16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ النحل سورة نمبر 16 رکوع 6 آیات 128 الفاظ و کلمات 1871 حروف 7974 مقام نزول مکہ مکرمہ اس سورة میں ایک جگہ النحل کا لفظ آیا ہے جس کے معنی شہد کی مکھی کے ہیں اسی مناسبت سے اس سورة کا نام سورة النحل رکھا گیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں خاص طور پر ایسی آیتیں نازل کی گئی ہیں جن میں اس بات کو واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ اپنا پیغام پہنچایا اور بتایا کہ وہ اس پر چلیں اور اللہ کے رسولوں اور نبیوں کی مکمل اطاعت کریں ورنہ اللہ کا وہ فیصلہ آجائے گا جس کے سامنے پوری کائنات کی قوتیں بےبس ہو کر رہ جاتی ہیں اور مال و دولت اونچی اونچی عمارتیں اور تہذیب و تمدن کی ترقی کام نہیں آتی۔ چناچہ جن لوگوں نے انبیاء کرام کی تعلیمات کو اپنا کر کفر و شرک سے توبہ کرلی ان کی نجات ہوگئی اور جنہوں نے انکار کیا اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی قائم رہے اللہ نے ان کو عذاب سے دوچار کردیا۔ جب اللہ نے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیغام حق دے کر بھیجا اور ان کو گزشتہ قوموں کے ہولناک انجام سے آگاہ کیا تو انہوں نے اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے جو ان کو دی گئی تھی کہنے لگے کہ اے محمد ہم یہ سن سن کر تنگ آگئے ہیں کہ ہم پر کوئی عذاب نازل ہو سکتا ہے اگر ایسا ہے تو ہم کھلے عام آپ کی تعلیمات کا انکار کرتے ہیں وہ عذاب جس کی تم باتیں کرتے ہو وہ لے آؤ آخر اس کے آنے میں دیر کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان نادانوں سے یہی کہا ہے کہ اگر وہ اس وقت کو غنیمت جانتے اور قدر کرتے اور مہلت عمل سے فائدہ اٹھاتے تو ان کے حق میں بہتر تھا۔ ان کو اس فیصلے کی جلدی مچانے کی ضرورت ہی نہیں ہے جو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کے حق میں فیصلہ ہوچکا ہے۔ فرمایا کہ اگر وہ دنیا کی معمولی معمولی چیزوں پر غور کرتے تو اللہ کی ذات کا انکار کبھی نہ کرتے۔ فرمایا کہ انسان اپنے وجود پر ہی غور کرلے کہ ایک معملوی سے ناپاک قطرے سے اس کے وجود کو بنایا گیا ہے لیکن اس نطفہ کی ناپاکی کا اس کے جسم و جان پر کوئی اثر نہیں ہے۔ گوبر اور خون کے درمیان سے اللہ تعالیٰ ایسا دودھ پیدا کرتا ہے جس میں نہ تو خون کی رنگت ہوتی ہے اور نہ گوبر کی بدبو۔ اسی طرح ایک زہریلی شہد کی مکھی کے پیٹ میں ایک ایسا مادہ پیدا کیا جاتا ہے جس میں زہر کی کوئی آمیزش نہیں ہے بلکہ شہد میں سراسر شفا ہی شفا رکھی گئی ہے اگر انسان اس پر ہی غور کرلے کہ ان تمام چیزوں کا اور زمین و آسمان کے ذرے ذرے کا نظام کون چلا رہا ہے تو انسان پھر خیر کی جلدی کرے گا شر کے لئے نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کو سات باتوں کا خاص طور پر حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ ہمیشہ عدل و انصاف، احسان و کرم، صلہ رحمی اور حسن معاملہ اختیار کریں اور ہر بےحیائی، بےغیرتی، برائی اور ضد اور ہٹ دھرمی سے دور رہیں ہر وعدہ کو پورا کریں۔ حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھیں اور صبر و استقامت سے ثابت قدم رہیں۔ اللہ قدم قدم پر ان کی امداد و اعانت فرمائے گا۔ * یہ سورة بھی مکہ مکرمہ کے آخری دور میں نازل کی گئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانی وجود ، شہد کی مکھی، خون اور گوبر کے درمیان سے دودھ جیسی شفا بخش غذا پیدا کی ہے جو اس کی قدرت کا شاہکار ہے۔ * اس سورة میں سات باتوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے عدل و انصاف، دوسروں سے نیکی اور بھلائی، رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور حسن سلوک ہر طرح کی بےحیائیوں، برائیوں اور سرکشی سے بچنا۔ ہر وعدہ کو پورا کرنا۔ اسی میں مومن کی کامیابی ہے۔

Ayahs 16:1–4

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

اللہ کا حکم آگیا۔ تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ اس کی ذات بےعیب ہے اور اس سے بلندو برتر ہے جن کو تم اس کے ساتھ شریک کرتے ہو۔

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہ فرشتوں کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے تاکہ وہ سب کو اس بات سے آگاہ کردیں کہ میرے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے پس مجھ سے ہی ڈرتے رہو۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے اس کی ذات ان چیزوں سے بلند ہے جنہیں یہ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اس نے انسان کو ایک (حقیر اور گندے) پانی کی بوند سے پیدا کیا۔ پھر وہ کھلم کھلا جھگڑنے والا بن جاتا ہے

