Ayah 16:11 قریش پر اللہ کے عذاب کی صورت اور اس کا آغاز ہجرت نبوی سے :۔ مشرکین مکہ اکثر رسول اللہ کو چڑانے کے لیے کہا کرتے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو جیسے تم کہتے ہو، ہم پر اب تک عذاب آ کیوں نہیں گیا وہ دیکھ رہے تھے کہ پیغمبر کو عذاب کا وعدہ دیتے دس بارہ سال گزر چکے ہیں اور عذاب تو آیا نہیں لہذا یہ الفاظ گویا ان کا تکیہ کلام بن گئے تھے۔ اور اس بات سے وہ دو باتوں پر استدلال کرتے تھے۔ ایک اپنے مشرکانہ مذہب کی سچائی پر اور دوسرے پیغمبر اسلام کی نبوت کی تکذیب پر۔ انھیں باتوں کے جواب سے اس سورت کا آغاز ہو رہا ہے۔ پہلی بات کا جواب یہ دیا گیا کہ عذاب کا آنا یقینی ہے اس کے لیے جلدی مچانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جلد ہی تمہیں اس سے سابقہ پڑنے والا ہے یوں ہی سمجھو کہ وہ سر پر آپہنچا۔
اب رہا یہ سوال کہ وہ عذاب کون سا تھا اور کب آیا ؟ تو اس کے متعلق یہ بات تو طے شدہ ہے کہ نبی کی ذات جب تک کسی قوم میں موجود ہو اس وقت تک عذاب نہیں آتا۔ آگے پھر دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ نبی کو اور اس کے ساتھیوں کو ہجرت کا حکم دے کر وہاں سے نکال لیا جاتا ہے یا کسی بھی دوسرے ذریعہ سے انھیں بچا لیا جاتا ہے اور باقی مجرموں پر قہر الٰہی نازل ہوتا ہے اور عذاب کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ انھیں ہجرت کرنے والوں کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ مجرم قوم کی پٹائی کراتا ہے۔ تاآنکہ کفر و شرک کا سر توڑ دیتا ہے۔ عذاب کی ان دونوں صورتوں کا ذکر سورة توبہ کی آیت نمبر 52 میں موجود ہے لہذا ہمارے خیال میں اس عذاب کا نقطہ ئآغاز ہجرت نبوی ہی تھا۔ جس کا حکم اس سورة کے نزول کے تھوڑے ہی عرصہ بعد دے دیا گیا تھا۔ یہی ہجرت مشرکین مکہ کے ظلم و ستم کے خاتمہ کا سبب بنی اور مسلمانوں کو آزادی سے سانس لینا نصیب ہوا اور یہی ہجرت غزوہ بدر کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جس میں کفر کی خوب پٹائی ہوئی اور اس ہجرت کے صرف آٹھ دس سال بعد بتدریج کافروں اور مشرکوں کا اس طرح قلع قمع ہوا اور کفر و شرک کا یوں استیصال ہوا کہ سارے عرب سے اس کا نام و نشان تک مٹ گیا۔
2 یہ ان کے دوسرے استدلال کا جواب ہے کہ اگر ہمارا مشرکانہ مذہب سچا نہ ہوتا تو اب تک ہم پر عذاب آچکا ہوتا۔ عذاب آجانے پر اس استدلال کی از خود تردید ہوگئی۔ اور سب کو معلوم ہوگیا کہ ان کے معبود ان کے کسی کام نہ آسکے لہذا وہ باطل ہیں۔
Ayah 16:23 روح کے مختلف معانی :۔ روح کا لفظ قرآن میں مندرجہ ذیل تین معنوں میں استعمال ہوا ہے :
1۔ روح بمعنی وہ لطیف جوہر جو جاندار میں موجود ہے اور جس کی وجہ سے اس جاندار کے اعضاء وجوارح حرکت کرتے ہیں اور جب یہ روح نکل جاتی ہے تو جاندار بےجان ہوجاتا یا مرجاتا ہے جس طرح اس روح کی حقیقت کا علم انسان کو بہت کم دیا گیا ہے اسی طرح روح کے معانی پر احاطہ کرنا بھی انسان کی دسترس سے باہر ہے۔ (17: 85)
2۔ روح بمعنی فرشتہ جیسے فرمایا : (فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا 17) 19 ۔ مریم :17) (یعنی ہم نے مریم کی طرف اپنی روح یا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست انسان کی شکل بن گیا) روح سے مراد عام فرشتہ بھی ہوسکتا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) بھی۔ مگر جب روح القدس یا روح الامین کا لفظ آئے تو اس سے مراد صرف سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) ہوں گے۔
3۔ روح بمعنی وہ پیغام جو فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے اور اس سے مراد وحی بھی ہوسکتا ہے اور سارا قرآن بھی۔ روح کے ساتھ جب من الامر یامن امر کے الفاظ آئیں تو اس سے مراد وحی ہی ہوتی ہے جیسا کہ اس مقام پر ہے بالروح من امرہ اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا ( وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا ۭ وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 52ۙ ) 42 ۔ الشوری :52) اس مقام پر روح سے مراد پورا قرآن ہے نیز ایک دوسرے مقام پر وحی یا رسالت کے معنوں میں اس طرح آیا ہے (يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15 ۙ ) 40 ۔ غافر :15) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا پیغام نازل کرتا ہے۔
اور اس مقام پر جو وحی کے لیے روح کا لفظ استعمال فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح جسمانی زندگی کے لیے روح کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر روح نہ رہے تو زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح صالح طرز زندگی یا نظام حیات کے لیے وحی الٰہی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر صالح نظام قائم ہو ہی نہیں سکتا اور اگر وحی الٰہی کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو اس نظام کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور اس کی جگہ کوئی اور فاسد نظام رائج ہوجاتا ہے۔
4 الملئکۃ جمع کا صیغہ ہے مگر اس سے مراد صرف ایک فرشتہ ہے یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کیونکہ وہی پیغامبر اور پیغام رسانی کرنے والے فرشتوں کے سردار ہیں اور محاورۃ عرب میں سردار رئیس کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی اور بھی نظائر موجود ہیں اور ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔
اس جملہ میں مشرکین مکہ کے دو اعتراضات کا جواب آگیا ہے ایک تو وہی اعتراض کہ اگر یہ نبی سچا ہے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آیا اور اس سے ان کی مراد نبی کی تکذیب ہوتی تھی۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا ہی تھا تو کیا مکہ اور طائف کے سردار مارے گئے تھے بس یہی آدمی اللہ کو نبوت کے لیے ملا تھا ( سورة زخرف آیت 31) اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ مجھے اس معاملہ میں تمہارے مشورہ کی ضرورت نہیں۔ میں خود ہی بہتر سمجھتا ہوں کہ نبوت کا مستحق کون ہے۔ اور اس کے لیے کن صفات کا ہونا ضروری ہے۔ لہذا میں جسے چاہتا ہوں اس فضل سے نوازتا ہوں تاکہ وہ لوگوں کو متنبہ کریں کہ الٰہ صرف میں ہی ہوں لہذا تمہیں صرف مجھی سے ڈرنا چاہیے۔
