Ayah 16:4142 ہجرت حبشہ :۔ یہ سورت چونکہ مکی ہے لہذا یہاں مہاجرین سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور یہ اسی (80) کے قریب صحابہ کرام ؓ تھے جن پر قریش مکہ کی طرف سے مظالم ڈھائے جاتے رہے اور وہ مقدور بھر صبر سے برداشت کرتے رہے لیکن بالآخر قریش مکہ نے انھیں اس قدر نشانہ ستم بنایا کہ وہ اپنا گھر بار، مال و جائیداد اور عزیز و اقارب سب کچھ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور اللہ کے دین کی خاطر اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ پھر یہی لوگ حبشہ سے دوبارہ ہجرت کرکے مدینہ اس وقت پہنچے جب خیبر فتح ہوچکا تھا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے نوازا اور یہی لوگ ان مشرکوں اور کافروں کے حاکم بن گئے جنہوں نے انھیں مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔
Ayah 16:4243 یعنی مکہ میں قریش مکہ کے مظالم پر صبر کرتے رہے۔ اور حبشہ میں اپنی نئی زندگی کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور مصائب کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ اور انھیں اس بات کا یقین کامل تھا کہ اللہ نے ان سے جو وعدے کر رکھے ہیں۔ وہ یقیناً پورے ہو کے رہیں گے۔ لہذا وہ اپنے ہر مشکل وقت میں اللہ ہی پر بھروسہ کیے رہے۔
Ayah 16:4344 رسول اللہ کا بشر ہونا تاریخی پہلو :۔ یہ بھی مشرکوں کے ایک اعتراض کا جواب ہے جو پہلے بھی کئی بار مذکور ہوچکا ہے کہ یہ نبی تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ ہماری طرح کھاتا، پیتا، چلتا، پھرتا اور عائلی زندگی گزارتا ہے آخر اس میں وہ کون سی امتیازی صفت ہے کہ ہم اسے اللہ کا رسول تسلیم کرلیں۔ اس اعتراض کے مختلف مقامات پر مختلف پہلوؤں سے جواب دیئے گئے ہیں۔ یہاں صرف تاریخی پہلو کے لحاظ سے جواب دیا جارہا ہے کہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں وہ سب انسان اور مرد ہی ہوا کرتے تھے۔ سیدنا آدم، نوح (علیہ السلام) ، ابراہیم (جن کی اتباع کا مشرکین مکہ دعویٰ کرتے تھے) اسحاق (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، یعقوب علیہ السلام، یوسف (علیہ السلام) ، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ وغیرہم سب کے سب انسان ہی تھے اور یہ بات تم جانتے بھی ہو اور اگر کچھ شک ہو تو اہل علم حضرات سے پوچھ لو جو سابقہ انبیاء سے اور ان کے حالات سے باخبر ہیں اور یہاں اہل علم سے مراد علمائے یہود و نصاریٰ ہیں۔ کہ آیا وہ بشر یا انسان ہی تھے یا کوئی اور قسم کی مخلوق تھے ؟
Ayahs 16:44–4644۔ الف اہل الذکر کون ہیں :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کا لفظ نہیں بلکہ ذکر کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اس سے پہلی آیت میں بھی اہل کتاب کا لفظ استعمال نہیں فرمایا بلکہ اہل الذکر کا استعمال فرمایا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ذکر اور کتاب یا قرآن دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس فرق کی وضاحت کے لیے سورة الحجر کا حاشیہ نمبر 5 ملاحظہ فرمائیے۔ مختصراً یہ کہ ذکر میں اللہ کی کتاب کے علاوہ وہ بصیرت بھی شامل ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کو کتاب کے بیان کے سلسلہ میں عطا کی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے اہل الذکر سے مراد دینی علوم کے ماہر ہیں اور ذکر سے مراد تمام منزل من اللہ وحی ہے یعنی کتاب اللہ کے علاوہ سنت رسول بھی ذکر کے مفہوم میں شامل ہے اور لوگوں کو ہدایت یہ دی جارہی ہے کہ اگر کوئی شرعی مسئلہ معلوم نہ ہو تو اسے دینی علوم کے کسی ماہر سے پوچھ لینا چاہیے۔
چنانچہ اصول فقہ میں علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کسی مسئلہ کی شرعی حیثیت معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے وہاں سے نہ ملے تو سنت رسول کی طرف رجوع کیا جائے وہاں بھی نہ ملے تو اجماع صحابہ سے معلوم کیا جائے۔ اور اگر مسئلہ ہی مابعد کے دور کا ہو تو پھر اس میں اجتہاد و استنباط کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اجتہاد بھی سارے لوگ تو نہیں کرسکتے کیونکہ اس کے لیے علوم شرعیہ میں مہارت کے علاوہ خاصے غور و فکر کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ اور جو لوگ اجتہاد کرنے کے اہل ہوتے ہیں انھیں مجتہد کہتے ہیں اور یہی لوگ اہل الذکر کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں اور عام لوگوں کو یہ حکم ہے کہ وہ ان سے شرعی مسائل پوچھ لیا کریں۔
تقلید شخصی کیوں حرام ہے :۔ مقلد حضرات تقلید کو شرعی حجت ثابت کرنے کے لیے اسی آیت سے استدلال فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تقلید ایک شرعی ضرورت ہے۔ اگر معاملہ یہیں تک رہتا تو پھر نہ اس میں اختلاف کی گنجائش تھی اور نہ تنازعہ کی۔ تنازعہ تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی شخص کو کسی ایک خاص امام مجتہد کا مقلد بنے رہنے کا پابند کیا جاتا ہے پھر ان میں گروہی تعصب پیدا ہوتا ہے تو ہر صاحب علم اپنے امام کی برتری بیان کرنے اور دوسرے مجتہدین کی تنقیص کرنے لگتا ہے۔ پھر جب مزید تعصب پیدا ہوجاتا ہے تو اپنے امام کے قول کو حدیث کے مقابلہ میں ترجیح دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور حدیث کی صرف اس لیے تاویل یا تضعیف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے امام کے قول کی صحت پر آنچ نہ آنے پائے۔ ایسی اندھی تقلید کا نام ہی تقلید شخصی ہے جسے کسی صورت مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی کسی شخص کو ایک خاص امام کی تقلید کا پابند کرنا کوئی مستحسن فعل ہے۔ تقلید شخصی کے حق میں جو دلیل دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح لوگ ہر امام کی رعایتوں سے اور رخصتوں سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ ان حضرات سے گزارش ہے کہ اگر کوئی مجتہد یا اہل علم شریعت سے ہی ایک رخصت استنباط کرتا ہے تو کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ شریعت کی رخصتوں پر پابندیاں لگا کر دین کی راہوں کو مشکل بنادیں اور اللہ کی وسیع رحمت کے آگے بند باندھیں اور یہ تقلید شخصی حرام اس لحاظ سے ہے کہ یہ تعصب اور تشدد کی بنا پر فرقہ بندی کی بنیاد بنتی ہے جو شرعاً حرام ہے۔