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 اتی آگیا۔ امر اللہ اللہ کا حکم۔ لاتستعجلوہ تم اس میں جلدی نہ مچاؤ۔ تعالیٰ بلندو برتر۔ الروح جبرئیل امین۔ وحی ۔ خصیم جھگڑا کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جب قرآن کریم کی آیات تلاوت فرما کر کفار مکہ سے یہ فرماتے تھے کہ میں اللہ کا آخری رسول ہوں جو تعلیمات میں لے کر آیا ہوں ان پر ایمان لے آؤ تو تمہیں اس دنیا کی سربلندی اور آخرت کی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ لیکن اگر تم نے میری بات نہ مانی اور اپنے کفر و شرک ، بری رسموں اور خرافات سے چمٹے رہے اور تم نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی نہ چھوڑی تو کہیں تم پر وہی عذاب نہ آجائے جو نبیوں کی تعلیمات کو جھٹلانے سے قوموں پر آیا کرتا ہے۔ اس کے لئے توحید کا ثبوت شرک اور کفر کے باطل ہونے، اللہ کے پیغمبروں کی دعوت کو نا ماننے کی بدترین نتائج اور گزشتہ قوموں کے واقعات سنا کر تنبیہ فرماتے تو اس کے جواب میں وہ کہتے تھے کہ اے محمد ﷺ ! ہم تمہارے لائے ہوئے دین کو تسلیم نہیں کرتے اور ہم تمہاری اسی طرح مخالفت کرتے رہیں گے۔ تم جس عذاب کے آنے کی باتیں کرتے ہو اگر تم واقعی سچے ہو تو اس عذاب کے آنے میں دیر کیا ہے وہ کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم جس عذاب کے آنے کی جلدی مچا رہے ہو اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تمہیں سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کفر و شرک سے توبہ کرلو۔ ورنہ اللہ کا وہ حکم (امر اللہ) بہت جلد آنے والا ہے۔ جب وہ امر اللہ آجائے گا تو پھر اس سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا ۔ علماء مفسرین نے لکھا ہے کہ امر اللہ سے مراد وہ وعدہ ہو سکتا ہے جو اللہ نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے کر رکھا تھا کہ اللہ کا فیصلہ جس میں تمہیں تمہارے دشمنوں پر غالب کردیا جائے گا اور مسلمانوں کو فتح و نصرت اور کامیابی عطا کی جائے گی یا یہ کہ امر اللہ سے مراد قیامت کا دن ہے جو بہت جلد آنے والا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان آیات کے نازل ہونے کے چند سالوں کے بعد ان کفار و مشرکین کو شکست پر شکست کھانا پڑی۔ سایر دنیا میں ان کو ذلت نصیب ہوئی اور آخر کار فتح مکہ کے بعد پورے جزیرۃ العرب پر اہل ایمان کو فتح حاصل ہوئی اور وہ وقت بھی آ کر رہا جب تمام کفار و مشرکین کو اس سر زمین سے نکل جانے کا حکم دیدیا گیا اور اب قیامت تک اس سرزمین پر انہیں قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس طرح اس دنیا کی زندگی میں تو ان کو اس بدنصیبی سے واسطہ پڑا۔ اب قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ وہ وقت بھی دور نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ مشرکین اللہ کی ذات اور صفات میں جن چیزوں کو شریک کرتے ہیں اللہ کی ذات اس سے بہت بلندو برتر ہے۔ وہ ہر طرح کے عیبوں سے پاک ذات ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا کلام نازل کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کے نیک بندے (پیغمبر) اس بات کو پوری وضاحت سے بیان فرما دیں کہ اس کائنات میں ہر طرح کی عبادت و بندگی کے لائق صرف ایک اللہ ہی کی ذات ہے۔ وہ اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ اسی نے آسمانوں او زمین کو برحق پیدا فرمایا ہے۔ اسی نے اس انسان کو ایک حقیر قطرہ سے پیدا کیا ہے اور زندگی گذارنے کا ہر طرح کا سامان عطا فرمایا ہے۔ وہ انسان کتنا عجیب ہے کہ اپنی خلقت کو بھول کر اپنے پروردگار کے سامنے ہی ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ہے اور اللہ اور اس کے رسول سے کھلم کھلا جھگڑتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے نبی اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتے ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی شخص اللہ کے نبی کی بات کو نہیں مانتا تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ کا فیصلہ آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ جب وہ کسی چیز کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اس کے ہونے میں دیر نہیں لگتی۔
Ayahs 16:5–9

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اسی (اللہ) نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے، ان میں سردی سے بچنے کا سامان اور بعض ان میں فائدے بھی ہیں اور ان میں سے بعض چوپایوں کو تم کھاتے بھی ہو۔

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

ان میں تمہارے لئے خوبصورتی اور شان ہے جب تم شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب صبح کو تم چرانے لے جاتے ہو

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور وہ تمہارے بوجھ ایسی بستیوں کی طرف اٹھا کرلے جاتے ہیں جہاں تم بغیر شدید جسمانی تکلیف کے پہنچ نہ سکتے تھے۔ بیشک آپ کا رب نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اس نے گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ زینت و آرائش کے لئے بھی ہیں۔ (ان کے علاوہ) وہ ان سواریوں کو پیدا کرے گا جنہیں تم نہیں جانتے

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور اللہ کا یہ ذمہ ہے کہ وہ سیدھا راستہ دکھائے جب کہ ان میں بعض ٹیڑھے راستے بھی ہیں اور اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا۔

