13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 13:1–4

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

یہ ہیں کتاب کی آیتیں اور جو کچھ آپ پر آپ کے رب کے ہاں سے نازل ہوا اور برحق ہے لیکن اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ تو وہ ہے کہ جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جن کو تم دیکھ رہے ہو پھر وہ تخت (حکومت) پر جا بیٹھا اور سورج اور چاند کو حکم پر چلایا جو ہر ایک اپنے وقت معین پر چل رہا ہے وہ ہر ایک بات کا انتظام کررہا ہے (اور) کھول کھول کر نشانیاں بتاتا ہے کہ کہیں تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کرو

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور اسی نے تو زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور زمین میں ہر ایک پھل دو قسم کا بنایا (کھٹا اور میٹھا اچھا اور برا) دن کو رات سے ڈھانک دیتا ہے البتہ اس میں غور کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں (مختلفہ) قطعے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور انگور کے باغ ہیں اور کھیتیاں اور کھجور ہیں جھنڈ مارے ہوئے اور بےجھنڈ مارے ہوئے کہ جن کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور ہم ایک کو دوسرے پر پھلوں میں فضیلت دیتے ہیں۔ البتہ اس میں عقلمندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

ترکیب : تلک مبتد آیات الکتاب خبر اور ممکن ہے کہ المرا کی خبر ہو اور آیات بدل یا عطف بیان والذی الخ مبتدا الحق خبر اور ممکن ہے کہ والذی الکتاب کی صفت اور واؤ درمیان آیا اور الحق مبتدا محذوف کی خبر ہو۔ بغیر عمد موضح نصب میں حال ہو کر اے حالیۃً عن عمد والعمد بالفتح جمع عماد اور عمود۔ ترونہا ضمیر اگر عمد کی طرف راجع ہے تو موضع جر میں ہے صفت عمد کی اور اگر السموات کی طرف تو اس سے حال ہوگا جیسا کہ یدبر ضمیر سخر سے اور یفصل ضمیر یدبر سے حال ہے۔ قطع مبتدا فی الارض خبر یا قطع ظرف کا فاعل وزرع معطوف ہے قطع پر۔ صنوان جمع صنو جیسا کہ قنوان قنو کی جمع ہے ای النخلات یجمعھا اصل واحد وتنشعب فروعہا فی الاکل نفصل سے متعلق ہے۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی اولاً المرا حروف مفردہ سے کسی امر خاص کی طرف اشارہ فرما کے تلک یعنی اس سورة رعد کی آیات کا کتاب برحق یعنی قرآن مجید کی آیات ہونا بیان فرماتا ہے پھر قرآن مجید کا اللہ کی طرف سے منزل اور برحق ہونا بیان فرما کر منکروں پر تعریض کرتا ہے کہ بایں ہمہ اس کو اکثر نہیں مانتے۔ اس کے بعد اللہ کا وجود اور اس کا واحد لاشریک ہونا چند دلائل سے ثابت کرتا ہے چونکہ مشرکوں کے سامنے ثابت کرنا اہم کام اور ضروری مسئلہ تھا اللہ الذی سے لے کر توقنون تک آسمانوں کے بےستون قائم اور بلند ہونے سے استدلال کرتا ہے کہ باوجود یکہ اجسام کا مقتضائے طبعی یکساں ہے پھر کس قادر مختار نے گول گنبد بنایا ہے جس میں ستونوں کی حاجت نہیں ؟ اور پھر آفتاب وماہتاب سے ان کو کس نے منور کیا اور کس نے ان کو ایک چال معین پر چلایا جس سے تمام دنیا کے کاروبار وابستہ ہیں۔ از خود یہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ اجسام سب برابر ہیں۔ اس پر غور کرنے والا کہہ سکتا ہے کہ ہم کو بھی حرکت کرتے کرتے ایک روز اس کے پاس پہنچنا ہے۔ لعلکم بلقاء ربکم توقنون پھر ھوالذی مد الارض سے لے کر اخیر تک زمین کی وسعت ہے (باوجود کروی ہونے کے) اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کرنے سے اور ہر ایک پھل میں چھوٹے بڑے کھٹے میٹھے تفاوت سے اور یکے بعد دیگر رات دن کے آنے سے اور زمین میں مختلف ٹکڑوں کے ہونے سے کہ باوجود یکہ اس آس پاس ہیں مگر کسی میں کچھ پیدا ہوتا ہے کسی میں کچھ جو اس کے پاس والے میں نہیں ہوتا اور اس بات سے کہ زمین کی نباتات مختلف ہیں کہیں کھیتی کہیں کھجوریں وہ بھی کہیں صرف ایک گُدّی کا پیڑ کہیں پھیلا ہوا جھنڈ مارے اور اس بات سے کہ سب کو ایک پانی دیا جاتا ہے پھر پھل مختلف ہیں اپنے وجود اور قدرت کا مل کا ثبوت کرتا ہے کہ یہ باتیں از خود نہیں۔ پھر صرف ایک ہم ہی ہیں جو پس پردہ یہ گلکاریاں کررہے ہیں تمہارے فرضی معبودوں کا ان میں سے کونسا کام ہے ؟ ان مختصر فقروں میں اس قدر دلائل بیان کرنا قرآن ہی کا اعجاز ہے۔ 1 ؎ سارب قال الکسال سرب یسرب سربا و سرو با اذا اذہب 12 منہ
Ayahs 13:5–6

