An-Nahl 16:90

An-Nahl · from ayah 90

16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْیِ ۚ— یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ۟اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِيۡتَآىِٕ ذِى الۡقُرۡبٰى وَيَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِ وَالۡبَغۡىِ‌ۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah orders justice and good conduct and giving to relatives and forbids immorality and bad conduct and oppression. He admonishes you that perhaps you will be reminded.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 13 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:90

اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک اللہ انصاف کا، احسان کا، اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بےحیائی، بدی اور ظلم سے روکتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا بے حیائی اور برُی بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ عدل اور احسان اور قرابت والے کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اللہ کو حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور ذوی القربی کو دیتے رہنے کا اور روکتا ہے بےحیائی، برائی اور سرکشی سے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ حکم فرماتا ہے عدل (وانصاف) کا، احسان کرنے اور رشتہ داروں کو دینے کو، اور وہ روکتا ہے بےحیائی، برائی اور زیادتی سے، وہ نصیحت فرماتا ہے تمہیں تاکہ تم لوگ سبق لو،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اللہ عدل کا اور حسن سلوک کا اور اہل قرابت کو دیتے رہنے کا حکم دیتا ہے اور کھلی برائی سے اور مطلق برائی سے اور ظلم (وسرکشی) سے ممانعت کرتا ہے وہ تمہیں (یہ) پند دیتا ہے اس لئے کہ تم نصیحت قبول کرو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اللہ حکم دیتا ہے عدل کا احسان کا اور قرابت داروں کو (ان کے حقوق) ادا کرنے کا اور وہ روکتا ہے بےحیائی برائی اور سرکشی سے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق حاصل کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ تم کو حکم دیتا ہے انصاف، احسان اور رشتہ داروں کو (خرچ میں مدد) دینے کا، بےحیائی، نامعقول اور سرکشی سے منع کرتا ہے اور تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah enjoins justice, kindness and the doing of good to kith and kin, and forbids all that is shameful, evil and oppressive. He exhorts you so that you may be mindful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah enjoins to do justice and to adopt good behavior and to give relatives (their due rights), and forbids shameful acts, evil deeds and oppressive attitude. He exhorts you, so that you may be mindful.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah enjoins to do justice and to adopt good behavior and to give relatives (their due rights), and forbids shameful acts, evil deeds and oppressive attitude. He exhorts you, so that you may be mindful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Allah orders justice and kindness, and giving (help) to the relatives, and He forbids immoral sins, and evil and tyranny. He admonishes you, so that perhaps you may take heed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah enjoineth justice and kindness, and giving to kinsfolk, and forbiddeth lewdness and abomination and wickedness. He exhorteth you in order that ye may take heed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah orders justice and good conduct and giving to relatives and forbids immorality and bad conduct and oppression. He admonishes you that perhaps you will be reminded.

— Saheeh International

God commands (people) to maintain justice, kindness, and proper relations with their relatives. He forbids them to commit indecency, sin, and rebellion. God gives you advice so that perhaps you will take heed.

— Muhammad Sarwar

Surely Allah enjoins the doing of justice and the doing of good (to others) and the giving to the kindred, and He forbids indecency and evil and rebellion; He admonishes you that you may be mindful.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah commandeth justice and well-doing and giving to kindred; and He prohibiteth lewdness and wickedness and oppression; He exhorteth you that haply ye may beadmonished.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah commands justice, the doing of good, and liberality to kith and kin, and He forbids all shameful deeds, and injustice and rebellion: He instructs you, that ye may receive admonition.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:90

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

بر ابر کا بدلہ اللہ سبحا نہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے جیسے آیت (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) میں فرمایا کہ اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کرلو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے۔ اور آیت میں فرمایا اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا۔ ایک اور آیت میں ہے زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے۔ پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ توحید کی شہادت بھی عدل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 90–91