45 قرآن کا بیان کیا چیز ہے ؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ذمہ داری صرف یہی نہیں تھی کہ جو کلام آپ پر اللہ کی طرف سے نازل ہو، اسے پڑھ کر لوگوں کو سنا دیا کریں یا لکھوا دیا کریں یا آپ اسے خود بھی یاد کرلیں اور دوسروں کو بھی یاد کروادیا کریں۔ بلکہ اس کے علاوہ آپ کی تین مزید اہم ذمہ داریاں بھی تھیں۔ جن میں سے یہاں ایک کا ذکر کیا جارہا ہے جو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے اس کا مطلب اور تشریح و توضیح بھی لوگوں کو بتادیا کریں۔ اگر کسی کو کسی بات کی سمجھ نہ آئے تو سمجھا دیا کریں۔ اگر وہ کوئی سوال کریں تو انھیں اس کا جواب دیا کریں۔ رہی یہ بات کہ قرآن کی وضاحت یا قرآن کا بیان کیا چیز ہے اس کے لیے سورة ابراہیم کی آیت نمبر 4 کا حاشیہ ملاحظہ فرمایئے۔
منکرین حدیث اور اہل قرآن کا رد :۔ ضمناً اس آیت سے تین باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک تو اس آیت میں ان منکرین حدیث یا اہل قرآن کا پورا رد موجود ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی حیثیت (معاذ اللہ) صرف ایک چٹھی رساں کی تھی۔ آپ پر قرآن نازل ہوا۔ وہ آپ نے جوں کا توں امت کے حوالہ کردیا۔ آپ کی ذمہ داری بس اتنی ہی تھی جو آپ نے پوری کردی۔ اور قرآن میں امت کے لیے پوری رہنمائی موجود ہے اور ان کا رد اس لحاظ سے ہے کہ قرآن خود بتارہا ہے کہ اس کے بیان یا وضاحت کی ضرورت بھی باقی رہتی ہے اور یہ بھی آپ کی ذمہ داری ہے کیونکہ قرآن کے بیان کے بغیر اس کی اتباع ناممکن ہے۔
دوسرے یہ کہ آپ کا بیان یا وضاحت یا ارشادات یا اصطلاحی زبان میں آپ کی سنت یا حدیث بھی اتباع کے لحاظ سے بعینہ اسی طرح واجب ہے جس طرح قرآن کی اتباع واجب ہے اور تیسرے یہ کہ جو شخص قرآن کے بیان کا منکر ہے وہ یقیناً قرآن ہی کا منکر ہے۔
Ayah 16:4746 تخو ّف کے معنی کی تحقیق عذاب کی قسم :۔ ایک دفعہ سیدنا عمر نے بر سر منبر تخوف کے معنی پوچھے تو قبیلہ بنو ہذیل کے ایک آدمی نے جواب میں کہا کہ ہماری لغت میں تخوف کا لفظ تنقص (آہستہ آہستہ گھٹاتے جانا) کے معنی میں آتا ہے پھر ثبوت کے طور پر ایک شعر بھی پڑھا تو سیدنا عمر نے فرمایا : جاہلیت کے اشعار یاد رکھو کیونکہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر ہے ( الموافقات للشاطبی ج 1 مترجم اردو ص 78) نیز سیدنا ابن عباس ؓ نے بھی علی تخوف کے معنی تنقص ہی بیان فرمائے ہیں (بخاری، کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة نہل)
ان تین آیات میں عذاب الٰہی کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک عذاب ایسا ہے جو دفعتاً آن پڑتا ہے خواہ وہ ارضی ہو یا سماوی ہو۔ اس کی آگے بیشمار قسمیں ہیں جیسے بارش کی صورت میں پتھروں کی طرح آدھ آدھ سیر کے اولے گرنے لگیں اور وہ فصلیں اور جانداروں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیں یا زمین میں زلزلہ آئے تو شہر کے شہر زلزلہ سے پھٹی ہوئی زمین کے اندر دھنس جائیں یا سمندر میں طغیانی آئے تو وہ کناروں پر آباد شہروں کو پانی میں غرق کر دے۔ یا آتش فشاں پہاڑ پھٹے جس سے ہر چیز جل کر راکھ ہوجائے اور عذاب کی یہ سب قسمیں ایسی ہیں جن کی پہلے سے کسی کو خبر نہیں ہوتی۔
دوسری قسم کے عذاب وہ ہیں جو دوران سفر پیش آتے ہیں۔ جیسے کوئی دیو ہیکل وہیل مچھلی کسی جہاز کو ٹکر مار کر اسے غرق کر دے یا کسی بحری، بری جہاز یا کسی طرح کی دوسری گاڑی کا انجن خراب ہوجائے یا چلنا بند ہوجائے۔ یا ریلوں یا بسوں کا تصادم ہوجائے۔ یا کوئی بس کسی کھڈ میں نیچے جاگرے اور مسافر غرق ہوجائیں یا ہلاک ہوجائیں۔ غرض اس قسم کی بھی آگے بیشمار صورتیں ہیں۔
اور تیسری قسم وہ ہے جس کے متعلق علی تخوف کے الفاظ آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ایسا عذاب اندر ہی اندر بتدریج اپنا کام کرتا جاتا ہے اور ایسا معاشرہ زوال پذیر ہونا شروع ہوجاتا ہے حتیٰ کہ وہ ہلاکت تک پہنچ جاتا ہے اور ایسے عذاب کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔
Ayah 16:4846۔ الف مثلاً پہلے پہر اگر آپ جنوب کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں تو سایہ آپ کی دائیں جانب ہوگا اور شمال کی طرف منہ کریں تو بائیں جانب پھر جب سورج سر پر آجائے گا تو آپ کا سایہ آپ کے قدموں میں آجائے گا اور سردیوں میں شمال کی جانب سیدھ میں آجائے گا۔ اور پچھلے پہر سمت بالکل برعکس ہوجائے گی۔
اس آیت میں دائیں جانب کے لیے تو اللہ نے واحد کا صیغہ (یمین) استعمال فرمایا اور بائیں جانب کے لیے جمع کا (شمائل واحد شمال) یہ بھی عرب کا محاورہ اور ان کی فصاحت کی ایک قسم ہے۔ اہل عرب جب دو صیغے جمع کے لانا چاہتے ہیں تو ایک کو مفرد کرکے لاتے ہیں۔ قرآن میں اس کی دوسری مثال یہ ہے (خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ) 2 ۔ البقرة)
47 کائنات کی ہر چیز کا سجدہ کیسے ؟ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اسے چند طبعی قوانین کا پابند بنادیا ہے۔ ان قوانین کا پابند رہنا ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ مخلوق اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز، مجبور محض اور انتہائی عجز کا اظہار کر رہی ہے مثلاً روشنی کے لیے ایک قانون بنادیا کہ وہ اگر ایک ہی قسم کے مادہ سے گزرے تو وہ ہمیشہ خط مستقیم میں چلتی ہے۔ اسی قانون کے مطابق ہر چیز کا سایہ بنتا ہے۔ گھٹتا اور بڑھتا ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سایہ صرف مادی چیز اور ٹھوس قسم کی چیز کا ہوتا ہے اور یہ چیزیں سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ جو اللہ کے ایک ہمہ گیر قانون کی گرفت میں جکڑی ہوئی ہیں اور چونکہ مخلوق ہیں لہذا کسی نہ کسی وقت تباہ بھی ہوجائیں گی لہٰذا ان میں الوہیت کا شائبہ تک نہیں ہے بلکہ سب اللہ کے حکم میں جکڑی ہوئی اور اس کی عاجز مخلوق ہیں۔
Ayah 16:4948 فرشتوں کی الوہیت کا رد :۔ تمام مخلوقات میں سے فرشتوں کا بالخصوص الگ ذکر فرمایا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر ممالک میں اور اسی طرح عرب ممالک میں بھی فرشتوں کو معبود سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیا جاتا اور انھیں اللہ تعالیٰ یا بڑے خدا کا نائب اور کائنات میں بعض خاص امور کے تصرف کرنے والے اور اس کام میں اللہ کے مددگار سمجھا جاتا تھا۔ مصری اور یونانی اور ہندی تہذیب میں انہی فرشتوں کو یا ان کی ارواح کو دیوی دیوتاؤں کے نام سے پکارا جاتا ہے مثلاً بارش کا مالک فلاں دیوتا ہے۔ دولت کی مالک فلاں دیوی ہے اور محبت کی فلاں وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس باطل عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ فرشتے موجود ضرور ہیں اور مدبرات امر بھی ہیں لیکن اللہ کے حکم کے سامنے مجبور محض ہیں۔ اپنی مرضی سے کچھ بھی تصرف نہ کرتے ہیں نہ کرسکتے ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور بندے اور غلام بن کر رہتے ہیں۔ اسی کی عبادت اور تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں اور اس بات میں قطعاً عار محسوس نہیں کرتے۔ پھر اس سے ڈرتے بھی رہتے ہیں اور اپنے خالق ومالک کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتے۔ پھر اگر اللہ کو منظور نہ ہو تو وہ تمہاری احتیاج کیسے پوری کرسکتے ہیں لہذا اصل حکمرانی اللہ ہی کے لیے ثابت ہے۔
