15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 15:27–44

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنّات کو اس سے پہلے آگ کے شعلہ سے بنایا تھا

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جبکہ آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک بشر بنانے والا ہوں خشک مٹی خمیر دی ہوئی سے ‘

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

پھر میں جب اس کو ٹھیک بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

پھر سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر ابلیس نے کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

خدا نے فرمایا اے ابلیس ! تجھے کیا ہوا تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

اس نے کہا میں ایسا نہ تھا کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں کہ جس کو تو نے خشک مٹی خمیر دی ہوئی سے بنایا۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

خدا نے فرمایا یہاں سے دور ہو بیشک تو پھٹکارا گیا ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور بیشک تجھ پر لعنت ہے قیامت تک۔

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

اس نے کہا اے رب ! مجھے مہلت دے اس دن تک کی مردے جی اٹھیں

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

خدا نے فرمایا البتہ تجھے مہلت ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

وقت معلوم (قیامت) کے دن تک۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

اس نے کہا اے رب ! تو نے مجھے (انسان کی خاطر) خراب تو کیا ہے میں بھی انہیں زمین پر نہ رجھاؤں اور سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

مگر ان میں سے تیرے خالص بندے (بچ رہیں گے) ۔

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

خدا نے فرمایا یہی (اطاعت کی) راہ ہم تک سیدھی پہنچتی ہے

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

ہمارے بندوں پر تیرا کچھ بھی بس نہیں چلے گا مگر کچھ لوگوں میں سے جو تیری پیروی کرے گا (اس پر تیرا قابو چلے گا)

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور جہنم تو ان سب کا ٹھکانا ہے

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

کہ جس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک ایک فرقہ بٹا ہوا ہے۔

جان کی تعریف و تفسیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جان سب جنون کے باپ کا نام ہے اور یہی قول اکثر مفسرین کا ہے اور یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے گو بعض نے جان سے مراد ابلیس لیا ہے جان کے معنی لغت میں ساتر یعنی چھپنے (چھپانے) والے کے ہیں کہتے ہیں جن الشیٔ اذاسترہ چونکہ آدم ( علیہ السلام) کے خلاف اس کا غالب مادہ آگ کا لطیف شعلہ ہے اس لیے یہ قوم محسوس نہیں ہوتی ہر ایک کو دکھلائی نہیں دیتی اور اس لیے اس قوم کو جن اور اس کے باپ کو جان کہتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ لطیف وخبیر نے اول ملائکہ کو بنایا، ان کے بعد جن کی قوم کو جن کا مادہ ملائکہ سے ذرا قریب تر تھا، پھر انسان کو جس کا مادہ کثیف ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ دیگر حیوانات گدھا، گھوڑا، گائے، بھینس وغیرہ کب بنائے۔ آدم (علیہ السلام) سے پہلے یا پیچھے، لیکن اس میں تو کوئی بھی شبہ نہیں کہ ان انواع کا بھی ایک ایک سرسلسلہ ہے جس سے یہ انواع پھیلے ہوں گے۔ اس آیت سے یہ بات تو صاف صاف معلوم ہوگئی کہ قوم جن انسان سے غیر ہے اور اس سے پہلے بنی ہے اور اس کا مادہ بھی انسان کے مادہ سے غیر ہے۔ پھر جو مسلمان کہلا کر غیرمحسوس ہونے کی وجہ سے بہ تقلید فلاسفہ قوم جن کا انکار کرتا ہے اور توجیہ باطل کر کے ان کو انسانوں کے زمرے میں ملاتا ہے محض جاہل ہے۔ ان جنوں کا سر سلسلہ جان نبی تھا یا نہیں، قرآن مجید سے ثابت نہیں ہوتا۔ اس قوم میں جو کافر سرکش ہیں جن کا پہلا پیشوا ابلیس ہے ان کو شیاطین کہتے ہیں۔ قوم جن کی کیفیت کسی قدر ہم مقدمہ تفسیر میں بیان کرچکے ہیں اور یہ بحث کہ حضرت آدم (علیہ السلام) زمین پر کس جگہ بنائے گئے تھے، سورة بقرہ کی تفسیر میں آچکی ہے۔ ہرچند آدم (علیہ السلام) خاک سے بنایا گیا مگر اس میں وہ اسرار حکمت رکھے تھے کہ جن کی نہ فرشتوں کو نہ ابلیس کو خبر تھی اس لیے اس کے پیدا ہونے سے پیشتر ملائکہ کو خبر کردی اور حکم دے دیا کہ جب وہ بن کے تیار ہو تو سب کے سب اس کے آگے جھک جانا تعظیم کے لئے۔ فرشتوں نے تو ایسا ہی کیا مگر ابلیس نے اس کے مادہ خاکی پر لحاظ کر کے اس کو کمتر اور اپنے آپ کو اچھا سمجھا اور تکبر کی راہ سے حکم الٰہی نہ بجا لایا اس کی سزا میں نکالا گیا اور بنی آدم کے بہکانے کا بیڑا اٹھایا اس لیے حشر تک زندہ رہنے کی دعا کی مگر وہاں سے وقت معین یعنی صور پھونکنے تک کی منظوری ہوئی۔ موت سے چارہ نہ ہوا اور فرما دیا کہ میرے خالص بندوں پر تیرا بس نہ چلے گا اور جو تیرے کہنے میں آئے گا جہنم میں جائے گا، جس کے سات دروازے یا طبقے ہیں یعنی جہنم بھی بڑی لمبی چوڑی تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 15:45

