16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsسراج البیان

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

اللہ کا حکم آیا چاہتا ہے سو اس کی جلدی نہ کرو ، انکے شرک سے وہ پاک اور بلند ہے ۔ (ف 1) ۔

عذاب آچکا !: (ف 1) حضور ﷺ مخالفین سے کہا کرتے تھے ، کہ اگر تمہارا کفر وعناد اسی طرح قائم رہا ، اور نفس کی ظغیانیوں میں کوئی فرق پیدا نہ ہوتا اور تم بدستور اللہ کی نعمتوں کو ٹھکراتے رہے ، تو یاد رکھو ، قانون انتقام برروئے کار آئے گا ، اور تمہیں بیخ وبن سے اکھاڑ دیا جائے گا ۔ وہ لوگ بار بار ازراہ تمسخر کہتے ، وہ عذاب کہاں ہے ؟ کیوں آسمان نہیں ٹوٹ پڑتا ، اور کیوں زمین نہیں پھٹ جاتی ، اللہ کی غیرت کیوں جوش میں نہیں آتی ؟ اور یہ کیا ہے کہ ہم باوجود نافرمانیوں کے زندہ ہیں ؟ کیا اللہ کو ہمارا کفر پسند ہے ، کیا ہم حق پر ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، گھبراتے کیوں ہو ؟ جلدی نہ کرو ، عذاب آچکا ، اللہ کے ہاں تمہاری تباہیوں اور بربادیوں کا فیصلہ ہوچکا ، قضا وقدر نے تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا تہیہ کرلیا ، اس وقت تک تمہیں مہلت دی گئی تھی تاکہ گناہوں سے باز آؤ ، اور اللہ کی طرف جھک جاؤ ، اور اب جبکہ تم نے اللہ کی دی ہوئی ڈھیل سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا ، تمہارا فنا کے گھاٹ اتر جانا یقینی ہے ۔ بدر کے میدان میں تم سے انتقام لیا جائے گا موت تمہارے سر پر منڈلا رہی ہے ، قیامت قریب ہے ، جب وقت آئے گا بات پوری ہوجائے گی ، اور تم عذاب میں مبتلا ہو گے اس وقت تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا ، اور کوئی قوت تمہارے کام نہیں آسکے گی ،
Ayahs 16:2–3

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی اپنے حکم سے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے بندوں میں سے جس کی طرف چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ ڈارؤ کہ سوائے میرے کوئی معبود نہیں ، سو مجھ سے ڈرو (ف 2) ۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک پیدا کیا ان کے شریکوں سے (بہت ہی) بلند ہے ۔

(ف 2) یعنی نبوت اللہ کی بخشش وموہبت ہے ، اس میں کسب واکتساب کو دخل نہیں ، یہ اللہ کا دین ہے جسے چاہے ، دیدے ، روح سے مراد وحی ہے ، یا جبرائیل ہے جو حامل وحی ہیں ، غرض یہ ہے کہ فرشتے جب نبوت کا خلعت لے کر آتے ہیں تو ان کی تلقین یہی ہوتی ہے کہ ایک خدا کے سامنے جھکو ایک اللہ کی عبادت کرو ، وہ شرک کی تائید کے لئے نہیں آتے ۔ غیر اللہ کی پرستش کے لئے وہ نہیں کہتے ان کا نصب العین توحید کی اشاعت اور اطاعت الہی ہوتا ہے ۔
Ayahs 16:4–5

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

آدمی کو نطفہ سے پیدا کیا ، پھر وہ فورا ہی صریح جھگڑالوہو گیا (ف 1) ۔

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چار پائے پیدا کئے ان میں تمہارے لئے جاڑے کے کپڑے اور کئی فائدے ہیں اور بعض کو ان میں سے کھالتیے ہو ۔

