Ayahs 16:1–2ترکیب : اتی صیغہ ماضی مگر معنی میں مستقبل کے ہے۔ ہ ضمیر امراللّٰہ کی طرف راجع ہے بالروح ای بالوحی موضع نصب میں حال ہو کر ملائکہ سے ای و معہ الروح من امرہ روح سے حال ہے۔ ان انذرو بمعنی ای لان الوحی یدل علی القول فیفسربان۔ انہ الخ جملہ محل نصب میں ہے مفعول انذروا ہوکر۔
تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن، عکرمہ، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابی قتادہ کا بھی یہی قول ہے اس کی ایک سو اٹھائیس آیتیں ہیں رسول خدا ﷺ مشرکین عرب کو خدا کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے کہ وہ دنیا میں بھی عنقریب آنے والا ہے۔ منکرین کہتے تھے کہ ابھی تو نہیں آیا اگر تو سچا ہے تو جلد بھیج۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے ؟ اس لیے اس سورة میں سب سے اول ان کی اس دلیری اور جلدبازی کا جواب آیا کہ امر اللہ یعنی عذاب الٰہی عالم غیب میں تم پر مقرر ہوچکا اور تم پر آچکا گو ظہور اس کا کسی حکمت و رحمت سے وقت معین پر ہوگا پھر کس لیے جلدی کر رہے ہو۔ فصحاء بلغاء قطعی ہونے والی اور قریب تر ہونے والی بات کو ماضی کے لفظوں سے تعبیر کیا کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ اچھا دنیا میں یا آخرت میں ہمارے ان افعال پر کوئی بلا بھی آئے تو کیا پروا ہے۔ فلاں بزرگ ‘ فلاں فرشتہ ‘ فلاں دیوتا جو خدا کے ہاں کار مختار ہے اور اس کے ساتھ قضاء وقدر میں شریک ہم ان کی مورتیں پوجتے ہیں، نذرونیاز کرتے ہیں وہ ہماری بلا کو دفع کردیں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے سبحانہ و تعالیٰ عما یشرکون کہ وہ جن کو تم اس کا شریک بناتے ہو ان سے بری ہے یعنی اس کا کوئی شریک نہیں اس کے کام میں کوئی دخل نہیں دے سکتا اور یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری یہ باتیں ناپسند ہیں تو ہم کو خدا فرشتے کے ذریعہ سے کیوں نہیں مطلع کردیتا۔ اے محمد ! تجھ میں کیا خصوصیت ہے جو تیرے پاس فرشتہ وحی لاتا ہے۔ اس کا جواب دیتا ہے ینزل الملائکۃ الخ کہ یہ اللہ کے اختیار کی بات ہے جس کو نبوت کے قابل دیکھتا ہے اس کے پاس فرشتوں کو وحی دے کر بھیج دیتا ہے کہ لوگوں کو مطلع کر دے کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں میری ہی عبادت کرو مجھی سے ڈرو۔ الملائکہ جمع کا صیغہ ہے مگر مراد اس سے ایک فرشتہ جبرئیل ہے یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے اور واحدی اس کی تائید کرتے ہیں کہ سردار اور رئیس کو محاورہ عرب میں بلفظ جمع تعبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے بہت سے نظائر موجود ہیں۔ بالروح روح سے مراد وحی اور قرآن ہے قرآن مجید میں اور کئی موقعوں میں قرآن و وحی پر یہ لفظ بولا گیا ہے
قرآن کا روح ہونا : ازآنجملہ قولہ تعالیٰ و کذالک اوحینا الیک روحاً من امرنا وجہ اس کی یہ ہے کہ روح نورانی چیز کو کہتے ہیں جو حیات کا باعث ہو۔ جسم ایک کثیف اور ظلماتی چیز ہے۔ خدا تعالیٰ نے جب اس میں روح انسانی ڈالی تو نور کے آثار اس کے حواس خمسہ میں ظاہر ہوئے مگر اس میں بھی کسی قدر تیرگی تھی تو عقل کے ساتھ اس کو منور کیا لیکن عقل بمنزلہ آنکھ کے ہے اور آنکھ جب تک کہ آفتاب یا کوئی اور روشنی نہ ہو ہرگز نہیں دیکھ سکتی تو اس کی ظلمت کو آفتاب وحی والہام کے ساتھ دور کیا پس قرآن مجید ایک ایسا نور ہے کہ جس سے حیات ابدی قائم ہوتی ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ قرآن اور وحی سے مستفید نہیں وہ نہ صرف اندھیرے میں گرفتار ہیں بلکہ حیات ابدی سے بھی محروم ہیں۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے اگلی آیت میں بذریعہ وحی توحید پر بقولہ انہ لا الہ الخ اور تقویٰ پر بقولہ فاتقون مطلع فرمایا تھا جو باعتبار تکمیل قوت نظریہ و عملیہ کے سعادت دارین کے دو رکن تھے
Ayah 16:3اب خلق السموات والارض الخ میں اپنی خدائی اور یکتائی پر دلائل قائم کرتا ہے اور دلائل بھی وہ کہ جن میں اس کے بندوبست پر بےحد انعام و لطف پایا جاتا ہے جن کے سننے سے دانشمند کا دل اپنے مولیٰ ‘ منعم حقیقی کی طرف مائل ہوتا ہے اور نیز ان دلائل میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہم تو تمہارے حال پر اس قدر مہربان ہیں پھر تم شرارت کرتے جاتے ہو اور اس پر اپنی سزا کی جلدی کرتے ہو جو انجام کار مفسدوں کے لیے مقرر ہے۔ چناچہ بدر کی لڑائی میں ان کا خاتمہ ہوا اور ایک قحط شدید پڑا اور متکبر انواع و اقسام کی بلائوں میں مبتلا ہو کر کیڑے پڑ پڑ کر مرے اور اخروی سزا جہنم کی طرف روانہ کئے گئے۔ ان دلائل کے چند قسم ہیں :
