14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 14:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

(یہ) ایک کتاب ہے کہ جس کو ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل کیا ہے کہ آپ لوگوں کو ان کے رب کی اجازت سے اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لاویں اس خدائے زبردست ‘ ستودہ صفات کے رستہ کی طرف

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور کافروں پر افسوس کہ ان کو سخت عذاب ہونا ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

ان پر جو دنیا کی زندگی کو آخرت سے اچھا سمجھ رہے ہیں اور اللہ کے رستہ سے روکتے اور اس میں رخنہ ڈالتے ہیں وہی بڑی دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے جب کوئی رسول بھیجا تو ان کی قوم کی زبان میں بولنے والا (بھیجا) تاکہ ان کو وہ بآسانی بتا سکے پھر (بھی) خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ زبردست ‘ (حکمت) والا ہے۔

ترکیب : کتاب موصوف انزلناہ الخ صفت مجموعہ خبر ہے مبتدا مخدوف ھذا یا الرا کی باذن ربہم موضع نصب میں ہے ای ماذو قالھم الی صراط بدل ہے الی النور سے باعادۃ حرف الجر اللہ مجرور ہے الحمید سے بدل ہو کر تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے اخیر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مناجات کا بھی اس خوبی کے ساتھ ذکر ہے کہ جس سے قدیم زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اپنے رب کے ساتھ عجز و نیاز اور سچا توکل ان لوگوں کے دلوں پر کہ جن پر بت پرستی یا الحاد کا دھبہ نہیں لگا ‘ عجب اثر پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اس سورة کا نام سورة ابراہیم ہے۔ اس سورة میں بھی بیشتر اصول مذہب کا ثبوت ہے ایک نئے ڈھنگ سے آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کے زمانہ میں دنیا بھر میں کوئی بھی فرقہ خدا پرست نہ تھا۔ اہل کتاب میں سے یہود کی ابتری تو ظاہر ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) ان کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے ان کو بھی نہ مانا بلکہ آمادہ فساد و جنگ وجدال ہوگئے اور اس کے بعد آنحضرت ﷺ کے عہد تک اور بھی بگڑ گئے تھے۔ رہے عیسائی سو تین سو برس کے بعد تو ان کے مذہب میں یہاں تک تثلیث اور الوہیت مسیح اور صلیب پرستی نے رواج پایا تھا کہ بت پرست قومیں بھی ان سے پیچھے رہ گئی تھیں، عرب اور روم اور ہندو ایران و چین کی بت پرستی اور آتش و عناصر پرستی کا تو کچھ ٹھکانا ہی نہ تھا تمام عالم تاریکی کفر و الحادو بت پرستی میں چھپا ہوا تھا ایسے زمانہ میں اللہ کا اپنے بندوں پر بڑا احسان ہوا کہ اس نے مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک آفتاب ہدایت جلوہ گر کیا تاکہ لوگوں کو ان اندھیریوں میں سے نکال کر روشنی میں لاوے وہ روشنی کیا ہے اللہ عزیز حمید کا سیدھا رستہ کون عزیز وحمید ؟ وہ اللہ کہ جس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور جس کی ان پر بادشاہی ہے۔ اب اس آفتاب جہانتاب کے طلوع ہونے پر بھی جو تاریکی میں رہنا پسند کرتے ہیں تو دراصل یہ ان کی تقدیر کی بدبختی ہے یعنی عذاب شدید اور یہ بات ان کو اس وجہ سے ہے کہ وہ شہوات و لذات دنیائے دنی پر غش ہیں اس نادان بچہ کی طرح سے (جو ماں کے پیٹ ہی کو ایک عالم پر فضا اور وہاں کے خون حیض کو عمدہ غذا سمجھتا ہے) اس عالم کی زندگی کو زندگی اور یہیں کے مال و کامرانی کو عیش جاودانی سمجھتے ہیں اس لئے اس عالم نورانی کے رستہ سے باز رہتے ہیں اور اپنے رسوم و عادات سے باہر ہونا برا سمجھتے ہیں بلکہ یہ ظلمت پسند اس آفتاب ہدایت کو شکوک و شبہات کے گردوغبار سے چھپانا چاہتے ہیں یعنی دین حق میں کجی نکال کر لوگوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں پھر ایسے لوگوں کے نہایت در نہایت گمراہ اور بدبخت ہونے میں کیا کلام ہے۔ پھر نہ صرف یہی احسان کیا کہ کتاب اور رسول ان کے پاس بھیجا بلکہ رسول کو ان کا ہمزبان کیا اگر کتاب اور رسول کی اور زبان ہوتی تو عرب کو دقت ہوتی جو اور تمام دنیا کے ہادی بنائے گئے ہیں الٹے اس نعمت کو مکہ کے کافر بےقدر جان کر قرآن کی قدر و منزلت نہ کرتے پھر اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اس بات کی مصلحت و حکمت وہی جانتا ہے۔
Ayahs 14:5–12