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 9 الانعام چوپائے۔ مویشی جانور۔ دف گرمی۔ (کا سامان یعنی کھا لیں وغیرہ) جمال خوبصورتی۔ تریحون (اراحتہ) شام کو چرنے جاتے ہیں تسرحون (سرخ) ، صبح کو چرنے جاتے ہیں۔ تحمل اٹھاتا ہے اثقال (ثقل) ، بوجھ ۔ بلد شہر۔ لم تکونوا تم نہ تھے۔ بالغین (بالغنی) پہنچنے والے۔ بشق الانفس شدید جسمانی محنت سے۔ الخیل گھوڑے۔ البغال خچر الحمیر گدھے۔ لترکبوا تاکہ تم سواری کرو۔ زینۃ خوبصورتی، آرائش قصد السبیل سیدھا راستہ جائر ٹیڑھی۔ اجمعین سب کے سب، تمام تشریح : آیت نمبر 5 تا 9 توحید کے دلائل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے خیر اور شر کو پیدا کیا ہے اور انسان کے جسم و روح کا سامان مہیا کیا ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خیر اور شر میں سے کسی ایک راستے کو اختیار کرلے اور اس اللہ نے انسانی فائدوں کے لئے جو طرح طرح کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حقیقی آخرت کی منزل پر نگاہ رکھے تاکہ اس کو صحیح راستہ نصیب ہو سکے۔ فرمایا کہ اس اللہ نے جہاں اپنی قدرت کاملہ سے چاند، سورج، ستارے، فضا میں ہوا میں، شجر و حجر کو پیدا کیا ہے وہیں ہر طرح کے جانور بھی پیدا فرمائے ہیں۔ چوپائے، مویشی، گائے، بیل، اونٹ، بکرا اور دنبہ جیسے جانور بنائے جن کے جسموں پر ایسی اون پیدا کی ہے جس سے انسان موسم کی نرمی و سختی سے بچ کر بہترین لباس تیار کرتا ہے اور راحت و سکون حاصل کرتا ہے۔ خود فائدہ حاصل کرتا ہے اور تجارت کے ذریعہ بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے اللہ نے ان کی کھال بھی ایسی بنائی ہے جس سے بہترین لباس اور بیشمار چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔ ان جانوروں کو تازہ گوشت کی فیکٹریاں بنا دیا، انسان جب چاہتا ہے ان کو ذبح کر کے تازہ تازہ گوشت حاصل کرتا ہے۔ ان جانوروں کو پال کر ان کے ریوڑ بناتا ہے جب وہ صبح کو اپنا رزق حاصل کرنے کی طرف جاتے ہیں یا شام کو وہ پیٹ بھر کر جھومتے، اٹھلاتے اپنی مستی میں واپس آتے ہیں تو آدمی کا سیروں خون بڑھ جاتا ہے۔ ان کی تعداد اور خوبصورتی دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور بڑیب ڑے نفع کی امید سے اس کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انسان اونچی نیچی پہاڑویں اور ان دشوار گزار راستوں پر بھاری سامان لاد کرلے جاتا ہے جہاں اس کو آساین سے پہنچنا دشوار ہوتا ہے۔ فرمایا کہ نجانے قیامت تک اور اللہ کیسی کیسی سواریاں پیدا کرے گا جن پر سوار ہو کر وہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سفر کرسکے گا۔ فرمایا کہ یہ توہ وہ اسباب ہیں جو اس رؤف اور رحیم نے اپنے فضل و کرم سے انسان کی دنیا سنوارنے کے لئے بنائے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس آخرت تک پہنچنے کے لئے اور صراط مستقیم پر چل کر حقیقی منزل تک پہنچنے کے لئے بہت سے ذریعے بنائے ہیں۔ اس اللہ نے خیر اور شر کو پیدا کیا اور انسان کو اختیار دیا کہ وہ ان میں سے کسی ایک راستے کو اپنا لے انجام دونوں کا بتا دیا گیا۔ انبیاء کرام یہی بتانے اور سمجھانے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔ وہ پوری وضاحت سے اس بات کو بتا دیتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے دنیا کے انسانوں کو ایک ہی راستے پر لگا دیتا۔ کوئی دنیا میں کفر و شرک بدعات و خرافات میں مبتلا نہ ہوتا لیکن یہ اس اللہ کی مشیت اور مرضی ہے کہ اس نے انسان کے امتحان کے لئے خیر و شر کو پیدا کر کے یہ دیکھا ہے کہ کون ان میں سے خیر کا راستہ اختیار کرتا ہے اور کون شر اور شیطان کے بنائے ہوئے راستے پر چل کر اپنے لئے ابدی جہنم خریدتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت کا راستہ تو دکھاتا ہے لیکن جبر نہیں کرتا۔ اس کی قدرت تو یہ تھی کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں کو خیر پر چلنے والا بنا دیتا لیکن پھر اس انسان کا امتحان تو نہ ہوتا کیونکہ خیر کی پہچان تو شر سے ہوتی ہے۔ اگر دن ہی دن ہوتا اور کبھی رات نہ ہوتی تو دن کی پہچان اور قدر کیسے ہوتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رات اور دن کے آنے جانے کو بھی ایک نشانی اور اپنی رحمت قرار دیا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayahs 16:10–12

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے بلندی سے پانی برسایا جس سے تم خود بھی پیتے ہو اس سے سبزہ پیدا ہوتا ہے جس میں تم (ان جانوروں کو) چرنے کے لئے چھوڑ دیتے ہو۔

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

وہ اس سے تمہارے لئے کھیتی اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے۔ بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اسی نے تمہارے لئے دن اور رات کو بنایا چاند اور سورج کو مسخر کردیا اور ستارے بھی اس کے حکم کے تابع ہیں۔ بیشک اس میں لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل و سمجھ رکھتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 شراب پینے کی چیز۔ شجر درخت۔ تسیمون تم چرتاے ہو۔ ینبت اگاتا ہے۔ الزرع کھیتی۔ النخیل کھجور۔ الاعناب انگور۔ یتفکرون وہ غور و فکر کرتے ہیں۔ سخر اس نے مسخر کردیا۔ حکم کے تابع کردیا۔ الشمس سورج۔ القمر چاند۔ النجوم (النجم) ، ستارے۔ یعقلون جو عقل رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ اس نے اپنے پیغمبروں کو غفلت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ ان کو بتا سکیں کہ اس پوری کائنات کا وہ ایک ہی رب ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے ورنہ اللہ کا وہ فیصلہ آنے میں دیر نہیں لگے گی جو ان نافرمانیوں کے نتیجے میں قوموں پر آتا رہا ہے۔ اب ان آیات میں اس کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے کہ اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ زمین و آسمان کو پیدا کردیا بلکہ انسان کو زندگی گذارنے کے تمام اسباب بھی مہیا کئے۔ اس نے بلندیوں سے پانی برسا کر مردہ زمین کو دوبارہ زندگی دیدی۔ وہی پانی ہے جس کو انسان پیتے ہیں اس پانی سے وہ اپنے درختوں اور کھیتوں کو سینچتے ہیں جس کے نتیجے میں ہر طرح کے ثمرات اگ آتے ہیں۔ زیتون کھجور اور انگور کے درخت سر سبز و شاداب ہوجاتے ہیں اس نے دن کام کے لئے رات آرام کے لئے بنائی، چاند، سورج اور ستارے پیدا کئے جو اللہ کے حکم کے تابع ہیں عقل و فکر رکھنے والے لوگوں کے لئے اس میں ہزاروں نشانیاں پوشیدہ ہیں۔ اگر کوئی انسان اللہ کی ان مخلوقات میں غور و فکر کرتا ہے تو خلاق تک پہنچنا بہت آسان ہے۔ لیکن اگر وہ آس پاس کی ہزاروں چیزوں پر سے گذر جائے اور غور و فکر نہ کرے تو یہ اس کی بدنصیبی ہے۔
Ayahs 16:13–21

