Ayahs 15:67–6934 غنڈوں کا سیدنا لوط کے گھر میں گھس آنا :۔ اہل سدوم لواطت کے معاملہ میں اس قدر بےحیا اور بیباک ہوچکے تھے کہ سیدنا لوط کا بھی کچھ لحاظ نہ کرتے تھے بلکہ الٹا انھیں یہ کہتے تھے کہ اگر تم اتنے پاکباز بنتے ہو تو ہمارے شہر سے نکل جاؤ۔ چناچہ یہ خوبصورت لڑکے لوط کے گھر پہنچے ہی تھے کہ آپ کی بیوی نے مخبری کردی اور وہ دیوار پھاند کر آپ کے گھر میں گھس آئے۔ سیدنا لوط نے ان کی منت کرتے ہوئے کہ دیکھو ! یہ میرے مہمان ہیں ان پر دست درازی کرکے مجھے رسوا نہ کرو۔
Ayah 15:7035 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے سیدنا لوط سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ تم مسافروں اور اجنبیوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ گویا ان کے شہر میں کسی مسافر کی بھی عزت محفوظ نہ تھی۔ پھر لواطت کے علاوہ ان میں مزید قباحتیں بھی موجود تھیں وہ مسافروں سے بدفعلی کرنے کے بعد ان کا مال اسباب ان سے چھین کر اپنی بستی سے باہر نکال دیا کرتے تھے۔ اب ان خوش شکل نوجوان کو دیکھ کر بھلا وہ اپنی حرکتوں سے کیسے باز رہ سکتے تھے ؟ فوراً کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ سارے جہاں کے ٹھیکیدار مت بنو اور کسی مسافر کو اپنے ہاں پناہ نہ دیا کرو۔ اپنی ہی خیر مناؤ تو یہ بھی بڑی بات ہے۔
Ayah 15:7136 سیدنا لوط کی بیٹیاں :۔ اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو آیت کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کو ان کے نکاح میں دینے پر تیار ہوگئے حالانکہ پہلے یہی لوگ ان بیٹیوں کا رشتہ طلب کرتے تھے اور آپ نے ان لوگوں کی بدکرداری دیکھ کر رشتہ دینے سے انکار کردیا تھا اور دوسرا مطلب ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے لہذا آپ قوم کی بیٹیوں کے بھی روحانی باپ تھے اور آپ نے انھیں کہا یہ تھا کہ تمہارے گھروں میں جو تمہاری بیویاں ہیں وہ بھی میری بیٹیاں ہیں۔ اگر اتنی ہی تم پر شہوت غالب آرہی ہے تو ان سے پوری کرلو۔
اس آیت سے ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ آپ نے بدکاری کے لیے اپنی بیٹیاں پیش کردی تھیں۔ کیونکہ سیدنا لوط جس بدی کے خلاف جہاد کر رہے تھے اسی طرح کی ایک دوسری برائی کا خود ارتکاب کیسے کرسکتے تھے ؟ بالخصوص اس صورت میں کہ آپ اللہ کے نبی تھے۔
Ayahs 15:72–7337 غنڈوں کی بدمستی :۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رسول اللہ کی جان سے زیادہ اکرم و افضل کوئی جان پیدا نہیں کی۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان عزیز کے علاوہ کسی اور جان کی قسم کھائی ہو۔ یہی قسم کھا کر اللہ نے رسول اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اس وقت ان خوبصورت لڑکوں کو دیکھ کر وہ اپنی شہوت رانی کی مستی میں اندھے اور دیوانے بنے ہوئے تھے کہ ایسا شکار شاید انھیں بعد میں کبھی بھی میسر نہ آسکے۔
Ayah 15:7438 قوم لوط کی تباہ کردہ بستیوں کا حال :۔ یہ کل چار بستیاں تھیں جن میں چار لاکھ لڑنے والے مرد موجود تھے اور یہ سب بدکار اور مجرم تھے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اس پورے خطہ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا پھر فضا میں بلندی پر لے کر انھیں اٹھا کر زمین پردے مارا۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک زبردست دھماکے کی آواز پیدا ہوئی۔ اس پر بھی اللہ کا غضب فرو نہ ہوا تو پھر اسی خطہ ئزمین پر اوپر سے پتھروں کی بارش کی گئی۔ چناچہ یہ خطہ زمین سطح سمندر سے 400 کلومیٹر نیچے چلا گیا اور اوپر پانی آگیا۔ یہی پانی بحر میت یا غرقاب لوطی ہے۔
Ayahs 15:75–7739 متوسم سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرائن و علامات اور آثار سے کسی نتیجہ پر پہنچنے کی اہلیت رکھتے ہوں یعنی غور و فکر اور دھیان کرنے والے اہل دانش کے لیے اس واقعہ لوط میں عبرت کے بہت سے نشان موجود ہیں۔