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور موسیٰ کو ہم نے اپنی نشانیاں دے کر اس لئے بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں اور ان کو اللہ کے دنوں (یعنی واقعاتِ ہائلہ) سے سمجھائے۔ بیشک اس میں ہر ایک صبر شکر کرنے والے کے لئے بڑی نشانیاں ہیں

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) جبکہ اسی موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کا وہ احسان یاد کرو جو تم پر ہوا جبکہ اس نے تم کو فرعون کے ہاتھ سے بچایا جو تم کو بری طرح سے دکھ دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب تمہارے رب نے یہ سنا دیا تھا کہ اگر تم میری شکر گزاری کروگے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہہ دیا تھا کہ تم اور جس قدر لوگ زمین پر ہیں سب کے سب اللہ کی ناشکری کرو گے (تو اس کو کچھ بھی پروا نہیں) کیونکہ اللہ بےپروا ‘ قابل ستائش ہے۔

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے نوح اور عاد اور ثمود کی قوم اور وہ جو ان کے بعد ہوئے کہ جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان کے پاس ہمارے رسول معجزات لے کر آئے پھر انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ کر کہہ دیا کہ جو کچھ تمہاری معرفت بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں اور جس دین کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم کو تو اس میں بڑا شک پڑا ہوا ہے۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا کہ کیا تم کو اللہ میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے تمہیں بلا رہا ہے کہ تمہارے گناہ معاف کرے اور (تاکہ) تم کو ایک وقت مقرر تک مہلت دے۔ انہوں نے کہا تم بھی تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہم کو ان چیزوں سے باز رکھو کہ جن کی ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے سو ہمارے پاس کوئی کھلا ہوا معجزہ لائو۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا ضرور ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہی تو ہیں لیکن اپنے بندوں میں سے اللہ جس پر چاہتا ہے (نبوۃ دے کر) کرم کرتا ہے اور ہماری کیا مجال کہ جو ہم خدا کی اجازت بغیر تم کو کوئی معجزہ لا دکھاویں۔ اور ایمان والوں کا اللہ ہی پر توکل ہونا چاہیے

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کس لئے اللہ پر توکل نہ کریں حالانکہ وہ ہم کو ہمارے رستے بتا چکا ہے اور البتہ ہم تو تمہاری ایذائوں پر جو تم نے دی ہیں صبر ہی کریں گے اور اللہ ہی پر متوکلوں کو توکل کرنا چاہیے۔

اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو اندھیریوں سے نکال کر نور میں لانا بطور نظیر کے بیان فرماتا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کا یہ کام کوئی نئی بات نہیں پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے اس میں ضمناً یہود و نصاریٰ کے دلوں پر بھی ایک چٹکی سی لی گئی ہے کہ یہ نبی وہی نبی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی مانند ہے۔ پھر آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ نقل فرماتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو سنایا اس کے بعد اور مشہور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کے معاملات بیان فرماتا ہے الم یاتکم الخ سے قوم نوح اور عاد وثمود تین مشہور قوموں کے واقعات بیان فرما کر کہتا ہے۔ والذین من بعدھم لا یعلہم الا اللہ کہ ان کے بعد اور بہت سے رسول گزرے ہیں کہ جن کو اللہ ہی جانتا ہے کیونکہ قرآن اور کتب سابقہ میں صرف چند رسولوں کے حالات ہیں پھر جو ان رسولوں اور ان کی قوم میں باہم معاملہ ہوا ہے اس کا ذکر کرتا ہے کہ لوگوں نے رسولوں کے معجزات دیکھ کر بھی تکذیب کردی ردوا ایدیہم ان کے مونہوں پر رکھ دیے یا خود غصہ کے مارے اپنے ہاتھ چبانے لگے دوم یہ کہ معنی مجازی مراد ہوں کہ کچھ جواب تو معقول نہ دے سکے محض انکار کرنے پر آمادہ ہوگئے یہ محاورہ عرب ہے۔ پھر باقی گفتگو نقل کرتا ہے۔
Ayahs 14:13–17