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر آپ کو ان کے انکار سے تعجب ہے تو ان کی یہ بات بھی عجب ہے کہ جب ہم خاک ہوگئے کیا ہم نئے سرے سے زندہ ہوں گے ؟ یہی تو ہیں کہ جو اپنے رب سے منکر ہوگئے اور انہیں کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی دوزخی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور بھلائی سے پہلے آپ سے برائی کی جلدی کر رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے بہت (سی عذاب کی) نظیریں ہوچکی ہیں اور بیشک آپ کا رب تو لوگوں کو ان کے گناہ پر بھی معاف کرنے والا ہے اور البتہ آپ کے رب کا عذاب بھی سخت ہے

ترکیب : قولھم مبتداء عجب خبر جملہ جواب ان تعجب اذا کنا جملہ قولہم کا بیان ہے اذا کا۔ عامل نبعث محذوف ہے قبل الحسنۃ یستعملون سے متعلق ہے علی ظلمھم حال ہے الناس سے۔ المثلات جمع المثلۃ بوزن السمرۃ وھی العقوبۃ الفاضحۃ قال ابن الانباری المثلۃ ہے العقوبۃ التی تبقی فی المعاقب شیئا تنغیر بعض خلقہ تفسیر : جب دلائلِ قاہرہ وبراہین باہرہ سے اپنی ذات اور صفات کاملہ کا آسمانوں اور زمین اور ان کی سب چیزوں کے پیدا کرنے سے ثبوت فرما چکا تو اس کے بعد مسئلہ معاد بھی ضروری الثبوت تھا کیونکہ جب انسان یہ اعتقاد کرلیتا ہے کہ مر کر پھر زندہ ہونا اور خدا کے روبرو حاضر ہو کر نیکی بدی کا بدلہ پانا ہے تو ہر قسم کی برائی اور بدکاری سے پرہیز کرتا ہے اور نیکی اختیار کرتا ہے اور جب یہ اعتقاد نہیں تو پھر اس کو نیک و بد کی کچھ تمیز نہیں رہتی اور یہ بھی ایک بڑی ضرورت ہے جس کے لئے دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) بھیجے گئے ہیں۔ اس لئے اپنے کمال قدرت ظاہر کرکے مسئلہ معاد کو ثابت کرتا ہے۔ وان تعجب الخ کہ اے نبی ! اگر آپ کو انکار سے تعجب ہے تو بجا ہے درحقیقت ان کا مر کر جینے سے انکار کرنا (خدا کی قدرت کاملہ کا معائنہ کرکے کہ اس نے جب آسمان و زمین پیدا کردیے تو دوبارہ پیدا کرنا کیا چیز ہے) بڑے تعجب کی بات ہے۔ گویا اس مسئلہ کو دلائلِ معاد سے مبرہن کردیا گیا۔ اب انکار باعث خرابیِ آخرت ہے۔ وہ کیا گلے میں طوق پہن کر جہنم میں ہمیشہ رہنا مشرکین مکہ کی دو عادت تھیں۔ اول جہاں آنحضرت ﷺ دنیاوی بربادی اور ہلاکت کا ڈر سناتے تو اس کے خواستگار ہوتے طعن کے طور سے کہتے کہ کب ہوگی اور اس کو لا۔ اس کی نسبت فرماتا ہے ویستعجلونک کہ وہ بدبخت برائی کے خواستگار ہیں۔ بھلائی سے پہلے چاہیے تھا کہ نبی کی اتباع کے خیرو برکات دارین سے حصہ پاتے نہ کہ اپنے لئے خرابی مانگتے حالانکہ پہلی امتیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ وہ سن چکی ہیں وان ربک مگر ہم بڑے رحیم و کریم ہیں جلدی عذاب میں نہیں کرتے اور یوں عذاب بھی سخت دیتے ہیں۔ دوم معجزات پر معجزات دیکھتے جاتے اور مکرتے جاتے تھے اور دیگر معجزہ کے طالب ہوتے تھے۔ ویقولون الخ اس کے جواب میں فرماتا ہے انما انت منذر کہ آپ کا کام خبردار کردینا ہے اور ہدایت کرنا ہادی کا کام ہے یعنی ہمارا یا یہ معنی کہ یہ ہدایت کرنا اور خبردار کرنا کوئی نئی بات نہیں جس پر بار بار معجزے طلب کرتے ہیں بلکہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوتا آیا ہے اور ان کے مناسب معجزات بھی دکھاتا آیا ہے سو تم کو فصاحت میں معجزہ دکھایا جو تمہارے طبائع کے مناسب ہے (اور یہی معنی قوی ہیں) پھر پہلی بات کے جواب کی طرف توجہ فرماتا ہے اور اس کے ضمن میں اپنے صفات علم وقدرت کو بھی ظاہر کرتا ہے جو مسئلہ معاد کی معرفت اور خدا ترسی کے لئے موید ہیں۔ اللّٰہ یعلم سے لے کر اخیر تک کہ اس کو ہر بات کا علم ہے بندہ کے آگے پیچھے اس کے ہاں کے پہریدار ہیں یعنی فرشتے جو اس کو بلائوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس طرح بس میں ہونے پر بھی ہم کسی قوم پر جب ہلاکت بھیجتے ہیں کہ جب وہ خود سامان ہلاکت پیدا کرتے ہیں گناہ اور بدکاری کرکے اور جب ہم عقوبت بھیجتے ہیں تو پھر اس کو کوئی کسی صورت سے ٹال نہیں سکتا اور نہ کوئی معتوب قوم کا حامی و مددگار ہوسکتا ہے۔ ہر قوم میں ہادی ہوتے آئے ہیں۔
Ayahs 13:7–11

