An-Nahl 16:91

An-Nahl · from ayah 91

16:91

وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ۟وَ اَوۡفُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ اِذَا عَاهَدتُّمۡ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَيۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡكِيۡدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيۡلًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ‏

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And fulfill the covenant of Allah when you have taken it, [O believers], and do not break oaths after their confirmation while you have made Allah, over you, a witness. Indeed, Allah knows what you do.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 13 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:91

اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول وقرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حاﻻنکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو، تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب تم نے کوئی معاہدہ کیا ہو تو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو، اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد انہیں نہ توڑو، جبکہ تم اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو، یقینا اللہ اسے جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، بیشک تمہارے کام جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اللہ کا عہد پورا کر دیا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو پختہ کر لینے کے بعد انہیں مت توڑا کرو حالانکہ تم اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بنا چکے ہو، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ کا عہد پورا کرو جب آپس میں عہد کرو اور قسموں کو ان کے پختہ کرنے کے بعد مت توڑو، حالانکہ یقینا تم نے اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بنایا ہے۔ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر تم نے اللہ سے کوئی عہد کیا ہو تو اسے پورا کرو۔ اور اپنی قسموں کو پکا کرنے کے بعد مت توڑو۔ جبکہ تم اپنے (قول وقرار) پر اللہ کو ضامن بناچکے ہو جو تم کرتے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو، جب کہ تم وہ باندھ چکے ہو، پورا کرو اور قسموں کو ان کو موکد کرنے کے بعد مت توڑو در آنحالیکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ ٹھہرا چکے ہو۔ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پورا کرو تم لوگ اللہ کے عہد کو، جب کہ تم آپس میں کوئی عہد کرو، اور اپنی قسموں کو توڑنا نہیں، ان کو پکا کرنے کے بعد، درآنحالیکہ تم لوگ خود اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو، بیشک اللہ خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور پورا کرو اللہ کے عہد کو جب تم عہد کرچکے ہو۔ اور قسموں کو بعد ان کے استحکام کے مت توڑو درآنحالیکہ تم اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ کہ تم کرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم عہد کرچکے ہو اور اپنی قسموں کو مت توڑو مضبوطی سے باندھنے کے بعد جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ ٹھہرا چکے ہو یقیناً اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب اللہ سے پکا عہد کرو تو اس کو پوررا کرو اور جب پکی قسمیں کھائو تو ان کو مت توڑو کہ تم اللہ کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And fulfil the covenant which you have made with Allah and do not break your oaths after having firmly made them, and after having made Allah your witness. Surely Allah knows all that you do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Fulfill the Covenant of Allah when you pledge, and do not break oaths after you swear them solemnly, while you have made Allah a witness over you. Surely, Allah knows all that you do.

— Muhammad Taqi Usmani

Fulfill the Covenant of Allah when you pledge, and do not break oaths after you swear them solemnly, while you have made Allah a witness over you. Surely, Allah knows all that you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And fulfill the covenants (taken in the Name of) Allah when you have taken them, and do not break the oaths after you have confirmed them - and indeed you have appointed Allah as your guarantor. Verily, Allah knows what you do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Fulfil the covenant of Allah when ye have covenanted, and break not your oaths after the asseveration of them, and after ye have made Allah surety over you. Lo! Allah knoweth what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And fulfill the covenant of Allah when you have taken it, [O believers], and do not break oaths after their confirmation while you have made Allah, over you, a witness. Indeed, Allah knows what you do.

— Saheeh International

(He commands people) to keep their established covenants with God, not to disregard their firm oaths; they have already appointed God as their Guarantor. God certainly knows what you do.

— Muhammad Sarwar

And fulfill the covenant of Allah when you have made a covenant, and do not break the oaths after making them fast, and you have indeed made Allah a surety for you; surely Allah knows what you do.

— Muhammad Habib Shakir

And fulfil the covenant of Allahs when ye have covenanted, and violate not the oaths after the ratification thereof, and surely ye have appointed Allah a surety over you. verily Allah knoweth that which ye do:

— Abdul Majid Daryabadi

Fulfil the Covenant of Allah when ye have entered into it, and break not your oaths after ye have confirmed them; indeed ye have made Allah your surety; for Allah knoweth all that ye do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–92

عہد و پیمان کی حفاظت اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے۔ اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں واللہ میں جس چیز پر قسم کھا لوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 90–91