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے ورنہ تم ہمارے دین میں پھر آ ملو پھر ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر ڈالیں گے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تم کو زمین پر بسا دیں گے۔ یہ وعدہ اس کے لئے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور اس نے میرے عذاب سے خوف کھایا

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور پیغمبروں نے فیصلہ چاہا اور ہر ایک جبار سرکش غارت ہوا

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اور اس کے آگے جہنم ہے اور (جہاں اس کو) پیپ کا پانی پلایا جائے گا

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

جس کو گھونٹ گھونٹ کر پئے گا اور اس کو گلے سے نہ اتار سکے گا اور ہر جگہ سے اس کو موت آتی نہ ہوگی (موت کے اسباب موجود ہوں گے) حالانکہ وہ مرے گا بھی نہیں اس کے آگے اور سخت (سخت) عذاب ہوں گے

ترکیب : لنخرجنکم اور لتعودن مفعول ہیں قال کے اور لنہلکن اور لنسکنن یہ اوحیٰ کے معفول ہیں یتجرعہ ماء کی صفت یا ضمیر یسقی سے حال مثل الذین مبتدا کرماد خبر ہے معنی۔ تفسیر : منجملہ کفار کی اور باتوں کے ایک یہ تھی کہ انہوں نے انجام کار انبیاء (علیہم السلام) سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ یا تو تم ہمارے مذہب میں آجاؤ (اگرچہ ابتداء ہی سے انبیاء (علیہم السلام) ان کے مذہب میں نہ تھے مگر پھر آجانا جو کہا تو اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے انہیں کے شہروں اور انہیں کے قبیلوں میں نشوونما پایا تھا ابتدا میں کفار سے مخالفت بھی ظاہر نہ کی تھی اس سے وہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کو اپنے مذہب میں جانتے تھے اس لئے پھر مذہب میں آنے کو کہا) ورنہ ہم تم کو اپنے ملک سے نکال دیں گے۔ یہ بڑے بول وہ اپنی حکومت و شوکت کے گھمنڈ پر بولتے تھے مگر اللہ کے آگے کسی کا زور کیا چل سکتا ہے۔ دنیا کے بادشاہوں کے ایلچیوں کی جو کوئی بےحرمتی کرتا ہے اپنے کئے کو پاتا ہے چہ جائیکہ اللہ کے پیغامبروں کی بےحرمتی کرے اور اپنے ملک سے نکال دینے کی دھمکی دے۔ اس لئے فاوحٰی الیہم نبیوں کو وحی ہوئی کہ خود انہیں کو ہم ہلاک کردیں گے اور جس ملک اور زمین سے تمہیں نکالنے کو کہتے ہیں وہ آخر کار تمہیں کو دی جائے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ کفار دنیا میں ہلاک ہوئے اور آخرت میں عذاب شدید میں گرفتار ہوئے کہ جہاں لہو اور پیپ پیویں گے اور گلے سے نہ اتار سکیں گے اور ہر طرف سے سامان موت نظر آویں گے مگر مرنے نہ پاویں گے۔ اور اس پر اور بڑھ کر عذاب ان کو یہ ہوگا کہ جن اعمال کو وہ دنیا میں اپنے لئے (تعلیم انبیاء کے برخلاف) آخرت میں فائدہ مند سمجھ کر کرتے تھے۔ اس میں مشقت اٹھاتے تھے وہاں ان کا کچھ بھی اثر نہ پاویں گے جیسا کہ سخت آندھی کے دن ہوا راکھ کو اڑا لے جاتی ہے اسی طرح وہ اڑ جاویں گے ‘ نہ وہاں بتوں کی پرستش اور گنگا کا اشنان اور گئو دان کام آئے گا جس کے بھروسہ پر وہ سرگ کے مستحق بنے بیٹھے تھے ‘ نہ وہ غیر اللہ کی نذر و نیاز کام آئے گی ‘ نہ تثلیث و الوہیت مسیح کا اعتقادفائدہ دے گا نہ حوض میں غوطہ لگانا عشائِ ربانی کھانا نفع دے گا۔ مال ‘ زن و فرزند کو جو آنکھ اٹھا کر دیکھے گا انہیں بھی شریک غم نہ پاوے گا سوا اس کمائی کے برباد ہوجانے پر سخت حسرت کرے گا پچھتائے گا بلکہ الٹے یہ اعمال گلے کا ہار ہوجاویں گے ہمہ وقت اس آتش حسرت میں جلیں اور ہاتھ ملیں گے ہائے ! فرماتا ہے جس کو پرلے درجہ کی گمراہی اور بھول کہتے ہیں یہ ہے نیکی برباد گناہ لازم کا مضمون پورا ہوا۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

