Ayahs 16:1–2آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدے کو قریب بتلاتے ہوئے اور اس کے وقوع کو متحقق کرتے ہوئے فرماتا ہے : (اتی امر اللہ فلاتسفعجوہ) ” اللہ کا حکم آپہنچا، پس آپ اس میں جلدی نہ کریں “ کیونکہ یہ وعدہ ضرور آئے گا اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ (سبحنہ و تعلی عما یشرکون) ” وہ پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک بنات یہیں “ اللہ تبارک و تعالیٰ شریک، بیٹے، بیوی اور ہمسر وغیرہ کی نسبت سے بالکل پاک ہے جن کو یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ نسبت اللہ تعالیٰ کے جلال کے لائق نہیں اور اس کے کمال کے منافی ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کو اس کے دشمنوں نے متصف کیا ہے۔ اس لئے اس وحی کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے انبیاء ومرسلین پر نازل فرمائی جس کی اتباع کو وہ پسند فرماتا ہے۔ اس وحی میں ان صفات کمال کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا چاہیے۔ (فرمایا : (ینزل المئکۃ بالروح من امرہ) ” وہ اتارتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے “ یعنی اس وحی کے ساتھ، جس پر روح کی زندگی کا دار و مدار ہے (علی من یشآء من عبادۃ) ” اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے “ یعنی ان بندوں پر وحی نازل فرماتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تمام انبیاء ومرسلین کی دعوت کا لب لباب اور اس کا دار و مدار اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ہے : (ان انذروآء انہ لا الہ الا انا) ” انہیں خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ یعنی انہیں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور صفات عظمت میں اس کی وحدانیت کے بارے میں ڈراؤ، جو کہ درحقیقت صفات الوہیت ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے رسول مبعوث کئے۔ تمام شرائع اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر زور دیتی ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی مخالفت کرتا اور اس کے متضاد کام کرتا ہے یہ شرائع اس کے خلاف جہاد کرتی ہیں۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے دلائل وبراہین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
Ayahs 16:3–9آیت 3
اس سورة مبارکہ کو ” سورة النعم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا : (تعلی عما یشرکون) ” یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چناچہ فرمایا : (خلق الانسان من نطفۃ) ” اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا “ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشو و نما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہوگئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہوگیا۔ فرمایا : (فاذا ھو خصیم مبین) ” پھر جبھی ہوگیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔ “ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اسکا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کردیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر سا کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔
(والانعام خلقھا لکم) ” اور چوپایوں کو بھی اس نے تمہارے لئے پیدا کیا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمہاری خاطر، تمہارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑیفوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے (لکم فیھادف) ” ان میں تمہارے لئے گرمی ہے “ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ (ومنافع) اس کے علاوہ تمہارے لئے دیگر فوائد ہیں (ومنھا تاکلون) ” اور ان (جانوروں) میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔ “ (ولکم فیھا جمال حین تریحون وحین تسرحون) ” اور تمہارے واسطے ان میں خوبصورتی ہے جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو “ یعنی شام کے وقت ان مویشیوں کے گھر لوٹنے اور آرام کرنے اور صبح کے وقت چرنے کے لئے باہر جانے میں تمہارے لئے خوبصورت ہے۔ ان چوپایوں کی خوبصورتی کا ان کے لئے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ تم ہی ہو جو ان مویشیوں کو، اپنے لباس، اپنی اولاد اور اپنے مال کو اپنے جمال کا ذریعہ بناتے ہو اور یہ چیزیں تمہیں اچھی لگتی ہیں۔
(و تحمل اثقالکم) ” اور وہ تمہارے بوجھ اٹھاتے ہیں۔ “ یعنی یہ چوپائے تمارے بھاری بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں بلکہ وہ تمہیں بھی اٹھاتے ہیں۔ (الی بلدلم تکونوا بلغیہ الابشق الانفس) ” ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں، مگر جان مار کر “ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے مطیع بنادیا۔ ان میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور بعض جانوروں پر تم جو چاہتے ہو بوجھ لادتے ہو اور دور دراز شہروں اور ملکوں تے لے جاتے ہو۔ (ان ربکم لرؤف رحیم) ” بیشک تمہارا رب بڑا شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے “ اس نے تمہہارے لئے ان تمام چیزوں کو مسخر کردیا جن کی تمہیں ضرورت اور جن کی تمہیں حاجت تھی۔ پس ہر قسم کی حمد و ثنا کا وہی مستحق ہے، جیسا کہ اس کے جلال، اس کی عظمت سلطنت اور اس کے بےپایاں جود و کرم کے لائق ہے۔