سورة النَّحْل 88 اس مختصر سے فقرے میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جب پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے۔ پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو۔ دوسرے یہ کہ اس کا حق بےلاگ طریقہ سے دیا جائے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کو لفظ ”انصاف“ سے ادا کیا جاتا ہے، مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہو۔ اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیے گئے ہیں جو سراسر فطرت کے خلاف ہے۔ دراصل عدل جس چیز کا تقاضا کرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ایفاء عہد کا حکم اور عہد شکنی کی مذمت اور تم اللہ کے عہد کو (یعنی جس عہد کے پورا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو) پورا کرو (اس سے وہ نکل گیا جو خلاف شرع عہد ہو اور باقی سب عہود مشروعہ خواہ متعلق حقوق اللہ کے ہوں یا متعلق حقوق العباد کے ہوں اس میں داخل ہوگئے) جبکہ تم اس کو (تخصیصا یا تعمیما) اپنے ذمہ کرلو (تخصیصا یہ کہ صراحۃ کسی کام کا ذمہ لے لیا اور تعمیما یہ کہ ایمان لائے تو تمام احکام واجبہ کی ذمہ داری اس کے ضمن میں آگئی) اور (بالخصوص جن عہود میں قسم بھی کھائی ہو وہ زیادہ قابل اہتمام ہیں سو ان میں) قسموں کو بعد ان کے مستحکم کرنے کے (یعنی اللہ کا نام لے کر قسم کھانے کے) مت توڑو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 91 تا 95:۔ یہود کو ملامت : آگے کی آیات میں خطاب یہود سے ہے اور یہ خطاب بغیر نام لیے اچانک اس طرح سامنے آگیا ہے جس طرح خطیب بسا اوقات محض رخ کی تبدیلی سے روئے سخن کو بدل دیتا ہے۔ اگرچہ وہ نام نہیں لیتا کہ خطاب کن سے ہے لیکن اس کی باتیں خود مخاطب کو معین کردیتی ہیں۔ یہود اس مرحلہ میں اسلام کے باب میں غیر جانبدار نہیں رہ گئے تھے بلکہ وہ اس سے خطرہ محسوس کرکے اس کی مخالفت کے لیے اندر اندر سازشوں میں مصروف ہوگئے تھے۔ انہوں نے قریش کے ان لیڈروں کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تھی جو اس دعوت سے روکنے کے لیے پورے جوش خروش سے میدان میں نکل آئے تھے۔ قرآن نے یہاں یہود کی اسی حرکت پر ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

91۔ 1 قَسَم ایک تو وہ ہے جو کسی عہد و پیمان کے وقت، اسے مزید پختہ کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو انسان اپنے طور پر کسی وقت کھا لیتا ہے کہ میں فلاں کام کروں گا یا نہیں کروں گا۔ یہاں آیت میں اول الذکر قسم مراد ہے کہ تم نے قسم کھا کر اللہ کو ضامن بنا لیا ہے۔ اب اسے نہیں توڑنا بلکہ عہد و پیمان کو پورا کرنا ہے جس پر تم نے قسم کھائی ہے۔ کیونکہ ثانی الذکر قسم کی بابت تو حدیث میں حکم دیا گیا ہے کہ ' کوئی شخص کسی کام کی بابت قسم کھالے، پھر وہ دیکھے کہ زیادہ خیر دوسری چیز میں ہے (یعنی قسم کے خلاف کرنے میں ہے) تو بہتری والے کام کو اختیار کرے اور قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرے، نبی کا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 86–91

37: اس موقع پر ان بتوں کو بھی سامنے لایا جائے گا جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے، تاکہ ان کی بیچارگی سب کے سامنے واضح ہو، اور ان شیاطین کو بھی جن کی پیروی کر کے گویا ان کو خدا کا شریک بنا لیا تھا۔ 38: عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے، اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زبان حال سے یہ بات کہیں اور شیاطین یہ بات کہہ کر ان سے اپنی بےتعلقی کا اظہار کریں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم ولا تنقضوا الایمان بعد تو کیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا ان اللہ یعلم یا تفعلون (61 : 19) ” اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو ، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو۔ جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہیں۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے “۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد میں مسلمانوں کی طرف سے نبی ﷺ کے ساتھ کیا ہوا عہد بھی شامل ہے ، اور وہ عہد بھی شامل ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ نیز کسی بھی انسانی سوسائٹی میں تعلقات کا قیام صرف اسی وجہ سے ہے کہ لوگ عہد کا احترام کریں۔ اس کے بغیر تو کوئی معاشرہ قائم ہی نہیں رہ سکتا۔ نہ انسانیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 اوپر کی آیت میں جن چیزوں کے کرنے یا چھوڑنے کا حکم تھا ان کے بعض افراد کو بالتخصیص بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ایفائے عہد کی تاکید اور غدر و بدعہدی سے ممانعت کی یہ چیز علاوہ فی نفسہ مہتم بالشان ہونے کے اس وقت مخاطبین کے بہت زیادہ مناسب حال تھی جس کا مسلم قوم کے عروج و ترقی اور مستقبل کی کامیابی پر بےانتہاء اثر پڑنے والا تھا۔ اسی لیے حکم دیا کہ جب خدا کا نام لے کر اور قسمیں کھا کر معاہدے کرتے ہو تو خدا کے نام پاک کی حرمت قائم رکھو۔ کسی قوم سے یا کسی شخص سے معاہدہ ہو (بشرطیکہ خلاف شرع نہ ہو) مسلمان کا فرض ہے کہ اسے پورا کرے، خواہ اس میں کتنی ہی مشکلات اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑے۔ " قول مرداں جان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 91 وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ یہاں بنی اسرائیل کا وہ وعدہ مراد ہے جس کی تفصیل بعد میں مدنی سورتوں میں آئی۔ مدنی سورتوں میں ان کے اس عہد کا بار بار ذکر کیا گیا ہے : وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ البقرۃ : 63۔ یہاں پر اس عہد کی تفصیل میں جائے بغیر صرف اس کا تذکرہ کردیا گیا کہ ”عاقلاں را اشارہ کافی است“۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے صاحبان علم و بصیرت بات کو سمجھنا چاہیں تو سمجھ لیں۔ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ یعنی یہ عہد تم نے اللہ کو گواہ بنا کر اور اللہ کی قسمیں کھا کر باندھا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