(ف 1) نطفۃ سے مراد آب معانی ہے ، قرآن حکیم عام طور پر ایسے مقامات میں بہترین الفاظ استعمال کرتا ہے جن سے ذوق سلیم ابانہ کرے ، غرض یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت پر غور کرے اور سوچے کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے پانی کے ایک قطرے سے جیتا جاگتا انسان بنا دیتا ہے ۔
Ayahs 16:6–8

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں زینت ہے جب شام کو لاتے اور چرنے جاتے ہو (ف 2) ۔

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور وہ تمہارا بوجھ اس بستی تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر جان توڑ مشقت کے نہیں پہنچ سکتے تھے ، بیشک تمہارا رب شفقت کرنے والا مہربان ہے ۔

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے تمہاری سواری اور زینت کے لئے پیدا کئے اور اب پیدا کرتا رہتا ہے تو تم نہیں جانتے ۔

(ف 2) ان آیات میں حیوانات کا ذکر ہے کہ کیونکر اللہ نے ان کو تمہارے لئے مفید بنایا ہے ، ان میں کس قدر تمہارے لئے منافع ہیں ۔ انداز بیان ان لوگوں کے لئے جو دیہاتی زندگی کی ضروریات سے آگاہ ہیں نہایت دلچسپ وجاذب ہے ۔ (آیت) ” ویخلق ما لا تعلمون “۔ میں ان بیشمار ایجادات نو کی جانب اشارہ ہے جو باربرداری اور سواری کے کام آسکتی ہیں اور جن سے بجائے حیوانات کام لیا جاسکتا ہے ۔ نزول قرآن کے وقت یہی گھوڑا ، گدھا ، اور اونٹ وغیرہ موجود تھے ، اس لئے ان کے منافع گنائے ہیں مگر چونکہ یہ کتاب تمام زمانوں کے لئے راہنما ہے ، اس لئے ارشاد فرمایا ، کچھ ایسے برتی اور غیر برتی حیوانات بھی ہیں ۔ جن کو اس وقت تم نہیں جانتے ۔ مگر آئندہ زمانے میں وہ ظاہر ہوں گے ۔ حل لغات : خصیم : جھگڑالو ۔ دف : حرارت گرمی ۔ تمرحون : سرح کے معنی مطلق مال ڈھور کو چراگاہ میں چھوڑنے کے ہیں ۔
Ayahs 16:9–12

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھی راہ جو ہے خدا پر پہنچتی ہے اور بعض راہ ٹیڑھی بھی ہے اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت کرتا ، (ف 1) ۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان سے پانی اتارا اس سے تم پیتے ہو اور اس سے درخت ہوتے ہیں جہاں تم جانور چراتے ہو ۔

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اس سے تمہارے لئے کھیتی اور زیتون ، اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے میوے اگاتا ہے ، بیشک فکر کرنے والوں کے لئے اس میں نشانی ہے ۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور تمہارے لئے رات اور دن ، اور سورج اور چاند کو اس لئے مسخر کیا ، اور ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں ، بیشک اہل عقل کے لئے اس میں نشانیاں ہیں ۔

فلسفہ اختلاف : (ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اختلاف رنگ وبو کو قائم رکھا ہے ، اور اس گلشن حیات میں جو زندگی رکھی ہے ، وہ بھی بو قلموں اشجار پر لیل ونہار میں اختلاف ہے ، اندھیرے اور اجالے میں اختلاف ہے پھول ، پتے ، اور کانٹے میں اختلاف ، آہن وسیم ، میں اختلاف ہے ، حقیقت وملمع میں اختلاف ہے ، سچ اور جھوٹ میں اختلاف ہے ، حق و باطل میں اختلاف ، اللہ نے اس بزم کو انواع و اقسام کے لوگوں سے آراستہ کیا ہے ۔ گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن ۔ اے ذوق اس جہان کو ہے زیب اختلاف ہے ۔ کچھ وہ ہیں کہ فطرت میں سلامتی ہے حق کے جویاں ہیں ، طبیعت میں غور اور فکر کرنے کا مادہ ہے ، یہ ہدایت پر ہیں ، کچھ ایسے ہیں جو گٹھل ہیں ، کند ذہن لے کر آتے ہیں ، جن کے کان حق کی آواز کو نہیں سنتے جو دل کے مقفل ہیں اور معارف الہیہ سے محروم ہیں ، یہ تقسیم خدا کی طرف سے ہے ، اللہ اگر چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا ، مگر اس لئے کہ حق و باطل میں امتیاز ہوسکے ، اور حق پوری تابانی کے ساتھ چمک سکے باطل کی تاریکی باقی رکھا ہے ۔ آیت کا یہی مقصد ہے کہ توفیق اللہ کی جانب سے عطا ہوتی ہے ، اور بندوں کا کام ہدایت کے لئے سعی وطلب کو جاری رکھنا ہے ۔
Ayahs 16:13–19