Ayah 16:35 کائنات میں ہم آہنگی توحید کا ثبوت :۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات پر شرک کی تردید میں زمین اور آسمانوں کی پیدائش کو ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز میں ہم آہنگی ہے۔ کائنات کا ہر کل پرزہ دوسرے کی تائید و توثیق کر رہا ہے۔ پھر اس کائنات کے نظام میں بیشمار فوائد، حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اور سب نتائج تعمیری قسم کے پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر اس کائنات کی تخلیق میں کوئی دوسرا بھی شریک ہوتا تو ایسا نظام وجود میں آہی نہ سکتا تھا اور اگر بالفرض محال آ بھی جاتا تو فوراً درہم برہم ہوجاتا۔ گویا کائنات کی ایک ایک چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ اس خالق کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 16:4–56 ? صیم مبین سے مراد ؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انسان جو ایک ننھی سی پانی کی بوند سے پیدا ہوا ہے نفخہ روح خداوندی کی بدولت وہ بحث و استدلال کا ڈھنگ سیکھ جاتا ہے اور اپنے مدعا پر طرح طرح کے دلائل پیش کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ اس مطلب میں قدرت خداوندی کا اظہار مقصود ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی اوقات کی طرف نظر نہیں کرتا کہ وہ ایک حقیر سی پانی کی بوند سے پیدا کیا گیا ہے پھر جب اس میں کچھ عقل آتی ہے تو حق کے مقابلہ میں کٹ حجتیاں پیش کرنے لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی جھگڑا کرنے سے باز نہیں آتا اور اس مطلب سے مقصود انسان کی سرکشی کا اظہار ہے اور اسی مطلب کی تائید سورة یٰسین کی آیت نمبر 77، 78 سے بھی ہوتی ہے۔
Ayahs 16:6–76۔ الف مویشیوں سے شان وشوکت کا اظہار :۔ اہل عرب کا اکثر پیشہ ریوڑ پالنا ہوتا تھا اور یہ ریوڑ عموماً بھیڑ بکریوں اور اونٹوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ خچر، گدھے اور گھوڑے بھی ہوتے تھے مگر نسبتاً کم ہوتے تھے۔ قریش مکہ تو تاجر پیشہ لوگ تھے اور ان کا مال و دولت نقدی درہم و دینار کی صورت میں ہوتا تھا۔ جبکہ عام قبائل عرب کے مالدار ہونے کی علامت یہی جانور تھے۔ جس کے پاس جتنے زیادہ جانور ہوتے اتنا ہی وہ مالدار سمجھا جاتا تھا اور یہی جانور اسکی چلتی پھرتی دولت سمجھے جاتے تھے اسی میں اس کی شان و شوکت ہوتی تھی۔ شام کے وقت ایسے گلوں اور ریوڑوں کے مالک ان کی انتظار میں اپنی آبادیوں یا گاؤں سے باہر نکل کر بیٹھتے۔ یہ مویشی جب چر چگ کر اور سیر ہو کر شام کو گھر واپس آتے تو اس کے مالک انھیں دیکھ کر پھولے نہ سماتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کے واپس آنے کا پہلے ذکر فرمایا اور صبح جانوروں کی روانگی کے وقت بھی عجب گہما گہمی اور مسرت کی کیفیت ہوتی تھی۔ اسی مسرت اور ٹھاٹھ کی کیفیت کو اللہ نے ذکر فرمایا۔ جو دوسرے فوائد سے زائد تھی۔
Ayah 16:87 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کو بھی انسان ہی کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے جن سے وہ طرح طرح کے فوائد حاصل کرتا ہے بعض جانور ایسے ہیں جن کے گوشت کو غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ دودھ، مکھن اور گھی انھیں سے حاصل کرتا تھا۔ گرم پوشاک اسے انھیں مویشیوں کی اون سے مہیا ہوتی ہے۔ وہ اس کے باربرداری کے کام بھی آتے ہیں اور سواری کے بھی۔ ان کے چمڑے سے وہ بہت سی قیمتی چیزیں تیار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی ہڈیوں تک کو اپنے کام میں لاتا ہے پھر مزید یہ کہ اس کے لیے زینت بھی ہیں اور شان و شوکت کا سامان بھی۔
آج کے مشینی دور میں گو بہ لحاظ سواری اور بار برداری مویشیوں کی قدر و قیمت بہت کم ہوگئی ہے۔ تاہم ابھی تک ان کی ضرورت بدستور باقی ہے لیکن اس مشینی دور کو شروع ہوئے ابھی تین سو سال سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ ذرا غور فرمائیے اس مشینی دور سے پہلے اگر یہ مویشی نہ ہوتے تو انسان بالخصوص بار برداری کے مسئلے میں کسی قدر مشقت میں پڑ سکتا تھا۔ پھر اس مشینی دور نے بھی ان جانوروں کے فوائد کے صرف ایک حصہ یعنی سواری اور بار برداری کو کم کیا ہے۔ اور آج بھی دشوار گزار راستوں پر انہی جانوروں سے سواری اور بار برداری کا کام لیا جاتا ہے۔ ان جانوروں کے باقی سب فوائد بدستور باقی ہیں اور یہ سب احسانات اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس لئے کیے کہ اس کی جسمانی زندگی کے بقا کے لیے اس کے ممد و معاون ثابت ہوں۔
مندرجہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاں سواری اور زینت کا ذکر فرمایا تو گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا نام لیا اور جہاں بار برداری اور جمال کا ذکر فرمایا تو وہاں انعام کا لفظ استعمال فرمایا اور انعام نعم کی جمع ہے گو اس کا اطلاق درندوں کے علاوہ باقی سب جانوروں پر ہوتا ہے تاہم اس کا زیادہ تر استعمال اونٹ کے لیے ہی ہوتا ہے کیونکہ عربوں کے لیے اونٹ سے بڑھ کر کوئی نعمت نہ تھی جس کی کئی وجوہ ہیں۔ مثلاً اونٹ باقی سب جانوروں سے زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ عام اندازے کے مطابق گدھا 5 من یا 2 بوریاں غلہ اٹھاسکتا ہے۔ گھوڑے اور خچر 3 بوریاں جبکہ اونٹ 4 بوریاں بآسانی اٹھا سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ باقی سب جانوروں پر انھیں کھڑا کرکے بوجھ لادا جاتا ہے صرف اونٹ ایک ایسا جانور ہے جسے بٹھا کر اس پر بوجھ لادا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی لمبوتری گردن میں اتنی قوت رکھی ہے کہ وہ اس کے سہارے بھرے ہوئے بوجھ سمیت اٹھ کھڑا ہوتا ہے اونٹ میں بار برداری کے لحاظ سے تیسری خوبی یہ ہے کہ وہ عرب کے لق و دوق صحراؤں کے ریگستان میں بآسانی سفر کرسکتا ہے اور چوتھی یہ کہ پانی کے بغیر یہ جانور کئی دنوں تک اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اونٹ کی انہی خوبیوں کی بنا پر اسے صحراء کا جہاز کا نام دیا گیا ہے۔ آج کے میشنی دور میں بھی جہاں پٹرول کی گاڑیاں کام نہیں دیتیں یہی صحرائی جہاز کام دیتا ہے۔
