16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 16:115–117

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

تم پر حرام تو صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت کیا ہے اور وہ چیز بھی جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام سے پکاری گئی ہو پھر جو بھوک کے مارے بےتاب ہی ہوجائے تو نہ وہ باغی ہو نہ عادی ہو ایسی حالت میں اگر ان چیزوں کو بھی کھالے گا تو خدا غفور رحیم ہے

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور جھوٹ موٹ جو تمہاری زبان پر آوے نہ بک دیا کرو کہ یہ چیز حلال اور یہ حرام ہے کہ خدا پر (الٹے) بہتان باندھنے لگو کیونکہ جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

دنیا تو تھوڑا سا اسباب ہے اور (آخر تو) ان کے لیے عذاب دردناک ہے۔

انما حرم علیکم الخ کہ مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ چیز جو غیر اللہ کے نام سے پکاری جائے یا وقت ذبح غیر کا نام اس پر لیا جائے پھر یہ چیزیں بھی بحالت اضطرار درست ہیں۔ انما حصر کا کلمہ ہے خدا نے حرام چیزوں کا انحصار ماکولات 1 ؎ میں سے انہیں چار چیزوں پر کیا ہے یہاں بھی اور سورة انعام میں بھی بقولہ قل لا اجد فیما اوحی الی محرما علی طاعم اور یہ دونوں سورتیں مکیہ ہیں پھر سورة بقرہ میں بھی انہیں الفاظ کے ساتھ حصر ہے اور سورة مائدہ میں احلت لکم بہیمۃ الانعام الا ما یتلٰی علیکم سے اور ما یتلی علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وا ما اھل بہ لغیر اللہ میں کھول دیا اور یہ دونوں سورتیں مدنیہ ہیں۔ پس نطیحہ اور متردیہ وغیرہا حرام چیزیں انہیں میں داخل ہیں جیسا کہ ہم ان کے مواقع پر بیان کر آئے ہیں۔ انما حرم سے افراط سے منع کیا تھا کہ شتر بےمہار نہ ہوجاؤ ناپاک اور گندی چیزیں نہ کھاؤ اسی طرح ولاتقولوا سے تفریط سے منع کیا کہ حلال چیزوں کو بھی حرام نہ کرو یہ افراط وتفریط ناشکری ہے ایسی ناشکری پر بلا نازل ہوتی ہے۔ ناشکری 2 ؎ کر کے جو اس کی نعمتوں سے مزا اٹھاتے ہیں ادھر منعم سے غافل و سرکش رہتے ہیں ایسے نفس پر وروں کے لیے خاتمہ آیت میں یہ بھی کہہ دیا کہ متاع قلیل یہ دنیا کے مزے چند روزہ آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں بہت ہی کم اور حقیر ہیں ان کو برت لو آخر مرنے کے بعد تو ایسے ناشکروں اور منکروں کے لیے عذاب الیم بڑی دکھ دینے والی سزا ہے ان الوان نعمت کے بدلہ زقوم ہے اور ان عمدہ کپڑوں کے بدلہ رال اور گندھک کا لباس ہے۔ فوائد : (1) حلالاً طیباً حلال کے بعد طیب کے لفظ میں اشارہ ہے کہ جو چیزیں حلال ہیں وہ طیب بھی ہیں یعنی پاکیزہ اور ستھری۔ ان میں جسمانی یا روحانی کوئی بھی ناپاکی نہیں اور جن میں ناپاکی ہے انہیں کو حکیم مطلق نے بندوں پر اس لیے حرام یعنی منع کردیا ہے کہ غذا کا اثر معدے میں ضروری پہنچتا ہے جس کا اطباء انکار نہیں کرسکتے حال کے ڈاکٹروں نے ثابت کیا ہے کہ سور کے انچ بھر گوشت میں ہزار سے زیادہ کیڑے خوردبین سے دکھائی دیے جو صحت جسمانی کے لیے سخت مضر ہیں۔ (2) ناپاکی دو قسم پر ہے ایک جسمانی کہ وہ جانور یا وہ چیز گندی ہو جس کے کھانے سے طبائعِ سلیمہ نفرت کیا کرتی ہیں جیسا کہ گوہ موت پیپ جانوروں میں سور اور ہر قسم کے درندے شامل شیر، بھیڑیا وغیرہ، پرندوں میں پنجوں اور چنگل سے شکار کرنے والے باز چیل وغیرہ یا زمین کے حشرات سانپ بچھو وغیرہ۔ اس میں مردار جانور بھی شامل ہیں کہ جو ازخود مرجائے جس سے علماء نے غیرمذبوح جانور مراد لیا ہے بسبب ان تشریحات کے جو پیغمبر (علیہ السلام) نے فرمائی ہیں جن کا ذکر کتب احادیث میں موجود ہے۔ اسی طرح خون بھی کہ جس کو جاہلیت میں تو وں پر پکا پکا کر کھاتے تھے کیونکہ جس طرح غیرمذبوح کے گوشت میں وہ لطافت نہیں رہتی جو مذبوح کے ہوتی ہے یہاں تک کہ دونوں کی کھال میں بھی بڑا تفاوت ہوتا ہے مضبوطی اور غیرمضبوطی کے لحاظ سے۔ اسی طرح خون کے کھانے یا پینے میں بھی صحت میں فرق آجاتا ہے اور دل پر بھی ایک قسم کی درندگی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ مشاہدہ سے معلوم ہوا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن میں جسمانی ناپاکی ہے اور صحت و اخلاق پر بھی بڑا اثر پیدا کرتی ہیں ان سب کی حرمت اس طیبًا کی قید سے ثابت ہے جس کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے فرمائی اور اسی لیے علماء کا بھی ان کی حرمت پر اتفاق ہوگیا ہے۔ 1 ؎ خمرماکولات میں سے نہیں بلکہ مشروبات میں سے ہے اس کا حرام ہونا اس حصر کو منافی نہیں۔ 2 ؎ کفران نعمت کئی طور پر سے ہے ایک یہ کہ افراط کرے یعنی شتر بےمہار ہو کر حلال حرام ‘ طیب غیر طیب کی کچھ بھی پروا نہ کرے شراب مردار یعنی غیر مذبوح خون اور بتوں کے یا غیرمعبودوں کے چڑھاوے ‘ نذرونیاز جو بسبب نجاست ظاہری و باطنی کے خدا نے منع کردیے تھے بےدھڑک کھانے پینے لگے۔ دوم یہ کہ خدا کی نعمتوں کو حمقاء کے کہنے سے اپنے اوپر حرام کرلے، حلال چیزوں کو حرام بنا لے جیسا کہ مشرکین کی عبادت ہے یہ تفریط ہے۔ سوم یہ کہ ان نعمتوں پر منعم حقیقی کا شکرنہ کرے ‘ نہ اس پر ایمان لائے ‘ نہ اس کی عادت کرے ‘ نہ اوامرد نواہی کا پابند ہو یا ان کو بتوں اور غیرمعبودوں کی عطاو مہربانی سمجھے، سب صورتوں میں بعد مرنے کے عذاب الیم ہے اور دنیا میں بھی یہ نعمتیں اکثر چھین لی جاتی ہیں جیسا کہ قلیل کا لفظ اشارہ کرتا ہے۔ ما اھل لغیر اللہ کی بحث : دوسری قسم کی نجاست روحانی ہے وہ کیا ؟ کہ اس جانور یا اس چیز میں بت پرستی کی نجاست سرایت کرگئی ہو۔ اس کا ذکر اس جملہ میں ہے وما اھل لغیر اللہ بہ یہ جملہ کہیں لفظ بہ کی تقدیم کہیں تاخیر سے قرآن مجید میں چار جگہ وارد ہے۔ بعض مفسرین نے اس کے بعد عندالذبح کی قید بڑھائی ہے کہ ذبح کے وقت جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے وہ حرام ہے مگر مطلق کو قید لگا کر مقید کرنا یا عام کو خاص کوئی ہلکا سا کام نہیں کس لیے کہ یہ بھی ایک قسم کا نسخ ہے اور آیت کو کسی کا قول منسوخ کر نہیں سکتا اس کے لیے یا تو کوئی آیت ہونی چاہیے ورنہ کم سے کم کوئی ایسی حدیث ہو کہ جو صریح الدلالۃ بھی ہو اور اس کے ثبوت میں بھی کسی کو کلام نہ ہو۔ ہم نے ہرچند غور اور بہت تلاش کی مگر اس قسم کا کوئی مخصص ہم کو نہیں ملا۔ پھر صرف مفسروں کی اس قید سے یہ آیت کیونکر مقید یا خاص ہوسکتی ہے۔ ان مفسروں نے بھی جہاں تک ہماری سمجھ میں آیا یہ قید احترازی نہیں لگائی ہے بلکہ ایک بیان واقع کیا ہے یعنی اس وقت اکثربت پرست ایسا ہی کیا کرتے تھے کہ بتوں پر جانوروں کو ان کے نام سے ذبح کیا کرتے تھے۔ اب یہاں ایک تو لفظ قابل بحث ہے، دوم اہل بہ، سوم غیر اللہ ما کا لفظ بھی عام ہے اس میں جانور کی کوئی تخصیص نہیں جانور ہو یا کھانا کپڑا ہو جو بتوں کے نام سے پکارا جائے یا ان پر چڑھایا جائے حرام ہے۔ اہلال لغت میں آواز بلند کرنے کو کہتے ہیں جو چاند دیکھنے کے بعد پکار کر کہتے ہیں ھذاہلال یعنی یہ چاند ہے پھر اس کا استعمال لڑکے کی آواز پر بھی ہونے لگا جو وقت ولادت ہوتی ہے کہتے ہیں استہل الصبی اور حج میں تلبیہ 1 ؎ پکار کر کہنے پر بھی اور پھر اور مواقع پر آواز بلند کرنے پر بھی۔ یہاں بھی یہی مراد ہیں کہ جس چیز پر بہ قصد عبادت غیر اللہ کا نام پکارا جائے عام ہے کہ ذبح کے وقت یا اس سے پہلے کہ یہ جانور فلاں کے لیے ہے تو وہ حرام ہوگیا خواہ وہ جانور اصل میں حلال تھا بکرا بکری، گائے بھینسا، اونٹ وغیرہ یا نہ تھا اب وہ نجاست اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے سے دور نہیں ہوتی جیسا کہ نجاست ظاہری اگر کوئی سور یا کتے کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرے تو کیا وہ گوشت حلال ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ پھر نجاست روحانی تو اس سے بھی زیادہ عنداللہ مکروہ ہے وہ تو جب ہی زائل ہوسکتی ہے کہ جب وہ شخص توبہ کرے اور پکار کر کہے کہ میں اس سے باز آیا تب اگر وہ بسم اللہ کہہ کر ذبح کیا جائے تو درست ہوسکتا ہے لغیر اللہ بھی مطلق ہے اللہ کے سوا کسی کے نام سے بہ نیت تقرب 2 ؎ کوئی چیز پکاری جائے حرام ہے نیت تقرب نہیں بلکہ تملیک وغیرہ کا اظہار مقصود ہے تو اس سے مستثنیٰ ہے مثلاً کسی بکرے کے لیے کوئی پکار کر کہہ دے کہ یہ فلاں کا ہے یعنی اس کا وہ مالک ہے یا میں نے اس کو ہبہ کردیا تو اس سے وہ حرام نہیں ہوجاتا کس لیے کہ اہلال لغیر اللہ میں تقرب ہی مقصود ہوتا ہے۔ (3) گرچہ حلالاً طیبًا کی قید سے جملہ ناپاک اور گندی چیزیں جن میں نجاست جسمانی ہو یا روحانی سب حرام ہوگئیں مگر ان میں سے ان چار چیزوں کو کہ ان میں زیادہ تر نجاست تھی اور عرب کے مشرکین زیادہ تر استعمال کرتے تھے مخصوص کر کے حرام ہونا بیان کردیا اور کلمہ انما جو حصر کا فائدہ دیتا ہے تو یہ حصر اضافی ہے یعنی حلال طیب چیزوں کے مقابلہ میں بالفعل بصراحت یہی چار چیزیں حرام ہیں کیونکہ غیرحلال و غیرطیب سب چیزیں حرام ہیں انہیں میں سے یہ چار چیزیں بھی ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہوا اور دیگر چیزوں کا وقتاً فوقتاً خود قرآن مجید نے یا حضرت پیغمبر (علیہ السلام) نے اظہار فرمایا جیسا کہ خمر یعنی شراب اور نطیحہ 2 ؎ و متردیہ 3 ؎ اور درندوں کا کھایا ہوا جانور اور بتوں پر ذبح کیا ہوا۔ کہتے ہیں کہ جس میں بھوک کے مارے ہلاک ہوجانے یا سخت بیمار پڑجانے کا اندیشہ ہو جس کا اندازہ تین روز کا فاقہ عام حالت پر قیاس کر کے کیا گیا ہے ورنہ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ سات روز میں بھی ان پر ہلاکت کا اندیشہ نہیں اور بعض کسی مرض یا معدہ کی حرارت کے سبب ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر ایک رات دن کھانا نہ ملے تو غشی طاری ہوجائے ‘ ان کے لیے وہی حالت اضطرار ہے مگر اس اجازت میں بھی قید ہے وہ یہ کہ باغی اور حد سے بڑھنے والا نہ ہو جس کے معنی اکثر علماء نے یہ کئے ہیں کہ کھانے میں سدِّرمق کھائے ‘ پیٹ بھرنے کا قصد نہ کرے نہ عادی ہو کہ پھر ان چیزوں کے کھانے کا ارادہ ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے اتباع کا بھی یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ باغی بغاوت سے مشتق ہے کہ امام برحق سے لڑنے میں اس کو یہ بھوک پیاس پیش آئے تو اس کے لیے اس حالت میں بھی رخصت نہیں غرض حالت معصیت میں رخصت نہیں کس لیے کہ رخصت رحمت و عنایت ہے جس کا عاصی مستحق نہیں اگر کوئی چوری کے لیے چلایا فعل ناحق کے لیے یا زنا کرنے کے لیے یا اور کسی بڑے کام کے لیے پس نہ اس کے لیے حالت اضطرار میں جس کو مخمصہ کہتے ہیں ان ممنوعہ چیزوں کے کھانے کی رخصت ہے نہ سفر میں قصر نماز اور افطار کی رخصت ہے۔ امام شافعی (رح) کا یہی قول ہے پہلے قول کے موافق عاصی کو بھی رخصت ہے کیونکہ معصیت اور چیز ہے باقی احکام میں تعمیم ہے اس کے بعد فرمایا فان اللہ غفور رحیم کہ یہ کوئی اچھی بات نہ تھی بات تو بری تھی مگر اس کو خدا معاف کردیتا ہے۔ وہ غفور رحیم ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ کھانے میں سدِّرمق سے زائد اس حالت اضطرار میں کھایا جانا ایک معمولی بات ہے اس لیے غفوررحیم فرمایا ورنہ رخصت کے بعد ان اشیاء میں کوئی حرمت باقی نہیں رہتی۔ (5) اب جیسا کہ بعض اشیاء سے بمقتضٰیِ حکمت روکا تھا اسی طرح اس بات سے بھی منع فرماتا ہے کہ تم جھوٹ موٹ بغیر علم یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ چیز حرام یہ حلال ہے کس لیے کہ اشیاء کی حلت و حرمت خدا ہی کے سپرد ہے۔ جاہلیت میں مشرکین اور ان کے گرو حلال اشیاء کو اپنے اوپر خدا کی عبادت سمجھ کر حرام کرلیتے تھے۔ سائبہ بحیرہ وغیرہ بتوں کے نام سے چھوڑتے تھے ان کو بھی حرام سمجھتے تھے بتوں کی عزت و تعظیم کے لیے کیونکہ ایسا کرنے میں خدا پر بہتان باندھنا ہے اور خدا پر بہتان باندھنے والے فلاح نہیں پاتے ان کا آخرت میں انجام بد ہے۔ دنیا میں چند روزہ مزے ہیں اڑا لیں پھر تو دردناک عذاب ہے ممکن ہے کہ متاع قلیل الخ سے ان کے لیے تنبیہ ہو جو خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نہیں بچتے یا اس کی حلال نعمتیں کھا کر شکر نہیں کرتے اور پوری شکرگزاری یہ ہے کہ اس پر ایمان لائے اور اس کے اوامرونواہی پر ایمان لائے زبانی شکر کہہ دینا کافی نہیں۔ 1 ؎ تلبیہ لبیک اللہم لبیک الخ کہنا۔ 2 ؎ یہ جو بزرگان دین اولیاء صلحا کے نام سے کھانا پکا کر تقسیم کیا جاتا ہے یا شیرینی فاتحہ خوانی کے بعد تقسیم کرتے ہیں یہ ان کی عبادت و تقرب کی نیت سے نہیں بلکہ عبادت و تقرب تو اللہ ہی کا مقصود ہوتا ہے میت کی جانب سے یہ عبادت ادا کی جاتی ہے اس لیے اس کا ثواب میت کی روح کو پہنچایا جاتا ہے اور یہ قرین قیاس ہے کیونکہ میت کی طرف سے اگر کوئی اس کا قرضہ چکائے تو چک سکتا ہے اب رہا یہ ایصال ثواب خواہ اوقات معینہ پر ہو یا لا علی التعین بشرطیکہ تعین کو اس کا جز نہ سمجھا جائے درست ہے ایسی چیزوں کو ما اھل بغیر اللہ کا مصداق بنا کر حرام اور نحس قرار دینا زیادتی ہے ہاں اگر کوئی ان بزرگان دین ہی کی عبادت ہی کی نیت سے ایسا کرے تو بیشک وہ نجس و حرام ہے۔ حقانی 3 ؎ نظیحہ وہ جانور جس کو کسی دوسرے نے سینگوں سے پھاڑ کر مار ڈالا ہو۔ 4 ؎ متردیہ وہ جو بلندی سے گر کر مرجائے۔
Ayahs 16:118–122

