15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

ا۔ ل۔ ر یہ اللہ کی کتاب اور اس قرآن کی آیات ہیں جو اپنے احکام واضح طور 1 پر بیان کرنے والا ہے

1 قرآن کیا کچھ واضح کرنے والا ہے ؟ اس کا ایک مطلب اوپر ترجمہ میں مذکور ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن انسان کو تمام تر کیفیات سے آگاہ کرنے والا ہے۔ اس کی پیدائش سے پہلے کے حالات سے بھی، پیدائش سے موت تک کی کیفیات سے بھی اور مرنے کے بعد بھی جو صورت احوال واقع ہونے والی ہے اسے کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے۔
Ayahs 15:2–5

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

ایک وقت 2 آئے گا جب کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

آپ انھیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیجئے کہ کچھ کھالیں، مزے اڑا لیں، اور لمبی چوڑی امیدیں انھیں غافل کئے رکھیں۔ پھر جلد ہی انھیں (سب کچھ) معلوم ہوجائے گا

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

ہم نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا تو اس کے لئے ایک مقررہ مدت لکھی ہوئی تھی

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی قوم اس مقررہ مدت سے پہلے ہلاک نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس مدت کے بعد بچی رہ سکتی ہے

2 کافر کون کون سے وقت مسلمان ہونے کی خواہش کریں گے ؟ ربما تکثیر اور تقلیل دونوں مواقع پر استعمال ہوتا ہے یعنی اس کا معنی بسا اوقات اور اکثر اوقات بھی ہوسکتا ہے اور کبھی کبھی بھی۔ اور اس لفظ کا استعمال بالخصوص اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی سے ہمہ وقت یا اکثر اوقات یاد کرنا متوقع ہو لیکن وہ یاد نہ کرے تو اسے کہتے ہیں کہ کبھی تو ہمیں یاد کرو گے۔ اور اس سے مراد ہر وہ وقت ہوسکتا ہے جب کسی کافر کو اپنی سابقہ زندگی اور اعمال پر حسرت اور ندامت ہو اور اپنے مقابلہ میں مسلمانوں کو عزت اور فلاح و بہبود سے سرفراز ہوتا دیکھے۔ جیسے غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کی خوب پٹائی ہوئی اور مسلمانوں کو عزت اور فتح نصیب ہوئی اور ایسے مواقع بیشمار ہوسکتے ہیں۔ دنیا میں بھی، آخرت میں بھی حتیٰ کہ موت کے وقت بھی۔ جب فرشتے مہیب شکل و صورت میں کافر کی جان نکالنے کے لیے آئیں گے اور ایسی آرزو کا آخری موقع وہ ہوگا جب قیامت کے دن کافر کچھ گنہگار مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ دوزخ میں دیکھ کر کہیں گے۔ تم بھی ہمارے ساتھ دوزخ میں ہو تو تمہارے ایمان اور توحید نے تمہیں کیا فائدہ دیا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ کسی موحد کو جہنم میں نہ رہنے دے گا۔ یہ فرماکر رسول اللہ نے یہی آیت پڑھی گویا یہ آخری موقع ہوگا جب کافر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔
Ayahs 15:6–7

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

کافر یہ کہتے ہیں کہ : اے وہ شخص جس پر یہ قرآن نازل ہوا ہے تو تو دیوانہ 3 ہے

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو پھر ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا ؟

3 قریش کا آپ کو مجنوں کہنا :۔ آپ نے سرداران قریش سے کہا تھا کہ اگر تم میری ایک بات مان لو تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ انہوں نے کہا : ایک کیا ہم آپ کی ایسی دس باتیں بھی ماننے کو تیار ہیں تب آپ نے کلمہ ئتوحید کی دعوت پیش کی۔ اس پر یہ قریشی سردار تلملا اٹھے اور کہنے لگے کہ یہ پیغمبر اور اس کے چند ساتھی عجیب طرح کے خبط اور دیوانگی میں پڑے ہوئے ہیں۔ انھیں کھانے کو ملتا نہیں، مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اسلحہ جنگ نام کو نہیں اور خواب دیکھتے ہیں قیصر و کسریٰ جیسی سپر طاقتوں کو فتح کرنے کے۔ یہ اس پیغمبر کی دیوانگی نہیں تو کیا ہے ؟
Ayah 15:8

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

(حالانکہ) ہم فرشتے صرف حق (فیصلہ) کے وقت ہی 4 اتارتے ہیں۔ پھر اس وقت انھیں مہلت نہیں دی جاتی