Ayah 15:7840 اصحاب الایکہ کون تھے ؟ یعنی بن کے رہن والے۔ یعنی ایسی قوم جو درختوں کے ذخیرہ کے پاس رہتی تھی اور یہ مدین کے پاس ہی تھے اور ان کی طرف بھی شعیب ہی مبعوث ہوئے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں تھیں اور بعض کے نزدیک ایک ہی قوم تھی۔ ان کا جرم شرک کے علاوہ تجارتی بددیانتیاں نیز ناپ تول میں کمی بیشی کرنا تھا۔ ان کا حال پہلے سورة اعراف کی آیت 85 میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 15:7941 اہل مدین اور مدین کا علاقہ :۔ حجاز سے شام و فلسطین نیز عراق سے مصر کو جو تجارتی راستہ جاتا ہے۔ قوم لوط کا تباہ شدہ علاقہ اسی راستہ میں پڑتا ہے۔ وہیں ذرا نیچے اتر کر قوم شعیب کا مسکن تھا۔ دونوں کے آثار راستہ چلنے والوں کو نظر آتے ہیں۔
Ayah 15:8042 وادی حجر کے لوگوں سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا اور یہاں جو ایک رسول کے بجائے کئی رسولوں کا ذکر فرمایا تو یہ اس لحاظ سے ہے کہ تمام رسولوں کی بنیادی تعلیم ایک ہی رہی ہے لہذا ایک رسول کو جھٹلانا سب رسولوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
Ayah 15:8143 یہ نشانیاں اللہ کی اونٹنی اور اس کا بچہ تھیں۔ اور یہ معجزہ ان کے مطالبہ پر انھیں عطا ہوا تھا علاوہ ازیں رسولوں پر منزل من اللہ تعلیم پر بھی ان الفاظ یعنی آیات اللہ کا اطلاق ہوتا ہے ان کے انکار کا قصہ بھی پہلے سورة اعراف اور سورة ہود میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 15:82–8344 اصحاب الحجر یا قوم ثمود :۔ یہ لوگ بڑے طویل القامت، مضبوط جسم اور لمبی عمروں والے تھے۔ سنگ تراش اور انجینئر قسم کے لوگ تھے۔ اور اس فن میں اتنے ماہر تھے کہ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنے گھر بنالیتے تھے۔ اور یہ گھر اتنے مضبوط ہوتے تھے جو ہر طرح کی ارضی و سماوی آفات مثلاً زلزلہ، سیلاب، طوفان بادوباراں وغیرہ کا مقابلہ کرسکتے تھے لہذا ہر طرح کے خوف و خطر سے نڈر ہو کر ان میں رہتے تھے۔
Ayah 15:8445 قوم ثمود کی تباہ شدہ بستیاں :۔ ان پر جو عذاب الٰہی نازل ہوا وہ ایک زبردست قسم کی دہشت ناک آواز تھی ان کے مکان جو باقی ہر طرح کی ارضی و سماوی آفات سے مامون تھے اس عذاب کے لیے کچھ بھی کارآمد ثابت نہ ہوسکے۔ اللہ نے ان پر عذاب ہی ایسا بھیجا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا۔ اور اس کے مقابلہ میں ان کی کوئی تدبیر بھی کارگر نہ ہوسکتی تھی۔ چناچہ وہ اپنے گھروں میں ہی مرگئے اور وہیں گلتے سڑتے رہے۔ ان کا علاقہ اس راستہ پر پڑتا ہے جو مدینہ سے تبوک جاتا ہے اور ان کے بہت سے آثار طویل مدت تک دوسروں کے لیے باعث عبرت بنے رہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے :
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ سفر تبوک میں جب آپ حجر کے مقام پر پہنچے تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کے کنوئیں سے نہ پانی پیئیں اور نہ ڈول بھریں صحابہ نے عرض کیا کہ ہم نے تو اس سے آٹا گوندھ لیا ہے اور اسے بھر بھی لیا ہے آپ نے فرمایا آٹا پھینک دو اور پانی بہا دو پھر آپ نے آٹا اونٹوں کو کھلانے کی اجازت دے دی۔ آپ نے حکم دیا کہ اس کنوئیں سے پانی پلاؤ جس سے (صالح کی) اونٹنی پانی پیتی تھی۔ اور ان ظالموں کے گھروں میں داخل نہ ہو بجز اس صورت کے کہ تم رو رہے ہو اور اگر رونا نہ آئے تو وہاں سے مت گزرو۔ ایسا نہ ہو کہ ان کا سا عذاب تم پر بھی نازل ہو پھر آپ نے چادر سے اپنا سر ڈھانک لیا اور تیزی سے اپنی سواری کو چلاتے ہوئے وہاں سے نکل گئے (بخاری، کتاب الانبیائ، باب قولہ تعالیٰ والی ثمود اخاہم صالحا۔ نیز کتاب التفسیر۔ نیز کتاب الصلوٰۃ۔ باب الصلٰوۃ فی مواضع الخسف)