سورة النَّحْل 88 اس مختصر سے فقرے میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جب پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے۔ پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو۔ دوسرے یہ کہ اس کا حق بےلاگ طریقہ سے دیا جائے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کو لفظ ”انصاف“ سے ادا کیا جاتا ہے، مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہو۔ اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیے گئے ہیں جو سراسر فطرت کے خلاف ہے۔ دراصل عدل جس چیز کا تقاضا کرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ (قرآن میں) اعتدال اور احسان اور اہل قرابت کو دینے کا حکم فرماتے ہیں اور کھلی برائی اور مطلق برائی اور (کسی پر) ظلم (اور زیادتی) کرنے سے منع فرماتے ہیں (اور مامورات ومنہیات مذکورہ میں تمام اعمال صالحہ اور سیہ آگئے اس جامعیت کی وجہ سے قرآن کا تبیان ہونا صاف ظاہر ہے اور) اللہ تعالیٰ تم کو (امور مذکورہ کی) اس لئے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو (اور عمل کرو کیونکہ ہدی اور رحمت اور بشری ہونا اسی پر موقوف ہے) معارف و مسائل یہ آیت قرآن کریم کی جامع ترین آیت ہے جس میں پوری اسلامی تعلیمات کو چند الفاظ میں سمو دیا گیا ہے اسی لئے سلف صالحین کے عہد مبارک سے آج تک دستور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآنی اوامر اور منہیا کا خلاصہ : اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔ یہ عظیم آیت تمام قرآنی اوامر اور منہیات کا خلاصہ ہے۔ قرآن جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان کی بنیادیں بھی اس میں واضح کردی گئی ہیں اور جن چیزوں سے وہ روکتا ہے ان کی اساسات کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے تمام قرآنی اوامر کی بنیاد عدل، احسان اور ذوی القربی کے لیے انفاق پر ہے اور اس کی منہیات میں وہ چیزیں داخل ہیں جن کے اندر فحشاء منکر اور بغی کی روح فساد پائی جاتی ہے۔ یہاں اس کا حوالہ دینے سے مقصود ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

90۔ 1 عدل کے مشہور معنی انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنوں اور بیگانوں سب کے ساتھ انصاف کیا جائے، کسی کے ساتھ دشمنی یا عناد یا محبت یا قرابت کی وجہ سے، انصاف کے تقاضے مجروح نہ ہوں۔ ایک دوسرے معنی اعتدال کے ہیں یعنی کسی معاملے میں بھی زیادتی یا کمی کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ دین کے معاملے میں بھی۔ کیونکہ دین میں زیادتی کا نتیجہ حد سے زیادہ گزر جانا ہے، جو سخت خراب ہے اور کمی، دین میں کوتاہی ہے یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ 90۔ 2 احسان کے ایک معنی حسن سلوک، عفو و درگزر اور معاف کردینے کے ہیں۔ دوسرے معنی تفضل کے ہیں یعنی حق واجب سے زیادہ دینا یا عمل واجب سے زیادہ عمل کرنا۔ مثلا کسی کام کی مزدوری سو روپے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 86–91

37: اس موقع پر ان بتوں کو بھی سامنے لایا جائے گا جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے، تاکہ ان کی بیچارگی سب کے سامنے واضح ہو، اور ان شیاطین کو بھی جن کی پیروی کر کے گویا ان کو خدا کا شریک بنا لیا تھا۔ 38: عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے، اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ زبان حال سے یہ بات کہیں اور شیاطین یہ بات کہہ کر ان سے اپنی بےتعلقی کا اظہار کریں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد یہ ہے اس نظریہ کے مطابق ایک امت کو میدان میں لایا جائے ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جو ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ ایک نیا جہاں پیدا کیا جائے اور ایک نیا نظام تشکیل دیا جائے۔ ایک ایسی عالمی دعوت اور تحریک برپا کی جائے جو کسی گروہ ، قبیلے اور کسی نسل کی طرفدار نہ ہو۔ اس دعوت میں اجتماعی رابطے اور تعلق کی بنیاد کسی عصبیت اور قومیت پر نہ ہو۔ چناچہ اس کتاب کی تعلیمات ان اصولوں پر مبنی ہیں جن کے اوپر سوسائٹی اور امت کی تشکیل ممکن ہے۔ ان تعلیمات اور اصولوں پر افراد اقوام اور امم کو پورا اطمینان حاصل ہو ، اور باہم معاملات و تعلقات ، وعدوں اور معاہدوں پر پورا بھروسہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 قرآن کو " تِبْیَاناً لِّکُلِّ شَیْئٍ " فرمایا تھا۔ یہ آیت اس کا ایک نمونہ ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک خیرو شر کے بیان کو اس آیت میں اکٹھا کردیا ہے۔ گویا کوئی عقیدہ، خلق، نیت، عمل، معاملہ اچھا یا برا ایسا نہیں جو امراً ونہیاً اس کے تحت میں داخل نہ ہوگیا ہو۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر قرآن میں کوئی دوسری آیت نہ ہوتی تو تنہا یہ ہی آیت " تبیاناً لکل شیئٍ " کا ثبوت دینے کے لیے کافی تھی۔ شاید اسی لیے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خطبہ جمعہ کے آخر میں اس کو درج کر کے امت کے لیے اسوہ حسنہ قائم کردیا۔ اس آیت کی جامعیت سمجھانے کے لیے تو ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے۔ تاہم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ یہ آیت اس لحاظ سے بہت مشہور ہے کہ اکثر جمعۃ المبارک کے خطبات میں شامل کی جاتی ہے۔ یہ بہت ہی جامع آیت ہے اور اس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے انداز میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین ہی چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ پہلا حکم عدل کا ہے اور دوسرا احسان کا۔ عدل تو یہ ہے کہ جس کا جس قدر حق ہے عین اسی قدر آپ اسے دے دیں ‘ لیکن احسان ایک ایسا عمل ہے جو عدل سے بہت اعلیٰ وارفع ہے۔ یعنی احسان یہ ہے کہ آپ کسی کو اس کے حق سے زیادہ دیں اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ چناچہ اللہ محسنین کو محبوب رکھتا ہے۔ تیسرا حکم قرا بت داروں کے حقوق کا خیال رکھنے کے بارے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