Ayah 16:5049 جب اس کائنات کی تخلیق اور انتظام میں کسی دوسرے کا کچھ بھی حصہ نہیں تو پھر وہ تمہیں کیسے فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اگر ان دونوں باتوں میں وہ بےبس اور عاجز ہیں تو پھر تمہیں ان سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ڈرنا تو اس سے چاہیئے جو اس کائنات میں تصرف کرسکتا ہو۔ اور وہ صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا عبادت بھی صرف اسی کی خالصتاً کرنا چاہیے، اپنی تمام تر حاجات کو اسی کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور یہی راستہ معقول سمجھا جاسکتا ہے۔
سجدہ تلاوت واجب نہیں :۔ اس آیت پر سجدہ کرنا چاہیے تاہم سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے۔ چناچہ ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عمر نے جمعہ کے دن منبر پر سورة نحل پڑھی۔ جب سجدے کی آیت پر پہنچے تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورة پڑھی۔ جب سجدہ کی آیت پر پہنچے تو کہنے لگے : لوگو ! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں پھر جو کوئی سجدہ کرے اس نے اچھا کیا اور جو کوئی نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں اور سیدنا عمر نے سجدہ نہیں کیا اور نافع نے ابن عمر ؓ سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا اسے ہماری خوشی پر رکھا۔ (بخاری، کتاب الصلوۃ۔ باب من رای ان اللہ عزوجل لم یوجب السجود)
Ayahs 16:51–5250 دو خداؤں کا عقیدہ رکھنے والے مجوسی مذہب کا تعارف :۔ عہد نبوی میں ایران میں مجوسی مذہب رائج تھا یہ لوگ سورج پرست اور آتش پرست تھے۔ اپنے آپ کو سیدنا نوح کا پیرو کار بتاتے اور باقی سب نبیوں کے دشمن تھے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق خدا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک خیر اور نور کا خدا جسے وہ یزدان کہتے تھے، دوسرا بدی اور تاریکی کا خدا جسے وہ اہرمن کہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی الہامی کتابوں کا نام زند اور اوستا بتاتے تھے اور اہل عرب ان سے متعارف تھے۔ انھیں لوگوں کے عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دو الٰہ بنانا چھوڑ دو کیونکہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے اور دو خدا آپس میں برابر کی چوٹ ہوتے تو یقیناً ان میں کائنات میں تصرف کے سلسلہ میں جھگڑا ہوجاتا۔ پھر ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ اس طرح یہ نظام کائنات کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ جب تمہیں تجربہ سے معلوم ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ نہ ہی کسی مملکت کے دو حکمران ہوسکتے ہیں۔ پھر اس کائنات میں دو خداؤں کی خدائی کا تصور کیسے درست سمجھا جاسکتا ہے۔
Ayahs 16:53–5451 صرف اللہ تعالیٰ کے حاجت روا اور مشکل کشا ہونے کی یہ صریح شہادت تمہارے اپنے اندر موجود ہے۔ سخت مصیبت کے وقت جب ہر قسم کے سہارے ٹوٹتے نظر آتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے تمہاری اصل فطرت ابھر آتی ہے تو تم خالصتاً اللہ ہی کو پکارتے اور اسی کے سامنے فریاد کرنے لگتے ہو۔ کیونکہ انسان کی اصل فطرت اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو مالک ذی اختیار نہیں جانتی۔
Ayah 16:5552 یعنی مصیبت کے وقت مدد تو اللہ نے کی، تکلیف اسی نے دور کی۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے۔ اسی کی عبادت کرتے۔ اسی کے سامنے اپنی فریادیں پیش کرتے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ مصیبت کا وقت دور ہوجانے کے بعد پھر انھیں اپنے دوسرے معبود یاد آنے لگتے ہیں اور اللہ کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر نمک حرامی کیا ہوسکتی ہے۔ تاہم انھیں دنیا میں فوری سزا نہیں دی جاتی مگر مرتے ہی انھیں سب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 16:5653 یعنی یہ مشرک اپنے صدقات و خیرات میں اللہ کا شریک اور حصہ دار ان چیزوں کو بناتے ہیں جو بےجان بت ہیں یا قبروں میں پڑے ہوئے ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں۔ انھیں یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ کوئی انھیں پکار رہا ہے اور نہ ہی وہ اپنی جگہ سے حرکت کرسکتے ہیں اور اس جملہ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کے متعلق کسی مستند ذریعہ علم سے یہ تحقیق نہیں ہوا ہے کہ اللہ میاں نے واقعی ان معبودوں کو اپنا شریک بنا رکھا ہے اور نظام کائنات کے کچھ کام یا اپنی سلطنت کے کچھ علاقے انھیں سونپ رکھے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ انھیں معبود بنائے رکھنے پر مصر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات میں تصرف کرسکتے اور دوسروں کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پھر چونکہ اپنے ان عقائد کو مذہبی عقیدہ سمجھتے ہوئے ان خرافات کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں لہذا اللہ ان سے ٹھیک طرح نمٹ لے گا اور ان کے اس جرم کی قرار واقعی سزا دے گا۔
Ayahs 16:57–5854 اہل عرب کی دیویاں ان کے مقام اور ان کے پرستار :۔ ہندی، یونانی اور مصری تہذیبوں کی طرح مشرکین عرب کے بھی دیوتا کماوردیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان کی تین مشہور دیویاں، لات، عزیٰ اور منات تھیں۔ لات الٰہ کی مونث ہے۔ عزیٰ عزیز کی اور منات، منان کی۔ لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پرستار تھے۔ عزیٰ قریش مکہ کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں مقام حراص پر واقع تھا۔ چناچہ ابو سفیان سپہ سالار قریش نے احد کے میدان میں جنگ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے اس دیوی کا نعرہ لگایا اور کہا تھا لَنَا عُزّٰی وَلَاعُزّٰی لَکُم اور منات کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحراحمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ، اوس اور خزرج اس دیوی کے پرستار تھے۔ نیز اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتا تھا۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہوجاتے تو وہیں سے منات کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہونے لگتیں اور جو لوگ اس دوسرے حج کی نیت کرلیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے۔ گویا مشرکین عرب دوہرا ظلم ڈھاتے تھے۔ ایک تو ان کو اللہ کا شریک بنانے کا دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں وہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔
55 یعنی ان کے اللہ کے بارے میں یہ مشرکانہ عقائد اس قدر گھٹیا اور گستاخانہ قسم کے تھے کہ خود تو اپنے لیے بیٹیوں کا وجود بھی باعث ننگ و عار سمجھتے تھے۔ محض اس وجہ سے کہ کوئی ان کا داماد بنے گا اور یہ خود اس کے سسر ہوں گے لیکن اللہ کے معاملہ میں دوہرا ظلم ڈھاتے۔ ایک تو اللہ کی اولاد ٹھہراتے تھے اور دوسرے اولاد بھی بیٹیاں۔ گویا اچھی چیز تو اپنے لیے پسند کرتے تھے اور ناقص اللہ کے لیے۔
Ayah 16:5956 لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا :۔ اسی وجہ سے مشرکین عرب میں یہ رواج عام چل نکلا تھا کہ وہ لڑکیوں کے پیدا ہوتے ہی انھیں زندہ درگور کردیتے تھے۔ اَیُمْسِکُہُ عَلٰی ھُوْنٍ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود لوگوں کی نظروں میں ذلیل بنا رہے اور لڑکی کو زندہ رہنے دے اور دوسرا یہ کہ اگر لڑکی کو زندہ رہنے دے تو اسے ایسا ذلیل اور مجبور بنا کر رکھے گویا وہ اس کی اولاد ہی نہیں بلکہ آدمی بھی نہیں۔ بالآخر اسلام نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کیا اور زندہ درگور کرنے کو قتل ناحق قرار دیا اور معاشرہ میں عورت کو اس کا جائز مقام دلایا۔
Ayah 16:6057 یعنی ایسی گھٹیا صفات تو ان ظالموں کی ہی ہوسکتی ہیں جن کا روز آخرت پر ایمان ہی نہ ہو۔ نہ انھیں یہ معلوم ہے کہ ان کی ایسی ذلیل حرکتوں کی انھیں عبرتناک سزا ملنے والی ہے۔ رہی اللہ کی ذات تو وہ اولاد ہی سے بےنیاز ہے۔ اللہ کی ذات ان کے تصور سے بھی بلند تر اور ماورا ہے اور اس کے لیے ایسی مثالیں اور صفات ثابت کی جاسکتی ہیں جو اعلیٰ سے اعلیٰ اور ہر بلند چیز سے بلند تر ہوں۔
Ayah 16:6158 ظالموں اور مشرکوں کو نیست ونابود کرنا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے :۔ عذاب کی جو بھی صورت ہو وہ بالآخر تمام مخلوق کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ ایک معمولی سی مثال یہ لیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ بارش برسانا بند کردے۔ تو انسان کو پانی پینے کو ملے نہ حیوانات کو، نہ سبزی اور گھاس وغیرہ اگیں اور نہ پھلدار درخت اور چند ہی دنوں میں تمام مخلوق بھوک سے مرجائے اور دنیا ویران اور سنسان بن جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جتنے مشرک اور ظالم قسم کے انسان ہیں صرف انہی پر اللہ کا قہر نازل ہو اور باقی صرف نیک لوگ رہ جائیں۔ زمین میں ایسی آبادی بھی اللہ کی مشیئت نہیں اور ایسی مخلوق جو نیک ہی ہوں وہ تو پہلے سے ہی فرشتوں کی صورت میں موجود تھی اللہ نے تو اس دنیا کو امتحان گاہ بنانا اور اسے آباد رکھنا ہے اور اس کی واحد صورت یہی ہے کہ اس دنیا میں نیک و بد دونوں قسم کے لوگ موجود رہیں۔ معرکہ حق و باطل ہوتا رہے اور ان کی آزمائش کا عمل جاری رہے۔ لہذا مجرموں کو فوری طور پر سزا دے کر ہلاک کردینا اللہ کے دستور اور حکمت کے خلاف ہے۔
Ayah 16:6259 مشرک مکروہ باتیں اللہ کے لئے تجویز کرتے ہیں :۔ یہ مشرک اپنے لیے بیٹیوں کے وجود کو باعث ننگ و عار سمجھتے ہیں مگر اللہ کے لیے وہی تجویز کرتے ہیں۔ خود یہ برداشت نہیں کرتے کہ ان کی جائیداد یا مال و دولت میں کوئی اجنبی آکر شریک ہوجائے لیکن اللہ کی کائنات میں اس کے شریک بنانا پسند کرتے ہیں۔ خود یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کا مذاق اڑایا جائے مگر اللہ کی آیات کا مذاق اڑا کر خوش ہوتے ہیں۔ کرتوت تو ان کے یہ ہیں اور زبانی دعوے یہ ہیں کہ اللہ ان پر مہربان ہے تبھی تو اس نے ہمیں خوشحال بنایا ہے اور اگر قیامت قائم ہوئی بھی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس وقت ہم پر مہربان نہ ہو۔ لہذا ہمارے لیے یہاں دنیا میں بھلائی ہے اور آخرت میں بھی بھلائی ہی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ لوگ جھوٹ بکتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دوزخ کی آگ ایسے لوگوں کی انتظار میں ہے اور سب سے پہلے یہی لوگ اس کا لقمہ بنیں گے۔ اور کچھ مشرک جو آخرت کا بھی موہوم سا اعتقاد رکھتے تھے، دعویٰ سے کہتے تھے کہ ہم ان فرشتوں یا اللہ کی بیٹیوں کی اس لیے پوجا کرتے ہیں کہ یہ ہمارے وسیلے ہیں لہذا آخرت میں ہمارے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے۔ جس کا اللہ نے یوں جواب دیا۔
Ayah 16:6360 پہلے رسولوں کی امتوں کو بھی یہی کچھ سوجھتا رہا۔ وہ بھی دنیا کی دل فریبیوں اور دلچسپیوں میں مگن اور مست ہوگئے اور شیطان انھیں بھی یہی پٹی پڑھاتا رہا کہ تمہارا پروردگار اس وقت تم پر بڑا مہربان ہے لیکن بالآخر وہ اللہ کی گرفت میں آگئے اور ان کا نام و نشان بھی صفحہ ئہستی سے مٹ گیا۔ اور آج شیطان ان مکہ کے کافروں کو یہی کچھ سجھا رہا ہے اور جو کچھ یہ ظلم اور زیادتیاں مسلمانوں سے کر رہے ہیں، انھیں نہایت اچھے کام بناکر ان کا جی خوش کر رہا ہے لیکن انجام ان کا بھی وہی ہونے والا ہے جو پہلے لوگوں کا ہوا تھا۔ اس آیت میں الیوم سے مراد قیامت کا دن بھی لیا جاسکتا ہے۔ یعنی قیامت کے دن بھی شیطان ہی ان کا لیڈر ہوگا جو انھیں جہنم کے دردناک عذاب میں جاپہنچائے گا۔
Ayah 16:6461 اختلافات کا خاتمہ کیسے ممکن ہے ؟ کفار مکہ سے اختلاف یہ تھے کہ آیا اللہ اکیلا ہی الٰہ ہے یا اس کے ساتھ دوسرے الٰہ بھی ہونا ضروری ہیں۔ قیامت قائم ہوگی یا یہ محض ایک وہم ہے فلاں حلال چیز کو اللہ نے حرام کیا ہے یا دوسروں نے یا فلاں حرام چیز کو کس نے حلال بنایا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ اور قرآن اس لیے اتارا گیا کہ ایسے سب مسائل کو وضاحت اور تحقیق کے ساتھ بیان کر دے تاکہ کچھ اشکال یا اشتباہ باقی نہ رہے اور رسول اللہ کا یہ کام تھا کہ آپ ایسی تمام اختلافی باتوں کا دو ٹوک فیصلہ سنا کر بندوں پر اللہ کی حجت قائم کردیں یہ تو دور نبوی کے اختلاف تھے اور آج کے اختلافی مسائل ان مسائل سے کچھ ملتے جلتے بھی ہیں اور کچھ الگ نوعیت کے بھی ہیں۔ تاہم ان کا بھی علاج وہی ہے جو کفار مکہ کے لیے تجویز کیا گیا تھا یعنی کتاب و سنت کو اگر مستحکم بنیاد قرار دے دیا جائے تو آج بھی اختلافی مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور فرقوں میں بٹی ہوئی امت متحد ہوسکتی ہے۔ لہذا یہ قرآن اور اللہ کا رسول یا اس کی سنت ہر دور کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث بن سکتے ہیں بشرطیکہ لوگ انھیں حکم تسلیم کرلیں اور ایسے ایمان لائیں جیسے ایمان لانے کا حق ہے۔