اول قسم : آسمانوں اور زمین کا ایک ٹھیک اندازے پر پیدا کرنا بآواز بلند اس کی یکتائی پر گواہی دے رہا ہے اور زمین و آسمان کا ہر ہر جزو بآواز بلند یہی کہہ رہا ہے تعالیٰ عمایشرکون۔
Ayah 16:4دوسری قسم : خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین۔ آسمان اور زمین کے بعد دیگر اجسام سے اشرف انسان ہے۔ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے۔ اول بدن، دوم نفس۔ اب اس کے دونوں جزوں سے استدلال کرتا ہے۔ اول سے یوں کہ انسان کے بدن کی بنیاد نطفہ یعنی منی کے چند قطرے ہیں جو عورت کے رحم میں جانے کے بعد خون بن جاتے ہیں، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اعضاء نمودار ہوتے ہیں اور باوجودیکہ ایک مادہ ہے اور ایک جگہ میں ہے پھر اس میں سے کسی کے ہاتھ پائوں، ہڈی بنتی ہے، کسی کے سر، قلب وغیرہ، اعضاء۔ پھر وہ اعضا بےڈول نہیں بلکہ ہر ایک مناسب۔ بالوں کی جگہ بال، آنکھ کی جگہ آنکھ۔ اب دیکھو یہ کس کا کام ہے۔ ماں باپ کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ اندر کیا ہے اور کیا ہو رہا ہے ؟ اگر کہو طبیعت یا مادہ کا فعل ہے جیسا کہ بعض کہتے ہیں تو پوچھنا چاہیے کہ اول تو افعال طبیعہ یکساں ہوتے ہیں۔ اس کا مقتضٰی یہ تھا کہ انسان کی شکل کروی ہوتی۔ آدمی ایک گول مول گتا سا ہوتا، جیسا کہ حکماء آسمان اور زمین کی شکل کی نسبت کہتے ہیں اور مان لو کہ طبیعت کا فعل ہے تو پھر پوچھو کہ یہ طبیعت کس نے پیدا کی، اس کل کو کس نے چلایا، آخر وہی حکیم وعلیم آ کر ٹھہرے گا۔ دوسرے جزو سے استدلال یوں ہے کہ پیدا ہونے کے بعد حضرت انسان مرغی کے بچے کے برابر بھی ہوشیاری نہیں رکھتے، وہ تو انڈے سے نکلتے ہی دوست دشمن کو پہچاننے لگتا ہے، بلی، چیل سے بھاگتا، ماں کے پیچھے ہو لیتا ہے۔ برخلاف انسان کے کہ انہیں کچھ بھی خبر نہیں ہوتی۔ پھر وہ کون ہے کہ جس نے اس کو چالاک اور صاحب ادراک کردیا کہ صاحب ادراک ہوتے ہی آسمانوں اور زمین کے قلابے ملانے لگے، دنیا میں ہزاروں صنعتیں اور بہت سی کلیں تو اس نے ایجاد کی ہی تھیں، بارے اب پیغمبروں سے بھی مقابلہ کرنے لگے، قیامت اور خدا کے منکر بن گئے۔ فاذا ھو خصیم مبین میں اسی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 16:5–7والانعام خلقہا الیٰ قولہ ان ربکم لرؤف رحیم یہ تیسری قسم ہے۔ اس میں انعام کے پیدا کرنے سے اور ان سے انسان کے لیے فوائد حاصل ہونے سے استدلال کرتا ہے۔ الانعام بھیڑ بکری، اونٹ گائے کو کہتے ہیں۔ اول تو ان کی پیدائش میں غور کیجئے کہ ہر ایک کو اس کے مناسب حال پر بنایا۔ اگر اونٹ کی لمبی گردن نہ ہوتی تو بوجھ اٹھا کر اس سے اٹھا نہ جاتا۔ علی ہذا القیاس پھر جو ان سے انسان کو منافع اور فائدے پہنچتے ہیں ان میں فکر کیجئے۔ پہلا ضروری فائدہ تو ان کے بالوں سے وہ کپڑے تیار ہوتے ہیں کہ جن سے سردی دفع ہوتی ہے۔ اونٹ اور بھیڑ بکری کی پشم اس میں بہت مستعمل ہوتی ہے۔ دوم اور بہت سے فائدے ہیں ومنافع۔ سوم بعض ان میں سے کھائے جاتے ہیں۔ یہ ضروری فائدے ہیں اس کے علاوہ اور بھی ہیں۔ ولکم فیہا جمال الخ کہ جب وہ شام کو جنگلوں سے چر کر گھروں میں آتے ہیں اور ان کے مالک ان گلوں اور ریوڑوں کے انتظار میں گائوں کے کنارے نکل کر بیٹھتے ہیں تو پھر اس وقت ان کو جو کچھ رونق اور زینت ہوتی ہے انہیں کے دل سے پوچھنی چاہیے اسی طرح جب صبح کو چرنے جاتے اور غل و شور مچاتے ہیں تو وہ بھی عجب کیفیت ہوتی ہے۔ یہ بھی خدا ہی کا کام ہے کہ ان جانوروں کو تمہارے قابو میں کردیا ورنہ زور و طاقت میں وہ بھی کچھ کم نہیں۔ اس کے سوا ان پر بوجھ لاد کر ایسے دور دراز شہروں میں لے جاتے ہو کہ اگر خود اٹھا کرلے جاتے تو حقیقت معلوم ہوتی یہ سب باتیں اس کی رحمت سے ہیں ان ربکم لرؤف رحیم۔ اس پر بھی عذاب کی جلدی کرتے ہو۔
(1 یعنی ان کی کھال اور بالوں سے جاڑے کے کپڑے بناتے ہو۔ دِف معناہ السخانۃ وقال ابن عباس ؓ دف الثیاب ای من الاسیۃ والاردیۃ۔ حقانی)