Ayahs 15:85–8646 ان قوموں پر عذاب الٰہی نازل کرکے ان کی بیخ وبن سے اکھاڑ دینے کی وجہ یہ تھی کہ ان کا طرز زندگی کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی نہیں تھا بلکہ اوہام پرستی اور باطل پر تھا جبکہ کائنات کی ہر ایک چیز ٹھوس حقائق پر پیدا کی گئی ہے اور انہی حقائق سے یہ دلیل بھی ملتی ہے کہ یہ کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ قیامت ضرور قائم ہونا چاہیے اور مجرم لوگ تو ہمیشہ روز آخرت اور اللہ کے حضور باز پرس کے تصور کے منکر رہے ہیں۔ لہذا ان کا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ اور اب یہ مشرکین مکہ جو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں ان کا بھی وہی انجام ہونے والا ہے لہذا ان سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ ابھی ان سے درگزر سے کام لیجئے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہ مناسب وقت پر ان سے خود نمٹ لے گا۔
Ayah 15:8747 سبع المثانی یا قرآن العظیم فضائل سورة فاتحہ :۔ سات بار بار دہرائی جانے والی آیات سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ چناچہ سیدنا سعید بن معلیٰ فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے فرمایا : میں تجھے قرآن کی ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھکر ہے اور وہ ہے (اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) وہی سبعا من المثانی اور قرآن العظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔ (بخاری، تفسیر سورة فاتحہ، نیز کتاب التفسیر، سورة انفال زیر آیت نمبر 24 (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 24) 8 ۔ الانفال :24)
نیز سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا سورة الحمد ہی ام القرآن، ام الکتاب اور سات دہرائی جانے والے آیتیں ہیں۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر سورة محمد)
اور یہ سورت قرآن عظیم اس لحاظ سے ہے کہ اس میں پورے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ آگیا ہے۔ گویا سمندر کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے۔ سب سے پہلے اللہ کی معرفت اور اس کی حمد و ثنا، پھر روز آخرت میں جزا و سزا کا جامع ذکر، پھر شرک کی تمام اقسام سے کلی اجتناب کا اقرار، پھر صراط مستقیم کی ہدایت کی طلب۔ یہ ہی مضامین قرآن میں مختلف انداز سے اجمالاً اور تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں اور بعض علماء کہتے ہیں کہ اس سورة کا مزید اختصار ( اِیَّاَکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ) ہے تفصیل کے لیے دیکھئے سورة فاتحہ کے حواشی۔
Ayahs 15:88–9048 مسلمانوں اور قریشیوں کی معاشی حالت کا تقابل :۔ جب ہم نے آپ کو قرآن عظیم جیسی نعمت عطا فرما دی تو پھر کافروں کو دی ہوئی ناپائیدار اور فانی نعمتوں کی طرف توجہ نہ کرنا چاہیے۔ جب یہ ہدایت آپ کو اور صحابہ کرام ؓ کو دی گئی اس وقت صورت حال یہ تھی کہ رسالت کی ذمہ داریوں کی بنا پر آپ سے تجارت کا شغل بھی چھوٹ چکا تھا اور سیدہ خدیجہ ؓ والا سرمایہ بھی ختم ہو رہا تھا۔ اور قریش مکہ کے معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے جو چند جوان صحابہ کاروبار یا دوسرے کام کاج کرتے تھے وہ بھی چھوٹ چکے تھے۔ ویسے بھی کچھ صحابہ غلام اور کچھ آزاد کردہ غلام تھے۔ غرضیکہ مسلمانوں پر یہ سخت تنگدستی کا دور تھا۔ دوسری طرف قریش مکہ خاصے مالدار تھے۔ تجارت کرتے تھے اور ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے تھے۔ ایسے ہی حالات میں مسلمانوں کو تسلی کے طور پر ایسی ہدایات دی جا رہی تھیں۔
