمع ہے بمعنی قبہ گنبد۔
قولہ : سرابیل کرتے قمیص، یہ سر بال کی جمع ہے، مطلقًا لباس کے معنی میں بھی مجازاً مستعمل ہے۔
قولہ : الجواش یہ جوش کی جمع ہے، زرہ، بکتر، سربال عام ہے لوہے کی ہو یا کسی اور چیز کی، یا یہاں خود مراد ہے۔
تفسیر وتشریح
لا۔۔۔ شیئًا اس میں اشارہ ہے کہ علم انسان کا ذاتی ہنر نہیں ہے، بچہ پیدائش کے وقت کوئی علم و ہنر نہیں رکھتا، پھر اس کی ضرورت کے مطابق اس کو کچھ کچھ علم سکھایا جاتا ہے سب سے پہلے اس کو رونا سکھایا جاتا ہے اس کی یہی صفت اس کی تمام ضرورت مہیا کرتی ہے، اگرچہ بچہ پیدائش کے وقت روئے نہیں تو والدین فکر مند ہوجاتے ہیں، بچہ اپنی تمام ضرورتوں سے والدین کو رو کر ہی آگاہ کرتا ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ الہامی طور پر بچہ کو ماں کی پستانوں سے دودھ چوسنا سکھاتا ہے اس سکھانے میں نہ ماں باپ کا کوئی دخل ہوتا ہے اور نہ کسی معلم، کا یہ فطری تعلیم ہے جو بلا واسطہ ہوتی ہے، کسی معلم کی کیا مجال تھی کہ وہ نومولود بچہ کو منہ چلانا اور
مسوڑوں سے پستانوں کو دبا کر دودھ چوسنا سکھا دیتا۔
وجعل۔۔۔ تشکرون، یعنی یہ صلاحیتیں اور قوتیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے عطا کی ہیں کہ انسان اعضاء وجوارح کو اس طرح استعمال کرے کہ جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے ان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کرے یعنی اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا عملی شکر ادا کرے، حدیث میں آتا ہے، میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعہ میرا تقریب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں علاوہ ازیں وہ نوافل کے ذریعہ بھی میرا تقریب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور مجھ سے کسی چیز سے پناہ طلب کرتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ (صحیح بخاری)
اس حدیث کا غلط مفہوم لے کر بعض لوگ اولیاء اللہ کو خدائی اختیارات کا حامل باور کراتے ہیں، حالانکہ حدیث کا واضح اور صحیح مطلب یہ ہے کہ جب بندہ اپنی عبادت اور اطاعت اللہ کے لئے خالص کرلیتا ہے تو اس کا ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لئے ہوتا ہے، اپنے کانوں سے وہی بات سنتا اور آنکھوں سے وہی چیز دیکھتا ہے جس کی اللہ نے اجازت دی جس چیز کو ہاتھ سے پکڑتا ہے یا پیروں سے چل کر اس کی طرف جاتا ہے تو وہ وہی چیز ہوتی ہے جس کو شریعت نے روارکھا ہے، وہ ان کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہیں کرتا بلکہ صرف اطاعت میں استعمال کرتا ہے۔
من۔۔۔ بارھا، سے ثابت ہوا کہ جانوروں کی کھال اور بال اور اون سب کا استعمال انسان کے لئے جائز ہے اس میں یہ بھی قید نہیں کہ جانورمذبوح ہو یا مردار اور نہ یہ قید ہے کہ اس کا گوشت حلال ہو یا حرام، ان سب قسم کے جانوروں کی کھال دباغت دیکر استعمال کرنا جائز ہے اور بال اور اون پر تو جانور کی موت کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا وہ تو بغیر کسی خاص صنعت و تبدیلی کے جائز ہے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا یہی مذہب ہے البتہ خنزیر کی کھال اور اس کے تمام اجزاء ہرحال میں نجس اور ناقابل انتفاع ہیں۔
سرابیل۔۔۔ الحرّ ، یہاں کرتے کی غرض گرمی سے بچانا قرار دیا ہے حالانکہ کرتہ انسان کو گرمی اور سردی دونوں سے بچاتا ہے، اس کا ایک جواب تو قرطبی اور دیگر مفسرین نے یہ دیا ہے کہ قرآن حکیم عربی زبان میں نازل ہوا ہے اس کے اولین مخاطب عرب ہیں اس میں عرب کی عادات اور ضروریات کا لحاظ رکھ کر کلام کیا گیا ہے عرب ایک گرم ملک ہے وہاں برف باری اور شدید سردی کا تصور ہی مشکل ہے اسلئے گرمی سے بچانے کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا۔ (معارف)
Ayahs 16:84–89آیت نمبر 84 تا 89
