Ayah 16:1اتی امر اللہ اللہ کا حکم آپہنچا ‘ یعنی قریب آگیا۔ ابن عرفہ نے کہا : جس چیز کی (یقینی) توقع ہو ‘ عرب اس کیلئے کہتے ہیں : وہ چیزہو گئی۔ آیت میں امر الٰہی کے قریب الوقوع یا یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے مجازاً ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ جو بات آئندہ یقینی طور پر ہونے والی ہو اور اس کا ہونا لازم ہو ‘ اس کو بصیغۂ ماضی بیان کردیتے ہیں (صیغۂ ماضی سے اشارہ اس امر کی طرف ہوتا ہے کہ یہ کام ضرور ہوگا اور عنقریب ہوگا۔ مترجم) اَمْرُ اللّٰہِ سے مراد ہے : قیامت کا آنا (کلبی وغیرہ) مراد یہ ہے کہ قیامت کا آنا ضروری ہے۔ تم اس کا یقین رکھو اور یہ سمجھو کہ گویا آگئی ‘ اسلئے تیاری کرو۔
فلا تستعجلوہ اس کے جلد آجانے کی مانگ نہ کرو (وہ تو بہرحال آئے گی اور تمہارے لئے اس کے آنے میں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ اس لئے جلد آنے کی خواہش تمہارے لئے ضرر رساں ہے) ۔
بغوی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب آیت اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ نازل ہوئی تو بعض کافروں نے کہا : یہ شخص کہتا ہے کہ پچھلی گھڑی قریب آگئی۔ اچھا ‘ تم (کچھ دنوں کیلئے) اپنے موجودہ مشاغل و اعمال کو ترک کر دو ‘ ہم بھی تو دیکھیں کہ آخر کیا ہونے والا ہے۔ لیکن جب کچھ مدت تک انتظار کرنے کے بعد بھی کچھ نہ ہوا (اور قیامت نہ آئی) تو کہنے لگے : تم جس چیز سے ہم کو ڈرا رہے ہو ‘ اس کا تو نام و نشان بھی نہیں پیدا ہوا۔ اس پر آیت اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُھُمْ نازل ہوئی۔ یہ آیت سن کر کافر خوف زدہ ہوگئے اور کچھ مدت تک مزید انتظار کیا ‘ لیکن طویل انتظار کے بعد بھی جب کچھ نہ ہوا تو کہنے لگے : محمد ﷺ تم ہم کو ڈراتے ہو اور ہوا کچھ بھی نہیں۔ اس وقت اتآی اَمْرُ اللّٰہِ نازل ہوا۔ اس جملہ کے نزول پر رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے اچھل پڑے اور لوگوں نے اپنے سر اوپر اٹھا کر دیکھا اور خیال کیا کہ قیامت حقیقت میں آ ہی گئی۔ اس پر (آخری فقرہ) فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ نازل ہوا ‘ اس وقت لوگوں کو اطمینان ہوا (اور گھبراہٹ دفع ہوئی) ۔
ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب اتآی اَمْرُ اللّٰہِ نازل ہوا تو صحابہ خوف زدہ ہوگئے ‘ اس پر فلاَ تَسْتَعْجِلُوْہُ نازل ہوا۔ استعجال کا معنی ہے : وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں (سبابہ اور وسطیٰ ) سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : میں اور قیامت ان دونوں کی طرح (متصل) بھیجے گئے ہیں (شاید حضور ﷺ کی یہ مراد ہو کہ میرے بعد قیامت تک اور کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اور میری نبوت کا دور قیامت تک باقی رہے گا۔ مترجم)
ترمذی نے حضرت مستورد بن شداد کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے عین قیامت (کے وقت) میں ہی بھیجا گیا مگر میں قیامت سے آگے آگیا ‘ جیسے یہ (انگلی) اس (انگلی) سے پہلے ہے (اگرچہ دونوں ساتھ ہی ساتھ ہیں) حضور ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سبابہ اور وسطیٰ سے اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا۔
بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت قیامت کی علامات میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب (پیام بعثت دے کر) حضرت جبرئیل کو بھیجا گیا اور اثناء راہ میں آپ آسمان والوں کی طرف سے گذرے تو اہل سماوات نے کہا : اللہ اکبر ! قیامت بپا ہوگئی۔
بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ اَمْرُ اللّٰہِ سے مراد ہے : سزا اور عذاب قتل۔ واقعہ یہ ہوا کہ نضر بن حارث نے کہا تھا : اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے۔ پس کافروں نے وقت سے پہلے عذاب کی مانگ کی ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ نضر کو بدر کے دن قتل کیا گیا۔
سبحٰنہ میں اللہ کی پاکی کا اظہار کرتا ہوں (جیسی پاکی اس کے لائق ہے۔ مترجم)
وتعٰلے عما یشرکون اور وہ اپنی (صفات قدسیہ میں) ان کے شرک سے بزرگ وبالا ہے۔ یعنی یہ جو خیال کرتے ہیں کہ اللہ کا کوئی شریک ہے اور وہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچا لے گا ‘ اللہ اس سے اعلیٰ اور بالا ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ اللہ ان کے شرکیہ بیان سے بالا ہے۔
Ayah 16:2ینزل الملئکۃ بالروح وہ روح دے کر فرشتوں کو اتارتا ہے۔ روح سے مراد ہے : وحی یا قرآن۔ قرآن سے مردہ دل زندہ ہوجاتے ہیں (جیسے روح کے تعلق سے بےجان جسم زندہ ہوتے ہیں) ۔
من امرہ علی من یشآء من عبادہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے ‘ یعنی جن کو رسول بنانا چاہتا ہے۔
ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون کہ خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ‘ سو مجھ سے ڈرتے رہو۔
اَنْذِرُوْآ (ثلاثی مزید متعدی) بتادو ‘ اطلاع دے دو ۔ نَذَرْتُ ھٰکَذَا (ثلاثی مجرد لازم) میں نے ایسا جانا ‘ مجھے ایسا علم ہوا۔ اَنْ تفسیریہ ہے کیونکہ روح سے مراد وحی ہے ‘ یعنی ملائکہ کو ہم اپنے منتخب بندوں کے پاس یہ وحی دے کر بھیجتے ہیں کہ لوگوں کو بتادو۔ یا اَنْ مصدریہ ہے اور حرف جر محذوف ہے بِاَن اَنْذِرُوْا تھا۔ اَنْذِرُوْآ کا ترجمہ ڈراؤ ‘ خوف دلاؤ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی مشرکوں اور نافرمانوں کو عذاب سے ڈراؤ اور یہ بتاؤ کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں ‘ لہٰذا مجھ سے ڈرو۔
آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ وحی کا تعلق دو چیزوں سے ہے : ایک تو توحید پر تنبیہ جو علمی قوت کے کمال کا انتہائی درجہ ہے ‘ دوسرا تقویٰ جو عملی قوت کا آخری تکمیلی مرتبہ ہے۔ توحید کو ثابت کرنے کیلئے اللہ نے ذیل کی آیات میں اپنی خود مختار ‘ پرُحکمت ‘ مصلحت آگیں خلاقیت کو بیان کیا ہے۔ اگر کوئی دوسرا شریک ہوتا تو اس میں بھی خلاقیت اور ایجاد کی قدرت ہوتی اور دو خود مختار ‘ کامل قدرت رکھنے والوں میں ٹکڑاؤ ممکن ہوتا۔
Ayah 16:3خلق السموات والارض بالحق اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا۔ یعنی خاص مقدار ‘ خاص شکل و وضع اور مختلف صفات کے ساتھ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو نیست سے ہست کیا۔ اس کی ایجاد بتارہی ہے کہ اس کو بنانے والا واحد ‘ بےمثال ‘ قادر مطلق اور حکیم کامل ہے۔