8 مویشیوں کے فوائد :۔ اس جملہ کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کئی ایسی چیزیں تمہارے لیے پیدا کر رکھی ہیں جو تمہاری خدمت پر مامور ہیں لیکن تم انھیں جان نہیں سکتے یا ابھی تک جان نہیں سکے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری سواری اور باربرداری اور دوسرے فوائد کے لیے مستقبل میں کئی ایسی چیزیں پیدا کرے گا جن کا فی الحال تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ مثلاً سواری کے لیے اللہ تعالیٰ نے بسیں، ریل گاڑیاں اور ہوائی جہاز پیدا کردیئے اور معلوم نہیں کہ آئندہ کیا کچھ پیدا کرے گا۔ یہی حال زندگی کے دوسرے شعبوں میں نت نئی نئی ایجادات کا ہے۔
Ayahs 16:9–109 وحی کے بغیر ہدایت انسانی ناممکن ہے :۔ جس طرح تمہاری جسمانی زندگی کی بقا کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ضرورت کی سب چیزیں پیدا کی ہیں اسی طرح تمہاری روحانی زندگی کی بقا کے اسباب مہیا کرنا بھی اسی کے ذمہ ہے۔ محض عقل سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ عقل کی سوچ و فکر کا میدان انتہائی محدود ہے لہذا اس ذمہ داری کو بھی اللہ تعالیٰ نے عہد الست لے کر پیغمبر اور کتابیں بھیج کر پورا کردیا یہی وہ راہ ہے جو سیدھی ہے اور صرف ایک ہے اور عقل جن راہوں پر چلتی ہے وہ ٹیڑھی بھی ہیں اور لاتعداد بھی کیونکہ نہ ہر انسان میں عقل ایک جیسی ہوتی ہے اور نہ ہر انسان کی عقل کا صحت کے لیے قائم کردہ معیار ایک جیسا ہوتا ہے۔ عقلوں کے اسی فرق کی بنا پر بیشمار راہیں پیدا ہوجاتی ہیں۔
عقل کی مثال دراصل آنکھ کی سی ہے جسے دیکھنے کے لیے کسی خارجی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خارجی روشنی کے بغیر آنکھ صحیح کام نہیں کرتی۔ اور یہ خارجی روشنی وحی الٰہی ہے۔ روشنی میں انسان جو کچھ دیکھتا ہے اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے مگر اندھیرے میں چلنے والا ٹامک ٹوئیاں ہی مارتا ہے کبھی کسی راہ پر جاپڑتا ہے اور کبھی کسی پر پھر اس کے کسی گڑھے یا کھڈ میں گر پڑنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، ٹھڈے لگنے کا بھی اور کسی سخت اور اونچی چیز سے ٹکرانے کا اور چوٹ لگ جانے کا بھی۔ لہذا اس خارجی روشنی کی انسان کو شدید ضرورت تھی تاکہ وہ بلا تکلف سیدھی راہ پر گامزن رہ سکے اور انسان کی یہ ضرورت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور کتابیں بھیج کر پوری کردی ہے اسی مضمون کو اللہ نے کئی مقامات پر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے۔ کیا بینا اور نابینا برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور انسانیت ہمیشہ تجربوں اور ناکامیوں میں بھٹکتی رہتی ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے خود ہی انسان کو سیدھی راہ بتا کر اس پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے۔
10 جبری ہدایت دینا اللہ کا دستور نہیں :۔ اس لیے کہ جبری ہدایت سے انسان کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوسری ہر مخلوق سے زیادہ عقل وتمیز بخشی، قوت ارادہ اور تصرف کا اختیار بھی دیا۔ ہدایت اور گمراہی کے راستے بھی واضح طور پر سمجھا دیئے کہ وہ یہ دیکھے کہ اب کون شخص کون سی راہ اختیار کرتا ہے اور یہی مشیت الٰہی ہے۔ یہ نہیں کہ اللہ سب کو خود ہی ہدایت کی راہ پر لگا دیتا۔
Ayah 16:1111 سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کا ذکر کیا جن سے انسان لحمی غذائیں، روغن اور دوسرے فوائد حاصل کرتا ہے۔ ان دو آیات میں ایسی چیزوں کا ذکر کیا ہے جو ہمارے جسم کے لئے نباتاتی غذاؤں کا کام دیتی ہیں۔ اور ان آیات میں جس بات کی طرف غور و فکر کرنے کی توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے اسی پانی سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے ہی لیے زمین بھی سیراب ہوتی اور تمہارے لیے پانی کا ذخیرہ بھی محفوظ رکھتی ہے۔ پھر یہی ایک ہی قسم کا پانی، ایک ہی زمین، ایک ہی ہوا اور ایک ہی سورج ہے لیکن زمین سے ایک نہیں بلکہ لاکھوں قسموں کی نباتات اگ آتی ہیں۔ جھاڑیاں، جڑی بوٹیاں، غلے اور بےپھل اور پھل دار درخت پھر ان پودوں، غلوں اور پھلدار درختوں کی بھی بیشمار اقسام ہیں۔ جن میں سے کچھ تمہارے مویشیوں کی خوراک بنتی ہیں اور کچھ تمہاری خوراک کا کام دیتی ہیں۔ کیا یہ سمندروں سے بخارات کا اٹھنا، پھر بادلوں کی صورت میں رواں ہونا، پھر بارش کی شکل میں ان کا برسنا پھر اسی پانی کا زمین کو سیراب کرنا۔ زمین کا سب جانداروں کے لیے خوراک مہیا کرنا۔ پھر فالتو پانی کا ندی نالوں کی صورت میں بہہ کر دوسرے علاقوں کی زمین کو سیراب کرنا اور زائد پانی کا پھر سمندر میں جاگرنا۔ اور پھر سمندر سے بخارات بننا۔ اس پورے چکر میں تمہارے لیے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لیے خوراک کا انتظام تو ہوگیا لیکن کیا یہ نظام از خود ہی چل رہا ہے ؟ یا اسے کوئی حکیم وخبیر ہستی چلا رہی ہے ؟ یا کیا اس پورے نظام میں اللہ کے سوا کسی دوسرے شریک کی کوئی مداخلت کہیں نظر آتی ہے ؟ اگرچہ اس پورے نظام کے لیے اللہ نے طبعی قوانین بنا دیئے ہیں پھر بھی اس سارے نظام کی باگ ڈور اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ہی مقام پر ایک مقررہ موسم میں کسی سال بارش بہت زیادہ ہوجاتی ہے اور کبھی بہت کم۔ اگر یہ محض طبعی قوانین کا کھیل ہوتا تو ایسا ہونا ناممکن تھا۔
Ayah 16:1212 چاند سورج کی گردش کے فوائد :۔ اس آیت میں انسان کی ایک اور اہم ضرورت کا ذکر ہے یعنی انسان جب تک پوری طرح آرام نہ کرلے وہ آگے نہ کام کرسکتا ہے نہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کے ایک مقررہ حساب کے تحت آنے جانے کا انتظام فرما دیا۔ سورج کی گردش سے دن رات پیدا ہوتے ہیں۔ نیز سورج ہمیں روشنی بھی پہنچاتا ہے اور دھوپ اور حرارت بھی جو ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری چیزیں ہیں۔ اسی طرح چاند اور ستارے ہمیں رات کو روشنی بہم پہنچاتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتے تو رات اس قدر تاریک اور گھناؤنی ہوجاتی ہے کہ راہ کا نظر آنا تو درکنار، انسان ایک دوسرے کو بھی دیکھ نہ سکتے۔ ان چیزوں کے علاوہ انسان کے لیے سورج، چاند اور ستاروں میں اور بھی بہت سے فوائد ہیں اور یہ صرف اس وجہ سے حاصل ہو رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سیاروں کو انسان کی خدمت کے لیے مقررہ قواعد کا پابند بنادیا۔