Ayahs 16:8–9والخیل والبغال والحمیر الخ یہ چوتھی قسم ہے۔ چارپایوں میں سے بالخصوص ان کے ساتھ استدلال ہے کہ جو بالخصوص سواری کے کام آتے ہیں اور زینت کا بھی باعث ہوتے ہیں۔ ان چند چیزوں کو شمار کر کے اجمالاً ان سواریوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو ہنوز ظہور میں نہیں آئی تھیں یا آیندہ آئیں گی جیسا کہ ریل گاڑی اور دخانی جہاز یا جن کو عرب جانتے نہ تھے۔ ویخلق مالاتعلمون و علی اللہ قصد السبیل و منہا جائر ولوشاء لہدکم اجمعین دلائلِ توحید بیان فرما کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اپنی رحمت خاصہ سے اللہ کا کام ہے کہ وہ سیدھا رستہ بیان فرماوے۔ چناچہ اس نے انبیاء بھیجے اور دلائل بیان فرمائے مگر کچھ رستے ٹیڑھے بھی ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ اگر کوئی کہے اس نے ایسا کیوں ہونے دیا اس کا جواب دیتا ہے کہ اس کی مشیت یوں ہی ہے اگر وہ چاہتا تو سب کو ہدایت کرتا مگر نہ کی۔ بعض مفسرین وعلی اللہ الخ کے یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ راہ راست کہ جو انبیاء کی معرفت دنیا میں قائم کی گئی اللہ تک پہنچتی ہے، یعنی شریعت انبیاء پر چلنے والا اللہ تک اعنی اس کی رضا تک پہنچتا ہے اور بعض ٹیڑھے رستے ہیں ولوشاء الخ میں قدریہ کا صاف رد ہے۔
Ayahs 16:10–13ترکیب : منہ شراب جملہ اور نیز منہ شجر دونوں جملے ماء کی صفت ہیں و ماذرا محل نصب میں ہے خلق یا ابنت محذوف سے۔ مختلفاً حال ہے واصل السوم الابعاد فی المرعی قال الزجاج من السومتہ وھی العلامتہ لانہا توفی الارض۔ علامات برعیھا یقال سامت السائمۃ تسوم سوماً رعت فہی سائمۃ۔
نباتات کے عجائب حالات سے اثبات باری تعالیٰ
تفسیر : عالم سفلی میں حیوان کے بعد اشرف الاجسام نباتات ہیں۔ پس حیوان کے عجائب حالات سے خدا تعالیٰ کا قادر مختار ہونا ثابت کر کے نباتات کے عجائب حالات سے ثابت کرتا ہے چونکہ نباتات کے پیدا ہونے کا سبب مینہ ہے۔ اس لیے سب سے اول فرماتا ہے کہ ھوالذی الخ ہم نے ہی تو آسمان سے یعنی بادل سے پانی اتارا یعنی برسایا۔ جس کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ تم اس کو پیتے اور پی کر جیتے ہو۔ جہاں کنوئوں اور نہروں کا پانی نہیں وہاں تو اسی پر زندگی ہے اور کنوئوں، نہروں کا پانی بھی برسات نہ ہو تو خشک ہوجاوے۔ دوسرا فائدہ ومنہ شجر الخ یہ کہ اس سے شجر یعنی گھانس اگاتا ہے جس سے تمہارے چارپایوں کی زندگی ہے، نجم اس گھانس کو کہتے ہیں جو زمین پر لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔ بیل اور شجر وہ جو اٹھا ہوا ہوتا ہے اور اگر شجر سے درخت بھی مراد لیے جاویں تو درختوں کے پتے بھی اکثر حیوانات کی روزی ہے۔ حیوانات کی روزی بیان فرما کر اب اس پانی سے انسان کی روزی پیدا کرنا ذکر فرماتا ہے اور چونکہ اناج سب سے ضروری چیز ہے جس بغیر سرتاہی نہیں سب سے اول اسی کا ذکر کرتا ہے ینبت لکم بہ الزرع یہ تیسرا فائدہ ہے والزیتون اس کے بعد بہت کارآمد چیز ہے والنخیل والاعناب پھر کھجور اور انگور میوئوں میں سب سے اس لیے بڑھ کر ہیں کہ صرف انہیں کو کھا کر انسان مہینوں جی سکتا ہے اس کے بعد بیشمار میوئوں اور پھلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ و من کل الثمرات اب غور کرو کہ بادلوں میں پانی کا ہونا اور پھر اس سے یہ چیزیں پیدا کرنا پھر ان کے پتوں اور پھولوں میں یہ گلکاری کرنا ایک دانہ کو زمین میں ڈال کر اس سے یہ باتیں ظہور میں لانا کیا بغیر کسی قادر ‘ مختار ‘ حکیم ‘ علیم کے ہوسکتا ہے ؟ آپ سے آپ یہ چیزیں اس اسلوب سے کہیں ہوسکتی ہیں ؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ بڑے حکیم کا کام ہے مگر ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون، اس نشانی کو غوروفکر کرنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی کوتاہ فہم ان چیزوں کو ان کے اسباب ظاہری آفتاب مہتاب و ستاروں کی تاثیروں، رات کی گرمی سردی کی طرف منسوب کرے تو اس کو خیال کرنا چاہیے کہ یہ اسباب کس کے بس میں ہیں، کس نے ان کو تمہارے کام پر لگا رکھا ہے، وسخرلکم اللیل الخ اسی قادرمختار نے کیونکہ آفتاب و مہتاب اجسام ہیں، ان میں یہ تفاوت اگر جسم من حیث الجسم ہونے کی وجہ سے ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ اس میں سب برابر ہیں۔ پھر آخر اور کوئی ہے جس نے یہ تفاوت کیا اس کو اہل عقل خوب سمجھتے ہیں۔ ان فی ذلک لآیات لقوم یعقلون، اچھا اگر انہیں کی تاثیر ہے تو پھر یہ تمام نباتات میں برابر ہونی چاہیے تھی ایک ہی درخت ہے، ایک ہی ماہیت ہے، ایک ہی پانی دیا جاتا ہے مگر پھر ماذرالکم فی الارض مختلفًا الوانہ رنگ برنگ کے پتے ہیں، ان فی الخ، مگر اس بات کو بجز اہل عقل کے حمقاء کیا سمجھ سکتے ہیں۔
Ayah 16:14ترکیب : و تستخرجوا معطوف ہے تاکلوا پر تلبسونہا جملہ حلیۃ کی صفت، و تریٰ کا مفعول ثانی مواخر من المخر بمعنی شق الماء فیہ مواخر سے متعلق جملہ البحر کے بیان حال کے لیے۔ والتبتغوا عطف ہے لتاکلوا پر۔ ولعلکم اس پر، ان تمیدای مخافۃ ان۔ لحمًا طریًا والمرادبہ السمک وانما وصفہ بالطراوۃ اشعار ابلطافتہ، والطراوۃ ضدالیبوستہ ای غضا جدید ایقال طریت کذا ای جددتہ و اطریت فلانا ای بالغت فی مدحہہ مدحۃ باحسن مافیہ۔
