15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الٓر۔ یہ ہیں آیتیں کتاب اور کھلے قرآن کی، 1

1 ؎ قرآن کی سب باتیں عقل سلیم کے نزدیک واضح اور کھلی ہیں کوئی بات بھی ایسی نہیں کہ جس کو خلاف عقل محض اعتقاداً ماننے پر مجبور کیا گیا ہو۔
Ayahs 15:2–8

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

منکر بڑی حسرت کریں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوجاتے

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) ان کو چھوڑو کہ کھالیں اور برت لیں اور ان کو آرزو بھلائے رکھے پھر آیندہ تو جلد معلوم ہی کریں گے۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی بھی ایسی بستی ہلاک نہیں کی کہ جس کے لیے (اول ہی) وقت مقرر نہ کیا گیا ہو

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی قوم اپنے وقت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور (کفار نے) کہہ دیا کہ اے وہ شخص کہ جس پر نصیحت نازل کی گئی تو تو ضرور دیوانہ ہے

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا اگر تو سچا ہے

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم فرشتے تو فیصلہ ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں اور پھر تو انہیں مہلت بھی نہ ملے گی۔

ترکیب : رب بالتخفیف والتشدید و ضم الراء فتحہا وما کافۃ لرب و یمکن ان یکون نکرۃ موصوفۃ ای رب شیء یودہ الذین درب حرف جر لایعمل فیہ مابعدہ و العامل محذوف تقدیرہ رب کافر یود الاسلام الادلھا جملہ نعمت ہے قریۃ کی لوما بمعنی ھلا۔ بروز قیامت کفار کی حسرت : تفسیر : ربما یود کہ قیامت کے دن یا بوقت مرگ یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش ہم ایمان والے ہوتے۔ رب کے معنی بعض کہتے ہیں کہ بہت کے ہیں کہ بہت حسرت کریں گے اور بعض کہتے ہیں کم کے ہیں مگر مراد یہاں بہت ہے کہ عرب کی عادت ہے کہ کبھی کثیرالوجود چیز کو یقین دلانے کے لیے بلفظ قلیل ذکر کرتے ہیں جیسا کہ اس شخص کی نسبت کہ جس سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا متوقع ہو کہتے ہیں کہ کبھی تو ہمیں یاد کرو گے۔ مکہ کے مشرک آنحضرت ﷺ کے ساتھ مقابلہ میں مصروف تھے اور خدا کی اس مہلت پر مست تھے کہ اگر پیغمبر سچا ہے تو ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا۔ ہم تو ویسے کے ویسے مزے اڑاتے پھرتے ہیں۔ یہ ان کی حالت تھی جس کے رد میں اول تو الٓر فرمایا جس میں اشارہ ہے کہ یہ قرآن (الف) اللہ نے بواسطہ (لام) جبرئیل (ر) رسول اللہ پر نازل کیا ہے۔ اس میں کوئی دروغ نہیں۔ دوم اس سورة حجر کی نسبت جو قرآن مبین کا ایک جزو ہے فرماتا ہے کہ یہ قرآن مبین اور کتاب الٰہی کی چند آیات ہیں۔ ان کے مطالب پر غور کرو۔ تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ یہ مضمون اس فصاحت و بلاغت کے ساتھ جس میں ان کی تکمیل کا پورا نقشہ ہے من جانب اللہ ہے۔ پھر مبین کے لفظ سے اشارہ ہے کہ قرآن کی سب ہدایتیں واضح ہیں۔ کوئی بھی خلاف عقل سلیم نہیں۔ پھر اس کے ماننے میں کیوں تردد ہے۔ سوم مرنے کے وقت جو قریب ہے یا مرنے کے بعد یہ اس جہل و نادانی پر افسوس کریں گے اور حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے۔ چہارم مہلت کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ چند روزہ ہے۔ اس میں ان کو مزے کرلینے دو ۔ ان کی لمبی چوڑی آرزوئیں دنیاوی کاروبار کی بابت کہ یوں کریں گے انہیں خود غفلت میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اور یہی لمبی چوڑی آرزوئیں غفلت کا پردہ ہیں۔ پھر ان کو جلد معلوم ہوجائیگا کہ ہائے کس غفلت میں پڑے ہوئے تھے خصوصاً جبکہ اپنے افعالِ بد کا بدنتیجہ دیکھیں گے ان سے پہلے بھی بہت سی قومیں تباہ ہوئی ہیں مگر ان کا ایک وقت مقرر تھا اس لیے آگے یا پیچھے نہیں ہوسکتے تھے۔ اسی طرح ان کا بھی وقت معین ہے چناچہ بدر میں اور قحط شدید میں ہلاک ہوئے۔ پیشین گوئی صادق آئی وہ کفار آنحضرت ﷺ کو دنیاوی مشاغل سے بےفکر اور آخرت کی طرف متوجہ دیکھ کر کہتے تھے کہ اے محمد ! ﷺ تو جو کہتا ہے کہ مجھ پر نصیحت یعنی قرآن نازل ہو رہا ہے ضرور دیوانہ ہے چونکہ یہ قول دیوانوں کا تھا اس کا جواب کیا دینا تھا مگر وہ یہ جو کہتے تھے کہ اگر تو سچا ہے تو ہمیں فرشتے کیوں نہیں لا کر دکھاتا۔ اس کا جواب دیا کہ فرشتے تو جب آتے ہیں فیصلے ہی کے لیے آتے ہیں خواہ ہلاکت عامہ کے وقت یا موت کے وقت پھر جب وہ آئی تو مہلت کہاں۔
Ayahs 15:9–15

