Ayah 16:41ترکیب : والذین الخ مبتداء لنبوئنہم خبر حسنۃ لنبوئنہم کا مفعول ثانی کیونکہ لنبوئنہم بمعنی اعطینھم ہے۔ اور ممکن ہے کہ بمعنی ننزلنھم ہو فالتقدیر نیزلنھم فی الدنیا واراحسنۃ۔ الذین صبروا موضع رفع میں ہے علی اضمارھم۔ بالبینات متعلق ہے ارسلنا محذوف سے۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں تھا کہ کفار قسم کھا کر قیامت کا انکار کرتے ہیں پھر جب دار جزا سے ان کو اس قدر انکار تھا تو ایسی حالت میں کہ مکہ میں انہیں کا غلبہ اور زور تھا دیندار مسلمانوں پر کیا کچھ ظلم و ستم نہ کرتے ہوں گے۔ چناچہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ یہ آیت چھ صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی جو قریش مکہ کے غلام تھے اور اسلام لانے کی وجہ سے ان پر بڑا ظلم و ستم ہوتا تھا منجملہ ان کے صہیب و بلالو عمار ؓ ہیں (ک) اس لیے والذین ھاجروا سے لے کر وعلی ربہم یتوکلون تک ایمانداروں کو صبر و برداشت اور توکل کی ترغیب دلائی جاتی ہے اور دنیا اور آخرت میں اس کے اجر کا وعدہ فرماتا ہے۔ والذین ہاجرو افی اللہ من بعد ماظلموا یعنی اول کفار کی ایذائیں سہنا ان کی مارپیٹ سب و شتم پر برداشت کرنا پھر لاچار ہو کر اللہ کے لیے وطن چھوڑ دینا جبکہ وہاں رہنا مشکل ہوجائے جیسا کہ ابتدائِ اسلام میں ہوتا تھا ایسے لوگوں کے لیے دو وعدے کرتا ہے۔ اول لنبوئنہم الخ یہ کہ ہم دنیا میں بھی حیران و سرگرداں نہیں رہنے دیں گے بلکہ ان کو اچھے طور سے جگہ دینگے جیسا کہ صحابہ کو مدینہ میں عمدہ جگہ دی (حسن، شعبی، قتادہ) ۔ دوم ولاجر الاخرۃ اکبر یعنی دار آخرت میں ان کے لیے بڑا اجر ہے وہ کیا ؟ سرور جاودانی اور حیات ابدی کی بادشاہت ان دونوں صفتوں کے مقابلہ میں دو انعام کا وعدہ ہوا۔ پھر ان دونوں وصفوں کی عام طور پر تشریح فرماتا ہے
Ayah 16:42الذین صبروا یعنی مخالفوں کی ایذائیں سہارنا اور حق پر ثابت قدم رہنا وعلی ربہم یتوکلون یعنی خدا پر توکل کرنا جو اپنے رب سے بہتری کی امید پر ہجرت کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔ صبر تو ظلموا سے متعلق ہے اور توکل ہاجروا سے اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ کچھ کفار کے ستم اٹھا کر ہجرت کرنے پر ہی یہ وعدہ الٰہی منحصر نہیں بلکہ صبروتوکل پر جہاں کہیں ہو اور کسی بات میں ہو خواہ گناہوں کے ترک کرنے پر اور نفس ظالم کے صدمات اٹھا کر اس کو اس کی بری خواہشوں سے روکنے پر یا دین الٰہی میں کوئی محنت و مشقت کا کام اختیار کرنے پر اسلام کی ترویج و افشاء پر خواہ کفروبت پرستی چھوڑ کر خدا کی طرف آنے میں۔ گویا یہ آیت جس طرح اس کی راہ میں صبروتوکل کرنے والوں کے لیے انعامِ الٰہی کا پروانہ ہے اسی طرح اس بات کے لیے بھی اعلان ہے کہ خدا تعالیٰ سے رابطہ کرنا کوئی ہنسی کھیل نہیں اس رستہ میں بڑا مستحکم ہو کر مصائب پر صبر کرنا چاہیے
Ayahs 16:43–44وما ارسلنا من قبلک الخ ان آیتوں میں پھر اسی بات کی طرف رجوع ہے کہ جس کی وجہ سے مشرکین عرب مسلمانوں اور نبی (علیہ السلام) کو تکلیفیں دیتے تھے جن پر صبر اور برداشت اور توکل کا ان کو پچھلی آیت میں حکم دیا گیا تھا۔
اور وہ بات یہ تھی کہ عرب کے لوگ حضرت ﷺ کا وعظ سن کر جس میں حرام اور ناپاک اور مکروہ افعال کی مذمت اور بت پرستی کی قباحت اور مکارم اخلاق کی تاکید تھی یہ کہتے تھے کہ اگر خدا کو ہمیں سمجھانا ہی مقصود تھا تو ہمارے پاس آسمان سے فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا ؟ چناچہ یہ شبہ ان کا مع الجواب قرآن مجید میں اور مقامات پر بھی ذکر ہوا ہے۔ اب اس شبہ کا اس آیت میں یوں جواب دیتا ہے کہ چند در چند اسرار مصالح کی وجہ سے ہمیشہ انسان ہی رسول ہوتے آئے ہیں اور وہ ہی خدا کے صحیفے اور معجزات لائے ہیں اگر تمہیں یہ بات معلوم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ دیکھو اور اسی لیے ہم نے اے محمد ﷺ آپ پر بھی ذکر یعنی قرآن نازل کیا تاکہ لوگوں کو آپ احکامِ الٰہی بتا دیں اور آیات قدرت سے نصیحت حاصل کرنا سکھا دیں اور تاکہ وہ خود بھی فکروغور کریں۔
