15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 15:61–69

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب لوط کے گھر فرشتے پہنچے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو (لوط نے) کہا کہ تم اجنبی لوگ ہو۔

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

وہ بولے بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز لائے ہیں جس میں یہ شک کرتے ہیں

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم تمہارے پاس مقرر کی ہوئی بات لائے ہیں اور ہم سچے ہیں۔

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

پس تم اپنے لوگوں کو کچھ رات رہے سے لے نکلو اور تم ان کے پیچھے ہو لو اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور جہاں کا حکم کیا جاوے (وہاں) چلے جانا

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو قطعی طور پر یہ بات بتلا دی تھی کہ اس قوم کی صبح ہوتے ہوتے جڑ کٹ چکے گی

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور (یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ) شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے۔

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

لوط نے ان سے کہا یہ میرے مہمان ہیں سو مجھے رسوا نہ کرو

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور اللہ سے ڈرو اور مجھے بےآبرو نہ کرو۔

تفسیر : پھر جب فرشتے لوط کے گھر پہنچے تو لوط نے ان کو نوجوانی کے عالم میں دیکھ کر اور اپنی قوم کی بدعادت پر خیال کر کے ان کو آنا مکروہ سمجھا چونکہ مہمان تھے گھر لے آئے، فرشتوں نے لوط سے بیان کردیا کہ ہم اس قوم ناپاک کی ہلاکت کے لیے آئے ہیں، صبح ہوتے ہوتے یہ غارت ہو چکیں گے۔ تم اپنے خاندان کو لے کر بڑے سویرے چل دو اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ان کی خبر بستی میں پہنچی۔ پھر کیا تھا ‘ بدمعاش شہوت پرستوں نے آ کر لوط (علیہ السلام) کا گھر گھیر لیا ‘ اس ارادے سے کہ ان لوگوں سے بدفعلی کریں۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا یہ میرے مہمان ہیں ان کی بےعزتی میری بےعزتی ہے خدا سے ڈرو، مجھے رسوا نہ کرو۔ قوم نے کہا ہم نے تجھے منع کردیا ہے کہ تو دنیا بھر کی حمایت نہ کیا کر یہ تیرے کون ہیں جو تو ان کی حمایت کرتا ہے ؟ لوط نے کہا خیر اگر تمہیں یہی مقصود ہے تو میری یہ بیٹیاں 1 ؎ موجود ہیں، ان سے نکاح کرلو۔ خدا تعالیٰ حضرت ﷺ سے خطاب کر کے فرماتا ہے کہ تیری عمر کی قسم وہ اپنی مستی میں اندھے ہو رہے تھے اور بدمست اور سرشار تھے لوط (علیہ السلام) کی کیا سنتے۔ حقیقت میں جس قوم پر ادبارِ الٰہی نازل ہونے کو ہوتا ہے تب وہ اس بدفعلی میں ایسے اندھے ہوجاتے ہیں کہ کسی کی نہیں سنتے۔ آج کل امرائے اسلام کی عجب حالت افسوسناک ہے۔ شراب خوری و عیاشی و کاہلی، بدفعلی و فضولی میں انتظام دنیوی ‘ ملک کا بندوبست ‘ بیدار مغزی ہر کام میں ہوشیاری تو درکنار ملت و مذہب سے بھی ایسے غافل کہ یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کا مذہب کیا ہے ؟ نہ اسلامیوں کی سی صورت نہ سیرت ‘ نہ کسی اسلامی فریضے کے پابند ‘ اس پر بےدین ملحدوں کی صحبت جو اسلام کی پابندی کو بربادی کا ذریعہ بتلاتے ہیں۔ وانہا الخ یعنی وہ گائوں الٹے ہوئے قریش کو جب کہ ملک شام میں تجارت کے لیے جاتے ہیں تو سیدھے رستہ پر ملتے ہیں ان خرابات 2 ؎ کے آثار موجود ہیں پھر کیوں عبرت نہیں کرتے ؟ 1 ؎ قوم کی بیٹیوں کی طرف اشارہ تھا کیونکہ نبی قوم کا باپ تھا، ان کی بیٹیاں اس کی بیٹیاں ہیں مراد یہ کہ اس کام کے لیے قوم میں لڑکیاں کیا کم ہیں ان سے نکاح کرلو۔
Ayahs 15:70–75