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کی تھیں جنہیں تم کو پہلے بتا چکے ہیں اور ہم نے تو ان پر کچھ بھی ظلم نہ کیا تھا

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

لیکن وہی اپنے نفسوں پر آپ ظلم کیا کرتے تھے پھر آپ کا رب ان کے لیے جو بیخبر ی میں برے کام کرتے رہے پھر اس کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور سدھر گئے۔ بیشک آپ کا رب اس کے بعد غفوررحیم ہے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم پیشوا ہو گزرے ہیں وہ خدا کے بڑے فرمانبردار ‘ ایک طرفہ بندے تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اس کی نعمتوں کے بڑے شکرگزار تھے خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور ان کو راہ راست دکھائی تھی

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی اچھے لوگوں میں ہوں گے۔

ترکیب : علٰی حرمنا سے متعلق ہے من قبل قصصنا سے۔ انفسہم یظلمون کا مفعول بجہالہ عملوا سے متعلق۔ کان جملہ ان کی خبر۔ امۃ اماماً کان کی خبر اول قانتا خبر ثانی اسی طرح حنیفًا بھی خبر ہے ولم یک جملہ معطوف ہے کان پر اسی طرح شاکرًا بھی خبر کان۔ تفسیر : یہاں سے وہ تحریم بیان کی جاتی ہے جو اگلے لوگوں پر ان کی سرکشی سے واقع ہوئی تھی فرماتا ہے وعلٰی الذین ھادوا حرمنا یعنی یہود پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا ذکر اے نبی ! ہم نے پہلے آپ سے سورة انعام وغیرہ میں کیا ہے جیسا کہ فرمایا تھا حرمنا علیہم کل ذی ظفر و من البقرو الغنم حرمنا علیہم شحومہما کہ ہم نے یہودیوں پر کھروالا جانور حرام کردیا تھا ‘ گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کردی تھی۔ یہود پر اشیاء کے حرام ہونے کا مسئلہ تحریم اشیاء کے بعد اس لیے مذکور ہوا تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ تحریم دو قسم کی ہے ایک یہ کہ خود ان اشیاء میں کوئی مضرت ہے حکیم نے شفقت سے منع کردیا۔ دوم یہ کہ ان میں کوئی بھی مضرت نہیں بلکہ ان کی سرکشی کی جہ سے ان کو ان چیزوں کے استعمال سے روک دیا تاکہ اس ورزش میں ان کے نفس بد کی تیزی ٹوٹے جیسا کہ روزے میں ہوتا ہے۔ مسلمانوں پر جو چیزیں حرام ہوئی ہیں تو قسم اول کی تحریم ہے برخلاف یہودیوں کے کہ ان پر قسم دوم کی بھی تحریم تھی۔ یہ مسلمانوں پر احسان ہے کہ ان پر اس قسم کی تحریم جاری نہیں فرمائی۔ اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ فرماتا ہے کہ یہ یہود ہی کا ظلم اپنے نفسوں پر تھا سرکشی کرتے تھے ‘ اشیاء ان پر حرام ہوتی جاتی تھیں اور سرکشی کے بعد توبہ کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ بقولہ ثم ان ربک کہ جو لوگ بیخبر ی میں گناہ کرتے رہے مگر اس کے بعد انہوں نے توبہ کرلی ان کے لیے خدا غفوررحیم ہے۔ ایک آیت میں یہ آگیا کہ جو موت تک گرفتار گناہ رہتے ہیں اور موت طاری ہونے کے وقت توبہ کرتے ہیں ان کی توبہ مقبول نہیں کماقال ولیست التوبۃ الآیہ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر دانستگی میں بھی کسی نے برائی کی ہے اور مرنے سے پہلے اس نے توبہ کرلی وہ بھی مقبول ہے۔ جمہور اہل علم کا اسی پر اتفاق ہے مشرکین مکہ جو حضرت (علیہ السلام) کی نبوت میں کلام کرتے تھے بت پرستی کرتے تھے با ایں ہمہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قائل تھے ان کے طریقہ کو اچھا جانتے تھے اسی طرح یہود بھی ان کے قائل تھے اور اپنی خرافات کو ان کی طرف منسوب کرتے تھے تورات میں جو کچھ احکام میں سختی ہوئی اور پاک چیزیں ان پر حرام ہوئیں ان کو سنت ابراہیمیہ سمجھتے تھے اس لیے ان دونوں فریق کے سنانے کو ابراہیم (علیہ السلام) کا چند صفات حمیدہ کے ساتھ ذکر کیا تاکہ ان کے خیالات فاسدہ کا بطلان ہو۔ پس فرماتا ہے ان ابراھیم الخ اول صفت ان کی امۃ اس کے چند معنی ہیں وہ تن تنہا پیشوا دین ہونے کی وجہ سے بمنزلہ امت یعنی ایک جماعت کے تھے۔ مجاہد کہتے ہیں اپنے اول عہد میں تمام مشرکین کے مقابلہ میں وہی موحد تھے اس لیے وہ بھی ایک گروہ قرار دیے گئے یا امۃ بروزن فعلۃ بمعنی مفعول جیسا کہ رحلۃ وبعنیہ یعنی مقتدا (2) قانتا یعنی حکم کے تابعدار (3) حنیفًا بمعنی مائل الی الاسلام (4) لم یک الخ وہ مشرک نہ تھے (5) شاکرًا کہ بڑے شکرگزار تھے (6) اجتباہ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا ایک عالم ان کو ذکر خیر سے یاد کرتا ہے (7) ھدایۃ ان کو راہ راست کی طرف ہدایت کی گئی تھی (8) اتیناہ الخ دنیا میں بھی وہ پھلے پھولے ان کی نسل میں برکت دی گئی (9) دارِآخرت میں مقام بلند پر پہنچے۔ اب جو ابراہیم کے رستہ پر ہے وہی ان کا وارث برکات کا مستحق۔
Ayah 16:123