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو اس نے تمہارے لئے زمین میں مختلف رنگوں کی چیزیں پھیلائی ہیں بیشک اس میں نصیحت پکڑنے والوں کے لئے نشانی ہے (ف 1) ۔

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے دریا کو قابو کیا ، تاکہ تم اس سے تازہ گوشت (مچھلی) کھاؤ ، اور اس میں سے زیور (موتی مرجان) نکالو ، جسے تم پہنتے ہو اور تو دیکھتا ہے کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے معیشت طلب کرو اور تاکہ تم شکر گزار ہو ،

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو اس لئے گاڑا کہ وہ تمہیں لے کر کہیں جھک نہ پڑے ، اور نہریں اور سڑکیں بنائیں ، تاکہ تم راہ پاؤ ۔

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور بہت سی نشانیاں بنائیں ، اور وہ ستاروں سے راہ پاتے ہیں ۔

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو کیا جو پیدا کرے برابر ہے اس کے جو کچھ نہ پیدا کرے کیا تم سوچتے نہیں ؟ ۔

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرو تو انہیں پورا نہ کرسکو گے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو ، اللہ جانتا ہے ۔

(ف 1) قرآن چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے وہ عجائب مخلوقات سے استدلال کرتا ہے ، وہ کہتا ہے آسمان کو دیکھو پانی اور بارش کے فوائد پر غور کرو ، کیونکر کھیت اور باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں ، اور کیونکر بہترین پھل اور اثمار پیدا ہوئے ہیں کیا اس میں غور وفکر کے لئے کافی سامان موجود نہیں ؟ ۔ رات اور دن کی ترتیب سورج چاند اور ستاروں کی باقاعدہ گردش ان میں جو لانی عقل کے لئے کس قدر میدان ہے اسی طرح اشجار رنگا رنگ میں قدرت کی کس قدر صنعت کاریاں نمایاں ہیں ، اور باعث تذکیر ونصیحت ہیں ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے ، کہ ان سب باتوں کو سوچو ، غور کرو ، تو فکر عقل اور ذکر کا تمہیں وافر ذخیرہ ملے گا ، غرض یہ ہے کہ مسلمان ، حیوانات ، نباتات ، اور علم الفضا سب علوم کے ماہر ہوں ، اور اللہ کا شکر ادا کریں ، تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں اور صحیح معنوں میں اللہ کے شاکر بندے بنیں ۔ (آیت) ” ولعلکم تشکرون “۔ سمندر کے ان فوائد سے متعلق ہے جو زمانہ حال میں ظاہر ہوئے ، آج سمندر پر قبضہ واستیلاء استعمار کے لئے بہترین ذریعہ ہے ، افسوس مسلمان ” شکر “ کے اس عظیم ووسیع مفہوم اور نفع سے آگاہ و متمتع نہیں ۔ حل لغات : ذرا : پیدا کیا ذریت اسی سے مشتق ہے ۔ لحما طریا : یعنی مچھلی ۔
Ayahs 16:20–21

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن کو وہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کرسکتے ، اور آپ پیدا ہوتے ہیں (ف 1) ۔