ان کی مثل کہ جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ایسی ہے کہ ان کے اعمال گویا راکھ ہیں کہ جس کو آندھی کے دن ہوا اڑا کرلے گئی ہو جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا تھا اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہ رہا ہو۔ یہ ہے پرلے درجہ کی ناکامی۔

1 ؎ العصف شدۃ ایریح وصف بہ زمانہھا مبالغۃ کیوم حار ویوم بارو وخلاصۃ المثل ھو ان الکفر کالریح العاصفۃ واعمالھم کالرما وفکما ان للریح الماصف لا تبقی الرما وفکذا الاکفر لا یبقی الاعمال۔ 12
Ayahs 14:19–23

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا۔ اگر وہ چاہے تو تم کو لے جاوے اور نئی خلقت لے آئے (تو کرسکتا ہے)

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ اللہ پر کچھ بھی مشکل نہیں

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) اللہ کے روبرو سب نکل کھڑے ہوں گے تب ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے پھر (آج) کیا تم خدا کا عذاب ہم سے کچھ بھی دور کرسکتے ہو ؟ وہ کہیں گے اگر اللہ ہم کو خلاصی کی راہ بتاتا تو ہم تمہیں بھی بتا دیتے۔ خواہ چیخیں چلائیں ‘ خواہ صبر کریں ہمارے لئے یکساں ہیں ہم کو عذاب سے کسی طرح چھٹکارا نہیں۔

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جبکہ فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پھر میں نے وعدہ خلافی کی۔ اور تم پر میرا اس کے سوا اور کچھ بھی زور نہ تھا کہ تم کو بلایا پھر تم نے میرا کہنا مان لیا۔ پھر مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے ہی آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہارا فریاد رس ہوں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو۔ میں تو مانتا نہیں کہ تم مجھے پہلے اس کا شریک بنایا کرتے تھے۔ بیشک ظالموں کے لئے عذاب الیم ہے

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ایسے باغوں میں داخل کئے جاویں گے کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اپنے رب کے حکم سے ان میں ہمیشہ رہا کریں گے۔ ان کے باہم دعاء خیر سلام ہوگی۔