93 اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے اور یہ چھ الفاظ اس قدر وسیع المعنی ہیں کہ ساری اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ان میں آگیا ہے۔ اسی لیے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر قرآن میں کوئی آیت نہ ہوتی تو صرف یہی آیت انسان کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔ اور سیدنا عثمان بن مظعون ؓ فرماتے ہیں کہ اسی آیت کو سن کر میرے دل میں ایمان راسخ ہوا اور میرے دل میں محمد ﷺ کی محبت جاگزیں ہوئی۔ اس آیت کی اسی جامعیت کی وجہ سے خلیفہ راشد سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے اسے خطبہ جمعہ میں داخل کرکے امت کے لیے اسوہ حسنہ قائم کردیا اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ان اوامرو نواہی پر عمل کیا جائے تو معاشرہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

141۔ یہ آیت شریف جہاں تک کہ تعلیمات اسلام کا تعلق ہے، قرآن مجید کی اہم ترین اور کلیدی آیات میں ہے۔ ایک معجزانہ ایجاز و جامعیت کے ساتھ اس کے اندر دین و شریعت کے اہم ترین احکام ونواہی دونوں آگئے۔ احکام ایجابی بھی اور احکام سلبی بھی۔ کتاب اللہ کا وصف (آیت) ” تبیانا لکل شیء “۔ ابھی ابھی بیان ہوا تھا۔ یہ آیت خود اسی تبیانت “ کی بہترین مثال ونمونہ ہے۔ امام فخرالدین رازی (رح) نے عبداللہ بن مسعود صحابی (رح) اور قتادۃ تابعی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حق تعالیٰ نے ہر خیر اور شر کے بیان کو اس آیت کے اندر اکٹھا کردیا ہے۔ اور کوئی عقیدہ خلق، نیت، عمل، معاملہ، اچھا یا برا ایسا نہیں، جو امرا یانہیا ایجابا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 90–100

آیت نمبر 90 تا 100 ترجمہ : بلا شبہ اللہ تعالیٰ عدل (یعنی) توحید یا انصاف اور احسان (یعنی) اداء فرائض کا یا (اس طرح) عبادت کرنے کا گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اہتمام کرنے کی وجہ سے خاص طور پر قرابتداروں کا ذکر کیا ہے حالانکہ احسان کے عموم میں وہ بھی داخل ہیں حکم دیتا ہے اور (اللہ) فحش یعنی زنا اور شرعًا منکرات سے مثلاً کفر و معاصی، اور لوگوں پر ظلم کرنے سے منع کرتا ہے (ممانعت ظلم کو اہتمام کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ تو نھی عن الفحش میں ظلم بھی داخل ہے) امرو نہی کی تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو، (تذکرون) میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ یامر بالعدل والاحسان بیشک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ عدل کا لفظ مساوات کا مقتضی ہے۔ ا اللہ نے اسی لئے فرمایا ہے : اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا یا اس کے برابر روزے۔ وَاَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآء اور یہ کہ عورتوں میں ہر طرح سے برابری رکھو۔ فدیہ اور بدلہ کو عدل اسی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ عدل کا حکم دیتا ‘ یعنی بدلہ میں مساوات رکھنے کا۔ خیر کا بدلہ خیر اور شر کا بدلہ شر اور اللہ حکم دیتا ہے کہ حاکم ‘ مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان مساوات کا سلوک کرے ‘ کسی ایک کی طرف مائل نہ ہوجائے۔ جو کچھ فیصلہ کرے ‘ اللہ کے حکم کے مطابق کرے۔ اگر عدل کا معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(90) یقیناً اللہ تعالیٰ توحید اور فرائض کی ادائیگی یا یہ کہ لوگوں کے ساتھ احسان اور صلہ رحمی کا حکم فرماتے ہیں اور تمام گناہ اور ایسی باتوں سے جن کی شریعت اور سنت میں کوئی بنیاد نہیں اور ظلم و زیادتی کرنے سے منع فرماتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ تمہیں ان باتوں سے اس لیے روکتے ہیں تاکہ تم قرآن کے احکام سے نصیحت حاصل کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ : عدل کا معنی اپنے عقیدے اور عمل میں زیادتی یا کمی سے بچ کر اعتدال اور درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہے۔ انصاف بھی یہی ہے اور قسط بھی۔ ”وَالْاِحْسَانِ“ کا لفظ دو طرح آتا ہے، ایک ”إِلٰی“ یا کسی اور حرف کے واسطے کے بغیر، اس کا معنی کام کو بہت اچھی طرح اور پختگی و مضبوطی سے کرنا ہوتا ہے، مثلاً ”أَحْسَنْتُہٗ“ کہ میں نے یہ کام بہت اچھی طرح کیا، اور ایک ”إِلٰی“ وغیرہ کے واسطے کے ساتھ، جیسے ”أَحْسَنْتُ اِلَیْہِ“ کہ میں نے اس سے اچھا سلوک کیا، یعنی اس ”اِحْسَانٌ“ کا معنی اللہ کی مخلوق کو نفع پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساری مخلوق کو پیدا کرنے اور ہر نعمت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 90 اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان حضرت عثمان بن مظعون ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے اسے حضرت علی بن ابی طالب ؓ پر پڑھا تو وہ بہت متعجب ہوئے اور کہا : اے آل غالب ! آپ کی اتباع اور پیروی کرو کامیاب ہوجاؤ گے، فلاح پا جاؤ گے۔ قسم بخدا ! بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ آپ تمہیں مکارم اخلاق کے بارے حکم دیں۔ اور حدیث میں ہے۔ بیشک حضرت ابو طالب کو جب یہ کہا گیا : بیشک آپ کے بھتیجے نے یہ گمان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ نازل کی ہے : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان الآیہ، تو انہوں نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–90