تفسیر : اول بار ذات الٰہی کا ثبوت اجرام سماویہ سے کیا تھا پھر دوسری مرتبہ میں انسان کے بدن اور اس کے نفس سے تیسری مرتبہ میں عجائبِ خلقت حیوانات سے چوتھی مرتبہ میں نباتات کے عجائبِ حالات سے اب پانچویں مرتبہ میں خدا کا موجود و قادر و یکتا ہونا۔ اس کی اس صنعت سے دکھاتا ہے جو عناصر کے ساتھ متعلق ہے۔ سب سے اول پانی کا ذکر کرتا ہے بقولہ ھوالذی سخرالبحر۔ بحر سے مراد سمندر ہے جو زمین کے چاروں طرف محیط ہے جس میں سے تقریباً چہارم حصہ کے قریب زمین کھلی ہوئی ہے جس پر یہ حیوانات انسان رہتے ہیں۔ اب اول تو اس پانی کو دیکھئے کہ کہاں سے آیا اور کس نے اس کو پیدا کیا ؟ پھر اس کو غور کیجئے کہ خدا نے ایسا گہرا پانی کہ جہاں آدمی کا پتا بھی نہ لگے انسان کے لیے کس طرح سے مسخر کردیا اس کے قابو میں کیسا کردیا کہ اول تو اس سے لحم طری یعنی تازہ گوشت نکال کر کھاتے ہیں، وہ کیا مچھلی اور عام اقوام کے لیے کچھوے وغیرہ دیگر چیزیں بھی کہ سمندر سے نکال کر کھاتے ہیں۔ کیا قدرت ہے کہ آدمی جو پانی میں دم بھر میں ڈوب مرتا ہے وہ پانی کے جانوروں کو کس طرح سے پکڑتا ہے اور لطف یہ ہے کہ سمندر کا پانی کھاری اور وہاں کے جانوروں کا گوشت خصوصاً مچھلی کا کھاری نہیں۔ دوم تستخرجوا منہ حلیۃ الخ کس اطمینان کے ساتھ سینکڑوں گز پانی سے غوطہ لگا کے (لیکن وہ غوطہ یوں نہیں لگتا اس کی اور تدبیر ہوتی ہے جس کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں) زیور نکالتے ہو یعنی موتی اور اس کے عمدہ عمدہ سیپ اور مونگا جن کو طرح طرح سے زیور بنا کر پہنتے ہیں۔ پہنتی تو عورتیں ہیں مگر مردوں سے اس لیے خطاب کیا کہ عورتوں کے پہننے سے مردوں کا دل خوش ہوتا ہے اور نیز بعض مرد بھی پہنتے ہیں۔ سوم وتری الفلک الخ کہ بڑی بڑی کشتیاں جو ہوا کے زور سے چلتی ہیں، پانی کو چیرتی پھاڑتی کس تیزی کے ساتھ آتی جاتی ہیں، ہوا کو بھی انسان کے کیا بس میں کیا ہے۔ عنصر ہوا کا بھی اور نیز آگ کا بھی اس میں مجملاً ذکرآ گیا کیونکہ دخانی جہاز یا آگبوٹ یا سٹیمر سمندر میں اس طرح ادھر ادھر دوڑتے پھرتے ہیں کہ جس طرح زمین پر لگام کے اشارہ سے گھوڑا ادھر ادھر دوڑتا ہے گویا سمندر کو سطح زمین کردیا۔ لاکھوں من اسباب دور دراز ملکوں سے کس سہولت کے ساتھ آتا ہے اور کیسی تجارت ہوتی ہے جو مال داری کا جلد باعث ہوجاتی ہے ولتبتغوامن فضلہ میں یہی مراد 2 ؎ ہے کیونکہ فضل رب سے روزی اور فراخ دستی کی طرف اشارہ ہے۔
اب اس سے زیادہ کیا تسخیر بحر ہوگی۔ اسی نے یہ تدابیر تم کو تعلیم فرمائیں لعلکم تشکرون تاکہ تم اس کا شکر کرو مگر شکر تو درکنار لوگ اپنی ہی تدبیر اور کاریگری پر نازاں ہو کر خدائے تعالیٰ ہی کو بھول گئے۔
(1 ؎ فضل سے مراد اسباب معاش ہیں جو دریائی سفر سے حاصل ہوتے ہیں، تجارت، ملک گیری اور دیگر اشیائِ دریائی جو کارآمد ہیں اور علمی منافع بھی یہ سب اس کے فضل و کرم سے حاصل ہوتے ہیں ورنہ بہت سے جہاز ڈوب بھی جاتے ہیں جس کام کے لیے جاتے ہیں اس میں ناکامی ہوجا جاتی ہے۔ )
Ayah 16:15والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم الخ۔ المید الحرکۃ والا ضطراب یمینًا و شمالاً یقال مادمید میداً یعنی مید کے معنی ادھر ادھر ہلنے کے ہیں۔ اب عنصر خاک یعنی زمین کے حالات سے استدلال کرتا ہے کہ جس پر رہ کر یہ بنی آدم غرور کرتے ہیں اور بعض تو سرے سے خدا تعالیٰ کے ہی منکر ہیں اور بعض اس کے ساتھ اور معبود قرار دیتے ہیں۔ جمہور مفسرین کے نزدیک آیت کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح خالی کشتی ادھر ادھر ہلا کرتی ہے اور جب اس میں کچھ بوجھ پتھر ڈال دیتے ہیں تو اس کے دباؤ سے نہیں ہلتی۔ یہی حال زمین کا تھا پھر جب خدا نے اس پر پہاڑوں کا بوجھ ڈال دیا تو ہلنے سے رک گئی۔
زمین ازتپ و لرزہ آمد ستوہ
فرو کوفت بر دامنش میخ کوہ
زمین پر پہاڑوں سے بوجھ ڈالنے پر اعتراض اور اس کا جواب : مگر اس تفسیر کے ظاہری معنی پر چند اعتراض ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ جس طرح پانی اپنی جگہ پر میل طبعی کی وجہ سے ٹھہرا ہوا ہے تو زمین جو اس سے بھی ثقیل ہے بدرجہ اولیٰ اپنے حیز طبی پر ٹھہری ہوگی پھر اس کے ہلنے کے کیا معنی۔ کچھ وہ پانی پر کشتی کی طرح نہیں بلکہ پانی اس پر ہے اس کے اردگرد سمندر لپٹا ہے۔ دوم اگر باوجود اس
