Ayahs 16:1–41:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔
2:۔ نحاس نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی سوائے تین آیات کے اس کے آخر میں اور آخری تین آیات مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ جنگ احد سے واپس آرہے تھے۔
3:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ خوفزدہ ہوگئے یہاں تک کہ (آیت ) ” فلا تستعجلوہ “ نازل ہوا تو ہو ٹھہرگئے۔
4:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی تو صحابہ کھڑے ہوگئے پھر نازل ہوا (آیت) ” فلا تستعجلوہ “ (یعنی جلدی نہ کرو) ۔
5:۔ ابن مردویہ نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتی امر اللہ “ سے مراد محمد ﷺ کا ظہور وخروج ہے۔
6:۔ ابن جریر نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی اور میں نے سورة نحل پڑھی دو آدمی آئے اور انہوں نے ہماری قرأت کے خلاف پڑھا میں نے ان دونوں کا ہاتھ پکڑا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ان دونوں سے قرأت سنیں ان میں سے ایک نے پڑھا آپ نے فرمایا تو نے ٹھیک پڑھا پھر آپ نے دوسرے سے پڑھنے کو فرمایا (اس کا سن کر) آپ نے فرمایا تو نے ٹھیک پڑھا میرے دل میں زمانہ جاہلیت کے شک کرنے اور جھٹلانے سے زیادہ شک پیدا ہوا رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا میں تیرے لئے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شک اور شیطان سے میرا پسینہ بہنے لگا آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے تھے اور فرمایا قرآن کو ایک حرف پر پڑھو میں نے عرض کیا میری امت اس بات کی طاقت نہیں رکھتی یہاں تک میں نے سات مرتبہ کہا آپ نے فرمایا تو (پھر) جبرئیل نے مجھے سے فرمایا سات حروف پر پڑھو بار بار میں نے یہی سوال دہرایا۔
قیامت قریب آچکی ہے :
7:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت ) ” اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ “ نازل ہوئی تو منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے بعض لوگوں سے کہا کہ یہ آدمی (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم قریب آچکا تو رک جاؤ بعض ان اعمال سے جو تم کرتے ہو یہاں تک کہ تم انتظار کرو کہ کیا ہونے والا ہے جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی عذاب وغیرہ نازل نہیں ہوا تو کہنے لگا کہ ہم نے کوئی چیز نازل ہوتے ہوئے نہیں دیکھی تو یہ (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت 1) نازل ہوئی منافقین نے پہلے کی طرح کہا جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی چیز نازل نہیں ہوتی ہے تو کہنے لگے ہم کسی چیز کو نازل ہوتا نہیں دیکھتے ہیں تو یہ (آیت) ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “ (ھود آیت 8) نازل ہوئی۔
8:۔ ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا) عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے تم پر ایک سیاہ بادل طلوع ہوگا مغرب کی طرف سے ڈھال کی طرح وہ برابر آسمان میں بلند ہوگا یہاں تک کہ آسمان کو ڈھانپ لے گا پھر ایک آواز لگانے والا آواز دے گا اے لوگو تو لوگوں میں سے بعض بعض پر متوجہ ہوگا (اور کہے گا) کیا تم سن لیا ان میں سے بعض کہیں گے ہاں اور ان میں سے بعض شک کریں گے پھر دوسری مرتبہ آواز دے گا اے لوگو تو لوگ کہیں گے کیا تم نے سنا وہ کہیں گے ہاں پھر وہ آواز دے گا اے لوگو (آیت ) ” اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دو آدمی کپڑے کو پھیلائیں گے اور اس کو لپیٹ نہیں سکیں گے اور ایک آدمی اپنے حوض کو بھرے گا اور اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکے گا اور ایک آدمی اپنی اونٹنی کو دو ہے گا اور اس کو پی نہیں سکے گا اور لوگ (اپنے اپنے) کاموں میں مشغول ہوں گے (کہ قیامت قائم ہوجائے گی)
9:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ “ سے مراد ہے احکام حدود اور فرائض۔
10:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح “ یعنی وحی کے ساتھ۔
11:۔ آدم بن ابی ایاس، سعید بن منصور، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ نے عظمۃ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الروح “ سے مراد ہے اللہ کے امروں میں سے ایک امر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے اور ان کی صورتیں آدم (علیہ السلام) کی اولاد کی صورتوں پر بنائی ہوئی ہیں اور آسمان سے کوئی فرشتہ نازل ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ روح میں سے ایک ضرور ہوتا ہے پھر یہ (آیت) ” یوم یقوم الروح والملائکۃ صفا “ (النباء : آیت 38) تلاوت فرمائی۔
12:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمہ میں مجاہد (رح) سے (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی فرشتہ نال نہیں ہوتا مگر اس کے ساتھ روح ضرور ہوتی ہے جیسے ان پر حفاظت کرنے والا۔
13:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ “ سے وحی اور رحمت مراد ہے۔
14:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ “ سے نبوت مراد ہے۔
15:۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ علی “ سے قرآن مراد ہے۔
16:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ “ سے مراد ہے کہ ہر وہ چیز جس سے ہمارے رب نے کلام فرمایا وہ روح ہے ” من امرہ “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو رحمت اور وحی کو اتارتا ہے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے پس اس نے چن لیا رسولوں کو (آیت) ” انہ لا الہ الا انا فاتقون “ یعنی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا کہ اللہ کو وحدہ لا شریک لہ مانا جائے اور اس کے حکم کی اطاعت کی جائے اور اس کے غصہ سے بچا جائے۔
17:۔ ابن سعد، احمد، ابن ماجہ، حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) یسربن جحاش (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تو مجھ کو عاجز کردے گا حالانکہ میں نے تجھ کو اس طرح کی چیز (ینعی منی) سے پیدا کیا یہاں تک کہ جب میں تجھ کو مکمل کردیا تیرے اعضاء مناسب بنادیے تو تو اپنی چادروں کے درمیان چل جب کہ زمین نے تجھ کو چھپانا ہے تو نے جمع کیا اور خرچ نہ کیا یہاں تک کہ جب سانس حلق میں پہنچی تو تو نے کہا میں صدقہ کروں گا لیکن اب صدقہ کا وقت کہاں ہے۔