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

مردہ ہیں جن میں جی نہیں ، اور انہیں معلوم نہیں ، کہ کب اٹھائے جائیں گے ،

بتوں نے کیا پیدا کیا ہے جو اسن کی پوجا کرتے ہو ۔ (ف 1) مکہ والے بت پرست تھے لات ومنات کی پوجا کرتے ، پتھروں کی پرستش کرتے اور ان اصنام کو خدا جانتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کیا ان بتوں کا کائنات میں کچھ ہے ؟ کیا زمین وآسمان میں کسی چیز کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ یا یہ کہ خود مخلوق ہیں ۔ اللہ کی نعمتیں بیشمار ہیں ، ایک ایک سانس جو ہم لیتے ہیں ، اس کے لئے اللہ کے ہزاروں قانون سرگرم عمل ہیں ، عمر بھر اگر اس کی توصیف میں صرف کردیں ، جب بھی اس کی حمد سے عہد برآء نہ ہو سکیں ، وہی تو ہے جس نے ہمیں خلعت وجود بخشا ہے ۔ اور زندگی عنایت کی ہے ہمیں ضمیر اور عقل سے نوازتا ہے نعمتیں دی ہیں ، اور ہمیں اس قابل بنایا ہے کہ دنیا میں مصائب کا مقابہ کرسکیں ، ایسے محسن خدا کو چھوڑ کر پتھروں کو پوجا کہاں کی دانشمندی ہے ۔ مذکور باطن ہو اسے برہمن ذرا تو چشم تیز ذاکر خدا کا بندہ بتوں کو سجدہ خدا خدا کو خدا خدا کر ۔ مکے والوں سے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کچھ تو سوچو ، اور غور کرو تم کہاں تک حق بجانب ہو ، وہ بت جو نعمت حیات سے محروم ہیں مردہ ہیں ، وہ تمہاری ضروریات کو کیونکر پورا کرسکتے ہیں ، اور کس طریق سے تمہیں زندگی بخش سکتے ہیں ؟ ع کل کے ترشے ہوئے بت آج خدا بنتے ہیں ۔ “ عجیب بات یہ ہے کہ باوجود اس فضیلت کے جو عقید توحید میں موجود ہے ، لوگ زیادہ تر شرک ہی کی جانب مائل ہیں حالانکہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ تمام لوگ ایک اللہ کی چوکھٹ پر جبہ سائی کریں ۔ حل لغات : اموات غیر احیآء : بےجان لاشیں ، حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں ، بتوں کے متعلق ہیں ۔
Ayahs 16:22–25

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود ایک معبود ہے ، سو جو آخرت کو نہیں جانتے ، ان کے دل انکاری ہیں ، اور وہ سرکش ہیں ، (ف 1) ۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

بلا شک ٹھیک ہے کہ خدا کو معلوم ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ، بیشک وہ سرکشوں کو پسند نہیں کرتا ،

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارا رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں ۔

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

تاکہ قیامت کے دن اپنے پورے بوجھ اور جنہیں بےعلمی سے گمراہ کیا ان کے بوجھوں میں سے بھی کچھ بوجھ اٹھائیں سنتا ہے برا بوجھ ہے جو اٹھاتے ہیں ۔