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

ضرور پرہیز گار باغوں اور چشموں میں رہیں گے

تفسیر : توحید ثابت کرتے کرتے اس کے ضمن میں دارآخرت کا ذکر آگیا اور وہاں گنہگاروں کے لیے جہنم میں جانا بھی مذکور ہوا تو اس کے بعد نیک لوگوں کا حال اور انجام بیان کرنا گویا بیان کو تمام کردینا ہے۔ فرماتا ہے کہ متقین یعنی شرک و کفر سے بچنے والے یا کبائر سے بھی حتی المقدور باز رہنے والوں کو باغ اور ان میں نہر رواں ملیں گے اور فرشتے ان سے استقبال کر کے کہیں گے ان باغوں اور چشموں میں سلامتی اور امن سے داخل ہوجاؤ یا سلام علیکم کہیں گے اور بہشتیوں کے دلوں میں باہمی کدورت اور رنج نہ ہوگا، دنیاوی رنجشیں دل سے نکال دی جاویں گی، بھائی بھائی بنے ہوئے سونے کے تختوں پر آمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ‘ کسی کو کوئی بیماری وغیرہ کی تکلیف نہ ہوگی، نہ وہاں سے نکلیں گے۔ اس لیے فرماتا ہے کہ بندوں کو کہہ دو کہ میں غفور رحیم ہوں، فرمانبرداروں کو جنت دوں گا اور میرا عذاب بھی سخت ہے۔ توحید اور دار آخرت کا ذکر کر کے انبیائِ سابقین اور ان کی قوموں کے عبرتناک واقعات شروع ہوتے ہیں تاکہ ناظرین کو عبرت اور نصیحت ہو یہاں سب سے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اور اس کے ضمن میں لوط علیہ اسلام کی قوم پر ہلاکت آنے کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک روز خیمہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس چند مسافر آئے، مہمانی کے طور پر حضرت ان کے لیے تلا ہوا بچھڑا کھانے کو لائے۔ وہ دراصل فرشتے تھے، کھانے سے انہوں نے ہاتھ روکا۔ ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے کہ یہ دشمن ہیں کیونکہ اس عہد میں دشمن اپنے دشمن کے گھر کھانا نہیں کھاتا تھا، یہی علامت عداوت تھی۔ کہنے لگے مجھے تم سے خوف معلوم ہوتا ہے۔ فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تسلی کی اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی بشارت دی اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے ہلاک کرنے کا قصد بیان کیا۔ بحیرہ لوط کے کنارے قوم لوط کی کئی بستیاں تھیں جنہیں اغلام کی عادت تھی۔ فرشتوں نے کہہ دیا کہ ہم اس ناپاک قوم کو ہلاک کرنے آئے ہیں مگر لوط نبی اور اس کے خاندان کو بجز ان کی بیوی کے کہ وہ قوم میں پیچھے رہ جائے گی، بچا لیں گے۔
Ayahs 15:46–60

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

(کہا جائے گا) کہ ان باغوں میں سلامتی اور امن سے جا کر رہو

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور جو کچھ ان کے دلوں میں رنجش ہوگی ہم اس کو بھی دور کردیں گے۔ وہ تختوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی بنے بیٹھے ہوں گے۔

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

نہ ان کو وہاں کچھ رنج پہنچے گا نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) ہمارے بندوں کو جتلا دو کہ میں بڑا معاف کرنے والا ہوں

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ بھی (جتلا دو ) کہ میرا عذاب بھی سخت ہے

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور ابراہیم کے مہمانوں کا حال بھی ان کو سنا دو

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جبکہ وہ ان کے پاس آئے تو سلام کیا (ابراہیم نے) کہا مجھے تو تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

وہ بولے کچھ خوف نہ کھائیے ہم آپ کو مژدہ دیتے ہیں ایک لائق فرزند (اسحاق) کا

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا (کیا) مجھے اب بڑھاپے میں مژدہ دیتے ہو ‘ سو اب کا ہے کا مژدہ دیتے ہو

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا آپ کو صحیح مژدہ دیتے ہیں پھر آپ ناامید نہ ہوں

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا اپنے رب کی رحمت سے ناامید تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

(ابراہیم نے) کہا اے خدا کے فرستادو !

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

تمہارا کیا قصد ہے ؟ انہوں نے کہا ہم ایک نافرمان قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کا کنبہ ہم ان سب کو بچا لیں گے

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

بجز اس کی بیوی کے ہم نے ٹھان لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔

ترکیب : بسلام حال ہے فاعل ادخلوا سے۔ ای سالمین اومسلما علیھم۔ اخوانا حال ہے ھم سے علی سرر بھی حال ہے اور متقابلین بھی۔ علٰی ان موضع حال میں ہے ای بشر تمونی کبیرا۔ تبشرون کے نون کو مکسور پڑھا ہے نون وقایہ ہے۔