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تم کو ہم نے دنیا بھر کی حمایت سے منع نہیں کردیا ہے۔

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

لوط نے کہا یہ میری بیٹیاں موجود ہیں اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے 1 ؎ (1 ؎ ان سے نکاح کرلو۔ 12 منہ۔ )

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے محمد ! ) آپ کی جان کی قسم گویا وہ اپنے نشے میں اندھے ہو رہے تھے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

(لوط کی کیا سنتے) پھر تو دن نکلتے ہی ان کو ہولناک آواز نے آلیا۔

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پھر تو ہم نے ان بستیوں کو زیروزبر کردیا اور ان پر کنکر کے پتھر برسائے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

البتہ اس میں عبرت کرنے والوں کو بڑی نشانیاں ہیں

ترکیب : اولم ننہک الاستفہام للانکار والو اوللعطف علی مقدر ‘ ای لم تتقدم الیک ولم ننھک عن ان تکلمنا فی شان احداذقصد ناہ بالفاحشتہ۔ لعمرک العمر بالفتح و الضم واحد لکنھم خصوا القسم بالفتح اختیار اللاخف لکثرۃ الاستعمال واتفق المفسرون انہ قسم بحیاۃ محمد ﷺ وانہا الضیر بقریۃ لوط وھی سدوم۔ بسبیل مقیم اے طریق ثابت والباء بمعنی فی اے ہذاء القریۃ فی سبیل واضح عن المدینۃ الی الشام یری آثار غضب اللہ الی زماننا ھذا، ھؤلاء مبتدا بناتی خبر یعمہون حال ضمیر سکرتہم سے والعامل السکرۃ اومعنی الاضافۃ، مشرقین وقت شروق الشمس حال ہے۔
Ayahs 15:76–77

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور بستیاں سیدھے رستے پر واقع ہیں2

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

البتہ اس میں ایمانداروں کے لیے نشانیاں ہیں۔

2 ؎ بحیرہ مردار اس کے کنارے چند بستیاں تھیں سدوم و عمورہ وغیرہ ان کی ہدایت کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا لوط (علیہ السلام) کی بیوی انہیں بستیوں کی رہنے والی تھی دو بیٹیوں کے سوا اور کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی تھی ان بستیوں کے لوگوں میں علاوہ کفروبت پرستی کے اغلام کی بھی سخت عادت تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نصیحت کرتے تھے مگر وہ کب ماننے والے تھے۔ آخر ان کی بربادی کے لیے فرشتے لڑکوں کی صورت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے ہو کر لوط (علیہ السلام) کے پاس بھی آئے۔ لوط (علیہ السلام) قوم کی عادت سے واقف تھے اول تو ان مہمانوں کے آنے سے ناخوش ہوئے مگر جب حال معلوم ہوگیا تو ان کو گھر لے گئے قوم نے بارادہ بد گھر کو آگھیرا حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیوی فرشتوں کے حکم کے مطابق بستی چھوڑ کر باہر نکلے مگر آخر میں بیوی کو وطن اور قوم کی محبت نے مڑ پیچھے دیکھنے پر مجبور کیا وہ نمک کا کہینہ بن گئی اور صبح ہوتے تمام بستی غارت ہوگئی۔
Ayahs 15:78–79

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور ایکہ کے لوگ بھی بدکار تھے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