(ف 1) آخرت کے عقیدہ کو اسلام نے نہایت اہمیت کے ساتھ پیش کیا ہے ، کیونکہ جب تک نظام مکافات پر یقین نہ ہو ، اور جزاء وسزا کو نہ مانتا ہو ، ناممکن ہے کہ اخلاق و عادات کی درستی ہو سکے ، مگر جب آخرت کا ڈر دل سے اٹھ جاتا ہے تو دلوں میں انکار و وتمرد پیدا ہوجاتا ہے ، کیونکہ جب زندگی یہی تک محدود ، قیامت ، حشرنشر ، سب افسانہ ہے ، اگر جوابدہی اور مکافات عمل کا مسئلہ غلط ہے ، اور مرنے کے بعد جی اٹھنا محال ہے تو شرافت اور نیکی کی ضرورت ہے ، ؟ جب ظالم اور مظلوم دونوں کے لئے ابدی فنا ہے ، تو پھر کوئی شخص ظلم سے کیوں باز آئے رحم مروت ، انصاف اور حسن سلوک کی کیا حاجت رہی ، اور انسان کیوں نہ انتہا درجہ کا خود غرض اور طماع بن جائے ؟ آیت کا یہی مقصد ہے ، کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، ان کے دلوں میں انکار وکبر پیدا ہوجاتا ہے ، وہ خود غرض ہوجاتے ہیں ، کیونکہ ایسے بلند نصب العین کا انکار گویا برائیوں کا اقرار واعتراف ہے ۔ حل لغات : اساطیر : جمع اسطورہ ، کہانی ، قصہ ، اوزارھم : اوزار ، وزر کی جمع ہے ، بمعنے بارگراں وبمنعے گناہ ۔
Ayahs 16:26–27

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان کے اگلوں نے مکر کیا تھا (یعنی نمرودنے ) سو ان کے اگلوں نے مکر کیا تھا (یعنی نمرودنے) سو ان کی عمارتوں پر بنیادوں کی طرف سے اللہ (کا عذاب) آیا ، پھر ان کے اوپر سے ان پر چھت گر پڑی ، اور ان پر ادھر سے عذاب آیا جہاں کی انہیں خبر نہ تھی (ف 1) ۔

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر اللہ انہیں قیامت کے دن رسوا کرے گا اور کہے گا وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کے بارہ میں تم ضد کرتے تھے ، وہ جنہیں علم ملا تھا ، کہیں گے آج رسوائی اور برائی کافروں پر ہے ۔

چاہ کن را چاہ درپیش ! (ف 1) پہلے لوگوں کے حالات بیان فرمائے ہیں کہ انکار وتمرد کی عادتیں پرانی ہیں ، ابتداء سے بعض بدبخت ایسے موجود ہیں رہے ہیں جنہوں نے کفر وعناد سے حصہ وافر پایا ہے ۔ اور حق کے خلاف سازشیں کی ہیں شمع ہدایت کو گل کرنے کی سعی کی ہے ، گلشن حق وصداقت کی بربادی کے منصوبے باندھے ہیں ، مگر اللہ نے انہیں کے دام میں انہیں گرفتار کیا ہے ، جس طریق سے انہوں نے حق پرستوں کے خلاف عناد کا اظہار کیا ہے ، اسی طریق سے اللہ نے انکو بربادی کی راہیں دکھائی ہیں ۔ اس آیت میں تمثیل کے ذریعے اس حقیقت کو سمجھایا ہے کہ فرض کرو ، کہ ایک شخص نے ایک بڑا قلعہ طیار کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے حق پرستوں کی مخالفت کرے ، ان کو شکست دے ، اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ ہے کہ وہی قلعہ ان لئے بربادی کا سامان بن جائے ، قلعہ کی چھت گر جائے ، دیواریں اپنی جگہ سے آڑ ہیں ۔ اس سورت میں یہی حصارحفاظت ان کے لئے مصیبت و عذاب کی شکل اختیار کرلے ، (آیت) ” فاتی اللہ بنیانھم “۔ ہلاکت سے تعبیر ہے ، ورنہ اللہ کے لئے آنا جانا کے الفاظ بےمعنی ہیں ۔ بعض مفسر ان کی رائے میں اس آیت میں ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس میں اختلاف ہے کہ وہ کون ہے اس آیت میں جس کی بربادی کا ذکر ہے بعض کے نزدیک نمرود ہے جس نے ایک نہایت اونچا اور بلند محل طیار کیا تھا ، تاکہ اللہ سے جنگ کرے بعض کی رائے میں بخت نصر ہے ، بعض کے خیال میں کوئی قبطی فرمانروا ہے ، بہرحال آیت میں عموم ہے اور کسی خاص واقعہ کی تاویل کے لئے ضرورت نہیں ۔
Ayahs 16:28–31