(والخیل والبغال والحمیر) ” اور گھوڑے، خچر اور گدھے “ یعنی ہم نے ان تمام چوپایوں کو تمہارے قابو میں دے دیا (لترکبوھا وزینۃ) ” تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے “ یعنی کبھی تو تم انہیں سواری کی ضرورت کے لئے استعمال کرتے ہو اور کبھی خوبصورتی اور زینت کی خاطر تم انہیں پالتے ہو۔ یہاں ان کو کھانے کا ذکر نہیں کیا کیونکہ خچر اور گدھے کا گوشت حرام ہے۔ گھوڑوں کو بھی غالب طور پر کھانے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے برعکس اس کو کھانے کی غرض سے ذبح کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں ان کی نسل منقطع نہ ہوجائے۔ ورنہ صحیحین میں حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی ہے۔ (ویخلق مالا تعلمون) ” اور پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے “ نزول قرآن کے بعد بہت سی ایسی چیزیں وجود میں آئیں جن پر انسان بحر و بر اور فضا میں سواری کرتے ہیں اور جنہیں وہ اپنے فوائد اور مصالح کے لئے اپنے کام میں لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعیان کے ساتھ ان کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صرف ایسی ہی چیزوں کا ذکر فرماتا ہے جن کو اس کے بندے جانتے ہیں یا جن کی نظیر کو وہ جانتے ہوں اور جس کی نظیر ان کے زمانے میں دنیا میں موجود نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ کرتا تو لوگ اس چیز کو نہ پہچان سکتے اور یہ نہ سمجھ سکتے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ لہٰذا اللہ تعالیٰ صرف جامع اصول ذکر فرماتا ہے جس میں وہ تمام چیزیں داخل ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور جنہیں لوگ نہیں جانتے۔ جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے بارے میں ان چیزوں کا نام لیا ہے جن کو ہم جانتے ہیں اور جن کی نظیر کا مشاہدہ کرتے ہیں، مثلاً کھجور، انگور اور انار وغیرہ اور جس کی کوئی نظیر ہم نہیں جانتے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا ذکر مجمل طور پر اپنے اس ارشاد میں کیا ہے۔ (فیھما من کل فاکھۃ زوجن) (الرحمن :52/55) ” ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہوں گے۔ “ اسی طرح یہاں بھی صرف انہی سواریوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے ہم متعارف ہیں، مثلاً گھوڑے، خچر، گدھے، اونٹ اور بحری جہاز ورغیرہ اور باقی کو اس نے اس قول (ویخلق مالا تعلمون) میں مجمل رکھا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں حسی راستے کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ عنایت فرمائی کہ وہ اس راستے کو اونٹوں اور دیگر سواریوں کے ذریعے سے طے کرتے ہیں۔۔۔ وہاں اس معنوی راستے کا بھی ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے، چناچہ فرمایا : (وعلی اللہ قصد السبیل) ” اور اللہ تک پہنچتا ہے سیدھا راستہ “ یعنی صراط مستیم جو قریب ترین اور مختصر ترین راستہ ہے اور اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
رہا عقائد و اعمال میں ظلم کا راستہ تو اس سے مراد ہر وہ راستہ ہے جو صراط مستقیم کی مخالفت کرتا ہے یہ راستہ اللہ تعالیٰ سے منقطع کر کے شقاوت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ پس ہدایت یافتہ لوگ اپنے رب کے حکم سے صراط مستقیم پر گامزن رہتے ہیں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگ ظلم وجور کے راستوں کو اختیار کرتے ہیں (ولو شآء لھدئکم اجمعین) ” اور اگر وہ چاہے تو سب کو ہدایت دے دے “ مگر اللہ تعالیٰ بعض کو اپنے فضل و کرم سے ہدایت عطا کرتا ہے اور بعض کو اپنے عدل و حکمت کی بنا پر گمراہ کرتا ہے۔
Ayahs 16:10–11آیت 10
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں اپنی عظمت اور قدرت کے بارے میں انسان کو آگاہ فرماتا ہے اور ان آیات کے اختتام پر (لقوم یتفکرون) ” غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔ “ کہہ کر اپنی قدرت کا ملہ پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی ہے، جس نے اپنی قدرت کاملہ سے اس رقیق و لطیف بادل سے پانی برسایا، یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے بکثرت پانی نازل کیا جسے وہ خود پیتے ہیں، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہیں اور اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں، پس ان کھیتوں سے بیشمار پھل اور دیگر نعمتیں پیدا ہوتی ہیں۔
Ayah 16:12آیت 12