جسامت اور ثقل کے زمین کی طبیعت میں سکون نہ تھا تو پہاڑ بھی تو زمین ہی کے جزو بدن ہیں جیسا کہ آدمی کے بدن پر پھوڑے اور پھنسیاں ابھر آتی ہیں ایسا ہی پہاڑوں کو سمجھ لو پھر پہاڑوں کی طبیعت میں سکون کہاں سے آگیا ؟ اور یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ پہاڑ بعد میں زمین پر رکھے گئے ہیں۔ اس اعتراض کو مخالفین نے بڑے شدومد کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس کا جواب بھی مفسرین نے خوب دیا ہے مگر کاتب الحروف کے نزدیک سرے سے اس آیت پر اور نیز اسی قسم کی دیگر آیات پر کوئی اعتراض ہی نہیں پڑتا کیونکہ صاف معنی یہ ہیں کہ خدا نے زمین پر رواسی بوجھ ڈالے یعنی اس کی طبیعت میں ثقل اور بھاری پن رکھا اور پہاڑ چونکہ اس کے اجزا میں سخت اور ثقیل تر اجزاء ہیں اس لیے یہ ثقل ان کی طرف منسوب کیا گیا اور ان کو زمین کی میخیں قرار دیا، ہوا کی طرح زمین کو خفیف نہیں بنایا جو ادنیٰ سے سبب سے حرکت کرنے لگتی اس لیے البتہ اس پر سکون مشکل ہے بلکہ زمین میں ثقل پیدا کیا جس سے وہ ہلتی نہیں۔ اس تقدیر پر اگر یہ مسئلہ بھی حکمائِ حال کا مان لیا جاوے کہ زمین حرکت کرتی ہے تب بھی کچھ اشکال وارد نہیں ہوتا کیونکہ اس کی یہ حرکت اینی یا وضعی جو کچھ ہو وہ نہیں کہ جس سے اس کے رہنے والے ہلنے لگیں اور پھر نادشوار ہوجاوے جیسا کہ اس کی کرویت بساط ہونے کے منافی نہیں۔ یہ کیا احسان باری ہے۔
وانہارًا وسبلاً و علامات یہ تین باتیں اور بیان فرماتا ہے جو اس کی قدرت کاملہ کی دلیل اور بندوں کے حق میں احسان عظیم ہے یعنی زمین پر نہریں جاری کیں جن سے آبادی ملک ہے اور رستے بھی پہاڑوں اور دروں میں اسی نے رکھے اور پہاڑوں اور ٹیلوں کی علامتیں کردیں اگر سب زمین یکساں ہوتی تو بڑی مشکل پڑجاتی۔ وبالنجم ھم یہتدون یعنی نہ صرف زمین ہی کی چیزیں ان کے لیے رستوں کی علامات ہیں بلکہ رات کو لق و دق بیابانوں میں ستاروں کی سیدھ میں قافلے چلتے ہیں۔ افمن الخ پھر جس نے یہ چیزیں بنائیں کیا وہ تمہارے بتوں کے برابر ہوگیا جو کچھ بھی نہیں بنا سکتے۔ ان سب کے بعد فرماتا ہے کہ میری اور بیشمار نعمتیں ہیں جن کو تم شمار نہیں کرسکتے، اس پر بھی تم ناشکر اور غیرمعبودوں کی طرف مائل ہو جس کی سزا میں یہ نعمتیں چھین لینا بجا تھا مگر اس پر بھی ہم بڑے غفور رحیم ہیں، درگزر ہی کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس میں بحری تجارت اور سفر کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 16:16–19(2) تمہارے اسباب معاش تمہیں حاصل ہوجاویں اور ان میں تمہیں کامیابی ہو۔ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان اسباب سے مسبب الاسباب کی طرف ہدایت ہو عارف کو ہر نعمت میں اسی کا یدہدایت دکھائی دیتا ہے۔ )
Ayahs 16:20–21ترکیب : لایخلقون خبر ہے والذین کی اموات خبرثانی غیراحیاء تاکید ہے۔ ایان منصوب ہے یبعثون سے فالذین مبتدا قلوبہم جملہ خبر، ان اللہ الخ جملہ لاجرم بمعنی حق و ثبت کا فاعل جملہ ان اللہ الخ ما استفہامیہ وذاموصلہ والعائد محذوف اساطیر الاولین خبر ہے مبتداء محذوف کی لیحملوا ای قالوا ذالک۔ لیحملو الام العاقبۃ۔ و من اخفش کے نزدیک زائدہ ہے۔ والاساطیر جمع اسطورہ کی جیسے احادیث جمع اوحدوثہ واضا حیک جمع اضحوکۃ واعاجیب جمع اعجوبۃ بغیر علم حال من الفاعل ای یضلون الناس جاہلین۔
تفسیر : واللہ یعلم الخ اس میں ایک اور فرق الہ حق اور فرضی معبودوں میں بتلایا ہے کہ اللہ کو ہر ایک ظاہر و باطن بات معلوم ہے تمہارے معبودوں کو نہیں۔ والذین یدعون من دون اللہ الخ جمہور مفسرین کے نزدیک ان سے مراد ان کے بت ہیں کہ جن کو وہ قادر زندہ اور دانا جان کر پرستش کرتے تھے، جلالین میں ہے وھم الاصنام۔ تفسیر کبیر میں اس جملہ کی شرح یوں کی ہے فاعلم انہ تعالیٰ وصف ہذاہ الاصنام بصفات کثیرۃ الخ پھر ان کے بتوں کی قدرت کو یوں باطل کرتا ہے لایخلقون شیئًا وھم یخلقون۔ کہ وہ کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں، سنگتراش ان کو گھڑ گھڑ کر بناتے ہیں، زندگی کا بطلان یوں کرتا ہے۔ اموات غیراحیاء کہ بےجان ہیں، حس و حرکت بھی نہیں۔ ان کے علم و دانائی کو یوں باطل کرتا ہے ومایشعرون کہ انہیں جو ضروری بات ہے وہ بھی معلوم نہیں کہ انسان مر کر کب زندہ ہوں گے۔ پھر جب یہ تینوں باتیں نہیں تو ان کی خدائی کیسی اور ان کی عبادت لغو اور بےفائدہ ہے
Ayahs 16:22–23رب تعالیٰ صرف ایک ہے۔
اس لیے فرمایا الہکم الہ واحد کہ تمہارا خدا صرف ایک ہی خدا ہے۔ مخالفین ان دلائلِ توحید سے بند ہوجاتے تھے اور دل میں بھی سمجھتے تھے مگر قوم کی رسم و عادت سے ان کی پرستش نہیں چھوڑتے تھے، دل میں توحید نہیں سماتی تھی اور نہ ان کا تکبر پیغمبر (علیہ السلام) کی پیروی کی اجازت دیتا تھا اس بات کو فالذین سے لے کر لایحب المتکبرین تک بیان فرماتا ہے۔
