16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

آگیا اللہ کا حکم، پس تم لوگ جلدی مت مچاؤ اس کے لئے، پاک ہے وہ (وحدہ، لا شریک) اور بہت بلند (وبالا) ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں،3

1۔ (امر اللہ) " اللہ کے حکم " سے مقصودومراد ؟ : یعنی قیام قیامت اور عذاب منکرین۔ (جامع البیان محاسن التاویل، ابن کثیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) سو اس کو تم لوگ خواہ کتناہی دور اور بعید سمجھو وہ بہرحال قریب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ (اقترب للناس حسابہم وہم فی غفلۃ معرضون) ۔ (الانبیاء : 1) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا۔ (اقتربت الساعۃ وانشق القمر) ۔ (القمر : 1) اور جب کہ ہر آدمی کی قیامت اس کی موت ہی ہے، جس کے بعد اس کے لیے تیاری وغیرہ کا کوئی موقع نہیں رہے گا۔ تو ہر شخص کی قیامت بہر حال اس کے قریب اور بہت ہی قریب ہے کہ کسی کو خبر نہیں کہ اس کی موت کب، کہاں اور کیسے آئے گی۔ نیز (امر اللہ) " اللہ کے حکم " کے عموم میں وہ عذاب بھی داخل ہے جو کہ کفار و مشرکین وغیرہ ناہنجاروں کو ایک معمولی قسط کے طور پر اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ وہ بھی بہرحال ان کے قریب ہی ہے۔ کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کب، کہاں سے، کس شکل میں آجائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ بدر وغیرہ میں ہوچکا ہے۔ اور اب تک بھی بدستور جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پھر چونکہ یہ قیامت اللہ کے حکم سے اور اچانک آجائے گی، جیسا کہ فرمایا گیا (لاتاتیکم الا بغتہ) الایۃ (الاعراف : 87) نیز فرمایا گیا (ولیاتینہم بغتۃ وہم لایشعرون) (العنکبوت : 53) اس لیے اس کو یہاں پر (امر اللہ) " اللہ کے حکم " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ کہ اس کو بپا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ محض اس کے ایک اشارہ اور حکم وارشاد سے فوری طور پر بپا ہوجائیگی۔ پس تم لوگ اس کو بعید نہ سمجھو بلکہ ہمیشہ اس کی فکر و تیاری میں رہو کہ پتہ نہیں وہ کب اور کس حال میں آجائے۔ اور اس وقت کف افسوس ملنے سے کچھ فائدہ نہ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم جل وعلا۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں لوگوں کے لیے تنبیہ و تذکیر ہے کہ وہ اپنے انجام اور اپنی موت کو یاد کرکے تیاری کریں اور غفلت میں عمررواں کی فرصت محدود کو ضائع نہ کریں۔ کیونکہ یہ وہ دولت ہے جو ہاتھ سے نکل جانے کے بعد بھر کبھی نہیں مل سکے گی۔ 2۔ عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کو تنبیہ : سو ایسے لوگوں سے کہا گیا کہ تم جلدی مت مچاؤ اس لیے کہ اس نے اپنے وقت پر بہرحال آکررہنا ہے۔ پس تو تم لوگ اس کے لیے جلدی مچانے کی بجائے اس میں ہونے والے عذاب سے بچنے اور محفوظ رہنے کی فکر کرو اور حیات مستعار کی اس فرصت کو اس لیے غنیمت سمجھو کہ یہ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر کبھی ملنے والی نہیں ہے۔ سو وہ لوگ بڑی بھول میں ہیں جو اس کے لئے فکر اور تیاری کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اور اس طرح وہ ایک نہایت ہی ہولناک انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایسے منکروں اور کافروں وغیرہ کو ایک دھوکہ یہ بھی لگتا ہے اور وہ اس طرح کے خبط میں مبتلا ہوتے ہیں کہ قیامت اور آخرت وغیرہ ہوئی بھی تو وہاں ہمارے لئے ہمارے فلاں ملاں شریک اور سفارشی ہمیں خدا کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس لئے ہمیں کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔ اور کچھ اسی طرح کی غلط فہمی اور ایسے ہی خبط میں وہ کلمہ گو مشرک بھی مبتلا ہیں جنہوں نے از خود طرح طرح کے ناموں سے مختلف ہستیاں اور خود ساختہ سرکاریں گھڑ رکھی ہیں کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص پہنچ ہے۔ ان کا اس کے یہاں خاص درجہ و مرتبہ ہے۔ یہ جو چاہیں کرواسکتی ہیں۔ " ہماری وہ سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا " پس " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے " اور اسی طرح کے مفروضوں کی بناء پر ایسے لوگ نماز روزہ وغیرہ فرائض اور احکام الہی کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ سو شرک کے ان ماروں اور ان کی ایسی شرکیات پر ضرب کاری لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ پاک اور کہیں بلند وبالا ہے ان چیزوں سے جن کو ایسے لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ پس ایسے لوگ جو اس طرح کے کسی خبط میں مبتلا ہیں وہ اپنی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ اصلاح کا موقع ان کے ہاتھ سے نکل جائے، ورنہ اپنے ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہ اتارتا ہے فرشتوں کو اپنے حکم سے اس (عظیم الشان) روح کے ساتھ، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (اس بنیادی ہدایت کے ساتھ) کہ تم خبردار کردو (میرے بندوں کو) کہ کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے میرے، پس تم سب مجھ ہی سے ڈرو،4

3۔ روح اور قلب کی زندگی وحی الہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی اتارتا ہے فرشتوں کو روح کے ساتھ اپنے حکم سے اور روح سے یہاں پر مراد وحی الہی ہے اور اس کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا کہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے اسی طرح روح اور قلب کی زندگی وحی الہی سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کی جسمانی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے طرح طرح کی خوراکوں کا سامان و انتظام فرمایا، اسی طرح اس نے اس کے قلب وروح کی زندگی کے لئے وحی کا انتظام بھی فرمایا، کہ اسی پر اس کی معنوی اور روحانی زندگی موقوف ہے، اور اسی بات کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس طرح ارشاد فرمایا کہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ وہ وحی کے اس کلمہ سے جیتا ہے جو اس کو خدا وندقدوس کی طرف سے عطاء کیا جاتا ہے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے اپنے فرشتوں کو اتارتا ہے۔ اور جس طرح اس نے اپنے بندوں کی جسمانی اور مادی ضروریات کی تکمیل کا سامان کیا اسی طرح اس نے ان کی روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان بھی فرمایا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور ایسے فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد سے اس کے ان خاص اور چیدہ بندوں ہی پر اترتے ہیں جن کو وہ نبوت و رسالت اور اپنی پیغام رسانی کے لئے چنتا اور منتخب فرماتا ہے کہ وہی جانتا ہے کہ کون اس کا اہل ہے۔ (اللہ علم حیث یجعل رسالتہ) پس اہل کفر وباطل کا یہ کہنا کہ وہ فرشتے براہ راست ہمارے پاس کیوں نہیں آتے ان کی اپنی حماقت اور مت ماری کی دلیل ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ اللہ کے فرشتے نہ عام لوگوں کے اتر سکتے ہیں اور نہ ہی عام لوگ فرشتوں کو دیکھنے کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ ان کا نزول حضرات انبیاء ورسل ہی پر ہوتا ہے۔ علہیم الصلوۃ والسلام۔ 4۔ نبوت و رسالت محض انتخاب خداوندی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اپنے حکم سے روح کے ساتھ اتارتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نبوت و رسالت محض انتخاب خداوندی ہوتا ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے اس کے لئے منتخب فرماتا ہے، کیوں کہ وہی جانتا ہے کہ کون اس کا اہل ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ، سو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس روح یعنی نور وحی کے ساتھ اترتے ہیں، جس سے دلوں کو زندگی نصیب ہوتی ہے۔ جیسا کہ روح سے جسموں کو زندگی ملتی ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر، معارف وغیرہ) پس جو لوگ ہدایت ووحی کے نور سے محروم ہیں وہ حقیقت میں مردہ ہیں اگرچہ بظاہر زندہ اور چلتے پھرتے ہوں، اور دنیاوی اعتبار سے بڑے تیز طرار اور ترقی یافتہ بھی ہوں۔ لیکن حقیقت میں وہ مردہ اور بےروح ہیں۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ والحمد لہ جل وعلا الذی شرفنا بنور الایمان۔ اور نور وحی اب قیامت تک صرف قرآن حکیم کے مصدر فیض ہی سے مل سکتا ہے۔ پس جو لوگ اس کتاب ہدایت اور اس پر ایمان کی نعمت سے محروم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وہ سراسر مردہ اور اموات غیر احیاء ہیں۔ اور طرح طرح کے گھمنڈ اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مبتلا ہیں اگرچہ وہ اپنے آپ کو بہت کچھ ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں اور ایسے ہی بلند وبانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 5۔ عقیدہ توحید کی عظمت شان : سو اس سے عقیدہ توحید کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے، کیوں کہ اس میں ارشاد فرمایا گیا کہ وحی خداوندی کا مرکزی مضمون اور اس کی اولین دعوت یہی ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ سو نور وحی کی اس مقدس روح کا خلاصہ اور اس کی اساس و بنیاد عقیدہ توحید ہے۔ پس توحید والے ہی دراصل زندہ ہیں اور شرک والے مردہ۔ والعیاذ باللہ العظیم من الشرک وشوآئبہ فی کل لحظۃ من الحظات الحیاۃ۔ سو معبود برحق صرف اللہ ہے اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ خواہ وہ کوئی بدنی عبادت ہو یا مالی۔ اور کسی بھی طرح کی عبادت کو اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کے لئے بجالانا شرک ہوگا جو ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی طرف سے ہر نبی و رسول کو اسی بات کی ہدایت فرمائی گئی کہ لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ و خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی بھی معبود نہیں۔ پس تم سب لوگ میری ہی عبادت و بندگی کرو اور خاص مجھ ہی سے ڈرو اور میرے ساتھ کسی کو بھی شریک مت ٹھہراؤ۔ سو اللہ تعالیٰ ہر لحاظ واعتبار سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 16:3–5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو حق کے ساتھ، وہ بہت بلند (وبالا) ہے اس شرک سے جو یہ لوگ (اس کی جناب اقدس کے بارے میں) کرتے ہیں