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

(اور وہ اللہ ہی تو ہے جس نے ) تمہارے لئے زمین میں چیزوں کو بکھیر دیا ہے جن کے مختلف رنگ ہیں۔ بیشک ان چیزوں میں سمجھ رکھنے والوں کے لئے نشانی ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کردیا تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے زیورات کے لئے وہ چیزیں نکالو جن کو تم استعمال کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں پانی کو چیر کر چلتی ہیں تاکہ تم اس کا فضل و کرم تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر کرو

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں پہاڑ کے بوجھ رکھ دیئے تاکہ وہ زمین تمہیں لے کر ایک طرف نہ ڈھلک جائے، اور اس نے نہریں اور راستے بنا دیئے تاکہ تم راہ پا سکو

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور اسی نے (راستے کے لئے) علامتیں بنائیں اور ستاروں سے بھی وہ رساتہ پاتے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

کیا پھر وہ جو پیدا کرتا ہے اس کے برابر ہو سکتا ہے جو (کسی بھی چیز کو) پیدا نہیں کرتا۔ کیا پھر بھی تم غور و فکر نہیں کرتے

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اس اللہ کو نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے اور بیشک اللہ بہت مغفرت کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اللہ اس کو خوب جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

یہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ایک دن وہ اٹھائے جائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21 ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔ تشریح : آیت نمبر 13 تا 21 اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو واضح طریقہ پر ارشاد فرمایا ہے کہ اسی نے اپنے علم و حکمت سے اس نظام کائنات کو بنایا ہے۔ اگر انسان کو پیدا کیا تو اس کے لئے زندگی گذارنے کے تمام سامان و اسباب بھی پیدا فرمائے ہیں۔ انسان رات کو سو کر صبح اٹھتا ہے دن بھر اپنی روزی کما کر اپنے گھر لوٹتا ہے۔ اپنے بیوی بچوں میں پہنچ کر خوش ہوتا ہے تھک ہار کر سو جاتا ہے۔ اسی طرح اس کے دن اور رات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اس کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس دن رات کے پیچھے کتنا بڑا نظام قائم کیا ہوا ہے۔ قرآن کریم بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان اگر ایک لمحہ رک کر اتنا ہی سوچ لے کر اتنے بڑے نظام کو کس نے قائم کیا ہے۔ جب انسان غور کرے گا تو وہ یقینا اس نتیجہ تک پہنچ کر رہے گا کہ اس پورے نظام کو چلانے والی کوئی ہستی ہے۔ لوگوں نے انسانوں کے سیدھے پن سے فائدہ اٹھا کر ان کو یقین دلا رکھا ہے کہ اس دنیا کو اور اس کے اسباب کو پیدا کرنے والے ان کے پتھر کے یہ بےجان بت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کہ جو بت اپنے وجود میں دوسروں کے ہاتھوں کے محتاج ہوں۔ ان کی ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو وہ بت اتنی بھی طاقت نہیں رکھتے کہ اس مکھی کو اپنے وجود سے بھگا دیں۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ کیا لوگوں کو اتنا بھی شعور نہیں ہے کہ اس سامنے کی حقیقت پر غور کرلیں کہ اللہ نے سب کچھ پیدا کیا ہے لیکن ان بتوں نے کیا چیز پیدا کی ہے ؟ یہ تو خود اپنے وجود کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ دوسروں کے ہاتھوں کے محتاج ہیں اور پیدا کئے جاتے ہیں جو اپنے نفع اور نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں وہ دوسروں کو کیا نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ گزشتہ آیات میں ان نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا جو اللہ نے انسان کے لئے پیدا کی ہیں۔ اس سلسلہ میں فرمایا کہ اے لوگو ! کیا تم نے کبھی اس بات پر دھیان دیا ہے غور کیا ہے کہ ایک ہی زمین ہے، فضا بھی ایک، پانی کے قطرات بھی ایک لیکن درختوں پر یہ طرح طرح کے رنگ کس نے بکھیر دیئے ہیں یقینا وہ صرف ایک ہی ذات ہے یعنی اللہ کی جس نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے وہ اللہ جس نے اتنے بڑے سمندر کو جو زمین سے بھی کئی گنا بڑا ہے اس کے کڑوے پانی میں ایسی مچھلیوں کو پیدا کیا جن کے گوشت میں کوئی کڑواہٹ نہیں ہوتی بلکہ آدمی مچھلیوں کو مزے لے لے کر کھاتا ہے۔ اس سے ایسے مونگے اور متوی پیدا کئے ہیں جن کو نکال کر تجارت کی جاتی ہے اس سے ہار اور مختلف چیزیں بنا کر ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ عظیم الشان اور گہرائیوں والے سمندروں میں وہ جہاز ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک رواں دواں رہتے ہیں وہ جہاز اور کشتیاں جن کی حیثیت ایک تنکے سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن اللہ نے سمندر کو انسان کے قدموں تلے اس طرح تابع بنایا ہے کہ اس سے وہ ہزاروں فائدے حاصل کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ بلند وبالا اونچے اونچے پہاڑ جن کو زمین کا تو ازن قائم رکھنے کے لئے زمین کے اوپر ایک بوجھ بنا کر رکھ دیا تاکہ زمین ادھر ادھر ڈھلک نہ جائے ان پہاڑوں میں ہزاروں مع دنیات رکھ دیں۔ سونا، چاندی، ہیرے جواہرات، پانی کے بہتے چشمے اور ان ہی پہاڑوں کے اوپر پانی کو برف بنا کر جما دیا جو تھوڑا تھوڑا بہتا رہتا ہے ان سے چشمے، ندی ، نالے اور نہریں بن جاتی ہیں جن سے انسان اپنی کھیتیوں کو سیراب کرتا ہے خود پیتا ہے اپنے جانوروں کو پلاتا ہے اور ہزاروں طرح کے کیمیکل حاصل کرتا ہے۔ فرمایا کہ ذرا غور تو کرو کہ کروڑوں سال سے یہ پہاڑ اپنی جگہ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان سے کس کو فائدہ ہے یقینا انسان کو کیونکہ یہ اس کے لئے بنائے گئے ہیں جب قیامت آئے گی تو یہی پہاڑ جو جمے کھڑے ہیں وہ ریت کے ذرے بن کر بکھر جائیں گے۔ فرمایا کہ جب آدمی سمندروں کے درمیان پہنچتا ہے اور اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی منزل کہاں ہے ؟ اس کے لئے ستارے بنا دیئے جن کو علامت کے طور پر دیکھ کر آدمی اپنی منزل سے نہیں بھٹکتا غرضیکہ اللہ کی نعمتیں ہیں کہ اگر انسان ان کو شمار کرنا چاہے تو کر نہیں سکتا فرمایا کہ ان تمام چیزوں کو کس نے پیدا کیا۔ جس نے سب کچھ پیدا کیا اور جس نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ کیا وہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔ فرمایا کہ ہر شخص کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس اللہ ہی کو پکارے جس نے اس پوری کائنات اور اس کے نظام کو بنایا ہے غیر اللہ کو پکارنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ فرمایا کہ تمہارا اللہ تو وہ ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور رہے گا لیکن جن بتوں کو انسان نے اپنا معبود بنا رکھا ہے وہ تو ٹوٹتے پھوٹتے رہتے ہیں جو ان کی موت بھی ہے۔ ان مردوں یا مرجانے والوں کو اپنا معبود بنا لینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ انسان کو نہیں معلوم کہ وہ کب دوبارہ قیامت میں اٹھایا جائے گا لیکن اس کو یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ غیر اللہ کی عبادت و بندگی آخرت میں اس کے کسی کام نہ آئیگی۔ عبادت و بندگی کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ وہی خالق ہے اور وہی مالک ہے۔
Ayahs 16:22–25