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

وہ جن کی روح فرشتے اس وقت قبض کرتے تھے کہ جب وہ اپنی جانوں پر ستم کر رہے تھے پھر وہ اطاعت کا پیغام ڈالیں گے کہ ہم کچھ برائی نہ کرتے تھے ، کیوں نہیں ؟ اللہ جانتا ہے ، جو تم کرتے تھے (ف 2) ۔

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو جہنم کے دروازوں میں داخل ہو ، ہمیشہ وہاں رہو ، سو سرکشوں کا کیا برا ٹھکانا ہے ،

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے (محمد ﷺ پر) کیا نازل کیا ہے بولے نیک بات ، جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ، ان کے لئے بھلائی ہے اور آخرت کا گھر اچھا ہے اور متقیوں کا گھر کیا خوب ہے ۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

رہنے کے باغ ہیں ، جن میں وہ داخل ہونگے ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، جو چاہیں وہاں ان کے لئے ہے اللہ ایسا بدلہ متقیوں کو دیتا ہے ۔

(ف 2) موت کے فرشتے کئی ہیں جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے ملک الموت حضرت عزرائیل کا مخصوص نام ہے جو موت کے عملہ کا اعلی افسر ہے ۔ دنیا میں جس قدر حادثے ہوتے ہیں ان کے اسباب دو قسم کے ہیں ، ایک وہ جو مادی ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جن کا تعلق فوق العادۃ قوتوں اور طاقتوں سے ہوتا ہے ، یہ دوسری قسم کے اسباب ملائکہ ہیں ، جو مادی اسباب پر اثر انداز ہوتے ہیں ، چناچہ موت کے لئے کچھ اسباب ظاہری ہیں جنہیں امراض کہتے ہیں کچھ باطنی اسباب ہیں ، یہ فرشتے ہیں صوفیا کے نزدیک امراض ہی ملائکہ موت ہیں ۔
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

جن کی جانیں پاکیزہ حالت میں فرشتے نکالتے ہیں کہتے ہیں سلام علیکم ، تم اپنے اعمال کے بدلے میں بہشت میں جاؤ (ف 1) ۔

فرشتے روح کا استقبال کرتے ہیں ! (ف 1) جس طرح ولادت کے وقت بچے کا استقبال کرنے کے لئے عزیز و اقرباء موجود ہوتے ہیں ، سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے قابلہ اور نرسیں ہوتی ہیں ، اور بچہ اگر خوبصورت اور تندرست ہو تو مبارک سلامت کی آوازیں بلند ہوتی ہیں ، اور اگر بدصورت یا بیمار پیدا ہو ، تو سب کو انقباض ہوتا ہے اسی طرح جب انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو دوسرے عالم میں فرشتے استقبال کے لئے موجود ہوتے ہیں ، اگر روح نیک اور صالح ہو ، تو فرشتے مرحبا کہتے ہوئے خوشی اور مسرت سے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ، اور ملاء اعلی سے شادیانے بجتے ہیں ، اور اگر بد اور مکروہ ہو ، تو روحانی تعفن کی وجہ سے فرشتے بھی منقبض ہوتے ہیں ، آج تخاطب ارواح کے نظریہ نے اس چیز کو خوب واضح کردیا ہے کہ آخرت میں بھی روح کے خبر مقدم میں کوئی اشکال نہیں جدید اکتشافات روحانی ، قرآنی نظریات کی تائیدکر رہے ہیں ۔ حل لغات : تشآقون : مخالفت کرنا ، شق ، سے اشتقاق ہے ۔ مثوی : ٹھکانا ۔
Ayahs 16:33–34

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کافر کس انتظار میں ہیں ، کیا اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ انکے پاس فرشتے آئیں یا تیرے رب کا حکم (عذاب) آپہنچے ، ایسے ہی ان کے اگلوں نے کیا اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپنی جانوں پر آپ ظلم کرتے تھے ، (ف 1) ۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