Ayahs 16:24–25واذا قیل لہم، اب ان کی ضد اور تکبر اور عناد کی ایک اور بات بیان فرماتا ہے کہ جب ان سے کوئی قرآن کی نسبت سوال کرتا ہے کہ وہ کیسا ہے تو اس کے الہامی مطالب سے قطع نظر کر کے طعن کی راہ سے اس کے پندآمیز قصوں کو اگلے لوگوں کی کہانیاں کہہ دیتے تھے، جاہلوں کو گمراہ کرنے کے لیے لیحملوا 1 ؎ الخ ولا تزر وازرۃ وزراخریٰ کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہاں یہ مراد نہیں کہ دوسروں کا گناہ اٹھا کر ان کو بری کردیں گے بلکہ یہ کہ ایک تو اپنا ذاتی گناہ اٹھاویں گے، دوم جن کو گمراہ کیا ہے ان کی گمراہی کا گناہ بھی انہی کے سر پر رہے گا (ف) اور ولاتزر الخ میں یہ مراد کہ دوسرے کو بری نہ کرے گا۔
(ف) منکرین کو قیامت میں دوہرا عذاب ہوگا ایک تو اپنے گناہ کی سزا دوسرے ان کے گناہ کی سزا جن کو بےعلمی سے یہ سب گمراہ کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ جس نے نیک راہ کی طرف ہدایت کی تو جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے سب کے ثواب کے برابر اس بتلانے والے کو بھی ثواب ملتا رہے گا اور عمل کرنے والوں کا ثواب کچھ کم نہ ہوگا اور جس کسی نے کوئی بری بات کی لوگوں کو تعلیم کی تو جتنا عمل کرنے والوں کو گناہ ہوگا ان سب کے برابر اس عمل جاری کرنے والوں کو بھی گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کا کچھ عذاب کم نہ ہوگا۔ حقانی
Ayah 16:26ترکیب : فاتی اللہ ای قصد۔ من فوقہم متعلق ہے خرّ سے ویجوزان یکون ‘ من لابتداء الغایۃ وان یکون حالا اے کائنا من فوقہم یوم القیامۃ طرف ہے یخزیہم کا الیوم کا عامل الخزی الذین جملہ الکافرین کی صفت ہے ظالمی حال ہے ھم ضمیر تتوفہم سے السلم بمعنی القول جیسا کہ دوسری آیت میں ہے فالقوا الیھم القول ماکنا تفسیر السلم کی۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ کافر قرآن کو مکروفریب سے قصے کہانیاں بتلاتے ہیں، لوگوں کو بہکانے کے لیے اب فرماتا ہے کہ کچھ انہیں پر منحصر نہیں ان سے پہلوں نے بھی دین حق کے مقابلہ میں بہت کچھ مکروفریب کئے تھے کہ جن کو خدا نے برباد کردیا۔ فاتی اللہ الخ بعض مفسرین کہتے ہیں آیت کے ظاہری معنی مراد ہیں کہ ازراہ مکر قدیم زمانہ میں کفار نے مقامات بلند بنائے تھے خدا نے ان کو جڑ سے گرا دیا، چھت ان کے اوپر آ پڑی، دب کر مرگئے جیسا کہ طوفان نوح کے بعد بابل شہر میں ایک نہایت بلند برج بنایا تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ ایک محاورے کی بات ہے کہ ان کے منصوبوں کو ڈھا دیا جیسا کہ کسی منصوبے کے پورا نہ ہونے کے موقع پر کہتے ہیں کہ چنا چنایا گھر گر پڑا۔
Ayah 16:27ثم یوم القیامۃ پھر فرماتا ہے کہ کچھ دنیا ہی کی سزا پر منحصر نہیں بلکہ قیامت کے دن بھی اللہ ان کو رسوا کرے گا کہ ان سے پوچھے گا کہ وہ میرے شریک جو تم نے اپنے نزدیک قرار دے رکھے تھے، کہاں ہیں ؟ ادھر طعن و توبیخ کے طور پر اہل علم (مومنین یا انبیاء یا ملائکہ) انہیں کہیں گے کہ آج کفار کی رسوائی اور برائی ہے۔
Ayahs 16:28–29الذین 1 ؎ تتوفہم الملائکہ یہ کفار کی رسوائی اور قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ اس روز ان سے خدا پوچھے گا کہ جن کو تم نے دنیا میں میرا شریک بنا رکھا تھا وہ کہاں ہیں، جواب نہ آئے گا، سرنگوں ہوجائیں گے، ان کی سرزنش کے لیے علماء، انبیاء، ملائکہ کہیں گے کہ یہ بڑے بدنصیب اور قابل سزا ہیں۔ مرتے دم تک یعنی اس وقت تک کہ فرشتے جان نکالنے آئے، اپنی اسی بت پرستی اور بدکاری میں اپنی جانوں پر ستم ڈھا رہے تھے اس وقت بھی ان کو توبہ نصیب نہ ہوئی اس پر وہ بدبخت سر نیچا کر کے ان اہل علم کے جواب میں کہیں گے ہم تو دنیا میں کوئی بھی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ان کی دروغ گوئی پر ملائکہ کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو، تمہارے اعمال خدا کو معلوم ہیں، اس کے بعد ان کو فیصلہ سنایا جاوے گا کہ چلو جہنم کے دروازوں میں گھسو جہاں تم کو سدا رہنا ہوگا یعنی عمرقید اس کے بعد خدا فرماتا ہے کہ کیا ہی برا ٹھکانا ان متکبروں کا ہے یعنی بہت بری سزا کے مستوجب ہیں۔
1 ؎ کہاں ہے وہ نیچر مفسر جو فرشتوں کا انکار کرتا ہے اور ان کو کبھی انسانی قوتیں اور کبھی صفات باری اور کبھی نباتات کی قوتیں بتلاتا ہے۔
Ayahs 16:30–34ترکیب : ماذا محل نصب میں ہے انزل سے جیسا کہ ماذا کے جواب قالو اخیرا ای انزل خیرا سے معلوم ہوتا ہے جنت عدن مخصوص بالمدح نعم کا یدخلونہا اس سے حال اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو کہ یدخلونہا اس کی خبر ہو یا محذوف ہو طیبین حال من المفعول وھوالقوی وقیل من الفاعل مقارنۃ اومقدرۃ۔