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اسی نے پیدا فرمایا (کائنات کے مخدوم ومطاع) اس انسان کو (قطرہ منی کی) ایک حقیر بوند سے، پھر یہی (نا شکرا انسان) یکایک ایک کھلم کھلا جھگڑالو بن جاتا ہے،

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چوپایوں کو بھی اسی نے پیدا فرمایا تمہارے (طرح طرح کے فائدوں کے) لئے جن میں تمہارے لئے سردی سے بچاؤ کی پوشاک بھی ہے، اور دوسرے طرح طرح کے فائدے بھی، اور انھیں میں سے تم لوگ کھاتے بھی ہو،

6۔ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : کہ کائنات کی حکمتوں بھری اس کھلی کتاب کے مطالعے سے انسان اپنے خالق ومالک سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو پہچانے اور اس کی واحدانیت کا اقرار کرے اور اس کی عبادت و بندگی بجا لاکر اس کائنات میں پھیلی ہوئی اس کی بےحد وحساب نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے۔ تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوسکے۔ نیز اس سے وہ یہ بھی جان لے کہ حکمتوں بھری یہ کائنات بےمقصد اور بےکار نہیں ہوسکتی۔ اور وہ پکار اٹھے۔ (ربنا ماخلقت ھذا باطلا) نیز اس سے وہ یہ سبق بھی لے کہ جس نے اس عظیم الشان کائنات کو بلاشرکت غیرے اس طرح پیدا فرمادیا وہ اس کائنات کو اور اس کے مخدوم ومطاع اس انسان کو دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اس قادر مطلق کے لئے جب اس کائنات کو پہلی مرتبہ پیدا کرنا اور عدم سے وجود میں لانا کچھ مشکل نہیں تھا تو پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے آخر کیونکر مشکل اور ناممکن ہوسکتا ہے۔ افسوس کہ آج مادی ترقی کے اس دور میں جب کہ انسان پر کمندیں ڈالنے کی تگ ودو میں ہے بلکہ اس وقت جب کہ راقم السطوریہ سطور تحریر کررہا ہے اس ضعیف البنیان انسان نے مریخ پر بھی اپنا سیارہ اتار دیا ہے جو وہاں سے اس کی تصویریں بھیج رہا ہے۔ اور اس پر دنیا ساری میں شور پڑا ہوا ہے اور سائنس دان اپنی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہے۔ مگر اس سب کے باوجود اس دور میں اور اس قدر مادی ترقی کے باوجود یہ ایسا اندھا اور اوندھا بنا ہوا ہے کہ اتنا آگے نکلنے کے باوجود یہی انسان غور و فکر کے اس پہلو سے یکسر محروم ہے۔ اور وہ یہ نہیں سوچتا کہ آخرمریخ اور اس طرح کے ان دوسرے سیاروں کو بنایا کس نے ؟ اور فضائے بسیط میں اس پر حکمت نظام کے تحت ان کو معلق کس نے کیا ؟ اور ان کو اس باریکی سے چلاتا ہوں ہے ؟ اور ہماری یہ عقلیں جن سے ہم یہ کارنامے انجام دے رہے ہیں ہمیں بخشیں کس نے ؟ اور اس کا ہم پر کیا حق ہے ؟ سو وہی ہے اللہ جلا جلالہ وعزبر ھانہ۔ اگر انسان اس پہلو سے سوچنے اور غور کرنے لگے تو یہی سائنس اس کے لیے نور ایمان سے سرفرازی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 16:6–7

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں رونق بھی ہے (خاص کر اس وقت) جب کہ تم شام کے وقت انھیں چرا کر گھر واپس لاتے ہو، اور جب کہ تم (صبح کے وقت) ان کو چرانے کے لئے چھوڑتے ہو،

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور تمہارے قسما قسم کے بوجھ بھی اٹھا کر دور دراز کے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں، جہاں تم اپنی جانوں کو سخت مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے، واقعی تمہارا رب بڑا ہی شفقت والا، نہایت ہی مہربان ہے،1

11۔ جانوروں میں ذوق جمال کی تسکین کا سامان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور انہی میں تمہارے لئے اے لوگو ! تمہارے ذوق جمال کی تسکین کا سامان بھی ہے۔ خاص کر اس وقت جب کہ تم ان کو چرا کر واپس لاتے ہو کہ اس وقت وہ اپنی بھری ہوئی کو کھوں سے قطار اندرقطار آتے ہوئے تمہارے لئے ایک خاص خوش کن اور دلربا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ سو اس طرح اس نے تمہارے لئے ان جانوروں میں تمہارے ذوق جمال کی تسکین کا سامان بھی مہیا فرما دیا مگر تم لوگ ہو کہ کبھی اس بارے میں سوچتے بھی نہیں ہو۔ حالانکہ اس میں تمہاری شان وشوکت اور دولت و عظمت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اور اگر دیکھا جائے تو چاپایوں اور مویشیوں کی دولت ہی وہ اصل دولت ہے جو دیہاتیوں اور شہریوں سب کو براہ راست کام آتی ہے۔ خاص کر نزول قرآن کے اس دور میں جبکہ لوگوں کی گزر بسر کا دارومدار ہی ان جانوروں اور مال مویشیوں پر تھا۔ سو انسان اگر ان مال مویشیوں ہی میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو یہ اس کی جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اس کی ایمانی اور روحانی غذا کی تکمیل کا ذریعہ وسیلہ بھی بن جائیں۔ لیکن پیٹ کے پجاریوں اور مادہ پرست لوگوں کی اس طرف توجہ ہی نہیں۔ الا ماشاء اللہ والعیاذ باللہ جل وعلابکل حال من الحوال۔
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور گھوڑے خچر، گدھے بھی، (اس نے تمہارے لئے پیدا فرمائے) تاکہ تم ان پر سواری بھی کرو اور وہ تمہاری رونق بھی بنیں، اور وہ اور بھی ایسی ایسی چیزیں پیدا فرماتا ہے (اور آئندہ پیدا فرمائے گا) جن کی تم لوگوں کو خبر بھی نہیں،2