ترکیب : ان اللّٰہ جملہ قائم مقام دونوں مفعولوں کے الم تر سے۔ من عذاب اللّٰہ موضع نصب میں ہے حال ہو کر کیونکہ اصل میں شیء کی صفت ہے تقدیرہ من شیء من عذاب اللہ من زائدۃ ای شیئا کائنًا من عذاب اللہ الا ان استثناء منقطع ہے لان دعائہ لم یکن سلطاناً ای حجۃ مصرخی جمہور بفتح الیاء پڑھتے ہیں اور یہ جمع مصرخ کی اول ی جمع کا دوم ی متکلم میں ادغام ہوگیا وادخل برزوا پر معطوف۔ تفسیر : کفار کے غرور آمیز کلمات کے جواب میں پہلے تو خود ان کا برباد ہونا اور جہنم میں جانا اور ان کے بعد انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے گروہ کا ان کی زمین اور ملک پر قابض اور متصرف ہونا بیان فرمایا تھا۔ اب ان مخالفین کے دل پر اس بات کو دلیل سے قائم کرتا ہے الم تر کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو کس انتظام اور خوبی تمام کے ساتھ پیدا کردیا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ روئے زمین سے تم کو مٹا کر اور نئی قوم کو تمہاری جگہ دنیا پر بسائے۔ کہاں گیا فرعون اور کہاں ہیں ساسانی اور کس جگہ ہیں کیا نی اور روم کے قیاصرہ ‘ کہاں چھپ گئے۔ یونان کی اولوالعزم قومیں کہاں جا سوئیں ‘ ہندوستان کے قدیم راجے کہاں گئے پھر مسلمانوں میں خلجی اور تغلق اور لودھی کہاں چلے گئے تیموریوں کا اوج موج کہاں گیا۔ رہے نام اللہ کا ! انبیاء (علیہم السلام) کے مقابلہ میں اپنی جاہ و حشم پر غرور کرنا فضول ہے اس کے بعد روز قیامت کا واقعہ جانگداز ذکر کرتا ہے تاکہ انبیاء (علیہم السلام) کے طریقہ کو چھوڑ کر شیطانی راہ پر چلنے کا مزہ معلوم ہو و برزوا الخ کہ قیامت کے دن سب لوگ اللہ کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اور اس مصیبت میں دنیا کے غریب لوگ اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے وہاں فرمانبردار تھے آج تم ہمارے کچھ کام آسکتے ہو ‘ عذاب دفع کرسکتے ہو۔ وہ کو را جواب دیں گے پھر فیصلہ کے بعد جہنم میں جب شیطان اور اس کے پیرو ڈال دیے جاویں گے تو شیطان کہے گا کہ میرا وعدہ تم سے غلط تھا مگر اللہ کا سچا وعدہ تھا اب تم مجھے کچھ ملامت نہ کرو۔ کچھ میں نے تم پر زبردستی تو نہیں کی تھی بلکہ تمہارے دل میں وسوسہ ڈال دیا تھا جس پر تم جم گئے۔ اپنے ہی آپ کو ملامت کرو خدا کا کہنا چھوڑ کر میرا کیوں مانا تم تو مجھے خدا کا شریک بتاتے تھے۔ میں نے تو پہلے ہی سے اس کا انکار کردیا ہے۔ یا یہ کہ تمہارے شریک بنانے سے پیشتر میں کافر ہوچکا تھا۔ جس طرح میں ازخود گرفتار ہوا اسی طرح تم بھی ہوئے اس کے بعد ایمانداروں ‘ نیکی کرنے والوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے جہاں نہریں بہتی ہوں گی اور باہم رنج و کسر نہ ہوگا بلکہ بوقت ملاقات ایک دوسرے کو سلام کہے گا۔
Ayahs 14:24–25

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ پاک کی ایسی مثال بیان کی ہے کہ گویا وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ مستحکم اور اس کی شاخ آسمان میں ہے

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنے پھل لاتا رہتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں (سوچیں)