Ayah 16:1313 ذوق جمال اور نباتات کی رنگینی :۔ اللہ تعالیٰ نے محض انسان کی ضروریات کو ہی ملحوظ نہیں رکھا بلکہ اس کے ذوق جمال کو بھی ہر کام میں ملحوظ رکھا ہے۔ رات کو اگر فضا صاف ہو تو یہی چاند اور ستارے انسان کو ایک بڑا حسین منظر پیش کرتے ہیں۔ پھر آپ کسی لہلہاتے کھیت میں جائیے۔ کسی باغ کی سیر کیجئے۔ وہاں بعض طویل القامت اور بعض چھوٹے درختوں کے مناظر دیکھئے۔ مختلف رنگ کے پھول دیکھئے۔ پھر ایک ہی پھول کے مختلف رنگ اور اس کی پنکھڑی اور کونپل کو ملاحظہ فرمائیے۔ پھر ان کی مہک اور خوشبو سے لطف اندوز ہوئیے۔ یہ ان تمام اشیاء انسانوں کی ضرورتیں بھی پوری کرتی ہیں اور اس کے ذوق جمال کو تسکین دینے کے علاوہ اسے سرور مہیا کرتی اور اس کی صحت پر بڑا خوشگوار اثر ڈالتی ہیں اور اگر انسان ان چیزوں کی تخلیق میں دھیان کرے تو اللہ کی قدرتوں پر بےاختیار عش عش کرنے لگتا ہے۔
Ayah 16:1414 سمندروں کے فوائد :۔ پھر ٹھاٹھیں مارنے والے سمندر کو اور تلاطم خیز موجوں کو اپنے مخصوص قوانین کا پابند بنادیا حتیٰ کہ انسان سمندر کے پانی کے اندر اور اوپرتصرف کرنے کے قابل بن گیا۔ ورنہ ایسے وسیع اور مہیب سمندر کے مقابلہ میں بےچارے انسان کی حقیقت ہی کیا تھی۔ اب وہ سمندری جانوروں کا شکار کرکے اپنی غذائی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سمندر کا پانی تو سخت شور اور کڑوا ہوتا ہے جبکہ اس کے جانوروں اور بالخصوص مچھلی کا گوشت انتہائی لذیذ ہوتا ہے۔ اس میں شور کا اثر نام کو نہیں ہوتا پھر اس سے گھونگے، صدف اور مرجان اور کئی دوسری چیزیں نکال کر اپنے زیور اور آرائش کی چیزیں بھی بناتا ہے پھر کشتیوں اور جہازوں کے ذریعہ سمندر کی پشت پر سوار ہو کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک جاپہنچتا ہے اور اس طرح ایک ملک کی چیزیں دوسرے ملک پہنچا کر تجارتی فوائد حاصل کرتا ہے۔ اگر پانی اپنے مخصوص فطری قوانین کا پابند نہ ہوتا یا نہ رہے تو انسان اس سے کبھی ایسے فوائد حاصل نہ کرسکتا تھا۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے تمام اشیاء کے لیے مخصوص قوانین بنا دیئے ہیں جن کی وہ بہرحال پابند رہتی ہیں۔ اس طرح انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوجاتا ہے۔
Ayah 16:1515 پہاڑوں کے فوائد :۔ رواسی ایسے سلسلہ ہائے کوہ کو کہتا جاتا ہے جو سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ زمین ہچکولے نہ کھائے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو پیدا کیا گیا تو وہ ڈگمگاتی اور ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑ رکھ دیئے۔ ترمذی، ابو اب التفسیر، سورة الناس) جس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر پہاڑوں کو کسی خاص ترتیب اور حکمت سے پیدا کیا اور رکھا گیا ہے۔ کہیں اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔ کہیں پھیلاؤ زیادہ ہے لیکن بلندی کم ہے۔ کہیں دور دور تک پہاڑوں کا نام و نشان ہی نہیں ملتا اور یہ سب کچھ زمین کے توازن (Balance) کو قائم رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اور جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پہاڑوں کا وجود زلزلوں کو روکنے میں بڑا ممد ثابت ہوا ہے۔ گویا پہاڑوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان زمین پر سکون سے رہ سکتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک خالی کشتی پانی میں ادھر ادھر ہلتی اور ڈگمگاتی رہتی ہے۔ پھر جب اس میں بوجھ ڈال دیا جائے تو اس کا ہلنا جلنا بند ہوجاتا ہے۔ ہماری زمین بھی جدید نظریہ ہیئت کے مطابق فضا میں تیزی سے تیر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسپر متناسب اور متوازن پہاڑ ٹھونک کر اس کی ڈگمگاہٹ کو بند کردیا۔
واضح رہے کہ زمین کی سورج کے گرد گردش کا مسئلہ ایک اختلافی مسئلہ ہے جو آج تک چار دفعہ بدل چکا ہے۔ بہرحال موجودہ تحقیق یہی ہے کہ زمین سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔ کل کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے میری تصنیف الشمس والقمر بحسبان نیز اس گردش کے مسئلہ کا زمین کے ہچکولے کھانے کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔
پھر انھیں پہاڑوں سے اللہ نے دریاؤں کو رواں کیا۔ چناچہ دنیا کے بیشتر دریاؤں کے منابع پہاڑوں ہی میں واقع ہوئے ہیں۔ پھر انہی پہاڑوں سے ندی نالے نکلتے ہیں اور پھر دریاؤں کے ساتھ ساتھ راستے بھی بنتے چلے جاتے ہیں۔ ان قدرتی راستوں کی اہمیت پہاڑی علاقوں میں تو بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ میدانی علاقوں میں بھی کچھ کم اہم نہیں ہیں۔
Ayah 16:1616 نشان راہ کی اہمیت :۔ کسی جگہ کوئی ٹیلہ ہے یا کوئی ندی نالا بہہ رہا ہے یا گھاٹی ہے۔ ایسی علامت اور بعض دیگر عارضی علامات جیسے کوئی بلند درخت، یا قصبہ، یا بلند عمارت وغیرہ۔ ایسی چیزوں کے دوسرے فوائد کے ساتھ ساتھ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مسافر ان علامات کے ذریعہ یہ معلوم کرسکتا ہے کہ وہ ٹھیک راستہ پر جارہا ہے۔ ان علامات کی صحیح قدر و قیمت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب انسان کو کسی ایسے لق ودق صحرا میں سفر کرنا پڑے۔ جہاں کوئی نشان راہ اور علامت نہ ہو۔ ایسی جگہ پر راہ بھول جانے اور بھول بھلیوں میں پڑجانے کا سخت اندیشہ ہوتا ہے۔ اور اگر ایک دفعہ کوئی راہ بھول جائے تو دوبارہ راستہ ملنا بڑا دشوار ہوتا ہے۔
17 ستاروں سے رہنمائی :۔ رات کے وقت انسان ستاروں کی چال سے وقت بھی معلوم کرسکتا ہے کہ رات کا کتنا حصہ گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے اور سمت بھی۔ رات کے وقت سفر میں ستارے پوری رہنمائی کا کام دیتے ہیں خواہ یہ سفر بحری ہو یا بری۔ آج کل سفر میں عموماً قطب نما سے مدد لی جاتی ہے جبکہ حقیقتاً یہ بھی ستاروں سے بالواسطہ رہنمائی ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں قطب نما کی سوئی ہمیشہ عین شمال یا قطبی ستارہ کی طرف ہوجاتی ہے جس سے دوسری سمتوں کے نشان اس قطب نما پر لگا دیئے جاتے ہیں۔