13۔ سواریوں کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے تمہارے لئے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواری بھی کرسکو اور یہ تمہارے لئے زیب وزینت کا ذریعہ بھی بنیں، سو تم لوگ ذرہ دیکھو تو سہی اور غور تو کرو کہ اس خالق کل اور مالک مطلق نے تمہاری سواری اور باربرداری کے لئے کیسا حکمتوں بھرا انتظام فرمایا ہے جس سے تم لوگ ہمیشہ اور طرح طرح سے مستفید و فیضاب ہوتے ہو پھر بھی تم اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے، اور اس کا حق شکر نہیں ادا کرتے یہ کیسی بےانصافی اور کس قدر ظلم و ناشکری ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جن حضرات علماء وائمہ کرام کے نزدیک گھوڑے کا گوشت کھانا جائز نہیں انہوں نے آیت کریمہ سے بھی اس پر اس استدلال کیا ہے کہ اگر ان کا گوشت کھانا جائز ہوتا تو اس کا ذکر یہاں ضرور فرمایا جاتا، کہ وہ سب سے بڑا نفع ہے، پس اس کا ذکرنہ کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جائز نہیں۔ اس کے مقابلے میں دوسرے حضرات نے متعدد احادیث سے استدلال کیا ہے جو کہ صحیحین وغیرہ میں وارد ہیں۔ اور آیت کریمہ سے اس استدلال کے مختلف جوابات بھی دیئے ہیں۔ والتفصیل فی المطولات، وسنذکرہ فی التفسیر المفصل انشاء اللہ، ورزقنا التوفیق، فھو الموفق والمسؤل لکل خیر وسعادۃ۔ بہرکیف یہ قدرت کے ایک اور انعام اور احسان کا ذکر ہے کہ اس نے تمہارے لیے طرح طرح کی سواریوں کا انتظام فرمایا۔ تاکہ تم ان سے طرح طرح کے فائدے بھی اٹھاؤ اور یہ تمہارے لیے زیب وزینت کا سامان بھی بنیں، سو کس قدر مہربان ہے تمہارا وہ رب جس نے تمہارے لیے اور تمہاری ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایسے ایسے عظیم الشان اور بےمثال انتظام فرمائے۔ اور تمہاری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر فرمائے۔ اور جن سے تم لوگ دن رات اور طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو۔ تو پھر سوچو کہ اس رب رؤف ورحیم و غفور و کریم سے منہ موڑنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے ؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انسان اس کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو ان دوسروں سے منسوب کرے جن کا اس عطاء وبخشش میں سرے سے کوئی عمل دخل ہی نہیں اور اس کے باوجود ایسے لوگوں کو ڈھیل اور چھوٹ کا ملنا اس رب غفور کا کتنا بڑا حلم وکرم ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ 14۔ مزید طرح طرح کی سواریوں کی طرف اشارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تمہارے لئے اور ایسی سواریاں بھی پیدا فرمائے گا جن کی تم کو خبر بھی نہیں۔ جن سے تم لوگ قفاروبخار اور خشکی وتری میں مستفید ہوتے ہو۔ اور جن کے ذریعے تم لوگ دن رات سفر کرتے اور طرح طرح سے فائدے اٹھاتے ہو۔ چناچہ آج تک تکثیر وسائل اور سہولت وصول کی بناء پر کتنی ہی نت نئی مخلوقات اور مصنوعات ایسی ہیں جو اس انسان محدود العلم والا دراک کے علم و مشاہدہ میں آچکی ہیں۔ اور کتنی ہی ایسی ہیں جن کو یہ اب تک نہیں جان سکا ہے۔ جوں جوں اس کا علم ترقی کرتا جائے گا یہ ان کی آگہی حاصل کرتا جائے گا۔ اور کتنی ہی وہ عجیب وغیریب اور حیرت انگیز ایجادات اور نت نئے وسائل ہیں جو انسان اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت اور اس کے الہام و معرفت سے آج تک خود منصہ شہود وجود پر لاچکا ہے۔ آخر یہ موٹریں اور گاڑیاں، ریلیں اور بحری وہوائی جہاز اور خلائی شٹل وغیرہ وغیرہ جو آج ہم چاروں طرف اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جن کے بارے میں اپنے کانوں سے سنتے ہیں نزول قرآن مجید کے وقت کہیں کسی کے تصور میں بھی آسکتی تھیں ؟ تو پھر اس بارے میں قرآن حکیم کی اعجاز بیانی ملاحظہ ہو کہ۔ (ویخلق مالا تعلمون) کے عموم واجمال سے قیامت تک معرض وجود میں آنے والی ایسی سب چیزوں کا بالاجمال ذکر فرما دیا گیا ہے۔ ورنہ اگر کہیں ان میں سے کچھ اشیاء کی نزول قرآن کے وقت نام لے کر تصریح فرما دی جاتی توکتنے ہی لوگ ان عجائب کو ناممکن قرار دے کر ان کے منکر ہوجاتے۔ اور اس کے خلاف ایک طوفان کھڑا کردیتے۔ مگر قرآن پاک کی اس اعجاز بیانی کے مقابلے میں نہ اس وقت کوئی آواز اٹھا سکا اور نہ اب کسی کے لئے اس کی کوئی گنجائش ہے اور نہ آئندہ قیامت تک ہوسکے گی۔ فالحمد للہ رب العالمین۔ سو انسانی فکروکاوش سے جو قسما قسم کی سواریاں اب تک منصہ شہود وجود پر آچکی ہیں یا آئندہ قیامت تک آئیں گئی وہ اس جملہ کریمہ کے عموم میں داخل وشامل ہیں۔ سو اس قسما قسم کی سواریوں سے انسان کی راحت و سہولت کی طرح طرح کی صورتیں بھی وابستہ ہیں۔ اور یہ اس کے لئے زیب وزینت کے عظیم الشان سامان بھی ہیں۔ سو اس سب کا تقاضا تھا کہ انسان اس کے نتیجے میں اس وحدہ لاشریک کے حضور دل وجان سے جھک جاتا اور دل وجان سے اس کا شکر ادا کرکے واجب شکر کی ادائیگی سے سبکدوش بھی ہوتا۔ اور اپنے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان بھی کرتا۔ مگر وہ اس کے برعکس اس واہب مطلق اور اس کی عنایات کو بھول کر اپنی نمود نمائش اور دوسروں کی پوجا و بندگی میں لگ جاتا ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بکل حال من الاحوال۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور اللہ کے ذمے ہے (اس کے اپنے وعدہ کرم کے مطابق) سیدھا راستہ دکھانا، جب کہ راستے ٹیڑھے بھی ہیں، اور وہ اگر چاہتا تو (جبراً ) تم سب ہی کو راہ راست پر لے آتا،3