1:۔ عبد ابن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “ سے مراد ہے کہ ہر امت کا نبی گواہی دے گا اس بات پر کہ اس نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھولآء “ فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اللہ کے نبی ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑتی تھیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنہم ولا ھم ینظرون “ یہ اس طرح ہے ج جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” ھذا یوم لا ینطقون (35) ولا یوذن لہم فیعتذرون “ المرسلات آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ يَاْمُرُ : حکم دیتا ہے ] [ بِالْعَدْلِ : عدل کا ] [ وَالْاِحْسَان : اور احسان کا ] [ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى: اور قرابت والے کو پہچانے کا ] [ وَيَنْهٰى: اور وہ منع کرتا ہے ] [ عَنِ الْفَحْشَاۗءِ : بےحیائی سے ] [ وَالْمُنْكَرِ : اور برائی سے ] [ وَالْبَغْيِ ۚ: اور سرکشی سے ] [ يَعِظُكُمْ : وہ نصیحت کرتا ہے تم کو ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید تم لوگ ] [ تَذَكَّرُوْنَ : نصیحت حاصل کرو ] ترکیب : (آیت۔ 90) اِیْتَایِٔ دراصل باب افعال کا مصدر اِیْتَائٍ ہے۔ مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی ہے اور ” ی “ محض ہمزہء مکسورہ کی کرسی جو پڑھی نہیں جاتی۔ بِالْعَدْلِ کی با پر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

چند اوصاف حمیدہ کا حکم، اور منکرات و فواحش سے بچنے کی تاکید یہ آیت بہت جامع ہے تمام مامورات (فرائض واجبات، مندوبات و مستحباب) کے حکم کو اور تمام منکرات (منہیات اور معاصی) کی ممانعت کو شامل ہے، اولاً یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل کا حکم فرماتا ہے، عدل عربی میں انصاف کو کہا جاتا ہے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا (اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی) اپنے پرائے چھوٹے بڑے سب کے بارے میں انصاف کرنا لازم ہے جو شخص دشمنی کرے اس کی دشمنی کے جواب میں بھی عدل ہی کیا جائے دشمنی کی وجہ سے عدل کو ہاتھ سے جانے نہ دیں اگر کسی زیادتی کرنے والے سے بدلہ لے لینا ہو تو زیادتی کے بقدر ہی بدلہ لیا جاسکتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–100

تلقین مکارم اخلاق محاسن اعمال و آداب قال اللہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان .... الیٰ .... والذین ہم بہ مشرکون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ یہ قرآن پر شے کا بیان ہے اور وہ ایک جامع کتاب ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اور اہل ایمان کے لیے بشارت ہے اب ان آیات میں بتلاتے ہیں کہ یہ قرآن جو اللہ نے آپ ﷺ پر نازل کیا ہے وہ تمام مکارم اخلاق اور محاسن آداب اور اعمال خیر کا حکم دیتا ہے اور تمام برائیوں اور بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں سے منع کرتا ہے اور قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کی اصلاح کرتا ہے کہ نہ کوئی فحش بات زبان سے نکالو اور نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ قسم کھا کر توڑو اور نہ خدا سے بدعہدی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