Ayah 16:6562 بارش سے روئیدگی اور بعث بعد الموت پر ثبوت :۔ زمین خشک اور بالکل بےآب وگیاہ پڑی ہوتی ہے مگر برسات کے موسم میں ہر طرف جڑی بوٹیاں گھاس، درخت اور پودے وغیرہ از خود پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جن کے بیج وغیرہ مدتوں پہلے زمین میں دبے ہوئے تھے۔ پھر اس موسم میں مینڈک اور کئی قسم کے ایسے حشرات الارض بھی پیدا ہوجاتے ہیں جن کا پہلے نام و نشان تک مٹ چکا تھا اور موسم کی شدت نے اس نوع کا کلیتاً خاتمہ کردیا تھا۔ مگر برسات کے موسم میں وہ بھی از سر نو پیدا ہوجاتے ہیں اور یہ منظر تم اپنی زندگی میں بار بار دیکھتے رہتے ہو۔ بالکل ایسی ہی صورت حال انسان کی دوبارہ پیدائش کی ہوگی۔ جب دوسری بار صور میں پھونکا جائے گا تو اس کی حیثیت بالکل وہی ہوگی جیسے نباتات کے لیے اور حشرات الارض کے لیے بارش اور موسم برسات کی ہے۔ انسان کا جسم خواہ مٹی میں مل کر مٹی بن چکا ہو۔ اس نفخہ صور ثانی یا روحانی قسم کی بارش سے سب دوبارہ جی اٹھیں گے۔
Ayah 16:6663 دودھ کی پیدائش میں اللہ کی قدرتیں :۔ فرث کا اطلاق صرف اس قسم کی لید یا گوبر پر ہوتا ہے جو پیٹ یا معدہ میں موجود ہو اور جب مقعد کے راستہ گوبر وغیرہ کی صورت میں نکل آئے تو وہ فرث نہیں ہے بلکہ اسے روث کہتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانی کے بعد دوسری بڑی مشروب نعمت دودھ کا ذکر فرمایا۔ دودھ کی پیدائش حیرت انگیز طریقے سے مادہ کے پیٹ میں ہوتی ہے۔ اسی طرف اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے۔ اس میں ایک تو اللہ کی قدرت یہ ہے کہ ایک ہی جنس کے نر ہوں یا مادہ۔ دونوں ایک جیسی خوراک کھاتے ہیں۔ اس خوراک میں سے کام کی چیز جس سے انسان کی زندگی قائم رہتی ہے خون بنتا ہے۔ باقی فضلہ مقعد وغیرہ کے راستہ خارج ہوجاتا ہے لیکن مادہ میں اسی ایک ہی خوراک سے ایک تیسری چیز دودھ بھی بنتا ہے اور وہ صرف مادہ میں ہی بنتا ہے نر میں نہیں بنتا۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ خون اور گوبر جیسی دو حرام اور گندی چیزوں سے تیسری چیز دودھ جو حاصل ہوتا ہے وہ حلال، نہایت سفید، خوش رنگ، پاکیزہ، خوشگوار اور مزیدار ہوتا ہے پھر یہ محض ایک مشروب ہی نہیں بلکہ انسانی جسم کی تربیت کے لیے مکمل غذا کا کام دیتا ہے۔ یہ صرف پیاس کو نہیں بجھاتا بلکہ بھوک بھی مٹا دیتا ہے۔ اور شیردار جانور کے بچوں کی ابتدائی تربیت اسی دودھ پر ہی ہوتی ہے۔ پھر مویشیوں کے پیٹ میں یہ دودھ اس قدر افراط سے پیدا ہوتا ہے کہ ان کے بچوں کی تربیت کے بعد مویشیوں کے مالکوں کو بھی خاصی مقدار میں دودھ حاصل ہوجاتا ہے۔
دودھ پلانے والی مادہ کے جسم میں دودھ تیار کرنے والے اعضاء تو اس کی بلوغت کے وقت نمودار ہوجاتے ہیں جنہیں عرف عام میں پستان کہا جاتا ہے۔ اور دودھ کے بننے کے بارے میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مادہ کے پستان یا دودھ بنانے والی یہ مشینری صرف اس وقت اپنا کام شروع کرتی ہے جب مادہ کو حمل قرار پا جاتا ہے۔ اس سے پہلے اگرچہ پستان موجود ہوتے ہیں مگر وہ کوئی کام نہیں کرتے اور جب حمل قرار پاتا ہے تو یہ مشینری اپنے فطری کام کا آغاز کردیتی ہے۔ حتیٰ کہ بچہ کی پیدائش تک مادہ کا خون دودھ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور نوزائیدہ بچہ کو بروقت اللہ تعالیٰ اس کی خوراک مہیا کردیتا ہے اور بچہ کو دودھ پینے کا سلیقہ بھی سکھا دیتا ہے۔ اور یہ کام کچھ اس انداز سے سرانجام پاتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرتوں، حکمتوں اور مصلحتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
Ayah 16:6764 مکی دور میں شراب کی ناپسندیدگی پر اشارہ :۔ چار قسم کے مشروب ہیں جو اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں اور یہ مشروب انسان کو اللہ نے اس دنیا میں عطا فرمائے ہیں اور اہل جنت کو جنت میں بھی بافراط عطا فرمائے گا۔ ایک پانی، دوسرے دودھ، تیسرے شراب چوتھے شہد (47: 15) ان میں سے دو کا ذکر پہلی دو آیات میں گزر چکا ہے۔ اس آیت میں شراب کا ذکر اور اس سے بعد کی آیت میں شہد کا۔
اس آیت میں کھجور اور انگور کا ذکر اس لیے ہوا کہ یہی پھل عرب میں زیادہ تر پائے جاتے تھے ورنہ اور بھی کئی قسم کے پھلوں اور غلوں سے شراب کشید کی جاتی ہے اور جن چیزوں سے یہ شراب تیار کی جاتی ہے خواہ پھل ہوں یا غلے ہوں۔ سب پاکیزہ قسم کا رزق ہے اور عمدہ رزق سے مراد پھلوں کا رس یا جوس یا شکر یا شیرہ یا نبیذ یا ملک شیک و سرکہ، کشمش، منقہ، اور چھوہارے جن سے شراب بنتی ہے اور یہ سب چیزیں انسان کی تربیت اور صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں علاوہ ازیں خوشگوار اور مزیدار بھی ہیں۔ مگر جب اسی رس میں سڑانڈ پیدا ہوجاتی ہے اور وہ الکوحل کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو اس میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے جس کے پینے سے انسان بدمست ہوجاتا ہے۔ لہذا یہ عمدہ رزق نہ رہا۔ یہ بات ملحوظ رکھنا چاہیے کہ یہ سورت مکی ہے اور شراب مدنی دور میں حرام ہوئی تھی۔ مکی دور میں اگرچہ شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ تاہم اسے عمدہ رزق سے خارج کردیا گیا۔ جس میں یہ اشارہ پایا جاتا تھا کہ یہ کسی وقت حرام قرار دے دی جائے گی۔
اور اہل جنت کو جو شراب مہیا کی جائے گی اس میں سے اس کے مضر پہلو کو ختم کردیا جائے گا یعنی جنتی لوگ شراب پئیں گے تو نہ ان کا سر چکرائے گا، نہ مستی پیدا ہوگی نہ کوئی لغو باتیں کریں گے اور نہ ان کی عقل مستور ہوگی اور یہی وہ نقصانات ہیں جن کی وجہ سے شراب کو اس دنیا میں حرام قرار دیا گیا ہے۔
اور ان چیزوں میں نشانی یہ ہے کہ ایک ہی چیز میں وہ مادہ بھی موجود ہے جو انسان کے لیے حیات بخش غذا بن سکتا ہے اور وہ مادہ بھی موجود ہے جو سڑ کر نشہ آور شراب یا الکوحل میں تبدیل ہوجاتا ہے اب یہ انسان کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ ان سرچشموں سے پاک رزق حاصل کرتا ہے یا عقل کو زائل کردینے والی شراب کا۔