4 فرشتے کن کن حالات میں آتے ہیں ؟ ہم فرشتے نہ تو تماشہ دکھانے کے لیے اتارتے ہیں اور نہ اس لیے اتارتے ہیں کہ وہ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کردیں۔ بلکہ فرشتے تو مجرموں پر قہرالٰہی بن کر آتے ہیں۔ جیسے غزوہ بدر میں آئے تھے یا تمہاری جانیں نکالنے کے لیے آتے ہیں یا پھر کسی قوم کو صفحہ ئہستی سے نیست و نابود کرنے کے لیے آتے ہیں۔ پھر جب یہ آجاتے ہیں تو تمہارا کام تمام کرکے چھوڑتے ہیں۔ اس وقت ان کے آنے کی نہ تمہیں آرزو ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے آنے کا تمہیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے نہیں آتے۔ لیکن جب وہ آتے ہیں تو اپنا کام کرکے جاتے ہیں۔ اس وقت مہلت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayahs 15:9–12

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

یقینا ہم نے ہی الذکر اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کے محافظ 5 ہیں

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

آپ سے پہلے ہم نے سابقہ قوموں میں بھی رسول بھیجے تھے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

ہم مجرموں کے دلوں میں ایسی ہی باتیں داخل کردیتے ہیں

5 ذکر اور قرآن کا فرق :۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بجائے ذکر کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا لغوی معنی یاددہانی یا نصیحت ہے۔ اگرچہ صفاتی پہلو سے قرآن کریم کا ایک نام ذکر بھی ہے تاہم یہ دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف نہیں۔ جیسے سورة قمر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17؀) 54 ۔ القمر :17) جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور ذکر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ذکر جب یاد دہانی کے معنوں میں آتا ہے تو اس سے مراد تمام منزل من اللہ وحی ہوتی ہے۔ یعنی کتاب بھی اور وہ بصیرت بھی جو اللہ تعالیٰ کتاب کے بیان کے لیے اپنے رسولوں کو عطا فرماتا ہے۔ اسی بصیرت کو ہم سنت بھی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کی حفاظت کا ہی ذمہ نہیں لیا بلکہ اس کے معانی و مطالب کا بھی ذمہ لے رکھا ہے۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری کس طرح پوری فرمائی ؟ حفاظت قرآن بذریعہ کتابت :۔ حفاظت قرآن کے کئی پہلو ہیں اور یہ حفاظت بذریعہ کتابت بھی کی گئی اور بذریعہ حفظ بھی اور اس حفاظت کا تمام تر کام اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے لیا۔ بذریعہ کتابت قرآن کریم کی حفاظت کے سلسلہ میں درج ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمایئے۔ 1۔ سیدنا زید بن ثابت انصاری ؓ (کاتب وحی) کہتے ہیں کہ جب (11 ھ میں) یمامہ کی لڑائی میں (جو مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی) بہت سے صحابہ شہید ہوگئے تو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے مجھے بلا بھیجا۔ اس وقت سیدنا عمر بھی ان کے پاس موجود تھے۔ میں گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : میرے پاس عمر آئے اور کہا کہ یمامہ کی لڑائی میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر اسی طرح اور لڑائیوں میں بھی مسلمان مارے جائیں تو بہت سا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا۔ اگر قرآن کو ایک جگہ جمع کرلیا جائے تو یہ ڈر نہ رہے گا۔ لہذا آپ قرآن کو جمع کرا دیں اور میں (ابوبکر ؓ نے عمر کو یہ جواب دیا کہ میں وہ کام کیسے کروں جسے رسول اللہ نے نہیں کیا عمر کہنے لگے۔ اللہ کی قسم ! یہ اچھا کام ہے اور بار بار یہی کہتے رہے تاآنکہ اللہ نے میرا سینہ کھول دیا اور میں عمر کی رائے سے متفق ہوگیا سیدنا زید کہتے ہیں کہ عمر خاموشی سے یہ بات سنتے رہے پھر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ مجھے کہنے لگے تم جوان اور عاقل ہو اور ہم تمہیں سچا جانتے ہیں اور دور نبوی میں کاتب وحی رہے ہو تو اب ایسا کرو کہ قرآن (کی جا بجا لکھی ہوئی تحریروں) کو تلاش کرو اور سب کو اکٹھا کردو زید کہتے ہیں کہ اگر ابوبکر صدیق ؓ مجھے پہاڑ ڈھونے کو کہتے تو مجھے اتنا مشکل معلوم نہ ہوتا جتنا قرآن جمع کرنا معلوم ہوا آخر میں نے کہا تم دونوں ایسا کام کرتے ہو جو رسول اللہ نے نہیں کیا ابوبکر صدیق ؓ کہنے لگے اللہ کی قسم ! یہ اچھا کام ہے میں نے ان سے بڑا تکرار کیا تاآنکہ اللہ نے میرا سینہ بھی کھول دیا اور میں نے یہ کام شروع کردیا۔ قرآن کہیں پرچوں پر، کہیں مونڈھے کی ہڈیوں پر، کہیں کھجور کی لکڑیوں پر لکھا ہوا تھا پھر اکثر لوگوں کو یاد بھی تھا۔ یہاں تک کہ میں نے سورة توبہ کی آخری دو آیتیں یعنی (لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 128۔ ) 9 ۔ التوبہ :128) تاآخر، خزیمہ بن ثابت انصاری کے سوار کسی کے ہاں نہ پائیں۔ پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا تھا۔ ابوبکر صدیق ؓ کی زندگی تک ان کے پاس رہا۔ پھر سیدنا عمر کی زندگی تک ان کے پاس رہا۔ ان کی وفات کے بعد ام المومنین سیدہ حفصہ ؓ کو ملا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورة توبہ۔ باب جمع القرآن) 2۔ سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان سیدنا عثمان ؓ کے پاس آئے جن دنوں وہ شام و عراق کے مسلمانوں کے ساتھ آرمینیا اور آذربائیجان فتح کرنے کی خاطر جہاد کر رہے تھے۔ وہ قرآن کی قراءت میں مسلمانوں کے اختلاف سے گھبرائے ہوئے تھے۔ سیدنا عثمان ؓ سے کہنے لگے : امیر المومنین ! اس سے پہلے کہ مسلمان یہود اور نصاریٰ کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، اس امت کی خبر لیجئے۔ چناچہ سیدنا عثمان ؓ نے سیدہ حفصہ ؓ کو لکھ بھیجا کہ ہمیں اپنا مصحف بھیج دیں۔ ہم اس کی نقول تیار کرکے آپ کا مصحف آپ کو واپس کردیں گے چناچہ سیدہ حفصہ ؓ نے بھیج دیا۔ سیدنا عثمان ؓ نے زیدبن ثابت ؓ ، عبداللہ بن زبیر ؓ ، سعید بن عاص ؓ اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام ؓ کو حکم دیا۔ انہوں نے اس کی نقلیں تیار کیں۔ آپ نے یہ ہدایت کردی تھی کہ اگر زید بن ثابت ؓ (انصاری) قرأت کے بارے میں باقی تینوں (قریشی) لوگوں سے اختلاف کریں تو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھنا کیونکہ قرآن انہی کے محاورہ پر اترا ہے۔ جب نقلیں تیار ہوگئیں تو آپ نے سیدہ حفصہ رـضی اللہ عنہا کا مصحف انھیں واپس کردیا اور اس کی ایک نقل ہر مرکزی مقام میں بھجوادی۔ نیز حکم دیا کہ لوگوں کے پاس جو الگ الگ پرچیوں اور اوراق میں لکھا ہوا قرآن موجود ہے اسے جلا دیا جائے۔ (بخاری، کتاب التفسیر۔ باب جمع القرآن) ختحریف لفظی سے بچاؤ کی صورتیں :۔ رسول اللہ نے زبانی حفاظت قرآن پر نسبتاً بہت زیادہ توجہ دی تھی۔ سب سے پہلے تو حافظ قرآن آپ خود تھے۔ جتنا قرآن نازل ہوچکا ہوتا۔ رمضان میں آپ اس کا جبریل سے دور بھی فرمایا کرتے اور اپنی زندگی کے آخری سال آپ نے دو دفعہ دور فرمایا۔ پھر صحابہ کو یاد کرواتے اور ان سے سنتے اور بعض دفعہ سناتے بھی تھے۔ قرآن کریم کے مصاحف لکھنے والے صحابہ کی نسبت قرآن کریم کے حافظوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور حفظ قرآن کا یہ سلسلہ نسلاً بعد نسل آج تک چلا آرہا ہے اور یہ دونوں طریقے ایک دوسرے کی محافظت کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن سے محبت رکھنے والے کچھ ایسے لوگ بھی پیدا کردیئے جنہوں نے قرآن کریم کی آیات، الفاظ حتیٰ کہ حروف اور اعراب تک شمار کر ڈالے۔ نتیجہ یہ کہ نزول قرآن سے لے کر آج تک قرآن کے الفاظ و حروف میں سرموفرق نہیں آیا اور ان حالات میں کمی و بیشی ممکن ہی نہ رہی اور تحریف لفظی کے سب امکانات ختم ہوگئے۔ رسول اللہ نے حفظ قرآن پر جو زیادہ توجہ مبذول فرمائی اس کی وجوہ درج ذیل ہیں : 1۔ حفظ اور کتابت کی خوبیوں کا تقابل :۔ قرآن کریم مکتوبہ شکل میں نہیں بلکہ صوتی انداز میں نازل ہوا جس طرح جبریل نے آپ کو قرآن پڑھایا، اسی انداز میں آپ نے صحابہ کرام ؓ کو سنایا اور حفظ کروایا۔ اسی طریق حفاظت میں نہ کسی مخصوص رسم الخط کی ضرورت تھی۔ نہ حروف کی شکلوں نقاط اعراب وغیرہ کی اور نہ ہی آیات کے ربط میں رموز و اوقاف (Punctuation) وغیرہ کی معلومات کی۔ یہ طریقہ نہایت سادہ اور فطری تھا لہذا اسی پر زیادہ توجہ صرف کی گئی۔ 2۔ اہل عرب کا حافظہ نہایت قوی تھا لیکن لکھے پڑھے لوگ بہت کم تھے اور ان کی تعداد پانچ فیصد سے بھی کم تھی۔ 3۔ تورات جو لکھی ہوئی شکل میں نازل ہوئی تھی صرف پڑھے لکھے طبقے ہی سے مخصوص ہو کر رہ گئی تھی پھر بعد میں آنے والے پڑھے لکھے لوگوں نے ہی اس میں تحریف کر ڈالی۔ 4۔ لکھے ہوئے کو پڑھتے وقت ایک کم لکھا پڑھا آدمی غلطی کرجاتا ہے لیکن حافظ تلاوت کرتے وقت ایسی غلطی نہیں کرتا۔ اب اس کے مقابلہ میں تحریر کے بھی کچھ فوائد ہیں مثلاً 1۔ حافظ قرآن کسی وقت بھی بھول سکتا ہے۔ تحریر موجود ہو تو ایسی بھول کا ازالہ ممکن ہوجاتا ہے۔ 2۔ حافظ کا علم اس کی موت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے جبکہ کتابت بعد میں بھی موجود رہتی ہے اور یہی وہ خوبی ہے جس کی بنا پر قرآن کو جمع کرنا اور ضبط تحریر میں لانا ضروری سمجھا گیا جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث زید بن ثابت انصاری ؓ سے واضح ہے۔ لہذا حفاظت قرآن کے لیے یہ دونوں ہی طریقے لازم و ملزوم سمجھ کر اختیار کیے گئے۔ البتہ افضلیت کا درجہ حفظ ہی کو حاصل رہا اور اس حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے : ( بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ۭ وَمَا يَجْـحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ 49؀) 29 ۔ العنکبوت :49) بلکہ وہ (قرآن) تو واضح آیات ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے اور جہاں اللہ نے کتابت قرآن کا ذکر فرمایا تو وہاں عطیہ علم کا ذکر نہیں فرمایا : ارشاد باری ہے۔ (وَالطُّوْرِِ وَکِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ) 52 ۔ الطور :1) قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو پھیلے ہوئے کاغذ پر لکھی ہوئی ہے۔ شیعہ حضرات اور قرآن کی حفاظت :۔ ان سب باتوں کے باوجود شیعہ حضرات میں سے کچھ لوگ سیدنا عثمان ؓ کو مطعون کرتے ہیں کہ انہوں نے جمع قرآن کے وقت قرآن کی بہت سی آیات اور کئی سورتیں جو اہل بیت کی مدح میں تھیں خارج کردیں اور انھیں قرآن میں شامل نہیں کیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ طعن گو بظاہر سیدنا عثمان ؓ پر ہے لیکن حقیقتاً اس طعن کی زد اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی ذمہ داری پر پڑتی ہے۔ فاعتبروا یا ولی الابصار۔ علاوہ ازیں یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ اس وقت سیدنا علی شیر خدا تو بفضلہ زندہ سلامت موجود تھے انہوں نے سیدنا عثمان ؓ کے اتنے زبردست ارتکاب جرم کو کیسے گوارا کرلیا تھا ؟ ختحریف معنوی سے حفاظت :۔ اس حفاظت ذکر سے متعلق تیسرا پہلو تحریف معنوی کا ہے یعنی اگر الفاظ قرآن کے ساتھ ساتھ مطالب قرآن کی حفاظت نہ ہو تو محض الفاظ کی حفاظت بےسود ہے اور اس صورت میں یہ قرآن ملحدین کی اور دوسرے گمراہ فرقوں کی طبع آزمائی کا تختہ مشق بن سکتا ہے لہذا ضروری تھا کہ قرآن کے جو معنی خود حامل قرآن یا صحابہ کرام نے سمجھے تھے ان کی بھی حفاظت کی جائے تاکہ باطل کسی طریقے سے بھی قرآن میں داخل نہ ہونے پائے اور اگر داخل ہونے کی کوشش کرے تو تحقیق کرکے اسے رد کیا جاسکے۔ اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے محدثین کرام کی جماعت کو پیدا فرمایا۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں اسی مقصد کی خاطر کھپا دیں۔ رسول اللہ کی ہر طرح کی سنت کو محفوظ کردیا۔ جو درحقیقت قرآن کے معانی اور مطالب ہی کی حفاظت ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی حفاظت کا ایسا مضبوط انتظام فرما کر اپنا وعدہ پورا کیا کہ غیر مسلم بھی اس کی مکمل حفاظت کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔
Ayahs 15:13–14