ترکیب : کلمۃ موصوف طیبۃ صفت بدل ہے مثلاً سے اور کشجرۃ الخ کلمۃ کی لغت اور بعض نے کلمۃ کو مرفوع پڑھا ہے کہ کشجرہ کو خبر مانا ہے تؤتی لغت ہے فی الحیوٰۃ الدنیا متعلق ہے یثبت سے اور ممکن ہے کہ کشجرۃ خبر ہو مبتدا مخدوف کی ای ہے اور پھر طیبۃ اور اصلہا و توتی یہ سب شجرہ کی لغت ہوں اور جملہ بدل ہو مثلاً سے تفسیر : اشقیاء اور سعداء کا حال بیان فرما کر ان کے حال کی زیادہ تشریح کرنے کو ایک مثال بیان فرماتا ہے اور وہ یہ ہے کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ شجرہ طیبہ یعنی پاک یا اچھے اور عمدہ پیڑ کے چار وصف بیان فرما کر کلمہ طیبہ کو اس کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے اول 2 ؎ صفت طیبۃ ہونا یعنی اچھا ہونا خواہ باعتبار شکل و صورت کے ہو خواہ باعتبار اس کے پھل پھولوں کی عمدگی کے ہو کہ خوشبودار اور شیریں اور لذیذ ہوں خواہ باعتبار اس کے منافع کے ہو۔ دوم اصلہا ثابت کہ وہ اس خوبی کے ساتھ ایسا نہیں کہ یونہی ہوا یا اور کسی تھوڑے سے صدمہ سے اکھڑ جاوے تاکہ رنج کا باعث ہو بلکہ اس کی جر قائم اور مستحکم ہو جو زوال پذیر نہیں۔ سوم فرعہا فی السماء کہ اس کی شاخیں مرتفع اور بلند ہوں جس سے پیڑ کی مضبوطی اور جڑ کا قیام اور اس کے پھلوں کا قاذورات اور زمین کے عفونات سے پاک ہونا معلوم ہوتا ہے۔ چہارم اس کے پھل ہمیشہ آتے ہیں اور ہر وقت موجود رہتے ہیں اور درختوں کی طرح نہیں۔ اب اس درخت مرغوب الطبع کے ساتھ کلمہ طیبہ کو تشبیہ دیتا ہے خواہ ایسا درخت دنیا میں کوئی موجود ہو یا نہ ہو خواہ اس کو کھجور کے درخت سے تعبیر کرو یا انگور سے یا کسی اور سے کلمہ طیبہ کیا ہے جس میں یہ چار وصف پائے جاتے ہیں وہ بقول اکثر مفسرین کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے سو یہ کلمہ طیبہ ہے اس کی عمدگی یہ ہے کہ انسان کے دل میں اس سے معرفتِ الٰہی کا ایک عمدہ پیڑ لگتا ہے کہ جس کی خوبی دنیا کی تمام خوبیوں سے بڑھ کر ہے کس لئے کہ لذت ادراک ملائم کا نام ہے جماع اکل و شرب میں حواس مدرک اور دنیا کی تاریک چیزیں مدرک اس پر یہ لذت۔ پھر جہاں روح مدرک اور حق سبحانہ مدرک ہو تو پھر اس لذت کے 2 ؎ خلاصہ یہ کہ ایمان اور خدا پرستی جس کی کج کی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے وہ ایسے درخت کی مانند ہے کہ جس کی جڑ مضبوط اور بلند دررخت ہے اور جس کے نیک پھل ہر وقت دنیا و آخرت میں ملتے رہتے ہیں اور کلمہ خبیثہ یعنی کفر و بد اعتقادی و بدکاری کا قولاً و فعلاً عمل میں لانا ایسے کمزور پیڑ سے مشابہ ہے کہ جس کی کچھ بھی اصل نہیں۔ 12 منہ کیا کہنے ہیں ؟ اس کے علاوہ لذائذِ دنیا تکلیف پر مبنی ہیں بھوک نہ ہو تو کھانے میں مزہ نہ آوے ‘ پیاس نہ لگے تو سرد پانی سے حظ نہ پاوے۔ برخلاف روحانی لذات کے اور نیز جسمانی لذتیں ایک ساعت کے بعد جاتی رہتی ہیں۔ برخلاف روحانی لذت کے دوسری صفت بھی اس میں موجود ہے کیونکہ اس شجر کی جڑیں نفس قدسیہ میں گڑی ہوئی ہیں اور نفس جوہر مجرد ہے فساد سے پاک ہے تغیر و فنا سے بری ہے اور نیز اس کی جڑوں میں حق نورالنور اور مبدء ظہور کی تجلیات کا پانی دیا جاتا ہے۔ تیسری صفت بھی اس میں عمدہ طرح سے پائی جاتی ہے اس شجرہ معرفت کی دو شاخیں ہیں ایک ہوائِ الٓہی میں اور دوسری ہوائِ ، عالم جسمانی میں اٹھی ہوئی ہے نوع اول کے بہت سے اقسام ہیں مگر انکا عطردوبات میں (اول التعظیم لامر اللہ) اس میں یہ چیزیں ہیں خدا تعالیٰ کی معرفت کے دلائل میں تامل کرنا جو عالم اجسام اور عالم افلاک اور عالم سفلی میں موجود ہیں اور اسی کے شوق اور محبت میں رہنا ‘ اسی کو یاد کرنا ‘ اسی پر اعتماد کلی کرنا وغیرہ وغیرہ۔ دوسری شاخ کہ جس کو آنحضرت ﷺ نے (والشفقۃ علی خلق اللہ) سے تعبیر کیا ہے اس میں مخلوق پر رحم کرنا ‘ انتقام سے درگزکر نا ‘ برائی کے مقابلہ میں بھلائی کرنا بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ تیسری صفت اس کا مرتفع ہونا سو وہ بھی ظاہر ہے چوتھی صفت ہر وقت پھل لانا سو یہ بھی اس شجرہ میں ظاہر ہے جس کے دل میں یہ شجرہ ہوگا وہ اس سے ہر وقت منتفع رہے گا اچھے نتائج دیکھے گا اور اس میں الہامات نفسانیہ اور ملکات روحانیہ کی طرف سے بھی اشارہ ہے جو وقتاً فوقتاً روح پر پیدا ہوتے ہیں پھر اس کو نیک کاموں پر برانگیختہ کرتے ہیں اس کے مقابلہ میں کفر کو شجرہ خبیثہ کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور کلمہ خبیثہ کفر اور اس کی نافرمانی کرنا ہے۔ اس کے بعد کلمہ طیبہ کی مضبوطی بیان فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس پر دنیا و دین میں ایمانداروں کو ثابت قدم رکھے گا دنیا کا ثبات تو ظاہر ہے آخرت کی اول منزل قبر ہے وہاں بھی اس پر یہ ثابت رہے گا منکر نکیر کو جواب شافی دے گا جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ ایمانداروں کو ثابت رکھنا گمراہوں کو گمراہی میں ٹکرانا اس قادر مطلق کا خود اختیاری فعل ہے جس سے کوئی بازپرس نہیں کرسکتا۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک کلمہ کی مثال ایک ناپاک درخت کی سی ہے کہ جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جاوے۔ اس کا کچھ بھی جماؤ نہ ہو۔