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان بھی ہیں ا

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور آپ سے پیشتر ہم پہلی قوموں میں بھی رسول بھیج چکے ہیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور وہ بھی جب کوئی رسول ان کے پاس آتا تو اس سے تمسخر ہی کرتے رہے

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح سے ہم گنہگاروں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور یہ تو قدیم دستور چلا آیا ہے

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں پھر وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو کیا گیا ہے۔

ترکیب : نحن مبتداء نزلنا خبر جملہ انا کی خبر یا نحن انا کی تاکید۔ کذلک ای الامر کذلک السلک ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل کرنا اور ممکن ہے کہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے سلوکا مثل استھزائھم۔ والضمیر للاستھزاء ای کمثل اد خالنا التکذیب فی قلوب اولئک نسلکہ ای ندخل الاستھزاء فی قلوب المجرمین ای کفار مکۃ ولوفتحنا جملہ شرطیہ لقالوا اس کی جزا۔ کفار کے استہزاء کے چند اسباب : تفسیر : کفار نے رسول اللہ ﷺ کو دیوانہ کہا تھا جس سے ان کا یہ مطلب تھا کہ جو کچھ رسول ہم کو سناتا ہے وہ کلام الٰہی نہیں دیوانوں کی بڑ اور بکواس ہے اور کفار جو انبیاء (علیہم السلام) کی نسبت ایسی باتیں کہا کرتے تھے اس کے چند سبب تھے : اول یہ کہ رسول شہوات و لذات باطلہ کے ترک اور عبادت و نیک روی کی تاکید کرتے تھے یہ بات ان پر شاق گزرتی تھی۔ دوم رسوم بد اور مذاہب باطلہ کا ترک کرنا جو پشت در پشت ان میں مروج ہونے کی وجہ سے ایک امر ناحق قرار پا گیا تھا اور بھی ناگوار معلوم ہوتا تھا اور اب بھی لوگوں کا رسوم و عادات خلاف شرع ترک کرنے میں یہی حال ہے۔ سوم انبیاء فقراء ہوتے تھے نہ ان کے پاس مال و جاہ تھا، نہ اعوان و انصار ‘ اس لیے رؤساء پر ایسے لوگوں کا مطیع ہونا شاق گزرتا تھا۔ چہارم ان کا گمراہ ازلی ہونا بڑا سبب تھا۔ حفاظت قرآن کا وعدہ الٰہی : اس کے جواب میں فرماتا ہے انا نحن الخ کہ ذکر یعنی قرآن ہمارا ہی نازل کیا ہوا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ اس پیشین گوئی کے مطابق آج تیرہ سو سال ہونے کو آئے قرآن ایسا محفوظ ہے کہ مشرق سے مغرب تک سب مسلمانوں کی زبان پر یکساں الفاظ ہیں ایک لفظ یا زیروزبر کا بھی فرق نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے عہد سے لے کر اب تک بلکہ قیامت تک حفاظ اور قراء اور علماء کی جماعتیں اس کی محافظت پر کمربستہ ہیں۔ یہ قرآن کا بڑا معجزہ ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں واعلم انہ لم یتفق لشیء من الکتب مثل ھذا الحفظ فانہ الا کتاب لاوقد دخلہ التصحیف والتحریف والتغییر۔ شیعہ میں جو متعصصب اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن میں سے عثمان ؓ نے فلاں فلاں سورتیں کم کردیں اس آیت اور دیگر آیات سے مردود ہیں وہ بھی شیع الاولین میں داخل ہیں جنہوں نے رسولوں کا انکار کیا۔ ولقد ارسلنا فرماتا ہے کہ ان کا ایسی باتیں کرنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ آپ سے پیشتر اے محمد ! پہلی قوموں میں بھی ہم نے رسول بھیجے تھے ان کا بھی یہی حال رہا کہ جو رسول آیا اس کو جھٹلاتے رہے۔ اسی طرح ان کفار کے دلوں میں قضاء و قدر نے یہ انکار و تکذیب ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ وقدخلت سنۃ الاولین اور پہلوں کے ساتھ جو کچھ اللہ کا دستور تھا کہ اخیر وہ ان کو ہلاک کرتا آیا ہے وہ بھی چلا آتا ہے۔ کفار کی ضد اور ہٹ دھرمی : ولوفتحنا الخ یعنی وہ جو کہتے ہیں کہ معجزہ کے طور پر فرشتے کیوں نہیں آتے فرشتے تو کیا اگر ہم ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتے اور سیڑھی لگا دیتے کہ جس سے چڑھ کر وہاں کے حالات دیکھ آتے (یا یہ معنی کہ آسمان کے دروازوں سے فرشتوں کو چڑھتے اترتے دیکھتے) تو بھی یہی کہہ دیتے کہ یہ نظربندی ہے اور جادو۔
Ayahs 15:16–17

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اس کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کردیا

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور اس کو ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا

اثبات توحید پر دلائل سماویہ : تفسیر : قرآن مجید کی عادت ہے کہ ایک مقصد کے بعد دوسرے مطلب کو بیان فرماتا ہے تاکہ سننے والے کے دل پر بار نہ معلوم ہو۔ اس جگہ جبکہ مسئلہ نبوت میں کلام کرچکا تو مسئلہ توحید کو شروع کرتا ہے جس پر اثبات نبوت موقوف ہے اور نیز توحید کے متعلق ایسا کلام کرنا گویا نبوت۔ نبی کو اس کے اثر سے مشاہدہ کرا دینا ہے کہ جس کے منہ سے ایسی بات الہامی اور روح کو تازہ کرنے والی نکلی وہ قطعی نبی ہے نہ کہ مجنوں ولقد جلعنا الخ توحید کے ثبوت میں دلائلِ سماویہ سے یہ اول دلیل ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور آسمان کو ستاروں سے مزین کیا اور شیاطین سے اس کو محفوظ رکھا کہ کوئی شیطان وہاں تک جا نہیں سکتا اور جو کوئی چوری کے طور پر وہاں آسمانی بات سننے کو جا بھی پہنچا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے تو شہاب مبین یا شہاب ثاقب یعنی آگ کا شعلہ جس کو ستارہ ٹوٹا کہتے ہیں اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔ رجیم رجم سے مشتق ہے جس کے معنی پتھراؤ کرنا یعنی پتھر پھینک پھینک کر مارنا، گالی گلوچ اور بہتان لگانے کو بھی اسی لیے رجم کہتے ہیں کہ گویا بیہودہ باتوں کے پتھر مارتے جاتے ہیں۔ منہ قولہ لارجمنک ای لاسینبک اور اسی مناسبت سے تخمینی اور بےتکی باتوں کو بھی رجم کہتے ہیں۔ منہ قولہ رجما بالغیب گویا شیاطین پر آتشی شعلوں کے پتھر مارے جاتے ہیں۔ مقدمہ تفسیر : میں بیان ہوچکا ہے کہ شیاطین کو لطافت مادہ کی وجہ سے ملائکہ کی باتیں سننے اور ان کے دیکھنے اور اونچے چڑھنے کی قدرت عطا کی گئی ہے۔ بروج برج کی جمع ہے اسی طرح ایک جگہ قرآن میں آیا ہے تبارک الذی جعل فی السمآء بروجاً اور ایک جگہ ہے والسمآء ذات البروج اس سے یہ مراد نہیں کہ جس طرح اینٹ پتھروں کی گول گول عمارت قلعوں کی دیواروں پر اور دیگر جگہ ہوتی ہے اسی طرح آسمان پر برج بنے ہوئے ہیں بلکہ یہ مراد کہ آسمان میں مختلف ستاروں کے نمودار ہونے سے خرپزے کی پھانکوں کی طرح آسمان کے بارہ حصے یا ٹکڑے جدا جدا معلوم ہوتے ہیں اور ان کے زبان عرب میں یہ نام مشہور تھے۔ حمل، ثور، جوز، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ جبکہ طبیعت فلکیہ ایک تھی اور اسی لیے حکماء کے نزدیک اس کی شکل کروی یعنی گول بنی تو پھر یہ بروج مختلف الطبائع اور آسمان میں یہ گوناگوں چیزیں کس نے بنائیں ‘ ان میں کمی و بیشی کس نے کی اور ان اجزاء کو کس نے مرکب کیا ؟ صرف ایک اللہ قادر مختار ‘ قوی وقہار و جبار نے۔ پھر اس نے نہ صرف ستاروں کو آسمان کی زیب وزینت بنایا بلکہ وہاں کا انتظام لائق بھی کیا۔ چوٹے شیطانوں کے لیے شہاب مبین کو کو توال بنایا تو پھر کیا وہ انبیاء کو بھیج کر انتظام بنی آدم نہ کرتا ؟ اور نیز شیاطین کو تو عالم علوی کی طرف رسائی نہیں پھر اگر خدا کا الہام اور جبرئیل امین کی پیغام رسانی نہیں تو محمد ﷺ کو عالم علوی کی باتیں کیونکر معلوم ہوگئیں ؟ سبحان اللہ اس ایک جملہ سے کس قدر باتیں ثابت کردیں۔
Ayah 15:18

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

مگر جو کوئی چوری سے سن بھاگا تو اس کے پیچھے دہکتا ہوا انگارا پڑگیا

ترکیب : الامن منصوب ہے استثناء منقطع ہونے کی وجہ سے اور جر بھی ہوسکتا ہے ممن استرق سے بدل کر ہو کر اور رفع بھی ہوسکتا ہے مبتدا ہو کر۔ والخبر فاتبعہ وجاز دخول الفائفیہ لتضمن المبتداء معنی الشرط۔ والارض منصوب ہے مددنا محذوف سے ومن لَسْتُمْ منصوب ہے جعلنا سے والمرادبمن العبیدو البھام فانھا مخلوقۃ لمنا فعنا اور مجرور بھی ہوسکتا ہے۔ ای لکم و لمن لستم۔
Ayahs 15:19–21

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس پر لنگر ڈال دیے اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور اس میں تمہارے لیے روزی کے لیے سامان رکھے اور ان کے لیے بھی کہ جن کے تم روزی دہندہ نہیں

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور ایسی کوئی بھی چیز نہیں کہ جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور ہم صرف اس کو ایک اندازہ معین سے نازل کرتے ہیں