پھر ان کے اعمال کی برائی ان پر آئی ، اور ان کی ٹھٹھے بازی نے ان کو گھیر لیا ،

(ف 1) آیت کے دو مقصد ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ مکہ والے فرشتوں کو آدمیوں کے روبرو نازل ہونے کو حضور ﷺ کے صدق کا معیار قرار دیتے تھے ، اور کہتے تھے ، کہ اگر آپ حق پر ہیں ۔ اور واقعی فرشتے آپ پر نازل ہوتے ہیں ، تو ہم بھی دیکھیں ، کہ کیونکر فرشتے نازل ہوتے ہیں ؟ قرآن کہتا ہے کہ یہ فرشتوں کے نزول کا انتظار کر رہے ہیں ، اور حق کو ماننے کے لئے تیار نہیں ، اور یا آیت کا مقصد ہے کہ یہ لوگ عذاب کے فرشتوں کا انتظار کر رہے ہیں ، اور کہتے ہیں ، کہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے فرشتے نازل ہوں ، اور ہماری بستیوں کو الٹ دیں ، کیونکہ حضور ﷺ فرماتے تھے ، کہ اگر تم حق کا انکار کرو گے ، اور تمہارے انکار وتمرد کا یہی عالم رہا تو یاد رکھو ، تمہاری ہلاکت قریب ہے ، اس اصول کی بنا پر وہ لوگ از راہ تمسخر عذاب طلب کرتے تھے ، اور کہتے تھے اگر ہم سچائی پر نہیں ہیں ، اور آپ اللہ کی جانب سے رسول ہیں ، تو پھر کیوں اللہ کا غضب نہیں بھڑکتا ، اور ہم کیوں فنا نہیں ہوتے ۔ حل لغات : امر ربک : اللہ کا حکم ، یعنی عذاب ۔ فاصابہم سیات ما عملوا : یعنی ان کے اعمال بدہی ان کے لئے اسباب عذاب بن گئے ،
Ayahs 16:35–36

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرکوں نے کہا کہ اگر خدا چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادے اس کے سوا کسی کو نہ پوجتے اور ہم بغیر حکم اس کے کسی شئے کو حرام نہ ٹھہراتے ایسے ہی ان سے اگلوں نے کیا تھا سو رسولوں پر صرف کھول کر پیغام پہنچانا ہے (ف 1) ۔

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو ، اور طاغوت سے بچے ہو ، پھر ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت کی اور کسی پر گمراہی قائم ہوگی ، سو زمین میں سیر کرو ، پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ۔

کیا ہم مجبور ہیں ؟ : (ف 1) مشرکین کو ایک شبہ یہ تھا کہ نبوت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ جب کہ ہم سب معصیت پر مجبور ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ چاہتے کہ ہم شرک کی آلودگیوں میں مبتلا نہ ہوں ، اور اپنی مرضی سے چیزوں کو حلال و حرام نہ ٹھہرائیں ، تو بھلا یہ کب ہو سکتا تھا کہ ہم شرک کا ارتکاب کرتے ، اللہ نہ چاہے اور ہم کریں ، یہ کیونکر ممکن ہے ، گویا مسئلہ جبر کو ان لوگوں نے بربنائے جہالت انکار کا سبب بنایا ۔ اس شبہ کو اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات میں ذکر فرمایا ہے سورة انعام میں ہے (آیت) ” لوشآء اللہ ما اشرکنا ولا ابآء نا “۔ یعنی اگر ہم مشرک ہیں تو معاذ اللہ یہ اللہ کا قصور ہے ، وہ ہمیں موحد پیدا کرتا ، اس نے کیوں ہمیں سمجھ بوجھ نہ دی ؟ کیوں توفیق نہ ملی ، کہ ہدایت کو قبول کریں ، اور ضلالت کو چھوڑ دیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ہے ، کہ انبیاء کا کام تم تک آواز حق کو پہنچا دینا ہے ماننا یا نہ ماننا تمہارے اختیار میں ہے ، اللہ نے تمہیں مجبور پیدا نہیں کیا بلکہ بڑی حد تک مختار پیدا کیا ہے ، جبھی تو انبیاء اور رسول بھیجے ہیں ، تاکہ تم کو گمراہی کے گڑھے سے نکالیں ، اور ہدایت کے بلند بام پر لا بٹھائیں ، اللہ چاہتا تو یہی ہے کہ تم سب کے سب رشد وہدایت کی رسی کو مضبوط پکڑ لو ، اس نے تمہیں آزاد پیدا کیا ، اور اختیار دیا ہے کہ اس کی دعوت کو قبول کرو ، یا نہ کرو ، البتہ بعض حالات میں انسان مجبور بھی ہوتا ہے ، مگر یہ صحیح نہیں کہ وہ سب باتوں میں مجبور ہوتا ہے ، اللہ کی گرفت اس حد تک ہے ، جہاں تک اختیار کا تعلق ہے ۔ پس یہ اعتراض کسی صورت سے درست نہیں ہوسکتا ۔
Ayahs 16:37–40