73:۔ دلائل توحید اور تخویفات دنیویہ و اخرویہ کے بعد عذاب سے بچنے کا علاج بتایا کہ شرک نہ کرو انصاف کو اپنی زندگی کا دستور بناؤ، ظلم وعدوان سے اجتناب کرو، احسان و تفضل سے کام لو، بےحیائی اور برے کاموں سے باز آجاؤ۔ اگر تم ان امور پر عمل کرو گے تمہارے دلوں میں نیکی سے محبت اور برائی سے نفرت پیدا ہوگی جو آخرتمہاری استقامت کا باعث ہوگی۔ العدل سے مراد توحید ہے۔ العدل التوحید قالہ ابن عباس قرآن مجید کی یہ آیت اس قدر جامع ہے کہ اس میں تمام ابواب خیر اور تمام ابواب شر کو جمع کردیا گیا ہے۔ قال ابن مسعود ھذہ اجمع ایۃ فی القران لخیر یتمچل و لشر یجتنب (قرطبی ج 10 ص 165) ۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں عذاب دینے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی گواہی کا ذکر کیا ، قیامت کے دن انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ کی بارگاہ میں شہادت دیں گے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا پیغام اپنی اپنی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ کی بارگاہ میں شہادت دیں گے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا پیغام اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دیا ، اور پھر آخر میں حضور ﷺ بھی اپنی آخری امت پر بطور گواہ پیش ہوں گے گذشتہ آیت میں اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کو واضح طور پر بیان کرتی ہے ، نیز فرمایا کہ یہ کتاب فرمانبرداروں کے لیے ہدایت ، رحمت اور بشارت ہے ۔ (جامع ترین آیت) گذشتہ درس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 90؀ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–91

تفسیر : روز حشر کی کیفیت کے بعد وہ باتیں ذکر فرماتا ہے کہ جن پر عمل کرنے سے محشر میں کامیابی ہو۔ ان اللہ الخ اس آیت میں انسان کے مکارم اخلاق و تدبیر منزل سیاست مدن کے سب مسائل آگئے جن کی تفصیل کو ایک دفتر درکار ہے انسان کے یا تو وہ معاملات ہیں جو خدا تعالیٰ سے متعلق ہیں عقائدِ صحیحہ و اعمال صالحہ یا وہ ہیں جو باہم آپس میں ایک دوسرے کے متعلق ہیں بیع شراء ‘ سیاست ملک ‘ والدین و اولاد اقارب کے ساتھ برتائو۔ ان دونوں قسموں کے پھر صدہا اقسام ہیں پس ان سب کو برابر اور پورا پورا ادا کرنا عدل ہے۔ یہ عبادات معاملات سب میں ہے یہ حکم سب پر فرض ہے۔ اس کے بعد اس پر ایک عمدگی کا رتبہ ہے جس کو احسان کہتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ ج یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 90) (بیشک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور اہل قرابت کو دیتے رہنے کا اور روکتا ہے بےحیائی، برائی اور سرکشی سے۔ تو وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ ) سابقہ آیات سے ربط ہم جانتے ہیں کہ سورة النحل مکی سورت ہے اور مکی سورتوں کا اصل موضوع عقائد کی اصلاح ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام مکی سورتوں میں توحید، رسالت اور آخرت پر مختلف اسالیب سے اس طرح زور دیا جاتا ہے کہ وہ دل و دماغ میں اترنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ، اللہ کی رحمت اور ایمان لانے والوں کے لیے خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے جو درج ذیل ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کی یہ آیات مبارکہ ان آیات میں شامل ہے جو انتہائی جامع احکامات کی حامل ہیں۔ اس کی جامعیت کے پیش نظر خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اپنے دور حکومت میں خطباء کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسے ہر خطبۂ جمعہ میں پڑھا کریں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے تین باتوں کا حکم فرمایا اور تین کاموں سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ اب نصائح کا مختصر مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔ عدل : 1۔ پہلا حکم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جامع ترین آیت : 90: اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ (بیشک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتے ہیں) اپنے مابین تمام حقوق میں برابری اور ترک ظلم، ہر صاحب حق کو اس کا حق دینا، اس کا نام عدل ہے۔ وَالْاِحْسَانِِ (اور احسان و خوبی کا) اس کے ساتھ جو تمہارے ساتھ زیادتی برتے۔ نمبر 2۔ فرض و نفل۔ کیونکہ فرض میں تفریط لازماً ہوجائیگی ان کے نقصان کو رفع کرنے کیلئے ندب و نفل ہے۔ وَاِیْتَایِٔ ذِی الْقُرْبٰی (قرابتد اروں کو دینے کا) قرابت والوں کو دینا یہی صلہ رحمی ہے۔ وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآ ئِ (اور منع کرتا ہے بےحیائی سے) الفحشآء یعنی انتہائی قبیح گناہ وَالْمُنْکَرِ (اور منکر سے) منکر سے مراد وہ کام جن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(90)” ان اللہ یامر بالعدل “ اس سے مراد انصاف ہے۔” والاحسان “ اور لوگوں پر احسان کا برتامئو کرنے کا حکم دیا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عدل سے مراد توحید ہے اور احسان سے مراد فرائض کی ادائیگی اور اسی طرح احسان سے مراد توحید میں خالص ہے۔ آپ ﷺ کے فرمان کا معنی یہی ہے کہ ” الاحسان… الخ “ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کر اس حال میں کہ تو اپنے رب کو دیکھ رہا ہے۔ مقاتل (رح) نے کہا کہ عدل سے مراد توحید اور احسان سے مراد لوگوں سے درگزر کرنا ہے۔ ” وایتاء ذی القربی “ اس سے مراد صلہ رحمی ہے۔ ” وینھی عن الفحشائ “ جو بات بری ہو خواہ اس کا تعلق بات چیت سے ہو یا فعل سے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