فوائد : (1) فسئلوا اھل الذکر میں علماء کے کئی قول ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں اہل تورات یعنی یہود مراد ہیں۔ زجاج کہتے ہیں عموماً اہل کتاب مراد ہیں کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ پہلے انبیاء بھی انسان تھے اور عرب کے مشرک اہل کتاب کو اہل الذکر یعنی اہل علم سمجھتے تھے اس لیے ان سے دریافت کرنے کا حکم دیا بعض کہتے ہیں عموماً اہل علم مراد ہیں۔
(2) اس آیت سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اس وقت تورات یا انجیل اہل کتاب کے پاس بلاتحریف موجود تھی جیسا کہ ظاہر ہے۔
(3) بالبینات والزبر ارسلنا کے ساتھ متعلق ہے جیسا کہ آیت کا سیاق اور سباق چاہتا ہے نہ کہ فاسئلوا سے۔
(4) اس آیت سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر کسی کو کوئی بات خصوصاً شرعی مسئلہ ازخود معلوم نہ ہو تو جو اس کو جانتا ہے اس سے دریافت کرلینا چاہیے۔ یہ بات بھی مان لینی چاہیے کہ دریافت کرنے میں کسی کی خصوصیت نہیں کہ کس سے دریافت کرے کوئی اہل علم خواہ روایات احادیث و اقوال علمائِ سلف صحابہ وتابعین و تبع تابعین سے ماہر اور ان سے جواب دے خواہ قرآن و احادیث سے استنباط کر کے۔ اصول فقہ میں علماء نے اس بات کو طے کردیا ہے کہ اول قرآن سے ‘ پھر احادیث سے ‘ پھر اجماع سے حجت پکڑی جاتی ہے اور پھر جب کوئی مسئلہ صاف طور پر نہ قرآن میں ملے نہ احادیث میں نہ اجماع سے ثابت ہو تو پھر استنباط کی ضرورت ہے اور استنباط خود پیغمبر (علیہ السلام) نے بھی کیا ہے اور صحابہ ؓ نے بھی۔ اس لیے دین میں استنباط بھی ایک مستند چیز مانی گئی اور ضرور ماننی چاہیے کیونکہ بغیر اس کے قرآن مجید تفصیلاً لکل شیء نہیں ہوسکتا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ استنباط کرنا ہر ایک کا کام نہیں اور اس کے شروط بھی ہیں اور استنباط کو فقہاء قیاس بھی کہتے ہیں پس جو استنباط نہ کرسکتا ہو اس مسئلہ میں جو اس کو کتاب و سنت و اجماع میں نہ ملے تو مستنبط یعنی مجتہد سے پوچھ کر اس پر عمل کرنا چاہیے اور اسی کو تقلید شرعی کہتے ہیں جس کی ضرورت سمجھی گئی واللہ اعلم بالصواب و عندہ ام الکتاب۔
Ayah 16:45ترکیب : السئیات صفت ہے المکرات مفعول محذوف کی اے مکروالمکرات السئیات۔ ان یخسف الخ جملہ مفعول امن او یَأْتِیَہُمْ معطوف ہے یخسف پر اسی طرح یاخذ اور یاخذ ثانی علی تخوف موضع حال میں ہے فاعل یا مفعول سے جو یاخذھم میں ہے۔ یتفیئوا نمیل ظلال جمع ظل۔ یا تو واحد کو موضع جمع میں استعمال کیا ہے یا ہر روز کے سایہ کے لحاظ سے یا وقتاً فوقتاً پھیلنے کے لحاظ سے سایہ کو متعدد سایوں کے ساتھ تعبیر کیا یعنی لفظ جمع ظلال استعمال کیا گیا عن واسطے مجاوزۃ کے یتجاوزالظلال الیمین الی الشمال۔ شمائل جمع۔ سجدًا حال ہے ظلال سے وھم داخرون بھی انہیں سے حال ہے ان کو ذی عقل قرار دے کر۔
تفسیر : اب ان سرکشوں کو (کہ جو بڑے مکروفریب کرتے تھے یعنی مخفی طور پر اسلام کے مٹانے کی تدبیریں کیا کرتے تھے) اپنے قہروجبروت سے دھمکاتا ہے کہ کیا ان کو چارباتوں سے بھی ڈر نہیں اور کیوں اطمینان اور امن ہوگیا ؟ (1) ان یخسف اللہ بہم الارض کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دیوے پہلی بھی اور پچھلی صدیوں میں کیا بلکہ حال میں بھی زلزلہ آ کر زمین پھٹ گئی اور بڑے بڑے جبار و شہوت پرست مع مکانات زمین میں سما گئے ‘ قارون بھی سما گیا تھا۔
(2) اویاتیہم العذاب من حیث لایشعرون کہ ان پر ایسے طور پر ایسی جگہ سے عذاب آوے کہ جس کی انہیں خبر بھی نہ ہو آسمان سے دفعۃً اولے کیا بلکہ بڑی بڑی سلیں برسنے لگیں چناچہ ابھی کئی سال کا عرصہ گزرا کہ مراد آباد اور اس کے نواح میں بڑے بڑے اولے کیا آسمانی گولے برسے کہ جس سے صدہا آدمی اور جانور ہلاک ہوگئے اور سینکڑوں درخت گر پڑے۔ خاص دہلی میں میرے ایک دوست نے جو ایک اولا تولا تو آدھ سیر کا تھا اور پہلی امتوں میں بھی اولے مائیت سے مستحیل ہو کر حجریت میں آگئے تھے اور بڑے بھاری پتھر بن کر برسے جیسا کہ لوط (علیہ السلام) کی بستیوں پر واقعہ گزرا یا پانی سے دفعۃً رو آ کر غارت کردیے گئے۔ چناچہ دو تین سال کا عرصہ گزرا کہ آدھی رات کے قریب جبکہ لوگ خواب راحت میں تھے شہر پٹیالہ میں ایسی رو آئی کہ مکانوں اور بازاروں میں گزوں پانی تھا جس سے صدہا آدمی ڈوب مرے ‘ صدہا مکانات گر گئے یا ایسی تند ہوا آجاوے جو بربادی کا باعث ہو، الغرض خدا کی صدہا بلائیں ہیں جو دفعۃً آجاتی ہیں جس میں بادشاہ سے لے کر رعیت تک کسی کا کچھ زور نہیں چلتا۔