پھر تو ان سے بھی ہم نے انتقام لیا اور وہ دونوں شہر کھلے شارع عام پر واقع ہیں

ترکیب : الایکہ مجمع الشجر و مجمع الشی والجمع الایک و فی الاصل اسم للشجر الملتف والمراد بھا الموضعۃ التی ہی محل اشجار مزوجۃ وقیل اسم قریۃ قال ابوعبیدہ ایکہ و لی کہ مدینتھم کمکۃ و بکۃ واھلھا قوم شعیب کما ان اہل مدین امۃ (علیہ السلام) والحجر دیارثمود قال ابن جریرھی ارض بین الحجازوالشام۔ کما انزلنا کاف موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی۔ ای لقد آیتناک سبعًا من المثانی اتیانا کما انزلنا لان آیتناک بمعنی انزلنا۔ وقیل ھو وصف المفعول الندیر اقیم مقامہ ای مثل العذاب الذی انزلنا علیھم عضین اجزاء جمع عضۃٍ واصلھا عضوۃ، بما تو مر ماصدر یہ ہے تو خدف نہیں اور جو بمعنی الذی ہے تو عائد محذوف۔ والمثانی جمع مثناۃ من التثنیہ وھی التکریر و قیل جمع مثنیۃ وھی القراۃ بعد قراۃ قال الزجاج مثنی بما یقرء بعدھامعھا، الازواج الاصناف۔ تفسیر : و ان کان یہ تیسرا قصہ اصحاب الایکہ کا ہے۔ ایکہ درختوں کے بن کو کہتے ہیں یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے جو حوالی مدین میں رہتی تھی۔ بعض کہتے ہیں اہل مدین ہی کو اصحاف الایکہ یعنی بن والے کہتے ہیں۔ اس سبب سے کہ ان کی بستی کے پاس درختوں کے بہت جھنڈ تھے۔ مدین قلزم کے مشرقی کنارہ کی طرف عرب کے گوشہ مغرب و شمال میں آباد تھا وہاں کے لوگ بڑے بدکار تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا کہنا نہیں مانتے تھے۔ تب خدا نے اس قوم بد سے انتقام لیا۔ پہلے زلزلہ کی ہبیت ناک آواز محسوس ہوئی اور زمین سے مادہ آتشیں اور گرم بخارات نکل کر دھواں سا ابر کی طرح نمودار ہوا اسی لیے ہلاکت کے دن کو یوم الظلہ کہتے تھے۔ اس حادثہ میں وہ قوم نیست و نابود ہوگئی۔ یہ قصہ بھی عرب میں مشہور و معروف تھا۔ و انہما یعنی سدوم وغیرہ لوط کی بستیاں جو شام کے جنوبی حصہ میں جھیل مردار پر واقع تھیں اور شعیب کی بستی مدین بعض کہتے ہیں۔ انہما سے مراد مدین اور ایکہ ہے جو اسی کے پاس ایک اور بستی تھی اس کے لوگ بھی قوم حضرت شعیب (علیہ السلام) میں تھے اور وہ بھی بدکاری میں مدین والوں کے مانند تھے اسی حادثہ میں ساتھ ہی وہ بھی ہلاک ہوئے۔ یعنی یہ دونوں مقام عبرت خیز لبامام مبین کشادہ رستہ پر واقع ہیں آتے جاتے میں قریش مکہ کو وہاں کے آثار باقیہ نظر آتے ہیں، عبرت عبرت ! !
Ayahs 15:80–84

وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 15:80 in the Quran reader

اور البتہ حجر کے باشندوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تھا

وَ اٰتَیْنٰهُمْ اٰیٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 15:81 in the Quran reader

باوجود یکہ ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بھی دی تھیں پھر وہ ان سے روگردانی کرتے رہے

وَ كَانُوْا یَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:82 in the Quran reader

اور وہ پہاڑوں میں خاطر جمع سے گھر تراشا کرتے تھے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 15:83 in the Quran reader

پھر ان کو صبح ہوتے ہوتے کڑک نے آلیا۔

فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَؕ Open ayah 15:84 in the Quran reader

پھر تو جو کچھ وہ (اپنی حفاظت کے لیے) کرتے تھے کچھ کام نہ آیا

ولقد کذب اصحاب الحجر یہ چوتھا قصہ اصحاب حجر کا ہے یعنی حجر کے رہنے والوں کا حجر اس وادی کو کہتے ہیں۔ جو عرب و شام کے درمیان واقع ہے یعنی قوم ثمود ‘ صالح پیغمبر (علیہ السلام) کی امت۔ یہ قوم بھی بدکار تھی۔ اطمینان سے پہاڑوں میں گھر تراشے تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے ناقہ کا معجزہ دکھایا اور نیز بہت سی آیات قدرت موجود ہیں کسی میں غور نہ کیا ہلاک ہوئے۔ اس کی تفصیل سورة اعراف میں دیکھو اگرچہ انہوں نے جو ایک نبی صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا مگر صالح (علیہ السلام) وہی باتیں کہتے تھے جو اور انبیاء فرما گئے تھے اس لیے انہوں نے سب انبیاء کو جھٹلایا۔
Ayahs 15:85–86