15۔ ہدایت و راہنمائی اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور اللہ ہی کے ذمے ہے سیدھا راستہ دکھانا " قصد " اور " قاصد " کے معنی اس سیدھے راستے کے ہیں جو انسان کو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) اور یہ یعنی سیدھے راستے بیان کرنا اس رحمن ورحیم نے اپنی بےپیاں رحمت و عنایت کی بناء پر خود اپنے ذمے لیا ہے۔ ورنہ اس پر کوئی چیز واجب نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر اس رب مہربان نے اپنے کرم واحسان کی بنا پر اپنے ذمے لیا ہے کہ وہ بندوں کو اس سیدھے راستے کی راہنمائی سے نوازے گا جو ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرسکے۔ اس لئے کہ ایسی سیدھی راہ سے اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی سرفراز کرسکتا ہی نہیں۔ اس لئے اس کو اس نے اپنے ذمے لیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا۔ (ان علینا للھدی) ۔ (الیل : 12) بیشک ہمارے ذمے ہے ہدایت و راہنمائی " اور اس نے اپنے وعدہ کو پورا فرما دیا اور باحسن وجوہ پورا فرما دیا طرح طرح سے اپنی توحید کے دلائل قائم فرما کر۔ اپنے رسول بھیج کر۔ اور اپنی کتابیں اتار کر۔ اب جو ہدایت سے محروم ہیں تو ہدایت سے محروم ہیں تو وہ خود اپنی بدبختی اور بدنیتی کی وجہ سے ہی محروم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور خاص کر خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے بعد آپ ﷺ کے ذریعے دنیا کو قرآن حکیم کے اس کامل ہدایت نامہ سے سرفراز فرما دیا گیا جو قیامت تک سب زمانوں اور جملہ انسانوں کے راہنمائی کے لیے کافی ووافی ہے۔ سو یہ کتاب عزیز ہے جس کو حضرت حق جل مجدہ نے (تبیانا لکل شی) یعنی " راہ حق و ہدایت میں ہر چیز کے لیے تبیان بناکر بھیجا ہے تاکہ راہ حق و ہدایت سے متعلق ہر ضرورت کی تکمیل کا سامان ہوسکے۔ فالحمد للہ جل وعلا۔ 16۔ ہدایت خداوندی کی عظمت و اہمیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے راستے ٹیڑھے بھی ہیں۔ جو اسلام کے خلاف متقضائے حق سے متصادم اور عقیدہ توحید سے منحرف ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں ہدایت خداوندی کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے بغیر انسان راہ حق سے سرفراز نہیں ہوسکتا۔ سو حق و ہدایت کی راہ ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی اسلام جو کہ دین فطرت ہے۔ اور اسی کو یکسو ہوکر اپنانے اور اختیار کرنے کی تعلم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (فاقم وجھک للدین حنیفا فطرۃ اللہ التی فطرالناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ذالک الدین القیم ولکن اکثر الناس لایعلمون) (الروم : 29) ۔ اسی کو رب نے وہ صراط مستقیم قرار دیا جو کہ اس تک پہنچنے اور پہنچانے والا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ (قاھذاصراط علی مستقیم) (الحجر : 14) اور اس ایک راہ کے سوا باقی سب راستے ٹیڑھے ہیں جو اس کی راہ سے ہٹانے والے ہیں۔ اس لئے اسی ایک راستے کو اپنانے اور پیروی کا حکم دیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ) (الانعام : 153) سو راہ حق اور صراط مستقیم ایک اور صرف ایک ہے جو کہ فطرت پر مبنی اور توحید و وحدانیت خداوندی کا راستہ ہے۔ جس کو حضرت حق جل مجدہ نے اپنے بندوں کے لیے خود بیان فرمایا ہے۔ اور اسی پر چل کر بندہ اپنے رب تک پہنچ سکتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (ان ربی علی صراط مستقیم) یعنی " بیشک میرے رب تک رسائی سیدھی راہ پر چل کر ہی نصیب ہوسکتی ہے "۔ 17۔ جبری ہدایت نہ مفید ہے نہ مطلوب : کیونکہ ابتلاء و آزمائش اور ثواب و عذاب کا دارومدار اسی ہدایت اور ایمان پر ہے جو اپنے ارادہ واختیار سے ہو ورنہ جبری ہدایت اگر مطلوب ہو تو اس کے لیے محض ارادہ اور ایک اشارہ ہی کافی تھا، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ چاہتا ہے تو (جبرا) تم سب ہی کو راہ ہدایت پر لے آتا، لیکن یہ چونکہ مقتضائے امتحان واختیار کے خلاف ہے اس لئے اس کی حکمت بالغہ نے ایسے چاہاجل جلالہ۔ ورنہ اس کے لیے تو اس قادر مطلق سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی مشیت اور اس کے ارادے کی دیر تھی اور بس۔ جونہی اس کا ارادہ ہوتاسب ایمان لاچکے ہوتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے۔ (فلوشآء لھدکم اجمعین) (الانعام : 150) نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (ولوشآء ربک لامن فی الارض کلہم جمیعا) الایۃ (یونس : 99) نیز فرمایا گیا (ان نشا ننزل علیہم من السمآء ایۃ فظلت اعناقہم لھا خاضعین) (الشعراء : 4) وغیرہ وغیرہ لیکن ایسا جبری اور غیر اختیاری ایمان تو سرے سے مطلوب ہی نہیں۔ مطلوب وہ ایمان ہے جو انسان اپنے قصد و ارادہ اور اختیار سے لائے۔ جو کہ مقتضائے حکمت اور تقاضائے اختیار و ابتلاء ہے اور وہی مدار ہے اجروثواب کا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، علی مایحب ویرید۔
Ayahs 16:10–11

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی تو ہے جو (ایک محیر العقول نظام کے ساتھ) آسمان سے تمہارے لئے پانی اتارتا ہے، جس سے تم پیتے بھی ہو، اور اسی سے درخت بھی (پیدا) ہوتے ہیں، جن میں تم (اپنے مویشیوں کو) چراتے بھی ہو،

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

وہ اس پانی کے ذریعے تمہارے لئے کھیتیاں بھی اگاتا ہے، اور زیتوں، کھجور، انگور اور قسم قسم کے دوسرے پھل بھی پیدا کرتا ہے، بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں

18۔ نعمت آب رسانی کی تذکیر و یاددہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی اتارا جس سے تم لوگ پیتے بھی ہو اور دوسرے طرح طرح کے فائدے بھی حاصل کرتے ہو۔ پس آب رسانی کا یہ محیرالعقول نظام جہان اس کی بےپایاں قدرت اور بےنہایت رحمت وحکمت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے وہاں یہ تمہاری اور تمام جانداروں کی زندگی اور اس دنیا کی رونق وچہل پہل کا بنیادی ذریعہ وسبب بھی ہے۔ فسبحانہ من الہ قادر قیوم۔ نیز یہیں سے تم یہ بھی سوچو کہ جس نے تمہاری جسمانی ضروتوں کی تکمیل کا اس طرح انتظام فرمایا ہے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان نہ فرمائے جو کہ ان مادی اور جسمانی ضرورتوں سے کہیں بڑھ کر اہم ہیں ؟ سو اسی ضرورت کی تکمیل کے لیے اس نے انبیائے کرام بھیجے وحی کا سلسلہ جاری فرمایا۔ کتابیں اتاری اور اپنے محمد رسول للہ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری کے ذریعے تکمیل فرما دی۔ اور آپ ﷺ خاتم الانبیاء قرار پائے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت خاتم الرسالات ﷺ قرار پائی۔ سو اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں ایک ہی خدائے قادر قیوم کی حکمرانی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے (اپنی بےپایاں حکمت اور بےنہایت قدرت و رحمت سے) تمہارے کام میں لگا دیا رات اور دن (کے اس عظیم الشان سلسلے) کو اور سورج و چاند (کے اس عظیم الشان کروں) کو، اور (اسی طرح) یہ ستارے بھی (تمہاری) خدمت میں لگے ہوئے ہیں اس کے حکم سے، بیشک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں

21۔ نظام شمس وقمر میں دعوت غور و فکر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے تمہارے لیے کام میں لگا دیا رات اور دن (کے عظیم الشان سلسلے) کو اور سورج اور چاند (کے ان عظیم الشان کروں) کو۔ جس کے ساتھ تمہارے طرح طرح کے اور بےحد وحساب مفادات وابستہ ہیں کہ ان سے روز وشب کا یہ سلسلہ قائم ہوتا ہے۔ موسم بدلتے ہیں۔ تمہارے پھل پکتے ہیں اور فصلیں تیار ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ کس قدر فضل وکرم اور رحمت عنایت ہے۔ یہ کس قدر فضل وکرم اور رحمت و عنایت ہے جس سے وہ تم کو نوازتا ہے اور تمہاری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر نوازتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ذرا سوچو تو سہی کہ رات اور دن کے ادلنے بدلنے کا یہ عظیم الشان سلسلہ کیسی حکمت اور کس قدر باریکی پابندی اور باقاعدگی سے تمہارے لئے مسلسل ولگا تار گردش میں ہیں۔ سو ان میں سے کوئی بھی انسان کا معبود ومسجود نہیں بلکہ ہر ایک اس کا خادم ہے۔ اور عبادت و بندگی کے لائق اور اس کی مستحق وہ ذات اقدس واعلیٰ ہے جس نے ان کو اس طرح تمہارے کام میں لگا دیا ہے۔ تو کس قدر بہکے بھٹکے اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو اپنے اس خالق ومالک کو چھور کر اپنے خادموں کے آگے جھکتے اور خود اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔ 22۔ عقلمندوں کے لئے بھاری نشانیاں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ان سب میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور اس طرح عظیم الشان اور پر حکمت نظام کے ساتھ ہمارے لئے مسخر کردی اور ہمارے کام میں لگا دیا۔ اور کیا حق ہے اس کا ہم پر ؟ سو ان سب میں دلائل اور نشانیاں ہیں اس قادر مطلق کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ، رحمت شاملہ اور عنائت بےنہایت کی سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو عقول سلیمہ رکھنے والے ان چیزوں کے بارے میں صحیح طریقے پر غور و فکر سے کام لے کر اپنے خالق ومالک کی معرفت سے سرشار ہوتے اور اپنے قلب وباطن کی دنیا کو ایمان یقین کے نور سے معمور ومنور کرنے کا سامان کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف اس کے نتیجے میں وہ حق و ہدایت کی اس صحیح راہ کو اپناتے ہیں جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی راہ ہے۔ جب کہ صحیح غور وفکر سے محروم لوگ انہی ظواہر و مظاہر میں الجھ کر اور پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ اور وہ انہی کو اپنا قبلہ مقصود بناکر اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈال دیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جو ہر عقل کا اصل کام اور مقصد یہ تھا اور یہ ہے کہ اس کے ذریعے صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیکر نور معرفت سے سرفرازی حاصل کی جائے لیکن افسوس کہ لوگوں نے عقل کے اس جوہر عظیم کو مادہ اور معدہ کا غلام بنادیا، اور اس کو خواہشات بطن وفرج کی تحصیل و تکمیل کے پیچھے لگا دیا۔ الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور یہ طرح طرح کی رنگ برنگی (اور گوناگوں) چیزیں جو اس نے پھیلائیں تمہاری نفع رسانی کے لیے اس زمین میں (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) ، بیشک اس میں بھی بڑی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سبق حاصل کرنا چاہتے ہیں،1

23۔ ہر پتہ معرفت پروردگار کا ایک دفتر : سو زمین میں طرح طرح کی رنگ برنگی اور ہر طرف پھیلی بکھری چیزوں میں بھی بھاری نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سبق لیتے ہیں کہ زمین ایک، پانی ایک، ہوا ایک،۔ سورج ایک وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس کے باوجود ان مختلف اشیاء میں یہ رنگ بھرے کس نے ؟ یہ قسما قسم ذائقے اور طرح طرح کے فوائد اور خواص ان کے اندر رکھے کس نے ؟ یہ کس کی بےنہایت قدرت، لامحدود و عنایت اور حیرت انگیز خلاقی وکرم گستری ہے ؟ اور کیا حق ہے اس وحدہ لاشریک کا ہم پر جس نے ہمیں طرح طرح کی ان نعمتوں سے نوازا ؟ سو اس سب میں بڑی بھاری نشانی ہے اس قادر مطلق مطلقہ حکمت بالغہ، عنایت شاملہ، اور وحدانیت، ویکتائی کی ان لوگوں کے لے جو عبرت پکڑتے اور سبق لیتے ہیں۔ سو انسان اگر صحیح طور پر غور کرتے تو اس کو ایک ایک شے میں درسہائے عبرت و بصیرت ملیں گے اور اس کے سامنے یہ حقیقت کھلتی اور نکھرتی جائے گی کہ ہر پتہ معرفت کردگار کا ایک دفتر ہے۔ اور اس طرح اس کے ایمان و یقین کی قوت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اور اس کا باطن منور سے منور ہوتا چلا جائے گا۔ لیکن یہ سب اسی صورت میں ممکن ومیسر ہوسکتا ہے جبکہ انسان ایسا چاہے۔ اور اس کے لیے وہ صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لے۔ ورنہ کتنی دنیا ہے جو اس واہب مطلق کی بخشی ہوئی ان گوناگوں نعمتوں سے دن رات اور ہر وقت طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہورہی ہے۔ مگر وہ حیوانوں کی طرح ان سے یہ فائدے اٹھاتی ہے اور کبھی ان کے بارے میں سوچتی بھی نہیں کہ یہ سب کس کا کرم واحسان ہے الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے تمہارے کام میں لگا دیا (اپنی رحمت و عنایت سے) سمندر (کے اس عظیم الشان ذخیرہ آب) کو، تاکہ تم لوگ اس سے ترو تازہ گوشت بھی کھاؤ اور اس سے زیب وزینت کی وہ مختلف چیزیں بھی نکالو جن کو تم لوگ پہنتے ہو، اور تم دیکھتے ہو کہ (کس طرح) چلتی ہیں یہ کشتیاں (اور دیوہیکل جہاز) سمندر میں، اس کے سینے کو چیرتے ہوئے (تاکہ تم اس سے طرح طرح کے فائدے حاصل کرسکو) اور تاکہ تم (اس کی آمدو رفت کے ذریعے) تلاش کرسکو اس کا فضل، اور تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو (اس واہب مطلق کا) ،2