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے، پہلی قوموں کی 6 بھی یہی روش چلی آرہی ہے

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول بھی دیتے جس میں وہ چڑھنے لگ جاتے

6 کافروں کی ایمان نہ لانے کے لئے کٹ حجتیاں :۔ جس طرح منکرین حق اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کبھی آپ پر اختراغ کا الزام لگاتے ہیں کبھی کہتے ہیں یہ محض جادوگری اور جادو بیانی ہے۔ کبھی کسی معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور کبھی فرشتوں کے نزول کا، کبھی بشر ہونے کی بنا پر آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور کبھی جادوگر اور کبھی دیوانہ کہہ دیتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے آیات الٰہی کو نہ ماننے کے لیے کٹ حجتیاں ہیں اور ایسا استہزاء صرف آپ سے ہی نہیں کیا جارہا بلکہ منکرین حق پہلے رسولوں سے بھی یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ اللہ کی آیات سن لینے کے بعد انھیں سوجھتا ہی یہی کچھ ہے۔ ایسی آیات کو نازل کرنے کا ایک اہم مقصد رسول اللہ اور مسلمانوں کو تسلی دینا بھی ہے جو سخت سنگین حالات سے دو چار تھے اور چونکہ یہ تیرہ سال کا طویل عرصہ تھا لہذا ایسی آیات کا نزول بھی وقتاً فوقتاً بہ تکرار ہوتا رہا۔
Ayah 15:15

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کی نظر ہے بندی 7 کردی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کیا گیا ہے

7 کافر حسی معجزہ دیکھ کر بھی تعصب سے باز نہیں آتے :۔ اور ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے کا معاملہ یہ ہے کہ اگر ہم کوئی ایسا سلسلہ بنادیں کہ یہ لوگ آسمان کی بلندیوں پر چڑھنے لگ جائیں۔ خود چڑھیں پھر اتریں تو بھی بعد میں یہی کہہ دیں گے کہ اس میں حقیقت کچھ بھی نہیں تھی یہ تو محض نظر کا فریب تھا یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیں گے کہ یہ جو کچھ ہوا ہے سب جادو کے کرشمے ہیں اور جادو ہی کے زور سے ہم چڑھتے اور اترتے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ ضدی اور ہٹ دھرم جب میں نہ مانوں والا رویہ اختیار کرلیں تو پھر کسی عقلی دلیل کا کیا ذکر، معجزہ دیکھ کر بھی حق کو حق تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 15:16–17

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے آسمان میں برج بنائے 8 اور دیکھنے والوں کے لئے انھیں سجا دیا

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہر شیطان مردود سے اسے محفوظ کردیا

8 آسمانوں کے برج :۔ اس آیت میں اگر کوئی شخص بروج کے لفظ سے وہ ہی بارہ برج مراد لیتا ہے جو قدیم اہل ہیئت نے فلک ہشتم پر بنا رکھے ہیں تو اس کی مرضی ہے ورنہ آیت کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ ان برجوں میں سے اکثر برجوں کی اشکال کا زینت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ بھلا سرطان (کیکڑا) عقرب (بچھو) ترازو اور ڈول وغیرہ کیا خوبصورتی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علماء نے یہاں بروج سے ستارے اور سیارے مراد لیے ہیں جو رات کے وقت آسمان کو زینت بخشتے ہیں۔ لغوی لحاظ سے ہم نمایاں طور پر ظاہر ہونے والی ہر چیز کو برج کہہ سکتے ہیں خواہ وہ کوئی عمارت ہو یا گنبد ہو یا قلعہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان کو ایسا مزیں بنادینا بذات خود اس کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر اس کے بعد انھیں اس کی اور کیا نشانی درکار ہے ؟
Ayah 15:18