Ayah 16:6865 نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں جو عام مکھی یعنی ذباب سے بڑی ہوتی ہے اور اس سورة کا نام النحل اسی نسبت سے ہے کہ صرف اسی سورت میں نحل کا ذکر آیا ہے اور اس مکھی کی طرف وحی کرنے سے مراد فطری اشارہ یا تعلیم ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی جبلت میں ودیعت کر رکھی ہے جیسے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے تاکہ وہاں سے اپنے لیے غذا حاصل کرسکے حالانکہ اس وقت اسے کسی بات کی سمجھ نہیں ہوتی۔
66 یہ اسی فطری وحی کا اثر ہے کہ وہ اپنے لیے ایسا چھتا یا اپنا گھر بناتی ہے جسے انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی ماہر انجینئر نے اس کی ڈیزائننگ کی ہے۔ اس چھتے کا ہر خانہ چھ پہلو والا یعنی مسدس ہوتا ہے جس کے تمام ضلعے مساوی لمبائی کے ہوتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے سے متصل یا جڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان میں کہیں خالی جگہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ انھیں خانوں میں مکھیاں شہد کا ذخیرہ کرتی ہیں اور بیرونی خانوں پر پہرہ دار مکھیاں ہوتی ہیں۔ جو اجنبی مکھیوں یا کیڑوں کو ان خانوں میں گھسنے نہیں دیتیں۔
Ayah 16:6967 شہد کے چھتے اور مکھیوں میں نظم وضبط :۔ ایک مکھی ان مکھیوں کی سردار یا ان کی ملکہ ہوتی ہے جسے عربی میں یعسوب کہتے ہیں۔ باقی سب مکھیاں اس کی تابع فرمان ہوتی ہیں مکھیاں اسی کے حکم سے رزق کی تلاش میں نکلتی ہیں اور اگر وہ ان کے ہمراہ چلے تو سب اس کی پوری حفاظت کرتی ہیں اور ان میں ایسا نظم و ضبط پایا جاتا ہے جسے دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اتنے چھوٹے سے جاندار میں اتنی عقل اور سمجھ کہاں سے آگئی۔ مکھیاں تلاش معاش میں اڑتی اڑتی دوردراز جگہوں پر جا پہنچتی ہیں اور مختلف رنگ کے پھلوں، پھولوں اور میٹھی چیزوں پر بیٹھ کر ان کا رس چوستی ہیں۔ پھر یہی رس اپنے چھتہ کے خانوں میں لاکر ذخیرہ کرتی رہتی ہیں اور اتنی سمجھدار ہوتی ہیں کہ واپسی پر اپنے گھر کا راستہ نہیں بھولتیں۔ راستے میں خواہ ایسے کئی چھتے موجود ہوں وہ اپنے ہی چھتہ یا گھر پہنچیں گی۔ گویا ان مکھیوں کا نظم و ضبط، پیہم آمدورفت، ایک خاص قسم کا گھر تیار کرنا، پھر باقاعدگی کے ساتھ اس میں شہد کو ذخیرہ کرتے جانا، یہ سب راہیں اللہ نے مکھی کے لیے اس طرح ہموار کردی ہیں کہ اسے کبھی سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا 69) 16 ۔ النحل :69) اور ذلول کا معنی کسی چیز کا اپنی سرکشی کی خو کو چھوڑ کر خوشی سے اطاعت پر آمادہ ہوجانا، مطیع و منقاد ہوجانا یا رام اور مسخر ہوجانا ہے اور ذُلُلاً کو اگر راہوں کی صفت تسلیم کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ مکھی کے لیے یہ راہیں خواہ کس قدر دور دراز ہوں یا پر پیچ ہوں وہ سب راہیں اللہ نے اس کے لیے نرم اور آسان بنادی ہیں۔ اور اگر اس لفظ کو مکھی کی صفت قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوتا کہ جو طور طریقے تیرے لیے اللہ نے مقرر کر رکھے ہیں برضاء ورغبت ان پر عمل پیرارہ۔ اور بعض اس کا یہ مطلب بتاتے ہیں کہ چھتہ کے خانوں تک پہنچنے کے لیے چھتہ پر پہنچ کر اپنے پروں کو سمیٹ لے۔ پھر شہد رکھنے کے بعد اسی طرح پر سمیٹے ہوئے چھتہ سے باہر نکل آ۔
68 شہد میں شفا اور دوسری خصوصیات :۔ شہد کے کئی رنگ ہوتے ہیں۔ زرد، سفیدی مائل یا سرخی مائل یا سیاہی مائل۔ اور ان رنگوں کے بھی مختلف اسباب ہوتے ہیں۔ تاہم ہر قسم کے شہد میں چند مشترکہ خواص ہیں۔ سب سے اہم خاصیت یہ ہے کہ بہت سی بیماریوں کے لیے شفا کا حکم رکھتا ہے الا یہ کہ مریض خود سوء مزاج کا شکار نہ ہو جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔
1۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ کے پاس آکر کہنے لگے میرے بھائی کا پیٹ خراب ہے آپ نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ وہ دوبارہ آکر کہنے لگا یارسول اللہ ! شہد پلانے سے تو اس کا پیٹ اور خراب ہوگیا آپ نے فرمایا اللہ کا قول سچا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ جاؤ اسے پھر شہد پلاؤ اور تیسری بار آیا اور کہنے لگا میں نے شہد پلایا لیکن اسے اور زیادہ پاخانے لگ گئے ہیں آپ نے پھر فرمایا اللہ نے سچ کہا اور تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ کہا اس نے پھر شہد پلایا تو وہ تندرست ہوگیا۔ (بخاری، کتاب الطب۔ باب الدواء بالعسل)
2۔ نیز عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تین چیزوں میں شفاء ہے۔ شہد پینے میں، پچھنے لگانے میں اور آگ سے داغ دینے میں مگر میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔ (بخاری، کتاب الطب، باب الشفاء فی ثلاثۃ)
اللہ تعالیٰ کے محیر العقول کارنامے :۔ شہد کی دوسری اہم خاصیت یہ ہے کہ جو اشیاء شہد میں رکھی جائیں وہ بڑی مدت تک اس میں برقرار و بحال رہتی ہیں اور اگر ادویہ ڈالی جائیں تو ان کا اثر حتیٰ کہ ان کی خوشبو بھی طویل عرصہ تک برقرار رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ اطباء ادویہ کو کوٹ چھان کر ان میں چینی کے بجائے شہد ملا کر معجونیں وغیرہ تیار کرتے ہیں جس سے سہہ گنا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ مٹھاس کی جگہ کام دیتی ہے۔ دوسرے ادویہ کے اثر کو تادیر محفوظ رکھتی ہے اور تیسرے شہد بذات خود بھی اکثر امراض کا علاج ہے اور اس لحاظ سے دواؤں کی تاثیر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ شہد کی مکھی بذات خود ایک زہریلا جانور ہے انسان کو ڈس جائے تو اس کی جلد متورم اور اس میں سخت سوزش پیدا ہوجاتی ہے اسی ذریعہ سے وہ اپنے چھتہ کی حفاظت کرنا خوب جانتی ہے جو لوگ چھتہ اتارنے کے فن میں ماہر ہوتے ہیں وہ جسم کو کپڑوں سے خوب لپیٹ کر اور جسم پر کئی طرح کی دوائیں مل کر چھتہ کو ہاتھ لگاتے ہیں اور جب چھتہ کو چھیڑنے کا (کاٹنے کا) وقت ہوتا ہے تو پہلے نیچے سے دھونی دیتے ہیں تاکہ مکھیاں اڑ کر دور چلی جائیں۔ بایں ہمہ مکھیاں مل کر اس شخص پر حملہ آور ہوتی ہیں لیکن اللہ نے چونکہ انسان کو اتنی عقل دی ہے کہ سب جانوروں کو رام کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ لہذا وہ چھتہ اتار کر شہد حاصل کرلیتا ہے گویا ایسے زیریلے جانور کے اندر سے نکلا ہوا شہد انسان کی اکثر بیماریوں کے لیے شفا کا حکم رکھتا ہے نیز اس کے لیے ایک شیریں اور لذیذ غذا کا کام بھی دیتا ہے۔