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ Open ayah 15:85 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو بغیر حکمت کے نہیں بنایا اور قیامت ضرور آنے والی ہے۔ پس آپ ان سے خوش خلقی سے درگزر کیجیے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 15:86 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب ہی پیدا کرنے والا بڑا جاننے والا ہے

وماخلقنا السموات الی ھو الخلاق العلیم صرف ان قصوں کو سن کر مکہ کے مشرک یہ خیال کرتے ہوں گے (اور منکر بھی ایسا ہی خیال کرتے ہیں) کہ پہلی قوموں کے لیے خدا تعالیٰ نشانیاں دکھلاتا تھا اب کیوں نہیں دکھلاتا اور پھر ان کی سرکشی پر ہلاک کردیتا تھا اب ایسا کیوں نہیں کرتا اور اس پر بہت اصرار کر کے پیغمبر (علیہ السلام) سے تمسخر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بس جو کچھ انسان کے لیے سعادت و شقاوت ہے وہ اسی دنیا میں ہے۔ قیامت کیسی اور دار آخرت کیسا ؟ اور اچھا یوں ہے تو پھر دنیا میں منکروں کو کیوں پیدا کرتا ہے اور کیوں ان کو عیش و آرام دیتا ہے ؟ ان چاروں باتوں کا جواب اس آیت کے چاروں جملوں میں کس لطف اور شان کبریائی کے ساتھ دیتا ہے، وماخلقنا السموات الارض و مابینہما الابالحق یہ پہلی بات کا جواب ہے کہ آسمانوں اور زمین اور ان کی ہر چیز کو اور ان کی تغیرات کو دیکھو کہ ان میں ہماری کس قدر نشانیاں ہیں ہر چیز کو ہم نے کس اسلوب کے ساتھ بنایا ہے ؟ اب غور کرنے والوں کے نزدیک ان سے بڑھ کر اور کون سے معجزات آسکتے ہیں، وان الساعۃ لاتیۃ اس میں دوسری بات کا جواب ہے کہ اب قیامت بہت قریب آ لگی ہے، وہیں جزا سزا جلد ہوجاوے گی اور پہلوں کو تمہارے لیے نظیر بنا دیا ہے، اب قرب قیامت میں تم کس کے لیے نظیر ہو گے معاملہ قریب آ لگا۔ نہ اب وہ عمریں ہیں نہ وہ قویٰ ہیں اس لیے تم سے ویسا نہیں کیا جاتا، فافصح الصفح الجمیل میں ایسے نادانوں حمقا سے اعراض کرنے کا حکم دیا، اس میں تیسری بات کا جواب ہے وھوا الخلاق العلیم میں چوتھی بات کا جواب ہے کہ اس میں جو کچھ حکمتیں ہیں ان کو وہی علیم جانتا ہے
Ayahs 15:87–89

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ Open ayah 15:87 in the Quran reader

اور ہم نے ہی آپ کو سات آیتیں دوہری (الحمد) اور قرآن عظمت والا دیا۔

لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 15:88 in the Quran reader

آپ ان اقسام اقسام کی چیزوں کی طرف جو ہم نے ان کو برتنے کے لیے دے رکھی ہیں اپنی نظر نہ دوڑائیے اور نہ ان پر رنج کیجئے اور (آپ) ایمانداروں کے لیے جھک جائیے

وَ قُلْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُۚ Open ayah 15:89 in the Quran reader

(اور کافروں سے) کہہ دو کہ میں (تو) کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں

ولقدآتیناک الی قولہ النذیر المبین ان جملوں میں ان کی تیسری بات کا اور بھی رد کرتا ہے کہ وہ اسباب دنیائے فانی پر فخر کر کے اے پیغمبر ! آپ سے کیا تمسخر کرتے ہیں ہم نے آپ کو دولت سرمدیہ عطا کی ہے وہ کیا ؟ سبعًا من المثانی (المثانی تثنیۃ یا ثناء سے مشتق ہے) اس میں مختلف اقوال ہیں مگر جمہور کے نزدیک سورة فاتحہ کی سات آیات مراد ہیں کہ جو نماز میں دوہرائی جاتی ہیں اور جن میں خدا کی ثنائِ وصف بھی ہے اور قرآن عظیم بھی عطا کیا جس کے مقابلہ میں اور کوئی دولت و نعمت نہیں اس لیے لاتمدن ان کے اسباب دنیا اور اس کے تجملات کی طرف اے پیغمبر ! (خطاب گو حضرت ﷺ کی طرف ہے مگر مراد اہل ایمان ہیں) نظر بھی نہ ڈال اور وہ اس دنیائے فانی پر غروروتکبر کرتے ہیں مگر آپ اس نعمت عظمیٰ پر اے پیغمبر ! ایمانداروں کے لیے جھک جائو، نرمی اور فروتنی کرو (چنانچہ آپ ایسا ہی کرتے تھے) اور کہہ دیجئے کہ میں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں تم پر بلا آنے والی ہے۔
Ayahs 15:90–99

كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِیْنَۙ Open ayah 15:90 in the Quran reader

(ہم نے اسی طرح نازل کیا) جس طرح کہ تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا تھا

الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ Open ayah 15:91 in the Quran reader

(ف) ان پر کہ جنہوں نے قرآن کو جدا جدا کردیا

فَوَرَبِّكَ لَنَسْئَلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:92 in the Quran reader

آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے پرسش کریں گے

عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 15:93 in the Quran reader

کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 15:94 in the Quran reader

پھر جس کا آپ کو حکم ہے وہ کھلم کھلا کہہ دو اور مشرکوں سے کنارہ کش ہوجائو

اِنَّا كَفَیْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَۙ Open ayah 15:95 in the Quran reader

ہم کافی ہیں آپ کی طرف سے ٹھٹھا کرنے والوں کے لیے

الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:96 in the Quran reader

(اور) ان کے لیے جو اللہ کے ساتھ دوسرا خدا مقرر کرتے ہیں پس وہ بھی معلوم کرلیں گے

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 15:97 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ آپ کا دل ان کی باتوں سے گھٹتا ہے۔

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَۙ Open ayah 15:98 in the Quran reader

پس آپ تو اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ کئے جائیے اور سجدہ کیا کرو

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ۠ Open ayah 15:99 in the Quran reader