تعٰلے عما یشرکون اللہ بالا ہے ان کے شرک سے۔ یعنی زمین و آسمان میں سے کسی کو اللہ کا شریک قرار دیا جائے اس سے اللہ بزرگ و برتر ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ برتر ہے اس بات سے کہ وہ اپنی ہستی یا بقائے ہستی میں زمین و آسمان میں سے کسی چیز کا محتاج ہو۔ زمین و آسمان کو تو خود اپنی تخلیق پر بھی قدرت نہیں ہے۔ اس آیت میں اللہ کے غیر جسمانی ہونے پر تنبیہ ہے۔
Ayah 16:4خلق الانسان من نطفۃ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ یعنی ایسی سیال ‘ بےجان بوند سے انسان کو پیدا کیا جس میں نہ حس ہے ‘ نہ حرکت ‘ نہ وہ اپنی ہیئت و وضع کو محفوظ رکھ سکتی ہے ‘ نہ شکل کو ___ (رفتہ رفتہ انسان) جب خوب طاقتور ہوگیا تو فاذا ھو خصیم مبین پھر یکدم وہ کھلم کھلا جھگڑنے لگا۔
خَصِیْمٌ تیز زبان ‘ جھگڑالو۔ مُبِیْنٌ یعنی نفی قیامت کی دلیل بیان کرنے والا جو بطور دلیل کہتا ہے : مَنْ یُّحْیٖ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ بوسیدہ ‘ ریزہ ریزہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا۔ یا خَصِیْمٌ مُبِیْنٌ سے مراد ہے : خالق سے کھل کر جھگڑا کرنے والا۔
بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کا نزول ابی بن خلف جمحی کے متعلق ہوا۔ ابن خلف منکر قیامت تھا۔ ایک روز وہ ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور بولا : کیا تم کہتے ہو کہ اللہ اس کو زندہ کرے گا ؟ یہ تو بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوگئی (یہ کیسے زندہ ہوگی) اسی کی بابت آیت وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ بھی نازل ہوئی تھی۔
سدی نے آیت اَوَلَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰہُ مِنْ نُّطْفَۃٍالخ کا نزول بھی اسی قصہ کے متعلق بیان کیا ہے (رواہ ابن ابی حاتم) ۔
آیت کا نزول خواہ خاص شخص کے متعلق ہوا ہو لیکن الفاظ میں عموم ہے (ہر منکر قیامت جو دوسری زندگی کا قائل نہ ہو ‘ اسی حکم میں داخل ہے) مطلب یہ ہے کہ منکر قیامت اتنا نہیں سمجھتا کہ جب اللہ نے بےجان نطفہ سے اس کو پیدا کردیا تو بوسیدہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا اس کیلئے کیا دشوار ہے۔
Ayah 16:5والانعام خلقھا لکم فیھا دفء و منافع اور اسی نے چوپایوں کو پیدا کیا ‘ ان میں تمہارے جاڑے کا بھی سامان ہے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ اَلْاَنْعَامَ سے مراد ہیں : اونٹ ‘ گائے ‘ بھینس ‘ بکری ‘ بھیڑ وغیرہ۔ لَکُمْ تمہارے فائدے کیلئے جس کی تفصیل فِیْھَا دِفْءٌ الخ میں بیان کی ہے۔ گویا لَکُمْ میں اجمال منفعت ہے اور اس کے بعد تفصیل کی گئی ہے۔ دِفًأٌ سردی کی شدت کا دور ہوجانا (قاموس) یعنی جانوروں کے بالوں اور اون سے تم سردی کی سختی دور کرتے ہو ‘ اونی لباس اور کمبل وغیرہ استعمال کرتے ہو۔ مَنَافِعُ سے دوسرے فائدے مراد ہیں۔ افزائش نسل ‘ دودھ ‘ سواری ‘ باربرداری ‘ کھیتی باڑی ‘ خریدو فروخت وغیرہ۔
ومنھا تاکلون اور انہی سے تم کھاتے بھی ہو۔ گوشت ‘ چربی ‘ گھی ‘ دودھ ‘ پنیر ‘ مکھن وغیرہ کھاتے ہو۔ عموماً غذائے حیوانی انہی جانوروں سے حاصل کی جاتی ہے ‘ اسلئے مِنْھَا کو تَأکُلُوْنَ سے پہلے ذکر کیا۔ دوسرے جانوروں کا گوشت تو محض لذت یا دوا کی خاطر کھایا جاتا ہے۔
Ayah 16:6ولکم فیھا جمال حین تریحون وحین تسرحون اور جب شام کو (جنگل سے جانوروں کو) واپس لاتے ہو اور (صبح کو) چرانے کیلئے لے کر جاتے ہو تو ان سے تمہاری ایک شان بنتی ہے۔ کیونکہ دونوں وقت گھر سے باہر صحن میں ان کے جمع ہونے سے ایک رونق پیدا ہوجاتی ہے۔ دیکھنے والوں کی نظروں میں تمہاری عزت اور ساکھ ظاہر ہوتی ہے۔
Ayah 16:7و تحمل اثقالکم الی بلد لم تکونوا بلغیہ الا بشق الا نفس اور (بجائے اس کے کہ سفر میں تم اپنے سامان کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا کر چلو) یہ جانور تمہارے سامان کے بوجھ اپنے اوپر لاد کر ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں کہ بغیر سخت تکلیف اٹھانے کے تم وہاں تک خود پہنچ بھی نہیں سکتے ہو (بوجھ اٹھانے کا تو ذکر ہی کیا ہے) ۔ شِق اور شَق ہم معنی ہیں ‘ جیسے رطل اور رطل۔
ان ربکم لرء وف رحیم حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا مہربان اور رحمت والا ہے کہ اس نے ان جانوروں کو تمہارے فائدے کیلئے پیدا کردیا۔
Ayah 16:8والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ اور اس نے تمہاری سواری اور شان بنانے کیلئے گھوڑے ‘ خچر اور گدھے پیدا کئے۔ امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے گھوڑے کے گوشت کے حرام یا مکروہ ہونے پر استدلال کیا ہے۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے : اللہ نے اس آیت میں اپنی نعمت کا اظہار کیا ہے اور اپنی نعمت کی یاددہانی کی ہے اور دو فائدوں کی صراحت کی ہے ‘ سواری ور زینت اور ظاہر ہے کہ غذائیت سب سے بڑی نعمت ہے ‘ اسلئے ممکن نہیں کہ جو اصل منفعت ہو ‘ اس کی تو یاددہانی نہ کی جائے اور نیچے درجے کے فائدوں کا اظہار کیا جائے (اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان جانوروں کو فراہمئ غذا کیلئے پیدا ہی نہیں کیا گیا ورنہ سواری اور زینت سے پہلے ان سے غذائیت فراہم کرنے اور ان کا گوشت یا دودھ کھانے پینے کا ذکر کیا جاتا) ۔
میں کہتا ہوں : غذائیت تو بھیڑ ‘ بکری ‘ مرغی وغیرہ کے گوشت سے بہترین حاصل ہوجاتی ہے اور اس کا حصول آسان بھی ہے۔ گھوڑے گدھے وغیرہ کا گوشت نہ اچھا ہوتا ہے نہ اس کا حصول زیادہ سہل ہے۔ ہاں سواری ‘ باربرداری اور شان بان کے جو فوائد ان سے وابستہ ہیں ‘ وہ دوسرے چھوٹے جانوروں سے حاصل نہیں ہوسکتے ‘ اسلئے صاحب ہدایہ کا یہ قول غلط ہے کہ گھوڑوں اور گدھوں کا گوشت بطور غذائیت سب سے بڑی منفعت ہے۔ ان جانوروں کا سب سے بڑا فائدہ تو سواری وغیرہ ہی ہے جو دوسرے جانوروں سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ آیت مکی ہے جبکہ گدھے کا گوشت بھی حلال تھا۔ اس کی حرمت تو خیبر کی فتح کے موقع پر 6 ھ میں ہوئی (ایسی صورت میں اس آیت سے گھوڑے کے گوشت کی حرمت پر استدلال کیسے کیا جاسکتا ہے) اس مسئلہ کی پوری تشریح آیت اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمْ الطَّیِّبَاتُ کی تفسیر کے ذیل میں سورة مائدہ میں گذر چکی ہے۔
ویخلق ما لا تعلمون اور ایسی ایسی چیزیں بناتا ہے جن کی تمہیں خبر بھی نہیں ہے۔ (حضرت مفسر (رح) نے اس آیت کا تعلق آخرت سے قرار دیتے ہوئے حسب ذیل تفسیری مطلب بیان کیا ہے) یعنی جنت میں مؤمنوں کیلئے اور دوزخ میں کافروں کیلئے ایسی ایسی راحتیں اور تکلیفیں پیدا کی ہیں جن کا تمہیں پتہ بھی نہیں۔ نہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا ‘ نہ کسی شخص کے دل میں ان کا تصور آیا۔
