16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔

(1) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ (آیت) ”اقترب للناس حسابھم“۔ (الخ) اور ”۔ اقتربت الساعۃ“۔ نازل ہوئی تو کچھ زمانہ تک جتنا کہ خدا کو منظور تھا یہ کفار رکے رہے اور کچھ نہیں بولے، اس کے بعد انہوں نے کہا اے رسول اللہ ﷺ وہ عذاب کب آئے گا جس کا آپ نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ ان کی اس بات پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آپہنچا، رسول اکرم ﷺ تشریف فرما تھے یہ سمجھ کر ابھی عذاب نازل ہو رہا ہے، گھبرا کر کھڑے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا، عذاب کے اترنے کی جلدی مت کرو، تب رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ کی ذات ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بلند ہے کہ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی شریک۔ شان نزول : (آیت) ”اتی امر اللہ“۔ (الخ) ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ جس وقت آیت کا یہ حصہ اترا (آیت) ”اتی امر اللہ“۔ (الخ) نازل ہوا تو صحابہ کرام گھبرا گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اگلا حصہ (آیت) ”فلا تستعجلوہ“۔ نازل کیا تو سب خاموش ہوگئے۔ عبداللہ بن امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے زوائد الزہد میں اور ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوبکر بن ابوحفص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کا حکم آپہنچا تو سب سن کر کھڑے ہوگئے، پھر اگلا حصہ نازل ہوا یعنی سو تم جلدی نہ کرو
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی فرشتوں کو پیغام دیکر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے۔ کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو۔

(2) اللہ تعالیٰ جبریل امین ؑ اور دوسرے فرشتوں کو نبوت واسلام یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہیں یعنی رسول اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام پر نازل فرماتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کو خبردار کرو اور قرآن حکیم پڑھ کر ان کو سناؤ تاکہ وہ اس بات کے قائل ہوجائیں کہ میرے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں، سو وہ میری ہی اطاعت کریں اور مجھ ہی سے ڈرتے رہیں۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے۔

(3) اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اللہ کے لیے یا یہ کہ زوال وفنا کے لیے بنایا اس کی ذات ان بتوں وغیرہ کے شرک سے پاک ہے۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا۔

(4) اور انسان کو یعنی ابی بن خلف جہنمی کو سڑے ہوئے نطفہ سے بنایا پھر وہ یکایک باطل کی حمایت میں کھلم کھلا جھگڑنے لگا کہ ہڈیاں جب ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو پھر ان کو کون زندہ کرے گا۔
Ayahs 16:5–7

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لئے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو۔

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور جب شام کو انھیں (جنگل سے) لاتے ہو اور) جب صبح کو (جنگل) چرانے لیجاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے۔

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمت شاقہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارے پروردگار نہایت شفقت والا مہربان ہے۔

(5۔ 6۔ 7) اور اسی نے چوپایوں یعنی اونٹوں کو بنایا کہ اس کی کھال کا پوستین اور بالوں کا کمبل بنتا ہے سواری اور دودھ وغیرہ کے علاوہ اور بھی منافع ہیں اور ان کا گوشت بھی کھاتے ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے، جب کہ ان کو چرا کر شام کے وقت لاتے ہو اور جب کہ صبح کو ان کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ اور وہ تمہارے سامان اور توشوں کو لاد کر مکہ تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان کو محنت میں ڈالے بغیر خود بھی نہیں پہنچ سکتے تھے، واقعی تمہارا پروردگار ایمان والوں پر بڑا شفیق اور تم سے عذاب کے موخر کرنے میں رحیم ہے۔
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لئے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جنکی تم کو خبر نہیں۔

(8) اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی پید اکیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تم ان پر سوار ہو اور تمہاری زینت و خوشی کے لیے بھی ان کو پیدا کیا اور وہ ایسی ایسی چیزیں بناتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں، اور جو تمہارے کبھی سننے میں بھی نہیں آئیں۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھا راستے پر چلا دیتا۔

(9) اور خشکی وتری میں اللہ تعالیٰ ہی راستہ دکھاتا ہے اور بعضے راستے ٹیڑھے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے مقصود تک رسائی ممکن نہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خشکی وتری میں سب کو سیداھا راستہ بتلا دیتا ، یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ ہدایت و توحید کا جو سیدھا راستہ ہے وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور بعض ادیان یہودیت، نصرانیت و مجوسیت کی طرح ٹیڑھے اور راہ حق سے ہٹے ہوئے ہیں، اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو اپنے دین کی طرف ہدایت عطا فرما دیتا۔
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔

(10) وہ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ جس نے تمہارے لیے بارش برسائی کہ جنگلات اور شہروں میں تمہیں کو اس کے ذریعے سے پانی ملتا ہے اور اس کے سبب سے درخت اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اسی پانی سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور (اور بیشمار درخت) اگاتا ہے اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بڑی) نشانی ہے۔

(11) جس کو تم اپنے مویشی کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو اور اس پانی سے تمہارے لیے انگور اور ہر ایک قسم کے پھل اگاتا ہے، ان قسم قسم کے پھلوں اور ان کے مختلف مزوں میں ان حضرات کے لیے جو کہ مخلوقات خداوندی میں غور کرتے ہیں، خالق کے لیے بہت سی عبرتیں اور دلیلیں موجود ہیں۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(12) اور اس نے تمہارے فوائد کے لیے رات دن کو مسخر کیا اور ستارے بھی اس کے حکم کے تابع ہے یقیناً ان مذکورہ چیزوں کے مسخر کرنے میں چند دلیلیں موجود ہیں، ان لوگوں کے لیے جو اس بات کو جانتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ ہی نے مسخر کیا ہے۔
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لئے اس میں نشانی ہے۔

(13) اور اسی طرح ان مختلف نباتات اور پھلوں کو بھی پیدا کر کے تمہارے لیے مسخر کیا، ان کے مختلف قسم اور رنگوں پر پیدا کرنے میں ان لوگوں کے لیے جو نصائح قرآنی سے نصیحت حاصل کرتے ہیں، بہت عبرت اور بہت دلائل موجود ہیں۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ۔ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں اور اس لئے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ (اسکا) شکر کرو۔

(14) اور اسی ذات نے دریا کو مسخر کیا تاکہ اس میں سے تازہ مچھلی نکال کر کھاؤ اور تاکہ اس دریا میں سے موتیوں وغیرہ کا زیور نکالو اور تو کشتی کو دیکھتا ہے کہ ایک ہوا کے رخ پر اس دریا کا پانی چیرتی ہوئی چلی جارہی ہے اور دوسرے مقامات پر سے آرہی ہے تاکہ تم اس کے ذریعے سے کماؤ یا یہ کہ اللہ کا دیا رزق تلاش کرو۔
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بناکر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور ستے بنادیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جا سکو۔

(15) اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کرو اور اس زمین میں بڑے بڑے مضبوط پہاڑ رکھ دیے تاکہ وہ زمین کو ہلنے نہ دیں اور اس نے تمہارے فوائد کے لیے نہریں بنائیں اور راستے بنائے تاکہ تم راستوں کو پہچان کر منزل مقصود تک پہنچ جاؤ۔
Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (راستوں میں) نشانات (بنادیئے) اور لوگ ستاروں سے بھی راستے معلوم کرتے ہیں۔

(16) اور مسافروں کے لیے پہاڑوں وغیرہ کی بہت سی نشانیاں بنائیں اور بالخصوص فرقدین اور جدی ستاروں سے بھی مسافر خشکی وتری کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(17) سو کیا جو پیدا کرتا یعنی اللہ تعالیٰ تو وہ ان بتوں جیسا ہوجائے گا کہ جو پیدا ہی نہیں کرسکتے تو کیا پھر بھی تم مخلوقات خداوندی کی اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گن نہ سکو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(18) اگر تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو گننے لگو تو کبھی نہ گن سکو یا یہ کہ ہرگز شکر نہ ادا کرسکو واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے اور توبہ کرنے والے پر بڑی رحمت والے ہیں۔
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے۔

(19) واقعی اللہ تعالیٰ تمہارے پوشیدہ اور ظاہری احوال خواہ خیر ہوں یا شر سب کو جانتے ہیں۔
Ayahs 16:20–21

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بنا سکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ لاشیں ہیں بےجان ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے۔

(20۔ 21) اور جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں، وہ کسی بھی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے جیسا کہ ہم پیدا کرسکتے ہیں بلکہ وہ خود ذلیل مخلوق ہیں اور وہ بہت مردہ ہیں، ان کے ان معبودوں کو اتنی بھی خبر نہیں کہ وہ قبروں سے کب اٹھائے جائیں گے اور پھر حساب ہوگا یا یہ کہ کفار کو یہ بھی خبر نہیں کہ کب حساب ہوگا یا یہ کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ حساب و کتاب کب ہوگا۔
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں۔