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن میں ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے اور وہ اس امت کا نبی ہوگا، وہ ان کے ایمان و
کفر کی شہادت دے گا، اور وہ قیامت کا دن ہوگا، پھر کافروں کو نہ عذر خواہی کی اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے خوشنودی طلب کرنے کے لئے کہا جائیگا یعنی نہ ان سے اس چیز کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہا جائیگا جس سے اللہ راضی ہوجائے، اور جب کافر عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (عذاب میں) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی ان کو اس عذاب سے مہلت (ڈھیل) دی جائیگی جب وہ اس کو دیکھ لیں گے، اور جب مشرکین شیاطین وغیرہ سے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہی ہیں ہمارے شرکاء جن کی ہم تیرے علاوہ بندگی کیا کرتے تھے تو وہ انھیں جواب دیں گے تم اپنے اس قول میں کہ تم ہماری بندگی کیا کرتے تھے بالکل ہی جھوٹے ہو جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ” ماکانوا اِیَّانا یعبدون “ وہ ہماری بندگی نہیں کیا کرتے تھے (یعنی) عنقریب (روز قیامت) ان کی عبادت سے انکار کردیں گے، اور اس دن اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیں گے اور ان کا یہ جھوٹ کہ ان کے معبود ان کی شفاعت کریں گے گم ہوجائیگا (رفوچکر ہوجائیگا) اور جنہوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے دین سے روکا ہم ان کے اس عذاب پر کہ جس کے وہ کفر کی وجہ سے مستحق ہیں عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے، (حضرت) عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ، ایسے بچھو ہوں گے کہ ان کے دانت لمبائی میں کھجور کے درخت کے برابر ہوں گے، اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کو ایمان سے روک کر فساد برپا کرتے تھے اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہر امت میں ان ہی میں سے ہم ایک گواہ کھڑا کریں گے وہ ان کا نبی ہوگا، اور اے محمد ہم آپ کو ان پر یعنی آپ کو قوم پر گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے آپ پر یہ کتاب قرآن نازل کی جس میں ضروریات شرعیہ میں سے ہر ضرورت کا شافی بیان ہے جن کی لوگوں کو حاجت ہوتی ہے اور گمراہی سے ہدایت ہے اور رحمت ہے مسلمانوں توحید پرستوں کے لئے جنت کی خوشخبری ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : یُسْتَعْتبونَ ، اِسْتِعتاب (استفال) سے مضارع جمع مذکر غائب خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کہنا، رضا مند کرنے کی خواہش کرنا، بعض مفسرین نے لا یُسْتَعْتَبُوْن کا ترجمہ کیا ہے نہ ان کے عذر قبول کئے جائیں گے، علامہ محلّی نے اس لفظ کی تشریح میں لکھا ہے لایطلبُ منھم ان یرضوا رَبَّھم بالتوبۃ وَالطاعۃ لِاَنَّھَا لا تنفعُ یومَئِذ، ان سے اس بات کی طلب نہیں کی جائے گی کہ توبہ اور طاعت کے ذریعہ اپنے رب کو رضا مند کرلیں کیونکہ اس روز یہ چیزیں مفید نہ ہونگی۔
قولہ : اَلذین کفروا الخ مبتداء ہے اور زدناھم اس کی خبر ہے، اور یہ بھی ہے کہ الذین کفروا، الخ یفترون کا فاعل ہو، اور زِدْناھم جملہ مستانفہ ہو .
قولہ : بما کانو یفسدون باء سببیہ ہے اور مامصدر یہ ہے ای بسبب کو نھم مفسدین .
قولہ : ای قومک، یہ ایک تفسیر ہے یعنی ہر نبی اپنی اپنی امت کے متعلق شہادت دے گا آپ ﷺ بھی اپنی امت کے بارے میں شہادت دیں گے، بیضادی نے ایسا ہی کہا ہے، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ھٰؤلاء سے مراد انبیاء ہیں یعنی آپ انبیاء کے بارے میں شہادت دیں گے، اسلئے کہ ہر نبی کا اپنی امت کے بارے میں شہادت دینا جن میں آپ ﷺ بھی شامل ہیں یوم نبعث فی کل اُمّۃ
شھیدًا علیھم من انفسھم سے مفہوم ہے اس بات کو آپ کے بارے میں دوبارہ ذکر کرنا تکرار بلا فائدہ ہے، لہٰذا شھیدًا علی ھٰؤلاء سے
شہادت علی الانبیاء ہی مراد ہوگی، اور ابو سعود کی عبارت یہ ہے، علیٰ ھٰؤلاء الامم وشھدائھِمْ.