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

ہاں اگر شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا 9 ہے

9 شہاب ثاقب کی حقیقت :۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمام آسمان میں جب کسی حکم کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کا حکم بجا لانے کے لیے نہایت عاجزی سے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں اور ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے کسی صاف پتھر پر زنجیر ماری جا رہی ہو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں تک اپنا پیغام پہنچا دیتا ہے پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو دور والے فرشتے نزدیک والوں سے پوچھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کیا ارشاد فرمایا ؟ وہ کہتے ہیں جو فرمایا بجا ارشاد فرمایا۔ فرشتوں کی یہ باتیں چوری چھپے سے سننے والے (شیطان) سن لیتے ہیں اور اوپر تلے رہ کر وہاں تک جاتے ہیں۔ پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فرشتے اس بات کو سننے والے شیطان پر آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں جو اسے نیچے والے شیطان کو بات پہنچانے سے پہلے ہی جلا ڈالتا ہے۔ اور کبھی یہ شعلہ اسے بات پہنچانے کے بعد پہنچتا ہے تو اوپر والا شیطان نچلے کو بات پہنچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اس طرح وہ بات زمین تک آپہنچتی ہے۔ پھر وہ بات ساحر (کاہن، نجومی) کے منہ پر جاری ہوتی ہے۔ تو اس میں وہ سو جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے پھر اگر اس کی کوئی بات سچی نکل آئے تو لوگ کہتے ہیں دیکھو اس نجومی نے ہمیں خبر دی کہ فلاں وقت ایسا ایسا ہوگا اور وہ بات سچ نکلی۔ یہ وہ بات ہوتی ہے جو آسمان سے چرائی گئی تھی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر سورة سبا ) اس آیت میں شہاب مبین کے لفظ ہیں اور ایک دوسرے مقام پر ( اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَــطْفَةَ فَاَتْــبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ 10؀) 37 ۔ الصافات :10) کے الفاظ ہیں جن کے معنی ہیں چھید کر جانے والا چمکدار شعلہ۔ رات کو بسا اوقات ایسے شعلہ دار ستارے نظر آتے ہیں۔ جنہیں ہم اپنی زبان میں ٹوٹنے والے تارے کہتے ہیں اور ہمیں ایک شعلہ تیزی سے فضا میں سفر کرتا نظر آتا ہے پھر اچانک بجھ جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ شیطان کو جلا کر بھسم کردینے والے وہی ستارے ہوں جنہیں آج کل علم ہیئت کی اصطلاح میں شہاب ثاقب کہا جاتا ہے جو کثیر تعداد میں فضا میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کا کثیر حصہ فضا میں ہی گم ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی یہ زمین پر گڑ پڑتے ہیں اگر یہ سب ستارے زمین پر گرتے تو ممکن ہے کہ انسان کا اس زمین پر زندہ رہنا ہی محال ہوجاتا۔ یہ بس اللہ تعالیٰ ہی کا نظام ہے جو ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس شہاب ثاقب کا ذکر کتاب و سنت میں آیا ہے وہ معروف شہاب ثاقب کے علاوہ کوئی اور قسم کا ہو جس تک تاحال علم انسانی کی رسائی نہ ہوسکی ہو۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور اسی میں سلسلہ ہائے کوہ جما دیئے اور اس میں سے ہر مناسب 10 چیز کو ہم نے اگایا

0 1 ہر چیز کی پیدائش اور افزائش اللہ کے مقررہ اندازے کے مطابق ہی ہوسکتی ہے :۔ موجودہ تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ نباتات کی ہر نوع میں تناسل کی اس قدر زبردست طاقت ہے کہ اگر صرف ایک ہی پودے کو زمین میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے تو چند ہی سالوں میں اسی جنس کے پودے تمام روئے زمین پر پھیل جائیں اور کسی دوسری قسم کے پودے کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے اور یہ حکیم وعلیم اور قادر مطلق کا سوچا سمجھا اندازہ ہی ہے جس کے مطابق بیشمار قسم کی نباتات اس زمین پر اگ رہی ہے اور ہر نوع کی پیداوار اپنی ایک مخصوص حد تک پہنچ کر رک جاتی ہے مزید یہ کہ ہر نوع کی پیداوار کو اس علاقہ کی ضرورت اور وہاں کے لوگوں کی طبیعت کے مطابق پیدا کیا جاتا ہے۔ بالکل یہی صورت انسان کے نطفہ کی ہے۔ اس کے ایک دفعہ کے انزال میں بارآور کرنے والے اتنی کثیر تعداد میں جرثومے پائے جاتے ہیں جو تمام دنیا کی عورتوں کو بار آور کرسکتے ہیں۔ یہ بس اللہ کی حکمت ہی ہے کہ وہ جتنے انسان پیدا کرنا چاہتا ہے اتنے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ہر چیز زمین سے خوراک حاصل کرکے بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے لیکن وہ بھی ایک مخصوص حد تک پہنچ کر رک جاتی ہے مثلاً آج کل انسان عموماً پانچ سے چھ فٹ تک لمبا ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی انسان دوگنی خوراک کھا کر بارہ فٹ لمبا ہوجائے۔ یہی حال دوسری مخلوق کا ہے خواہ یہ نباتات کی قسم سے ہو یا حیوانات کی قسم سے یا انسان ہو۔ غرض جاندار کیا اور بےجان کیا۔ ہر چیز کے ہر ہر پہلو سے تعلق رکھنے والی اللہ نے حدیں مقرر کر رکھی ہیں جن سے وہ تجاوز نہیں کرسکتیں۔
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور اسی زمین میں ہم نے تمہارے لئے بھی سامان معیشت بنادیا اور ان کے لئے بھی جن 11 کے رازق تم نہیں ہو

1 1 ایسی مخلوق بھی انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہے اور اس میں ہر قسم کے چرند، پرند، درندے اور تمام حشرات الارض وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کی روزی بھی اسی طرح زمین کے ساتھ ہی وابستہ ہے جیسے تمہاری وابستہ ہے۔
Ayah 15:21