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر کہہ رہے ہیں کہ اس پر کوئی بڑی 1 ؎ نشانی اس کے رب کے ہاں سے کیوں نہ اتری۔ سو (اے محمد ! ) تم تو محض ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک راہبر ہوتا آیا ہے۔

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ کو معلوم ہے کہ جو کچھ ہر مادہ اپنے پیٹ میں لئے ہوئے ہے اور جو کچھ پیٹ میں سکڑتا اور بڑھتا ہے اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازہ سے ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ چھپی اور کھلی باتوں کا جاننے والا بزرگ بلند مرتبہ ہے

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

(اس کے نزدیک) برابر ہے خواہ کوئی تم میں سے چپکے سے کہے خواہ پکار کر کہے اور خواہ کوئی رات میں مخفی ہو یا دن میں ظاہر ہو کر پھرے۔

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

بندہ کے آگے اور پیچھے (باری باری سے) پہرہ دار ہیں کہ جو اس کی بحکم خدا محافظت کرتے ہیں۔ بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بگاڑتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت آپ نہ بگاڑلیں اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے تو پھر اس کو کوئی روک بھی نہیں سکتا اور نہ کوئی ان کے لئے اس کے سوا مددگار ہوسکتا ہے۔

1 ؎ جس کے وہ طالب تھے ورنہ بہت سی نشانیاں اتری تھیں یا وہ نشانیاں ان کو نشانیاں ہی نہ معلوم ہوتی تھیں بات کو معمولی سمجھ کر ٹھٹھوں میں ٹال دیتے تھے۔ یہ پورا اندھا پن ہے جس کی طرف بہت جگہ قرآن میں اشارہ ہوا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 13:12–14

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی تو ہے کہ جو تمہیں خوف امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادلوں کو اٹھاتا ہے

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے (پاکی بیان کرتے ہیں) اور بجلیاں بھیجتا ہے پھر ان کو جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے اور وہ تو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑا قوت والا ہے۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کو پکارنا بجا ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی ان کی نہیں سنتے مگر جیسا کہ کوئی دور سے پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے کہ اس کے منہ میں آجاوے حالانکہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا اور کافروں کا پکارنا (محض) رائیگاں ہے