عالم سفلی کے حالات سے دوسری دلیل : والارض مددنھا یہ عالم سفلی کے حالات سے دوسری دلیل ہے۔ اول زمین کو پھیلانا باوجود کروی ہونے کے اس کی ایسا سطح رکھنا کہ جس پر مخلوق بس سکے ‘ اسی کی کاری گری ہے۔ دوم القینا فیھا رواسی مفردر اسی اور اس کی جمع راسیات اس کی جمع یعنی جمع الجمع رواسی ہے۔ رواسی ٹھہرنے اور جمنے والی چیزیں جس سے مراد پہاڑ ہیں۔ یہ مضمون بہت جگہ قرآن میں ہے منجملہ ان کے وفی الارض رواسی ان تمیدلکم اور ان پہاڑوں کو اوتاد یعنی زمین کی میخیں بھی فرماتا ہے۔ خواہ یوں کہو کہ زمین پیدا کرنے کے بعد جو بارشیں ہوئیں تو بلند قطعات میں ادھر ادھر سے مٹی گر کر اونچے نیچے مختلف صورتوں کے ٹیلے جو رہ گئے تھے متحجر ہو کر پہاڑ بن گئے یا یوں کہو کہ بدء الخلقت میں ساتھ ہی خدا نے پہاڑ بھی بنائے مگر ان کا زمین کے لیے میخ اور بار اور تھماؤ ہونا کلام تشبیہی ہے گویا فرش زمین پر یہ بھاری بھاری پتھر دھر دیے ہیں کہ ہلنے نہ پاوے 1 ؎۔ اس میں بھی قدرت کاملہ کی بڑی نشانی ہے اور نیز پہاڑوں کے فوائد اور ان کے معاون اور نباتات کے منافع بہ آواز بلند اپنے خالق یکتا کی توحید و صناعی پر گواہی دے رہے ہیں جن کی طرف وانبتنا فیھا من کل شیء موزون میں اشارہ ہے موزوں سے مراد اندازہ کی ہوئی چیز یعنی زمین میں یا پہاڑوں میں یہ بےانتہا جڑی بوٹیاں اس کے اندازے علمی سے باہر نہیں یا یہ مراد کہ وہ وزن رکھتی ہیں یعنی بےفائدہ اور عبث نہیں عمدہ اور متناسب چیز کو موزوں کہتے ہیں جیسا کہ کلام موزوں۔ وجعلنا لکم فیھا معایش سوم نہ صرف بندوں کی معاش اور روزی زمین پر پیدا کی بلکہ من لستم لہ برازقین چارپائے ‘ اور تمہارے نوکر غلام بال بچے کہ جن کو اپنے زعم میں تم روزی دیتے ہو ان کی روزی بھی اسی نے پیدا کی نہ تم نے یا یہ معنی کہ جن چیزوں کے تم روزی رساں نہیں ہو۔ چارپائے تمہارے غلام وغیرہ ان کو بھی خدا ہی نے تمہارے لیے پیدا کیا۔ و ان من شیء یہاں سے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالم وجود میں جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں وہ بقدر حاجت مخلوق ظاہر کرتے ہیں یہ نہیں کہ وہ ہمارے ہاں اسی قدر تھا بلکہ اس کے خزانے ہمارے پاس ہیں یعنی ہمارے ہاں بےانتہا ہے۔ بارش وغیرہ سب کا یہی حال ہے 1 ؎ یعنی پہاڑ کا وزن طبعی زمین کو ڈگمگانے نہیں دیتا
Ayahs 15:22–25

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور ہم نے بوجھل ہوائیں چلائیں اور پھر آسمان سے پانی اتارا پھر وہ تمہیں پلایا حالانکہ تم اس کے خزانے دار نہیں

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور اخیر مالک بھی ہم ہی ہیں

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور ہم کو تم میں سے اگلے اور پچھلے سب معلوم ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب ہی ان کو جمع کرے گا بیشک وہ حکمت والا ‘ خبردار ہے۔