90۔ مفسروں کے قول عدل و احسان کے متعلق مختلف ہیں بعضوں نے کہا ہے کہ عدل کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے اور احسان فرائض کا ادا کرنا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی ایک روایت میں یوں ہی ہے 1 ؎۔ اور دوسری روایت میں یوں ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا یہ عدل ہے اور خدا کی عبادت کرنا کہ عبادت کرنے والا گویا خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یہ حسن عبادت ہے اسی کو احسان فرمایا ہے عدل کے معنے انصاف کے ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس لئے اللہ کی تعظیم میں کسی کو شریک نہ کرنا عین انصاف اور شریک کرنا بڑی ناانصافی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت : (90) اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس عدل کا حکم دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں عدل اور بندوں کے حقوق کے بارے میں عدل کو شامل ہے۔ عدل یہ ہے کہ تمام حقوق کو پوری طرح ادا کیا جائے۔ بندہ مالی ‘ بدنی اور دونوں پر مبنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کئے ہیں۔ مخلوق کے ساتھ کامل انصاف پر مبنی معاملہ کیا جائے۔ پس ہر ولی اپنے ولایت کے تحت آنے والے ہر معاملے میں عدل و انصاف سے کام لے ‘ خواہ یہ ولایت امامت کبریٰ (خلافت و امارت) یا ولایت قضاء یا خلیفہ کی نیابت یا قاضی کی نیابت ہو ‘ اس معاملے میں سب برابر ہیں۔ عدل وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

عدل، قول و فعل میں مطلوب ہے قول باری ہے (ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایاء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی۔ اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے) عدل، انصاف کو کہتے ہیں۔ سمعی دلالت کے ورد سے قبل ہی عقل کی نظروں میں یہ ایک واجب اور ضروری امر تھا۔ سمعی دلیل کے ورود سے اس کے وجوب کی اور تاکید ہوگئی۔ عدل فرض اور احسان مستحب ہے اس مقام پر احسان تفضل یعنی مہربانی کا مفہوم ادا کر رہا ہے۔ یہ ایک مستحب امر ہے جبکہ عدل فرض ہے۔ رشتہ داروں کے دینے لینے میں دراصل صلہ رحمی کا حکم ہے۔ قول باری ہے (یامر بالعدل) قول اور فعل دونوں کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 89–91

186۔ روز قیامت کی تذکیر مکرر اور اس کی عظمت شان :۔ سو روز قیامت کی تذکیر مکرر کے طور پر فرمایا گیا ” اور یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہم اٹھا کر کھڑا کردیں گے ہر امت سے ایک گواہ انہی میں سے “ یعنی اس امت کے پیغمبر کو جو ان کے بارے میں گواہی دے گا کہ یہ لوگ ایمان لائے تھے یا نہیں۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ) ” اور آپ ﷺ کو اے پیغمبر ان لوگوں پر گواہ بنا کرلائیں گے “ یعنی آپ ﷺ کی امت کے ان لوگوں پر کہ انہوں نے آپ ﷺ کو کیا جواب دیا تھا۔ (المراغی وغیرہ) سو اس ہولناک دن کیلئے تیاری کرو کہ اس کی تیاری کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس۔ سو اس ارشاد سے قیامت کے اس یوم عظیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 89–91

آنحضرت ﷺ کی تمام انبیاء پر گواہی شریح : اس آیت میں ایک بہت بڑا راز بتایا گیا ہے، یعنی میدان حشر کا حال۔ اس خبر کو بڑے خوبصورت انداز میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے ہر امت میں سے ان کا پیغمبر رہبر یا رسول جو بھی اس کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا جا چکا ہے اللہ کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی امت کی گواہی دے گا، پھر سب سے آخر میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت اور ان تمام رسولوں کی گواہی دینے کے لیے اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر تمام انبیاء و رسل کی گواہی دیں گے کیونکہ وہ آخری نبی اور آخری کتاب قرآن حکیم کے لانے والے ہیں اور قرآن پاک میں گذشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کے حالات بتائے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 90–100