94 عہد یا معاہدوں کی تین قسمیں :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین طرح کے عہد بتا کر انھیں پورا کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ان میں سے ایک تو عہد الست ہے اور یہ سب سے اہم ہے اور اس کا ذکر پہلے کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔ دوسرے وہ عہد جو ایک فرد دوسرے فرد سے اللہ کو گواہ بنا کر پختہ کرتا ہے۔ اسی طرح تیسرے وہ حلفیہ معاہدات ہیں جو ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ سے اور ایک قوم دوسری قوم سے یا ایک حکومت دوسری حکومت سے کرتی ہے۔ غرض معاہدہ کسی قسم کا ہو اسے بہر صورت نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس سے فرار کی راہیں تلاش نہیں کرنی چاہیں۔ موقع پرستی اور مفاد پرستی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اپنے لیے ساز گار حالات دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

142۔ (خواہ صراحۃ خواہ دلالۃ والتزاما) (آیت) ” بعھد اللہ “۔ اس کے عموم میں ہر وہ عہد آگیا، جو شریعت کے موافق ہو، خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہو، خواہ حقوق العباد سے متعلق ہو، اس کے اطلاق سے باہر صرف وہ عہد رہ جاتے ہیں، جو خلاف شریعت ہیں، المراد منہ کل عہد یلتزمہ الانسان باخیتارہ (کبیر) قال القاضی العھد یتناول کل امر یجب الوفاء بمقتضاہ (کبیر) 143۔ (ان معاہدات کا، انہی قسموں کے ذریعہ سے) (آیت) ” بعد توکیدھا “۔ اللہ کا واسطہ درمیان میں لا کر معاہدہ اور مؤکدو مستحکم ہوجاتا ہے، اے بعد توثیقھا بذکر اللہ (بیضاوی) 144۔ (اور معاوضہ بھی ہر صورت اسی کے مطابق دے گا) والمرادفیجازیکم علی ما تفعلون (کبیر) وفاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 90–100