24۔ سمندر کی تسخیر کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ (وہی) ہے جس نے کام میں لگا دیا سمندر کو جس کے نتیجے میں تم لوگ اس سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔ جس کا تقاضا یہ تھا کہ تم سراپا شکروسپاس بن کر اس وحدہ لاشریک کے آگے دل وجان سے جھک جاتے کہ اس نے محض اپنی قدرت و عنایت اور رحمت وکرم سے سمندر جیسی اس عظیم الشان مخلوق کو ہمارا خادم بنادیا۔ مگر تم میں سے کتنے لوگوں نے اس کی بجائے اسی سمندر کو اس کے پانی کو اپنا معبود بنادیا۔ اور انہوں نے جل پوجا کے نام سے اس کی پوجا شروع کردی۔ سو تم لوگ کتنے ناشکرے اور کس قدر بےانصاف لوگ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس نے اپنی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ سے سمندر کے اس عظیم الشان ذخیرہ آب کو تمہارے لئے ایسا مسخر کردیا کہ تم اس میں جہاز رانی کرتے، مال برداری کرتے، مچھلیاں پکڑتے اس سے موتی اور مونگے نکالتے ہو وغیرہ وغیرہ، سوسمندروں وغیرہ کی یہ تمام مخلوقات تمہاری خادم ہیں جن کو قدرت نے تمہارے کام میں لگا دیا، پس عقل اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم ان سے فائدہ اٹھا کر اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جاؤ۔ اور جھکے ہی رہو۔ 25۔ تازہ گوشت کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت بھی کھاؤ، یعنی مچھلی جو کہ بنابنایا اور نفیس ولذیذ گوشت ہے۔ سمندر کے کھارے پانی کو بھی دیکھو اور مچھلی کے اس تازہ اور لذیذ گوشت کو بھی دیکھو جو طرح طرح کے فوائد پر مشتمل ہے۔ اور قسما قسم کی وٹامنز (vitamins) سے بھرپور ہے۔ ایسے شور اور کھارے پانی سے ایسی نعمت کا نکالنا اور بھی اتنی بےحد وحساب مقدار میں کہ لاکھوں کروڑوں لوگ اس سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہیں۔ اور خدا ہی جانے کب سے اٹھاتے آرہے ہیں۔ آخر یہ سب کچھ کس کی بےمثل قدرت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ ہے ؟ مچھلی کے اس تازہ گوشت سے تم دن رات کھاتے، لطف اندوز ہوتے اور اس سے اور اس کے مختلف اجزاء سے طرح طرح کے کاروبار کرکے روپیہ کماتے ہو۔ سو تم لوگوں میں سے کتنی بڑی تعداد میں لوگ مچھلیاں پکڑتے اور ان کا شکار کرتے ہیں۔ اور حکومتوں کی حکومتیں سمندروں دریاؤں اور جھیلوں وغیرہ کے مختلف حصوں کو ماہی گیری وغیرہ کے لیے ٹھیکوں پر دیتی ہیں اور لاکھوں کروڑوں کی کمائی کرتے ہیں۔ سو تم لوگ ذرا سوچو تو سہی کہ ان بےحد وحساب خزانوں کو پیدا کس نے کیا ؟ سو وہی ہے اللہ وحدہ لاشریک خالق کل اور مالک مطلق سبحانہ وتعالیٰ جس نے اپنی قدرت بےپایاں اور عنایت وحکمت بےغایت سے تم لوگوں کے لیے یہ سب انتظام فرمائے۔ سو وہی ہے معبود برحق جو ہر قسم کی عبادت کا بلاشرکت غیرے حقدار ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 26۔ سامان زیب وزینت کی فراہمی کا انتظام : سو اسی نے خزانوں بھرے ان سمندروں کو تمہارے لئے مسخر کردیا تاکہ تم لوگ ان سے زیب وزینت کی طرح طرح چیزیں نکالو۔ مثلاموتی، مونگے اور ہیرے و جواہر وغیرہ وغیرہ۔ جو تمہاری عورتیں پہن کر تمہارے لیے بناؤ سنگار کرتی اور تمہارے ذوق نظر کی تسکین کا ذریعہ بنتی ہیں۔ تم لوگ زیب وزینت کے ان طرح طرح کے سامانوں کو سمندروں سے نکال نکال کر اور خاص پیمانوں سے اور باریک حساب کے ساتھ ناپ تول کر بھاری بھاری رقمیں حاصل کرتے ہو اور دولت کماتے ہو۔ اور ان میں رتی ماشہ بھی تم لوگ چھوڑنے اور معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ لیکن کیا تم لوگوں نے کبھی یہ سوچا کہ آخر وہ کون ہے جو سمندر کی تہ میں ان کے پہاڑوں کے پہاڑ اور ذخیروں کے ذخیرے پیدا کرتا ہے۔ اس کو تو تم نے کیا دیا ؟ سو اس کو بھول جانا کتنی بڑی بےانصافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو وہی اللہ ہے معبود برحق جو عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل کا حقدار ہے اور بلاشرکت غیرے حقدار ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 27۔ شکر نعمت کے تقاضے کا ذکر وبیان : چناچہ ان مختلف نعمتوں کے ذکر کے بعد تقاضاء نعمت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ تم شکر ادا کرو اس واہب مطلق اور خالق ومالک کا جس نے محض اپنے فضل وکرم اور رحمت و عنایت سے ان عظیم الشان نعمتوں، بےمثال عنایتوں اور عدیم النظیر کرم گستریوں سے تم کو نوازا ہے۔ تبارک وتعالیٰ ۔ اور اس کا شکر ادا کرنا تم پر حق بھی ہے اور اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا بھی ہے کہ اس سے تمہاری ان نعمتوں میں برکت آئے گی اور ان میں دوام نصیب ہوگا، ورنہ اس غنی مطلق کو تمہارے شکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ سو تم لوگ سوچو کہ اس واہب مطلق سے منہ موڑنا اس کے حق شکر کی ادائیگی میں غفلت و لاپرواہی برتنا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرنا اور ان کو کسی دیوی دیوتا یا کسی خود ساختہ سرکار اور بناوٹی ہستی کا کرم سمجھنا اور اس کی عنایت قرار دینا کس قدر بڑا ظلم ہے۔ اور کتنی بڑی ناشکری اور بےانصافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال، وسوء وانحراف۔
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے ڈال دئیے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے پہاڑوں کے) عظیم الشان لنگر زمین (کے اس کرے) میں، تاکہ یہ ڈگمگانے نہ لگے تم کو لیکر اور اسی نے جاری کر دئیے اس میں طرح طرح کے دریا، اور اس نے بنادئیے اس میں قسما قسم راستے تاکہ تم لوگ راہ پاسکو

28۔ زمین میں گاڑے گئے عظیم الشان لنگروں میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے زمین میں عظیم الشان لنگر ڈال دیئے تاکہ یہ تم کو لے کرڈولنے نہ لگے۔ اور اس طرح تمہارا آرام وسکون اور امن واستقرار خراب نہ ہوجائے۔ سودیکھو تو سہی اے لوگو کہ کیسی قدرت ہے اس قادر مطلق کی ؟ اور کتنا مہربان ہے وہ اپنے بندوں پر کہ دیوہیکل پہاڑوں کے ان عظیم الشان سلسلوں کو اس نے قدر عمدگی، مضبوطی اور حیرت انگیز طریق سے اوتاد " میخیں " بناکر پانی میں تیرتے زمین کے اس کرے میں گاڑ دیا۔ فسبحانہ من الہ عظیم قادر قیوم حکیم علیم جل وعلا۔ سو تم لوگ ذرا غور تو کرو کہ ایسے خدائے رحمن سے منہ موڑنا کتنی بڑی ناانصافی ہے ؟ تم لوگ کوہ پیمائی کے شوق میں بڑے بڑے خرچے کرتے ماؤنٹ ایورسٹ جیسی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے بڑے بڑے پاپڑ بیلتے اور بعض اوقات اس مقصد کے لئے اپنی جانوں تک کو داؤمیں لگا دیتے ہو مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ان عظیم الشان پہاڑی سلسلوں اور ان فلک بوس چوٹیوں کو وجود کس نے بخشا ؟ ان کو باقی اور برقرار کس نے رکھا ہے، اس کا ان پر کیا حق واجب ہوتا ہے ؟ اور اس کے حق کی ادائیگی کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ 29۔ بہتے دریاؤں اور ان کی فیض رسانی میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے جاری کردیئے زمین میں طرح طرح کے دریا جن سے تم لوگ طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو اور قسما قسم کی ضرورتیں پوری کرتے ہو۔ سو ذرا تم سوچو کہ تم لوگ اگر کوئی چھوٹی موٹی نہر بناتے تو اس کے لئے تم لوگوں کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور کس قدر مشقت اٹھانا پڑتی ہے اور کتنے بڑے بھاری مصارف برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ تو آخروہ کون ہے جس نے اس کرہ ارض پر جگہ جگہ ہزاروں لاکھوں میل لمبے یہ دریاجاری کردیئے ؟ جن میں بہنے والا صاف ستھرا اور موجیں مارتا پانی جو زمانوں سے مسلسل اور لگا تار چلا آرہا ہے آخر یہ کس کی قدرت، حکمت اور فیض رسانی کا نتیجہ ہے ؟ سو وہی ہے اللہ وحدہ لاشریک، سبحانہ وتعالیٰ ۔ 30۔ زمین میں پائے جانے والے راستوں میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسی نے قسماقسم کے راستے بنادئیے تاکہ تم لوگ راہ پاس کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی۔ اور اسی سے تم لوگ اس حقیقت تک رسائی بھی حاصل کرسکو کہ جس ذات اقدس واعلیٰ نے تمہاری ان دنیاوی ضرورتوں اور ظاہری راستوں کے لیے ایسے ایسے انتظامات فرمائے، آخر کیسے ممکن ہوسکتا ہے، کہ وہ تمہاری آخرت کی حقیقی اور دائمی منزل تک رسائی اور اس میں کامیابی سے سرفراز ہونے کے لیے راہنمائی کا انتظام نہ فرمائے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اسی لیے اس نے کائنات کی اس کھلی کتاب کے علاوہ اپنے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے اور ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں۔ مگر دنیا کی اکثریت ان سے منہ موڑ کر حیوانوں کی بلکہ اس سے بھی بدتر زندگی گزار رہی ہے۔ اور ان کے سامنے مادہ اور معدہ کی ضرورتوں کی تکمیل کے سوا کوئی مقصد نہیں۔
Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (ان راستوں کی پہچان کے لئے) اس نے رکھ دیں (زمین میں) طرح طرح کی نشانیاں، اور لوگ ستاروں سے بھی راہ پاتے ہیں،