Ayah 16:46(3) اویاخذھم فی تقلبہم فما ھم بمعجزین اس کی کئی طور پر تفسیر ہوسکتی ہے۔ اول یہ کہ ان کو سفر میں مبتلائے بلا کر کے ہلاک کرے کیونکہ جو وطن میں ہلاک ہوسکتا ہے وہ سفر میں بھی اور وہاں کی ہلاکت بسبب پردیس ہونے کے کہ جہاں نہ کوئی یار ہوتا ہے نہ غمگسار اور ابھی سخت ہوتی ہے اور قریش مکہ سفر کے عادی تھے اور لفظ تقلب بمعنی سفر بھی آیا ہے جیسا کہ اس آیت میں لایغر نک تقلب الذین کفروافی البلاد۔ دوم یہ کہ ان کو حالات انقلابات اور تدابیر میں کامیاب نہ ہونے دے اور ہلاک کر دے اور یہ معنی اس آیت سے ماخوذ ہیں وقلبوالک الامور۔
Ayah 16:47(4) اویاخذھم علی تخوف تفعل ہے خوف سے (یقال خوفت الشیء وتخوفتہ) یہ معنی کہ دفعۃً بلا نازل نہ کرے بلکہ اس کے پہلے علامات و آثار نمایاں کرے اور لوگوں میں ہلاکت سے پہلے خوف اور پریشانی پیدا ہو پھر ہلاک ہوجائیں جیسا کہ قحط شدید اور وباء یا دشمنوں کے غلبہ میں ہوتا ہے مگر خدا رؤف ہے اس لیے مہلت دیتا ہے۔
Ayahs 16:48–50اولم یروا الی ماخلق اللہ الخ اپنا رئوف رحیم ہونا ان آیات میں ظاہر فرماتا ہے کہ جن میں اس کے آثار جبروت اور قدرت کاملہ کا بیان ہے جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تمام عالم اس کے آگے مسخر ہے تاکہ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اس کو دفعۃً یا تدریجاً ہلاک کرنے کی بھی قدرت ہے پھر اس سے نڈر ہونا اور باوجودیکہ درختوں اور جمیع سایہ دار چیزوں کے سائے اس کو سجدہ کر رہے ہیں (ان کا زمین پر پڑنا گویا سجدہ کرنا ہے) اور اسی طرح آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے چارپائے اور فرشتے اس کے آگے سربسجود اور اس کے فرمانبردار اور خائف ہیں پھر بندہ کا نافرمان ہونا اور حجتیں کرنا اور اس کے ہادیوں اور ان کے پیروئوں کو ستانا کیسی لغو بات ہے۔
یتفئیو اظلالہ عن الیمین والشمائل یتفیئو ایتفعل من الفی۔ کہتے ہیں فاء الظل یفی اذا رجع و عاد۔ فی کے معنی اصلی رجوع کرنے کے ہیں جیسا کہ آیا ہے فان فاؤ افان اللہ غفور رحیم، ازہری کہتے تفیئو الظلال پچھلے پہر کے سایہ ڈھلنے کو کہتے ہیں مگر یہاں عام مراد ہے، موسم گرمی اور سردی اور آفتاب و مہتاب اور خط استواء کے قرب و بعد اور شام و صبح کے لحاظ سے کبھی سایہ دائیں طرف سے کبھی بائیں طرف سے جاتا ہے۔ یمین مفرد اور شمائل جمع لانے میں کئی باتیں ہیں یا تو یہ کہ یمین گو لفظ مفرد ہے مگر مراد جمع ہے جیسا کہ یولون الدبر میں یا یہ کہو کہ شی ئٍ چونکہ لفظاً مفرد ہے اس کے لحاظ سے یمین لفظ مفرد آیا اور معناً جمع ہے اس کے لحاظ سے شمائل جمع آیا گویا دونوں کی رعایت کی یا یوں کہو کہ عرب جب دو صیغے جمع کے لانا چاہتے ہیں تو ایک کو مفرد کر کے لاتے ہیں جیسا کہ جعل الظلمات والنور اور ختم اللہ علی قلوبہم و سمعہم میں۔ سجدًا اللہ وھم داخرون سجدہ سے مراد مطیع ہونا جھکنا عرب کہتے ہیں سجدالبعیر جبکہ وہ سوار ہونے کے وقت گردن جھکا دیوے چونکہ خدا تعالیٰ نے آفتاب و مہتاب و ستاروں کو جن سے اجسام کثیفہ پر سایہ پڑتا ہے ایک چال خاص پر مامور کر رکھا ہے جس سے ان سایوں میں فرق نہیں آتا، سو یہ فرق نہ آنا اور ایک خاص طور پر رہنا سجدہ کرنا ہے انہیں معنوں میں یہ آیت ہے النجم والشجر یسجدان وقولہ وظلال لہم بالغدو والاصال یا یوں کہو کہ سایہ زمین پر لگا ہوا چلتا ہے جس طرح عابد زمین پر سر رکھ کر سجدہ کرتا ہے گویا تشبیہ مراد ہے اور غرض اس کلام سے اس کا جبروت و تسلط عالم پر ظاہر کرنا ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ عالم حسی میں یہ اشیاء جو وجوہ حقیقی کا ظل ہیں اس کے حکم کے پابند ہیں۔