Ayah 16:1718 اوپر اللہ تعالیٰ کی جس قدر نشانیاں اور قدرتیں مذکور ہوئی ہیں وہ سب فطری چیزیں ہیں۔ جنہیں ہر شخص بچشم خود ملاحظہ کرسکتا ہے اور ایسے سیدھے سادے انداز میں بیان ہوئی ہیں جن کو سمجھنے کے لیے کسی خاص علم کی ضرورت نہیں۔ ہر شہری اور دیہاتی، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ سب ان کو دیکھ کر ان میں غور کرسکتے ہیں اور ایسی ہی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور پوچھا ہے کہ یہ سب کچھ تو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے شریکوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ اور اگر انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا تو وہ اللہ کے شریک کیسے بن سکتے ہیں ؟
Ayah 16:1819 اللہ کی نعمتوں کا شمار ناممکن ہے :۔ یہ چند موٹی موٹی چیزیں ذکر کی گئی ہیں لیکن اگر تم ان کی جزئیات میں یا دوسری چیزوں میں غور کرو تو اللہ کی اس قدر نعمتیں معلوم ہوں گی جو شمار میں بھی نہیں آسکتیں۔ انسان کو چاہئے تو یہ تھا کہ ان نعمتوں کی وجہ سے وہ اللہ کا شکرگزار بنتا۔ مگر اس نے الٹا اللہ کے شریک بنانا شروع کردیئے پھر بھی اللہ ان کے ایسے جرائم کو درگزر کرتے ہوئے از راہ مہربانی انھیں ان تمام نعمتوں سے فیضیاب کر رہا ہے۔
Ayah 16:1920 الٰہ ہونے کی خصوصیات :۔ ناشکرے، نافرمان اور مشرک لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کو ان کی تقصیرات اور کرتوتوں کا علم نہیں بلکہ وہ ان کی تمام ظاہر اور پوشیدہ حرکات و سکنات جانتے ہوئے بھی از راہ کرم و فضل انھیں مسلسل ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیئے جارہا ہے۔
Ayah 16:2021 ان کے بنائے ہوئے شریکوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی چیز کو پیدا تو کیا خاک کریں گے۔ وہ تو خود مخلوق ہیں اور جو مخلوق ہو وہ اپنے بنانے والے کا محتاج بھی ہوگا۔ نیز جو چیز مخلوق ہو وہ ضرور فنا بھی ہوگی۔ لہذا ایسے شریک نہ خود الٰہ ہوسکتے ہیں اور نہ صفات الوہیت میں اللہ کے شریک بن سکتے ہیں۔
Ayah 16:2122 من دون اللہ سے مراد صرف بت نہیں :۔ ان دو آیات سے صاف واضح ہے کہ یہاں ایسے معبودوں کو ذکر نہیں کیا جارہا جو بےجان ہیں مثلاً سورج، چاند، ستارے، شجر و حجر اور لکڑی یا پتھر یا مٹی وغیرہ کے بت۔ کیونکہ ان کے لیے بعث بعد الموت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور جاندار یا ذوی العقول میں سے فرشتوں، فوت شدہ انبیاء، اولیاء اور صالحین کو خدائی صفات میں شریک بنایا جاتا رہا ہے۔ ان میں فرشتوں پر ( اَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَاءٍ ) کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ زندہ ہیں مرتے نہیں۔ باقی صرف اصحاب قبور رہ جاتے ہیں جن پر ( اَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَاءٍ ) کا بھی اطلاق ہوسکتا ہے اور ان کے لیے بعث بعد الموت بھی ضروری ہے گویا (اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) سے مراد وہ انبیاء، اولیاء، شہداء اور صالحین ہیں جنہیں ان کی وفات کے بعد فریاد رس، غوث، داتا، گنج بخش وغیرہ وغیرہ القاب دے ڈالے گئے۔ اور صفات الوہیت میں انہیں اللہ کا شریک بنا لیا گیا۔ اس قسم کا شرک بھی عرب میں عام پایا جاتا تھا۔ چناچہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ یہود پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ بنالیں گے تو آپ کی قبر مرجع خاص و عام بنادی جاتی۔ (بخاری، کتاب المغازی۔ باب مرض النبی ﷺ) اور مسلم کتاب الصلوۃ میں جو حدیث سیدنا جندب ص سے مروی ہے اس میں یہود کی تخصیص نہیں۔ نیز انبیاء کی قبروں کے ساتھ صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ ” توجہ سے سنو ! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ میں تمہیں ایسی باتوں سے منع کرتا ہوں “ نیز سیدنا ابن عباس ص سے مروی درج ذیل حدیث بخاری، احمد، مسلم، نسائی سب کتب حدیث میں موجود ہے۔ آپ نے کہا کہ یہ سب لوگ (و د، سواع، یغوث، یعوق، نسر) قوم نوح کے اولیاء اللہ تھے۔ جب وہ مرگئے تو لوگ ان کی قبروں پر اعتکاف کرنے لگے۔ پھر ان کے مجسمے بنائے اور ان کی عبادت کرنے لگے۔ پھر یہی بت قبائل عرب میں پھیل گئے۔
ان احادیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دور نبوی میں صرف بتوں ہی کی خدائی کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا بلکہ فوت شدہ بزرگوں کو بھی صفات الوہیت میں شریک بنایا جاتا تھا۔ اور ان آیات میں اسی قسم کے معبودوں کی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے پکارنے کا ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ مخلوق تھے اور جو مخلوق ہو وہ نہ الٰہ ہوسکتی ہے اور نہ صفات الوہیت میں شریک بن سکتی ہے یعنی ایسے لوگ جنہیں یہ بھی علم نہیں کہ خود انہیں کب اٹھایا جائے گا، وہ نہ تو تمہاری پکار سن سکتے ہیں اور نہ ہی فریاد رسی کرسکتے ہیں۔
Ayahs 16:22–2323 آخرت کا انکار تکبر ہے :۔ تکبر اس لحاظ سے ہے کہ یوم جزاء و سزا کے قائم ہونے سے انکار دراصل اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا انکار ہے۔ ایک اللہ کا عادل ہونا دوسرے قادر مطلق ہونا اور جو شخص اتنے واضح اور فطری دلائل کو دیکھتے ہوئے بھی اللہ کی قدرت مطلقہ سے انکار کرتا ہے تو اس سے بڑھ کر اور اکڑ باز کون ہوسکتا ہے ؟ جبکہ رسول اللہ نے تکبر کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبر یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دیا جائے اور دوسروں کو حقیر سمجھا جائے۔ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر و بیانہ)
Ayah 16:2424 قرآن میں بس پہلے لوگوں کی کہانیاں ہی ہیں :۔ جب رسول اللہ اور آپ کی دعوت کا چرچا حدود مکہ سے نکل کر آس پاس کے علاقوں میں بھی پھیل گیا تو کفار مکہ جہاں کہیں جاتے اور لوگ ان سے پوچھتے کہ تم میں جو نبی پیدا ہوا ہے اس کی تعلیم کیا ہے اور وہ کس چیز کی دعوت دیتا ہے تو یہ لوگ بڑی بےنیازی اور لاپروائی سے کہہ دیتے کہ بس کچھ پہلے لوگوں کی داستانیں اور قصے کہانیاں ہی سنا دیتا ہے۔ کوئی نئی یا کام کی بات ان میں نہیں ہوتی اور ایسی باتیں ہم پہلے ہی بہت سن چکے ہیں۔