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ اور اسے ہم ایک جانی پہچانی مقدار 12 کے مطابق ہی نازل کرتے ہیں

2 1 ضروریات زندگی کی مناسب مقدار میں فراہمی :۔ اللہ کے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں لہذا وہ چاہتا تو تمام انسانوں کو وافر رزق اور مال و دولت عطا کرسکتا تھا۔ مگر اس کی حکمت کا تقاضا ایسا نہیں کیونکہ ایک تو رزق کی فراوانی عموماً اللہ کو بھول جانے اور گمراہ ہوجانے کا سبب بن جاتی ہے۔ الاماشاء اللہ اور دوسرے اگر تمام لوگ ہی مالدار ہوتے اور محتاج کوئی بھی نہ ہوتا تو دنیا کا موجودہ نظام چل ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ اسی صورت میں چل سکتا ہے کہ ایک کو دوسرے کی احتیاج ہو۔ امیر کو غریب کی احتیاج ہو اور غریب کو امیر کی۔ پھر اس میں انسان کی آزمائش بھی ہے لہذا رزق کی کمی بیشی کا تمام تر معاملہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔ پھر یہ معاملہ صرف رزق تک محدود نہیں بلکہ اس میں ضروریات زندگی کی تمام اشیاء شامل ہیں۔ مثلاً ہوا، پانی، روشنی، حرارت، گرمی، سردی، ان میں سے کوئی بھی چیز اپنی مقرر حد سے بڑھ جائے یا کم ہوجائے تو انسان کی زندگی محال ہوجائے۔ گویا اللہ کے پاس خزانے تو ہر چیز کے ہیں مگر وہ انھیں اپنی حکمت اور طے شدہ مقدار کے مطابق ہی مہیا کرتا ہے۔ مثلاً پانی کی افراط بھی اگر طوفان کی صورت اختیار کرجائے تو وہ بھی انسان کی ہلاکت کا موجب ہے اور تفریط ہو تو وہ بھی۔ یہی حال دوسری ضروریات زندگی کا ہے۔
Ayah 15:22

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

نیز ہم پانی سے لدی ہوئی ہوائیں بھیجتے ہیں پھر آسمان سے پانی برسا کر اس سے تمہیں سیراب کرتے ہیں۔ اس پانی کا ذخیرہ رکھنے والے (ہم ہی ہیں) تم نہیں 13 ہو

13 زندگی کے لئے پانی کی اہمیت :۔ پانی کا ذخیرہ یا تو زمین کے نیچے ہوتا ہے۔ وہ بھی اللہ کے قبضہ ئقدرت میں ہے۔ وہ چاہے تو پانی کی سطح کو بہت نیچے لے جائے اور انسان پانی حاصل ہی نہ کرسکے۔ یا بارش کی صورت میں نازل ہوتا ہے۔ وہ بھی خالصتاً اللہ کے قبضہ ئقدرت میں ہے۔ وہ چاہے تو کسی مقام پر سالہا سال بارش ہی نہ ہو یا پھر پہاڑوں پر سردیوں میں برفباری ہوتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر دریاؤں کی صورت میں رواں ہوتی ہے۔ لیکن کئی دفعہ دریاؤں میں پانی کی انتہائی کمی واقع ہوجاتی ہے حالانکہ پانی اللہ کی اتنی بڑی نعمت ہے جس کے بغیر نہ انسان زندہ رہ سکتا ہے نہ دوسرے جاندار اور نہ ہی نباتات اگ سکتی ہیں۔ یعنی پانی نہ ہونے سے انسان خوراک سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔
Ayah 15:23

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (ہر چیز کے) وارث 14 ہیں

4 1 ہر چیز کا مالک اور وارث اللہ تعالیٰ ہے :۔ پیدائش اور موت دونوں ایسی چیزیں ہیں جن پر انسان کا ذرہ بھر بھی اختیار نہیں۔ نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے مرتا ہے۔ پھر اس کے ہاں جو اولاد ہوتی ہے وہ بھی اس کی مرضی سے نہیں ہوتی۔ پھر اس اولاد کی زندگی اور موت بھی اللہ ہی کے قبضہ ئقدرت میں ہوتی ہے۔ اور یہ سلسلہ یونہی آگے چلتا جاتا ہے۔ پھر جو کچھ انسان اپنی زندگی میں کماتا ہے۔ اس کا بھی عارضی طور پر ہی مالک ہوتا ہے۔ اس کی موت کے بعد اس کی کمائی اس کے وارثوں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے اور یہ انتقال زر اور جائیداد بھی اضطراری ہوتا ہے جس میں انسان کا اپنا کچھ اختیار نہیں ہوتا۔ پھر یہ وارثوں کا قبضہ بھی عارضی ہوتا ہے۔ اور بالآخر یہ سب کچھ اللہ کے خزانے میں جمع ہوجاتا ہے جو حقیقتاً اصلی مالک تھا۔
Ayah 15:24