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ پھر وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یقیناً اللہ ہر اس بات کو جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا اجتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پہلوں کے قصے کہانیاں ہیں۔

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(یہ اس لئے ہے) تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے پورے بوجھ بھی اٹھائیں اور کچھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں جنہیں وہ اپنی جہالت کی وجہ سے گم راہ کرچکے ہیں۔ سنوچ کہ وہ بہت برا بوجھ ہے جس کو وہ (اپنے اوپر) لاد رہے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 25 منکرۃ انکار کرنے والے۔ لا جرم یقینا ، قطعاً ۔ لایحب پسند نہیں کرتا ہے۔ ماذا کیا ؟ (حرف سوال) اساطیر (اسطورۃ) قصے، کہانیاں۔ لیحملوا تاکہ وہ اٹھائیں۔ اوزاراً (وزر) بوجھ۔ ساء برا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 سورۃ النحل کے آغاز سے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان ہو رہا ہے اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا پیدا کرنے والا خلاق و رازق صرف اللہ ہی ہے۔ یہاں سے یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ رب جس نے ہر چیز کو پیدا کیا وہ اپنی ذات میں اس طرح ” واحد “ یعنی ایک ہے جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتے اور ایمان نہیں لاتے وہ جہالت کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں جہاں سامنے کی ایک حقیقت اور ایک معقول بات کو بھی وہ ماننے سے انکار کر رہے ہیں اور تکبر سے اپنی گردنیں اکڑا کر چلتے ہیں۔ دین اسلام اور نبی مکرم ﷺ کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ ان کی حرکتوں کو دیکھنے والا اور سننے والا کوئی نہیں ہے حالانکہ چھپ چھپ کر باتیں کی جائیں یا کھلم کھلا۔ عاجزی کی جائے یا تکبر وہ اللہ سب کے حالات دلوں کی کیفیات اور کفار کی سازشوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ جب کچھ اجنبی لوگ ان کفار سے قرآن کریم کے متعلق پوچھتے ہیں کہ قرآن کیسی کتاب ہے ؟ تو وہ لوگوں کی نظر میں قرآن کریم کی حیثیت کو کم کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ تو گزشتہ قوموں کے قصے کہانیاں ہیں جو قرآن میں نقل کردیئے گئے ہیں۔ اسی طرح وہ نبی کریم ﷺ کے متعلق بھی ایسی بےسروپا باتیں کرتے ہیں جس سے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کے متعلق بدگمانیاں پیدا ہوجائیں۔ وہ چاہتے تھے کہ کوئی شخص حضور اکرم ﷺ کے قریب نہ جائے۔ کیونکہ جب وہ ان کے قریب جائیں گے تو ان کی سیرت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ قرآن کریم کی تلاوت سنیں گے تو ان کے دل متاثر ہوئے بغیر نہ رہیں گے لہٰذا ان کی پوری کوشش ہوتی کہ کسی طرح سننے والے کو اچھی طرح گمراہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی سرداری اور خاندانی بڑائیوں کے گھمنڈ میں یہ جس طرح اللہ کے کلام اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اس کا اور وہ خود جس گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں دونوں کی گمراہی کا بوجھ دوگنا وہ اپنے سر پر لے کر چل رہے ہیں وہ کل قیامت کے دن اتنے بوجھ کیسے اٹھا سکیں گے ؟ اس دن ان کو اس بات کا احساس ہوگا۔ کہ وہ اپنے سر پر کتنے ناقابل برداشت بوجھ لے کر آئے ہیں فرمایا کہ وہ لاعلمی اور جہالت کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو گمراہ تو کرسکتے ہیں لیکن وہ ذلت دور نہیں ہوگی کہ جب ان کے فریب کے پردے چاک ہوجائیں گے اور سچائی کا چہرہ نکھر کر سامنے آجائے گا۔ کیونکہ کوئی بھی سچائی جھوٹ کے پر فریب پردوں میں عرصہ تک چھپانا مشکل ہے۔
Ayahs 16:26–29

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگ مکر و فریب کرچکے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکا۔ پھر ان پر اوپر سے چھت گرپڑی اور ان پر عذاب اس طرح آگیا کہ جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا۔

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن اللہ ان کو رسوا کرے گا اور کہے گا کہ وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑتے تھے ؟ علم والے کہیں گے کہ بیشک آج کے دن رسوائی و ذلت اور کافروں کے لئے برا دن ہے

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

جب فرشتے ان کی جان نکالیں گے جو اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے۔ پھر وہ صلح کا پیغام ڈال کر کہیں گے کہ ہم تو کوئی برائی نہ کرتے تھے (فرمایا جائے گا) کیوں نہیں تم جو کچھ کرتے رہے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