Ayahs 15:91–9349 قسمیں کھانے والے اور ان پر عذاب کا نزول :۔ اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ اگر مقتسمین کے معنی تقسیم کرنے والے یا بانٹ لینے والے، قرار دیا جائے۔ اس صورت میں یہود و نصاریٰ دونوں ہیں جنہوں نے قرآن کے بعض حصوں کو تو تسلیم کیا اور بعض حصوں کا انکار کردیا اور بعض کے نزدیک ان سے مراد کفار مکہ ہیں۔ جن کا مطالبہ یہ تھا کہ قرآن کی جن آیات میں ہمارے بتوں کی توہین ہوتی ہے وہ نکال دو پھر باقی باتیں ہم مان لیں گے اور بعض کے نزدیک ان سے مراد صرف تفرقہ باز یہود ہیں اور قرآن سے مراد ان کی کتاب اللہ تورات ہے۔ ان لوگوں نے کتاب اللہ کے بعض حصوں کو مان کر، بعض کا انکار کرکے، بعض آیات کو چھپا کر اور بعض کو تحریف لفظی یا معنوی کرکے بیسیوں فرقے بنا ڈالے تھے اور ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً اپنی تنبیہات یا عذاب نازل فرمایا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مقتسمین کے معنی باہم قسمیں کھانے والے قرار دیا جائے۔ اس صورت میں اس سے مراد وہ لوگ یا وہ قومیں ہیں جنہوں نے انبیاء کی تکذیب یا بعض دوسری جھوٹی باتوں پر قسمیں کھائی تھیں اور انہوں نے کتب سماویہ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے تھے۔ حافظ ابن کثیر اسی معنی کی تائید کرتے ہیں۔ اور اس معنی کی تائید میں کئی آیات پیش کی ہیں۔ مثلاً قوم ثمود نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ ہم رات کو شبخون مار کر سیدنا صالح اور ان کے گھر والوں کو قتل کر ڈالیں گے (27: 49) یا مثلاً کافروں نے پختہ قسمیں کھا کر کہا کہ جو مرچکا ہے اللہ اسے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا۔ (16: 38) یا قریش مکہ نے قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ان کی شان و شوکت کو زوال نہیں آئے گا۔ (14: 24) یا اعراف والے دوزخیوں کو مخاطب کرکے کہیں گے کہ کیا یہی اہل جنت وہ لوگ نہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر کبھی رحمت نہیں کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے سب لوگوں پر عذاب آیا اور قیامت کو ان سے سختی سے بازپرس بھی ہوگی۔
Ayahs 15:94–9750 علی الاعلان تبلیغ رسالت کا حکم :۔ ابتداًء دعوت اسلام کا آغاز خفیہ طور پر ہوتا رہا اور یہ دور تین سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ پھر وہ دور آیا جب مسلمان خانہ ارقم سے باہر اپنے اپنے گھروں کی بعض کھلی جگہوں پر نمازیں ادا کرتے اور قرآن پڑھتے تھے۔ اس دور میں قریش نے پابندی لگا رکھی تھی کہ مسلمان بلند آواز سے قرآن نہ پڑھا کریں کیونکہ اس سے ان کے بچے اور عورتیں متاثر ہوتی ہیں نیز ان پر کعبہ میں نماز ادا کرنے یا قرآن پڑھنے پر بھی پابندی تھی اور قریش کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ پھر چند سال بعد یہ دور آیا جب اللہ تعالیٰ نے علی الاعلان تبلیغ کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ اس سلسلہ میں شرک کرنے والوں کے استہزاء کی مطلق پروا نہ کریں ہم ایسے لوگوں سے خود نمٹ لیں گے۔
Ayahs 15:98–9951 مشکل اوقات میں نماز کی تلقین :۔ جب ان مشرکوں کے استہزاء سے یا ایمان نہ لانے سے یا ان کی ایذاؤں سے آپ کے دل میں تنگی اور گھٹن پیدا ہو تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ اللہ کی طرف رجوع کیجئے اس کی تسبیح و تقدیس بیان کیجئے، نماز ادا کیجئے۔ ان چیزوں سے ایک تو آپ کے دل میں گھٹن کی بجائے اطمینان پیدا ہوگا تمہارا حوصلہ بڑھائیں گی، استقامت پیدا ہوگی اور دعوت دین کے سلسلہ میں آپ کو جو تکلیفیں اور مصائب پیش آرہے ہیں یہ باتیں آپ میں ان کے مقابلے کی قوت پیدا کردیں گی چناچہ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی یا رزق کی تنگی ہوتی تو آپ خود بھی نماز کی طرف جھپٹتے اور اپنے گھر والوں کو بھی ایسا ہی حکم فرماتے۔