تفسیر وتشریح
من۔۔۔ شھیدًا ہر امت کا شاہد اس کا نبی ہوگا اور نبی کے گذر جانے کے بعد نائبین انبیاء شاہد ہوں گے جنہوں نے خالص توحید اور خدا پرستی کی دعوت دی ہوگی، یہ گواہان اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہم نے پیغام حق ان تک پہنچا دیا، اور امۃ سے مراد ظاہر ہے کہ امت دعوت ہے یعنی وہ قوم جو نبی کے پیغام کی طرف مخاطب رہی ہو امت اجابت مراد نہیں ہے۔ (ماجدی)
فالقوا۔۔۔ لکذبون اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واقعۂ پرستش کا انکار کردیں گے، بلکہ وہ دراصل اس واقعۂ پرستش و بندگی کے متعلق اپنے علم و اطلاع اور اس پر اپنی رضا مندی کا انکار کریں گے، وہ کہیں گے کہ نہ ہم نے تم سے کبھی یہ کہا کہ تم خدا کو چھوڑ کر ہمیں پکارا کرو اور نہ ہم تمہاری اس حرکت پر راضی تھے، بلکہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہمیں پکارتے ہو، اگر تم نے ہمیں سمیع الدعاء اور مجیب الدعوات اور دستگیر و فریادرس قرار دیا تھا تو یہ قطعی ایک جھوٹی بات تھی جو تم نے گھڑلی تھی اور اس کے ذمہ دار تم خود تھے، اب ہمیں اس کی ذمہ داری میں لپٹینے کی کوشش کیوں کرتے ہو ؟
وضل۔۔۔ یفترون یعنی وہ سب سہارے جن پر دنیا میں بھروسہ کئے ہوئے تھے سب گم ہوجائیں گے کسی فریادرس کو وہاں فریادرسی کے لئے موجود نہ پائیں گے، کوئی مشکل کشا ان کی مشکل حل کرنے کے لئے نہ ملے گا، کوئی آگے بڑھ کر یہ کہنے والا نہ ملے گا کہ یہ میرے متوسلین میں سے ہیں لہٰذا انھیں کچھ نہ کہا جائے۔
ونزلنا۔۔۔ شئ، ارشاد فرمایا کہ قرآن میں ہر چیز کا واضح بیان ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پر یدایت و ضلالت اور فلاح و
خسران کا مدار ہے اور اس کا جاننا راست روی کے لئے ضروری ہے جس سے حق و باطل کا فرق نمایاں ہوتا ہے غرضیکہ اس سے مراد دین و شریعت کی باتیں ہیں اس لئے معاشی فنون اور ان کے مسائل کو قرآن میں تلاش کرنا غلط ہے، اگر کہیں کوئی ضمنی اشارہ آجائے تو وہ اس کے منافی نہیں۔ بعض لوگ غلط فہمی کی وجہ سے تبیانًا لکل شئ کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ قرآن میں سب کچھ بیان کردیا گیا ہے، پھر وہ اپنے اس دعوے کو نبھانے کے لئے قرآن سے سائنس اور فنون کے عجیب عجیب مضامین نکالنے کی کوشش شروع کردیتے ہیں۔ رہا یہ سوال کہ قرآن میں تو دین و شریعت کے بھی سب مسائل مفصل مذکور نہیں تو تبیانًا لکل شئ کہنا کیسے درست ہوگا ؟ حالانکہ بہت سے مسائل کا بھی واضح طور پر بیان نہیں ہے مثلاً تعداد رکعت، مقدار زکوۃ وغیرہ، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اصول تو تمام مسائل کے موجود ہیں ان ہی کی روشنی میں احادیث رسول ان مسائل کو بیان کرتی ہیں اور یہ قرآن ہی کی ہدایت کے مطابق ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وَمَا آتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا “ اگر کوئی حکم صراحت کے ساتھ قرآن و حدیث میں نہیں ہے تو اس کو قرآن نے اجماع پر محوّل کردیا ہے، ارشاد فرمایا ” ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبیّن لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین “ الخ، اور اگر کسی مسئلہ میں اجماع امت بھی نہ ہو تو قرآن نے قیاس و اجتہاد کرنے کا حکم دیا ہے ” قال اللہ تعالیٰ فاعتبروا یا اولی الابصار “ مسائل و احکام معلوم کرنے کے یہ چار طریقہ ہیں کوئی حکم اور کوئی مسئلہ ان سے خارج نہیں اور یہ چاروں کتاب اللہ میں مذکور ہیں، اس طریقہ پر تبیانًا لکل شئ کہنا درست ہے۔