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے (اے نبی ! ) آپ کی طرف یہ وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم کے طریقہ کی پیروی کریں جو خدا کے ہو رہے تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔

ترکیب : ان اتبع اوحینا کی تفسیر ہے بالتی ای بالمجادلۃ التی۔ عاقبتم جمہور کے نزدیک الف تخفیف کے ساتھ ہے اور بعض نے بغیر الف کے تشدید کے ساتھ بھی پڑھا ہے۔ عقبتھم ای تبتعتم۔ بمثل ماب زائدہ ہے بعض کہتے ہیں نہیں بلکہ تقدیریہ ہے بسبب مماثل لماعوقبتم لھو ضمیر صبر یا عفو کی طرف پھرتی ہے دونوں پر کلام دال ہے۔ ضیق مصدر ہے ضاق کا جیسا کہ سارا سیرایا ضیق کا مخفف جیسا کہ میئت میت کا الا باللہ ای بتوفیقہ۔ تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اوصاف مذکورہ میں مشرکین و یہود پر تعریض ہے کہ تم کو بھی ابراہیم (علیہ السلام) کا اتباع ضرور ہے تم تو ان کے برخلاف کام کرتے ہو اس کے بعد ان پر ایک اور تعریض کرتا ہے کہ ثم اوحینا الیک الخ اے ہمارے رسول ! ہم نے بعد اس کے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ لوگوں نے محرف کردیا تھا (لفظ ثم اسی طرف اشارہ کرتا ہے) آپ کی طرف اے نبی ! حکم بھیجا کہ طریقہ ابراہیم پر قائم رہو اور اس پر چلو یعنی محمد (علیہ السلام) نے دنیا میں کوئی نیا مذہب نہیں نکالا جو تم اس کے قبول کرنے میں یہ شش و پنج کرتے ہو یہ تو اسی برگزیدہ نبی کا رستہ ہے کہ جس کے اتباع کا تم کو دعویٰ ہے ہاں تم نے اس طریقہ کو بگاڑ دیا مشرکین نے تو شرک کر کے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) ہرگز مشرک نہ تھے یہود نے دیگر رسوم باطلہ سے۔
Ayah 16:124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

سبت تو انہیں پر مقرر ہوا تھا جو اس میں اختلاف کرتے آئے ہیں اور آپ کا رب ہی قیامت کے روز ان باتوں کا ذکر کہ جن میں وہ اختلاف کرتے رہے فیصلہ کر دے گا