Ayah 16:9وعلی اللہ قصد السبیل ومنھا جائر اور سیدھا راستہ اللہ تک پہنچتا ہے (اس ترجمہ پر عَلٰی بمعنی الٰی ہوگا) اور کچھ راستے ٹیڑھے بھی ہیں (جو اللہ تک نہیں پہنچتے۔ مترجم) یعنی سیدھا راستہ جو حق تک پہنچتا ہے (وہ راستہ دکھانا اور بتانا اللہ کے ذمے ہے) اس نے مہربانی اور کرم سے یہ ذمہ داری لی ہے) ۔
یا قَصْدُ السَّبِیْلِ سے مراد ہے : اللہ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ کہ جو شخص اس راہ پر چلے گا ‘ اللہ تک پہنچ جائے گا۔ سبیلٌ قصدٌ یا قاصدٌ سیدھے راستے کو کہتے ہیں۔
جَاءِرٌ کا معنی ہے : ٹیڑھا یعنی راہ مستقم سے یا اللہ کے رخ سے کٹا ہوا۔ اس کلام کا مقصود صرف راہ خدا کا بیان ہے۔ مِنْھَا جَاءِرٌ کا جملہ بالعرض ذکر کیا گیا ہے۔ قَصْدُ السَّبِیْلِ صرف راہ سنت ہے اور ٹیڑھا راستہ تمام مذاہب کفر اور بدعات و خواہشات نفس کا۔
ولو شآء لھدئکم اجمعین اور اگر اللہ (تم سب کو ہدایت کرنا) چاہتا تو تم سب کو ہدایت کردیتا۔ ہدایت سے مراد اس جگہ منزل مقصود پر پہنچا دینا ہے اور عَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ میں مراد ہی راہ حق دکھانا اور بتانا (راہ مستقیم اللہ نے تمام انسانوں کو بتادی ہے ‘ اپنی کتابیں بھیج دی ہیں اور پیغمبروں کو بھی بھیج دیا ہے ‘ لیکن منزل مقصود پر پہنچایا کم لوگوں کو ہے۔ صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہے۔ مترجم)
Ayah 16:10ھو الذی انزل من السماء مآء لکم منہ شراب ومنہ شجر فیہ تسیمون وہ ایسا ہے جس نے تمہارے واسطے بادل سے پانی برسایا جس سے (کچھ) تم کو پینے کو ملتا ہے اور کچھ حصے سے درخت (پیدا) ہوتے ہیں جن میں تم اپنے مویشی (چرنے) چھوڑتے ہو۔
مِنْہُ شَرَابٌ کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ آدمیوں کو پینے کے پانی بارش سے ہی حاصل ہوتا ہے کیونکہ چشموں اور کنوؤں (اور دریاؤں) میں لوٹ پھر کر بارش ہی کا پانی آتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَسْلَکُہٗ یَنَابِیْعَ ۔ دوسری آیت میں ہے : فَاَسْکَنَّانُ فِی الْاَرْض۔ مِنْہُ شَجَرٌ کا یہ مطلب ہے کہ درختوں کی زندگی بھی پانی سے ہے ‘ درخت بھی بارش کا پانی پیتے ہیں۔
تُسِیْمُوْنَ کا ترجمہ ہے : تم جانوروں کو چراتے ہو۔ سَامَتِ المَاشیۃ (مجرد) مویشی چرے۔ اَسَامَھَا صَاحِبُھَا (مزید) مالک نے جانوروں کو چرایا۔ مصدر سَوْمَۃُ سَومَۃ کا اصل لغوی معنی ہے : علامت۔
Ayah 16:11ینبت لکم بہ الزرع والزیتون والنخیل والاعناب ومن کل الثمرات اللہ پانی سے تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور کے درخت اور انگور اور تمام پھل پیدا کرتا ہے۔
مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰت میں مِنْ تبعیضیہ ہے ‘ یعنی تمام ممکنہ پھلوں میں سے بعض پیدا کرتا ہے۔ کل پھل تو صرف جنت میں ہوں گے ‘ یہاں تو جنت کے پھلوں کی یاددہانی کیلئے بعض پھل پیدا کئے گئے ہیں۔ مویشیوں سے پہلے ان کی چراگاہوں کا ذکر اور مویشیوں کے بعد کھیتی اور پھلوں کا تذکرہ ترتیب واقعی کی طرف اشارہ کر ہا ہے۔ سب سے پہلے درخت ہی حیوانات کی غذا بنتے ہیں اور حیوانات سے پیدا ہونے والی غذا سب سے اعلیٰ غذا ہے (پس درختوں کی پیدائش کا ذکر پہلے ‘ پھر حیوانات اور ان کی پیداوار کا تذکرہ اور پھر کھیتی کا بیان ہونا مناسب تھا اور ایسا ہی کیا گیا) ۔
ان فی ذلک لایۃ بلاشبہ اس میں بڑی نشانی ہے۔ صانع کے وجود ‘ علم اور حکمت کا اس میں کھلا ہوا ثبوت ہے۔
لقوم یتفکرون غور کرنے والوں کیلئے۔ ایک دانہ زمین میں گرتا ہے ‘ زمین سے کچھ نمی اس میں کھنچ کر آتی ہے ‘ پھر دانہ کا بالائی حصہ پھٹ کر اس میں سے سوئی جیسا تنا نکلتا ہے اور نچلا حصہ پھٹ کر نیچے کی طرف ‘ جڑوں کے سونتے نکلتے ہیں ‘ پھر یونہی نمو ہوتا رہتا ہے۔ تنا بڑھتا ہے ‘ اس میں شاخیں ‘ پتیاں ‘ پھول ‘ شگوفے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ پھول پھل کی بھی ایک خاص فصل ہوتی ہے۔ ہر پھل کا ایک مخصوص موسم ہوتا ہے۔ سفلی طبیعت (یعنی زمین اور پانی کی طبیعت) اور علوی مؤثرات (دھوپ ‘ ہوا ‘ روشنی ‘ تاثیر کواکب وغیرہ) ہر طرح کے درختوں کیلئے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں لیکن ہر درخت اپنی جدا جسمانیت ‘ شکل اور طبیعت و خاصیت رکھتا ہے۔ مبادی کا اتحاد اور نتائج کا اختلاف بتارہا ہے کہ یہ سب کرشمہ سازی کسی فاعل مختار کی ہے جو وحدہٗ لا شریک ہے اور وہی جیسا چاہتا ہے ‘ کرتا ہے۔
Ayah 16:12وسخر لکم الیل و النھار والشمس والقمر اور اس نے تمہارے فائدے کیلئے رات اور دن ‘ سورج اور چاند کو مسخر بنایا۔ یعنی تمہارے منافع کیلئے اس نے رات دن بنائے ہیں۔
والنجوم مسخرات بامرہ اور ستارے بھی اسی کے حکم سے مسخر ہیں۔
بِاَمْرِہٖ میں امر سے مراد ہے : ایجاد اور اندازہ مقرر کرنا یا حکم مراد ہے۔ آیت بتارہی ہے کہ جو لوگ تخلیق نبات کو صرف تاثیر کواکب سے وابستہ قرار دیتے ہیں اور ستاروں کی حرکات و اوضاع کو مؤثر حقیقی جانتے ہیں ‘ ان کا خیال غلط ہے۔ اگر ایسا فرض بھی کرلیا جائے تب بھی کیا جواب ہے اس بات کا کہ تمام ستارے اپنی ذات وصفات کے لحاظ سے ممکن ہیں (اور ممکن وہ ہوتا ہے جس کا اپنا وجود بھی اپنا نہیں ہوتا ‘ وہ اپنی ذات وصفات میں دوسرے کا محتاج ہوتا ہے) تو لامحالہ ان کا اپنا وجود بھی کسی ایسی ذات کا ممنون کرم ہے جو واجب الوجود ہے اور کسی کی محتاج نہیں ‘ اسی نے ممکنات کو نیست سے ہست کیا ہے۔ اگر ذات واجب الوجود آخری درجہ پر نہ مانی جائے تو جانب مبدء میں تسلسل لازم آئے گا یا پھر گھوم کر لوٹنا پڑے گا اور ہر ممکن بلاواسطہ یا بالواسطہ خود اپنے نفس کی علت ہوجائے گا ‘ گویا انکار واجب الوجود سے تسلسل یا دور لازم آجائے گا اور چونکہ تسلسل بھی محال ہے اور دور بھی ‘ اسلئے تمام ممکنات کی ہستی کیلئے ذات واجب الوجود کا ہونا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات سماوی کی تاثیرات ہوں یا عناصر کی ‘ ان کی حیثیت ایک ضابطہ اور دستور کی ہے۔ اللہ کا ضابطہ اور عادت یہی ہے کہ اس نے بعض نتائج کو بعض اسبب سے وابستہ کردیا ہے اور اسباب کو علت نتائج بنا دیا ہے۔ خود یہ اسباب نتائج کے موجد نہیں ہیں ‘ اسباب کا اپناوجود ہی اپنا نہیں ‘ خداداد ہے۔ جو چیز معدوم الذات ہو ‘ وہ دوسرے کو وجود کیسے دے سکتی ہے۔
ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون بیشک اس میں سمجھ والوں کیلئے بکثرت (توحید وقدرت کی) نشانیاں ہیں۔