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔

کماانزلنا علی المقتسمین 1 ؎ الذین جعلوا القرآن عضین، اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں صاف یہ ہے کہ ہم باقی مخالفین پر اسی طرح سے بلانازل کریں گے کہ جیسے ہم نے ان لوگوں پر کی تھی کہ جنہوں نے قرآن کو بانٹ کر حصے کئے تھے۔ اس میں بھی مفسرین کئی طریق سے بیان کرتے ہیں مگر عمدہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے چند شریر اور سرکش تھے کہ جنہوں نے ایام حج میں مکہ کے رستے بانٹ رکھے تھے ہر ایک کو ایک رستے پر بٹھلا دیا تھا کہ جو لوگ اس راہ سے آئیں ان کو کہہ دینا کہ ہم میں محمد ﷺ جادوگر ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، اس کی بات نہ ماننا اور انہیں نے تمسخر کی راہ سے قرآن کی سورتوں کے ناموں پر خیال کر کے اس کے حصے کئے تھے۔ کوئی کہتا تھا کہ بقرہ میں لونگا ‘ عنکبوت تجھے دیتا ہوں علی ہذا القیاس۔ یہ لوگ بری موت مرے اس پر اور لوگوں کو متنبہ کرتا ہے اور پھر حضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ان تمسخر کرنے والوں کو تمہاری طرف سے ہم کافی ہیں سو وہ کافی ہوا۔ چونکہ مشرکین کی باتوں سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوتا تھا اور یہ ایک فطری بات ہے اس لیے آپ کو تسلی دی کہ آپ کی طرف سے ہم ان کو کافی ہیں ان کا کوئی کید آپ پر غالب نہ آئے گا نہ وہ اس چشمہ ہدایت کو بند کرسکیں گے۔ سو ایسا ہی ہوا بھی اس کے بعد جملہ ہموم و غموم دفع کرنے والے عمل کی طرف رغبت دلاتا ہے اور تبلیغ رسالت کے بعد اصلی کام بھی وہی ہے جس سے روح کو قوت ہوتی ہے وہ کیا فسبح بحمد ربک الخ کو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کرو جب بندہ اس خالق ومالک کی جملہ اوصاف ذمیمہ سے تبری کرتا ہے اور اسی کو تسبیح بھی کہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی بےحد نعمتوں کی شکرگزاری اور اس کے اوصاف حمیدہ پر خوبیاں زبان سے ایسے دلالت حال سے بیان کرتا ہے تو ایک انجذاب بارگاہ قدس تک پیدا ہوتا ہے پھر بارگاہ قدس میں بندہ کو بجز عبادتِ الٰہی کے خواہ ذکر ہو یا مراقبہ ہو چارہ ہی نہیں ہوتا اس لیے اس کے بعد یہ بھی فرما دیا واعبد ربک کہ اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہا کرو مگر جب تک یہ رابطہ دائمی قائم نہیں ہوتا، بندہ کی تکمیل نہیں ہوتی اس لیے اس کو مقید کردیا عارف و سالک کو حضور میں پہونچاتا ہے۔ بدر و یقین پردہ ہائے خیال نماند سرا پردہ الاجلال یہ تسبیح و عبادت کاروبار رسالت کی تکان کے لیے ایک قوت بخش دوا ہے۔ ہرچند پیروخستہ دل و ناتواں شدم ہر گاہ کہ یاد روئے تو کروم جواں شدم 1 ؎ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں کس لیے کہ کیا نازل مقتسیمین کون ہیں اور قرآن کو پارہ پارہ کردینے سے کیا مراد ہے ؟ بعض کہتے ہیں آیت کے یہ معنی ہیں کہ کہہ دو کہ میں تمہارے لیے ایسا ہی اس عذاب سے ڈرانے والا ہوں جیسا کہ مقتسمین پر عذاب نازل ہوا تھا۔ پھر وہ مقتسمین کون تھے ؟ بعض کہتے ہیں کہ وہ بعض جنہوں نے باہم مصالحہ کیا تھا یعنی صالح (علیہ السلام) کو رات میں ہلاک کرنے کی قسم کھائی تھی اور الذین جعلوا القرآن مقتسمین کی صفت نہیں بلکہ محذوف کی ای انا النذیر المبین ‘ لقوم الذین جعلوا القرآن اس تقدیر پر الذین سے کون لوگ مراد ہیں اس میں متعدد اقوال ہیں بعض کہتے ہیں کفار مکہ جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے کردیا وہ کہتے تھے قرآن میں کچھ تو پہلوں کے افسانے ہیں اور کچھ اس میں جادو ہے اور کچھ شعر ہیں بعض کہتے ہیں کہ جو کچھ قرآن ان کی مرضی کے موافق تھا اس کو مانتے تھے اور جو رد شرک میں تھا اس کو نہیں مانتے تھے۔ یہ تھا ان کا قرآن کو تقسیم کرنا اب انزلنا سے مراد عذاب نازل کرنا نہ لیا جائے بلکہ کلام الٰہی تب یہ معنی ہوں گے کہ اے کفارِ ! مکہ تم قرآن کے منزل ہونے سے کیوں تعجب کرتے ہو اسی طرح نازل کیا ہے جیسا کہ ان سے آگے ان قوموں پر کلام نازل کیا تھا جنہوں نے آج قرآن کو ٹکڑے کردیا یہ کون یہودونصاری۔ قرآن میں سے جو کچھ ان کے مطلب کے موافق ہے اس حصے کو مانتے ہیں اور دوسرے کو نہیں۔