(22) اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارا سچا معبود ایک ہی ہے یہ بت وغیرہ نعوذ باللہ تمہارے معبود نہیں جو لوگ مرنے کے بعد زندگی پر ایمان نہیں لاتے، ان کے دل ہی توحید سے منکر ہورہے ہیں اور وہ ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا ضرور اس کو جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

(23) ضروری بات ہے کہ یہ لوگ جو اپنے دلوں میں بغض وحسد ومکروخیانت چھپائے ہوئے ہیں اور لعن وطعن ولڑائی کے ساتھ پیش آتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے یہ سب احوال جانتے ہیں اور یقین بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان سے تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

(24) جب ان حصے کرنے والوں سے کہا جاتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ تمہارے سامنے تمہارے پروردگار کے کیا احکامات بیان کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ وہ تو پہلے لوگوں کی محض بےبنیاد باتیں ہیں۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی (اٹھائیں گے) سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔

(25) نتیجہ یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا وزن اور اسی طرح ان لوگوں کے گناہوں کا بھی وزن جن کو یہ لوگ اپنی لاعلمی اور جہالت کی بنا پر رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے گمراہ کررہے تھے یاد رکھو کہ یہ حصے کرنے والے جن گناہوں کو اپنے اوپر لاد رہے ہیں وہ بہت ہی برا بوجھ ہے۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

(26) جیسا کہ یہ لوگ آپ کی مخالفت کیلیے بڑی بڑی تدبیری کرتے ہیں جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے اپنے انبیاء کرام کے مقابلہ کے لیے بڑی بڑی تدبیریں کرتے ہیں جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں، انہوں نے اپنے انبیاء کرام کے مقابلہ کے لیے بڑی بڑی تدبیریں کیں جیسا کہ نمرود جبار کہ اس نے آسمان پر جانے کے لیے سیڑھی بنائی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا بنابنایا گھر (سیڑھی) جڑ سے ڈھا دیا تو گویا ان پر اوپر سے وہ سیڑھی آپڑی اور یہ انہدام کا عذاب ان پر ایسی حالت میں آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا۔
Ayahs 16:27–28

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (وہ یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے۔

(27۔ 28) اور پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دے گا اور ذلیل کرے گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے فرمائے گا کہ تم نے جن معبودوں کو میرے شریک بنا رکھا تھا جن کی وجہ سے تم مخالفت کیا کرتے تھے اور جن کے بارے میں تم میرے انبیاء کرام سے لڑائی جھگڑا کرتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ فرشتے اس حالت کو دیکھ کر کہیں گے، قیامت کے دن کا عذاب یعنی دوزخ اور اس کی شدت و سختی کافروں پر ہے جن کی جان فرشتوں نے بدر کے دن قبض کی تھی۔ پھر کافر اس کا جواب دینے کی کوشش کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے نیچے اور دبے ہوئے ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز کی پرستش نہیں کی تھی اور ہماری کیا مجال تھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کو رد کردیں گے کہ کیوں نہیں یقیناً اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اقوال وافعال شرکیہ کی مکمل خبر ہے۔
Ayah 16:29

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

(29) سو جہنم میں جاؤ، اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو، وہاں تمہیں نہ موت آئے گی اور نہ وہاں سے تم نکالے جاؤ گے، جہنم کافروں کا بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) جو لوگ نیکو کار ہیں ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیزگاروں کا گھر بہت خوب ہے۔

(30) اور جو حضرات کفر وشرک اور تمام فواحش سے بچتے ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ کرام ؓ ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے تمہارے سامنے تمہارے پروردگار کا کیا پیغام بیان کیا تو وہ کہتے ہیں کہ توحید اور صلہ رحمی بیان کی اور جو حضرات توحید خداوندی پر کار بند ہیں، ان کو قیامت کے دن جنت ملے گی اور جنت تو پھر دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے کئی درجے بہتر ہے، اور واقعی جنت کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے اچھا گھر ہے۔
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں) وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلا دیتا ہے۔

(31) اور وہ حضرت رحمن کی خوشنودی کا مقام ہے اس کی عمارات اور درختوں کے نیچے سے شہد، دودھ، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی، جنت میں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا اور اس کی خواہش ہوگی وہاں ان کو ملے گی، اسی طرح کا بدلہ اور ثواب اللہ تعالیٰ کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کو دے گا۔
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے انکی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر و شرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ۔