مندرجہ بالا مشروبات کا ذکر محض اس لیے نہیں کیا کہ انسان کو بتایا جائے کہ اللہ نے اس کے لیے کس قدر لذیذ اور مفید اشیاء پیدا کی ہیں۔ بلکہ ان کے بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ نے جو پھل یا مویشی یا جاندار پیدا کیے ہیں۔ ان سب کے ماحصل سے انسان ہی فائدہ اٹھاتا ہے۔ پھر اللہ کی ان معجز نما قدرتوں میں بھی غور و فکر کرے کہ یہ مویشی یا مکھیاں وغیرہ جن محیر العقول طریقوں سے انسان کو یہ چیزیں فراہم کرتی ہیں ان میں انسان کے غور و فکر کے لیے بڑا وسیع میدان موجود ہے۔ پھر وہ یہ بھی سوچے کہ اللہ کے سوا ان چیزوں کو کوئی اور بنا سکتا ہے یا ان کی جبلت میں فطری تعلیم ودیعت کرسکتا ہے۔ اور اگر ان باتوں کا جواب نفی میں ہو تو پھر اس کا شریک بنانے یا انھیں شریک تسلیم کرنے کی ضرورت ہی کہاں پیش آتی ہے ؟
Ayah 16:7069 کوئی مخلوق اپنی مقررہ حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی :۔ ان خارجی مثالوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کی اپنی مثال پیش کی۔ کہ پہلے وہ بچہ ہوتا ہے اپنی تربیت کے لیے خوراک کھاتا ہے جس سے اس کا قد بھی بڑھتا ہے، ہمت بھی بڑھتی ہے، عقل اور علم میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے جو ایک مخصوص حد تک جاکر رک جاتا ہے اس کے بعد انسان وہی غذائیں کھاتا ہے جو پہلے کھاتا تھا مگر اس کے اثرات بالکل برعکس برآمد ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کے جسم میں طاقت کے بجائے کمزوری واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے عقل بہت کم ہونے لگتی ہے۔ یادداشت کمزور ہوتی جاتی ہے حتیٰ کہ پہلے کی سیکھی ہوئی باتیں بھی بھولنے لگتا ہے۔ اعضاء مضمحل ہونے لگتے ہیں اور قد بڑا ہونے کے باوجود بچوں کی سی باتیں، بچوں کی سی ضدیں اور بچوں کی سی حرکات کرنے لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اسے تن بدن کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ حالانکہ غذا وہی کھاتا ہے جو بچپن میں کھایا کرتا تھا یا اس سے بھی اچھی غذائیں کھاتا ہے پھر اسے موت کا کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑتا ہے۔
اَرذل العمر سے پناہ :۔ انسان نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یا اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسی قادر اور حکیم ہستی موجود ہے جو اپنی منشا کے مطابق انسان پر ایسے تغیرات وارد کرتی اور کرسکتی ہے اور اللہ کے سوا کوئی ایسا الٰہ نہیں جو ان تغیرات کو روک سکتا ہو۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو اس ارذل العمر میں بھی انسان کو ایسی ذلت سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ چناچہ رسول اللہ ایسی زندگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب التفسیر) اور ایسی عمر سے بچاؤ کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ایسا وقت آنے سے پہلے ہی موت دے دے۔ دوسرے یہ کہ ایسا وقت آنے پر بھی تندرست اور حواس کو برقرار رکھے اور اللہ ان دونوں باتوں پر قادر ہے
Ayah 16:7170 شرک اللہ سے بےانصافی اور ناشکری ہے :۔ یہ خطاب مشرکوں سے ہے اور شرک کی تردید میں ایک عام فہم دلیل پیش کی گئی ہے یعنی تم میں سے ایک شخص صاحب مال و جائداد ہے اور اس کے کئی غلام بھی ہیں تو کیا وہ یہ گوارا کرے گا کہ اپنی ساری دولت اور جائداد اپنے غلاموں میں اس طرح تقسیم کردے کہ اس کا اپنا حصہ بھی ہر غلام کے برابر ہوجائے ؟ ظاہر ہے کہ کوئی مالک ایسا کام گوارا نہیں کرسکتا پھر اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ جب تم لوگ اپنے لیے ایسی برابری برداشت کرنے کو تیار نہیں تو کیا اللہ ایسی برابری برداشت کرسکتا ہے ؟ جو ہر چیز کا مالک و مختار ہے اس نے تم کو یہ سب نعمتیں عطا فرمائیں۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ تم اسی کا شکریہ ادا کرتے اور اسی کی بندگی کرتے لیکن اس معاملہ میں تم لوگوں نے جو اللہ کے مملوک اور غلاموں کو اللہ کے ساتھ برابر کا شریک بنادیا ہے تو کیا اس سے بڑھ کر بھی اللہ کے ساتھ بےانصافی، اس کی احسان ناشناسی اور اس کی نعمتوں کا انکار ہوسکتا ہے ؟
مخلوق اور مملوک کبھی شریک نہیں بن سکتے :۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر کوئی مالک اپنے غلام کو کسی چیز کا مالک یا اس میں تصرف کا اختیار دے بھی دے۔ تو یہ سب کچھ عارضی طور پر ہوگا۔ حقیقتاً ان چیزوں کا مالک بھی اصل مالک ہی ہوگا۔ اسی لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ حقیقتاً ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ہمارا کسی چیز کا مالک ہونا یا اس میں تصرف کا اختیار ہونا محض چند روزہ یا عارضی ہے اس سے ایک اہم نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مملوک ہونا اور شراکت دو چیزیں جمع نہیں ہوسکتیں۔ یعنی جو غلام ہے وہ شریک نہیں بن سکتا۔ غلام کو مالک بنانے کی صرف یہ صورت ممکن ہے کہ اسے پہلے آزاد کردیا جائے۔ اب وہ مالک تو بن جائے گا لیکن غلام نہ رہا۔ لامحالہ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ چونکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ومملوک ہے لہذا وہ صفات الوہیت میں اس کی شریک نہیں بن سکتی۔
اشتراکیت کا رد :۔ بعض اشتراکیت پسند حضرات نے اس آیت کا غلط مطلب لے کر بڑا اوٹ پٹانگ سانتیجہ اخذ کیا ہے ان حضرات کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ تم میں سے امیر ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنا مال و دولت اپنے غلاموں میں بانٹ کر سب برابر ہوجائیں اور اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ کی نعمت کے منکر قرار پاؤ گے اور اس طرح اشتراکیت یا کمیونزم کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اب ظاہر ہے کہ سیاق وسباق قطع نظر کرتے ہوئے درمیان میں سے ایک آیت لے کر اس سے اپنے نظریہ کے مطابق مطلب کشید کرنا بدترین قسم کی تحریف معنوی ہے۔ اس آیت سے پہلے بھی توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کا بیان چل رہا ہے۔ اس آیت میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے اور بعد کی آیات میں بھی یہی مضمون آرہا ہے۔ لہذا درمیان میں اس آیت کو اس کے اصل مفہوم سے جدا کرکے دور حاضر کے ایک باطل فلسفہ معیشت پر چسپاں کرنا انتہائی غیر معقول بات ہے۔ پھر یہ معنی اس لحاظ سے بھی غلط ہیں کہ اس آیت میں غلاموں کا ذکر ہے غریب طبقہ کا ذکر نہیں۔ جسے اشتراکیت پسند اپنی مطلب برآری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