یہود آنحضرت ﷺ پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ آپ طریقہ ابراہیم کے کیونکر پابند ہوسکتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں یوم السبت 1 ؎ یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم خاص تھی وہ آپ نے ترک کر کے اس کی جگہ جمعہ کا دن مقرر کیا۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ کہ سبت کا دن ابراہیم (علیہ السلام) پر مقرر نہ ہوا تھا بلکہ انہیں یہود پر موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں کہ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا یعنی اس کی تعظیم بجا نہ لائے بہت نے ان کے بزرگوں میں سے اس کی بےحرمتی کی اس دن میں کاروبار و شکار کیا جس پر مبتلائے بلا ہوئے۔ اختلفوا فیہ میں ایک قسم کی تعریض ہے کہ یہ جو آج اس کی تعظیم کا دم بھرتے ہیں انہیں نے اس میں اختلاف بھی کیا۔ اختلفوافیہ کے یہی معنی ہیں کہ بالاتفاق سب نے اس کی تعظیم برابر نہیں کی یا یہ معنی کہ نصاریٰ بھی باوجودیکہ توریت کی پابندی کا دم بھرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے احکام کو بھی برحق مانتے ہیں لیکن سبت کو نہیں مانتے اس کی جگہ اتوار کے دن کی تعظیم کرتے ہیں۔ کتب علی الذین میں نصاریٰ بھی داخل ہیں اور یہود بھی پھر انہیں میں باہم اس سبت میں اختلاف ہے یہودی اس کے قائل عیسائی نہیں بلکہ اس کی جگہ اتوار کو قائم کرتے ہیں اور ہر ایک دلیلیں قائم کرتا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے ان ربک لیحکم الخ کہ خدا قیامت کے دن ان میں فیصلہ کر دے گا۔ ابوہریرہ ؓ رسول خدا ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم پچھلے ہیں مگر سب سے پہلے ہیں قیامت کے دن صرف فرق یہ ہے کہ ان کو پہلے کتاب ملی ہے اور ہم کو پیچھے پس وہ دن کہ جو خدا نے ان پر فرض کیا تھا اس میں انہوں نے اختلاف کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ہم کو وہ دن بتلا دیا کہ وہ ہمارے پیچھے رہ گئے یہود ایک روز نصاریٰ اس کے بعد ایک روز (صحاح)
Ayahs 16:125–128

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

(اے نبی ! لوگوں کو) اپنے رب کے رستہ کی طرف حکمت اور عمدہ وعظ سے بلائیے اور ان سے بحث بھی کرو تو پسندیدہ طریقہ سے کرو کیونکہ آپ کے رب کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے رستہ سے بہکا ہوا ہے اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پر ہیں

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور اگر تم سختی بھی کرو تو اتنی کہ جتنی تم سے کی گئی ہے اور اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت ہی بہتر ہے

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور نہ ان پر کچھ رنج کیجئے۔ اور نہ آپ ان کے مکروں سے دل تنگ ہوں