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف پھر کتاب اللہ جل جلالہ کی تعلیمات کی خوبی اور کمال دیکھئے کہ ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو ایسی تعلیمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہاں ایک آیہ مبارکہ میں قرآنی تعلیمات کا سارا خلاصہ اور حاصل ارشاد فرما دیا گیا ۔ (عدل) کہ اللہ جل جلالہ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں ، عدل ، احسان اور (آیت) ” ایتای ذالقربی “ برابر کرنے کے معنوں میں آتا ہے ، اسی لیے جھگڑے میں فیصلے کو عدل کہا جاتا ہے یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کا حسین راستہ ، یعنی سب سے پہلے بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے کہ اللہ جل جلالہ کی رضا کو خواہشات نفس پر مقدم رکھے اور اس کے احکام کی تعمیل میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 اس آیت میں تین ایسی جامع چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر ان کے سارے انفرادی و اجتماعی معاملات کی درستی کا انحصار ہے بیٹی عدل احسان اور ایثار ذی القربی عدل سے مراد یہ ہے کہ عقیدہ و عمل میں اعتدال کی وہ اختیار کرنا احسان میں فرائض و نوافل کی ادائی اور خلق خدا کے ساتھ ہر قسم کا نیک سلوک آجاتا ہے ایک حدیث میں نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کو احسان فرمایا ہے اور پھر حقوق العباد کے معاملے میں رشتہ داروں کے حقوق پر خصوصیت کے ساتھ زور دیا گیا ہے۔ 6 اوپر تین بھلائی کے کاموں کا ذکر کر کے ان کے مقابلہ میں تین ایسی برئایوں سے منع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے تمام انفرادی اور اجتماعی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:90) ایتآیٔ۔ دینا ۔ عطا کرنا۔ ایتآیٔ ذی القربی اہل قرابت کو دینا۔ اسی آیت کے متعلق حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ ھذہ اجمع ایۃ فی القران لخیر یتمثل ولشریجتنب۔ یہ قرآن کی جامع ترین آیت ہے اس میں ہر وہ اچھی چیز جس پر عمل کرنا ضروری ہے مذکور ہے۔ اسی طرح ہر وہ بری چیز جس سے اجتناب ضروری ہے موجود ہے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 90–92

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92 یا مر وہ حکم دیتا ہے۔ العدل انصاف۔ الاحسان نیکی کرنا۔ ایتاء دینا۔ ذی القربی رشتہ دار۔ ینھی وہ روکتا ہے۔ الفحشاء (فحش) بےحیائی۔ المنکر ناشائستہ کام۔ البغی سرکشی۔ یعظ وہ نصیحت کرتا ہے۔ افو وا پورا کرو۔ عھدتم تم نے وعدہ کیا، عہد کیا۔ لاتنقضوا تم نہ تو ڈرو۔ الایمان قسمیں۔ تو کیں۔ پکا کرنا۔ کفیل ذمہ دار۔ نقضت جس نے توڑا۔ غزل کا تا ہوا سوت۔ انکات ٹکڑے ٹکڑے۔ دخلابینکم آس میں مداخلت کا بہانہ کرنا۔ امۃ ایک جماعت۔ اربی زیادہ بڑھا ہوا۔ یبلو وہ آزماتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 90 تا 92 گزشتہ آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول حضرت مصطفیٰ ﷺ پر جس قرآن کریم کو نازل فرمایا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ کی نصیحت، جو ہر ایماندار کو یاد رکھنی چاہیے : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ انصاف کلمہ طیبہ یعنی لا الہ الا اللہ کی گواہی ہے اور " احسان " فرائض کا ادا کرنا ہے۔ اور آپ ہی کی ایک اور روایت ہے کہ شرک کا ترک کرنا عدل ہے، اور خدا کی عبادت یوں کرنا کہ عبادت کرنے والا گویا خدا کو دیکھ رہا ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے، یہ حسن عبادت ہے۔ پھر قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم فرمایا کہ ان کو دیتے لیتے رہو۔ اگر خدا کا فضل تمہارے شامل حال ہو اور تمہیں مقدور ہو تو روپے پیسے سے ان کی مدد کرو۔ اگر تم بھوکے محتاج ہو تو میل ملاپ، محبت مروت کی ہمدردی ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–91

[58] اس سے پہلے کی آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ ہم نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے دین کی تمام باتیں بیان کرنے والی۔ یہ آیت اس کا ایک نمونہ ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک خیر و شر کو اس آیت میں اکٹھا کردیا ہے۔ تین بھلائیوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے۔ پہلی چیز عدل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے تمام عقائد، اعمال، اخلاق، معاملات و جذبات اعتدال و انصاف کی ترازو میں تلے ہوں۔ افراط و تفریظ سے کوئی پلہ جھکنے یا اٹھنے نہ پائے۔ سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرے تو انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو۔ جو بات اپنے لئے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 90–91