1 ؎ الثقال جمع ثقیلہ والسحاب جمع سحابۃ وقیل جنس 12 منہ قال الازہری المحال فعال من المحل بمعنی القوۃ والمیم اصلیۃ وقال ابن قتیبۃ اصلہ مقعل من الحول اذا لحیلۃ جعل المیم کمیم المکان واصلہ من الکون ومعناہ المکر والقوۃ والاخذ والحول والعداوۃ و ذھب الی کلوا حدذاہب 12 منہ تفسیر : ان آیات میں اپنی قدرت کے چند دلائل بیان فرماتا ہے۔ اول برق یعنی بجلی کا چمکنا کہ جس سے مینہ کی امید اور جل جانے کا خوف ہوتا ہے۔ بادلوں میں پانی بھرا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایسی آگ اور یہ روشنی پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ دوم دہر میں پانی کے بھرے ہوئے بادلوں کا اٹھانا جو ہفتوں برستے ہیں حالانکہ پانی کا حیز طبعی پستی ہے۔ سوم رعد یعنی گرج اور کڑک بادل نرم اجسام ایسے نہیں کہ ان کے باہم گھسنے سے یہ ہیبت ناک آواز پیدا ہو مگر وہ پیدا کرتا ہے۔ بعض احادیث میں آیا ہے کہ رعد 1 ؎ فرشتہ ہے جو بجلی کے کوڑے سے بادلوں کو ہانکتا ہے اور کڑک اس کی آواز تسبیح ہے۔ یہ ممکن ہے۔ بعض اس کی یوں توجیہ کرتے ہیں کہ فرشتے سے مراد ان کے قوائِ محرکہ اور کڑک جو اپنی زبان حال سے تسبیح کر رہی ہے یعنی اس کی قدرت ویکتائی بیان کر رہی ہے۔ چہارم بجلی کا جہاں چاہنا گرا دینا جس مکان یا شخص یا پہاڑ کو چاہنا اس سے ٹکڑے ٹکڑے کرا دینا یہ تمام اس کی جبروت وقدرت کے نشان ہیں۔ پھر اللہ کے معاملہ میں شبہ کرنا کیا حمق ہے۔ یہ دلائل بیان فرما کر تمام عالم کا قضاء و قدر کے آگے مسخر ہونا بیان کرتا ہے جس کو سجدہ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ کافر ٗ مومن ٗ حیوان ‘ نباتات بےاختیار کسی فاعل مختار کے ہاتھ میں ہیں جو انی ‘ بڑھاپا ‘ تندرستی ‘ مرض گھٹنا ‘ بڑھنا مرضی کے موافق اور مخالف باتیں ‘ ان کے سفر کی منزلیں ہیں کہ جن میں بےاختیار کھچے چلے آتے ہیں خواہ دل چاہے یا نہ چاہے اور صبح و شام جو ہر چیز کا سایہ زمین پر زیادہ پڑا معلوم ہوتا ہے وہ بھی اللہ کے آگے سجدہ کرتا ہے۔ ظاہری سجدہ بھی آیت میں مراد ہوسکتا ہے کہ ایماندار اور ملائکہ خوشی سے کرتے ہیں اور منکرین مصائب کے وقت گردن پکڑ کر جھکائے جاتے ہیں۔ من فی السموات سے ارواح اور نفوس کی طرف اشارہ ہے جو انوار ذات کی تجلی سے شوق میں آکر اس کی طرف جھکتے ہیں اور ان کے ظلال سے اجسام 1 ؎ جس طرح نفوس انسانیہ ہیں اسی طرح نفوس ملکی و نفوس اجرام علوی بھی خدا نے پیدا کرکے ان اجسام کے مدبر و محرک بنائے ہیں۔ انہیں کو حکماء طبائعِ اجسام کہتے ہیں اور شرع میں یہ نفوس کبھی ملائکہ سے بھی تعبیر کئے جاتے ہیں۔ پس رعد کو فرشتہ کہنا اور بجلی کے کوڑے سے جو بوقت حرکت پیدا ہوتی ہے بادلوں کو ہانکنا فرمانا اعلیٰ درجہ کا فلسفہ ہے۔ 12 منہ مراد ہیں جو طبعا ً آفتاب وجود کے طلوع و غروب کے وقت سجدہ کرتے ہیں یا اعیان ثابتہ یعنی گرچہ کف پانی پر بھی ہوتے ہیں اور جو آگ میں پگھلایا جانا ہے اس پر بھی مگر دونوں میں فرق ہے۔ اسی طرح گو باطل بظاہر حق سے مشابہ ہو مگر جس طرح جھاگ اڑ جاتے ہیں اور پانی رہ جاتا ہے اسی طرح حق باقی رہتا ہے ملمع کاری چند روز میں کھل جاتی ہے کیونکہ قرآن آسمان سے ابر رحمت کی طرح نازل ہوا اس سے بھی نالے بہے۔ بڑے بڑے عالم اٹھے حسب استعداد فیض پایا مگر یہ ابد تک زمین پر نفع دینے کے لیے رہے گا۔ یہ ایک تمثیل ہے حق و باطل کے لئے۔
Ayahs 13:15–17

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور چار و ناچار اللہ ہی کو آسمان والے اور زمین والے سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سایہ بھی صبح و شام (سجدہ کرتے ہیں)

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

پوچھو کون ہے آسمانوں اور زمین کا رب ؟ کہو اللہ۔ پوچھو پھر کیا تم نے اللہ کے سوا ان چیزوں کو معبود نہ بنا رکھا ہے کہ جو خود اپنے لئے بھی نہ کچھ نفع کی قدرت رکھتے ہیں نہ نقصان کی۔ کہو کیا اندھا اور بینابرابر ہیں ؟ یا کہیں اندھیریاں اور روشنیاں برابر ہوسکتی ہیں ؟ کیا جن کو انہوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے انہوں نے بھی کچھ اللہ کی مخلوق جیسی کوئی مخلوق بنائی ہے کہہ دو ہر چیز کا خالق تو اللہ ہی ہے جو یکتا اور زبردست ہے۔ قہار ہے

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

جس نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے اپنی (اپنی) مقدار سے نالے بہنے لگے پھر پانی کے ریلے نے پھولے (پھولے) جھاگ اٹھائے اور جس چیز کو کہ آگ میں زیور یا اور کسی اسباب بنانے کے لئے پگھلاتے ہیں اس پر بھی ویسا ہی جھاگ ہوتا ہے یوں بیان کرتا ہے اللہ حق اور باطل کی مثال۔ پھر جو جھاگ ہے وہ تو یوں ہی جاتا رہتا ہے اور جو لوگوں کو فائدہ یعنی پانی سو وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے۔ اللہ مثالیں یوں بیان کیا کرتا ہے۔

2 ؎ والآصال جمع اصیل وہو العیشۃ وھی مابین العصر الی المغرب الادویۃً جمع واد وھو کل منفرج بین جبلین ونحو ھما یسیل الماء فیہ بکثرۃ واستعمل للماء الجاری فیہ الزبد ھو الابیض المرتفع المفتح علی وجہ السیل ویقال لہ الجحفاء والرعوۃ والرابی المرتفع فوق المآء جفاء با طلایقال جفارن الریح السحاب ای فرقۃ 12 منہ
Ayahs 13:18–19