Ayahs 16:51–61ترکیب : اثنین تاکید ہے الہین اور مفعول ثانی لاتتخذوا کا بھی ہوسکتا ہے وفیہ مافیہ۔ واصبا ای وانما حال ہے الذین سے اور عامل اس میں معنی ظرف کے ہیں مابمعنی الذی بکم اس کا صلہ من نعمۃ حال ہے ضمیر سے جو جار میں ہے فمن اللہ خبر دوسری وجہ بھی ممکن ہے۔ تجٔرون ترفعون اصواتکم بالاستغاثۃ سبحانہ جملہ معترضہ مسودًا خبر ظل۔ یتواری حال ہے ضمیر کظیم سے۔ اذاکشف الم اذا شرطیہ اذا فریق فجائیۃ جواب الشرط لیکفروالام کے وقیل لام العاقبۃ۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں یہ ثابت کر کے کہ تمام عالم اس کے قبضہ قدرت میں ہے اسی کے آگے سرتسلیم جھکائے ہوئے ہے۔ قال اللہ سے لے کر فارھبون تک توحید خالص کا حکم دیتا ہے پھر ولہ مافی السموات والارض سے لے کر تتقون تک اس پر اور دلیل قائم کرتا ہے کہ عبادت کا مدار دو چیزوں پر ہے اول یہ کہ کسی کا خوف ہو کہ اگر نذرونیاز اور دیگر عبادت نہ کریں گے تو وہ ہم کو جانی یا مالی کوئی نقصان پہنچا دے گا جیسا بت پرستوں کا اپنے معبودوں کی نسبت خیال ہے۔ سو یہ بھی اللہ کے سوا اور کسی کا مرتبہ نہیں کس لیے کہ ایسا وہ کرسکتا ہے کہ جس کا مخلوق پر کوئی اختیار و اقتدار ہو۔ سو یہ ہے نہیں اس لیے اول فایای فارھبون فرمایا اور وجہ اس کی ولہ مافی السموات الخ میں ذکر فرمائی اس کے بعد اسی بات کو بطور نتیجہ دلیل اعادہ کیا افغیر اللہ تتقون دوم یہ کہ کسی کی نعمت تندرستی ‘ مال وجاہ وغیرہ اس سے حاصل ہو اس طمع میں عبادت کی جاتی ہے۔ یہ بات بھی اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں کس لیے کہ ومابکم من نعمۃ فمن اللہ جو کچھ نعمتیں تمہارے پاس ہیں سب اللہ کی طرف سے ہیں اول تو اس لیے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور کسی کے پاس دھراہی کیا ہے جو تم کو دے گا۔ دوم جب تم پر کوئی مصیبت آجاتی ہے تو فطرت انسانیہ اللہ ہی کی طرف فریاد کرنے کو مجبور کرتی ہے اس وقت اپنے معبودوں کو بھول جاتے ہیں ‘ عوارض جہل اٹھ جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بنی آدم کے دلوں میں بھی اصلی اعتقاد اسی بات کا ہے مگر جب وہ وقت نکل جاتا ہے اور جہل و خرمستی کے پردے نور فطرت پر کائی کی طرح پھر آ پڑتے ہیں تو پھر اپنے فرضی معبودوں یا اسباب کے استقلال اور اپنی تدبیر کی درستی پر تکیہ کرنے لگتے ہیں اور یہ پوری نمک حرامی اور کامل ناشکری ہے جس کا یہ بدنتیجہ عنقریب معلوم ہوجائے گا یا تو دنیا ہی میں باردگر گرفتار مصیبت ہونے پر یا دارآخرت میں منجملہ نمک حرامیوں کے۔ ایک یہ بھی ہے کہ جن معبودوں کی اصل حقیقت بھی انہیں معلوم نہیں کہ آیا وہ فرضی نام ہیں جن کو باپ دادا سے سنتے چلے آئے ہیں یا وہ کچھ تھے بھی اور تھے تو ان کا مخلوق پر کیا اختیار و اقتدار تھا ‘ ان کے لیے ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے مال میں سے اولاد میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں۔ کھیتی میں سے ایک حصہ اور اولاد میں کوئی ایک بیٹا بتوں کے نام سے نامزد کرتے تھے اور بتوں پر اولاد مواشی کی قربانیاں کرتے تھے، ان کے نام کے سانڈ اور جانور چھوڑتے تھے، اس پر جو ان سے کہا جاتا تھا کہ ان ارواح غیرمرئیہ کو خدا کے کارخانہ میں کیا دخل ہے اور وہ اس سے کیا تعلق رکھتے ہیں تو مشرکین کہہ دیا کرتے تھے کہ یہ خدا کی لاڈلی بیٹیاں ہیں، ان کی بڑی خاطر منظور ہے، یہ جو کچھ چاہتی ہیں کرتی ہیں، یہ دیویاں اور پری کالی پری ہند ہیں انہیں کے نمونہ ہیں۔ ویجعلون للہ البنات میں ان کا ذکر ہے اس کے رد میں ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے لیے تو بیٹیاں ہونا پسند ہی نہیں کرتے حالانکہ خود بیٹیوں کے بقائِ نسل میں محتاج ہیں اس پر بھی بیٹی پیدا ہونے کی خبر سن کر غم کے مارے چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے، زندہ گاڑ دینے کی کبھی ٹھہراتے ہو کبھی بڑی ذلت سمجھ کر ان کو رہنے بھی دیتے ہو پھر خدائے بےنیاز کو اولاد اور بیٹیوں سے کیا تعلق ہے جس کی شان بلند اور اعلیٰ ہے حدوث و احتیاج سے پاک ہے برخلاف تمہارے ولہ المثل الاعلٰی۔
Ayah 16:62ترکیب : الکذب بالنصب مفعول ہے تصف کا ان لہم الحسنی اس سے بدل۔ الکذب بضم الکاف والذال والباء جمع کذوب جیسا کہ صبور و ” صبرتب یہ السنۃ جمع لسان صفت ہوگا واللسان یذکر ویونث۔ وھدی معطوف ہے لتبین پر۔ ای للتبین والھدایہ والرحمۃ۔