اب تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ جس میں تم ہمیشہ رہو گے۔ پھر البتہ وہ تکبر کرنے والوں کے لئے بدترین ٹھکانہ ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 29 بنیان گھر۔ القواعد بنیادیں۔ خر گر پڑا۔ سقف چھت۔ فوق اوپر۔ یخزی وہ ذلیل و رسوا کرے گا۔ این کہاں ؟ شرکاءی میرے شریک۔ تشاقون تم لڑتے ہو۔ اوتوا العلیم جن کو علم دیا گیا۔ تتوفی جان نکالتے ہیں۔ القوا انہوں نے ڈالا۔ اسلم صلح کا پیغام۔ مثویٰ ٹھکانا۔ المتکبرین بڑائی کرنے والے۔ تشریح آیت نمبر 26 تا 29 گزشتہ آیات میں جس مضمون کو شروع کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی جا رہی ہے ساری دنیا کو اور خصا طور پر مکہ کے ان لوگوں سے خطاب کیا جا رہا ہے جو حج وغیرہ کے موقعوں پر آنے والے بیخبر لوگوں کے سامنے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی ذات کے متعلق حقارت سے ذکر کرتے تاکہ اجنبی آدمی کے دل میں شدید بدگمانی پیدا ہوجائے مثلاً قرآن کریم کے متعلق کہتے کہ اس میں کونسی نئی بات ہے وہی پرانے قصے ہیں جن قصوں کو قرآن نے نقل کردیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے متعلق کبھی کہتے کہ ان پر کسی جنوں یا جن کا سایہ ہوگیا ہے اسی لئے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں (نعوذ باللہ) ایسے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جو تکبر اور غرور کرتے ہوئے دین کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور لوگوں کو گم راہ کر رہے ہیں وہ ایک ایسے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کے بوجھ کو وہ قیامت کے دن اٹھا نہ سکیں گے فرمایا کہ یہی مکر و فریب ان سے پہلے کے لوگ بھی کرچکے ہیں۔ اللہ نے ان کو اتنی سختی سے پکڑا کہ وہ عاجز و بےبس ہو کر رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ان کی بنیادں سے اکھاڑ کر پھینک دیا اور ان کو اور ان کی اونچی اونچی بلڈنگوں، مکانات اور تہذیب و تمدن کو اس طرح توڑ پھوڑ کر رکھ دیا کہ آج ان کا وجود تک نہیں رہا ہے۔ ان کے کھنڈرات اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہیں کہ ان پر اللہ نے شدید عذاب نازل کر کے ان کی زندگیوں اور تہذیب و تمدن کو نشان عبرت بنا دیا ہے۔ انہوں نے دین اسلام کے خلاف جو بھی تدبیریں کیں اللہ نے ان تدبیروں کو ان پر ہی الٹ دیا۔ یہ تو اس دنیا کی ذلت و رسوائی ہے لیکن جب قیامت میں وہ اللہ کے سامنے پہنچیں گے تو اس سے بھی زیادہ ذلت و رسوائی میں مبتلا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سوال فرمائیں گے تم نے قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کے متعلق بہت سی جھوٹی باتی کی تھیں تاکہ تمہارے ہاتھوں کے بنائے ہوئے جھوٹے معبودوں کی عظمت بڑھ جائے۔ فرمایا جائے گا کہ وہ اللہ کے شریک کہاں ہیں جن پر تم نازل کیا کرتے تھے ؟ اور ان کے لئے لوگوں سے جھکڑتے تھے اور اللہ کے سچے نبیوں کو جھٹلاتے تھے۔ آج وہ تمہاری مدد کو کیوں نہیں آجاتے ؟ ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ وہ تو کچھ نہ بول سکیں گے لیکن جن کو اللہ تعالیٰ نے صحیح علم عطا فرمایا تھا وہ کہیں گے کہ اے رب العالمین آج کے دن ساری ذلت و رسوائی ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے کفر و شرک کیا تھا اور ایمان قبول نہیں کیا تھا وہ لوگ جنہوں نے اپنے اوپر ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی۔ جب فرشتے ان کی جان نکالنے آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم نے درحقیقت کوئی کفر اور شرک نہیں کیا تھا نہ ہماری مجال تھی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ تم دنیا میں کیا کیا کرتے رہے تھے۔ آخر اللہ تعالیٰ ان تکبر اور غرور کرنے والوں کے لئے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو لے جا کر جہنم میں جھونک دو یہ اسی قابل ہیں اور یہ کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں اب یہ ہمیشہ ہمیشہ اسی جہنم میں رہیں گے۔
Ayahs 16:30–34

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جب اہل تقویٰ سے کہا جائے گا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ؟ تو وہ کہیں گے کہ بھلائی نازل کی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے نیکی کی ہے ان کے لئے اس دنیا میں بھی بہتری ہے اور آخرت میں بھلائی ہے۔ اور اہل تقویٰ کا ٹھکانہ کتنا بہترین ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کی ایسی جنتیں ہوں گی جن میں وہ داخل ہوں گے۔ ان کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ان میں ان لوگوں کے لئے ہر وہ چیز ہوگی جو وہ چاہیں گے اور ہم تقویٰ والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

اور جب فرشتے ان کی جان نکالیں گے تو وہ پاکیزہ صفت ہوں گے۔ (فرشتے کہیں گے کہ) تم پر سلامتی ہو۔ اپنے بہتر اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے تھے جنت میں داخل ہوجاؤ۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کفار کے لئے فرمایا گیا کہ اب یہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ یا تو فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکم (فیصلہ) آجائے۔ درحقیقت یہی بات ان سے پہلوں نے بھی کہی تھی اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

بلکہ وہ خود ہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے۔ پھر جو کچھ انہوں نے کیا اس کی سزا ان کو ملی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان پر مسلط ہو کر رہا۔