Ayah 16:2525 یعنی ایک تو خود مجرم تھے دوسرے اور لوگوں کو پیغمبر کی اصل دعوت نہ بتانے کی وجہ سے انھیں بھی روک دیا لہذا ان کی گمراہی کا بار بھی انہوں نے اپنے اوپر لاد لیا۔ قیامت کے دن گناہوں کا یہ بار مجسم شکل میں ان کی پشتوں پر لاد دیا جائے گا۔
Ayah 16:2626 قریش کی اسلام دشمن سرگرمیاں :۔ قریش مکہ صرف یہی نہیں کہ لوگوں میں غلط پروپیگنڈا کرکے انھیں اسلام سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ بلکہ اسلام کو روکنے کے لیے کئی طرح کی تدبیریں کرتے رہتے تھے۔ وہ اسلام لانے والوں پر ناروا سختیاں کرتے، انھیں تنگ کرتے۔ بیت اللہ میں داخلہ اور بالخصوص طواف پر پابندیاں قرآن بلند آواز سے پڑھنے پر پابندیاں اور دھمکیاں اور پھر معاشرتی بائیکاٹ، یہ سب کچھ وہ اس لیے کر رہے تھے کہ اسلام اور اس کی دعوت کا کلی طور پر استیصال کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان سے پہلے لوگ بھی دعوت حق کے مقابلے میں ایسی ہی چالیں چلتے رہے اور ان چالوں کے اونچے اور مضبوط محل کھڑے کردیئے۔ لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو ان کی چالوں کے محل بنیادوں ہی سے اکھڑ کر زمین پر آرہے۔ وہ خود اپنی ہی چالوں میں ایسے پھنس گئے جس کا انھیں وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا۔
Ayah 16:2727 ایسے راہ حق میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کا دنیا میں تو یہ انجام ہوا اور آخرت میں یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انھیں سب کے سامنے حاضر کرکے پوچھے گا کہ بتاؤ تمہارے وہ بناوٹی شریک کدھر ہیں جنہیں تم نے میرے مقابلہ میں لا کھڑا کیا تھا اور میرے رسولوں سے دنیا میں ہمیشہ جھگڑا کرتے رہے تھے آج وہ کہاں ہیں اور تمہاری مدد کو کیوں نہیں پہنچتے ؟ وہ اس سوال کا کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور یہی بات ان کے لیے سب کے سامنے رسوائی کا باعث بن جائے گی۔ پھر انھیں اس شرک کا جو بدلہ دیا جائے گا وہ انتہائی رسوا کن ہوگا۔
28 یعنی مشرک اللہ تعالیٰ کے سوال کا کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔ سارے میدان محشر میں ایک سناٹا چھا جائے گا۔ کافروں اور مشرکوں کی زبانیں گنگ ہوجائیں گی اور وہ دم بخود رہ جائیں گے۔ پھر کچھ دیر بعد اہل علم یعنی انبیاء کرام اور ان کے متبعین انھیں کافروں اور مشرکوں کو مخاطب کرکے کہیں گے کہ ہم نے تمہیں بتایا نہ تھا کہ قیامت کے دن تمہیں سخت رسوائی اور برے انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔
Ayah 16:2829 عذاب قبر اور اس کی کیفیت :۔ جن فرشتوں کے آنے کا اپنے نبی سے تقاضا کرتے رہے جب وہ آجاتے ہیں تو ان کی سب شیخیاں کر کری ہوجاتی ہیں اور جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں پھر اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ اپنی نافرمانیوں اور حق کے خلاف سرگرمیوں سے یکسر انکار کردیں گے اور اپنے ہتھیار ڈال دیں گے تاکہ انھیں فرشتوں کی طرف سے امن نصیب ہو۔ جس کا جواب انھیں یہ دیا جائے گا کہ کیا اب تم جھوٹ بول کر اللہ کو فریب دینا چاہتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہاری ایک ایک حرکت سے باخبر ہے کہ کس طرح تم نبیوں کے دشمن بنے رہے اور حق کو ٹھکراتے رہے اور اپنے کفر و شرک پر ڈٹے رہے۔ تمہاری اس سرکشی کی سزا یہ ہے کہ اب تم ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل کردیئے جاؤ۔
فرشتوں کی یہ دھمکی مجرموں کو اسی دنیا میں مل جاتی ہے یعنی موت کی آخری ہچکی کے ساتھ ہی ہر شخص کو اپنا انجام نظر آنے لگتا ہے بلکہ فرشتے اسے واضح طور پر بتادیتے ہیں۔ موت کی آخری ہچکی سے لے کر دوبارہ روز آخرت کو جی اٹھنے تک کے عرصہ کا نام برزخ ہے اور اسی عرصہ کو حدیث میں قبر اور جدث کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے خواہ میت فی الواقع مکمل ہو یا نہ ہو یا کسی دوسرے طریقے سے ٹھکانے لگا دی گئی ہو۔ کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو یا پانی میں غرق ہوگئی ہو۔ منکرین حدیث جو عذاب قبر کے منکر ہیں ان آیات میں ان کی تردید موجود ہے۔ جب روح بدن سے نکل جاتی ہے جسے موت کہا جاتا ہے تو اس وقت بھی روح نہ مرتی ہے نہ فنا ہوتی ہے بلکہ اپنی شخصیت کے ساتھ قائم رہتی ہے اور یہی روح دوبارہ حشر و نشر کے دن اپنے جسم میں داخل کی جائے گی جو اسے اس دن مہیا کیا جائے گا۔ اسی کا نام دوسری زندگی ہے اور عالم برزخ میں جو عذاب یا ثواب ہوتا ہے جس کا مذکورہ آیات میں ذکر ہے وہ صرف روح کو ہوتا ہے جیسے کہ انسان کو خواب میں بسا اوقات دکھ پہنچتا ہے اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پٹائی ہو رہی ہے اور اس پٹائی کی اسے تکلیف بھی ہوتی ہے حالانکہ یہ سب واردات روح سے پیش آتی ہے اور جسم اپنے بستر پر پڑا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ جاگتا ہے تو خواب میں پٹائی کے اثرات صرف اس کے ذہن میں ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ جسم پر بھی پائے جاتے ہیں اور وہ خوفزدہ معلوم ہوتا ہے۔ بالکل ایسی ہی کیفیت عذاب قبر کی بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح خواب میں انسان کو راحت و مسرت کے واقعات بھی پیش آتے ہیں اور جب وہ اٹھتا ہے۔ تو وہ خود ہشاش بشاش ہوتا ہے اور سب کو اس کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا نظر آتا ہے۔ ثواب قبر کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ گویا عالم برزخ ایسی نیم زندگی کی کیفیت ہوتی ہے جس میں موت کے اثرات چونکہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس لیے برزخ کی اس نیم زندگی کی حالت کو موت ہی سے تعبیر کیا گیا ہے (مزید تفصیل کے لیے میری تصنیف روح، عذاب قبر اور سماع موتی ملاحظہ فرمائیے
Ayah 16:2929۔ الف یہ مضمون پہلے سورة الحجرأت آیت 44 میں آچکا ہے وہاں سے حاشیہ دیکھ لیا جائے۔