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے رب کا کہنا مانا ان کے لئے بہتری ہے اور جنہوں نے اس کا کہنا نہ مانا اگر ان کے لئے زمین بھر کی سب چیزیں بھی ہوں اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہو تو جرمانہ میں دینا قبول کریں گے (قیامت کے عذاب سے بچنے کے لئے اور قبول نہ ہونا) اور انہیں کا برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے۔

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

پھر کیا وہ شخص جو کہ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کو برحق جانتا ہے اس کے برابر ہے جو اندھا ہے ؟ سمجھتے تو عقل والے ہی ہیں

تفسیر : ان آیات میں اس ابر رحمت (قرآن) کے اثر قبول کرنے اور نہ کرنے کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ الذین الخ کہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مان لیا ان کے لئے بہتری ہے۔ پھر آگے حکم ماننے اور بہتری کی تشریح کرتا ہے اور جن شوربختوں نے اس پانی کو قبول نہیں کیا ان کا انجام جہنم اور برا ٹھکانا ہے اور ان کا وہاں یہ آرزو کرنا بیان کرتا ہے کہ اگر تمام دنیا بھر کی نعمتیں اور مال و حشمت ان کے پاس ہو اور اتنا ہی اور ہو تو سب کو دے کر عذاب سے چھوٹ جانا چاہیں گے۔ آج یہاں اللہ کی راہ میں چار پیسے بھی صرف کرنا نہیں چاہتے جس مال پر مرتے ہیں وہ یوں بےقدر ہوگا کہ تاوان و جرمانہ میں نہ لیا جاوے گا۔ پھر ان دو فریق کی مثال بیان کرتا ہے کہ ایماندار آنکھوں والے ہیں اور کافر اندھے ہیں۔ پھر کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہے ٗ نہیں ہرگز نہیں۔ پھر الذین الذین ذکر کرکے قرآن کے ماننے کی تشریح کرتا ہے یعنی جن میں یہ چند وصف ہیں وہی قرآن کے ماننے والے ہیں۔ اول عہد الٰہی کا پورا کرنا ‘ عہد میں تمام اعتقادی اور عملی باتیں مجملاً آگئیں جن کی آگے شرح کرتا ہے۔ (2) صلہ رحمی کرنا ‘ ماں ‘ باپ ‘ دوستوں ‘ ہمسائیوں ‘ فقیروں ‘ یتیموں ‘ بےکسوں کی خبر گیری کرنا ‘ خدا سے ڈرنا۔ (3) اللہ کے لئے صبر کرنا بری خواہشوں سے نفس کو روکنا۔ عبادت اور دنیا کے مکروہات اور مخالفوں کی ایذائوں کو برداشت کرنا۔ (4) نماز پڑھنا (5) اللہ کی راہ میں دینا چھپے اور کھلے زکوٰۃ یا صدقہ یا ہدیہ (6) برائی کے مقابلہ میں صبر سے بڑھ کر نیکی کرنا جو کوئی اپنے ساتھ برائی کرے اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے سے درگذر نہ کرنا اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے جو کوئی بدی سرزد ہوجاوے تو اس کے مکافات میں نیکی کرنا چاہیے۔ پھر اس حسنیٰ کی شرح کرتا ہے اولئک لہم عقبی الدار دار آخرت کیا ہے جنت عدن کہ جس میں نہ صرف وہی رہیں گے بلکہ ان کے نیک اقارب بھی اور جنت کے ہر دروازہ سے آکر ملائکہ ان کو سلام کریں گے۔ اس کے مقابلہ میں اللہ کے عہد توڑنے والوں مفسدوں ‘ قطع رحم کرنے والوں کی سزا برا گھر اور لعنت برسنا بیان فرما کر کافروں کے غرور کو توڑتا ہے جو اپنے مال و جاہ پر فخر کیا کرتے ہیں کہ یہ لوگ اس دنیائِ فانی پر عبث ریجھے ہوئے ہیں۔ کثرت مال مقبولیت کی دلیل نہیں بلکہ اللہ اپنی حکمت و مصلحت سے جس کو چاہتا ہے دنیا میں فراخدستی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے تنگدستی۔
Ayahs 13:20–21

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

وہ جو اللہ 1 ؎ کے عہد کو پورا کرتے اور عہد کو نہیں توڑتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

وہ جو جوڑتے ہیں جس کا کہ اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے اور برے حساب سے خوف کرتے رہتے ہیں

1 ؎ اللہ کا عہد روز ازل میں جو عبودیت کا ارواح نے کیا تھا۔ 12 منہ
Ayahs 13:22–27

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور وہ کہ جنہوں نے اپنے رب کی رضامندی کے لیے صبر کیا 2 ؎ اور نماز قائم کی اور جو کچھ ہمارے دیے ہوئے میں سے چھپے اور کھلے دیا اور برائی کے مقابلہ میں بھلائی کرتے رہے انہیں کے لئے دار آخرت ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ کہ جن میں وہ خود بھی رہیں گے اور ان کے باپ دادا اور بیویوں اور اولاد میں سے بھی جو نیکوکار ہیں اور ان کو ہر دروازہ سے آکر فرشتے کہیں گے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے پھر کیا ہی اچھا آخرت کا گھر ہے