سلیم اور سادہ دانش والوں کو ہر چیز میں اللہ کی تخلیق و حکمت کی گوناگوں نشانیاں نظر آتی ہیں۔ یہ واضح نشانیاں ہیں ‘ اسی لئے آیات بصیغۂ جمع ذکر فرمایا اور اصحاب عقل کے ساتھ آیات فہمی کو وابستہ کیا۔
Ayah 16:13وما ذرا لکم فی الارض مختلفا الوانہ اور ان چیزوں کو بھی تمہارے لئے اس طور پر پیدا کیا کہ ان کے اقسام مختلف ہیں۔ اَلْوَان سے اقسام و اصناف مراد ہیں۔ رنگ کے اختلاف سے اکثر صنف بدل جاتی ہے۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یذکرون بلاشبہ نصیحت اندوز لوگوں کیلئے اس میں بڑی نشانی ہے۔ طبیعت ‘ ہیئت اور صورت کا اختلاف دیکھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ محض ایک صانع حکیم کی کرشمہ سازی ہے۔
Ayah 16:14وھو الذی سخر البحر اور اسی نے سمندر کو تمہاری خدمت پر لگا دیا ہے۔ یعنی ایسا بنایا ہے کہ تم اس سے طرح طرح کے فائدے حاصل کرتے ہو۔ اس میں جہاز اور کشتیاں چلاتے ہو ‘ مچھلیاں پکڑتے ہو اور موتی مونگے حاصل کرتے ہو۔
لتاکلوا منہ لحما طریا اس میں سے تازہ تازہ گوشت کھاؤ۔ طری ترو تازہ ‘ یعنی مچھلیاں۔ مچھلی میں ہر گوشت سے زیادہ رطوبت ہے ‘ اسی لئے مچھلی کا گوشت بہت جلد خراب ہوجاتا ہے۔ چونکہ (لعابیت کی وجہ سے) مچھلی کا گوشت آنتوں سے چسپاں ہوجاتا ہے ‘ اسلئے اس کو کھانے کے بعد پیاس زیادہ لگتی ہے۔ گوشت کی گرمی یا خشکی موجب تشنگی نہیں ہوتی۔ اللہ کی عجیب حکمت ہے کہ تلخ ‘ نمکین اور غلیظ پانی سے ایسی تر و تازہ ‘ شیریں ‘ لطیف چیز اس نے پیدا کی۔
امام مالک و امام ثوری نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ مچھلی پر شرعاً گوشت کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر کسی نے قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھاؤں گا تو مچھلی کھانے سے بھی اس کی قسم ٹوٹ جائے گی۔ احناف کہتے ہیں : قسم میں عرف عام کا اعتبار کیا جاتا ہے اور عرف عام میں مچھلی پر گوشت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ دیکھو ! اللہ نے کافروں کو شر الدواب (بدترین چوپایہ) قرار دیا ہے۔ پس اگر کسی نے قسم کھائی کہ میں چوپایہ پر سوار نہ ہوں گا اور کسی کافر کے اوپر سوار ہوگیا تو کیا اس کی قسم ٹوٹ جائے گی ؟
وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا اور اس میں سے (موتیوں کا) گہنا نکالو جس کو تم پہنتے ہو۔ تَلْبَسُوْنَ (جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ تمہاری عورتیں یہ زیور پہنتی ہیں۔ حِلْیَۃ بمعنی زیور ‘ مراد موتی مونگا وغیرہ۔
وتری الفلک مواخر فیہ اور تم کشتیوں کو دیکھو کہ اس میں پانی کو چیرتی چلی جا رہی ہیں۔ مَوَاخِرَ فِیْہِ سمندر میں چلنے والی۔ قتادہ نے ترجمہ کیا ہے : آنے جانے والیاں۔ ایک جاتی ہے ‘ دوسری آتی ہے باوجودیکہ ہوا کی رفتار ایک ہی ہے۔ حسن نے کہا : بھری ہوئی۔ فراء اور اخفش نے کہا : پانی کو اپنے دونوں بازوؤں سے پھاڑنے والیاں۔ مَخْر کا معنی ہے : پانی کو پھاڑنا ‘ یا کشتی کی رفتار کی آواز۔ ابوعبیدہ نے کہا : تیز ہوا چلنے کے وقت جو آواز پیدا ہوتی ہے ‘ اس کو مخر کہا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : ہواؤں کی رفتار کے سامنے سے کشتیاں آتی ہیں اور ہواؤں کو پھاڑتی ہیں۔ قاموس میں مخر اور مخور کا معنی بیان کیا گیا ہے : کشتی کا چلنا اور ہوا کی رفتار کے سامنے آنا۔ مَخَرَتِ السفینۃ کا یہی مطلب ہے۔ مَخَرَ السَّابِحُ تیرنے والے نے دونوں ہاتھوں سے پانی کو چیرا۔ مواخر کشتیاں وہ ہوتی ہیں جن کی رفتار کی آواز سنی جائے ‘ یا وہ کشتیاں جو اپنے سینہ کے زور سے پانی کو چیرتی ہیں ‘ یا ایک ہی ہوا سے آنے جانے والی کشتیاں۔ حدیث میں ہے : اذا اراد احد کم البول قلیتمخرا الریح۔ ایک اور روایت میں آیا ہے : استمخروا الریح جب کسی کا پیشاب کرنے کا ارادہ ہو تو ہوا کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھے ‘ ہوا کی طرف اپنی پشت کرو۔ گویا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ اپنی پشت ہوا کے مقابل کر دو تاکہ ہوا پھٹ کر دائیں بائیں سے نکل جائے۔
ولتبتغوا من فضلہ اور تاکہ تم اللہ کی دی ہوئی روزی تلاش کرو۔ یعنی جہازوں اور کشتیوں پر سوار ہو کر اللہ کے فضل یعنی وسیع رزق کو تلاش کرو۔
ولعلکم تشکرون اور تاکہ (ان چیزوں کو اپنا تابع دیکھ کر اور اپنے کام پر لگا ہوا پا کر) تم اللہ کا شکر کرو۔ جو مقام ہلاکت آگیں ہیں ‘ انہی کو اللہ کے تحصیل معاش کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہ اس کا عظیم الشان احسان ہے جس کا شکر ادا کرنا لازم ہے ‘ اسی لئے آیت کے آخر میں تَشْکُرُوْن فرمایا ہے۔ میں کہتا ہوں : مذکورۂ بالا اشیاء کو دیکھ کر اور ان کے فوائد پر غور کر کے شکر نعمت کے درجہ تک پہنچنا ‘ یہ بجائے خود بڑا انعام ہے ‘ اس سے دنیا میں مزید نعمت اور آخرت میں ثواب عظیم حاصل ہوتا ہے۔ گویا شکر تمام نعمتوں کا تکمیلی درجہ ہے۔
Ayah 16:15والقی فی الارض رواسی ان تمیدبکم اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ تم کو لے کر زمین ڈگمگانے نہ لگے۔
رَوَاسِیَ ایک جگہ قائم رہنے والے پہاڑ۔ اَلْمَیْدُ لرزہ ‘ اضطراب ‘ پہاڑوں کی تخلیق۔ زمین بالکل گول تھی ‘ ادنیٰ سبب سے اس میں لرزہ آجاتا تھا۔ جب پہاڑوں کو پیدا کردیا گیا تو ان کا دباؤ مرکز ثقل کی طرف پڑا اور زمین کا ادھر ادھر ہلنا بند ہوگیا۔ گویا پہاڑوں کی میخیں ٹھونک دی گئیں جو زمین کو حرکت و اضطراب سے روک رہی ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : اللہ نے جب زمین کو پیدا کیا تو وہ لرزاں تھی۔ فرشتے کہنے لگے : یہ اپنی پشت پر کسی کو ٹھہرنے نہیں دے گی۔ پھر اللہ نے اس میں پہاڑ گاڑ دئیے اور فرشتوں کو معلوم نہ ہوا کہ پہاڑ کس چیز سے بنائے گئے ___ عبد بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے بوساطت قتادہ بروایت حسین ‘ قیس بن عباد کا قول نقل کیا ہے کہ جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ (گول ہونے کی وجہ سے) لرزاں تھی۔ فرشتے کہنے لگے : یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی۔ لیکن جونہی صبح ہوئی تو (رات بیچ میں) زمین کے اندر پہاڑ قائم ہوگئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے۔ کہنے لگے : اے ہمارے رب ! کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو ؟ اللہ نے فرمایا : ہاں ‘ لوہا ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا : لوہے سے بھی سخت تیری کوئی اور مخلوق ہے ؟ فرمایا : ہاں ‘ آگ ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا : اے رب ! کیا آگ سے بھی زیادہ سخت تیری کوئی چیز اور ہے ؟ فرمایا : ہاں ‘ پانی ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا : اے رب ! کیا تو نے پانی سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز پیدا کی ہے ؟ فرمایا : ہاں ‘ ہوا ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا : ہوا سے بھی سخت کوئی چیز تو نے بنائی ہے ؟ فرمایا : ہاں ‘ مرد (ہوا سے زیادہ سخت ہے) عرض کیا : کیا تیری کوئی مخلوق مرد سے بھی زیادہ سخت ہے ؟ فرمایا : ہاں ‘ عورت ہے۔ انتہیٰ