تفسیر : مشرکوں کے قبائح اوراقوال فاسدہ بیان کر کے یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ہم صرف اپنی رحمت سے درگزر کرتے ہیں جو دنیا میں عمر معین تک جینے دیتے ہیں اور نعمتیں سلب نہیں کرلیتے ورنہ ان کے گناہوں پر جائیں تو دنیا پر کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں۔ ان کی نحوست سے بلا آجائے۔ ویجعلون للّٰہ سے اس بیہودہ بات پر کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں باردگر سرزنش فرماتا ہے بالخصوص اس لیے کہ اس نالائق قول و فعل و اعتقاد پر دعویٰ کے ساتھ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ دارآخرت کے درجات ہمارے لیے ہیں کیونکہ ہمارے یہ وسیلے ہیں اس پر فرماتا ہے کہ آخرت کی بھلائی کی جگہ ان کے لیے اس جرم پر ضرور نار جہنم ہے جس میں سب سے اول داخل ہونگے۔ وانہم مفرطون نافع اور قطیبہ اور کسائی کی روایت سے مفرطون کو بکسر الراء پڑھتے ہیں اور باقی بفتح الراء۔ اول قرأت پر یہ معنی ہوئے کہ وہ گناہوں میں یا خدا پر جھوٹ بولنے میں افراط یعنی زیادتی کرنے والے ہیں۔ دوسری قرأت پر یہ معنی انھم مترکون فی النار یعنی آگ میں ڈالے گئے، وہاں چھوڑے گئے۔ کہتے ہیں ما افرطت من القوم احداً اے ماترکت یا یہ معنی انھم معجلون یعنی آگ کی طرف ان افعال سے جلدی کر رہے ہیں ‘ سب سے پہلے جا رہے ہیں۔ واحدی کہتے ہیں عرب بولتے ہیں فرط الرجل اصحابہ یفرطھم فرطاً و فروطاً اذاتقدمہم لتدبیر حوائجھم یعنی اوروں کے قافلہ سالار بن کر پہلے جہنم میں جھنڈے لیے جا رہے ہیں
Ayahs 16:63–64تاللّٰہ الخ سے یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ہم نے قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے سو شیطان نے ان قوموں کو ایسا بہکایا کہ بری باتوں کو ان کی نظروں میں بھلا کر دکھایا آج کے دن بھی وہی شیطان ان لوگوں کا رفیق بن کر بہکا رہا ہے ‘ جہنم کا رستہ بتا رہا ہے اس لیے ہم نے اے محمد ! تم پر قرآن نازل کیا کہ آپ ان کو مطلع کردیں اور نیز نیکو کاروں کے لیے یہ قرآن ہدایت و رحمت بھی ہے۔
Ayahs 16:65–67ترکیب : لعبرۃ اسم ان لکم خبر بطونہ بطون جمع بطن بمعنی شکم بطونہ کی ضمیر انعام کی طرف راجع ہے کیونکہ انعام 1 ؎ مذکر بھی ہے اور مونث بھی۔ من بین من للابتداء متعلق ہے نسقیکم سے لبنا مفعول ثانی ہے نسقیکم کا خالصًا سائغًا اس کی صفت و من ثمرات الخ محذوف سے متعلق ہے ای نسقیکم من ثمرات الخ تتخذون جملہ مستانفہ یا صفت ہے محذوف کی تقدیرہ شیئًا تتخذون منہ ای وان من ثمرات النخیل شیئًا۔
1 ؎ ھو اسم جمع لاجمع ولذلک عدہ سیبویہ فی المفردات المبنیۃ علی افعال کا خلاق و اکباش۔
تفسیر : قرآن مجید کا دستور ہے کہ وہ ایک اصول میں گفتگو کر کے دوسرے اصول کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ الہیات کے بعد معاد اور کبھی نبوات اور کبھی اصلاح افعال اور اعتقاد عباد کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہی چاروں باتیں کتاب الٰہی کے اصل اصول ہیں۔ اسی قاعدہ سے کلام تمام کر کے اب الٰہیات میں کلام کرتا ہے اور اپنا قادر و مختار ہونا ثابت ہوتا ہے جس میں توحید اور صفات باری کا کامل ثبوت ہے۔ وہ دلائل (کہ جن سے خدا تعالیٰ کا وجود اور اس کا وحدہ لاشریک ہونا اور ہر چیز کا اسی کے دست قدرت میں ہونا ثابت ہوتا ہے) پانچ قسم کے ہیں : اول آسمانی چیزیں جن میں سے یہاں پانی کا ذکر کرتا ہے واللہ انزل من السماء کہ اللہ نے آسمان سے یعنی بادلوں سے پانی برسایا جس سے مردہ زمین یعنی خشک زندہ ہوجاتی ہے یعنی ہری بھری جڑی بوٹیاں گھاس اور درخت اور کیا کیا کارآمد برائے انسان چیزیں اگتی ہیں جس سے اس کے آثار قدرت و رحمت نمودار 2 ؎ ہیں۔ دوم انسان کے حالات اور اس کی پیدائش۔ سوم حیوانات کی پیدائش اور ان سے انسان کے لیے نفع دینے والی چیزوں کا پیدا کرنا جن کی طرف وان لکم فی الانعام لعبرۃ الخ میں اشارہ ہے کہ حیوانات گائے بھینس، بھیڑ بکری، اونٹنی وغیرہ کا دودھ بھی ایک غور کرنے کی بات اور اس کی بڑی نشانی ہے، اس کو ہم پلاتے ہیں پر یہ تو دیکھو کہ وہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے ؟ جانوروں کے شکم میں گھاس جا کر گوبر، لید، مینگنی بن جاتی ہے اس کا عطر کھینچ کر جگر میں (یا اور جگہ بقول حکمائِ حال) خون بنتا ہے، پھر عروق کے ذریعہ سے وہ خون ان جانوروں کے تھنوں میں (پستانوں میں جو نرم گوشت ہے اور جس کی تاثیر یہ ہے کہ خون کو دودھ کر دے) دودھ بن جاتا ہے غور کرو گوبر اور خون میں سے جو شکم میں ملے جلے تھے ایک دوسرے کا کس طرح سے امتیاز کرتا ہے اور ان میں سے خوشگوار شیریں دودھ کس طرح نکال کر تمہیں پلاتا ہے پھر یہ کام بجز اس کے اور کون کرسکتا ہے ؟ دیکھو وہ کیسا منعم ہے۔ چہارم نباتات جس میں سے یہاں کھجور اور انگور کا ذکر کرتا ہے کہ تتخذون منہ سکرًا سکر سے مراد شراب ہے چونکہ خطاب قریش مکہ کی طرف ہے اور نیز مکہ میں شراب حرام بھی نہیں ہوئی تھی بلکہ مدینہ میں آ کر حرام ہوئی اس لیے ان لوگوں کو ان کے فوائد بتلاتا ہے۔ ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں سکر سے مراد نبیذ ہے، کھجور یا انگور کا شیرہ جس کو یہاں تک جوش دیا جائے کہ دو حصہ جل جائیں چونکہ اس میں نشہ نہیں ہے یہ حلال ہے، ورزقًا حسنًا یعنی تم انگور اور کھجور سے سکر اور اچھی چیزیں کھانے کی بناتے ہو، سرکہ اور شکر اور بہت چیزیں بنتی ہیں اور وہ خود بھی عمدہ غذائیں اور نفیس میوے ہیں پھر یہ کس کی بنائی ہوئی ہیں کس نے ان میں لذت اور شیرینی پیدا کی ؟ پانچویں پہاڑ زمین دریا جن کا ذکر آیندہ آتا ہے۔
2 ؎ جن سے یہ بھی ثبوت ہوتا ہے کہ جس طرح ایک سال زمین برسات میں ہری بھری ہوتی ہے سینکڑوں بوٹیاں لہلہاتی ہیں ‘ پھر وہ سب خشک ہو کر نیست و نابود ہوجاتی ہیں اس کے بعد سال آیندہ میں پھر ویسی ہی جڑی بوٹیاں پیدا کردیتا ہے۔ اسی طرح زمین کے کھیت پر انسان بھی قدرت کے عمدہ پودے ہیں اس کھیت کو بھی وہ فنا ہوجانے کے بعد قیامت میں جو حیات کی دوسری فصل ہے پھر زندہ کرسکتا ہے اس میں مسئلہ حشر بالاجساد کا بھی ثبوت ہے اور عبرت کے معنی قیاس کرنے کے یہاں زیادہ چسپاں ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 16:68–69ترکیب : ان مفسرہ ہے اتخذی جملہ تفسیر اوحی کی لفظ نحل اگرچہ مذکر ہے۔ مگر معنی کے لحاظ سے مونث کا صیغہ 1 ؎ آیا۔ بیوتا اتخذی کا مفعول ومن الشجر معطوف ہے من الجبال پر ذللا جمع ذلول کی یہ حال ہے ضمیر اسلکی سے یا سبل سے ای اسلکی سبل ربک وانت ذلل منقادۃ اور اسلکی سبل ربک حال کونھا مذللتہ ذللھا اللہ تعالیٰ وسھلھا یخرج جملہ مستانفہ جس میں شہد کی مکھیوں کے الہام کا نتیجہ بتاتا ہے۔
تفسیر : حیوانات میں چرندوں میں سے دودھ کا نکالنا بیان ہوچکا۔ اب پرندوں میں جو کچھ منافع انسان کے لیے رکھے ہیں ان کا ذکر فرماتا ہے یا یوں کہو وہاں چارپایوں سے دودھ نکالنا بیان کیا تھا جن کو انسان دانہ چارہ بھی کہلاتا ہے یہاں پرندوں سے شہد کا نکلنا بیان فرماتا ہے ان پرندوں میں سے کہ جن میں زہر بھی رکھا ہوا ہے وہ کون شہد کی مکھیاں جن کو عربی میں نحل اور ہندی میں مہال کہتے ہیں اور اوحٰی کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ نہ صرف انسان کو انبیاء کی معرفت ہم وحی الہام کے ذریعہ سے ان کے فوائدِ دنیاویہ واخرویہ تعلیم کرتے ہیں بلکہ حیوانات خصوصاً پرندوں کو بھی ان کے کارآمد باتیں الہام ہوتی ہیں جس کو الہام فطری کہنا چاہیے مگر کمبخت انسان اپنے روحانی سرداروں کا مقابلہ کرتا ہے برخلاف مہال کے کہ ان میں جو ایک بڑی مکھی ہوتی ہے جس کو یعسوب کہتے ہیں سب ان کی اطاعت کرتی ہیں
ان اتخذی الخ یہ پہلی بات ہے جو ان کے دل میں القا کی گئی ہے کہ پہاڑوں اور درختوں کی چوٹیوں یا پتوں میں اپنا گھر بنائے اور نیز ان چھتوں میں بھی کہ جن کو انسان بناتے ہیں چھپر وغیرہ یا انگور کی بیلوں کے چھتوں میں تاکہ ہر ایک کا وہاں ہاتھ نہ پہنچے، ان کے گھر کو کوئی نہ بگاڑے یا زمین سے مرتفع رہنے میں ابخرات و قاذورات زمین کا ان تک اثر نہ پہنچے پھر ان کے گھروں کو یعنی سوراخوں کو دیکھئے کہ مسدس بنے ہوتے ہیں جس سے ذرا بھی جگہ بیکار نہیں جاتی اور کس پرکار سے نپے ہوتے ہیں کہ ذرا بھی کم زیادہ نہیں ہوتے۔