یعنی یہ تمام چیزیں تمہارے فوائد اور تمہارے مختلف مصالح کے لئے مسخر کی ہیں کیونکہ تم ان چیزوں سے کبھی بھی بےنیاز نہیں رہ سکتے۔ رات کے وقت تم سوتے ہو، سکون اور آرام حاصل کرتے ہو، دن کے وقت تم اپنی معاش اور اپنے دینی اور دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر زمین میں پھیل جاتے ہو۔ سورج اور چاند سے تمہیں روشنی، نور اور اجالا حاصل ہوتا ہے، اس سے درختوں، پھلوں اور نباتات کی اصلاح ہوتی ہے۔ زمین کی مختلف رطوبتوں میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس برودت کا ازالہ ہوتا ہے جو زمین اور حیوانی ابدان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔۔۔ اور اس قسم کی دیگر ضروریات و حوائج جن کا دار و مدار سورج اور چاند کے وجود پر ہے۔ علاوہ ازیں چاند، سورج اور ستارے آسمان کی زینت ہیں، بحر و بر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے سے راستے تلاش کئے جاتے ہیں، اوقات معلوم کئے جاتے ہیں اور زمانوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔ جن سے مختلف انواع کے دلائل حاصل ہوتے ہیں اور آیات میں تصرف ہوتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان سب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ (ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون) ” بیشک ان میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں “ یعنی ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں اور جس مقصد کے لئے یہ اشیاء بنائی اور تیار کی گئی ہیں اس میں غور و فکر اور تدبر کرتے ہوئے وہ اس عقل کو استعملا کرتے ہیں اور عقل جس چیز کو بھی دیکھتی یا سنتی ہے اسے سمجھتی ہے۔ نہ کہ غافلوں کی مانند نظر رکھنا، جو دیکھنے سے اتنے ہی بہرہ ور ہوتے ہیں جتنے وہ جانور جو عقل و فہم سے عاری ہیں۔
Ayah 16:13آیت 13
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف انواع کے جو حیوانات، نباتات اور شجر وغیرہ پیدا کئے ہیں، جن کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف اور جن کے فوائد بہت متنوع ہیں اور ان کو بندوں کے استفادے کے لئے زمین پر پھیلایا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت، بےپایاں احسان اور بےحساب فضل و کرم کی نشانیاں ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (لقوم یذکرون) ” ان لوگوں کے لئے نشانی ہیں جو سوچتے ہیں “ یعنی وہ لوگ جو اپنے حافظے میں علم نافع کو محفوظ رکھتے ہیں، پھر ان امور پر غور و فکر کتے ہیں جن پر غور و فکر کرنے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے یہاں تک کہ وہ اس حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں جس پر یہ علم دلالت کرتا ہے۔
Ayahs 16:14–15آیت 14
وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے (الذی سخر البحر) ” جس نے سمندر کو مسخر کیا “ اور تمہارے مختلف انواع کے فوائد کے لئے اسے تیار کیا۔ (لتاکلوا منہ لحماطریاً ) ” تاکہ کھاؤ تم اس سے تازہ گوشت “ اس سے مراد مچھلی وغیرہ ہے جسے تم شکار کرتے ہو۔ (وتسخرجوامنہ حلیۃ تلبسونھا) ” اور نکالو تم اس سے زیور جو تم پہنتے ہو “ جو تمہارے حسن و جمال میں اضافہ کرتے ہیں۔ (وترک الفلک) ” اور تم دیکھتے ہو کشتیاں “ یعنی جہاز اور کشتیاں وغیرہ (مواخرافیہ) ” چلتی ہیں اس میں پانی پھاڑ کر ‘ یعنی موجیں مارتے ہوئے ہولناک سمندر کا سین چیرتی ہوئی کشتیاں ایک ملک سے دوسرے ملک تک جاتی ہیں جو مسافروں، ان کا رزق، ان کا مال اسباب اور ان کا سامان تجارت لے کر چلتی ہیں۔ سامان تجارت سے وہ رزق اور اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں۔ (ولعلکم تشکرون) ” اور تاکہ تم شکر کرو “ یعنی اس ہستی کا شکر ادا کرو جس نے تمہائے لئے یہ تمام چیزیں تیار کر کے تمہیں میسر کیں اور تم اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جس نے تمہیں ان چیزوں سے نوازا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی شکر کا مستحق ہے اور اس کے لئے حمد و ثنا ہے کیونکہ اس نے اپنے بندوں کو ان کی طلب سے زیادہ اور ان کی آرزؤں سے بڑھ کر مصالح اور فوائد عطا کئے۔ اس کی حمد و ثنا کا شمار نہیں جاسکتا بلکہ وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے اپنی ثنا خود بیان کی۔