وارسلنا الریاح لواقح تیسری دلیل ہے کہ باوجودیکہ اپنی بقاء میں کوئی کیسی ہی کوشش کرے مگر ہم مارتے ہیں اور ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ اس میں کسی کو بھی دخل نہیں اور اگلے جو ہوچکے ہیں اور آیندہ جو ہوں گے وہ سب ہم کو معلوم ہے اور پھر ہم سب کو جمع کرلیں گے۔ یہ بھی ہمارا ہی کام ہے کیونکہ ہم حکیم اور علیم ہیں اس میں دارآخرت کا بھی کس عمدگی سے اثبات ہے۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے انسان کو خشک مٹی سے خمیر دے کر بنایا

ترکیب : من حما موضع جر میں صفت ہے صلصال کی باعادۃ الجار۔ والجان منصوب ہے، علی شریطۃ التفسیر انی الخ جملہ مقولہ ہے قال کا فاذا شرط و نفخت عطف ہے سویتہ پر۔ فقعوا جواب شرط میں اور قعوا امر ہے وقع یقع سے۔ تمام جملہ خبر میں ہے قال کے۔ الا ابلیس اگر منقطع کہا جاوے تو ابی ان الخ کے ساتھ متصل ہوگا اے ولکن۔ اور اگر متصل مانا جاوے گا تو جدا کلام ہوگا سائل کا جواب۔ الحماء الطین الاسودقال ابوعبیدۃ الحماء بسکون المیم والتحریک والجمع الحما مثل تمرۃ و تمرو الحماء مصدر مثل الہلع و الجزع۔ والمسنون قال الفراء ھو المتغیر وصلہ من سنئت المحجر علی الحجر اذاحککتہ و ما یخرج منہما یقال لاسنانۃ۔ وقیل اصلہ من اسن الماء اذا تغیر و منہ قولہ لم یتسنہ و قولہ من ماء غیر آسن و قال ابوعبیدۃ المسنون المصبوب والسن الصب و قال سیبویہ المسنون المصور صلصال طین یا بس یتصلصل اذا حرک واذاطبخ بالنار فھو القحار۔ 12 منہ اثبات توحید پر پانچویں دلیل تفسیر : یہ پانچویں دلیل ہے توحید پر۔ پہلی آیات میں عام حیوانات کے پیدا کرنے سے توحید ثابت کی گئی تھی۔ ان آیات میں انسان اور جن کے پیدا کرنے کا ذکر کر کے اپنی توحید ثابت کرتا ہے جب یہ ثابت ہوچکا کہ حوادث کا سلسلہ غیرمتناہی نہیں ضرور اس کی ابتداء ہوتی ہے تو اب انسان کا سلسلہ کہ جس کی پیدائش یکے از دیگرے ہوتی ہے ضرور کسی ایک ایسے شخص سے ہوگا جو ماں باپ سے پیدا نہ ہوا ہو اور چونکہ انسان زمین پر رہتا ہے محسوس ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے ملاقی ہوتا اور جسم کثیف رکھتا ہے اور اسی لیے اس کو بشر کہتے ہیں (اماتفسیر کونہ بشرًا فالمراد منہ جسمًا کثیفًا یباشر ویلاقی، تفسیر کبیر) اس لیے ضرور ہوا کہ اس کا مادہ غالب خاک ہو ولقد خلقنا الانسان من صلصال مگر خاک سے بغیر خمیر کئے اور گارا بنائے اس کا پتلا نہیں بن سکتا۔ من حماء مسنون، لہٰذا اس سرسلسلہ کو جس کا نام آدم (علیہ السلام) ہے خاک سے گوندھ کر بنایا اور پھر اس پتلے میں روح پھونک ڈالی اور فرشتوں سے سجدہ تعظیمی کرایا۔ اگر غور کیا جاوے تو عاقل بہت جلد اقرار کرسکتا ہے کہ خاک اور پانی کا ازخود جمع ہونا اور اس میں روح پڑنا ازخود ممکن نہیں ضرور یہ کسی حکیم وعلیم کا کام ہے اور صرف آدم (علیہ السلام) ہی کو ہم نے قدرت کاملہ سے پیدا نہیں کیا بلکہ والجان خلقناہ من قبل من نار السموم اس سے سینکڑوں ہزاروں برس پیشتر جنات (قومِ جن) کے سر سلسلہ جان کو آگ سے پیدا کرچکے ہیں۔