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور وہ جو مستحکم کرنے کے بعد اللہ کے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو توڑتے اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں ان کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے برا گھر ہے۔

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ ہی جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ اور تنگ کرتا ہے اور (کفار) دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں ہے کیا مگر تھوڑا سا اسباب۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کے ہاں سے کیوں کوئی (بڑا) معجزہ نہ اترا۔ (سو) کہہ دو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے

2 ؎ دنیاوی تکالیف پر اور عبادت کی تکالیف پر اور نفس کے روکنے میں۔ 12 منہ
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

اس کو اپنے تک پہنچنے کا رستہ دکھاتا ہے ان کو جو ایمان لائے اور ان کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے۔ سن رکھو دلوں کو چین تو اللہ ہی کی یاد سے ہوتا ہے۔

ترکیب : الذین آمنوا مبتداء طوبٰی لہم جملہ خبر وحسن مآب جمہور کے نزدیک نون کا ضمہ مآب کی طرف اضافت ہے۔ معطوف ہے طوبیٰ پر وحسن بالفتح بھی پڑھا گیا ہے۔ طوبیٰ پر معطوف بنا کے اور اس کو جعل کا مفعول مان کر ولوان کا جواب محذوف ما آمنوا ان لو یشاء اللّٰہ مفعول لم یایئسبمعنی افلم یتبین لہدی الناس لوکا جواب تصیبہم کا فاعل قارعۃ واہیۃ تفرعہم او تحل کی ضمیر قارعۃ کی طرف پھرتی ہے وقیل للخطاب۔ تفسیر : اہل مکہ بار بار وہی شبہ کرتے تھے کہ کوئی معجزہ کیوں آنحضرت ﷺ ہمارے کہنے کے موافق ظاہر نہیں کرتے۔ ویقولون الخ اس کا جواب اگرچہ پہلے بھی دیا تھا مگر چونکہ انہوں نے پھر وہی سوال کیا تھا اس کا یہاں اور عمدہ اسلوب سے جواب دیا۔ اول یہ کہ ان اللّٰہ یضل من یشاء الخ ہدایت و گمراہی اس کی طرف سے ہے معجزہ دیکھنے سے کیا ازلی گمراہ ہدایت پر آجاتے ہیں بلکہ جو ازلی نیک ہیں من اناب خدا کی طرف رجوع کرنے والے وہی ہدایت پاتے ہیں سو ان کو ظاہری معجزہ کی کچھ بھی ضرورت نہیں۔ ان کے لئے ایک باطنی معجزہ ہر وقت موجود ہے۔ وہ کیا کہ تطمئن قلوبہم کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سننے سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ گویا ان کے چشم باطن پیغمبر کے فرمودوں کا مشاہدہ کرلیتے ہیں۔ کوئی کھٹکا اور خطرہ ان کے دل میں باقی نہیں رہتا اور یہ اس لئے کہ الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب اللہ تعالیٰ ارواح صافیہ و نفوس طیبہ کا محبوب حقیقی ہے اور تمام منازل کا منتہی وہی ہے۔ اسی کی یاد سے روح کو قرار آتا ہے جس کی صحبت کا یہ اثر ہے پھر یہ کیا کم معجزہ ہے۔ اس کے بعد ان ہدایات یافتوں کا مرتبہ بیان فرماتا ہے کہ ان کے لئے خوشی ہے۔ بعض کہتے ہیں طوبیٰ سے مراد وہ درخت ہے جو جنت میں ہے اور اچھا ٹھکانا ہے یعنی جنت۔ دوم یہ کہ آنحضرت ﷺ کچھ دنیا میں نئے نبی نہیں آئے ہیں جو بات بات پر معجزات طلب ہوتے ہیں۔ پہلے انبیاء کیا ہر وقت منکروں کے کہنے سے معجزہ دکھایا کرتے تھے۔ یہ بھی کبھی ہوگیا ہوگیا ورنہ مقصود اصلی تو ان کو پیغامِ الٰہی پہنچا دینا ہے۔ لتتلوا اعلیہم الخ جو وہ اس کی رحمت کا انکار کر رہے ہیں (مکہ کے مشرک لفظ رحمن سے بھی چونکتے تھے کہ ہم نہیں جانتے وہ کون ہے) حقیقت میں کسی شاہی معزز ایلچی سے بار بار ہر کہ و مہ کا سند طلب کرنا گویا ایک تمسخر کرنا ہے۔ اسی طرح سر دفتر انبیاء سے بار بار صداقت کے لیے معجزہ مانگنا حمق ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ خواہ وہ مانیں یا نہ مانیں تو ان سے اپنا اصلی منشاء ظاہر کر دے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے جس پر میرا بھروسہ ہے اور جس کے پاس جانا ہے۔ سوم اگر ان کے کہنے سے قرآن میں یہ بھی اثر ہو کہ مکہ کے پہاڑ ٹل جاویں ‘ زمین کشادہ ہوجاوے زمین میں سے چشمہ بھی پھوٹ نکلیں ‘ مردہ بھی زندہ ہو کر ان سے وہاں کا حال کہہ دیں (مکہ کے چند کافروں نے آنحضرت ﷺ سے یہ استدعا کی تھی) تو پھر کیا وہ مانیں گے ؟ اس میں بھی صدہا وہم کریں گے۔ یہ سب باتیں ہم کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کو اطمینان دیتا ہے کہ کہیں تم دل میں ان باتوں کی آرزو نہ کرنا کیونکہ تم جانتے ہو اللہ ہر بات پر قادر ہے۔ اس کے بعد کفار مکہ سے ان کی سرکشی کی سزا میں ان پر مصیبت نازل ہونے کا وعدہ کرتا ہے کہ ایک نہ ایک بلا ان پر پڑتی رہے گی یا ان کے دروازوں پر آپڑے گی یعنی قریب الوقوع ہوگی وعدہ ٔ 1 ؎ الٰہی آنے تک یعنی فتح مکہ تک سو ایسا ہی ہوا۔ 1 ؎ یا یہ معنی کہ فتح مکہ کے لئے آپ ان کے گھروں کے پاس آٹھہریں جیسا کہ فتح مکہ کے روز ٹھہرے تھے۔ 12 منہ
Ayahs 13:29–30