اگر دریافت کیا جائے کہ یہ سوال کہیں جا کر ختم بھی ہوسکتا ہے تو میں اس کے جواب میں کہوں گا : نہیں ‘ ایسا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ قوی اور بڑی طاقت والا ہے اور تمام ممکنات اس کے مقابلہ میں عاجز بلکہ ہیچ ہیں۔ اللہ کی قوت کا جس پر پرتو پڑجاتا ہے ‘ وہ چیز دوسروں کے مقابلہ میں قوی ہوجاتی ہے۔ ہاتھی پر قوت کا پرتو پڑگیا تو وہ چیونٹی سے قوی ہوگیا ‘ لیکن اگر اللہ چاہے تو چیونٹی پر اپنی قوت کا پرتو ڈال کر ہاتھی سے زیادہ قوی بنا دے۔ کسی کی قوت و شدت بہمہ جہات دوسروں سے زائد نہیں ‘ بعض اعتبارات سے ہے (ایک چیز دوسری چیز سے ایک اعتبار سے زیادہ قوی ہے اور وہ دوسری چیز پہلی چیز سے کسی دوسرے اعتبار سے قوی ہے۔ بہمہ جہات تو اللہ ہی سب سے قوی ہے) ۔
وانھرا وسبلا لعلکم تھتدون اور زمین میں دریا اور (حصول مقصد کے) راستے بنائے تاکہ تم (اپنے مقصد یا اللہ کی معرفت کے) راستہ پر چلو۔ یعنی اللہ کی معرفت حاصل کرو۔
Ayah 16:16وعلمت اور (راستوں پر) اللہ نے کچھ نشانیاں بنائیں۔ درخت ‘ پہاڑ ‘ عمارتیں ‘ ستارے وغیرہ علامات راہ ہیں ‘ قافلے ان سے اپنے راستوں کی شناخت کرتے ہیں۔ شرعی اسباب و علل بھی (احکام کیلئے) راہنما ہیں۔ وجوب صلوٰۃ و صوم و زکوٰۃ کیلئے وقت سبب ہے۔ اشیاء ماکولہ و مشروبہ کی حرمت کی علت نشہ ہے۔ طبعی اور عقلی دلائل بھی راہنمائی کرتے ہیں۔ نبض کی تیزی بخار کو ظاہر کرتی ہے۔ اس عالم کا وجود اس کے بنانے والے کی ہستی کو ثابت کر رہا ہے۔ معجزہ پیغمبر کی نبوت کی دلیل ہوتا ہے۔
وبالنجوم ھم یھتدون اور تاروں سے بھی لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں۔ یعنی رات کی تاریکی میں جنگلوں اور سمندروں میں ستاروں سے راستوں کی شناخت کرتے ہیں۔ النَّجْم سے مراد ہے : عام ستارے۔ محمد بن کعب نے کہا : علامات سے مراد پہاڑ ہیں۔ دن کے وقت پہاڑوں سے راستہ معلوم ہوتا ہے اور رات کے وقت ستاروں سے۔ کلبی نے کہا : سب (علامات) سے مراد ستارے ہیں۔ کچھ ستارے علامات (اور نشانات) ہیں اور کچھ ستاروں سے لوگ راستے معلوم کرتے ہیں۔ سدی نے کہا : النَّجْم سے مراد ہے : ثریا اور بنات النعش اور دونوں فرقد اور جدی ان سے لوگ راہ بھی معلوم کرلیتے ہیں اور جہت قبلہ بھی۔ میں کہتا ہوں : اس (مرادی) تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہ ستارے قطب شمالی کے قریب ہیں ‘ ان کے دائرے چھوٹے ہیں ‘ اسلئے اپنی اپنی جگہ سے بہت ہی کم حرکت کرتے ہیں۔
یَھْتَدُوْن کی فاعلی ضمیر قریش کی طرف لوٹ رہی ہے۔ قریش عام طور پر تجارت کیلئے رات کو سفر کرتے تھے اور رات میں چلتے تھے اور ستاروں سے جہت سفر کو معلوم کرنے میں بہت مشہور تھے۔ علامات کے لفظ کے بعد النَّجْم کا ذکر خصوصیت کو ظاہر کر رہا ہے گویا) مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ نجم سے خاص طور پر راستہ کی شناخت کرتے اور راہ پر چلتے ہیں ‘ اسلئے ان پر اللہ کا شکر لازم ہے کہ اس نے ستاروں کو ان کیلئے دلیل راہ بنا دیا۔
Ayah 16:17افمن یخلق کمن لا یخلق سو کیا جو پیدا کرتا ہے ‘ اس کی طرح ہوجائے گا جو پیدا نہیں کرتا۔ من لا یخلق سے مراد ہیں : معبودان باطل (خواہ اہل عقل ہوں یا بےعقل) اہل عقل کو بےعقل پر تغلیب دے کر (بجائے مَا کے) مَنْ استعمال کیا ہے ‘ یا صرف بت مراد ہیں۔ چونکہ مشرک بتوں کو الہٰہ (اپنے معبود) مانتے تھے اور الٰہ کو اہل علم ہونا ہی چاہئے (تو گویا مشرکوں کے مفروضے کے مطابق بتوں کیلئے مَنْ کا صیغہ استعمال کیا) ۔ اَفَمَنْ میں ہمزہ انکاریہ اور فَا تعقیبیہ ہے ‘ یعنی جب روشن و کثیر دلائل سے اللہ کا علمی کمال اور قدرت کا احاطہ اور حکمت کی ہمہ گیری ثابت ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تنہا اللہ ہی خالق کائنات ہے ‘ کوئی دوسرا خالق نہیں ہے یہاں تک کہ کوئی بھی نہ مکھی اڑا سکتا ہے نہ روک سکتا ہے اور اگر مکھی ان بتوں سے کچھ چھین کرلے جائے تو وہ واپس نہیں لے سکتے تو پھر ایسا خلائق کل اس چیز کی طرح کیسے ہوسکتا ہے جو خالقیت سے بالکل بےبہرہ ہے۔
افلا تذکرون تو کیا (ان مشاہدات برہانی کے بعد بھی) نصیحت پذیر نہیں ہو گے ؟ یعنی جب ایسی چیزیں تمہارے سامنے ہیں جو نصیحت اندوزی کی مقتضی ہیں تو پھر عبرت اندواز نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
Ayah 16:18وان نعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کی گنتی کرو تو گن بھی نہیں سکتے۔ تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا تو ذکر ہی کیا ہے ‘ اللہ کی نعمتوں کی کوئی حد ہی نہیں ہے کہ گن سکو ‘ لہٰذا اس کے معبود ہونے کا حق بھی محدود نہیں ہے (ہر نعمت اس کو مستحق عبادت بنا رہی ہے) پس تم پورا حق عبادت تو ادا ہی نہیں کرسکتے ‘ یہی کافی ہے کہ تم اپنی عاجزی کا اقرار کرو اور ظاہر باطن ‘ ہر طور پر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔
ان اللہ لغفور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ (تمہارے قصور اور پورے شکر کو ادا کرنے سے عاجزی کو) معاف کرنے والا ہے۔
رحیم (تم پر) مہربان ہے کہ تمہارے استحقاق کے بغیر اس نے اپنی وسیع نعمتیں تم کو عطا فرمائی ہیں اور تمہارے گناہوں کی پاداش میں اپنے انعامات کا سلسلہ منقطع نہیں کیا اور نہ ناشکری کی سزا تم کو فوراً دی۔
Ayah 16:19وا اللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون اور اللہ تمہارے سب پوشیدہ اور ظاہر احوال کو جانتا ہے۔ پوشیدہ احوال سے مراد ہیں : عقائد ‘ ارادے ‘ دل کا شکر ‘ کامل طور پر حقوق عبدیت کو ادا کرنے سے قاصر رہنے کا علم ‘ غفلت ‘ غرور وغیرہ اور ظاہری احوال سے اچھے برے اعمال مراد ہیں۔ اللہ کے واقف ہونے کے اظہار کا یہ مقصد ہے کہ اللہ تم کو تمہارے اندرونی و بیرونی احوال کی سزا و جزا دے گا۔
Ayah 16:20والذین یدعون من دون اللہ لا یخلقون شیئا وھم یخلقون اور اللہ کے سوا مشرک جن کو پکارتے (یعنی عبادت) کرتے ہیں ‘ وہ کوئی چیز نہیں پیدا کرتے بلکہ خود (دوسروں کے ہاتھوں سے) پیدا کئے جاتے ہیں۔ یعنی آسمان و زمین تو بڑی چیزیں ہیں ‘ ان کے معبود تو ادنیٰ اور حقیر ترین چیز کے بھی خالق نہیں۔ کوئی چیز پیدا کرنے کی انہیں قدرت ہی نہیں ‘ بلکہ خود اپنی ہستی بھی ان کی اپنی نہیں۔ نہ ذات اپنی ہے نہ وجود اپنا ‘ بلکہ ان کی ہستی دوسرے کی ممنون کرم اور عطا کردہ ہے۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ وہ شریک خدا ہو سکیں اور کیسے جائز ہے کہ ان کو الٰہ قرار دیا جائے۔