Ayahs 16:5–81:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ یعنی جو تم نفع اٹھاتے ہو کھانے سے اور پینے سے۔
2:۔ عبدالرزاق، فریابی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ سے مراد ہے نسل ہر جانور سے۔
3:۔ دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برکت بکری میں ہے اور خوبصورتی اونٹ میں ہے۔
4:۔ ابن ماجہ نے عروہ بارقی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اونٹ عزت (کا باعث) ہے اپنے گھروں والوں کے لئے اور بکری برکت (کا باعث) ہے۔
5:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے ولکم فیھا جمال “ کے بارے میں روایت کیا کہ تمہارے لئے ان جانوروں میں زیب وزینت ہے اور راوی نے فرمایا کہ ہم کو یہ بھی بیان کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ سے اونٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا یہ اپنے مالکوں کے لئے عزت کا باعث ہیں۔
6:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” و تحمل اثقالکم الی بلد “ یعنی مکہ سے (بوجھ اٹھا کر لاتے ہیں) (آیت ) ” لم تکونوا بلغیہ الا بشق الانفس “ یعنی اگر تم سامان کے لئے تکلیف اٹھاؤ (مگر) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے مگر سخت مشقت کے ساتھ۔
7:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا بشق الانفس “ یعنی مگر مشقت کے ساتھ برداشت کرنے سے۔
جانوروں کا مسخر ہونا اللہ کا انعام ہے :
8:۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بچو تم اپنے جانوروں کی پیٹھوں کو منبر بنانے سے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم بآسانی پہنچ جاؤ دوسرے شہر کی طرف تم (وہاں) نہیں پہنچ سکتے تھے مگر مشقت کے ساتھ کے ساتھ اور زمین کو تمہارے لئے بنادیا تاکہ اس پر تم اپنی ضرورتوں کو پورا کرو۔
9:۔ احمد ابویعلی اور حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی قرار دیا) معاذ بن انس ؓ نے اپنے والد سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک قوم پر سے گذرے اور وہ اپنے جانوروں اور کجاوں پر کھڑے ہوئے تھے آپ نے ان سے فرمایا ان جانوروں پر سواری کرو سلامتی کے ساتھ (یعنی پوری طرح) اور ان کو چھوڑ دو سلامتی کے ساتھ (یعنی پوری طرح) اور ان کو کرسی نہ بناؤ اپنی باتوں کے لئے راستوں میں اور بازاروں میں کبھی سواری کا جانور بہتر ہوتا ہے اپنے سوار سے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اس سے زیادہ کرنے والا ہوتا ہے۔
10:۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے جانوروں کی پیٹھوں کو کرسی نہ بناؤ اپنی باتوں کے لئے کبھی سواری کا جانور بہتر ہوتا ہے اپنے سوار سے اور اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہوتا ہے۔
11:۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوروں کی پیٹھوں کو کرسی نہ بناؤ اپنی باتوں کے لئے کبھی سواری کا جانور بہتر ہوتا ہے سوار سے اور اس سے زیادہ اللہ کی اطاعت کرنے والا ہوتا ہے اور اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والا ہوتا ہے۔
12:۔ ابن ابی شیبہ نے حبیب (رح) سے روایت کیا کہ وہ سواری پر زیادہ دیر ٹھہر جانے اور اس کو مارنے کو ناپسند کرتے تھے جب کہ وہ (سواری کا جانور) اطاعت کرنے و الا ہو۔
13:۔ احمد اور بیہقی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں تمہاری زیادتی کو جو تم جانوروں سے کرتے ہو تو (گویا) اس نے تمہارے بہت سارے گناہ معاف کردیئے۔
14:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لترکبوھا وزینۃ “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے) اس کو بنایا تاکہ تم اس پر سواری کرو اور اس کو تمہارے لئے زینت (کا ذریعہ) بھی بنایا۔
15:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو عیاض (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ یعنی اس نے ان جانوروں کو تمہارے لئے زینت بنایا۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ گھوڑا پہلے وحشی تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے مطیع بنادیا۔
17:۔ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمہ میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے گھوڑے کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو جنوب کی ہوا کو حکم فرمایا میں تجھ سے ایک مخلوق پیدا کرنے و الا ہوں اور میں اس مخلوق کو عزت بنادوں گا اپنے دوستوں کے لئے اور ذلت (کا باعث) بنادوں گا اپنے دشمنوں کے لئے اور حفاظت کا باعث بنادوں گا اپنی اطاعت کرنے والوں کے لئے ہوا میں ایک مٹھی بھری اور اس سے گھوڑے کو پیدا فرمایا اور فرمایا میں نے تیرا نام گھوڑا رکھا ہے اور میں تجھ کو عربی بنایا ہے (اور) خیر باندھی گئی ہے تیری پیشانی کے ساتھ اور غنیمتیں جمع ہوں گی تیری پیٹھ پر اور مالداری تیرے ساتھ ہوگی جہاں تو ہوگا میں تیری خاص رعایت کی ہے دوسرے جانوروں کی نسبت وسعت رزق کے اعتبار سے اور میں نے تجھ کو ان کا سردار بنایا ہے اور میں نے تجھ کو اڑنے والا بنایا بغیر پروں کے اور تو دوڑنے کے لئے ہے اور عنقریب تیرے اوپر ایسے آدمی سوار ہوں گے جو میری تسبیح بیان کریں گے پس تو بھی ان کے ساتھ میری تسبیح بیان کرنا جب وہ تسبیح بیان کریں اور وہ لا الا اللہ پڑھیں گے تو بھی ان کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھنا جب وہ پڑھیں اور میری بڑائی بیان کریں گے اور تو بھی میری بڑائی بیان کرنا جب وہ بڑائی بیان کریں جب گھوڑا ہنہنایا تو فرمایا میں نے تجھ میں برکت ڈال دی تو ڈراوں گا تیرے ہنہنانے سے مشرکین کو میں بھر دوں گا اس سے ان کے کانوں کو اور اس ہنہنانے سے خوف زدہ کردوں گا ان کے دلوں میں اور جھکا دوں گا اس کے ذریعہ ان کی گردونوں کو جب مخلوق کو آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا گیا اور ان کا نام لیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم میری مخلوق میں سے چن لے جو تو پسند کرے تو انہوں نے گھوڑے کو چنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو نے اپنی عزت کو چنا ہے اور تیری اولاد کی عزت باقی رہے گیا جب تک یہ گھوڑے ان میں باقی رہیں گے اور ان کا سلسلہ نسب چلتا رہے گا پس میری برکت ہے تجھ پر اور ان پر اور شہسوار جو بھی تسبیح تہلیل (یعنی لا الہ الا اللہ) اور تکبیر کہتا ہے گھوڑا اس کو سنتا ہے اور اس کی مثل جواب دیتا ہے۔
18۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے گھوڑے کے گوشت کو کھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کو ناپسند فرمایا اور یہ (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ پڑھی۔
19:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ گھوڑے کے گوشت کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” والانعام خلقھا لکم فیھا دفء و منافع ومنھا تاکلون “ یعنی یہ کھانے کئے ہیں (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ یعنی یہ سواری کے لئے ہیں۔
20:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان سے گھوڑے کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا “۔
21:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ والانعام خلقھا لکم فیھا دفء و منافع ومنھا تاکلون “ سے مراد ہے کہ بعض ان میں کھانے کے لئے ہیں پھر یہ (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ پڑھی اور فرمایا کہ اس میں تمہارے لئے کھانے کو نہیں بنایا اور حکم (رح) فرماتے تھے گھوڑا خچر اور گدھا حرام ہے اللہ کی کتاب میں۔
22:۔ ابوعبید، ابو داود، نسائی اور ابن منذر نے خالد بن ولید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر ناخن والے درندوں کو کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کے (کھانے کو بھی منع فرمایا)
23:۔ ابوعبید، ابن ابی شیبہ، ترمذی، نسائی ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عمرو بن دینار کے طریق سے (ترمذی نے صحیح بھی کہا) جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو گھوڑے کا گوشت کھلایا اور ہم کو پالتوگدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔
گدھا اور خچر کا گوشت حرام ہے :
24:۔ ابوداود، ابن ابی حاتم نے ابو الزبیر کے طریق سے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے خیبر کے دن گدھے خچر کو اور گھوڑے کو ذبح کیا نبی کریم ﷺ نے گدھے اور خچر سے منع فرمایا لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا۔
25:۔ ابن ابی شیبہ، نسائی، ابن جریر، اور ابن مردویہ نے عطاء کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے عطا نے عرض کیا میں نے پوچھا خچر بھی (کھاتے تھے) تو انہوں نے فرمایا لیکن خچر نہیں۔
26:۔ ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلمم، نسائی، ابن ماجہ، اور ابن منذر نے اسماء ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کو ذبح کیا اور ہم نے اس کو کھایا۔
27:۔ امام احمد نے دحیہ کلبی ؓ سے روایت کیا کہ میں عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں آپ کے لئے گدھے کو گھوڑی پر جفتی کراوں گا اور آپ کے لئے خچر پیدا ہوگا اور آپ اس پر سواری فرمائیے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ کام کرتے ہیں جو نہیں جانتے۔
28:۔ خطیب نے تاریخ میں اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وتر کی گھوڑے۔
29:۔ ابن عساکر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “ سے مراد ہے گھن کا کپڑا۔
30:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک سفید موتیوں کی زمین جس کی مسافت ایک ہزار سال ہے اس پر سرخ یاقوت کا ایک پہاڑ ہے اس کے ساتھ وہ زمین گھری گئی ہے اس زمین میں ایک فرشتہ ہے جس نے اس مشرق کو اس کے مغرب کو بھر دیا ہے اس کے چھ سو سرہ ہیں، ہر سر میں چھ سو چہرے ہیں، ہر چہرہ میں ساٹھ ہزار منہ ہیں، ہر منہ میں ساٹھ ہزار زبانیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور لا الہ کہتا ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتا ہے ہر زبان سے چھ لاکھ اور ساٹھ ہزار مرتبہ جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ دیکھے گا اللہ کی عظمت کی طرف تو کہے گا تیری عزت کی قسم میں نے تیری عبادت نہیں کی جیسے حق ہے تیری عبادت کا اسی کو فرمایا (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “۔
31:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اندلس سے دور اللہ کے کچھ بندے ہیں جیسے کہ ہمارے اندلس کے درمیان فاصلہ ہے وہ نہیں جانتے کہ مخلوق بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتی ہے ان کی باریک کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور ان کے پہاڑ سونے اور چاندی کے ہیں وہ کھیتی نہیں کرتے اور نہ بوتے ہیں اور وہ کوئی عمل نہیں کرتے ان کے دروازوں پر درخت ہیں جس کا پھل ان کا کھانا ہے اور درخت کے چوڑے پتے ان کا لباس ہے۔
32:۔ ابن ابی حاتم نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا ہم کو اس شخص کے بارے میں بتاؤ جو سعالۃ الریح میں آتا ہے اور وہاں چار ستاروں کو دیکھتا ہے گویا کہ وہ چار چاند ہیں تو وھب ؓ نے فرمایا (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “ یعنی وہ (ایسی چیزوں کو) پیدا کرتا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔
Ayahs 16:9–131:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ سیدھی راہ کو بیان کرنا (اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے) (آیت) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف خواہشات ل۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی کو بیان کرے (آیت ) ” ومنھا جآئر “ یعنی مختلف راستے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ سے مراد ہے حق کا راستہ (واضح کرنا) اللہ تعالیٰ پر (لازم) ہے (کہ وہ بیان کرے )
4:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ اس کے حلال کو اور اس کے حرام کو اور اس کی اطاعت کو اور اس کی معصیت کو بیان کرے (اور فرمایا) (آیت ) ” ومنھا جآئر “ یعنی راستے پر ہٹانے والا حق ہے بیٹھا ہے اور ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ومنکم جآئر “
5:۔ عبد ابن حمید، ابن منذر اور ابن انباری نے مصاحف میں (بیان کرتے ہیں کہ) حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وفمنکم جآئر “۔
6:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “ سے مراد ہے ہدایت کا راستہ (آیت ) ” ومنھا جآئر “ یعنی وہ راستے جو حق سے ہٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے (یہ آیتیں) ” ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ “ (الانعام آیت 153) اور (آیت) ” ولو شاء لھدکم اجمعین “ پڑھیں (اور فرمایا) سیدھا راستہ وہ ہے جو حق ہے اور (یہ آیت) ” ولو شآء ربک لامن من فی الارض کلہم جمیعا “ (یونس آیت 9) اور (یہ آیت) ” ولو شئنا لاتینا کل نفس ھدھا “ (السجدہ آیت 13) پڑھی (واللہ اعلم)
7:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فیہ تسیمون “ سے مراد ہے کہ تم اس میں اپنے جانوروں کو چراتے ہو۔
8:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع ارزق نے پوچھا کہ مجھے عزوجل کے اس قول (آیت) ” فیہ تسیمون “ کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ تم اس میں مویشی چراتے ہو پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
ومشی القوم بالعماد الی الدو حاء اعماد المسیم بن المساق :
اس شعر میں سام یسیم کا یہی مطلب بیان کیا گیا ہے۔
9:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وما ذرالکم فی الارض “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو کچھ پیدا کیا تمہارے لئے زمین میں مختلف چیزیں پیدا فرمائیں جانوروں سے درختوں سے اور پھلوں سے یہ نعمتیں ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ظاہر ہیں اللہ تعالیٰ کے لئے ان کا شکر ادا کرو۔ واللہ اعلم۔
Ayah 16:141:۔ ابن ابی حاتم نے مطر (رح) سے روایت کیا کہ وہ سمندروں کی سواری میں کوئی ہرج نہیں جانتے تھے اور فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ذکر قرآن میں خیر کے ساتھ کیا۔
2:۔ عبدالرزاق نے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ سمندر میں سفر کرنے کو ناپسند کرتے تھے مگر تین آدمیوں کے لئے (اجازت فرماتے تھے) جہاد کرنے والا حج کرنے والا یا عمرہ کرنے والا۔
3:۔ عبدالرزاق نے علقمہ بن شہاب قرشی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میرے سات مل کر جنگ میں شرکت نہیں کی تو اس کو چاہئے کہ سمندر میں جہاد کرے سمندر میں (جنگ کرنے کا) ایک دن کا اجر خشکی میں ایک دن (جنگ کرنے) کی طرح ہے اگر سمندر میں شہید کردیا گیا تو خشکی میں دو شہیدوں کی طرح ہے اور کشتی میں سر چکرانا اپنے خون میں لوٹنے کی طرح ہے (یعنی خون میں لت پت ہوجانے کا اجر ملے گا) اور میری امت کے بہترین شہداء اصحاب الکف ہیں صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اصحاب الکف کون ہیں فرمایا وہ لوگ جن کو ان کی سواریاں جھکائے رکھتی ہیں اللہ کے راستے میں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن عمرو بن العاص کے طریق سے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے غربی سمندر کو جب پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا میں نے تجھ کو پیدا کیا اور تیری پیدائش کو اچھا بنایا اور میں تیرے اندر کثیر پانی پیدا کیا میں تیرے اندر ایسے بندوں کو سوار کروں گا جو میری تکبیر تہلیل تسبیح وحمد کریں گے اور تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اس نے کہا میں ان کو غرق کردوں گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں ان کو اپنی ہتھیلی پر اٹھاوں گا اور تیری مصیبت کو میں ڈال دوں گا پھر مشرقی سمندر سے فرمایا میں نے تجھ کو پیدا کیا اور تیری پیدائش کو اچھا بنایا اور تیرے اندر پانی کو زیادہ کیا اور میں تیرے اندر ایسے بندوں کو سوار کروں گا جو میری تکبیر تہلیل تسبیح وحمد کریں گے اور تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اس نے کہا میں بھی ان کے ساتھ تیرے حمد بڑائی بیان کروں گا اور ان کو اٹھاوں گا اپنی پیٹھ پر اور اپنے پیٹ پر تو اللہ تعالیٰ نے اس کو زیور اور پاکیزہ شکار عطا فرمایا۔
مشرقی و مغربی سمندروں میں فرق :
5:۔ بزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے غربی اور شرقی سمندروں سے کلام فرمایا غربی سمندر سے کہا کہ میں تیرے اندر اپنے بندوں کو سوار کروں گا تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اس نے کہا میں ان کو غرق کردوں گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرے اطراف میں تیری تکلیف ہوگی اور حرام کردیا اس کے لئے زیور اور شکار کو اور مشرقی سمندر سے کلام فرمایا کہ میں تیرے اندر اپنے بندوں کو سوار کروں گا تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اس نے کہا میں میں ان کو سوار کروں گا اپنے ہاتھ میں اور بن جاوں گا ان کے لئے (ایسا مہربان) جیسے والدہ ہوتی ہے اپنے بچے کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو زیور اور شکار عطا فرمایا۔
6:۔ ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” وھو الذی سخرالبحر لتاکلوا منہ لحما طریا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے سمندر کی مچھلیاں (آیت ) ” وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا “ فرمایا اس سے موتی مراد ہیں۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھو الذی سخرالبحر لتاکلوا منہ لحما طریا “ سے مراد ہے مچھلیاں اور جو اس میں جانور ہیں۔
8:۔ ابن ابی شیبہ نے قتادہ (رح) سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی سے کہا تھا اگر تو نے گوشت کھایا تو تجھ کو طلاق ہے اس نے مچھلی کھالی تو فرمایا اس کو طلاق ہوگئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وھو الذی سخرالبحر لتاکلوا منہ لحما طریا “۔
9:۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ اس کی قسم ٹوٹ جائے گی چونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” لتاکلوا منہ لحما طریا “
10:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ زیور میں کوئی زکوٰۃ نہیں پھر (یہ آیت) ” وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا “ پڑھی۔
11:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتری الفلک مواخر “ سے مراد ہے کشتیاں۔
12:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” وتری الفلک مواخر “ کے بارے میں فرمایا کہ کشتیاں ہواوں کو چیرتی ہیں اور ہواوں کو نہیں چیرتیں مگر بڑی کشتیاں۔
13:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتری الفلک مواخر فیہ “ کہ کشتیاں اپنے سینے کے ساتھ پانی کو چیرتی ہیں۔
14:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتری الفلک مواخر فیہ “ یعنی دو کشتیاں چلتی ہیں ایک ہی ہوا سے ہر ایک دوسری کے سامنے ہوتی ہے۔
15:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتری الفلک مواخر فیہ “ یعنی کشتی ایک ہی ہو اس سے چلتی ہے کبھی سامنے آتے ہوئے اور کبھی پیٹھ پھیرتے ہوئے۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتبتغوا من فضلہ “ سے مراد ہے تجارت (واللہ اعلم بالصواب )
Ayahs 16:15–231:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز بھی ہے فرمایا ہاں پانی ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا تو نے اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز پیدا کی ہے فرمایا ہاں ہوا ہے فرشتوں نے عرض کیا ہوا سے بھی سخت کوئی چیز تو نے بنائی ہے فرمایا ہاں مرد عرض کیا کیا تیری کوئی مخلوق مرد سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں عورت ہے۔
2:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” رواسی “ سے مراد پہاڑ ہیں (آیت) ” ان تمیدبکم “ اس کو ٹھہرادیا پہاڑوں کے ذریعہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس پر کوئی مخلوق نہ ٹھہرتی۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” رواسی ان تمید بکم “ یہاں تک تمہارے ساتھ ہلنے نہ لگے فرشتے زمین پر تھے تو زمین ہل رہی تھی اور قرار نہیں پاتی تھی پس صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو (کھڑا) کردیا اور وہ پہاڑ زمین میں کیلیں ہیں۔
4:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان تمیدبکم “ سے مراد ہے (کہ ایسا نہ ہو) کہ وہ تمہارے ساتھ الٹ پلٹ ہوجاتی اور فرمایا تمہارے ہر شہر میں نہریں جاری کردیں۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وسبلا “ سے مراد ہے پہاڑوں کے درمیان راستے۔
6:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، اور خطیب نے کتاب النجوم میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وسبلا “ سے مراد ہیں ” و علامات “ سے مراد ہیں ستارے۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” وعلمت “ سے مراد ہے پہاڑوں کی نہریں۔
8:۔ عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلمت “ سے مراد ہیں پہاڑ۔
9:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلمت “ یعنی دن میں راستوں کے نشان ” وبالنجم ھم یھتدون “ یعنی رات کو (ستاروں سے راہ پاتے ہیں ) ۔
10:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں ابراہیم (رح) سے روایت کیا (آیت) ” وعلمت “ سے مراد ہے وہ نشانیاں جو آسمانوں میں ہوتی ہیں (آیت) ” وبالنجم ھم یھتدون “ یعنی وہ راہ پاتے ہیں اپنے سمندری سفروں میں۔
11:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلمت وبالنجم ھم یھتدون “ سے مراد ہے کچھ ستارے علامت کے طور پر ہوتے ہیں اور کچھ ستاروں سے راہ پاتے ہیں۔
12:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ کسی آدمی سے چاند کی منزلوں کو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
13:۔ ابن منذر نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ وہ کسی آدمی کے ستاروں (کے علم) کو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے جن سے راستہ کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔
14:۔ عبدبن حمید ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن یخلق کمن لا یخلق “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی پیدا کرنے والے وہی رزق دینے والے ہیں اور یہ بت جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کی جاتی ہے وہ پیدا کئے جاتے ہیں (یعنی ان کو گھڑا جاتا ہے) اور وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے اور وہ اپنے پجاریوں کے لئے نہ نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” افلا تذکرون “ اور فرمایا (آیت) ” والذین یدعون من دون اللہ “ یعنی یہ بت جن کی عبادت کی جاتی ہے اللہ کو چھوڑ کر وہ مردے ہیں ان میں کوئی روح نہیں وہ اپنے لوگوں کے لئے نہ خیر کے مالک ہیں اور نہ نفع کے (آیت) ” الھکم الہ واحد “ یعنی اللہ تعالیٰ ہمارا معبود ہے اور ہمارا مددگار ہے اور ہمارا پیدا کرنے والا ہے اور ہم کو رزق دینے والا ہے اور ہم نہ کسی کی عبادت کرتے ہیں اور نہ ہم پکارتے ہیں اس کے علاوہ کسی غیر کو (آیت) ” فالذین لا یومنون بالاخرۃ قلوبہم منکرۃ “ آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے دل اس کا انکار کررہے ہیں (آیت) ” وھم مستکبرون “ یعنی وہ اس بات سے تکبر کرنے والے ہیں۔
15:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاجرم “ سے مراد ہے بلی ! کیوں نہیں۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے ا بومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاجرم “ یعنی حق۔
17:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لاجرم “ یعنی (یہ بات) جھوٹ نہیں۔
18۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” انہ لا یحب المستکبرین “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے جو اس نے کردیا (آیت) ” انہ لا یحب المستکبرین “ اور ہم کو بتایا گیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں پسند کرتا ہوں کہ میرے کوڑے کا دستہ اور میری جوتی کا تسمہ خوبصورت ہو کیا آپ ڈرتے ہیں مجھ پر تکبر کا اندیشہ کرتے ہوئے ؟ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو اپنے دل کو کیسے پاتا ہے ؟ اس نے کہا میں اس کو پاتا ہوں حق کو پہچاننے والا اور اس کی طرف مطمئن ہونے والا، آپ ﷺ نے فرمایا وہ تکبر نہیں ہے لیکن تکبر یہ ہے کہ تو حق کو تھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے اور تو اپنے سے کسی کو افضل نہ جانے اور تو حق کو حقیر جانے اور تو تجاوز کرے اس سے اس کے غیر کی طرف۔
اللہ تعالیٰ متکبرین کو پسند نہیں فرماتے :
19:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں عبد بن حمید ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ مساکین کے پاس بیٹھتے تھے پھر فرماتے تھے (آیت) ” انہ لا یحب المستکبرین “۔
20:۔ ابن ابی حاتم نے علیؓ سے روایت کیا کہ تین کام ایسے ہیں کہ ان کو کرنے والا متکبر نہیں لکھا جائے گا جو شخص گدھے پر سوار ہو اور اس کو عار نہ سمجھے اور جو شخص بکری کی ٹانگوں کو باندھے اور اس کا دودھ نکالے اور مساکین کے لئے جگہ کشادہ کرے اور اپنی مجلس کو حسین بنائے۔
21:۔ مسلم اور بیہقی نے شعب میں عیاض بن حمار المجاشعی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی کہ تم تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے۔
22:۔ بیہقی نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے میرے لئے تواضع اختیار کی اس طرح اور آپ نے اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصہ کے ساتھ زمین کی طرف اشارہ فرمایا اور اس کو زمین سے قریب کردیا میں اس کو اس طرح بلند کردوں گا اور اپنی ہتھیلی کے اندورنی حصہ کو آسمان کی طرف اشارہ فرمایا اور اس کو آسمان کی طرف اٹھایا۔
23:۔ خطیب اور بیہقی نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ منبر پر فرما رہے تھے اے لوگوتواضع اختیار کرو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے لئے تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیں گے اور فرمایا تو سر اٹھا اللہ تعالیٰ نے تجھے بلند کیا ہے پس وہ اپنے نفس میں حقیر ہے اور لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوتا ہے اور جس نے تکبر کیا اللہ اس کو ذلیل کریں گے اور فرماتا ہے تو پست رہ اللہ تعالیٰ نے تجھے پست کیا ہے اور وہ لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا ہوتا ہے یہاں تک کہ لوگوں کے نزدیک زیادہ ذلیل ہوتا ہے کتے اور خنزیر سے بھی۔
24:۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی ایسا نہیں ہے مگر اس کے سر میں درزنجیر ہوتے ہیں ایک کا تعلق آسمان سے اور ایک کا تعلق زمین سے جب بندہ تواضع کرتا ہے تو فرشتہ اس کو بلند کرتا ہے جس کے ہاتھ میں آسمان کی زنجیر ہوتی ہے اور جب بندہ تکبر کرتا ہے تو وہ کھینچ دیتا ہے اس زنجیر کو جو زمین میں ہوتی ہے۔
25:۔ بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی ایسا نہیں ہے مگر اس کے سر میں حکمت ہوتی ہے اور وہ حکمت فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے جب وہ تواضع اختیار کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے اس کی حکمت بلند کردے اگر وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے اس کی حکمت کو گرادے۔
26:۔ بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے تکبر کیا بڑا بنتے ہوئے اللہ اس کو پست کردیتا ہے اور جس نے تواضع اختیار کی اللہ کے لئے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیتا ہے۔
27:۔ ابن ابی شیبہ، مسلم، ابو داود، ترمذی ابن ماجہ، ابن مردویہ اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر تکبر ہوگا اور وہ شخص آگ میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ﷺ ایک آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اس کی جوتی اچھی آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
صفائی ستھرائی کو پسند کرنا تکبر میں داخل نہیں :
28:۔ ابن سعد، احمد اور بیہقی نے ابو ریحانہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تکبر کا کوئی حصہ بھی جنت میں داخل نہ ہوگا ایک کہنے والے نے کہا یارسول اللہ ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرے کوڑے کا دستہ اور میری جوتی کا تسمہ خوبصورت ہو آپ نے فرمایا یہ تکبر میں سے نہیں ہے اللہ تعالیٰ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند کرتے ہیں تکبریہ ہے کہ جو حق کو بیوقوف بنائے اور اپنی آنکھوں کے ذریعہ لوگوں کو حقیر جانے اور بغوی (رح) اپنے مجمع میں اور طبرانی نے سوار بن عمروانصاری ؓ سے روایت کیا کہ میں عرض کیا یارسول اللہ کہ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور اس میں سے مجھے حصہ دیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی جوتی کا تسمہ میرے تسمہ سے اچھا ہو کیا یہ بات تکبر میں سے ہے ؟ فرمایا نہیں میں نے عرض کیا پھر یارسول اللہ تکبر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جو حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر جانے۔
29:۔ بغوی اور طبرانی نے سوار بن عمر وانصاری ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی جوتی کا تسمہ بھی میری جوتی کے تسمہ سے اچھا ہو کیا یہ تکبر ہے ؟ فرمایا نہیں لیکن تکبر یہ ہے کہ لوگوں کو حقیر سمجھنا اور حق بات کو ٹھکرا دینا۔
30:۔ ابن عساکر نے ابن عمر سے اور انہوں نے ابوریحانہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں اپنا جوتا اور اپنے کوڑے کا دستہ بھی خوبصورت رکھنا چاہتا ہوں کیا یہ بات تکبر کی ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں اور وہ اس بات کو بھی پسند فرماتے ہیں کہ وہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھیں تکبر یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو ان کے اعمال میں حقیر سمجھنا۔
31:۔ ابن عساکر نے خریم بن فاتک ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کہ میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں اپنی جوتی کے تسمے اور اپنے کوڑے کے چمڑے میں بھی (خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں) اور میری قوم یہ خیال کرتی ہے کہ یہ (چیزیں) تکبر میں سے آپ نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی خوبصورتی کو پسند کرے لیکن تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر جانے۔
32:۔ سمویہ نے فوائد میں، باوردی، ابن قانع اور طبرانی نے ثابت بن قیس بن شماس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تکبر کیا گیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نہیں پسند فرماتے اترانے والے اور شیخی بگاڑنے والے کو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں اپنے کپڑوں کو دھوتا ہوں اور میں اس کی سفیدی کو پسند کرتا ہوں اور میں اپنے کوڑے کے دستے کو اور اپنے جوتے کے تسمے (کو خوبصورتی کو) پسند کرتا ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تکبر میں سے نہیں ہے تکبر یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