تفسیر : کافروں کے مقابلہ میں مومنین کا ذکر کرتا ہے وقیل للذین الخ کہ ان سے جو قرآن کا حال پوچھا جاتا ہے تو اس کو بہتر اور عمدہ بتلاتے ہیں۔ مکہ کے مشرکین ایام حج میں بدمعاش لوگوں کو مکہ کے رستوں پر بٹھلا دیتے تھے اور عرب کے قبیلوں میں آنحضرت ﷺ کے دین اور قرآن کا ایک حیرت خیز چرچا پھیلا ہوا تھا۔ وہ اپنے ایلچی ان ایام میں اس امر کے دریافت کرنے کو بھیجتے تھے یہ رستوں پر بیٹھنے والے ان سے کہہ دیتے تھے کہ قرآن بہت بری چیز ہے، پھر بعض انہیں کے مزاج کے اس کو سچ جان کر اپنی قوم میں برائی سے یاد کرتے تھے اور نیک طینت مکہ میں حضرت ﷺ کے صحابہ سے مل کر اصل حال سے واقف ہوتے تھے اور اپنی قوم میں جا کر بھلائی کے ساتھ یاد کرتے تھے۔ اس آیت میں اس واقعہ کی طرف سے اشارہ ہے للذین احسنو الخ یہاں سے نیکی کا نیک بدلہ ملنا بیان فرماتا ہے فی ھذہ الدنیا کو بعض مفسرین احسنوا سے متعلق کرتے ہیں تب یہ معنی ہوں گے کہ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کمائی ہے ان کو دار آخرت میں نیک بدلہ ہے اور اکثر حسنہ سے متعلق کرتے ہیں اور یہی قوی ہے یعنی نیکوں کو اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا اجر تو بہت ہی کچھ ہے۔ دنیا میں بھلائی ملنا عام ہے، نیک نامی ہو یا فراخ دستی، خوشحالی ہو یا مخالفوں پر فتح یابی یا روح کا نوروسرور ہو۔ پھر دارآخرت کے اجر کا بیان فرماتا ہے کہ جنت ہے اور اس میں یہ یہ نعمتیں ہیں۔ الذین سے نیکوں کی صفت بیان فرماتا ہے کہ فرشتے جو ان کی جان قبض کرنے آتے ہیں تو اس وقت وہ طیب ہوتے ہیں (یہ بھی بڑا وسیع المعنی لفظ 1 ؎ ہے شامل ہے گناہوں کے میل کچیل سے پاک و صاف ہونے کو اور نیز علائقِ دنیا دل سے دور ہونے کو اور اصلی گھر میں جانے کی خوشی کو اور شوق دیدارِ الٰہی کو) فرشتے ان سے سلام علیکم کہتے ہیں اور جنت کا مژدہ دیتے ہیں۔ ھل ینظرون سے یہ بات بتلاتا ہے کہ منکر بجز موت کے فرشتوں کے دیکھنے کے یا عذاب الٰہی دیکھنے کے نہیں مانیں گے برخلاف ایمانداروں کے کہ پہلے ہی سے ایمان رکھتے ہیں سو یہ کچھ نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہی کرتے تھے جو بلا میں پڑے تھے۔
1 ؎ جس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ اس وقت خدا کے پاس جانے کے لیے خوش ہوتے ہیں اور دارالبقاء کا شوق ان پر غالب ہوتا ہے دنیا سے جانا قیدخانہ سے رہائی سمجھتے ہیں اور جب طیبین کو ملائکہ سے حال بنایا جائے گا تو یہ معنی ہوں گے کہ ملائکہ موت نہایت خوش اخلاقی سے مونس بن کر سلام کہتے ہیں اور دارالخلد کا مژدہ دیتے ہیں اس وقت مومن نیکوکار کو ایسی فرحت ہوتی ہے کہ جس کا بیان نہیں برخلاف ان کے جو دنیا اور اس کے لذات اور گناہوں گی آلائش میں ڈوبے ہوتے ہیں اور برے اعمال کے برے نتائج دیکھتے ہیں اور دنیا کی محبت اور لذات و شہوات کی بھاری بیڑیاں پائوں میں ہوتی ہیں تو بڑا رنج ہوتا ہے اور جس طرح کوئی قیدی کو زبردستی جیل خانہ میں گھسیٹ لے جاتا ہے اسی طرح وہ دوسرے جہان میں جاتے ہیں۔
Ayahs 16:35–36ترکیب : نحن تاکید لضمیر عبدنا ‘ دونہ من شیء من الاولی والثانیۃ زائد تان الطاغوت من الطغیان یذکرو یونث ویقع علی الواحد والجمع والمراد بہ کل معبودودون اللہ کا لشیطان والصنم و کل من دعی الی الضلال۔
تفسیر : نبی (علیہ السلام) جب کفار کو ان کی بری باتوں سے منع کرتے اور عذاب الٰہی سے ڈراتے تھے تو وہ یہ بھی جواب دیا کرتے تھے کہ ہمارا یہ شرک کرنا ‘ بت پوجنا اور اسی طرح بتوں کے نام کی چیزوں کو تعظیماً حرام سمجھنا جیسا کہ بحیرہ اور سائبہ ہے کچھ آج سے نہیں بلکہ باپ دادا کے زمانہ دراز سے چلا آتا ہے اگر یہ امر خدا کو منظور نہ ہوتا تو نہ انہیں کرنے دیتا نہ ہمیں خود کرنے دیتا کیونکہ بندہ اس کے بس میں ہے اب اس کو اے رسول ! تمہاری معرفت منع کرنے کی کیا ضرورت ؟ کذلک فعل الذین چونکہ یہ جبروقدر کا نازک مسئلہ اس قابل نہ تھا کہ جس کو وہ سمجھتے کہ فی الجملہ بندہ کو بھی اختیار دیا گیا ہے اور نیز ان کی یہ حجت معاندانہ تھی جس سے انکار نبوت مقصود تھا اس لیے فرمایا کہ ان سے پہلے جہلا بھی یوں ہی حجت کرتے آئے ہیں انبیاء کا سلسلہ ہمیشہ سے جاری ہے ان کا کام صرف سمجھا دینے کا ہے اور ہر قوم میں رسول آ کر بت پرستی سے منع کرتے آئے ہیں اور توحید کا حکم دیتے آئے ہیں جس طرح آج تم میں سے جو ازلی نیک ہیں رسول کے مطیع اور بدبخت ازلی رسول کے نافرمان ہیں وہ بھی ایسے ہی تھے۔ پھر تم نے یہ کہاں سے ثابت کرلیا کہ خدا ہمارے اس کام سے خوش ہے اگر ہمیشہ سے اللہ کی عادت یوں جاری نہ ہوتی کہ وہ انبیاء بھیج کر بری باتوں سے منع نہ کرتا تو اس کا سکوت رضامندی پر محمول کرتے۔ حاصل یہ کہ ہمیشہ سے ہر جگہ رسول بری باتوں سے منع کرتے آئے ہیں ان کا کام حکم پہنچا دینا تھا پہنچا دیا لیکن گمراہوں نے نہ مانا سو تم بھی ان کی پیروی کر رہے ہو خدا تمہارے اس کام سے خوش نہیں اب تم زمین پر پھر کر دیکھ لو کہ رسولوں کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ؟ کسی پر کچھ مصیبت آئی ‘ کسی پر کچھ۔ گائوں اور شہر اجڑے پڑے ہیں ان کے آثار اور بقیہ علامات ان کے حال زار پر اشک حسرت بہا رہے ہیں۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ پہلوں کی بری باتیں بھی قابل سزا تھیں۔
اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ کچھ پہلوں ہی پر وبال الٰہی کا آنا منحصر نہیں گو اللہ تعالیٰ غصہ کا دھیما اور بہت فروگزاشت کرنے والا ہے جھٹ پٹ انسان کو دنیا میں اس کے برے کام پر سزا نہیں دیتا مگر جب کسی قوم کی شرارت حد کو پہنچ جاتی ہے تو انتقامِ الٰہی کا وقت بھی آجاتا ہے اور مختلف طور پر دنیا میں عذاب اترتا ہے کسی کو دشمن کی تیغ بےدریغ کا لقمہ کرتا ہے کسی کو افلاس و نفاق کی بلا سے ہلاک کرتا ہے، کسی کو ہیضہ سے ‘ کسی کو زلزلہ سے، کسی کو پہاڑوں کے آتش فشاں مادے سے، کسی کو قحط شدید سے ہلاک کرتا ہے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 16:37ترکیب : ان تحرص شرط، لاتقدر جواب محذوف فان اللہ اس کی جگہ قائم ہے۔ من یضل مفعول ہے لایہدی کا۔ لیبین یبعث مقدر سے متعلق قولنا مبتدا لشیء موصوف اردناہ صفت قولنا سے متعلق ان نقول خبر۔ جہد ایمانہم الجہد الجیم المشقۃ وبضمہا الطاقۃ ونصبہ علی المصدریۃ والمعنی حلفواجاہدین غایۃ اجتہاد ہم وذالک انہم کانو ایقسمون بآبائھم والھتھم فاذاکان الامرعظیما اقسمواباللہ تعالیٰ وعدا مصدر مو کد لماول علیہ بلٰی۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں ظالموں اور نبی کے منکروں کا انجام کار بیان فرمایا تھا اب آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ کی ہدایت و تلقین میں کوئی قصور نہیں لیکن جس طرح پہلے زمانہ میں ازلی گمراہ ہدایت پر نہ آئے یہاں تک کہ ہلاک ہوگئے آپ کی قوم کے ازلی گمراہوں کا بھی یہی حال ہے یہ سب انبیاء کے ساتھ ہوتا آیا ہے اب آپ تبلیغ کرچکے ان کی ہدایت پر حرص نہ کریں فائدہ مند نہ ہوگا کیونکہ یہ ازلی گمراہ ہیں ان کو کون ہدایت دے سکتا ہے۔
Ayahs 16:38–39واقسمواباللہ جہد ایمانہم یہ ان کی ضلالت ازلی کی ایک بڑی بھاری بات تھی کہ جس کا ذکر کرنا یہاں مناسب تھا وہ یہ کہ ان کو قیامت کا سخت انکار تھا وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مر کر کوئی زندہ نہ ہوگا اس خیال کو اس کوتاہ فہمی نے اور بھی قوی کر رکھا تھا کہ جب آدمی مرگیا اور اس کے اجزائِ بدن ریزے ریزے ہو کر خاک میں اس طرح مل گئے کہ جن کا بہم کرنا ان کے خیال میں محال در محال تھا۔ پھر ان کا جمع کرنا اور روح ڈالنا ناممکن تھا اور جب انسان کو یہ خیال پیدا ہوجائے کہ مر کر نیست ہوجاتا ہے تو پھر نیکی اور بدی کی اس کو کچھ بھی پروا نہیں رہتی۔ دنیا ہی کی کامیابی اور ناکامی کو یہ نجات اور عذاب سمجھتے لگتا ہے جیسا کہ آج کل ہم دیکھتے ہیں۔ بلٰی وعدًاعلیہ حَقًّا ان کے اس خیال باطل کو ایک دلیل نقلی اور دلیل عقلی سے رد کرتا ہے اور نقلی دلیل چونکہ جلدی ساکت کردیتی ہے اس لیے اس کو بلیٰ وعداً سے لیکر انہم کانوا کاذبین تک تمام کیا عرب کے مشرکین انبیائِ سابقین کے حقیقی یا ادعائے پیرو وں سے یہ سنتے آئے تھے کہ خدا نے پہلی کتابوں میں پہلے انبیاء کی معرفت مرنے کے بعد زندہ کرنے کا وعدہ کرلیا ہے تاکہ وہاں انسان کے نیک و بدکام کی کامل سزاء و جزا ملے۔ لیبین ولیعلم میں اس طرف اشارہ ہے پس خدا اپنے وعدہ کو ضرور پورا کرے گا خدا کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 16:40انما قولنا الخ یہ دلیل عقلی ہے کہ ہر عاقل یہ بات جانتا ہے کہ اس عالم گوناگوں کو قادرمختار نے بنایا ہے اور نیز وہ کسی بات میں عاجز نہیں جب کسی چیز کا پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو کن کہتا ہے یعنی ہو سو وہ اسی وقت ہوجاتی ہے۔ اس کے اسباب بھی معاً بہم ہوجاتے ہیں۔ پھر انسان کا باردگر زندہ کرنا اور موجود کرنا اس کے نزدیک کیسا محال ہے ؟ وہ قادر مطلق ہے جس نے انسان کو قطرہ منی سے بنایا وہ اس کو بار دگر بھی بنا سکتا ہے۔