1 ؎ ومعنی خبثت اسلوصلیت 12 کشاف احتبثات برکندن 12 منہ۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ ایمانداروں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں بھی سچی 1 ؎ بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

1 ؎ سچی بات وہ ہے کلمہ اشھد ان لا آلہ الا اللہ 12
Ayahs 14:28–34

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے ان کو نہیں دیکھا کہ جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلہ میں ناشکری کی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لے اترے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

جہنم میں کہ جس میں وہ پڑیں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور لوگوں نے اللہ کے رستے سے بہکانے کے لئے شریک بنا رکھے۔ کہومزے منایا کرو پھر تو تمہیں جہنم ہی میں جانا ہے

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے نبی ! ) میرے ایماندار بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور ہمارے دیے میں سے چھپا کر اور ظاہر کر کے دیا کریں اس دن کے آنے سے پہلے کہ جس دن نہ خرید فروخت ہوگی نہ دوستی (کہ نیک عمل خریدے جاویں یا کوئی رعایت کرے) ۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے تمہارے کھانے کو پھل نکالے اور کشتی تمہارے بس میں کی تاکہ دریا میں اس کے حکم سے چلے اور نہریں تمہارے قابو میں کیں

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تمہارے فائدے کے لئے سورج اور چاند کو محکوم کردیا جو (اپنی چال پر) ہمیشہ چلتے ہیں اور تمہارے لئے رات اور دن کو محکوم کیا

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور تم نے جو کچھ مانگا اس میں سے تمہیں دیا اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے۔ البتہ آدمی تو بڑا ہی ظالم ناشکر ہے