آیت نمبر 90 تا 100 ترجمہ : بلا شبہ اللہ تعالیٰ عدل (یعنی) توحید یا انصاف اور احسان (یعنی) اداء فرائض کا یا (اس طرح) عبادت کرنے کا گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اہتمام کرنے کی وجہ سے خاص طور پر قرابتداروں کا ذکر کیا ہے حالانکہ احسان کے عموم میں وہ بھی داخل ہیں حکم دیتا ہے اور (اللہ) فحش یعنی زنا اور شرعًا منکرات سے مثلاً کفر و معاصی، اور لوگوں پر ظلم کرنے سے منع کرتا ہے (ممانعت ظلم کو اہتمام کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ تو نھی عن الفحش میں ظلم بھی داخل ہے) امرو نہی کی تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو، (تذکرون) میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم اس عہد کو (خصوصاً یا عموماً ) اپنے ذمے لے لو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد مت توڑو اور تم تو خود (اپنی قسموں) پر اللہ کو گواہ بنا چکے ہو۔ عَھْد پختہ اقرار۔ ابن جریر نے حضرت بریدہ کی روایت سے لکھا ہے کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے بیعت لینے (اور رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے) کے متعلق نازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے : عہد اس جگہ بمعنی قسم ہے۔ شعبی نے کہا : (اس جگہ) عہد بمعنی قسم ہے اور اس کو توڑنے کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ اَلْاِیْمَان یعنی بیعت کے عہد یا عام قسمیں۔ بَعْدَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) اور تم اللہ تعالیٰ کے وعدے کو پورا کرو، جب کہ تم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس کے پورا کرنے کو اپنے ذمہ لے لو، یہ آیت مبارکہ مراد اور کندہ کے بارے میں نازل ہوئی اور اپنے درمیان ان وعدوں کو پختہ کرنے کے بعد مت توڑو اور تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بھی بنا چکے ہو، مطلب یہ کہ یہ کہا کرو کہ ہماری دونوں جماعتوں میں جو عہد و پیمان ہوا ہے اس پر اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور خواہ وفا عہد ہو یا نقص عہد، اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وافوا بعہد اللہ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ رسول اکرم ﷺ نے جو بیعت فرمائی ہے اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ : احکام الٰہی پورے کرنے کا عہد جو ایمان لانے کی صورت میں کیا ہے، یا آپس میں ایک دوسرے سے جائز طور پر کیے گئے عہد و پیمان۔ (شوکانی) ”عٰهَدْتُّمْ“ باب مفاعلہ سے ہے، مراد کسی دوسرے کے ساتھ کیا ہوا عہد ہے۔ وَلَا تَـنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا۔۔ : پکا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ جن قسموں کو پکا نہ کیا گیا ہو ان کا توڑنا جائز ہے، کیونکہ ہر وہ عہد جس پر قسم کھائی جائے اس پر اللہ تعالیٰ کو ضامن بنایا جاتا ہے اور وہ پکا ہوجاتا ہے اور اسے بلاعذر توڑنا جائز نہیں، بلکہ عہد توڑنا نفاق کی علامت ہے۔ بعض قسمیں انسان خود اٹھا لیتا ہے کہ میں ایسا کروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 91 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : واوفوا بعھد اللہ یہ لفظ عام ہے اور ان تمام عقدوں اور معاہدوں کو شامل ہے جو زبان کے ساتھ کئے جاتے ہیں اور آدمی اسے لازم کرلیتا ہے بیع ہو یا صلہ ہو یا ایسے امر کے بارے معاہدہ ہو جو دین کے موافق ہو۔ اور یہ آیت اس قول کو ضمن میں لینے والی ہے : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان کیونکہ اس کا معنی اس میں ہے : تم اس طرح کرو، اور اس سے باز رہو، پس اسی تقدیر پر اس کا عطف کیا گیا ہے۔ تحقیق یہ کہا گیا ہے : بیشک یہ آیت اسلام پر حضور نبی رحمت ﷺ کے بیعت لینے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ای حلف کے لازم ہونے کے بارے میں نازل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے جابر ؓ سے (آیت) ” واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کی بیعت کرنے کے بارے میں نازل ہوئی جو شخص مسلمان ہوتا ہے گویا وہ اسلام پر بیعت کرتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم ولا تنقصوا الایمان بعد توکیدھا “ یعنی تم کو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ کی قلت اور مشرکین کی کثرت اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بیعت کو توڑ دو جو تم نے اسلام پر بیعت کی ہے۔ 2:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا “ یعنی سخت قسم کھانے کے بعد (آیت) ” وقد جعلتم اللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَوْفُوْا : اور تم لوگ پورا کرو ] [ بِعَهْدِ اللّٰهِ : اللہ کے عہد کو ] [ اِذَا : جب بھی ] [ عٰهَدْتم : تم لوگ باہم معاہدہ کرو ] [ وَلَا تَـنْقُضُوا : اور مت توڑو ] [ الْاَيْمَان : قسموں کو ] [ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا : ان کو پکا کئے جانے کے بعد ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ قَدْ جَعَلْتم : تم لوگ بنا چکے ہو ] [ اللّٰهَ : اللہ کو ] [ عَلَيْكُمْ : اپنے آپ پر ] [ كَفِيْلًا ۭ: ایک ضامن ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ تَفْعَلُوْن : تم لوگ کرتے ہو ] و ک د [وَکُوْدًا : (ض) کسی جگہ اقامت کرنا۔ کسی کام کی مشق کرنا۔] [تَوْکِیْدًا : (تفعیل) معاہدہ کو پکا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

عہدوں اور قسموں کو پورا کرنے کا حکم عدل و احسان کا حکم فرمانے کے بعد ایفائے عہد کا حکم فرمایا، گو ایفائے عہد بھی عدل و احسان میں داخل ہے لیکن خصوصی طور پر اس کا حکم فرمایا تاکہ لوگ اسے مہتم بالشان سمجھیں اور اپنی زندگی میں اس کا خاص خیال رکھیں، آپس میں جو عہد ہوتے ہیں چونکہ ان میں قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں اور آپس میں ان کے ذریعہ فساد بھی ڈال دیا جاتا ہے اس لیے قسموں کے بارے میں بھی تنبیہ فرمائی کہ ان کی پاسداری کرو اور قسم کھانے کو یا قسم توڑنے کو آپس میں فساد کرنے کا ذریعہ مت بناؤ۔ اولاً یوں فرمایا (وَ اَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰھَدْتُّمْ ) (اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم عہد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–100

تلقین مکارم اخلاق محاسن اعمال و آداب قال اللہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان .... الیٰ .... والذین ہم بہ مشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ یہ قرآن پر شے کا بیان ہے اور وہ ایک جامع کتاب ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اور اہل ایمان کے لیے بشارت ہے اب ان آیات میں بتلاتے ہیں کہ یہ قرآن جو اللہ نے آپ ﷺ پر نازل کیا ہے وہ تمام مکارم اخلاق اور محاسن آداب اور اعمال خیر کا حکم دیتا ہے اور تمام برائیوں اور بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں سے منع کرتا ہے اور قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کی اصلاح کرتا ہے کہ نہ کوئی فحش بات زبان سے نکالو اور نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ قسم کھا کر توڑو اور نہ خدا سے بدعہدی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