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تو ان کی ہدایت پر للچادے (تو کیا کرسکتا ہے) جسے اللہ گمراہ کرے ، اسے وہ ہدایت نہی کرتا ، اور ان کا مددگار کوئی نہیں (ف 2) ۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

انہوں نے اپنی پکی قسموں سے خدا کی قسم کھائی ہے کہ جو مرگیا ، خدا اسے نہ اٹھائے گا ، کیوں نہیں ، اس پر سچا وعدہ ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے ۔

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

وہ اس لئے اٹھائے گا کہ جس بات میں وہ جھگڑتے تھے ان کے لئے ظاہر کرے اور تاکہ کافر جان لیں کہ بیشک وہ جھوٹے تھے ۔

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی شئے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لئے ہمارا صرف یہی کہنا ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہوجا پس وہ ہوجاتی ہے ۔

(ف 2) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ پیغمبران خدا انسانوں کی ہدایت کے لئے کس درجہ بےقرار ہوتے ہیں ، ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ سب لوگ ہدایت کو قبول کرلیں ، اور اللہ کی آغوش رحمت میں آجائیں ، وہ دن رات شفقت انسانی کی وجہ سے بےچین رہتے ہیں ، انہیں گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے روحی تکلیف ہوتی ہے ، اور ان کے دن اور ان کی راتیں کرب و اضطراب میں گزرتی ہیں ، نوع انسانی کی ہمدردی کے لئے وہ اپنے سکھ اور چین کو برباد کرلیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب فطرتی تقسیم یہ ہے کہ ایک طبقہ طاغوت کا طالب رہے ، حق کو عمدا ترک کر دے ، راہ صواب سے ہٹ جائے تو پھر آپ کی ہمدردی بےسود ہے ، جو شخص گمراہی پر اصرار کرنے اور روحانیت کی صدائے حق کو نہ مانے تو آپ ہی خیال کیجئے ، کہ آپ کیونکر اس کو متاثر کرسکیں گے ، جو کان بند کرنے ، کیا وہ آواز سن سکتا ہے ؟ جو ناک بند کرلے ، کیا خوشبو اس کے دماغ کو معطر کرسکتی ہے ؟ اگر آپ کو جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا ، تو پھر جو سچائی کی آواز نہ سننا چاہے ، آپ کیونکر اپنی آواز کو اس تک پہنچائیں گے وہ اسلامی برکات وفیوض سے محروم رہنا چاہتا ہے اس لئے توفیق ہدایت اسے نہیں ملے گی ، لہذا حضور ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے ، کہ آپ ایسے بدبختوں کے لئے اپنا جی تھوڑا نہ کریں ۔ ضمیر وقلب کی مظلومیت ناقابل برداشت ہے ! ۔ حل لغات : الطاغوت : شیطان ، کاہن ، بت ، مقتدائے گمراہاں ، سب معانی پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ طغیان سے مشتق ہے ، یعنی راہ حق وصواب سے تجاوز ۔