Ayah 16:21اموات غیر احیاء وہ (بت) بےجان ہیں ‘ زندہ نہیں (ان میں کبھی زندگی پیدا ہی نہیں ہوئی) یا یہ مطلب ہے کہ وہ (معبود) بذات خود مردے ہیں ‘ زندہ نہیں ہیں۔ ان کی زندگی خود بخود نہیں بلکہ ایک حیّ وقیوم کی عطا کردہ ہے۔
وما یشعرون ایان یبعثون اور ان کو خبر ہی نہیں کہ وہ مردے کب اٹھائے جائیں گے۔ یعنی ان کا دوبارہ اٹھایا جانا نہ ان کے اختیار میں ہے ‘ نہ ان کے پرستاروں کا دوبارہ زندہ کیا جانا ان کے بس میں ہے ‘ نہ اپنے پجاریوں کا زندہ کر کے اٹھایا جانا ان کو معلوم ہے ‘ پھر اپنے پرستاروں کو وہ جزا کیسے دے سکتے ہیں اور ان کی پرستش کا کیا فائدہ ہے اور کس طرح وہ معبودیت کے مستحق قرار پاسکتے ہیں۔
Ayah 16:22الھکم الہ واحد تمہارا معبود ‘ ایک معبود ہے۔ یعنی دلائل سے ثابت ہوگیا کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں۔
فالذین لا یومنون بالاخرۃ قلوبھم منکرۃ پس جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ‘ ان کے دل (ا اللہ کی ان گنت نعمتوں کا) انکار کرتے ہیں باوجودیکہ خداداد نعمتیں بالکل ظاہر ہیں۔ بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں کو نور معرفت سے محروم کردیا ہے ‘ اسی کی وجہ سے وہ کور بصیرت اور نابینا ہوگئے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ اللہ نے مخلوق کو تاریکی (کثیف مادیت اور حیوانی جہالت) میں پیدا کیا ‘ پھر ان پر اپنا نور (یعنی اس کا ایک چھینٹا) ڈال دیا۔ جس شخص پر نور کا کچھ حصہ (کوئی چھینٹا) پڑگیا ‘ اس کو راستہ مل گیا ‘ وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نہ پڑا ‘ وہ بھٹکتا رہا ‘ ہدایت یاب نہ ہوا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ قلم (الٰہی) علم خداوندی خشک ہوگیا (یعنی اللہ کے علم میں جس کو ہدایت یاب ہونا تھا ‘ وہ ہدایت یاب ہوگیا اور اللہ کے علم میں جس کا گمراہ ہونا تھا ‘ وہ گمراہ ہوگیا۔ اس فیصلہ کی تحریر ہوچکی ‘ فیصلہ لکھنے والا قلم خشک ہوگیا ‘ اب تحریر کردہ فیصلہ میں تغیر ممکن نہیں۔ مترجم) رواہ احمد والترمذی۔
وھم مستکبرون اور وہ (قبول حق سے) تکبر کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی عبادت سے غرور کرتے ہیں۔ اللہ کی نعمتوں کا ہی انکار کرتے ہیں ‘ اس لئے اللہ کو مستحق عبادت نہیں جانتے اور اتباع رسول ﷺ سے بھی غرور کرتے ہیں۔ اگر ان کو اللہ کی نعمتوں کا اقرار ہوتا اور اللہ کو مستحق عبادت جانتے تو آخرت پر ایمان رکھتے اور آخرت کی جزا و سزا کو مانتے اور رسول اللہ ﷺ کے اتباع سے سرتابی نہ کرتے۔
Ayah 16:23لا جرم ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون ضروری بات ہے کہ اللہ ان سب کے پوشیدہ اور ظاہر احوال سے واقف ہے۔ یعنی اللہ کی ربوبیت اور معبودیت سے انکار جو دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور اللہ کی عبادت اور اللہ کے رسول ﷺ کے اتباع سے تکبر جو وہ ظاہر کرتے ہیں ‘ اللہ سب سے واقف ہے۔
انہ لا یحب المستکبرین (اور) یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : چھوٹی سرخ چیونٹی کے برابر غرور (والا) جنت میں نہیں جائے گا اور چھوٹی سرخ چیونٹی کے برابر ایمان (والا) دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم میں سے بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا لباس خوبصورت ہو (اور یہ غرور کی علامت ہے ‘ پھر ان کا نتیجہ کیا ہوگا) فرمایا : اللہ جمال والا ہے ‘ جمال کو پسند کرتا ہے (غرور کپڑوں کی پسندیدگی کا نام نہیں ‘ خوش لباسی کی خواہش تکبر نہیں بلکہ) تکبر ‘ حق سے تکبر کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے سے ہوتا ہے۔ اس حدیث میں الکبر من بطر الحق آیا ہے جس کا مطلب علماء نے مختلف طور پر بیان کیا ہے۔ نہایہ میں ہے : بطر الحق کا یہ معنی ہے کہ اللہ کی توحید اور عبادت کو باطل سمجھے باوجودیکہ اللہ نے اس کو حق قرار دیا ہے۔ بعض نے کہا کہ بطر الحق کا معنی ہے : حق کے مقابلہ میں مغرور ہوجانا ‘ حق کو حق نہ ماننا۔ بعض نے کہا : حق کو قبول نہ کرنے کا نام ہے بطر الحق۔ ان تمام اقوال کا حاصل (ایک ہی ہے ‘ وہ) یہ کہ اللہ کی عبادت کو لازم نہ سمجھے ‘ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ کا احسان اور مہربانی نہ قرار دے بلکہ اللہ پر اپنا حق سمجھے۔ میں کہتا ہوں : حدیث مذکور میں جو تکبر کے مقابلہ میں ایمان کا ذکر کیا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ مؤمن اپنے وجود اور تمام کمالات کو خداداد سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی ذات کو بھی اللہ کی امانت اور عاریت جانتا ہے اس لئے اپنے کمالات پر غرور نہیں کرتا اور کافر اپنی ہستی اور اپنے کمالات کو خودآوردہ جانتا ہے اور اللہ کو بھول جاتا ہے۔ تصوف میں جو لفظ فنا آیا ہے ‘ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدمی اپنے وجود کو بجائے خود معدوم سمجھے ‘ خود اپنی ہستی کو اپنی نہ سمجھے بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک عاریت جانے (اور ہر چیز میں ‘ ہر کمال مادی و علمی میں یہاں تک کہ اپنے وجودو ذات کے لحاظ سے بھی اپنے کو اللہ کا محتاج سمجھے۔ مترجم)
Ayah 16:24واذا قیل لھم ماذآ انزل ربکم قالوا اساطیر الاولین اور جب ان (منکرین آخرت) سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو انہوں نے جواب دیا : (رب نے کچھ نہیں اتارا) یہ تو گذرے ہوئے لوگوں کی لکھی ہوئی (داستانیں) ہیں۔ قبائل عرب کو جب پتہ چلا کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے ایام حج میں تحقیق احوال کیلئے کچھ آدمیوں کو مکہ بھیجا۔ یہ نمائندے آئے اور مکہ کی گھاٹیوں میں جو مشرک بیرونی لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے سے روکنے کیلئے معمور تھے ‘ ان سے مل کر دریافت کیا کہ اللہ نے کیا کلام اتارا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : یہ اللہ کا بھیجا ہوا کلام نہیں ہے بلکہ وہی حکایتیں ہیں جو پچھلوں نے لکھ دی ہیں۔
سطر لائن کتاب کی ہو ‘ یا درختوں کی ‘ یا آدمیوں کی۔ سطر کی جمع اسطروسُطُور اور اسطار آتی ہے اور جمع الجمع اساطیر اور اسطُرَۃٌہے۔