74:۔ یہاں عہد سے ایمان و اسلام کا عہد مراد ہے جو ہر آدمی اسلام قبول کرتے وقت یا بالغ ہوتے وقت اللہ تعالیٰ سے کرتا ہے۔ یعنی ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنا اور اسلام کے تمام احکام و حدود کی پابندی کرنا۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ مبارک پر دین اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کی تھی۔ اس میں مسلمانوں کو اس عہد بیعت پر قائم رہنے کی تاکید کی گئی۔ عھد اللہھی البیعۃ لرسول اللہ ﷺ علی السلام لقولہ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ الخ (کبیر ج 5 ص 513، مدارک ج 2 ص 329) ۔ ” بعد توکیدھا الخ “ یعنی اپنے عہدوں کو مضبوط اور پختہ کرنے کے بعد مت توڑو کیونکہ تم نے اللہ کا نام لے کر عہد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 91–95

(ربط آیات) گذشتہ سے پیوستہ درس میں قرآن کریم کی جامعیت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو (آیت) ” تبیانا لکل شیئ “ بنایا ہے یعنی اس کتاب میں بنیادی طور پر ہر چیز کی وضاحت موجود ہے ، اس کے بعد گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جامع ترین آیت (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ میں تین مثبت اور تین منفی اشیاء کا ذکر فرمایا یعنی تین کام کرنے کا حکم دیا اور تین سے منع فرما دیا ، کرنے والے امور میں عدل واحان اور قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی ہے اور روکنے والے کام بےحیائی ، برائی اور سرکشی ہیں ، یہ آیت کریمہ قرآن کے تبیان کی بہترین مثال ہے کہ کوئی اچھی یابری چیز ایسی نہیں جو ان چھ باتوں سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَلَا تَـنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ 91؀ وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( وی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–91

تفسیر : روز حشر کی کیفیت کے بعد وہ باتیں ذکر فرماتا ہے کہ جن پر عمل کرنے سے محشر میں کامیابی ہو۔ ان اللہ الخ اس آیت میں انسان کے مکارم اخلاق و تدبیر منزل سیاست مدن کے سب مسائل آگئے جن کی تفصیل کو ایک دفتر درکار ہے انسان کے یا تو وہ معاملات ہیں جو خدا تعالیٰ سے متعلق ہیں عقائدِ صحیحہ و اعمال صالحہ یا وہ ہیں جو باہم آپس میں ایک دوسرے کے متعلق ہیں بیع شراء ‘ سیاست ملک ‘ والدین و اولاد اقارب کے ساتھ برتائو۔ ان دونوں قسموں کے پھر صدہا اقسام ہیں پس ان سب کو برابر اور پورا پورا ادا کرنا عدل ہے۔ یہ عبادات معاملات سب میں ہے یہ حکم سب پر فرض ہے۔ اس کے بعد اس پر ایک عمدگی کا رتبہ ہے جس کو احسان کہتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰہَدْتُّمْ وَلاَ تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَتَوْکِیْدِھَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلاً ط اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 91) (اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو، جب تم نے اس سے عہد کرلیا اور اپنی قسمیں نہ توڑو، انھیں پختہ کرنے کے بعد حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ ) ایفائے عہد پر زور گزشتہ آیت کریمہ میں کچھ اوامرونواہی دیے گئے ہیں جن کی اصل روح مکارمِ اخلاق اور اخلاقی قدروں کی ہے۔ چناچہ اب اسی سلسلے کی ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جس پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر عمل کرنا اور اس کی نافرمانی کے کاموں سے رکنا حقیقت میں ایک عہد ہے جس کی پاسداری ہر شخص پر لازم ہے۔ پہلاعہد وہ عہد ہے جو کلمۂ طیبہ کے الفاظ میں ہر مسلمان اپنے رب سے کرتا ہے یہ اس عہد کی تجدید اور اعادہ ہے جو ازل کے دن قالُوْا بَلٰی کہہ کر ہر انسان نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا۔ جس کی عہد شکنی کرنا کفر ہے۔ دوسرا عہدوہ ہے جو ایک انسان یا افراد ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس عہد کی پاسداری کرنا بھی ہر کسی پر لازم ہے۔ قسم اٹھانا بھی عہد کی ایک صورت ہے۔ بلکہ یہ پختہ عہد ہوتا ہے۔ اس کی پاسداری کا یہ کہہ کر حکم دیا گیا ہے کہ خاص کر جب تم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عہد پورا کرو : 91: وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللّٰہِ اِذَا عٰھَدْتُّمْ (اور تم اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو پورا کرو جب تم عہد کرو) اس سے رسول ﷺ کی بیعت مراد ہے جیسا کہ دوسرا مقام پر فرمایا ان الذین یبا یعونک انما یبایعون اللّٰہ ] الفتح : 10[ بیشک وہ لوگ جو آپ سے بیعت کرتے ہیں۔ بیشک وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنے والے ہیں۔ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ (اور تم قسموں کو مت توڑو) بیعت والی قسم مراد ہے۔ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا (اس کے پختہ کرنے کے بعد) اس کے بعد کہ اس کو اللہ تعالیٰ کے نام سے مضبوط کیا۔ اور اکّد اور وکّد یہ دو فصیح لغات ہیں۔ نحو : اور اصل وائو ہے۔ اور ہمزہ اس کے بدلے میں آتی ہے۔ وَقَدْ جَعَلْتُمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (91)” واوفو ابعھد اللہ اذا عاھدتم “ عہدیہاں پر یمین کے معنی میں ہے۔ شعی (رح) کا قول ہے کہ عہد یمین ہے اور اس کا کفارہ کفارہ یمین ہے ۔” ولا تنقضو ا الایمان بعدتو کیدھا “ اس کے پختہ ہوجانے کے بعد پھر اس قسم سے حانث ہوجائو۔ ” وقد جعلتہم اللہ علیم کفیلا “ اس قسم کو پورا کرنے کا گواہ۔ ” ان اللہ یعلم ما تفعلون “ اس آیت کے نزول میں اختلاف ہے، اگر اس کا حکم عام ہے اس صورت میں جن لوگوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اللہ نے ان کو اس بیعت کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول حلف جاہلیت کے متعلق ہوا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقض عہد کی مثال بیان فرمائی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–92