Ayahs 16:30–3130 قرآن سراسر بھلائی ہے :۔ کفار مکہ سے جب آس پاس کے لوگ یہی سوال کرتے تو وہ کہتے کہ وہ تو بس پہلی قوموں کے قصے کہانیاں ہی ہیں جو ہم پہلے ہی بہت سن چکے ہیں لیکن وہی بیرونی لوگ جب یہی سوال کسی ایمان لانے والے اور متقی شخص سے کرتے ہیں تو ان کا جواب کفار مکہ کے جواب کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی پر جو تعلیم نازل ہوئی ہے اس میں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ پھر یہ لوگ صرف زبان سے ہی ان باتوں کا اقرار نہیں کرتے بلکہ اللہ کی اس نازل کردہ تعلیم کو اپنے آپ پر نافذ بھی کرتے ہیں۔ اور جن کاموں کے کرنے کا انھیں حکم ہوتا ہے وہ احسن طور پر بجا لاتے ہیں اور جن کاموں سے منع کیا جائے ان سے رک جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی بھلائیاں ہی نصیب ہوتی ہیں اور آخرت میں بھی دائمی خوشیاں اور بھلائیاں نصیب ہوں گی۔ گویا یہی قرآن کافروں کے لیے مزید گمراہی کا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے مزید ہدایت کا سبب بن جاتا ہے۔
Ayah 16:3231 برزخ میں مومن اور کافر سے سلوک کا تقابل :۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو پاکیزہ سیرت ہوتے ہیں جب فرشتے اس قسم کے لوگوں کی روح قبض کرنے کے لیے آتے ہیں تو فرشتے خود انھیں السلام علیکم کہہ کر انھیں پہلے سلامتی کی دعا دیتے ہیں۔ پھر انھیں جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور ابھی وہ اس دنیا سے پوری طرح رخصت بھی نہیں ہوچکے ہوتے کہ انھیں جنت میں داخل ہونے کو کہہ دیا جاتا ہے اور احادیث میں آیا ہے کہ جب مومن کو دفن کیا جاتا ہے اور فرشتوں سے سوال و جواب ہوچکتے ہیں تو اس کی قبر میں جنت کی طرف سے ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ جس کی خوشبو سے اس کا دماغ معطر ہوتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ ایسے آرام اور مسرت سے سو جاؤ جیسے ایک نئی نویلی دلہن سوتی ہے۔ (احمد، بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الجنائز، باب مایقال عند من حضرہ الموت۔ الفصل الثالث) اور ابھی وہ اپنی نیند بھی پوری نہیں کرچکا ہوتا کہ بعث بعد الموت کا وقت آجاتا ہے۔ اور وہ یہی سمجھتا ہے کہ شاید گھنٹہ دو گھنٹے سویا رہا ہوں گا لیکن اسے بتایا جاتا ہے کہ تم یہاں حشر کے دن تک سوئے رہے (30: 56) اور کافر کو قبر یعنی عالم برزخ میں طرح طرح کے عذاب دیئے جاتے ہیں مگر وہ عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں اتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ جب انھیں قبر سے اٹھایا جائے گا اور اپنے سامنے میدان محشر کے دہشت ناک مناظر دیکھیں گے تو کہیں گے : ہائے افسوس ! ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ نے وعدہ کر رکھا تھا اور رسول ٹھیک ہی کہتے تھے۔ (36: 52)
Ayahs 16:33–3432 فرشتوں کی آمد کا مطالبہ :۔ یہ بھی منکرین حق کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو وہ کہتے تھے کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے جو اس بات کی تصدیق کریں کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ فرشتے ان کے پاس بھی آتے ہیں۔ لیکن اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک ان کی روح قبض کرنے کے لیے اور دوسرے ان پر قہر الٰہی نازل کرنے کے لیے اور یہ اعتراض صرف یہی کفار مکہ ہی نہیں کر رہے تھے۔ اس سے پہلے بھی منکرین حق اپنے اپنے دور میں انبیاء کو ایسی ہی باتیں کہتے چلے آئے ہیں۔ اور ان کا بھی اسی طرح مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ بالآخر انھیں اپنی کرتوتوں کی پاداش میں فرشتوں سے دو چار ہونا ہی پڑا جو ان پر اللہ کا عذاب لے کر آئے تھے۔ اور اب ان لوگوں کو بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا اور اللہ سے وہ جس بات کا مطالبہ کرتے ہیں اللہ اسے ضرور پورا کر دے گا۔
Ayah 16:3533 اہل کتاب کا اپنے احبارو رہبان کو رب بنا لینے کا مفہوم :۔ اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو حرام اور حرام کو حلال بنا لینا بھی واضح شرک ہے جیسا کہ سیدنا عدی صبن حاتم نے ( اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 31) 9 ۔ التوبہ :31) کی تفسیر رسول اللہ سے پوچھی تھی۔ سیدنا عدی بن حاتم پہلے عیسائی تھے پھر اسلام لائے تھے۔ جب سورة توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی تو کہنے لگے : یارسول اللہ ہم اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں سمجھتے تھے آپ نے فرمایا کہ جس چیز کو وہ حلال یا حرام کہہ دیتے تم اسے جوں کا توں تسلیم نہیں کرلیتے تھے ؟ سیدنا عدی کہنے لگے یہ بات تو تھی آپ نے فرمایا یہی رب بنانا ہوتا ہے (ترمذی، ابو اب التفسیر، تفسیر آیت مذکورہ) مشرکین مکہ نے بھی کئی حلال چیزوں کو حرام اور حرام چیزوں کو حلال بنا لیا تھا جن کا ذکر سائبہ، بحیرہ، وصیلہ اور حام (5: 103) کے حواشی میں گزر چکا ہے۔ مشرکوں کا یہ جواب دراصل عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق ہوتا ہے۔ تاکہ اس طرح پیغمبروں کو لاجواب کردیں اور کج بحث قسم کے مجرم اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے اکثر مشیئت الٰہی کا ہی بہانہ پیش کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کی مشیئت اور اللہ کی رضا میں بڑا فرق ہوتا ہے اور اس فرق کو پہلے سورة انعام آیت نمبر 144 کے حاشیہ میں تفصیل سے ذکر کیا جا چکا ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
34 جب مشرکوں کو پیغمبر اسلام اور قرآن کی تعلیم کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ یہی جواب دیتے تھے کہ اس تعلیم میں رکھا کیا ہے۔ بس پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں کوئی نئی بات تو ہے نہیں۔ گویا انھیں نبی پر اعتراض یہ تھا کہ یہ پرانے لوگوں کی ہی باتیں پیش کرتا ہے ان کے جواب میں انھیں بتایا جارہا ہے کہ تم جو اپنے مشرکانہ کاموں کے جواز میں دلیل پیش کر رہے ہو، یہ بھی کوئی دلیل نہیں۔ وہی پرانی بات ہے جو گمراہ لوگ ہمیشہ سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور نہ ہوتا تو ہم ایسے کام کیوں کرتے ؟ حالانکہ مشرکوں کی اس دلیل میں بھی اس کا رد موجود ہے۔ جو یہ ہے کہ اگر اللہ کو مشرکوں کا یہ شرک گوارا یا منظور ہوتا تو چاہئے تھا کہ اللہ مشرکوں کے اس کام پر سکوت اختیار فرماتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر ان افعال کی پرزور تردید اور مذمت کی ہے۔ پھر وہ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے یہ کام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہیں۔