31۔ زمین کی مختلف علامتوں اور نشانیوں میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس نے رکھ دیں اس زمین میں طرح طرح کی علامتیں اور نشانیاں، درختوں، دریاؤں اور پہاڑوں وغیرہ کی، ورنہ ایک سپاٹ زمین میں تمہارے لئے اپنے راستوں کو پانا ممکن نہ ہوتا، اور صرف زمینی نشانات پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ آسمان اور عالم بالا میں جھلمل جھلمل کرتے ستاروں کے نشانات بھی رکھ دیئے جن کو دیکھ کر لوگ راستے معلوم کرتے ہیں۔ سو اس سے ایک تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ تمہارا رب کتنا مہربان اور کس قدر قادر وقیوم ہے جو اپنے بندوں کی ضرورتوں کی تکمیل کا اس پر حکمت طریقے سے انتظام فرماتا ہے اور دوسری بڑی حقیقت اس سے یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ زمین اور آسمان کی اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ایک ہی ہے۔ اور وہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اور یہ اسی قادر مطلق اور حکیم مطلق کی قدرت مطلقہ وحکمت بالغہ کا نتیجہ وثمرہ ہے کہ زمین و آسمان کی اس حکمتوں بھری کائنات کے اندر کی یہ تمام چیزیں اس قدر پر حکمت طریقے اور گہرے توافق کے ساتھ انسان کے بھلے اور اس کی بہتری میں لگی ہوئی ہیں۔ سو متضاد اشیاء کے اندر پائی جانے والی یہ پر حکمت اور محیر العقول سازگاری حضرت حق جل مجدہ کی وحدانیت ویکتائی کی واضح دلیل ہے۔ سو زمین کے اندر پائے جانے والے یہ عظیم الشان نشانات (Landmarks) طرح طرح سے تمہاری راہنمائی کرتے ہیں۔ 32۔ ستاروں سے اہتداء و راہنمائی کی نعمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور لوگ ستاروں سے بھی راہ لیتے ہیں، یعنی صرف زمینی نشانیوں پر ہی اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ ان کے ساتھ ساتھ آسمان کی اس عظیم الشان چھت میں قسما قسم کے جگمگاتے ستاروں کی ان عظیم الشان اور بےمثل قندیلوں کا بھی انتظام فرما دیا تاکہ تم لوگ لق ودق صحراؤں اور وسیع و عریض سمندروں میں بھی ان کے ذریعے اپنی راہیں معلوم کرسکو اور پھر تم لوگ سوچو تو سہی کہ کیسا عظیم اور کتنا رحیم و کریم ہے تمہارا وہ رب جل جلالہ۔ جس نے تمہاری رہنمائی کے لئے ایسے عظیم الشان انتظامات فرمائے اور کیا حق بنتا ہے اس کا تم پر ؟ اور کتنا بڑا جرم اور کس قدر ظلم عظیم ہے کہ انسان اس وحدہ لاشریک خداوند قدوس سے منہ موڑ کر اوروں کے آگے جھکے ؟۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو کیا وہ ذات جو (یہ کچھ) پیدا کرتی ہے اس کے برابر ہوسکتی ہے جو (ان میں سے کچھ بھی) پیدا نہ کرسکے ؟ کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟

33۔ توحید خداوندی کی دلیل اس کی صفت خلق کے اعتبار سے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا وہ ذات جو سب کچھ پیدا کرے وہ ان کی طرح ہوسکتی ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکیں ؟ یعنی اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ یہ سب کچھ اسی نے کیا اور وہی کرتا ہے۔ اور بلاشرکت غیرے کیا ہے اور کرتا ہے جل وعلا۔ کہ وہی خالق کل بھی اور مالک کل بھی، اور ہر چیز اسی کی پیدا فرمودہ ہے۔ تو بھلا جو ہر چیز کا خالق ہو اور خاص کر ان عظیم الشان مخلوقات ومصنوعات کا جن کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے۔ وہ خالق کل ان کے برابر ہوسکتا ہے جنہوں نے نہ کچھ پیدا کیا ہو اور نہ ہی وہ پیدا کرسکتے ہیں ؟ نہیں ! اور ہرگز نہیں۔ تو پھر یہ مشرک لوگ ان بےحقیقت چیزوں کو اس خالق کل اور قادر مطلق کا شریک آخر کس طرح ٹھہراتے ہیں ؟ ان کی عقلوں کو آخر کیا ہوگیا ؟ اور یہ دوسری بےحقیقت چیزوں کے آگے کس طرح جھکتے ہیں ؟ کوئی کسی خود ساختہ دیوی دیوتا کے آگے۔ کوئی کسی فرضی سرکار کسی خود ساختہ ہستی من گھڑت آستانے اور کسی بنی ٹھنی قبر اور اپنے ساختہ پرداختہ کسی جبے قبے کے آگے۔ آخر ان لوگوں کی عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ اور ان کی مت کہاں اور کیسے مار دی گئی ؟ اور یہ اس طرح اندھے اور اوندھے کیوں ہوگئے ؟ (انی یؤفکون) ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ 34۔ معبودان باطلہ کی نفی ایک لفظ سے : کہ یہ کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے تو کیا وہ ذات جو سب کچھ پیدا کرے اس کی طرح ہوسکتی ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکتی ہو۔ یعنی تمہارے خود ساختہ معبودان باطلہ اور جب یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے، اور ہرگز وقطعا برابر نہیں ہوسکتے، تو پھر تم لوگ اے مشرکو ! ان کو اس وحدہ لاشریک کی عبادت میں شریک کس طرح مانتے ہو ؟ سو جب ان تمام عظیم الشان نعمتوں اور نشان قدرت کی تخلیق و ایجاد اور بخشش وعطاء میں اس وحدہ لاشریک کا کوئی بھی شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا کسی بھی درجے میں شریک وسہیم آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ جل جلالہ وعم نوالہ۔ سو قیام ورکوع، سجود وطواف، نذر ونیاز وغیرہ وغیرہ عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور کسی بھی قسم کی عبادت اس کے سوا کسی اور کے لیے بجالانا شرک اور ظلم عظیم ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور خالق اور معبود نہیں ہوسکتا۔ پس ایک لفظ وراشاد سے تمام معبودان باطلہ کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ والحمد اللہ رب العالمین۔
Ayahs 16:18–19

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور (ان مذکورہ بالا نعمتوں ہی پر کیا منحصر، وہ تو اتنی ہیں کہ) اگر تم لوگ اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو تم کبھی بھی انکو شمار نہیں کرسکو گے، (اسقدر نعمتوں پر بھی اس کی یہ ناشکری ؟ اور پھر بھی اس کی طرف سے یہ چھوٹ، بخشش اور رحمت ؟ ) بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا، انتہائی مہربان ہے

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور اللہ ایک برابر جانتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ چھپا کر کرتے ہو، اور جو تم اعلانیہ کرتے ہو،

35۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں لامحدود وبے شمار : ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ کی نعمتوں کو گننے لگے تو کبھی بھی گن کر پور انہیں کرسکوگے۔ کہ تم خود اور تمہاری گنتی کے سب ذرائع وسائل محدود ہیں۔ جب کہ اس کی نعمتیں لاتعداد وغیرمحدود۔ تو پھر محدود سے لامحدود کا احصاء و احاطہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تو پھر ایسے منعم حقیقی اور وہاب مطلق کے حق بندگی اور اس کے شکر سے منہ موڑنا کتنی بےانصافی ہے۔ اور جن کو تم لوگ گن بھی نہیں سکتے اس نے محض اپنی شان کریمی ورحیمی سے دنیا کو نوازا ہے۔ اور لوگوں کی طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر نوازا ہے جو کہ اس کا کرم بالائے کرم ہے سبحانہ وتعالیٰ سو اس سب کا حق یہ تھا اور یہ ہے کہ انسان دل وجان سے اس کے آگے جھک جھک کرجائے اور ہمیشہ جھکا ہی رہے۔ کہ یہی تقاضاء شکرواحسان ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب، ویرید وعلی مایحب ویرید۔ 36۔ اللہ تعالیٰ کی صفت مغفرت وبخشش کا حوالہ وذکر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے ‘ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی امتیازی شان اور اسی کا حلم وکرم ہے کہ وہ انسان کی ایسی ناشکری پر بھی اس کو زندگی بھر بلکہ نسل درنسل ڈھیل دئے جاتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی سے یہ ممکن ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ اس قدر عفو و درگزر سے کام ہے۔ سو اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان دل وجان سے اس کے آگے جھک جائے وباللہ التوفیق۔ بہرکیف وہ چونکہ بڑا ہی بخشنے والا اور انتہائی درگزر کرنے والا ہے اس لئے وہ تم کو فورا پکڑتا نہیں بلکہ ڈھیل پہ ڈھیل دیے جارہا ہے تاکہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر تم لوگ توبہ واستغفار کے ذریعے۔ اپنی اصلاح کرلو اور اس کے غضب اور اس کی گرفت وپکڑ سے بچ کر اس کی رحمت و عنایت کے مستحق وسزا وار بن سکو، اس طرح خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہوسکے، دنیا وآخرت دونوں میں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، اللہم فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم فانی تبت الیک۔
Ayah 16:20