Ayah 16:7271 انسان اور اس کی نوع کی بقا کے اسباب :۔ تمہارے بقائے نوع کے اسباب بھی اللہ نے مہیا کیے اور تمہاری اپنی زندگی کی بقا کے اسباب بھی اسی نے پیدا کیے۔ پھر بھی مشرک اپنے معبودان باطل کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ فلاں کی کرم نوازی سے بیٹا پیدا ہوا اور فلاں آستانے پر جانے سے شفا نصیب ہوئی وغیر ذلک من الخرافات
Ayah 16:7372 ان کے معبود نہ تو بارش برسانے پر قادر ہیں نہ زمین سے غلے اور پھلدار درخت پیدا کرنے پر، نہ ہی وہ یہ بتاسکتے ہیں کہ زمین میں کون کون سے خزانے موجود ہیں اور وہ کون کون سے مقامات پر موجود ہیں، نہ وہ ان باتوں پر آج قدرت رکھتے ہیں اور نہ آئندہ کبھی قادر ہوسکیں گے یعنی تمہاری زندگی اور تمہاری نوع کی بقا کے اسباب تو صرف اللہ مہیا کرے اور اس کی بندگی میں تم اوروں کو بھی شریک بنا لو۔ یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے۔
Ayah 16:7473 زیادہ خداؤں کی ضرورت کا نظریہ :۔ چونکہ مشرکوں کا اللہ کی ذات کے متعلق تصور ہی غلط ہے اس لیے وہ اللہ کے متعلق جو مثال بھی چسپاں کرتے ہیں حقیقت کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ اللہ کو بھی دنیا کے بادشاہوں یا راجوں، مہاراجوں کی طرح سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے اس لیے وہ اللہ کے متعلق ٹھیک مثال بیان کر ہی نہیں سکتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کو اپنے وزیروں اور امیروں کی بات سننا پڑتی ہے۔ کیونکہ انھیں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں میرے خلاف نہ ہوجائیں اور بغاوت یا کوئی دوسرا فتنہ نہ کھڑا کردیں۔ اسی طرح انبیائ، اولیائ، بزرگ، اوتار اور ٹھاکر اور ہمارے یہ معبود اللہ کی درگاہ میں ایسے دخیل ہیں کہ اللہ میاں کو ان کی سفارش ضرور سننا پڑتی ہے اور اگر قیامت ہوئی بھی تو یہ ہمیں اللہ سے بچا لیں گے۔ انکا دوسرا تصور یا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بادشاہ اپنے سارے کام خود نہیں کرسکتے اور نہ سب لوگوں کی فریادیں سن سکتے ہیں۔ لہذا انھیں امیروں، وزیروں اور دوسرے بیشمار کارندوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اللہ میاں کو اپنے مقربین کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کی فریادیں اس کے حضور پہنچا دیں اور پھر انہی کی وساطت سے فریادی کو کوئی جواب ملے۔ اسی طرح اگر اللہ سے مال و دولت یا اولاد یا کوئی دوسری بھلائی مانگنا ہو تو ان مقربین کا واسطہ ضروری ہے۔ یہی وہ گمراہ کن عقائد ہیں جو مشرکوں نے اپنی دنیوی اغراض کی بنا پر گھڑ رکھے ہیں۔ یہی عقائد شرک کی اکثر اقسام کی بنیاد ہیں۔ اور قرآن میں جابجا ان کی تردید مذکور ہے۔ اور انتباہ یہ کیا گیا ہے کہ جب تم اللہ کی حقیقت کو جان ہی نہیں سکتے تو اس کے متعلق غلط تصورات مت قائم کیا کرو اور نہ ہی اس کی مثالیں دیاکرو۔
Ayah 16:7574 اب مشرکوں کی غلط مثالوں کے بجائے اللہ ایک ٹھیک مثال بیان کرتا ہے جو معمولی عقل والے آدمی کی بھی سمجھ میں آسکتی ہے۔ اور اس مثال میں شرک کی ایک نئے انداز میں تردید بیان کی گئی ہے۔ مثلاً ایک شخص خود غلام ہے اس کی اپنی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور مالک کی چیز میں وہ تصرف کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر وہ کچھ خرچ کرنا چاہے بھی تو کر نہیں سکتا کیونکہ وہ مجبور محض ہے۔ اب اس کے مقابلے ایک دوسرا شخص ہے جو آزاد ہے۔ خود مختار ہے، لمبے چوڑے مال و دولت اور جائداد کا مالک بھی ہے۔ اسے اس مال و دولت کو خرچ کرنے کا مکمل اختیار بھی ہے اور وہ ہر وقت پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتا ہی رہتا ہے۔ تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ یعنی ایک طرف معبودان باطل ہیں جو خود مخلوق و مملوک اور غلام ہیں۔ جن کے اپنے پاس کچھ ہے ہی نہیں۔ اور اگر جاندار ہیں جو اپنی ایک ایک ضرورت کے لیے محتاج ہیں۔ دوسری طرف اللہ کی ذات ہے جو مختار کل بھی ہے، زمین و آسمان کے خزانے بھی اس کے پاس ہیں اور وہ انھیں ہر وقت خرچ بھی کرتا رہتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اور مشرکوں کے معبود دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟
75 شرک کی تردید مملوک سے سوال کرنے کی مثال :۔ مشرکوں سے جو سوال کیا گیا ہے اس کے جواب میں وہ یہ تو کہہ ہی نہیں سکتے کہ ہاں دونوں برابر ہوسکتے ہیں اب اگر وہ کہیں کہ نہیں ہوسکتے تو گویا مجرم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا اور اگر خاموش رہیں یا کوئی جواب بن نہ پڑے تو یہ ان کے عجز اور دلیل نہ ہونے کا ثبوت ہے۔ گویا دونوں صورتوں میں ان کے شرک کا ابطال ہوگیا اور اللہ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ ہر دو صورت میں الحمدللہ کہئے۔ یعنی اللہ کا شکر ہے کہ کچھ تو ان کے بھی پلے پڑا اور اس عام فہم دلیل سے بات تمہاری سمجھ میں آگئی۔
76 مشرکوں کا اپنا دستور بھی اس کے خلاف ہے :۔ اس سیدھی اور عام فہم بات کو سمجھنے کے باوجود ان کا یہ حال ہے کہ اپنے ہمسایہ سے کوئی چیز مانگنا ہو تو مالک مکان سے مانگتے ہیں اس کے غلام سے نہیں مانگتے کیونکہ بااختیار مالک ہوتا ہے غلام نہیں ہوتا۔ لیکن یہی معاملہ جب خالق و مخلوق کے بارے میں پیش آئے تو باختیار خالق کو چھوڑ کر بےاختیار مخلوق کے سامنے دست سوال دراز کرنے لگتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر جہالت اور بےانصافی کیا ہوسکتی ہے۔ ؟
Ayah 16:7677 مشرکوں کی دوسری مثال :۔ پہلی مثال میں اختیار ہونے یا نہ ہونے کا تقابل تھا۔ اس مثال میں صفات کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف ایسا آدمی یا کوئی چیز ہے جو گونگا بہرا بھی ہے اور اپاہج بھی جو نہ چل پھر سکے نہ کوئی کام کرسکے۔ اگر اس کا مالک اسے کوئی کام کرنے کو کہے بھی تو وہ کبھی صحیح کام نہ کرسکے بلکہ الٹا اسے بگاڑ کے رکھ دے اور جہاں کہیں جائے مالک کو اس کے متعلق شکایات ہی سننا پڑیں اور وہ ہر لحاظ سے اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہو۔ دوسری طرف ایسا تندرست اور صحیح الدماغ انسان ہے جو خود بھی راہ راست پر ہے اور دوسروں کو بھی اس عدل و اعتدال کی راہ پر چلنے کا حکم دیتا ہے تو کیا ان کی حالت یکساں ہوسکتی ہے ؟ بعض علماء نے اس مثال کا اطلاق بتوں اور ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ پر کیا ہے۔ اور بعض نے اس کا اطلاق مشرکوں اور ان کے مقابلہ میں مومنوں یا خود رسول اللہ پر کیا ہے۔