ترکیب : کفروا مفعول ثانی بدل کا جہنم بدل ہے دارالبوار سے۔ یقیموا و ینفقوا امر کے صیغے بحذف لام ای لیقیموا و لینفقوا کیونکہ قل اس پر دال ہے سرًا و علانیۃً مصدر ہیں موقع حال میں دائبیں حال الشمس والقمر سے ل مضاف ماموصولہ مضاف الیہ جملہ مفعول انکم من بقول اخفش زائد ہے۔ ھذا موصوف البلد صفت یا ھذا اسم اشارہ البلد مشارٌا لبہ یہ سب مفعول اول اجعل کا آتنا اس کا مفعول ثانی۔ ان نعبد ای عن نعبد من عصانی شرط فانک جواب والعائد محذوف ای لہ من ذریتی میں من زائدہ بواد موصوف عند بیتک صفت یا بدل علی الکبر حال ہے وہب لی سے۔ تفسیر : یہاں کلمہ خبیثہ کے پھل بیان فرماتا ہے الم تر سے لے کر الی النار تک کہ اللہ نے تو ان کو طرح طرح کی نعمتیں دی تھیں۔ انہوں نے بجائے شکر گزاری کے کفر کیا یعنی ناقدری کی اور آپ تو ڈوبے ہی تھے اپنی قوم کو بھی گمراہ کرکے جہنم میں لے گئے۔ اس میں مکہ کے کفار سرداروں کی طرف اشارہ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ ناشکری ہے کہ منعم حقیقی کے ساتھ اور لوگوں کو شریک سمجھ لیا اور ان کو اس کی خدائی کا حصہ دار بنا دیا۔ پھر ان کے لئے یہیں چند روز عیش و آرام کرنے کی مہلت ہے ورنہ پھر تو جہنم ہی ٹھکانا ہے۔ ایمانداروں کو ان کے برخلاف شکرگزاری کی تعلیم کرتا ہے۔ قل لعبادی سے ولاخلال تک اور وہ شکر گزاری کیا ہے ؟ نماز پڑھا کریں جس میں ہاتھ پائوں سے زبان سے ‘ دل سے اس کی تعظیم و ستائش ہے اور ہمارے دیے میں سے دیا کریں فقیر کو ‘ مسکین کو ‘ اپنے کو ‘ بیگانے کو ‘ ظاہر کر کے چھپا کے اور اس میں دیر نہ کریں۔ یہی دار عمل ہے جو کرنا ہے کرلیں ورنہ پھر ایک دن آنے والا ہے کہ جس میں نہ اعمال صالحہ خریدے جاویں گے نہ کوئی دوستی محبت میں نیک عمل دے گا۔ پھر ان ناشکروں کو بتلاتا ہے کہ اللّٰہ الذی الخ اللہ منعم حقیقی تو وہ ہے کہ جس نے تمہارے لئے یہ کام کئے ہیں (1) آسمانوں اور زمین کو تمہارے فائدے کے لئے بنایا۔ (2) بادلوں سے مینہ برسایا (3) پھر اس پانی سے زمین میں سے تمہارے لئے طرح طرح کی چیزیں پیدا کیں۔ (4) پانی پر سفر کرنے کے لئے تمہیں کشتی بنانا سکھایا (اسی طرح ریل آگبوٹ دخانی کلیں ہزاروں باتیں بندوں کو سکھائیں کہ جن سے آرام پاتے ہیں) (5) نہروں کو تمہارے بس میں کردیا جدھر چاہتے ہو لے جاتے ہو اور پانی سے طرح طرح کے کام لیتے ہو پن چکی اور کیا کیا (6) چاند اور سورج کو تمہارے لئے ایک خاص چال سے چلایا اگر اس میں خلاف ہو تو انتظام عالم بگڑ جاوے (7) رات دن کو تمہارے لئے مسخر کیا اپنے وقت پر رات دن آتے ہیں جس سے دنیا کے تمام کاروبار ٹھیک ٹھیک ہوتے ہیں (8) ان پر کیا حصر ہے تم نے جو کچھ مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ تمہیں دیا۔ آنکھ ناک بےقیمت اعضاء بےمانگے دیے اور پھر ہر موقع پر ہر اڑی میں تمہاری مدد اور مشکل کشائی کرتے ہیں۔ لاکھوں نعمتیں ہیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے۔ پھر بتلاؤ جن کو تم نے اس کا شریک بنایا ہے ان میں سے کون سی چیز انہوں نے پیدا کی ہے پھر جو تم اللہ کے ساتھ ان کو ملاتے ہو یا اللہ کے منکر ہو بڑے ظالم اور بڑے ناشکر ہو ان الانسان لظلوم کفار۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شکر گزار بندے کا ذکر کرتا ہے اور ان کی وہ دعائیں بھی کہ جن سے نیاز کی بو آتی ہے تاکہ مکہ اور اس کے اطراف کے ناشکر کفار کو جو ابراہیمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں یہ معلوم ہو کہ تم انہیں کی دعا کی برکت سے مکہ میں امن سے بیٹھے ہوئے ہو۔ یہاں کوئی مار دھاڑ نہیں کرتا۔ انہی کی دعا سے اس خشک ملک میں میوے اور تازہ ترکاریاں کھاتے ہو ‘ انہی کی برکت سے دنیا بھر کے لوگ تمہاری طرف آتے ہیں پھر تم کیسی نااہل اولاد ہو جو اس کی ناشکری اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کر رہے ہو۔