Ayah 16:16آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (والقی) ” اور رکھ دیئے اس نے “ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی خاطر (فی الارض رواسی) ” زمین میں بوجھ “ اس سے مراد بڑے بڑے پہاڑ ہیں تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے اور تاکہ زمین پر کھیتی باڑی کرسکیں، اس پر عمارتیں بنا سکیں اور اس پر چل پھر سکیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے زمین پر دریاؤں کو جاری کردیا، وہ ان دریاؤں کو دور دراز زمین سے بہا کر اس زمین تک لاتا ہے جو ان کے پانی کی ضرورت مند ہے تاکہ وہ خود ان کے مویشی اور کھیت سیراب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ دریا سطح زمین پر اور کچھ دریا سطح زمین کے نیچے جاری کئے، لوگ کنوئیں کھودتے ہیں یہاں تک کہ وہ زیر زمین بہنے والے دریاؤں تک پہنچ جاتے ہیں تب وہ رہٹ اور دیگر آلات کے ذریعے سے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مسخر کردیا ہے۔۔۔ ان زمینی دریاؤں (کے پانی) کو باہر نکالتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بےکراں رحمت ہی ہے کہ اس نے زمین میں تمہارے لئے راستے بنا دیئے جو دور دراز شہروں تک لے جاتے ہیں۔ (لعلکم تھتدون) شاید کہ تم ان راستوں کے ذریعے سے اپنی منزل مقصود کو پالو، حتی کہ تم ایسا علاقہ بھی پاؤ گے جو پہاڑوں کے سلسلے سے گھرا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں لوگوں کے لئے درے اور راستے بنا دیئے ہیں۔
Ayahs 16:17–23آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمہیں لا محدود نعمتیں عطا کیں۔۔۔ فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ نہ اس کی برابری کرسکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چناچہ فرمایا (افمن یخلق) ” پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے “ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ (کمن لایخلق) ” اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ “ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے “ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلق و تدبیر میں یکتا ہے اسی طرح وہ اپنی الوہیت، وحدانیت اور عبادت میں بھی یکتا ہے اور جس طرح اس وقت اس کا کوئی شریک نہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اور دیگر چیزوں کو پیدا کیا۔ پس اس کی عبادت میں اس کے ہم سر نہ بناؤ بلکہ دین کو اس کے لئے خالص رکھو۔
وان تعدوا نعمۃ اللہ) ” اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو “ یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر سے صرف نظر کرتے ہوئے، صرف تعداد کے اعتبار سے (لاتحصوھا) ” تو تم ان کو شمار نہیں کرسکو گے “ یعنی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو کجا تم ان کو شمار بھی نہیں کرسکتے اس لئے کہ ہر قسم کی ظاہری و باطنی نعمتیں، جو اس نے سانسوں اور لحظوں کی تعداد میں بندوں پر کی ہیں، جن میں سے کچھ کو وہ جانتے ہیں اور کچھ کو نہیں جانتے، اسی طرح جو تکلیفیں وہ ان سے دور فرماتا رہتا ہے، یہ سب اتنی زیادہ ہیں کہ حیطہ شمار سے باہر ہیں۔ (ان اللہ لغفور رحیم) ” بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے “ وہ معمولی سے شکر کو قبول کرلیتا ہے باوجود اس بات کے کہ اس کے انعامات بہت زیادہ ہیں اور جیسے اس کی رحمت بےپایاں، اس کا جود و کرم لا محدود اور اس کی مغفرت تمام بندوں کو شامل ہے، ایسے ہی اس کا علم ان سب کو محیط ہے۔ (یعلم ما تسرون وما تلعنون) ” وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ “ اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے، وہ اس کے برعکس ہیں یعنی وہ کچھ نہیں جانتے۔ کیونکہ (لایخلقون شیاءً ) ” وہ (کم یا زیادہ) کچھ بھی تخلیق کرنے پر قادر نہیں ہیں “ (وھم یخلقون) ” اور ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ “ یعنی حالت یہ ہے کہ خود ان کو پیدا کیا گیا ہے وہ ہستیاں جو خود اپنے وجود کیلئے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوں وہ کیسے کوئی چیز پیدا کرسکتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام اوصاف کمال اور علم وغیرہ سے محروم ہیں۔ (اموات غیر احیآء) ” وہ مردہ ہیں، زندہ نہیں “ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کچھ عقل رکھتے ہیں۔ کیا تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر ان کو معبود بناتے ہو ؟ پس مشرکین کی مت ماری گئی ہے، ان کی عقل کتنی گمراہ اور کتنی فاسد ہے کہ وہ ان اشیاء میں بھی بہک گئی جن کا فساد بالکل واضح اور اظہر ہے۔
انہوں نے ان لوگوں کو جو ہر لحاظ سے نقاص، اوصاف کمال سے عاری اور افعال سے محروم ہیں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دے دیا ہے جو ہر لحاظ سے کامل ہے۔ وہ ہر صفت کمال کا مالک ہے اور یہ صفت اس میں سب سے کامل اور سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کا علم کامل تمام اشیاء پر محیط، اس کی قدرت سب کو شامل اور اس کی رحمت بےحدوحساب ہے جو تمام کائنتا پر سایہ کناں ہے۔ وہ حمد و ثنا، مجدو کبریاء اور عظمت کا مالک ہے، اس کی مخلوق میں کوئی بھ اس کی کسی صفت کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ بنا بریں فرمایا : (الھکم الہ واحد) ” تمہارا معبود، ایک معبود ہے “ اور وہ ہے اللہ جو ایک اور یکتا ہے اور وہ بےنیاز ہے اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اس کو کسی نے جنم دیا ہے اور اس کا کوئی بھی ہمسر نہیں۔ پس عقل مند اور اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ اور اس کی عظمت کو اپنے دلوں میں بسا لیا ہے، ان کے دل اس سے بےپناہ محبت کرتے ہیں، بدنی اور مالی عبادات، اعمال قلوب اور اعمال جو ارح میں سے جو کچھ بھی ان کی استطاعت میں ہے اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کرتے ہیں اور اس کے اسمائے حسنیٰ ، صفات علیا اور افعال مقدسہ کے ذکر کے ذریعے سے اس کی حمد وثناء بیان کرتے ہیں۔