(32) جن کی روحیں فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ شرک سے پاک صاف ہوتے ہیں اور وہ فرشتے کہتے جاتے ہیں کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام ہو، تم اپنے ایمان اور دنیا میں جو نیکیاں کرتے تھے، اس کی وجہ سے جنت میں چلے جانا۔
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے انکے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے ؟ اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے تھے۔ اور خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

(33) اور مکہ والے جو ایمان نہیں لا رہے ہیں یہ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کی ارواح کے قبض کے لیے فرشتے آجائیں یا ان کی ہلاکت کے لیے آپ کے پروردگار کا عذاب آجائے جیسا کہ آپ کی قوم آپ کے معاملہ کرتی ہے کہ آپ کی تکذیب کرتی اور آپ کو برا کہتی ہے اسی طرح آپ کی قوم سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے بھی اپنے انبیاء کرام کے ساتھ یہی معاملہ کیا کہ ان کو جھٹلایا اور ان کو برا بھلا کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کرکے ان پر ذرا ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی شرک اور انبیاء کرام کی تکذیب کرکے اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں۔
Ayah 16:34

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا

(34) آخر ان کے اعمال بد کی اور ان کی نافرمانیوں کی ان کو سزائیں ملیں اور انبیاء کرام کے ساتھ جو وہ استہزاء کرتے تھے اسی کی سزا نے ان کو پکڑایا یہ کہ جس عذاب کی خبر پانے پر وہ ہنستے تھے، ان کو اسی عذاب نے پکڑا۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔

(35) اہل مکہ جو بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم اور نہ ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بتوں کی عبادت کرتے اور نہ ہم بغیر حکم الہی کے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام میں سے کسی کو حرام کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام کیا اور اسی نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے، جیسا کہ آپکی قوم کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف کھیتی اور جانوروں کی حرمت کی افتراء پردازی کرتی ہے، اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی افتراء پردازی کی تھی، سو پیغمبروں کی ذمہ داری تو صرف احکام خداوندی کا واضح ایسی زبان میں پہنچا دینا ہے جس زبان کو ان کی قوم سمجھتی ہو۔
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

(36) جیسا کہ ہم نے آپ کو آپ کی قوم کی طرف بھیجا ہے، اسی طرح ہم نے ہر ایک قوم کی طرف کسی نہ کسی رسول کو بھیجا ہے، اس بات کے لیے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہو اور بتوں یا شیطان یا کاہن کی پوجا کو چھوڑو۔ سو جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا تھا ان میں سے بعض ایسے بھی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کی ہدایت کردی اور انہوں نے رسولوں کی دعوت پر لبیک کہی اور کچھ پر گمراہی کا ثبوت ہوگیا، انہوں نے رسولوں کی دعوت ایمانی کو قبول نہیں کیا تو زمین میں سفر کرکے دیکھو کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کیلئے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کو کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا۔

(37) اور اگر آپ کو ان کے توحید کے قائل ہونے کی خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ایسے شخص کی ہدایت نہیں کیا کرتا ہے جو مخلوق کو دین الہی سے گمراہ کرے اور وہ دین خداوندی کا اہل نہ ہو اور کفار مکہ یاد ررکھیں کہ عذاب الہی سے انکو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائیگا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(38) اور یہ لوگ بڑے زور لگا لگا کر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ نہیں کریں گے کیوں نہیں، مرنے کے بعد ضرور زندہ کرے گا اس دوبارہ زندہ کرنے کے وعدہ کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لازم کر رکھا ہے، لیکن مکہ والے نہ اس چیز کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”واقسموا باللہ جہد“۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوالعالیہ سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص کا مشرکین میں سے کسی پر کچھ قرض تھا، چناچہ مسلمان اس پر تقاضا کے لیے آیا اور درمیان گفتگو کہنے لگا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جو مرنے کے بعد زندہ کرے گا، یہ سن کر وہ مشرک کہنے لگا کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ تو مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا، میں اللہ تعالیٰ کی بڑا زور لگا کر قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو مرجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دے اور اس لئے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

(39) تاکہ دین کے متعلق جس چیز میں اہل مکہ اختلاف کیا کرتے تھے، ان کے روبرو اس چیز کا اظہار کردے اور تاکہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور قیامت کے منکرین کو پورا یقین ہوجائے گا کہ دنیا میں ہم ہی جھوٹ کہتے تھے۔
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارے بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

(40) جی یہ کہتے تھے کہ جنت دوزخ، بعث و حساب کچھ نہیں اور ہم قیامت جس وقت قائم کرنا چاہیں گے سو ہمارا اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ تو قائم ہوجا، سو وہ ہوجائے گی۔