91۔ 92۔ اوپر کی آیت میں جن احکام کا ذکر تھا اس میں سے ایفائے عہد کو اللہ جل شانہ نے خاص طور پر علیحدہ بیان فرمایا اور یہ عہد علم ہے خواہ بیعت کا عہد ہو خواہ کوئی اور عہد ہو غرض انسان رات دن اپنے معاملات دینی یا دنیاوی جو قول وقرار کیا کرتا ہے اس کے خلاف کرنے کو منع فرمایا کہ جب تم کسی بات کا عہد کرو تو اس کو پورا کرو اور اگر کسی بات پر قسم کھاؤ تو اس کو توڑو نہیں اور خاص کر اس صورت میں جب کئی بار قسمیں کھائی ہوں کیونکہ تاکیدی قسم کے توڑنے کا گناہ معمولی قسم کے توڑنے سے بڑھ کر ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور پھر دوسری بات کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 91–92

آیت : (91-92) یہ آیت کریمہ ان تمام عہدوں کو شامل ہے جو بندے نے اپنے رب کے ساتھ کئے ہیں ‘ مثلاً عبادات ‘ نذریں اور قسمیں وغیرہ جن کو بندے نے اپنے آپ پر لازم کیا ہو جبکہ وہ صحیح اور جائز ہوں اور یہ اس معاہدے کو بھی شامل ہے جو دو بندوں کے درمیان ہو ‘ مثلاً لین دین کرنے والے دو اشخاص کے درمیان معاہدہ اور وہ وعدہ جو بندہ کسی اور کے ساتھ کرتا ہے اور اپنے آُ پر اس کو لازم قرار دے لیتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں قدرت رکھتے ہوئے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنا واجب ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے سے روکا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا) ” اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو۔ “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

عہد کو پورا کرنے کا بیان قول باری ہے (واوفوا بعھم اللہ اذا عاھد تم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا ) اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ عہد کے کئی معانی ہیں۔ عہد کبھی امر کے معنوں میں آتا ہے ۔ چناچہ قول باری ہے (ولد عدنا الی ادم من قبل اور ہم نے اس سے پہلے آدم کو امر کیا تھا) نیز ارشاد ہے (الم اعھد الیکم یا بنی ادم اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا) مراد یہ ہے کہ ” میں نے امر کیا تھا۔ “ کبھی یمین اور قسم کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آیت زیر بحث واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ اس مقام پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 89–91

186۔ روز قیامت کی تذکیر مکرر اور اس کی عظمت شان :۔ سو روز قیامت کی تذکیر مکرر کے طور پر فرمایا گیا ” اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہم اٹھا کر کھڑا کردیں گے ہر امت سے ایک گواہ انہی میں سے “ یعنی اس امت کے پیغمبر کو جو ان کے بارے میں گواہی دے گا کہ یہ لوگ ایمان لائے تھے یا نہیں۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ) ” اور آپ ﷺ کو اے پیغمبر ان لوگوں پر گواہ بنا کرلائیں گے “ یعنی آپ ﷺ کی امت کے ان لوگوں پر کہ انہوں نے آپ ﷺ کو کیا جواب دیا تھا۔ (المراغی وغیرہ) سو اس ہولناک دن کیلئے تیاری کرو کہ اس کی تیاری کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس۔ سو اس ارشاد سے قیامت کے اس یوم عظیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 89–91