Ayah 16:25لیحملوا اوزارھم کاملۃ یوم القیمۃ نتیجہ اس کہنے کا یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کا بھی پورا بوجھ اٹھائیں گے۔ یعنی یہ مشرک ایسا جواب اسلئے دیتے ہیں کہ لوگوں کو گمراہ کردیں اور قیامت کے دن اپنی گمراہی کے گناہوں کا بار پورا پورا اپنے اوپر اٹھائیں ‘ کیونکہ گمراہ کنی علامت ہے کامل گمراہی کی۔ دوسروں کو گمراہ بنانے سے معلوم ہوتا ہے کہ گمراہ کرنے والوں میں گمراہی جم گئی ہے (اسی وجہ سے تو وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں) ۔
ومن اوزار الذین یضلونھم اور ان لوگوں کا بار (گناہ) بھی جن کو گمراہ کرتے ہیں۔ یعنی کچھ گناہ ان لوگوں کا بھی اپنے اوپر اٹھائیں جو ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ کچھ (مَنْ ) کہنے کی یہ وجہ ہے کہ گمراہ کرنے والوں کے گمراہ کرنے کی وجہ سے جو لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں ‘ ان کے کچھ گناہ تو وہ ہوں گے جو گمراہ کرنے والوں کی گمراہ کنی کا نتیجہ ہوں گے اور کچھ اپنے خصوصی گناہ ہوں گے۔ اوّل الذکر گناہوں کا بار گناہ کرنے والوں کے برابر گمراہ کرنے والوں پر بھی پڑے گا اور مؤخر الذکر گناہوں کے مجرم صرف گناہگار ہی ہوں گے ‘ گمراہ کنی کا ان میں کوئی دخل نہ ہوگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گمراہ ہونے والوں کے گناہوں کا کچھ بار گمراہ کرنے والے بھی اٹھائیں گے۔ امام احمد ‘ مسلم اور اصحاب السنن نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ہدایت کی طرف بلائے گا ‘ اس کو بھی نیکی کرنے والے کی نیکی کے برابر اجر ملے گا اور نیکی کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے گا ‘ اس پر بھی اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا گناہ کرنے والے پر اور گناہ کرنے والے کے (بار) گناہ میں اس سے کوئی کمی نہیں آئے گی۔
بغیر علم بغیر جاننے کے ‘ یعنی وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر دلیل کے۔ یا یہ مطلب ہے کہ گمراہ ہونے والے نادانستگی کی حالت میں گمراہ ہوجاتے ہیں ‘ ان کو معلوم نہیں کہ گمراہ کرنے والے ان کو گمراہ کر رہے ہیں۔
آیت میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ گمراہ ہونے کو نہ جاننا ‘ گمراہ ہونے والوں کیلئے کوئی عذر نہیں ہوسکتا۔ ان کیلئے خود حق و باطل میں تمیز کرنا یا تحقیقات کرنا لازم تھا۔
الا سآء ما یزرون : خوب یاد رکھو کہ جس گناہ کو اپنے اوپر لاد رہے ہو ‘ وہ برا بوجھ ہے۔
Ayah 16:26قد مکر الذین من قبلھم جو لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں ‘ انہوں نے بڑی بڑی تدبیریں کیں ‘ یعنی اللہ کے پیغمبروں کے ساتھ فریب کرنے کی بڑی تدبیریں کیں۔
فاتی اللہ بنیا لھم من القواعد فخر علیھم السقف من فوقھم وانھم العذاب من حیث لا یشعرون پس اللہ نے ان کا بنا بنایا گھر جڑ بنیاد سے ڈھا دیا ‘ پھر اوپر سے ان پر چھت آپڑی اور (علاوہ ناکامی کے) ان پر (ا اللہ کا)
عذاب ایسی طرح آگیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا۔ یعنی ان کی تدبیروں کی جڑیں اکھاڑ دینے کیلئے اللہ کا حکم آگیا اور ہلاکت آفریں عذاب ایسے راستوں سے ان پر آپہنچا جن کا ان کو گمان بھی نہ تھا۔ ان کی تدبیریں ہی اسباب ہلاکت بن گئیں ‘ جیسے کوئی قوم اپنے بچاؤ اور دشمنوں کو روکنے کیلئے اگر کوئی عمارت بنائے ‘ پھر عمارت میں زلزلہ آجائے ‘ بنیادیں ہلنے لگیں اور ستون نیچے گرجائیں اور چھت اوپر سے آجائے اور سب دب کر مرجائیں۔ یہی حالت ان لوگوں کی ہوئی ‘ ان کی تدبیریں خود انہی کیلئے تباہ کن ہوگئیں۔ آیت مذکورۂ بالا میں کافروں کی حالت کی تصویر کشی بطور تمثیل کی گئی ہے (یہ مراد نہیں ہے کہ واقعی کوئی عمارت انہوں نے بنائی تھی اور وہ ڈھ گئی اور سب اس کے نیچے دب گئے) ۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نیز بغوی نے وہب (بن منبہ) کا بیان نقل کیا ہے کہ آیت مذکورہ میں نمرود بن کنعان مراد ہے جس نے حضرت ابراہیم سے اللہ کے متعلق مناظرہ کیا تھا اور آسمان کی طرف چڑھنے کیلئے بابل میں ایک اونچی عمارت بنوائی تھی ‘ اس عمارت کی بلندی پندرہ ہزار ہاتھ تھی۔ کعب اور مقاتل کا قول ہے کہ اس کی بلندی دو فرسخ تھی ‘ لیکن تیز آندھی کی وجہ سے وہ عمارت گر کر سمندر میں جا پڑی اور اس کا کچھ حصہ ان لوگوں پر گرپڑا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے۔
Ayah 16:27ثم یوم القیمۃ یخزیھم پھر قیامت کے دن اللہ ان کو رسوا کرے گا۔ یعنی ان کو ذلیل کرے گا اور دنیوی عذاب کے علاوہ ان کو رسوائی کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ دوسری آیت میں آیا ہے : رَبَّنَآ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہٗ ۔
ویقول این شرکاء ی الذین کنتم تشآقون فیھم اور فرمائے گا : (آج) میرے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کی بابت تم (رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی) مخالفت کرتے تھے۔
قال الذین اوتوا العلم اہل علم کہیں گے : یعنی انبیاء اور ملائکہ اور مؤمن نعمت ہدایت کا شکر ادا کرنے اور مشرکین کی توہین میں اضافہ کرنے اور کافروں کے دکھ پر مسرت ظاہر کرنے کیلئے کہیں گے۔ اللہ نے قیامت میں ہونے والے واقعہ کو بیان کیا ہے ‘ اس میں سننے والوں کیلئے ایک خاص مہربانی کا اظہار ہے۔
ان الخزی الیوم والسوء علی الکفرین آج بلاشبہ ذلت اور عذاب کافروں پر ہوگا۔ اَلْیَوْم سے مراد ہے : روز قیامت۔ الْخِزْیَ ذلت و توہین۔ السُّوْٓءَ عذاب۔
Ayah 16:28الذین تتوفھم الملئکہۃ ظلامی انفسھم جن کی جان فرشتوں نے حالت کفر پر قبض کی تھی (یعنی آخر وقت تک کافر تھے) اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے۔ نفسوں پر ظلم کرنے سے مراد کفر کرنا۔ نفس کو دوامی عذاب میں مبتلا کرنے کا سامان کرنا نفس پر ظلم ہے۔
فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء پھر کافر لوگ صلح کا پیغام ڈالیں گے (اور کہیں گے) ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔
مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءَ - سَلَمَکی تشریح ہے اور السَّلَمَ سے مراد ہے : پیغام صلح (ترجمہ میں اسی تفسیر کا لحاظ کیا گیا ہے) یا اَلْقَوُا السَّلَمَ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کافر مطیع ہوجائیں گے ‘ اطاعت کا اظہار کریں گے۔ سُوْٓءَ سے مراد ہے : کفر اور سرکشی۔
بلی ان اللہ علیم بما کنتم تعلمون (فرشتے کہیں گے :) کیوں نہیں (تم برے کام کرتے تھے) بیشک اللہ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے ‘ پس وہ تم کو تمہارے اعمال کی پاداش ضرور دے گا۔ انکار سے تم کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ عکرمہ نے کہا : اس سے مراد وہ کفار ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے۔ یہ بھی ممکن ہے کی بَلٰی سے آخر تک اللہ کا قول ہو (فرشتوں کا نہ ہو) ۔