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام بھی کئے ان کے لئے خوشخبری اور اچھا ٹھکانا ہے۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح آپ کو بھی ہم نے ایک ایسے گروہ میں بھیجا ہے کہ جن کے پہلے اور بھی امتیں گذری ہیں تاکہ جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے ان کو پڑھ کر سناؤ اور وہ تو رحمن کا انکار کر رہے ہیں کہو میرا رب وہ ہے کہ جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے توکل کرلیا اور اسی کی طرف جانا ہے

ف : طوبی مصدرمن طالب کشری و معناہ اصیبت خیرا وطیبا محلہا النصب او الرفع کقولک سلاماً لک وسلام لک۔ 12 منہ
Ayahs 13:31–32

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی ایسا قرآن نازل ہوا ہوتا کہ جس سے پہاڑ ٹل جاتے یا اس سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی یا اس سے مردے بول اٹھتے (تو بھی نہ مانتے) بلکہ سب کام اللہ ہی کے بس میں ہیں پھر کیا ایمان والے اس بات سے ناامید ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا اور کافروں پر تو ہمیشہ ان کی بداعمالی سے کوئی نہ کوئی مصیبت پہنچتی رہے گی یا وہ بلا ان کے گھر کے دروازوں پر آ اترے گی۔ یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو۔ بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتا۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور البتہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ہنسی کی گئی ہے۔ پھر ہم نے منکروں کو مہلت دی۔ پھر ان کو پکڑ لیا پھر دیکھو ہمارا کیسا عذاب تھا۔

؎ لم یایئس قال الکعبی الم یعلم وبہ قال السلف من الصحابہ والتابعین۔ 12 منہ
Ayahs 13:33–36

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

پھر کیا وہ شخص جو ہر ایک کے سر 1 ؎ پر کھڑا ہے بدلہ دینے میں (بتوں کے برابر ہے) اور انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں کہو ان کے نام تو بتاؤ کیا اللہ کو وہ بات جتاتے ہو کہ جس کو وہ روئے زمین 2 ؎ پر بھی نہیں جانتا یا یوں ہی باتیں بناتے ہو (کچھ نہیں) بلکہ کافروں کے فریب ان کو بھلے معلوم کرائے گئے اور وہ رستہ سے روکے گئے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے پھر اس کو کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو زندگی (دنیا) میں بھی عذاب ہے اور البتہ آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے اور ان کو اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

اس جنت کا حال کہ جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے ( یہ ہے کہ) اس کے نیچے بڑی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس کے میوے اور سائے ہمیشہ رہیں گے۔ یہ انجام ہے پرہیزگاروں کا اور کافروں کا انجام آگ ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن کو کہ ہم نے کتاب دی ہے وہ تو جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں اور ان جماعتوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جو اس کی بعض بات نہیں مانتے کہو مجھ کو تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کیا کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں۔ اسی کی طرف بلاتا ہوں