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 34 خیر خیر، بھلائی، دارلاخرۃ آخرت کا گھر۔ نعم اچھا ، بہتر۔ عدن ہمیشہ۔ طیبین پاک صاف۔ امر حکم، فیصلہ۔ یظلمون وہ ظلم اور زیادتی کرتے ہیں۔ اصاب پہنچا۔ حاق گھیر لیا، پہنچ گیا۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 34 گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کفار و مشرکین سے کوئی اجنبی آدمی یہ سوال کرتا تھا کہ یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور جس قرآن کو وہ سناتے ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ جواب دیتے کہ قرآن کیا ہے (نعوذ باللہ) گذرے ہوئے لوگوں کے کچھ قصے کہانیاں ہیں جو اس کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔ قرآن کریم کی حقارت کے ساتھ ساتھ وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی ایسی باتیں کرتے تھے جس سے دوسرے آدمی کے دل میں غلط فہمی پیدا ہوجائے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی شخص نبی کریم ﷺ کے قریب جائے اور وہ قرآن کریم کی عظمت و شان سے واقف ہو سکے۔ فرمایا کہ ایک تو یہ کفار و مشرکین ہیں جو اللہ کی آیات سن کر اپنی آخرت کو تباہ کرتے ہیں اور اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں اس کے برخلاف دوسری طرف کچھ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آتے ہیں اور انہوں نے تقویٰ و پرہیز گاری کی زندگی اختیار کرلی ہے ان کو ہر طرح کا اجر وثواب عطا کیا جائے گا ان کا طرز عمل یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اللہ نے ہمارے لئے وہ سچائی نازل کی ہے جس میں خیر ہی خیر ہے۔ اس دنیا کی زندگی کی بہتری بھی ہے اور آخرت کی خیر اور بھلائی تو اس سے بھی زیادہ ہے وہاں ہر شخص کو اس کی محنت اور تقویٰ کا پھل ملے گا۔ کسی کی کوئی نیکی اور بھلا کام ضائع نہ ہوگا۔ اور اس پر تصور سے بھی زیادہ اجر وثواب ملے گا۔ دنیا میں بھلائی اور خیر تو یہ ہے کہ قدم قدم پر کامیابی، نیک نامی، فارغ البالی، اطمینان قلب، حکومت و سلطنت وغیرہ حاصل ہونگی اور آخرت میں نجات اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روحانی مسرت و سکون نصیب ہوگا ۔ فرمایا کہ اہل تقویٰ کے لئے اللہ نے ایسی جنتیں مقدر کی ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی یعنی خوب سرسبزی و شادابی ہوگی اور وہ جو چاہیں گے ان کو عطا کیا جائے گا یہ ان کی نیکی اور تقویٰ کا انعام ہوگا ۔ ان کو موت کے وقت عزت اور آسانی بھی نصیب ہوگی کہ جب موت کے فرشتے ان کے سامنے آئیں گے تو ان پر اللہ کی سلامتی بھیجتے ہوئے آئیں گے اور ان کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے کہیں گے جنت ہی تمہارا مقام ہوگا ۔ اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ان ہٹ دھرم اور ضدی لوگوں کی پرواہ نہ کرو جو اس بات کے منتظر بیٹھے ہیں کہ اللہ کے فرشتے خود آ کر ان سے کہیں گے کہ تم اللہ پر ایمان لے آؤ یا اللہ ہی کا کوئی فیصلہ آجائے۔ فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی جو لوگ گذرے ہیں ان کا یہی حال تھا اور انہوں نے کبھی سچائی کو دل سے قبول نہیں کیا لیکن جنہوں نے انبیاء کرام کی تعلیمات کو مان لیا۔ نیکی اور پرہیز گاری کی زندگی کو اپنا لیا وہ تو سرخ رو ہوئے لیکن جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کیا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے پرہیز گاری کی زندگی کو اپنا لیا وہ تو سرخ رو ہوئے لیکن جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کیا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے دین و دنیا کو برباد کرلیا۔ فرمایا کہ ہم کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے بلکہ لوگ خود ہی اپنے آپ پر ظلم و ستم کرتے ہیں جس کی ان کو سزا مل کر رہتی ہے اور جن سچائیوں کا وہ مذاق اڑاتے رہتے ہیں اس کا عذاب ان پر مسلط ہو کر رہے گا۔
Ayahs 16:35–37

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنہوں نے شرک کیا۔ کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا اس کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرتے اور نہ ہم اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھراتے۔ (اللہ نے فرمایا کہ ) اسی طرح ان سے پہلے لوگ بھی ایسا کرچکے ہیں۔ (لیکن یاد رکھو) ہمارے رسولوں کی ذمہ داری صاف صاف پہنچا دینا ہے۔

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور البتہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے (جس نے ایک ہی بات کہی ہے کہ ) تم اللہ کی عبادت و بندگی کرو اور شیطان سے بچتے رہ۔ ان میں سے بعض تو وہ ہوئے ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دیدی اور بعض ان میں سے وہ ہوئے ہیں جن پر گم راہی مسلط کردی گئی۔ پھر زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ؟

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اگرچہ آپ کی یہ تمنا ہے کہ وہ ہدایت پر آجائیں لیکن جس کو اللہ ہی بھٹکا دے اس کو نہ تو رساتہ ملتا ہے اور نہ ان کی مدد کے لئے کوئی آگے آتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37 ماعبدنا ہم نے عبادت و بندگی نہیں کیا۔ لاحرمنا ہم حرام نہ کرتے۔ البلاغ پہنچا دینا ہے۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اجتنبوا بچتے رہو۔ الطاغوت شیطان، سرکش۔ حقت ثابت ہوگیا۔ سیروا چلو پھرو۔ عاقبۃ انجام۔ ان تحرص اگر آپ کی شدید خواہش ہے۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 37 بے جا ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی ایک ایسی بری عادت ہے جو انسان کو ہر خیر اور بھلائی سے اس طرح محروم کردیتی ہے کہ اس کو سامنے کی حقیقت بھی نظر نہیں آتی مثلاً جب کفار و مشرکین سے یہ کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے کفر، شرک اور ہر طرح کے گناہوں سے توبہ کرلیں تو وہ یہ کہتے تھے کہ جب تم یہ کہتے ہو کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت اللہ ہی کی ہے تو ہم کیا کریں اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرتے نہ ہم اور ہمارے باپ دادے شرک اور کفر کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام کہتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس جاہلانہ بات کا جواب یدنے کے بجائے یہ ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان کی احمقانہ باتوں کی پرواہ نہ کیجیے اسی طرح ان سے پہلی قوموں نے بھی ایسی ہی باتیں کی تھیں اور پھر وہ اپنے بد اعمالیوں کے سمندر میں غرق ہوچکی ہیں۔ فرمایا کہ اللہ کے رسول کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کی سچائی کو پورے خلوص اور محنت سے ان تک پہنچا دے جو کفر کی وادیوں میں اپنے سر ٹکراتے پھر رہے ہیں اگر یہ مانتے ہیں تو ان کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں مل جائیں گی اور اگر انہوں نے گزشتہ امتوں کے جیسے طریقے اختیار کئے تو وہ بھی گزشتہ قوموں کی طرح اپنے برے انجام سے نہیں بچ سکتے۔ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو ذرا بھی عقل ہوتی تو یہ ان کھنڈرات کو جا کر دیکھتے جن میں ان ہی جیسے انسان رہتے تھے لیکن اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے وہ اور ان کے گھر بار نشان عبرت بن چکے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے جس نے ایک ہی پیغام دیا ہے کہ اے لوگو ! تم سب اللہ ہی کی عبادت و بندگی کرو اور شیطان اور کفر و شرک کے کاموں سے بچو۔ جنہوں نے اس پیغام ہدایت کو سن کر اور اس کے رسول کی اطاعت اختیار کرلی وہ تو کامیاب ہوگئے لیکن جنہوں نے کفر و شرک کر کے اپنے اوپر ذلالت و گمرایہ کی مہریں لگوا لی ہیں وہ سخت ناکام ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ ان قوموں کے گھر بار اور ان کے تہذیب و تمدن کے کھنڈرات پر کیوں غور نہیں کرتے کہ ان کا کتنا بھیانک انجام ہوا۔ آخر میں فرمایا کہ اے نبی ﷺ ہم جاتنے ہیں کہ آپ کی یہ تمنا ہے کہ دنیا بھر کے تمام لوگ ہدیات پر آجائیں اور گم راہی سے توبہ کرلیں لیکن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو نہ تو ہدایت دیتا ہے اور نہ کوئی مدد کرتا ہے جنہوں نے کفر و شرک کرتے اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنا لیا ہے۔ اب ان کا انجام تو یہی ہے کہ ان پر بھی وہی عذاب مسلط کردیا جائے جو ان سے پہلی امتوں پر نازل کیا گیا تھا۔
Ayahs 16:38–40