(فالذین لایومنون بالاخرۃ قلوبھم منکرۃ) ” پس وہ لوگ، جن کو آخرت کا یقین نہیں، ان کے دل نہیں مانتے “ یعنی ان کے دل اس امر عظیم کے منکر ہیں اور اس کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جن میں جہالت اور عناد بہت زیادہ ہو اور یہ امر عظیم اللہ تعالیٰ کی توحید ہے۔ (وھم مستکبرون) ” اور وہ مغرور ہیں “ اور وہ تکبر ہی وجہ کی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار کرتے ہیں۔ (لاجرم) ” کوئی شک نہیں۔ “ یعنی یہ ایک اٹل حقیقت ہے (ان اللہ یعلم مایسرون وما یعلنون) ” جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں بیشک اللہ اس کو جانتا ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے کھلے چھپے قبیح اعمال کو جانتا ہے۔ (انہ لا یحب المستکبرین) ” بیشک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے سخت ناراض ہوتا ہے وہ ان کو ان کے عمل کی جنس کے مطابق جزا دے گا۔ (آیت) ” وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر میری عبادت سے انکار کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ “
Ayahs 16:24–29آیت 24
اللہ تبارک و تعالیٰ آیات الٰہی کے بارے میں مشرکین کی شدت تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم) ” جب ان سے کہا جاتا ہے، تمہارے رب نے کیا اتارا ہے ؟ “ یعنی جب ان سے قرآن اور وحی، جو اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے۔۔۔ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ تمہار اسا کی بابت کیا جواب ہے ؟ کیا تم اس نعمت کا اعتراف کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہو یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے عناد رکھتے ہو ؟ “ تو وہ بدترین جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں یہ (اساطیر الاولین) ” پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں “ یعنی یہ جھوٹ ہے جسے محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جنہیں لوگ نسل در نسل نقل کرتے چلے آرہے ہیں، ان میں کچھ قصے سچے ہیں اور بعض محض جھوٹے ہیں۔ یہ ان کا نظر یہ تھا اور انہوں نے اپنے پیرو کاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انہوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لئے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔
(ومن اوزالذین یضلونھم بغیر علم) ” اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے “ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانت یہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں۔ (الا سآء مایزرون) ” سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں، برے ہیں۔ “ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انہوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے، خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انہوں نے گمراہ کیا۔
(قد مکر الذین من قبلھم) ” تحقیق سازش کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے “ یعنی جنہوں نے اپنے رسولوں کے خلفا سازشیں کیں اور ان کی دعوت کو ٹھکرانے کے لئے مختلف قسم کے حیلے ایجاد کئے اور اپنے مکر و فریب کی اساس اور بنیاد پر خوفناک عمارت اور محل تعمیر کئے۔ (فاتی اللہ بنیانھم من القواعد) یعنی اللہ کے عذاب نے ان کے مکرو فریب (کی عمارتوں) کو بنیادوں اور جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ، (فخر علیھم السقف من فوقھم) ” پس گری پڑی ان پر چھت “ سازشوں کا تانا بنا بن کر انہوں نے مکر و فریب کی جو عمارت کھڑی کی تھی ان کے لئے عذاب بن گئی جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا۔ (واتھم العذاب من حیث لاشعرون) ” اور آیا ان کے پاس عذاب، جہاں سے ان کو خبر نہ تھی “ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سمجھا کہ یہ عمارت ان کو فائدہ دے گی اور ان کو عذاب سے بچا لے گی مگر اس کے برعکس انہوں نے جو بنیاد رکھی تھی وہ ان کے لئے عذاب بن گئی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے مکرو فریب کے ابطال میں بہترین مثال دی ہے، کیونکہ جب انہوں نے رسولوں کی دعوت کی تکذیب کی تو انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر ان کی تکذیب کی انہوں نے کچھ باطل اصول و قواعد وضع کئے جن کی طرف یہ رجوع کرتے تھے اور ان خود ساختہ اصولوں کی بنا پر رسولوں کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، نیز انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کو نقصان اور تکالیف پہنچانے کے لئے حیلے وضع کرتے تھے۔ پس ان کا مکرو فریب ان کے لئے وبال بن گیا اور ان کی تدبیریں خود ان کی تباہی کا باعث بن گئیں۔ کیونکہ ان کا مکرو فریب انتہائی برا کام تھا (ولایحق المکرالسی الاباھلہ) (فاطر :73/35) ” اور مکرو فریب کا وبال انہی پر پڑتا ہے جو مکرو فریب کرتے ہیں۔ “ یہ تو ہے دنیا کا عذاب، اور آخرت کا عذاب اس سے زیادہ رسوا کن ہے، اس لئے فرمایا : (ثم یوم القیمۃ یخزیھم) ” پھر قیامت کے دن رسوا کرے گا ان کو “ یعنی اللہ تعالیٰ برسر عام خلائق کے سامنے ان کو رسوا کرے گا، ان کے جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر ان کی افرا پردازی کو آشکارا کرے گا۔ (یقول این شرکآءی الذین کنتم تشاقون فیھم) ” اور کہے گا، کہاں ہیں میرے وہ شریک جن پر تم کو بڑی ضد تھیذ یعنی جن کی خاطر تم اللہ تعالیٰ اور حزب اللہ سے عداوت اور ان سے جنگ کرتے اور ان کے بارے میں یہ زعم باطل رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ان سے یہ سوال کرے گا تو ان کے پاس اپنی گمراہی کے اقرار اور پانے عناد کے اعتراف کے سوا کوئی جواب نہ ہوگا۔ پس وہ کہیں گے (آیت) ” وہ سب غائب ہوگئے اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ واقعی وہ حق کا انکار کیا کرتے تھے۔ “ (آیت) ” وہ لوگ کہیں گے جن کو علم دیا گیا تھا “ یعنی علمائے ربانی (ان لالخزی الیوم) ” بیشک رسوائی آج کے دن “ یعنی قیامت کے روز (والسوآء) ” اور برائی “ یعنی بہت برا عذاب (علی الکفرین) ” کافروں پر ہے “ اس آیت کریمہ میں اہل علم کی فضیلت کا بیان ہے کہ وہ اس دنیا میں حق بولتے ہیں اور اس روز بھی حق بات کہیں گے جس روز گواہ کھڑے ہوں گے اور ان کی بات اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک قابل اعتبار ہوگی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی وفات کے وقت اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کیا سلوک کرے گا، چناچہ فرمایا : (الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم) ” جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرن لگتے ہیں جب کہ وہ اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے ہیں۔ “ یعنی فرشتے اس حال میں ان کی جان قبض کر رہے ہوں گے کہ ان کا ظلم اور ان کی گمراہی اپنے عروج پر ہوگی اور ظالم لوگ جس طرح وہاں، مختلف قسم کے عذاب، رسوائی اور اہانت سے دوچار ہوں گے، معلوم ہوجائے گا۔ (فالقوا السلم) ” تب وہ ظاہر کریں گے فرماں برداری “ یعنی اس وقت وہ بڑی فرمانبرداری کا اظہار اور اپنے ان معبودوں کا انکار کریں گے جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اور کہیں گے : (ماکنا نعمل من سوٓء) ” ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ “ ان سے کہا جائے گا : (بلی) ” کیوں نہیں “ تم برائی کیا کرتے تھے۔ (ان اللہ علیم بما کنتم تعملن) ” یقیناً اللہ تم جو کچھ کرتے تھے، جانتا ہے “ پس تمہارا انکار تمہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ ان کے یہ احوال قیامت کے بعض مقامتا پر ہوں گے۔ وہ یہ گمان کرتے ہوئے، دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا انکار کردیں گے کہ ان کا یہ انکار ان کو کچھ فائدہ دے گا۔ مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر جوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے اعمال لوگوں کے سامنے آشکارا ہوجائیں گے تو اپنے کرتوتوں کا اقرار اور اعتراف کرلیں گے، اس لئے وہ اس وقت تک جہنم میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کرلیں گے۔ جب وہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوں گے تو تمام گناہ گار اپنے گناہ کے مطابق اور اپنے حسب حال دروازوں میں سے داخل ہوں گے۔ (فلبئس مثوی المتکبرین) ’ دپس کیا برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا “ یعنی جہنم کی آگ، کیونکہ یہ حسرت و ندامت کا ٹھکانا، الم و شقاوت کی منزل، رنج و غم کا مقام اور اللہ حیی وقیوم کی سخت ناراضی کا موقع ہوگا۔ جہنم کا عذاب ان سے دور نہ کیا جائے گا، جہنم کے عذاب کی المناکی کو ان سے ایک دن کے لئے بھی رفع نہ کیا جائے گا۔ رب رحیم ان سے منہ پھیر لے گا اور ان کو عذاب عظیم کا مزا چکھائے گا۔
Ayahs 16:30–32آیت 30