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

کس لیے کہ جو پرہیزگاری اور لوگوں سے نیکی کرتے ہیں اللہ ان کے ساتھ ہے۔

جب آنحضرت ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی مسند نبوت پر بیٹھے اور ان سے بھی بڑھ گئے تو ان کو حج کے لیے لوگوں میں منادی کا حکم ہوا تھا واذن فی الناس بالحج تو آپ کو تمام عالم کی دعوت کا حکم ہوا کہ سب کو راہ راست کی طرف بلائیں فقال ادع الی سبیل ربک مگر دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ اول اعلیٰ درجہ کے حکماؤ کملاء جن کا مقصود اصلی یقینات کا دلائلِ قطعیہ سے حاصل کرنا ہے سو ان کی دعوت بالحکمہ ہوتی ہے دلائلِ قطیعہ یقینیہ کے ساتھ ان کے دل میں عقائد و اعمال صالحہ کی رغبت پیدا کرنا۔ اب یہ کچھ ضرور نہیں کہ یہ دلائل قواعد منطقیہ پر مبنی ہوں یا نہ ہوں بلکہ ان کے فہم و استعداد کے موافق، دوم اوسط درجہ کے لوگ ان کے افہام دلائلِ اقناعیہ ہی پر بس کرلیتے ہیں سو ان کو بالموعظہ الحسنۃ دعوت ہوتی ہے اور یہی دلائل موعظت 2 ؎ حسنہ ہیں جو لطف و نرمی کے پیرایہ میں ادا کی جاتی ہیں۔ سوم ادنیٰ درجہ کے لوگ جن کی روح مکدر اور عالم غیب سے نورانیت کا حصہ نہیں پائے ہوئے ہوتی ہے سو یہ لوگ دعوت کے قابل نہیں بلکہ ان کے مسلمات سے ان کا بند کردینا ہی مطلوب ہوتا ہے اس لیے ان کے لیے فرمایا وجادلہم بالتیھی احسن اور اسی لیے اشرار اہل کتاب کے لیے ایک جگہ یوں آیا ہے ولا تجادلو اھل الکتاب الابالتیھی احسن اور چونکہ یہ لوگ ہٹ دھرمی کیا کرتے ہیں، الزام کھانے کے بعد بھی بک بک کئے جاتے ہیں اس لیے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ان ربک ھواعلم بمن ضل عن سبیلہ الخ یعنی آپ کچھ غم نہ کریں کہ کیوں نہیں مانا کس لیے کہ خدا کو گمراہ اور ہدایت یافتہ معلوم ہیں سزا جزا اسی کے ہاتھ ہے جو شخص خلائق کی ہدایت پر کمرباندھ کر ان کو ان کے مذہب آبائی اور رسوم و عادات موروثیہ سے منع کرنا چاہے تو لوگ اس کے اور اس کے اعوان و انصار کی تکلیف اور ایذا میں ہاتھ سے ‘ زبان سے کچھ اٹھا نہیں رکھتے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے پیروئوں کو حکم دیتا ہے کہ ان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم کہ اگر بدلہ ہی لینا ہو تو اسی قدر کہ جس قدر تم کو تکلیف دی گئی ہے۔ یہ عام قانون عدالت کے موافق حکم ہے مگر انبیاء اور ان کے پیرو ئوں کا مرتبہ اس سے بھی بلند ہے ان کو صبروبرداشت کرنا ہی بہتر ہے اس لیے فرمایا ولئن صبرتم لہو خیر للصابرین اس پر آنحضرت ﷺ کی شان اس سے بھی اعلیٰ ہے اس لیے آپ کو بہ تاکید صبر کا حکم دیا واصبر 3 ؎ الخ اور نیز آپ کو ان کی گزشتہ حرکات ناشائستہ پر رنج کرنے اور آیندہ جو وہ مکر و فریب کریں گے یا کرتے ہیں اس سے دل تنگ ہونے کی بھی ممانعت کردی ولا تحزن الخ اور اپنی مدد کا بھروسہ دلا دیا ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون جس طرح سورة حجر کا خاتمہ واعبدربک حتی یاتیک الیقین یاد الٰہی کے حکم پر کیا تھا جس سے روح میں قوت اور تکالیف کی برداشت کی طاقت پیدا ہوتی ہے اسی طرح اس سورة کا خاتمہ جملہ مصائب کی برداشت پر کیا جو خدا پرستی میں پیش آتی ہیں۔ اس لیے کہا گیا ہے الصبر مفتاح الفرج صبر کشادہ کاری کی کنجی ہے دنیا کے کاموں سے لے کر خدا پرستی اور عرفانِ الٰہی تک جس نے صبر نہیں کیا کچھ بھی نہیں پایا اور یہاں صبر پر کامیابی کا بھی وعدہ ہے۔ کس لیے کہ خدا کی معیت سے زیادہ اور کوئی کامیابی نہیں جس کے ساتھ خدا ہے اس کے ساتھ سب کچھ ہے۔ 1 ؎ ہفتہ کا دن اس میں دنیاوی کاروبار یہود پر ممنوع تھا۔ 12 منہ 2 ؎ واعظان دین کو یہ آیت پیش نظر رکھنی چاہیے تاکہ صبروحلم و طریق وعظ ملحوظ ہے۔ 12 منہ 3 ؎ ماصبرک الا باللہ کہ آپ کا صبر کرنا توفیق و تائیدِ الٰہی سے ہے کس لیے کہ انتقام کے وقت نفس جو لانی میں ہوتا ہے اس وقت اس کی باگ توفیقِ الٰہی ہی تھام سکتی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ مخالفوں کی ایذائوں ہی پر صبروبرداشت کرنا مراد نہیں بلکہ عبادت و ریاضت و یادِ الٰہی کی مشقتیں برداشت کرتے رہو کیونکہ یہ موز درونی اللہ ہی کے لیے ہے یہ ہجر کا مرتبہ ہے جس کے بعد وصال کا وعدہ ہوتا ہے۔ ان اللہ مع الذین کہ پرہیز گاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ خدا ہے احسان کی تفسیر صحیح حدیث میں آچکی ہے کہ اللہ کی اس طور سے عبادت کرو گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا ہوں اور یہ نہ ہو تو گویا وہ خود دیکھ رہا ہے یہ وہ مراقبہ ہے جسے وصال نصیب ہوتا ہے اس وصال کے لیے سالہائے دراز عشاق نے رو رو کر شام سے صبح کی ہے۔ 12 منہ