ترکیب : من موصولہ ہو قائم علی کل نفس صلہ اے قادر علی کل نفس و عالم بجمیع احوالہا من خیر و شر و مستعد لان یجازی کل نفس بما فعلت من خیر و شر (وھو اللہ) یہ سب مبتداء اور خبر محذوف کمن لیس بھذہ الصفۃ وھی الاصنام جس پر وجعلوا الخ جملہ دال ہے اور ممکن ہے کہ ایسی خبر محذوف مانی جاوے کہ جس پر جعلوا کا عطف درست ہو سکے ای لم یوحدوہ ولم یمجدوہ وجعلوالہ شرکاء (کشاف) یہ جملہ استفہامیہ ہوگا انکار کے طور پر۔ تفسیر : یہ بھی پہلے جواب کا تتمہ ہے وہ جو آپ سے معجزات طلب کرتے ہیں طالب حق نہیں بلکہ محض تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں۔ پھر یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پہلے بھی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ان کی امتوں کے لوگ تمسخر اور ہنسی کرتے آئے ہیں۔ چونکہ ہم رحیم کریم ہیں فوراً انتقام لینا ہماری عادت نہیں۔ ہم نے ان کو مہلت دی (الا ملاء الامہال وان یترکوا مدۃ من الزمان) پھر وہ دیکھو کیسے برباد و ہلاک ہوئے کہ ان کے مکانوں کے خرابات اب تک ناظرین کے آگے زبان حال سے حسرت و افسوس ظاہر کر رہے ہیں۔ پھر اے محمد ! آپ کے مخالفین اپنے دل میں کیا سمجھے ہوئے ہیں افمن ھو قائم اس کے بعد اپنا قادر وقہار ہونا ظاہر کرکے (تاکہ تمسخر سے باز آویں کیونکہ ایسے موقع پر چشم نمائی بےادبوں کی پیٹھ پر کوڑا ہے) یہ فرماتا ہے کہ پھر ایسے کے ہوتے ہوئے تم اور لوگوں کو پوجتے ‘ حاجت روا جانتے ہو۔ ہمارے سامنے وہ کون خدائی کا مستحق ہے ذرا اس کا نام تو بتلاؤ یا یونہی واہی تباہی باتیں بناتے ہو باوجود اس کے کہ یہ خیال بدیہی البطلان ہے اور نبی ان کے حق میں کوئی خلاف عقل مضرت آمیز بات بھی نہیں کہتے۔ پھر بھی جو وہ نہیں مانتے الٹے بات بات پر معجزہ مانگتے ہیں۔ یہی بات ہے کہ زین للذین کفروا مکرھم ان کی حرکات ناشائستہ اور خیالات فاسدہ بسبب پشت در پشت چلے آنے کے اور اہل شہر اور برادری کو ان میں مبتلا دیکھنے کے دل میں کھب گئے ہیں۔ انہیں کو بہتر اور عمدہ جانتے ہیں۔ (حقیقت الامر یونہی ہے آج کل ہنود کی رسوم قبیحہ اور دیگر اقوم کے افعال خلاف عقل اس کا نمونہ ہیں۔ اونے کو ردہ کے لوگ اپنے دس بیس جھونپڑے والوں کی رسوم کو کیسا عمدہ سمجھتے تھے۔ اس کے ترک کو کیسا شاق جانتے ہیں۔ واہ نبی آخر الزمان ! یہ آپ ہی کا معجزہ تھا کہ نہ صرف عرب بلکہ اور بہت سے ملکوں کے دلوں سے ان رسوم قبیحہ کو کس کاروائی سے کیا ہے۔ ) اصل یہ ہے کہ یہ گمراہی ان کے نوشتہ ازلی میں ہے، کوئی بجز خدا کے کیونکر دور کرسکے۔ اس کا نتیجہ دنیا کا وبال جیسا کہ اگلی امتوں پر آیا ہے۔ قحط ‘ و باگرانی ‘ خسف و قتل ‘ غیروں کے ہاتھ میں اسیر ہونا وغیرہ اور آخرت کا عذاب تو اس سے بڑھ کر ہے۔ برخلاف اس کے ایمان والوں کے لیے دار آخرت میں ابدی فرحت ہے۔ اہل کتاب یعنی اہل قرآن ٗ قرآن کے نازل ہونے سے خوش ہوتے ہیں اور دیگر لوگ اپنے خلاف طبع باتوں سے انکار کرتے ہیں۔ یہ بدبختی کی علامت ہے۔ وہ انکار کریں تو کیا کریں مگر اے نبی ! تم ان سے کہہ دو کہ میں توحید پر ثابت ہوں اور قرآن جو تمام حکمتوں اور حکموں کا چشمہ ہے اس کی طرف سے عربی زبان میں اترا ہے اور نبی ﷺ کو مخاطب کرکے سنایا جاتا ہے کہ اس کی مخالفت پر قہر الٰہی ہے جس کی پناہ نہیں۔ 1 ؎ یعنی اس کو ہر ایک کا حال معلوم ہے اور ہر فعل کی سزا دینے پر قادر ہے۔ 12 منہ 2 ؎ یعنی روئے زمین پر ان کا پتا بھی نہیں۔ 12 منہ
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی کی طرف بازگشت ہے اور اس قرآن کو عربی میں حکم نامہ بنا کر اسی طرح نازل کیا ہے اور اگر آپ اپنے پاس علم آنے کے بعد بھی ان کی خواہشوں پر چلیں گے تو اللہ کے مقابلہ میں نہ آپ کا کوئی حامی کھڑا ہوگا نہ بچانے والا۔

ف : حکما عرب یا حکمۃ مترجمۃ بلسان العرب انتصابہ علی الحال۔ 12 کشاف 1 ؎ اس سے یہ سمجھنا کہ حضرت خاص عرب کے لیے نبی تھے محض غلط فہمی ہے کس لیے کہ قوم رسول وہ ہیں جو آپ کے ہم نسب اور ہم وطن ہیں اور امت یا قوم بمعنی عام سب لوگ ہیں سو قوم کی زبان میں کتاب اور رسول کا بھیجنا ان کی رعایت خاص کے لیے رسالت عامہ کو مانع نہیں۔ 12 منہ