ثم کلی من کل الثمرات پھر یہ القاء ہوا کہ بلاقید ہر قسم کے پھل کھایا کرے۔ بعض کہتے ہیں درختوں کے پتوں پر شبنم کی وجہ سے ایک شیریں چیز جمی ہوتی ہے اس کو مکھیاں چاٹتی ہیں اور وہی شہد ہے بعض کہتے ہیں نہیں بلکہ ان کے پیٹ میں ہر چیز جا کر شہد ہوجاتی ہے اور چونکہ پھلوں میں مٹھاس ہے بیشتر شہد کی مکھیاں انہیں کو کھاتی ہیں فاسلکی سبل ربک ذللاً یہ وہ تیسری بات ہے جو ان کو الہام کی گئی ہے جو علماء ذللا کو سبل ربک سے حال ڈالتے ہیں وہ یہ معنی قرار دیتے ہیں کہ آنے جانے کے رستے جو خدا نے مکھیوں کے لیے سہل کر رکھے ہیں ان سے چلنے کا القاء کیا جیسا کہ اس آیت میں ہے جعل لکم الارض ذلولاً بعض کہتے ہیں یہ ضمیر اسلکی سے حال ہے تب ذللا کے معنی منقاد اور فرمانبردار ہو کر چلنے کے ہیں۔ سبل ربک وہ اس کے سوراخ ہیں جن کو اللہ ہی نے بنایا ہے اور مسخر ہو کر چلنا بتایا یعنی سمٹ کر کیونکہ پر کھول کر مکھی ان میں نہیں گھس سکتی نہ نکل سکتی ہے یہ ہیں ذللا کے معنی یخرج من بطونہا شراب یہ نتیجہ بیان فرماتا ہے کہ مختلف رنگ کا شہد ان کے پیٹ سے نکلتا ہے سفید، زرد جس میں بیشتر امراض کے لیے شفاء ہے۔ بعض کہتے ہیں فیہ شفاء للناس قرآن مجید کی بابت جملہ ہے کہ قرآن میں ہر روحانی مرض کی شفاء ہے وہ کس طرح دلائل سے توحید و دار آخرت و نبوت کا ثبوت کرتا ہے شہد میں شفا ہونے کے یہ معنی کہ اکثر امراض کی شفاء ہے۔
1 ؎ لأن المراد بہ الجنس
Ayah 16:70ترکیب : شیئًا بصریوں کے نزدیک مصدر سے منصوب ہے اور کو فیوں کے نزدیک یعلم سے فہم فیہ سواء مبتداء خبر سے مل کر یہ جملہ واقع ہے موقع میں فعل و فاعل کے فالتقدیر فما الذین فضلوا برادی رزقھم علی ماملکت ایمانھم فیستو وا اور یہ فعل منصوب ہے جواب نفی ہو کر اور مرفوع بھی ہوسکتا ہے شیئًا رزقا سے منصوب ہے اگر اس کو مصدر مانا جائے اور اگر بمعنی مرزوق لیا جائے تو اس سے بدل ہے۔
تفسیر : ان آیات میں انسان کے حالات سے استدلال کرتا ہے : اول اللہ خلقکم الخ کہ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا۔ نطفہ کا رحم میں انسان بنانا اور اس کے مواقف اس کو اعضاء عطا کرنا یہ ضرور کسی مدبرحکیم کا کام ہے طبیعت اور مادہ تو خود بےشعور ہے اور اچھا یہ بھی سہی تو پھر یہ طبیعت اس میں کس نے رکھی ہے ؟ ثم یتوفکم یہ بھی اس کے آثار قدرت کی برہان قاطع ہے کسی حکیم فیلسوف سے موت کا بندوبست نہیں ہوا نہ ہوگا۔ و منکم من یرد الخ ایسی بڑی عمر تک پہنچنا جس میں کہ تمام علوم و فنون بھول جائے پھر وہی لڑکپن آجائے اسی کا کام ہے ان اللہ علیم قدیر ان امور کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو وہی جانتا ہے۔ (1)
1 ؎ انسان ہے کہ ماں کے پیٹ سے جو اس کی پہلی منزل ہے اپنی عمر کی منزلیں بےاختیار طے کرتا ہوا چلا جاتا ہے اس کی عمر کی ریل گاڑی کس سرعت کے ساتھ رات دن کے اسٹیشنوں کو طے کرتے ہوئے جارہی ہے۔ یہ لاکھ چاہے کہ چند روز لڑکپن یا جوانی کے ملک میں ٹھہرے مگر کب ٹھہر سکتا ہے ؎
لائی حیات آئی قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
سب کی منزل مقصود و معبود حقیقی کے ہاں جانا ہے۔ پھر کوئی جلد ہی کوئی دیر ایسا بڈھا ہو کر لڑکوں کی طرح سب کچھ بھول جاتا ہے پھر قیامت اگر دوبارہ زندہ کرے تو کیا تعجب ہے جس پر کفار تعجب کرتے ہیں۔ 12 منہ
Ayah 16:71دوم واللہ فضل الخ کہ کوئی غنی ہے کوئی فقیر ہے، یہ بھی اس کی طرف سے ہے اگر یہ بات عقل و علم پر موقوف ہوتی تو کوئی بدعقل ‘ جاہل ‘ مالدار اور عالم و دانا خوار نہ ہوتا حالانکہ معاملہ بالعکس ہے۔ پھر فما الذین سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ ہرچند روزی رزق ہم دیتے ہیں مگر باایں ہمہ تم اپنے نوکروں، غلاموں کو اپنا مساوی اور برابر کا اس میں نہیں کرنا چاہتے پھر خدا تعالیٰ کیونکر اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنے برابر کر دے گا ؟ لیکن تم اللہ کی نعمتوں سے انکار کر کے ان نعمتوں کو فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرتے ہو کہ تندرستی فلاں دیوتا نے عطا کی، بیٹا فلاں بزرگ نے دیا، یہ کام فلاں ستارہ کی تاثیر سے ہوا یا یہ معنی کہ باوجودیکہ روزی میں تم اور تمہارے غلام برابر ہیں کچھ ان کو تم نہیں دیتے بلکہ ہم دیتے ہیں، مگر پھر ہم نے تم کو فضیلت دے رکھی ہے اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔
Ayahs 16:72–73سوم واللہ جعل لکم من انفسکم الخ کہ اللہ نے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اگر مرد کو عورت نہ ملے تو دنیا کا عیش تلخ ہوجائے اس میں کسی کی حکمت اور علم اور طبیعت کا کیا دخل ہے ؟ پھر عورتیں کیسی تمہاری جنس اور قبیلے کی جن کی مجانست سے تمہاری پوری موانست ہوتی ہے پھر اگر اولاد اور اہل قرابت کام آنے والے نہ ہوتے تو بھی مشکل پڑجاتی اس لیے بنین وحفدۃ 2 ؎ بیٹے اور پوتے اقارب بھی پیدا کئے اس پر رزقکم من الطبیٰت اچھی چیزیں کھانے کو دیں پھر اس پر بھی لوگ جھوٹے معبودوں پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوتے ہیں کیونکہ ان نعمتوں کو اوروں کی طرف نسبت کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ اوروں کی عبادت کرتے ہیں جن کو رزق روزی دینے میں نہ اختیار ہے نہ قدرت۔
2 ؎ فدہ جمع حافد کی ہے اور حافد اس کو کہتے ہیں جو بلا عذر و خدمت کرنے حفد خدمت کرنا دعاء قنوت میں بھی آیا ہے و تحفد یہاں اس کا اطلاق اقارب پر ہوا ہے جو کام آتے ہیں جس میں پوتا یہی داخل ہے بعض کہتے ہیں خالص پوتے پتہ بولا گیا ہے۔ 12
Ayah 16:74ترکیب : عبدًا موصوف مملوکًا صفت اول لایقدر صفت ثانی پھر یہ بدل ہے مثلاً سے ومن معطوف ہے عبدًا پر یہ بھی مجموعہ میں شامل ہو کر مثل سے بدل ہوگا سرًا و جہرًا حال ہے ضمیر ینفق سے اور اسی طرح رجلین مثلاً سے بدل ہے پھر احدھما سے رجلین کا بیان ہے۔
تفسیر : مشرکین رد شرک کے یہ دلائل سن کر جواب میں یہ مثالیں بیان کیا کرتے تھے کہ دنیا میں کوئی شخص بادشاہوں سے ان کے وزیروں اہلکاروں کے ذریعہ بغیر عرض حال نہیں کرسکتا اور نیز جس طرح بادشاہوں نے اپنے تمام کارخانوں کے مختار کر رکھے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے بھی ان کے جواب میں فرمایا ہے فلاتضربو الخ کہ یہ مثالیں نہ بناؤ خدا کا معاملہ بندوں کا سا نہیں ان اللہ یعلم الخ میں اسی طرف اشارہ ہے اس کے بعد خدا تعالیٰ دو مثالیں بیان فرماتا ہے جن سے یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے آگے اس کی تمام مخلوق عاجز اور اسی کی دست نگر ہے اس کے حکم بغیر ذرہ بھی حرکت نہیں کرسکتا خصوصاً بت پرستوں کے بت کہ وہ تو بےحس ہی ہیں پہلی مثل کو ضرب اللہ مثلاً عبدًا مملوکًا سے شروع کرتا ہے کہ ایک تو غلام ہو اور غلام بھی کیسا مملوکا آزاد کیا نہ ہو یا اسے کاروبار تجارت میں اجازت نہ ہو نہ مولیٰ نے اپنے مرنے کے بعد اس کی آزادی مقرر کی ہو نہ کسی قدر مال ادا کرنے پر اس کی آزادی معین ہوئی ہو اس پر طرہ یہ ہو کہ لایقدر علی شیء خانہ داری کے امور میں بھی کسی کو دینے لینے کی اس کو کچھ بھی قدرت نہ ہو اور ایک وہ امیر بااختیار ہو کہ جس کو اپنے مال میں چھپے کھلے ہر طرح کے تصرف کی نہ صرف قدرت ہی ہو بلکہ وہ تصرف بھی کرتا ہو پھر کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ اللہ کے سوا جس قدر اس کی مخلوقات ہیں (کہ جس کو مشرکین پوجتے ہیں اور نئے نئے طریقوں سے ان کو حاجت برآری کا ذریعہ جان کر ان کو پکارتے ہیں اور ان کی نذرونیاز کرتے ہیں جیسا کہ عرب میں دستور تھا) سب اس کے آگے اس غلام کی طرح محتاج ہیں کہ جس کو اس کی اجازت بغیر کچھ بھی قدرت نہیں، نہ لینے کی نہ دینے کی اور امیر بااختیار کی مثال اللہ قدیر کی ہے جس کو ہر طرح کے تصرف کی قدرت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے پھر کیسی بیوقوفی ہے کہ گھر کے مالک کو جو بڑا داتا اور کریم بھی ہو چھوڑ کر اس کے ایسے بےبس غلام سے سوال کیا جائے ؟ اس مثال کے بعد یہی جواب دیں گے کہ ہرگز برابر نہیں اس پر فرماتا ہے الحمدللہ کہ اس قدر تو سمجھ ہے کہ دونوں برابر نہیں۔ مگر اکثرھم لایعلمون اکثر کو تو یہ بھی خبر نہیں اس قدر جاہل و بےتمیز ہیں۔
Ayahs 16:75–76دوسری مثال و ضرب اللہ مثلاً رجلین میں ہے یہ دو شخصوں کی مثال ہے جن میں سے ایک تو گونگا ہو اور اپاہج بھی اور نکما بھی جہاں جائے کوئی کام بنا کر نہ آئے دوسرا حکیم و دانا ہو کہ لوگوں کو بھی نیکوکاری ‘ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہو اور خود بھی راہ مستقیم پر قائم ہو۔ بھلا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ پہلے شخص سے ان کے معبود دوسرے سے وہ خدائے قادر حکیم مراد ہے مشرکین دو قسم کے تھے بلکہ اب بھی ہیں۔ ایک وہ جو پتھر یا اور چیزوں کی مورتوں کو پوجتے تھے ان کے معبودوں کی مثال اخیر میں ذکر کی اور ایک وہ جو بزرگوں کو پوجتے تھے ان کے لیے مثال اول ہے۔