آنحضرت ﷺ کی تمام انبیاء پر گواہی شریح : اس آیت میں ایک بہت بڑا راز بتایا گیا ہے، یعنی میدان حشر کا حال۔ اس خبر کو بڑے خوبصورت انداز میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے ہر امت میں سے ان کا پیغمبر رہبر یا رسول جو بھی اس کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا جا چکا ہے اللہ کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی امت کی گواہی دے گا، پھر سب سے آخر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت اور ان تمام رسولوں کی گواہی دینے کے لیے اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر تمام انبیاء و رسل کی گواہی دیں گے کیونکہ وہ آخری نبی اور آخری کتاب قرآن حکیم کے لانے والے ہیں اور قرآن پاک میں گذشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات بتائے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 90–100

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف پھر کتاب اللہ جل جلالہ کی تعلیمات کی خوبی اور کمال دیکھئے کہ ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو ایسی تعلیمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہاں ایک آیہ مبارکہ میں قرآنی تعلیمات کا سارا خلاصہ اور حاصل ارشاد فرما دیا گیا ۔ (عدل) کہ اللہ جل جلالہ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں ، عدل ، احسان اور (آیت) ” ایتای ذالقربی “ برابر کرنے کے معنوں میں آتا ہے ، اسی لیے جھگڑے میں فیصلے کو عدل کہا جاتا ہے یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کا حسین راستہ ، یعنی سب سے پہلے بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے کہ اللہ جل جلالہ کی رضا کو خواہشات نفس پر مقدم رکھے اور اس کے احکام کی تعمیل میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 احکام الٰہی کا عہد یا باہم ایک دوسرے سے جائز طور پر کئے گئے عہد و پیمان شوکانی 8 یہ مطلب نہیں کہ جن قسموں کو پکار نہ کیا گیا ہو ان کا توڑنا جائز ہے کیونکہ وہ ہر معاملہ جس پر قسم کھائی جائے وہ پکا ہوجاتا ہے اور پھر بلاعذر اس کا توڑنا ناجائز نہیں ہے اگر کسی قسم سے اللہ و رسول کی نافرمانی لازم آتی ہو تو ایسی قسم کا توڑنا ضروری ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص قسم کھائے اور پھر دیکھے کہ خیز دوسری چیز یعنی اس کے توڑنے میں ہے تو اسے چاہیے کہ اس دوسری چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (بخاری و مسلم) اور یمین لغو کا حکم پہلے گزر چکا ہے۔ (دیکھیے بقرہ آیت 225 اور مائدہ آیت 89)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:91) لا تنقضوا الایمان۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ ایمان۔ یمین کی جمع۔ قسموں کو مت توڑو۔ نقض ینقض (نصر) توڑنا۔ اصل میں نقض کے معنی ہیں عمارت۔ رسی یا ہار کی گرہ کھولنا۔ پراگندہ کرنا۔ عمارت کو مسمار کرنا۔ کفیلا۔ ذمہ دار۔ ضامن۔ ایفاء عہد کے لئے گواہ۔ مذکر مؤنث واحد جمع سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی جمع کفلاء آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 90–92

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92 یا مر وہ حکم دیتا ہے۔ العدل انصاف۔ الاحسان نیکی کرنا۔ ایتاء دینا۔ ذی القربی رشتہ دار۔ ینھی وہ روکتا ہے۔ الفحشاء (فحش) بےحیائی۔ المنکر ناشائستہ کام۔ البغی سرکشی۔ یعظ وہ نصیحت کرتا ہے۔ افو وا پورا کرو۔ عھدتم تم نے وعدہ کیا، عہد کیا۔ لاتنقضوا تم نہ تو ڈرو۔ الایمان قسمیں۔ تو کیں۔ پکا کرنا۔ کفیل ذمہ دار۔ نقضت جس نے توڑا۔ غزل کا تا ہوا سوت۔ انکات ٹکڑے ٹکڑے۔ دخلابینکم آس میں مداخلت کا بہانہ کرنا۔ امۃ ایک جماعت۔ اربی زیادہ بڑھا ہوا۔ یبلو وہ آزماتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 90 تا 92 گزشتہ آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول حضرت مصطفیٰ ﷺ پر جس قرآن کریم کو نازل فرمایا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

عہد کو پورا کرنا شان نزول : ارشاد ہوتا ہے کہ جب تم عہد کرو تو اس کو پورا کرنا چاہیے۔ یہ آیت اس گروہ کی شان میں نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ سے مکہ معظمہ میں بیعت کی تھی اور کفار قریش کا غلبہ اور مسلمانوں کی کمزوری دیکھ کر انہیں بےصبری اور پریشانی پیدا ہوئی۔ شیطان نے چاہا کہ انہیں فریب دے تاکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ عہد شکنی کریں۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر انہیں راہ وفا پر ثابت قدم کردیا اور حکم کیا کہ عہد کو پورا کرو اور عہد موکد کرنے کے بعد عہد شکنی نہ کرو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تم نے اپنے عہدوں پر گواہ بنایا ہے اور یہ امر تحقیقی ہے کہ اللہ تمہارے ہر عمل سے واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–91