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور وہ زور دار قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اسے قیامت کے دن اللہ (دوبارہ) نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں ؟ اس پر اس کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

جس چیز میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے وہ اس کو ظاہر کر دے گا اور یہ کافر جان لیں گے کہ بیشک وہی لوگ جھوٹے ہیں۔

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

ہم جس چیز کو وجود دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ” ہوجا “ پھر وہ ” ہوجاتی ہے۔ “

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 40 اقسموا انہوں نے قسم کھائی۔ جھد ایمان قسموں میں زور دار۔ لایبعث دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ اردنا ہم نے ارادہ کیا۔ تشریح : آیت نمبر 38 تا 40 نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی کے جھوٹا ہونے کی سب سے بڑی دل یل یہ ہے کہ وہ بات بات پر قسم کھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کو قسمیں کھانے کی عادت پڑجائے وہ بڑی سے بڑی سچائی کو جھٹلانے سے بھی باز نہیں آتا۔ بخاری و مسلم میں ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ ایک صحابی رسول ﷺ کا کسی کافر پر کچھ قرض تھا وہ مسلمان صحابی اس سے قرض واپس کرنے کا مطالبہ کرتے تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتا اور آخر کار اس نے قرض واپس کرنے سے انکار کردیا۔ صحابی رسول ﷺ نے کہا کہ مجھے تو آخرت پر یقین ہے وہاں ایک ایک بات کا بدلہ ملے گا۔ اس کافر نے اللہ کی قسم (جوان کے نزدیک سب سے اہم قسم ہوتی تھی) کھا کر کہا کہ جب انسان گل سڑ کر ختم ہوجائے گا تو اس کو دوبارہ اٹھایا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ بخاری و مسلم میں یہ بھی آتا ہے کہ اس کا فر نے (مذاق اڑاتے ہوئے) کہا اچھا دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا ؟ تب وہاں مجھ سے قرض وصول کرلینا۔ یہ اور اسی طرح کی بہت سی باتوں پر وہ مذاق اڑاتے اور آخرت کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کے لئے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی قسمیں کھا کر یہ کہتے ہیں کہ جب آدمی مر جائے گا تو اس کا دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا یعنی زندہ ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ فرمایا کہ کیوں نہیں یہ تو اللہ کا سچا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ اس حقیقت سے اکثر لوگ ناواقف ہیں اور جہالت کے اندھیروں میں دھکے کھا رہے ہیں۔ وہ قیامت کا دن ایسا ہوگا۔ کہ صرف مرنے والے ہی دوبارہ پیدا نہیں ہوں گے بلکہ دنیا میں وہ جن باتوں کا اور دین حق کا انکار رتے تھے اس کا پورا پورا حساب لیا اجئے گا۔ اس دن ان کافروں کو پتہ چل جائے گا کہ وہ اپنے عقیدے اور فکر میں کس قدر بڑی غلطی پر تھے۔ فرمایا کہ شاید ان کا یہ خیال ہے کہ ایسا کس طرح ممکن ہوگا۔ یعنی جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ذرہ ذرہ بن کر بکھر جائیں گے تو ہمارے اجزا کو کیسے جمع کیا جائے گا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کے کرنے میں اسباب اور چیزوں کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ حکم دیتا ہے کہ ” ہوجا “ تو وہ چیز ہوجاتی ہے۔ اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا دن مقرر کیا ہوا ہے جس میں ابتدائے کائنات سے قیامت تک جتنے بھی انسان ہیں ان کو اپنے حکم سے دوبارہ زندہ کرے گا اور ایک ایک بات کا حساب و کتاب لے کر اس کے لئے فیصلے فرمائے گا۔ اس میں کسی طرح کے شک کی گنجائش نہیں ہے۔ ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو دنیا کی اس مختصر سی زندگی میں انسان کے کئے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ مل ہی نہیں سکتا عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ایک اور جہاں ہو جہاں حق و صداقت پر چلنے والوں کو ان کا پورا پورا بدلہ ملے اور جنہوں نے کفر و شرک اور بدعات میں اپنا وقت گذارا ہے ان کو ان کے گناہوں کی پوری پوری سزا دی جائے۔ ہر مومن کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ قیامت آئے گی اور تمام انسانوں کے بھلے برے اعمال کا فیصلہ کر کے ان کو جنت یا جہنم کی ابدی زندگی میں داخل کیا جائے گا۔ کافر یہ سمجھتا ہے کہ بس یہ دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے۔ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان آیات میں ان دونوں نظریات اور ان کے نتائج کو بیان فرمایا گیا ہے۔