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھٹلایا، ان کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے قول کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے، وہ ایک عظیم نعمت اور بڑی بھلائی ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے بندوں پر احسان فرمایا۔ (ان کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے) پس انہوں نے اس نعمت کا قبولیت اور اطاعت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پس انہوں نے اسے جانا اور اس پر عمل کیا۔ (للذین احسنوا) ” ان کے لئے جو نیکو کار ہیں۔ “ ) یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر فائز ہوئے اور انہوں نے اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کی (فی ھذہ الدنیا حسنۃ) ” اس دنیا میں بھلائی ہے “ یعنی اس دنیا میں ان کے لئے وسیع رزق، بہترین زندگی، اطمینان قلب اور امن و سرور ہے۔ (ولدار الاخرۃ خیر) ” اور آخرت کا گھر بہت ہی اچھا ہے۔ “ یعنی آخرت کا گھر دنیا کے گھر اور اس میں موجود لذات و شہوات سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی نعمتیں بہت کم، مختلف قسم کی آفات سے گھری ہوئی اور آخر کار ختم ہوجانے والی ہیں۔ اس کے برعکس آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اس لئے فرمایا : (آیت) ” اور کیا خوب گھر ہے پرہیز گاروں کا، باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے، جن میں وہ داخل ہوں گے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ان کے لئے وہاں وہ ہے جو وہ چاہیں گے “ یعنی جب بھی ان کے دل کسی چیز کی آرزو اور اس کا ارادہ کریں گے تو وہ چیز انہیں پاین کامل ترین شکل میں حاصل ہوجائے گی، یہ ممن نہ ہوگا کہ وہ کوئی ایسی نعمت طلب کریں جس میں ان کے دلوں کی لذت اور روح کا سرور ہو اور وہ حاضر نہ ہو، اس لئے اللہ تعالیٰ اہل جنت کو ہر وہ چیز عطا کرے گا جس کی وہ تمنا کریں گے حتی کہ وہ ان کو ایسی ایسی نعمتیں یاد دلائے گا جو کبھی ان کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی ہوں گی۔
نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس کے کرم کی کوئی انتہا اور اس کی سخاوت کی کوئی حد نہیں۔ اس کی صفات ذات، صفات افعال، ان صفات کے آثار اور اس کے اقتدار اور بادشاہی کی عظمت و جلالت میں، کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے (کذلک یجزی اللہ المتقین) ” اللہ پرہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے “ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے ان فرائض کو ادا کرتے ہیں جو ان کے ذمے عائد ہیں، یعنی وہ فرائض و واجبات جو قلب، بدن، زبان اور حقوق اللہ اور حقوق اعلباد سے متعلق ہیں اور ان تمام امور کو ترک کردینا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔
(الذین تتوفھم الملئکۃ) ” وہ لوگ، فرشتے جن کی جان قبض کرتے ہیں “ اس حالت میں کہ وہ دائمی طور پر تقویٰ کا التزام کرتے ہیں۔ (طیبین) ” وہ پاکیزہ ہیں “ یعنی وہ ہر نقص اور گندگی سے پاک صاف رہتے ہیں جو ایمان میں خلل انداز ہوتی ہے۔ ان کے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت سے، ان کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر وثنا سے اور ان کے جوارح اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے شاد کام ہوتے ہیں۔ (یقولون سلم علیکم) ” فرشتے کہتے ہیں، تم پر سلامتی ہو “ تمہارے لئے خاص طور پر کامل سلام اور ہر آفت سے سلامتی اور تم ہر ناپسندیدہ چیز سے محفوظ ہو۔ (ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون) ” جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے حکم کی تعمیل کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ کیونکہ عمل ہی دراصل جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات کا سبب ہے اور اس عمل کی توفیق اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ انسانوں کی قوت و اختیار سے۔
Ayahs 16:33–34آیت 33
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : کیا یہ لوگ جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیتیں آیں مگر وہ ایمان نہ لائے انہیں نصیحت کی گئی مگر انہوں نے نصیحت نہ پکڑی۔۔۔ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ (الا ان تاتیھم المآئکۃ) ” کہ فرشتے (ان کی روح قبض کرنے کے لئے) ان کے پاس آئیں۔ “ (اویاتی امر ربک ) ” یا تمہارے رب کا حکم (عذاب) نازل ہوجائے “ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو عذاب کے وقوع کا مستحق بنا لیا۔ (کذلک فعل الذین من قبلھم ) ” اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے “ انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا انکار کیا، پھر وہ اس وقت تک ایمان نہ لائے جب تک ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہوا۔ (وما ظلمھم اللہ) ” اور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے “ یعنی جب ان پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کیا۔ (ولکن کانوآ انفسھم یظلمون) ” لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے “ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں تاکہ ان کا انجام اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا حصول ہو۔ پس انہوں نے ظلم کیا اور اس چیز کو ترک کردیا جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا تھا اور انہوں نے اپنے نفوس کو دائمی اہانت اور پیچھا نہ چھوڑنے والی بدبختی کے سامنے پیش کردیا۔ (فاصابھم سیات ماعملوا) ’ د پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام “ یعنی انکے اعمال بد کے اثرات اور ان کی سزا (وحاق بھم) ” اور الٹ پڑا ان پر “ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا (مکانوا بہ یستھزء ون) ” جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا کرتے تھے “ کیونکہ ان کے رسولوں نے جب انہیں عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے ان سے استہز کیا اور جو خبر انہوں نے دی اس کا تمسخر اڑایا آخر ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔
Ayahs 16:35–36آیت 35
مشرکین اپنے شرک پر مشیت الٰہی کو دلیل بناتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ کبھی شرک نہ کرتے اور نہ وہ ان مویشیوں کو حرام ٹھہراتے جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے، مثلاً بحیرہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔۔۔ مگر ان کی یہ دلیل باطل ہے اگر ان کی یہ دلیل صحیح ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان سے پہلے لوگوں کو ان کے شرک کی پاداش میں کبھی عذاب نہ دیتا اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت عذاب کا مزا چکھایا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے شرک کو پسند کرتا تو ان کو کبھی عذاب نہ دیتا۔ درصال حق کو، جسے رسول لے کر آئے، رد کرنے کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہے ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف ان کے پاس کوئی دلیل نہیں، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو امرونہی کا پابند بنایا ہے، ان کو اسی چیز کا مکلف ٹھہرایا ہے جس پر عمل پیرا ہونا ممکن ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے اور دو چیزوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی ان کو قوت عطا کی ہے جس سے ان کے افعال صادر ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا قضاء و قدر کو دلیل بنانا سب سے بڑا باطل ہے اور ہر شخص حسی طور پر جانتا ہے کہ انسان جس فعل کا ارادہ کرتا ہے، اسے اس کو کرنے کی قدرت حاصل ہوتی ہے، اس میں کوئی نزاع نہیں ہے، پس انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی تکذیب اور عقلی اور حسی امور کی تکذیب کا ارتکاب کیا۔ (فھل علی الرسل الا البلغ المبین) ” پس رسولوں کی ذمے داری، کھول کر پہنچا دینا ہے “ یعنی واضح اور ظاہر ابلاغ جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جائے اور کسی کے پاس اللہ تعالیٰ کے خلاف کوئی حجت نہ رہے۔ جب انبیاء و رسل ان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے اوامرنواہی پہنچا دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں تقدیر کا بہانہ کرتے ہیں، تو رسولوں کے اختیار میں کچھ نہیں، ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔
Ayahs 16:37–38آیت 37
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمام قوموں میں اس کی حجت قائم ہوچکی ہے، نیز یہ کہ متقدمین یا متاخرین میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول مبعوث نہ فرمایا ہو اور تمام رسول ایک دعوت اور ایک دین پر متفق تھے اور وہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، (ان اعبدو اللہ واجتنبوا الطاغوت) ” صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (غیر اللہ کی عبادت) سے بچو۔ “ پس قومیں، انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے اور رد کرنے کی بنیاد پر دو گروہوں میں منقسم ہوگئیں۔ (فمنھم من ھدی اللہ) ” بعض ان میں سے وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی “ پس انہوں نے علم و عمل کے لحاظ سے رسولوں کی اتباع کی (ومنھم من حقت علیہ الضللۃ) ” اور بعض ان میں سے وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوگئی “ پس انہوں نے گمرایہ کا راستہ اختیار کیا۔ (فسیروا فی الارض) ” پس تم (اپنے قلب و بدن کے ساتھ) زمین پر چلو پھرو “ (فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین) ” اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا “ پس تم روئے زمین پر بڑی بڑی عجیب چیزوں کا مشاہدہ کرو گیے۔ تم جھٹلانے والا کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جس کا انجام ہلاکت نہ ہو۔ (ان تحرص علی ھدبھم) ” اگر آپ خواہش رکھیں ان کی ہدایت کی “ اور اس بارے میں آپ اپنی جدوجہد صرف کریں (فان اللہ لایھدی من یضل) ” تو اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا جس کو وہ گمراہ کر دے “ اگرچہ وہ ہدایت کا ہر سبب ہی کیوں نہ استعمال کرلے، اللہ تعالیٰ اسے ہدیات سے نہ نوازے گا۔ (وما لھم من نصرین) ” اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں “ جو اللہ کے عذاب کے مقابلے میں ان کی مدد کرسکیں اور ان کجو اللہ کے عذاب سے بچا سکیں۔