ریشم اور سونے کا استعمال مردوں کے لئے حرام ہے :
33:۔ طبرانی نے نقل کیا ہے کہ اسامہ ؓ نے بیان فرمایا کہ بنوعامر میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یارسول اللہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے بہت سختی کی ہے ریشم اور سونے کے پہننے سے اور میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں بلاشبہ تکبر یہ ہے کہ انسان حق کی قدرومنزلت کو نہ جانے اور لوگوں کو اپنی آنکھوں سے حقیر سمجھے۔
34:۔ حاکم نے (اور صحیح بھی کہا) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں ایسا آدمی ہوں کہ مجھے خوبصورتی پسند ہے اور مجھے خوبصورتی میں سے یہ حصہ دیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی کی جوتی کا تسمہ بھی میری جوتی کے تسمہ سے اچھا ہو کیا یہ تکبر ہے ؟ فرمایا نہیں لیکن تکبر یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
35:۔ حاکم نے (اور صحیح بھی کہا) ابن مسعود ؓ سے اسی طرح روایت کیا اور اس میں یہ ہے کہ ایک شخص ریشمی کپڑوں کا مالک تھا اور فرمایا یہ کبر کا بدل ہے۔
36:۔ احمد نے زہد میں عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تجھ کو ایک وصیت کرنے والا ہوں اسے اوپر لازم کرلے تاکہ تو اس کو بھول نہ جائے میں دو چیزوں کی تجھ کو وصیت کرتا ہوں اور دو چیزوں سے تجھ کو روکتا ہوں وہ دو چیزوں سے تجھ کو روکتا ہوں وہ دو چیزیں جن کی میں تجھ کو وصیت کرتا ہوں بلاشبہ میں ان دونوں کو کثرت سے داخل ہوتے ہوئے دیکھا ہے اللہ عزوجل کے ہاں اور میں نے دیکھا ہے اللہ تعالیٰ کو کہ وہ ان دونوں چیزوں سے خوش ہوتا ہے میں اور اصلاح فرماتے ہیں اپنی مخلوق کی تو کہہ ” سبحان اللہ وبحمدہ “ کیونکہ یہ مخلوق کی نماز ہے اور اسی کے ذریعہ مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے اور تو کہہ ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ “ اگر آسمان اور زمین ایک حلقہ بن جائیں تو البتہ ان کو توڑ دے آسمان و زمین ایک پلڑے میں ہوں اور یہ ذکر ان پر بھاری ہوجائے اور وہ دو چیزیں جن کے بارے میں تجھ کو روکتا ہوں وہ شرک کرنا اور تکبر کرنا ہے عبداللہ بن عمرو ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا یہ تکبر ہے کہ میرے لئے ایک خوبصورت لباس ہو اور میں اس کو پہن لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اللہ تعالیٰ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں پھر پوچھا کیا تکبر یہ ہے کہ میرے لئے ایک اچھی سواری ہو کہ میں اس پر سواری کروں ؟ آپ نے فرمایا نہیں پھر پوچھا کیا تکبر یہ ہے کہ میرے لئے کچھ دوست ہوں کہ وہ میرے پیچھے آئیں اور میں ان کو کھانا کھلاوں ؟ فرمایا نہیں پھر پوچھا کہ تکبر کون سا ہے یارسول اللہ ﷺ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
37:۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ متکبر جنت میں داخل نہ ہوگا۔
38:۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا تکبر کرنے والے قیامت کے دن آگ کے صندوقوں میں ڈالے جائیں گے پھر ان پر (صندوقوں کو) بند کردیا جائے گا۔
39:۔ احمد دارمی، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابویعلی، ابن حبان اور حاکم نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے (اس حال میں) جدا ہو کہ دو تین چیزوں سے بری تھا جنت میں داخل ہوگا، تکبر قرضہ اور خیانت۔
40:۔ طبرانی نے سائب بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر تکبر ہوگا صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم تو ہلاک ہوگئے ہمیں کیسے علم ہوگا کہ ہمارے دلوں میں تکبر ہے اور وہ کہاں ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اونی لباس پہنے یا بکری کو دو ہے یا اپنے غلام کے ساتھ کھانا کھائے تو اس کے دل میں انشاء اللہ کوئی تکبر نہیں ہے۔
41:۔ ثمام نے فوائد میں اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اونی لباس پہنے اور گانٹھا ہوا جوتا پہنے اور اپنے گدھے پر سواری کرے اور اپنی بکری کو دو ہے اور اپنے کنبہ کے ساتھ کھانا کھائے تو اللہ تعالیٰ اس کو تکبر سے نجات عطا فرما دیتا ہے میں ایک بندہ کا بیٹا ہوں میں ایک عبد (یعنی غلام) کی طرح بیٹھتا ہوں اور ایک عبد کی طرح کھانا کھاتا ہوں میری طرف یہ وحی کی گئی کہ تم آپس میں) تواضع اختیار کرو اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے بلاشبہ اللہ کا ہاتھ پھیلا ہوا ہے اپنی مخلوق میں جس نے اپنے آپ کو اونچا کرلیا اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل فرمائیں گے اور جس نے اپنے آپ کو نیچے کیا (یعنی عاجزی اختیار کی) اللہ تعالیٰ اس کو بلند کردیں گے اور کوئی آدمی زمین پر نہیں چلتا ایک بالشت بھی کہ وہ اللہ کی طاقت چاہتے ہوئے چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اوندھے گرا دیں گے (جہنم میں)
42:۔ احمد نے زہد میں یزید بن میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تم میں افضل عبادت نہیں دیکھتا لوگوں نے کہا اے روح اللہ افضل عبادت کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کے لئے تواضع اختیار کرنا۔
43:۔ احمد نے زہد میں اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ تم افضل عبادت تواضع یعنی عاجزی اختیار کرنا سمجھو گے۔
44:۔ بیہقی نے یحی بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ افضل عمل تقوی ہے اور بہترین عبادت تواضع کرنا ہے۔
45:۔ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دیں گے۔
46:۔ بیہقی نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شیطان کے پھندے اور جال ہیں اور اس کے پھندے اور جال میں سے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا اور فخر کرنا اللہ کی عطا پر اور اللہ کے بندوں پر بڑائی کا اظہار کرنا اور خواہشات نفس کی پیروی کرنا اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ (دوسری) ذات میں۔