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور ہمیں یقینا ان لوگوں کا بھی علم ہے جو تم سے آگے نکل گئے اور جو پیچھے رہنے 15 والے ہیں

5 1 الفاظ میں عمومیت ہے اور ان سے مراد وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں اور جو بعد میں آنے والے ہیں اور یہ بھی کہ جو اسلام لانے میں آگے نکل جانے والے ہیں یا پیچھے رہنے والے ہیں۔ یا کسی بھی نیک کام میں یا برے کام میں آگے نکل جانے اور پیچھے والے۔ اللہ ان سب پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 15:25

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

آپ کا پروردگار ہی ان سب 16 کو جمع کرے گا۔ بلاشبہ وہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

6 1 کافر یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں گے یا ہماری خاک کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا تو ہم دوبارہ کیسے پیدا کیے جائیں گے۔ یہ اعتراض کرنے والے لوگ نہ تو اللہ کی صفت حکمت کی معرفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کے لامحدود علم کی وسعت کی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب سے کو دوبارہ پیدا کرے پھر انھیں ان کے اچھے یا برے اعمال کی جزا و سزا دے اور اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ وہ ان کی خاک کے منتشر شدہ ذرات تک کو جانتا ہے اور انھیں اکٹھا کرکے انھیں دوبارہ زندگی بخش کر اپنے پاس حاضر کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 15:26

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

ہم نے انسان کو گلے سڑے گارے سے خشک شدہ ٹن سے 17 بجنے والی مٹی سے پیدا کیا

7 1 آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی :۔ مٹی کے لیے عربی زبان میں عام لفظ تراب ہے جو ہر طرح کی مٹی پر بولا جاسکتا ہے۔ جیسے سیدنا آدم کے متعلق ایک مقام پر فرمایا : (خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59؀) 3 ۔ آل عمران :59) تاہم تراب کا لفظ عموماً خشک مٹی کے لیے بولا جاتا ہے اور انسان کے پتلے کی ساخت میں مٹی کی جن اقسام کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ یہ ہیں۔ طین یعنی گیلی مٹی یا وہ خشک مٹی جس میں پانی ملایا گیا ہو طین لازب چپک دار گیلی مٹی ( چکنی مٹی) اس کے بعد اسی مٹی کو حَمَاٍمَّسْنُوْنٍ کی شکل دی گئی یعنی ایسی مٹی یا گارا جو گل سڑ کر سیاہ رنگ کی ہوگئی ہو خمیر اٹھ رہا ہو اور بو پیدا ہوگئی ہو۔ ایسی ہی مٹی سے آدم کا پتلا بنایا گیا۔ پھر اسے حرارت یا آگ میں اس قدر تپایا گیا کہ وہ کھنکھنانے سے کھن کھن کی آواز پیدا کرتا ایسی مٹی کو صَلْصَالٍ اور صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ کا نام دیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کی پیدائش میں غالب عنصر مٹی ہی تھا۔
Ayahs 15:27–28

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنوں کو اس سے پہلے ہم آگ کی لپٹ سے 18 پیدا کرچکے تھے

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گلے سڑے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے لگا ہوں

8 1 جنوں کی پیدائش آگ سے ہوئی :۔ جنوں کو ایسی آگ سے پیدا کیا گیا جس میں ہوا ملی ہوئی تھی۔ سموم بمعنی سخت گرم ہوا۔ یعنی اتنی گرم ہوا سے جو آگ جیسی گرم ہو اور ہر چیز کو جھلس کر رکھ دے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جنوں کی پیدائش میں غالب عنصر آگ تھا۔ ابلیس اصل میں جنوں کی جنس سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر اپنی ہمہ وقت عبادت گزاری کی وجہ سے فرشتوں کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة بقرہ کا حاشیہ نمبر 53) جانّ اور جن کا لغوی مفہوم اور مراد :۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جس طرح آدمیوں یا انسانوں کے جد امجد کا نام آدم (علیہ السلام) ہے۔ اسی طرح جنوں کے جد امجد جانّ ہے۔ اور جن کا لغوی معنی کسی چیز کو ڈھانپ کر چھپا دینا ہے کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ اور جنوں کو بھی جن اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ انسانوں کے لیے غیر مرئی مخلوق ہے جو انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ جن اپنی شکل و صورت بدل سکتے ہیں کبھی یہ دیو، بھوت پریوں کی شکل میں انسانوں کے سامنے نمودار ہوتے ہیں اور کبھی سانپ کی شکل میں۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر تم گھروں میں سانپ دیکھو تو مارنے سے پہلے اسے کہہ لو کہ اگر وہ جن ہے تو چلا جائے۔ قرآن میں بھی جان کا لفظ سانپ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (27 : 10) اور جان صرف ایسے سانپ کو کہتے ہیں جو عصا کی طرح لمبا اور پتلا ہو۔