Ayah 16:29فادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فلبئس مثوی المتکبرین پس جہنم کے دروازوں میں (سے جہنم میں) داخل ہوجاؤ اور اس میں ہمیشہ کیلئے رہو۔ غرض تکبر کرنے والوں کیلئے جہنم برا ٹھکانا ہے۔ یعنی تم میں سے ہر صنف جہنم کے اس مخصوص دروازہ میں داخل ہو جو اس صنف کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ بعض علماء نے کہا : ابواب جہنم سے مراد ہیں : عذاب جہنم کی مختلف قسمیں۔
ضروری توضیح از مترجم
بظاہر خالِدِیْنَ فِیْھَا، ادخُلوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے اور حال و ذوالحال کا زمانہ حسب قاعدۂ نحو ایک ہونا چاہئے اور ظاہر ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے کے وقت خلود نہیں ہوسکتا۔ داخل ہونا محدود وقت میں ہوگا اور اندر رہنا ہمیشہ ہوگا ‘ اسلئے حضرت مفسر نے خالِدِیْنَ کی تفسیر میں مُقَدَّرِیْنَ الْخَلُوْدَ فرمایا ‘ یعنی خالِدِیْنَ سے مراد یہ ہے کہ داخلہ کے وقت تمہارے لئے خلود مقدر کردیا گیا اور حکم دے دیا گیا کہ دوزخ کے اندر ہمیشہ رہو گے۔ ترجمہ میں مفسر کی اس توجیہ کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
Ayah 16:30وقیل للذین اتقوا ما ذا انزل ربکم قالوا خیرا اور جو لوگ (گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے سے) بچے رہے ‘ ان سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا تو انہوں نے کہا : بڑی بہتر چیز نازل کی۔ یعنی ایسا کلام نازل کیا جس میں دنیا و دین کی بھلائی ہے۔
للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک کام (افکار و اعمال) کئے ‘ ان کیلئے (اس دنیا میں بھی) بھلائی ہے۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک حَسَنَۃ سے مراد ہے : ثواب کو دس گنا تک بڑھا دینا۔ ضحاک نے کہا : اس سے فتح و نصرت مراد ہے۔ مجاہد نے اچھی روزی مراد لی ہے۔ میں کہتا ہوں : حَسَنَۃ سے مراد ایسی پاکیزہ زندگی ہے جو خالق کی نظر میں بھی پسندیدہ ہو اور دانشمند ‘ صحیح ذوق رکھنے والے آدمیوں کی نظر میں بھی۔ یعنی مخلوق کی پرستش نہ کرے ‘ صرف اللہ واحد و بےنیاز کی عبادت کرے اور اسی کی معرفت و قرب کا طلبگار ہو۔ پاکیزہ (حلال) چیزوں کو حلال سمجھے اور گندی (حرام) چیزوں کو حرام جانے۔ کسی کو ناحق دکھ نہ دے اور ایسے عمل کرے جن کا اچھا پھل اس کو آخرت میں ملے۔
والدار الاخرۃ خیر اور بلاشبہ آخرت (کی زندگی) کا گھر دنیا (کی زندگی) کے گھر سے اہل تقویٰ کیلئے بہتر ہے۔
دنیوی زندگی میں جو اعمال انہوں نے کئے ہوں گے ‘ ان کا اچھا پھل ان کو آخرت میں ملے گا اور ہمیشہ ہمیشہ ان کو اللہ کی طرف سے عزت حاصل رہے گی۔
ولنعم دار المتقین اور بیشک (دار آخرت) متقیوں کیلئے بہت اچھا مکان ہے۔ حسن نے کہا : دَارُ الْمُتَقِیْنَ سے مراد دنیا ہے ‘ اہل تقویٰ یہیں سے آخرت کا سامان لے کر جاتے ہیں۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک دار الْمُتَقِیْنَ سے مراد دار آخرت ہے۔
Ayah 16:31جنت عدن ان کیلئے عدن کی جنتیں ہیں ‘ یا آخرت میں ان کا مسکن جنات عدن ہیں۔
یدخلونھا تجری من تحتھا الانھر لھم فیھا ما یشآء ون جن کے اندر متقی داخل ہوں گے (اور) جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (اور) جو کچھ اہل جنت چاہیں گے ‘ ان کو وہاں ملے گا۔
مَا یَشَآءُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ اقسام مرغوبات میں سے جو کچھ چاہیں گے ‘ ان کو جنت میں ملے گا۔ فِیْھَا کو مَا یَشَآءُوْنَ سے پہلے ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کے تمام مرغوبات صرف جنت ہی میں مل سکیں گے (دنیا میں تمام مقاصد کی تکمیل ممکن نہیں) ۔
کذلک یجزی اللہ المتقین اسی طرح اللہ متقیوں کو جزا دے گا۔ یعنی جو لوگ شرک اور بداعمالی سے پرہیزرکھیں گے ‘ ان کو اللہ ایسی ہی جزا دے گا جیسی اوپر ذکر کردی گئی۔
Ayah 16:32الذین تتوفھم الملئکۃ طیبین یقولون سلم علیکم ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون جن کی روح فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (شرک سے) پاک ہوتے ہیں۔ وہ فرشتے ان سے کہتے جاتے ہیں : تم پر سلامتی ہو (ا اللہ تم کو عذاب اور دکھ سے محفوظ رکھے) اپنے اعمال کے سبب جنت میں داخل ہوجاؤ۔
طَیِّبِیْنَ یعنی کفر اور بداعمالی سے پاک ہونے کی حالت میں۔ پہلی آیت میں بیان کیا تھا کہ کافر جب کفر کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوں گے ‘ ایسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کریں گے۔ ان کے مقابلے میں متقیوں کا ذکر اس آیت میں کیا اور فرمایا : متقی پاک زندگی والے ہوں گے ‘ اسی پاکیزگی کی حالت میں فرشتے ان کی جانیں قبض کریں گے۔ مجاہد نے طَیِّبِیْنَ کا معنی بیان کیا : پاک قول و عمل والے۔ بعض نے طَیِّبِیْنَ کا ترجمہ کیا ہے : خوش ‘ یعنی فرشتوں کی بشارت جنت سے خوش ہونے والے۔ یا یہ مطلب ہے کہ چونکہ ان کی کامل توجہ بارگاہ قدس کی طرف ہوتی ہے ‘ اسلئے وہ اپنی روحیں قبض ہونے کی حالت میں خوش ہوتے ہیں۔
سَلاَمٌ عَلَیْکُم فرشتوں کا قول ہے۔ بعض کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ فرشتے ان کو اللہ کا سلام پہنچاتے ہیں۔ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ الخ یعنی جنت تمہارے اعمال کے سبب تمہارے لئے تیار ہے۔ جب تم اٹھائے جاؤ گے تو فرشتے کہیں گے : ” سلام علیکم “ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ یا یہ مطلب ہے کہ مرنے کے وقت فرشتے ان سے سلام علیکم کہتے ہیں اور جب قیامت کے دن ان کو اٹھایا جائے گا تو حکم ہوگا : جنت میں داخل ہوجاؤ۔
Ayah 16:33ھل ینظرون الا ان یاتیھم الملئکۃ او یاتی امر ربک کیا یہ کافر صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ (ان کی روحیں قبض کرنے کو) فرشتے آپہنچیں (اور اس وقت یہ ایمان لائیں) یا اللہ کا حکم (یعنی قیامت یا عذاب مہلک) آجائے (تو ایمان لائیں) ۔
کذلک فعل الذین من قبلھم (جیسے ان کافروں نے شرک و تکذیب کو اختیار کیا) اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی کیا تھا (اور جو عذاب ان پر آنا تھا ‘ آگیا) ۔
وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون اور (عذاب دے کر) اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے کہ کفر اور معاصی کا ارتکاب کرتے تھے جو ان کے عذاب خداوندی میں مبتلا ہونے کا موجب ہوئے۔