[58] اس سے پہلے کی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ ہم نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے دین کی تمام باتیں بیان کرنے والی۔ یہ آیت اس کا ایک نمونہ ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک خیر و شر کو اس آیت میں اکٹھا کردیا ہے۔ تین بھلائیوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے۔ پہلی چیز عدل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے تمام عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات و جذبات اعتدال و انصاف کی ترازو میں تلے ہوں۔ افراط و تفریظ سے کوئی پلہ جھکنے یا اٹھنے نہ پائے۔ سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرے تو انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو۔ جو بات اپنے لئے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 90–91

روح اخلاق : (ف 2) اس آیت میں اسلام کی اساس تعلیمات کا ذکر ہے یعنی اللہ کے احکام کے خلاصہ ذکر کردیا ہے ، یہ حصہ مکارم اخلاق کا ہے ، بلکہ اسے اگر روح اخلاقی سے تعبیر کیا جائے تو بجا ہے ۔ عدل کے معانی میں اختلاف ہے ، حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں ، اس سے مقصود توحید ہے ، بعض کہتے ہیں دین متوسط یعنی اسلام ہے ، بعض کی رائے میں معاملات ہیں ، مساوات کا حکم ہے ، مگر لفظ عام ہے ، یہ تمام اصناف عدل پر یکساں بولا جاتا ہے ، توحید اس لئے عدل ہے کہ یہی اعتدال و توازن کی راہ ہے ، بت پرستی اپنی تمام جزئیات کے ساتھ مذموم ہے ، اور جہالت میں غلو مغالات ہے دین متوسط اس لئے ہی کہ اس سے قبل کے تمام ادیان میں افراط…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

91 ۔ اب آگے مذکورہ باتوں میں بعض باتوں کو خصوصیت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اور اللہ کے عہد کو پورا کیا کرو جب تم آپس میں عہد کرو اور قسموں کو پختہ اور مضبوط کرنے کے بعد توڑا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ بھی کرچکے ہو اور تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن بھی کیا ہے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو ۔ یعنی اللہ کو درمیان دیکر کوئی عہد کیا جائے ۔ جیسا کہ عام دستور ہے کہ عہد کرتے وقت اللہ کو درمیان دیتے ہیں قسمیں کھا کر عہد کو پورا کرنے کا یقین دلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن کرتے ہیں تو ایسے عہود کے متعلق خاص طور پر تاکید فرمائی۔ نبی کریم ﷺ نے منافق کی علامتوں میں عہد شکنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ اوپر یامر بالعدل میں تمام شرائع کا حکم تھا اب ان میں سے ایک خاص امر یعنی وفائے عہد کا نہایت اہتمام سے حکم ہے اور وجہ اس کی تخصیص کی علاوہ اس کے فی نفسہ مہتم بالشان ہونے کے شاید یہ بھی ہو کہ ابتدائے اسلام میں عہد کے ایفا اور نقض کا اسلام پر ایک خاص اثر تھا کہ اسلام پر باقی رہنا یہ بھی ایک فرد تھی وفائے کی عہد کی نیز صلح وجنگ میں مدار اعتبار یہی تھا نیز اس سے اسلام لانے والوں کو اپنے حقوق شخصی وجمہوری کے باب میں پورا اطمینان ہوتا تھا جو قوت و ترقی اسلام کا سبب تھا اسی طرح نقض میں اس کے برعکس مفاسد مرتب ہوتے تھے جس کا ضرر اسلام کو پہنچتا تھا اس وجہ سے مضمون قابل اہتمام ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : اللہ کا عہد پورا کرو اور قسموں کی پوری حفاظت کرو : 104۔ کسی سے جو وعدہ یا کسی قسم کا قول وقرار کرلیا جائے اس کو پورا کرنا ایک راست باز کا شعار ہے اور خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت یہ بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ (آل عمران 3 : 2) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر 39 : 2) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران 3 : 20) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ فرمایا (آیت) ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Breaking Pledges is Forbidden The word: عَھد ('ahd) is inclusive of all transactions, pacts and pledges the responsibility of which has been assumed verbally, whether one does or does not swear by it, and whether it relates to doing something or not doing it. In fact, these verses are the explanation and conclusion of previous verses. The previous verses carried the command to do justice and to be good. The sense of justice there includes the fulfillment of pledges as well. [ Qurtubi ] After having given a pledge or made a contract with someone, breaking it is a major sin. But,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–91

88. In this brief sentence Allah has enjoined three most important things on which alone depends the establishment of a sound and healthy society: The first of these is justice which has two aspects. To make such arrangements as may enable everyone to get one’s due rights without stint. Justice does not, however, mean equal distribution of rights, for that would be absolutely unnatural. In fact, justice means equitable dispensation of rights which in certain cases may mean equality. For example, all citizens should have equal rights of citizenship but in other cases equality in rights would…

Read the full tafseer →