35 مشرکوں کا یہ جواب اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ ہمارے رسولوں نے انھیں بروقت مطلع کردیا تھا کہ جو مشرکانہ کام تم کر رہے ہو اللہ ان سے ہرگز راضی نہیں بلکہ وہ اس قدر ناراض ہے کہ تمہارے ان کاموں کی پاداش میں تم پر اپنا عذاب بھیج سکتا ہے۔ اور انہوں نے اپنی اس ذمہ داری میں کبھی کوتاہی نہیں کی تھی۔
Ayah 16:3636 طاغوت کے معنی :۔ طاغوت کا اطلاق ہر اس شخص، ادارے، بادشاہ یا حکومت پر ہوسکتا ہے جو اللہ کا نافرمان ہو اور لوگ اس کی اطاعت پر مجبور ہوں۔ ایسا شخص یا ادارہ یا بادشاہ اللہ کا باغی ہوتا ہے اور اپنے زیر اثر لوگوں کو اپنی بات منوانا چاہتا ہے اور یہی کام شیطان کا ہوتا ہے لہذا اس لفظ کا ترجمہ عموماً شیطان سے کردیا جاتا ہے اور اگر انسان اللہ کے احکام کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے ہی نفس کی اتباع کرنے لگے تو اس کے نفس پر بھی طاغوت کا اطلاق ہوسکتا ہے۔
37 تذکیر بایام اللہ :۔ جب بھی کوئی رسول اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا اور اس نے اللہ کی عبادت اور اپنی فرمانبرداری کی دعوت دی تو اس کی قوم دو حصوں میں بٹ جاتی رہی۔ ایک ماننے والے اور دوسرے اس دعوت سے انکار کرنے والے۔ اب تم محض تاریخ یا لوگوں سے سنی سنائی باتوں پر اعتبار مت کرو۔ بلکہ خود چل پھر کر خود حالات کا جائزہ لو اور دیکھو کہ کیا عذاب الٰہی انہی لوگوں پر نہیں آیا تھا جنہوں نے انبیاء کی دعوت کو جھٹلا دیا تھا۔ قوم عاد، ثمود، نوح، قوم لوط، اصحاب مدین اور قوم فرعون یہ سب قومیں ایسی ہیں جو تمہارے آس پاس ہی رہا کرتی تھیں۔ اور تمہارے لیے وہاں جاکر ان کا انجام دیکھنا آسان بھی ہے۔ پھر ایسا ایک دو بار نہیں ہوا۔ بلکہ جتنی قوموں کے حالات سے تم مطلع ہوسکتے ہو ان سب سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کیا پھر بھی تم ان مسلسل تاریخی شہادتوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کرسکتے ؟ اور یہ سوچ نہیں سکتے کہ اگر ہم بھی اپنے رسول کی تکذیب کریں گے تو ہمارا بھی یہی انجام ہوسکتا ہے ؟
Ayah 16:3738 یعنی جو لوگ نہ پیغمبروں کی دعوت کو قبول کریں نہ اللہ تعالیٰ کی کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی قدرتوں میں غور کریں اور نہ ہی اقوام سابقہ کے انجام سے کچھ عبرت حاصل کریں تو سمجھ لیجئے کہ گمراہی ان کے لیے مقدر ہوچکی۔ آپ ان کے ایمان لانے کی خواہ کتنی ہی آرزو کریں کوئی بات اب انھیں ایمان لانے کی طرف مائل نہیں کرسکتی۔
Ayah 16:3839 جب انھیں ان کے برے انجام سے ڈرایا جاتا ہے تو ضد اور چڑ میں آکر اللہ کی پختہ قسمیں بھی کھانے لگتے ہیں کہ دوبارہ جی اٹھنے کی بات سراسر لغو اور خلاف عقل بات ہے۔ حالانکہ ان کا یہ دعویٰ ہی خلاف عقل اور جہالت پر مبنی ہے۔ کیونکہ کائنات کی ایک ایک چیز اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ اللہ جو کچھ چاہتا ہے اسے کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 16:3940 روز آخرت کا قیام ضروری ہونے کی دو وجوہ :۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے اس دعویٰ کا نقلی جواب یہ دیا کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جسے وہ پورا کرکے رہے گا۔ اور یہ وعدہ سابقہ انبیاء کی زبان سے لوگوں کو بتایا گیا اور تمام الہامی کتابوں میں موجود ہے اور مشرکین مکہ کو بھی اہل کتاب کا یہ عقیدہ اچھی طرح معلوم تھا۔ اور عقلی جواب یہ دیا کہ بھلا جو ہستی پہلی بار کائنات کا یہ وسیع سلسلہ وجود میں لاچکی ہے اس کے لیے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا یا ایسا ہی کائنات کا دوبارہ نظام وجود میں لانا کیا مشکل ہے ؟ لہذا وہ اس بات کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ پھر بعث بعد الموت کی دو وجوہ اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ آزادی و اختلاف رائے کی بنا پر دنیا میں بیشمار اختلافات رونما ہوئے اور نئے سے نئے نظریئے نئے نئے مذاہب اور نظام حیات رائج ہوتے رہے۔ کوئی قومیت کا پرستار ہے تو کوئی وطنیت کا، کوئی دہریت کا اور کوئی سوشلزم کا، کوئی کمیونزم کا اور کوئی سرمایہ داری کا اور کوئی خلافت کا ان میں ٹکراؤ ہوا۔ جنگیں ہوئیں۔ دونوں طرف سے لوگ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں قتل ہوئے۔ لیکن یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ ان میں سے کوئی سچا بھی تھا یا نہیں۔ یا اگر کوئی سچا تھا تو وہ کون سا گروہ تھا اور جھوٹا کون سا ؟ اور یہ کائنات چونکہ حق پر مبنی ہے لہذا اس بات کا فیصلہ ضروری تھا کہ اللہ ایسے لوگوں پر صحیح صورت حال کی وضاحت کر دے اور کافروں کو بالخصوص اس بات کا پتہ چل جائے کہ وہی جھوٹے تھے۔
اختلافات کی وضاحت اور مکافات عمل :۔ اور دوسرا یہ کہ جن لوگوں نے اپنی پوری کی پوری زندگی ظلم و زیادتی کرنے میں گزاری تھی اور ان کے جرائم کی سزا کے لیے دنیا کی زندگی کی مدت بہت ناکافی تھی۔ اسی طرح جن لوگوں نے راہ حق میں قربانیاں دیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے رہے اور یہ دنیا کی زندگی کی مدت ان کی جزاء کے لیے ناکافی تھی۔ لہذا روز آخرت کا قیام عین عقل، عدل اور حکمت کے مطابق ہے۔
Ayah 16:4041 کلمہ کن فیکون کی صورت :۔ اللہ کا ارادہ کرلینا ہی اس کا حکم دینا ہے اسے اپنی زبان سے کن کا لفظ ادا کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کا ارادہ ہی حکم کا درجہ رکھتا ہے اور جب وہ ارادہ کرتا ہے تو اس کی تکمیل کے لیے اسباب و وسائل از خود ہی مہیا ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور وہ کام ہو کے رہتا ہے کوئی چیز اس میں مزاحم نہیں ہوسکتی۔ اور جتنے عرصہ میں اللہ اسے وجود میں لانا چاہتا ہے اتنے ہی عرصہ میں وہ وجود میں آجاتی ہے۔