47:۔ بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو دوزخ والوں کے بارے میں نہ بتاوں ؟ ہر اکھڑا مزاج، ترش خو، متکبر (دوزخی ہے) (پھر فرمایا) کیا میں تم کو جنت والوں کے بارے میں بتاوں ہر کمزور پرانے کپڑے پہننے والا جس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اگر وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے کوئی قسم کھالے تو اس کی قسم کو (اللہ تعالیٰ ) پورا کردے۔
48:۔ ترمذی حاکم اور بیہقی نے (حاکم نے صحیح اور ترمذی نے حسن بھی کہا) جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ میرے متعلق تکبر کرنے کا ذکر کرتے ہیں حالانکہ میں گدھے پر سوار ہوں چادر پہنی ہوئی ہے اور دودھ دوہا ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ کام کرے تو اس میں تکبر نام کی کوئی چیز نہیں۔
49:۔ احمد نے زہد میں عبداللہ بن شداد ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ جو شخص اون (کا کپڑا) پہنے اور بکری کو اسی سے باندھے اور گدھے پر سواری کرے اور کسی نادار آدمی یا غلام کی دعوت قبول کرے تو اس پر تکبر میں سے کوئی چیز نہ دیکھو گے۔
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کی عاجزی :
50:۔ عبداللہ بن احمد زوائد الزہد میں ابویعلی، حاکم، اور بیہقی نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ وہ بازار میں لکڑی کا گھٹا اٹھائے ہوئے تھے ان سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر وسعت نہیں کردی (یعنی اب آپ مال دار ہیں آپ کو لکڑی اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ ) انہوں نے فرمایا کیوں نہیں لیکن میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں تکبر کو دور کردوں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہآدمی جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا جنت میں داخ نہ ہوگا۔
51:۔ بیہقی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے ایک آدمی آیا جن صحابہ ؓ نے اس کو دیکھا تو اس کی تعریف کرنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اس کے چہرے پر آگ کے سیاہ داغ دیکھ رہا ہوں جب وہ آیا اور بیٹھ گیا آپ نے فرمایا میں تجھ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں تو سچ سچ بتا جب تو مجلس میں آیا تھا تو تو یہی سوچ رہا تھا کہ سب لوگوں میں افضل ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔
52:۔ بیہقی نے ابن مبارک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے تواضع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اغنیاء کے سامنے تکبر کرنا۔
53:۔ بیہقی نے ابن مبارک (رح) سے روایت کیا کہ یہ بھی تواضع میں سے ہے کہ تو اس شخص کے سامنے تواضع کرے جو دنیا کی نعمتوں کے اعتبار سے تم سے کم ہو یہاں تک کہ تو اس کو آگاہ کردے کہ تجھے اس پر کوئی فضلیت نہیں تیری دنیا کی وجہ سے اور جو دنیا کے اعتبار سے تجھ سے بلند مرتبہ ہے اس کے سامنے بڑائی کا اظہار کر حتی کہ تو اسے اپنے عمل سے آگاہ کردے کہ اسے دنیا کی وجہ سے تم پر فضیلت نہیں۔
54:۔ بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص کسی غنی مال دار کے سامنے جھکا اس کی تعظیم کی خاطر تواضع کی اور اس کے عطیہ کی لالچ میں انکسار کی تو اس کی دو تہائی ضرورت چلا گئی اور اس کا آدھا دین بھی چلا گیا۔
55:۔ احمد نے زہد میں عون بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ عبدالل بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جو ایمان کی چوٹی پر نہ اترے یہاں تک کہ غریبی اس کی طرف زیادہ محبوب ہوجائے یہاں تک کہ اس کی تعریف اور مذمت اس کے نزدیک برابر ہوں اور عبداللہ ؓ کے اصحاب نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا یہاں تک کہ غربت حلال میں حرام میں غنا کی نسبت محبوب ہو، یہاں تک کہ تواضع اللہ کی فرمانبرداری میں معصیت الہی میں شرف کی نسبت زیادہ محبوب ہو یہاں تک کہ اس کی تعریف اور اس کی مذمت حق کے بارے میں برابر ہو۔
Ayah 16:241:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب قریش اکھٹے ہوئے اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ میٹھی زبان والے آدمی ہیں جب کوئی آدمی اس سے بات کرتا ہے تو وہ اس کی عقل پر غالب آجاتا ہے تم اپنے عزت والے آدمیوں کو تیار کرو جن کے نسب معروف ہوں ان کو مکہ کے ہر راستہ پر ایک ایک کرکے بٹھاؤ جو شخص اس کا ارادہ لے کر آئے (یعنی محمد ﷺ سے ملنے کا) تو اس کو اس سے واپس کردو (ملنے نہ دو ) یہ لوگ ہر راستہ پر نکل پڑے جب کوئی آدمی اپنی قوم کی طرف سے آتا محمد ﷺ کے حالات اور پیغامات کو جاننے کے لئے وہ ان کے پاس آتا تو وہ قریشی سردار اس سے کہتا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں اپنے نسب کے ساتھ ان کو اپنا تعارف کراتا اور کہتا کہ میں تجھ کو محمد ﷺ کے بارے میں بتاتا ہوں کہ وہ توجہ کے قابل نہیں وہ ایک جھوٹا آدمی ہے اس کے کام (یعنی اس کے دین) کی کوئی تابعدای نہیں کررہے مگر بیوقوف اور غلام اور وہ آدمی جس میں کوئی خیر نہ ہو لیکن اس کی قوم کی عزت والے اور اچھے لوگوں نے اس سے جدائی اختیار کرلی ہے اس طرح وہ اسے واپس لوٹا دیتا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واذا قیل لہم ما ذا انزل ربکم قالوا اساطیر الاولین “ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس آنے والے کی قسمت میں ہدایت لکھی ہوتی تو قریش اسے محمد ﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کرتے تو وہ آنے والا کہتا ہے کہ اگر میں بغیرملاقات کئے اور بغیر حالات معلوم کئے اپنی قوم کے پاس چلا گیا تو میں ایک برا آنے والا ہوں گا تو وہ مکہ میں داخل ہوجاتا ایمان والوں سے ملاقات کرتا اور ان سے پوچھتا کہ محمد ﷺ کیا پیغام لائے ہیں تو مسلمان اس کو بتاتے کہ وہ خیر کا پیغام لایا ہے یعنی (آیت) ” للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ “ النحل آیت 30) یہ پیغام لایا ہے (آیت) ” ولدارالاخرۃ خیر “ اور وہ آخرت کا گھر (یعنی جنت) ان کے لئے بہتر ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ عرب کے مشرکین میں سے کچھ لوگ راستوں پر بیٹھ جاتے جب وہ ان کے پاس سے گذرتے تو مشرکین ان سے وہ کلام سنتے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہوا تھا پھر کہتے تھے (نعوذ باللہ) وہ پہلے لوگوں کے قصے ہیں۔