روح اخلاق : (ف 2) اس آیت میں اسلام کی اساس تعلیمات کا ذکر ہے یعنی اللہ کے احکام کے خلاصہ ذکر کردیا ہے ، یہ حصہ مکارم اخلاق کا ہے ، بلکہ اسے اگر روح اخلاقی سے تعبیر کیا جائے تو بجا ہے ۔ عدل کے معانی میں اختلاف ہے ، حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں ، اس سے مقصود توحید ہے ، بعض کہتے ہیں دین متوسط یعنی اسلام ہے ، بعض کی رائے میں معاملات ہیں ، مساوات کا حکم ہے ، مگر لفظ عام ہے ، یہ تمام اصناف عدل پر یکساں بولا جاتا ہے ، توحید اس لئے عدل ہے کہ یہی اعتدال و توازن کی راہ ہے ، بت پرستی اپنی تمام جزئیات کے ساتھ مذموم ہے ، اور جہالت میں غلو مغالات ہے دین متوسط اس لئے ہی کہ اس سے قبل کے تمام ادیان میں افراط…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

90 ۔ آگے قرآن کریم کے بعض احکام بیان فرماتے ہیں ارشاد ہوتا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ اعتدال اور انصاف کا اور نیکی اور بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کا باتوں اور نا معقول کاموں کو اور ظلم و زیادتی اور سرکشی وتعدی کو منع کرتا ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم نصیحت پکڑو اور نصیحت کو قبول کرو۔ یہ آیت تمام اوامرو نواہی کی ایک جامع آیت ہے ۔ اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ تمام عقائد و اعمال بلکہ معاملات میں میانہ روی کا وہ راستہ اختیار کرنا چاہئے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو ہر ایک شخص کے ساتھ بھلائی اور احسانات کا برتائو کرنا چاہئے اور بالخصوص قرابت داروں کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ مامورات میں اعتدال عام ہے قوت علمیہ و عملیہ کو اس میں سارے عقائد و اعمال ظاہرہ و باطنہ غرض تمام شرائع داخل ہوگئے پھر ان میں سے احسان بوجہ اس کے کہ اس کا نفع متعدی الی الغیر ہے ذکر کے ساتھ خاص کیا گیا پھر احسان میں سے احسان الی ذوالقربی اور زیادہ فضیلت و اہمیت رکھتا ہے اس لیے اس کے بعد اس کو لائے اسی طرح منہیات میں منکر عام ہے تمام امور خلاف شریعت کو پھر اس میں فحشاء کو بوجہ زیادہ قباحت کے مخصوص بالذکر فرمایا اور اشدیت کی وجہ سے مقدم فرمایا اسی طرح ان امورہ منکرہ میں سے یعنی بوجہ اس کے کہ اس کا ضرر متعدی الی الغیر ہے مخصوص بالذکر کیا گیا پس اس طرح سے اس میں تمام امور حسنہ وقبیحہ داخل…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس آیت میں تین چیزوں عدل ‘ احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیا گیا : 102۔ زیر نظر آیت کے اس مختصر سے فقرہ میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرہ کی درستی کا انحصار ہے اور اس میں پہلی چیز عدل ہے اب غور کرنا ہے کہ عدل کیا ہے ؟ کسی بوجھ کو دو برابر حصوں میں اس طرح بانٹ دیا جائے کہ ان دو میں سے کسی میں ذرا بھی کمی یا بیشی نہ ہو تو اس کو عربی میں ” عدل “ کہتے ہیں ، (امام راغب) اس سے وہ معنی پیدا ہوتے ہیں جن میں ہم اس لفظ کو اپنی زبان میں بولتے ہیں یعنی جو بات ہم کہیں یا جو کام کریں اس میں سچائی کی میزان کسی طرح جھکنے نہ پائے اور وہی بات کہی جائے اور وہی کام کیا جائے جو سچائی کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary This is the most comprehensive verse of the Holy Qur’ an where the essence of the entire range of Islamic teachings has been condensed into a few words. Therefore, from the blessed period of the most righteous elders upto this day, the practice has continued that this verse is recited at the end of the special Khutbah (address) of Jumu'ah and the two 'Bids ('Eid al-Fitr and 'Bid al-Adha). Sayyidna ` Abdullaa ibn Masud ؓ says that the most comprehensive verse of the Holy Qurin appears in Surah An-Nahl and it is: إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ‌ بِالْعَدْلِ (16:90 cited above) [ Ibn Kathir…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–91

88. In this brief sentence Allah has enjoined three most important things on which alone depends the establishment of a sound and healthy society: The first of these is justice which has two aspects. To make such arrangements as may enable everyone to get one’s due rights without stint. Justice does not, however, mean equal distribution of rights, for that would be absolutely unnatural. In fact, justice means equitable dispensation of rights which in certain cases may mean equality. For example, all citizens should have equal rights of citizenship but in other cases equality in rights would…

Read the full tafseer →