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن ہستیوں کو یہ لوگ (پوجتے) پکارتے ہیں اللہ کے سوا، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتیں،

38۔ معبودان باطلہ کی بےحقیقتی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اور وہ خود مخلوق ہیں۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کے کوئی بےجان بت ہوں یا زندہ و مردہ انسانوں میں کوئی ہستی، جس کی بھی پوجا کی گئی یا کی جاتی ہے اس کا حال بہرکیف یہ ہے کہ وہ عاجز مخلوق ہے۔ اس میں خالقیت کی کوئی صفت نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ تو پھر تم لوگ ان کو خدوند قدوس کی خدائی میں آخر کس طرح شریک ٹھہراتے ہو ؟ اے مشرکو (الذین) کے کلمہ کریمہ کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ سو اس ارشاد ربانی سے یہی عمومی ضابطہ مستفاد ہوا کہ جو مخلوق ہو وہ معبود اور حاجت رواومشکل کشان نہیں ہوسکتی ہے ؟ سو معبود برحق وہی ہے اور وہی ہوسکتا ہے جو سب کا خالق اور جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اور وہ اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جس کی صفت ہے " حی لایموت " وہی سب کا حاجت رواومشکل کشا ہے۔ کائنات کی ہر شئی اپنے وجود اور اپنی بقاء میں اسی کی محتاج ہے۔ اور وہ غنی مطلق سب سے بےنیاز ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کے سوا جس کو بھی لوگوں نے معبود قرار دیا وہ باطل ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی شکل میں ہو۔ ایسے بےحقیقت معبودوں کے پجاریوں کے لئے بہرحال خسارہ ہی خسارہ ہے۔ سو یہ ایسا خسارہ ہے کہ اس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہوسکتا ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 16:21–22

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

بلکہ وہ تو خود (ایک عاجز) مخلوق ہیں، وہ تو مردہ ہیں نہ کہ زندہ، اور ان کو اس کی بھی کچھ خبر نہیں کہ لوگ کب (دوبارہ زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے،

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

(پس ثابت ہوا کہ) معبود تم سب کا ایک ہی معبود ہے، مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، ان کے دل اڑے ہوئے ہیں (حق و صداقت کے) انکار پر، اور وہ مبتلا ہیں اپنی (جھوٹی) بڑائی کے گھمنڈ میں،1

39۔ معبودان من دون اللہ کی بےعلمی اور بیخبر ی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو کچھ خبر نہیں کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ نہ ان کو خود اپنے بارے میں کوئی علم ہے اور نہ دوسروں کے بارے میں کی ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اگرچہ عام طور پر اس ارشاد ربانی کو بتوں پر محمول کیا جاتا ہے لیکن لفظ (یبعثون) جو کہ " بعث " سے ماخوذ ہے اس کا مفہوم متبادر اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ " بعث " کے معنی دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ معنی اس ارشاد کو لکڑی پتھر کے بےجان اور بےحس بتوں پر محمول کرنے سے اباء کرتا ہے۔ کیونکہ بتوں کے اندر پہلے کوئی زندگی تھی ہی نہیں کہ ان کے دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کا سوال پیداہو۔ اس لئے " بعث " کا مفہوم اپنے ظاہر اور متبادر معنی کے اعتبار سے اگر صادق آتا ہے تو حضرات انبیاء و صالحین کی ان پاکیزہ ہستیوں پر صادق آتا ہے جن کو ان کے غالی معتقدین نے اپنے غلو کی بناء پر اور ان کی تعلیمات کے خلاف خدائی صفات سے موصوف مانا۔ اور ان کو کہیں " ابن اللہ " قرار دیا اور کہیں انکو " داتاگنج بخش "، " غریب نواز " وغیرہ وغیرہ جیسی خدائی صفات سے موصوف کیا۔ اور ان کو اپنی حاجت روائی ومشکل کشائی کے لئے پکارا۔ والعیاذ باللہ۔ مشرکین عرب کے یہاں " ود "، " سواع "، " یغوث "، " یعوق " اور " نسر " کے نام سے جو پانچ بت پائے اور پوجے جاتے تھے وہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق قوم نوح کے ان پانچ بزرگ ہستیوں کے نام پر بنائے گئے تھے جن کے غالی عقیدت مندوں نے ان کی موت کے بعد انہی کے نام سے ان کو گھڑ لیا تھا۔ تاکہ اس طرح ان بتوں کے پاس بیٹھ کر وہ اپنے ان بزرگوں کی یاد تازہ کریں۔ اور بعد میں شیطان کی تلبیس وتحریک پر انہوں نے انہی کی پوجا شروع کردی تھی ، (روح، تفسیر عثمانی ، ، موضع القرآن، تفہیم القرآن وغیرہ) ۔ حضرت عائشہ، ؓ سے ایسی ہی روایت مروی ہے۔ اسی لیے حضرت شاہ عبد القادر (رح) اپنے حاشیہ موضح القرآن میں فرماتے ہیں کہ یہ شاید ان کو فرمایا جو مرے بزرگوں کی پوجتے ہیں بہرکیف اس ارشاد ربانی سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے فرضی اور وہمی معبودوں کو پوجنا پکارنا عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی۔ اور یہ کھلا شرک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یقیناً اللہ ان کے وہ سب کرتوت بھی جانتا ہے جو یہ لوگ چھپا کر کرتے ہیں، اور وہ سب بھی جو یہ اعلانیہ کرتے ہیں، بیشک وہ پسند نہیں فرماتا اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنے والوں کو،2

40۔ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم اور گھمنڈ باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ متکبرین کو پسند نہیں فرماتا یعنی ان کو جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں مبغوض ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ صاف وصریح طور پر اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنے والوں کو کہ برائی فقط اسی ذات وحدہ لاشریک کو سزا وار ہے جو سب کی خالق ومالک ذات ہے۔ باقی تو سب عاجز مخلوق ہیں۔ وھو الکبیر المتعال، اکبر من کل کبیر جل جلالہ وعز برھانہ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنا خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے کیونکہ اس کی بناء پر انسان قبول حق و ہدایت کی سعادت سے اور اس کے نتیجے میں حق تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے ان لوگوں کے کفر وانکار کے اصل سبب اور باطنی محرک کی نشاندہی فرما دی گئی کہ وہ ہے ان استکبار، یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ۔ اور ان کے دلوں میں بیٹھے استکبار کے اسی خناس نے ان کی راہ کھوٹی کردی۔ اور اسی نے ان کو قبول حق و ہدایت سے محروم کر رکھا ہے۔ اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ لوگ حق کو حق جانتے ہوئے بھی جھٹلا رہے ہیں اور باطل سمجھتے ہوئے بھی انہوں نے اس کو اپنے سینوں سے لگا رکھا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہری کفر وانکار اور اس کے اصل سبب اور باطنی محرک کو ایک برابر جانتا ہے۔ سو ایسے مغروروں اور متکبروں کو وہ پسند نہیں فرماتا بلکہ یہ اس کے دشمن اور مبغوض ہیں۔